افتخار اجمل بھوپال

پاکستانی خاتون پائلٹ گِنَیس بُک میں

گِنَیس بُک آف ریکارڈ (Guinness book of world record) کے مطابق کیپٹن شہناز لغاری دُنیا کی پہلی با حجاب خاتون پائیلٹ ہیں ۔ کیپٹن شہناز لغاری حقوقِ انسانی کی علمبردار ہیں ۔ اُنہوں نے نادار لوگوں کیلئے مُفت تعلیم اور سلائی مرکز کھولا ہوا ہے ۔ کیٹن شہناز لغاری اکیلی بلا شرکتِ غیر بڑا ہوائی جہاز اُڑاتی ہیں جبکہ مکمل طور پر حجاب میں ہوتی ہیں
شہناز لغاری نے 2013ء کے عام انتخابات میں بطور آزاد اُمید وار این اے 122 سے حصہ لیا تھا ۔ ان کا انتخابی نشان گائے تھا
کیپٹن شہناز لغاری کہتی ہیں ” میں نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی ، وہاں حجاب لباس کا حصہ سمجھا جاتا ہے ۔ سو شروع ہی سے حجاب لیا ۔ البتہ شعوری طور پر حجاب کی سمجھ آئی تھی جب خود قرآن کو پڑھنا اورسمجھنا شروع کیا تھا ۔ ہم جس ماحول میں پروان چڑھے وہاں حیا اور حجاب ہماری گھُٹیوں میں ڈالا گیا تھا۔ سو الحمدللہ ۔ کبھی حجاب بوجھ نہیں لگا ۔ حجاب کی وجہ سے کبھی کوئی پریشانی یا رکاوٹ نہیں آئی بلکہ میرا تجربہ قرآن کی اس آیت کے مترادف رہا ” تم پہچان لی جاؤ اور ستائی نہ جاؤ“۔
( سورت 33 الاحزاب آیت 59 ۔ اے نبی ﷺ ! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ِ ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلوّ لٹکا لیا کریں۔یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں۔ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے)۔
کیپٹن شہناز مزید کہتی ہیں ” الحمدللہ ۔ حجاب نے میری راہ میں کبھی کوئی مشکل نہیں کھڑی کی بلکہ میں نے اس کی بدولت ہرجگہ عزت اور احترام پایا ۔ ایک واقعہ سنانا چاہوں گی ۔ پرویز مشرف دور میں پاک فوج کی ’ایکسپو 2001‘ منعقد ہوئی تھی ۔ یہ ایک بڑی gathering تھی ۔ اس تقریب میں واحد باحجاب میں ہی تھی ۔ کچھ خواتین ( آفیسرز کی بیگمات ) نے اشاروں کنایوں میں احساس دلایا کہ ایسی جگہوں پر حجاب کی کیا ضرورت ۔ میں مسکرادی ۔ کچھ دیر میں جنرل مشرف خواتین سے سلام کرنے لگے ۔ خواتین جاتیں ۔ ان سے ہاتھ ملاتیں ۔ ان کے ساتھ لگ لگ کر تصاویر بناتیں ۔ میں کچھ اندر سےگھبرائی ہوئی تھی ۔ اسی اثنامیں جنرل مشرف میری جانب مُڑے ۔ مجھے حجاب میں دیکھا تو اپنے دونوں ہاتھ اپنی کمر پر باندھ لئے اور جاپانیوں کے طریقہءِ سلام کی طرح 3 بار سر جھُکا کر سلام کیا ۔ خواتین کا مجمع میری جانب حیرت سے تک رہا تھا ۔ میری آنکھوں میں نمی اور فضاوں میں میرے رب کی گونج سنائی دے رہی تھی ”تاکہ تُم پہچانی جاؤ اور ستائی نہ جاؤ“۔
میں اُس پاکباز خاتون کیپٹن شہناز کی باتیں پڑھتا جا رہا تھا ۔ آنکھوں سے اشک جاری تھے اور دِل سے آواز نکل رہی تھی
” فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ “۔

نیکی اور بدی

سورة 41 سورة حٰمٓ السجدة / فُصّلَت آیت 34 و 35
وَلَا تَسۡتَوِى الۡحَسَنَةُ وَ لَا السَّيِّئَةُ ؕ اِدۡفَعۡ بِالَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِىۡ بَيۡنَكَ وَبَيۡنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِىٌّ حَمِيۡمٌ
وَمَا يُلَقّٰٮهَاۤ اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا‌ۚ وَمَا يُلَقّٰٮهَاۤ اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ‏

اور اے نبیؐ، نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے
یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر اُن لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں، اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر اُن لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں

کار ہو تو ایسی

کار وہ جو ہر آدمی کی پہنچ میں ہو ۔ جو ہر جگہ جا ئے ۔ بازار میں چلے ۔ گھر کے اندر چلے ۔ پٹرول بھی بہت کم کھائے

خاموش آدمی

پنجرے کے پنچھی رے تیرا درد نہ جانے کوئے
باہر سے خاموش رہے تُو ۔ بھیتر بھیتر روئے
کہہ نہ سکے تُو اپنی کہانی تیری بھی پنچھی کیا زندگانی رے
لِکھیا نے تیری کتھا لکھی ہے ۔ آنسو میں قلم ڈبوئے
چُپکے چُپکے رونے والے رکھنا چھُپا کے دِل کے چھالے
یہ پتھر کا دیس ہے پگلے ۔ یہاں کوئی کسی کا نہ ہوئے
(ایک بہت پرانا گیت)

یومِ یک جہتی جموں کشمیر

آج پورے مُلک میں یومِ یک جہتی جموں کشمیر منایا جا رہا ہے

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی فوج کی دہشتگردی کے نتیجے میں جنوری 1989ء سے دسمبر 2015ء تک مندرجہ ذیل ہلاکتیں ہوئیں جو بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہیں

94290 نہتے شہری ہلاک ہوئے جن میں 7038 زیرِ حراست ہلاک ہوئے
22806 عورتیں بیوہ ہوئیں
107545 بچے یتیم ہوئے
10167 عورتوں کی عزتیں لوٹیں
106050 مکانات تباہ کئے
8000 سے زائد لوگ گھروں سے اُٹھا کر غائب کئے گئے

جموں کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے دوسری مسلح جدوجہد 1989ء میں شروع ہوئی ۔ اس تحریک کا آغاز کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں تھا اور نہ ہی یہ کسی باہر کے عنصر کی ایما پر شروع کی گئی تھی ۔ بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہر دن کے مظالم سے مقبوضہ جموں کشمیر کے مسلمان تنگ آ چکے تھے اور سب سے مایوس ہونے کے بعد پاکستان سے بھی مایوسی ہی ملی ۔ بےنظیر بھٹو نے 1988ء میں حکومت سنبھالتے ہی بھارت سے دوستی کی خاطر نہ صرف جموں کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ دغا کیا بلکہ بھارت کے ظلم و ستم کے باعث سرحد پار کر کے پاکستان آنے والے بے خانماں کشمیریوں کی امداد بند کر دی ۔ اِس صورتِ حال کے پیشِ نظر پاکستان کی چند سیاسی جماعتوں نے جن میں جماعتِ اسلامی پیش پیش تھی جموں کشمیر کے عوام کے ساتھ ہمدردی کے اِظہار کے لئے 5 فروری 1990ء کو یومِ یکجہتیءِ کشمیر منانے کا فیصلہ کیا جو اُس وقت کی حکومت کی مخالفت کے باوجود عوام نے بڑے جوش و خروش سے منایا

اہل کشمیر سے یکجہتی کا اظہار محض روایتی نوعیت کی اخلاقی ہمدردی کا مسئلہ نہیں، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اسی اہمیت کی وجہ سے برطانوی حکومت نے 1947ء میں پاکستان اور بھارت کی آزاد مملکتوں کے قیام کے ساتھ ہی پوری منصوبہ بندی کے تحت یہ مسئلہ پیدا کیا۔ قیام پاکستان کے بعد کوئی ایسی دشواری نہیں تھی جو برطانوی حکومت اور برصغیر میں اس کے آخری وائسرائے نے ہمارے لئے پیدا نہ کی ہو اور سب سے زیادہ کاری ضرب جو پاکستان پر لگائی جاسکتی تھی وہ مسئلہ کشمیر کی صورت میں لگائی گئی۔ کشمیر کا مسئلہ دو مملکتوں کے درمیان کسی سرحدی تنازع کا معاملہ نہیں بلکہ کشمیریوں کی ”حق خودارادیت“ کی جدوجہد پاکستان کی بقا کی جنگ ہے ۔ کشمیر کا مسئلہ برطانوی حکومت نے پیدا کرایا ۔ وہ برصغیر سے جاتے جاتے کشمیر کو بھارت کی جارحیت کے سپرد کر گئے اور اس سروے میں مِڈل مَین کا کردار برصغیر میں برطانیہ کے آخری وائسرائے اور آزاد بھارت کے پہلے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ادا کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی اس مملکت کے جسم پر ایک ناسور بنا دیا جائے اور اُس کے بعد بھارت محض اسلحہ کی طاقت کے زور پر کشمیریوں پر اپنی بالادستی قائم رکھے ہوئے ہے ۔

قوموں کی زندگی میں ایک وقت فیصلہ کا آتا ہے کہ “جھُکے سر کے ساتھ چند روز عیش قبول کرلیں” یا “سرفروشی کے ساتھ سرفرازی کی راہ اپنائیں”۔ جَبَر کرنے والے اذِیّتوں سے اور موت سے ڈراتے ہیں۔ اِیمانی توانائی موت سے نبرُد آزما ہونے کی جرأت عطا کرتی ہے۔ موت میں خوف نہیں ہوتا بکہ لذت ہوتی ہے اور جذبہءِ ایمانی کا کَیف اس لذّت کو نِکھارتا ہے۔ اہل کشمیر اب اس لذّت سے سرشار ہو چکے ہیں ۔ یہ اللہ کا کرم ہے اہل کشمیر پر اور اہل پاکستان پر بھی ۔ اہل کشمیر صرف کشمیرکیلئے حق خودارادیت کی جنگ نہیں لڑ رہے ہیں وہ پاکستان کے استحکام کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں۔ حُرِیّت کی داستانیں اِسی طرح رَقَم ہوتی ہیں۔ بھارت کی جارحانہ طاقت اس جذبے کا مقابلہ کب تک کرے گی ۔ بھارتی فوج پوری طرح مسلح ہے لیکن وہ انسانی قدروں سے نہ صرف محروم بلکہ ان سے متصادم ہے اس لئے ناکامی اس کا مقدر ہے ۔ بھارت کشمیریوں کی حق خودارادیت کے حصول کی جنگ کو ”دہشت گردی“ کہتا جبکہ خود بھارت انسانیت کو پامال کر رہا ہے

یاد رکھنے کی باتیں

1 ۔ ماضی کو بدلا نہیں جا سکتا
2 ۔ لوگوں کی رائے آپ کی اصلیت نہیں بتاتی
3 ۔ ہر کسی کی زندگی کا سفر مختلف ہوتا ہے
4 ۔ وقت گزرنے کا ساتھ بہتری آتی ہے
5 ۔ کسی کے متعلق فیصلہ اپنا کردارظاہر کرتا ہے
6 ۔ ضرورت سے زیادہ سوچنا ہریشانی پیدا کرتا ہے
7 ۔ خوشی انسان کے اپنے اندر ہوتی ہے
8 ۔ مثبت سوچ کے نتائج مثبت ہوتے ہیں

شِفاء اور شفا میں فرق

جو الفاظ ہم روز مرّہ بولتے ہیں اِن میں سے کچھ ہم غلط تلفّظ کے ساتھ بولتے ہیں اور ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم غلط معنی والا لفظ بول رہے ہیں جبکہ بعض اوقت وہ معنی قابل سر زنش یا ندامت ہوتے ہیں
میں ایک سے زیادہ بار لکھ چکا ہوں کہ پڑھنے اور مطالعہ کرنے میں فرق ہوتا ۔ پڑھنے سے آدمی پڑھ پُخت تو بن جاتا ہے لیکن عِلم سے محروم رہتا ہے ۔ ہر آدمی کو چاہیئے کہ ہر لفظ جو وہ پڑھے اس کے معنی اُسی وقت تلاش کر کے ذہن نشین کر لے ۔ جب وہ لفظ عادت بن جائے تو اپنی غلطی کا احساس ختم ہو جاتا
اِس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کے احتساب میں تو سرگرداں رہتے ہیں لیکن خود احتسابی کے قریب نہیں جاتے
مسلمان ہونے کے ہم بڑے دعویدار ہیں لیکن الله کریم کا فرمان یا ہم غور سے پڑھتے ہی نہیں یعنی فر فر پڑھ جاتے ہیں اس پر غور نہیں کرتے کیونکہ الله عزّ و جل ہمیں خود احتسابی کا حکم دیا ہے اور عیب جُوئی سے منع فرمایا ہے

دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ہم غَلَط کو بھی غَلَط بولتے ہوئے غَلَط کی بجائے غَلط کہتے ہیں
ہمیں قرآن شریف کو غور سے پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

اب ایک لفظ جسے غلط بولنے میں بہت سے لوگ ملوّث ہیں
شِفاء کا مطلب ہے صحت ۔ تندرستی
سُوۡرَةُ 17 بنیٓ اسرآئیل / الإسرَاء آیة 82
وَنُنَزِّلُ مِنَ الۡـقُرۡاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّرَحۡمَةٌ لِّـلۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ۙ وَلَا يَزِيۡدُ الظّٰلِمِيۡنَ اِلَّا خَسَارًا
ہم اِس قرآن کے سلسلہ تنزیل میں وہ کچھ نازل کر رہے ہیں جو ماننے والوں کے لئے تو شِفا اور رحمت ہے، مگر ظالموں کے لئے خسارے کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا

شفا کا مطلب ہے موت ۔ گھڑا
سُوۡرَةُ 3 آل عِمرَان آیة 103
وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا وَاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ كُنۡتُمۡ اَعۡدَآءً فَاَ لَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِهٖۤ اِخۡوَانًا
ۚ وَكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَكُمۡ مِّنۡهَا ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ‏
سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو اللہ کے اُس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اُس نے تمہارے دل جوڑ دیے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے، اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمہارے سامنے روشن کرتا ہے شاید کہ اِن علامتوں سے تمہیں اپنی فلاح کا سیدھا راستہ نظر آ جائے

سمندر کی تہہ سے کھربوں ٹن پانی زمین کی گہرائی میں جانیکا انکشاف

زلزلے کے نتیجے میں زمین کی اندرونی پرت (ٹیکٹونک پلیٹس) کے ٹوٹنے اور اس عمل سے جڑی سرگرمیوں کے نتیجے میں سمندر کا پانی بھاری مقدار میں کرۂ ارض میں 20؍ میل تک گہرائی میں جا رہا ہے۔ اور، حیران کن بات یہ ہے کہ سائنسدانوں کو معلوم نہیں کہ یہ سلسلہ کب رکے گا اور اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ سائنس میگزین اور لائیو سائنس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر کے سمندروں کے گہرے ترین مقام ماریانہ ٹرینچ (Mariana Trench) میں زلزلہ پیما ماہرین کی ٹیم نے ایک نئی تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ زمین کے اندرونی حصے (Subduction Zones) گزشتہ اندازوں کے مقابلے میں پانی کی تین گنا زیادہ مقدار اپنی جانب کھینچ رہے ہیں۔ آسان الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ سمندر کی تہہ میں زلزلے کے نتیجے میں آنے والی دراڑوں سے پانی بہہ کر زمین کے اندر جا رہا ہے۔ نئے تخمینوں سے معلوم ہوا ہے کہ یہ مقدار ہر دس لاکھ سال میں تین ارب ٹیرا گرام پانی کے برابر ہے، ایک ٹیرا گرام پانی ایک ارب کلوگرام کے مساوی ہوتا ہے۔ واشنگٹن یونیورسٹی کے سرکردہ محقق چین کائی کہتے ہیں کہ لوگوں کو اس بات کا علم ہے کہ سبڈکشن زونز پانی زمین میں کھینچ کر لے جاتے ہیں لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ آخر کتنا پانی اندر جا رہا ہے۔ نیچر نامی جریدے میں شایع ہونے والی نئی تحقیق میں محققین نے زلزلہ پیما مشینوں کی مدد سے ایک سال تک کی زمین کی تھرتھراہٹ اور لرزنے کا ڈیٹا حاصل کیا۔ زلزلہ پیما 19؍ مشینیں ماریانہ ٹرینچ کے قرب و جوار میں نصب کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ، ماہرین نے دیگر سمندر میں دیگر مقامات پر نصب کردہ زلزلہ پیما مشینوں (Seismographs) کے ڈیٹا کا سہارا بھی لیا۔ اس سے ماہرین کو اس بات کا جائزہ لینے میں مدد ملی کہ بحرالکاہل (Pacific) میں ٹیکٹونک پلیٹوں کے ٹرینچ میں مڑنے کے نتیجے میں کیا ہوتا ہے۔ نیشنل سائنس فائونڈ یشن ڈویژن آف اوشن سائنسز کی پروگرام ڈائریکٹر کینڈنس او برائن کہتی ہیں کہ اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ سبڈکشن زونز کی وجہ سے زمین کی گہرائی میں کئی میلوں تک پانی جاتا ہے، اور یہ گزشتہ اندازوں سے زیادہ پانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی واٹر سائیکل میں سبڈکشن زونز کتنی اہمیت کے حامل ہیں۔ ٹیم کا کہنا ہے کہ پلیٹوں کے زمین کی گہرائی میں جانے اور اوپری پرت کے قریب موجود فالٹ لائنوں کے پاس موجود زبردست دبائو اور درجہ حرارت کی صورتحال اور کیمیائی تبدیلیوں کی وجہ سے پانی غیر مائع شکل اختیار کرتے ہوئے سمندر کی تہہ میں موجود سخت پتھروں اور چٹانوں میں قید ہو جاتا ہے۔ سائنس ڈیلی کی رپورٹ کے مطابق، ہزاروں برسوں سے سمندروں میں پانی کی سطح معتدل رہی ہے اور اس میں کبھی اضافہ نہیں ہوا، جس کا مطلب یہ ہے کہ جو پانی زمین کی تہہ میں سمندروں سے ہوتے ہوئے جا رہا ہے، وہ کہیں نہ کہیں سے باہر بھی نکلتا ہوگا، یہی وجہ ہے کہ پانی کا لیول بدستور برقرار ہے۔ تاہم، مقدار کے حوالے سے معلومات غیر یقینی ہیں۔ رابرٹ ایس بروکنگز میں زمین اور سیارہ جاتی سائنس کے مایہ ناز پروفیسر ڈگ وائنز کا کہنا ہے کہ اس بات کا شبہ ہے کہ ماریانہ سے جانے والا پانی ممکنہ طور پر الاسکا یا پھر جنوبی امریکی سمندروں سے نکلتا ہوگا لیکن کسی نے بھی آج تک سمندر کی تہہ میں 20؍ میل سے زیادہ گہرائی میں جا کر تحقیق نہیں کی اور یہی کچھ ہم ماریانہ ٹرینچ کے حوالے سے تلاش کر رہے ہیں۔اگرچہ یہ تو معلوم تھا کہ سبڈکشن زونز میں موجود پلیٹیں پانی کو قید رکھتی ہیں لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ آخر پانی کی مقدار کتنی ہوتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ تحقیق کا نیا طریقہ زیادہ پائیدار ہے، ارضیاتی تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ ماریانہ ٹرینچ میں موجود آبیدہ (Hydrated) پتھر سمندر کی تہہ سے 20؍ میل نیچے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ ماریانہ ٹرینچ دنیا بھر کے سمندروں میں سب سے گہرا ترین مقام ہے جو مغربی بحرالکاہل میں ماریانہ جزیرے کے مشرق میں واقع ہے۔ ٹرینچ بنیادی طور پر ایک کھائی ہے جو 1580؍ میل (2550؍ کلومیٹر) طویل ہے اور اس کی چوڑائی 69؍ کلومیٹر ہے۔ سطح سمندر سے ماریانہ ٹرینچ کے آخری حصے تک مجموعی فاصلہ 11؍ کلومیٹر ہے جس کا نام چیلنجر ڈیپ رکھا گیا ہے۔ 2012ء میں دستاویزی فلم کے ڈائریکٹر جیمز کیمرون دنیا کے واحد فرد تھے جنہوں نے پہلی مرتبہ اس گہرائی کا مشاہدہ کیا تھا۔ اس مقام تک جانے کیلئے پانی کا دبائو اتنا ہوتا ہے جتنا آپ اندازہ کریں کہ 100؍ بالغ ہاتھی انسان کے سر پر کھڑے کیے جائیں، جبکہ درجہ حرارت نقطہ انجماد سے ایک سے چار ڈگری تک نیچے ہوتا ہے۔

پیٹھ پیچھے بات

والد صاحب نے کہا ” انسان کو کسی کی عدم موجودگی میں وہی بات کرنا چاہیئے جو وہ اس کے منہ پر بھی دہرا سکے“۔
بات معمولی سی تھی مگر میں نے اس پر عمل بڑا مشکل پایا ہے۔ ہاں جب کبھی اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق ملی ہے اس وقت زندگی بڑی ہلکی اور آسان محسوس ہوئی ہے

قدرت الله شہاب

تاریخ ۔ جس سے ہم سبق نہیں لیتے

کنفیوشس نے اپنے پیروکاروں سے کہا تھا ” انسان ناسازگار حالات حتیٰ کہ موت کے آس پاس بھی گزارنے کو ترجیح دیتا ہے بشرطیکہ اسے وہاں ایک مکمل اور آسان انصاف حاصل ہو“۔
مجبوری میں اس ایک لفظ انصاف کا تعاقب کرنے پر آخری سرے پر ناانصافی ہی ہمارا منہ چڑا رہی ہوتی ہے۔ یہی وہ آتش فشاں ہے جس سے مجبوریوں کے لاوے پھوٹتے اور ہماری زندگیوں کو بھسم کر دیتے ہیں۔ ناانصافی کا یہ لاوا پہلے ہماری اخلاقیات کو نگلتا، اُسے کمزور کرتا اور پھر اپنا راستہ بناتا سماجی زندگی سے لے کر اداروں تک کو اپنی لپیٹ میں لیتا چلا جاتا ہے

یہ پون صدی کا نہیں، صدیوں کا قصہ ہے جب سو سال پہلے کا امریکہ ایک ایسی عجیب و غریب سرزمین تھا جہاں پندرہ سے زیادہ ریاستوں میں سیاہ فام اور سفید فام قانونی طور پر شادی نہیں کر سکتے تھے۔ خواتین کو نہ رائے دہی کا حق حاصل تھا، نہ ہی جائیداد کی مختار ہونے کا۔ کم از کم اجرت کا کوئی قانونی معیار نہ تھا۔ سیاہ فام اور سفید فام نہ ایک اسکول میں پڑھ سکتے، نہ ہی ایک نلکے سے پانی پی سکتے تھے۔ سیاہ فاموں کو جتھے بنا کر بدترین تشدد کے بعد قتل کر دیا جاتا، کسی کو سزا تک نہ ہوتی۔ جان بچانے تک کے لئے عورتوں کو اسقاط حمل کا حق حاصل تھا نہ ہی میراتھن دوڑوں میں حصہ لینے کا۔ گھریلو تشدد عام، بچے فیکٹریوں میں کام کرتے، اقلیتوں کے لئے مذہبی آزادی مفقود۔ ظلم و ناانصافی کی اتنی طویل فہرست ہے کہ داستان الف لیلہ کی طرح پڑھتے چلے جایئے۔

سو سال بعد اگر کوئی مصنف، کوئی ادیب، کوئی محقق یا کوئی تاریخ دان ماضی کے دروازے کھول کر وطن عزیز پاکستان کی آج کی دنیا پر نظر ڈالے تو وہ کیا لکھے گا ؟
یقیناً وہ لکھے گا کہ ملک پاکستان سن 2018ء میں جس کی 70 فیصد آبادی ناخواندہ اور 60 فیصد کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں تھا، بیروزگاری عروج پر تھی، قوانین پر مذہبی اور سرکاری چھاپ تھی، غیرت کے نام پر قتل روزمرہ کا معمول تھا جس کا تحفظ حکومتی وزیر مشیر ایوانوں میں کرتے تھے۔ مثبت سوچ رکھنے والے جلاوطن کر دیئے جاتے، انہیں ہیرو کے بجائے سازشی، کٹھ پتلی، ڈرامہ باز اور کرپٹ قرار دے کر مطعون کیا جاتا، اسی جرم میں بزدل قوم کے بہادر لیڈر پھانسی پر لٹکا دیئے جاتے یا سرعام قتل کر دیئے جاتے اور اس عمل کی حمایت کرنے والے کھلے عام گھومتے۔ سیاست اور سیاسی منظر نامہ پر انہی کا غلبہ تھا۔ جمہوریت کے لبادے میں کٹھ پتلیاں نچانے کا کاروبار عروج پر تھا۔ عقل کی بات کرنے والے مطعون و ملعون اور حریت فکر کے پرچارک شیطان کے ہرکارے کہلاتے۔ ملک کے میدان، بازار، گلیاں، قوانین کے سیلاب کے سپرد تھیں جس سے پوری قوم ذہنی اختلال کا بدترین نمونہ تھی

یہ تاریخ شاید 100 سال بعد لکھی جائے لیکن آج کے انسان کا کیا قصور جو مہذب کہلاتا ہے، اسی آب و ہوا میں سانس لینے پر مجبور ہے جس میں کرپشن اور ناانصافی کا زہر گھلا ہے۔ کیا خدانخواستہ 100 سال بعد ایک ایسی قوم کی تاریخ لکھی جائے گی جس کے قوانین مکڑی کے جالے کی طرح تھے جس میں صرف چھوٹے کیڑے ہی پھنستے، طاقتور اسے توڑتے ہوئے نکل جاتے، ریاست اپنے ذمہ کے کام بھی افراد پر ڈال کر خود اپنے ہاتھ جھاڑ لیتی

ان انسانوں کا کیا حال، جن کے نزدیک زندگی سمندر نہیں نہ انسان کے بنائے ہوئے قوانین ریت کے گھروندے، وہ جو زندگی کو ایک مستحکم چٹان سمجھتے اور ان کا قانون گویا سنگ تراش کی ایک چھینی ہے جس سے وہ چٹان پر اپنے وجود معنوی کے نقوش کھودتے ہیں مگر کتنی جلدی وہ اپنے ہی بنائے نقوش کو بنا بنا کر مٹاتے اور ہر نئے نقش کو مکمل سمجھتے ہیں۔ پھر ہر نقش تازہ ایک تازہ تر نقش کا محتاج پایا جاتا ہے۔ اس اپاہج کا کیا حال، جو رقص کرنے والوں کو دیکھ کر حسد کی آگ میں جلتا، اپنی لنگڑی ٹانگ، ٹوٹے ہاتھ اور پھوٹی آنکھ کی خوبیوں پر دلیلیں لاتا ہے۔ اس بوڑھے سانپ کا کیا حال، جو اپنے بڑھاپے کی وجہ سے کینچلی نہیں اتار سکتا اور دوسرے نوجوان سانپوں کو کینچلی بدلتے دیکھ کر ننگا اور بے شرم سمجھتا ہے

وہ جو ضیافت میں اکثر بن بلائے بھی قبل از وقت آتا ہے، خوب کھاتا ہے اور کھاتے کھاتے تھک کر معذور ہو جاتا ہے، اٹھ کر چلا جاتا ہے مگر کہتا یہ ہے کہ یہ ضیافتیں قباحتیں ہیں، یہ میزبان قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں جن کی ضیافتوں میں لوگوں کے معدے بھاری اور ہاضمے خراب ہو جاتے ہیں

میرا ذاتی المیہ درد انگیز بھی ہے جس نے میری زبان پر قفل ڈال دیئے، میرے ہاتھوں کو جکڑ دیا، میں اس حال میں زندہ ہوں کہ میرے پاس عزم ہے نہ عمل۔ یہ سچ مجھے ہضم نہیں ہوتا کہ میرے ملک کی بربادی، خاموش بربادی ہے۔ وہ گناہ جس کے نتیجے میں سانپ اور اژدھے جنم لیتے ہیں، اس بربادی کی یہ داستان وہ المیہ تمثیل ہے جس میں نغمہ ہے نہ منظر۔ اس کے باوجود میں خوش ہوں کہ جنہیں میں چاہتا ہوں وہ صلیب پر مارے گئے، وہ مہر بہ لب مارے گئے کہ اپنے دشمنوں سے بزدلوں کی طرح محبت اور اپنے چاہنے والوں سے منکروں کی طرح نفرت نہ کر سکے۔ وہ اس لئے مارے گئے کہ گناہ گار نہ تھے، وہ اس لئے مارے گئے کہ انہوں نے ظالموں تک پر ظلم نہ کیا کہ وہ بلا کے صلح پسند تھے۔ اسی خاطر موت کی آغوش میں سو گئے۔ لیاقت علی خان کے مکے، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور بے نظیر کا قتل اور پھر جمہوریت کا بہترین انتقام۔ نواز شریف کے بعد زرداری

یہ تاریخ اب نواز شریف اور زرداری کی کہانی تحریر کرے گی۔ واویلا گردی کے عادی اپنے شور و غوغا سے کان پڑی آواز سننے نہیں دیں گے، نواز شریف کا یہ شعر لوگوں کے سروں پر سے گزر جائے گا

جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شبِ ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے

دونوں رہنمائوں اور حریت و ترقی پسند دانشوروں کے بارے میں فیصلوں کی روشنی میں یہ تاریخ کہانی کو کیا موڑ دیتی ہے، بولنا تو درکنار بقول نواز شریف رو بھی نہ سکنے والوں کو تاریخ میں کیا مقام نصیب ہوتا ہے، وقت اس کا منصف بنے گا جیسا کہ وقت کی منصفانہ شمشیر ان پر بھی لٹک رہی ہے جنہیں واویلا گردی کی منحوس بلا پوری طرح نگل چکی ہے

تحریر ۔ محمد سعید اظہر
26 دسمبر 2018ء کو شائع ہوئی

الله کا نام

الله کا نام بہت زیادہ لیا جائے یا کم، اپنا اثر ضرور رکھتا ہے
دنیا میں بعض اشیاء ایسی ہیں کہ ان کا نام لینے سے ہی منہ میں پانی بھر آتا ہے
پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے اُس خالقِ کائنات کا نام ” الله “ لیا جائے اور اس میں اثر نہ ہو
خود خالی نام میں بھی برکت ہے

قدرت الله شہاب

سلوک

سورة 4 النِّسَاء آیت 36
وَاعۡبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ شَيۡــًٔـا‌ ؕ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا وَّبِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَ الۡمَسٰكِيۡنِ وَالۡجَـارِ ذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡجَـارِ الۡجُـنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالۡجَـنۡۢبِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ ۙ وَمَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرَا ۙ‏

اور تم سب اللہ کی بندگی کرو، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ، ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو، قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ، اور پڑوسی رشتہ دار سے، اجنبی ہمسایہ سے، پہلو کے ساتھی اور مسافر سے، اور اُن لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں، احسان کا معاملہ رکھو، یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کر ے

ہم کیا کر رہے ہیں ؟

آج برِّ صغير ہندوپاکستان کے مُسلمانوں کے عظيم رہنما قائداعظم محمد علی جناح کا يومِ ولادت ہے
قائداعظم کو الله سُبحانُهُ و تعالٰی نے شعور ۔ مَنطق اور اِستقلال سے نوازا تھا جِن کے بھرپُور اِستعمال سے اُنہوں نے ہميں الله کی نعمتوں سے مالا مال مُلک لے کر ديا مگر ہماری قوم نے اُس عظيم رہنما کے عمَل اور قَول کو بھُلا ديا جس کے باعث ہماری قوم اقوامِ عالَم ميں بہت پيچھے رہ گئی ہے
قائداعظم کا ايک پيغام ہے ” کام ۔ کام ۔ کام اورکام ”
مگر قوم نے کام سے دِل چُرانے کی عادت اپنا لی اور اپنی نا اہلی سے نظریں ہٹانے کی کوشش میں دوسرون پر الزام تراشی شروع کر دی

قائداعظم نے آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے پانچویں سالانہ اجلاس کی افتتاحی تقریب ناگپور میں 26دسمبر1941ء کو خطاب کرتے ہوئے کہا فرمایا تھا ” میں آج آپ کو نصب العین دیتا ہوں ” ایمان ۔ اتحاد ۔ نظم”۔
قوم میں وہ لوگ بھی پیدا ہوئے جنہوں نے قائداعظم کا دیا ہوا نعرہ ہی بدل کر ” اتحاد ۔ یقین ۔ تنظیم” بنا دیا یعنی لوگوں کو ایمان سے دُور کرنے کی کوشش کی
اپنے آپ کو کشادہ ذہن قرار دینے والے کم ظرف کہنے لگے کہ پاکستان اسلام کے نام پر تو بنا ہی نہ تھا بلکہ قائداعظم کو سیکولر قرار دے کر پاکستان کو بھی سیکولر بنانے کیلئے ہاتھ پاؤں مارنے لگے
کچھ بدبَخت اس سے بھی آگے بڑھے اور قائداعظم کے مسلمان ہونے کو ہی مشکوک بنانے کی ناپاک کوشش کی

آيئے آج سے اپنی بد اعمالیوں کی توبہ کریں اور اپنے الله پر یقین کرتے ہوئے قرآن کی رہنمائی میں قائدِاعظم کے بنائے ہوئے راستہ پر چلیں اور اس مُلک پاکستان کو تنزل کی گہرائیوں سے نکالنے کی جد و جہد کریں

زبُوں حالی کا سبب اور علاج

خودی کی موت سے مغرب کا اندرون بے نور
خودی کی موت سے مشرق ہے مبتلائے جذّام
خودی کی موت سے روح عرب ہے بے تب و تاب
بدن عراق و عجم کا ہے بے عرق و عظّام
خودی کی موت سے ہندی شکستہ بالوں پر
قفس ہوا ہے حلال اور آشیانہ حرام
خودی کی موت سے پیر حرم ہوا مجبور
کہ بیچ کھائے مسلمانون کا جامہء احرام

جس بندہء حق بیں کی خودی ہو گئ بیدار
شمشیر کی مانند ہے برّندہ و برّاق
اس کی نگہ شوق پہ ہوتی ہے نمودار
ہر ذرّے میں پوشیدہ ہے جو قوّت اشراق
اس مرد خدا سے کوئی نسبت نہیں تجھ کو
تو بندہء آفاق ہے ۔ وہ صاحب آفاق
تجھ میں ابھی پیدا نہیں ساحل کی طلب بھی
وہ پاکیء فطرت سے ہوا محرم اعماق

اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد
ناچیز جہان مہ و پرویں ترے آگے
وہ عالم ہے مجبور ۔ تو عالم آزاد
کلام ۔ علامہ محمد اقبال

الله کا شکر کیسے ؟

ایک خاتون کی عادت تھی کہ وہ روزانہ رات کو سونے سے پہلے اپنی دن بھر کی خوشیوں کو ایک کاغذ پر لکھ لیا کرتی تھی

ایک شب اس نے لکھا کہ
میں خوش ہوں کہ میرا شوہر تمام رات زور دار خراٹے لیتا ہےکیونکہ وہ زندہ ہے اور میرے پاس ہے
یہ اللّٰه کا شکر ہے
میں خوش ہوں کہ میرا بیٹا صبح سویرے اس بات پر جھگڑا کرتا ہے کہ رات بھر مچھر،کھٹمل سونے نہیں دیتے یعنی وہ رات گھر پہ ہی گزارتا ہے آوارہ گردی نہیں کرتا
اس پر بھی اللّٰه کا شکر ہے۔
میں خوش ہوں کہ ہر مہینہ بجلی، گیس، پانی،پٹرول وغیرہ کا اچھا خاصا ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے یعنی یہ سب چیزیں میرے پاس میرے استعمال میں ہیں اگر یہ نہ ہوتی تو زندگی کتنی مشکل ہوتی
اس پر بھی اللّٰه کا شکر ہے
میں خوش ہوں کہ دن ختم ہونے تک میرا تھکن سے برا حال ہوجاتا ہے یعنی میرے اندر دن بھر سخت کام کرنے کی طاقت ہے اور یہ طاقت اور ہمت صرف اللّٰه ہی کے فضل سے ہے
میں خوش ہوں کہ روزانہ اپنے گھر کا جھاڑو پونچا کرنا پڑتا ہے اور دروازے کھڑکیاں صاف کرنا پڑتی ہیں شکر ہے میرے پاس گھر تو ہے جن کے پاس نہیں ان کا کیا حال ہوتا ہوگا
اس پر اللّٰه کا شکر ہے
میں خوش ہوں کہ کبھی کبھار تھوڑی بیمار ہو جاتی ہوں یعنی میں زیادہ تر صحت مند ہی رہتی ہوں
اس پر بھی اللّٰه کا شکر ہے
میں خوش ہوں کہ ہر سال عید پر تحفے اور عیدی دینے میں پرس خالی ہو جاتا ہے یعنی میرے پاس چاہنے والے میرے عزیز رشتہ دار دوست احباب ہیں جنہیں تحفہ دے سکوں اگر یہ نہ ہوں تو زندگی کتنی بے رونق ہو
اس پر بھی اللّٰه کا شکر ہے۔
میں خوش ہوں کہ روزانہ الارم کی آواز پر اٹھ جاتی ہوں یعنی مجھے ہر روز ایک نئی صبح دیکھنا نصیب ہوتی ہے۔۔۔
ظاہر ہے یہ اللّٰه کا ہی کرم ہے

جینے کے اس انمول فارمولے پر عمل کرتے ہوئے اپنی بھی اور اپنے سے وابستہ لوگوں کی زندگی پرسکون بنایئے

عِلم کی ناپُختگی

پختہ افکار کہاں ڈھونڈنے جائے کوئی
اس زمانے کی ہوا رکھتی ہے ہر چیز کو خام
مدرسہ عقل کو آزاد تو کرتا ہے مگر
چھوڑ جاتا ہے خیالات کو بے ربط و نظام
مردہ ۔ لادینی افکار سے افرنگ میں عشق
عقل بے ربطیء افکار سے مشرق میں غلام

کلام ۔ علامہ محمد اقبال

اگر ہم مسلمان ہیں

سورة 2 البَقَرَة آیت 42 ۔ وَلَا تَلۡبِسُوا الۡحَـقَّ بِالۡبَاطِلِ وَتَكۡتُمُوا الۡحَـقَّ وَاَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ

باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو

سورة 5 المَائدة آیت 8 ۔ ييٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوَّا امِيۡنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ‌ وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰٓى اَ لَّا تَعۡدِلُوۡا‌ ؕ اِعۡدِلُوۡا هُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰى‌ وَاتَّقُوا اللّٰهَ‌ ط اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ‏

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ۔ اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنَو ۔ کسی گروہ کی دُشمنی تم کو اتنا مُشتعَل نہ کر دے کہ اِنصاف سے پھِر جاؤ ۔ عدل کرو ۔ یہ خدا تَرسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے ۔ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو ۔ جو کچھ تُم کرتے ہو اللہ اُس سے پوری طرح باخبر ہے

حُکمرانوں کے لئے

تسلیم کی خوگر ہے جو چیز ہے دنیا میں
انسان کی ہر قوّت سرگرم تقاضہ ہے
اس ذرّے کو رہتی ہے وسعت کی ہوس ہر دم
یہ ذرّہ نہیں ۔ شاید سمٹا ہوا صحرا ہے
چاہے تو بدل ڈالے ہیئت چمنستاں کی
یہ ہستی دانا ہے ۔ بینا ہے ۔ توانا ہے

گلستاں میں نہیں حد سے گذرنا اچھا
ناز بھی کر تو باندازہء رعنائی کر
پہلے خود دار تو مانند سکندر ہو لے
پھر جہاں میں ہوس شوکت دلدائی کر

نظر آتے نہیں بے پردہ حقائق ان کو
آنکھ جن کی ہوئی محکومی و تقلید سے کور

ملے گا منزل مقصود کا اسی کو سراغ
اندھیری شب میں ہے چیتے کی آنکھ جس کا چراغ
میّسر آتی ہے فرصت فقط غلاموں کو
نہیں ہے بندہء حر کے لئے جہاں میں فراغ
فروغ مغربیان خیرہ کر رہا ہے تجھے
تری نظر کا نگہباں ہو صاحب مازاغ
وہ بزم عیش ہے مہمان یک نفس دو نفس
چمک رہے ہیں مثال ستارہ جس کے ایاغ
کیا تجھ کو کتابوں نے کور ذوق اتنا
صبا سے بھی نہ ملا تجھ کو بوئے گل کا سراغ
کلام ۔ علامہ محمد اقبال

Pages