خرم ابن شبیر (دیا جلائے رکھنا)

10 منٹ )نکیال سیکٹر(

کچھ کہنے کے لیے کچھ سننا پڑتا ہے اور کچھ دیکھانے کے لیے کچھ دیکھنا پڑتا ہے۔ میں نے بھی کوٹلی کے حوالے سے بہت باتیں سن رکھی تھیں۔ کوٹلی آزاد کشمیر بہت خوبصورت شہر ہے۔ عرصہ ہوا یہ بات سنی ہوئی تھی لیکن کبھی دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ بس ایک بہانہ بنا کوٹلی جانے کا اور میں نے فوراََ سے تیاری پکڑ لی۔‏ابو نور سحر‏ کی تصویر

کوٹلی آزاد کشمیر کا ایک شہر ہے جو کہ میرپور سے دو سڑکوں کے ذریعے جڑا ہوا ہے۔ راولپنڈی سے کوٹلی کا فاصلہ 141 کلومیٹر ہے اور یہ کم سے کم چار سے پانچ گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ اس کا زیادہ تر علاقہ پہاڑی ہے اور یہی اس کی خوبصورتی بھی ہے۔ موسم تقریبن سرد ہی رہتا ہے لیکن تھوڑی سی گرمی بھی پڑتی ہے۔

کوٹلی پہنچ کر میں نے اپنے کزن عامر کو کہا کہ میں نے کوٹلی کی سیر کرنی ہے تو مجھے ساتھ لیے جانا۔ مہران ‏ابو نور سحر‏ کی تصویربھی ساتھ تیار ہو گیا اور ہم تینوں بائیک پر کوٹلی کی سیر کو نکل پڑے۔ کیا شاندار نظارہ تھا مختلف مقام  پر پہنچ کر ہم نے تصویریں بنائی اور ساتھ ساتھ انجوائے بھی کرتے رہے۔ اتنے میں مجھے خیال آیا کہ نکیال سیکٹرچلتے ہیں باڈر بھی دیکھ لیں گے۔ تو عامر نے بائیک کا روخ نکیال کی طرف کر دیا۔ شام کے 4 ہو رہے تھے اور مہران نے کہا بھائی آپ شام تک واپس آ جائے گے کیا تو اس پر عامر نے کہا چلو کسی سے پوچھلیتے ہیں کہ کتنا صرف رہ گیا ہے۔ ایک لڑکا وہاں فون پر بات کر رہا تھا ہم نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا بس 10 منٹ کا راستہ ہے آگے۔ ہم نے سوچا پھر تو آرام سے واپس آ جائے گے۔ ہم باتیں کرتے کرتے آگے کی طرف چلتے رہے تقریباََ 30 منٹ کے سفر کے بعد مہران نے کہا یہاں کسی اور سے بھی پوچھ لیں ایسا نا ہو اس لڑکے کو پتہ نا ہو ساتھ ہی ایک بزرگ جا رہے تھے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا بس دس منٹ کا راستہ ہو گا۔ پھر ہم آگے چلتے رہے چلتے چلتے پھر ہمیں 20 منٹ ہو گے تھے وہاں مدرسے کے بچے گزر رہے تھے میں نے بائیک روکنے کا کہا اور بچوں سے پوچھنے لگا کہ بیٹا نیکیال سیکٹر کتنی دور ہے تو انہوں نے کہا یہ جو سامنے آپ کو آبادی نظر آ رہی ہے یہ نکیال ہے وہاں سے آپ کسی سے پوچھ لیں تو آپ کو پتہ چل جائے گا۔ سامنے نظر آنے والی آبادی میں پہنچتے پہنچتے ہمیں مغرب ہوگئی وہاں ہم ایک ہوٹل میں کھانہ کھایا کیونکہ پورا دن ہم نے کھان‏ابو نور سحر‏ کی تصویرا نہیں کھایا تھا۔اور ہوٹل والے سے پوچھا محترم یہ نکیال سیکٹر کتنے دور ہے یہاں سے تو انہوں نے کہا بیٹا بس 10 منٹ کی مسافت پر ہے۔ ہم تینوں کی ہنسی نکل گئی۔ نجانے یہ دس منٹ کب ختم ہونگے ہم نے وہی سے اپنا ارادہ بدلہ اور اس کے بعد واپسی کا راستہ لیا اور تقریبان   7 بجے کے قریب گھر پہنچے۔ مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آئی کہ وہ کون سی گھڑی ہے جس کے 10 منٹ ختم ہی نہیں ہوتے

خرم ابن شبیر

6 مئی 2016 کے بعد

6 مئی 2016 کے بعد

بلاگ کے حوالے سے جب بھی مجھ سے کچھ پوچھتا ہے تو میں آنکھیں بند کرکے ایم بلال  بھائی کے حوالے کر دیتا ہوں۔ کیونکہ  یہی وہ ہستی ہے جس نے میری بلاگ کے حوالے سے بہت مدد کی بلکہ میرا بلاگ صرف اور صرف اسی ہستی کی وجہ سے ہی قائم  دائم ہے۔ مشکور ہونے کے بعد بہت سی غلطیاں  کوتاہیاں ہوئی  اقبالِ جرم کرتا ہوں۔ بعد اس تفصیل کے 6 مئی 2016 کے بعد حاصرِ خدمت ہوں۔ انتہا قسم کی مصروفیات اور کچھ مسائل کی وجہ سے ادھر کا رخ ہی کرنا نصیب نہیں ہوا۔ لکھنے لکھانے کا سلسلہ تقریباََ بند ہی ہو چکا تھا اور اپنی طرف سے بلاگ کو خدا حافظ بھی کہہ چکا تھا۔لیکن پھر وہی بات ایم بلال بھائی کی مہربانی سے بلاگ تو ابھی تک چل ہی رہا تھا لیکن اس پر کچھ نیا نہیں لکھا جا سکا تھا۔ کچھ حالات کی وجہ سے اور کچھ اپنی کوتاہی کی وجہ سے بلکل منظر سے غائب ہو جانے کے بعد کچھ کچھ فیس بک پر نظر آتا رہا ہوں۔ صورتِ حال یہ ہے کہ کچھ پیارے سٹوڈنٹ کی محبت اور چاہت کی وجہ سے پھر سے منظرِ عام پر آنے کا ارادہ کیا ہے اور اب یہ ارادہ کہاں تک ثابت قدم رہتا ہے اس کا اندازہ نہیں۔ اس وقت میں صرف اور صرف دو بڑے بڑے شکرئے ادا کرنے کے لیے حاضر ہوں اور اس کے بعد انشاءاللہ جیسا بھی لکھتا ہوں لکھنے کا سلسلہ پھر سے شروع کر رہا ہوں۔ پہلا شکریہ تو محترم ایم بلال ایم صاحب کا جن کی بدولت میں ابھی تک برقی افق  پر موجود ہوں اب انشاءاللہ چمکنا بھی شروع کر دوں گا۔ اور دوسرا شکریہ میرے ان سٹوڈنٹ بچوں کا ہے جنوں نے بہت محبت کے ساتھ میرے اس شوق کو پھر سے جلا بخشی ۔ فیس بک پر میرے حوالے سے ایک گروپ ” We Love Sir Khurram” بنا کر اس گروپ میں میری تصویریں، شاعری اور ویڈیو وغیرہ بھی شائع کی ہیں۔ اس پر میں اپنے تمام  سٹوڈنٹ کا بہت شکر گزار ہوں۔ اسامہ ستی، سجاد قاشقاری، حافظ اسرار، عاقب راجہ، حسین الرحمان، ہریرہ،  شاہین، ندا، نبا نور، اور ان کے علاوہ شعیب بھائی اور جن کے نام رہ گے ہیں ان سے معذرت کے ساتھ آپ سب کا بہت بہت شکریہ جس طرح آپ سب نے مجھے عزت بخشی ہے اللہ تعالیٰ آپ کو بھی عزت عطا فرمائے آمین

تم اگر ایسے ہو جاؤ نا؟

ہر جگہ میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ اچھے بھی بُرے بھی، صبر والے بھی، بے صبرے بھی، ہمیت والے بھی ، کم ہمیت والے بھی، غرز یہ کہ ہر جگہ میں ہر طرح کے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ لیکن اس بات کی گرنٹی ہے کہ اس وقت دنیا میں کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جس کو مکمل کہا جائے۔ ایک شخص کسی ایک قبیلے یا ملک کا ہیرو ہو گا تو وہی شخص کسی دوسرے ملک یا قبیلے کا دشمن ہو گا۔ ایک عادت مجھے اگر پسند ہے تو ممکن ہے کہ وہی عادت آپ کو بہت بُری لگتی ہو۔ خیر مختصر یہ کہ کوئی بھی شخص مکمل نہیں ہے۔ ہم خود بھی مکمل نہیں ہیں لیکن ہم دوسروں کو مکمل دیکھنا چاہتے ہیں۔ بلکہ یوں کہیں کہ ہم دوسروں کو اپنی مرضی کا دیکھنا چاہتے ہیں۔ کہ “تم اگر ایسے ہو جاؤ نا” تو تم جیسا کوئی نا ہومیرا تو خیال یہی ہے کہ اس دور میں کوئی بھی کسی جیسا نہیں ہے۔ ہر شیخص اپنی جگہ میں اہم ہیں۔ جیسے درزی کے کپڑے سیتا ہے، کسان کاشتکاری کرتا ہے۔ موجی جوتا بناتا ہے اسی طرح ہر شخص اپنی اپنی ذمہ داری نباتا ہے۔ تو پھر کیوں ہم لوگوں کو اپنی عینک سے دیکھنا چاہتے ہیں میرے بھائی یہ دینا ہے دینا۔ اس دنیا میں وہی کچھ ہو گا جو دنیا میں ہونا چاہتا ہے اپنی مرضی کرنی ہے تو اچھے اعمال کرو اچھی نیتوں کے ساتھ اور جنت میں چلے جاؤ وہاں جیسا چاہو گے ویسا ہو گا۔ لیکن یہ سب دنیا میں ممکن نہیں

خرم ابن شبیر

لذت آموز

سبق آموز کا اب دور نہیں رہا۔ ہوتا تھا کسی زمانے میں ہمارے استاد ہمیں کہانیاں سنایا کرتے تھے، کتابوں میں بھی ایسی کہانیاں موجود ہوتی تھی جس سے ہمیں سبق ملتا تھا اور نیک کام کرنے اور نیکی کرنے کا شوق پیدا ہوتا تھا۔ اچھے دن تھے نا اتنی بے حیائی تھی اور نا ہی اتنی بے ادبی تھی۔ بچے بڑوں کا اخترام کرتے تھے اور بڑے بھی بچوں کے ساتھ شفقت سے پیش آتے تھے۔ اساتذہ کا مرتبہ والدین سے بھی افضل تھا۔لیکن کیا ہوا اس زمانے کے بچوں کو، نا عزت کرنا آتی ہے اور نا ہی اخترام سے پیش آتے ہیں۔ بزرگوں کو تو بے کار سمجھا جانے لگا ہے۔ شاہد اس کی وجہ یہی ہے کہ کہانیوں اور ڈراموں نے اپنا راستہ بدل لیا ہے پہلے ان کا اختتام سبق آموز ہوا کرتا تھا لیکن اب تو ڈرامہ ہو یا کہانی، حقیقت ہو یا افسانہ، بے حیائی ہی بے حیائی ہے۔ اور اوپر سے ریٹنگ کے چکر میں کچھ ایسا دیکھانے یا پڑھانے کا رجحان بن چکا ہے کہ اب سبق آموز کی جگہ لذت آموز ہی  چیزیں نظر آتی ہے۔ اشتہارات ہوں یا کہانیاں ڈرامے ہوں یا حقیقت ہر جگہ میں ایسا کچھ دیکھایا جا رہا ہے کہ جیسا کچھ نہیں دیکھانا چاہے۔ لڑکیاں آزادی کے چکر میں قید ہوتی جا رہی ہیں جس کا اندازہ ان کو بعد میں لگے گا۔ لڑکے اپنے آپ کو پتہ نہیں کیا افلاطوں سمجھنے لگے ہیں کہ ویڈیو بنا نا کر محبت کا اظہار کرتے ہیں اور اظہار بھی ایسا واحیات کے بس

مجھے تو لگتا ہےمنٹو کی سوچ تو نہیں اجاگر ہوئی لیکن منٹو کی تحریر اجاگر ہو گئی ہے

میری کتاب کی تیاریاں

ایک بہت پرانی تحریر میری کتاب کی تیاریاں

میں جب گھر میں داخل ہوا تو گھر میں رونق لگی ہوئی تھی شاہد میری ہی کوئی بات چل رہی تھی۔ کیونکہ میرے اندر آتے ہی یاسر نے کہا

“لو جی شاعر صاحب آ گے ہیں”

یاسر میرا کزن ہے بہت ہی ہنس مکھ ہے اور اس کا ساتھ ہمیشہ عمر دیا کرتا ہے عمر میرا چھوٹا بھائی ہے ان دونوں کی جوڑی مشہور ہے کسی کو آگے نہیں نکلنے دیتے۔ آج بھی دونوں ایک ساتھ ہی بیٹھے ہوئے تھے مجھے لگا کوئی نیا ڈرامہ شروع ہے میرے خلاف لیکن جب ابو جی اور چچا جی کو بھی ساتھ بیٹھے دیکھا تو کچھ سکون ہوا مجھے کیا پتہ تھا آج سب ہی تماشائی بنے ہوئے ہیں۔یاسر پھر بولا

” جی جی خرم شہزاد خرم صاحب یہاں آئیں آپ چچا کے ساتھ بیٹھے بہت ضروری بات کرنی ہے آپ سے”

سب بہت سنجیدہ تھے لیکن مجھے دال میں کچھ کالا لگ رہا تھا جب یہ دونوں بہت سنجیدہ ہوتے تھے تو مجھے ضروری نشانہ بناتے تھے اور آج بھی مجھے اسی طرح کے نشانے کا انتظار تھا۔ اتنے میں عمر بولا

“یار کہاں تھے تم تمہاری ہی باتیں ہو رہی تھی آج ہم نے تمہاری خاطر ایک پروگرام بنایا ہے”

میں حیران ہو کربولا

“کیا”

کہنے لگا

“پہلے تم بتاؤ تمہاری شاعری کتنی ہے میرا مطلب ہے غزلیں اور نظمیں کتنی ہیں”

مجھے پھر ایسا لگا جیسے میرے ساتھ کوئی بہت بڑا مذاق ہونے والا ہے اس لیے میں نے بات ہنسی میں ٹال دی۔ لیکن وہ دونوں بھی بہت تیز تھے انھوں نے اب کے بہت بڑا شکار کیا تھا اور اس شکار میں ابو جی اور چچا جی بھی شامل تھے۔ لیکن میں ان پر شک نہیں کر سکتا تھا ویسے تو سب ہی میرے ساتھ مذاق کرتے تھے لیکن سنجیدہ ہو کر کبھی مذاق نہیں کیا یہ پہلا واقعہ تھا

“یار خرم کبھی تو سنجیدہ ہو جایا کرو بتاؤ نا تمہاری شاعری کتنی ہے”

جو کبھی خود سنجیدہ نہیں ہوئے وہ مجھے سنجیدہ ہونے کا کہہ رہے تھے میں سمجھنے سے قاصر تھا خیر پھر بھی سنجیدہ ہوا اور بولا

“کچھ تیس چالیس کے قریب ہونگی غزلیں اور نظمیں ”

پھر یاسر بولا

“کتاب شائع کرنے کے لیے کتنی شاعری کی ضرورت ہے”

میں ہنس کر بولا خیر ہے آج بڑے سنجیدہ ہو

تو یاسر نے عمر کی طرف دیکھا اور پھر عمر بولا

” یار میں آج چچا سے بات کر رہا تھا کہ تمہاری غزلیں اور نظمیں اخبار میں آتی ہیں کیوں نا تمہاری کتاب شائع کریں ہمارے خاندان میں بھی کوئی شاعر نازل ہو ہم بھی کہہ سکیں کے ہمارا بھائی شاعری ہے”

اتنے میں چچا نے پوچھا

کتنے پیسے لگ جاتے ہیں کتاب شائع کروانے میں

جب چچا بولے تو میں سنجیدہ ہو گیا اور کہا چچا جی کتاب شائع کروانا مشکل کام نہیں ہے لیکن مجھے ابھی اساتذہ کی طرف سے اجازت نہیں ہے

خیر کچھ دیر ہماری آپس میں گفتگو ہوئی اور پھر آخر میں یاسر اور عمر نے فیصلہ کیا۔

” ہم مل کر خرم کی کتاب شائع کریں گے ہم نے آج سارا دن اسی پر سرچ کیا ہے اور سروے بھی کیا ہے میری دو تین ڈیلروں سے بات بھی ہوئی ہے وہ خرم کی کتاب ہاتھوں ہاتھ لیں گے ہمیں بہت فائدہ ہوگا”

میں حیران ہو کر ان دونوں کی طرف دیکھنے لگا

چچا کے چہرے پر کچھ مسکراہٹ آ گی اور میرا شک یقین میں بدل گیا مجھے یقین ہو گیا یہ کوئی بڑا ڈرامہ ہے

اور پر آخر میں عمر اور یاسر نے کہا ہماری بات ہوئی ہے صوفی سموسے والے کے ساتھ اور چچا مشتاق کے ساتھ

وہ آپ کی کتابیں ہاتھوں ہاتھ لیں گے

صوفی سموسے والے انکل تمہاری کتاب کے صفحوں کے اوپر سموسے پکوڑے رکھ کر سیل کریں گے اور چچا مشتاق اپنی دوکان کے لیے لفافے بنائیں گے

خرم ابن شبیر

پرفیوم، باڈی سپرے کی فروخت جاری ہے

بہت عرصہ یہاں سے غائب رہنے کی بہت ساری وجوہات ہیں۔ جن میں سے ایک وجہ انتہائی مصروفیت تھی۔ باقی وجوہات یہاں بیان کرنا ممکن نہیں۔ باقی تفصیل کو چھوڑ کر سیدھا اصل بات کی طرف آتا ہوں۔ اللہ کے کرم سے اور اپنوں کی مہربانی سے ایک نئے کاروبار کا آغاز کیا ہے۔ اور اب زیادہ توجہ کاروبار پر دوں گا ویسے تو کاروبار بہت چھوٹے پیمانے پر شروع کیا ہے لیکن مجھے امید ہے کہ میری ہمیت ، محبت اور لگن اس کو بڑے پیمانے پر لے جائے گی۔ اس وقت میرے پاس ARQUS پرفیوم ہیں

جس کے 9 ویرینٹ (خوشبو) ہمارے پاس موجود ہیں جیسے جیسے کام بڑتا جائے گا اسکے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جائے گا اس کے علاوہ ہمارے پاس ACTIVE کے باڈی سپرے، پرفیوم ،ائیرفرشنر اور اس کی مختلف پروڈکٹس بھی موجود ہیں اللہ کے کرم سے اس کا آغاز ہو جکا ہے اور باقی میری اپنی محنت اس میں شامل ہوگی اور جتنی محنت شامل ہو گی اتنا ہی اس میں اضافہ ہوتا جائے گا۔
ابو ظہبی سے واپس آنے کے بعد کسی بھی طرح کا یہ میرا ایک اہم فیصلہ ہو گا جو میں نے 90 فیصد اپنےقوتِ بازو پر کیا ہے اور مجھے اپنے آپ پر یقین ہے کہ انشاءاللہ میں اس میں ضرور کامیاب ہو جاؤ

ں گا۔ آپ سب سے دعاؤں کی درخواست ہے

خریدوفروخت کے لیے ہول سیل اور رٹیل کے لیے رابطہ کیا جا سکتا ہے

اس کے علاوہ RSASI, ARMAF, ARIS, ALREHAB, R&R ,STYLE پرفیوم باڈی سپرے وغیروہ بھی مل سکتے ہیں لیکن میرا اپنا کام ARQUS اور ACTIVE کا ہے

03335386757

خرم شہزاد

خود اعتمادی، ہمت اور یقین

خود اعتمادی، ہمت اور یقین
بائیک چلاتے ہوئے میری نظر ایک سفید چھڑی والے صاحب پر پڑی جو بڑے اطمنان کے ساتھ سٹاپ پر کھڑے تھے۔ میں اپنی مستی میں جا رہا تھا اور صاحب کو دیکھ کر سوچ رہا تھاکہ سفید چھڑی تو نابینا حضرت کے پاس ہوتی ہے اور یہ نابینا ہی ہونگے۔ اس دوران میرے ذہن میں خیال آتا ہے شاہد یہ صاحب سڑک پار کرنا چاہتے ہو ۔ میرے دماغ میں ایک چھوٹی سی فلم چلتی ہے کہ یہ نابینا حضرات کیسے زندگی گزارتے ہونگے۔ پتہ نہیں یہ کتنی دیر تک یہاں کھڑے رہے گے کون ان کو سڑک پار کروائے گا۔ پتہ نہیں کیا ہوتا ہے اچانک میں موٹرسائیکل کو روکتا ہوں واپس آتا ہوں اور آ کر نابینا صاحب سے سلام کرتا ہوں اور پوچھتا ہوں ” سر آپ نے کہاں جانا ہے” تو وہ بتاتے ہیں 21″ نمبر گاڑی کا انتظار کر رہا ہوں” میں سڑک کے دوسری طرف دیکھتا ہوں تو 21 نمبر گاڑی بھی سٹاپ پر ابھی ابھی رکھی ہوتی ہے اور سواری اتار کر چلنے والی ہوتی ہے کہ میں اس کو اشارہ دیتا ہوں اور پھر نابینا صاحب اس پر سوار ہوتے ہیں اور چل پڑتے ہیں۔ (خدا کے کام خدا ہی جانے)میں سارے راستے پھر یہی سوچتا رہتا ہوں۔ کہ اللہ تعالیٰ نے کیسا سبب کیا کہ وہ صاحب اپنی منزل کی طرف روانا ہوگے ہیں۔ اس طرح کے بے شمار نابینا حضرات روز گھروں سے نکلتے ہونگے۔ کام پر جاتے ہونگے یا کسی اور مقصد کے لیے نکلتے ہونگے اور روز گھر واپس بھی پہنچتے ہونگے۔ ان کی ہمت ان کی جرت اور ان کی حد اعتمادی اور اللہ پر یقین ہی ہے جو ان کو روز منزل ِ مقصود پر پہنچا دیتا ہے۔ اس سارے واقعہ کو ذہن میں رکھا جائے تو یہ باتیں سمجھ آتی ہیں کہ دنیا میں کوئی کام ناممکن نہیں ہے مشکل ضرور ہے لیکن ہمت اور لگن سے ہر کام کیا جا سکتا ہے۔ ہم کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اکثر یہ سوچتے ہیں کہ یہ بہت مشکل ہے، یہ مجھ سے نہیں ہو گا، اس کے لیے پیسے کہاں سے آئے گے، فلاح فلاح ۔ لیکن جب بندہ ایک فیصلہ کر لیے اور اس پر قائم رہے اور اس پر اپنی توجہ مرکوز کرے اور لگن کے ساتھ کام کرے تو میرے خیال میں دنیا کا کوئی کام نہیں جو انسان کے لیے مشکل ہو۔ جب ایک نابینا جو دنیا کو دیکھ نہیں سکتا لیکن اس کے باوجود دنیا کے نظام کے ساتھ چل رہا ہے تو پھر ہم آنکھوں والوں کے لیے کیا مشکل ہے۔

سپاہی ہو تو کیسا ہو

سپاہی مقبول کے بارے میں سنا تھا لیکن تفصیل کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ آج ہی [USER=5581]حسیب نذیر گِل[/USER] بھائی کا تھریڈ “آئیے ایسے غازیوں کو سلام کرتے ہیں”

آنکھوں سے آنسوں نکل آئے اور سوچا میں بھی کچھ لکھوں۔ لیکن پہلے ہی میرے منہ سے یہ مصرعہ نکلا کہ ” مرے الفاظ کیا دیں گے” کہ اتنی عظیم ہستی کے لیے میرے یہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ کیا تحفہ ہوں گے لیکن جو لکھا وہ عطائی ہے اپنے پاس سے کچھ نہیں لکھا قبول ہو۔

 

مرے الفاظ کیا دیں گے۔

مری اوقات کتنی ہے

میں کیسے کچھ لکھوں تجھ پر

میں کیسے کچھ کہوں تجھ پر

ترا تو نام اونچا ہے

ترا ہر کام اونچا ہے

جہاں تک آنکھ جاتی ہے

جہاں تک کان سنتے ہیں

ترا چہرہ دیکھائی دے

تری ہی بات سنتے ہیں

مرا پرجم فلک تک ہے

مرا نغمہ فضاؤں تک

میں پاکستان خوش قسمت

مرا مقبول زندہ ہے

سپاہی ہو تو کیسا ہو

مرے مقبول جیسا ہو

بلاگرز ہوشیار

بلاگر ہونے کے ناطے ہمیں اپنی تحریریں اپنے بلاگ پر لکھنی چاہے اور فیس بک پر صرف اس کی تشہیر کرنی چاہے محترم مجھ میں اتنی ہمت ہے کہ میں دوسرے کے منہ پر اس کو غلط کہہ سکوں اگر وہ غلط ہے تو اور اتنی ہمت بھی ہے کہ میں اپنی غلطی تسلیم کر سکوں۔ مجھے بلاگ لکھتے ہوئے سات سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے۔ بے شک میں کوئی اتنا معیاری نہیں لکھتا، بے شک میری تحریروں میں جان نہیں ہوتی لیکن ایک بات ہے کہ یہ میری ہی تحریریں ہوتی ہیں اور جس چیز کو میں منتخب کرتا ہوں تو اس کے ساتھ اتنخاب لکھتا ہوں۔ ہمارے بہت سے بلاگر دوست ایسے ہیں جو دل سے مخلص ہیں اور میری جتنوں سے بات یا ملاقات ہوئی ہے وہ سب کے سب ہی ویسے ہی ہیں جیسی وہ تحریریں لکھتے ہیں۔ لوگوں کو شاہد ایسا لگتا ہے کہ میں بہت ذیادہ بے وقوف ہوں جس طرف لگایا جاؤں گا اس طرف لگ جاؤں گا۔ سادہ ضرور ہوں لیکن بے وقوف نہیں ہوں۔ جو لوگ مجھے استعمال کر لیتے ہیں یا جن کے لیے میں استعمال ہو جاتا ہوں ، وہ صرف اور صرف ان کی محبت کی وجہ سے اور ان کو میں جانتا ہوں اس لیے ان کی کہنے پر دن کو دن اور رات کو رات کہتا ہوں۔ جو لوگ انتشار پھیلانے والے ہیں، جو لوگ شکوک پیدا کرنے والے ہیں یا جو لوگ ورغلانے والے ہیں وہ اپنے ذہن میں یہ بات ڈال لیں کے بلاگرز ایک فیملی کی طرح ہیں اور فیملی میں چھوٹے موٹے مسائل ہو جاتے ہیں لیکن ان کو حل کر لیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو کبھی بھی آپ کے بُرے مقصد میں کامیاب نہیں کرے گا۔ محترم بلاگرز ہماری صفوں میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو یہ نہیں چاہتے کہ ہم اتفاق سے رہیں۔ کبھی یہ خبر آتی ہے کہ بلاگر ز کو خرید لیا گیا ہے، یا خریدہ جا سکتا ہے، یہ باتیں کرنے کے بعد جب بھی کوئی بڑا کام ہوتا ہے جیسے لاہور کی کانفرنس ہوئی اور جیسے کراچی کی کانفرنس ہوئی ان دونوں بڑے کاموں کے بعد کچھ لوگوں نے اختلاف کیا۔ جن لوگوں نے اختلاف کیا میں ان کو سلام کرتا ہوں کہ انہوں نے جو کچھ کہا منہ پر کہا اور اپنے اصلی آئی ڈیز سے کہا لیکن کچھ لوگوں نے غلط فہمی ڈالنے کی کوشش کی جو کے ابھی تک ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام بلاگرز کو ان کی نیت کے مطابق کامیاب کرے آمین۔ آخر میں ایک بات کہوں گا کہ میرا خیال ہے کہ بلاگرز کی یونین بنا ہی لینی چاہے ورنہ اس طرح کے مسائل سامنے آتے رہیں گے۔

پاکستان میں کرکٹ الحمداللہ

کچھ لوگ تو اس بات کی خوشی منا رہے ہیں کہ رات والے میچ میں پاکستان زمبابوے سے جیت گیا ہے۔ لیے میرے خیال میں یہ  سارے میچ پاکستان جیتے یا زمبابوے جیتے مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں مجھے تو خوشی اس بات کی ہے کہ پاکستان میں چھ سال کے بعد کرکٹ کھیلی جا رہی ہے۔ اللہ کا شکر ہے پاکستان میں کرکٹ واپس آئی ہے۔

میں زمبابوے ٹیم کا ، ان کے بورڈ کا، ان کی حکومت کا اور ان کی عوام کا بہت شکریہ ادا کرتا ہوں جہوں نے پاکستان کا اس مشکل وقت میں ساتھ دیا۔ رات دیکھنے کی اتنی خوشی ہورہی تھی کہ میں جب چھکا لگتا تھا تو تب بھی خوش ہوتا تھا اور جب کوئی کھلاڑی آؤٹ ہوتا تھا تب بھی خوش ہوتا تھا۔ بہت مزہ آیا میچ دیکھ کر

اللہ تعالیٰ پاکستان کو سلامت رکھے اور پاکستان میں بسنے والے پاکستانیوں کو اور پاکستان سے باہر بسنے والے پاکستانیوں کو بھی سلامت رکھے اور ان کے دل میں پاکستان کی عزت قائم رکھے آمین

دولت کا عشق

میرے اس کے ساتھ نجائز تعلقات تھے۔ لیکن پہل اس کی طرف سے تھی وہ خوبصورت تھی اور مجھے خود اپنی طرف مائل کر رہی تھی اس لیے میں اس کی طرف مائل ہو گیا۔

“کیا وجہ تھی وہ تمہارے ساتھ نجائز تعلق کیوں رکھنا چاہتی تھی”

“یہ ایک لمبی کہانی ہے ”

“اور یہ لمبی کہانی میں سننا چاہتا ہوں کیونکہ اس کہانی نے میرے ایک قریبی دوست کو بھی لپٹ میں لے لیا ہے اور وہ تمہاری وجہ سے ہوا ہے مجھے کہانی سناؤ تاکہ میں اپنے دوست کے لیے کوئی درمیانہ راستہ نکالوں”

“جی ہاں آپ کا دوست بھی میری وجہ سے ہی اس میں شامل ہو گیا ہے، اس کی کوئی غلطی نہیں ہے لیکن میں کسی کو بتا نہیں سکتا تھا کہ یہ کام میں نے کیا ہے”

“چلو ٹھیک ہے اب تو پوری بات بتا سکتے ہو نا چلو پھر سناو کیا ہوا تھا”

میری نظر میں وہ بہت شریف لڑکی تھی، کسی کے ساتھ کسی بھی طرح کی کوئی فضول بات نہیں کرتی تھی اپنے کام سے کام رکھتی اور چلی جاتی۔ وہ مجھ سے بات تو عام روٹین کی کرتی تھی لیکن اس کی آنکھیں کچھ اور ہی کہتی تھی۔ جو میں نا سمجھ سکا تھا اور نا سمجھنا چاہتا تھا، کیونکہ اس نے کبھی مجھ سے اس طرح کی بات نہیں کی تھی۔ لیکن ایک دن جب ہم دونوں ابھی اکیلے ہی تھی باقی لڑکیاں اور لڑکے نہیں آئے ہوئے تھے تو مجھے اس کی نظروں سے ایسا لگا کہ جیسے وہ مجھے اپنے قریب آنے کی دعوت دے رہی ہو۔اس وقت وہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا تو میں نے اپنے اندازے کو چیک کرنے کے لیے باتوں باتوں میں اس کو کہا کہ “آج تو تم بہت ہاٹ لگ رہی ہو” اور ساتھ ہی اس کے گال کھینچے۔

مجھے اس کے ری ایکشن کا انتظار ہی نہیں کرنا پڑا اس نے فوراََ ہی جواب دیا کہ “تم بھی کچھ کم نہیں ہو” اور وہی حرکت کی جو میں نے اس کے گالوں کے ساتھ کی تھی۔ بس پھر کیا تھا مجھے اس کی طرف سے گرین سگنل مل گیا اور میں نے پھر اس کے ساتھ اس کے مطابق چلنا شروع کر دیا اور پھر وہی سب کچھ ہونے لگا جو تنہائی میں کیا جاتا ہے۔

پھر ایک دن اس نے مجھے بتایا “جس کے ساتھ اس کی شادی ہوئی ہے وہ اس کا رشتہ دار نہیں ہے اور ہماری شادی کوٹ میں ہوئی تھی۔ وہ لڑکا بہت امیر ہے اس نے گھر والوں سے چھپ کر شادی کی ہے۔ میری ساری فیملی کو یہ بات پتہ ہے لیکن اس کی فیملی کو یہ بات نہیں پتہ ہے۔ میں چاہتی ہوں اس کے گھر والوں کو کوئی بتا دے کیا تم میری مدد کرو گے۔” میں نے کہا “کس طرح کی مدد”

تو کہنے لگی ” میں تمہیں اس کے ابو کا نمبر دوں گی تم اس کے ابو کو کال کر کے بتا دینا ” میں نے پوچھا” تم ایسا کیوں کرنا چاہتی ہو” تو اس نے ایک اور بات سنا دی کہنے لگی” میں ایک اور لڑکے کو پسند کرتی ہوں اور میں اس سے طلاق لینا چاہتی ہوں لیکن اگر میں خود طلاق لوں گی تو پھر وہ مجھے کچھ نہیں دے گا میں چاہتی ہوں اس کے باپ کو پتہ چل جائے اور میرا نام بھی نا آئے پھر اس کا باپ یا تو مجھے اس کے ساتھ رہنے دے گا یا پھر اپنے بیٹے کو کہہ گا کہ مجھے طلاق دے دے تو پھر میں پیسوں کی ڈمانڈ کروں گی اور اس کو چھوڑ کر چلی جاؤں گی”

تو میں نے کہا ” مجھے کیا ملے گا” تو کہنے لگی تمہیں میں اپنے جسم پر پورا حق دے دوں گی تم جو مرضی کرنا”

میں اس کے لیے تیار ہو گیا مجھے پتہ تھا یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے اس لیے میں نے تمہارے دوست کے نمبر سے اس کے باپ کو کال کر دی۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ وہ لڑکا نمبر ٹریس کر لیے گا اور تمہارے دوست کا نام بھی آ جائے گا۔

“مجھے تمہاری باتیں سن کر بہت افسوس ہو رہا ہے او بے وقوف جو لڑکی اپنے شوہر کو دولت کی خاطر چھوڑ سکتی ہے وہ تمہیں نہیں چھوڑ سکتی کیا”

مجھے لگتا ہے کہ میں اپنے راستے سے ہٹ گیا ہوں

میرا پیغام محبت تھا جہاں تک پہنچے

کچھ عرصہ پہلے میں بھی بہت نیک بننے کی کوشش کرتا تھا۔ اچھا کرنے والوں کے ساتھ اچھا اور بُرا کرنے والوں کے ساتھ بھی اچھا کرتا تھا لیکن اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی کچھ پا نہیں سکا۔ کہتے ہیں اولادایسی چیز ہے جس کی وجہ سے انسان غلط کام کرنے پر بھی مجبور ہو جاتا ہے۔ اللہ کا کرم ہے میں ابھی یہاں تک نہیں پہنچا ہوں لیکن مجھے لگتا ہے کہ میں اپنے راستے سے ہٹ گیا ہوں کیونکہ اب میں صرف اور صرف اپنی اولاد کے بارے میں سوچتا ہوں دوسرا کیا سوچے گا یا دوسرا کیا کر رہا ہے یہ نہیں سوچتا۔

اب جو کچھ بھی کرتا ہوں اپنے بچوں کے لیے اور جو کچھ لاتا ہوں اپنے بچوں کے لیے بس کیا میں غلط کرتا ہوں

بابا اب آپ کو نہیں لگے گئی

سنتے آئے ہیں کہ بیٹیاں والدین میں سے والد کے ساتھ زیادہ محبت کرتی ہیں۔اور یہ سب کچھ دیکھا بھی ہے لیکن محسوس کرنا اب شروع کیا ہے۔ جب میں گھر پہنچتا ہوں تو میری بڑی بیٹی نورِ سحر مجھے گلے لگا کر پیار دیتی ہے۔ اسی حوالے سے ایک بات جو کل پیش آئی اس پر تو مجھے نورِ سحر پر اتنا پیار آیا کہ بس دل کرے اللہ تعالیٰ مجھے اتنی طاقت دے میں نورِ سحر کے لیے اس کی خوشی کے لیے ہر وہ چیز لا دوں جس کی وہ خواہش کرے۔

کل میں نورِ سحر کو موٹر سائیکل پر گرونڈ لے گیا۔ کل اتوار تھا اس لیے بہت سے بچے بڑے کرکٹ کھل رہے تھے۔ میں نے نورِ سحر کو آگے بیٹھایا ہوا تھا اوربہت احتیاط سے موٹر سائیکل چلا رہا تھا کہ کہیں سے کوئی گیند آ کر نورِ سحر کو نا لگ جائے۔ جب ہم واپس آنے لگے تو ایک گیند پیچھے سے میری کمر پر آ کر لگی۔ گیند اتنی زور کی لگی تھی کہ میرے منہ سے آئی کی آواز نکل گئی۔ تو نورِ سحر نے فوراََ پوچھا بابا جی کیا ہوا ہے۔ تو میں نے کہا بیٹا گیند لگئی ہے۔ تو اپنے دونوں ہاتھ میری کمر پر رکھ کے بولی ” بابا جی میں نے اب آپ کو پکڑ لیا ہے میرے بابا اب آپ کو نہیں لگے گئی، ہیں نا۔ اب میں نے ہاتھ رکھ لیے ہیں۔

اس کے یہ الفاظ سننے تھے بس میری آنکھوں میں آنسو آ گئے اور میں نے موٹر سائیکل روک کر اپنی بیٹی کو گلے لگایا اور بہت دیر تک پیار کرتا رہا۔ اللہ تعالیٰ میری بیٹی کو دین اور دنیا کی کامیابیاں عطا فرمائے آمین

نورِ سحر کا آج سکول میں پہلا دن

مجھے وہ دن بھی یاد ہے جب میں نے بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے چاند سے بھی پیاری بیٹی عطا فرمائی ہے۔ اس وقت میرے چچا جانی نے کہا تھا کہ اپنی بیٹی کے لیے ابھی سے ہی تیاری شروع کر دو بیٹیوں کا کچھ پتہ نہیں چلتا وہ کب جوان ہو جاتی ہیں۔ آج اس بات کو تین سال بھی گزر گے۔ اللہ تعالیٰ میری بیٹی کو صحت مند زندگی عطا فرمائے اور دین و دنیا کی کامیابیاں عطا فرمائے آمین۔

یہ رہی میری شہزادی آج سکول میں پہلا دن تھا اور پہلا دن بہت اچھا رہا میری جان کا۔

اللہ میرے چاند کو سلامت رکھے آمین

ہم ایسے ہی بے وقوف رہنا چاہتے ہیں

لوگ ہمیں بے وقوف اور سادہ سمجھتے ہیں۔ یہ ان کی غلط فہمی ہے کہ ہمیں کچھ پتہ نہیں چلتا۔ ہمیں سب پتہ ہے ہم سب دیکھ رہے ہیں لیکن ہم نے خود کبوتر کی طرح آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ کیونکہ کہا جاتا ہے کہ جاہل کی سزا یہی ہے کہ اسے جاہل رہنے دیا جائے۔
اور ہم بھی ایسا ہی کر رہے ہیں جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت عقل مند ہیں اور ہم ان کو اسی غلط فہمی میں رہنے دینا چاہتے ہیں۔ کیونکہ ان کو سمجھانے کا کوئی فائدہ نہیں اس لیے کہ وہ بہت عقل مند ہیں۔
جو اپنے آپ کو بہت زیادہ عقل مند سمجھتے ہیں اور دوسروں کو بے وقوف تو ان کا حال کیسا ہوتا ہے یہ انہیں کچھ دنوں بعد ہی پتہ چل جائے گا

نجانے کیوں لوگوں کو سمجھ نہیں آتی کہ دوسرے لوگوں کے پاس بھی دماغ ہے۔ اب ایسا نہیں ہے کہ ہر کسی کو بتانا پڑے کہ ہمارے پاس دماغ ہے اور ہم بہت عقل مند ہیں۔ ہر کوئی اپنا ہی الو سیدھا کرنے میں لگا رہتا ہے۔ تو لگے رہو منا بھائی لگے رہو ہم نے بھی آج سے یہ فیصلہ کر لیا ہے۔ ایک تو ہم ایسے ہی بے وقوف رہنے گے تاکہ ہماری تبدیلی کاکسی کوپتہ نا چلے اور دوسرا ہم نے آج کے بعد وہی سب کچھ اسی ہی انداز سے کرنا ہے جیسے ہمارے ساتھ ہوتا آیا ہے۔ اور بعد میں پھر وہی سادے اور بے وقوف بن جائیں گے جیسے ہمیں تو پتہ ہی نہیں کہ ایسا کرنے سے ایسا ہو جائے گا۔

اب ہم ایسے ہی بے وقوف رہنا چاہتے ہیں۔ کر لو سب اپنا اپنا الو سیدھا۔ اور کہیں اس چکرمیں الو الٹا ہوگیا تو اس میں ہماری کوئی غلطی نا ہوگی۔ کیونکہ ہم تو بے وقوف اور سادے ہیں

اور ہم ہمسایوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں

اور ہم ہمسایوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں

 

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے بہت سی اقسام کے حقوق و فرائض  رکھے ہیں۔ ان میں سے اگر ہم صرف ہمسایوں کے حقوق کی بات کریں تو،اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احادیث مبارکہ میں ہمسایوں کے حقوق کی اتنی زیادہ اہمیت بیان فرمائی ہے کہ وہ اپنے حقوق کی ادائیگی کے لحاظ سے قرابت داروں تک پہنچ گئے جن کو ادا کرنا ہر مرد و عورت کے لیے لازم اور ضروری قرار پایا۔

قرآن حکیم میں ہمسائے کے حقوق کی ادائیگی پر زور دیا گیا :

وَاعْبُدُواْ اللّهَ وَلاَ تُشْرِكُواْ بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللّهَ لاَ يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالاً فَخُورًاO

’’اور تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں (سے) اور نزدیکی ہمسائے اور اجنبی پڑوسی اور ہم مجلس اور مسافر (سے)، اور جن کے تم مالک ہو چکے ہو، (ان سے نیکی کیا کرو)، بیشک اللہ اس شخص کو پسند نہیں کرتا جو تکبرّ کرنے والا (مغرور) فخر کرنے والا (خود بین) ہوo‘‘

 النساء، 4 : 36

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمسائے کے حقوق کی ادائیگی کو ایمان کا حصہ قرار دیا۔ حضرت ابو شریح رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

’’خدا کی قسم وہ ایمان والا نہیں خدا کی قسم وہ ایمان والا نہیں، خدا کی قسم وہ ایمان والا نہیں عرض کیا گیا : یا رسول اللہ کون؟ فرمایا کہ جس کا ہمسایہ اس کی ایذا رسانی سے محفوظ نہیں۔‘‘

بخاری، الصحيح، کتاب : الأدب، باب : من لا يؤمن جاه بَوَايِقَه، 5 : 2240، رقم : 5670

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

’’جبرائیل ہمیشہ مجھے ہمسائے کے متعلق حکم پہنچاتے رہے یہاں تک کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ شاید اسے وارث بنا دیا جائے گا۔‘‘

 بخاری، الصحيح، کتاب : الأدب، باب : الوصاة بالجار، 5 : 2239، رقم : 5669

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمسائے کی عزت نفس اور اس کے گھر کے تقدس کا احترام کرنے کا حکم فرمایا۔ ہمسائے کے حقوق بیان کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس امر کی وضاحت بھی فرما دی کہ ہمسایہ کون ہے اور کس ہمسائے کے حقوق کو دوسروں کے حقوق پر فوقیت حاصل ہے۔

صحیح بخاری میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ میں عرض گزار ہوئی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے دو ہمسائے ہیں۔ پس میں ان میں سے کس کے لئے تحفہ بھیجا کروں؟ فرمایا کہ ان میں سے جو دروازے کے لحاظ سے تمہارے زیادہ قریب ہے۔‘‘

 بخاری، الصحيح، کتاب : الأدب، باب : حق الجوار فی قرب الأبواب، 5 : 2241، رقم : 5674

جب ہمارا اسلام ہمیں ہمسایوں کے بارے میں اتنی ہدایات دیتا ہے۔اور ہمسایوں کے اتنے حقوق ہیں تو پھر ہمارا اسلام ہمیں ہمارے رشتہ داروں کے لیے ہمارے والدین اور ہمارے بہن بھائیوں کے لیے کیا احکامات دیتا ہوگا۔ لیکن یہاں تو سب کچھ الٹا ہی ہے۔ ہم ہمسایوں کے بارے میں کیا سوچیں ہم تو اپنے بہن بھائیوں کے بارےمیں بھی کچھ نہیں سوچتے۔ ہمیں تو بس اپنی ہی فکر کھائی جاتی ہے۔ ہم ہمسایوں کے گھر کی فکر اور پریشانیاں کہاں دیکھ سکتےہیں ۔ جب کے ہمیں ساتھ والے کمرے میں سسکیاں لیتے ہوئے بہن یا بھائی کی خبر  نہیں ہوتی۔وہ کیسے ہیں، ان کے روز و شب کیسے گزر رہے ہیں، ان کے حالات کیسے ہیں۔ ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

بظاہر خوش لگنے والے کے دل میں کتنے دکھ ہیں یہ ہمیں نظر نہیں آ سکتے، بظاہر خوشخال لگنے والا نجانے کتنی پریشانیوں میں ہو۔اس کا انداز ہم نہیں کر سکتے۔ یہ بات درست ہے ہمسایوں کا ہمیں اندازہ نہیں ہو سکتا، دوستوں کے حالات کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔ کیا ہم اتنے خود گرز ہو چکے ہیں کہ ہمیں اپنے بہن بھائیوں کے حالات کا بھی اندازہ نہیں ہوتا۔یاد رکھیں عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمیں اپنے بہن بھائیوں کے حقوق ادا نہیں کرتے اور ہم ہمسایوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں

سانحہ پیشاور اور ڈھوک حسو کی عوام

سانحہ پیشاور کا دکھ ایک ایسا دکھ ہے جس نے پوری قوم کو دکھی کر دیا۔ بہت سارے لوگوں کی آنکھوں میں نمی تو میں نے خود دیکھی ہے۔ ڈھوک حسو کی عوام جو تقریباََ ہر کام میں حصہ لیتی ہے۔ لیکن سانحہ پیشاور کے حوالے سے تو بہت ہی جذباتی ہوگے تھے۔

میں نے پہلی دفعہ دیکھا ہے کہ تقریباََ پورے ڈھوک حسو کی مارکیٹیں بند تھیں۔ لوگ افسوس کر رہے تھے۔ لوگوں نے بچوں کے لیے اور ان کے والدین کے لیے دعائیں کی، قرآن خانی کروائی گئی، غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھا گیا اور ریلیاں بھی نکالی گئی۔ سب پیشاور والوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہوئے۔

اللہ تعالیٰ پوری قوم کو اسی  طرح متحد کر دے آمین۔

 

 

دُکھ

کل مسجد میں اعلان ہوا

“ایک بچہ مہندی رنگ کے کپڑے پہنے ہیں، سرخ رنگ کی ٹوپی پہنی ہے اور اپنا نام ۔۔۔۔۔ بتاتا ہے جس کا ہو وہ مسجد سے آ کر لے جائے”

میں اکیڈمی میں ہی تھا ۔  بچے کا نام سنا تو یاد آیا یہ تو میرے دوست کے بچے کا بھی نام ہے۔ میں احتیاطاََ مسجد کی طرف چلا گیا کہ ہو سکتا ہے میرے دوست کا ہی بیٹا ہو۔ جب میں وہاں پہنچا تو میرے دوست کا ہی بیٹا تھا۔ لیکن انہوں نے مجھے دینے سے انکار کر دیا کہتے ہیں کوئی سگا رشتہ دار آئے گا تو دیں گے۔ میں نے دوست کو فون کیا تو اس نے فون رسیو نہیں کیا۔ خیر کافی دیر کوشش کرتا رہا لیکن فون نہیں ملا۔ کچھ دیر بعد دوست کی بیگم اور بہن مسجد تک پہنچ گئی پھر انہوں نے بچہ دیا۔ میں نے دونوں کو ڈانٹا کہ اس طرح خیال رکھتے ہیں۔ اتنے میں بھابھی کی آنکھوں سے آنسوں آتے رہے اور وہ کچھ دیر تک بولنے کے قابل نہیں رہی۔ خیر انہوں نے اپنے بچے کو لاڈ پیار کیا اور گھر کی طرف چل پڑی۔

لیکن میں یہ سوچتا رہا کچھ گھنٹوں کے لیے ایک ماں اپنے بچے سے دور ہوئی تو کیا کیا گزر گیا اس پر اور جس ماں کے بچے سانحہ پیشاور میں شہید ہوئے ان کا کیا حال ہوا ہو گا

Pages