سعد کا بلاگ

سیلفی

موجودہ زمانے میں سب سے زیادہ کس چیز کا رواج ہے؟ اس سوال کا جواب بچہ بچہ جانتا ہے. جی ہاں. سیلفی! 

یہ وہ لت ہے جو اس وقت بلا تفریق مذہب و رنگ و نسل دنیا بھر کے لوگوں کو لگ چکی ہے. خود کو ہیرو سمجھنے والے بچے، نوجوان، جوان اور بڈھے بابے منھ کے طرح طرح کے زاویے بناتے ہوئے موبائل ہاتھ میں لے کر اپنی تصویریں کھینچتے اور فیس بُک پر  شیئر کرتے نظر آتے ہیں. بظاہر ان کا مقصد دنیا کو اپنے حسن سے متاثر کرنا ہوتا ہے لیکن درحقیقت  ان کے دماغ میں کیا کیڑا ہوتا ہے، وہی بہتر جانتے ہیں.

اسی طرح وہ حسن کی دیویاں جو اپنا حسن چھپانا بھی چاہتی ہیں اور رہ بھی نہیں سکتیں، وہ اپنے چہرے پر گھنی زلفوں کا سایہ کر لیتی ہیں تاکہ لفنگوں کی نظرِ بد سے محفوظ بھی رہ سکیں اور اپنا شوق بھی پورا کر سکیں. نقاب پوش حسینائیں بھی سیلفی کی بے حد  دیوانی پائی گئی ہیں. سر کٹی سیلفی بھی ان کی ہی ایجاد ہے.

سیلفی کی ابتدا کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں. فیس بکی علماء اسے علامہ اقبال کی ایجاد قرار دیتے ہیں حالانکہ وہ سیلفی لیتے کبھی بھی نہیں پکڑے گئے. ان علماء نے خودی اور سیلفی کا یہ تعلق حال ہی میں دریافت کیا ہے.

مسٹر بین سیلفی لیتے ہوئے

مسٹر بین سیلفی لیتے ہوئے

ایک دوسرے مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ مسٹر بِین کو اس کا موجد قرار دیتے ہیں جس کے تصویری ثبوت بھی فراہم کیے گئے ہیں.

سیلفی لینے کی سب سے مشہور جگہ باتھ روم ہے جہاں پہلے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی تصویر کھینچی جاتی ہے، پھر  دیگر ضروریات سے فارغ ہو کر دوبارہ اپنی تصویر کھینچی جاتی ہے اور پھر دونوں تصاویر کا موازنہ کر کے جو زیادہ اچھی لگے، اسے فیس بُک یا ٹوئٹر پر پوسٹ کر دیا جاتا ہے.

بعض لوگوں کے بازو چھوٹے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ صحیح طریقے سے سیلفی نہیں لے سکتے کیونکہ کیمرہ زیادہ نزدیک ہونے کی وجہ سے تصویر میں ان کا منھ بہت بڑا آتا ہے. اس اہم مسئلے کا حل سائنس دانوں نے سیلفی اسٹک ایجاد کر کے نکال لیا ہے. یہ ایک چھڑی ہوتی ہے جس کے ایک سرے پر کیمرے والا موبائل اور دوسرے سرے پر چھوٹے بازوؤں والا کارٹون کھڑا ہوتا ہے.

سیلفی لینے کا عمل تنہائی میں زیادہ بہتر طریقے سے کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس وقت کوئی آپ کی حرکتیں نہیں دیکھ رہا ہوتا. بصورت دیگر کوئی سرپھرا آپ سے وہ چھڑی چھین کر آپ کی تشریف پر بھی رسید کر سکتا ہے!


Filed under: حالاتِ حاضرہ, طنز و مزاح Tagged: فیس بک, خودی, سیلفی, علامہ اقبال

حکایت

 بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ  

“اے پیغمبرِ خدا! میں نے ایک باغ آراستہ دیکھا ہے کہ اس میں بہت سے میوے ہیں اور میں نے دیکھا کہ اس باغ میں ایک بہت بڑا خنزیر بیٹھا ہے اور مجھ سے لوگوں نے کہا کہ یہ باغ اس خنزیر کی ملکیت ہے۔ میں اس بات سے حیران ہوں اور باغ میں  بہت سے خنزیروں کو میوے کھاتے ہوئے دیکھا  اور لوگوں نے کہا کہ یہ تمام خنزیر اس  بڑے خنزیر کے حکم سے  میوے کھاتے ہیں۔”

حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ

“وہ  بڑا خنزیر ظالم اور جابر بادشاہ ہے  اور دوسرے خنزیر  دانش مند حرام خور ہیں، جو ظالم بادشاہ کے مطیع اور تابع فرمان ہیں اور دین کو دنیا کے بدلے بیچتے ہیں۔” 


Filed under: مذہب, تاریخ, حالاتِ حاضرہ Tagged: تعبیر, تعبیرالرویا, حکمران, حکایات, حکایت, حضرت سلیمان, خواب

ہمدردی

بھولا چھٹی کے وقت دفتر سے گھر جانے کیلیے نکلا۔ تھوڑے ہی فاصلے پر اسے ایک آدمی نے رکنے کا اشارہ کیا اور لفٹ مانگی۔ آدمی حلیے سے پڑھا لکھا اور معزز معلوم ہوتا تھا لہٰذا اس نے اسے اپنے ساتھ موٹر سائیکل پر بٹھا لیا۔
“کیوں نہ میں آپ کو ایک سبق آموز قصہ سناؤں؟ وقت اچھا کٹ جائے گا”۔ معزز آدمی نے رستے میں پوچھا
“ضرور”۔ بھولا خوش اخلاقی سے بولا
“ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی شجر کی ٹہنی پر ایک بلبل اداس بیٹھا تھا۔ وہ سارا دن کھاتا پیتا اور گانا گاتا رہا تھا nightingaleاور اسے پتا ہی نہ چلا کہ کب شام ہوئی اور کب اندھیرا چھا گیا۔ بلبل اسی پریشانی میں تھا کہ اب آشیاں تک کیسے پہنچے ، ایک جگنو اس کی مدد کو پہنچا۔ جگنو نے روشنی کر کے بلبل کو راستہ دکھایا اور اسے منزل تک پہنچا دیا”۔ معزز آدمی نے کہانی سنائی اور اتنے میں اس کا سٹاپ آگیا اور وہ موٹر سائیکل سے اتر گیا۔
“کہانی سنانے کا شکریہ مگر یہ میں بچپن میں ہی سن چکا ہوں”۔ بھولے نے کہا
“دراصل آپ نے بچپن میں جو کہانی سنی وہ ادھوری تھی۔ بقیہ کہانی یہ ہے کہ جیسے ہی جگنو بلبل کو چھوڑ کر واپس جانے کیلیے مڑا، بلبل جسے گھر پہنچ کر دوبارہ بھوک لگ چکی تھی، نے چونچ بڑھائی اور جگنو کو ہڑپ گیا”۔ معزز آدمی نے بتایا
“اوہ… مگر اس کہانی سے اخلاقی سبق کیا ملتا ہے؟” بھولے نے پوچھا!
“یہ تو آپ کو گھر پہنچ کر ہی معلوم ہو گا”۔ معزز آدمی نے بھولے کو جواب دیا اور اس کا شکریہ ادا کر کے چل دیا۔
جب وہ سوچ میں ڈوبا گھر پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ اس کی جیب میں بٹوا نہیں ہے۔ اب اسے کہانی کا اخلاقی سبق اچھی طرح سمجھ آ گیا اور ساتھ ہی ابا جی کا قول بھی کہ بیٹا اس زمانے میں سبق بھی مفت میں نہیں ملتا!


Filed under: متفرقات Tagged: کہانی, بلبل, جگنو, سبق

کرکٹ نیوز

جاوید میانداد جنہیں ناقص پاکستانی بیٹنگ کو سدھارنے کیلیے عارضی طور پر مشیر رکھا گیا ہے اور جس پر دیگر تمام کرکٹ ٹیموں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے، کل سری لنکا پہنچے۔ سری لنکا پہنچتے ہی انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے پاس پاکستانی بیٹنگ کو مضبوط کرنے کا تعویز ہے۔ بعد میں انہوں نے اس تعویز کی فوٹو کاپیاں کرا  کے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بیٹسمینوں میں تقسیم کیں۔ جب کھلاڑیوں نے تعویز کھول کر اسے پڑھا تو اس میں مندرجہ ذیل باتیں لکھی ہوئی تھیں:

تعویز برائے فتح  ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ ۲۰۱۲ سری لنکا

تمام بلے بازوں کو سختی کے ساتھ ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ پہلے دس اوور روک کر کھیلیں تاکہ وکٹ بچائی جا سکے۔

اگلے آٹھ اوور سنگلز اور ڈبلز لے کرگزارا کریں۔ آخری دو اووروں میں چوکے لگانے کی اجازت ہے مگر چھکے کی کوشش مت کریں کیونکہ اس کوشش میں آپ کیچ آؤٹ ہو سکتے ہیں۔

یہ پڑھتے ہی شاہد آفریدی حیرت کے مارے بے ہوش ہو گئے۔ ہوش میں آنے کے بعد انہوں نے پہلا سوال یہ پوچھا کہ اتنے رنوں کا دفاع کون کرے گا؟  جواب میں میانداد نے سعید اجمل کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اسے کیا آلو چھولے بیچنے کیلیے ٹیم میں رکھا ہے؟

بھارت سے خبر ملی ہے کہ وہاں ینگ کرکٹرز ایسوسی ایشن نے سچن ٹنڈولکر کے خلاف ایک مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ سچن ٹندولکر، جو کہ اشوکِ اعظم کے زمانہ سے کرکٹ کھیل رہے ہیں، کو اب کرکٹ ٹیم کی جان چھوڑ دینی چاہیے تاکہ نوجوان کھلاڑیوں کو بھی قومی کرکٹ ٹیم میں شامل ہونے کا موقعہ مل سکے۔ سچن ٹنڈولکر نے اس مطالبے کو بچگانہ قرار دے کر مسترد کر دیا اور مظاہرین کو وڈیو گیمز پر کرکٹ کی پریکٹس کرنے کا مشورہ دیا۔ چندر گپت موریہ کے دور کے بعض بھارتی کرکٹروں نے سچن ٹنڈولکر کی حمایت میں بیان دیئے ہیں۔

کرکٹ کی دیوانی پاکستانی گونگوں اور بہروں کی تنظیم نے اپنے اعلامیے میں کرکٹ ورلڈ کپ کی کامیابی کیلیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ساتھ ہی اپنے اس دکھ اور حسرت کا اظہار بھی کیا کہ وہ کرکٹ کی کمنٹری سننے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ اس کے فوری ردعمل کے طور پر ٹی وی چینل والوں نے بہروں کیلیے ایک خصوصی ٹرانسمیشن چلانے کا اعلان کیا جس میں اشاروں کی زبان میں کرکٹ میچ کی کمنٹری نشر کی جائے گی۔ اس پروگرام کی میزبانی مستقبل میں مستقل  جاوید میانداد کریں گے۔

کرکٹ کی تازہ ترین خبروں کیلیے  روزانہ وزٹ کرتے رہیے “صبرنامہ ڈاٹ کام”۔


Filed under: کھیل, طنز و مزاح Tagged: T20, ورلڈ کپ, کرکٹ

زیست برای خورد

جب میں پرائمری سکول میں پڑھتا تھا تو   یہ معلوم ہوا کہ تمام جانداروں کو زندہ رہنے کیلیے ہوا ، پانی اور خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔  ماسٹر جی نے یہ تو بتا دیا مگر خوراک کی وضاحت نہ کی۔ ذہن چونکہ بچوں والا تھا اس لیے خوراک سے مراد روٹی ہی لیتا رہا مگر یہ تجسس بھی کافی عرصہ رہا کہ پودے روٹی کیسے کھاتے ہیں؟ خیر اگلی جماعتوں میں معلوم ہو گیا کہ جاندار اپنی اپنی نوع اور ضرورت کے مطابق روٹی کی علاوہ بھی بہت کچھ کھاتے ہیں اگر مل جائے تو!

مثال کے طور پر کبوتر دانے کھاتا ہے، میاں مٹھو چُوری کھاتا ہے، گدھا گھاس کھاتا ہے، بلی چوہے کھاتی ہے اور کتا جو کچھ کھاتا ہے  وہ آپ اچھی طرح جانتے  ہیں مجھے بتانے کی ضرورت نہیں۔ اگر حضرت انسان کی بات کی جائے تو یہ وہ کچھ کھا جاتا ہے جس کو کوئی اور جاندار ہضم نہ کر سکے اور بعد میں ڈکار تک نہیں لیتا۔ مثلاً بچہ جو چیز ہاتھ میں آ جائے کھا جاتا ہے،  کلرک رشوت کھاتا ہے،  فقیر بھیک مانگ کر کھاتا ہے، غریب گالیاں  کھاتا ہے،  جھوٹا قسم کھاتا ہے،  کمزور مار کھاتا ہے،   پولیس والا حرام کھاتا ہے ، مسلمان سود کھاتا ہے،   ڈاکٹر فیس کھاتا ہے اور سیاستدان ……  عام آدمی ہمیشہ اس  سے فریب کھاتا ہے۔

ہمارے ملک میں دو قومیں ایسی ہیں جن پر آسمانوں سے من و سلویٰ نازل ہوتا ہے۔ ایک تو یہ سیاستدان اور دوسری قوم  وہ جس کا نام بوجۂ خوفِ تاحیات گمشدگی نہیں لیا جا سکتا۔ کبھی کبھی دل میں یہ کفریہ خیال آتا ہے کہ ان دو قوموں پہ خدا  مہربان کیوں ہے؟  شیطانی وسوسوں سے بچنے کیلیے میں دل کو تسلی دے لیتا ہوں کہ ان کا انجام بھی وہی ہے جو بنی اسرائیل کا ہوا تھا۔

ہر انسان اپنی سوچ ،  کردار، حیثیت اور عادت کے مطابق یہ سوچے بغیر کہ اس کی ضرورت بس ایک یا دو روٹی ہی ہے، بہت کچھ کھا جاتا ہے۔ جو نہ کھا سکے وہ دنیا میں  دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کو کوستا ہے مگر اپنا دماغ نہیں استعمال کرتا۔

اور ایک بات جو اکثر میں بھول جاتا ہوں کہ اللہ بھی اپنی مخلوق پر رحم کھاتا ہے۔


Filed under: متفرقات Tagged: کھانا, حرام خوری, خوراک

کرکٹیریا


آج شام میرا گزر ایک گروہِ مفکرین کے پاس سے ہوا جو ایک جوہڑ کے کنارے آلتی پالتی مار کر سوگوار بیٹھے ہوئے تھے اور کسی اہم موضوع پر گفت و شنید کر رہے تھے۔ مجھے تجسس ہوا اور جیسے ہی میں ان کے قریب ہوا انھوں نے مجھے اپنے پاس بیٹھنے کی دعوت دی۔ میں تشکرانہ انداز میں مودب ہو کر ان کے پاس بیٹھ گیا اور ان کی باتیں سننے لگا۔ موضوعِ بحث کرکٹ تھا اور وہ لوگ انڈیا کے ہاتھوں پاکستان کی شکست کا ماتم کر رہے تھے۔ ان کی آوازوں میں ایک عجب سا سوز تھا جس سے میں بھی اداس ہو گیا۔

ایک مفکر نے، جن کو  بیٹ پکڑنا بھی نہیں آتا تھا، پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ کی خامیوں کو واضح کیا۔ ایک اور مفکر ، جن کو  میرے گاؤں کی کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ مرتبہ صفر پر آؤٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہے، پاکستانی ٹیم  کی بیٹنگ کے مستقبل سے مایوس نظر آئے۔ انھوں نے فرمایا کہ پاکستانی شکست کے پیچھے جوئے کے امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بعد میں مجھے علم ہوا کہ یہ صاحب پاکستان کی جیت کیلیے ۵۰۰ روپے لگا چکے تھے جو کہ ڈوب گئے۔ میں نے مودبانہ انداز میں کہا کہ میچ ہارنے کی وجہ بیٹنگ نہیں باؤلنگ تھی تو سب نے حقارت بھری نظر مجھ پر ڈالی اور پوچھا کہ کیا تم نے میچ دیکھا تھا؟ “میچ تو ہم میں سے کسی نے بھی نہیں دیکھا کیونکہ بجلی ہی نہیں تھی! ” میں نے جواب دیا اور کچھ پل کیلیے سکوت ہو گیا۔

ایک مفکر نے بیان دیا کہ یہ پاکستان اور بھارت کے مابین میچ  نہیں بلکہ خدا اور بھگوان کے درمیان جنگ تھی۔ اس سے پہلے کہ مزید کفر بکا جاتا، میں نے ان سے مصباح الحق  کی میچ کے بارے میں حکمتِ عملی کے بارے میں رائے مانگی۔ مصباح کا نام سنتے ہی سب کے چہرے غصے سےلال  ہو گئے۔ سب سے پہلے ایک بزرگ دانشور نے  فصیح و بلیغ پنجابی میں مصباح الحق کا شجرہ بیان کیا اور پھر اس کی” کمزوریوں”  پر حکیمانہ انداز میں روشنی ڈالی۔اس کے بعد انھوں نے فرمایا کہ مصباح سے اچھا تو وہ جنوبی افریقی ہیجڑہ ہے! اور یہ  مصباح تو پاکستانی مردوں کے نام پر بدنما دھبہ ہے۔ ایک اور مفکر نے مصباح کی شان میں قصیدہ پڑھنے کے بعد مشورہ دیا کہ( اس میں اگر غیرت ہے تو ) خودکشی کر لے۔

اس کے بعد موضوع انڈین ٹیم کی بیٹنگ کی طرف مڑ گیا۔ سب نے ٹنڈولکر کی سنچری نہ ہونے کا افسوس کیا اور کہا کہ اگر وہ سنچری کر جاتا تو پاکستان میچ جیت جاتا۔ پھر ویرات کوہلی، جسے سب پیار سے کوہلو کہہ کر پکار رہے تھے، کی تعریف کی گئی اور جب میں نے تصحیح کی کوشش کی تو مجھے اردو گرامر کے اسرار و رموز سمجھانے کے بعد بتایا گیا کہ کوہلی اور کوہلو میں کچھ خاص فرق نہیں ہے کیونکہ کوہلو کا تعلق بیل سے ہے ، بیل کا گائے سے اور گائے ہندوؤں کے نزدیک انتہائی متبرک جانور ہے جس کی نسبت پر کوہلی کو فخر ہے۔ اس سے پہلے کہ میں یہ انوکھا تعلق سمجھ پاتا، سب نے فائنل میچ میں پاکستان کے ہارنے کی پیشن گوئی کی اور اس پر پیسے بھی لگا نے شروع کر دیے۔

میں وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا اور جب واپس گھر پہنچا تو خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا۔


Filed under: کھیل Tagged: مصباح الحق, کرکٹ, پاکستان, انڈیا

اقبال کا شاہین

مرغ

دورِ حاضر کے ایک نقاد کے بقول حضرت علامہ اقبالؒ بلاشبہ ایک عظیم شاعر تھے مگران کی ایک بات پر مجھے شدید اعتراض ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری میں شاہین نامی ایک فرضی پرندے کا تو بہت زیادہ ذکر کیا ہے جبکہ مرغ نامی ایک عوامی پرندے کو وہ نظرانداز کر گئے۔ شاہین فرضی پرندہ اس لیے کہ یہ پرندہ کبھی ہمارے ملک میں نظر نہیں آیا۔ اس کا ذکر ماضی بعید کی کہانیوں میں یا پھر علامہ اقبالؒ کی شاعری میں ہی ملتا ہے۔ اس کے برعکس مرغ ایک ایسا پرندہ ہے جو ہمارے اردگرد بکثرت پایا جاتا ہے۔

مرغ نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر مقبول ہے۔ اسکول میں اساتذہ بچوں کو مرغا بنا کر، دعوتوں میں لوگ اس کو شکم میں اتار کر،  مرید اپنے پِیر کو چڑھا کر اور بعض ظالم اسے لڑا کر اس پرندے سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ دیہات میں نامعلوم مقاصد کیلیے سب سے زیادہ چوری ہونے والی شے بھی یہی ہے۔
مرغ انسانوں سے گہری محبت رکھتے ہیں اور اسی محبت کی بنا پر انھوں نے انسانوں کی بھی کئی عادات اپنا لی ہیں۔ پہلے مرغے فجر کے قریب بانگیں دیا کرتے تھے تاکہ لوگ جلدی اٹھ جائیں مگر اب رات کے ایک یا دو بجے کے قریب سونے سے پہلے بانگ دیتے ہیں اور سو جاتے ہیں اور پھر سورج کی تیز دھوپ ہی ان کو جگاتی ہے۔

علامہ اقبال کے برعکس سید ضمیر جعفری مرغ کے پر تک کی اہمیت سے اچھی طرح واقف تھے۔ ان کے ایک شعر سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے:

 میری درویشی کے جشنِ تاجپوشی کے لیے
ایک ٹوپی اور مرغی کے کچھ پر پیدا کرو

آپ نے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزید فرمایا کہ

حضرتِ اقبال کا شاہین تو کب کا اُڑ گیا
اب کوئی اپنا مقامی جانور پیدا کرو



Filed under: متفرقات Tagged: مرغ, یوم اقبال, ککڑ, اذان, سید ضمیر جعفری, شاہین, شاعری, علامہ اقبال

انقلابی بھینسا

 

کسی جنگل میں ایک بھینسا رہتا تھا۔ جنگل کے جس حصے میں وہ قیام پذیر تھا وہاں گھاس کی کافی قلت تھی۔ وہ چرنے کیلیے جنگل کے دیگر قطعوں میں جانے سے ڈرتا تھا کیوں کہ وہاں دیگر جانوروں کا راج تھا اور وہ اسے ادھر پھٹکنے نہیں دیتے تھے اور اسے مار بھگاتے تھے۔ اس صورتحال کی وجہ سے بھینسا بہت کمزور ہو گیا۔ 

ایک رات بھینسا سویا ہوا تھا کہ اسے خواب میں ایک بزرگ بھینسے کی روح کی زیارت ہوئی۔ انہوں نے اسے حالات تبدیل کرنے کیلیے جنگل کی سیاست میں عملی حصہ لینے کا مشورہ دیا اور کامیابی کی بشارت بھی دی۔ صبح اٹھ کر بھینسے نے بزرگ بھینسے کی روح کے مشورے پر عمل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

ابتدا میں بھینسے نے اپنے قطعہ کے کمزور جانوروں کو اکٹھا کیا اور انہیں ان کے بنیادی حقوق سے آگاہ کیا۔ آہستہ آہستہ جانوروں کا ایک گروہ اس کا ہم خیال بن گیا اور انہوں نے جنگل کے دیگر قطعوں میں ابھی اپنے انقلابی نظریات کا پرچار کرنا شروع کر دیا۔ وقت گزرتا گیا اور بھینسے کے گرد بے شمار جانور اکٹھے ہو گئے جن میں اکثر خونخوار درندے بھی شامل تھے۔ اب بھینسے نے انہیں جنگل کا کنٹرول حاصل کرنے کا حکم دے دیا اور جنگل میں ایک نہ ختم ہونے والا خون خرابہ شروع ہو گیا۔

جنگ کے دوران جب بھینسے پر بھی حملے ہوئے تو وہ جان بچانے کیلیے ایک دور دراز جنگل میں بھاگ گیا اور وہاں پناہ حاصل کی۔ وہاں کی آب و ہوا اور خوراک بھینسے کو خوب راس آئی اور اس کی گردن اور منہ خوب موٹے ہو گئے اور پیٹ کا حجم تین گنا ہو گیا۔ 

اب بھینسا وہاں موٹاپے کی وجہ سے عجیب و غریب آواز میں ڈکراتا پھرتا ہے اور وہاں سے اپنے گروہ کو جنگی ہدایات بھیجتا رہتا ہے اور اس کے گروہ کے جانور جنگل میں اقتدار کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 

بعض جانور اسے مشورہ دیتے ہیں کہ واپس اپنے جنگل میں چلے جاؤ مگر بھینسا انتہائی سیانا ہو چکا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ انقلاب اپنے رہنما کا خون مانگتا ہے اور بھینسے کو اپنی جان بہت پیاری ہے۔ 


Filed under: متفرقات Tagged: کہانی, انقلاب, بھینسا, جنگل

سیاست دان

استاد: سیاست دان کیا کرتے ہیں؟       

شاگرد ۱: عوام کو دھوکہ دیتے ہیں!

شاگرد ۲: ملکی خزانے کو لوٹتے ہیں!

شاگرد ۳: عوام کو بے وقوف بناتے ہیں!

شاگرد ۴: عوام کے ساتھ جھوٹے وعدے کرتے ہیں!

شاگرد ۵: ملک کے ساتھ غداری کرتے ہیں!

شاگرد ۶: ملک کے ٹکڑے کرتے ہیں!

شاگرد ۷: لوگوں کو قتل کرواتے ہیں!

شاگرد ۸: حرام خوری کرتے ہیں!

شاگرد ۹: بے غیرتی کرتے ہیں! 

شاگرد ۱۰: ………………………………

شاگرد ۱۱: ……………………………….

…………………………………………………

استاد: آخر آپ لوگ یہ کیوں نہیں کہتے کہ وہ “سیاست” کرتے ہیں؟

شاگرد : کیونکہ ہم طالبِ علم ہیں۔ سیاستدان نہیں!                                                                                                                                                                                  


Filed under: سیاست, طنز و مزاح Tagged: مکالمہ, استاد, سیاست, سیاستدان, شاگرد

انتباہ

وکی لیکس کا پاکستان کے بارے میں ایک اور تازہ ترین انکشاف ملاحظہ فرمائیے:

چند سال قبل پاکستان کی وزاتِ بہبودِ آبادی نے ملک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو  روکنے میں ناکامی کا اعتراف کیا۔ وفاقی وزیر نے کابینہ کو بتایا کہ محکمہ اپنے مقاصد میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کو روکنا اب اس کے بس میں نہیں رہا۔ وزیر نے سفارش کی کہ ان  کے محکمے کا کام ملک کی سیکیورٹی فورسز کو سونپ دیا جائے کیونکہ وہ لوگ یہ کام زیادہ بہتر طریقے سے سرانجام دے سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی  کی گولیوں کے پیسے ہمیں دے کر ضائع کرنے کی  بجائے فورسز کو دیئے جائیں تاکہ وہ  زیادہ زود اثر گولیاں خرید سکیں۔ وفاقی کابینہ نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا اور اسے فوراً منظور کر لیا گیا۔

انسانی حقوق کی کچھ تنظیموں نے  پاکستانیوں سے درخواست کی ہے کہ اگر آپ لوگ چاہتے ہیں کہ آپ کے پیاروں کو آپ کیلیے رونا نہ پڑے تو وردی والوں اور ان کی گاڑیوں سے کم از کم ایک ہزار میٹر کا فاصلہ رکھیں تاکہ آپ کی جان خطرے میں نہ پڑے۔


Filed under: متفرقات, حالاتِ حاضرہ Tagged: فوج, قتل, وکی لیکس, پاکستان, خاندانی منصوبہ بندی, دہشت گردی

نسخۂ دافع روشن خیالی

بہت دنوں سے میری طبیعت کافی بوجھل سی تھی۔ اداسی دور کرنے کیلیے آج صبح میں نے ریڈیو پر اپنے شہر کا واحد ایف ایم سٹیشن آن کیا تاکہ روح کو کچھ غذا مل سکے اور طبیعت بہل سکے۔  ریڈیو سٹیشن پر بھینس  مارکہ صابن اور جوئیں مار شیمپو کے اشتہار چل رہے تھے۔ اشتہارات کے اختتام پر حکیم سلیمان تشریف لائے اور بیمار قوم کو مفید طبی مشوروں سے نوازنے لگے۔ ان کے چند مشوروں کے بعد مجھے یقین سا ہو گیا کہ میرے مسئلے کا حل بھی یقیناً ان کے پاس ہو گا۔ میں نے فون اٹھایا اور ان سے رابطہ کر کے اپنا مسئلہ کچھ یوں بیان کیا۔

“حکیم صاحب   میرا مسئلہ کچھ نفسیاتی نوعیت  کا ہے۔ میں موجودہ ملکی حالات سے دلبرداشتہ ہو چکا ہوں۔ مذہب کے نام نہاد ٹھیکیدار فساد فی الارض میں مصروف ہیں نیز خواب میں بھی مولوی مجھے آ کر ڈراتے ہیں۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ تمام مسائل کی جڑ مذہب ہی ہے۔ اب میں مذہب سے بیزار ہو چکا ہوں!”

حکیم صاحب نے تحمل سے میری بات سنی اور فرمایا کہ” برادرم! میں آپ کا درد سمجھ چکا ہوں۔ آپ کے جسم میں روشن خیالی کے جراثیم پرورش پا رہے ہیں مگر آپ فکر مت کریں”۔ اس کے بعد حکیم صاحب نے روشن خیالی کے جراثیم مارنے کیلیے ایک مجرب حکیمی نسخہ تجویز کیا جو فلاحِ عامہ کی خاطر میں آپ سے یہاں شیئر کر رہا ہوں:

اجزائے ترکیبی:

اطریفل، اسگند ناگوری، بکھڑا، ثعلب دانہ، لال بیگ، چھپکلی ، گدھی کا دودھ اور چوہے کی مینگنیاں

ترکیب:
۱۔ دو عدد موٹی چھپکلیاں مار کردھوپ میں  سکھا لیں۔ اگر وقت بچانا چاہتے ہیں تو چھپکلیوں کو توے پر بھون لیں۔
۲۔ تین عدد لال بیگ پکڑ کر انہیں ہلکی آنچ پر پندرہ منٹ ابالیں تاکہ وہ جراثیم سے پاک ہو جائیں۔ اس کے بعد ان کے پر کاٹ کر پھینک دیں۔
۳۔ اسگند ناگوری، ثعلب دانہ ، بکھڑا اور اطریفل ہم وزن لے کر ہاون دستہ میں اچھی طرح کھرل کر لیں  اور ان کا سفوف بنالیں۔
۴۔  خشک چھپکلیاں، ابلے ہوئے لال بیگ اور سفوف ایک ہانڈی میں ڈالیں اور ایک پاؤ  گدھی کا دودھ  ملا کر چولہے پر رکھ دیں اور چمچ ہلانا شروع کر دیں۔
۵۔  چمچہ ہلاتے ہوئے ایک ایک کر کے چوہے کی مینگنیاں ہانڈی میں پھینکتے جائیں حتیٰ کہ ایک مغلظ محلول تیار ہو جائے۔
اب اس محلول کو ٹھنڈا کر کے ایک صاف شیشے کی بوتل میں محفوظ کر لیں۔ دوا تیار ہے۔

طریقہ استعمال:

دوا  لینے کیلیے آپ کو تین عدد  مضبوط مولویوں کی ضرورت پڑے گی۔ ایک چارپائی پر سیدھے لیٹ جائیں۔ ایک مولوی آپ کو بازوؤں سے اور ایک آپ کو ٹانگوں سے کس کر پکڑ رکھے۔ تیسرا مولوی دوا کا ایک چمچ زبردستی آپ کے منہ میں ڈالے۔  امید ہے پہلی خوراک سے ہی کافی افاقہ ہو گا ورنہ ہر روز یہ عمل دہرایا جائے جب تک بیماری ختم نہیں ہو جاتی۔

یہ نسخہ بتانے کے بعد حکیم صاحب کو چھیاسی کالیں موصول ہوئیں جن میں سب لوگوں نے قے روکنے کا نسخہ دریافت کیا تھا۔ حکیم صاحب نے ہنستے ہوئے ان سب کو قے اور متلی روکنے کیلیے یہی دوا تجویز کی۔



Filed under: طنز و مزاح Tagged: FM 96, ترکیب, حکمت, حکیم, حکیم سلیمان, روشن خیالی, طبی نسخہ