زینب بٹ (من و سلوی)

آٹزم

آٹزم ایک تخیلاتی بیماری جسکا علاج دواؤں سے نہیں بلکہ بچے کے رحجان کو دیکھ کر کیا جاتا ہے، ان بچوں کی اپنی ایک خیالی دنیا ہوتی ہے جس میں یہ سارا دن کھوۓ رہتے ہیں اور مسلسل نام پکارنے یا کوئ چیز دکھانے پر بھی متوجہ نہیں ہوتے، ان بچوں کو ان کی خاص دنیا سے نکال کر ؑعام دنیا میں لانا ہی اصل امتحان ہے۔ بہت سے آٹسٹک بچوں کی ایک مشترکہ خوبی پینٹنگ میں دلچسپی ہونا ہے اور بعض اوقات یہ اپنی دنیا میں مگن رہتے ہوۓ رنگوں کے بہترین مزاج والی مصوری کرتے ہیں ۔اس وقت دنیا میں ہر سو میں سے ایک بچہ آٹسٹک ہے۔۔
عالیان الحق دس سالہ آٹزم کا شکار بچہ ہے جو ذہنی معذور ہو کر بھی اپنے بہت سے ضروری کام خود کر لیتا ہے مثلا کھانا کھانا، نہانا، کپڑے بدلنا اور اپنےپڑھائ کے اوقات یاد رکھنا ،اسے یہ نہیں بتانا پڑتا کہ ابھی تمہارا پڑھنے کا ٹائم ہے ،خلاصہ یہ کہ عالیان ان ذہنی پسماندہ بچوں سے کئ گنا بہتر ہے جو اپنے ہر کام کے لۓ دوسروں کہ محتاج رہتے ہیں۔۔۔ میں نے عالیان کی ماں سے پوچھا کہ اسے یہ سب کچھ سکھانے میں کتنا عرصہ لگا تو انھوں نے کہا کہ یہ تین سال کا تھا جب اسے آٹزم تشخیص ہوا تھا بس یوں سمجھو کہ میں نے اسی دن سے اسے نیٹ سے معلومات حاصل کر کے سکھانا شروع کر دیا ۔مجھے نہیں معلوم کہ اس کا سیکھنے سکھانے کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا لیکن اب یہ کافی حد تھ بہتر ہوگیا ہے ۔ ۔۔
عموما'' یہاں بھی ذہنی معذور بچوں کو اپر اور مڈل کلاس میں تقسیم کیا گیا ہے ، اپر کلاس کے خصوصی بچوں نارمل بچوں کے سکول میں پڑھتے ہیں لیکن ایک ہی کلاس میں بیک وقت دو ٹیچر کام کر رہے ہوتے ہیں ، جس کی درجہ بندی رسورس ٹیچر کے نام سے کی جاتی ہے اور اس ٹیچر کے سارے اخراجات بچے کے والدین برداشت کرتے ہیں مطلب کے اسکول کی فیس اور ٹیچر کی تنخواہ والدین کے ذمہ ہے۔
اس کے علاوہ ان بچوں کی تھراپی بھی کافی مہنگی ہے جو کم آمدنی والے والدین برداشت نہیں کر سکتے۔۔ بہت سے والدین اب اپنے خصوصی بچوں کی تربیت میں دلچسپی لے رہے ہیں لیکن ان لوگوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے جہاں انہیں بوبجھ اور سائیں لوگ سمجھ کر سرے سے کوئ توجہ نہیں دی جاتی۔۔ اگر والدین انہیں معاشرہ کا کارآمد شہری نہیں بنا سکتے تو اس قابل تو کریں کہ وہ اپنے آپ کو سہارا دیں سکیں آج ان کی تربیت کی غرض سے خرچ کیۓ گۓ دو گھنٹے کل کو پیش آنے والی بڑی مصیبت اور پریشانی سے بچا سکتے ہیں۔۔۔۔۔

بٹ کہانی

پتا کرو انھاں دا خورے مر کھپ گۓ ہون گے مبلیل وی بند پۓ نیں ہن بندا کتھوں کبھ کے لیاوے ۔۔ یہ وہ سپاس نامہ ہے جو تائ نے قصائ کے کھلے دھوکے پر پڑھا ۔۔ آٹھ بجے آپ کے دروازے پر کھڑا ہوں گا کہہ کر جانے والا قصائ بارہ بجے بھی نہیں آیا تو گھر میں سب سے زیادہ وٹ تائ کو ہی چڑھے ، بےچینی بڑھتی جا رہی تھی اور ہماری اس کیفیت کا مزہ صحن میں بندھے بیل نے بھی خوب اچھل کود کر لیا ۔ دن میں ڈٹ کر کھانے کی آس نے صبح کا ناشتہ بھی نہیں کیا بس ہلکی سی ناشتی کی محض ایک پراٹھا اور تین کپ چاۓ ۔۔۔
بارہ تیس پر بھائ کہیں سے دو چھٹانک بھر کے قصائ پکڑ لایا جنھیں دیکھ کر میری ہی کیا یقین ہے بیل کو بھی ہنسی آگئ ہو گی، تائ نے قصائیوں کو خوب جگتیں لگائیں کہ وے تہاڈے کولوں ڈگ پینا یا میں وی لگاں نال ،، پھر ابا کو مخاطب کر کے بولی !''ویرا کسی جان والے نو بلا اونج ای تیرے تے انھاں دی ہڈی جوڑانے دی پھٹیک وی پے جانی جے "
تو قصائ نے تنگ آ کر کہا او مائ چُپ کر اور دیکھ میرا تماشا یہ کہہ کر انھوں نے کچھ ہی دیر میں کئ من وزنی جانور گرا لیا اور فاتحانہ نظروں سے انھیں دیکھنے لگے تو تائ نے کیا شوہدے جۓ ۔۔
باقی سارا کام سست روی سے ہوا تو ہماری خاندانی کھابی تارٰیخ میں پہلی بار بقر عید کے دن مرغ پلاؤ بنا اور میں جو کلیجی کے انتظار میں سوکھ کر تیلا ہو رہی تھی میرے ہاتھ مرغی کی پھنگلیٹ (پر) ہاتھ آیا ،،،لیکن کوئ گل نئ ڈنگر اپنا ہے ۔۔
(نوٹ یہ ساری بکواس لکھنے کا مقصد ہمدردی بٹورنا ہے کہ بقر عید پر بھی کسی کہ گھر مرغ پکتا ہے اور وہ خاص طور پر بٹ گھرانو میں آپ خود سوچیں)

یتیم کون؟

مجھے اکثر ان بچوں کو دیکھ کر یہ خیال آتا ہے کہہ اصل یتیم کون ہیں؟ وہ جو باپ کے بغیر زندگی گزار رہے ہوں یا باپ کے ہوتے ہوۓ ان کی ماں باپ والی ذمہ داریاں پوری کرکے انہیں پال رہی ہو؟ یا کوئ اور قریبی ان کی کفالت کا بوجھ اٹھاۓ پھر رہا ہو۔
شریعت جنہیں یتیم کہتی ہے ان پر تو ترس بھی کھایا جاتا ہے اور رحم نامی جذبہ بھی دل میں موجود رہتا ہے لیکن ان بچوں کا کیا قصور جو باپ کے سامنے ہوتے ہوۓ بھی یتیم ہوں۔۔۔ ان میں احساس کمتری تو ہوتا ہی ہے لیکن وہ اُس باپ سے شدید نفرت بھی کرتے ہیں جسے اُف کہنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔۔
تربیت کے ادوار تو ماں پر بہت بھاری گذرتے ہیں جب برائ کی طرف سو راستے جاتے ہیں اور اچھائ ایک بجھتے دیۓ کی طرح دکھائ دیتی ہے۔ میری دوست خود کو ان ہی یتیموں میں شمار کرتی ہے جو باپ کی لاپرواہی کا شکار ہوں، پہلی بار سن کر عجیب لگا اور میں نے اسے زندہ باپ کو مردہ کہنے پر ڈرایا بھی لیکن میری بات کا اثر نا لیتے ہوۓ اس نے کہا!آج ایک ڈاکٹر بن جانے کے باوجود وہ لمحات یاد آتے ہیں جب میری ماں ہم بہن بھائ کو جلدی سے تیار کر کے خود بھی ہمارے ساتھ ہی نکل پڑتی تھی آفس کے لۓ اور ابو دروازے پر کھڑے ہوتے تھےکہ امی کچھ پیسے انہیں بھی دیں گی ،، اس وقت میں اللہ سے دعاکرتی تھی کہ میرے ابو کو اپنے پاس بلا لیں۔۔
مجھے دین کے بارے میں نا بتاؤ کہ وہ باپ کے بارے میں کیا کہتا ہے میں یہ سب جانتی ہوں ۔ لیکن ہم بہن بھائ خود کو یتیم کہتے ہیں  اس طرح لوگ ہم سے مزید سوال نہیں کرتے اور ہم اس شرمندگی سے بچ جاتے ہیں جو کئ بار ہمیں اٹھانا پڑی۔۔
میں اس کی یہ بات سن کر چپ ہو گئ سمجھ نہیں آئ کیا کہوں افسوس کروں یا تسلی کا کوئ لفظ کہوں لیکن اتنا ضرور کہا کہ جب دل کرے ابو کو معاف کر دینا اولاد کی بے رخی بھی تو کسی سزا سے کم نہیں ہے۔۔۔
انسان اپنا بویا ہی تو کاٹتا ہے لیکن یہ سوال تو اب بھی ہے کہ اصل یتیم کون ہے؟

ٹُٹ پینے!

''کیا آپ مجھے اپنا نمبر دے سکتی ہیں،اصل میں ،میں چاہتا ہوں کے فیس بک کے علاوہ بھی آپ سے رابطے میں رہوں''
یہ جملہ مجھے اپنی ڈیڑہ سالہ فیس بکی زندگی میں سینکڑوں بار پڑھنے کو ملا(اس وقت میرا دل کرتا تھا یہ شخص اپنی چشم تصور میں مجھے نتھنے پھلاۓ دیکھ لیتا تو اسکی براستہ ترا جان بھی نکل سکتی تھی)۔ مجھے اپنا اسٹیٹس معلوم ہے اس لۓ میں نے نہیں دیا لیکن پھر خیال آیا جن لڑکیوں نے دیا ہے نمبر انکا حشر معلوم کر لوں:)۔۔۔
جب میری  سی آئ ڈی حرکت میں آئ تو لڑکیوں کے تجربات سن کے ہنسی آگئ،اور ان کی بےوقوفی پے دکھ بھی ہوا،''فیس بک پر ''یہ جس قدر تمیز سے بات کرتا ہے فون پر یہ اُتنا ہی گھٹیا ہے،میں پچھتا رہی ہوں اب:)
مزید پوچھنے پر بےایا کہ ہراساں کرنے کے علاوہ بوس و کنار کی بھی ڈیمانڈ کرتے ہیں:P
اینڈ یہ تھا کہ نمبر کی تبدیلی اور اکاؤنٹ ڈی ایکٹیویٹ کر کے اپنی جان چھڑائ میں نے ان سے کہا مریں توں پہلاں تیری غلطی سو اس نو نمبر دینا ای نئ چاہیدا سی۔۔۔۔۔
یہ تو دوسروں کا مسئلہ ہے اصل چڑ تو مجھے پوک کے سائن دیکھ کر ہوتی ہے اور وہ ہٹاتے ہوۓ مغلظات کا جو ڈھیر برآمد ہوتا ہے اسکا تو حساب ہی کوئ نہیں:)
سوال یہ ہے کہ نمبر مانگنے والے مرد مردود ہیں یا نمبر دینے والی مردودنیاں۔۔۔ چوائس از یورس،،،،،

اے خداۓ مہرباں ۔ الحفیظ الاماں

دل پر ایک بوجھ سا آن پڑا ہے بلوچستان سے متعلق امریکی قرار داد سے۔پریشان کن بات ہے کہ حالات واقعی خراب ہیں۔وعدے وفا کرنے کی بجاۓ ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا جاۓ تو وہ ہتھیار ہی اٹھائیں گے۔چند علیحدگی پسندوں کی سرگرمیوں کی سزا تمام بلوچوں کو حقوق سے محروم کر کے دینا کہاں کی عقلمندی ہے،بلوچ تو محب وطن بھی ہیں اس وقت وہ بوڑھا یاد آرہا ہے جس نے سوات آپریشن میں ایک بیٹے کی شہادت کے بعد دوسرے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا میرا یہ بیٹا بھی پاکستان کے لۓ حاضر ہے۔۔۔۔اس وقت بلوچوں کا سب سے بڑا مسئلہ انصاف کی عدم فراہمی ہے وہ خاندان انصاف کے منتظر ہیں جن کے باپ،بیٹے لاپتہ افراد میں شامل ہوکر ویرانے میں ملنے والی زخم خوردہ لاشوں میں بدل جاتے ہیں۔بلوچوں کے ساتھ جو کچھ ہوا گذشتہ عشروں میں اسے ظلم کہنا بھی کم ہے۔۔زخم ناسور بنا دیۓ اکبر بگٹی کے ماوراۓ عدالت قتل نے ،،بگٹی کے مقف سے لاکھ اختلاف لیکن بوڑھے سردار کو پہاڑ پر مار دیا۔ فوجی آپریشن مسائل کا حل تو نہیں لیکن یہاں اسی کو حل سمجھ لیا گیا ہے۔وقت تو اب بھی ہاتھ میں ہے لیکن اسے زبانی دعووں میں ضائع نا کریں۔عمل کریں جس کی ضرورت ہے۔حکومت سمیت تمام جماعتیں بلوچستان کے معاملے پر مجرمانہ غفلت کی ذمہ دار ہیں ۔۔جماعت اسلامی عافیہ صدیقی کو نہیں چھوڑتی۔پریس کانفرنس میں پنجوں کے بل اچھل کر ماتھے پر شکن ڈال کر بات کرنے والے کپتان صاحب بلوچستان کے حق میں نہیں بولتے،مسائل میں گھرے رہنے کی پی پی کی منحوس حکومت اپنی نااہلی کے سبب انہیں حل نہیں کرسکتی۔بنیادی وسائل کی فراہمی کے ساتھ ساتھ انہیں ہماری سپورٹ کی ضرورت ہے وہ جو اس وقت تنہائ محسوس کر رہے ہیں ،ہم نے انہیں بتانا ہے کہ تمام پاکستانی ان سے محبت کرتے ہیں اس کام کے لۓ سماجی رابطوں کے ذرائع کو استعمال کیا جاۓ۔۔صبر آزما کام ہے لیکن مشکل نہیں ہے خلوص نیت درکار ہے۔۔ بلوچستان کے حالات مشرقی پاکستان جیسے تو نہیں ہیں لیکن انا کے خول میں قید منقسم قبائل کو بیرونی پشت پناہی حاصل ہوجاۓ تو حادثہ ہوتے دیر نہیں لگتی۔۔۔میرے مالک سب کے حال پر رحم فرما اور حفاظت کر آمین،اے خداۓ مہرباں۔۔ الحفیظ الاماں

گا جر کا پیندہ، گل خیرے کا پھول

بچپن  سب کا ہی اچھا گذرتا ہے لیکن کچھ لوگوں کا یہ کہنا کا زندگی کا بہترین دور ہی بچپن کا تھا تو یہ بات بھی معقول ہے۔جیسا کہ میرا بچپن،نہیں یاد پڑتا کے کبھی معصوم سی شرارتیں کی ہوں گی،ہمیشہ مار پڑنے والے کام اور بڑے بڑے نقصانات ہی کۓ۔گلی ڈنڈا اور کنچے کھیلتے ہوۓ خیال آیا کہ کچھ کھیل لڑکیوں والے بھی کھیلنے چایۓ،اس لۓ ایک خوبصورت سی گڑیا کی تلاش شروع کی،گڑیا ملی تو لیکن وہ خوبصورت ہرگز نا تھی۔گھٹیا پلاسٹک کی بنی ہوئ جس کے ہاتھ پاؤں ڈھیلے ڈھالے انداز میں الاسٹک کے ساتھ بندھے ہوۓ تھے۔پچانویں کے اوئل میں اپنی 6 انچ  بلند گڑیا کی شادی کا سوچا،میری سمدھن میرے پڑوس میں رہتی تھی لیکن اسکا گڈا تو میری گڑیا سے بھی زیادہ نظر پن تھا۔طے یہ پایا کے ایک دن کی شادی ہوگی اور پھر اس کے بعد ہم اپنے گڈے گڑیا کو واپس لے لیں گے۔مقررہ دن پر سب کزنز جمع ہوۓ اس لالچ میں کے ان کی تواضع شیرخرمے سے کی جاۓ گی۔قاضی کون بنے گا تھوڑا رولا تو پڑا لیکن قرعہ فال عبداللہ کے نام کا نکلا۔قاضی صاحب نے نکاح پڑھانا شروع کیا!''گاجر کا پیندہ گل خیرے کا پھول کہو میاں گڈے تمہیں گڑیا قبول''نکاح ہوتے ہی میں نے حبیب گھی کا ڈھائ سیر والا کنستر اٹھایا اور نکل پڑے سب جلوس کی شکل میں کالونی کی گلیوں میں سنگیت پریڈ کرتے ہوۓ بے سرے راگ الاپے!باغ وچ امب تر دااسی کڑی نا دیندےمنڈا موچیاں دا کم کردا  باغ وچ آیا کروکنگھی شیشہ میں دیندی آںتسی ٹنڈ لشکایا کرواسی طرح چیختے چنگھاڑے ہوۓ گھر میں انڑی ماری تو اس خبر نے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچ لی کہ قاضی اور اس کے حواری شیر خرمہ چٹ کر چکے ہیں۔یہ سننا تھا کہ ڈھول (کنستر پھینکا ایک طرف اور پھر گھمسان کی جنگ ہوئ،کافی دیر لڑنے کے بعد رخصتی کا خیال آیا تو معلوم ہوا کہ اس لڑائ میں گڑیا جام شہادت نوش کر چکی ہیں اور سمدھن بھی کنگھی شہشے اولے ٹپے پے اعتراض کرتی ہوئ اپنا نظر پن گڈا واپس لے گئ یوں یہ شادی خون ریز تصادم کے بعد فنا ہوگئ،

مرک (مسکراہٹ) جو مرجھا گئ

میں نے اسے کل پہلی بار دیکھ جب اسکا باپ اسے جاں بلب حالت میں گھر لایا ۔ ''صبغت اللہ صاحب سے ملنا ہے کیا وہ گھر پر ہیں''؟ میں نے کہا جی ہاں آ جایۓ ۔۔ مین گیٹ سے ڈرائینگ روم تک کے مختصر سے فاصلے تک میں نے ان کے پیچھے چلتے ہوۓ سینکڑوں باتیں سوچ لیں۔اس وجود کو صوفے پر لٹانے کے بعد وہ صاحب بولے! یہ میری بیٹی ہے مُرک اسی کے علاج کے سلسلے میں ہم صبغت اللہ صاحب سے ملنا چاہتے ہیں۔ ابھی میں نے یہ پوچھنے کے لۓ کہ اسے ہوا کیا ہے منہ کھولا ہی تھا کہ میرے سسر کمرے میں داخل ہوۓ اور کہا اچھا ہوا تم آگۓ پہلے ہی کافی دیر ہو چکی ہے۔اس کے بعد وہ ان اجنبی میاں بیوی اور ان کی بیٹی کو لے کر نکل گۓ۔رات کے کھانے پر میں نے ان سے اس لڑکی کے بارے میں پوچھا تو بتایا کہ یہ بچی شہر میں کھمبیوں کی طرح اگنے والے جعلی کلینکس اور ڈاکٹروں کی بھینٹ چڑھ گئ ہے۔۔بیماری کی درست تشخیص نا ہونے اور غلط دوائیں کھانے سے اس کے گردے ناکارہ ہوگۓ ہیں اور جگر نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا ہے،،ڈاکٹر اس کی زندگی سے مایوس ہو چکے ہیں مگر یہ دونوں اس بات کو ماننے کو تیار نہیں،تم چلی جانا کل اس کی عیادت کرنے۔ وہ کل آئ ضرور مگر مُرک کو اپنے ساتھ لے گئ،میں نے اسکا چہرہ نہیں دیکھ،کیوں دیکھتی مجھے اسکے منہ پہ مرک(مسکراہٹ،، کی تلاش تھی،وہ مسکرہٹ جو چند رپوں نے چھین لی نا ہنجار اتائ ڈاکٹر نے۔                                                                                                                                                                         ڈاکٹر صاحب !آپ نے جو پیلی گولی دی تھی اس سے تو کوئ فائدہ نہیں ہوا''آپ ایسا کریں یہ لال گولی کھا لیں۔۔جب ڈاکٹر اور مریض کے درمیان اس طرح کا مکالمہ ہو تو پھر ہمیں مرکوں کے مرنے کا غم بھی نہیں منانا چاہۓ،اس طرح کے حادثات تو اب معمول بن چکے ہیں۔۔۔

ابتدایئہ

 وہی جو دکھ بھرے موسم کی ویرانی میں سینون پر دھنک لمحوں کی خوشبو سے مہکتا ہاتھ رکھتا ہے،دلوں کو جورتا ہے اور پھر ان میں محبت نام کی سوغات رکھتا ہے،سفر میں راستے گم ہوں یا رداۓ گمراہی کتنی ہی میلی ہو اور غموں کی دھوپ میں پھیلی ہو۔۔اسے کوئ کہیں کس حال میں بھی آواز دیتا ہے وہ سنتا ہے۔۔بہت ہی مہربان ہے اور رحم کرتا ہے۔۔وہ سچ ہے اور سچ بولنے کا حکم دیتا یے۔۔ سو اس کو یاد کرتے ہیں اور اسی کے نام سے آغاز کرتے ہیں۔