حیدر آبادی

ہم جنس پرستی - تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ خودکشی کرے گی

ہم جنس پرستی جرم - ہندوستانی عدالت عظمیٰ کا فیصلہ
11/ دسمبر 2013 کو ہندوستانی سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پی ساتھا شیوم [P Sathasivam]، جسٹس جی ایس سنگھوی [GS Singhvi] اور جسٹس رنجن گوگوئی [Ranjan Gogoi] کی بنچ نے بیک وقت فیصلہ سناتے ہوئے "ہم جنس تعلقات" کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ البتہ عدالت بالا نے معاملہ حکومت پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ تعزیرات ہند کی دفعات میں اس سلسلہ میں موجود شق کو حذف کرے۔

سوشل میڈیا پر بڑی گرما گرم بحثیں جاری ہیں۔ سینکڑوں سماجی جہد کاروں ، تنظیموں ، سیاسی اور تفریحی ذرائع کی نامور و مقبول شخصیات نے سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کو بدبختانہ قرار دیتے ہوئے اس کو شخصی آزادی کے مغائر قرار دیا ہے۔

خاکسار نے بھی چند معتبر سماجی شخصیات سے فیس بک پر بحث کے دوران کہا کہ اسٹیٹ کو یا عدالت عظمیٰ کو حق حاصل ہے کہ مہذب معاشروں میں بدامنی یا انارکی پھیلنے یا پھیلانے سے بچاؤ کے لیے قوانین بنائے۔
عرض ہوا کہ معاشرے کی بات نہیں ہو رہی ۔۔۔ behind the door کی بات ہو رہی ہے کہ آدمی کو حق حاصل ہے کہ جو اس کو پسند ہے وہ اپنی خلوت میں اسے اختیار کرے۔

عجیب بات ہے۔ اچھا بھائی اگر یہ "خلوت میں اپنی مرضی" ہی کی بات ہے تو دنیا کے بیشتر ممالک (بالخصوص مغربی ممالک) میں marital rape (ازدواجی عصمت ریزی) کا قانون تعزیری جرم کے طور پر کیوں نافذ ہے؟
اگر آپ "behind the door" کا نعرہ چھوڑ کر "شخصی آزادی" کے نعرے پر اتر آئیں تو بھائی صاحب! کوئی نوجوان جو دنیا سے اوب چکا ہے ، نوکری نہیں ملتی بیروزگار ہے ، فرسٹریشن کا شکار ہے ۔۔۔ اونچی عمارت سے چھلانگ لگا دیتا ہے ۔۔ جان سے بچ جائے تو پکڑا گیا اور "خودکشی کے جرم" میں جیل کے اندر!
آپ خودکشی کے اس "جرم" کے خلاف کیوں آواز نہیں اٹھاتے ۔۔ جبکہ اس معاملے میں نہ "باہمی رضامندی" کا سوال ہے اور نہ ہی کسی دوسرے تیسرے کو نقصان پہنچنے کا مسئلہ۔

اور یہ جو بار بار "شخصی آزادی" کے نعرے اچھالے جاتے ہیں۔ کبھی اس کی کچھ واضح تعریف بھی تو کیجیے۔ کیا جنگل کے قانون میں اور انسانوں کے مہذب معاشروں میں واقعتاً کوئی فرق نہیں؟
اگر آپ absolute freedom کے دعویدار ہیں تو اس کا دوسرا مطلب ہی "جنگل راج" ہوتا ہے پھر آپ اپنے "مہذب" ہونے کا دعویٰ قطعاً نہیں کر سکتے!
اور اگر آپ جنگل کے قانون اور انسانوں کے بنائے گئے مہذب معاشرے میں کوئی فرق نہیں کرتے تو پھر اسکول کالج اور جامعات میں یہ anthropology کے اسباق کیوں پڑھائے جاتے ہیں؟ کیوں یہ سائنس پڑھاتے ہیں جس میں بتایا جاتا ہے کہ کس طرح تہذیب نے وحشی کو انسان بنایا؟
اسی انسانی تہذیب نے تو ہمیں بتایا ہے کہ "ہم جنسیت" ایک aberration ہے جس کے دور رس نتائج بہت سنگین ہو سکتے ہیں ۔۔۔ اس قدر سنگین کہ قرآن (اور بائبل) نے لوط علیہ السلام کی قوم کا عبرت انگیز واقعہ سنا کر ساری انسانیت کو ہوشیار کر دیا ہے۔

لیکن اس کے باوجود آپ شخصی آزادی پر مصر ہیں تو پھر ایک دن انسان کا لباس بھی اترے گا ، سڑکوں پر صرف مختصر زیر جامہ میں خواتین نظر آئیں گی اور ۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ صرف ایک دہلی ریپ کیس نہیں ۔۔۔ ہر شہر گلی محلہ سے روزانہ سینکڑوں ایف آئی آر درج ہونگی تب آپ کو جو بھی فیصلے کرنے ہوں گے ضرور کیجیے گا حضور !

ہم تو اقبال کا یہ مصرع آپ کی خدمت میں پیش کر کے رخصت ہوتے ہیں :

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ خودکشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

ہندوستانیوں کے دیرینہ خواب کی تکمیل - اردو-انڈیا کی-بورڈ

کمپیوٹر میں "اردو زبان" شامل کرنے کے لیے کل تک ہم پاکستان کے محتاج رہے تھے کہ بطور اردو زبان "اردو-پاکستان" شامل کرنا مجبوری تھی۔ مگر اردو کی ترویج اور فروغ میں سرگرمی سے حصہ لینے والے مرکزی وزیر انفارمیشن تکنالوجی جناب کپل سبل کی بدولت آج تمام ہندوستانیوں کو یہ سہولت حاصل ہو گئی ہے کہ وہ اپنے کمپیوٹر یا انڈرائیڈ فون میں اردو زبان کے طور پر "اردو-پاکستان" کے بجائے "اردو-انڈیا" شامل کر سکتے ہیں۔
مرکزی وزیر جناب کپل سبل نے آج 12/جولائی کو نئی دہلی میں اردو نسخ و نستعلیق فونٹ اور کی-بورڈ منیجر کا اجرا کیا ہے۔
یو۔این۔آئی کی خبر ذیل میں ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔۔۔

"اردو زبان ہندوستانی ثقافت کی روح ہے اسے جتنا فروغ دیا جائے گا اس میں اتنی ہی تازگی اور خوشبو آئے گی۔"
مرکزی وزیر برائے انفارمیشن ٹکنالوجی کپل سبل نے آج یہاں قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام تیار کردہ "اردو فونٹس" اور "اردو کی-بورڈ منیجر" کا اجراء کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
انہوں نے کہا کہ جدید ترین ٹکنالوجی سے اردو کو ہم آہنگ کرنے کا ان کا دیرینہ خواب آج پورا ہو گیا۔ اس لحاظ سے 12/جولائی/2013ء کی ایک تاریخی حیثیت ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اردو ملک کی ایک ایسی زبان ہے جو لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے اور اس کی اسی خوبی کے توسط سے ہم نے آزادی کی لڑائی لڑی اور ملک کو آزاد کرایا۔
سبل نے کہا کہ: اس کے ساتھ ہی ہم اردو بولنے اور جاننے والے عام لوگوں کو نئی تکنیک سے جوڑنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہی اردو طلباء و طالبات کو جدید ترین ٹکنالوجی سے لیس ٹیبلیٹ تقسیم کریں گے، جس میں ڈکشنری اور انسائیکلو پیڈیا جیسے بہت سے ذخیرے موجود ہوں گے۔

قومی اردو کونسل (این سی پی یو ایل ) کے وائس چیرمین ڈاکٹر وسیم بریلوی نے اردو فونٹس کے سافٹ وئیر اور کی-بورڈ کا اجراء کرنے کیلئے مرکزی وزیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اردو کمپیوٹر / اردو سافٹ وئیر کی دنیا میں یہ ابتدائی کام ہے اس سمت میں آئندہ جو اقدامات کئے جائیں گے دنیا اس سے حیران ہو جائے گی۔
اردو کونسل کے ڈائرکٹر خواجہ اکرام الدین نے اردو فونٹس سے متعلق سافٹ وئیر اور نئے کی-بورڈ کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ اس کے آغاز سے اردو کے تمام ونڈوز میں داخل ہونے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے سافٹ وئیر کیلئے اب تک ہم پاکستان کے محتاج ہوا کرتے تھے۔ اس سمت میں اب ہماری محتاجگی ختم ہونے کے ساتھ ساتھ اینڈ رائیڈ بیسڈ سافٹ وئیر کے کھلتے ہی اس میں "اردو-انڈیا" لکھا ہوا ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ اردو کونسل اور سی ڈیک (cDac) کے اشتراک سے تیار کردہ یہ سافٹ وئیر ڈیجیٹل میڈیا اردو لٹچریر کی دنیا میں ایک نیا انقلاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ خط نسخ پر مبنی اس سافٹ وئیر میں مجموعی طورپر 12 فونٹس ہوں گے۔ خواجہ اکرام الدین نے بتایا کہ انفارمیشن ٹکنالوجی محکمہ کے تعاون سے اردو کونسل نے یہ سافٹ وئیر تیار کیا ہے۔

بشکریہ : تعمیر نیوز - اردو انڈیا - اردو نسخ و نستعلیق فونٹ اور اردو کی-بورڈ کا حکومتی سطح پر اجرا

نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو ۔۔۔

صاحب! کچھ ادھر ادھر ایسا ویسا پڑھ لیتے ہیں تو پھر سے پرانا زخم ہرا ہو جاتا ہے۔ ویسے بھی عادت سی ہو گئی ہے کہ سال میں ایک آدھ بار دلِ ناتواں کو ایسے دھچکے کھاتے رہنے کی۔ کوئی پانچ سال قبل اسی بلاگ پر لکھ گئے تھے کہ ۔۔۔ اک دل کا درد ہے کہ رہا زندگی کے ساتھ ۔۔۔
گو کہ اس سے چند ماہ قبل کسی نے امید دلائی تھی کہ ہندوستان میں اردو ابھی نہیں مر رہی ہے۔
مگر بات کیا ہے ۔۔ کوئی کچھ کہتا ہے کہ کوئی کچھ۔ اب یہی دیکھیں کہ ابرار رحمانی صاحب نے اردو اور ہندی کے حوالے سے کیا کچھ حقائق بیان کئے تھے؟ فرماتے ہیں ۔۔۔

اکثر ہمارے کچھ "بزرگ" کہتے نظر آتے ہیں کہ ہماری زبان "اردو" دنیا کی تیسری بڑی زبان ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی بڑی عالمی زبان کی اتنی قابل رحم حالت کیوں ہے؟ آپ پھر اصرار کریں گے کہ رپورٹ بتاتی ہے کہ : اردو دنیا کی تیسری بڑی زبان ہے۔ اب اگر آپ ذرا حقیقت سننے کو تیار ہوں تو سنیں!
آپ جسے اردو کہہ رہے ہیں ، وہ دراصل "ہندوستانی" ہے جو اب زیادہ تر ہندوستان میں دیوناگری رسم الخط میں لکھی جا رہی ہے۔ آپ کہیں گے کہ نہیں صاحب! اس میں "اردو بولنے والے بھی" شامل ہیں۔ چلئے ہم مان لیتے ہیں۔ مگر کتنے فیصد ؟

بول چال کی سطح پر دونوں زبانیں یقیناً ایک ہی معلوم ہوتی ہیں مگر ان کی اصل شناخت ان کے رسم الخط سے ہے اور اب اس میں کوئی شبہ کی گنجائش نہیں کہ اردو رسم الخط میں "ہندوستانی" لکھنے والے دیوناگری میں لکھنے والوں سے کافی پیچھے ہیں۔ عالمی رپورٹ میں جس ہندوستانی کے تیسرے نمبر پر ہونے کی بات کہی جا رہی ہے وہ دیوناگری ہندوستانی ہے "اردو نہیں" ہے۔ (حالانکہ یہ بھی ایک خوش فہمی ہے)۔

عام طور پر ہم یہ بھی کہتے نہیں تھکتے کہ ریڈیو اور ٹیلی وژن کی زبان دراصل "اردو" ہی ہے۔ یہ ایک خوش فہمی اور ۔۔۔۔
ارے صاحب! یہ "دیوناگری ہندوستانی" ہے۔ آپ کسی بھی ٹی وی اسکرپٹ یا فلم اسکرپٹ کو اٹھائیں، آپ اسے اردو میں ہرگز نہیں پائیں گے، یہ سب دیوناگری میں ہوتے ہیں۔ وجہ ؟
وجہ صرف یہ ہے کہ ہم اپنی لاپرواہی اور بےتوجہی سے اپنا سارا سرمایہ ہندی والوں کی نذر کر رہے ہیں۔ ہم نہ تو خود اردو رسم الخط استعمال کر رہے ہیں اور نہ ہی اسے اپنے بچوں کو سکھا رہے ہیں۔ یاد رکھیں کسی بھی زبان کی شناخت اس کا رسم الخط ہوتا ہے۔ ہم نے اپنی لاپرواہی اور نادانی سے خود اپنی زبان کا بڑا نقصان کیا ہے۔ ہماری نئی نسل اب اردو نہیں جانتی ، اس کے ذمہ دار سب سے پہلے ہم خود ہیں!

اردو اب بڑے پیمانے پر خود اردو والوں کے یہاں سے نکالی جا چکی ہے۔ جب ہم خود ہی اسے نہیں پڑھیں گے تو دوسرا اسے کیوں پڑھے گا؟ اب اردو کی زندگی کی ضمانت صرف اس بات میں ہے کہ ہم لازماً اپنے بچوں کو اردو پڑھائیں۔ جب تک زیادہ سے زیادہ کسی زبان کو پڑھنے والے نہیں ہوں گے اس زبان کو ختم ہونے سے نہیں بچایا جا سکتا۔ اور یہی صورتحال اگر اردو کے ساتھ بھی رہی تو اردو کو بھی نہیں بچایا جا سکتا!

اردو کے بڑے بڑے ادارے کھول لینے سے ، اردو کے روز نئے نئے رسالے اور اخبارات نکال لینے سے ، اردو کی ڈھیروں کتابیں چھاپ لینے سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ جب تک ان کتابوں کو پڑھنے والے نہیں ہوں گے ، یہ کتابیں قطعاً بیکار ہوں گی۔ یہ کاغذ کا زیاں ہی سمجھا جائے گا۔ آج اردو کا سب سے بڑا کل ہند ادارہ اردو کی ترقی و فروغ کے بجائے محض اشاعتی ادارہ بن کر رہ گیا ہے اور یہ اشاعتی ادارہ بھی عوامی نہیں بلکہ ذاتی ہو کر رہ گیا ہے۔ اسی طرح اردو کی ترقی کا دوسرا بڑا ادارہ کمپیوٹر ٹریننگ سنٹر بنا ہوا ہے جو جگہ جگہ کمپیوٹر سنٹر قائم کر رہا ہے۔ لیکن ان مراکز سے بھی اردو والوں کا کم ہی بھلا ہو رہا ہے بالفاظ دیگر اردو کا کوئی بھلا نہیں ہو رہا ہے پھر بھی ہمارا دعویٰ ہے کہ سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے!!

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

عورت تصویر کائنات کا رنگ ہے !
عورت دنیا کی خوب صورتی ہے!
عورت زمین کا دل ہے !
عورت مرکز ثقل ہے !
عورت محبت ہے !
عورت ماں ہے ! عورت بیوی ہے ! عورت ایک رات ہے ! عورت ایک مسہری ہے ! عورت ایک کوٹھا ہے ! عورت ایک ڈاک بنگلہ ہے ! عورت ایک ہوٹل کا کمرہ ہے ! عورت چاندی کا سکہ ہے ! عورت پاؤں کی جوتی ہے !

عورت جب سامنے آتی ہے تو دنیا کی ساری خوبصورتیاں پیچھے ہٹتی چلی جاتی ہیں حتی کہ نگا ہوں سے اوجھل ہو جاتی ہیں اور نظروں کے سامنے صرف عورت ہی عورت باقی رہ جاتی ہے ۔ عورت جب سامنے آ جاتی ہے تو ارد گرد کی ساری خوبصورتیاں اس کے جسم میں سمٹ آتی ہیں اور اپنے آپ کو اس جسم میں کھو دیتی ہیں اور ختم کر دیتی ہیں ۔

عورت کے چہرے میں چودھویں کی رات کا چاند جگمگاتا ہے ۔ اس کی آنکھوں میں ستارے جھملانے لگتے ہیں ۔ اس کی آنکھوں کے جھنڈ میں چھپے ہوئے میٹھے پانی کے شفاف چشمے نظر آتے ہیں ۔ اس کی چھاتیوں میں پہاڑوں کا فراز ہوتا ہے ۔ اس کے ہونٹ گلاب کی پتیوں کی طرح مہکتے ہیں ۔ اس کی کمر میں ناری کی بیل کی لچک سمو جاتی ہے ۔ اس کے رخساروں پر لال لال شفق بکھر جاتی ہے اور سرو کا درخت اپنی بلند قامتی اس کے حوالے کر دیتا ہے ۔
اس کی آواز میں کوئل کی کوک، بلبل کا نغمہ، انگوروں کی مٹھاس اور کبوتروں کی اڑان ہوتی ہے ! وہ جب چلتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ بیسیوں مور ناچ رہے ہیں اور سینکڑوں ہرن قلانچیں بھر رہے ہیں ۔ وہ جب جھک جاتی ہے تو قوس قزخ بن جاتی ہے اور جب کھڑی ہوتی ہے تو مندر کے چمکیلے کلس، گرجا کے تکونے گنبد، مسجدکے اونچے مینار کی طرح باوقار نظرآتی ہے ۔
اس کی بانہوں میں بلور ہوتا ہے اور اس کا جسم مرمر سے تراشا جاتا ہے ، لیکن اس مرمریں اور بلوریں جسم میں تتلی کے پروں کی سی ملائمت پائی جاتی ہے اور کم بخت جسم میں شراب کی ان گنت بوتلوں سے زیادہ نشہ گھلا ہوا ہوتا ہے !

بے شک سارا نظام شمسی عورت کے قبضہ و اختیار میں ہے ۔ ۔ ۔ رات اس کی زلفوں میں چھپ کر سو جاتی ہے اور جب اس کے چہرے پر سے زلفیں ہٹ جاتی ہیں تو صبح ہو جاتی ہے اور جب اس کی چوٹی کے بال بکھر جاتے ہیں تو رات چھا جاتی ہے ۔ فطرت کی ساری خوبیوں کو سمیٹ کر عورت دنیا بن جاتی ہے !

انسان بڑا ہو یا جھوٹا، بادشاہ ہو یا فقیر، امیر ہو یا غریب، رات ہوتے ہی عورت کی طرف کھنچ جاتا ہے ۔ سائنس داں کہتے ہیں کہ دنیا کی ہر چیز کشش ثقل کی وجہ سے قائم اور برقرار ہے لیکن ہماری عقل کہتی ہے کہ دنیا صرف عورت کی کشش سے قائم اور زندہ ہے ۔
دن بھر کے کاموں کے بعد انسان جب اپنی توانائی پر ایک تھکن سی محسوس کرنے لگتا ہے تو پھر عورت کا مقناطیس اسے اپنے طرف کھینچنے لگتا ہے ! عورت ایک رات ہے اور ۔ ۔ ۔ ۔ رات ایک عورت ہے ! عورت کے بغیر رات رات نہیں بلکہ 12 گھنٹوں کا اندھیرا بن جاتی ہے۔

ماضی کے دھندلکے میں جو کچھ دکھائی دیتا ہے وہ آج تک جاری ہے ۔ اس دور کے آغاز کے ساتھ دنیا کی تنہا خوبصورتی کائنات کا واحد حسن اور زمین کے یکتا جمال کو مرد نے اپنے پیروں تلے روندھنا شروع کیا۔ یہ محض مرد کی طاقت اور اس میں گھلے ملے چاندی اور سونے کے سکوں کی چمک تھی۔ جس نے عورت کے قالب میں عورت کو ہلاک کر دیا اور اپنے نفس کی آگ کو بجھانے کیلئے ایک نرم اور گداز جسم باقی رکھ دیا اور آج بھی ہر قدم پر ایک نرم، ملائم، گداز چکمیلا جسم نظر آتا ہے ۔
اور دنیا کسی قصاب کی بہت بڑی دکان نظر آتی ہے ۔ جس پر مردوں کی بھیڑ لگی ہوتی ہے اور مرد چاندی کے سکے پھینک پھینک کر عورت کے جسم خریدتے جا رہے ہیں لیکن سب عورت کی چھاتیاں ، رانیں ، ہونٹ اور بازو خریدتے ہیں ۔
اصلی عورت کوئی نہیں خرید سکتا۔
اصلی عورت کبھی نہیں خریدی جاسکتی۔
خوبصورتی کو دنیا کا بڑے سے بڑا سرمایہ دار ہرگز ہرگز نہیں خرید سکتا۔

بشکریہ :
تعمیر نیوز : جنس کا جغرافیہ-6

خنجر چلے اردو پہ ، تڑپتے ہیں ہم مگر ۔۔۔

بچاری اردو کے نام پر یار لوگ ایسے ایسے سنگین مذاق کرتے ہیں کہ سننے/پڑھنے کے بعد عصر حاضر کا واقفکار اردوداں یا تو الٹی کر بیٹھتا ہے یا بچارے کو کئی دن کے لیے قبض کی شکایت ہو جاتی ہے۔

پچھلے دنوں غریب خاکسار کے کندھے پر بندوق رکھ کر ایک صاحب نے ہوائی فائر کیا تھا ، بعد میں تحقیقات سے پتا چلا کہ موصوف نے محض اپنی سستی شہرت کی خاطر اردو کی پیٹھ میں خنجر بھونکا تھا ورنہ ان کا زبان اردو یا اردو شعر و ادب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ کوئی اگر شہرت کا اتنا ہی بھوکا ہے تو ہمیں اس قسم کے نفسیاتی مریضوں سے دلی ہمدردی ہے مگر اردو نیوز (سعودی عرب کا مقبول اردو روزنامہ) اور سعودی گزٹ (سعودی عرب کا معروف و معتبر انگریزی روزنامہ) کے ان باکمال صحافیوں کو کیا کہا جائے جنہوں نے بڑے اہتمام سے ان صاحب کی لاف گزاف کے لئے اپنے اخبار کے قیمتی صفحات ضائع کئے تھے؟

اس دفعہ ایک اور صاحب فیس بک پر اپنی اونچی بڑک کے ساتھ نمودار ہوئے ہیں۔ فیس بک پر ایک گروپ بعنوان "صدائے اردو" قائم کیا گیا ہے۔ جس کی تعارفی سطر یہ ہے کہ : "یہ گروپ اُردو رسم الخط کی بقا اور ترویج کے لئے سرگرم رہےگا۔"
ماشاءاللہ ، سبحان اللہ ، جزاک اللہ۔
بات اگر صرف اتنی ہوتی تو دل سے ایسی ہی دعائیں نکلتیں اور ہم بھی دامے درمے سخنے ان کی مدد کے لیے دل و جان سے حاضر ہو جاتے۔ مگر مسئلہ تو وہاں پیدا ہوا ہے جہاں بڑے بلند بانگ اور غلط قسم کے دعوے ہوا میں داغے گئے ہیں۔ ذرا دیکھئے کہ موصوف کیا کچھ فرما رہے ہیں ۔۔۔
صدائے اُردو کا تعارف : فائل-1 ، فائل-2 ، فائل-3

جناب من! ہم اردو کی انٹرنیٹ کمیونیٹی میں عرصہ دس سال سے بہ ہوش و حواس قائم و دائم ہیں۔ لہذا ہمیں آپ کے درج ذیل جملوں پر نہایت سخت اعتراضات ہیں ۔۔۔

1) کتاب چہرہ المعروف فیس بک پر ان دنوں جتنے لوگ ہیں شاید اتنے ہی صفحات بھی موجود ہیں لیکن اردو زبان کے حوالے سے ایسے صفحات کی تعداد درجن بھر بھی نہیں ہے
2) ہماری معلومات کے مطابق قوی امکان ہے کہ ایسا تو ایک بھی فورم نہیں ہے جہاں فقط اردو رسم الخط میں لکھا جاتا ہو۔ ننانوے فیصد سے زیادہ زبان کش رومن میں لکھا جاتا ہے یا پھر بزبان فرنگی۔
3) ہمارے اردو زبان کے ادیبوں ، شاعروں اور دانشوروں کی غالب در غالب اکثریت ایسی ہے جسے ٹائپنگ ہی نہیں آتی۔ وہ آج سائنسی خاص طور انفارمیشن تکنالوجی اور کمپیوٹر کی ترقی کے دور میں بھی ٹائپنگ کو کسی کلرک کا ہنر ہی سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا عوام الناس سے تعلق نہ ہونے کے برابر ہے۔
4) ۔۔۔ اردو ٹائپنگ اتنی مشکل نہیں جتنا لوگ اسے سمجھتے ہیں ، اس کے لئے کسی خصوصی "اردو کی۔بورڈ" کی بھی ضرورت نہیں۔ آپ انگریزی یا کسی اور زبان کے "کی۔بورڈ" سے بھی اردو ٹائپ کر سکتے ہیں۔
محترم صفدر ہمدانی صاحب! یہ بلاگ پوسٹ ہرگز نہ لکھی جاتی اگر بالا سنگین الزامات لگانے سے آپ گریز کرتے اور ۔۔۔ زرقا مفتی جیسی معروف شاعرہ کا نام بھی نہ لیتے۔
جناب عالی! وہ سروے کہاں اور کس ویب سائیٹ پر پایا جاتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ "فیس بک پر اردو صفحات کی تعداد درجن بھر بھی نہیں ہے" ؟؟ اگر یہ آپ کا اپنا ذاتی خیال ہے تو برائے مہربانی ایسی بچکانی سوچیں اپنی حد تک محفوظ رکھئے ، علمی دنیا میں بغیر ثبوت کے ایسے ناقص خیالات کی ترسیل کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔

دوسرے نکتہ کو پڑھ کر تو ناچیز آدھ گھنٹہ تک محض ہنستا ہی رہا۔ حضور! کوئی اگر شترمرغ کی عادت اپنانے پر بضد ہو تو ہو مگر اس شترمرغ کا قول "قول فیصل" نہیں بن جاتا۔ کیا واقعی آپ "اردو محفل" جیسے اولین اردو یونیکوڈ فورم سے واقف نہیں ہیں یا یہ بھی آپ کا "تجاہل غافلانہ" ہے؟؟
"اردو محفل" نے یونیکوڈ اردو فورمز کی جو بنیاد ڈالی تھی ، ماشاءاللہ اس کے بعد کتنے ہی ایسے سینکڑوں فورمز اردو کمیونیٹی کے منظر عام پر وارد ہوئے جنہیں گنتے ہوئے بھی شاید آپ جیسے لوگ گنتی بھول جائیں۔

تیسرے نکتے پر آپ کو بھلا کیا کہا جائے کہ آپ تو آپ ہیں۔ شاید کبھی فیس بک یا سیارہ کی تفصیلی سیر کا موقع ہی نہیں ملا ہوگا۔ ویسے بھی ہمیں ڈر ہے کہ نیٹ کا کوئی جیالا ادیب یا شاعر یا دانشور آپ پر ازالہ حیثیت عرفی کا دعویٰ نہ دائر کر ڈالے۔

آپ کے چوتھے نکتے پر تو باقاعدہ ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ حضور عالی ! جب بقول آپ کے "اردو ٹائپنگ اتنی مشکل نہیں" اور "کسی خصوصی اردو کی۔بورڈ کی بھی ضرورت نہیں" تو کیا نیٹ پر موجود اردو دانوں کو کسی باؤلے کتے نے کاٹا ہے کہ وہ جان بوجھ کر تمام دستیاب سہولتوں کے باوجود اردو رسم الخط میں لکھنا نہیں چاہتے؟
آپ کی اس کم علمی یا کم فہمی کو ہم مذاق سمجھ کر نظرانداز کر جاتے ۔۔۔ مگر "خصوصی کی۔بورڈ کی ضرورت نہیں" جیسے زائد و قابل گرفت الفاظ کے ذریعے جس طرح آپ نے ایم۔بلال۔ایم کے "پاک اردو انسٹالر" کا مذاق اڑایا ہے ۔۔۔ وہ انٹرنیٹ پر اردو کے فروغ کی خواہش رکھنے والے کسی بھی عام اردوداں کو قطعاً قابل قبول نہیں ہے۔ لہذا اردو کے فروغ و ترویج کے لئے آپ کی جو بھی نیت رہی ہو وہ یقیناً یہاں مشکوک ثابت ہو جاتی ہے۔ کیونکہ ہم یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ جو کوئی بھی اردو داں، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا ذرا سا بھی بنیادی علم رکھتا ہو وہ "اردو فونیٹک کی۔بورڈ" کی ضرورت و اہمیت سے ناواقف ہو۔

۔۔۔
حضور ! ہم بچارے اردو تہذیب و ثقافت کے مارے ہیں ورنہ اگر آپ ہمارے حیدرآباد میں ہوتے تو واللہ ایسی "شیریں" زبان سنتے کہ ساری دکنی زبان کی فلمیں ہمارے قلم کے آگے پانی بھرتی رہ جاتیں۔ پتا نہیں کیوں دل چاہتا ہے کہ آپ کی بزرگی کا خیال رکھتے ہوئے معاف کر دیا جائے ۔۔۔ کیونکہ یہ خوش گمانی پھر بھی رکھی جا سکتی ہے کہ بہت ممکن ہے کہ آپ اس وقت 2013 میں نہیں بلکہ سن 2000ء میں جی رہے ہوں۔

ویسے آپ کے متعلق ہمارے بلاگر دوست خاور کھوکھر نے جو کچھ فیس بک پر لکھا ہے ۔۔۔ وہ بھی ذرا یاد سے پڑھ لیجئے گا ۔۔۔
میں صفدر ہمدانی صاحب کو جانتا ہوں ، نصر ملک صاحب کے ساتھ القمر چلاتے تھے بعد میں عالمی اخبار بنا لی آج یہ اردو یونی کوڈ کی بات کرتے ہیں
لیکن اردو کی انٹرنیٹ کی تاریخ میں یہ بات یاد رکھنے والی ہے کہ ان کے ساتھ ایک لڑکا تھا سکینڈے نیویا کے کسی ملک کا پاکستانی نسل کا ، اس نے آن لائین اردو کا ایک پروگرام بنایا تھا ، جس کو عام کرنے کی درخواست پر ان لوگوں نے انکار کر دیا تھا ، جس کی وجہ سے نبیل صاحب نے ورڈ پریس کے لئے ایک پلگ ان بنایا تھا جو کہ آج بھی چل رہا ہے
نبیل صاحب اور م بلال م ہی وہ لوگ ہیں جنہون نے حقیقی معنوں میں اردو کو انٹر نیٹ کی زبان بنایا ہے ان دونوں صاحبان نے اس کام سے کوئی کمائی نہیں کی ،
صفدر ہمدانی صاحب اگر اس ویڈیو سے تاریخ میں یہ لکھوانا چاہتے ہیں کہ ان کے درد کی وجہ تھی کہ انٹر نیٹ پر رومن کی بجائے یونی کوڈ ہو تو یہ بات غلط ہے
ان کی ٹیم نے اپنے نام اور کمائی کے لئے اردو یونی کوڈ کو عام کرنے کی مخالفت کی تھی
اردو یونیکوڈ میں کرنے کے لئے کس نے کام کیا ہے ؟ اگر یہ جاننا چاہتے ہیں تو اردو کے بلاگرز کو دیکھیں جن کی فہرست اپ کو اردو کے سب رنگ پر مل جائے گی
یا پھر اردو محفل دیکھیں کہ اردو یونیکوڈ کا یہ فورم کوئی سات سال سے چلا رہا ہے
اور اگر اپ کو ان دونوں سائیٹوں کا علم نہیں ہے تو؟
آپ نرگیست کا شکار ہیں کہ اپ کو اپنے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا!

تعمیر نیوز - ہندوستان کے پہلے سرچ بیسڈ اردو نیوز پورٹل کا آغاز

تعمیر نیوز - Taemeer News
www.taemeernews.com
بڑے سائز میں دیکھنے کے لئے تصویر پر کلک کیجئے
ہندوستان سے بلا مبالغہ سینکڑوں اردو اخبارات ، روزانہ ، سہ روزہ ، ہفت روزہ اور پندرہ روزہ بنیاد پر شائع ہوتے ہیں۔ اور ان میں سے تقریباً سبھی کی اپنی ویب سائیٹس بھی قائم ہیں۔
لیکن ۔۔۔ پرنٹ شکل کے اخبار میں اور ویب ایڈیشن کی خبروں میں جو فرق ہوتا ہے ، اس سے ناواقفیت کے سبب یہ تمام ہی اخبارات اپنے پرنٹ ایڈیشن کی خبریں جوں کی توں تصویری صورت میں ویب سائیٹ پر پیش کر دیتے ہیں جس کے سبب یہ خبریں ایک طرف تو سرچ انجنز میں شامل نہیں ہو پاتیں اور دوسری طرف بھاری بھرکم امیجز کے سبب آج کا نیٹ قاری ان ویب صفحات کو کھول کر پڑھنے سے بھی گریز کرتا ہے۔

ہر چند کہ کچھ ہندوستانی اردو اخبارات نے اپنے یونیکوڈ ویب ایڈیشن پیش تو کئے ہیں جیسے روزنامہ آگ لکھنؤ ، روزنامہ اردو ٹائمز ممبئی ، چوتھی دنیا حیدرآباد، اردو تہذیب نئی دہلی اور ایشیا ایکسپریس اورنگ آباد۔ مگر آرکائیو خبروں کا مطالعہ اور اِن-سائیٹ سرچنگ ونیز سرچ انجن آپٹی مائزیشن کے معاملے میں ان اخبارات نے بھی کوئی خاص توجہ نہیں دی ہے لہذا خبروں کی گوگل سرچنگ میں ان اخبارات کا ڈیٹا بھی سامنے نہیں آ پاتا۔
اسی کمی کا اندازہ کرتے ہوئے حیدرآباد کے ادارہ تعمیر ویب ڈیولپمنٹ نے (جس نے پچھلے سال بچوں کی کارٹون/کامکس ویب سائیٹ "اردو کڈز کارٹون" کی داغ بیل ڈالی تھی) اسی ماہ فبروری 2013ء میں موجودہ تکنیکی و سوشل میڈیا ویب معیار کے مطابق ہندوستان کے پہلے مکمل سرچ بیسڈ اردو نیوز ویب پورٹل کا آغاز کیا ہے۔
تعمیر نیوز - Taemeer News
www.taemeernews.com

ہندوستان کی موقر و معتبر قومی نیوز ایجنسیوں پی۔ٹی۔آئی ، یو۔این۔آئی ، آئی۔اے۔این۔ایس کے علاوہ مقامی خبررساں اداروں جیسے انقلاب نیوز نیٹ ورک (ممبئی) ، سہارا نیوز بیورو (دہلی)، سیاست نیوز (حیدرآباد)، منصف نیوز بیورو (حیدرآباد) اور اعتماد نیوز (حیدرآباد) کی اہم اور قابل مطالعہ خبروں کا انتخاب اس نیوز پورٹل پر شائع کیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ اس اردو پورٹل کو صرف خبروں تک محدود نہ رکھتے ہوئے کئی دلچسپ اور معلوماتی سلسلے بھی مختلف موضوعات کی شکل میں شروع کئے گئے ہیں جیسے ۔۔۔

امید ہے کہ اردو ویب دنیا میں ہندوستانی نقطہ نظر کے حوالے سے روزمرہ کی اہم خبریں اور دیگر ضروری و دلچسپ معلومات کی جو کمی محسوس کی جا رہی تھی وہ اب کسی حد تک دور ہو جائے گی۔

بڑے سائز میں دیکھنے کے لئے تصویر پر کلک کیجئے

بزم اردو سوشل نیٹ ورک کا آغاز

www.bazmeurdu.net
بزم اردو سوشل نیٹ ورک کا آغاز
اردو کو خواص سے عوام تک پہنچانے کی کوشش
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس برق رفتار دور میں بیچاری اردو کہاں کھڑی ہے اس بات سے ہم اور آپ بخوبی واقف ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں مغربی ممالک کی سبقت نے اقوام عالم کی تہذیب و ثقافت ، رہن سہن ، طرزمعاشرت اور زبانوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ دور حاضر میں مغرب سے آنے والی ہر چیز کو سند مانا جاتا ہے اور چونکہ انگریزی کو ایجاد و اختراع کی زبان تسلیم کیا جا چکا ہے اس لیے اردو داں طبقے کا اردو سے دور ہونا کوئی بعید ازقیاس بات نہیں ہے۔
بات صرف زبان تک محدود ہوتی تو ٹھیک تھا لیکن لسانی اثرات کے ساتھ جدید نسل میں تہذیبی اثرات بھی اس قدر سرایت کر چکے ہیں کہ انہیں اپنی زبان و تہذیب کا پاس و لحاظ دقیانوسی باتیں محسوس ہونے لگی ہیں۔

دور حاضر انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے اس دور میں جدید نسل کا ناطہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سے جڑا ہوا ہے اور سوشل ویب سائٹس کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ بر صغیر ایشیا میں لوگ فیس بک نامی وبائی مرض کی جس طرح لپیٹ میں آئے ہوئے ہیں اس سے ہم اور آپ بخوبی واقف ہیں۔ ڈیجٹل میپ ایشیا کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2012 میں صرف انڈیا کے فیس بک صارفین کی تعداد 43,497,980 سے متجاوز کر چکی ہے۔

بچے بوڑھے امیر، غریب ہر کسی کو فیس بک کا چسکہ لگا ہوا ہے۔ اور کیوں نا لگے؟ ایک طرف یہاں ہر کسی کے ذوق کے مطابق تفریح طبع کا سامان میسر ہے تو دوسری طرف اپنی تخلیقات و ذہنی اپج کو بہت ہی کم عرصہ میں دوسروں تک پہنچانے کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے۔
جہاں ایک طرف ان ویب سائٹس کی افادیت مسلم ہے وہیں دوسری طرف ان ویب سائٹس پر روز بروز فحاشی ، بیہودگی اور عریانیت سے سلیم الفطرت نفوس پریشان ہیں کہ ان کے اثرات سے ہماری نسلوں کی حفاظت کیسے ہو، ہماری لسانی تہذیبی اور ثقافتی قدروں کی کس طرح حفاظت کی جائے؟
چونکہ ایک صالح معاشرے کی تعمیر میں زبان و ادب کا بڑا اہم حصہ ہوتا ہے اس لیے کافی دنوں سے یہ کوششیں کی جا رہی ہیکہ اردو زبان کو کمپیوٹر و انٹرنیٹ سے جوڑا جائے اس کے لیے دنیا بھر سے بہت ساری ویب سائٹس بھی تیار کی گئی لیکن اکثر ویب سائٹس عمدہ مشمولات کے با وجود اپنے امیج فارمیٹ کی وجہ سے اردو داں حضرات کی توجہ مبذول کرنے میں ناکام رہی ۔ ہندوستان سے اردو یونیکوڈ ویب سائٹس بہت کم نظر آتی ہیں لیکن جو موجود ہیں وہ بھی بے توجہی کا شکار ہیں۔

بعض فکر مند احباب ایک عرصہ سے یونیکوڈ اردو کی ہندوستان میں ترویج و ترقی کے لیے کوشاں ہیں تاکہ زمانہ کی رفتار کے ساتھ ہماری زبان بھی ترقی کر سکے۔
چونکہ آج کل سوشل ویب سائٹس کا بہت بول بالا ہے اور خواص و عوام دونوں اس سے جڑے ہوئے ہیں اس لیے حیدر آباد سے اعجاذ عبید صاحب اور منماڑ سے ڈاکٹر سیف قاضی نے اپنی مشترکہ کوششوں سے اردو کو خواص سے نکال کر عوامی سطح پر لانے ، اردو رسم الخط کی ترویج و ترقی ، صالح اقدار کے فروغ اور مثبت سماجی روابط کی برقراری کے لیے اردو داں طبقے کی خاطر ایک غیر منفعتی اردو سوشل نیٹورکنگ ویب سائٹ کا آغاز کیا ہے۔

26 جنوری 2013 سے اس اردو سوشل نیٹورک کا آغاز عمل میں آیا ہے ۔جسے اس پتہ پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویب کے منتظمین نے اردو طبقے سے گزارش کی ہے کہ اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کریں۔
محض مشاہدہ کرنے یا شمولیت اختیار کرنے کے لیے یہاں تشریف لائیں۔

یوم جمہوریہ ہند - این۔سی۔سی نغمہ

تمام ہندوستانی دوستوں کو یوم جمہوریہ ہند مبارک ہو۔
ہمارے ایک دوست نے زمانہ طالب علمی کے این۔سی۔سی (National Cadet Corps) کا نغمہ یاد دلایا ہے۔
آپ سب کے لیے پیش ہے ۔۔۔۔

مکمل سائز میں دیکھنے کے لئےتصویر پر کلک کریں
ہم سب ہندوستانی ہیں
ہم سب ہندوستانی ہیں
اپنی منزل ایک ہے
ہاں ہاں ہاں ایک ہے
ہو ہو ہو ایک ہے
ہم سب ہندوستانی ہیں

کشمیر کی دھرتی رانی ہے
سرتاج ہمالیہ ہے
صدیوں سے ہم نے اس کو
اپنے خون سے پالا ہے
دیش کی رکشا کی خاطر
ہم شمشیر اٹھا لیں گے
ہم شمشیر اٹھا لیں گے

بکھرے بکھرے تارے ہیں ہم
لیکن جھلمل ایک ہے
ہاں ہاں ہاں ایک ہے
ہم سب ہندوستانی ہیں
مندر گردوارے بھی ہیں یہاں
اور مسجد بھی ہے یہاں
گرجا کا گھڑیال کہیں
ملا کی کہیں ہے اذاں

اک اپنا رام ہے
اک ہی اللہ تعالیٰ ہے
رنگ برنگے دیپک ہیں
لیکن محفل ایک ہے
ہاں ہاں ہاں ایک ہے
ہو ہو ہو ایک ہے
ہم سب ہندوستانی ہیں
ہم سب ہندوستانی ہیں

عالمی تھنک ٹینک - اردو اکیڈمی انٹرنیشنل کا قیام

Rohail Khan - Fonder UAIعالمی تھنک ٹینک ، آسمانِ اردو کا نیا ستارہ ، اردو اکیڈمی انٹرنیشنل
مرکزی آفس جدہ سے کام کا باقاعدہ آغاز ، چند ہی دنوں میں 300 سے زائد افراد اور اردو تنظیموں نے رکن بن کر شمولیت حاصل کر لی
ممتاز بینکار ، مستشار مالی اور سماجی شخصیت روحیل خان نے ایک نئے ادارے "اردو اکیڈمی انٹرنیشنل" کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ بطور "عالمی تھنک ٹینک" یہ ترقی پسند ادارہ اردو زبان ، اردو ادب اور اردو ثقافت کی ترویج ، تحفظ اور ترقی کے لئے "پانچ براعظموں" میں فعال کردار ادا کرے گا۔ اردو اکیڈمی انٹرنیشنل اپنے مرکزی آفس جدہ (سعودی عرب) سے "جی سی سی" اور برصغیر کے ممالک میں اپنے کام کا باقاعدہ آغاز کر چکی ہے۔ اگلے سال کے وسط میں واشنگٹن ڈی۔سی ، امریکہ میں ریجنل دفتر کھولا جائے گا اور شمالی امریکہ ، کینیڈا اور یورپ کے ممالک میں اردو کی خدمت کا آغاز کیا جائے گا۔
اپنی تشکیل کے چند ہی دنوں میں دنیا بھر سے 300 سے زائد افراد اور اردو تنظیموں نے رکن بن کر اردو اکیڈمی انٹرنیشنل کے مقاصد میں شمولیت حاصل کر لی ہے۔ یہ واقعی ایک شاندار آغاز ہے۔ اردو اکیڈمی انٹرنیشنل مغرب میں اردو کو عملی طور سے مضبوط کرنے اور مشرق و مغرب کے کروڑوں اردو بولنے والوں کو متحد کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ جہاں جہاں اردو کی ترقی کے لئے نئے آغاز ، نئے آئیڈیاز ، نئے انجن ، نئے پراجکٹس کی ضرورت ہوگی ، وہاں وہاں یہ ادارہ "لبیک" کہے گا۔

اردو ، دنیا کی چوتھی بڑی زبان ہے اور اردو بولنے سمجھنے والوں کی تعداد 550 ملین یعنی 55 کروڑ سے زائد ہے۔ یہ ایک قابل فخر سچ بھی ہے اور ایک اجتماعی ذمہ داری بھی۔ ہمارا یقین محکم ہے کہ اردو کی خدمت دراصل اسلام کی خدمت ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ عربی کے بعد اسلامیات ، تفسیر اور سنت طیبہ کے حوالے سے سب سے بڑا خزانہ اردو زبان میں ہے لہذا اردو کی ترقی و تحفظ کی ذمہ داری دنیا بھر کے مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔ اسی صداقت کے پیش نظر اردو اکیڈمی انٹرنیشنل کا "MOTTO" یعنی بنیادی مقصد Serving Urdu, Serving Islam رکھا گیا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کی "نشاۃ ثانیہ" اور تحفظ و ترقئ اردو میں بابائے اردو مولوی عبدالحق نے انقلابی خدمات انجام دیں۔ اردو اکیڈمی انٹرنیشنل ، 21 ویں صدی میں بابائے اردو کے مقاصد و تحریک کو نئے انداز سے آگے بڑھائے گی اور عالمی اسٹیج پر اردو کو عام کرنے کے لئے نئے پراجیکٹس شروع کرے گی۔ "اتحاد میں برکت ہے" کے مصداق ، ہم متمنی ہیں کہ اردو کے خدمت گزار اور اردو کے ضرورت مند اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا جائے اور سنجیدہ و منظم کوششوں کے ذریعے نئے پراجیکٹس کی تکمیل کی جائے۔ اردو زبان ادب اور ثقافت کی ترقی و تحفظ نیز آنے والی نسلوں کی خدمت کے لئے ہم نے "اردو اکیڈمی انٹرنیشنل" کے پرچم تلے 10 نئے پراجیکٹس کا اعلان کیا ہے جن کا تعارف یوں ہے :

1 :
اردو مجلہ "گلدستہ" : اپنی طرز کا نیا ترقی پسند مجلہ جس میں نئی اور پرانی نسل کے نثرنگار ، افسانہ نگار اور شعراء کے شہ پاروں کو عالمی اسٹیج اور مقامی ترجمانی دی جائے گی۔
2 :
اردو ڈکشنری : ایک منفرد لغت ، جس کے ذریعے ثقیل اردو الفاظ اور محاروں کو عام فہم بنایا جائے گا۔
3 :
عالمی اردو انسائیکلوپیڈیا : دور حاضر کے تمام علوم کو اردو کے کوزے میں بند کرنے اور عام فہم بنانے کی نئی کاوش ، ایک ایسی "زنبیل" جس سے اردو بولنے ۔ لکھنے اور پڑھنے والی نئی نسل لیس ہوگی۔
4 :
کمپیوٹر ڈکشنری : انگریزی سے نابلد بچوں اور اردو بولنے والوں کو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی دنیا سے اردو میں روشناس کرانے کی منفرد کاوش ، ایک انقلابی قاموس نئی نسل کے لئے۔
5 :
اردو فیس بک : فیس بک میں اردو نستعلیق خط کو مروج کروانے کی عالمی جدوجہد ، ایک تکنیکی اعتراف کہ اردو دنیا کی چوتھی بڑی زبان ہے۔
6 :
اردو سافٹ وئیر : کمپیوٹر ، انٹرنیٹ اور موبائل فون پر اردو نستعلیق کو عالمی طور سے Standardize کرنے کے لئے ایک جدید "اردو کمپیوٹر آپریٹنگ سسٹم"۔
7 :
عالمی اردو ڈائریکٹری : دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اردو علماء کے کوائف کو یکجا کر کے جدید آن لائن ڈائریکٹری ، جس سے ہر عام و خاص مستفید ہو سکیں گے۔
8 :
اسکولوں میں اردو ورکشاپ : تارکین وطن کی نئی نسل میں اردو کی محبت اور ضرورت کو اجاگر کرنے کی سنجیدہ کوشش ، اکابرین اردو "سرسید احمد خان ، بابائے اردو ، علامہ اقبال" سے لے کر دور حاضر کے اردو ہیروز کا طلبا سے علمی تعارف اور طلبا میں فن خطابت پیدا کرنے کی عملی تربیت۔
9 :
عالمی ادارہ تالیف اشاعت : ہائی ٹیک ادارہ جہاں نئے پرانے ادوار کے نادر نسخوں ، لغات ، مقدمات ، تراجم ، نثر پاروں اور شعری مجموعات کو کمپیوٹرائز اور "برقی کتابوں" کے ذریعے محفوظ اور عام کیا جائے گا۔
10 :
عالمی اردو کانفرنس اور مشاعرے : اردو زبان و ادب کی عالمی شان و شوکت بڑھانے کے لئے دیگر اردو تنظیموں کے تعاون سے مختلف ملکوں میں کانفرنسوں اور مشاعروں کا انعقاد۔

اردو سے عقیدت رکھنے والے حضرات ، خواتین اور اداروں کو اردو اکیڈمی انٹرنیشنل میں شامل ہونے کی عام دعوت ہے۔
آئیے سب مل جل کر اردو کی خدمت کریں اور اس منظوم حقیقت کی عملی تفسیر بن جائیں کہ :
کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زورِ بازو کا
نگاہِ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

وزٹ کیجئے :
اردو اکیڈمی انٹرنیشنل فیس بک گروپ
بانئ اردو اکیڈمی انٹرنیشنل فیس بک پروفائل

تحریر بشکریہ :
روزنامہ "اردو نیوز" جدہ ، سعودی عرب۔ مورخہ: 8/دسمبر/2012

تجھ سے محرومی کا غم صدیوں رلائے گا ۔۔۔

تجھ سے محرومی کا غم صدیوں رلائے گا مگر
اپنے دیوانوں کو جینے کا ہنر دے کر گئی
6/دسمبر کیا ہے؟
بابری مسجد کیا ہے؟
اس کا جواب ہمارے پاس ہے ۔۔۔ مگر اسے دیتے ہوئے خود اپنے آپ سے شرم آتی ہے!
مگر نئی نسل کو سچ سچ بتانا ہی ہوگا کہ ۔۔
6/دسمبر کیا ہے؟
بابری مسجد کیا ہے؟

جس طرح ہماری پیشرو نسل نے وطن عزیز کی تقسیم کے غم کا ورثہ ہمارے حوالے کیا ، جس طرح اسلامی مملکت حیدرآباد کے انضمام کے بعد مسلمانوں کے قتل عام ، ان کی معاشی تباہی و بربادی کے واقعات ان کی زبانی ہم تک پہنچے ۔۔۔ اسی طرح 6/دسمبر کی تاریخ اور اس کے پس منظر سے نئی نسل کو واقف کروانا اس لئے ضروری ہے کہ ہماری پیشرو نسل اور ہم سے جو غلطیاں کوتاہیاں ہوئیں اس کا جائزہ لیتے ہوئے نئی نسل اسے نہ دہرائے۔

میں نئی نسل کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ۔۔۔
بابری مسجد ہندوستان میں مسلمانوں کے وقار ، مقام ، اس سے وابستگی اور اس ملک کے سیکولر کردار کی کیسی عمارت تھی جو صدیوں سے قائم رہی مگر اس ملک کے مٹھی بھر فرقہ پرست عناصر نے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے اسے متنازعہ عمارت میں بدل دیا ۔۔۔

چونکہ ہم مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اس لئے کہنا ہی پڑتا ہے کہ مایوسی کفر ہے۔ اب بھی یہ دلاسہ ، یہ امید کہ بابری مسجد اس کے اصل مقام پر تعمیر ہوگی ۔۔۔ کیسے اور کب؟ اس وقت تک شائد نہ تو ہم ہوں گے اور نہ موجودہ نئی نسل ۔۔۔۔

نئی نسل کو ہم یہی بتانا چاہتے ہیں کہ ۔۔۔۔
ہم نے یا ہماری پیشرو نسل کی غلطیوں ، آپسی اختلافات و ذاتی مفادات نے جو نقصان پہنچایا ہے اس کی تلافی صدیوں تک نہیں ہو سکتی۔ اب نئی نسل کو ماضی کے اس آئینے میں دیکھ کر اپنا مستقبل سنوارنا ہوگا۔ جب تک ذاتی مفادات پر ملی مفاد کو ترجیح نہیں دیں گے ، جب تک اپنی انا کے شیطان کو کچل نہیں دیں گے ، جب تک باہمی احترام نہیں کریں گے اس وقت تک ہم اس ملک میں سر اٹھا کر نہیں رہ سکتے۔
بابری مسجد کی ، اس کے اصل مقام پر تعمیر نو کے لئے جدوجہد جاری رکھنی ہے۔ ہماری پیشرو نسل نے جدوجہد کی مشعل ہمارے حوالے کی تھی ، اب ہم اسے تمہارے حوالے کرتے ہیں!
جب تک بابری مسجد کا غم تازہ رہے گا اس وقت تک ہمارا اتحاد اور وقار باقی رہے گا۔ جس دن ہم اسے فراموش کر دیں گے ، یہ ملک بھی ہمارے وجود کو فراموش کر دے گا!!
بابری مسجد کی شہادت کے سانحہ نے جو زخم لگایا ہے اسے کبھی بھی مندمل نہ ہونے دیا جائے، اسی زخم کی بدولت 20 برس میں ہندوستانی مسلمان خواب غفلت سے جاگے ہیں ، سینکڑوں مساجد تعمیر ہوئی ہیں اور اللہ کے فضل و کرم سے نوجوان نسل سے مساجد آباد بھی نظر آ رہی ہیں۔ صرف ان مساجد کو مسلکی جھگڑوں سے اور ان جھگڑوں کے ذمہ داروں سے پاک کرنے کی ضرورت ہے۔ بابری مسجد کی شہادت نے مسلمان کو زندہ کر دیا ۔۔۔ ان شاءاللہ وہ ایک زندہ قوم کی طرح باوقار زندگی گزارے گا۔ یہ اب نئی نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ کس طرح اس ملک میں اپنے عزت اور وقار کے ساتھ اپنے وجود کا احساس دلاتی رہے گی۔

اقتباس از تحریر بشکریہ : سید فاضل حسین پرویز (مدیر ہفت روزہ گواہ)
مکمل تحریر : بابری مسجد کا غم اب نئی نسل کی میراث
مماثل مراسلہ : بابری مسجد - 6/ڈسمبر/1992ء - تجھ سے محرومی کا غم

تقریب پذیرائی برائے سید شاکر القادری - القلم تاج نستعلیق فونٹ

القلم تاج نستعلیق (اولین اوپن سورس ترسیمہ جاتی اردو فونٹ) کا اجراء 9/نومبر/2012 کو عمل میں آیا تھا۔
القلم تاج نستعلیق ، دراصل بر صغیر پاک و ہند کے عظیم خطاط استاد تاج الدین زرین رقم کی خطاطی کی بنیاد پر استوار کیا گیا ایک لگیچر بیسڈ فانٹ ہے ۔ اس سے قبل گوکہ نوری نستعلیق کے ترسیمے موجود تھے لیکن وہ تجارتی بنیادوں پر استعمال ہو رہے تھے اور انہیں مفت استعمال کرنا قانونی اور اخلاقی طور پر درست نہ تھا۔ مزید یہ کہ لاہوری انداز کے نستعلیق کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا جا رہا تھا۔ اسی ضرورت کے پیش نظر القلم فورم کی انتظامیہ نے آج سے تین سال پہلے اس بات کا فیصلہ کیا کہ اردو کمیونٹی کے لیے ایک ایسا فونٹ تیار کیا جائے لاہوری نستعلیق کی ضرورت کو پورا کر سکے اور اردو کمیونٹی کے ذاتی استعمال کے لیے یہ فونٹ بلا معاوضہ دستیاب ہو اور اس کے استعمال پر کوئی اخلاقی یا قانونی قدغن موجود نہ ہو۔ چنانچہ اس پروجیکٹ کا آغاز ہوا اور الحمد للہ! اللہ کے فضل و کرم کے ساتھ تین سال کی شبانہ روز محنت کے بعد ہم نے اردو کے کثیر الاستعمال 28000 ترسیمے تیار کر لیے۔ ان اٹھائیس ہزار ترسیموں کے ساتھ ہم القلم تاج نستعلیق کا ابتدائی نسخہ پیش کر رہے ہیں ۔ مزید ترسیموں کی تیاری پر کام جاری ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ان شأ اللہ ہم اس میں اضافہ کرتے چلے جائیں گے۔
بشکریہ : القلم تاج نستعلیق فونٹ آفیشیل پیج
القلم تاج نستعلیق فونٹ کی تخلیق پر سید شاکر القادری کے اعزاز میں تقریبِ پذیرائی کا انعقاد بتاریخ 2/دسمبر 2012ء بروز اتوار کو اکادمی ادبیات پاکستان (اسلام آباد) میں کیا گیا جس کی صدارت چیرمین اکادمی جناب عبدالحمید نے کی۔
اس تصویر میں چیرمین صاحب جناب شاکر القادری کو مومنٹو پیش کر رہے ہیں
چیرمین اکادمی ادبیات پاکستان جناب عبدالحمید ، القلم تاج نستعلیق فونٹ کے خالق جناب شاکر القادری کو تمغہ پیش کرتے ہوئے
القلم تاج نستعلیق فونٹ کے خالق جناب شاکر القادری کے ساتھ اردو بلاگران کی ایک تصویر
دائیں سے بائیں ۔۔۔۔
ایستادہ : سعادت ، امجد علوی ، ساجد ، سید زبیر ، افتخار اجمل بھوپال ، سید شاکر القادری ، تلمیذ ، (نامعلوم) ، خاور چوہدری ، (نامعلوم)
بیٹھے ہوئے :
غلام عباس ، محمد بلال (پاک اردو انسٹالر) ، (نامعلوم) ، نیرنگ خیال ، محمد سعد ، عاطف بٹ ، خرم شہزاد خرم ، الف نظامی
janab Shakir-ul-Qadree with Urdu Bloggers
تصاویر بشکریہ: خرم شہزاد خرم


ڈبل کا میٹھا


آج حالات بدلے ، وقت بدلا تو کدو کی کھیر ، خوبانی کا میٹھا ، فروٹ کا میٹھا اور دیگر میٹھے دسترخوان پر چھا گئے ہیں۔
لیکن ہمیں ڈبل کے میٹھے کی ناقدری پر بڑا افسوس ہوتا ہے چنانچہ ہمیں آج بھی وہ اتنا ہی عزیز ہے جتنا کل تھا۔ ہماری آنتیں آج بھی زعفرانی رنگ کا ڈبل کا میٹھا کھا کر زعفران زار ہو جاتی ہیں۔ چنانچہ حال ہی میں جب ہمارے ہاں ہماری فرمائش پر ڈبل کا میٹھا بنایا گیا تو ہم اس سے یہ پوچھے بغیر نہیں رہ سکے کہ :
"میاں! ایک زمانے میں تمہاری بڑی مانگ تھی ، لوگ تمہیں مانگ مانگ کر کھایا کرتے تھے اور آج تم کو دیکھ کر لگتا ہے کہ گویا تمہاری مانگ اجڑ گئی ہے ، آخر تمہاری مانگ میں کمی کی وجہ کیا ہے؟"

ہمارا سوال سن کر بدحال ڈبل کے میٹھے نے سرد آہ بھری اور کہا :
"غرور و تکبر نے مجھے کہیں کا نہیں رکھا دوست! جس وقت میں دسترخوان کی زینت بنا کرتا تھا اور لوگ مجھ پر ٹوٹ پڑتے تھے ، اس وقت میں اپنے آپ میں بڑا فخر محسوس کرتا تھا اور سوچتا تھا کہ میرے بغیر دسترخوان نامکمل ہے۔ میرا کوئی زوال نہیں ، میرا کوئی ثانی نہیں ، میں اسی طرح لوگوں کے دلوں پر بلکہ "پیٹوں" پر چھایا رہوں گا۔ آج بھی مجھے وہ دن یاد ہیں جب بڑے اہتمام کے ساتھ مجھے رکابی کے نیچے چھپا دیا جاتا تھا اور جب کوئی مہمان رکابی الٹتا تو مجھے دیکھتے ہی اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ ہوتا۔ بلاشبہ جیسے شاہانہ ٹھاٹ باٹ والے دن میں نے گزارے ہیں ویسے دن کسی اور میٹھے کے حصے کے حصے میں نہیں آئے لیکن آج میں بہت برے دور سے گزر رہا ہوں۔ اکثر و بیشتر تو میرے بغیر ہی تقاریب منعقد ہونے لگی ہیں ، البتہ میں عموماً چہلم کی دعوتوں میں نظر آتا ہوں۔ بہرحال ! جب کبھی مجھے دسترخوان پر سجایا جاتا ہے ، لوگ میری جانب دیکھنا تک گوارا نہیں کرتے جب کہ کچھ لوگ بڑی حقارت سے میرے وجود کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ایک آدھ ٹکڑا بادل نخواستہ اپنی رکابی میں اتار لیتے ہیں۔ ایسی ذلت ، ایسی توہین آج تک میرے حصے میں نہیں آئی لیکن یہ بات میرے لیے نہایت دل خوش کن ہے کہ آج کل میرے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو ملائی یا کریم کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے ، جسے لوگ شوق سے کھا رہے ہیں۔
لیکن وعدہ کرتا ہوں کہ اب میں کبھی غرور و تکبر نہیں کروں گا ، کیونکہ غرور کا سر ہمیشہ نیچا ہوتا ہے۔"

(اقتباس بشکریہ مضمون - "ڈبل کا میٹھا" از: حمید عادل)

بلاگ اسپاٹ بلاگ کے مراسلات و تبصروں کی تعداد

ہمارے بلاگ کے ایک قاری نے دریافت کیا ہے کہ بلاگر ڈاٹ کام پر قائم بلاگ کے جملہ مراسلات اور جملہ تبصروں کی تعداد کس طرح معلوم کی جا سکتی ہے؟
یعنی کہ کچھ اس طرح :

بلاگ اسپاٹ ڈاٹ کام یعنی بلاگر ڈاٹ کام کے بلاگز پر یہ چیز json کی ایک چھوٹی سی اسکرپٹ کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔
اپنے بلاگ کے Layout سیکشن میں جائیں اور سائیڈ بار میں Add a Gadget کو کلک کر کے ۔۔۔ HTML/JavaScript والے gadget کو منتخب کر لیں۔
اب اس gadget میں یہ کوڈ کاپی/پیسٹ کر دیں۔
یاد رہے کہ ۔۔۔ ہائی لائیٹ کیے ہوئے بلاگ ایڈریس کی جگہ آپ کو اپنے بلاگ کا ایڈریس لکھنا ہوگا۔


<script style="text/javascript">
function Countme(json) {
document.write(json.feed.openSearch$totalResults.$t);
}
</script>
<div>No. of posts: <b><script src="http://urduhyd.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=json-in-script&callback=Countme"></script></b></div>

<div>No. of comments: <b><script src="http://urduhyd.blogspot.com/feeds/comments/default?alt=json-in-script&callback=Countme"></script></b></div>

مزید یہ کہ ۔۔۔۔۔۔
اگر آپ کو اپنے بلاگ کے کسی مخصوص زمرہ (یعنی : label) میں پوسٹ کیے ہوئے مراسلات کی تعداد معلوم کرنی ہو تو اس کا کوڈ یہ ہے :

<div>No. of posts on label-India: <b><script src="http://urduhyd.blogspot.com/feeds/posts/summary/-/ہندوستان?alt=json-in-script&callback=Countme"></script></b></div>


امید ہے کہ یہ کوڈ خواہش مند دوستوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔

خدا حافظ ابو ! خوش آمدید میاں جی!!

شادی کی تقریب کے بعد وداع ہوتے ہوئے دلہن نے اپنے والد کی پیشانی کا بوسہ لیا اور ان کے ہاتھ میں کوئی چیز تھما دی۔
تقریب میں موجود تمام حاضرین حیران تھے کہ آخر دلہن نے وہ کون سی چیز اپنے والد کو دی ہے؟
والد نے تقریب میں موجود شرکاء کے تجسس کو ایسے محسوس کیا جیسے تمام لوگوں کی نظریں اس پر گڑی ہیں کہ وہ کب اس راز کو آشکار کرتا ہے؟
بالآخر اس نے بلند آواز میں اعلان کیا :
"خواتین و حضرات! آج میری زندگی کا خوش نصیب ترین دن ہے ۔۔۔"
پھر اس نے ہاتھ اٹھا کر وہ چیز بتائی جو اس کی دختر نیک اختر نے اسے تھمائی تھی ۔۔۔
"میری عزیز از جان بیٹی نے آخر کار ۔۔۔ آخر کار میرا کریڈٹ کارڈ مجھے واپس لوٹا دیا ہے ۔۔۔"
تمام محفل زعفران زار ہو گئی ۔۔۔ سوائے ۔۔۔ بچارے شوہر نامدار کے!!


الوداع ڈاکٹر عنیقہ ناز

اردو محفل کی اس خبر (عنیقہ ناز صاحبہ کا انتقال پرملال) اور معروف بلاگر ایم۔بلال۔ایم کی اس تحریر (ڈاکٹر عنیقہ ناز چلی گئیں) کے ذریعے یہ افسوسناک اور غم انگیز اطلاع ملی کہ:
ڈاکٹر عنیقہ ناز نے 22/اکتوبر 2012 بروز پیر ، اس دارِ فانی کو الوداع کہا۔
انا للہ وانا الیہ راجعون

پچھلے کچھ دنوں سے فیس بک پر ان سے چند موضوعات پر گفتگو جاری تھی اور جب دو تین دن کا تعطل آیا تو شبہ ہوا تھا کہ پتا نہیں کیا ہوا ہے کہ وہ کوئی جواب نہیں دے رہیں ۔۔۔ جبکہ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ انہوں نے کوئی گفتگو ادھوری چھوڑی ہو۔
لاکھ نظریاتی اختلافات سہی ، مگر اردو بلاگنگ کی وہ ایک نمائیندہ اور نامور شخصیت تھیں ۔۔ ہم اردو بلاگرز شاید کبھی ان کی شخصیت اور ان کی تحریروں کو فراموش نہ کر سکیں۔
حقیقتا یہ ایک المناک اور سوگوار واقعہ ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں انہیں مقام عطا کرے ، لواحقین کو صبر جمیل سے نوازے اور خاص طور پر ان کی دختر مشعل (جو میری چھوٹی لڑکی کی ہم عمر ہے) کو ماں کا غم سہنے کی ہمت عطا کرے۔

جنہیں ہوا کی رفاقت عزیز تھی ان کو
زمیں کے رشتوں سے منہ موڑتے ہی دیکھا ہے

الوداع عنیقہ ناز!
may God bless you

نفلی حج اور سعودی دارالافتاء کا فتویٰ


سوال:
کیا ہر سال حج کی خواہش رکھنے والوں کے لئے حج کرنا مستحسن ہے یا 3 برس میں ایک مرتبہ یا 2 سال میں ایک مرتبہ حج کرنا افضل ہے؟
جواب: (فتویٰ سعودی دارالافتاء)۔
اللہ تعالیٰ نے ہر صاحب استطاعت مسلم مرد و خاتون پر زندگی میں ایک مرتبہ حج فرض کیا ہے۔ ایک سے زیادہ مرتبہ حج نفلی ہوگا اور اللہ تعالیٰ سے تقرب کا ذریعہ ہوگا۔ نفلی حج کتنی مرتبہ کیا جائے اور کتنی مرتبہ نہ کیا جائے اس بارے میں کوئی صریح ہدایت نہیں۔ ایک سے زیادہ مرتبہ حج کا تعلق ہر شخص کی مالی حیثیت اور جسمانی صحت سے ہے۔ علاوہ ازیں رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے حالات پر بھی اس کا انحصار ہے۔ نیز امت مسلمہ کے مفادات عامہ کا بھی اس پر اثر پڑتا ہے۔ مفادات بدلتے رہتے ہیں۔ امت کے مفادات بدلتے رہتے ہیں۔ امت کے مفادات میں جانی اور مالی حصہ داری سے بھی اس کا تعلق ہے۔ ہر شخص کو اپنے حالات دیکھ کر از خود فیصلہ کرنا ہے کہ اسے انتہائی منافع بخش امر کو کم منافع بخش امر کے مقابلے میں ترجیح دینا ہے۔

(فتویٰ سعودی دارالافتاء۔ دستخط: شیخ عبدالعزیز بن باز، شیخ عبدالرزاق عفیفی، شیخ عبداللہ بن غدیان، شیخ عبداللہ بن قعود)۔
ممتاز عالم دین اور سابق مفتی اعلیٰ سعودی عرب علامہ عبدالعزیز بن باز کہتے ہیں ۔۔۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بار بار حج کا بڑا ثواب ہے تاہم حالیہ برسوں کے دوران ٹرانسپورٹ سہولت کی وجہ سے حج مقامات پر رش بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ دنیا بھر سے افراد بڑی تعداد میں حج کے لئے پہنچ رہے ہیں۔ امن و امان کا ماحول بھی حج پر آمادہ کر رہا ہے۔ یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ طواف اور عبادات کے مقامات پر مرد و زن کا اختلاط بھی بڑھ رہا ہے۔ بہت ساری خواتین آزمائش میں ڈالنے والے اسباب سے پرہیز نہیں کر رہیں۔ ہماری رائے یہ ہے کہ خواتین بار بار حج سے اجتناب کریں۔ یہی ان کے لئے زیادہ بہتر ہے۔ یہی ان کے دین کے لئے زیادہ تحفظ کا باعث ہے۔ یہی رائے مردوں کے لئے بھی ہے۔ اگر وہ دوسرے حاجیوں کو حج کا موقع مہیا کرنے اور اژدحام کرنے کی نیت سے ایک سے زیادہ بار حج نہ کریں تو بہتر ہوگا۔
ہمیں امید ہے کہ اگر نیک نیتی سے بار بار حج سے باز رہا جائے تو نیک نیتی کا اجر ضرور ملے گا۔ خاص طور پر ایسے افراد جن کے ساتھ ان کے ماتحت بھی حج پر جاتے ہوں اور ان کی وجہ سے طواف ، سعی اور رمی وغیرہ میں دیگر حجاج کو پریشانی لاحق ہوتی ہو ، بار بار حج سے اجتناب کریں۔
یاد رکھیں کہ اسلامی شریعت کے دو بنیادی اصول ہیں:
ایک تو اسلامی مفادات کا حصول ، اس کی تکمیل اور حتی الامکان اس کی نگہداشت میں مضمر ہے
جبکہ دوسرا اصول ہر طرح کے نقصانات اور برائیوں کے ازالے یا کمی کی کوشش میں مضمر ہے۔
امت مسلمہ کے علماء ، صلحا خصوصاً پیغمبروں کی تعلیمات کا دائرہ انہی دو اصولوں کے ارد گرد گھوم رہا ہے۔

ایک اور ممتاز سعودی عالم دین سلمان بن فہد العودۃ کہتے ہیں ۔۔۔
بہت سارے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ میرے تنہا حج پر جانے سے کسی کا کیا نقصان ہو جائے گا؟ ایک فرد کے اضافے سے آخر کون سی قیامت آ جائے گی؟ میں اگر نہیں گیا تو میرے نہ جانے سے اس کا کیا فائدہ ہو جائے گا؟
یہ عجیب و غریب قسم کی منطق ہے۔ یہ خودپرست ذہنیت کا پتا دیتی ہے۔ یہ احساس ذمہ داری کے فقدان کی نشاندہی کرتی ہے ۔۔۔ اگر ہر کوئی یہ عہد کر لے کہ وہ اپنے نفلی حج کا خرچ اپنے مسلم بھائیوں پر کر دے گا اور اس جگہ سے بھی دستبردار ہو جائے گا جو حج پر جانے کی صورت میں وہ منیٰ ، عرفات ، مزدلفہ ، خانہ کعبہ ، جمرات ، راستوں سواریوں میں حاصل کرتا ہے تو ہم حج میں دیکھا جانے والا رش کم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے ، حج کو آسان بنانے میں معاون بنیں گے۔
مسلمانوں کو اذیت ناک انجام سے بچانے اور مشاعر مقدسہ میں جان گنوانے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ حج پیکج کا صدقہ حج ایام میں بڑے اجر و ثواب کا کام ہوگا۔ علاوہ ازیں مسلم ممالک میں آنے والے زلزلوں ، قحط سالیوں اور دسیوں برس سے نہ ختم ہونے والی جنگوں نیز قدرتی آفات سے متاثرین کی مدد کا ثواب غیر معمولی ہوگا۔

اگر کچھ لوگ اس رقم (نفل حج) کے محتاج ہوں تو انہیں رقم دے دینا زیادہ افضل ہے۔ ابومسکین کا کہنا ہے کہ سلف الصالحین کی رائے تھی کہ بار بار حج سے صدقہ افضل ہے۔ یہی امام النخعی کا قول بھی ہے۔
حالیہ دنوں میں جبکہ حجاج کرام فرائض حج کی ادائیگی کے سلسلے میں ناواقفیت ، اژدحام اور بدنظمی وغیرہ کی وجہ سے مختلف مسائل سے دو چار ہیں ۔۔ ایسے حالات میں بار بار حج پر پابندی لازماً ہونی چاہئے۔
بشکریہ : اردو نیوز ، روشنی سپلیمنٹ ، 12/اکتوبر/2012ء
***
میرے عزیزو !
آؤ حج بیت اللہ ، عمرے اور مدینے کی زیارتوں کیلئے ۔ بار بار آؤ۔
لیکن اپنے شوقِ عبادت کو پورا کرنے کیلئے نہیں بلکہ اُس عظیم مقصد کو اپنی زندگی کا مقصد بنانے کے عزم کے ساتھ آؤ جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اِن عبادتوں کا حکم دیا ہے۔
مدینے والے (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اپنی جان و مال لٹا دینے کے دعوے کرنے والو آؤ اور مدینے والے (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ایک ایک فرمان کو پورا کرنے کیلئے اپنی جان لٹادینے کی قسم کھانے کو آؤ۔

اُن کا فرمان ہے کہ مسلمان سب کچھ ہو سکتا ہے جھوٹا نہیں ہو سکتا۔
اُن کا فرمان ہے کہ دوسرے کیلئے وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو۔
ان کا فرمان ہے کہ سچا تاجر قیامت کے روز انبیاء کے ساتھ اُٹھایا جائے گا۔
ان کا فرمان ہے کہ جس شخص کی کمائی میں ناجائز آمدنی کا ایک لقمہ بھی شامل ہو اُس کی دعائیں زمین سے ایک ہاتھ بھی اوپر نہیں اُٹھائی جائیں گی۔
اُن کا فرمان ہے کہ جو بندہ اوروں کی خدمت میں لگ جاتا ہے فرشتے اُس کے کاموں میں لگ جاتے ہیں۔

اگر مدینے والے صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعویٰ ہے تو اُن کے اِن فرامین کو اپنی زندگی کا مقصد بنانے کی قسم کھانے ایک بار آجاؤ اور پھر دیکھو کہ کیسے زمانے بھر میں انقلاب آتا ہے۔
ان شاء اللہ ! وہ انقلاب آئے گا کہ جب آپ اِس عمرے یا حج سے لوٹ کر جائیں گے تو آپ کا وجود ایک مکمل دعوت بن جائے گا جس کے نتیجے میں کروڑوں ہندو ، عیسائی اور دوسرے تمام باطل مذاہب کے ماننے والے عمرہ یا حج کرنے کی تمنّا کریں گے ان شاء اللہ۔
اور اگر اِس مقصد کے بغیر آنا چاہتے ہو تو یاد رکھو یہ فقط ایک مذہبی پکنک کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
اِس سے کہیں بہتر ہے کہ معاشرے کی فلاح کے کسی کام میں یہ پیسہ لگا دو تاکہ دوسرے انسانوں کی زندگی کو فائدہ پہنچے اور ان کی دعائیں آپ کی آخرت کا سامان بن جائیں۔

اللہ تعالٰی ہم تمام کو یہ نکات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے !!

کُند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغِ بے نیام
ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا

بشکریہ :
خدارا ! حج اور عُمرہ کو ایک مذہبی پکنک نہ بنائیے
نفل عمرے اور حج ادا کرنے والوں کے نام ایک کھلا خط
For Allah’s sake, Don’t make Haj and Umrah -A Holy Picnic
مصنف : علیم خان فلکی
مکمل مضمون پڑھئے : یہاں

پاکستان کی تعریف

کیا آپ نے ابن انشا کی "اردو کی آخری کتاب" پڑھی ۔۔۔۔ پرانی بات ہے پاشا ۔۔۔ اسی لہجے میں ذرا آج کے پاکستانی قلمکار سے خود پاکستان کی تاریخ ۔۔۔ ہممم ۔۔ ہمارا مطلب ہے پاکستان کی "تعریف" پڑھ لیں ۔۔۔
لطف نہ آئے تو پیسے پورے واپس !!
سنا ہے کہ انگریجی میں اس کو "black satire" کہتے ہیں ۔۔۔ جو بھی کہتے ہوں ۔۔ مگر قافلہ ویب سائیٹ (kafila.org) پر جب یہ تحریر رومن اردو میں شائع ہوئی تو یہاں سے وہاں تک دھوم مچ گئی ۔۔۔ آپ بھی ذرا اس تحریر کے تبصرے پڑھنے وقت نکالیں :
Pakistan ki Tareef: Haseeb Asif
مضمون نگار حسیب آصف صاحب اپنا بلاگ بنام "ابلیس" عرصہ دراز سے چلا رہے ہیں۔

خاکسار نے اس مضمون کو بڑی محنت سے اردو رسم الخط میں منتقل کیا ہے۔ لیجئے نوش فرمائیں ۔۔۔۔
اور ۔۔۔ اور ۔۔۔ دبرر عرض ہے کہ پاکستان کی یہ "تعریف" ایک پاکستانی ہی کے قلم کا کرشمہ ہے۔
رہے نام رب کا۔
***

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تاریخ ہندوستان سے بہت پرانی ہے۔ جب آٹھویں صدی میں محمد بن قاسم اسلام پھیلانے برصغیر تشریف لائے تو یہ جان کر شرمندہ ہوئے کہ یہاں تو پہلے ہی اسلامی ریاست موجود ہے۔
یہاں کفر کا جنم تو ہوا جلال الدین اکبر کے دور میں ، جو اسلام کو جھٹلا کر اپنا مذہب بنانے کو چل دیا، شاید "اللہ اکبر" کے لغوی معنی لے گیا تھا۔
بہرحال ، ان کافروں نے بت کشی اور مےکشی جیسے غیرمناسب کام شروع کر دئے اور اپنے آپ کو ہندو بلانے لگے۔ شراب کی آمد سے پاکستان کے مسلمانوں کی وہ طاقت نہ رہی جو تاریخ کے تسلسل سے ہونی چاہئے تھی۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ مسلمان شراب پینے لگ پڑے تھے ، بلکہ یہ کہ ان کی ساری قوتِ نفس شراب کو نہ پینے میں وقف ہو جاتی تھی ، حکمرانی کے لئے بچتا ہی کیا تھا؟
اس کے باوجود مسلمانوں نے مزید دو سو سال پاکستان پر راج کیا ، پھر کچھ دنوں کے لئے انگریزوں کی حکومت آ گئی (ہماری تفتیش کے مطابق یہی کوئی چالیس ہزار دن ہوں گے)۔

سن 1900 تک پاکستان کے مسلمانوں کی حالت ناساز ہو چکی تھی۔ اس دوران ایک اہم شخصیت ہماری خدمت میں حاضر ہوئی ، جس کا نام علامہ اقبال تھا۔
اقبال نے ہمیں دو قومی نظریہ دیا۔ یہ ان سے پہلے سید احمد خان نے بھی دیا تھا، مگر انہوں نے زیادہ دیا۔ اس نظریے کے مطابق پاکستان میں دو فریق قومیں موجود تھیں، ایک حکمرانی کے لائق مسلمان قوم اور ایک غلامی کے لائق ہندو قوم۔ ان دونوں کا آپس میں سمجھوتا ممکن نہیں تھا۔
سید احمد خان نے بھی مسلمانوں کے لئے ان تھک محنت کی ، مگر بیچ میں انگریز کے سامنے سر جھکا کر "سر" کا خطاب لے لیا۔ انگریزی تعلیم کی واہ واہ کرنے لگے۔
بھلا انگریزی سیکھنے سے کسی کو کیا فائدہ تھا؟ ہر ضروری چیز تو اردو میں تھی۔ غالب کی شاعری اردو میں تھی ، مراۃ العروس اردو میں تھی ، قرآن مجید کا ترجمہ اردو میں تھا۔
انگریزی میں کیا تھا؟ اردو لغت بھی انگریزی سے بڑی تھی۔ پرانی بھی۔ صحابہ کرام اردو بولتے تھے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) خود بھی۔ آپ نے اکثر حدیث سنی ہوگئی : "دین میں کوئی جبر نہیں"۔ یہ اردو نہیں تو کیا ہے؟

بہرحال ، اقبال سے متاثر ہو کر ایک گجراتی بیرسٹر نے انگریزوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کی تحریک شروع کر دی۔ اس تحریک کا قوم نے جوش اور ولولے کے ساتھ استقبال کیا۔
اس بیرسٹر کا نام محمد علی جناح عرف قائد اعظم تھا۔ انہوں نے پاکستان سے عام تعلیم حاصل کرنے کے بعد برطانیہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور بیرسٹر بن گئے۔
قائد اعظم کو بھی "سر" کا خطاب پیش کیا گیا تھا ، بلکہ ملکہ برطانیہ تو کہنے لگی کہ اب سے آپ ہمارے ملک میں رہیں گے، بلکہ ہمارے محل میں رہیں گے اور ہم کہیں کرائے پر گھر لے لیں گے۔ مگر قائد کی سانسیں تو پاکستان سے وابستہ تھیں، وہ اپنے ملک کو کیسے نظر انداز کر سکتے تھے؟

1934 میں قائد واپس آئے تو پاکستان کا سیاسی ماحول بدل چکا تھا۔ لوگ مایوسی میں مبتلا تھے۔ ادھر دوسری جنگ عظیم شروع ہونے والی تھی اور گاندھی جی نے اپنی فحش ننگ دھڑنگ مہم چلا رکھی تھی، کبھی اِدھر کپڑے اتارے بیٹھ جاتے تھے ، کبھی اُدھر۔
ساتھ ایک نہرو نامی ہندو اقبال کے دو قومی نظریے کا غلط مطلب نکال بیٹھا تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ نہرو بچپن سے ہی علیحدگی پسند تھا۔ گھر میں علیحدہ رہتا تھا، کھانا علیحدہ برتن میں کھاتا اور اپنے کھلونے بھی باقی بچوں سے علیحدہ رکھتا تھا۔
نہرو کا قائد اعظم کے ساتھ ویسے بھی مقابلہ تھا۔ پڑھائی لکھائی میں ، سیاست میں ، محلے کی لڑکیاں تاڑنے میں ، ظاہر ہے جیت ہمیشہ قائد کی ہوتی تھی۔ لاء کے پرچوں میں بھی ان کے نہرو سے زیادہ نمبر تھے ، مرنے میں بھی پہل انہوں نے ہی کی۔

آزادی قریب تھی ، مسلمانوں کا خواب سچا ہونے والا تھا، پھر نہرو نے اپنا پتا کھیلا۔ کہنے لگا کہ ہندوؤں کو الگ ملک چاہئے۔ یہ صلہ دیا انہوں نے اُس قوم کا ، جس نے انہیں جنم دیا ، پال پوس کر بڑا کیا ، ہماری بلی ہمیں کو میاؤں؟
نہرو کی سازش کے باعث جب 14 اگست 1947 کو انگریز یہاں سے لوٹ کر گئے تو پاکستان کے دو حصے کر گئے۔
علیحدگی کے فوراً بعد ہندوستان نے کشمیر پر قبضے کا اعلان کر دیا۔ دونوں ملکوں کے پٹواری فیتے لے کر پہنچ گئے۔ ہمسائے ممالک فطرت سے مجبور تماشا دیکھنے پہنچ گئے۔ خوب تو تو میں میں ہوئی ، گولیاں چلیں ، بہت سارے انسان زخمی ہوئے ، کچھ فوجی بھی۔

پھر ہندوؤں نے ایک اور بڑی سازش یہ کی ، کہ پاکستان سے جاتے ہوئے ہمارے دو تین دریا بھی ساتھ لے گئے۔ یہ پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا کہ بھائی ، چاہئے تو نہیں؟ کپڑے وغیرہ دھو لئے؟ بھینسوں نے نہا لیا؟
یہ معاملات ابھی تک نہیں سلجھے، اس لئے ان پر مزید بات کرنا بیکار ہے۔ تاریخ صرف وہ ہوتی ہے جو سلجھ چکی ہو، یا کم از کم دفن ہو چکی ہو۔ جس طرح کہ قائد اعظم آزادی کے دوسرے سال میں ہو گئے۔
وہ اُس سال ویسے ہی کچھ علیل تھے اور کیونکہ قوم کی بھرپور دعائیں ان کے ساتھ تھیں ، اس لئے جلد ہی وفات پا گئے۔

جناح کی وفات کے بعد بہت سارے لوگوں نے قائد بننے کی کوشش کی۔ ان میں پہلے لیاقت علی خان تھے۔ کیونکہ خان صاحب علیل نہیں ہو رہے تھے (اور ان کو تین سال کا موقع دیا گیا تھا اس آسان مشق کے لئے) لہذا ان کو 1951 میں خود ہی مارنا پڑا۔
پھر آئے خواجہ ناظم الدین۔ اب نام کا ناظم ہو اور عہدے کا وزیر ، یہ بات کس کو لبھاتی ہے؟ اس لئے چند ہی عرصے میں گورنر جنرل غلام محمد نے ان کی چھٹی کرا دی۔
جی ہاں ، پاکستان میں اس وقت صدر کے بجائے "گورنر جنرل" ہوتا تھا۔ آنے والے سالوں میں اختصار کی مناسبت سے یہ صرف "جنرل" رہ گیا، گورنر غائب ہو گیا۔
جنرل کا عہدہ پاکستان کا سب سے بڑا سیاسی عہدہ ہے۔ اس کے بعد کرنل ، میجر وغیرہ آتے ہیں، آخر میں وزیر مشیر آتی ہیں۔

پاکستان کی آزادی کے کئی سالوں تک کوئی ہمیں آئین نہ دے پایا۔ پھر جب اسکندر مرزا نے آئین نافذ کیا تو اس میں جرنلوں کو اپنا مقام پسند نہیں آیا۔ آئین اور اسکندر مرزا کو ایک ساتھ اٹھا کر پھینک دیا گیا۔
فیلڈ مارشل ایوب خان نے حکومت سنبھال لی۔ لڑکھڑا رہی تھی ، کسی نے تو سنبھالنی تھی۔ اس فیصلے کا قوم نے جوش اور ولولے کے ساتھ استقبال کیا۔
ایوب خان جمہوریت کو بےحال کرنے ، ہمارا مطلب ہے ، بحال کرنے آیا تھا۔ اصل میں جمہوریت قوم کی شرکت سے مضبوط نہیں ہوتی، عمارتوں اور دیواروں کی طرح سمنٹ سے مضبوط ہوتی ہے۔ فوجی سمنٹ سے۔ جی ہاں ، آپ بھی اپنی جمہوریت کے لئے فوجی سمنٹ کا آج ہی اتنخاب کریں۔
اس موقع پر شاعر نے کیا خوب کہا ہے : "فوجی سمنٹ : پائیدار ، لذت دار ، علمدار"۔

ایوب خان نے اپنے دور میں کچھ مخولیہ الیکشن کرائے تاکہ لوگ اچھی طرح ووٹ ڈالنا سیکھ لیں، اور جب اصل الیکشن کی باری آئے تو کوئی غلطی نہ ہو۔ مگر جب 1970 کے الیکشن ہوئے تو لوگوں نے پھر غلطی کر دی ، ایک فتنے کو ووٹ ڈال دئے ، جس پر آگے تفصیل میں بات ہوگی۔
ویسے ایوب خان کا دور ترقی کا دور بھی تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ پاکستان کو منزل مقصود تک پہنچائیں گے۔ مقصود کون تھا اور کس منزل میں رہتا تھا، یہ ہم نہیں جانتے ، مگر اس اعلان کا قوم نے جوش اور ولولے کے ساتھ استقبال کیا۔

1965 میں ہندوستان نے ہماری ملکیت میں دوبارہ ٹانگ اڑائی۔ جنگ کا بھی اعلان کر دیا۔ لیکن بےایمان ہونے کا پورا ثبوت دیا، ہمیں کشمیر کا کہہ کر خود لاہور پہنچ گئے۔ ہماری فوج وادیوں میں ٹھنڈ سے بےحال ہو گئی اور یہ اِدھر شالیمار باغ کی سیریں کرتے رہے۔
اس دغابازی کے خلاف ایوب خان نے اقوام متحدہ کو شکایت لگائی۔ وہ خفا ہوئے اور ہندوستان کو ایک کونے میں ہاتھ اوپر کر کے کھڑے ہونے کی سزا ملی، جیسا کہ ملنی چاہئے تھی۔ اس فیصلے کا بھی قوم نے جوش اور ولولے کے ساتھ استقبال کیا۔
مگر ہندو وہ جو باز نہ آئے۔ 1971 میں جب ہم سب کو علم ہوا کہ بنگالی بھی دراصل پاکستان کا حصہ ہیں ، تو ہندو اُدھر بھی حملہ آور ہو گئے۔
اب آپ خود بتائیں ، اتنی دور جا کر جنگ لڑنا کس کو بھاتا ہے؟ ہم نے چند ہزار فوجی بھیج دئے، اتنا کہہ کر کہ اگر دل کرے تو لڑ لینا ، ویسے مجبوری کوئی نہیں ہے۔
مگر ہندوؤں کو خلوص کون سکھائے؟ انہوں نے نہ صرف ہمارے فوجیوں کے ساتھ بدتمیزی کی بلکہ انہیں کئی سال تک واپس بھی نہیں آنے دیا۔ بنگال بھی ہم سے جدا کر دیا اور تشدد کے سچے الزامات بھی لگائے۔ آخر سچا الزام جھوٹے الزام سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے ، کیونکہ وہ ثابت بھی ہو سکتا ہے۔

اس کے بعد دنیا میں ہماری کافی بدنامی ہوئی۔ لوگ یہاں آنا پسند نہیں کرتے تھے۔ بلکہ ہمارے ہمسایا ممالک بھی کسی دوسرے براعظم میں جگہ تلاش کرنے لگے کہ ان کے پاس تو رہنا ہی فضول ہے۔
ایسے موقع پر ہمیں ایک مستقل مزاج اور دانشور لیڈر کی ضرورت تھی ، مگر ہمارے نصیب میں ذوالفقار علی بھٹو تھا، جی ہاں وہی فتنہ جس کا کچھ دیر پہلے ذکر ہوا تھا۔
بھٹو ایک چھوٹی سوچ کا چھوٹا آدمی تھا۔ اس کے خیال میں مسلمانوں کی تقدیر روٹی ، کپڑے اور مکان تک محدود تھی۔ اس کے پاکستان میں محلوں اور تختوں اور شہنشاہی کی جگہ نہیں تھی، ہماری اپنی تاریخ سے محروم کر دینا چاہتا تھا ہمیں۔
بھٹو سے پہلے ہم روس سے استعمال شدہ ہتھیار منگاتے ہوتے تھے۔ بھٹو نے روس سے استعمال شدہ نظریہ بھی مانگ لیا۔ لیکن استعمال شدہ چیزیں کم ہی چلتی ہیں ، نہ کبھی ہو ہتھیار چلے نہ نظریہ۔
تمام صنعتیں ضبط کر کے سرکاری کھاتے میں ڈال دی گئیں۔ سرمایہ کاری کی خوب آتما رولی گئی، اس کو مجازی طور پر دفنا کر اس کی مجازی قبر پر مجازی مجرے کئے گئے۔
لوگوں سے ان کی زمینیں چھین لی گئیں، وہ زمینیں بھی جو انہوں نے کسی اور کے نام لکھوائی ہوئی تھیں۔ یہ ظلمت نہیں تو اور کیا ہے؟

یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے تشویش ناک مرحلہ تھا۔ ایسے میں قومی سلامتی کے لئے آگے بڑھے حضرت جنرل ضیاءالحق (رحمۃ اللہ علیہ)۔
انہوں نے بھٹو سے حکومت چھین لی اور اس پر قاتل اور ملک دشمن ہونے کے الزامات لگا دئے۔ ضیاءالحق نے قانون کا احترام کرتے ہوئے بھٹو کو عدالت کا وقت ضائع نہیں کرنے دیا۔ بس الزام کی بنا پر ہی فیصلہ لے لیا اور بھٹو کو پھانسی دلوا دی۔ اس حرکت کا قوم نے جوش اور ولولے کے ساتھ استقبال کیا۔
حضرت ضیاءالحق پاکستانیوں کے لئے ایک نمونہ تھے، ہمارا مطلب ہے مثالی نمونہ۔ انہوں نے یہاں شریعت کا تعارف کرایا۔ حد کے قانون لگائے ، نشہ بندی کرائی۔ اس اقدام کا قوم نے جوش اور ولولے کے ساتھ استقبال کیا۔
ان کے دور میں ہماری فوج العظیم نے روس پر جنگی فتح حاصل کی۔ روس افغانستان میں جنگ لڑنے آیا تھا ، اس نے سوچا ہوگا کہ یہاں افغانیوں سے لڑائی ہوگی۔ یہ اس کی خام خیالی تھی۔
اس موقع پر شاعر نے کیا خوب کہا ہے ۔۔۔ "تیرا جوتا ہے جاپانی ، یہ بندوق انگلستانی ، سر پہ لال ٹوپی روسی ، پھر بھی جیت گئے پاکستانی"۔

آخر افسوس کہ اسلام کے اس مجاہد کے خلاف باہری طاقتیں سازش کر رہی تھیں۔ 1987 میں یہود و نصاریٰ نے ان کے جہاز میں سے انجن نکال کر پانی کا نلکا لگا دیا۔ اسلئے پرواز کے دوران آسمان سے گر پڑا اور ٹوٹ کے چور ہو گیا۔ ضیاءالحق بھی ٹوٹ کے چور ہو گئے اور پاکستان ٹوٹے بغیر چور ہو گیا کیونکہ حکومت میں واپس آ گیا بھٹو خاندان۔
جیسا باپ ، ویسی بیٹی۔ اختیار میں آتے ہی بےنظیر نے اس ملک کو وہ لوٹا ، وہ کھایا کہ جو لوگ ضیاءالحق کے دور میں بنگلوں میں رہائس پذیر تھے ، اب سڑکوں پر رلنے لگے۔

جلد ہی بےنظیر کو حکومت سے دھکیل دیا گیا اور اس کی جگہ بٹھا دیا گیا میاں محمد نواز شریف کو۔ لیکن میاں صاحب زیادہ دیر نہیں بیٹھ سکے، انہوں نے آگے کہیں جانا تھا شاید۔ اور کچھ عرصے بعد بےنظیر واپس آ گئی۔ بےنظیر کا دوسرا دورِ حکومت ملک کے لئے اور برا ثابت ہوا۔ لیکن یہ ابھی ثابت ہو ہی رہا تھا کہ ان کی حکومت کو پھر سے ختم کر دیا گیا۔ ایک مرتبہ دوبارہ نواز شریف کو لے آیا گیا۔ اس کٹ کھنے کا قوم نے جوش اور ولولے کے ساتھ استقبال کیا۔
ہاں نواز شریف نے اس دوران ایک اچھا کام ضرور کیا۔ وہ ہمیں ایٹمی ہتھیار دے گیا۔ اس کے ہوتے ہوئے ہمیں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ اس کے بل بوتے پر ہم دلی سے لے کر دلی کے ارد گرد کچھ بستیوں تک ، کہیں بھی حملہ کر سکتے تھے۔ اگر آپ کو بھی لوگ باتیں بناتے ہیں ، تنگ کرتے ہیں ، گھر پر ، کام پر ۔۔ تو ایٹمی ہتھیار بنا لیجئے۔ خود ہی باز آ جائیں گے۔

مگر یہ بات امریکہ کو پسند نہیں آئی اور نواز شریف ان کے ساتھ وہ تعلقات نہ رکھ پایا جو کہ ایک اسلامی ریاست کے ہونے چاہئے (مثلاً سعودیہ وغیرہ)۔ اوپر سے میاں صاحب نے کارگل آپریشن کی بھی مخالفت کی، حالانکہ ہم سے قسم اٹھوا لیں جو میاں صاحب کو پتا ہو کہ کارگل ہے کہاں؟
اس بزدلی کا سامنا کرنے اور پاکستان کو راہ راست پر لانے کا بوجھ اب ایک اور جنرل پرویز مشرف کے گلے پڑا۔ اور وہ اس آزمائش پر پورا اترے۔ انہوں نے آتے ساتھ ہی قوم کا دل اور خزانہ لوٹ لیا۔
پرویز مشرف کا دور بھی ترقی کا دور تھا۔ ملک میں باہر سے بہت سارا پیسہ آیا ، خاص کر امریکہ سے۔
امریکہ کو کسی اسامہ نامی آدمی کی تلاش تھی۔ ہم نے فوراً انہیں دعوت دی کہ پاکستان آ کر ڈھونڈ لیں ، یہاں ہر دوسرے آدمی کا نام اسامہ ہے۔ مشرف صاحب کا اپنا نام اسامہ پڑتے پڑتے رہ گیا تھا۔ مشرف صاحب کا دور انصاف کا دور تھا۔ کوئی نہیں کہتا تھا کہ انصاف نہیں مل رہا ، بلکہ کہتے تھے کہ اتنا انصاف مل رہا ہے کہ سمجھ نہیں آتا کہ اس کے ساتھ کریں کیا؟
مگر ان کے خلاف بھی سازشی کاروائی شروع تھی۔ ایک بھینگے جج نے شور ڈال دیا کہ انہوں نے قوم کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ قوم بھی ان کی باتوں میں آ کر سمجھنے لگی کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔

لوگ مشرف کو کہنے لگے کہ وردی اتار دو۔ اب بھلا یہ کیسی نازیبا درخواست ہے؟ ویسے بھی وردی تو وہ روز اتارتے تھے ، آخر ورد ی میں سوتے تک نہیں تھے۔ مگر لوگ مطمئن نہیں ہوئے ، وردی اتارنی پڑی۔ طاقت چھوڑنی پڑی۔ عام انتخابات کا اعلان کرنا پڑا۔
بےنظیر بھٹو صاحبہ ملک واپس آئیں لیکن صحت ٹھیک نہ ہونے کے باعث وہ اپنے اوپر جان لیوا حملہ برداشت نہ کر پائیں۔ سیاست میں جان لیوا حملے تو ہوتے رہتے ہیں ، مشرف صاحب نے خود بہت جھیلے ، ابھی تک زندہ ہیں ، یہی ان کی لیڈری کا ثبوت ہے۔
پھر بھی ان انتخابات میں جیت پیپلز پارٹی کی ہوئی۔ بےنظیر کی بیوہ آصف علی زرداری کو صدر منتخب کر دیا گیا۔ اس سے پارٹی میں بدلا کچھ نہیں ، فرق اتنا پڑا کہ بےنظیر صرف باپ کی تصویر لگا کر تقریب کرتی تھیں ، زرداری کو دو تصویریں لگانی پڑتی ہیں۔

اب پاکستان کے حالات پھر بگڑتے جا رہے ہیں۔ بجلی نہیں ہے ، گیس نہیں ہے ، امن و امان نہیں ہے، اقتدار میں لٹیرے بیٹھے ہوئے ہیں ، فوج پھر سے منتظر ہے کہ کب عوام پکارتے اور کب وہ آ کر معاشرے کی اصلاح کریں۔
اچھے خاصے لگے ہوئے مارشل لاء کے درمیان جب جمہوریت نافذ ہو جاتی ہے تو تمام نظام الٹا سیدھا ہو جاتا ہے۔ پچھلی اصلاح کا کوئی فائدہ نہیں رہتا، نئے سرے سے اصلاح کرنی پڑتی ہے۔
ابھی کچھ ہ روز پہلے ہی صدر زرداری دل کے دورے پر ملک سے باہر گئے تھے۔ پیچھے سے سابق کرکٹر عمران خان جلسے پہ جلسہ کر رہا ہے۔ لوگ کہتے ہیں عمران خان فوج کے ساتھ مل کر حکومت کو ہٹانا چاہتا ہے۔ لوگوں کے منہ میں گھی شکر۔
شاعر نے بھی عمران خان کے بارے میں کیا خوب کہا ہے ۔۔ "جب بھی کوئی وردی دیکھوں ، میرا دل دیوانہ بولے ، اولے اولے اولے"۔
امید رکھیں جیسا لوگ کہتے ہیں ویسا ہی ہو۔

اور اس کے ساتھ ہمارے مضمون کا وقت ختم ہوا چاہتا ہے۔ ہمیں یقین ہے اس بات کا قوم جوش اور ولولے کے ساتھ استقبال کرے گی۔
***



آج کا میڈیا

cartoonist: Subhani
لڑکی پر حملہ ؟ جاؤ صاب ، جا کے پہلے میڈیا کو بتاؤ یہ بات۔ اس کے بعد ہم میڈیا کی ویڈیو فوٹیج کے سہارے مجرمین کو پکڑ لیں گے!!

بشکریہ : کارٹونسٹ سبحانی

زندگی اور موت ۔ اوپر والے کے ہاتھ ہے جہاں پناہ

راجیش کھنہ
1942-2012زندگی اور موت ۔۔۔ اوپر والے کے ہاتھ ہے جہاں پناہ ، جسے نہ آپ بدل سکتے ہیں اور نہ میں !ہم سب تو رنگ منچ کی کٹھ پتلیاں ہیں ، جن کی ڈور اوپر والے کے ہاتھ بندھی ہے ، کب کون کیسے اٹھے گا ، یہ کوئی نہیں جانتا !!(مکالمہ : فلم "آنند" - 1971)
الوداع کاکا !
الوداع جتن کھنہ !
الوداع راجیش کھنہ !!

نام : جتن کھنہ
عرفیت : کاکا
فلمی نام : راجیش کھنہ
پیدائش : 29/دسمبر 1942ء
وفات : 18/جولائی 2012ء
جینے کی آرزو میں مرے جا رہے ہیں لوگ
مرنے کی آرزو میں جیے جا رہا ہوں میں

زندگی اور موت ۔۔۔ اوپر والے کے ہاتھ ہے جہاں پناہ
اسے نہ آپ بدل سکتے ہیں اور نہ میں !
ہم سب تو رنگ منچ کی کٹھ پتلیاں ہیں
جن کی ڈور اوپر والے کے ہاتھ بندھی ہے
کب کون کیسے اٹھے گا ، یہ کوئی نہیں جانتا !!

موت تو ایک کویتا ہے
مجھ سے اک کویتا کا وعدہ ہے ملے گی مجھ کو ۔۔۔

ڈوبتی نبضوں میں جب درد کو نیند آنے لگے
زرد سا چہرہ لیے چاند افق تک پہنچے
دن ابھی پانی میں ہو ، رات کنارے کے قریب
نہ ابھی اندھیرا ہو نہ اجالا ہو
نہ رات نہ دن
جسم جب ختم ہو اور روح کو سانس آئے

مجھ سے اک کویتا کا وعدہ ہے ملے گی مجھ کو ۔۔۔ !!!


یہ اردو جبان ہے پیارے ۔۔۔

ارے نئیں پاشا! کیا باتاں کرتے ہیں آپ بھی ۔۔۔ اتنا پرانے زمانے کی بھی بات نئیں ۔۔ ابھی کچھ پرسوں کی بات ہے ۔۔۔ بس یہی کوئی ہمارے نانا جان قبلہ کے اسکول کے زمانے کی ۔۔۔۔
فرماتے تھے کہ ۔۔۔۔۔
ہمارے اردو کے استاذ محترم بڑی ثقیل قسم کی اردو بولا کرتے تھے اور اپنے شاگردوں کو بھی نصیحت کرتے تھے کہ جب بھی بات کرنی ہو ۔۔ تشبیہات ، استعارات ، محاورات اور ضرب الامثال سے آراستہ پیراستہ اردو استعمال کیا کرو۔ خبردار جو عوامی قسم کی لچر زبان (جس کو آج ہمارے دور کے لونڈے "چلر زبان" کا لقب دیتے ہیں) استعمال میں لائی!

پھر ہمارے نانا جان مرحوم جو واقعہ سناتے تھے ۔۔ اتنی بار سنایا اتنی بار سنایا کہ ہمارا چھوٹا بھائی ، ان کے ایک جملے کے بعد والا دوسرا جملہ رٹ کر سنا دیا کرتا تھا۔۔۔ مگر مجال ہے کوئی ان کی پیشانی پر بل آیا ہو۔
اللہ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے قبلہ و کعبہ کو ۔۔۔ کیا اردو سکھائی کیا اردو سکھائی کہ جب عالمِ طیش میں ہمیں فرد مقابل کو کوسنا ہوتا تو ہمارے یار غار چلاتے تھے کہ :
اردو میں بول ، اردو میں بول !!

خیر جناب ، بات ہو رہی تھی ہمارے نانا جان کے اسکول کے ایک واقعے کی۔
تو ایک بار دوران تدریس ان کے وہی اردو کے استاذ محترم حقہ پی رہے تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے جو زور سے حقہ گڑگڑایا تو ناگاہ چلم سے ایک ننھی سی چنگاری اڑی اور استاد جی کی پگڑی پر جا پڑی۔
اب اس کے آگے ہمارے نانا جان قبلہ یوں فرمایا کرتے تھے ۔۔۔۔
" میری گناہ گار نظر بس اسی طرف تھی ، فوراً استاذ محترم سے اجازت حاصل کی اور مودبانہ لہجے میں بڑے ادب سے گویا ہوا :
حضور والا ! یہ بندۂ ناچیز ، حقیر پرتقسیر ایک روح فرسا حقیقت بہ اجازت جناب عالی ، حضور پرنور کے گوش گزار کرنے کی جسارتِ شاگردانہ ادا کر رہا ہے۔ اور وہ یہ کہ آپ لگ بھگ نصف گھنٹے سے حقِ حقہ نوشی فرما رہے ہیں۔ چند ثانیے قبل ایک شرارتی آتشی پتنگا آپ کی چلم سے بلند ہو کر چند لمحے ہوا میں ساکت رہا اور پھر آپ کی دستارِ فضیلت پر براجمان ہو گیا۔ اگر اس فتنۂ کم ظرف کی بروقت اور فی الفور سرکوبی نہ کی گئی تو اندیشہ ہے کہ حضور والا جاہی کی جان عزیز کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔"

اس قدر طویل انفارمیشن کی فراہمی کے بعد ۔۔۔ پھر کیا ہوا ۔۔۔۔؟
ناناجان نے تو نتیجے کے متعلق کبھی کچھ عرض نہیں فرمایا تھا ، صرف مسکرا دیا کرتے تھے۔
مگر ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ فصیح و بلیغ ادبی زبان کے اس مظاہرے کے اختتام پر استاذ محترم کی پگڑی اور سر کے بالوں کا کیا حشر نشر ہوا ہوگا !!

Pages