افتخار اجمل بھوپال

دل کا داغ جو مٹ نہ سکا

ہمارے مُلک کے ایک بڑے حصے کو علیحدہ ہوئے 46 سال بِیت گئے لیکن مجھے وہ خوبصورت نوجوان Assistant Works Manager محبوب نہیں بھولتا ۔ سُرخ و سفید چہرہ ۔ دراز قد ۔ چوڑا سینہ ۔ ذہین ۔ محنتی ۔ کم گو ۔ بہترین اخلاق ۔ اُردو باقی بنگالیوں کی بجائے نئی دہلی کے رہنے والوں کی طرح بولتا تھا ۔ مشرقی پاکستان میں نئی مکمل ہونے والی فیکٹری میں اُسے اوائل 1970ء میں بھیج دیا گیا کہ وہ بنگالی تھا (سِلہٹ کا رہائشی)

یکم جولائی 1969ء کو مجھے ترقی دے کر Production Manager Weaponsتعینات کر کے فیکٹری کے 8 میں سے 4 محکموں کی سربراہی کے ساتھ نئے اسِسٹنٹ ورکس منیجر صاحبان کی تربیت بھی ذمہ داریاں دے دی گئیں ۔ 1969ء میں بنگالی کچھ افسران بھرتی ہوئے ۔ یہ سب ہی محنتی اور محبِ وطن تھے ۔ اِن میں محبوب بھی تھا

میری 21 دسمبر 2012ء کو شائع شدہ تحریر
جب مُکتی باہنی کا شور شرابا زوروں پر تھا مُکتی باہنی والوں نے فیکٹری کے سب بنگالی ملازمین کو بنگلا دیش کا جھنڈے کے پیچھے جلوس نکالنے کا کہا ۔ اپنی جان بچانے کی خاطر سب باہر نکل آئے لیکن محبوب نہ نکلا ۔ محبوب پر مُکتی باہنی نے الزام عائد کيا گيا کہ وہ غدار ہے اور اگر نہيں تو بنگلا ديش کا جھنڈا اُٹھا کر جلوس کے آگے چلے ۔ محبوب شادی شدہ اور ايک چند ماہ کے بچے کا باپ تھا ۔ مجبوراً جلوس ميں جھنڈہ اُٹھا ليا ۔ اس کی بناء پر فوج کے افسر نے اُس کی بيوی ۔ چند ماہ کے بچے اور فيکٹری کے افسران کے سامنے محبوب کا سمری کورٹ مارشل کر کے چند منٹوں می موت کی سزا سُنا دی ۔ اُس کی بيوی نے فوجی افسر کے پاؤں پکڑ کر رَو کر فرياد کی کہ ميرے خاوند کو نہ مارو ۔ مجبور انسان کو مت مارو ۔ مگر گولی چلانے کا حُکم دے ديا گيا ۔ ديکھنے والے افسران ميں مغربی پاکستان سے گئے ہوئے Senior Civilian Officers موجود تھے جو محبوب کے کردار سے واقف تھے مگر خاموش رہے ۔ يہ اُن میں سے ہی ایک سینیئر افسر نے مغربی پاکستان پہنچنے کے بعد مُجھے سُنایا تھا

سانحہ مشرقی پاکستان 16 دسمبر 1971ء کے متعلق جو اَعداد و شمار اور واقعات ذرائع ابلاغ کے ذریعہ پھیلائے گئے ہیں وہ اتنے غلط ہیں کہ جتنا زیادہ کوئی جھوٹ بول سکے ۔ ہمارا ملک پاکستان معرضِ وجود میں آنے کے بعد صرف ایک نسل گذرنے پر صورتِ حال کچھ ایسی ہونا شروع ہوئی کہ میں سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں ”کیا آزادی اِس قوم کو راس نہیں آئی جو ہر دَم اور ہر طَور اس سلطنتِ خدا داد کے بخِیئے اُدھیڑنے کے در پئے رہتی ہے“۔ اب تو حال یہاں تک پہنچا ہے کہ بھارت کو بہترین دوست اور شیخ مجیب الرحمٰن کو محبِ پاکستان ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے
میں ذاتی معلومات پر مبنی واقعات پہلے لکھ چکا ہوں جو مندرجہ ذیل موضوعات پر باری باری کلک کر کے پڑھے جا سکتے ہیں ۔ آج صرف اعداد و شمار پیش کر رہا ہوں
بھولے بسرے واقعات ۔ پہلا سوال
سقوطِ ڈھاکہ کے اسباب ۔ قسط 1 ۔ دوسرا سوال اور ذرائع
سقوطِ ڈھاکہ کے اسباب ۔ قسط 2 ۔ معلومات
سقوطِ ڈھاکہ کے اسباب ۔ قسط 3 ۔ مشاہدہ اور تجزیہ

مارچ سے دسمبر 1971ء تک مشرقی پاکستان میں جو ہلاکتیں ہوئیں اور ان کے اسباب کے متعلق غلط اور اِنتہائی مبالغہ آمیز اعداد و شمار زبان زد عام رہے ہیں ۔ پچھلی 4 دہائیوں میں غیر جانب دار لوگوں کی تحریر کردہ کُتب اور دستاویزات سامنے آ چکی ہیں ۔ جن کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے
شیخ مجیب الرحمٰن اور اس کے حواریوں کا پروپیگنڈہ تھا کہ فوج نے 30 لاکھ بنگالیوں کو ہلاک کیا ۔ فوجی کاروائی ڈھاکہ اور اس کے گرد و نواح میں 26 مارچ 1971ء کو شروع ہوئی اور 16 دسمبر 1971ء کو پاکستانی فوج نے ہتھیار ڈال دیئے ۔ چنانچہ یہ ہلاکتیں 265 دنوں میں ہوئیں ۔ اس طرح ہر ماہ 339630 یا ہر روز 11321 بنگالی ہلاک کئے گئے ۔ ایک سرسری نظر ہی اس استلال کو انتہائی مبالغہ آمیز یا جھوٹ قرار دینے کیلئے کافی ہے
حمود الرحمٰن کمیشن کو فوج کے نمائندہ نے بتایا تھا کہ فوجی کاروائی کے دوران 26000 بنگالی ہلاک ہوئے لیکن کمیشن نے اس تعداد کو بہت مبالغہ آمیز قرار دیا تھا
شرمیلا بوس نے اپنی کتاب میں لکھا
“The three million deaths figure is so gross as to be absurd … [it] appears nothing more than a gigantic rumour. The need for ‘millions’ dead appears to have become part of a morbid competition with six million Jews to obtain the attention and sympathy of the international community.”
(ترجمہ ۔ تین ملین کا ہندسہ اتنا بھاری ہے کہ سرِ دست لغو لگتا ہے ۔ ۔ ۔ یہ ایک قوی ہیکل افواہ سے زیادہ کچھ نہیں ۔ ملینز کی تعداد چھ ملین یہودیوں کے ہمعصر ہونے کی ایک بھونڈی کوشش لگتی ہے تاکہ بین الاقوامی توجہ اور ہمدردی حاصل کی جا سکے)
مشرقی پاکستان میں موجود مغربی پاکستان کے لوگوں میں پنجابی ۔ پٹھان ۔ کشمیری ۔ سندھی ۔ بلوچ اور اُردو بولنے والے شامل تھے ۔ ان میں سرکاری محکموں ۔ سکولوں ۔ کالجوں ۔ بنکوں اور دیگر اداروں کے ملازم ۔ تاجر ۔ کارخانہ دار اور مزدور شامل تھے ۔ ان کارخانہ داروں میں سہگل ۔ آدم جی ۔ بھوانی اور اصفہانی قابلِ ذکر ہیں ۔ بھارت کی تشکیل کردہ اور پروردہ مُکتی باہنی والے مشرقی پاکستان میں موجود مغربی پاکستان کے تمام لوگوں کو پنجابی کہتے تھے اور یہی تخلص زبان زدِ عام ہوا
جُونہی فوجی کاروائی شروع ہوئی مُکتی باہنی اور اس کے حواریوں نے غیر بنگالیوں کی املاک کی لوٹ مار اور نہتے بوڑھوں عورتوں اور بچوں کے ساتھ زیاتی اور قتلِ عام شروع کر دیا ۔ عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ جو زیادتیاں ہوئیں مغربی پاکستان کے ذرائع یا اس سے بے خبر تھے یا بیہوش پڑے تھے
یہ حقیقت بھی بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں کہ شیخ مجیب الرحمٰن اور اس کے نائبین پہلے ہی فیصلہ کر چکے تھے کہ جمعہ 26 مارچ 1971ء کی صبح منظم مسلح بغاوت شروع کر دی جائے گی ۔ اس تیاری کیلئے بہت پہلے سے ڈھاکہ یونیورسٹی کو مکتی باہنی کا تربیتی مرکز بنایا جا چکا تھا
فوجی کاروائی 26 مارچ 1971ء کو شروع ہوئی تھی ۔ مکتی باہنی نے یکم سے 25 مارچ تک ہزاروں محبِ وطن بنگالی اور مغربی پاکستان سے گئے ہوئے لوگ ہلاک کئے ۔ مُکتی باہنی جس میں بھارتی فوج کے Commandos کی خاصی تعداد شامل تھی کے ہاتھوں قتل و غارت کے غیر ملکی ذرائع کے شائع کردہ محتاط اعداد و شمار بھی رَونگٹے کھڑے کر دیتے ہیں
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق 200000 تک مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
امریکی کونسل کے مطابق 66000 مغربی پاکستانی صرف ڈھاکہ اور گرد و نواح میں ہلاک کئے گئے
خود بنگالی ذرائع نے ڈھاکہ اور گرد و نواح میں 30000 سے 40000 مغربی پاکستانی ہلاک ہونے کا اعتراف کیا تھا
شروع مارچ 1971ء میں صرف بوگرہ میں 15000 مغربی پاکستانیوں کو ہلاک کیا گیا
وسط مارچ کے بعد چٹاگانگ میں 10000 سے 12000 مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
جیسور میں 29 اور 30 مارچ کو 5000 مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
دیناج پور میں 28 مارچ سے یکم اپریل تک 5000 مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
میمن سنگھ میں 17 اپریل سے 20 اپریل تک 5000 کے قریب مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
اس کے بعد مُکتی باہنی نے قتل و غارتگری کا بازار پوری شدت کے ساتھ گرم کیا ۔ اس طرح کہ اعداد و شمار بتانے والا بھی کوئی نہ رہا
پاکستان کے فوجیوں کی تعداد جو زبان زدِ عام ہے صریح افواہ کے سوا کچھ نہیں ۔ جن 93000 قیدیوں کا ذکر کیا جاتا ہے ان میں فوجیوں کے علاوہ پولیس ۔ سویلین سرکاری و غیر سرکاری ملازمین ۔ تاجر ۔ عام مزدور ۔ دُکاندار وغیرہ اور ان سب کے خاندان عورتوں اور بچوں سمیت شامل تھے ۔ ان قیدیوں میں درجنوں میرے ساتھی یعنی پاکستان آرڈننس فیکٹریز واہ کینٹ کے سویلین ملازمین اور ان کے اہلَ خانہ بھی تھے جنہیں 6 ماہ سے 3 سال کیلئے پاکستان آرڈننس فیکٹری غازی پور (ڈھاکہ) میں مشینیں سَیٹ کرنے اور مقامی لوگوں کی تربیت کیلئے بھیجا گیا تھا

مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان سے گئے ہوئے فوجیوں کی تعداد 20000 تھی جن میں پولیس ۔ میڈیکل اور دوسری نہ لڑنے والی نفری
ملا کر کل تعداد 34000 بنتی تھی ۔ یہ پاکستانی فوج 9 ماہ سے مکتی باہنی کے 100000 جنگجوؤں سے گوریلا جنگ لڑتے لڑتے بے حال ہو چکی تھی ۔ ایسے وقت میں بھارت کی ہر قسم کے ہتھیاروں سے لیس 3 ڈویژن تازہ دم فوج سے مقابلہ کرنا پڑا ۔ پاکستانی فوج کی ہلاکتیں 4000 کے قریب ہوئیں ۔ بقول بھارتی لیفٹننٹ جنرل جے ایف آر جیکب بھارتی فوج کی ہلاکتیں 1477 اور زخمی 4000 ہوئے تھے

شیخ مجیب الرحمٰن کو اس کے خاندان سمیت 15 اگست 1975ء کو ہلاک کر دیا گیا ۔ ہلاک کرنے والے بنگلا دیش ہی کے فوجی تھے جو نہ پنجابی تھے نہ بہاری ۔ صرف ایک بیٹی حسینہ بچی جو ملک سے باہر تھی
مشرقی پاکستان شیخ مجیب الرحمٰن اور بھارت کی تیار کردہ مُکتی باہنی کو پذیرائی نہ ملتی اگر حکومتِ پاکستان نے مشرقی پاکستان کی معیشت و معاشرت کی طرف توجہ دی ہوتی اور بے لگام بیورو کریسی کو لگام دے کر اُن کے فرض (عوام کی بہبود) کی طرف متوجہ کیا ہوتا ۔ پچھلے کم از کم 5 سال میں جو ملک کا حال ہے ۔ دل بہت پریشان ہے کہ کیا ہو گا ۔ الله محبِ وطن پاکستانیوں پر اپنا کرم فرمائے اور اس ملک کو محفوظ بنائے

مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کی بڑی تعداد اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتی تھی جس کے نتیجہ میں مغربی پاکستانیوں کے ساتھ وہ بھی مکتی باہنی کا نشانہ بنے ۔ لاکھوں بنگالیوں نے دستخط کر کے ایک یاد داشت برطانیہ کے راستے ذوالفقار علی بھٹو کو بھجوائی تھی کہ بنگلا دیش منظور نہ کیا جائے ۔ پیپلز پارٹی کی اکثریت بھی بنگلہ منظور کرنے کے خلاف تھی ۔ اِسی لئے جب عوام بنگلہ دیش کیی منظوری لینے کیلئے ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور میں پیپلز پارٹی کے بہت بڑے جلسے کا اہتمام کیا تو اہل جللسہ نے بھٹو کو بولنے نہ دیا اور تمام لاؤڈ سپیکروں کے تار کاٹ دیئے ۔ بعد میں بھٹو نے اسلامی کانفرنس کا انعقاد کر کے بنگلا دیش منظور کرنے کا اعلان کر دیا

نہ صرف یہ بلکہ بنگلا دیش بننے کے بعد جن لوگوں نے وحدتِ پاکستان کے حق میں آواز اٹھائی تھی انہیں طرح طرح سے تنگ کیا گیا اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمے بنائے گئے ۔ بہاریوں کو نہ شہریت دی اور نہ مہاجرین کا درجہ ۔ وہ ابھی تک کس مُپرسی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں ۔ جماعتِ اسلامی کے دلاور حسین سیّدی سمیت 6 لیڈر ابھی بھی بغاوت کے مقدمات بھُگت رہے ہیں
یہ حقیقت ہے کہ اب بھی بنگلا دیش کے عوام کی اکثریت کے دل پاکستانی ہیں ۔ اس کا ایک ادنٰی سا مظاہرہ اس وقت ہوتا ہے جب پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں مدِ مقابل ہوتی ہیں ۔ بنگلا دیش کے عوام جوش و خروش کے ساتھ پاکستانی ٹیم کے حق میں بول رہے ہوتے ہیں

کیا دین کے لحاظ سے یہ صحیح ہے ؟

اپریل 2016ء میں کراچی کے ایک صاحب نے سوال پوچھا ”کیا یہ شعر بولنا صحیح ہے ؟؟“
کی محمداﷺ سے وفا تُو نے تَو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا ۔ لوح و قلم تیرے ہیں

اُس زمانہ سے لے کر جب میں گیارہویں جماعت میں تھا (1955ء) اُس زمانہ تک جب حکومتِ وقت نے علامہ اقبال کو ریڈیو ۔ ٹی وی اور سکول و کالج کی نصابی کُتب سے نکال کر اُن کی جگہ فیض احمد فیض کو قومی شاعر بنا دیا تھا (1974ء) یہ سوال کئی بار سُننے میں آیا اور اِس پر تکرار ہوتے بھی دیکھی

اِس سوال کا اٹَک کے ایک صاحب جو مولوی سمجھے جاتے ہیں نے خوبصورت جواب دیا ۔ سو خیال آیا کہ اِسے قارئین کی نظر کیا جائے

جواب ۔ محترم بھائی ۔ شعر و شاعری کو سمجھنے کیلئے اس سے تعلق ضروری ہے اور یہ فقیر شعر و سخن سے کچھ زیادہ آشنا نہیں ۔ بہرحال اپنی بساط کے مطابق عرض ہے ۔ آپ نے جس شعر کی تشریح پوچھی ہے ۔ وہ ڈاکٹر اقبال کی مشہور نظم “جواب شکوہ “کا ہے ۔ ”شکوہ ۔ جواب شکوہ“ علامہ اقبال کی دو طویل نظمیں ہیں جو ”بانگ درا“ یعنی ”گھنٹیوں کی صدا“ کے اوراق کی زینت ہیں ۔ ”شکوہ“ اپریل 1911ء میں لکھی گئی ۔ ریواز ہوسٹل اسلامیہ کالج کے صحن میں ہونے والے انجمن حمایت اسلام لاہور کے اجلاس میں اقبال نے سنائی ۔ ”جواب شکوہ“ 1913ء میں اقبال نے لکھی ۔ یہ نظم موچی دروازے کے باہر ایک جلسہ عام میں بعد نماز مغرب سنائی گئی ۔ اس جلسے کا اہتمام مولانا ظفر علی خان نے کیا ۔ جواب شکوہ اسی جلسے میں ہزاروں کی تعداد میں فروخت ہوئی اور اس کی پوری آمدن ”بلقان فنڈ“ میں دے دی گئی ۔ شکوہ اور جواب شکوہ لکھنے کی اقبال کو ضرورت کیوں ہوئی ؟ اس کے بارے میں مختلف شارح اپنی اپنی آراء رکھتے ہیں لیکن جس ایک پہلو پر سب کا اتفاق ہے وہ یہ ہے اقبال 1905ء سے 1908ء تک یورپ میں رہے ۔ میونج یونیورسٹی (جرمنی) سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور قانون کا امتحان برطانیہ سے پاس کیا

یورپ میں قیام کے دوران وہاں کی سائنسی ۔ مادی ۔ سیاسی ۔ اقتصادی ۔ معاشرتی ترقی اور تہذیبی اقدار کو اقبال نے بہت قریب سے دیکھا ۔ اہل یورپ کی علمی لگن ۔ عملی کوشش ۔ سائنسی ترقی ۔ جذبہءِ عمل اور حُب الوطنی سے متاثر ہوئے ۔ جب واپس ہندوستان آئے تو اہلِ یورپ کے برعکس مسلمانوں میں کاہلی ۔ جمود ۔ بے عملی ۔ غلامانہ ذہنیت ۔ اقتصادی پسماندگی اور عملی ذوق و شوق کا فُقدان دیکھ کر آزردہ خاطر ہوئے مسلمانوں کی اسلام سے محض زبانی عقیدت ۔ خدا کی محبوب قوم ہونے کا عجیب احساس ۔ اسلام کا شَیدا ہونے کا دکھاوے کا اعتقاد ۔ قرآن مجید کی تعلیمات سے دُوری اور اسوہءِ رسول سے وابستگی کے خیالی دعوے ۔ اقبال کی پریشیانی کا باعث بن گئے ۔ ان ساری باتوں کے باوجود مسلمان ہر وقت دین و دنیاکی برکات چھِن جانے کا خدا سے شکوہ بھی کرتے تھے ۔ یہی نظم ”شکوہ“ کا بنیادی تصور ہے

”شکوہ“ جب اقبال نے لکھی تب صرف ہندوستان کے مسلمان ہی زبُوں حالی کا شکار نہیں تھے ۔ ایران ۔ ترکی ۔ مصر اور افریقہ کے مسلمانوں کی حالت بھی ایسی ہی تھی ۔ طرابلس اور بلقان کی جنگوں نے مسلمانوں کے احساس زوال کو مزید شدید کردیا تھا ۔ جس نے اقبال کو شکوہ ۔ جواب شکوہ جیسی انقلابی نظمیں لکھنے کی تحریک دی ۔ علامہ اقبال نباضِ ملت اور اپنے دور کے مفکر ہیں ۔ انہوں نے موجودہ عہد کے مسلمانوں کے زوال کے اسباب اور زمانہ قدیم کے مسلمانوں کے عرُوج کی وجوہات کو دونوں نظموں کا مرکزی خیال بنایا تاکہ مسلمان اپنے شان دار ماضی سے زوال پذیر حال کو دیکھیں اور روشن مستقبل کا سراغ لگاسکیں

مسلمانوں کے طرز عمل سے نالاں اقبال اسلام کے عظیم ماضی کوحسرت سے دیکھتے، حال کا جائزہ لیتے تو بے بسی سے سپر ڈال دیتے۔ مگر ان کی مایوسی اور ناامیدی انہیں کشاں کشاں تاریکی سے روشنی کی طرف لے آئی۔ مسلمان بلقان سے نکالے جاچکے تھے۔ ایران موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھا۔ طرابلس کے میدان مجاہدین کے خون سے لالہ زار تھے۔ اس دور میں اقبال نے جو نظمیں لکھیں ان کے اثر سے ہندی مسلمانوں میں جوش پیدا ہوا۔ جس پر انہوں نے شکوہ، جواب شکوہ لکھیں۔
یاد رہے انجمن حمایت اسلام کے اجلاس میں اقبال نے جب شکوہ پڑھی تو لوگ پھولوں کی جھولیاں بھر کر لاے اور علامہ پر گل پاشی کی اقبال کے والد گرامی بھی اس محفل میں موجود تھے۔ سیرت اقبال میں سر عبدالقادر نے لکھا ہے اقبال کے والد بیٹے کی کامیابی پر نازاں اور تاثر کلام سے آبدیدہ تھے۔

کوہ کے آغاز میں اقبال نے مسلمانوں کی جانب سے اللہ سے کلام کیا ہے
شکوہ اللہ سے ، خاکم بدہن ، ہے مجھ کو
ہے بجا شيوہء تسليم ميں مشہور ہيں ہم
قصہ درد سناتے ہيں کہ مجبور ہيں ہم
ساز خاموش ہيں ، فرياد سے معمور ہيں ہم
نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہيں ہم
اے خدا! شکوہء ارباب وفا بھي سن لے
خوگر حمد سے تھوڑا سا گلا بھي سن لے

ان شعار کا جواب، جواب شکوہ کے آخری اشعار میں دے کر اللہ کی طرف سے مسلمانوں کو لاجواب کردیا گیا ہے
گرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیا
عشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیا

تپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرح
غوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرح

عقل ہے تیری سپر، عشق ہے شمشیر تری
مرے درویش! خلافت ہے جہاں گیر تری
اے مسلم : اگر تو صاحب ایمان ہوجائے تو تیری عقل تیری ڈھال بن جائے ،جو تجھے ہر غلط اقدام سے روک لے
اور عشق (یعنی تیرا ایمان ) تیرا اسلحہ ہے ، (اس لئے اپنے ایمان کو زندہ کر )
تو درویش ( یعنی بندہء دنیا تو نہیں ،لیکن دنیا کا خلیفہ ہے ) اور تو
کسی ایک خطہ پر خلافت کیلئے نہیں بلکہ ساری دنیا پر خلافت و حکومت کیلئے وجود میں آیا ہے ،

ماسوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تری
تو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری
اے مسلم : تو اس جہاں میں اگر اللہ کی کبریائی ،اور حاکمیت کیلئے کوشاں ہو جائے تو دنیا سے باقی تمام ازم اور نظام پاش پاش ہوجائیں
اور اگر تو مسلم حقیقی بن جائے تو تیری ہر تدبیر تیرے لئے کار آمد بن جائے،

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
اس آخری شعر کا آسان سا مفہوم یہ کہ اللہ فرماتے ہیں :
اے مسلم : تو اگر میرے نبی مکرم ﷺ کا وفادار بن جائے ،تو یہ دنیا جس پر کبھی تیری حکومت و شوکت تھی
اور جو اب چھن چکی ،نہ صرف وہ پھر تجھے واپس مل سکتی ہے ، بلکہ ہم ہر فیصلہ میں تیری ضرورت و عزت کا خیال رکھیں گے

کیا ہم قابلِ اعتماد یا محبِ وطن ہیں ؟

اتوار 3 نومبر 2017ء کو صحافی طاہر خلیل نے فیض آباد انٹر چینج پر 6 نومبر سے دِیئے جانے والے 22 روزہ دھرنے کے اسباب کا تجزیہ شائع کیا جو ہر محبِ وطن پاکستانی کو دعوتِ غور و فِکر دیتا ہے

الیکشن ایکٹ 2017میں اِنتخابی اُمیدوار کیلئے حلف نامہ میں الفاظ کی تبدیلی سے جو ہیجانی کیفیت پیدا ہوئی تو کچھ حلقوں نے اسے بین الاقوامی سازش اور ریشہ دوانیوں کے سلسلے تک پھیلا دیا۔ معاملہ جو کاغذات نامزدگی فارم میں ترمیم سے شروع ہوا اس نے پاکستان کی سیاسی دانش کےلئے کئی چیلنجز پیدا کر دیئے جس میں تدبر و فراست ، حکمت و بصیرت اور دُور اندیشی کی بجائے وقتی مفاد ، سیاسی خود غرضی اور عاجلانہ فیصلوں نے نہ صرف سیاسی اور جمہوری نظام کو کمزور کیا بلکہ بے بنیاد پراپیگنڈے کی بنیاد پر منفی سیاست کو فروغ دیا ۔ الیکشن ایکٹ 2017 میں اِنتخابی اُمیدوار کے حلف نامہ میں الفاظ کی تبدیلی کے تنازع کے ضمن میں حقائق کی تلاش کےلئے جب پارلیمانی ریکارڈ کا جائزہ لیاگیا جو متعلقہ پارلیمانی کمیٹی کے ہر رکن کے پاس دستیاب ہے تو جھوٹ اور سچ میں فرق نمایاں ہوگیا ۔ بات محض سمجھنے کی ہے

کاغذات نامزدگی کیلئے 4 طرح کے فارمز ہوتے ہیں ۔ فارم نمبر 9 جنرل سیٹس کےلئے ، 9 اے مینارٹی ، 9 بی خواتین کی مخصوص نشستوں اور فارم نمبر20 سینٹ کے امیدواروں کےلئے مختص ہیں ۔ الیکشن ایکٹ 2017 کا مقصد انتخابات سے متعلق 9 قوانین کو مربوط اور آسان کرکے یکجا کرنا تھا ۔ 16مئی 2017کو الیکٹورل ریفارمز مرکزی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کاغذات نامزدگی فارم 9 الیکشن ایکٹ کا حصہ بنایا جائے گا۔ قبل ازیں یہ الیکشن کمیشن رولز کا حصہ تھا

ریکارڈ کے مطابق 17مئی 2017کو اس وقت کے لاء منِسٹر زاہد حامد کی زیر صدارت انتخابی اصلاحات کی سب کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں فارم 9 پر بحث ہوئی اور جو فیصلے ہوئے وہ ریکارڈ کا حصہ بنے ۔ فارم کے اندر متعدد ایسی شقیں موجود تھیں جو آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے سکوپ سے باہر تھیں ۔ ان میں سے کئی شقیں غیر جمہوری حکمرانی دور میں شامل کی گئی تھیں ۔ ان تمام کا آرٹیکل 62 اور 63 سے تعلق نہیں بنتا تھا ۔ ممبران کی طرف سے استدلال کیا گیا کہ یا تو آرٹیکل 62، 63 کی سار ی شقیں شامل کر دی جائیں یا پھر ارکان کو سارے آئین پر عمل درآمد کرنے کا پابند بنانے کی شق شامل کر دی جائے ۔ ریکارڈ کے مطابق سب کمیٹی کی 89 ویں میٹنگ 18مئی 2017ء کو ہوئی ۔ جس میں فارم 9 ، 9 اے اور 9 بی زیر غور لائے گئے ۔ اور 23 مئی 2017ء کے اجلاس میں سینٹ امیدواروں کا فارم 20 زیر بحث آیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ سینٹ امیدواروں کا فارم بھی قومی اسمبلی امیدواروں کے فارم کی طرز پربنا دیا جائے ۔ فارم 9 ، 9 اے ، 9 بی اور 20 کو پوری سب کمیٹی کے اندر زیر بحث لایاگیا ۔ پارلیمانی کمیٹی کے چند ارکان یا کسی ایک رکن کو ان فارمز کے مسؤدے کی تیاری کی ذے داری نہیں سونپی گئی تھی

سب کمیٹی کے 93 ویں اجلاس میں جو 13 جون2017ء کو ہوا یہ سب کمیٹی کا آخری اجلاس تھا ۔ 16رکنی سب کمیٹی میں پی پی پی ، مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف ، جماعت اسلامی ، ایم کیوایم ، جے یو آئی (ف) سمیت دیگر جماعتوں کے اراکین موجود تھے ۔ ریکارڈ سے واضح ہوتا ہے کہ امیدواروں کے کاغذات نامزدگی فارمز کی پارلیمانی کمیٹی کے ایک رکن یا چند ارکان نے ری ڈرافٹنگ نہیں کی تھی ۔ بلکہ پارلیمانی سب کمیٹی نے جو 16 ارکان پر مشتمل تھی کاغذات نامزدگی فارمز پر چار مختلف میٹنگز کے دوران غور کرکے سفارشات پیش کی تھیں اور اس کے نتیجے میں تیار ہونے والا نیا فارم سب کمیٹی کے 93 ویں اجلاس میں پیش کر دیا گیا ۔ پارلیمانی سب کمیٹی نے اپنے 93 ویں اجلاس میں اس پرغور کرکے الیکشن بل 2017 کا ڈرافٹ مرکزی کمیٹی کو بھیج دیا ۔ ریکارڈ کے مطابق الیکشن رولز کے تحت 30 کے لگ بھگ فارمز موجود تھے جن میں سے کاغذات نامزدگی فارمز نمبر 9، 9اے، 9بی اور 20 سمیت باقی تمام فارمز کا سب کمیٹی نے خود جائزہ لیا تھا

مرکزی پارلیمانی کمیٹی اور سب کمیٹی میٹنگز کی تمام تفصیلات ریکارڈ پر موجود ہیں اور یہ تاثر کہ امیدواروں کے کاغذات نامزدگی فارم پارلیمانی سب کمیٹی کے کسی ایک ممبر یا چند ممبران نے ری ڈرافٹ کئے حقائق کے منافی اور بے بنیاد پروپیگنڈے پر مبنی ہے ۔ اگر نامزدگی فارم کو ری ڈرافٹ کرنے کا کام کسی رکن یا گروپ وغیرہ کو دیا گیا ہوتا تو ریکارڈ کا ضرور حصہ ہوتا

اظہار تاسف کے ساتھ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ حالیہ دنوں میں ہم ایک ایسی قوم کے طور پر اُجاگر ہوئے جو خلاف حقائق ، بے معنی اورلغو داستانوں پر انحصار کرکے فیصلے کرتی ہے اور کسی کو بھی صفائی اور دفاع کا حق دیئے بغیر ملزم اور مجرم ثابت کرنے پر اصرار کرتے ہیں ۔ بعض لوگوں نے اس سارے عمل کو کسی طور پر بین الاقوامی سازش کا راگ الاپ کر اپنے ممبران کے دین ، عقیدے اور مذہب پر انگلیاں اُٹھانے کے ساتھ ان کی حُب الوطنی پر بھی سوال کھڑے کر دیئے

ریکارڈ سے عیاں ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کے بعد قومی اسمبلی نے بل پاس کرکے سینیٹ میں منظوری کےلئے بھیجا اور پہلی مرتبہ سینیٹر حافظ حمد اللہ نے یہ نکتہ اٹھایا کہ امیدوار کے کاغذات نامزدگی میں ختم نبوت سے متعلق ڈیکلریشن کے عنوان میں Solemnly Swear کی جگہ Solemnly Affirm نے لے لی ہے ۔ اسے سابقہ حیثیت میں بحال کیاجائے (ختم نبوت کے ڈیکلریشن کی عبارت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی) ۔ اعتزاز احسن سمیت اپوزیشن کے 35 ارکان سینٹ نے حافظ حمد اللہ کے مؤقف کی مخالفت کی تھی جبکہ حکومت کے 13 ارکان کے ساتھ لاء منسٹر نے سینیٹرحافظ حمد اللہ کی ترمیم کی حمائت کی تھی ۔ سوال یہ ہے کہ اگر سینٹ کے 35 ارکان جنہوں نے زاہد حامد کے پیش کردہ بل کی حمائت کی اور وہ سینیٹر حافظ حمد اللہ کے موقف کی تائید نہ کر سکے کیا وہ بھی کسی ”بین الاقوامی سازش“ کا حصہ بن گئے تھے ؟ اگر ایسا نہیں تو پھر سارے معاملے کوبد نیتی پر مبنی یا سازش کیسے قرار دیا جاسکتا ہے ؟ بعض حلقوں کا تاءثر ہے کہ ایک عدالتی شخصیت بھی اس پروپیگنڈے سے متاثر ہوئی

تاہم اس واقعے سے ہم نے سیکھا کہ ہم بحیثیت قوم مصدقہ اطلاعات پر بھروسہ کرنے کی بجائے قیاس آرائیوں ، افواہوں اور سوشل میڈیا کے پھیلائے ہوئے منفی تاثرات کو سچ جان کر کسی بھی بے گناہ کو مجرم بنا کر کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں

کیا ہِٹلر نے خود کُشی کی تھی ؟

میں نے بچپن میں بزرگوں سے سُن رکھا تھا کہ ہِٹلر نے خود کُشی نہیں کی ۔ وہ بہت دلیر آدمی تھا ۔ والد صاحب کا کاروبار دوسری جنگِ عظیم کے دوران قاہرہ مصر میں تھا ۔ اُن کا واسطہ برطانوی فوج کے میجر اور کرنل عہدے کے افسروں سے رہتا تھا ۔ اُنہوں نے بتایا تھا ”ایک دن برطانوی میجر شام کو میرے پاس آیا ۔ وہ آتے ہی بولا ۔ کچھ سُنا تم نے ؟ کہتے ہیں جنرل رَومیل افریقہ آ رہا ہے (جرمن جنرل رَومیل یورپ کا بہت سا علاقہ فتح کر چکا تھا) ۔ والد صاحب نے اُسے کہا ”جرمن تو پڑوس میں پہنچ چکے ہیں ۔ تُم نے نہیں سُنا کہ فلاں ریلوے سٹیشن پر بم گرایا ہے جس سے ریلوے لائن اُڑ کر 2 کلو میٹر دور جا کر گری ہے“۔ والد صاحب یہ کہہ کر چائے کا بندوبست کرنے گئے ۔ جب واپس آئے تو میجر بولا’Where is your bathroom. My bloody tummy.’ جنرل رومیل کے قریب پہنچنے کی خبر سُن کر میجر کو اسہال ہو گیا تھا ۔ والد صاحب کہتے تھے ”ہِٹلر بہت دلیر اور حاضر دماغ آدمی تھا ۔ وہ اِن کے ہاتھ نہیں آیا اور اپنی خِفّت مٹانے کیلئے اِنہوں نے مشہور کر دیا کہ خود کُشی کی یعنی ہِٹلر بُزدل تھا

اتحادیوں جن کیلئے ہِٹلر ایک قہر سے کم نہ تھا کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق ایڈولف ہِٹلر (Adolf Hitler) 30 اپریل 1945ء کو زیرِ زمین پناہ گاہ (Under ground Bunker) میں اپنے سر میں گولی مار کر اور اُس کی بیوی اِیوا براؤن (Eva Braun) نے زہر کی گولی (cyanide pill) کھا کر خود کُشی کر لی تھی پھر اُن کے سٹاف نے اُن کی لاشوں کو باہر لا کر نظرِ آتش کر دیا تھا اور زمین میں دبا دیا تھا

کیا بیسویں صدی کے سب سے دلیر حکمران ایڈولف ہِٹلر نے جو اتحادیوں کیلئے ایک ڈاؤنا خواب بن چکا تھا واقعی 1945ء میں خود کُشی کی تھی ؟ کبھی کسی نے دلیر آدمی کو خود کُشی کرتے سُنا ؟

ہفِنگٹَن پوسٹ ۔برطانیہ (Huffington Post, UK) میں چھپنے والی ارجنٹِینا (Argentina) کی یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے تاریخ دان عبدالباسط کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے ایک معاہدے کے تحت ہِٹلر کو جنوبی امریکہ بھاگنے میں مدد دی تھی تاکہ ہِٹلر سوویٹ یونین کے ہتھے نہ چڑھ جائے ۔ اسی طرح امریکہ نے بہت سے سائنس دانوں ۔ فوجیوں اور خُفیہ اداروں کے افراد کو بھی فرار میں مدد دی تھی جنہیں بعد میں سوویٹ یونین کے خلاف استعمال کیا گیا

تاریخ دان عبدالباسط جس نے ہِٹلر کے متعلق بہت کچھ لکھا یہ دعوٰی بھی کیا کہ برلن کی چانسلری (Chancellery in Berlin) کے نیچے بنی سرُنگ (Under ground Tunnel) کے ذریعہ ہِٹلر Tempelhof Airport ایئر پورٹ پہنچا ۔ وہاں سے ہیلی کاپٹر پر ہسپانیہ (Spain) گیا جہاں سے Canary Islands اور وہاں سے U-boat (Sub-marine) میں ارجنٹینا پہنچا ۔ ارجنٹینا میں 10 سال کے قریب رہا پھر Paraguay چلا گیا جہاں 3 فروری 1971ء کو فوت ہوا ۔ اُسے city of Asuncion میں ایک زیرِ زمین پناہ گاہ (Under ground Bunker) میں دفن کیا گیا جہاں اب ایک اب ایک عالی شان ہوٹل ہے ۔ اُس کی تدفین میں 40 لوگ شریک ہوئے تھے

امریکی سی آئی اے کے تجربہ کار ایجنٹ بوب بائر (veteran CIA agent Bob Baer) کی رپورٹ بھی تاریخ دان عبدالباسط کے مؤقف کی تائید کرتی ہے

مقتول امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے قتل کے حوالے سے وائٹ ہائوس کی جانب سے جاری کردہ خفیہ دستاویزات کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو اس کے ایک مخبر جس کا Code Name تھا Cimelody-3 نے بتایا تھا کہ جرمنی کے آمر ایڈولف ہٹلر نے دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر خود کشی نہیں کی تھی بلکہ وہ فرار ہو کر لاطینی امریکہ کے ملک کولمبیا میں روپوشی کی زندگی گزار رہے تھے ۔ نیویارک پوسٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہٹلر نہ صرف زندہ تھے بلکہ 1950ء کی دہائی میں نازی پارٹی کے سابق ارکان کے ساتھ کولمبیا میں روپوشی کی زندگی گزار رہے تھے

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سٹرون کو اس کے ذریعے نے بتایا تھا کہ جرمنی کے سابق حکمران نہ صرف زندہ تھے بلکہ نازی پارٹی کے مسلح ونگ Waffen SS کے ایجنٹ سٹرون ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور کولمبیا کے شہر Tunja میں ان کے رابطے ہوتے تھے ۔ سٹرون نے مُخبر کو بتایا کہ انہوں نے سابق نازیوں کی ایک کالونی ریزادینسیاس کولونیالس میں ایک ایسے شخص کو دیکھا ہے جو ہو بہو ایڈولف ہٹلر جیسا ہے ۔ لوگ اسے دار فیورہر کہہ کر پکارتے ہیں اور اسے نازی سیلوٹ بھی کرتے ہیں ۔ وافن ایس ایس کے سابق ایجنٹ سٹرون کے پاس اپنی وہ فوٹو بھی تھی جس میں وہ ایک شخص کے ساتھ بیٹھا ہے جو ہو بہو ہٹلر جیسا ہے ۔ سٹرون کے مطابق ایڈولف ہٹلر نے بعد میں اپنا نام تبدیل کرکے ایڈول شریٹمیئر رکھا تھا ۔ سی آئی اے کی خفیہ یاد داشتیں (Secret Memos) دیکھ کر یہ واضح ہوتا ہے کہ سی آئی اے کو شک تھا کہ ہٹلر زندہ ہے ۔ یاد داشتوں میں لکھا ہے کہ سی آئی اے کو مُخبر نے بتایا کہ ہٹلر ایک Shipping Company میں ملازمت کر رہا ہے
سی آئی اے کیلئے یہ یاد داشتوں کی فائل (Memos File وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں تعینات بیورو چیف ڈیوڈ برکسنر نے لکھی تھی جسے سٹرون اور ہٹلر کی تصویر کے ساتھ 1955ء میں واشنگٹن ارسال کیا گیا تھا

تصحیح ۔ بیان میلاد النّبی

میں نے 30 نومبر 2017ء کو تحریر شائع کی تھی ” میلادُالنّبی کیوں منایا جاتا ہے ؟ “۔ میری غلطی کہ اِس کا ایک چھوٹا سا لیکن اہم حصہ شائع ہونے سے رہ گیا تھا جو آج پیشِ خدمت ہے

میری یاد داشت کے مطابق پاکستان بننے کے قبل سے لے کر پاکستان بننے کے کم از کم ایک دہائی بعد تک ”12 ربیع الاوّل“ کو ”بارہ وفات“ کہا جاتا تھا یعنی یومِ وصال سیّدنا محمد صل الله عليه وآله وسلّم ۔ یہ یومِ پیدائش کیسے کہلانے لگا ؟ میں توجہ نہ دے سکا کیونکہ میں انجنیئرنگ کالج لاہور میں داخل ہو چکا تھا اور وہاں نصابی کُتب پڑھنے اور کامیابی کیلئے الله سے رجوع کرنے کے سوا کسی چیز کا ہوش نہیں تھا

سیرت نگار اور مؤرخین کا تاریخ پیدائش کے بارے میں اِختلاف ہے جس کا معقول سبب بھی ہے کہ کسی کو اس مبارک نومولود کی آئیندہ شان کے بارے میں علم نہیں تھا چنانچہ انہیں عام بچوں کی طرح سمجھا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی یقینی اور قطعی طور پر آپ صل الله عليه وآله وسلّم کی ولادت کے بارے میں تحدید نہیں کر سکتا

جب 40 سال بعد دعوت دینے کا حُکم ہوا تو لوگ نبی صل الله عليه وآله وسلّم سے متعلقہ یادوں کو واپس لانے لگے اور آپ کی زندگی کے بارے میں ہر چھوٹی بڑی چیز کے بارے میں پوچھنے لگے ۔

نبی صل الله عليه وآله وسلّم کی ولادت کے سال کے بارے میں متفقہ رائے ہے کہ عام الفیل کا سال تھا

آپ صل الله عليه وآله وسلّم کی پیدائش کا دن پیر (سوموار) بنتا ہے ۔ پیر کو ہی آپ صل الله عليه وآله وسلّم کو رسالت سے نوازا گیا اور پیر کو ہی آپ صل الله عليه وآله وسلّم نے وفات پائی (مُسلم 1162) ۔ یہ حوالہ بھی ملتا ہے کہ معراج بھی آپ صل الله عليه وآله وسلّم کو پیر ہی کے دِن کرائی گئی

آپ صل الله عليه وآله وسلّم کی پیدائش سے متعلق باقی مہینہ اور مہینہ کے دِن کا تعیّن ہے ۔ مہینہ کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں جن کے مطابق حضور صل الله عليه وآله وسلّم کی پیدائش ربیع الاوّل میں ہوئی

مہینہ کے دن پر اختلاف ہے ۔ کچھ مؤرخین کے مطابق 8 تاریخ تھی ۔ کچھ کے مطابق 10 ہے ۔ کچھ کے مطابق 12 ربیع الاوّل ہے ۔ کچھ مسلم محقق ماہرین فلکیات اور ریاضی دان افراد نے یہ ثابت کیا ہے کہ عام الفیل میں پیر کا دن ربیع الاول کی 9 تاریخ کو بنتا ہے جو شمسی اعتبار سے 20 اپریل 571ء کا دن ہے ۔ اس کو معاصر سیرت نگاروں نے راجح قرار دیا ہے

میلادُالنّبی کیوں منایا جاتا ہے ؟

میلادُالنّبی منانے کی وجہ رسول الله سیّدنا محمد صل الله عليه وآله وسلّم سے مُحبت بتائی جاتی ہے
کل وطنِ عزیز پاکستان میں ربیع الاوّل 1439ھ کی 12 تاریخ ہے ۔ اس تاریخ کو ہمارے نبی سیّدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی مبارک ولادت ہوئی (کچھ روایات کے مطابق تاریخ ولادتِ مبارک 9 ربیع الاوّل ہے) ۔ ہمارے ملک میں ہر طرف بڑھ چڑھ کر رحمت العالمین سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلّم سے محبت کے دعوے ہو رہے ہیں اور اس محبت کو ثابت کرنے کیلئے کہیں محفلِ میلاد منعقد ہو رہی ہے اور کہیں شاندار جلوس نکالنے کے اعلانات ہو رہے ہیں

سب کے چہرے بشاس نظر آ رہے ہیں لیکن نجانے میں کیوں اندر ہی اندر گھُلتا جا رہا ہوں
یہ کیسی محبت ہے کہ ہم دنیا کو دکھانے کیلئے تو جلسے اور جلوس کرتے ہیں لیکن جن سے محبت کا اس طرح سے اظہار کرتے ہیں نہ اُن کے کہے پر عمل کرتے ہیں اور نہ اُن کا طریقہ اپناتے ہیں ؟
ہم سوائے اپنے آپ کے کس کو دھوکہ دے رہے ہیں ؟

شاید ہی کوئی ہموطن ایسا ہو جسے لیلٰی مجنوں ۔ شیریں فرہاد ۔ ہیر رانجھا ۔ سسی پُنوں ۔ سوہنی مہینوال وغیرہ کے قصے معلوم نہ ہوں ۔ مُختصر یہ کہ لیلٰی کی محبت میں قیس مجنوں [پاگل] ہو گیا ۔ شیریں سے محبت میں فرہاد کو پتھر کی چٹانوں کو کھود کر نہر بناتے ہوئے جان دے دی ۔ ہیر کی محبت میں شہزادہ یا نوابزادہ رانجھا بن گیا ۔ سَسّی کی محبت میں اُس تک پہنچنے کی کوشش میں پُنوں ریت کے طوفان میں گھِر کر ریت میں دفن ہو کر غائب ہو گیا ۔ سوہنی کی محبت میں ایک ریاست کا شہزادہ سَوہنی کی بھینسیں چرانے لگا
یہ تو اُس محبت کی داستانیں ہیں جو دیرپا نہیں ہوتی اور جن کا تعلق صرف انسان کے جسم اور اس فانی دنیا سے ہے لیکن اس میں بھی محبت کرنے والوں نے اپنے محبوب کی خوشی کو مقّدم رکھا

کیا یہ منافقت نہیں کہ رسول الله صل الله عليه وآله وسلّم کے بارے میں ہم جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ہمارا عمل اس سے مطابقت نہیں رکھتا ؟

انَّ اللَّہَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَی النَّبِيِّ يَا أَيُّھَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (سورت 33 ۔ الاحزاب ۔ آیت 56)

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی اِبْرَاھِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِيْمَ اِنَّکَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ. اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ و َّعَلَی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی اِبْرَاھِيْمَ وَعَلَی اٰلِ اِبْرَاھِيْمَ اِنَّکَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ

سورت 5 المآئدہ آیت 3 ۔ اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا (ترجمہ ۔ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے)
مندرجہ بالا آیت سے واضح ہے کہ الله سبحانه و تعالٰی نے رسول الله سیّدنا محمد صل الله عليه وآله وسلّم پر دین مکمل کر دیا چنانچہ اُن کے بعد کسی نبی کی ضرورت نہیں رہی یعنی سیّدنا محمد صل الله عليه وآله وسلّم آخری نبی ہیں ۔ جو شخص اس پر ایمان نہ رکھے وہ مُسلمان نہیں ہو سکتا

تہوار کب اور کیسے شروع ہوا ؟
میلادالنبی کسی بھی صورت میں منانے کی مثال سیّدنا محمد صل الله عليه وآله وسلم کی وفات کے بعد 4 صدیوں تک نہیں ملتی ۔ پانچوَیں اور مشہور عباسی خلیفہ ہارون الرشید 17 مارچ 763ء کو ایران میں تہران کے قریب ایک قصبے میں پیدا ہوئے اور 786ء سے 24 مارچ 809ء کو وفات تک مسند خلافت پر رہے ۔ ان کے دور میں خطاطی اور فنِ تعمیر کے ساتھ ساتھ مصوری اور بُت تراشی کو بھی فروغ حاصل ہوا ۔
آٹھویں صدی عیسوی کے آخر میں ان کی والدہ الخيزران بنت عطاء نے اُس مکان کو مسجد میں تبدیل کروایا جہاں سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلّم کی مبارک ولادت ہوئی تھی ۔ اس کے بعد میلادالنبی کو تہوار کے طور پر شیعہ حکمرانوں نے منانا شروع کیا لیکن عوام اس میں شامل نہ تھے ۔

میلادالنبی کو سرکاری تہوار کے طور پر گیارہویں صدی عیسوی میں مصر میں منایا گیا جہاں اُس دور میں شیعہ کے اسماعیلی فرقہ کے الفاطميون [جنوری 909ء تا 1171ء] حکمران تھے ۔ شروع شروع میں اس دن سرکاری اہلکاروں کو تحائف دیئے جاتے ۔ جانوروں کی قربانی اور ضیافتیں کی جاتیں ۔ شعر پڑھے جاتے اور مشعل بردار جلوس نکالا جاتا ۔ یہ سب کچھ دن کے وقت ہوتا تھا

اس کی تقلید اہلِ سُنّت نے پہلی بار بارہویں صدی عیسوی میں شام میں کی جب وہاں نورالدین حاکم تھا ۔

الأيوبيون جو بارہویں اور تیرہویں صدی عیسوی میں حکمران رہے نے یہ تقریبات سب جگہ بند کرا دیں لیکن کچھ لوگ اندرونِ خانہ یہ تہوار مناتے رہے ۔

سلطان صلاح الدین کی وفات کے بعد اُس کے برادرِ نسبتی مظفرالدین ابن زین الدین نے تیرہویں صدی میں عراق میں پھر اسے سرکاری تہوار بنا دیا ۔ یہ رسم آہستہ آہستہ پھیلتی رہی اور سلطنتِ عثمانیہ [1299ء تا 1923ء] کے دور میں ستارہویں صدی عیسوی تک مسلم دنیا کے بہت بڑے علاقہ تک پھیل گئی ۔ 1910ء میں سلطنت عثمانیہ نے اسے قومی تہوار قرار دے دیا

آج جو مسلمان بھائی اجتہاد کی باتیں کرتے ہیں اُنہیں کم از کم اتنا تو کرنا چاہیئے تاریخ کا مطالعہ کر کے مسلمانوں تک اصل دین اسلام پہنچائیں ۔ تاکہ قوم میلے ٹھیلوں کی بجائے دین اسلام پر درست طریقہ سے عمل کرے
وما علینا الا البلاغ

تمام ہموطن بہنوں اور بھائیوں کی خدمت میں

ملک میں تبدیلی حکمرانوں کو تبدیل کرنے سے نہیں آتی بلکہ خود کو تبدیل کرنے سے آتی ہے ۔ اگر ہم خود اچھے کام کرنے لگیں اور بُرے کام باکل چھوڑ دیں پھر حکمران بھی اچھے ہی چُنے جائیں گے اور اپنا مُلک تیزی سے ترقی کرے گا اور جنت نظیر ہو جائے گا جس کا فائدہ ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو ہو گا

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے اچھی زندگی گزاریں تو اِس کیلئے ہمیں آج ہی سے محنت کر کے اچھائی اختیار کرنا ہو گی ۔ جو تھوڑی سی تکلیف آج ہم برداشت کریں گے اس کا ہمارے بچوں کو بہت زیادہ فائدہ ہو گا اور ہمارا اپنا بڑھاپا بھی اچھا گزرے گا

اِس کی ابتداء کیلئے آپ سب کے ادب و احترام کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے میری درخواست ہے اور اُمید کرتا ہوں کہ اسے غور سے پڑھ کر اس سلسلہ میں پوری کوشش کی جائے گی

1 ۔ سڑک پر ۔ گلی یا عمارت میں ڈسٹ بن (Dust Bin) کے سوا کسی جگہ چھلکا ۔ کاغذ یا سگرٹ وغیرہ نہ پھنیکیئے (جلتا سگریٹ کبھی نہ پھیکیئے)
2 ۔ سڑک ۔ گلی ۔ دیوار یا فرش پر نہ تھُوکیئے
3 ۔ کرنسی نوٹ یا دیوار پر کچھ نہ لکھیئے
4 ۔ باہر اور اپنے گھر میں بھی پانی اور بجلی کی جتنی بچت ہو سکے کیجئے
5 ۔ ٹریفک رولز کو سمجھئے ۔ ٹریفک رولز پر عمل کیجئے اور کبھی خلاف ورزی نہ کیجئے
6 ۔ ایمبولنس اور فائر بریگیڈ کی گاڑی کو فوری طور پر راستہ دیجئے
7 ۔ والدین ۔ دادا ۔ دادی ۔ نانا نانی کی خدمت کیجئے اور اُن کی کسی بات کا بُرا نہ منایئے
8 ۔ اپنے سے بڑی عمر کے لوگوں اورسب خواتین کا احترام کیجئے
9 ۔ خواہ کوئی آپ کے ساتھ زیادتی کرے آپ کسی کو نہ گالی دیجئے نہ تضحیک کیجئے
10 ۔ ہر سال کم از کم ایک درخت لگایئے چاہے اپنی زمین پر ہی لگائیں اور پہلے سے لگے درخت نہ کاٹیئے

اِس پر خود عمل کیجئے اور اپنے عزیزوں اور دوستوں کو بھی عمل کی ترغیب دیجئے مگر احترام اور پیار سے

جمعہ ۔ کالا یا سبز یا کچھ اور ؟

محترمہ سیما آفتاب صاحبہ نے ایک تحریر ” گرین فرائی ڈے“ لکھی ۔ وہاں تبصرہ کرنا چاہتا تھا لیکن خدشہ تھا کہ تبصرہ متذکّرہ طویل ہو جائے گا چنانچہ اسے یہاں لکھنے کا قصد کیا

ہمارے مُلک میں جو 70 فیصد تک رعائت دی جاتی ہے صرف ایک دھوکہ ہوتا ہے ۔ یہ میرا اسلام آباد کا تجربہ ہے کہ زور ” تک“ پر ہوتا ہے یعنی ”70 فیصد تک“۔ اسلئے 5 فیصد بھی ہو سکتی اور صفر بھی ۔ اور جہاں یہ تجربہ ہوا اُن کا بہت بڑا نام ہے ۔ اسلام آباد میں کچھ دُکانیں ایسی ہیں جن پر موسم کے لحاظ سے یعنی گرمیوں یا سردیوں کا آدھا دورانیہ گزرنے کے بعد وہ کم قیمت فروخت شروع کرتے ہیں تاکہ متعلقہ موسم والے کپڑے نکل جائیں ۔ اس سے میں بھی کبھی کبھی یعنی جب ضرورت ہو فائدہ اُٹھا تا ہوں

یہ ” اشرافیہ “ کون لوگ ہوتے ہیں ۔ اگر مُراد دولتمند ہے تو وہ لوگ اس طرح کی فروخت میں دلچسپی نہیں رکھتے ۔ اس طرح کی فروخت سے میرے جیسے لوگ فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرتے ہیں چاہے بیچنے والے نے پہلے قیمت زیادہ لکھ کر اُسے کاٹ کر کم قیمت لکھی ہو

رہا جمعہ تو کالا نیلا پیلا سبز سفید کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ جمعہ صرف جمعہ ہے ۔ ہم اپنے عمل سے اِس اچھا بناتے ہیں ۔ خرابی ہماری غیرمُسلموں کی اندھی نقّالی کی عادت میں ہے ۔ ہماری حالت اُس کوّے کی سی ہے جس نے مَور کی دُم کے کچھ پَنکھ اپنی دُم میں لگا لئے اور سمجھ بیٹھا کہ مَور بن گیا ہے

ہمارے پاس اپنے تہوار ہیں جیسے عیدالفطر ۔ عیدالاضحٰے ۔ میلادُالنّبی ۔ اِن کے بعد کی بجائے اِن سے ہفتہ 10 دِن قبل سستی فروخت کی جا سکتی ہے تاکہ غریب لوگ بھی عید پر نئے کپڑے پہن سکیں ۔ روزی کمانے کے ساتھ ثواب بھی کمائیں ۔ ہم لوگ 1976ء سے 1983ء تک لبیا کے شہر طرابلس میں رہے ۔ وہاں سب سے بڑی کم قیمت فروخت رمضان المبارک میں ہوتی تھی اور دوسری ربع الاول کے پہلے 10 دنوں میں ۔ زیادہ تر عرب ممالک میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے

ہم لوگ ویسے تو سینہ ٹھونک کر کہتے ہیں ”میں مُسلمان ہوں“ لیکن غیر مُسلموں کے تہوار جیسے کرسمِس ۔ نیو ایئر نائٹ ۔ ایسٹر ۔ بلیک اور گُڈ فرائیڈے مناتے ہیں جبکہ عیدین سے پہلے قیمتیں زیادہ کر دیتے ہیں

چائے کی پیالی ۔ ایک منفرد واقعہ

پندرہ فوجی ایک میجر کی کمان میں ہمالیہ ک برف پوش چوٹی پر بنی پوسٹ پر ڈیوٹی کیلئے برف سے لدے دشوار گزار پہاڑ پر چڑھ رہے تھے ۔ چوکی پر اُنہوں نے 3 ماہ ڈیوٹی دینا تھی ۔ مزید برف باری وقفے وقفے سے جاری تھی ۔ نامساعد حالات کے ساتھ مکّار دُشمن کی چھیڑ خانی ۔ خاصی مُشکل ڈیوٹی تھی

متواتر 2 گھنٹوں سے وہ چڑھتے جا رہے تھے ۔ میجر نے دِل ہی دِل میں سوچا ” ایسے میں اگر گرم چائے کی ایک پیالی مل جائے تو کیا بات ہے“۔ پھر میجر خود ہی اپنے آپ پر ہنس دیا کہ کیسی بیوقوفانہ خواہش ہے ۔ وہ چڑھتے گئے ۔ مزید ایک گھنٹہ گزر گیا ۔ رات کا اندھیرا چھا چکا تھا کہ ایک شکستہ حال کمرہ نظر پڑا جو چائے کی دکان لگتا تھا ۔ قریب گئے تو دروازے پر تالا پڑا تھا ۔ میجر نے کہا ”جوانو ۔ قسمت نے یاوری نہیں کی ۔ چائے نہیں ملے گی ۔ لیکن آپ سب تھک گئے ہوں گے ۔ یہاں کچھ دیر آرام کر لیتے ہیں“۔

ایک سپاہی بولا ” سر ۔ چائے کی دکان ہے ۔ ہم خود چائے بنا لیں گے ۔ بس تالا توڑنا پڑے گا“۔
میجر مخمصے میں پڑ گیا ۔ تجویز غیر اخلاقی تھی ۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت تھی کہ چائے کی ایک پیالی تھکاوٹ سے چُور سپاہیوں میں نئی رُوح پھُونک دے گی ۔ بادلِ نخواستہ اُس نے اجازت دے دی ۔ سپاہیوں نے تالا توڑا تو اندر چائے بنانے کا پورا سامان موجود تھا اور بسکٹ بھی تھے ۔ اُنہوں نے چائے بنائی ۔ سب نے دو دو بسکٹ کے ساتھ گرم گرم چائے پی اور پھر چلنے کیلئے تیار ہو گئے

میجر نے سوچا کہ اُنہوں نے بغیر مالک کی اجازت کے چائے پی ۔ بسکٹ کھائے اور تالا بھی توڑا ۔ وہ مُلک و قوم کے محافظ ہیں ۔ کوئی چور ڈاکو تو نہیں ۔ چائے ۔ بسکٹ اور تالے کے علاوہ بھی کچھ معاوضہ دینا چاہیئے ۔ میجر نے اپنے بٹوے سے 1000 روپے کا نوٹ نکالا ۔ کاؤنٹر پر رکھا اور اُس پر چینی دانی رکھ دی تاکہ دکان والے کو فوراً نظر آ جائے ۔ اس طرح میجر کے ذہن پر بوجھ ہلکا ہو گیا ۔ سپاہیوں نے دکان کا دروازہ بند کیا اور چل پڑے

چوکی پر پہنچ کر وہاں موجود دستے کو فار غ کر کے اُن کا کام سنبھال لیا ۔ گاہے بگاہے دُشمن کے فوجی اور تربیت یافتہ دہشتگرد حملے کرتے رہے ۔ 3 ماہ گزر گئے لیکن خوش قسمتی سے اُن کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا ۔ ڈیوٹی نئے دستے کے حوالے کر کے واپسی کا سفر اختیار کیا ۔ راستے میں اُسی چائے کی دکان پر رُکے ۔ دن کا وقت تھا ۔ دکان کھُلی تھی اور اُس کا مالک موجود تھا جو بوڑھا تھا ۔ وہ اکٹھے 16 مہمانوں کو دیکھ کر خوش ہوا اور بخوشی چائے پیش کی ۔ میجر نے اُسے اپنے تجربات کا پوچھا ۔ وہ اپنے قصے سنانے لگا ۔ ہر قصے میں وہ اللہ کی موجودگی کا بار بار ذکر کرتا ۔ ایک سپاہی نے کہا ”بابا ۔ اگر اللہ ہر جگہ موجود ہے تو آپ کا یہ حال کیوں ہے ؟

بوڑھا دکاندار نے بڑے جوش سے کہا ” ایسے مت کہیئے صاحب ۔ اللہ ہر جگہ موجود ہے ۔ میرے پاس اس کا تازہ ثبوت ہے ۔ 3 ماہ قبل مجھے بہت مُشکلات کا سامنا تھا ۔ دہشتگرد میرے اکلوتے بیٹے سے کچھ معلومات حاصل کرنا چاہتے تھے جس کی وجہ سے میرے بیٹے کو بہت زد و کوب کیا ۔ میں نے دکان بند کی اور بیٹے کو شہر میں ہسپتال لے گیا ۔ کچھ دوائیاں خریدنا تھیں اور میرے پاس رقم نہ تھی ۔ دہشتگردوں کے ڈر سے کوئی قرض دینے کو بھی تیار نہ تھا ۔ میں نے اپنے اللہ سے مدد کی استدعا کی ۔ میں دکان پر آیا تو تالا ٹوٹا دیکھ کر دِل دھک سے رہ گیا کہ جو میری پونجی تھی وہ بھی کوئی تالا توڑ کر لے گیا ۔ اچانک میری نظر کاؤنٹر پڑی ۔ اللہ نے میری دکان میں چینی دانی کے نیچے 1000 روپے رکھ دیئے تھے ۔ وہ رقم میرے لئے سب کچھ تھی ۔ صاحب ۔ اللہ ہر جگہ ہے اور سب کچھ دیکھتا اور سُنتا ہے“۔

پندرہ کے پندرہ سپاہیوں کی کی نظریں اپنے کمانڈر (میجر) کی طرف اُٹھیں ۔ میجر کی آنکھیں اُنہیں کہہ رہی تھیں ”خبر دار ۔ خاموش ۔ ایک لفظ نہیں بولنا“۔

میجر اُٹھا ۔ بِل ادا کیا ۔ بوڑھے دکاندار سے بغل گیر ہوا اور بولا ”ہاں ۔ بابا جی ۔ میں جانتا ہوں ۔ اللہ ہر جگہ موجود ہے ۔ اور ہاں ۔ چائے بہت عمدہ تھی”۔

چلتے ہوئے سپاہیوں نے دیکھا کہ اُن کا کمانڈر کہ کبھی بُرے سے بُرے وقت میں جس کی آنکھیں نَم نہیں ہوئی تھیں ۔ اُن آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے

مسجد نہیں جاؤں گا

بیٹے نے باپ سے کہا ” میں آج سے مسجد نہیں جاؤں گا “
باپ ” کیوں ؟ کیا ہوا ؟“
بیٹا ” ابا جی ۔ وہاں میں دیکھتا ہوں کہ کوئی موبائل فون پر لگا ہے ۔ کوئی گپ لگا رہا ہے اور کوئی کچھ اور ۔ سب منافق ہیں“۔
باپ نے کہا ” تھیک ہے لیکن حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے تم میری خاطر ایک کام کرو گے ؟“
بیٹا بولا ”وہ کیا ؟“
باپ نے کہا ” ایک گلاس میں پانی بھر کر ہاتھ میں پکڑ لو اور مسجد کے گرد 2 چکر لگاؤ لیکن خیال رہے کہ گلاس میں سے پانی بالکہ نہ گرے“۔
بیٹا مان گیا اور گلاس لے کر چلا گیا ۔ کچھدیر بعد لڑکے نے واپس آ کر بتایا کہ ہو گیا
باپ نے کہا ” اب میرے 3 سوالوں کا جواب دو“۔
”1 ۔ کیا تم کسی کو اپنے موبائل فون پر کچھ کرتے دیکھا ؟“
”2 ۔ تم نے کسی کو گپ لگاتے سُنا ؟“
”3 ۔ تُم نے کسی کو کچھ غلط کرتے دیکھا ؟“
بیٹا بولا ” ابا جی ۔ نہیں میں کسی کو نہ دیکھا نہ سُنا ۔ میری پوری توجہ تو گلاس کی طرف تھی کہ کہیں پانی نہ گرے“۔

باپ نے پھر کہا ” بیٹا ۔ اِسی طرح جب تُم مسجد میں جاتے ہو تو تمہاری پوری توجہ پیدا کرنے والے کی طرف ہونا چاہیئے جس کیلئے تُم مسجد جاتے ہو نہ کہ اُس کی مخلوق کی طرف پھر ہی تمہیں اللہ کے گھر جانے کا فائدہ ہو گا“۔

موبائل فون

کتاب چھوڑ کر ہم نے ۔ موبائل فون پکڑ لئے
عمر گھٹتی رہی اور ہم پوسٹ کرتے رہے
غافل رہے قرآن سے اور حدیث پوسٹ کرتے رہے
بھیج کر میسَج ہم خود کو دِیندار سمجھتے رہے
آتی رہی پانچوں وقت مسجد سے اذان کی آواز
ہم فیس بُک پر برما کے ظُلم شیئر کرتے رہے

چھٹا لیکن بہت اہم Litmus Test

الله سُبحانُهُ و تعالٰی نے تخلیقِ کائنات کا ذکر قرآن شریف کی جِن آیات میں فرمایا ہے اُن میں سے چند جو مکمل تخلیق بیان کر دیتی ہیں
سُورت 15 الحِجر کی آیات 19اور 26 تا 35 ۔ ہم نے زمین کو پھیلایا ، اُس میں پہاڑ جمائے ، اس میں ہر نوع کی نباتات ٹھیک ٹھیک نَپی تُلی مِقدار کے ساتھ اُگائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے انسان کو سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے بنایا۔ اور اس سے پہلے جنوں کو ہم آگ کی لپٹ سے پیدا کر چکے تھے ۔ پھر یاد کرو اُس موقع کو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا ”میں سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے ایک بشر پیدا کر رہا ہوں ۔ جب میں اُسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی رُوح سے کچھ پھونک دُوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر جانا“۔ چنانچہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا ۔ سوائے ابلیس کے کہ اس نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ۔ ربّ نے پوچھا ”اے ابلیس ۔ تُجھے کیا ہوا کہ تو نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ نہ دیا؟“ اس نے کہا ”میرا یہ کام نہیں ہے کہ میں اس بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے پیدا کیا ہے“۔ ربّ نے فرمایا ”اچھا تو نکل جا یہاں سے کیونکہ تو مردُود ہے اور اب روزِ جزا تک تجھ پر لعنت ہے“۔
سورت 4 النّساء آیت 1 ۔ لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیئے
سورت 39 الزُمَر آیت 6 ۔ اُسی نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا ، پھر وہی ہے جس نے اُس جان سے اُس کا جوڑا بنایا

مندرجہ بالا آیاتِ مبارکہ میں آدمی کے مُسلمان یا مُسلم ہونے کا چھٹا لیکن اہم Litmus Test ہے یعنی اِس بات کا یقین کہ
(1) پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کا پُتلا الله تعالٰی نے مٹی سے بنایا اور اُس میں روح پھُونک دی ۔ سارے انسان اُن کی اولاد میں سے ہیں
(2) حضرت آدم علیہ السلام پہلے اِنسان اور پہلے نبی تھے
جو الله کے فرمان کے علاوہ کچھ سمجھے وہ مُسلم یا مسلمان نہیں ہو سکتا

پانچواں Litmus Test ۔ اعتدال

سورت 25 الفرقان آیۃ 67 ۔ جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل ۔ بلکہ ان کا خرچ دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے ۔
سورت 31 لقمان آیۃ 18 اور 19 ۔ اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر۔ نہ زمین میں اکڑ کر چل ۔ الله کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا ۔ اپنی چال میں اعتدال اختیار کر اور اپنی آواز ذرا پست رکھ ۔ سب آوازوں سے زیادہ بری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے

پانچواں Litmus Test ہے ہر عمل میں اعتدال ۔ میانہ روی اور انکساری

چوتھا Litmus Test

سورت 49 الحجرات آیۃ 11 ۔ اے لوگو جو ایمان لاۓ ہو ۔ نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں ۔
اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں ۔
آپس میں ایک دوسرے پہ طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو ۔
ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بُری بات ہے ۔
جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہ ظالم ہیں

چنانچہ چوتھا Litmus Test ہے کسی کی کسی بھی قسم کی دِل آزاری نہ کرنا اور دوسرے کو اپنے سے کم تر نہ سمجھنا

تیسرا Litmus Test

سورت 3 آلِ عمران آیت 186 ۔ اور تم اہلِ کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے ۔ اگر ان سب حالات میں تم صبر اور خدا ترسی کی روش پر قائم رہو تو یہ بڑے حوصلہ کا کام ہے

سورت 35 فاطِر کی آیت 8 ۔ حقیقت یہ ہے کہ الله جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈال دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہِ راست دکھا دیتا ہے ۔ پس (اے نبیﷺ ) خواہ مخواہ تمہاری جان اِن لوگوں کی خاطر غم و افسوس میں نہ گُھلے ۔ جو کچھ یہ کر رہے ہیں الله اس کو خوب جانتا ہے

سورت 7 الاعراف آیت 199 ۔ اے نبی ﷺ ، نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو ، معروف کی تلقین کئے جاؤ ، اور جاہلوں سے نہ اُلجھو
سورت 16 النحل آیت 127 ۔ اے نبی ﷺ ، صبر سے کام کیے جائو اور تمہارا یہ صبر الله ہی کی توفیق سے ہے ۔ ان لوگوں کی حرکات پر رنج نہ کرو اور نہ ان کی چال بازیوں پر دل تنگ ہو

سورت 28 القصص آیت 54 ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دوبار دیا جائے گا اُس ثابت قدمی کے بدلے جو انہوں نے دکھائی۔ وہ برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں

سورت 41 حم السّجدہ آیات 34 و 35 ۔ اور اے نبی ﷺ ، نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں ۔ تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو تم دیکھو گے کہ تمہاے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے ۔ یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر اُن لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں ، اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر اُن لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں

تیسرا Litmus Testہے ۔ صبر ۔ برداشت اور در گذر

دوسرا Litmus Test ۔ امانت دیانت عدل

سورت 2 البقرۃ آیۃ 42 ۔ باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو

سورت 4 النّسآء آیۃ 58 ۔ الله تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو ۔ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو ۔ الله تم کو نہائت عمدہ نصیحت کرتا ہے اور یقینا الله سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے ۔
سورت 4 النّسآء آیۃ 135 ۔ اے لوگو جو ایمان لاۓ ہو ۔ انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو ۔ فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب ۔ الله تم سے زیادہ ان کا خیرخواہ ہے ۔ لہذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو ۔ اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو الله کو اس کی خبر ہے

سورت 17 بنی اسرآءیل آیۃ 35 ۔ پیمانے سے دو تو پورا بھر کے دو اور تولو تو ٹھیک ترازو سے تولو ۔ یہ اچھا طریقہ ہے اور بلحاظ انجام بھی بہتر ہے ۔

سورت 61 الصف آیۃ 2 اور 3 ۔ اے لوگو جو ایمان لاۓ ہو ۔ تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہر ؟ الله کے نزدیک یہ سخت نا پسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں ۔

چنانچہ دوسرا Litmus Test ہے ۔ امانت ۔ دیانت ۔ عدل

مُسلمان ہونے کیلئے پہلا Litmus Test

جن حضرات نے سائنس پڑھی ہے ل Litmus Test نہیں بھولے ہوں گے ۔ میں دُنیا دار آدمی ہوں چنانچہ مُسلم یا مُسلمان ہونے کے 6 Litmus Test بنا رکھے ہیں ۔ اِنہیں ابتدائی اسباق بھی کہا جا سکتا ہے
سورت 53 النّجم ۔ آیات 1 تا 4 ۔ قسم ہے تارے کی جبکہ وہ غروب ہوا ۔ تمہارا رفیق (محمد ﷺ) نہ بھٹکا ہے نہ بہکا ہے ۔ وہ اپنی خواہشِ نفس سے نہیں بولتا ۔ یہ تو ایک وحی ہے جو اس پر نازل کی جاتی ہے

سورت 3 آل عمران آیت 32 ۔ اُن سے کہو ” الله اور رسول ﷺ کی اطاعت قبول کرو“ پھر اگر وہ تمہاری یہ دعوت قبول نہ کریں ، تو یقینا یہ ممکن نہیں ہے کہ الله ایسے لوگوں سے محبت کرے جو اس کی اور اُس کے رسول کی اطاعت سے انکار کرتے ہوں

سورت 4 النّساء آیت 4 ۔ یہ الله کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں ۔جو الله اور اُس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے گا اُسے الله ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہے گا اور یہی بڑی کامیابی ہے
سورت 4 النسآء آیت 59 ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ۔ اطاعت کرو الله کی اور اطاعت کرو رسول ﷺ کی اور اُن لوگوں کی جو تم میں سے صاحبِ امر ہوں ۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہو جائے تو اسے الله اور رسول ﷺ کی طرف پھیر دو اگر تم واقعی الله اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو ۔ یہی ایک صحیح طریقِ کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے
سورت 4 النّسآء آیت 65 ۔ نہیں ، اے محمد ﷺ ۔ تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں بلکہ (رسول کے فیصلے کو ) سَر بسَر تسلیم کر لیں

سورت 8 الانفال آیت 1 ۔ تم سے انفال کے متعلق پُوچھتے ہیں ؟ کہو ”یہ انفال تو الله اور اُس کے رسُولؐ کے ہیں ۔ پس تم لوگ الله سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو اور الله اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اگر تم مومن ہو“۔
سورت 8 الانفال آیت 20 ۔ اے ایمان لانے والو، الله اور اُس کے رسُول کی اطاعت کرو اور حکم سُننے کے بعد اس سے سرتابی نہ کرو
سورت 8 الانفال آیت 46 ۔ اور الله اور اس کے رسُول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ صبر سے کام لو، یقینًا الله صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

سورت 24 النّور آیت 51 ۔ 52 ۔ ایمان لانے والوں کا کام تو یہ ہے کہ جب وہ الله اور رسولﷺ کی طرف بلائے جائیں تاکہ رسول ﷺ ان کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں،
جو الله اور رسول ﷺکی فرماں برداری کریں اور الله سے ڈریں اور اس کی نافرمانی سے بچیں

سورت 33 الاحزاب آیت 21 ۔ درحقیقت تم لوگوں کے لئے الله کے رسول ﷺ میں ایک بہترین نمونہ ہے ہر اُس شخص کے لئے جو اللہ اور یومِ آخر کا اُمیدوار ہو اور کثرت سے الله کو یاد کرے
سورت 33 الاحزاب آیت 71 ۔ الله تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے قصوروں سے در گزر فرمائے گا۔ جو شخص الله اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے اس نے بڑی کامیابی حاصل کی

سورت 48 الفتح آیت 17 ۔ ہاں اگر اندھا اور لنگڑا اور مریض جہاد کے لئے نہ آئے تو کوئی حرج نہیں ۔جو کوئی الله اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرے گا الله اسے ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ، اور جو منہ پھیرے گا اسے وہ درد ناک عذاب دے گا۔

سورت 49 الحجرات آیت 14 ۔ یہ بدوی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ۔ ان سے کہو ”تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم مطیع ہوگئے۔ ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے۔ اگر تم الله اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری اختیار کر لو تو وہ تمہارے اعمال کے اجر میں کوئی کمی نہ کرے گا“۔ یقینا الله بڑا در گزر کرنے والا اور رحیم ہے۔

سورت 58 مجادلہ آیت 13 ۔ کیا تم ڈر گئے اس بات سے کہ تخلیہ میں گفتگو کرنے سے پہلے تمہیں صدقات دینے ہونگے؟ اچھا ، اگر تم ایسا نہ کرو۔ اور الله نے تم کو اس سے معاف کر دیا ۔ تو نماز قائم کرتے رہو ، زکوٰۃ دیتے رہو اور الله اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے رہو۔ تم جو کچھ کرتے ہو الله اُس سے باخبر ہے

اوّل یہ کہ الله کریم نے بڑے زور دار طریقہ سے سورت النّجم میں فرمایا کہ ”سیّدنا محمد صلی الله علیہ و آلہ و سلّم اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے بلکہ وہی کہتے ہیں جو الله کی طرف سے حُکم ہوتا ہے“۔
پھر الله سُبحانُہُ و تعالٰی نے کم از 13 بار فرمایا کہ ”سیّدنا محمد صلی الله علیہ و آلہ و سلّم کی تابعداری کی جائے“۔

پس الله کی تابعداری کے ساتھ ساتھ الله کے رسول سیّدنا محمد صلی الله علیہ و آلہ و سلّم کی حدیث و سُنت پر بلا کم و کاست یقین اور عمل اسلام کی بنیاد اور پہلا Litmus Test ہے ۔ اِس سے اِنحراف کرنے والا مُسلم یا مُسلمان نہیں ہو سکتا

کیا حجاب مظلُوم کی نشانی ہے ؟

گِنَیس بُک آف ریکارڈ (Guinness book of world record) کے مطابق کیپٹن شہناز لغاری دُنیا کی پہلی با حجاب خاتون پائیلٹ ہیں ۔ کیپٹن شہناز لغاری حقوقِ انسانی کی علمبردار ہیں ۔ اُنہوں نے نادار لوگوں کیلئے مُفت تعلیم اور سلائی مرکز کھولا ہوا ہے ۔ کیٹن شہناز لغاری اکیلی بلا شرکتِ غیر بڑا ہوائی جہاز اُڑاتی ہیں جبکہ مکمل طور پر حجاب میں ہوتی ہیں
شہناز لغاری نے 2013ء کے عام انتخابات میں بطور آزاد اُمید وار این اے 122 سے حصہ لیا تھا ۔ ان کا انتخابی نشان گائے تھا
کیپٹن شہناز لغاری کہتی ہیں ” میں نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی ، وہاں حجاب لباس کا حصہ سمجھا جاتا ہے ۔ سو شروع ہی سے حجاب لیا ۔ البتہ شعوری طور پر حجاب کی سمجھ آئی تھی جب خود قرآن کو پڑھنا اورسمجھنا شروع کیا تھا ۔ ہم جس ماحول میں پروان چڑھے وہاں حیا اور حجاب ہماری گھُٹیوں میں ڈالا گیا تھا۔ سو الحمدللہ ۔ کبھی حجاب بوجھ نہیں لگا ۔ حجاب کی وجہ سے کبھی کوئی پریشانی یا رکاوٹ نہیں آئی بلکہ میرا تجربہ قرآن کی اس آیت کے مترادف رہا ” تم پہچان لی جاؤ اور ستائی نہ جاؤ“۔
( سورت 33 الاحزاب آیت 59 ۔ اے نبی ﷺ ! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ِ ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلوّ لٹکا لیا کریں۔یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں۔ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے)۔
کیپٹن شہناز شیخ مزید کہتی ہیں ” الحمدللہ ۔ حجاب نے میری راہ میں کبھی کوئی مشکل نہیں کھڑی کی بلکہ میں نے اس کی بدولت ہرجگہ عزت اور احترام پایا ۔ ایک واقعہ سنانا چاہوں گی ۔ پرویز مشرف دور میں پاک فوج کی ’ایکسپو 2001‘ منعقد ہوئی تھی ۔ یہ ایک بڑی gathering تھی ۔ اس تقریب میں واحد باحجاب میں ہی تھی ۔ کچھ خواتین ( آفیسرز کی بیگمات ) نے اشاروں کنایوں میں احساس دلایا کہ ایسی جگہوں پر حجاب کی کیا ضرورت ۔ میں مسکرادی ۔ کچھ دیر میں جنرل مشرف خواتین سے سلام کرنے لگے ۔ خواتین جاتیں ۔ ان سے ہاتھ ملاتیں ۔ ان کے ساتھ لگ لگ کر تصاویر بناتیں ۔ میں کچھ اندر سےگھبرائی ہوئی تھی ۔ اسی اثنامیں جنرل مشرف میری جانب مُڑے ۔ مجھے حجاب میں دیکھا تو اپنے دونوں ہاتھ اپنی کمر پر باندھ لئے اور جاپانیوں کے طریقہءِ سلام کی طرح 3 بار سر جھُکا کر سلام کیا ۔ خواتین کا مجمع میری جانب حیرت سے تک رہا تھا ۔ میری آنکھوں میں نمی اور فضاوں میں میرے رب کی گونج سنائی دے رہی تھی ”تاکہ تُم پہچانی جاؤ اور ستائی نہ جاؤ“۔
میں اُس پاکباز خاتون کیپٹن شہناز کی باتیں پڑھتا جا رہا تھا ۔ آنکھوں سے اشک جاری تھے اور دِل سے آواز نکل رہی تھی
” فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ “۔

آج کے دِن ؟ ؟ ؟

آج سے 66 سال قبل آج کی تاریخ میں پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم اور قائد اعظم کے معاون نوابزادہ لیاقت علی خان کو کمپنی باغ راولپنڈی میں شہید کر دیا گیا تھا ۔ نواب زادہ لیاقت علی خان نے تقریر شروع کرتے ہوئے ابھی اتنا ہی کہا تھا ” برادرانِ مِلت ۔ ۔ ۔ “۔
پہلی صف میں بیٹھے افغان باشندے سید اکبر نے 2 گولیاں چلائیں ۔ ایک نواب زادہ لیاقت علی خان کے سر اور دوسری پیٹ میں لگی ۔ نواب زادہ لیاقت علی خان گر پڑے ۔ اُن کے آخری الفاظ جو سُنائی دیئے یہ تھے ” اللہ پاکستان کی حفاظت کرے“۔
سید اکبر کو لوگوں نے قابو کر کے اُس کا پستول چھین لیا تھا ۔ پھر ایک پشتو آواز گونجی ”گولی کس نے چلائی ۔ مارو اِسے“۔ یہ آواز ایس پی نجف خان کی تھی ۔ اس حُکم کی تعمیل میں انسپکٹر محمد شاہ نے سید اکبر پر گولیاں چلا کر اُسے ہلاک کر دیا ۔ کہا جاتا ہے کہ محمد شاہ کا تبادلہ کچھ دن قبل ہی کیمبلپور (اٹک) سے راولپنڈی کیا گیا تھا ۔ پولیس قوانین کے مطابق قتل کو زندہ پکڑنا ضروری ہوتا ہے ۔ مقابلہ کرتے ہوئے مارا جائے تو الگ بات ہے ۔ چنانچہ انسپیکٹر محمد شاہ نے جُرم کا ارتکاب کیا تھا لیکن حیرت ہے کہ عدالت میں اُس نے کہا ”میں جذبات میں آ گیا تھا“۔ اور اُسے کچھ نہ کہا گیا
قوم نے صرف اتنا کیا کہ کمپنی باغ کا نام لیاقت باغ اور اُس کے ساتھ والی سڑک کا نام لیاقت روڈ رکھ دیا

نوابزادہ لیاقت علی خان کے قتل کی سازش کا کھُرا امریکہ کی طرف جاتا ہے کیونکہ جب نوازادہ لیاقت علی خان امریکہ کے صدر ٹرومَین کی دعوت پر امریکہ گئے تو اُن پر امریکہ کی حمائت وغیرہ کیلئے دباؤ ڈالا گیا ۔ نوابزادہ لیاقت علی خان نے کہا تھا

“We want to have friendship with USA but will not take diction from anyone۔”

امریکی خفیہ دستاویزات پر مشتمل کتاب ” The American Roll in Pakistan “ کے صفحہ 61 اور 62 کے مطابق امریکہ میں پہلے پاکستانی سفیر کی حیثیت سے اسناد تقرری پیش کرنے کے بعد اپنی درخواست میں اصفہانی صاحب نے لکھا ”ہنگامی حالت میں پاکستان ایسے اڈے کے طور پر کام آسکتا ہے جہاں سے فوجی و ہوائی کارروائی کی جاسکتی ہے“۔ ظاہر ہے یہ کارروائی اس سوویت یونین کےخلاف ہوتی جو ایٹمی دھماکے کے بعد عالمی سامراج کی آنکھ میں زیادہ کھٹکنے لگا تھا

1949ء میں امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف کی رپورٹ میں ہے”پاکستان کے لاہور اور کراچی کے علاقے ۔ وسطی روس کےخلاف کارروائی کیلئے کام آسکتے ہیں اور مشرق وسطیٰ کے تیل کے دفاع یا حملے میں بھی کام آسکتے ہیں“۔

یاد رہے کہ روس کے ایٹمی دھماکے اور چین میں کمیونزم آجانے سے امریکہ پاکستان کی جانب متوجہ ہوا چنانچہ امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری جارج کریوز مَیگھی (George Crews McGhee) دسمبر 1949ء میں پاکستان آئے اور وزیراعظم لیاقت علی خان کو امریکی صدر ٹرومین کا خط اور امریکی دورے کی دعوت دی لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ اس موقع پر انہوں نے اہم ملاقات وزیر خزانہ غلام محمد سے کی جنہوں نے میگھی کو تجویز دی ”ایسا انتظام ہونا چاہیئے کہ امریکی انٹیلی جنس کا پاکستانی انٹیلی جنس سے رابطہ ہو اور ساتھ ہی ساتھ اِن (غلام محمد) کے ساتھ براہ راست رابطہ ہو“ (صفحہ 106)۔

دسمبر 1949ء میں پاک فوج کے قابل افسران جنرل افتخار اور جنرل شیر خان ہوائی حادثے کا شکار ہوگئے ۔ باقی کسر پنڈی سازش کیس نے
پوری کر دی ۔ ایوب خان ابتداء ہی سے امریکہ کا نظرِ انتخاب تھے ۔ وہ قیام پاکستان کے وقت لیفٹیننٹ کرنل تھے اور صرف 3 سال بعد میجر جنرل بن گئے۔ وہ کمانڈر انچیف سرڈیگلس گریسی (Commander-in-Chief General Sir Douglas David Gracey) کے ساتھ نائب کمانڈر انچیف تھے

زمامِ اقتدار اس وقت کُلی طور پر امریکی تنخواہ داروں کے ہاتھ آئی جب 16اکتوبر 1951ء کو لیاقت علی خان قتل کردیئے گئے ۔ خواجہ ناظم الدین گورنر جنرل کا عہدہ چھوڑ کر وزیراعظم ۔ ان کی جگہ وزیر خزانہ غلام محمد گورنر جنرل ۔ اسکندر مرزا ڈیفنس سیکرٹری (جو آئی سی ایس آفیسر تھا اور ڈیفنس سیکریٹری بننے کے بعد اپنے آپ کو میجر جنرل کا رینک دے دیا تھا) اور ایوب خان کمانڈر انچیف اور یوں امریکی کورم (Quorum) پورا ہوگیا

دوسری طرف امریکہ نے خطے میں روسی خطرے سے نمٹنے کے لئے دیگر اہم ممالک پر بھی توجہ مرکوز کر رکھی تھی یہاں تک کہ جب اگست 1953ء میں ایران میں ڈاکٹر مصدق نے برطانیہ کے ساتھ تیل کے مسئلے پر تعلقات خراب کرلئے تو امریکہ نے ایران سے بھاگے ہوئے رضا شاہ پہلوی کو رَوم سے لاکر تخت پر بٹھادیا اور پھر روس کے خلاف ترکی ۔ ایران اور پاکستان کو ایک معاہدے میں نتھی کردیا جسے بغداد پیکٹ کہا گیا

”ہمارا دوست امریکہ کتنا ہی دغاباز کیوں نہ ہو لیکن ہم سے معاملات طے کرتے وقت اس نے منافقت کا کبھی سہارا نہیں لیا ۔ وہ صاف کہتا ہے ”امریکہ کو چاہیئے کہ امریکی دوستی کے عوض پاکستان کی موجودہ حکومت کی مدد کرے اور یہ کوشش بھی کرے کہ اس حکومت کے بعد ایسی حکومت برسراقتدار نہ آجائے جس پر امریکہ مخالف کا قبضہ ہو ۔ ہمارا ہدف امریکی دوست نواز حکومت ہونا چاہیئے“۔ (فروری 1954ء میں نیشنل کونسل کا فیصلہ ۔ بحوالہ پاکستان میں امریکہ کا کردار صفحہ 326)

WHO SHOT LAK (Liaquat Ali Khan)?..CIA CONNECTION

1. Extract from an article published on October 24, 1951 in an Indian magazine:
[…]It was learned within Pakistani Foreign Office that while UK pressing Pakistan for support re Iran, US demanded Pakistan exploit influence with Iran and support Iran transfer oil fields to US. Liaquat declined request. US threatened annul secret pact re Kashmir. Liaquat replied Pakistan had annexed half Kashmir without American support and would be able to take other half. Liaquat also asked US evacuate air bases under pact. Liaquat demand was bombshell in Washington. American rulers who had been dreaming conquering Soviet Russia from Pakistan air bases were flabbergasted. American minds set thinking re plot assassinate Liaquat. US wanted Muslim assassin to obviate international complications. US could not find traitor in Pakistan as had been managed Iran, Iraq, Jordan. Washington rulers sounded US Embassy Kabul. American Embassy contacted Pashtoonistan leaders, observing Liaquat their only hurdle; assured them if some of them could kill Liaquat, US would undertake establish Pashtoonistan by 1952. Pashtoon leaders induced Akbar undertake job and also made arrangements kill him to conceal conspiracy. USG-Liaquat differences recently revealed by Graham report to SC; Graham had suddenly opposed Pakistan although he had never given such indication. […] Cartridges recovered from Liaquat body were American-made, especially for use high-ranking American officers, usually not available in market. All these factors prove real culprit behind assassin is US Government, which committed similar acts in mid-East. “Snakes” of Washington’s dollar imperialism adopted these mean tactics long time ago.

امریکہ کی مندرجہ ذیل خُفیہ دستاویزات جن سے معلومات حاصل کی گئی تھیں 2010ء تک انٹرنیٹ پر موجود تھیں ۔ جب میں نے 2015کے شروع میں دیکھا تو انٹرنیٹ سے ہٹائی جا چُکی تھیں

1. America’s Role in Pakistan
2. Confidential Teاegram No. 1532 from New Delhi Embassy, Oct. 30, 1951
3. Confidential Telegram from State Dept., Nov. 1, 1951
4. Secret Telegram from Moscow Embassy, Nov. 3, 1951 [only first page located]
5. Popular Feeling in Pakistan on Kashmir and Afghan Issues, Nov. 10, 1951

میرا یہ مضمون اسی بلاگ 4 مارچ 2015ء کو شائع ہو چکا ہے

نوابزادہ لیاقت علی خان پر بُہتان تراشی

جب پاکستان بنا تو میری عمر 10 سال تھی ۔ اسلئے کچھ باتیں اور واقعات میرے ذاتی علم میں بھی ہیں لیکن یہ معاملہ ہمہ گیر قومی نوعیت کا ہے اس لئے میں اپنے ذہن کو کُریدنے کے علاوہ مُستند تاریخی کُتب کا مطالعہ کرنے پر مجبور ہوا

ایک حقیقت جو شاید دورِ حاضر کی پاکستانی نسل کے علم میں نہ ہو یہ ہے کہ محمد علی جوہر اور ساتھیوں کی کاوش سے مسلم لیگ 1906ء میں وقوع پذیر ہوئی اور علامہ محمد اقبال اور نوابزادہ لیاقت علی خان کی مسلسل محنت و کوشش نے اِسے پورے ہندوستان کے شہر شہر قصبے قصبے میں پہنچایا ۔ اسی لئے قائد اعظم کے علاوہ نوابزادہ لیاقت علی کو بھی معمار پاکستان کہا جاتا تھا اور اب بھی کہنا چاہیئے

سُنا گیا ہے کہ شہدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی کو ”نوابزادہ“ کہنا بلاجواز ہے اور یہ کہ وہ اداروں کو ذاتی استعمال میں لائے
شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کو پنجاب کے علاقہ کرنال کے ایک زمیندار اور نواب رُستم علی خان کا بیٹا ہونے کی وجہ سے نوابزادہ کہا جاتا تھا ۔ اگر شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان اداروں کو اپنے مفاد میں استعمال کر رہے ہوتے تو کرنال (بھارت کے حصہ میں آنے والے پنجاب) میں اپنی چھوڑی ہوئی زمینوں کے عِوض کم از کم مساوی زمین پاکستان کے حصہ میں آنے والے پنجاب میں حاصل کر لیتے اور اُن کی مالی حالت ایسی نہ ہوتی کہ جب اُن کی میّت سامنے پڑی تھی تو تجہیز و تکفین اور سوئم تک کے کھانے کیلئے احباب کو مالی امداد مہیا کرنا پڑی اور اس کے بعد ان کے بیوی بچوں کے نان و نُفقہ اور دونوں بیٹوں کی تعلیم جاری رکھنے کیلئے اُن کی بیگم رعنا لیاقت علی جو ایک تعلیم یافتہ خاتون تھیں کو ملازمت دی گئی جو بڑے بیٹے کے تعلیم پوری کرتے ہی بیگم رعنا لیاقت علی نے چھوڑ دی ۔ کبھی کسی نے شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کی بیگم یا بچوں کا اپنی بڑھائی کے سلسلہ میں بیان پڑھا ؟

ایک اور الزام کے برعکس نہ تو اُردو کو قومی زبان بنانے کا نوابزادہ لیاقت علی نے قائداعظم سے کہا اور نہ یہ فیصلہ قائد اعظم نے کیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بننے سے قبل بنگال سے مسلم لیگی رہنماؤں کے وفد نے تجویز دی کہ اُردو ہی ایک زبان ہے جو پانچوں صوبوں کی اکثریت سمجھتی ہے اور مُلک کو متحد رکھ سکتی ہے لیکن قائد اعظم نے اُردو زبان کو قومی زبان قرار نہ دیا ۔ پھر پاکستان بننے کے بعد 25 فروری 1948ء کو کراچی میں شروع ہونے والے دستور ساز اسمبلی کے اجلاس میں اُردو کو قومی زبان بنانے کا فیصلہ ہوا

ایک الزام یہ بھی لگایا گیا کہ ”جب نواب آف جونا گڑھ نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی صورت میں پاکستان کے تب کے وزیرِ اعظم سے پچاس ہزار بندوقوں کا مطالبہ کیا جو اس وقت پورا کرنا چنداں مشکل نہ تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر نوابزادہ لیاقت علی خان کو یہ بات اس لئے گوارہ نہیں تھی کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس طرح پاکستان میں نوابزادہ لیاقت علی خان کے لئے اقتدار و اختیار کو ایک بہت بڑے نواب ( آف جوناگڑھ) کی صورت میں خطرہ لاحق ہو جاتا“۔

اول ۔ یہ بالکل غلط ہے کہ نواب جونا گڑھ نے پچاس ہزار بندوقیں مانگی تھیں ۔ نواب جونا گڑھ کے پاکستان میں شمولیت کا اعلان کرتے ہی بھارت نے اپنی فوج جونا گڑھ میں داخل کر دی اور نواب جونا گڑھ کو مدد مانگنے کی مُہلت نہ ملی
دوم ۔ جونا گڑھ کے بعد جب بھارت نے جموں کشمیر میں بھی زبردستی اپنی فوجیں داخل کر دیں تو قائد اعظم نے پاکستانی افواج کے کمانڈر اِن چِیف جنرل ڈگلس گریسی کو بھارتی افواج کو روکنے کا حُکم دیا تھا ۔ اگر پاکستان کے پاس پچاس ہزار تو کیا اُس وقت دس ہزار رائفلیں بھی ہوتیں تو قائدِ اعظم کے حُکم کی خلاف ورزی کرنے کی بجائے اُس کی تعمیل کر کے جنرل گریسی ایک ہمیش زندہ شخصیت اور ہِیرو بن جاتا
حکومت چلانا گورنر جنرل کا کام نہیں تھا بلکہ وزیرِ اعظم کا تھا مگر آج تک کسی نے کوئی ایسی مثال پیش نہیں کی جس سے ثابت ہو کہ شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان نے کوئی کام قائدِ اعظم سے مشورہ کئے بغیر سرانجام دیا ہو

ایک گھناؤنا الزام بھی لگایا گیا کہ نوابزادہ لیاقت علی خان قائد اعظم کی وفات کے منتظر تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ قائدِ اعظم کو ڈاکٹر کی سخت ہدائت پر زیارت لے جایا گیا تھا ۔ یہ شہیدِ مِلّت نوابزادہ لیاقت علی خان کی سازش نہ تھی ۔ اس کا ذکر قائد اعظم کے معالجِ خاص کرنل الٰہی بخش کی لکھی کتاب میں تحریر ہے

یہ الزام بھی لگایا گیا کہ 8 سال آئین بننے نہ دیا ۔ شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کو پاکستان بننے کے 4 سال 2 ماہ بعد ہلاک کر دیا گیا تھا ۔ مختصر بات یہ ہے کہ آئین اُس وقت کے پاکستان میں موجود آئی سی ایس (Indian Civil Service) افسروں نے جن میں غلام محمد جو قائد اعظم کی وفات کے بعد غیر ملکی پُشت پناہی سے گورنر جنرل بن بیٹھا تھا بھی شامل تھا نہ بننے دیا ۔ ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ دستور ساز ی کیلئے جو کمیٹی بنائی گئی تھی اس کے ارکان کا بار بار اِدھر اُدھر تبادلہ کردیا جاتا تھا ۔ اُس دور میں افسران کو ٹرین پر سفر کرنا ہوتا تھا ۔ یہاں یہ بھی بتا دوں کہ آئی سی ایس افسران حکومتِ برطانیہ کی پُشت پناہی سے سازشوں کا جال نوابزادہ لیاقت علی کی شہادت سے قبل ہی بُن چُکے تھے

یہ لکھنا بے جا نہ ہو گا کہ پاکستان کے قیام کی مارچ 1947ء میں منظوری ہوتے ہی ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت غیرمُسلم اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں کا قتلِ عام اور جوان لڑکیوں اور عورتوں کا اغواء شروع کر دیا گیا تھا اور اُنہیں گھروں سے نکال کر پاکستان کی طرف دھکیلا دیا گیا تھا ۔ یہ سلسلہ دسمبر 1947ء تک جاری رہا ۔ انگریز حکومت کے ساتھ ملی بھگت سے بھارت نے پاکستان کے حصے کے اثاثے نہ دیئے جو آج تک نہیں دیئے گئے ۔ ان حالات میں لاکھوں نادار مہاجرین جن میں ہزاروں زخمی تھے کو سنبھالنا اغواء شدہ خواتین کی تلاش اور بھارتی حکومت سے واپسی کا مطالبہ اور پھر ان سب مہاجرین کی آبادکاری اور بازیاب شدہ خواتین کی بحالی انتہائی مشکل ۔ صبر آزما اور وقت طلب کام تھا ۔ 1947ء سے 1951ء کے دور کے ہموطن قابلِ تعریف ہیں جنہوں نے مہاجرین کو آباد کیا ۔ اور آفرین ہے بیگم رعنا لیاقت علی خان پر جس نے دن رات محنت کر کے جوان لڑکیوں اور خواتین کو اُبھارہ کہ گھروں سے باہر نکلیں اور رفاہی کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور ان دخترانِ ملت نے خدمتِ خلق کے ریکارڈ توڑ دیئے ۔ اللہ اُن سب کو آخرت میں اجر دے

موازنہ کیلئے موجودہ جدید دور سے ایک مثال ۔ باوجود قائم حکومت اور وسائل ہونے کے اور ہر طرف سے کافی امداد آنے کے اکتوبر 2005ء میں آنے والے زلزلہ کے متاثرین کئی سال بعد بھی بے خانماں پڑے رہے
آجکل عورتوں کی آزادی کی فقط باتیں ہوتی ہیں کام سوائے فیشن اور فائیو سٹار ہوٹلوں مین پہارٹیوں کے اور کچھ نظر نہیں آتا

یہ کہنا بھی غلط ہے کہ پاکستان میں پہلی مُنتخب اسمبلی 1970ء مین معرضِ وجود میں آئی
جس اسمبلی نے اگست 1947ء میں پاکستان کا نظم نسق سنبھالا تھا وہ پاکستان بننے سے قبل باقاعدہ انتخابات کے نتیجہ میں غیر مُسلموں اور دوسرے کانگرسیوں سے مقابلہ کر کے معرضِ وجود میں آئی تھی اور اُس اسمبلی نے نوابزادہ لیاقت علی خان کو پاکستان کا وزیرِ اعظم منتخب کیا تھا

اگر شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی امریکہ کے ایجننٹ تھے تو امریکہ نے اُنہیں قتل کیوں کروا دیا ؟
حقیقت یہ ہے کہ شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی جب امریکہ گئے تو اُنہوں نے واضح طور پر کہا کہ ”پاکستان ایک خود مُختار ملک بن چکا ہے اور وہ امریکہ کو دوست بنانا چاہتا ہے لیکن ڈِکٹیشن کسی سے نہیں لے گا“۔ تو واپس آنے پر ان کے قتل کی سازش تیار ہوئی
نیچے ایک اقتباس اس حقیقت کو واضح کرتا ہے

ناجانے کیوں وہ لوگ جو کچھ نہیں جانتے اپنے آپ کو مفکّر اور تاریخ دان سمجھنے لگ جاتے ہیں اور حقائق سے رُوگردانی کرتے ہوئے الا بلا لکھنا شروع کر دیتے ہیں ۔ میری دعا ہے کہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی سب کو سیدھی راہ پر چلائے اور عقلِ سلیم مع طریقہ استعمال کے عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین

WHO SHOT LAK (Liaqat Ali Khan)?..CIA CONNECTION
1. Extract from an article published on October 24, 1951 in an Indian magazine:

[…]It was learned within Pakistani Foreign Office that while UK pressing Pakistan for support re Iran, US demanded Pakistan exploit influence with Iran and support Iran transfer oil fields to US. Liaquat declined request. US threatened annul secret pact re Kashmir. Liaquat replied Pakistan had annexed half Kashmir without American support and would be able to take other half. Liaquat also asked US evacuate air bases under pact. Liaquat demand was bombshell in Washington. American rulers who had been dreaming conquering Soviet Russia from Pakistan air bases were flabbergasted. American minds set thinking re plot assassinate Liaquat. US wanted Muslim assassin to obviate international complications. US could not find traitor in Pakistan as had been managed Iran, Iraq, Jordan. Washington rulers sounded US Embassy Kabul. American Embassy contacted Pashtoonistan leaders, observing Liaquat their only hurdle; assured them if some of them could kill Liaquat, US would undertake establish Pashtoonistan by 1952. Pashtoon leaders induced Akbar undertake job and also made arrangements kill him to conceal conspiracy. USG-Liaquat differences recently revealed by Graham report to SC; Graham had suddenly opposed Pakistan although he had never given such indication. […] Cartridges recovered from Liaquat body were American-made, especially for use high-ranking American officers, usually not available in market. All these factors prove real culprit behind assassin is US Government, which committed similar acts in mid-East. “Snakes” of Washington’s dollar imperialism adopted these mean tactics long time ago.

میرا یہ مضمون میرے اسی بلاگ پر 13 دسمبر 2008ء کو شائع ہو چکا ہے
کچھ حقائق مندرجہ ذیل دستاویزات سے حاصل کئے گئے تھے جو چند سال قبل انٹرنیٹ سے ہٹا دی گئیں
1. Declassified CIA papers
2. Confidential Teاegram No. 1532 from New Delhi Embassy, Oct. 30, 1951
3. Confidential Telegram from State Dept., Nov. 1, 1951
4. Secret Telegram from Moscow Embassy, Nov. 3, 1951
5. Popular Feeling in Pakistan on Kashmir and Afghan Issues, Nov. 10, 1951

Pages