افتخار اجمل بھوپال

پاکستان کیوں بنا ؟

فی زمانہ لوگ بے بنیاد باتیں کرنے لگ گئے ہیں جو پاکستان کی بنیادیں کھوکھلا کرنے کی نادانستہ یا دانستہ کوشش ہے ۔ دراصل اِس قبیح عمل کی منصوبہ بندی تو پاکستان بننے سے قبل ہی ہو گئی تھی اور عمل قائد اعظم کی 11 ستمبر 1948ء کو وفات کے بعد شروع ہوا جس میں لیاقت علی خان کے 16 اکتوبر 1951ء کو قتل کے بعد تیزی آ گئی تھی ۔ اب مُستنَد تاریخ کے اوراق اُلٹ کر دیکھتے ہیں کہ پاکستان کیسے بنا ؟
برطانوی حکومت کا نمائندہ وائسرائے دراصل ہندوستان کا حکمران ہی ہوتا تھا ۔ آخری وائسرائے ماؤنٹ بيٹن نے انتہائی جذباتی مرحلے پر 21 مارچ 1947ء کو ذمہ داری سنبھالنے کیلئے 3 شرائط پيش کيں تھیں جو برطانیہ کے اس وقت کے وزیر اعظم کليمنٹ ايٹلی نے منظور کر لی تھیں
1 ۔ اپنی پسند کا عملہ
2 ۔ وہ ہوائی جہاز جو جنگ میں برما کی کمان کے دوران ماؤنٹ بيٹن کے زيرِ استعمال تھا
3 ۔ فيصلہ کرنے کے مکمل اختيارات
ماؤنٹ بيٹن نے دہلی پہنچنے پر سب سے پہلے مہاراجہ بيکانير سے ملاقات کی اور دوسری ملاقات پنڈت جواہر لال نہرو سے کی
ماؤنٹ بيٹن نے پنڈت جواہر لال نہرو سے قائد اعظم کے متعلق دريافت کيا
جواہر لال نہرو نے کہا “مسٹر جناح سياست ميں بہت دير سے داخل ہوئے ۔ اس سے پہلے وہ کوئی خاص اہميت نہيں رکھتے تھے” ۔
مزید کہا کہ “لارڈ ويول نے بڑی سخت غلطی کی کہ مسلم ليگ کو کابينہ ميں شريک کرليا جو قومی مفاد کے کاموں ميں رکاوٹ پيدا کرتی ہے” ۔
ماؤنٹ بيٹن نے تيسری ملاقات قائد اعظم محمد علی جناح سے کی ۔ ماؤنٹ بيٹن نے قائد اعظم سے پنڈت جواہر لال نہرو کے متعلق دريافت کيا ۔ قائد اعظم نے برجستہ فرمايا ” آپ تو ان سے مل چکے ہيں ۔ آپ جيسے اعلی افسر نے ان کے متعلق کوئی رائے قائم کرلی ہوگی”۔
ماؤنٹ بيٹن اس جواب پر سمجھ گيا کہ اس ليڈر سے مسائل طے کرنا ٹيڑھی کھير ہے
ماؤنٹ بيٹن نے پنڈت جواہر لال نہرو کے مشورے سے آئی سی ايس افسر کرشنا مينن کو اپنا مشير مقرر کيا ۔ اگرچہ تقسيم فارمولے ميں بھی کرشنا مينن کے مشورے سے ڈنڈی ماری گئی تھی ليکن کرشنا مينن کا سب سے بڑا کارنامہ جموں کشمير کے مہاراجہ ہری سنگھ سے الحاق کی دستاويز پر دستخط کرانا تھےجبکہ مہاراجہ جموں کشمير (ہری سنگھ) پاکستان سے الحاق کا بيان دے چکا تھا ۔ پھر جب مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت سے الحاق نہ کیا توکرشنا مينن کے مشورے پر ہی جموں کشمير پر فوج کشی کی گئی تھی
انگريز کو ہندوؤں سے نہ تو کوئی سياسی پَرخاش تھی نہ معاشی ۔ مسلمانوں سے انگریز اور ہندو دونوں کو تھی ۔ انگريز نے اقتدار مسلمانوں سے چھينا تھا اور ہندو اقدار حاصل کر کے اکھنڈ بھارت بنانا چاہتا تھا
حقيقت يہ ہے کہ کانگريس نے کيبنٹ مشن پلان کو اس نيت سے منظور کيا تھا کہ مسٹر جناح تو پاکستان سے کم کی بات ہی نہيں کرتے لہٰذا اقتدار ہمارا (ہندوؤں کا) مقدر بن جائے گا ۔ قائد اعظم کا کيبنٹ مشن پلان کا منظور کرنا کانگريس پر ايٹم بم بن کر گرا
صدرکانگريس پنڈت جواہر لال نہرو نے 10جولائی کو کيبنٹ مشن پلان کو يہ کہہ کر سبوتاژ کرديا کہ کانگريس کسی شرط کی پابند نہيں اور آئين ساز اسمبلی ميں داخل ہونے کے لئے پلان ميں تبديلی کرسکتی ہے ۔ چنانچہ ہندو اور انگريز کے گٹھ جوڑ نے کيبنٹ مشن پلان کو سبوتاژ کرديا ۔ قائد اعظم نے بر وقت اس کا احساس کر کے مترادف مگر مضبوط لائحہ عمل پیش کر دیا تھا ۔ آسام کے چيف منسٹر گوپی چند باردولی نے کانگريس ہائی کمانڈ کو لکھا” رام اے رام ۔ يہ تو ايک ناقابل تسخير اسلامی قلعہ بن گيا ۔ پورا بنگال ۔ آسام ۔ پنجاب ۔ سندھ ۔ بلوچستان ۔ صوبہ سرحد”۔

کيبنٹ مشن کے سيکرٹری (Wood Rowiyt) نے قائد اعظم سے انٹرويو ليا اور کہا ” مسٹر جناح ۔ کیا یہ ایک مضبوط پاکستان کی طرف پیشقدمی نہیں ہے ؟”
قائد اعظم نے کہا ”بالکل ۔ آپ درست سمجھے“۔
مگر جیسا کہ اُوپر بیان کیا جا چکا ہے کرشنا مینن کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے باہمی فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انگریز نے بڑی عیّاری سے پنجاب اور بنگال دونوں کو تقسیم کر دیا اور آسام بھی بھارت میں شامل کر دیا
مولانا ابوالکلام آزاد اپنی تصنیف (INDIA WINS FREEDOM) کے صفحہ 162 پر تحرير کرتے ہيں کہ اپنی جگہ نہرو کو کانگريس کا صدر بنانا ان کی زندگی کی ايسی غلطی تھی جسے وہ کبھی معاف نہيں کرسکتے کيونکہ انہوں نے کيبنٹ مشن پلان کو سبوتاژ کيا ۔ مولانا آزاد نے تقسيم کی ذمہ داری پنڈت جواہر لال نہرو اور مہاتما گاندھی پر ڈالی ہے ۔ يہاں تک لکھا ہے کہ 10 سال بعد وہ اس حقيقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہيں کہ جناح کا مؤقف مضبوط تھا
کچھ لوگ آج کل کے حالات ديکھ کر يہ سوال کرتے ہيں کہ ” پاکستان کيوں بنايا تھا ؟ اگر يہاں يہی سب کچھ ہونا تھا تو اچھا تھا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کے قول کے مطابق ہم متحدہ ہندوستان ميں رہتے”۔
کانگريس ہندوستان ميں رام راج قائم کرنا چاہتی تھی ۔ چانکيہ تہذيب کے پرچار کو فروغ دے رہی تھی ۔ قائد اعظم کی ولولہ انگيز قيادت اور رہنمائی ميں ہندوستان کے 10کروڑ مسلمانوں نے بے مثال قربانياں دے کر پاکستان حاصل کیا ۔ اس پاکستان اور اس کے مقصد کے خلاف بات کرنے والے کسی اور نہیں اپنے ہی آباؤ اجداد کے خون پسینے کو پلید کرنے میں کوشاں ہیں

یومِ استقلال مبارک

تمام ہموطنوں کو (دنیا میں جہاں کہیں بھی ہیں) یومِ استقلال مبارک my-id-pak
اللہ ہمیں آزادی کے صحیح معنی سمجھنے اور اپنے مُلک کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
یہ وطن ہمارے بزرگوں نے استقلال کے ساتھ محنت کرتے ہوئےحاصل کیا تھا کہ مسلمان اسلام کے اصولوں پر چلتے ہوئے مِل جُل کر اپنی حالت بہتر بنائیں ۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ ہم مسلمان ہیں یا نہیں البتہ پاکستانی نہیں بنے ۔ کوئی سندھی ہے کوئی پنجابی کوئی بلوچ کوئی پختون کوئی سرائیکی کوئی پاکستان میں پیدا ہو کر مہاجر ۔ کوئی سردار کوئی مَلک کوئی خان کوئی وڈیرہ کوئی پِیر ۔ اس کے علاوہ مزید بے شمار ذاتوں اور برادریوں میں بٹے ہوئے ہیں
قائداعظم 1942ء میں الہ آباد میں تھے تو وکلاء کے ایک وفد کی ملاقات کے دوران ایک وکیل نے پوچھا ”پاکستان کا دستور کیسا ہوگا اور کیا آپ پاکستان کا دستور بنائیں گے ؟“
قائداعظم نے جواب میں فرمایا ”پاکستان کا دستور بنانے والا میں کون ہوتا ہوں ۔ پاکستان کا دستور تو تیرہ سو برس پہلے بن گیا تھا“۔

پانسے سب اُلٹ گئے دُشمن کی چال کے
مُدتوں کے بعد پھر اُڑے پرچم ہلال کے
ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے
اِس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے
برسوں کے بعد پھر اُڑے پرچم ہلال کے
اِس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے
دیکھو کہیں اُجڑے نہ ہمارا یہ باغیچہ
اِس کو لہو سے اپنے شہیدوں نے ہے سینچا
اِس کو بچانا جان مصیبت میں ڈال کے
اِس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے
دنیا کی سیاست کے عجب رنگ ہیں نیارے
چلنا ہے مگر تم کو تو قرآں کے سہارے
ہر اِک قدم اُٹھانا ۔ ذرا دیکھ بھال کے
اِس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے
تُم راحت و آرام کے جھُولے میں نہ جھُولو
کانٹوں پہ ہے چلنا میرے ہنستے ہوئے پھُولو
لینا ابھی کشمیر ہے ۔ یہ بات نہ بھُولو
کشمیر پہ لہرانا ہے جھنڈا اُچھال کے
اِس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے
ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے
اِس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے
اِس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے

میں جو بھی ہوں

my-id-pakہم لوگوں کی عادت بن چکی ہے کہ کبھی دوسرے کے کپڑوں پر تنقید
”یہ کون سے فیشن کے کپڑے پہنے ہیں “۔
کبھی کسی کے بالوں پر اعتراض
کبھی کسی کے بولنے پر ”بہت بولتا ہے“۔ یا ”نامعلوم کیا بولتا رہتا ہے“۔
کسی کو کہتے ہیں ” تم بات کیوں نہیں کرتے ؟ کیا بات کرنے سے تمہارے پیسے خرچ ہوتے ہیں ؟“
کبھی کسی کے کھانے پینے پر نقطہ بازی

یہ نہیں سوچتے کہ جیسے وہ اپنی مرضی سے سب کچھ کرتے ہیں ۔ ویسے ہی دوسرے کو بھی اپنی پسند پر چلنے کا حق ہے
کسی نے سچ کہا ہے
مجھے تُم سے کچھ بھی نہ چاہیئے
مجھے میرے حال پر چھوڑ دو

>

فیصلہ کا اختیار

کسی کو آپ کے متعلق فیصلہ دینے کا اختیار نہیں my-id-pak
کیونکہ حقیقت میں کوئی نہیں جانتا
کہ آپ کن حالات سے گذرے ہیں
اُنہوں نے آپ کے متعلق چہ می گوئیاں سُنی ہوں گی
لیکن اُنہوں نے وہ محسوس نہیں کیا ہو گا جو آپ کے دِل پر گذری
یہی اصول دوسروں پر فیصلہ دینے سے پہلے مدِ نظر رکھنا چاہیئے

پاکستان کیا ہے ؟

پاکستان کے قومی ترانہ کی دھُن دنیا کی 3 بہترین دھُنوں میں سےہے my-id-pak
دنیا کی دوسری سب سے اُونچی چوٹی K 2 اور نویں بلند ترین پہاڑ (نانگا پربت) پاکستان میں ہیں
دنیا میں سب سے چھوٹی عمر میں Certified Microsoft Expert ایک پاکستان لڑکی عارفہ کریم ہے
پاکستان ایک ایسا مُلک ہے جہاں 60 مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں
دنیا کا سب سے بڑا earth-filled dam (تربیلہ) پاکستان میں ہے
ایدھی فاؤنڈیشن پاکستان دنیا کا سب سے وسیع ایمبولنس نیٹ ورک چلا رہی ہے
پچھلے 6 سالوں میں پاکستان میں خواندگی کی شرح میں 250 فیصد اضافہ ہوا ہے
انجنیئروں اور سائنسدانوں کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں ساتویں نمبر پر ہے
پاکستان میں دنیا کا چوتھا سب سے بڑا broad band internet ہے
BRICS نے پاکستان کو ایسے 11 ممالک میں شمار کیا ہے جو اکیسویں صدی میں دنیا کی سب سے بڑی معیشت بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں
قراقرم ہائی وے انسان کی بنائی ہوئی دنیا کی بلند ترین سڑک ہے جو پاکستان اور چین کو ملاتی ہے
پاکستان کی کھیوڑہ میں نمک کی کان دنیا کی دوسری سب سے بڑی نمک کی کان ہے
پاکستان دنیا میں چاول کی بہترین قسم (باسمتی) دریافت کرنے اور اُگانے والا واحد مُلک ہے
پاکستان میں اُگنے والی کپاس دنیا کی دوسری سب سے اچھی کپاس ہے ۔ سب سے اچھی کپاس مصر میں ہوتی ہے
پاکستان میں دنیا کے دو بہترین آم (چونسہ اور انور رٹول) اُگائے جاتے ہیں
دنیا میں بننے والے کُل فٹ بالوں کا 50 فیصد پاکستان میں بنتے ہیں
پاکستان کی بندرگاہ گوادر دنیا کی سب سے بڑی گہرے سمندر کی بندرگاہ ہے
پاکستان دنیا کی سب سے پرانی تہذیب (موہنجو ڈرو) والا ملک ہے
دنیا ک بلند ترین پولو گراؤنڈ شاندر پاکستان میں ہے جس کی بلندی 3700 میٹر (12139 فٹ) ہے
دنیا کا سب سے بڑا آب پاشی کا نظام پاکستان میں ہے
پاکستان 1994ء میں 4 بین الاقوامی کھیلوں (کرکٹ ۔ ہاکی ۔ سکواش ۔ سنُوکر) کے ورلڈ کپ میچ ایک ہی وقت میں کروا کر دنیا کا پہلا ایسا مُلک بنا
پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی کا شمار دنیا کی بہترین ٹیکنالوجیز میں ہوتا ہے
دنیا کے بہترین جیٹ فائٹرز میں سے ایک پاکستان میں بنتا ہے
دنیا میں سب سے زیادہ جراحی کے آلات بنانے اور برآمد کرنے والے ملکوں میں پاکستان بھی شامل ہے
ایئر کموڈور محمد محمود عالم نے 1965ء ک جنگ میں ایک منٹ سے کم وقت میں بھارت کی ہوائی فوج کے 5 لڑاکا طیارے مار گرائے جن میں 4 پہلے 30 سیکنڈ میں گرائے ۔ اس ریکارڈ کو آج تک کوئی نہیں پہنچ سکا
پاکستان کی ہوائی فوج کا شمار دنیا کی بہترین تربیت یافتہ ہوائی افواج میں ہوتا ہے
پاکستان کے پاس دنیا کی چھٹی بڑی فوجی طاقت ہے
پاکستان پہلا اور صرف ایک اسلامی ملک ہے جس نے نیوکلیئر بم بنایا

قابلِ رحم ہے وہ قوم

خلیل جِبران سے متاءثر ہو کر my-id-pak
قابلِ رحم ہے وہ قوم جو رسومات کی پابند ہو اور دین سے بیگانہ
قابلِ رحم ہے وہ قوم جو کپڑا غیر مُلکی پہنے اور کھانے غیر مُلکی کھائے
قابلِ رحم ہے وہ قوم جو دوسروں پر الزامات لگانے والے کو ہیرو جانے
قابلِ رحم ہے وہ قوم جس کا سیاستدان چالاک اور آرٹ لوگوں کے تضحیکی کارٹون بنانا ہو
قابلِ رحم ہے وہ قوم جس کے راہنما تاریخ سے بے بہرہ ہوں
قابلِ رحم ہے وہ قوم جو گروہوں میں بٹی ہو
قابلِ رحم ہے وہ قوم جو اپنی تاریخ بھول جاتی ہو اور قصے کہانیاں یاد رکھتی ہو

پیغمبر اور رشتہ دار

سورت 33 الاحزاب ۔ آیت 6 ۔
پیغمبر مومنوں پر خود ان سے بھی زیادہ حق رکھنے والے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں اور رشتہ دار کتاب اللہ کی رو سے بنسبت دوسرے مومنوں اور مہاجروں کے آپس میں زیادہ حقدار ۔ (ہاں) مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہو یہ حکم (الٰہی) میں لکھا ہے

لاہور شہر تاریخی تناظر میں

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کو پاکستان کا دِل بھی کہا جاتا ہے ۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے لاہور کا فاصلہ براستہ موٹر وے 382 کلو میٹر اور براستہ شاہراہ شیر شاہ سُوری 367 کلو میٹر ہے ۔ شاہراہ شیر شاہ سُوری جس کی لمبائی 2500 کلو میٹر سے متجاوز ہے 6 دہائیوں سے زائد قبل ہندوستان کے ایک مسلمان حُکمران شیر شاہ سُوری نے بنوائی تھی ۔ لاہور کی ایک جھلک
قدیم لاہور کے دروازے جن میں سے کچھ اب موجود نہیں
اکبری دروازہبھاٹی دروازہدہلی دروازہروشنائی دروازہشاہ عالمی دروازہشیراں والا دروازہلاہوری دروازہمستی دروازہموچی دروازہموری دروازہٹکسالی دروازہیکی دروازہ
بادشاہی مسجد جسے مُغلیہ خاندان کے بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر نے 1672ء سے 1674ء لگ بھگ 3 سال کی مدت میں تعمیر کروایا ۔ یہ مسجد 1986ء تک دنیا کی سب سے بڑی مسجد تھی
Minar i Pakistan and Badshahi MasjidBadshahi Masjid 1Badshahi Masjid 2

.

.

.

.

.

.

.

.

.

.

.

.

.

.

.

.
زیب النساء المعروف دائی انگا کا مقبرہ جو مُغلیہ شہنشاہ شہاب الدین محمد خُرّم جو شاہجہاں مشہور ہوئے کے گھر میں دائی تھیں اور مغلیہ شاہی خاندان میں اس کی بہت عزت تھی
Dai Anga
مسجد وزیر خان جو دہلی دروازے کے پہلو میں ہے 1634ء سے 1641ء کے درمیان مغل بادشاہ شاہجہان نے تعمیر کروائی
Masjid Wazir Khan
شالامار باغ جسے شالیمار باغ بھی کہتے ہیں 1937ء سے 1941ء تک 4 سالوں میں تیار ہوا ۔ اس کی تعمیر کی نگرانی مغل بادشاہ شاہجہاں کے مصاحب میں سے ایک نے خلیل اللہ خان نے کی ۔ اس کی بناوٹ کا ڈیزائن انجنیئر علی مردان خان نے تیار کیا تھا
Shalimar
لاہور کے 2 پرانی طرز کے مکان
An Old House in Lahore
Gawalmandi Lahore
بالخصوص خواتین کیلئے ایک پرانا شاپِنگ سینٹر جو آج بھی مقبول ہے
13049995
Anarkali bazar
DSC00622
Lahore - Anarkali Market - 003
55a810abdd43b
218447xcitefun-lahore-anarkali-bazaar-2-small1
men-in-anarkali
بازار کا ایک بہت پرانا حصہ
Old-Anarkali-Lahore-Bomb-Blast
قدیم رہائسی علاقہ جو آج بھی موجود ہے
Ancient Buildings
لاہور کی جدید تعمیرات
میٹرو بس
Metro Bus Lahore 1.phpMetro-Bus-Lahore 2
مینارِ پاکستان انٹر چینج
Minar-i-Pakistan Interchange
کچھ دیگر انٹر چینج
DCIM100MEDIA

DCIM100MEDIA

Lahore-Ring-Road-10

۔ ہماری ثقافت کیا ہے ؟What is our Culture?

آخر ہماری ثقافت ہے کیا ؟ اور کہیں ہے بھی کہ نہیں ؟ یہ ثقافت یا کلچر ہوتی کیا بلا ہے ؟
آدھی صدی قبل جب میں انٹرمیڈیٹ میں پڑھتا تھا تو میرا ثقافت کے ساتھ پہلا تعارف کچھ اِس طرح ہوا
اپنے ایک ہم جماعت کے گھر گیا وہ نہ ملا ۔ دوسرے دن اُس نے آ کر معذرت کی اور بتایا کہ ”رشیّن کلچرل ٹروپے)Russian Cultural Troupe)نے پرفارمینس(Performance) دینا تھی ۔ میں دیکھنے چلا گیا“۔ میں نے پوچھا کہ ”پھر کیا دیکھا ؟“ کہنے لگا “اہُوں کلچر کیا تھا نیم عریاں طوائفوں کا ناچ تھا “۔

اب اپنے ملک کے چند تجربات جو روز مرّا کا معمول بن چکے ہیں
ميرے دفتر کے 3 پڑھے لکھے ساتھی آفيسروں نے چھٹی کے دن سير کا پروگرام بنايا اور مجھے بھی مدعُو کيا ۔ صبح 8 بجے ايک صاحب کے گھر پہنچ کر وہاں سے روانگی مقرر ہوئی ۔ وہ تينوں قريب قريب رہتے تھے ۔ ميرا گھر اُن سے 40 کلوميٹر دور تھا ۔ ميں مقررہ مقام پر 5 منٹ کم 8 بجے پہنچ گيا تو موصوف سوئے ہوئے تھے ۔ دوسرے دونوں کے گھر گيا تو اُنہيں بھی سويا پايا ۔ مجھے ايک گھنٹہ انتظار کرانے کے بعد اُنہوں نے 9 بجے سير کا پروگرام منسوخ کر ديا اور ميں اپنا سا مُنہ لے کر 3 گھنٹے ضائع اور 80 کلوميٹر کا سفر کر کے واپس گھر پہنچ گیا

کچھ سال قبل ميں لاہور گيا ہوا تھا اور قيام گلبرگ ميں تھا ۔ رات کو بستر پر دراز ہوا تو اُونچی آواز ميں ڈھما ڈھا موسيقی ساتھ بے تحاشہ شور ۔ سونا تو کُجا دماغ پھَٹنے لگا ۔ اِنتہائی کَرب ميں رات گذری ۔ صبح اپنے مَيزبان سے ذِکر کيا تو بيزاری سے بولے ”ہماری قوم پاگل ہو گئی ہے ۔ يہ بسنت منانے کا نيا انداز ہے“۔
محلہ میں کوئی شیرخوار بچہ ۔ عمر رسیدہ یا مریض پریشان ہوتا ہے تو اُن کی بلا سے

آدھی رات کو سڑک پر کار سے سکرِیچیں(Screeches) ماری جا تی ہیں ۔ اُن کی بلا سے کہ سڑک کے ارد گرد گھروں میں رہنے والے بِلبلا کر نیند سے اُٹھ جائیں ۔ ہمارے گھر کے پيچھے والی سڑک پر رات گيارہ بارہ بجے کے درمیان کسی کی ترقی يافتہ اولاد روزانہ اپنی اِسی مہارت کا مظاہرہ کرتی تھی ۔ اللہ نے ہم پر بڑا کرم کيا کہ وہ خاندان يہاں سے کُوچ کر گيا

ایک جگہ بھِیڑ اور شور و غُوغا سے متوجہ ہوۓ پتہ چلا کہ کوئی گاڑی ایک دس بارہ سالہ بچّے کو ٹکر مار کر چلی گئی ہے ۔ بچہ زخمی ہے ۔ کوئی حکومت کو کوس رہا ہے کوئی گاڑی والے کو اور کوئی نظام کو مگر بچّے کو اُٹھا کر ہسپتال لیجانے کے لئے کوئی تیار نہیں ۔ يہ کام اللہ تعالٰی نے شاید مجھ سے اور ميرے جيسے ايک اور غير ترقی يافتہ (؟) سے لينا تھا

اسلام آباد میں جناح سُپر مارکیٹ کار پارک کر کے چلا ہی تھا کہ ایک خوش پوش جوان نےمیری کار کے پیچھے اپنی کار پارک کی اور چل دیا ۔ ان سے مؤدبانہ عرض کیا ”جناب آپ نے میری گاڑی بلاک (block) کر دی ہے ۔ پارکنگ میں بہت جگہ ہے وہاں پارک کر دیجئے“۔ وہ صاحب بغیر توجہ دیئے چل ديئے ۔ ساتھ چلتے ہوئے مزید دو بار اپنی درخواست دہرائی مگر اُن پر کوئی اثر نہ ہوا ۔ آخر اُن کا بازو پکڑ کر کھینچا اور غُصہ دار آواز میں کہا “گاڑی ہٹائیے اپنی وہاں سے”۔ تو وہ صاحب اپنی ساتھی (جو شاید بیوی تھی) کو وہیں ٹھہرنے کا کہہ کر مُڑے اور اپنی کار ہٹائی

پھَل لینے گیا ۔ دُکاندار سے کہا ”بھائی داغدار نہ دینا بڑی مہربانی ہو گی“ ۔ دُکاندار بولا ”جناب ہماری ایسی عادت نہیں“ ۔ اس نے بڑی احتیاط سے چُن چُن کے شاپنگ بیگ میں ڈال کر پھَل تول دیا ۔ گھر آ کر دیکھا تو 10 فيصد داغدار تھے ۔ دراصل اُس نے صحیح کہا تھا ”ہماری ایسی عادت نہیں“ یعنی اچھا دینے کی

3 دہائیاں قبل جب میں جنرل منیجر (گریڈ 20) تھا ہسپتال میں دوائی لینے کے لئے ڈسپنسری کے سامنے قطار میں کھڑا تھا چپڑاسی سے آفسر تک سب ایک ہی قطار میں کھڑے تھے ۔ ایک صاحب (گریڈ 19) آئے اور سیدھے کھِڑکی پر جا کر چِلّائے ”اوئے ۔ یہ دوائیاں دو“۔ ڈسپنسر نے سب سے پہلے اسے دوائیاں دے دیں

ایک آفیسر کسی غیر ملک کا دورہ کر کے آئے ۔ میں نے پوچھا کیسا ملک ہے ؟ بولے ” کچھ نہ پوچھیئے ۔ وہاں تو روٹی لینے کے لئے لوگوں کی قطار لگی ہوتی ہے“ ۔ کہہ تو وہ صحیح رہے تھے مگر غلط پرائے میں ۔ حقیقت یہ تھی کہ وہاں بس پر چڑھنے کے لئے بھی قطار لگتی ہے ۔ ہسپتال میں دوائی لینے کے لئے بھی ۔ کیونکہ وہ لوگ ایک دوسرے کے حق کا احترام کرتے تھے

والدین اور اساتذہ نے ہمیں تربیت دی کہ جب کسی سے ملاقات ہو جان پہچان نہ بھی ہو تو سلام کرو ۔ کبھی کسی کو سلام کیا اور اس نے بہت اچھا برتاؤ کیا اور کبھی صاحب بہادر ہميں حقير جان کر اکڑ گئے

اسلام آباد ميں کار پر جا رہا تھا ۔ ايک چوک پر ميں داہنی لين (lane) ميں تھا جو داہنی طرف مُڑنے يا سيدھا جانے کيلئے تھی ۔ ايک لين ميرے بائيں جانب تھی جو بائيں طرف مُڑنے يا سيدھا جانے کيلئے تھی ۔ بتی سبز ہونے پر چل پڑے ۔ ميں چوک يا چوراہا يا چورنگی ميں داخل ہوا ہی چاہتا تھا کہ ايک کار ميری بائيں جانب سے بڑی تيزی سے میری کار کا اگلا بَمپَر بھی چیرتے ہوئے ميرے سامنے سے گُذر کر داہنی طرف کو گئی

بازار میں آپ روزانہ دیکھتے ہیں کہ بلا توقف نقلی چیز اصل کے بھاؤ بیچی جا رہی ہے

ہم ہیں تو مسلمان مگر ہم نے ناچ گانا ۔ ڈھول ڈھمکّا اور نیو اِیئر نائٹ اپنا لی ہے ۔ بسنت پر پتنگ بازی کے نام پر راتوں کو ہُلڑبازی ۔ اُونچی آواز میں موسیقی ۔ شراب نوشی ۔ طوائفوں کا ناچ غرضیکہ ہر قسم کی بد تمیزی جس میں لڑکیاں يا عورتيں بھی لڑکوں کے شانہ بشانہ ہوتی ہیں

کیا یہی ہے ہماری ثقافت یا کلچر ؟
کیا پاکستان اِنہی کاموں کے لئے حاصل کيا گيا تھا ؟
کیا یہی ترقی کی نشانیاں ہیں ؟
نہیں بالکل بھی نہیں ۔
اللہ ہمیں صحیح راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرما ۔ آمین
ثقافت کی حقیقت جاننے کیلئے یہاں کلِک کیجئے

اِنسانی عمل

ہم انسان ہیں
ہم ٹُوٹ پھُوٹ کا شکار ہوتے ہیں
لیکن اپنی زندگی دُکھ درد کے حوالے کرنا انسانیت کا تقاضہ نہیں
صبح سویرے اُٹھیئے
اللہ کے آگے جھُکنے کے بعد اپنی مرضی سے اپنی زندگی سوارنے میں لگ جایئے

سیاستدان اور ذہین لڑکی

ہوائی سفر کے دوران ایک سیاستدان اور ایک کم سِن لڑکی ساتھ ساتھ بیٹھے تھے ۔ پرواز شروع ہوئی تو سیاستدان لڑکی سے مخاطب ہوا ”بات چیت سے آسانی سے کٹ جاتا ہے ۔ کیا خیال ہے ؟“
لڑکی جس نے پڑھنے کیلئے کتاب کھولی ہی تھی بولی ”آپ کس موضوع پر بات کرنا چاہتے ہیں ؟“
سیاستدان نے مُسکراتے ہوئے کہا ”کوئی خاص نہیں ۔ گلوبل وارمِنگ یا تیز برائڈ بینڈ یا مہاجرین کا مسئلہ ۔ کیا خیال ہے ؟“
لڑکی بولی ”ٹھیک ہے ۔ آپ کو اِن میں دِلچسپی ہے لیکن پہلے میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتی ہوں ۔ کیا وجہ ہے کہ ہرن ۔ گائے اور گھوڑا سب گھاس کھاتے ہیں لیکن اُن کے فُضلے بالکل مُختلِف ہوتے ہیں ؟“
سیاستدان کم سِن لڑکی کے سوال پر حیران ہوتے ہوئے بولا ” میں کچھ نہیں کہہ سکتا“۔
لڑکی بولی ” معمولی سی چیز تو آپ جانتے نہیں ۔ آپ اتنے بڑے بین الاقوامی معاملات پر کیا بات کریں گے جنہوں نے بڑے بڑے مفکّروں کو پریشان کر رکھا ہے“۔
اور لڑکی اپنی کتاب کی طرف متوجہ ہو گئی

محبت ؟

محبت صرف وہ نہیں ہوتی جو لڑکے اور لڑکی کے درمیان ہو
محبت دوستوں میں بھی ہوتی ہے جو لڑکے لڑکی کی محبت سے بہتر ہوتی ہے
سچّی محبت نہ صرف حاصل کرنا مُشکل ہے
بلکہ اسے چھوڑنا بھی بہت مُشکل ہے
اور
بھُلانا ناممکن ہوتا ہے

شاہراہ پر سونے کے سِکے

ایک بادشاہ نے نئی شاہراہ بنوائی اور اِفتتاح کیلئے تمام شہریوں کی دوڑ کا اعلان کیا کہ سب سے اچھا سفر کرنے والے کو اِنعام ملے گا ۔ شہریوں جوش و خروش سے حصہ لیا۔ شاہراہ کے دوسرے سِرے پر بادشاہ دوڑنے والوں کے تاءثرات پُوچھتا رہا ۔ سب نے شاہراہ کی تھوڑی یا زیادہ تعریف کی مگر سب نے بتایا کہ شاہراہ پر ایک جگہ بجری پڑی ہے ۔ اُسے اُٹھوا دیا جائے

شام تک بادشاہ اُٹھ کر جانے لگا تو ایک سپاہی نے بتایا کہ دوڑ میں حصہ لینے والوں میں سے ایک آدمی جو صبح سویرے داخل ہوا تھا لیکن دوسرے سِرے پر آنا باقی ہے ۔ کچھ دیر بعد ایک درمیانی عمر کا شخص دھُول میں لَت پَت تھکا ہارا ہاتھ میں ایک تھیلی پکڑے پہنچا اور بادشاہ سے مخاطب ہوا ”جناب عالی ۔ میں معافی چاہتا ہوں کہ آپ کو انتظار کرنا پڑا ۔ راستہ میں کچھ بجری پڑی تھی ۔ میں نے سوچا کہ آئیندہ اِس شاہراہ سے گذرنے والوں کو دِقّت ہو گی ۔ اُسے ہٹانے میں کافی وقت لگ گیا کیونکہ میں ہاتھوں سے ہی ہٹاتا رہا ۔ بجری کے نیچے سے یہ تھیلی ملی ۔ اس میں سونے کے 100 سِکّے ہیں ۔ آپ کے سڑک بنانے والوں میں سے کسی کے ہوں گے ۔ اُسے دے دیجئے گا“۔

بادشاہ نے کہا ” یہ تھیلی اب تمہاری ہے ۔ میں نے رکھوائی تھی ۔ یہ تمہارا انعام ہے ۔ بہترین مسافر وہ ہوتا ہے جو مستقبل کے مسافروں کی سہولت کا خیال رکھے”۔

دعا ہے کہ اللہ ہمارے ملک میں بھی ایسے لوگ پیدا کر دے ۔ مجھے یقین ہے کہ وہ بادشاہ سے نہیں تو اللہ سے انعام ضرور پائیں گے

احترام ۔ کب؟ ؟ ؟

بڑوں کا احترام اُس وقت کیجئے جب آپ جوان ہوں
کمزوروں کی مدد اُس وقت کیجئے جب آپ توانا ہوں
جب آپ غلطی پر ہوں تو اپنی غلطی مان لیجئے
کیونکہ ایک وقت آئے گا
جب آپ بوڑھے اور کمزور ہوں گے اور یہ احساس بھی پیدا ہو گا کہ آپ غلطی پر تھے
لیکن اُس وقت آپ صرف پچھتا ہی سکیں گے

جوانی ہی میں عدم کے واسطے سامان کر غافل
مسافر شَب کو اُٹھتے ہیں جو جانا دُور ہوتا ہے

بیٹی کیلئے دُعا

میں انجنیئرنگ کالج لاہور میں پڑھتا تھا ۔ 1960ء میں گرمیوں کی چھُٹیوں میں گھر راولپنڈی آیا ہوا تھا ۔ ایک دِن ریڈیو سے ایک گیت سُنا ۔ پسند آیا اور لکھ لیا
1973ء میں میری چھوٹی بہن کی شادی ہوئی ۔ میں نے بغیر کسی کو بتائے Public Address Systemکا بندوبست کر رکھا تھا جس کے سپیکر گھر کے ماتھے پر لگائے تھے اور مائیکروفون بیٹھک (Drawing Room) میں چھُپا رکھا تھا ۔ رُخصتی کے وقت بہن کو اپنے دروازے پر وِداع کر کے بھاگا اور بیٹھک میں بند ہو کر یہ گیت گانا شروع کر دیا
پچھلے دِنوں اپنی بھتیجی کی شادی پر یہ گیت یاد آیا . سوچا قارئین کی نظر کیا جائے

بابل کی دعائی لیتی جا ۔ جا تُجھ کو سُکھی سَنسار مِلے
میکے کی کبھی نہ یاد آئے ۔ سسرال میں اِتنا پیار مَلے
بِیتیں تیرے جِیون کی گھڑیاں پیار کی ٹھنڈی چھاؤں میں
کانٹا بھی نہ چُبھنے پائے کبھی میری لاڈلی تیرے پاؤں میں
اُس دوار پہ بھی نہ کوئی آنچ آئے جس دوار سے تیرا دوار مِلے
بابل کی دعائیں لیتی جا ۔ جا تُجھ کو سُکھی سَنسار مِلے
بَچپَن میں تُجھے پالا میں نے پھُولوں کی طرح کلیوں کی طرح
میرے باغ کی اے نازک ڈالی ۔ جا تُجھ پہ سَدا بہار رہے
بابل کی دُعائیں لیتی جا ۔ جا تُجھ کو سُکھی سَنسار مِلے
میکے کی کبھی نہ یاد آئے ۔ سسرال میں اِتنا پیار مِلے

خوبصورت پیغام

اگر آپ حق پر ہیں تو غصہ میں آنے کی ضرورت نہیں
اور اگر آپ غلط ہیں تو آپ کو غصہ میں آنے کا کوئی حق نہیں
خاندان میں صبر کرنا محبت ہے
غیروں کے ساتھ صبر کرنا احترام ہے
اپنے آپ سے صبر کرنا اعتماد ہے
اور
اللہ کے سامنے صبر کرنا ایمان ہے
ماضی کی مُشکلات کا کبھی نہ سوچیں ۔ یہ آنسو لاتا ہے
مستقبل کے متعلق زیادہ نہ سوچیں ۔ یہ خوف کو جنم دیتا ہے
ہر لمحہ مسکرایئے ۔ یہ خوشی لاتا ہے
زندگی کا ہر امتحان ہمیں تلخ یا بہتر بناتا ہے
جو مُشکل آتی ہے وہ ہمیں بنا جاتی ہے یا بکھیر جاتی ہے
فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم فاتح بنیں یا مظلوم
خوبصورت اشیاء ہمیشہ اچھی نہیں ہوتیں لیکن اچھی اشیاء ہمیشہ خوبصورت ہوتی ہیں
کیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے انگلیوں کے درمیان جھَریاں کیوں رکھیں ؟ تاکہ آپ سے پیار کرنے والا آپ کا ہاتھ تھام کر یہ جھَریاں پُر کر دے
خوشی آپ کو مِیٹھا رکھتی ہے لیکن مِیٹھا رہنا خوشیاں لاتا ہے
اسے اپنی زندگی کے سب اچھے لوگوں تک پہنچایئے

مدد کی اشد ضرورت ہے


۔ ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ

۔ ۔ از راہ کرم مدد فرمایئے
۔ ۔ وِنڈوز 10 کے لئے اُردو چابی تختے کی فوری ضرورت ہے
Urdu keyboard needed for Windows 10 .
۔ ۔ فراہم فرمایئے
۔ ۔ میں آپ کا بہت بہت مشکور ہوں گا اور آپ کیلئے دعا گو رہوں گا

حادثہ اور ہمارا کردار

عیدالفظر سے ایک دن قبل احمد پور شرقیہ کے پاس ایک اندوہناک حادثہ پیش آیا جس میں 150 افراد لُقمہءِ اجل بن گئے اور 100 زخمی ہوئے ۔ وطنِ عزیز میں عام طور پر اختیار کئے جانے والے ردِ عمل جس میں ہر کوئی حکومت اور سرکاری اہلکاروں کو موردِ الزام ٹھہرا کر کوسنا شروع کر دیتا ہے سے ہٹ کر میں ایک خاص تکنیکی نقطہءِ نظر پیش کرنا چاہتا ہوں جو میرے زندگی بھر کے مشاہدات پر مبنی ہے

واقعات کا خلاصہ کچھ یُوں ہے ۔ صبح سویرے ساڑھے 5 بجے 25000 لیٹر پٹرول سے بھرا ٹینکر شاہراہ پر اُلٹ گیا ۔ پٹرول بہنے لگا ۔ قریبی دیہات کے لوگ بالٹیاں اور ڈبے لے کر پٹرول لُوٹنے پہنچ گئے ۔ ڈرائیور نے اُنہیں ٹوکا ۔ ٹریفک پولیس نے اُنہیں منع کیا لیکن بے سود ۔ شاہرہ پر سفر کرنے والے اپنی کاریں اور موٹر سائیکلیں روک کر حصہ وصول کرنے لگے ۔ اس طرح سینکڑوں لوگ اس لُوٹ میں شامل ہو گئے ۔ ایک لمحہ کیلئے بھی نہ سوچا کہ وہ آگ کے بم کے ساتھ کھیل رہے ہیں ۔ بے فکری کا یہ عالم کہ سوا 6 بجے کے بعد کسی نے جلتا سگریٹ پھینکا پھر وہی ہوا جو متوقع تھا

اب اس سے مِلتے جُلتے حادثہ کا خلاصہ جو 4 دہائیاں قبل پیش آیا تھا
۔ میں طرابلس (لبیا) میں کہیں سے اپنی رہائشگاہ کی طرف آ رہا تھا ۔ مخالف سمت سے 2 پٹرول کے ٹینکر آگے پیچھے آ رہے تھے ۔ اگلے ٹینکر کے آگے سے ایک چھوٹا لڑکا بھاگ کر سڑک پار کر گیا ۔ بچے کو بچاتے ہوئے ٹینکر ڈرائیور نے یکدم بریک لگائی اور ٹینکر بائیں جانب موڑ کر درمیانی پٹڑی پر چڑھا دیا ۔ لڑکا تو بچ گیا لیکن پچھلا ٹینکر اگلے ٹینکر سے ٹکرایا گیا ۔ میں اگلے ٹینکر سے پانچ چھ میٹر کے فاصلے پر رُک گیا ۔ میری داہنی طرف ایک گاؤں تھا اور سڑک کے دونوں جانب گاؤں والوں کی دُکانیں تھیں

رُکنے کے بعد میں نے دیکھا کہ پٹرول سڑک پر بہنا شروع ہو گیا ہے ۔ دُکاندار اور گاؤں کے لوگ ٹینکروں کے گرد کم از کم 5 میٹر فاصلہ چھوڑ کر ایک دائرہ بنا چکے تھے دو تین آدمی دونو اطراف سے آنے والی ٹریفک کو روکنا شروع ہو گئے ۔ کچھ آدمی گینتیاں اور بیلچے لے کر آ گئے اور سڑک کے کنارے کچی جگہ پر گڑھا کھودنے لگ گئے ۔ کچھ بیلچوں والے کھودی ہوئی مٹی اُٹھا کر ٹینکر سے گھڑے تک ایک نہر بنانے لگ گئے ۔ جب پٹرول گڑھے کی طرف آنا شروع ہوا تو لوگ ایک اور گڑھا کھودنے لگ گئے ۔ پھر جو لوگ پہلے نہر بنا رہے تھے وہ دوسرے گڑھے کی مٹی اُس پٹرول پر ڈالنے لگ گئے جو چاروں طرف پھیل گیا تھا ۔ اس سارے عمل میں 15 منٹ لگے ہوں گے

اب میں نے سوچا کہ مجھے پچھلے جانا چاہیئے ۔ میں اپنی کار سے باہر نکل کر پچھلی طرف دیکھا تو کچھ لوگ تمام گاڑیوں کو پیچھے جانے کا اشارہ کر رہے ہیں اور گاڑیاں تیزی سے اُلٹی ہی پیچھے جانا شروع ہو چکی ہیں ۔ چند منٹ بعد میں بھی اپنی کار اُلٹی ہی پیچھے لے جا رہا تھا ۔ 10 منٹ اُلٹا جانے کے بعد ایک سڑک آئی جس پر سب لوگ مُڑ رہے تھے ۔ میں بھی مُڑ کر گاؤں کے اندر چلا گیا ۔ آہستہ آہستہ کار چلاتا کوئی 100 میٹر کے بعد پھر مُڑ کر اپنی رہائشگاہ کی سمت چل پڑا ۔ اپنی رہائش گاہ سے ایک کلومیٹر سے زائد آگے جا کر ایک سڑک پر مُڑ کر پھر رہائشگاہ کے پچھلی طرف گلی میں داخل ہو کر گھر پہنچا کیونکہ میری رہائشگاہ کا سامنے کا راستہ بھی بند تھا

قارئین کرام ۔ یہ وہ لوگ تھے جنہیں میرے ہموطن اَن پڑھ ۔ جاہل ۔ بیوقوف اور نجانے کیا کچھ خطابات دیا کرتے تھے

بہت دُکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ فی زمانہ ہموطنوں نے بے تُکی باتیں اور حرکات بہت سیکھ لی ہیں مگر کام کی بات اور باہم ذمہ داریوں کی طرف توجہ نہیں دیتے ۔ عام طور پر اپنی کوتاہیاں وطن عزیز یا حُکرانوں کے سر تھوپ کر سرزنش کرتے رہتے ہیں ۔ ایک فقرہ عام طور پر بولا جاتا ہے ”اِس مُلک کا 70 سال سے بُرا حال ہے“۔ حالانکہ کہ ایسا کہنے والوں کو پچھلے 10 سال کے واقعات بھی یاد نہیں رہتے اور بار بار ایک ہی سوراخ سے ڈسے جاتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف وطنِ عزیز پاکستان کے حُکمران بلکہ اس میں بسنے والے سب بھی 1966ء تک باہمی ذمہ داریوں کا احساس رکھتے تھے اور نظم و بُردباری کا مظاہرہ کرتے تھے ۔ پھر ایک نئی طرز کے شخص نے لیڈر بننے کی کوشش میں زہر گھولنا شروع کیا جس کے نتیجہ میں ہماری 1966ء تک والی خصوصیات جن کی بدولت اللہ سبحانُہُ و تعالٰی نے ہمیں پاکستان عطا فرمایا تھا اور اس کی تعمیر کی توفیق دی تھی وہ خصوصیات اب اپنے دیس میں ناپید ہو چکی ہیں ۔ صرف ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں

فی زمانہ سب جانتے ہیں کہ دُشمن کے زر خرید ہموطن اپنے ہی وطن میں دہشتگردی کر کے ہزاروں شہریوں کو ہلاک کر چکے ہیں ۔ اس کے مقابلہ میں ۔ ۔ ۔

Extract from an article published on October 24, 1951 in an Indian magazine:
American minds set thinking re plot assassinate Liaquat. US wanted Muslim assassin to obviate international complications. US could not find traitor in Pakistan as had been managed Iran, Iraq, Jordan. Washington rulers sounded US Embassy Kabul. American Embassy contacted Pashtoonistan leaders, observing Liaquat their only hurdle; assured them if some of them could kill Liaquat, US would undertake establish Pashtoonistan by 1952. Pashtoon leaders induced Akbar undertake job and also made arrangements kill him to conceal conspiracy.

ترجمہ ۔ بھارت کے ایک رسالے میں 24 اکتوبر 1951 میں چھپنے والے مضمون سے اقتباس
امریکی دانشوروں نے لیاقت علی کے قتل کے منصوبہ پر غور شروع کر دیا ۔ امریکہ چاہتا تھا کہ قاتل مسلمان ہو تاکہ بین الاقوامی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے ۔ جس طرح کہ ایران ۔ عراق ۔ اُردن میں غدار مل گئے تھے امریکہ کو پاکستان ایک بھی غدار نہ مل سکا ۔واشگٹن سے حُکمرانوں نے کابل میں امریکی سفارتخانے سے رابطہ کیا ۔ امریکی سفارتخانے نے پختونیستان کے لیڈروں سے رابطہ کیا اور بتایا کہ اُن کے راست میں لیاقت علی ہی رکاوٹ ہے اور اُنہیں یقین دلا کہ اگر وہ لیاقت علی کو ہلاک کر دیں 1952ء تک وہ پختونستان قائم کر دیں گے ۔ پختون لیڈروں نے اس کام کیلئے اکبر (سید اکبر) کو تیار کیا اور سازش کو چھُپانے کی خاطر سید اکبر کو بھی ہلاک کرنے کا بندوبست کر دیا

بہترین کون ؟

وہ بہترین ہے جو آپ جو کچھ بھی ہیں آپ سے پیار کرے
نہ کہ اس لئے پیار کرے کہ آپ اُس کے کسی کام آ سکیں گے

عیدالفطر مبارک

اللہ سبحانُہُ و تعالٰی سب کے روزے اور عبادتيں قبول فرمائے ۔ عیدالفطر کی نماز سے قبل اور بہتر ہے کے رمضان المبارک کے اختتام سے پہلے فطرانہ ادا کر دیا جائے ۔ کمانے والے کو اپنا اور اپنے زیرِ کفالت جتنے افراد ہیں مع گھریلو ملازمین کے سب کا فطرانہ دینا چاہیئے
عید کے دن فجر کی نماز سے مغرب کی نماز تک یہ ورد جاری رکھیئے ۔ نماز کیلئے جاتے ہوئے اور واپسی پر بلند آواز میں پڑھنا بہتر ہے

اللہُ اکبر اللہُ اکبر لَا اِلَہَ اِلْاللہ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ
لَہُ الّمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیٍ قَدِیر
اللہُ اکبر اللہُ اکبر لا اِلہَ اِلاللہ و اللہُ اکبر اللہُ اکبر و للہِ الحمد
اللہُ اکبر اللہُ اکبر لا اِلہَ اِلاللہ و اللہُ اکبر اللہُ اکبر و للہِ الحمد
اللہُ اکبر اللہُ اکبر لا اِلہَ اِلاللہ و اللہُ اکبر اللہُ اکبر و للہِ الحمد
اللہُ اکبر کبِیرہ والحمدُللہِ کثیِرہ و سُبحَان اللہِ بکرۃً و أصِیلا

میں اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی طرف سے سب کی خدمت ميں عيد مباک
اللہ کریم سب کو دائمی عمدہ صحت ۔ مُسرتوں اور خوشحالی سے نوازے ۔ آمين ثم آمين ۔
جمعہ الوداع پر مسجد الحرام کی ایک جھلک دیکھیئے. ماشاء اللہ 30 لاکھ اہل ایمان نے یہ سعادت حاصل کی
makka-madina 2015 (14)
آیئے سب انکساری ۔ رغبت اور سچے دِل سے دعا کریں
اے مالک و خالق و قادر و کریم و رحمٰن و رحیم و سمیع الدعا
رمضان المبارک میں ہوئی ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگذر فرما اور ہمارے روزے اور دیگر عبادتیں قبول فرما
اپنا خاص کرم فرماتے ہوئے ہمارے ہموطنوں کو آپس کا نفاق ختم کر کے ایک قوم بننے کی توفیق عطا فرما
ہمارے ملک کو اندرونی اور بیرونی سازشوں سے محفوظ رکھ
ہمارے ملک کو امن کا گہوارہ بنا دے
ہمیں ۔ ہمارے حکمرانوں اور دوسرے رہنماؤں کو سیدھی راہ پر چلا
ہمارے ملک کو صحیح طور مُسلم ریاست بنا دے
آمین ثم آمین

Pages