سعد (بنیاد پرست)

الحاد جدید کےعلمی محاکمےپراردومیں ایک مکمل سائیٹ

ملحدین کی سوشل میڈیا کے ذریعے اسلام کے خلاف  کی گئی یلغار شاید اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں،  اسلامی عقائد، قرآن، حدیث ، سیرت، تاریخ  پر  اعتراضات، مغالطے ، وساوس   عام ہیں، جس سے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد متاثر ہورہی ہے ۔ ملحدین کی  ان کوششوں کو دیکھتے ہوئے  آج سے دو سال پہلے چند بلاگر دوستوں  (خاموش آواز، وقار اعظم، یاسر خوامخواہ جاپانی، محمد سعد ، سعید پالنپوری ،عمران اقبال) نے  اس موضوع پر کام کرنے کا فیصلہ کیا اور فیس بک پر مذہب فلسفہ اور سائنس کے نام سے بنائے گئے پیج  سے کام کا آغاز کیا گیا ، ابتداء میں مشکلات بھی پیش آئیں کہ موضوع بالکل  روٹین سے ہٹ کے تھا،  جدید فلسفہ ،  سائنس  اور عقل کی روشنی  میں مذہبی نظریات  پر  کیے گئے اعتراضات  کے جوابات  کے لیے جدید فلسفہ /سائنس/جدید ذہن کی نفسیات کا علم ضروری تھالیکن کچھ عرصے بعد اللہ کی مدد سے  کام آسان ہوتا گیا،  جہاں اسلامی عقائد و نظریات /قرآن وحدیث کا پختہ علم رکھنے والے محقق علماء کی سرپرستی ملی  وہاں جدید سائنس و فلسفہ  پر گہری نظر رکھنے والے  لوگوں سے بھی مدد ملنا شروع ہوگئی۔ انکے علاوہ  اس موضوع پر کام کرنے والے جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک  بڑی تعداد  معاون بنی۔
پیج پر ملحدین  و دیگر مخالفین مذہب   کے  اسلام کے متعلق  پھیلائے گئے وساوس/  شبہات اور جدید ذہن کے  اشکالات کے جواب میں کافی اچھی تحاریر جمع ہوگئیں۔ فیس بک کی کچھ کمیاں ہیں کہ وہاں  تحاریر کچھ عرصہ بعد پس  منظر میں چلی جاتی ہیں ، سرچ انجن میں بھی فیس بک کی تحریر کو  جگہ نہیں ملتی، مزید بہت سے موضوعات تفصیل مانگتے ہیں  لیکن  فیس بک پر  تفصیلی تحاریر نفع بخش ثابت نہیں ہوتیں ۔اسکا بہترین متبادل ایک سائیٹ  ہی ہوسکتی ہے، چنانچہ ایک سائٹ 'الحاد ڈاٹ کام' کے نام سے  بنائی گئی جس پر ناصرف  پیج سے پرانی اور روزانہ کی بنیاد پر پیش کی جانے والی تمام تحاریر جمع کردی گئیں  بلکہ موضوعات پر تفصیلی تحقیق  کا مسئلہ بھی حل ہوگیا۔یہ سائیٹ اردو زبان میں جدید الحاد و ملحدین کے علمی تعاقب میں پہلی مکمل سائیٹ ہے۔تقریبا تمام اہم موضوعات پیج اور سائیٹ پر  گہرائی میں   زیر بحث آچکے ہیں ۔ اشکالات کے جوابات کے اس تمام تحریر ی سلسلے میں خصوصی طور پر یہ کوشش کی گئی ہے کہ  غیر جذباتی  اور پروقار  انداز میں   عام فہم ، مدلل ، معقول اور ٹودی پوائنٹ تفصیل   پیش   کی جائے ۔سائیٹ پر  اب تک  جن موضوعات پر تحاریر پیش کی جاچکی ہیں ، سائیٹ کی ایک تعارفی تحریر سے ان کا جائزہ پیش خدمت ہے۔ قارئین کسی بھی موضوع پر سائیٹ کے  متعلقہ مینو/سیکشن  سے تحاریر ملاحظہ فرماسکتے ہیں ۔
مذہب اشکالات:1. خدا: وجود خدا/علت اولی کی بحث ، مذہب کی ضرورت، دنیا میں ظلم/قحط/بھوک ناانصافی اور خدا، الہیات  کے متعلق اہم اعتراضات  کے جوابات
2. مسئلہ آخرت: عقلی توجیہات کا جائزہ،اشکالات اور اعتراضات  کے جوابات
3. مسئلہ تقدیر: انسانی مجبوری/ اختیار کی وضاحت،عقلی شبہات/ اشکالات کا جائزہ
4. اسلام اور عورت کے حقوق : آزادی، طلاق، پردہ ، مساوات، گواہی، وراثت  وغیرہ پر اٹھائے گئے اعتراضات  کے  جوابات
5. اسلام اور لونڈی/غلام : تاریخی جائزہ، عام اٹھائے جانے والے  سوالات کے جوابات 
6. دعائیں قبول نہیں ہوتیں /سوالات/اشکالات/کنفیوزین کا جائزہ
7. عبادات: شعائر اسلام قربانی ، روزہ، زکوۃ، حج کے متعلق پیش کیے گئے  اشکالات کے جوابات
8. علماء/مدارس: مدارس، مولوی، فرقہ واریت -عام اعتراضات کا جائزہ
9. اسلامی قوانین :   جرائم کے خاتمے کا اسلامی طریقہ کار، شرعی قوانین پر سختی کا اعتراض
10. زنا کی حد: ڈی این اے ٹیسٹ کی شرعی حیثیت ،  گواہوں کی غیر موجودگی میں سزا، عام اشکالات کا جائزہ
11. مرتد کی سزا : عقلی جائزہ، اعتراضات کے جوابات
12. توہین رسالت : عقلی بحث، آزادی اظہار رائے اور سیکولر مقدسات، وساوس/اعتراضات کے جوابات
(b)تاریخ اسلام : تاریخ اسلام تحقیقی جائزہ، اعتراضات کے جوابات(c) تاریخ ہندوستان:سلاطین ہند ، جزیہ ، انہدام منادر ، مذہبی آزادی،   محمد بن قاسم، محمود غزنوی، اورنگزیب عالمگیر پر اعتراضات کے جوابات،
(d) مذہب فلسفہ اور سائنس1. سائنسی اشکالات: مذہب اور سائنس کا تقابل، اہم سائنسی مباحث، اشکالات کا جائزہ
2. فلسفیانہ اشکالات: مذہب کے متعلق  فلسفیانہ اشکالات/استدلالات/ نظریات کا جائزہ
3. اسلام اور عقل : ایمان  اور عقل  افراط و تفریط کا جائزہ  ، شرعی اور سائنسی علوم کافرق، حقیقت مطلقہ ، وحی اور عقل
4. جدید انسان: جدید انسان کا مذہب، بے خدا تہذیب  کی پریشانی
5. متفرق: متفرق فلسفیانہ و سائنسی اشکالات

(e)ماڈرن ازم/ جدیدیت: ماڈرن ازم اور اسلام،  جدت پسندوں کی تاویلات ،  سائنس اور قرآن افراط و تفریط کا جائزہ
(f)سیکولرازم/لبرل ازم :  1. سیکولر ازم اور اسلام، سیکولر/لبرلز کی تضاد بیانیاں ، وساوس،  مغالطے
2. جدید ذہن اشکالات: سیکولر مغالطوں کا جائزہ
(g)کیپیٹل ازم: جمہوریت، سرمایہ داریت  اور غربت، افلاس، عدم مساوات، استحصال  کا باہمی تعلق، اہم مباحث  کا  جائزہ
(h)سوشل ازم: سوشل ازم، کمیونزم ، کیپٹل ازم  کافرق
(i)تبصرہ کتب: The God Delusion از رچرڈ ڈاکن، تہذیبی نرگسیت، مغالطے مبالغے از مبارک حیدر کا تحقیقی جائزہ
سائیٹ پر آئندہ چند ماہ میں  آنے  والی تحاریر  -ایک جائزہ
1. سیرت: سیرت کے مصادر و ماخذ، سیرت نگاری کی تاریخ، مستشرقین و ملحدین  کے سیرت پر اعتراضات کا تحقیقی جائزہ
2. قرآن: تاریخ جمع و تدوین قرآن ،  مصاحف صدیقی و عثمانی ، قرات قرآنیہ، ترتیب قرآنی، مستشرقین کے اعتراضات
3. حدیث: تاریخ و تدوین حدیث، فنون حدیث، انکار حدیث، مشہور  اعتراضات کے جوابات
4. فقہ: تاریخ فقہ، فقہ کی حقیقت، فقہ اسلامی اور رومن لاز,  اعتراضات کے جوابات
اللہ سائیٹ کے منتظمین اور معاونین کو اجرعظیم عطا فرمائے۔

بشکریہ ٹیم  الحاد ڈاٹ کام، مذہب فلسفہ اور سائنس

شب برات کی فضیلت - ایک غلط فہمی کا ازالہ

یہ تحریر  بلاگ پر پہلی دفعہ ہفتہ، 16 جولائی، 2011 کو پوسٹ کی تھی ، ابھی دوبارہ اسکو ریفریش کرنے کی   دو وجوہات ہیں  ، ایک یہ کہ اس میں پوسٹ کی گئی پکچر کرپٹ ہوگئی  تھیں  جس کی وجہ سے  اس تحریر کے کمنٹ میں اور جہاں اسکا لنک پیسٹ کیا گیا تھا وہاں  پڑھنے والوں نے  ری پوسٹ کرنے کی درخواست کی تھی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس میں   مفتی تقی عثمانی صاحب کے اس جملے " اگر ایک روایت سند کے اعتبار سے کمزور ہو لیکن اس کی تایید بہت سی احادیث سے ہوجائے تو اسکی کمزوری دور ہوجاتی ہے، " پر    بہت سی جگہوں پر عجیب و غریب تبصرے دیکھنے کو ملے۔ ایک صاحب نے لکھا "
 Zaif+zaif=Zaif he hoti hay "
 ایک اور جگہ یہ تبصرہ دیکھا
"  kesay 1 mamlay per sari ki sari hadeesain kamzoor hon us ko ap deen ka hesa bana sakty hain.... kuch tou khayal karain "
ایک غلط فہمی یہ بھی عام ہے   کہ لوگ ضعیف حدیث کو من گھڑت کے معنی میں لیتے ہیں اور اسکو حقیر سمجھتے  ہیں۔   یہ جملے  بھی کانوں میں پڑتے رہتے ہیں   کہ بھائی فلاں مسئلہ میں تمام احادیث ضعیف ہیں ا س لیے چھوڑو اس پر عمل کرنا، ایک مشہور کتاب فضائل اعمال کے متعلق تو  شاید سب ہی نے ایسی باتیں سن رکھی ہونگی۔ ۔ افسوس ہوتا ہے  لوگ بغیر علم کے  احادیث  پر  تبصرہ ایسے کرجاتے ہیں جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں  کسی  راہ چلتے کی بات ہے یا اخبار میں چھپی کسی کی بات ہے،  ان تبصرے کرنے والوں نے بھی اس بات کو اگنور تو کیا ہی کہ  جو بندہ  یہ بات بیان کررہا ہے (مفتی تقی عثمانی صاحب) وہ چالیس سال سے حدیث پڑھا رہا ہے۔ ۔ صاحبان  حدیث پر فارمولا بھی ریاضی والا لگا گئے کہ 0+0= 0۔ ۔
ضروری وضاحتضعیف نا کہ من گھڑت :
پہلی بات یہ کہ  ضعیف حدیث بھی حدیث رسول ہی ہوتی ہے یہ  لازمی من گھڑت نہیں ہوتی بلکہ راوی میں کچھ کمیوں ، کمزوریوں کی وجہ سے اسکو ضعیف کہا جاتا ہے ، یہ  بحرحال ممکن ہوتا ہے کہ اس کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف درست ہو اس لیے اسکو بالکل چھوڑا نہیں جاتا بلکہ فضائل کے باب میں اس کو استعمال کیا جاتا ہے۔ علماء نے اس لفظ 'ضعیف'  کی مختلف تعریفیں بیان کی گئی ہیں  مثلا یہ وہ حدیث کہلاتی ہے جومنکر اور باطل نہ ہو اور اس کےراوی متہم بالکذب نہ ہو،  اس حدیث کے خلاف کوئی  صحیح حدیث نہ ہو ۔۔۔ ایسی حدیث جس  میں حدیث صحیح وحسن  کی  شرائط نہ پائی جائیں، اس میں ایسے  اسباب ہوں جو  کسی حدیث کوضعیف قرار دینے کے لیے کافی ہوتے  ہیں،  اس کے راوی غیرعادل یامتہم بالکذب، یامستورالحال ہوں ، یہ  متعدد طرق سے مروی بھی نہ ہو۔(اعلاء السنن ، احکام القرآن للجصاص)
کیا  اس حدیث کا ضعف ختم ہوسکتا ہے ؟
اگرحدیث ضعیف کئی سندوں سے مروی ہو اور ضعف کی بنیاد راوی کا فسق یا کذب نہ ہو  تواس کی وجہ سے وہ ضعف سے نکل جاتی ہے اور اسے قوی ومعتبر اور لائق عمل قرار دیا جاتا ہے، محدثین کی اصطلاح میں اس کو "حسن لغیرہ" کہتے ہیں، حافظ بن حجر رحمہ اللہ  کی تفصیل کے مطابق یہ حدیث مقبول ومعتبر کی چار اقسام میں سے ایک ہیں۔بعض حضرات کا کہنا ہے کہ حسن لغیرہ بھی اصل میں ضعیف ہی ہے؛ مگرکسی قوت پہنچانے والے امر کی وجہ سے اس میں حسن پیدا ہو جاتاہے۔(فتح المغیث:۳۵/۳۶)اسی طرح  اگر  حدیث نص قرآنی ہویاقولِ صحابی ہو یاشریعت کےکسی  قاعدہ وضابطہ کے مطابق ہو تو اسکا ضعف نکل جاتا ہے۔         (نزھۃ النظر:۲۹)
ضعیف حدیث  کی اقسام
 ضعیف روایات کی بہت سی اقسام ہیں اور ہر ایک کے ضعف میں راویوں کی کمزوری کی شدت یا  کمی   کے لحاظ سے فرق ہوتا ہے ۔  مشہور قسمیں  ضعیف، متوسط ضعیف، شدید ضعیف اور موضوع ہیں۔ موضوع یعنی گھڑی ہوئی حدیث۔ یہ ضعیف حدیث  کا کم ترین درجہ ہے۔
ضعیف  حدیث پر عمل :
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے حدیثِ ضعیف پر عمل کرنے کی تین شرطیں بیان کی ہیں ۔ ایک یہ کہ   حدیث شدید ضعیف نہ ہو مطلب اسکا راوی جھوٹا اور دروغ گوئی میں مشہور نہ ہو اور نہ فحش غلطیوں کا مرتکب ہو۔ دوسری  اس پر عمل کرنا اسلام کے ثابت اور مقرر ومعروف قواعد کے خلاف نہ ہو۔ تیسری  یہ کہ  عمل کرتے ہوئے اسے صحیح حدیث کی طرح قبول نہ کیا جائے بلکہ   اس بناء پر عمل کیا جائے کہ ممکن ہے کہ حقیقت میں  اس کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف درست ہو۔             (اعلاء السنن:۱/۵۸)
جمہور فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ عقائد کے ثبوت کے لیے مشہور یامتواتر حدیث ضروری ہے، حدیث ضعیف اور خبرواحد اثبات عقائد کے لیے کافی نہیں ہے، ضعیف حدیث اور فضائل کے متعلق لکھتے ہوئے علامہ سخاوی نے متعدد مذاہب کو نقل کیا ہے، جن میں سے ایک امام مسلم اور دیگرمحدثین اور ابنِ حزم کا ہے کہ ضعیف حدیث کسی بھی باب میں حجت نہیں بن سکتی، چاہے وہ فضائل کا باب ہی کیوں نہ ہو؛ (نووی علی مسلم:۱/۶۰)
دوسرا مذہب جس کو علامہ سخاوی نے جمہور کا مذہب کہہ کر بیان کیاہے اور حافظ ابنِ حجر مکی اور ملا علی قاری نے بھی جسے جمہور کا اجماعی مسلک قرار دیا ہے کہ فضائل کے باب میں حدیث ضعیف پر عمل کرنا جائز ہے۔     (الفتاویٰ الحدیثیہ :۱۱۰)آئمہ  حدیث میں عبداللہ بن مبارک، عبدالرحمن بن مہدی، امام احمدوغیرہ سے بھی یہی نقل کیا گیا ہے (اصول امام احمد بن حنبل:۲۷۴) شیخ تقی الدین تحریر فرماتے ہیں کہ یہ گنجائش اس لیے ہے کہ اگرایسی حدیث نفس الامر اور واقع میں صحیح ہے تواس پر عمل کرنا اس کا حق تھا اور اگرواقع میں صحیح نہ تھی توبھی فضائل کے باب میں اس پر عمل کرنے کی وجہ سے دین میں کوئی فساد لازم نہیں آئےگا، اس لیے کہ یہ صورت تحلیل وتحریم اور کسی کے حق سے متعلق نہیں ہے اور پھریہ جواز مطلق نہیں ہے؛ بلکہ ماقبل میں ذکرکردہ شرائط کے ساتھ ہے۔(شرح الکوکب المنیر:۲/۵۷۱)
ضعیف احادیث اور اقوال صحابہ :
امام ابوحنیفہ وامام احمد ضعیف حدیث  کے بالمقابل فتاویٰ اور اقوالِ صحابہ کوترجیح دیتے تھے کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین درس رسالت کے چراغ ہیں، ان کا ہرقول وعمل سنت کے مطابق ہوا کرتا تھا، ان کے کلام سے کلام رسالت کی بومہکتی ہے اور انھوں نے دین کوپہلو رسالت میں رہ کر جتنا سمجھا اور سیکھا ہے دوسرا ان کی خاک تک بھی نہیں پہنچ سکتا، ان کے اقوال وافعال میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہے اورحدیث ضعیف کی صحت وعدم صحت مشتبہ ہے؛ لہٰذا صحابہ کرام کے فتاویٰ واقوال کو ضعیف حدیث پر ترجیح دی گئی۔
شب برات کے متعلق ضعیف احادیث: 
 مفتی تقی عثمانی صاحب نے  شب برات کی احادیث کے متعلق   لکھا  کہ
" شب ِ برات کے بارے میں یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اس کی کوئی فضیلت حدیث سے ثابت نہیں ، حقیقت یہ ہے کہ دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے احادیث مروی ہیں جن میں نبی کریم ﷺ نے اس رات کی فضیلت بیان فرمائی، ان میں سے بعض احادیث سند کے اعتبار سے بیشک کچھ کمزور ہیں اور ان احادیث کے کمزور ہونے کی وجہ سے بعض علماءنے یہ کہہ دیا کہ اس رات کی فضیلت بے اصل ہے، لیکن حضرات محدثین اور فقہاءکا یہ فیصلہ ہے کہ اگر ایک روایت سند کے اعتبار سے کمزور ہو لیکن اس کی تایید بہت سی احادیث سے ہوجائے تو اسکی کمزوری دور ہوجاتی ہے، اور جیساکہ میں نے عرض کیا کہ دس صحابہ کرام سے اسکی فضیلت میں روایات موجود ہیں لہٰذا جس رات کی فضیلت میں دس صحابہ کرام سے روایات مروی ہوں اس کو بے بنیاد اور بے اصل کہنا بہت غلط ہے۔امت مسلمہ کے جو خیرالقرون ہیں یعنی صحابہ کرام کا دور ، تابعین کا دور، تبع تابعین کادور، اس میں بھی اس رات کی فضیلت سے فائدہ اٹھانے کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے،لوگ اس رات میں عبادت کا خصوصی اہتمام کرتے رہے ہیں، لہٰذا اس کو بدعت کہنا، یا بے بنیاد اور بے اصل کہنا درست نہیں ، صحیح بات یہی ہے کہ یہ فضیلت والی رات ہے، اس رات میں عبادت کرنا باعث ِ اجر و ثواب ہے اور اسکی خصوصی اہمیت ہے۔"
اس پہرہ گراف  سے تین باتیں واضح ہورہی ہیں۔
1- شب برات کے متعلق احادیث ضعیف  لیکن کئی سندوں سے مروی   ہیں ایسی حدیث کے متعلق اوپر بیان کیا جاچکا۔
2- یہ احادیث نا عقائد کے باب میں استعمال ہورہی ہیں  اور نا شریعت کے کسی حکم کے خلاف ہیں۔
3-  اس رات کی فضیلت کے متعلق نہ صرف اقوال صحابہ بلکہ  اعمال صحابہ  بھی موجود ہیں۔
ایسی احادیث کا انکار کرنا یا ان  سے ثابت فضیلت کا انکار کرنا دونوں باتیں زیادتی ہی ہے۔

رسالہ '' شبِ براء ت کی حقیقت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب " کو یہاں  سے  ڈاؤنلوڈ  کرسکتے ہیں،   آن لائن پڑھنے کی سہولت بھی موجود ہے۔


مدارس اور دہشت گردی –چند حقائق

سانحہ پشاور پر کون پتھر دل ہے جس کو افسوس نہیں ہوا ہوگا ، اسکی   ہمیشہ کی طرح  ملک کی تمام مذہبی تنظیموں نے بھی مذمت کی . لیکن    پھر بھی الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر  دینی مدارس اور علماء  پر   تنقید کا ایک  طوفان دیکھنے میں آیا۔ ہماری   میڈیا اور حکومت   کا بھی یہ مزاج  بنتا جارہاہے کہ جب بھی ایسا کوئی دہشت گردی کا  واقعہ ہوتا ہے  وہ علماء اور  مدارس کو کٹہرے میں لا کھڑا  کرتے  ہیں  جیسے  وہ دہشت گردی انہوں نے کروائی   ہے  اور ملک کی سیکورٹی کے ذمہ دار وہ  ہیں  ۔ انکو جگہ جگہ بلا کر  تفتیشی انداز میں انٹرویو لیے جاتے ہیں  اور بار بار یہ پوچھا جاتا ہے کہ آپ  اس معاشرے کا سب سے ذیادہ عوامی انفلوینس رکھنے والا طبقہ   ہیں آپ لوگ اس معاملے میں کوئی کردار ادا کرنے میں کیوں ناکام ہیں ؟
 دوسری طرف حالت یہ ہے کہ   نا حکومتی لیول پر پالیسی بناتے وقت انکو کوئی ویلیو دی جاتی ہےا ور نا میڈیا عام حالات میں انکی کسی اچھی رائے ،تجویز، بات کو شائع کرنا گورا کرتا ہے۔  ہر دفعہ ایسے مسائل پر مشورے کے لیے   آل پارٹیز کانفرنس بلائی  جاتی ہیں   لیکن  ایسا کبھی نہیں ہوا   کہ پورے ملک سے علماء کو بھی  جمع کیا گیا  ہو اور ان سے  ان کی رائے لی گئی ہو کہ آپ کے خیال میں  اس کا حل کیا  ہے؟ آپ  اس گرداب ، مشکل سے  نکلنے کا کیا راستہ  تجویز کرتے ہیں  ؟؟ کسی  ایک ایسی   سنجیدہ  کوشش کا حوالہ نہیں دیا جاسکتا  جس میں چند بڑے  علماء  کو ہی  بھلالیا گیا ہو اور انکی تجاویز  سنی گئی  ہو ؟   شروع سے کبھی  انکو ملک کے اندر  سٹیک ہولڈر  سمجھا ہی نہیں  گیا ، یہ سمجھا ہی نہیں  گیا کہ وہ بھی اس حوالے سے ملک میں کوئی کردار ادا کرسکتے ہیں پھر  بھی ہر دفعہ  یہ  پوچھا جاتا ہے  کہ علماء کیا کردار ادا کررہے ہیں   ؟ ہونا یہ چاہیے تھا کہ جب آل پارٹیز کانفرنس بلائی گئی تھی اس کے ساتھ ملک   کی بڑی اور  موثر جامعات اور انکے انفلوئینس  رکھنے والے علماء کو بھی بلایا جاتا۔ ان سے بھی  اس بارے میں رائے لی جاتی۔
 یہی حال میڈیا کا بھی ہے،2009 میں ڈیڑھ  سوسے قریب صف اول کے  علماء نے لاھور میں متفقہ فتوی دیا   جس میں   ملک میں  دہشت گردی کی ان تمام چیزوں کو  رد کیا  گیا،  اسکو میڈیا کی سکرینوں پر  بالکل جگہ نہیں ملی،  ایک خبر تک نہیں چلائی گئی۔ اور  آج یہی میڈیا والے  علماء کو لائن میں کھڑا کرکے یہ پوچھ رہے ہیں کہ علماء کی جانب سے  اس انتہاء پسندی کی سوچ کو کاؤنٹر نہیں کیا جارہا؟ کوئی کاؤنٹر   نیریٹو نہیں دیا جارہا؟  ؟!!
 اب یہ سوال اٹھانے والے یہ نہیں جانتے کہ  پہلے دن سے جب سے یہ مسائل پیش آئے علماء کی جانب سے   حکومت کی غلط پالیسیوں  پر  مثبت تنقید کے ساتھ ساتھ  اس کے بارے میں بڑا واضح موقف اختیار کیا گیا  کہ پاکستان میں مسلح جدوجہد  ناجائز ہے ، قرآن و حدیث میں اسکی اجازت نہیں ہے۔ یہی کاؤنٹر نیریٹو تھا   جو  علماء کے بس میں  تھا  کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مسئلے پر  اپنی رائے کو واضح کرنا، اسکو انہوں نے واضح کیا ہے۔ بات پہنچائی گئی ہے بات کہی گئی ہے ۔  اہل علم کا کام کسی چیز کا ابلاغ اور اسکو پہنچا دینا ہی  ہوتا ہے اور اسکے بعد کسی کو زبردستی اس پہ لانا نا انکے اختیار میں ہے اور نہ انکے لیے ممکن ہوتا ہے ۔
  باقی یہ  بات کہ لوگوں نے یہ بات مانی کیوں نہیں یہ شاید خود اس بات کی دلیل ہے کہ ہوسکتا ہے اس  مسئلے کے پس پردہ جو محرکات ہیں وہ مذہبی نہ ہوں وہ سیاسی ہوں، اس میں   ملوث لوگوں کو  ٹارگٹ  طاقت کے کھلاڑیوں کی طرف سے دیے گئے ہوں اسی وجہ سے انکو  قرآن وسنت کی بات معقول نہ لگی ہو۔
آپ عالمی حالات پر غور کریں  یہی مسئلہ  آپ کو  تمام عالم اسلام میں  نظر  آئے گا۔ اگر   یہ مسئلہ عراق ،    شام، لیبیا اور مصر  میں بھی   دیکھاجارہا ہے تو سوال یہ ہے کہ    وہاں پر کونسے مدارس ہیں جن کی وجہ سے یہ مسئلہ  پیدا ہے؟۔  یہ مسئلہ اگر صرف پاکستان کا ہوتا تو اسکو صرف لوکل یا علاقائی تناظر میں  دیکھنا  فائدہ مند ہوتا لیکن  ایسا نہیں ہے ۔یہ کچھ بین الاقوامی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے ۔ سامراجی طاقتیں   دنیا کے نئے جغرافیے بنارہی ہیں،  اسلامی ملکوں کو  ڈی سٹیبلائز کیا جارہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ  اسوقت  پورا عالم اسلام اسی قسم کے حالات سے دوچار ہیں اور اسی قسم کی انارکی اور خانہ جنگی وہاں بھی پھیلی ہوئی ہے۔ اس بات کی  ایک اور  دلیل  یہ ہے کہ یہ  مسائل   جن کا اسوقت ہم سب لوگ شکار ہیں انکی مدت ذیادہ سے ذیادہ  پندرہ بیس  سال ہے  اور مدارس اس خطے میں سو ڈیڑھ سو سالوں سے موجود ہیں  ۔ اگر یہ مدارس کی پیداوار  ہوتے  تو  پہلے  بھی یہ مسائل پیش آتے  ۔ لیکن آج سے بیس سال پہلے تک  ایسی  کوئی بات اس خطے میں نہیں دیکھی گئی ۔
 جب کسی مسئلے میں عالمی قوتوں کے مفادات شامل ہوجائیں، عالمی قوتیں اس میں  انوالو ہوجائیں  اور ملکوں کے جھگڑے اور  آس پڑوس کی جنگوں اور نظریات کے مسائل اس میں داخل ہوجائیں تو آپ اس علاقے کے لوگوں کی کسی ایک چیز کو ہی قصور وار نہیں ٹھہرا سکتے ، ان لوگوں کی  صرف  مذہبی پسند ناپسند کو ہی  سارے مسئلے کی جڑ قرار  نہیں دیا جاسکتا ، وہاں یہ کہنا دانشمندی نہیں ہوگی   کہ اس علاقے کے لوگوں کے دینی ادارے اس سارے مسئلے کے ذمہ دار ہیں۔؟  یقینا بہت سے عناصر میں سے  ایک عنصر  مذہب کا   بھی  شامل کیا جاسکتا ہے ،   جن کے اس مسئلے سے  مفادات وابستہ  ہیں انہوں نے جہاں اور  بہت ساری چیزوں کو استعمال  کیا ہے   وہ اس چیز کو بھی استعمال کرسکتے ہیں ، لیکن یہ ضروری نہیں  کہ اس میں سارے لوگ صرف مذہب کے نام پر استعمال ہورہے ہو ں اور مذہب اور مذہبی ادارے  ہی سارے مسئلے کے ذمہ دار ہوں  ۔!!
 ہر شخص جانتا ہے کہ  ہمارے اس سارے مسئلے میں عالمی قوتیں انوالو ہوچکی ہیں،انکی جانب سے فنڈنگ ہورہی ہے، انکی جانب سے ٹارگٹ دیے جارہے ہیں لیکن پھر بھی  بڑی معصومیت کے  ساتھ سارا ملبہ ان لوگوں پر گرا دیا جاتا ہے   جن کا طاقت کے اس  کھیل میں کوئی حصہ  یا  کوئی کردار  ہے ہی نہیں ۔
 ہم سمجھتے کہ  اس دفعہ کی قانون سازی میں اگر حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہے تو اسکی طرف سے  صرف اس مذہبی طبقے کے خلاف آپریشن شروع کرنا یا صرف  علماء کو  کاؤنٹر کرنا بے وقوفی ہوگی ۔   ضروری ہے کہ ہر اس طبقے  کو شامل تفتیش کیا جائے جن کے مفادات اس مسئلے سے وابستہ ہیں ، جو عالمی طور پر اس ساری گیم میں شامل ہیں ۔ اس کے لیے  انکے سفارت خانوں کی نگرانی کی جائے اور فارن فنڈنگ کی بھی  کھوج لگائی جائے۔ معلوم کیا جائے کہ پاکستان میں کن  کن اداروں تنظیموں کو باہر کے ملکوں یا سفارت خانوں  سے فنڈ  ملتا ہے انکو ایکسپوز کیا جائے ۔ دوسری بات ملک کے تمام حصوں میں جو دہشت گردوں  کی مختلف اقسام ہیں۔ چاہیے  وہ مذہبی ، لسانی ،صوبائی جیسا بھی  پس منظر  رکھتے  ہو ں  ان  ساری قسم  کے  دہشت گردوں کے ساتھ برابر سلوک کیا جائے، صرف کسی اک مخصوص طبقے کو نشانہ بنانا انتہائی نقصان دہ ہوگا ۔ جو بھی کسی دہشت گردی کی کاروائی میں ملوث ہیں ان  سب کو سزائیں ملنی چاہیے اسی سے حکومت کو عوامی اعتماد  حاصل ہوگا  اور حالات کنٹرول میں آئیں گے۔
ایک اور اہم  بات جب ہم اتحاد اور قومی یکجہتی کی بات  کرتے ہیں تو اس میں  ہمیں  ملک کا جو سب بڑا  طبقہ ہے  دیندار طبقہ، اسکے جذبات اور احساسات کا بھی خیال رکھنا چاہیے اور کسی بھی حادثے کو ان پر تنقید کا موقع نہیں سمجھنا چاہیے ۔اتنا  بڑا حادثہ  ہوا ، بچوں کی لاشیں  بکھری پڑی تھیں ،  گھروں میں قیامت بھرپا تھی  ، مائیں پیٹ رہی تھی اور  کچھ  لوگ  اس سانحے کی آڑ میں اپنے پرانے ایجنڈے کو اگے  بڑھانے کی کوشش  میں مصروف  نظر آئے ، الیکٹرانک میڈیا  ہو یا سوشل میڈیا  جس کو دیکھیں  کوئی کوئی  دیوبندی بریلوی شیعہ سنی کو ذمہ دار قرار دے رہا ہے اور کوئی مذہب  اور مذہبی اداروں کو ۔  کیا ایسے واقعات کے دوران یہ معاشرہ اتنی غیر سنجیدگی اور اشتعال انگیزی  کا  متحمل ہوسکتاہے۔ ؟
 ہماری بدقسمتی یہ  بھی ہے کہ  ان  ساری غیر سنجیدہ بحثوں کو  سامنے لانے  کے لیے  ہمارا الیکٹرانک میڈیا ایک پلیٹ فارم  اور ایک میزبان کا کردار ادا کرتا ہے، ہر دفعہ  شرپسند اور غیر سنجیدہ  لوگوں کو  میڈیا کے حلقوں کی بھرپور تائید حاصل ہوجاتی ہے ۔  ملائیشیا میں مقیم ایک صاحب ہیں   جو کہ   ایک  مذہبی سکالر و تجزیہ نگار  کے طور پر  مشہور ہیں  انکو ہر دفعہ ایسے واقعات پر  اظہار خیال  کے لیے تقریبا ہر چینل  والے بلاتے ہیں  اور وہ جب بھی آتے ہیں   رسمی  تعزیت  کے چند جملوں  کے بعد علماء اور مدارس پر چڑھ دوڑتے ہیں ۔ حالیہ واقعے کے بعد بھی موصوف نے یہی کیا اور   آتے ہی مدارس کو بھرپور تنقید کا نشانہ بنایا اورلائیو پروگرام میں کہا کہ " یہ اسی مذہبی فکر کا مولود فساد ہے جو ہمارے مدرسوں میں پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے اور جس کی تبلیغ ہماری بہت سی اسلامی تحریکیں اور مذہبی جماعتیں کرتیں ہیں۔۔یہ مدارس اور مذہبی تحریکیں اپنے مخاطبین کو یہ بتاتے ہیں کہ کفر، شرک اور ارتداد کا تلوار سے خاتمہ کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔۔ " مدارس میں کیا پڑھایا جاتا ہے وہ تمام کتابیں یہاں سے ڈاؤنلوڈ کرکے دیکھی جاسکتی ہیں ، دوسری بات  اگر  کفر وشرک کو تلوار سے خاتمہ کرنا ضروری سمجھایا جاتا ہے تو ان مدارس والوں  کی تبلیغی جماعتیں دنیا بھر میں کونسی تلوار لیے پھر رہی ہیں۔ ۔؟  کیا  ان سانحات کی آڑ میں اپنے پرانے ایجنڈوں کو آگے بڑھانے،  دشمنیاں چلانے  اور لوگوں میں    نفرتیں پیدا کرنے والے لوگ ا سکالر کہلانے کے لائق ہیں ؟
قومی حادثہ  ہوا ،  بجائے قومی سوچ  پیدا کرنے ، پروان چڑھانے کے یہ نابغے ہر دفعہ   ایک ہیجانی قسم کی  کیفیت پیدا کردیتے ہیں  اورقوم کو نفرت کی  عجیب بحثوں میں الجھا دیتے ہیں۔ جب  تمام مذہبی طبقات نے    پہلے دن سے ہی   اس دہشت گردی  کی مذمت    کردی  اور قوم کے ساتھ کھڑے ہوئے   پھر بھی بار بار ان سے انکی پوزیشن  پوچھنا  اور ان پر سوالیہ نشان لگانا  کہاں کی دانشمندی ہے ؟ کیا قوم کو اس بلاوجہ کے انتشار  میں مبتلا کرنا اور بحثوں  میں الجھانہ کوئی قومی خدمت ہے؟
 اسی طرح کچھ اور  لوگ ہیں جو  موم بتیاں جلانے کے بعد یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں کسی بھی طبقے پر تنقید کا حق حاصل ہوگیا ہے۔۔ ہر گورنمنٹ میں   فرقہ واریت کے خلاف قانون سازی کی جاتی ہے لیکن  ان سیکولر انتہا پسند وں ، لامذہبی  جنونیوں کے لیے کوئی قانون نہیں بنایا جاتا ، ان  کو ہر دفعہ اشتعال   انگیزی پھیلانے  کے لیے آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے  ۔ اور یہ میڈیا کی سپورٹ سے  قوم کو اک نئے مسئلے/بحث میں  الجھا دیتے ہیں۔
 ہمارے نزدیک  یہ علماء اور  مدارس کے خلاف پراپیگنڈہ  وار  کوئی علاقائی سازش نہیں بلکہ   یہ ایک تہذیبی جنگ ہے جسکو ہر فورم سے لڑا جارہا ہے۔ اس ملک میں  اسوقت صرف ایک مذہب ہی ہے جو اس  سیکولر تہذیب کے راستے میں رکاوٹ بنا   ہو ہے  اور بھرپور مزاحمت کررہا ہے، اس لیے کبھی اسکے نمائندوں کی کردار کشی کی مہم چلائی جاتی ہے اور  کبھی  اسکے اداروں  پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے  ۔ آج  امریکہ اور رینڈ کارپوریشن، یو ایس ایڈ کے 14 سالوں کی محنتوں کا  پھل سامنے آرہا ہے ڈاڑھی اور دہشت گردی ہم معنی بنا دی گئی ہےاوراس بار   مذہبی  طبقے کو   دہشت  گرد قرار دے کر  بالکل دیوار   سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
نوٹ: اس تحریر کی تیاری میں معروف عالم دین مولانا سید عدنان کاکا خیل صاحب کے ایک ٹی وی پروگرام میں کیے گئے  تجزیے سے بھی مدد لی گئی ہے۔

مدارس اور دہشت گردی –چند حقائق

سانحہ پشاور پر کون پتھر دل ہے جس کو افسوس نہیں ہوا ہوگا ، اسکی   ہمیشہ کی طرح  ملک کی تمام مذہبی تنظیموں نے بھی مذمت کی . لیکن    پھر بھی الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر  دینی مدارس اور علماء  پر   تنقید کا ایک  طوفان دیکھنے میں آیا۔ ہماری   میڈیا اور حکومت   کا بھی یہ مزاج  بنتا جارہاہے کہ جب بھی ایسا کوئی دہشت گردی کا  واقعہ ہوتا ہے  وہ علماء اور  مدارس کو کٹہرے میں لا کھڑا  کرتے  ہیں  جیسے  وہ دہشت گردی انہوں نے کروائی   ہے  اور ملک کی سیکورٹی کے ذمہ دار وہ  ہیں  ۔ انکو جگہ جگہ بلا کر  تفتیشی انداز میں انٹرویو لیے جاتے ہیں  اور بار بار یہ پوچھا جاتا ہے کہ آپ  اس معاشرے کا سب سے ذیادہ عوامی انفلوینس رکھنے والا طبقہ   ہیں آپ لوگ اس معاملے میں کوئی کردار ادا کرنے میں کیوں ناکام ہیں ؟
 دوسری طرف حالت یہ ہے کہ   نا حکومتی لیول پر پالیسی بناتے وقت انکو کوئی ویلیو دی جاتی ہےا ور نا میڈیا عام حالات میں انکی کسی اچھی رائے ،تجویز، بات کو شائع کرنا گورا کرتا ہے۔  ہر دفعہ ایسے مسائل پر مشورے کے لیے   آل پارٹیز کانفرنس بلائی  جاتی ہیں   لیکن  ایسا کبھی نہیں ہوا   کہ پورے ملک سے علماء کو بھی  جمع کیا گیا  ہو اور ان سے  ان کی رائے لی گئی ہو کہ آپ کے خیال میں  اس کا حل کیا  ہے؟ آپ  اس گرداب ، مشکل سے  نکلنے کا کیا راستہ  تجویز کرتے ہیں  ؟؟ کسی  ایک ایسی   سنجیدہ  کوشش کا حوالہ نہیں دیا جاسکتا  جس میں چند بڑے  علماء  کو ہی  بھلالیا گیا ہو اور انکی تجاویز  سنی گئی  ہو ؟   شروع سے کبھی  انکو ملک کے اندر  سٹیک ہولڈر  سمجھا ہی نہیں  گیا ، یہ سمجھا ہی نہیں  گیا کہ وہ بھی اس حوالے سے ملک میں کوئی کردار ادا کرسکتے ہیں پھر  بھی ہر دفعہ  یہ  پوچھا جاتا ہے  کہ علماء کیا کردار ادا کررہے ہیں   ؟ ہونا یہ چاہیے تھا کہ جب آل پارٹیز کانفرنس بلائی گئی تھی اس کے ساتھ ملک   کی بڑی اور  موثر جامعات اور انکے انفلوئینس  رکھنے والے علماء کو بھی بلایا جاتا۔ ان سے بھی  اس بارے میں رائے لی جاتی۔
 یہی حال میڈیا کا بھی ہے،2009 میں ڈیڑھ  سوسے قریب صف اول کے  علماء نے لاھور میں متفقہ فتوی دیا   جس میں   ملک میں  دہشت گردی کی ان تمام چیزوں کو  رد کیا  گیا،  اسکو میڈیا کی سکرینوں پر  بالکل جگہ نہیں ملی،  ایک خبر تک نہیں چلائی گئی۔ اور  آج یہی میڈیا والے  علماء کو لائن میں کھڑا کرکے یہ پوچھ رہے ہیں کہ علماء کی جانب سے  اس انتہاء پسندی کی سوچ کو کاؤنٹر نہیں کیا جارہا؟ کوئی کاؤنٹر   نیریٹو نہیں دیا جارہا؟  ؟!!
 اب یہ سوال اٹھانے والے یہ نہیں جانتے کہ  پہلے دن سے جب سے یہ مسائل پیش آئے علماء کی جانب سے   حکومت کی غلط پالیسیوں  پر  مثبت تنقید کے ساتھ ساتھ  اس کے بارے میں بڑا واضح موقف اختیار کیا گیا  کہ پاکستان میں مسلح جدوجہد  ناجائز ہے ، قرآن و حدیث میں اسکی اجازت نہیں ہے۔ یہی کاؤنٹر نیریٹو تھا   جو  علماء کے بس میں  تھا  کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مسئلے پر  اپنی رائے کو واضح کرنا، اسکو انہوں نے واضح کیا ہے۔ بات پہنچائی گئی ہے بات کہی گئی ہے ۔  اہل علم کا کام کسی چیز کا ابلاغ اور اسکو پہنچا دینا ہی  ہوتا ہے اور اسکے بعد کسی کو زبردستی اس پہ لانا نا انکے اختیار میں ہے اور نہ انکے لیے ممکن ہوتا ہے ۔
  باقی یہ  بات کہ لوگوں نے یہ بات مانی کیوں نہیں یہ شاید خود اس بات کی دلیل ہے کہ ہوسکتا ہے اس  مسئلے کے پس پردہ جو محرکات ہیں وہ مذہبی نہ ہوں وہ سیاسی ہوں، اس میں   ملوث لوگوں کو  ٹارگٹ  طاقت کے کھلاڑیوں کی طرف سے دیے گئے ہوں اسی وجہ سے انکو  قرآن وسنت کی بات معقول نہ لگی ہو۔
آپ عالمی حالات پر غور کریں  یہی مسئلہ  آپ کو  تمام عالم اسلام میں  نظر  آئے گا۔ اگر   یہ مسئلہ عراق ،    شام، لیبیا اور مصر  میں بھی   دیکھاجارہا ہے تو سوال یہ ہے کہ    وہاں پر کونسے مدارس ہیں جن کی وجہ سے یہ مسئلہ  پیدا ہے؟۔  یہ مسئلہ اگر صرف پاکستان کا ہوتا تو ہمیں  اسکو صرف لوکل یا علاقائی تناظر میں  دیکھنا  فائدہ مند ہوتا لیکن  ایسا نہیں ہے ۔یہ کچھ بین الاقوامی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے ۔ سامراجی طاقتیں   دنیا کے نئے جغرافیے بنارہی ہیں،  اسلامی ملکوں کو  ڈی سٹیبلائز کیا جارہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ  اسوقت  پورا عالم اسلام اسی قسم کے حالات سے دوچار ہیں اور اسی قسم کی انارکی اور خانہ جنگی وہاں بھی پھیلی ہوئی ہے۔ اس بات کی  ایک اور  دلیل  یہ ہے کہ یہ  مسائل   جن کا اسوقت ہم سب لوگ شکار ہیں انکی مدت ذیادہ سے ذیادہ  پندرہ بیس  سال ہے  اور مدارس اس خطے میں سو ڈیڑھ سو سالوں سے موجود ہیں  ۔ اگر یہ مدارس کی پیداوار  ہوتے  تو  پہلے  بھی یہ مسائل پیش آتے  ۔ لیکن آج سے بیس سال پہلے تک  ایسی  کوئی بات اس خطے میں نہیں دیکھی گئی ۔
 جب کسی مسئلے میں عالمی قوتوں کے مفادات شامل ہوجائیں، عالمی قوتیں اس میں  انوالو ہوجائیں  اور ملکوں کے جھگڑے اور  آس پڑوس کی جنگوں اور نظریات کے مسائل اس میں داخل ہوجائیں تو آپ اس علاقے کے لوگوں کی کسی ایک چیز کو ہی قصور وار نہیں ٹھہرا سکتے ، ان لوگوں کی  صرف  مذہبی پسند ناپسند کو ہی  سارے مسئلے کی جڑ قرار  نہیں دیا جاسکتا ، وہاں یہ کہنا دانشمندی نہیں ہوگی   کہ اس علاقے کے لوگوں کے دینی ادارے اس سارے مسئلے کے ذمہ دار ہیں۔؟  یقینا بہت سے عناصر میں سے  ایک عنصر  مذہب کا   بھی  شامل کیا جاسکتا ہے ،   جن کے اس مسئلے سے  مفادات وابستہ  ہیں انہوں نے جہاں اور  بہت ساری چیزوں کو استعمال  کیا ہے   وہ اس چیز کو بھی استعمال کرسکتے ہیں ، لیکن یہ ضروری نہیں  کہ اس میں سارے لوگ صرف مذہب کے نام پر استعمال ہورہے ہو ں اور مذہب اور مذہبی ادارے  ہی سارے مسئلے کے ذمہ دار ہوں  ۔!!
 ہر شخص جانتا ہے کہ  ہمارے اس سارے مسئلے میں عالمی قوتیں انوالو ہوچکی ہیں،انکی جانب سے فنڈنگ ہورہی ہے، انکی جانب سے ٹارگٹ دیے جارہے ہیں لیکن پھر بھی  بڑی معصومیت کے  ساتھ سارا ملبہ ان لوگوں پر گرا دیا جاتا ہے   جن کا طاقت کے اس  کھیل میں کوئی حصہ  یا  کوئی کردار  ہے ہی نہیں ۔
 ہم سمجھتے کہ  اس دفعہ کی قانون سازی میں اگر حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہے تو اسکی طرف سے  صرف اس مذہبی طبقے کے خلاف آپریشن شروع کرنا یا صرف  علماء کو  کاؤنٹر کرنا بے وقوفی ہوگی ۔   ضروری ہے کہ ہر اس طبقے  کو شامل تفتیش کیا جائے جن کے مفادات اس مسئلے سے وابستہ ہیں ، جو عالمی طور پر اس ساری گیم میں شامل ہیں ۔ اس کے لیے  انکے سفارت خانوں کی نگرانی کی جائے اور فارن فنڈنگ کی بھی  کھوج لگائی جائے۔ معلوم کیا جائے کہ پاکستان میں کن  کن اداروں تنظیموں کو باہر کے ملکوں یا سفارت خانوں  سے فنڈ  ملتا ہے انکو ایکسپوز کیا جائے ۔ دوسری بات ملک کے تمام حصوں میں جو دہشت گردوں  کی مختلف اقسام ہیں۔ چاہیے  وہ مذہبی ، لسانی ،صوبائی جیسا بھی  پس منظر  رکھتے  ہو ں  ان  ساری قسم  کے  دہشت گردوں کے ساتھ برابر سلوک کیا جائے، صرف کسی اک مخصوص طبقے کو نشانہ بنانا انتہائی نقصان دہ ہوگا ۔ جو بھی کسی دہشت گردی کی کاروائی میں ملوث ہیں ان  سب کو سزائیں ملنی چاہیے اسی سے حکومت کو عوامی اعتماد  حاصل ہوگا  اور حالات کنٹرول میں آئیں گے۔
ایک اور اہم  بات جب ہم اتحاد اور قومی یکجہتی کی بات  کرتے ہیں تو اس میں  ہمیں  ملک کا جو سب بڑا  طبقہ ہے  دیندار طبقہ، اسکے جذبات اور احساسات کا بھی خیال رکھنا چاہیے اور کسی بھی حادثے کو ان پر تنقید کا موقع نہیں سمجھنا چاہیے ۔اتنا  بڑا حادثہ  ہوا ، بچوں کی لاشیں  بکھری پڑی تھیں ،  گھروں میں قیامت بھرپا تھی  ، مائیں پیٹ رہی تھی اور  کچھ  لوگ  اس سانحے کی آڑ میں اپنے پرانے ایجنڈے کو اگے  بڑھانے کی کوشش  میں مصروف  نظر آئے ، الیکٹرانک میڈیا  ہو یا سوشل میڈیا  جس کو دیکھیں  کوئی کوئی  دیوبندی بریلوی شیعہ سنی کو ذمہ دار قرار دے رہا ہے اور کوئی مذہب  اور مذہبی اداروں کو ۔  کیا ایسے واقعات کے دوران یہ معاشرہ اتنی غیر سنجیدگی اور اشتعال انگیزی  کا  متحمل ہوسکتاہے۔ ؟
 ہماری بدقسمتی یہ  بھی ہے کہ  ان  ساری غیر سنجیدہ بحثوں کو  سامنے لانے  کے لیے  ہمارا الیکٹرانک میڈیا ایک پلیٹ فارم  اور ایک میزبان کا کردار ادا کرتا ہے، ہر دفعہ  شرپسند اور غیر سنجیدہ  لوگوں کو  میڈیا کے حلقوں کی بھرپور تائید حاصل ہوجاتی ہے ۔  ملائیشیا میں مقیم ایک صاحب ہیں   جو کہ   ایک  مذہبی سکالر و تجزیہ نگار  کے طور پر  مشہور ہیں  انکو ہر دفعہ ایسے واقعات پر  اظہار خیال  کے لیے تقریبا ہر چینل  والے بلاتے ہیں  اور وہ جب بھی آتے ہیں   رسمی  تعزیت  کے چند جملوں  کے بعد علماء اور مدارس پر چڑھ دوڑتے ہیں ۔ حالیہ واقعے کے بعد بھی موصوف نے یہی کیا اور   آتے ہی مدارس کو بھرپور تنقید کا نشانہ بنایا اورلائیو پروگرام میں کہا کہ " یہ اسی مذہبی فکر کا مولود فساد ہے جو ہمارے مدرسوں میں پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے اور جس کی تبلیغ ہماری بہت سی اسلامی تحریکیں اور مذہبی جماعتیں کرتیں ہیں۔۔یہ مدارس اور مذہبی تحریکیں اپنے مخاطبین کو یہ بتاتے ہیں کہ کفر، شرک اور ارتداد کا تلوار سے خاتمہ کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔۔ " مدارس میں کیا پڑھایا جاتا ہے وہ تمام کتابیں یہاں سے ڈاؤنلوڈ کرکے دیکھی جاسکتی ہیں ، دوسری بات  اگر  کفر وشرک کو تلوار سے خاتمہ کرنا ضروری سمجھایا جاتا ہے تو ان مدارس والوں  کی تبلیغی جماعتیں دنیا بھر میں کونسی تلوار لیے پھر رہی ہیں۔ ۔؟  کیا  ان سانحات کی آڑ میں اپنے پرانے ایجنڈوں کو آگے بڑھانے،  دشمنیاں چلانے  اور لوگوں میں    نفرتیں پیدا کرنے والے لوگ ا سکالر کہلانے کے لائق ہیں ؟
قومی حادثہ  ہوا ،  بجائے قومی سوچ  پیدا کرنے ، پروان چڑھانے کے یہ نابغے ہر دفعہ   ایک ہیجانی قسم کی  کیفیت پیدا کردیتے ہیں  اورقوم کو نفرت کی  عجیب بحثوں میں الجھا دیتے ہیں۔ جب  تمام مذہبی طبقات نے    پہلے دن سے ہی   اس دہشت گردی  کی مذمت    کردی  اور قوم کے ساتھ کھڑے ہوئے   پھر بھی بار بار ان سے انکی پوزیشن  پوچھنا  اور ان پر سوالیہ نشان لگانا  کہاں کی دانشمندی ہے ؟ کیا قوم کو اس بلاوجہ کے انتشار  میں مبتلا کرنا اور بحثوں  میں الجھانہ کوئی قومی خدمت ہے؟
 اسی طرح کچھ اور  لوگ ہیں جو  موم بتیاں جلانے کے بعد یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں کسی بھی طبقے پر تنقید کا حق حاصل ہوگیا ہے۔۔ ہر گورنمنٹ میں   فرقہ واریت کے خلاف قانون سازی کی جاتی ہے لیکن  ان سیکولر انتہا پسند وں ، لامذہبی  جنونیوں کے لیے کوئی قانون نہیں بنایا جاتا ، ان  کو ہر دفعہ اشتعال   انگیزی پھیلانے  کے لیے آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے  ۔ اور یہ میڈیا کی سپورٹ سے  قوم کو اک نئے مسئلے/بحث میں  الجھا دیتے ہیں۔
 ہمارے نزدیک  یہ علماء اور  مدارس کے خلاف پراپیگنڈہ  وار  کوئی علاقائی سازش نہیں بلکہ   یہ ایک تہذیبی جنگ ہے جسکو ہر فورم سے لڑا جارہا ہے۔ اس ملک میں  اسوقت صرف ایک مذہب ہی ہے جو اس  سیکولر تہذیب کے راستے میں رکاوٹ بنا   ہو ہے  اور بھرپور مزاحمت کررہا ہے، اس لیے کبھی اسکے نمائندوں کی کردار کشی کی مہم چلائی جاتی ہے اور  کبھی  اسکے اداروں  پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے  ۔ آج  امریکہ اور رینڈ کارپوریشن، یو ایس ایڈ کے 14 سالوں کی محنتوں کا  پھل سامنے آرہا ہے ڈاڑھی اور دہشت گردی ہم معنی بنا دی گئی ہےاوراس بار   مذہبی  طبقے کو   دہشت  گرد قرار دے کر  بالکل دیوار   سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
نوٹ: اس تحریر کی تیاری میں معروف عالم دین مولانا سید عدنان کاکا خیل صاحب کے ایک ٹی وی پروگرام میں کیے گئے  تجزیے سے بھی مدد لی گئی ہے۔

جنید جمشید اور قانون توہین رسالت

جنید جمشید   اک سابقہ مشہور سنگر  ۔ ۔  سترہ سال پہلے  محض اللہ کی رضا کے لیے  میوزک کی دنیا کو چھوڑ کر ایک جائز کاروبار شروع کیا  ۔۔۔۔۔ ایک تبلیغی تحریک سے وابستگی  ۔ ۔ ۔۔ ان لوگوں کے لیے ایک زندہ جواب جو یہ کہتے تھے کہ غریبوں کو کچھ کھانے کے لیے نہیں ملتا اس لیے مولوی بن جاتے ہیں، ان کو یہ چمک دمک، عیاشیاں دکھاؤ پھر  دیکھنا  یہ کیسے ملانے بنتے ہیں ۔ !!!
دوسال پہلے  ایک جگہ اپنے   ایک تبلیغی بیان میں عورت کی فطری کمزوریوں پر بات کرتے ہوئے وہ  حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق  اس صحیح حدیث کی وضاحت ایسے بناوٹی  انداز میں  کر گیا    جس سے حضرت عائشہ کی توہین کا پہلو نکلتا نظر آتا تھا۔  یہ زبانی لغزش تھی جس کا اندازہ نا اسے  ہوا اور نہ وہاں کسی سننے والے کو ہوا ۔
دو سال بعد ایک پلان کے تحت اسکی  اس ویڈیو کے اس مخصوص کلپ کو  سوشل میڈیا پر گستاخی کے تعارف سے لایا گیا اور   اسے ایک گستاخ کے طور پر مشہور کردیا گیا۔ ۔ بیان میں یہ واضح تھا کہ جنید نے یہ الفاظ   جان بوجھ کر یا  کسی غلط عقیدے  کی وجہ   سے نہیں  کہے  بلکہ یہ  اسکی سبقت لسانی اور زبانی لغز ش تھی ۔  اس لیے  جیسے ہی اسے اسکی غلطی پر متنبع کیا گیا   اس نے بغیر کسی حیل و حجت کے  معافی مانگ لی۔لیکن اس سب کے باوجود    مخالف  فرقے  اور سوچ کے لوگوں نے اس کے خلاف ایک طوفان کھڑا کردیا ۔
قانون توہین رسالت
  توہین رسالت  کے قانون کے دو   حصے   ہیں ۔ ایک  کافر کے متعلق جو  غصہ، تعصب ، دشمنی اسلام  میں جان بوجھ کر   شان رسالت میں گستاخی کرے ۔
 دوسرا کوئی مسلمان جو  حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین و گستاخی کرے۔
اول الذکر کے متعلق امت کا اجماع ہے کہ  اس کی گستاخی اگر ثابت ہوجائے  تو اس کی کوئی معافی نہیں  ، تعزیرات پاکستان میں بھی اس کی سزا موت  لکھی گئی ہے اور یہ سزا دینا قاضی  کا کام ہے  ۔
مسلمان کی گستاخی کے دو پہلو ہیں ۔
1.    بندہ صاحب ایمان اور عقیدہ  ہو لیکن زوال عقل یا زوال اختیار (نزع کی حالت ،  کبر سنی، سبقت لسانی، جہالت ، غلبہ خوشی، فرط محبت   میں  ) بے اختیار   زبان سے کفریہ الفاظ نکل جائیں یا  قصد کچھ اور ہو لیکن زبان سے کچھ اور نکل جائے ۔ پھر  ہوش میں آنے پر یا غلطی پر متنبع ہونے کے بعد توبہ استغفار کر لے۔
2.    دوسری صورت یہ ہے کہ بندہ   بدعقیدہ ہو  اور جان بوجھ  کر اور پورے ہوش و حواس میں شان رسالت میں غلط کلمات کہے ۔
ان دونوں کے احکمات الگ ہیں ۔
 پہلے شخص کے متعلق ہر مسلک    کے علماء کی رائے یہ ہے کہ ایسا شخص نہ مرتد ہوا اور نا اس کے لیے تجدید ایمان اور تجدید  نکاح  ضروری  ہے۔۔۔!!  فقہائے احناف کی رائے دیکھنے کے لیے  ملاحظہ فرمائیے  فتاوی قاضی خان  3/576-77،    فتاوی ھندیہ  2/276، فتاوی الشامیہ  4/239
 دوسری قسم کے  شخص کے متعلق علماء کی رائے مختلف ہے بعض  اس پر عام مرتد کا حکم لگاتے ہیں  ۔ انکی رائے میں  ایسا شخص مرتد ہوگیا ہے ،  اس پر اسلام پیش کیا جائے  اگروہ تسلیم کرلے اور مکمل شرائط کے ساتھ توبہ کرلے    تو  اسے  چھوڑ دیا جائے اگر وہ انکار کرے   تواسکو قتل کردیا جائے۔ فقہ حنفی کے مشہور  اِمام ابویوسف ”کتاب الخراج“ میں لکھتے ہیں”جس مسلمان نے رسول اللہ اکی توہین کی، یا آپ  کی کسی بات کو جھٹلایا، یا آپ میں کوئی عیب نکالا یا آپ کی تنقیص کی، وہ کافر ومرتد ہوگیا اور اس کا نکاح ٹوٹ گیا، پھر اگر وہ اپنے اس کفر سے توبہ (کرکے اسلام ونکاح کی تجدید) کرلے تو ٹھیک، ورنہ اسے قتل کردیا جائے۔ “(کتاب الخراج ص:۱۹۷، ۱۹۸)
کچھ  علماء کی رائے یہ ہے کہ ایسا شخص کا حکم عام مرتد کا نہیں اس کے گناہ کی معافی اسکے قتل کی صورت میں ہی ہوسکتی ہے۔
کیا شریعت کی نظر میں  جنیدجمشید واقعی گستاخ  رسول ہے ؟
جنید جمشید کی غلطی کو دیکھا جاءے تو  یہ براہ راست حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے متعلق  نہیں بلکہ ام المومنین  حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی گستاخی بھی بہت بڑا گناہ ہے لیکن  اس پر وہ حد لاگو نہیں ہوتی جو گستاخ رسول پر ہوتی ہے جیسے ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ پر تہمت لگانے والوں  میں منافقین کے علاوہ چند صحابہ  کا بھی نام تھا ، انکی معافی و توبہ  کو قبول کیا گیا   ۔ نا کسی منافق کو گستاخ رسول والی سزا دی گئی اور نا ان صحابہ  کو کسی نے مرتد  کہا ۔ بلکہ قرآن میں سورۃ النور میں ان  میں سے ایک صحابی  کا ذکر بھی آتا ہے  جنکی اس واقعہ کے  بعد جب  حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مالی مدد کرنا چھوڑ دی  تو اللہ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو   ان صحابی  کو معاف کرنے اور امداد جاری رکھنے کا  حکم دیا۔ اس مسئلے کی وضاحت ایک مشہور مقرر نعمان علی خان نے بھی کی ،انکی ویڈیو یہاں ملاحظہ فرمائیے۔
یہ بات تو واضح ہے لیکن بالفرض   اگر جنید جمشید  کو گستاخ رسول بھی قرار دے  دیا جائے تو  وہ واضح پہلی صورت  کا کیس ہے کہ وہ مرتد نہیں ۔ اسکا وہی عقیدہ ہے جو   اصحاب و امہات رضوان اللہ  کے بارے میں اہل سنت والجماعت  کا  عقیدہ ہے۔ اس ویڈیو سے پہلے اس نے کبھی   کوئی گستاخی کی نا اس کے بعد اب تک جبکہ دو سال کا عرصہ گزر چکا ہے ۔
ردعمل میں سامنے آنے والے  دو قسم کے لوگ :۔
پاکستان میں قانون توہین رسالت کے خلاف سالوں سے کوششیں جاری  ہیں ،  اس کے لیے جہاں  حکومتی عہدیداروں کو  استعمال کیا گیا ،  این جی  اوز اور  میڈیا کے ذریعے  بھی اس کے خلاف باقائدہ مہم  بھی چلائی گئی  اور بہانے بہانے سے چلائی  جارہی ہے۔  پہلے سلمان تاثیر کا کیس پھرکوٹ  رادھا کشن کا واقعہ اور اب   جنید جمشید کی دو سال پرانی ویڈیو کو لے کر    قانون توہین رسالت کے خلاف ایک پورے پلین کے تحت طوفان کھڑا کرنا      اس بات کی چغلی کھاتا ہے کہ ایک پوری لابی اس کام میں مصروف ہے ۔ یہ لوگ پہلے    عوامی جذبات کو ابھارتے ہیں  پھر  عوام میں سے کسی کے  غلط ردعمل پر قصور وار قانون  توہین رسالت کو قرار  دے دیتے ۔  حالانکہ  جس طرح عدالتی قانون کی موجودگی میں کسی کا قانون کو ہاتھ میں  لینا  پاکستانی لاء  کا قصور نہیں   ٹھہرایا جاتا اسی طرح    کسی کا  اپنے طور پر کسی کو توہین رسالت کا مرتکب قرار دے کر قتل کرنے کا ملبہ بھی قانون توہین  پر نہیں گرایا جاسکتا ۔ یہ بات بھی بعید نہیں کہ جنید جمشید کو گستاخ ٹھہرانے میں جن لوگوں کو استعما ل کیا گیا وہی ساون و شبنم میسح جیسے واقعے میں ملوث ہوں۔ !!
جنید جمشید کے اس کیس   سے ایک فائدہ بھی ہوا کہ اس  بہانے معاشرے میں موجود مذہبی اور غیر مذہبی فتنہ باز قوتیں  پوری طرح   بے نقاب ہوگئیں  ۔
مذہبی طبقہ :۔
مذہبی طبقے میں  چند لوگ ایسے ہیں جو اپنی جہالت، مذہب فروشی    کی وجہ سے مشہور ہیں   یہی وہ لوگ  ہیں جواکثر مذہبی طبقے کی بدنامی کا باعث بنتے  رہتے  ہیں اور ان کے مذہب کے نام پر کے گئے فراڈ کے  طعنے ہر  دیندار آدمی کو بھگتنے پڑتے ہیں ۔ ان میں بریلوی مسلک  سے تعلق رکھنے والی   کراچی  کی ایک نام نہاد مذہبی جماعت بھی ہے' جسکا شمار کراچی کی بڑی بھتہ مافیا تنظیموں میں بھی ہوتا ہے اور آئے روز کراچی کی مقامی اخباروں میں اسکے  کارکنوں کی قتل کی وارداتوں میں ملوث ہونے کی خبریں چھپتے رہتی ہیں  ہیں۔
 اس جماعت کے لوگوں  نے اپنے فرقہ  وارانہ تعصب  میں ناصرف کراچی میں جنید جمشید  اور اسکے مسلک کے خلاف فرقہ وارنہ نعروں اور قتل کے فتووں پر مشتمل وال چاکنگ کی بلکہ اسکے خلاف  تھانے میں خلاف   ایف آئی آر بھی  کٹوادی۔ جنید جمشید کے خلاف  اصل طوفان انہی نے برپا کیا ۔ انکے کئی  پیشواؤں   کی سوشل میڈیا پر ویڈیو بھی  دیکھی جاسکتی ہیں۔ میڈیا پر سب سے ذیادہ شور انکے  جس بندے نے کیا اس میں ایک انکے پیر مظفر علی شاہ  صاحب ہیں ۔ انکی یہ چھوٹی سی ویڈیو دیکھیے اور سر دھنیے۔،
  صاحب فرماتے ہیں، جنید جمشید ایک مراثی کی اولاد ہے، اسے کس نے حق دیا کہ یہ نعتیں پڑھے،  گے فرماتے ہیں  محمد یوسف پہلے عیسائی تھا پھر مرتد هوگیا۔۔"
 جب  نفرت پہلے سے  اس درجے کی ہے  پھر تو جنید کی گستاخی  کرنا نہ کرنا برابر ہے ،  یہ ویڈیو  تو ایک بہانہ  ہے ، جنید اور محمد یوسف تو  پہلے ہی انکے نزدیک مرتد اور گستاخ ہیں کیونکہ وہ انکے مسلک کے نہیں ہیں ۔۔  ایک اور  زهر اگلنے والی مشین کی ویڈیو  دیکھیے۔ 
صاحب   جنید جمشید کو کافر مطلق کہہ رہے اور اس کے لیے  "سر تن سے جدا “  کے فتوے دے  رہے  ہیں۔ ان کے علاوہ  ایک اور مشہور مداری بھی ہیں جو عموما  رمضان میں شو لگاتے ہیں انکی ویڈیو یہاں دیکھی جاسکتی ہیں فرماتے ہیں جو عاءشہ کا نہ ہوا فاحشہ سے ہوا ۔۔  موصوف کو خیال ہی  نہیں رہا اور اپنے ہی بھائیوں، رشتہ داروں کو گالی دے بیٹھے ۔
سیکولر اور لبرل :۔
اس فرقے کے بلاوجہ کے شور  ، گستاخی اور  قتل کے فتوؤں کا  بھرپورفائدہ دہریوں سیکولروں نے  اٹھایا، یہ وہ منافق  گروہ  ہے  جو پاکستان اور اسلام   کے متعلق ہر  مثبت بات میں سے بھی  منفی پہلو  تلاش کرتا رہتا ہے ۔ اس بہانے  اسے   اسلام اور علماء کو کوسنے کا بھرپور موقع ملا ۔عام حالات میں یہ  لوگ کسی مستند  اور محقق عالم   کو بھی ویلیو نہیں دیتے بلکہ سوشل میڈیا پر اسکا بھی  مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں ' اس مسئلے میں  انہوں نے اس  ایک جاہل فرقہ پرست   گروہ  کی طرف سے دیے گئے گستاخی کے  فتوے کو بھی سند اسلام بنایا  اور شروع ہوگئے اپنا چورن بیچنے۔
ملحدین نے جنید جمشید کے کیس کو اٹھا کے سب سے ذیادہ شور جس کے لیے کیا وہ آسیہ مسیح اور سلمان تاثیر کا کیس ہے ۔ آسیہ کے کیس کی حقیقت یہ ہے کہ عید پر کچھ مسلمان خواتین نے اس کے سامنے کہا کہ قربانی کا گوشت مسیحیوں کو دینا حرام ہوتا ہے جس پر غصے میں آکر اس نے انتہائی غلط اور گستاخانہ کلمات کہہ ڈالے ، بعد میں اس نے اپنی اس گستاخی کو تسلیم کیا، اور ایڈیشنل سیشن جج نے گواہوں کے بیانات اور واقعاتی شہادتوں کو سامنے رکھتے ہوئے آسیہ مسیح کو سزائے موت کی سزا سنادی۔ اس سزا کے بعد وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی نے آسیہ بی بی کوبے گناہ قرار دیا اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۲۹۵سی کو بھی ظالمانہ قرار دے دیا۔کچھ دنوں بعد گورنر پنجاب سلمان تاثیر بھی شیخوپورہ جیل پہنچ گئے۔ اُنہوں نے بھی آسیہ بی بی کو بے گناہ قرار دیا اور اور کہا کہ وہ آسیہ بی بی کو صدر آصف علی زرداری سے معافی دلوا دیں گے۔بعد میں  وہ قانون توہین رسالت کے خلاف باقاعدہ کوششیں کرتے اور اسکے لیے غلط الفاظ کا استعمال بھی  کرتے نظر آئے۔
یہ انتہائی غلط طریقہ تھا جو شہبازبھٹی اور سلمان تاثیر نے اختیار کیا ، اگر یہ اپنی دانست میں آسیہ بی بی کو بے گناہ سمجھتے ہیں تو ان کے پاس مناسب راستہ موجود تھاکہ یہ کسی اچھے وکیل کا انتظام کرتے اور آسیہ بی بی کے خلاف سزا کو ہائی کورٹ میں چیلنج کردیتے۔ ماضی میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ ہائی کورٹ نے توہین رسالت کے ملزمان کو رہا کردیا، کیونکہ ان پر الزام ثابت نہ ہوسکا۔ انہوں نے ایسا کچھ کرنے کے بجائے اپنے عہدے کا استعمال کرتے ہوئے ناصرف آسیہ بی بی کو بچانے بلکہ  ۲۹۵سی کو ہی ختم کرنے کی کوشش شروع کردی ۔ دو سو پچانوے سی جس کے تحت توہین رسالت کی سزا موت پر نہ صرف بریلوی، دیوبندی، اہل تشیع اور اہل حدیث کے جید فقہا اور علماء کا اتفاق ہے بلکہ یہ قانون پاکستان کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے بھی منظور شدہ ہے۔ ۲ جون ۱۹۹۲ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی سے یہ قرارداد منظور ہوئی کہ توہین رسالت کی سزا موت ہونی چاہئے۔ اس سے قبل وفاقی شرعی عدالت حکومت کو حکم دے چکی تھی کہ توہین رسالت کی سزا عمر قید کی بجائے موت مقرر کی جائے۔ قومی اسمبلی میں اس معاملے پر بھرپور بحث ہوئی جس کے بعد ۲۹۵سی کی منظوری ہوئی۔
بحرحال قانون توہین رسالت کے خلاف  سلمان و شہباز کی   ان کوششوں کا بالاخر انجام یہ ہوا کہ دونوں اپنی جان سے گئے ۔سلمان تاثیر کے کیس کو دیکھا جائے تو وہ گستاخ رسول ہونے  سے ذیادہ قانون توہین رسالت کے خلاف اپنی کوششوں کی وجہ سے نشانہ بنتے نظر آتے ہیں ۔ یہی حال اقلیتی وزیر شہباز بھٹی کا ہے۔
دوسرا بڑا کیس جس پر جنید جمشید کے بہانے   شور کیا گیا وہ شبنم اور ساون مسیح کا تھا جنہیں چند ماہ پہلے ایک وڈیرے نے چند مقامی لوگوں کو ملا کر گستاخی رسول کے الزام میں جلایا تھا ۔ ملحدین نے اس بہانے یہ کہنا شروع کیا کہ یہ سب اسی قانون کی وجہ سے ہوا ،یہ جملے پڑھنے کو ملے کہ یہ دونوں اس قانون کی بھینٹ چڑھ گئے جبکہ جنید جمشید آزاد پھر رہا ہے ۔  یہ ہے اس قانون کی حقیقت اور ان مولویوں کی منافقت جو اسکا دفاع کرتے نظر آرہے ہیں۔۔
غور کیا جائے تو یہ اعتراضات بالکل بچگانہ ہیں کیونکہ ان دونوں کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ اس بستی کے لوگوں کا ذاتی فعل تھا جس کی مذمت خو د ہر مکتبہ فکر کے علماء نے کی تھی ۔ مزید نہ مستند علماء میں سے کسی نے اپنے طور پر کسی کو گستاخ کہہ کر قتل کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے اور نہ قانون میں ایسی کوئی بات موجود ہے بلکہ توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والے کے لیے سخت سزا قانون میں موجود ہے۔ اس لیے ان لوگوں کے اس فعل کا ذمہ دار علماء کو یا قانون کو ٹھہرانا اور پھر اسے جنید جمشید کے کیس کے ساتھ ملانا بالکل غلط ہے ۔
شائستہ واحدی کا کیس بھی زیربحث آیا ۔ شائستہ واحدی نے اپنےایک  پروگرام میں قوالی  کے دوران وینا ملک کو حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور اس کے شوہر کو حضرت علی رضی اللہ عنہ  کے روپ میں پیش کیا۔ اس کی معافی  ہوسکتی تھی  لیکن اس سے پہلے یہ اپنے پروگراموں کی ریٹنگ بڑھانے کے لیے اسلامی اقدار کے خلاف  اوٹ پٹنگ حرکتیں کرتی  رہی تھی اور  جیو چینل کا بھی اس حوالے سے پہلے سے  ریکارڈ خراب تھا اس لیے شائستہ واحدی اور جیو چینل کے خلاف احتجاج دیکھنے میں آئے لیکن شائستہ پر کسی بھی عالم نے فتویٰ قتل وغیرہ نہیں لگایا تھا ۔  جیو کی طرف سے فوجی سربراہان اور اداروں کے خلاف چلائی گئی میڈیا مہم بھی اس ردعمل  کی  ایک وجہ تھی اسی وجہ سے  انکو اب تک مختلف کیسز بشمول توہین رسالت کیس میں سمن بھیجے جارہے ہیں
نوٹ : راقم کا جنید جمشید کے ہر فعل سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کیا ہم انقلاب کے مخالف ہیں...؟؟


انقلاب،   ترقی، شعور کی بیداری کی جدوجہد،  ظلم و جبر کے خلاف آواز ،  اپنا حق لینے کے لیے کوشش اور ایسی کوشش کرنے والوں کا حصہ بننا،  انکا ساتھ دینا ، انکی جانی و مالی مدد کرنا  ایسا احسن کام ہے جسکی کوئی عام آدمی مخالفت نہیں کرسکتا ہے، دینی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ اِک جہاد ہے.  ایسی کوشش کرنے والوں کو تاریخ نے بھی یاد رکھا اور وہ لوگوں کے دلوں میں بھی زندہ ہیں۔. قوموں کی ترقی،  اٹھان،  غلبہ، قوت ایسے ہی لوگوں کی مرہون منت رہی ، یہ لوگ عام لوگوں کی طرح ہی تھے لیکن انکی سوچ، ویژن، مقصد عام لوگوں سے مختلف تھا اس لیے   یہ جس زمانے اور قوم میں آئے سب سے پہلے انکی اپنی قوم نے  ہی انکی مخالفت کی، ان کو طنز و تنقید کا نشانہ بنایا،  ان کا مذاق اڑایا، انکو پاگل دیوانہ کہا، بعضوں کو مارا پیٹا بھی گیا لیکن کوئی چیز انکو انکے مقصد سے نا ہٹا سکی، بلکہ انکے خلوص نیک مقصد، صاف بات، کهرے پن، قربانی نے آہستہ آہستہ انکے قدم جمانے شروع کر دیے  انکی آواز پھیلنا شروع ہوگئی وہ اک فرد سے جماعت اور معاشرے میں تبدیل ہوگئے، امیروں کو اپنے کاروبار عیاشیوں سے فرصت کہاں تھی اس لیے ہر دور میں انکی تحریک کو غریبوں نے ہی سہارا دیا،  وہ غریبوں کی ہی آواز بنے. یہ خود بھی اپنا مال و دولت عزت شرف سرداری نسبت (اگر کوئی تھی )  اپنے مقصد پر قربان کر چکے تھے اس لیے اس طبقے کو بھی ان سے کوئی فرق محسوس ہوا نہ ہی کوئی تکلیف. یہ جب ان میں بیٹھے ہوتے تو کوئی انکو پہچان نہ سکتا تھا.
انکا نعرہ  ہی ایساتھا کہ چھوٹے سے چھوٹے ظالم کو بھی اپنا وجود اور کاروبار خطرے میں محسوس ہوا، پہلے انہیں  مال و دولت کی پیشکش کی گئی، پھر عہدے سرداری کا لالچ دیا گیا وہ چاہتے تو اس طاقت، خوشحالی، مال و دولت  اور عہدے کے سہارے اپنی جدوجہد کو جاری رکھ سکتے تھے لیکن یہ ان چیزوں سے بہلائے نہیں جاسکے،  انکی تو پہلی آواز ہی اس ظالمانہ نظام اور اس کے رکھوالوں  کے خلاف تھی وہ ان کا سہارا کیسے لے سکتے تھے، یہ کسی شارٹ کٹ  انقلاب سے واقف تھے نا کسی عارضی تبدیلی کی قائل. انکے نزدیک انقلاب حکومتی تبدیلی کا نام نہیں تھا بلکہ یہ  تبدیلی انسانوں کے  اخلاق و اعمال کی تبدیلی کی تھی، وہ انقلاب کے فطری راستے  پر چلے جو  دشواریوں اور صعوبتوں کا راستہ تھا لیکن اس سے آنے والی تبدیلی بھی پائیدار تھی ۔ انہوں نے جان بوجھ کر  مشکلات اور آزمائشوں کی راہ اختیار کی،  پهر حالات کی تجربہ گاہوں میں آزمائے بھی گئے، ظلم کی چکیوں میں سب سے پہلے انکے قائد کو پیسا گیا، انکے خلاف سکیمیں بنائی گئی اور انکی اپنی زمین ان پر تنگ کر دی گئی لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری،  دیار غیر میں بھی  اپنے مقصد سے نہیں ہٹے. قوت طاقت مال و دولت ملک جگہ جائیداد جو کچھ انکے پاس تھا وہ سب کچھ اپنے پیچھے چھوڑ آئے تھے، یہاں انکے پاس دینے کے لیے صرف اپنی جان تھی اور دکھانے اور پیش کرنے کے لیے اپنا کردار. لمبی چوڑی تقریر کرنے کی نہ کبھی انہیں ضرورت پڑی نہ انہوں نے کی. انکی اس عزیمت و قربانی کے نتیجے میں جو تبدیلی اور انقلاب آیا اس کے آثارآج صدیوں بعد بھی محسوس ہورہے ہیں۔.ان میں سے بہت سے ایسے بھی تھے جو اپنی زندگی میں اپنی محنتوں کے ثمرات نہیں دیکھ سکے لیکن انکی محنتیں خون، جدوجہد رائیگاں نہیں گئی، وہ اپنی قوم کو ایک شعور دے گئے، بعد کے آنے والوں، کوشش کرنے والوں کا کام آسان کر گئے، محنت کرنے والوں کو طریقہ بتا گئے کہ تبدیلی اور انقلاب کی محنت کیسے کی جاتی ہے۔.ہم اور ہماری قوم انقلاب کے صرف اسی مطلب اور اسی طریق کو جانتے اور اسی سے مانوس ہیں.ہم  ایسے کسی کو انقلاب نہیں مانتے جو سرمایہ داریت کی کوکه سے نکلے جو انسانی خون سے پلے، جس کی بنیادیں عصبیت و نفرت کی ہوں، جس کے لیڈر عورت کو سرعام نچوائیں، جس کے سپورٹر ظالم بدکار چوروں کے سردار ہوں، دھوکے باز لٹیرے ہوں۔سردار وڈیرے جن کے وزیر، مشیر اور ساتھی ہوں، وہ جو محلات میں رہیں اور بات غریب کی کریں. جن کے پاس پیش کرنے کے لیے صرف دوسروں کی خامیاں ہوں، وہی فرسودہ بہانے اور افسانے  گهڑیں.....ہم ایسے کسی شخص کو انقلابی ماننے کو تیار نہیں، چاہے یہ عمرانی نام کے ہوں یا شریفی، کهلے ہوئے منافق ہوں یا چھپے ہوئے، دنیاوی رنگ میں ہوں یا دینی، یہ انقلابی نہیں دھوکے باز ہیں، فراڈی لٹیرے ہیں ، یہ وارداتی ہیں جو اپنی کرسی اقتدار کے لیے سور کا گوشت بکرے کے نام سے بیچنے لائے ہیں، جو شراب کو آب زمزم کی بوتلوں میں پیش کررہےہیں، جو عوام کا اعتماد لینے کے لیے اپنے چہرے پر انقلاب کا نقاب چڑھا کر آئے ہیں،صرصر کو صبا، ظلمت کو ضیابندے کو خدا کیا لکهنا ہم اتنے بچے اور بهولے نہیں  ہیں کہ انہیں صرف اس وجہ سے  اپنا چارہ گر سمجھ بیٹھیں کہ یہ نعرہ انقلاب کا لگارہے. ہمارے لیے انقلابی نعرے کوئی حیثیت نہیں رکھتے، ہم  انقلاب کے آنے کے طریقہ کار اور انقلابیوں کی صفات سے واقف ہیں. ہماری تاریخ انقلابیوں کی ہی تاریخ ہے، ہمیں خوشنما نعرے دے کر، اچھے خواب دکھلا کر،بہترین تقریریں کرکے بہلایا نہیں جاسکتا۔..

ایسا کیوں ہے..... ؟

اک زمانہ تھا  لوگ کہیں سیر سپاٹے کے لیے جاتے تو  اک کیمرہ بھی ساتھ لے جاتے، اس میں اک ایکسرا فلم بھروالیتے جس پر پچاس ساٹھ تصاویر کھینچنا ممکن ہوجاتیں .  کوئی خوبصورت منظر نظر آیا وہاں تصویر بنالی. چڑیا گھر گئے تو بندروں،  شیروں کے پنجرے کے پاس کھڑے ہوکر تصاویر بنالی جاتیں. یہ تصاویر واپس آکر فوٹو سٹوڈیو والے سے صاف کروائی جاتیں اور پھر سارے دیکھتے ، گھر میں کوئی مہمان آتا اسے بھی دکھائی جاتیں.. اب جدید دور ہے اب  اتنا بھاری کیمرے ساتھ رکھنے کی ضرورت ہے اور نا اس میں فلم ڈلوانے کی نا اب اس جیسی تفریح رہی ہے . فلمی اداکاروں کے پتلوں، بندروں کے پنجرے کے پاس کھڑے ہوکر تصاویر تو اب تھرڈ کلاسیے، غریب غرباء نکلواتے ہیں.  جو  برگر فیملیوں والے سیکولر ٹائپ لوگ ہیں وہ  گھومنے پھرنے سوئٹزرلینڈ وغیرہ جاتے ہیں اور وہاں تصویریں نکالتے ہیں اور  'اللہ والے' انہی پیسوں سے حج عمرے پہ چلے جاتے اور پھر روزہ رسول کے پاس اور خانہ کعبہ کے بالکل سامنے کھڑے ہوکر تصاویر بناتے ہیں اور ہر اینگل سے بناتے ہیں..یہ تصاویر بھی مقدس ہوتی ہیں ان کا وہ برگری کیسے مقابلہ کرسکتے ہیں ؟ کہاں  کافروں کے ملک میں کسی برف کے ٹیلے کے پاس کھڑے ہوکر بنائی گئی تصویر اور کہاں وہ تصویر جو خانہ کعبہ  اور روزہ رسول جیسے مقدس مقام کے پاس بنائی گئی ہو.. !! مسلمان اس تصویر کا مقام جانتے ہیں اس لیے جب بھی  وہاں جاتے ہیں خوب تصویریں بناتے ہیں. کچھ دیوانے تو ایسے ہیں کہ کسی  اور کام میں بالکل ٹائم ضائع نہیں کرتے ، ہر وقت اور ہر جگہ کی بناتے ہیں.  اگر انکی تصاویر کو آپس میں ترتیب سے جوڑا کر تیز فارورڈ کیا جائے تو پورے سفر کی مووی دیکھنے کی سعادت بھی نصیب ہو سکتی ہے. ایسا نہیں ہے کہ انہیں  سوئٹزرلینڈ وغیرہ پسند نہیں ہیں بلکہ  انکا  رزق حلال ہے اور یہ اس سے بھرپور فائدہ  اٹھانا جانتے ہیں. کوئی متعصب ہی داد نہ دے گا اس فہم کی کہ یہ اک ٹکٹ میں دو کام کرتے  ہیں، تمام لوازمات کے ساتھ سیر کا مزہ بھی لے لیا اور ثواب بھی پکا اور گریبی میں مذہبی ،حاجی وغیرہ ہونے کا لقب بھی مل گیا اسکے علاوہ جو تصاویر نکلوائیں انکا ثواب علیحدہ.   اس مہنگائی کے دور میں ہر کوئی حج عمرے پر جا نہیں سکتا. یہی تصاویر ہی ہیں جو عاشقوں کی پیاس بجھانے میں استعمال ہوتی ہیں جب حرم سے فیس بک پر اپ لوڈ ہوتی ہیں تو نورانیت بھی انکے سات اپ لوڈ ہوجاتی ہے ، اگرتھوڑی سی مشہور شخصیت کی ہوں تو پھر تو سونے پر سہاگہ ہوجاتا ہے،   صدقہ جاریہ کی صورت اختیار کر لیتی ہیں  انکو لائیک کرنے پر اک نیکی اور ہر شئیر پر دو  نیکیاں ملتی ہیں.  ایسی نفع والی چیز  پر سارا حج عمرہ قربان. . .نمازیں اور درود تو گھر میں بھی پڑھے جاسکتے ہیں لیکن گھر میں حرم اور مسجد نبوی کے پاس کھڑے  تصاویر کیسے بنائیں.. . ?اتنا کرایہ لگا کر آئے،  کون جانے ہے کہ یہاں آنے کے لیے پیسے کیسے جمع ہوئے، بیوی،  بچوں اور اپنی ضروریات کو کتنا محدود کیا اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے یہاں آکر دو کپڑے اوڑھے بیٹھے ہیں. کیا یہ کم عبادت ہے ؟  اگر ایسا کچھ نہ کیا جائے ،یکسو ہو کر صرف عبادت ہی کر لی جائے، آو زاریاں اور رو رو کر معافیاں  مانگ لی جائیں تو کون بندہ دیکھے ہے؟  کس کو کیسے پتا چلے گا کہ ہم کہاں گئے تھے اور وہاں کیسی مقدس جگہوں پر جانے کی ہمیں سعادت نصیب ہوئی تھی؟ ویسے بھی یہ کوئی غلط کام نہیں ، دین کی اتنی فہم تو ہم بھی رکھتے ہیں، پرانے قدامت پسند مولویوں کو پتا نہیں اس میں کیا برائی نظر آئی تھی آج کے علماء نے اس کی اجازت دی ہوئی ہے.  ہماری کئی مولویوں سے  دوستی ہے انہی سے یہ مسائل سنے ہیں . اس سفر میں بھی کچھ مسائل پیش آئے، واپس جاکرانکے بارے میں بھی راہنمائی لینے کا ارادہ ہے. اک بات جو بہت محسوس کی پوچھنی ہے  وہ یہ کہ بڑے بتاتے تھے کہ وہاں روضہ رسول پر اور حرم کے سامنے   تو حالت ہی بدل جاتی ہے، بندہ دیوانہ ہو جاتا ہے،  بے ساختہ آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو جاتے ہیں.... ہمیں تو ایسا کچھ بھی محسوس نی ہوا نا  ہی وہاں کسی ایسے پر نظر پڑی....معلوم نہیں  ایسا کیوں ہے..... ؟؟!!!.

درس قرآن وحدیث کیسے دیں ۔۔۔؟

قرآن و حدیث کی واضح نصوص اس کی دلیل ہیں اور چودہ صدیوں پر پھیلی اسلامی تاریخ کا ہر ہر ورق بھی اس کا زندہ ثبوت ہے کہ مسلمانوں کی تنزلی کا ایک اہم سبب ” قرآن کریم“ سے دوری، بے رغبتی، غفلت اور روگردانی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ فرمان  بھی واضح پیغام اور کھلی تنبیہ ہے  کہ : ” ان اللہ یرفع بہذا الکتاب اقواما و یضع بہ آخرین“ بے شک! اللہ تعالیٰ اس کتاب قرآن کے ذریعہ بہت سی اقوام کو سر بلند فرماتے ہیں اور دوسری بہت سی اقوام کو پست و ذلیل کرتے ہیں.درس قرآن کی روایت شروع سے مسلمانوں میں عام رہی ہےاور ہر دور میں علماء نے عوام کی تربیت اور تعلیم کے لیے اسکے حلقے لگائے رکھے، ہمارے آج کے علماء بھی اسی انداز میں یہ کام کررہے ہیں. لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ   ان علماء اور ائمہ مساجد کے پاس ہر سہولت موجود ہے،  علم بھی ہے اور سننے والوں کا ایک بہت بڑا حلقہ بھی لیکن پھر بھی ان جیسی رونق  اور اثر کیوں نہیں ۔؟. ایک جواب یہ دیا جاسکتا ہے  اخلاص، درد اور کڑھن کی کمی ہے. بالکل یہ موجود ہے.  لیکن بعض جگہ اخلاص گوکہ ان اسلاف کے درجے کا نہیں' کے باوجود بھی فاعدہ نظر نہیں آیا. ایک بڑی کمی جو عام نظر آئی ہے وہ یہ ہے کہ جتنا علم انکے پاس موجود ہوتا ہے یہ  اس سے بھرپور فاعدہ اٹھانہیں سکتے، اسکو اس انداز میں پیش نہیں کرسکتے کہ  عوام تک  صحیح انداز میں بات پہنچ جائے. اس طرف بالکل  توجہ نہیں کی جاتی کہ  مجمع کا علمی لیول اور انکی ضرورت کیاہے،    وہ جو ٹائم نکال کر سننے بیٹھے ہیں اس ٹائم کو کس طرح بھرپور استعمال کیا جائےاور کس انداز میں استعمال کیا جائے کہ درس قرآن سننے والوں میں دلچسپی پیدا ہو اور وہ قرآن کے پیغام کو سمجھنا بھی شروع کریں. درس قرآن میں  آیت کی تلاوت اور ترجمہ کے بعد  بات کا رخ ذیادہ سے ذیادہ علمی نکات، بزرگوں کے واقعات اور فقہی ابحاث  کی طرف چلا جاتا ہے اور اسی پر پھر اختتام بھی ہوجاتا ہے.ظاہر ہے ایسی حالت میں درس قرآن کی محفلیں کب بارونق ہو سکتی ہیں اور جدید مسائل سے دو چار انسانوں کے مسائل کب حل ہو سکتے ہیں اور ان کی پیاس کب بجھ سکتی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ  جو خالص انگریزی ماحول میں پلے بڑھے، جن کو کبھی عربی زبان وادب سے واسطہ نہیں پڑا، انہوں نے اردو تفاسیر سے ترجمہ دیکھ کر فہم قرآن کے نام سے عوام الناس میں اپنا مشن ونظریہ پھیلانا شروع کیا پھر بھی لوگ انکو سنتے ہیں. انکا حلقہ بڑھتا گیا اور جارہا ہے.  وجہ دیکھی جائے تو سب سے بڑی یہی نظر آتی ہے کہ وہ عوام کے لیول اور پسند ناپسند جانتے ہیں. وہ یہ جانتےہیں کہ عوام کی توجہ کیسے حاصل کی جاسکتی اور برقرار رکھی جاسکتی ہے جو کچھ ان کے پاس ہے وہ اسکو اچھی طرح پریزنٹ کرنا جانتے ہیں.علماء میں موجود اس کمی کو دور کرنے کے لیے مختلف تجربہ کار علماء نے  بہت اچھے انداز میں لکھا اور علماء کو کورس کرانے کا سلسلہ بھی شروع کیا. حال  ہی میں جامعۃ الرشید کے ایک مشہورعالم مفتی ابولبابہ شاہ صاحب کی اس موضوع پر ایک کتاب " درس قرآن کیسے دیں" کے نام سے مارکیٹ میں آئی ہے.یہ علماء کی اس مسئلے میں  تربیت پر ایک شاندار کتاب ہے. ہم اس تحریر میں اس کتاب کا خلاصہ انہی کا ترتیب دیا ہوا قارئین کے لیے پیش کرنے جارہے ہیں.























اس تحریر سے اصل فاعدہ علماء ہی اٹھا سکتے ہیں. غیر عالم دوستوں سے درخواست یہ ہے اگر وسعت ہو تواسکا پرنٹ نکال کر اسکی فوٹو کاپیاں کروا کر اپنے علاقے کے علماء حضرات کوپیش کریں..خیر کا کام جس درجہ میں ہو فائدہ ہے، کوشش کرتے رہنا چاہیے کہ کسی بھی درجے اور حیثیت میں اس نفع کے حصول کی جدو جہد جاری رکھیں، نہ معلوم کون سی بات ذریعہ نجات بن جائے۔.یہ  پی ڈی ایف فارم میں یہاں سے ڈاؤنلوڈ کی جاسکتی ہے.

مولانا دریابادی کے سفر دہریت کی داستان- دوسرااورآخری حصہ

الحاد و اتداد کا  یہ دور دس سال تک رہا ، پھر  ان تدریجی تبدیلیوں  کے ساتھ آہستہ آہستہ اسلام کی طرف آنا شروع ہوئے۔ ابھی ابتداء ہی تھی کہ مولانا شبلی کی سیرۃ النبی کی جلد اول پریس سے  باہر آگئی، دل کا اصلی چور تو یہیں تھا اورنفس شوم کو جو سب سے بڑی ٹھوکر لگی تھی وہ سیرت اقدس  کی ہی تو تھی اور خاص طور پر غزوات و محاربات کا سلسلہ۔ظالموں نے نجانے کیا کچھ ان کے دل میں بٹھا دیا تھا اور ذات مبارک کو نعوذباللہ ایک ظالم فاتح دکھایا تھا۔  خود لکھتے ہیں :
" شبلی  نے اصل دوا اسی دردکی کی، مرہم اسی زخم پر رکھا ۔ کتاب جب بند کی تو چشم تصور  کے سامنے رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر ایک بڑے مصلح ملک و قوم اور ایک رحم دل و فیاض حاکم کی تھی، جس کو اگر جدال و قتال سے کام لینا پڑا تھا تو پھر بالکل آخری درجہ میں ، ہر طرح پر مجبور ہو کر، یہ مرتبہ یقیناآج ہر مسلمان کو رسول و نبی کے درجہ سے کہیں فروتر نظر آئے اور شبلی کی کوئی قدروقیمت نظر نا آئے گی  لیکن اس کا حال ذرا اسکے دل سے پوچھئے جس کے دل میں نعوذبااللہ پورا بغض و عناد اس ذات اقدس کی طرف جما ہوا تھا ۔ شبلی کی کتاب کا یہ احسان میں کبھی بھولنے والا نہیں"۔(آپ بیتی) اسکے بعد  مثنوی مولانا روم  مطالعہ  میں آئی  ، پڑھنا شروع  کی تو  ایسا محسوس ہوا جیسے  کسی نے جادو کردیا  ہو، کتاب چھوڑنا چاہیں بھی تو کتاب نہیں چھوڑ رہی ، ایسی کشش و جاذبیت کہ دیوانوں کی طرح ایک مستی  کا عالم طاری ہے ، نہ کھانے کا ہوش نہ پینے کا ، بس کمرہ بند کرکے خلوت میں کتاب پڑھے جارہے ہیں  کہیں  آنسو  نکلے اور کہیں چینخ بھی پڑے ،   ادھر کتاب  ختم ہوئی  ادھرشکوک و شبہات  بغیر کسی ردو قدح میں پڑے اب دل سے کافور تھے،پھر یہی حال مکتوبات مجدد سرہندی کو پڑھ کر ہوا ۔الحاد کی گرہ کھل چکی تھی۔ مدتوں بعد وضو کر کے مصلے پر آئےاور خدا کے حضور کھڑے ہو گئے کہ جسے وہ بھول چکے تھے۔گناہوں کا خیال آیا تو چینخیں نکل گئیں۔ عفت کی آنکھ کھلی شوہر کو اس حال میں دیکھا تو شکر ادا کیا ،  شوہر کے آنسوؤں میں پھر اس کے آنسو بھی شامل ہو گئے،رات بھر یہی حالت رہی اور  فجر کی نماز مسجد میں  جاکر پڑی۔ایک دن گھر پر بیٹھے بیٹھے اپنے نکاح کا خیال آگیا کہ میں تو اس وقت کسی اسلامی رسم کا قائل ہی نہ تھا جب نکاح ہو رہا تھا تو میں دل میں ہنس رہا تھا، بس نمائش میں بیٹھا تھا ۔دل سے تو قبول نہیں کیا تھا ۔بس تجدید نکاح کی ٹھان لی بیوی سے ذکر کیا تو ًبولیں یعنی آپ مجھے بیوی بنانے پر آمادہ نہ تھے؟ کہا بالکل تھا ،مگر ایسے جیسے کہ ایک ہندو ہوتا ہے ،نکاح کے وقت جب آیات پڑھی جارہی تھیں تب میں یہی سوچ رہا تھا کہ یہ کلام الہی نہیں ہے۔ ایک مولوی صاحب کو  بلوایا اور دوبارہ نکاح پڑھوایا ۔تجدید اسلامی کے بعد جوش اٹھا تو آستانہ اجمیری پر حاضری دی۔ قوالیوں کی آوازیں چہار سو تھیں ، عرس کا زمانہ تھا، ہر جانب لوگ ہی لوگ تھے ۔عبدالماجد کھدر کا لباس پہنے ہوئے تھے ، گورا رنگ،داڑھی سفید گول اور نورانی، نکلتا ہوا قد،آنکھوں پر چشمہ، سر پر ٹوپی۔عارفانہ کلام پڑھا  جانے لگا تو عبدالماجد  بھی جھوم اٹھے۔لوگ حیران تھے مگر ان کے قلب کی کیفیت کو کوئی سمجھ نہیں پا رہا تھا۔پھر چشم فلک نے انہیں درگاہ خواجہ بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ ، شاہ مینا ، خواجہ نظام الدین اولیاء کے  چکر کاٹتے دیکھا۔ دولت ایمان تو اب بلا شبہ نصیب ہوگئی تھی لیکن ابھی تک رواجی تصوف و خانقاہی مشیخیت میں ٹھوکریں کھارہے تھے ۔ اپنی اصلاح کے لیے  کسی سے باقاعدہ  بیعت  ہونے کی ضرورت محسوس کررہے تھے  لیکن عام آدمی تو نہ تھے کہ آنکھ بند کر کے کسی کے بھی مرید ہو جائیں ان کا مرشد بھی انہی کے معیار کا ہونا چاہیئے تھا۔کبھی سوچا کہ مولانا  محمد علی جوہر سے بیعت کریں  تو کبھی کسی دوسرے کا خیال آتا۔ خود لکھتے ہیں :" مرشد کی تلاش ایک عرصہ سے جاری تھی، تصوف  اور سلوک کا ذخیرہ جتنا کچھ بھی فارسی ، اردو اور ایک حد تک عربی میں ہاتھ  لگ سکا تھا، پڑھ لیا گیا تھا، اتنی کتابیں پڑھ ڈالنے اور اتنے ملفوظات چاٹ جانے کے بعد اب آرزو اگر تھی تو ایک زندہ بزرگ کی۔ حیدر آباد اور دہلی  اور لکھنو جیسے مرکزی شہر اور اجمیراورکلیر، دیوہ اور بانسہ، رودلی اور صفی پور ، چھوٹے بڑے ' آستانے ' خدا معلوم  کتنے دیکھ ڈالے اور سن گن جہاں کہیں کسی بزرگ کی بھی پائی، حاضری میں دیر نہ لگائی ، حال والے بھی دیکھنے میں آگئے اور قال والے بھی، اچھے اچھے عابد ، زاہد ، مرتاض  بھی اور بعض دوکاندار قسم کے گیسو دراز بھی، آخر فیصلہ یہ کیا کہ انتخاب کے دائرے کو محدود کرکے حلقہ دیوبند کا تفصیلی جائزہ  لیجیے۔ ۔ وصل بلگرامی بولے کہ'  بہت دوڑ دھوپ آپ کرچکے ، ذرا ہمارے  مولانا (مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ)کا بھی تجربہ کیجیے، سب کو بھو ل جائیے گا، تھانہ بھون اگر دور ہے تو قصد السبیل  اور تربیت السالک وغیرہ تو میرے پاس ہی ہیں، ا نہیں تو دیکھ ڈالیے'۔اچھا ! ان خشک مولوی صاحب نے تصوف پر بھی کچھ لکھا لکھایا ہے؟ خیر، دیکھ ڈالنے میں کیا مضائقہ ہے۔ دوسری صبح کتابوں کے ساتھ وصل میرے ہاں لکھنو میں موجود۔ کتابیں پڑھ کر جب بند کیں تو عالم ہی دوسرا تھا ؛اب نہ کہیں نگاہ ہے اب نہ کوئی نگاہ میں اپنا جہل اپنے سامنے آئینہ معلوم ہوا کہ اب تک جو کچھ اس سلسلہ میں پڑھا  تھا، سنا تھا، جانا تھا، وہ بس جھک ماری تھی، تصوف کی حقیقت، طریق کی تعریف ، آج پہلی بار دل و دماغ کے سامنے آئی، قصد السبیل  پڑھتا جاتا تھا اور سطر سطر پر، پردے نگاہوں سے ہٹتے جاتے تھے، رہ رہ کر طبیعت اپنے ہی اوپر جھنجھلائی تھی کہ اب تک کیوں نہ پڑھا تھا ، بارہ برس کی مدت کوئی تھوڑی ہوتی ہے "۔ (حکیم الامت،صفحہ نمبر 10، 11) تھانوی رحمہ اللہ  سے مراسلات شروع ہوئے ، ایک   سال تک مراسلات پر دلوں کا حال بیان  ہوتا رہا پھر خود تھانہ بھون پہنچ گئے۔ طویل نشستیں رہیں ،   اتنے متاثر ہوئے  کہ ایک جگہ لکھا  کہ  اگر میں عقیدہ تناسخ کا قائل ہوتا تو کہہ اٹھتا کہ امام  غزالی رحمۃ اللہ دوبارہ تشریف لے آئے ہیں۔ بیعت کی بات کی تو حضرت تھانوی نے ان کا سیاسی میلان دیکھتے ہوئےمولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ  کو کہا  کہ وہ عبدالماجد کو بیعت کر لیں۔ عبدالماجددیوبند گئے اور حضرت مدنی کے ہاتھ پر بیعت فرمائی۔بیعت مدنی رحمہ اللہ  سے  ہوئی مگر عقیدت اور اصلاح کا تعلق   تھانوی رحمہ اللہ سے  ہی رہا ۔ شیخ کی  وفات کے بعد انکی سوانح عمری 'حکیم الامت نقوش و تاثرات '  لکھی  جو  پانچ سو سے زائد  صفحات  پر مشتمل ہے  کتاب کیا ہے ایک  فلسفی مرید کے اپنے مرشد و مصلح   کے ساتھ بیتے لمحات،  ملاقاتوں  کے احوال  اور عقیدت  و عشق میں ڈوبے ہوئے تاثرات کا مجموعہ  ہے  ۔  اس کے علاوہ  حضرت تھانوی کی ایک مشہور کتاب مناجات مقبول جو  قرآ نی و حدیثی دعاؤں کا خوبصورت گلدستہ ہے ۔  اسکی عام فہم زبان میں شرح لکھی ، شرح ایسی ہے کہ    قاری دعائیں پڑھنے   کے بجائے دعائیں مانگنے پر مجبور ہوجاتا ہے ، دعاؤں میں مزا آنے لگتا اورالفاظ کی چاشنی اور عاجزانہ انداز  قلب کی کیفیت بدلت دیتا ہے۔ کچھ عرصہ بعد  دریا باد منتقل  ہوئے اور  اس  کی خاموشی میں کام کرنے کا خوب موقع ملا۔ کئی  ایسے ادبی مضامین قلم سے نکلے کہ جو ہمیشہ یاد رکھے گئے ،غالب کا ایک فرنگی شاگرد،مررزا رسوا کےقصّے،اردو کا واعظ شاعر، پیام اکبر، اردو کا ایک بدنام شاعر،گل بکاؤلی ، مسائل تصوف اور موت میں زندگی وغیرہ  ان مضامین نے تنقید کی دنیا میں ایک نئی جہت کا آغاز کیا۔ تجدید اسلام کے  بعد  ایسے دور سے گذر رہے تھے کہ  ان کا میلان زیادہ تر قرآن اور متعلقات قرآن ہی پر وقف ہو گیا تھا  ،تصوف  بھی  انکا  خاص موضوع رہا ، سو ایک کتاب “تصوف اسلام " لکھ ڈالی اور رومی کے ملفوطات کو بھی  ترتیب دیااورقرآن کے انگریزی ترجمے اور تفسیر  جیسے بلیغ کام کا بھی  آغاز کیا ۔بیسویں صدی کا ہندوستان “اخبارات ” کا ہندوستان تھا ،کئی اکابرین نے صحافت کے نئے باب رقم کئے تھے، ہندوستان کی سیاسی و مذہبی لہروں کی گونج اخبارات میں سنائی دے رہی تھی۔خود عبدالماجد ایک عرصہ اخبارات ورسائل سے وابستہ رہے تھے، سو جانتے تھے کہ ہنگامی اور اہم موضوعات کو عوام تک پہنچانے کے لئے اخبارات سے بہتر کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے۔سوچا کیوں نہ اپنا ایک اخبار ہی نکالا جائے، ادیب دوستوں سے مشاورت کے بعد  اخبار کا نام “سچ” تجویز کیاگیا۔ تیاریاں مکمل ہوئیں اور عبدالماجد کی زیر ادارت ہفتہ وار اخبار پابندی سے نکلنا شروع ہوگیا۔ اس   وقت  ردبدعات ، معاشرے میں پھیلی فکری غلط فہمیوں   کی اصلاح،   تجدد اور ترقی پسندی کے پردے میں مغرب نقالی  کا رد اخبار کے خاص موضوعات تھے۔ یہ دور  کئی قسم کے  فرقوں کی پیدائش،  سیاسی  افراتفری اور  انتشار  کا دور تھا، اس لیے سچ کو اپنی زندگی میں بڑی بڑی لڑائیاں بھی لڑنا پڑیں، آج اس سے جنگ ہے تو کل اس سے۔شروع میں توجہ اصلاح  رسوم و ردبدعات پر ذیادہ تھی اس لیے قدرۃ اہل بدعات بھی ناراض رہے   اور وہابیت کا  ترجمان ہونے کے القاب ملے،  پھر جب سعودی شریفی  آویزش پر نکتہ چینی شروع  تو بدعتیوں کا پشت پنا کہا گیا ، بعض ہم خیال طبقات کی دشمنی بھی مول لینی پڑی  لیکن سچ لکھنے کے لئے عبدالماجد نے کبھی مصلحت کو آڑے آنے نہ دیا۔  تنقید کی تو  ہمیشہ ذاتیات کا پہلو بچا کر ، حق کو حق اور باطل کو باطل بلا  کسی مسلک ، جماعت  کے خیال   اور بغیر کسی تعصب  کے کہا ۔ اپنے سابقہ تجربہ کی وجہ سے الحاد  کی طرف جانے والے تمام راستوں سے واقف تھے اس لیے   بلاوجہ کی تجدد پسندی،  روشن خیالی ، مذہب بیزاری اور فلسفیانہ مغالطے پھیلانے والوں سے مقابلہ    ہر محاذ پر رہا ،اسی طرح  الحاد براستہ  انکار حدیث سے تو مدتوں جنگ رہی ۔  نیاز فتح پوری کے الحاد و فتنہ نگار کے  علمی رد کے لیے مہینوں اپنے کو وقف رکھا ۔سچ کی ہنگامہ آرائیوں میں مصروف رہ کر عبدالماجد اپنے خاص علمی کاموں سے دور ہوتے جا رہے تھے،قرآن مجید کے انگریزی اور اردو ترجمے و تفسیر کے لئے کافی وقت درکار تھا اس  کے لیے آخر   “سچ”کو اس کارنامہ عظیم کی خاطر بند   کرکے  پوری جانفشانی سے تفسیر کا کام شروع کیااور  دریا باد کی تنہائیوں میں وہ کارنامہ سرانجام دینے لگے جو علوم دینی میں ایک اہم باب کا اضافہ کرنے والا تھا۔ عبدالماجد  مغربی علوم کے ماہر اور قدیم اور جدید تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے تھے ،بائبل کے تمام ادوار انکی نظر میں  تھے اور  شروع میں پادریوں   کی علمی  یلغار  کا مقابلہ  بھی کرتے رہے تھے ۔اس کے علاوہ  فلسفہ شروع سے انکا خاص موضوع رہا   تھا،ایک عرصہ تک مغربی فلسفہ سے متاثر ہوکر الحاد و تشکیک کا شکار  رہے  تھے اس لیے اسکی حقیقت کو  بھی دوسروں سےذیادہ  سمجھتےتھے ،  شروع کی زندگی تو گزری ہی ہمہ وقت فرنگی علوم و فنون ،  فلسفہ و نظریات کی فتنہ سامانیوں  اور معاشرے میں پھیلی فکری گمراہیوں  کے علمی رد میں تھی ۔  اپنی گزری عمر کے اس سارے علم اور  تجربے کا نچور   اس تفسیر میں پیش   کیا،   تفسیر میں   مغربی مفکرین، فلسفیوں، مبلغین کے اعتراضات اور پروپیگنڈے کے  علمی جوابات بھی موجود ہیں  اور اسکے اثرات سے پیدا ہونے والے لادینیت الحاد و تشکیک کے امراض کا شافی علاج بھی ۔ مغربی فلسفہ زدہ یورپ پلٹ معاشرہ کے لیے یہ  تفسیر  آب حیات سے کم نہیں ۔   مولانا نے اس میں رسمی تعبیرات اور اختلاف اقوال کے بجائے عصر حاضر کے انسان کے ذہن کے مطابق قرآنیات کی تفہیم و تشریح پر توجہ مرکوز  رکھی اور قرآنی آیات والفاظ  کی جو  عصری تطبیق پیش کی  اس میں  تفسیر بالرائے سے  بچنے  کی کوشش میں  اکابر علمائے تفسیر  کی تحقیق  کو  بھی مدنظر رکھا اس لیے  جہاں تفسیر میں  بائبل، تورات،  وید، گیتا ، بدھ تعلیمات ، مجوسی مفکرین، قدیم و جدید فلسفیوں کے حوالہ جات اور انکے مدلل جوابات  نظر آتے ہیں وہاں عظیم مفسرین کرام کی تفاسیر کے اقتباسات کو بھی  پیش کیا گیا ہے۔ آپ کو مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی   چونکہ ہر قدم پر ہدایات اور مشاورت  میسر رہی    اس لیے    قرآن کے فقہی اور قانونی پہلو بھی   مستند  ہیں ۔ مزید  مولانا   چونکہ اردو کے بہت بڑے ادیب اور انشاپرداز  بھی تھے  اس لیے   تفسیر   محض خشک علمی ابحاث پر مشتمل   نہیں  بلکہ یہ اردو تفسیری ادب میں بھی  بلند مقام رکھتی ہے، اس میں علم و ادب اور لفظ دانی و معنی شناسی کے حسین امتزاج نے ادب سے لگاؤ رکھنے والے کی تشنگی  بھی دور کی ہے۔تفسیر ماجدی لکھتے لکھتے کئی  اور کتابیں  بھی ظہور میں آئیں جو بعد میں”اعلام القرآن، ارض القرآن، مشکلات القرآن”وغیرہ کے نام سے شائع ہوئیں۔  یہ کام مکمل ہوا تو خاکے لکھنا شروع کر دیئے جنہیں کتاب کی صورت ملنے لگی۔ کسی عالم دین سے کب توقع تھی کہ وہ سوانح نگاری ،خاکہ نگاری اور انشائی تحریروں میں بھی دماغ کھپائے گا لیکن عبد الماجدنے تو جیسے تہہ کر لیا تھا کہ وہ ادب کے ہر گھر میں جھانکے بنا نہیں رہیں گے۔شاعری بھی کی اور غزل کو ہاتھ لگایا، تنقید بھی کی اور تحقیق تو ان کا خیر میدان ہی تھا ۔ یوں  مسائل القصص، الحیوانات فی القرآن، ارض القرآن،اعلام القرآن، بشریت انبیاء، سیرت نبوی قرآنی،اور مشکلات القرآن جیسی کتب پڑھنے والوں کے سامنے آئیں۔عبد الماجد کی صحت ہمیشہ سے ہی ناساز رہی تھی ۔ ملیریا کے سالانہ حملوں اور مسلسل نزلے کے باعث بینائی متاثر ہو چکی تھی ۔ 80سال پار کرنے کے بعد قوت ارادی بھی جواب دینے لگی۔ایک دن اپنی بیٹیوں  کو پاس بلا کر اپنی کتابوں کی تقسیم بھی کر وادی کہ انگریزی کی کتابیں ندوہ کے دارالمطالعے کو اور اردو،عربی اور فارسی کی کتب مسلم یورنیورسٹی کو دے دیں۔ دسمبر کا مہینے کا آخر تھا کہ نیا حملہ فالج کا ہو ا، حواس قائم نہ رہے تھے،بار بار غفلت طاری ہو جاتی تھی لیکن اس عالم میں بھی بار بار ہاتھ کان تک اٹھاتے اور اس کے بعد نیچے لا کر نماز کے انداز میں باندھ لیتے تھے۔ایک روز اپنی منجھلی بیٹی کو بلا کر کہنے لگے کہ “وہ جو آتا ہے ف۔۔۔”بیٹی نے جملہ مکمل کیا کہ”فرشتہ؟”بولے ۔”ہاں”اور داہنی جانب اشارہ کیا اور کہا “آگیا ہے۔”اس واقعے کے4دن بعد ہی 6جنوری1977؁صبح ساڑھے4بجےخاتون منزل (لکھنؤ)میں خالق حقیقی سےجا ملے۔نماز جنازہ ، وصیت کے مطابق نماز ظہر کے بعد ندوۃالعلماء کے میدان میں مولانا ابو الحسن ندوی رحمہ اللہ  نے پڑھائی۔ دریا باد میں  آپ کی تدفین ہوئی۔
مستفاد :1-جناب ڈاکٹر تحسین فراقی کی تصنیف “عبد الماجد دریا بادی ،احوال و آثار2-عبدالماجد دریا بادی کی سوانح” آپ بیتی3- حکیم الامت  از مولانا دریابادی

مولانا دریابادی کے سفر دہریت کی داستان

پیدائش مذہبی گھرانے میں ہوئی  ، ماں اور بڑی بہن تہجد گزار، والد صوم صلاۃ کے پابند،  دادا مفتی  اورنانا ایک مشہور عالم ، گھر میں   دینی تربیت  کا  ماحول تھااس کے علاوہ ایک مولوی صاحب بھی  پڑھانے آتے ، بارہ تیرہ سال کی عمر میں تو گویا پورے ملا بن گئے تھے، نویں جماعت میں تھے  قرآن کے موضوع پر  ایک مضمون تیار کر کے صوبے کے سب سے بڑے اخبار”اودھ اخبار”میں بھیج دیا ۔ مضمون پرچہ کی زینت بنا  اور یہاں سے  ان کی ادبی زندگی کا آغاز ہو گیا ۔کالج کے لئے انہیں کیتگ کالج لکھنؤ میں داخل کرایا گیا۔ اختیاری مضامین کے طور پر منطق ، تاریخ اور عربی لئے۔یہ وہ مضامین تھے جن میں ان کی اہلیت کالج کے معیار سے کہیں زیادہ تھی۔انگریزی لازمی مضمون تھا  لیکن اس مضمون میں بھی  کوئی   پریشانی نہ ہوئی ایک تو  اس سے طبعی مناسبت تھی دوسرا انگریزی اخبار و جرائد مطالعے میں  بھی رہا کرتے تھے ۔ایک روز شام کی سیر  کے دوران نگاہ “رفاہ عام لائبریری “پر پڑی ،  قدم لائبریری کی جانب اٹھ گئے ۔اندر کتابو ں کا بازار نظر آیا،  ایک  کتاب نکلوائی اور پڑھنے بیٹھ گئے ،  اس دن کے بعد جب  بھی  سیر کو نکلتے تو  یہیں کتابوں کی سیر کرتے رہتے۔مطالعہ کی کثرت نے ان کے اندر کے ادیب کو بیدار کرنا شروع کر دیا تھا ۔کالج کے ابتدائی سال تھے عمر نا پختہ تھی مگر کتابوں کے شغف نے اتنی معلومات فراہم کر دی تھی کہ تصنیف و تالیف کی جانب مائل ہو گئے۔ “محمود غزنوی ” پر مفصل مقالہ لکھ ڈالا  ،اس مقالہ میں تاریخ یمنی سے استفادہ کرتے ہوئے یہ بتایا کہ غزنوی پر بخل کا الزام لغو ہیں یہی کام مولانا  شبلی بھی انہی دنوں کر رہے تھے کہ فرزندان اسلام پر مغرب کے  لگائے گئے الزامات کی تردید تاریخی حوالوں سے کر رہے تھے۔ کتاب ایک پبلشر نے شائع کر کے ان  کا نام بھی مصنفوں کی فہرست میں ڈال دیا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان  کے تعلقات دیگر اہم ادیبوں سے بھی استوار ہوتے چلے گئے۔ایک دن  اک عزیز کے پاس ا یک انگلش کتاب  محض اتفاقا  دیکھنے میں آئی ، ہر چیز کے پڑھنے اور پڑھ ڈالنے کا مرض تو شروع ہی سے تھا، بے تکان اس کتاب کو بھی پڑھنا شروع کردیا، جوں جوں آگے بڑھتے گئے ، گویا اک نیا عالم عقلیات کا کھلتا گیا اور عقائد و اخلاق کی پوری پرانی دنیا جیسے زیروزبر ہوتی چلی گئی!۔۔Element  of  Social Science کتاب کا نام تھااور مصنف ڈاکٹر ڈریسیڈیل جس کے بارے میں بعد میں پتا چلا کہ یہ  اپنے وقت کا ایک کٹر ملحد تھا۔  کتاب مذہب پر نہ تھی اور نہ بظاہر اسکا کوئی تعلق  ابطال مذہب سے تھا ، اصول معاشرت اور آداب معاشرت پر تھی ، لیکن ایک بارود بچھی ہوئی سرنگ تھی ۔اس کا اصل حدف وہ  اخلاقی بندشیں تھیں جنہیں مذہب اب تک علوم متعارفہ کے طو ر پر پکڑے ہوئے تھااور ان پر اپنے احکام کی بنیاد رکھے ہوئے تھا۔مثلاً عفت و عصمت، کتاب کا اصل حملہ انہی  بنیادی اخلاقی عقائد پر تھا۔۔کتاب کے مطابق یہ جنسی خواہش تو جسم کا ایک طبعی مطالبہ ہے اسے مٹاتے رہنا اور اس کے لئے باضابطہ عقد کا منتظر رہنا ایک فعل عبث ہے،بلکہ صحت اور جنسی قوتوں کی بالیدگی کے لئے سخت مضر ہے۔اس لئے ایسی پابندیوں کو توڑ ڈالو اور مذہب و اخلاق کے گڑھے ہوئے ضابطہ زندگی کو اپنے پیروں سے روند ڈالو۔ایسے ہی  کتاب کی زد ہر ایسی قدر پر  پڑتی جو مذہب اور اخلاق کو ہمیشہ عزیز  رہے ۔ کوئی پختہ کار مرد ہوتا تو وہ ان باتوں کو محض باتیں سمجھ کر نظر انداز کر دیتا مگر  یہ  سولہ سال کا نوجوان طفل نادان تھا اس سیلاب کی تاب نہ لا سکا۔ مذہب کی حمایت و نصرت میں اب تک جو قوت جمع تھی ، وہ اتنی شدید بمباری کی تاب نہ لاسکی اور شک و بدگمانی کی تخم ریزی مذہب و اخلاقیات کے خلاف خاصی ہوگئی۔ یہ سوچنے لگ گئے کہ  اب تک کس دھوکے میں پڑے رہے، تقلیدا ابتک جن چیزوں کو جزو ایمان بنائے ہوئے تھے  وہ عقل و تنقید کی روشنی میں کیسی بودی ، کمزور اور بے حقیقت نکلیں،اس کتاب میں “ایمان” پر براہ راست حملہ نہیں کیا گیا تھا مگر ان چیزوں کو کمزور بنا دیا گیا تھا جو ایمان کو قائم رکھتی ہیں۔پروپیگنڈے میں  یہی   کوشش کی جاتی ہے  کہ براہ راست حملہ نہ ہو بلکہ اطراف و جوانب سے گولہ باری کرکے قلعے کی حالت مخدوش کردی جائے ۔ عبد الماجدا بھی اس کتاب کو پڑھ کر پوری طرح گرے نہیں تھے مگر سنبھل بھی نہ سکے تھے ۔ یہ ایک نیا موضوع تھا جو اب تک ان کی نظر سے نہیں گذرا تھا ۔ شک  وراتباب کی تخم ریزی ہوہی چکی تھی اور  ملحد اور نیم ملحد فلسفیوں کی  انگریزی میں کمی نہیں تھی ۔ لکھنؤ کی “ورما لائبریری “ قریب ہی تھی  ، وہاں سے چارلس بریڈلا، بوشنر، انگرسول، ہیوم، اسپنر  کی کتابیں پڑھنے کو  ملتی رہیں اور  تشکیک کو غذا اور الحاد کو خوب تقویت پہنچتی رہی ۔ ایک ضخیم کتاب   جو کئی جلدوں پر مشتمل تھی   International Library of Famous Literature  کے نام سے دکھائی ، یہ کتاب بھی مذہبیات کی نہیں ادب محاضرہ  کی  تھی ، ساری دنیا کے ادبیات کے بہترین انتخابات کو اس  میں جمع کیا گیا تھا،  اس کی ایک پوری    جلد قرآن اور اسلام کےذکر پر مشتمل تھی  ۔اس میں ایک پورے صفحے کا فوٹو “بانی اسلام” کے نام سے شامل کیا گیا تھا  اور نیچے مستند حوالہ کہ فلاں قلمی تصویر کا عکس ہے 'درج کیا گیا تھا، گویا ہر طرح سے صحیح و معتبر ۔ جسم پر عبا،  سرپر عمامہ اور چہرہ مہرہ پر بجائے  کسی قسم کی نرمی کے غصیلہ پن، تیوروں پر خشونت کے بل پڑے  ہوئے، ہاتھ میں کمان، شانہ پر ترکش ، کمر میں تلوار۔ ۔ گویا تمام تر  ایک ہیبت ناک و جلاد قسم کے بدوی سردار قبیلہ کی  شبیہ ۔ ۔ نوجوانی میں  فرنگیت سے مرعوب ذہنیت اس کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھی کہ خود اس فوٹو میں  کوئی جلعسازی بھی ہوسکتی ہے اور انکی کوئی بات غلط بھی ہوسکتی  ہے ۔۔ جو  رہی سہی کسر  تھی  وہ اس تصویر نے نکال دی ، ذات رسالت سے اعتقاد دیکھتے دیکھتے دل سے  مٹ گیا۔رئیسانہ ٹھاٹ کے باوجود ان کی تربیت دینی خطوط پر ہوئی تھی ،آباؤ اجداد سے ایک دینی روایت ساتھ چلی آرہی تھی، لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا دین کی آغوش میں پلا بڑھا یہ نوجوان پہلے ، دوسرے حملے میں ہی چت ہوگیا،  گمراہی کے کتنے دروازے ہیں اور شیطان کی آمد کے لئے  کتنے راستے کھلے ہوئے  ہیں، یہ کون جانتا ہے۔۔؟! نماز اب بھلا کہاں باقی رہ سکتی تھی، پہلے وقت سے بے وقت ہوئی، پابندی گئی،  پھر ناغے اور کئی کئی ناغے ہونے لگے، یہاں تک کہ بالکل غائب ہوگئی، وضو، تلاوت، روزہ وغیرہ سے کوئی واسطہ ہی نہ رہا، شروع شروع میں کچھ خوف اور لحاظ والد  کا رہا  لیکن یہ کب تک کام دیتا، جو اسوقت  اللہ اور اسکے رسول سے بغاوت پر آمادہ تھا وہ باپ بیچارے کو کیا خاطر میں لاتا۔مذہبی مطالعہ اس وقت بھی کچھ ایسا کم نہ تھا  لیکن فرنگی الحاد کے جس سیلاب عظیم سے ٹکراؤ تھااس سے مقابلے کے لئے وہ مطالعہ ہرگز کافی نہ تھا،کفر کے اندھیروں میں اترنا ہی تھا کہ ایسے ہی دوستوں کی تلاش بھی شروع ہوگئی ۔کالج کے ایک ساتھی طالب علم محمد حفیظ سید سے یارانہ بڑھا ۔وہ بھی ملحد ہو چکا تھا اور ہندوانہ تصوف و فلسفے کا گردیدہ تھا۔فرق صرف اتنا تھا کہ عبدالماجد ملحد یا منکر اور حفیظ تین چوتھائی ہندو ۔ملاقاتیں بڑھتی گئیں اور ملحدانہ رنگ چڑھتا گیا۔ دبے دینی کی لے بڑھ رہی تھی ،عبدالماجد نے کسی کے پاس لنکن کی ریشنلسٹ پریس ایسوسی ایشن کی ارزاں قیمت مطبوعات کی فہرست  دیکھی ،  مسلک عقلیت (ریشنلزم ) کے پرچار کے نام سے یہ سب کتابیں رد مذہب و تبلیغ الحاد کے لئے تھیں ، پہلے یہ کتابیں مانگ مانگ کر پڑھیں ، پھر جب لت پڑگئی اور نشہ اور تیز ہوگیا تو فیس ادا کرکے انجمن  کا باضابطہ ممبر بن گئے، فخر سے اپنے آپ کو ریشنلسٹ کہتے اور اپنے اس ننے منے کتب خانے کو دیکھ کر خوش ہوتے۔ہندوستان میں اس  ایسوسی ایشن کی کو ئی شاخ نہیں تھی  اس کے پندرہ روزہ نقیب ' ریشنلسٹ ریویو'   کو قیمت بھیج کر اسکے خریدار بن گئے۔ رفتہ رفتہ اب اسلام کے نام سے  بھی شرم آنے لگی۔اسی دوران علامہ شبلی کی کتاب “الکلام”منظر پر آئی، عبدالماجد نے مطالعہ کیا ۔ان کے مطابق کچھ خامیاں تھیں سو تنقید کے لئے قلم اٹھا لیا ۔ ایک رسالہ”الناظر”جو  لکھنؤ سے شائع ہوا کرتا تھااس کے ایڈیٹر ظفر الملک کو شبلی سے کد تھی ، عبدالماجدکو اس سے بہتر دوسرا کوئی رسالہ دکھائی نہ دیا ۔رسالے نے بھی خوش آمدید کہا۔ عبدالماجدکا ایک طویل مقالہ چھے اقساط میں شائع ہوا۔یہ قسطیں ایک طالب علم کے نام سے شائع کروائیں۔(شبلی سمجھتے رہے کہ یہ کام مولوی عبدالحق کا ہے،مگر یہ راز بعد میں کھل گیا)۔ مختلف مضامین کی ترتیب و تسوید جاری رہی اور اس میں عبدالماجد کی عقل  ہی ان کی امام  اور رہبر تھی۔ جو بھی مذہبی عقیدہ ان کی عقل کے معیا ر پر پورا نہ اترتا وہ بقول عبدالماجد ناقص تھا۔ مضامین میں عبدالماجد کا لہجہ کڑوااور مسموم  ہوتا حتی کہ مذہب و سائنس کے اختلافات کی تفصیل درج کرنے کے بعد یہ نتیجہ نکال لائے کہ مذہب اب چند روزہ مہمان ہے۔ جوں جوں سائنس کی تعلیم عام ہوتی جائے گی اسی نسبت سے مذہب کا اثر بھی زائل ہوتا جائے گا۔ان تمام مضامین کا مقصود دراصل مذہب کو مجموعہ توہمات ظاہر کرنا تھا۔ان کا خیال تھا کہ اکثر مسائل میں بانیان مذہب غلطیوں اور غلط فہمیوں کا شکار رہے۔ وہ تعلیمات مذاہب کو اللہ کی نہیں بلکہ انبیاء  کی خودساختہ سمجھتے  تھے ۔عبدالماجد کےان مضامین کا ردّعمل بھی ہوا۔جن کا خلاصہ یہ تھا  کہ استدلال نہایت سطحی ہے، قرآن کریم کی بعض آیات کو سمجھنےمیں ٹھوکر کھائی ہیں۔مصنف کا قلم اندھے کی لکڑی کی طرح ہے جو چاروں طرف گھوم رہی ہے کسی کے بھی لگ جائے۔عبدالماجدکا الحاد اپنی جگہ لیکن “الکلام” پر تنقیدی اقساط اور دوسرے کئی مضامین کے ذریعے وہ اپنے آپ کو ایک ادیب تسلیم کروا چکے تھے۔بعض ادیبوں سے ان کے تعلقات بھی استوار ہو چکے تھے جو ان کے خاندان سے واقف تھے انہیں دکھ ہوا کرتا تھا کہ کیسے اشرف خاندان کا چراغ کن ہواؤں کے سامنے ہے۔ان کی تہجد گزار ماں کو جب علم ہوا تو دل پر قیامت گذر گئی۔وہ جو دوسروں کو نماز و روزے کی تلقین کیا کرتی تھیں ان کا اپنا بیٹا منکر نماز و روزہ تھا۔  والد عبدالقادر صاحب وقت سے پہلے بوڑھے ہو چکے تھے۔سب نے خوب سمجھایا ،پر سب بے سود۔ عبدالماجدکا مطالعہ  وسیع تھا ،  الحاد بھی استدلال پر مبنی تھا،منطق و فلسفہ ان کے خاص مضامین تھے ،کوئی ان سے نہ جیت سکا،کوئی قائل نہ کر سکا۔سب نے انہیں ان کے حال پر چھوڑ کر دعاؤں کا سہارا پکڑ لیااور معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا۔ ایک جگہ  لکھتے ہیں :" ذہنی ،فکری، عقلی اعتبار سے تو تماتر ایک فرنگی تھا، مسلمانوں سے میل جول بہت کم ہوگیا تھالیکن ابھی بھی جذباتی حیثیت سے ایک مسلمان ہی  تھا، ایک روشن خیال مسلمان ، مسلم قومیت سے میری جڑیں کٹنے نہ پائی تھیں، مسلم قومیت دین اسلام کے بعد ایک بڑی نعمت ہے ، کوئی صاحب اسے بے وقعت  وبے قیمت نہ سمجھیں، مجھے آگے چل کر اس کی بڑی قدر معلوم ہوئی۔ حالت یہ تھی کہ کوئی غیر مسلم  جب کبھی اسلام پر معترض  ہوا، ارتداد کامل کے باوجود  اپنا دل اسکی تائید کے بجائے  اسکو جواب دینے پر ہی  آمادہ کرتا۔  اکتوبر 1911 کا ذکر ہے، ایک بڑی مسیحی کانفرنس میں شرکت کے لیے مشہور معاند اسلام پادری زویمر بھی بحرین سے آئے ، انکی شہرت عداوت اسلام کی ، ان سے قبل  یہاں پہنچ چکی تھی۔ میں بی اے کا طالب علم تھا اور عقیدۃ تما م تر منکر اسلام۔ اپنے ایک دوست مولوی عبدالباری ندوی  کو ساتھ لے ' جھٹ ان سے ملنے پہنچا، پادری  صاحب اخلاق سے پیش آئے لیکن حسب عادت چوٹیں اسلام پر کرنا شروع کردین۔ آپ یقین کیجیے  کہ جوابات جس طرح ندوی صاحب نے عربی میں دینا شروع کئے اسی طرح میں نے بھی انگریزی میں ۔ پادری صاحب پر یہ کسی طرح کھلنے نہ پایا کہ میں تو خود ہی اسلام سے برگشتہ و مرتد ہوں، کسی پادری یا آریہ سماجی یا کسی اور کھلے ہوئے دشمن اسلام کا اثر مطلق مجھ پر نہ تھا۔ متاثر جو کچھ بھی  میں ہوا تھا، وہ تمام تر  اسلام کے مخفی دشمنوں سے اور انکی تحقیقات سے ہوا تھا ، جو زبان پر دعوی کمال بے تعصبی کا رکھتے تھے ، لیکن اند ر ہی اندر زہر کے انجکشن دیتے جاتے۔"(آپ بیتی صفحہ ، 243) دوسری طرف اپنی سوچ میں شدت پسند ی کا یہ حال تھا کہ کالج کے سالانہ امتحان کے فارم میں مذہب کے فارم میں اسلام کے بجائے “ریشنلسٹ”لکھنا باعث فخر سمجھتے۔انٹر کے بعد اسی کالج میں بی اے میں داخلہ لیا،مضامین  بھی وہی خاص تھے،عربی اور فلسفہ ۔مذہب کی مخالفت کے لئےفلسفہ ہی بڑا سہارا ہو سکتا ہےکیونکہ تمام تر تکیہ  “عقل”پر کرتا ہے۔کالج کی لائبریری میں جتنی کتابیں فلسفے کی تھیں سب پڑھ ڈالیں۔ملحد وں و نیم ملحدوں کی کتابوں کے ساتھ وہ کتابیں بھی سامنے آئیں جنکا موضوع نفسیات تھا ان سے الحاد کو مزید تقویت ملی۔ آب بیتی میں لکھتے ہیں:  " اسلام اور ایمان سے برگشتہ کرنے اور صاف و صریح ارتداد کی طرف لانے میں ملحدوں اور نیم ملحدوں  کی تحریریں ہرگز اس درجہ موثر نہیں ہوئیں  جتنی وہ فنی کتابیں  ثابت ہوئی جو نفسیات کے موضوع پر اہل فن کے قلم سے نکلی ہوئی تھیں۔ بظاہر مذہب سے کوئی تعلق نہیں رکھتی تھیں، نہ نفیا  نہ اثباتا، لیکن   اصلی زہر انہی  بظاہر بے ضرر کتابوں کے اندر گھلا ہوا ملا۔ مثلا ایک شخص گزرا ہے ڈاکٹر ماڈسلی اسکی دو موٹی  موٹی کتابیں اس زمانہ میں خوب شہرت پائے ہوئے تھیں، ایک مینٹل  فزیالوجی (عضویات دماغی) اور دوسری  مینٹل  پیتھالوجی ( مرضیات دماغی)۔ اس دوسری کتاب میں  اختلال دماغی اور امراض نفسیاتی کو بیان کرتے کرتے یک بیک وہ بدبخت مثال میں وحی  محمدی کو لے  آیا اور اسم مبارک کی صراحت کے ساتھ ظالم لکھ گیا کہ مصروع شخص کے لیے  یہ بالکل ممکن ہے کہ وہ اپنا  کوئی بڑا کارنامہ دنیا کے لئے چھوڑ جائے۔۔! ایمان کی بنیادیں کھوکھلی تو پہلے ہی ہوچکی تھیں اب ان کم بخت ' ماہرین فن' کی زبان سے اس قسم کی تحقیقات عالیہ سن کر رہا سہا ایمان بھی رخصت ہوگیا اور الحاد و ارتداد کی منزل تکمیل کو پہنچ گئی۔!  ایمان کو عزیز رکھنے والے خدا کے لئے ان تصریحات کو غور سے پڑھیں ۔"(آب بیتی  صفحہ 240)  اس دوران ایک آنریری مجسٹریٹ جو  عبدالقادر صاحب  کے قرابت دار بھی  تھے 'کی صاحبزادی عفت النساء سے عبدالماجد کی   ملاقات ہوئی اور اس  سے محبت کرنے لگے ۔آتش عشق بڑھی تو شاعر بھی بن گئے ،غزلوں پر غزلیں ہونے لگیں ۔ان کچھ دنوں کے لئے وہ نہ مسلمان تھے  نہ ملحد بس عاشق بن گئے تھے ۔کچھ غزلیں جمع ہوئیں تو سوچا کہ اکبر الٰہ آبادی کو دکھا دیں ۔اکبر کی جانب سے حوصلہ افزا جواب آیا تو دوسری غزل روانہ کی جس کا شعر تھا:جانبازیوں کو خبط سے تعبیر کر چلےتم یہ تو خوب عشق کی توقیر کر چلےاکبر نے خوب داد دی اور خوشی اور تعجب کا اظہار کیا ۔محبت میں دیوانگی کی حد عبدالماجد ضرور چھو رہے تھے مگر اپنے علمی مرتبے سے بھی غافل نہ تھے ۔ ان کی دو کتابیں ۔”سائیکالوجی آف لیڈر شپ “اور “فلسفہ اجتماع “آگے پیچھے شائع ہوئیں۔ انہوں نے ان کتابوں میں پیغمبران عظام پر تعریضات کی  تھیں اور ان پر خود غرضی کے الزامات لگائے تھے۔ یہ ایسی جسارت تھی کہ اخبارات و رسائل خاموش نہ رہ سکے۔ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔مخالفانہ تبصرے شائع ہوتے چلے گئے۔سب سے اہم فتویٰ وہ تھا جو احمد رضا خان بریلوی کی جانب سے شائع ہوا اور عبدالماجدکو کافر قرار دیا گیا۔اس کے ساتھ بہت سے فتوے ان کی عدم تکفیر میں بھی شائع ہوئے۔جن میں مولانا عبدالباری فرنگی محلی ، سید سلمان ندوی اور مولانا شیر علی جیسے جید نام بھی تھے۔یہ  حضرات  سمجھتے تھے کہ عبدالماجد غلط راستے پر پڑ گیا ہے اگر نرمی کا برتاؤ کیا جائے تو جلد ہی راستے پر آجائے گا اگر سختی کی گئی تو مزید ضد پر آجائے گا ۔علما کا یہ برتاؤ اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ عبدالماجد کی علمی وقعت کے قائل تھے۔وہ دھیرے دھیرے نرمی کے ساتھ انہیں اسلام کی طرف لانا چاہ رہے تھے۔ ان کتابوں کی وجہ سے انکے خاندان میں بھی چہ مگویاں بڑھ گئی تھیں ماں نے یہ حل سمجھا کہ اس کی شادی کر دی جائے ۔چنانچہ 2جون1916؁ کو اس کا نکاح لکھنؤ میں انجام پا گیا۔ممتاز شعرانے تاریخیں نکالیں اور سہرے لکھے۔ منکر ہو نہ کوئی اپنی ہمتائی کایہ کام کبھی نہیں ہے دانائی کااللہ نے اب غرور ان کا توڑادعوی تھا مرے دوست کو یکتائی کا(سید سلیمان ندوی)انہی دنوں عبدالماجد سخت معاشی پریشانیوں کا شکار  بھی ہوئے ، والد فوت ہوچکے تھے ، پیسہ جس  بنک میں تھا وہ دیوالیہ ہوگیا۔ آخر  دار المصنفین اعظم گڑھ ان کے کام آگیا۔ دارالمصنفین کی فرمائش پر جارج برکلے کی مشہور انگریزی کتاب کا ترجمہ”مکالمات برکلے”کے نام سے کیا جو اس خوبی سے ہوا کہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہو گیا۔اس کے ساتھ ہی “معارف”کے لئے معاوضے پر لکھنا شروع کر دیا اور گزر بسر ہوتی رہی۔1919؁ کے اوائل میں نظام حیدر آباد سے ان شرائط پر وظیفہ کی منظوری ہوئی کہ وہ سال میں 1تصنیف پیش کیا کریں گےاور اسکے خاکے کا مسودہ محکمہ احتساب کی نظر سے گزارنا ہوگا ،محکمے کی منظوری کے بعد وہ کتاب مکمل کریں گے۔شرائط شائد اسی لئے لگائی گئی  تھی  کہ عبدالماجدکے الحادی نظریات کو جانچ سکیں ۔125روپے ماہانا تا حیات منظور  ہوگئےجو گھر بیٹھے انہیں ہر ماہ ملنے لگے۔اس دور میں متعدد ترجمے ان کے قلم سے نکلے جن میں “تاریخ ،تمدّن ، تاریخ اخلاق یورپ”اور ناموران سائنس”بڑی اہم ثابت ہوئیں۔مد کے بعد جزرنظریات و افکار  کی جنگ جو دس سال سے ان کے باطن میں چھڑی ہوئی تھی اس کے خاتمے کا دور آنے ہی والا تھا ۔ایک ہلچل  جو  مچی تھی اس کو قرار ملنے ہی والا تھا۔تشکیک و الحاد کے اس حملے سے جس سے وہ مغلوب  ہوئے  تھے  اب اس سے نجات کا دن قریب آرہا تھا۔ان کی عقل پر ابر جہالت  پھاڑ کر ایک نیا سورج طلوع ہونے اور  ان کے اندر ایک نیا انسان بیدار ہونے والا تھا۔ اور اس نئے انسان کی بیداری میں ان  مسلمان دوستوں کا بڑا ہاتھ تھا جو ان  کے دور الحاد میں بھی ان کے ساتھ ہی رہے۔  اپنی آپ بیتی میں لکھتے ہیں ""مخلصانہ کوششیں   اگر تھوڑی بہت کسی کی چپکے چپکے کارگر ہوتی رہیں ان دو ہستیوں کی: ایک نامور ظریف شاعر اکبر الہ آبادی، بحث و مناظرہ کی انہوں نے کبھی چھاؤں بھی نہیں پڑنے دی اور نہ کبھی پندو موعظت ہی کی طرح ڈالی۔ بس موقع بہ موقع اپنے میٹھے انداز میں کوئی بات چپکے سے ایسی کہہ گزرتے، جو دل میں اتر جاتی  اور ذہن کو جیسے ٹھوکے دے دیتے کہ قبول حق کی گنجائش  کچھ تو بحرحال پیدا ہو کر رہتی۔ ایک روز بولے' کیوں صاحب ، آپ نے تو کالج میں عربی لی تھی، پھر اب بھی اس سے کچھ مناسبت قائم ہے؟ علم و زبان کوئی بھی ہو ، بحرحال اسکی قدر تو کرنی ہی چاہیے'۔ میں نے کہا' اب اس کے لکھنے پڑھنے کا وقت کہاں ملتا ہے'۔ بولے'  نہیں کچھ ایسا مشکل تو نہیں، قرآن کی بے مثل ادبیت کے تو اہل یورپ بھی قائل ہیں، اور سناہے کہ  جرمن یونیورسٹیوں میں   قرآن کے آخری پندرہ پارے عربی ادب  کے کورس میں داخل ہیں، آپ عقائد نہیں، زبان ہی کے اعتبار سے قرآن سے ربط قائم رکھئے اور جتنے منٹ بھی روزانہ نکال سکتے ہوں اسے پڑھ لیا کریں، جتنے حصے آپ کی سمجھ میں نہ آئیں، انہیں چھوڑتے جائیے اور یہ سمجھ لیجیئے  کہ وہ آپ کے لیے نہیں  لیکن آخر کہیں تو کچھ فقرے آپ کو پسند آہی جائیں گے،  بس انہی فقروں کو دو چار بار پڑھ لیا کیجیے ، آپ کے لیے کوئی قید باوضو ہونے کی بھی نہیں"۔ یہ ایک نمونہ تھا انکی تبلیغ کا ۔ دوسری ہستی مولانا محمد علی جوہر تھے، بڑی زور دار شخصیت تھی انکی ۔۔ کبھی خط میں اور کبھی زبانی، جہاں ذرا بھی موقع پاتے، ابل پڑتے اور جوش خروش کے ساتھ، کبھی ہنستے ہوئے، کبھی گرجتے ہوئے اور کبھی آنسو بہاتے ہوئے تبلیغ کرڈالتے ۔ انکی عالی دماغی ، ذہانت، علم اور اخلاص کا پوری طرح قائل تھا اس لیے کبھی کوئی گرانی دونوں کی تبلیغ سے نہ ہوئی ۔ ایک تیسرا نام اور سن لیجیے ، یہ اپنے ایک ساتھی  مولوی عبد الباری ندوی تھے  ۔ دھیما دھیما انکا اچھا ہی اثر پڑتا رہا۔"اس تبدیلی میں کافی حصہ  ان کتابوں کا بھی تھا جو ان کے مطالعے میں رہتی تھیں ۔کتابوں ہی نے  انہیں  بھٹکایا اور اب کتابیں ہی انہیں راہ راست پر لا رہی تھیں۔ مذہبی یا نیم مذہبی قسم کے فلسفیوں کا مطالعہ شروع ہو ا ،حکیم کنفیو شس   کو پڑھا ، پھر   بدھ مت  ، پھر تھیاسوفی  جو ہندو فلسفہ تصوف  پر مشتمل کتاب ہے اوراس میں سارا زور روح اور اسکے تقلبات پر  اور رنگ کچھ حاضرات و عملیات سے ملتا ہے' پڑھی ، اسکے علاوہ  ہندو فلسفہ کے بڑے  شارح و ترجمان ڈاکٹر بھگوان داس کی ساری  تحریریں  پڑھ گئے ، کرشن جی کی بھگوت گیتا کے بھی جتنے نسخے انگریزی میں مل سکے سب پڑھ ڈالے۔۔  ان کتابوں نے جیسے آنکھیں کھول دیں اور ایک بالکل ہی نیا عالم روحانیات یا مارواء مادیات کا نظر آنے لگا۔ خود لکھتے ہیں :" ڈیڑھ دو سال کے اس مسلسل مطالعہ کا حاصل یہ نکلا کہ فرنگی اور مادی فلسفہ کا جو بت دل میں بیٹھا ہوا تھا، وہ شکست ہوگیا اور ذہن کو یہ صاف نظر آنے لگا کہ اسرار کائنات سے متعلق آخری توجیہہ اور قطعی تعبیران فرنگی مادیین کی نہیں بلکہ دنیا میں ایک سے ایک اعلی و دل نشین توجہیں  اور تعبیریں اور بھی موجود ہیں اور روحانیات کی دنیا  سراسر وہم وجہل اور قابل مضحکہ و تحقیر نہیں ، بلکہ حقیقی اور ٹھوس دنیا ہے ، عزت و توقیر  ، عمق اور تحقیق و تدقیق کے اعتبار سے گوتم بدھ   اور سری کرشن کی تعلیمات ہرگز کسی مل، کسی اسپنسر سے کم نہیں، بلکہ کہیں بڑھی ہوئی ہیں اور حکمائے فرنگ انکے مقابلے میں  بہت پست و سطحی نظر آنے لگے۔ اسلام سے ان تعلیمات کو بھی  خاصہ بعد تھا لیکن بحرحال اب مسائل حیات ، اسرار کائنات سے متعلق نظر کے سامنے ایک بالکل نیا رخ آگیا  اور مادیت ، لاادریت و تشکیک کی جو سربفلک عمارت برسوں میں تعمیر ہوئی تھی، وہ دھڑام سے زمین پر آرہی۔ دل اب اس عقیدہ پر آگیا کہ مادیت کے علاوہ اور اس سے کہیں ماورا و مافوق ایک دوسرا عالم روحانیت کا بھی ہے ، حواس مادی محسوسات ،  مغیبات و مشہودات ہی  سب کچھ نہیں ، انکی تہہ میں اور ان سے بالا تر ' غیب' اور مغیبات کا بھی ایک مستقل عالم اپنا وجود رکھتا ہے۔" (جاری ہے)۔

الحادی فتنوں سے بچاؤ کیسے۔ ۔ ؟

تمام مذاہب  کو اس وقت فکری محاذ پر سب سے بڑا چیلنج لامذہبیت کا  درپیش ہے ۔ پرنٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے  آسمانی مذاہب کے خلاف   شکوک و شبہات  کی  جو یلغار  کی گئی ہے اس نے مذاہب کی جڑوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے ، ملحدین نے وجود باری تعالیٰ،  تصوررسالت ،   عقیدۂ آخرت، کتاب اللہ اور  انبیاء کرام علیہم السلام کی تاریخی حیثیت کو جھٹلاتے  اورطرح طرح کے سوالات کے ذریعہ ذہنوں کو پراگندہ  کرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں ، جو مذاہب ان عقائد و مسائل میں  پہلے ہی تضاد کا شکار اور کمزور بنیادوں  پر کھڑے تھے  وہ  انکے فلسفیانہ  وساوس کی  یلغار   کے سامنے ذیادہ دیر نہ  ٹھہر سکے اور  الحاد انکے  معاشروں  میں بہت آسانی سے جڑ پکڑتا چلا گیا ۔ یہودیت، عیسائیت، ہندومت کا دہریت کے سامنےاتنی آسانی سے سجدہ ریز ہوجانا دہریوں کو اعتماد  بھی دلا گیا، وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ  شاید  تمام مذاہب ہی  ایسے  خودساختہ  اور متضادنظریات  کی بنیاد پر کھڑے اور مکرو فریب کے ذریعے پیروکار جمع کیے ہوئے ہیں  ،  لیکن  الحادی نظریات کو مسلم معاشروں میں سخت  مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور پڑ رہا ہے،   ملحدین کے لیے  قرآن اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخی حیثیت کو چیلنج کرنا  علمی ، عقلی اور تاریخی طور پر ممکن نہ تھا، عقائد توحید، آخرت وغیرہ  کا تعلق مابعد الطبیعات سے ہیں جنہیں   مشاہداتی اور تجرباتی علم کی روشنی میں مکمل طور پر ثابت یا  رد نہیں کیا جاسکتا  اور اسلام ان مسائل میں دوسرے مذاہب کی نسبت بہت   واضح اور محکم دلائل و براہین بھی رکھتا ہے اس لیے   انہوں نے اسلام پر حملہ کرنے کی دوسری راہ نکالی  مثلا کمزور اور  من گھڑت روایات کا سہارا لے کر اکابرین اسلام  کی کردار کشی،  اسلام کا تمسخر، اسلامی سزاؤں کے خلاف پراپیگنڈہ، عقائد میں فلسفیانہ انداز میں  شکوک و شبہات پیدا کرنا، مسلمانوں کے اختلافات کو ہوا دینا، مسلمان علماء کی کردار کشی کرنا وغیرہ۔ یہ ہر ملحد کے  خاص موضوعات ہیں۔ یہ  اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے  اور انکی دل آزاری کے لیے انتہائی  گری ہوئی حرکات  کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔ پرنٹ میڈیا میں   یہ   تجزیہ نگاروں ، کالم نگاروں،   صحافیوں اور شاعروں کی شکل میں  موجود ہیں  جو مسلمانوں کو مختلف طریقوں سے اسلام کے متعلق شکوک و شبہات میں ڈالتے ، زہریلے مضامین ،جھوٹی کہانیاں  پیش کرتے اور معمولی قصے کو بڑھاچڑھا کر مذہبی منافرت پھیلا تے ہیں ، سوشل میڈیا دیکھیں تو اسلام کے  خلاف  ایک پورا  محاذ نظر آتا ہے، مختلف پیجز اور  عجیب و غریب ناموں کی فیک آئی ڈیز سے اسلام  اور  مسلمانوں کے  خلاف جھوٹا پراپیگنڈہ ،   فریبی اور گمراہ کن   تحاریر   اور ان سے  بھی بڑھ کر گستاخانہ جملے، تصاویر تقریبا   روز دیکھنے کو ملتی ہیں ۔ گزشتہ  دو سال   سے  میری دلچسپی کا محور  یہی لوگ رہے  ہیں ،  میں نے سوشل میڈیا پر  ان کے پیجز لائیک کیے، ان کے گروپس جائن   کرکے ،   ان سے دوستیاں لگا کے ان کے رویوں، نفسیات  کا مطالعہ کیا ، مجھے  الحاد  کے فروغ کے لیے کام کرنے والوں میں   سیکولر، لبرل  فاسشٹ ، عیسائی ، قادیانی لوگوں  کے علاوہ   کچھ   ایسے مسلم جوان  بھی نظر آئے  جو اپنے   دینی  عقائد و نظریات  کے  علمی دلائل سے ناواقفیت اور انکے خلاف جھوٹے پراپیگنڈے  کی وجہ سے  دین سے بدظن اور  بیزار ہوئے یا  سہل پسندی  اور عیاشی کے حصول میں   دین سے دور نکلتے چلے گئےاور چند  ایسے بھی    دیکھے جو تعلیم یافتہ اور منصف مزاج ہیں  اور جن  شکو ک   و شبہات  کا  وہ شکا ر ہیں ، ان موضوعات پر  غیر جانبداری سے لکھنے کی  کوشش کرتے ہیں،   انکا   انداز بھی  باقیوں سے کافی   بہتر اور علمی ہے۔ مجھے دینی راستے سے انکے بھٹک جانے  کی  سب سے بڑی  وجہ یا   وہ  کمی جس کی وجہ سے یہ مطالعہ اور تحقیق کے باوجود حق تک نہیں پہنچ سکے یا کنفیوزین کا شکار ہوئے  'وہ  ایک صالح ، علم و عمل والے شخص کی صحبت کا  نہ ہونا، ایک امین ناصح  کے مشورے اور گائیڈینس کا نہ ہونا   ' نظر آئی۔ بہت سے ایسے ہیں جنہوں   نے سینکڑوں بڑی اچھی اور تحقیقی کتابوں  کا مطالعہ کیا ،  لیکن ہدایت نہیں پاسکے بلکہ الٹا مزید  گمراہ ہوتے چلے گئے۔۔   ایک ایسے ماحول میں جہاں ایک طرف الحاد  کی محنتیں عروج پر ہوں اور  جدید سیکولر تہذیب کی  چمک دھمک آنکھیں خیرہ  کررہی ہو  اور دوسری طرف خود مذہب کا یہ حال ہو کہ   کئی قسم کے مسالک و مکاتب فکر پیدا ہوگئے   ہوں، بانت بانت کی بولیاں بولی جارہی  ہوں    اورکتابیں تصنیف کی جارہی ہوں، اس افراتفری کے ماحول میں اپنی مرضی سے  چند  اچھے برے رائٹرز کی  اہم  دینی  موضوعات پر   کتابیں منتخب کرکے  انکا مطالعہ  شروع کردینا، ہر گری پڑی کتاب کو پڑھ لینا،   کتاب کا محض  ٹائٹل اور پرنٹنگ خوبصورت دیکھ کر اسے پڑھنے بیٹھ جانا، نا کتاب کے  انتخاب میں کسی مربی اصلاح،    اچھے  علم  والے سے مشورہ کرنا   اور نا شکوک و شبہات پیدا ہونے کی صورت میں کسی مصلح   کی   راہنمائی    کی سہی کرنا   ایسی خشکی اور بوریت  ہی پیدا کرسکتا ہے جو مذہب سے ہی  بددل یا بیزار کردے۔  یہ بے لگام مطالعہ کی عادت ہمارے معاشرے میں بہت  عام ہے  حالانکہ  غور کیا جائے تو یہی فتنوں کی اصل جڑ ہے ، ایک بزرگ عالم    لکھتے ہیں   " جتنے گمراہ فرقے پیدا ہوئے ان کے بانی سب اہل علم ہیں ، لیکن سب کے سب بغیر  استاد اور رہبر والے ، پس شروع شروع میں تو ٹھیک چلتے  ہیں ، لیکن جب موڑ یا چورا ہاآتا ہے ، وہیں بھٹک جاتے ہیں اور عجب وکبر میں مبتلا ہوکر کسی کی  سنتے بھی نہیں ہیں ۔ (مجالس ابرار ج:۱،ص:۴۷)   ایک اور  جگہ  لکھتے ہیں " ہر فتنے کے بانی پر غور  کیجئے تو یہی معلوم ہوگا کہ یہ کسی بڑے کے زیر تربیت نہیں رہا ہے جب آدمی بے لگام ہوتا ہے اور کوئی اس کا مربی اور بڑا نہیں ہوتا تو بگاڑ شروع ہوجا تا ہے اور وہ جاہ اور مال  کے  فتنے میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ (مجالس ابرار ج:۲،ص:۲۵)مولانا عبدالماجد دریابادی رحمہ اللہ  کی مثال سب کے سامنے ہے، مولاناایک ایسے نابغہ روزگار شخصیت کے مالک تھے جنھوں نے جس موضوع پر قلم اُٹھایا حق ادا کردیا۔ مولانا  ایک جید عالم دین، بے مثل ادیب، مرثیہ نگار، آب بیتی نگار، عظیم کالم نویس، صحافی اورمفسر قرآن تھے۔   کالج کے زمانے میں اسی  آزاد اور بے لگام مطالعہ کی عادت میں    کسی لائبریری میں موجود  مستشرقین کی چند مشہور کتابیں پڑھ بیٹھے ،  پھر ایسے ملحد بنے کہ  حضورصلی اللہ علیہ وسلم  کی شان میں بھی گستاخیاں کرتے رہے، قابل گردن زنی قرار پائے، سالوں  مذہب کے خلاف لکھا اور کھل کر لکھا۔   پھر    مولانا شبلی نعمانی ، مولانا سید سلیمان ندوی جیسے علم و عمل  والے دوستوں کی صحبت   اور کتابوں سے روشنی ملنی شروع ہوئی ۔ ایک دوست نے   مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ  کے “مواعظ”پڑھنے کو دیئے ،ان کو پڑھ  کر بہت متاثر ہوئے ۔ تھانوی رحمہ اللہ  سے مراسلات شروع ہوئے ، ایک   سال تک مراسلات  پر راہنمائی لیتے رہے ، پھر خود تھانہ بھون پہنچ گئے۔طویل نشستیں رہیں،  بیعت کے لیے درخواست کی لیکن حضرت تھانوی نے انکا میلان دیکھتے ہوئےمولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ  کو کہا  کہ وہ عبدالماجد کو بیعت کر لیں، آپ  دیوبند گئے اور حضرت مدنی کے ہاتھ پر بیعت ہوئے ۔ (مولانا کے دہریہ ہوجانے کی مکمل داستان اگلی تحریر میں   پیش کی جائیگی۔ انشاء اللہ)آپ نوٹ فرمائیں ایک جید عالم کو  اپنی اصلاح کے لیے مستقل  بیعت ہونا پڑا، عوام کو   اس کی کتنی ضرورت ہوگی، حالانکہ یہ تو آج سے  ستر اسی سال  پہلے کی مثال ہے۔ اب تو حالات مزید بدتر ہوچکے ہیں۔  اس دور میں  اتنی آزاد خیالی اور فتنے نہیں  تھے، مطالعہ اور دینی  تعلیم و تربیت کا رواج تھا  جبکہ آج کے دور میں !  نہ  دینی تربیت کا کوئی  نظام   ہے اور  نہ  مطالعہ کا  کوئی رجحان ،  لوگ علمی  لحاظ سے  بالکل  کورے اور کھوکھلے ہیں  دوسری طرف  کتابوں اور میڈیا کے ذریعے ایسے  فتنے سامنے آرہے  ہیں جو علماء کو بھی پریشان  کردیں،  ایسے ماحول میں تو عوام کو  خصوصی طور پر  پڑھنے ، سنے  میں  بہت  احتیاط  اور بڑوں سے  مشورے کی ضرورت تھی ،   لیکن افسوس پہلے سے بھی  ذیادہ بے احتیاطی کا مظاہرہ کیا گیا ،    ایسے میں پھر  جو تباہی آنی  تھی وہ آئی۔ ایک عالم شیخ جمال زرابوزو  لکھتے  ہیں کہ " آج کے دور میں بہت سے مسلمان ایسے ہیں جنہوں نے مغرب میں پرورش پائی یا پھر اپنی تعلیم مغرب سے حاصل کی ۔یہ لوگ جو لٹریچر پڑھتے ہیں وہ زیادہ تر غیر مسلم مصنفین کا ہوتا ہے۔اس لٹریچر میں بہت سے ایسے افکار بیان کئے جاتے ہیں جو بظاہر تو بہت مفید، بے ضرر اور اسلامی تعلیمات کے عین مطابق نہ سہی تو اسلامی اصولوں سے زیادہ دور بھی نظر نہیں آتے۔ لیکن اگر ان افکار کا بغور جائزہ لیا جائے اور ان کے پسِ پشت فلسفہ کو سمجھا جائے تو کسی بھی سلیم فطرت انسان پر یہ بات واضح ہو جائے کہ انکا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں بلکہ بسااوقات یہ آپ کو گمراہی اور الحاد کی طرف لے جاتے ہیں۔"  بہت سے لوگوں کو ہم دیکھتے ہیں انہیں تصوف، بیعت، اصلاح  کے الفاظ سے  ہی  سخت چڑ ہے، وہ   صوفیاء  کی کرامات، شطحیات، جعلی صوفیاء کے   واقعات اور  تصوف کی مخصوص اصطلاحات کو اپنی مرضی کے مطالب اور معانی  کے ساتھ پیش  کرکے تصوف کا رد کرتے نظر آتے ہیں۔ ہم مانتے ہیں  کہ  اسلامی تصوف میں غیر اسلامی عقائد و نظریات کی  آمیزش ہوئی اور جعلی  خانقاہوں اور  پیروں کی آمد  سے  بہت نقصان ہوا ،  بہت سی  خانقائیں جہاں مسلمانوں کو ایزد پرستی کا درس دیا جاتا تھا ان کی روحانی اصلاح ہوتی تھی آج شخصیت پرستی بلکہ قبر پرستی کا مرکز بنی ہوئی ہیں اور جہاں ہر طرف اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جلوے نظر آتے تھے آج وہ خانقاہیں قوالی کی محفلوں میں تبدیل ہوگئی ہیں بلکہ شرک و بدعت کا مرکز بن گئیں، شاید اقبال نے بھی  اسی حالت کو دیکھ کر فرمایا تھا۔یہ معاملے ہیں نازک جو تری رضا ہو تو کر                      کہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریق خانقاہی لیکن ہم دیکھتے ہیں  دوسری طرف یہی اقبال جو مروجہ طریق خانقاہی سے بدظن نظر آتے ہیں' مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا روم کے متعقد بھی تھے،  انکی شاعری  میں بھی تصوفانہ رنگ دیکھا جاسکتا ہے ۔ ۔ ہمیں بھی افراط و تفریط سے بچنے کی ضرورت ہے۔  سوال یہ کیا جاسکتا ہے کہ  کیا  جعلی  ڈاکٹر وں کی وجہ سے کسی نے  ڈاکٹروں کے پاس جانا اور علاج کروانا چھوڑا ؟   جس طرح روحانی  علاج کے  شعبے میں ہزاروں جعلی ڈاکٹر موجود ہیں اس طرح جسمانی علاج کے شعبے میں بھی ہیں، طلب والوں کو  اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، وہ  اپنامعالج ڈھونڈ لیتے ہیں۔  مزید جب  دین کے کسی دوسرے  شعبہ پر غلط لوگوں کے قبضےاور کمیوں  کوتاہیوں  کی وجہ سے  اس شعبے کو نہیں چھوڑا جاسکتا   ،تزکیہ واحسان یا تصوف و سلوک تو دین اسلام کی روح اور جان ہے ' اسکو کیسے چھوڑا جاسکتا ہے ۔ اسکی اہمیت کا اندازہ تو  اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ ایک ایسا رکن ہے جسکی تکمیل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے مقاصد میں شامل تھی' اسکا انکار کیسے کیا جاسکتا ہے ۔؟ اس گئے گزرے دور میں بھی  ایسی خانقاہیں اور مراکز موجو د ہیں جہاں اہل علم وعمل بالکل اسلامی طریقہ پر لوگوں کی اصلاح فرمارہے ہیں۔ یہ اللہ کی سنت بھی  ہے جب بھی کوئی کتاب بھیجی ساتھ ایک رسول لازمی بھیجا جو لوگوں کو اسکی تعلیم دیتا اور انکا تذکیہ کرتا۔اسی طرح لوگ جب    رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی صحبت میں رہے تو صحابہ  بن گئے او ر جو صحابہ کی صحبت میں رہے تابعین بن گئے ۔ تابعین کی صحبت میں رہے توتبع تابعین بن گئے ، یہ سلسلہ علم و دین ابھی تک  چل رہا ہے۔ مولانا تھانوی رحمہ اللہ   کی کتاب سے ایک  اقتباس پیش کرکے بات ختم کرتا ہوں ۔ لکھتے ہیں  " ہرشبہہ کا جواب دینے سے شبہات رفع نہیں ہوسکتے ، تم منشاء کا علاج کرو۔۔جیسے ایک گھر کے اندر  رات کو اندھیرے میں  چوہے، چھچھوندر کودتےپھرتے تھے۔ گھر والا ایک ایک کو پکڑ کر نکالتا مگر پھر وہ سب کے سب دوبارہ اندر آجاتے۔ ایک عاقل نے کہا کہ میاں! یہ سب اندھیرے کی  وجہ سے کودتے پھرتے ہیں، تم لیمپ  روشن کردو، یہ سب خود ہی بھاگ جائیں گے ، چنانچہ لیمپ روشن کیا گیا تو   وہ سب اپنے اپنے بلوں میں گھس گئے۔ اسی طرح یہاں بھی سمجھو کہ یہ وساوس و شبہات جو آپ کو پیش آتے ہیں ، ان کا منشاء ظلمت قلب ہے، جس کا علاج  یہ ہے کہ قلب  میں نور پیدا کر لو ۔ وہ نور نورمحبت ہے ۔یہ محبت و عشق وہ چیز ہے کہ جب یہ دل میں گھس جاتی ہے تو پھر محبوب کے کسی حکم  اور کسی قول و فعل میں کوئی شبہ و سوسہ نہیں پیدا ہوتا۔  اگر ایک  فلسفی پروفیسر کسی عورت پر عاشق ہوجائے اور وہ عورت اس سے یوں کہے کہ  سربازار کپڑے اتار کرآو تو میں تم سے بات کروں گی ، ورنہ نہیں  !ً تو فلسفی صاحب اس کے لیے بھی تیار ہوجائیں اور یہ بھی نہ پوچھیں گے کہ بی بی! اس میں تیری مصلحت کیا ہے ؟ اب کوئی اس سے پوچھے کہ آپ کی وہ عقل اور فلسفیت اس عورت کے سامنے کہاں چلی گئی؟عشق مولی کے  کم از لیلی بودگوئے گشتن بہر او اولی بود میں نہایت پختگی سے دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ جن مسلمانوں کو آج کل مذہب میں شکوک و اوہام پیداہوتے ہیں ، انکے اس مرض کا منشاء قلت محبت مع اللہ ہے، انکو اللہ و رسول کے ساتھ محبت نہیں اور  محض برائے نام تعلق کو تعلق کہا جاتا ہے  ۔ تعلق  مع اللہ کے حاصل ہونے کا واحد طریق صرف یہ ہے کہ اہل اللہ کی صحبت حاصل کی جائے ، اہل محبت کی صحبت میں یہ خاصیت ہے کہ ا س سے بہت  جلد محبت پیدا ہوجاتی ہے جیسا کہ اہل غفلت کی صحبت سے غفلت پیدا ہوتی ہے، پھر جب محبت اور تعلق مع اللہ حاصل ہوجائے گا ، یہ لم و کیف  باطل اور وساوس و شبہات سب جاتے رہیں گے۔(اشرف الجواب از مولانا اشرف علی تھانوی صفحہ 561، 562)

سیکولر لابی، تاریخ اور اورنگ زیب عالمگیر

تاریخ محض گزرے وقتوں کا بیان نہیں بلکہ  یہ  ہزاروں واعظوں کا ایک واعظ اور عبرت آموزی کا ایک بہترین ذریعہ ہے ،اس کے مطالعے سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ کسی قوم نے معاشرے کی تہذیب کے لیے کیا  کردار ادا کیا ،  جنگ و  امن ، خوشحالی  اور تنگی  میں اس نے عرصہ حیات کیسے گزارا ۔ تاریخ کے مطالعہ سے دانائی اوربصیرت ترقی کرتی ،دور اندیشی بڑھتی،حزم اوراحتیاط کی عادت پیدا ہوجاتی ہے،دل سے رنج وغم دور ہوکر مسرت وخوشی میسر ہوتی ہے، انسان  میں احقاق حق اورابطال باطل کی قوت ترقی کرتی اورقوت فیصلہ بڑھ جاتی ہے، ، تاریخ  کے بغیر نہ حال کی تعبیر ممکن ہے اور نہ مستقبل کی صورت گری کا کوئی حوالہ۔ اس لحاظ سے تاریخ ایک امانت ہے جس کے پیغام کو بگاڑنا  یا اس کے سیاق و سباق کو مجروع کرنا ایک سنگین جرم ہے۔ایک عرصہ سے سیکولر حضرات اس کوشش میں سرگرداں ہیں کہ چیدہ چیدہ تاریخی واقعات کو انکے سیاق و سباق سے جدا کرکے مسلمانوں کی تاریخ کو نئے سرے سے لکھیں تاکہ  اس سے من پسند نتائج اخذ کیے جاسکیں ۔  تاریخ کو اس انداز میں پیش کیا جائے کہ مسلمانوں  کے دلوں میں اپنے تاریخی ورثے سے نفرت پیدا ہو اور یوں  انکا  اپنے ماضی سے رشتہ کٹ جائے اور انہیں  اپنے اسلاف کے تاریخی کارناموں سے کوئی حوصلہ اور امنگ حاصل نہ ہو ۔ وہ ان کی طرح پیچیدہ حالات   اور بدلتی دنیا کے چیلنجز کا   پورے اعتماد سے سامنا  کرنے کے بجائے مایوس ، ناامید اور عزت نفس کے باب میں بالکل کھوکھلے ہوجائیں ۔۔  اس کا سب سے کارگر نسخہ یہ اختیار کیا گیا  ہے کہ مسلم تاریخ کو برا بھلا کہا جائے ، خصوصا ان عظیم لوگوں کو جو اپنی شخصیت اور کارہائے نمایاں  کی وجہ سے مسلمانوں کا فخر ہیں ، ایسے لوگ اگر اپنی تمام تر تابندگی کے ساتھ موجود رہیں تو تاریخ ایک زندہ تجربے کی شکل اختیار کرلیتی ہے' ان کو ڈاکو ، غاصب ، ظالم ، خودغرض ، عیاش ثابت کیا جائے ، انکی ذاتی زندگی کے متعلق کہانیاں گھڑی جائیں ۔  اس سلسلہ میں اسلامی تاریخ کی جن  نامور شخصیات کو سب سے ذیادہ نشانہ بنایا گیا ان میں  محمد بن قاسم اور اورنگ زیب عالمگیر نمایاں ہیں، انکے  علاوہ  ماضی قریب کی شخصیات میں  علامہ اقبال ، قائدہ اعظم  ہیں جنکی سیکولر صورت گری  کے لیے  سرتوڑ کوششیں کی جارہی ہیں۔اورنگ زیب عالمگیر کو سب سے ذیادہ جس بات پر کوسا جاتا ہے وہ اسکا اپنے بھائیوں کے خلاف ظالمانہ طرز عمل اور اپنے باپ شہاب الدین محمد شاہ جہان کو قید میں ڈالنا تھا ۔  یہ حقیقت ہے کہ اورنگ زیب عالمگیر کے تین بھائی جان سے گئے  اور والد شاہ جہان آگرہ قلعہ کی تنہائی میں مقید رہے لیکن ان واقعات کو پورے پس منظر سے جدا کرکے محض  ایک منفرد قصہ اور اورنگ زیب عالمگیر کو  تاریخ کے  ایسے  کردار  کے طور پر پیش کرنا  کہ جس کے سر پر ظلم و ستم کا بھوت سوار تھا ، یا وہ غیر معمولی طور پر اقتدار کی ہوس میں مبتلا تھا  جس کی وجہ سے اس نے یہ سب کر ڈالا، قطعا غلط اور بے ثبوت مقدمہ ہے۔سوچنے کی بات ہے کہ  اگر اورنگ زیب کا کردار باقی  ہر لحاظ سے اجلا اور بے داغ تھا تو ہم اس کے دامن پر بظاہر یہ دھبے کیوں دیکھ رہے ہیں ؟ اسے کس بات نے مجبور کیا کہ وہ باپ اور بھائیوں کےساتھ  سخت رویہ اپنائے  جس کا اسے  الزام دیا جاتا ہے ؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں  جن  کا جواب طلب کرنا چاہیے ، لیکن اصل حقیقت تک پہنچنے کی کدوکاوش  سیکولر حضرات کا مقصد او ر مدعا ہے ہی نہیں ۔ انکا تو صرف ایک ہدف ہے وہ یہ کہ اس طریقہ واردات سے مطلوبہ نتیجہ کیسے حاصل کیا جائے ۔ سچ اگر قتل ہوتا ہے تو ہو ۔ ڈاکٹر محمد اقبال  اپنی ایک نظم میں ان یک چشم  متنفرین کو ' کورذوقاں' کا نام دیتے ہیں جنہیں اورنگ زیب عالمگیر کے کمالات نظر نہ آئے اور انہوں نے قصے کہانیاں گھڑ لیں :کورذوقان داستاں  ہاسا ختند وسعت ادراک اونشاخسند(اسرار خودی)اس موضوع پر تحقیق كے لیے میں نے بہت سی    کتابوں کا مطالعہ کیا، تاریخی علم رکھنے والے لوگوں کو سنا۔ مجھے سب سے اچھا جواب طارق جان صاحب کی کتاب  ' سیکولرازم مباحث اور مغالطے ' میں ملا ۔ طارق جان  انسٹیٹوٹ  آف پالیسی سٹڈیز میں سینئر ریسرچ فیلو اور کئی کتابوں کے مصنف اور مولف ہیں۔ انکی  یہ کتاب  جدید فلاسفہ  ،  سیکولروں ملحدوں  کے مغالطوں کے رد میں اپنے موضوع پر  میرے نظر میں  اردو زبان میں موجود سب سے بہترین کتاب ہے ۔ اسی کتاب سے انکے  مضمون  ' سیکولر لابی ، تاریخ اور  اورنگ زیب عالمگیر ' کو میں یہاں  پیش کررہا ہوں۔ اسلوب علمی اور عام فہم  ہے ، تصنیف اعلی درجے کی تحقیق کے تقاضے پورے کرتی ہے ، دلیل اور حوالے کے ساتھ  مصنف نے  اورنگ زیب عالمگیر کے متعلق پھیلائی گئی کنفیوزین کا  بہت سیلقے اور خوبی سے تجزیہ کیا ہے ۔   
Download(Right Click+ Save As)

پاسباں مل گئے ہیکل کو خدا خانے سے (دوسرا اور آخری حصہ)

غامدی مکتبہ فکر کے نظریہ جہاد کے ترجمان عمار خان ناصر صاحب   نے افغان کے مظلوم مسلمانوں کے جہادِ عظیم کے مقابلے میں  جس جہاد کو اورامیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد حفظہ اللہ  کے مقابلے میں جس مجاہد کو نمونے کے طور پر پیش کیا ' گزشتہ تحریر میں  اس کے حالات انہی کی  تجویز کردہ  اور  ترجمہ و نظرثانی شدہ کتاب سے پیش  کیے گئے تھے ، آج اس تحریر کا  دوسرا اور آخری حصہ ملاحظہ فرمائیں۔امیر عبد القادر کا دوسرا کارنامہ: کافروں کے دفاع میں جہاد:امیر نے کافروں کے خلاف جہاد نہ کرنے کا عہد کر لینے کے بعد ''کافروں کے دفاع میں جہاد'' شروع کر دیا تھا اور یہی وہ چیز ہے جو آج کل عالمی غاصب مغربی طاقتیں چاہتی ہیں۔ تفصیل اس اجمال کی زیر نظر کتاب کی رو سے یہ ہے کہ جب موصوف دمشق میں فری میسنری لاج کی گرینڈ ماسٹری کرتے ہوئے ایک لاکھ فرانک کی پنشن یافتہ زندگی گذار رہے تھے، عیسائیوں نے یورپی طاقتوں کی شہہ پر ترک حکام کو ٹیکس نہ دینے کا فیصلہ کیا۔ جو مسلمان فوجی خدمات نہ ادا کرے اس پر 100 لیرا ٹیکس تھا اور عیسائیوں پر صرف 50 لیرا ٹیکس لگایا گیا تھا، مگر انہوں نے یورپی سرپرستوں کی شہہ پر وہ بھی دینے سے انکار کر دیا: غیر ضروری تکبر اور درست خیال کے غلط وقت پر اظہار کے نتیجے میں عیسائیوں کے خلاف غصے کا لاوا پکنے لگا۔ شام کے ان باغی عیسائیوں کے پیچھے (غزوہ تبوک کے پس منظر کے طرح آج بھی) یورپی طاقتیں تھیں اور ترک حکمران عیسائیوں کو ان کی سرکشی کی سزا دینا چاہتے تھے۔ ان دنوں میں ممدوح موصوف نے بالکل ویسے ہی عیسائیوں کے تحفظ کے لیے بے مثال خدمات پیش کیں جیسے برصغیر میں 1857 ء کے جہاد آزادی کے دوران انگریزوں کے تحفظ کے لیے ڈپٹی نذیر احمد دہلوی نے پیش کی تھیں۔ اور مسلمانوں کو ان الفاظ میں مغلظات بکیں جو الفاظ سر سید احمد خان نے مجاہدین آزادی کے لیے استعمال کیے تھے۔ نتیجے میں اپنے سرپرستوں سے ویسے ہی مراعات حاصل کیں جیسے مذکورہ بالا دو ''محسنین ملت'' نے حاصل کی تھیں۔ حوالے بالترتیب ملاحظہ ہوں:''دس جولائی کی ساری سہ پہر عبد القادر نے عیسائی بستیوں میں مچی بھگدڑ میں اپنے دو بیٹوں کے ساتھ یہ چلاتے ہوئے گزاری کہ ''عیسائیو! میرے ساتھ آؤ۔ میں عبد القادر ہوں، محی الدین کا بیٹا، الجزائری! میرا اعتبار کرو۔ میں تمہاری حفاظت کروں گا۔ '' کئی گھنٹے تک امیر کے الجزائری باشندے متذبذب عیسائیوں کو لے جا کر حارۃ النقیب میں اس کے قلعہ نما گھر چھوڑ کر آتے رہے۔ یہ دو منزلہ عمارت اور اس کے کشادہ صحن پریشان حال عیسائیوں کی پناہ گاہ بن گئے تھے۔ (ص: 419)امیر موصوف نے کافروں کے خلاف جہاد تو چھوڑ دیا تھا، بلکہ انہیں کافر کہنے سے بھی باز آ گئے تھے، البتہ مسلمانوں کو ''گناہ کی اولاد'' کہنے اور گناہ کی اس اولاد کے خلاف جہاد جیسے نیک مقصد کے لیے وہ ہمہ وقت کمر بستہ ہو گئے تھے۔ [سرسید نے بھی مجاہدین آزادی کو حرام زادے کہنے سے دریغ نہ کیا تھا۔ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔] مثالی جہاد کے پیکر امیر موصوف نے عیسائیوں کو سبق سکھانے والے مسلمانوں سے مخاطب ہو کر ایمان افروز خطاب کیا:''جب تک میرا ایک سپاہی بھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہے، تم انہیں ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے۔ وہ سب میرے مہمان ہیں۔ عورتوں اور بچوں کے قاتلو! گناہ کی اولاد! ان میں سے کسی کو ذرا چھونے کی کوشش تو کر کے دیکھو، پھر تمہیں اندازہ ہوگا کہ میرے سپاہی کتنا اچھا لڑتے ہیں۔ '' امیر نے غضبناک لہجے میں کہا اور مڑ کر قارہ محمد سے مخاطب ہوا: ''میرے ہتھیار اور میرا گھوڑا لے کر آؤ۔ ہم سب ایک نیک مقصد کے لیے جنگ کریں گے، بالکل ویسے ہی جیسے ہم نے پہلے ایک نیک مقصد کے لیے جنگ کی تھی۔ ''(ص: 422)عیسائیوں کی ہمدردی میں موصوف ڈپٹی نذیر احمد اور سرسید احمد خان سے بھی دو ہاتھ آگے نکل گئے تھے:''اس نے اعلان کرایا کہ جو کوئی بھی عیسائیوں کو اس کی رہائش گاہ پر پہنچائے گا، اسے ہر عیسائی کے بدلے پچاس پیاستر انعام دیا جائے گا۔ پانچ دن تک امیر کو سونے کا موقع بھی بہت کم ملا۔ جب تھوڑا سا وقت ملتا تو ہو گھاس پھونس سے بنی اسی چٹائی پر لیٹ کر آنکھ لگا لیتا جہاں بیٹھ کر وہ سارا دن پاس رکھی بوری میں سے رقم نکال کر تقسیم کرتا رہتا تھا۔ جونہی ایک سو عیسائی اکٹھے ہو جاتے، الجزائری سپاہی [امیر کی ذاتی فوج] انہیں لے جا کر قلعے میں چھوڑ آتے۔ '' (ص: 423)باغی کافروں کے تحفظ کے لیے پیش کی گئی ان خدمات کے بدلے نہ صرف ان کا وظیفہ ایک لاکھ فرانک سے ڈیڑھ لاکھ فرانک کر دیا گیا، اسے اور اس کے ساتھیوں کو فرانسیسی شہریت دی گئی (ص: 442) پوری عیسائی دنیا نے انہیں اپنا ہیرو قرار دے کر اعزازات کا انبار لگا دیا:''پریس میں امیر کے بارے میں رپورٹیں شائع ہونے کے بعد تو جیسے اعزازات کا انبار لگ گیا۔ فرانس کی حکومت نے اسے لچن آف آنر عطا کیا جب کہ روس، اسپین، سارڈینیا، پروشیا، صدرلنکن نے جو خود ایک قومی سانحے کے دہانے پر کھڑے تھے، ایک روز پہلے عبد القادر کو امریکی انداز میں تحسین کی علامت کے طور پر کولٹ برانڈ کے دو پستول بھیجے جنہیں انتہائی نفاست سے خصوصی طور پر امیر کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ انہیں لکڑی کے ایک خوبصورت ڈبے میں بند کیا گیا تھا اور اس پر یہ عبارت کنندہ کی گئی تھی: ''ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر کی طرف سے عزت مآب جناب لارڈ عبد القادر کے لیے 1860ئ۔ '' (ص: 427)قارئین کرام! موصوف کو صرف یہ اعزازات ہی نہیں دیے گئے،[یہ اعزازات کتاب کے آخر میں  اور ہماری گزشتہ تحریر میں پوسٹ کی گئی تصویر میں  موصوف کے سینے پر سجے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں]بلکہ خلافت عثمانیہ کے خلاف اس کی قوم پرستانہ خدمات کو استعمال کرنے کے لیے بھرپور طرح سے استعمال کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔ کتاب میں درج ہے:''وہ ایک ایسی علامت بن گیا تھا جسے بہت سے لوگ اپنے مختلف ایجنڈوں کی تکمیل کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ یہ سب ایجنڈے یا تو ترک مخالف تھے یا عرب قوم پرستی کے حامی۔ '' (ص: 404)اس کے فرانسیسی سرپرستوں نے اس کو شام کے گورنر کے طور پر بھی تجویز کر دیا تھا وہ تو خیر گذری کہ یہ شخص عیسائیوں اور سلطنت عثمانیہ کے مخالفین میں تو مقبول تھا لیکن مسلمانوں میں اس شخص کے بارے میں بھی شدید نفرت پائی جاتی تھی لہٰذا اس کا یہ خواب پورا نہ ہو سکا۔ تقدیر کا لکھا کون کوئی ٹال سکتا ہے؟ یہ بیل منڈھے نہ چڑھی اور 25 مئی 1883ء کو گردے فیل ہوجانے سے انتقال کرگیا۔ ''نیویارک ٹائمز'' جیسے اخبار نے جو دنیا کے علمائے کرام و مجاہدین کے بارے میں اپنی تاریخ میں کبھی ایک لفظ نہیں لکھا، اس کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا:''ایک پکا محب وطن، ایک سچا سپاہی جس کی فطانت اور حاضر دماغی شک و شبہے سے بالاتر ہو، جس کا وقار بے داغ ہو، ایک ایسا ریاست کار جو افریقہ کے جنگلی قبائل کو متحد کرکے بے مثال مدمقابل بناسکے، ایک ایسا ہیرو جو حرف شکایت زبان پر لائے بغیر شکست اور تباہی کو تسلیم کرلے، اگر یہی وہ خوبیاں ہیں جو ایک آدمی کو عظیم بناتی ہیں تو پھر عبد القادر اس صدی کے چند گنے چنے عظیم آدمیوں کی سب سے اگلی صف میں کھڑا ہونے کا حق دار ہے۔ '' (نیو یارک ٹائمز، فروری 1883ئ)گویا کہ حرفِ شکایت زبان پر لائے بغیر شکست اور تباہی کو تسلیم کر لینا اتنی عظیم خوبیاں ہیں کہ عظیم آدمیوں کی اگلی صف میں لاکھڑا کرتی ہیں۔ نجانے مجاہدین افغان اور ان کے انصار کیوں ہیرو بننے کا یہ نسخہ استعمال نہیں کرتے اور گھر آئی عظمت کی لونڈی کو ٹھکرا کر عزیمت کی راہ پر گامزن ہیں؟؟؟کتاب کے پیش لفظ میں موصوف کا موازنہ مولانا عبید اللہ سندھی سے کیا گیاہے، کہاں مولانا سندھی جیسا مخلص، متقی اور فنا فی النظریات شخص اور کہاں ایک پنشن یافتہ، جنس مخالف کا دلدادہ اور باغی کافروں کے دفاع میں سرگرم ایجنٹ؟    مولانا سندهی اپنے اساتذه كی طرح انگریز كے اس قدر مخالف  تهے كہ فرمایا كرتے تهے  "جو لوگ موجودہ سامراج کے خلاف ہمارے ساتھ مل کر لڑرہے ہیں، خواہ وہ ہمارے ہم مذہب نہ بھی ہوں ' ہم انہیں اپنا ساتھی سمجھیں گے۔ اور ان کے بارے میں کفر کی اصطلاح نہیں برتیں گے۔ جو سامراج کے حامی ہوں گے۔ خواہ وہ ہمارے ہم مذہب ہی کیوں نہ ہو، ہم انہیں مسلمان کہنے کو تیار نہ ہوں گے"۔(افادات و ملفوظات مولانا عبیداللہ سندھی، صفحہ 186)مغرب کا حقیقی اور سچا جہاد :۔کتاب کے سرورق کی پشت پر ایک ویب سائٹ کا نام دیا گیا ہے   www.truejihad.com اس ویب سائٹ کا نام ہی مغرب کے مقاصد، اہداف، ارادوں اور عزائم کی ترجمانی کرتا ہے۔ جہاد تو جہاد ہوتا ہے۔ True jihad کیا ہوتا ہے؟ عصرِ حاضر میں جب بھی کوئی یہ کہے کہ ''حقیقی اسلام''، حقیقی جہاد، حقیقی فقہ، حقیقی اجتہاد'' تو اس کا مطلب صرف اور صرف یہ ہوتا ہے کہ غیر حقیقی اسلام، غیر حقیقی جہاد، ایسا اسلام اور ایسا جہاد جو صرف اور صرف مغرب کے استعماری غلبے ،عالمی تسلط اور مسلمانوں کی تباہی وبربادی کو ممکن بناسکے۔سائیٹ پر دو مضمون دیکھے جاسکتے ہیں ۔ ان کے مطالعہ کے بغیر اس کتاب کی حقیقت آشکار نہیں ہوسکتی۔(Some words about true and false jihad(1 جو A4سائر کے بارہ صفحات پر مشتمل ہے۔  (2)  The Abd el-kader Education project 2011in Reviewجو A4سائز کے 7 صفحات پر مشتمل ہے۔اسی کام کے لیے   ایک سپیشل ویب سائٹ www.abdelkaderproject.org بھی بنائی گئی ہے۔ اس ویب سائٹ کا مقصد دنیا کے تمام تعلیمی اداروں کو امیر عبد القادر کے بارے میں معلومات اور نصابی مواد مہیا کرنا ہے،تاکہ اسکول میں امیرعبد القادر نصاب کا حصہ بن جائے۔ شاید اسی نصاب کا چربہ وہ تجاویز  ہیں جنہیں خان صاحب دینی مدارس میں سول سوسائٹی کے ذریعے داخل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،اس سلسلے میں مندرجہ ذیل عبارت ملاحظہ کیجیے:Provides learning tools & curriculam materials to help educators in corporate abdel-kader's stay & his example in the days's clam zoom.بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر مسلمان کسی مجاہد یا عظیم ہستی کو اپنے اسکول یا مدرسے کے ہر طالب علم کو واقف کرانا پسند کریں توچند مجاہدین اسلام ایسے ہیں کہ انہیں کوئی بھی مصنف مزاج شخص کسی قیمت پر فراموش نہیں کرسکتا۔ مثلاً: حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ۔ یہ ایسے مجاہدین تھے جن کے صرف اسلام پر ہی نہیں، پوری تاریخ انسانیت پر بے شمار احسانات ہیں۔ مغرب نے ان دو سپہ سالاروں کو منتخب کرنے اور ان کی تعلیمات اور طرز زندگی کو طلبہ تک پہنچانے کے بجائے امیر عبدالقادر کا انتخاب کیوں کیا؟ یہ بہت سادہ سا مسئلہ ہے۔ (لوا کی تصویر)امیر عبد القادر الجزائری کی خدمات کے اعتراف کے سلسلے میںLowa سینٹرامریکا کے شہر Lowacity میں قائم کیا گیا۔ اس کے علاوہ امریکا کے lowaشہر کا  ایک چھوٹا قصبہ ہے جو Elkaderکے نام سے موسوم ہے۔ امیر عبدالقادر کی یاد منانے کے لیے ''القادر او پیرا ہاؤس'' میں مقررین خطاب فرماتے ہیں اور اس کے بعد روایتی مغربی تفریحات کا اہتمام ہوتا ہے۔بنیادی سوال یہ ہے کہ مجاہد عالم اسلام کا ہے اور اس کی تقدیس، تکریم، تحسین اور تشہیر امریکا والے کررہے ہیں۔ این چہ بوالعجبی است؟ ۔ آخر امریکی جو مسلمانوں پر آگ اور خون کی بارش برسانے میں سب سے آگے ہیں، ایک مسلمان کو اتنی عزت دینے پر کیوں مجبور ہوگئے؟ اس فراخ دلی کا راز صاحب عقل پر آشکارا ہے۔  من چاہی غلط بات کی درست تاویل ڈھونڈنے والوں نے کہا ہے کہ مغرب اس کی تکریم اس لیے کرتا ہے کہ اس نے بے گناہ مسیحیوں کی جان بچائی تھی، حالانکہ  خود انکی اپنی  تجویز کردہ کتاب ہی  یہ بتارہی ہے کہ یہ  مسیحی بے گناہ نہیں تھے۔ یہ مسلمانوں کی بنسبت آدھے ٹیکس کا بھی انکار کرکے بغاوت پر آمادہ تھے،اسی کتاب سے ثابت ہے کہ ان کی پشت پر عیسائی یورپی طاقتیں تھیں ۔اصل وجہ یہ ہے کہ  امیر عبدالقادر الجزائری جس قسم کے مجاہد تھے، امریکا اور اس کے مغربی حمایتی اسی قسم کے غامدی مجاہدین اور کرزئی غازیوں کو آگے لانا چاہتے ہیں، جنہیں جب چاہیں ماڈرن اسلام اور ماڈرن جہاد کے مثالی نمونے کے طور پر پیش کیا جاسکے۔ وہ ہرگز نہیں چاہتے کہ امیر المومنین ملامحمد عمر مجاہد حفظہ اللہ اور شہید المؤمنین شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ جیسی صاحبِ عزیمت واستقامت شخصیات، مجاہدین کے آئیڈیل بن سکیں۔ مغرب کی اس ذہنیت کے تناظر میں ان حضرات کے ذہنی ونظریاتی رشتوں کو بھی سمجھاجاسکتا ہے جو اس قسم کی کتابیں شائع کراکر ہمارے یہاں ''سچے جہاد'' کی اشاعت چاہتے ہیں۔ اسی کا  صلہ ہے کہ عمار صاحب کے بھی  فیملی سمیت امریکہ کے دورے پکے ہوگئے ، جناب چند دن پہلےانکے ہاں  ایک لیکچر دے کر آئے ہیں  اس تقریب کا اشتہار اس لنک پر ملاحظہ فرمائیں۔ امیر عبد القادر کا تیسرا کارنامہ :نام نہاد اور من گھڑت ''الشریعۃ'' کی تدوین:مجاہد موصوف خدا، پیغمبر اور دین و مذہب کی وہ تشریح کرتے تھے جو آج کل مغرب کو نہایت پسند ہے۔ اہل مغرب اپنے دین میں تحریف کرکے نک کٹے یا کبڑے ہو چکے ہیں۔ صرف اہل اسلام ہیں جو اپنے عقائد پر جمے ہوئے ہیں۔ مغرب کی خواہش ہے اتحاد مذاہب یا وحدت ادیان کے نام پر ایسی شعبدہ بازی کی جائے کہ جیسے ان کا اپنا ناک کٹا ہوا ہے، خدانخواستہ ان کا بھی کٹ جائے جو اپنے دین پر قائم ہیں۔ زیر نظر کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ امیر کی ذہن سازی فرانس کے پادریوں اور ملحدوں نے مل کر کی تھی، وہی اس کی رہائی کے بھی حامی تھے۔ (دیکھیے: ص: ٣٤٠)ان پادریوں کی محنت، ملحدوں کی ''مہربانی'' اور فرانس میں ملنے والی ''اچھائی'' کا نتیجہ تھا کہ وہ تلوار کو بربادی کا ذریعہ سمجھنے لگ گیا تھا اور کافروں کو کافر کہنے سے بھی باز آ گیا تھا۔ (دیکھیے ص: 315)اسی ''مستند سوانح حیات'' سے معلوم ہوتا ہے کہ چھ ماہ تک چرچل کی روزانہ کی صحبت کا نتیجہ یہ نکلا کہ امیر نے  وہ نظریات اپنا لیے جو آج کل کی اتحاد ادیان تحریک کا ہدف ہیں، بلکہ اسی ایمان افروز سوانح حیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بچپن سے ان کو یہ تربیت دی گئی تھی کہ عیسائی اور یہودی بھی مسلمان ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے باکمال لوگوں کے لاجواب نظریات:''محی الدین (عبدالقاد ر کا والد)نے اپنے بیٹے سے کہا: ''اب تم ایسی جگہیں دیکھ سکو گے جہاں بہت سے عیسائی اور یہودی رہتے ہیں۔یہ مت بھولنا کہ ان تک خدا کی ہدایت ہم سے پہلے پہنچی تھی۔ ابراہیم مسلمان تھے۔''لیکن وہ کیسے مسلمان ہو سکتے ہیں؟ اس وقت تو ابھی اسلام نازل بھی نہیں ہوا تھا"۔''اس لیے کہ انہوں نے خود کو خدا کی اطاعت میں دے دیا تھا۔ مسلمان وہ ہوتا ہے جو خود کو خدا کی رضا کے سپرد کر دیتا ہے"۔''تو پھر کیا یہودی اور عیسائی بھی مسلمان ہیں؟''۔''ہاں، یقینا بشرطیکہ وہ پورے خلوص کے ساتھ خدا کی منشا کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کریں" ۔ (ص:٤٩)پورے خلوص کے ساتھ خدا کی منشا کے مطابق عمل کرنے والے یہودی اور عیسائی مسلمان ہیں۔ البتہ اسلام خود کیا ہے اس کی تعبیر بھی بڑی دلچسپ ہے؟اس کتاب کے ذریعے ہمیں کون سے اسلام اور کس طرح کی شریعت اپنانے کی ترغیب دی جارہی ہےاس کا کچھ اندازہ ذیل کی عبارت سے ہوجاتا ہے۔ یہ تقریبا وہی ''الشریعۃ الغامدیۃ'' ہے جس کا پرچار ہمارے ہاں یہ طبقہ بڑے زور و شور سے کر رہا ہے ۔مذہب اسلام کے متعلق موصوف کے وقیع تحریفی خیالات  ایسے ہیں کہ جن کو ماننے کے بعد مشکل ہے کہ اسے ''سچا مجاہد'' نہ کہا جائے۔:''امیر کے پاس تو صرف ایک ہی سمت نما تھا اور وہ تھا اسلام۔ تنگ نظری پر مبنی فرقہ وارانہ اسلام نہیں، بلکہ اس سے کہیں وسیع تر اسلام، فطرت کا اسلام، ہر اس کا جاندار کا اسلام جو خدا کے قانون کے آگے سر جھکادے۔ امیر کا اسلام ایک ایسے خدا پر یقین رکھتا تھا جو ''عظیم تر'' تھا جو اس کے حقیر بندوں اور اسلام سمیت اس کے کسی بھی مذہب کے تصور سے بھی عظیم تھا۔ ہر شخص اسے اپنے مخصوص انداز میں جانتا اور اس کی عبادت کرتا ہے اور وہ دوسرے طریقوں سے مکمل طورپر لاعلم رہتا ہے۔ اب عبدالقادر کے ذہن پر صرف ایک ہی دھن سوار تھی کہ خدا کی وحدانیت کو ان طریقوں کے تنوع کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے جن سے اس کے پیدا کیے ہوئے بندے اس کی عبادت کرتے ہیں۔'' (ص: 376)اس پیرا گراف میں تنگ نظری اور وسعت، اسلام سمیت کسی بھی مذہب، تنوع کے ساتھ ہم آہنگ کرنا یہ سب وہ مخصوص اصطلاحات ہیں جو اس سرکس کے رنگ ماسٹر استعمال کرتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ سر پر سوار اس دھن کو کہ غلط لوگوں کو صحیح کیا جائے، کس طرح سے امیر موصوف نے پورا کیا؟ سب سے پہلے تو اللہ تعالی کے بارے میں موصوف کا نظریہ ملاحظہ فرمائیں:''ہمارا خدا اور ان تمام برادریوں کا خدا جو ہم سے مختلف ہیں، در حقیقت ایک ہی ہے۔ مسلمانوں پر اس نے خود کو اس انداز میں منکشف کیا جو تمام شکلوں اور صورتوں سے بالاتر ہے۔ عیسائیوں کے لیے وہ یسوع مسیح کی شکل میں ہے۔ اس نے بتوں کی پوجا کرنے والوں پر بھی خود کو ظاہر کیا ہے اور وہ بھی در اصل اسی کی پرستش کرتے ہیں، کیونکہ کوئی بھی انسان ان فانی چیزوں کی پوجا نہیں کر سکتا۔ '' (ص: 388)ما شاء اللہ! یعنی دنیا میں آج تک کوئی مشرک، مشرک ہی نہ تھا۔ نہ کسی انسان نے فانی چیزوں کی پوجا کی اور نہ اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کی پرستش ہوئی۔ اللہ تعالی کے بعد رسالت کے بارے میں امیر کا نظریہ کیا تھا؟''حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے عملی طور پر کہا تھا کہ میں عہد نامہ قدیم یا موسی کی شریعت کو منسوخ کرنے نہیں، بلکہ اسے مزید کامل بنانے آیاہوں۔ '' (ص: 386)سبحان اللہ! مطلب صاف ہے کہ پچھلی شریعتیں منسوخ نہیں، کامل و مکمل ہیں، لہذا ان کے ماننے والے مسلمانوں پر چار وانگ عالم میں جتنا بھی ظلم کریں ان کا احترام فرض ہے۔ حتی کہ اگر وہ مسجد کو چرچ بنانا چاہیں تو یہ بھی منع نہیں، اس لیے کہ وہاں بھی تو آخر تمام ''برادریوں'' کے خدا کی عبادت ہوتی ہے۔ (دیکھیے: ص 388) یہ ہے وہ پھپھونڈی لگا ہوا ماڈرن اسلام جس کا علمبردار غامدی مکتب فکر ہے اور دوسروں کے کندھے پر بندوق رکھ کر اس اسلام کو ساکنان پاکستان کو سکھانا چاہتا ہے۔ عقیدہ تو آپ نے ملاحظہ فرمالیا۔ اب اسلامی احکام کی طرف آئیے۔ مجاہد موصوف کی غامدی طرز فکر پر مبنی قرآنی تشریح کا اطلاق فقط عقائد پر نہ تھا۔ پردہ جیسے اہم احکام کے معاملے میں بھی موصوف وہی نظریہ رکھتے تھے جو غامدیت زدہ متجددین کا ہے:''بڑھتی ہوئی دوستی کے اظہار کے طور پر دومانے ایک روز امیر کو دعوت دی کہ وہ اس کے اور اس کی بیوی کے ساتھ رات کا کھانا کھائے۔ دوما کی بیوی مارشل بوجو کی بھتیجی تھی۔ عبد القادر کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہوئے دومانے دریافت کیا کہ اگر اس کی بیوی یورپی طرز کے لباس میں، چہرے کو نقاب میں چھپائے بغیر ان کے ساتھ کھانے میں شریک ہو تو امیر کو برا تو نہیں لگے گا۔ اس پر امیر نے وضاحت کی کہ چہرہ ڈھانپنا عربوں کا رواج ہے،ان کا مذہبی قانون نہیں۔ '' (ص: 303)یہی قرآن کریم کی صحیح تشریح اور سچی تعبیر تھی جس کے لیے امیر موصوف کو ''عرب شہنشاہ'' بنا کر پیش گیا گیا،حوالہ  ملاحظہ فرمائیں :''1860ء کے موسم خزاں میں پیرس میں سولہ صفحات پر مشتمل ایک پمفلٹ گردش کررہا تھا جس کا عنوان تھا: ''عبدالقادر، عرب شہنشاہ''۔ اس کتابچے میں لکھا تھا عظیم تر شام کے تخت پر بٹھانے کے لیے عربوں کو حقیقی صلاحیتوں کا مالک ایک رہنما چاہیے اور اس کے لیے عبدالقادر کا نام تجویز کیا گیا تھا۔ اس تحریر کے مطابق عبدالقادر مغرب اور مسلمانوں کو یہ سکھائے گا کہ ''قرآن کے الفاظ کی صحیح تشریح کیا ہے اور ایک سچے مؤمن کو ان کی تعبیر کس طرح کرنی چاہیے۔'' (ص:435)اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی '' صحیح تشریحات '' اور'' سچی تعبیرات''سے محفوظ رکھے جو پیرس سے دمشق تک پھیلائے جانے کے بعد لاہور سے کراچی تک پھیلائی جارہی ہیں۔فتنہ تجدد و تشکیک سے ہمارا بچاؤ اس وقت ممکن ہے جب ہم الجزائری غامدیوں اور پاکستانی غامدیوں میں قدرمشترک اور ان کے سرپرستوں کا ہدف مطلوب پہچان سکیں۔دو سوال، ایک جوابآخر میں ہم دو سوال کریں گے۔ پہلے کا جواب ہمیں درکار نہیں۔ یہ سوال قارئین کرام اور جملہ محبان وطن کو ایک نکتہ سمجھانے کے لیے ہے۔ وہ یہ کہ غامدیت اور بالخصوص اس کے نظریہ جہاد کے ترجمان عمار خان ناصر صاحب نے اپنے رسالے میں امیر عبد القادر کی اس سوانح حیات کو مستند قرار دینے کے بعد فرمایا:''میں نے ان کی کتاب کا تفصیلی جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ امیر عبد القادر کی حیات کے بارے میں عربی اور انگریزی میں میسر دیگر مواد کا بھی مطالعہ کیا جو میرے لیے ایک ایمان افروز تجربہ تھا۔ ''(الشریعہ، مارچ 2012ئ)اس ایمان افروز تجربے کو دوسروں تک پہنچانے کی خواہش کو ذکر کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا:
''میں نے کتاب سے متعلق اپنے مختصر تاثرات مصنف کو بھجوائے تو اس میں یہ تجویز بھی دی کہ اس کتاب کا عربی، اردو اور دیگر مشرقی زبانوں میں ترجمہ ہونا چاہیے، کیونکہ امیر عبد القادر کو جن حالات کا سامنا تھا اور انہوں نے جن شرعی و اخلاقی اصولوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک غاصب استعماری طاقت (کونسی ؟)کے خلاف جد و جہد کی۔ ان کی جدوجہد نہ صرف یہ کہ اسلام کے تصور جہاد کی بڑی حد تک درست ترجمانی کرتی ہے، بلکہ اس میں عصر حاضر کے ان جہادی عناصر کے لیے بھی راہنمائی کا بڑا سامان موجود ہے۔ '' (الشریعہ،مارچ : 2012)سوال یہ ہے کہ جس کتاب کو انہوں نے تفصیل سے پڑھا، اس کے اردو متن پر نظر ثانی اور تنقید و تحقیق کر کے آخری شکل دی اور پھر اس کی اشاعت کا انتظام کیا، تاکہ موصوف مجاہد کے فکر و کردار کی عظمت سے ہمارے زمانے اور علاقے کے مجاہدین روشناس ہو سکیں، اس میں ان کو وہ عظیم کارنامے نظر آئے یا نہیں جن میں سے کچھ اوپر ہم نے باحوالہ بیان کیے۔ مثلا:جس شخص کے نزدیک یہودی اور عیسائی بھی مسلمان ہیں۔ (ص:49) جو مہمانوں کی تواضع ''شیمپین'' سے کرتا تھا اور اپنے ہاتھ سے ان کے پیمانوں کو شراب سے بھرتا تھا۔(ص:329) جو خواتین کو اپنی باتوں سے لبھانے میں کبھی ناکام نہیں ہوتا تھا۔(ص:330) جو ایسی باعفت خاتون کو منظور نظر بناتا تھا جو عاشقوں کی ایک طویل فہرست رکھتی تھی اور لندن سے براستہ پیرس، میونخ، ایتھنز اور پھر شام پہنچنے تک چھ شادیاں بھگتا چکی تھی (ص:449) جو ایسے باکمال مردوں سے دوستانہ تعلقات قائم کرتا تھا جو مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی کوششوں میں تعاون کرتے تھے اور جسم فروشی اور زنخا بنانے کے طریقے اس کے پسندیدہ موضوعات میں شامل تھے (ص:452) جو تلوار کو تباہی و بربادی کا ذریعہ سمجھتا اور کفار کی سرزمین کو کافر کہنے سے بھی اجتناب کرتا تھا (ص:365) جو آنے والوں سے کہتا تھا: ''اگر آپ فرانس پر پورا اعتماد ظاہر کریں تو آپ کو اس کا مکمل اجر ملے گا، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ '' (ص:358) جسے اس وقت ایک لاکھ فرانک (بعد میں ڈیڑھ لاکھ فرانک) دیے جاتے تھے جب فرانسیسی سفیر کی تنخواہ پانچ ہزار فرانک تھی۔ (ص: 375) جو شاہ فرانس کے ہاتھ چوم کر کہتا تھا: ''میں کبھی آپ کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچاؤں گا اور کبھی واپس الجزائر نہیں جاؤں گا۔ '' (ص:371) اس شخص کے کردار میں عظمت کے کون سے مینار ہیں جن کو آپ ''اسلام کے تصور جہاد اور جنگی اخلاقیات کا ایک درست اور بڑی حد تک معیاری نمونہ'' قرار دیتے ہیں؟ پڑوس میں برسرپیکار افغان کے مظلوم مسلمانوں کے جہادِ عظیم کی حمایت میں یا امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد حفظہ اللہ کی جد و جہد کے بارے میں آپ کو چند نقطے لکھنے کی توفیق بهی نہیں ہوئی اور ایک گزشتہ صدی کے مغرب کے پسندیدہ مجاہد کو نمونے کے طور پر پیش کردیا۔ ! صرف اس لیے كه  ملا عمر مجاہد نے تو  آخری دم تک استعماری طاقتوں کے آگے سر نہ جھکایا، نامساعد حالات کا رخ موڑ کر تاریخ رقم کر دی، جبکہ الجزائری امیر کے کارنامے ایسے ہیں کہ  اسکی سوانح حیات کا ترجمہ نگار بھی اپنا نام نسب ظاہر کرنے سے شرماتا ہے، آپ نے ترجمے پر نظر ثانی  کرنے کی بات کو  تسلیم کیا  لیکن آپ نے خود بھی  کتاب پر اپنا نام شائع کروانا اور اپنے ادارے سے اس کتاب کو پبلش کروانا  گوارا  نہیں کیا، پھر بھی اس فروخت شدہ شخص میں آپ کو کیا نظر آیا کہ آپ اس کی داغ داغ سوانح کی شکل میں مجاہدین کو مشعل راہ تھمانے چلے ہیں؟ عصر حاضر میں اپنے پڑوس کے عظیم اور مبارک جہاد کا مورال گرانے کے لیے آپ اسے اعلی و اخلاقی اقدار سے کم تر بتاتے  ہیں اور ایک صدی پہلے کے ہزاروں میل دور کے ضمیر فروش کو مثالی مجاہد قرار دیتے ہیں۔ آپ کا تصور جہاد جسے آپ پاکستانی معاشرے میں پھیلانا چاہتے ہیں، کہیں آپ کی ممدوح عظیم شخصیات کی طرح آپ میں بھی انجیکٹ تو نہیں کیا گیا ؟ جس طرح عظیم تر شام کے تخت پر بٹھانے کے لیے عبدالقادر کا نام تجویز کیا گیا اور یہ کہا گیا تھا  کہ امیر  مسلمانوں کو یہ سکھائے گا کہ ''قرآن کے الفاظ کی صحیح تشریح کیا ہے اور ایک سچے مؤمن کو ان کی تعبیر کس طرح کرنی چاہیے" کہیں آپ کا مکتبہ فکر بھی اس کام کے لیے منتخب تو نہیں کرلیا گیا ؟؟!!!

پاسباں مل گئے ہیکل کو خدا خانے سے

عمار خان ناصر ایک علمی گھرانے کے چشم و چراغ  اور محترم غامدی صاحب کے شاگرد خاص   ہیں۔ موصوف ایک رسالے  'ماہنامہ الشریعہ’ کے مدیر  اور غامدی صاحب  کے ادارے ’المورد‘ کے اسسٹنٹ فیلو ہیں، اسی نسبت سے انکی تحاریر غامدی صاحب کے رسالے مجلہ اشراق میں بھی چھپتی رہتی ہیں،غامدی صاحب کے تجدد پسندانہ افکار و نظریات کے دفاع،   انکی  اشاعت  و ترویج کے لیے انکی خدمات   ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ انکے مکتبہ فکر کی آواز چونکہ تجدد دین کی ہے اس لیے بہت سے علماء   ان کے  اجتہادات،نظریات ، غلط فہمیوں اور افراط و تفریط پر وقتا فوقتا اپنی رائے کا اظہار کرتے رہتے ہیں ۔ ان علماء  میں سے   ایک نام جامعہ مدنیہ، لاھور کے ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب کا  بھی ہے۔ چند دن پہلے عمار صاحب نے  فیس بک پرمفتی عبدالواحد صاحب کی انکے نظریات کے رد میں لکھی گئی  ایک کتاب کا  اشتہار پوسٹ  کیا۔  جناب کے اس فیس بک سٹیٹس پر  تبصرہ کرنے والے بہت سے لوگوں نے کتاب میں لکھی گئی باتوں کو پڑھے بغیر   اپنے تبصروں  میں علماء کا مذق اڑایا ، ایک صاحب نے لکھا ذرا سا کوئی تحقیق کی طرف مڑے   یہ علماء یک دم اس پر فتوی ٹھوک دیتے ہیں، ایك اورصاحب نے فرمایا علماء سوال کو گستاخی، غوروفکر کو الحاد اور تحقیق کو گمراہی سمجھتے ہیں،  ۔ ۔ عمومی رائے یہ نظر  آئی کہ علماء علم و تحقیق کے دشمن ہیں انہیں غامدی مکتبہ فکر کیساتھ کوئی ضد ہے یا یہ  اپنی سیٹ بچانے کے لیے انکے خلاف لکھ رہے ہیں ، ورنہ غامدی   مکتبہ فکر  والے تو محقق لوگ ہیں اور   امام احمد بن حنبل اور ابن تیمیہ  رحمہ اللہ کی طرح حق کی آواز بلند کرنے والے ،  بالکل معصوم ، بے قصوراور مخلص انسان   ہیں  ۔ غامدی صاحب کیساتھ علماء کو  اختلاف کس بات  ہے اس پر ہم یہاں لکھ چکے  ، انکے شاگرد ریحان احمد یوسفی المعروف ابویحیی   صاحب کے ایک کارنامے کی تفصیل بھی یہاں دیکھی جاسکتی ہے ، عمار خان صاحب  کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ یہ اپنے سب ہم مکتب دوستوں کے علاوہ خود اپنے استاد غامدی صاحب  کوبھی  پیچھے چھوڑگئے  ہیں تو یہ غلط نہ ہوگا ۔ہم مفتی ابو لبابہ شاہ منصور صاحب کی تحریرات سے استفادہ کرتے ہوئے یہاں   ان کے دو بڑے کارناموں کی تفصیل پیش  کریں گے  ۔1.مسجد ِاقصی، یہود اور امت مسلمہ:۔'عمار خان صاحب کا 'مسجد ِاقصیٰ، یہود اور اُمت ِمسلمہ' کے عنوان سے ماہنامہ 'اشراق'  کے جولائی اور اگست ٢٠٠٣ء کی شمارے میں مقالہ شائع ہوا ۔ یہ مقالہ پچاس سے زائد صفحات پر مشتمل ہے، ہم اس تحریر میں انکے اس مقالے کے چند اہم نکات پر بات کریں گے انکے اس مقالے کا مکمل علمی و تحقیقی جواب  پڑھنے  کے لیے  قارئین یہ لنک ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ الف۔  اپنے اس مقالہ میں عمار صاحب  نے سارا 'زورعلم و تحقیق' محض یہ ثابت کرنے پرصرف کیا کہ مسجد اقصیٰ کی تولیت پر یہود کا حق ہے اور اس  مسئلے میں امت مسلمہ کے تمام طبقات  شروع دن سے  راہ عدل سے ہٹے ہوئے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی صحیح بات کہنے والا نہیں ۔ جناب  نے پوری ڈھٹائی کے ساتھ ناصرف یہود کی معصومیت بلکہ جملہ جرائم سے براء ت کو بیان  کیا بلکہ  سورہ بقرہ کی آیت 76 اور 91 کےحوالہ سے   شہادت ایمان اور سند معصومیت کشید کرکے یہود کے گلے میں لٹکائی ،   موصوف  ساری تحریر میں مسلمانوں خصوصاً عرب مسلمانوں کے حوالے سے تحقیر آمیز رویہ رکھے ہوئے  اور یہودیوں کی تعریف میں رطب اللسان  ہیں ۔انکی  ہر بات کی تان اسی پر آکر ٹوٹتی ہے کہ  مسجد اقصی پر حق یہود کا ہی ہے، مسلمان بلاوجہ ضد کررہے اور اپنا نقصان کیے جارہے ہیں ۔ تعجب ہے کہ دنیا میں ایسے غیرمسلم  بھی ہیں جو مظلوم ومقہور فلسطینی مسلمانوں سے، جو غزہ کی کھلی جیل میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں، ہمدردی رکھتے ہیں  مختلف فور مز پر انکے حق کی آواز اٹھاتے ہیں  اور یہ  اہل اسلام جو علم شریعت و فہم دین کا دعوی رکھتے ہوئے یہ بدبداتے پھرتے ہیں کہ آپ کو اس مظلومیت سے تب ہی خلاصی مل پائے گی جب مسجد اقصی ہی نہیں، ارض فلسطین بھی ان شقی القلب لوگوں کے حوالے کردیں، جنہوں نے یہاں اپنے ہی انبیائے کرام کو قتل کیا،  سود وجوے کو  اور زنا وشراب کو ارضِ مقدس میں رواج دیا، گفتنی وناگفتنی جرائم کی ایسی تھپی پر تھپی لگائی کہ ابدی پھٹکار کی مہر لگاکر یہاں سے نکالے گئے ۔ کیسی حیرت کی بات ہے کہ ترکی میں تو لاکھوں افراد ''ماوے مرمرہ'' کو بارات کی طرح رخصت کریں کہ فلسطینی بھائیوں کی مدد کرو اور پاکستان سے استشراقی زکام لگے نام نہاد محقق یہ بڑبڑاتے پائے جائیں کہ مسجد ہی نہیں، پورا فلسطین ان لوگوں کے حوالے کردو ۔ب۔  مضمون نگار نے مقالے  میں ہر جگہ بیت المقدس کو مسجد اقصیٰ یا حرم شریف کا احاطہ  کہنے کے بجائے ہیکل ہیکل کی گردان رٹی ہے۔ بلکہ ایک جگہ تو مسلمانوں کو غلطی کا احساس دلاتے ہوئے یوں پھول جھاڑے ہیں: ''احاطہ ہیکل جسے آج کل الحرم الشریف کہا جاتا ہے!!'' یعنی اس جگہ کو آج تک کسی نے الحرم الشریف نہیں کہا، آج کل غلطی سے ''الحرم الشریف'' کہا جاتا ہے جو صحیح لقب نہیں۔ شمارے کے سرورق کے اندرونی صفحے پر مسجد اقصیٰ کا  ایک  نقشہ ان الفاظ کے ساتھ  پیش کیا گیا ہے''احاطہ ہیکل کا موجودہ نقشہ'' ۔خان صاحب یا ان کے سرپرستوں کو شاید یہ زعم تھا کہ قارئین میں سے کوئی بھی نہ جان پائے گا کہ اس جگہ کو ''احاطہ ہیکل'' کہنا کن مردودوں کی مخصوص اصطلاح ہے، یہ نقشہ بنانے والے کون ہیں ،  اس پر چسپاں ذومعنی الفاظ میں کیا کھیل کھیلا گیا ہےاور اس میں ہیکل کی مرکزی عمارت کو تین الگ الگ جگہ دکھانے کا کیا مقصد ہے؟ یہ نقشہ دیکھتے ہی ہمارا  ماتھا ٹھنکا کہ یہ تو خالص حلف یافتہ یہودی زعماء کا تجویز کردہ ہے،  یہ خان صاحب کے ہاتھ کہاں سے لگا؟ اور انہوں نے اس نقشے کو کس ڈھٹائی سے یہود کے موقف کی تشریح اور مسلمانوں پر حجت قائم کرنے اور مسجد اقصیٰ سے دستبردار ہونے کے لیے استعمال کرلیا؟ اس نقشے کی اشاعت اور اس کو اپنے موقف کی وضاحت میں بطور تشریح وتفہیم پیش کرنا ایسی بھونڈی حرکت تھی جس سے راقم کو اگر کوئی شبہ تھا جس کی بنا پر وہ مقالہ نگار کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری الذمہ سمجھتا، تو وہ بھی جاتا رہا۔ اگر عمار صاحب اس نقشے کے اصل واضع، اس کی اصل جائے یافت اور ذریعہ حصول کی نشاندہی کرتے تو قارئین کو علم ہوجاتا کہ موصوف کے ڈانڈے کہاں جاکر ملتے ہیں؟مقالے کا  سارا مواد، پرفریب انداز تحریر ، انوکھی اصطلاحات  اور خیانت آمیز اسلوب غامدیت کے  یہود کے ساتھ گہرے 'علمی روابط'  کی گواہیاں دیتانظر آ رہا ہے۔  یہ اسلوب اسی تحریفی طبقہ کا ہے جو  اس قدر پرکاری اور عیاری سے اپنے جھوٹ کو سچ بتاتا ہے کہ وہ قسمیں یاد آجاتی ہیں جن کے تناظر میں ''سورہ منافقون'' نازل ہوئی تھی۔ تحقیق کی دنیا میں یہ عجیب اور  انتہائی نرالا طرز  ہے  کہ خان صاحب اخلاق وتہذیب پر مشتمل نصیحتیں مسلمانوں کو کرتے ہیں اور تایید میں حوالے ''جیوش انسائیکلو پیڈیا'' سے لاتے ہیں۔جو صاحبان اس مقالے کے زیادہ تر اقتباسات کا ماخذ دیکھنا چاہیں وہ ان یہودی ماخذ ومراجع کو نیٹ پر دیکھیں، جن میں ''ہیکل سلیمانی'' کے حق میں دلائل اور اس کے محل وقوع کی تعیین کے حوالے سے ہفواتی قیاس آرائیاں کی گئی ہیں۔ انہیں یقین آجائے گا کہ کسی زمانے میں کعبے کو صنم خانے سے پاسبان ملتے تھے، اب ہیکل خانے کے پاسبان اس خطے سے تلاش کیے جارہے ہیں جہاں سے اقصیٰ کے محافظوں کا لشکر جانے کی خوشخبریاں وارد ہوئی تھیں۔ ان' معتبر 'حوالوں سے ان کے  مقالہ کا حاشیہ بھرا ہوا ہے۔ :Labmert Dophin & Michael Kollen, "On the Location of the First and Second Temples in Jerusalem", http//Idolphin.org/Yoel Cohen, "The Political Role of the Israeli Chief Rabbinate in the Temple Mount Question", Jewish Political Studeis Review, (www.jcpa.org), www.rabbiwein.com, Encyclopaedia Judaica, Jerusalem, www.la.utexas.edu, Jewish encyclopaedia.]۔ نیز روسی یہودی پروفیسر آشر کوف مین (Dr Asher Kaufman) اور اسرائیلی یہودی انجینئر توویا ساگیو (Tuvia sagiv) کے نظریات۔ج۔  عمار خان ناصر صاحب کے پیٹی بند بھائی ریحان احمد یوسفی المعروف ابو یحیی  نے اپنے سفر نامے ''وہی راہ گذر'' میں اپنے امریکہ کے سرکاری دورے کی جو  تفصیلات   لکھی ہیں ان کا مختصر بیان اس لنک پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ ایک عام بندے کا امریکہ کا  سرکاری دورہ اور اس میں اسکو  توہین رسالت کے قانون، اسلامی حدود و تعزیرات کے موضوع، عورتوں کے فرضی حقوق، اقلیتوں خصوصا قادیانیوں کی مذہبی آزادی،  مسجد اقصی اور فلسطین کی ارض مبارک پر یہودیوں کے حق پر  امریکی سرپرستوں اور صیہونی زعماء کی طرف  سے بریفنگ،   پھراس مقالہ کا مواد ، تصاویر اور حوالہ جات یہ سب  گواہی دے رہے  ہیں   کہ عمار خان ناصر اور ان کے مکتبہ فکر کی یہ ساری ہفوات اپنی نہیں ہیں، یہ زبانیں بولتی نہیں، بلوائی جاتی ہیں۔یہود کی پرکاری دیکھیے کہ مسلمان چونکہ  کسی غیرمسلم خصوصایہودی کی کسی ایسی تحریر پر کوئی توجہ نہیں  دیتے اس لیے انہیں اہل اسلام میں سے کسی کی زبان چاہیے تھی اور غامدی صاحب کی جماعت سے زیادہ بے باک اور آمادہ کار جماعت انہیں مل نہیں سکتی، لہٰذا دو یہودیوں کی مشترکہ کھچڑی کی ہنڈیا ''الشریعہ'' کے سر پر رکھ کر دم دی گئی اور عیاری کی بندوق عمار خان ناصر صاحب کے کندھے پر رکھ کر داغ دی گئی ہے۔2. امیر عبدالقادر الجزائری  کی سوانح عمری :۔'امیر عبد القادرالجزائری'' کے حالات پر مشتمل''جان ڈبلیو کائزر'' کی کتاب کا اردو  ترجمہ ''دارالکتاب'' لاہور کے نام سے شائع  ہوا۔ اس کتاب کا  مصنف جان ڈبلیو کائزر ایوارڈ یافتہ فری میسن ایجنٹ ہے اور  کتاب کا موضوع جو شخصیت ہے وہ بھی سند یافتہ فری میسن ایجنٹ ہے۔ دوسری طرف ''دار الکتاب'' علمائے حق  کی فکر کا وارث ہے اور انقلابی جہادی تحریکوں سے متعلق کتابیں شائع کرتا ہے، لہٰذا ہمارے لیے یہ بات ناقابل یقین تھی کہ انقلابی مجاہدین کے جہادی کارناموں کو عام کرنے والا ادارہ ایک ایسی کتاب کیسے شائع کرسکتا ہے جو جہادی تحریکات کا تمسخر اڑاتی ہو، مجاہدین کو دہشت گرد اور مسلمانوں کو خونی درندے ثابت کرتی ہو۔ لہٰذا ہم نے اس کی تحقیق  کرنا شروع کہ جہاد کی مخالفت کرنے والی اور مجاہدین کو دشمن انسانیت اور دشمن رحمت ورافت ثابت کرنے والی کتاب کس نے شائع کروائی۔ کتاب  پر  مترجم کا نام غائب تھا ، ناشر سے رابطہ کیا گیا تو  انہوں نے  بتایا  کہ امیر عبدالقادر الجزائری والی کتاب پر ان کے ادارے کا نام تو ضرور ہے، لیکن وہ نہ تو اس کتاب کے ناشر ہیں اور نہ ہی انہیں اس بات کا علم ہے کہ  ان کے  نام پر شائع کرنے والوں کے مقاصد کیا ہیں؟ بعد میں انہوں نے بتایا کہ  یہ کتاب عمار خان ناصر صاحب نے شائع کروائی اور ہمیں فون پر اطلاع دے دی کی کہ یہ کتاب ہم نے آپ کے نام پر شائع کروائی ہے۔ اس کتاب کی  تعارفی تقریب لاہور کے ''میزونٹ ہوٹل'' میں منعقد ہوئی جس میں مہمان خصوصی امریکی سفارت خانے کے سیکنڈ سیکرٹری تھے۔ خطابت کے فرائض عمار خان ناصر نے سر انجام دیے ۔یہ تمام باتیں (جعلی مجاہد کی شخصیت کی تعارفی تقریب میں عمار خان کا لیکچر، امریکی عہدیدار کی شرکت کا اعتراف اور ناشر کے متفق نہ ہونے کے باوجود ''رواداری کے اصول'' جیسی فریبی اصطلاح کے تحت اپنا ادارہ چھوڑ کر کسی اور ناشر کے کندھے پر بندوق رکھنا وغیرہ) الشریعہ مئی ٢٠١٣ء میں تسلیم کر لی گئی ہیں۔ اس تفصیل کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ کتاب پر تبصرہ سے پہلے کتاب کی اشاعت وطباعت وترسیل وتقسیم کی طلسماتی کہانی خود ہی اس کتاب کی حقیقت، ماہیت، حیثیت، پس منظر، پیش منظر اور تہہ منظر کو بتانے کے لیے کافی اور شافی ہے۔ کتاب کا سرورق تصویرامیر کی  سوانح وافکار ، عملی جدوجہد اور کارنامے عمار خان صاحب  نے یہ  کتاب پبلش کروانے سے  پہلے  اپنے رسالے میں یہ بحث شائع کی کہ افغانستان کا جہاد اعلیٰ اخلاقی اقدار کے تحت کیا جانے والا جہاد نہیں ہے۔ پھر اگلے  شماروں  میں اسی کتاب سے  ''سچے مجاہد کی داستان'' کو قسط وار شائع  کرتے ہوئے  اس جعلی مجاہد کے جہاد کو  نمونہ کے طور پر پیش کیا۔ حیرت ہے اشراقیوں کی  علمی دنیا میں  شرم ومروت کا اتنا بھی گزر نہیں رہا کہ انسان اپنے پڑوس میں ہونے والے جہاد عظیم کے بارے میں دو اچھے لفظ نہ کہے اور پچھلی صدی میں مصدقہ یہودی گماشتے [اس کی ناقابل تردید تصدیقات خود زیرنظر کتاب جو موصوف خان صاحب کی نظر ثانی شدہ اور ترجمہ شدہ  ہے،  سے آگے  آرہی ہیں]  کی  شکست خوردہ جدوجہد کو ''سچے جہاد'' کا نام دے دے۔ امیر عبدالقادر الجزائری کے متعلق ہمارے استعمال کیے گئے ان الفاظ پر شاید کسی کو اعتراض ہو۔ ہم  امیر کے کردار ، افکار اور کارناموں  کی حقیقت  عمارصاحب کی ترجمہ و نظرثانی شدہ اسی سوانح عمری سے پیش کرتے ہیں ، یہ بات قارئین کے سامنے خود بخود واضح کر سامنے آجائے گی کہ وہ یہودی گماشتہ تھا یا نہیں۔امیر کا کردار وافکار:۔کتاب کے عالمانہ تعارف میں اس کی اشاعت کی ایک غرض بیان کی گئی ہے: ''ایسی شخصیات کے ساتھ نئی نسل کا تعارف اور ان کے کردار وافکار سے آگاہی آج کے تازہ عالمی منظر میں مسلم امہ میں رہنمائی کا ذریعہ ہے اور اس سمت میں کوئی بھی مثبت پیش رفت ہمارے لیے ملی ضرورت کی حیثیت رکھتی ہے۔'' (ص:11)آئیے دیکھتے ہیں وہ کون سا کردار ہے جو آج کے تازہ عالمی منظر میں مسلم امہ کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے؟ اور اس سمت میں ہم مثبت پیش رفت کریں تو کس اہم ملی ضرورت کو پورا کرسکیں گے؟ اس حوالے سے اس کتاب کی چند عبارتیں بلاتبصرہ پیش خدمت ہیں ان سے معلوم ہوگا کہ ہمیں فقط امریکی نظریہ جہاد سے ہی متعارف نہیں کروایا جارہا بلکہ ہماری نئی نسل  کے سامنے مغربی کی بے حیا تہذیب،  شہوت پرستی، نسوانیت پرستی اور زنخا پرستی کو بھی نمونہ بنا کر پیش کیا جارہا ہے ۔ کتاب میں اس  سچے مجاہد کی حد سے بڑھی ہوئی شہوت پرستی کو یوں بیان کیا گیا ہے''ایسا لگتا تھا کہ اپنی ذات کی سختی سے نفی کرنے والے عبدالقادر کی زندگی میں واحد استثنا عورت تھی اور اس کا مسلسل وسیع ہوتا حرم سفارت کاروں کے لیے تھوڑے بہت نہیں، بلکہ شدید حسد کا باعث تھا۔'' (ص:391)مسلسل وسیع ہونے والے حرم کا اندرونی حال بھی سن لیجیے: ''اسے ایک بار امیر کے حرم کا جائزہ لینے کا بھی موقع ملا۔ یہ افواہ گرم تھی کہ امیر ہر سال نئی شادی کرتا ہے جو عموماً سرکیشیائی لڑکیاں ہوتی ہیں جن کی عمر پندرہ سال سے زیادہ نہیں ہوتی، لیکن جین کی رپورٹ یہ تھی کہ اگر اس نے ان میں سے بیشتر کو طلاق دے کر رخصت نہیں کردیا تو پھر یہ افواہ غلط ہے۔ اسے وہاں صرف پانچ بیویاں نظر آئی تھیں، لیکن یہ تعداد بھی اسلامی شریعت میں دی گئی اجازت کی حد سے ایک زیادہ بنتی ہے۔'' (ص:451)حاشیہ میں پہلے لکھا ہے:''جین کی اطلاع کی تصدیق کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔'' اس کے بعد درج ہے: ''دمشق میں امیر کے بعض جانشینوں میں یہ گفتگو سننے میں آئی ہے کہ امیر نے ایک سرکیشائی لڑکی کو بھی بیوی بنایاتھا۔ ان میں سے ایک کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی تھاجب امیر کی پانچ بیویاں تھیں''۔ (حاشیہ ص: 451) خان صاحب نے امیر کی اس حرام کاری پر پردہ ڈالنے کے لیے پہلی عبارت نقل کی ہے۔ دوسری کو حذف کر گئے ہیں۔ ایسی امانت ودیانت نہ ہوتی تو انہیں غامدیت اپنا ترجمان وشارح منتخب ہی کیوں کرتی؟ کوئی  یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ پانچویں عورت بیوی نہیں  لونڈی ہوگی، لیکن اس کا کیا کریں کہ ایسی عورتوں سے تعلقات کے ثبوت بھی اسی سچی داستان میں موجود ہیں جو انگلستان جیسے مادرپدر آزاد ماحول میں بھی بدنام تھیں: ''عبدالقادر برطانیہ کی دو ایسی شخصیات [رچرڈ برٹن اور جین ڈگبی] کا دوست اور معترف تھا جو اپنی ثقافت سے باغی تھیں۔ ایک [رچرڈ برٹن نامی برطانوی ایجنٹ] وہ آزاد خیال روایت شکن جس نے مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی کوششوں میں تعاون کیا اور جس کے پسندیدہ موضوعات میں پرشہوت عورتیں، جسم فروشی اور زنخا بنانے کے طریقے شامل تھے، جبکہ دوسری شخصیت [جین ڈگبی نامی ایک برطانوی حسینہ] اخلاق باختہ سمجھی جانے والی ایک خود پسند اور بدنام عورت تھی جس نے اپنی جنسی مہم جوئی کے لیے اپنا بچہ تک چھوڑدیا۔'' (ص:452)جنسی مہم جوئی کے لیے اپنا سگا بچہ چھوڑنے والی بدنام عورت، ہمارے سچے مجاہد صاحب کی منظور نظر بن گئی تھی اور ان کے ڈیرے پر باقاعدگی سے حاضری دیتی تھی۔ ملاحظہ فرمائیں:''جین ڈھلتی ہوئی عمر کے عبدالقادر بھی منظور نظر بن گئی تھی۔ جس نے احتیاط سے خضاب لگی ہوئی سیاہ ڈاڑھی کے ساتھ اپنی جوانی کا تاثر قائم رکھا ہوا تھا۔ جین باقاعدگی سے نقیب ایلی [امیر المجاہدین کا ڈیرہ] آنے والے مہمانوں میں شامل تھی اور گرمیوں میں اکثر ان مہمانوں میں شامل ہوتی تھی جو امیر کی رہائش گاہ پر دریائے برادا کا نظارہ کرتے ہوئے پودینے کی چائے سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ جین نے اپنے شوہر میدجوئیل المرزگ کے ساتھ یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ سال میں چھ ماہ یورپی طرز کے مطابق زندگی بسر کرے گی۔...... باقی چھ ماہ وہ بدو عورتوں کی طرح صحرا میں بکری کی کھال سے بنے خیمے میں گذارتی تھی...... میدجوئل المرزگ کے ساتھ شادی نے ڈگبی جین کی اس دھماکا خیز رومانی زندگی کا خاتمہ کردیا جس نے اسے سارے انگلینڈ میں بدنام کررکھا تھا۔'' (ص:449,450)امیر عبد القادر کے عملی جدوجہد اور کارنامےکتاب کا جائزہ لیا جائے تو مجاہد موصوف کے تین کارنامے ایسے نظر آتے ہیں جن کی پاکستان میں تعریف و ترویج افغانستان میں شکست خوردہ مغربی طاقتوں کے مقاصد کی تکمیل کرتی ہے۔ یہ عاجز کوشش کرے گا کہ اس کتاب سے باہر بالکل نہ جائے اور ہر اقتباس دو ٹوک انداز میں باحوالہ پیش کرے تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے۔ کتاب میں موجود بعض بے ہودہ الفاظ بادل نخواستہ ہم نے اس لیے نقل کیے ہیں کہ ان کے آئینے میں اس کتاب کو ''مثالی نمونہ'' قرار دینے والے غامدیوں کے اعلی اخلاقی معیار کامشاہدہ کیا جا سکے۔ ہم بدرجہ مجبوری ایسے الفاظ سے اپنے صفحات کو آلودہ کرنے پر قارئین سے معذرت خواہ ہیں۔پہلا کارنامہ: دشمن کی خوشامد ،  رحم کی بھیک اور فری میسن تنظیم میں شمولیت:کتاب کے وقیع پیش لفظ میں ایک انتہائی قابل احترام اور مؤقر علمی شخصیت نے اس کتاب کو پاکستان میں شائع کرنے کے مقاصد بیان کرتے ہوئے لکھا ہے: ''امیر عبدالقادر الجزائری مغربی استعمار کے تسلط کے خلاف اپنی جدوجہد میں جہاد کے شرعی، اخلاقی اصولوں کی پاسداری اور اپنے اعلیٰ کردار کے حوالے سے امت مسلمہ کے محسنین میں سے ہیں۔ ان کے سوانح وافکار اور عملی جدوجہد کے بارے میں جان کائزر کی یہ تصنیف نئی پود کو ان کی شخصیت اور جدوجہد سے واقف کرانے میں یقینا مفید ثابت ہوگی۔'' (ص:11)
  ''سچے جہاد کی داستان'' نامی اس ''مستند سوانح حیات'' میں ہی اس کی تصدیق موجود ہے کہ  جہاد کے شرعی واخلاقی اصولوں کا پاسدار امت مسلمہ کا یہ محسن کون تھا؟ اور نئی پود کو ان کی شخصیت اور جدوجہد سے واقف کروانے کے مقاصد کیا ہیں؟ ، اسی کتاب کے ص 438 پر سچے مجاہد کے پیچھے موجود جھوٹے پشت پناہوں کا صاف ستھرا سراغ ملتا ہے۔ مصنف رقم طراز ہے:''جب جنرل ''اوٹ پول'' اپنے تصور میں امیر کے مستقبل کی منصوبہ بندی کررہا تھا تو پیرس میں فرانسیسی میسونی لاج ''ہنری چہارم'' کی ایک کمیٹی بڑی احتیاط سے امیر کے نام ایک خط تیار کررہی تھی اور اس کے ساتھ موزوں عبارت والا ایک قیمتی زیور بھی منتخب کیا جارہا تھا۔ تقریباً ایک مہینے کی عرق ریزی کے بعد سولہ نومبر کو میسونی تنظیم کی علامت سے ڈھکے سبز جڑاؤ تمغے کے ہمراہ یہ خط ''انتہائی عزت مآب جناب عبدالقادر'' کی خدمت میں ڈاک سے روانہ کردیا گیا۔ تنظیم کا نشان دائرے کے اندر دو چوکھٹوں پر مشتمل تھا، جس سے ایک ہشت پہلو شکل بنتی تھی جس سے روشنی کی شعاعیں خارج ہورہی تھیں۔ عین درمیان میں فیثا غورث کی مساوات کندہ تھی۔'' [یہودیوں کی مخصوص پسندیدہ علامت اس مساوات کا کچھ بیان آگے چل کر آئے گا]مسجع ومقفع انداز میں لکھی گئی عبارت کے آخر میں امیر کو تنظیم کا رکن بننے کی دعوت دی گئی تھی:''بہت سے دل ایسے ہیں جو آپ کے دل کے ساتھ دھڑکتے ہیں، بہت سے ''بھائی'' ایسے ہیں جو آپ کو اپنا سمجھتے ہوئے آپ سے محبت کرتے ہیں اور اگر وہ آپ کو اپنی تنظیم کارکن شمار کرسکیں تو انہیں بہت فخر ہوگا۔'' (ص: 438، 439)''عالمی برادری'' میں شمولیت کی اس دعوت کو قبول کرنے میں سچے غامدی مجاہد نے دیر نہیں لگائی  اور  اپنے قریبی ساتھیوں اور سپہ سالاروں کے منع کرنے کے باوجود ہتھیار ڈال کر اپنے آپ کو دشمن کے ہاتھ میں دے دیا ۔ہتھیار ڈالنے کا انداز کس قدر ذلت آمیز تھا۔ آپ پڑھ کر ڈھاکہ کے پلٹن گراؤنڈ کو بھول جائیں گے۔ ''امیر نے اپنی تلوار جنرل لاموری سیئر کے حوالے کی اور اپنے آدمیوں کو بھی حکم دیا کہ اپنی بندوقیں اتار کر جنرل کے پیروں میں پھینک دیں۔ لاموری سیئر بارود اور خون سے اٹی عباؤں میں ملبوس، افسانوی شہرت رکھنے والے ان جنگجوؤں کو پروقار خاموشی کے ساتھ ہتھیار ڈالتے دیکھ کر بہت متاثر ہوا اور بولا: ''اپنے ہتھیار اپنے پاس ہی رکھو۔ انہیں فرانس کے لیے استعمال کرو۔ میں تم سب کو مخزن کے طور پر بھرتی کروں گا۔ '' (ص:283)ہتھیار پاس رکھنے اور دشمن کے خادموں میں بھرتی ہو جانے کی خوش خبری کچھ زیادہ دن نہ چل سکی۔ کچھ دنوں بعد امیر کو احساس ہوگیا کہ فرانس کے حکام بالا [اپنی روایت کے مطابق] اس کے ساتھ کیے گئے وعدوں سے مکر گئے ہیں۔ عظیم جہادی شخصیت کو جب اس ذلت کا احساس ہوا تو اس نے انتہائی حد تک گرتے ہوئے شاہ فرانس کو خوشامدانہ خط لکھا۔ اس میں اس قدر گر کر التجا کی گئی تھی کہ خود اس کے ساتھیوں کو بھی شرم آ گئی۔ ملاحظہ ہو:''عبد القادر نے خط میں رحم اور انصاف کی التجاؤں کے بعد بادشاہ سے بالمشافہ ملاقات کی درخواست کی تھی۔ خط کے آخر میں امیر نے وہی جملہ لکھا جس کی دوما کو توقع تھی: ''خدائے برتر کی یہی منشا تھی کہ میں خود کو ایک بچے کی طرح آپ کے ہاتھوں میں سونپ دوں ۔ ''(ص: 300)غامدی ثنا خوانوں نے اسے صلح لکھا ہے۔ یہ ہرگز صلح نہیں تھی بلکہ  ہتھیار ڈال کر مانگی گئی بھیک تھی۔ اس کے سب ساتھی جنگ جاری رکھنے کے حق میں تھے، لیکن وہ حلف دے دے کر اپنے لیے راستہ دیے جانے کی بھیک مانگتا تھا۔مجاہد موصوف کی مسجع و مقفی درخواستیں ایسے خوشامدی الفاظ پر مشتمل ہوتی تھیں جن میں غیر اللہ کی قسم کھائی گئی تھی۔ ''پھر عبد القادر نے خط میں اپنی طرف سے حلف بھی شامل کیا جو اس نے اپنے ہاتھ سے عربی میں لکھا تھا اور اس سے اسلامی قانون پر مکمل دسترس رکھنے والے شخص کی جامع مہارت جھلکتی تھی۔ اس نے لکھا: ''عظمت صرف خدا کی ہے! میں حلف دیتا ہوں کہ کبھی فرانس کے لوگوں کے لیے پریشانی کھڑی نہیں کروں گا، نہ ذاتی طور پر، نہ خط لکھ کر اور نہ کسی اور طریقے سے۔ میں یہ حلف خدا، اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم، ابراہیم، موسی اور یسوع مسیح کی قسم کھا کر، تورات، انجیل اور قرآن کے نام پر دیتا ہوں۔ میں یہ حلف اپنے دل، اپنے ہاتھ اور اپنی زبان سے دیتا ہوں۔ اس عہد کی پابندی مجھ پر اور میرے تمام ساتھیوں پر، جن کی تعداد ایک سو سے زائد ہے، جنہوں نے اس دستاویز پر دستخط کیے ہیں اور انہوں نے بھی جنہوں نے دستخط نہیں کیے، کیوں کہ انہیں لکھنا پڑھنا نہیں آتا، لازم ہے۔''(ص:312)اسکی یہ گریہ زاری، جہادی کوشش منظور ہوئی اور"1864ء میں امیر کو دمشق میں شام کے میسونی لاج کا اعزازی گرینڈ ماسٹر نامزد کیا گیا۔ اس کے ایک برس بعد جب عبدالقادر فرانس گیا تو اسے فرانسیسی لاج ''ہنری چہارم'' میں شامل کرلیا گیا جس میں بنجمن فرینکلن، لاپلاس، لافاییٹ، وولٹیئر، سوٹ، مونجے، تالے راں، پرودوں اور دیگر ایسی ممتاز ہستیاں موجود تھیں جن کے لیے مظاہر فطرت، عقل اور اخلاقی قانون سب ایک الوہی تخلیق کار کے باہم موافقت رکھنے والے مظاہر تھے۔'' (ص:441)''سترہ نومبر 1869ء کو جب نہر سویز کھولنے کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی تو امیر کو بھی گرینڈ پیولین میں نپولین کی بیوی، ملکہ یوجین، آرچ ڈیوک وکٹر آف آسٹریا، شاہ ہنگری اور ساری دنیا سے آئے ہوئے سفیروں اور اہم شخصیات کے ساتھ بٹھایا گیا۔۔ مشرق اور مغرب کے سمندروں کو آپس میں ملانے کا خواب پورا کرنے میں عبدالقادر نے فرانس کے فردیناں دے لیسپس (Ferdinand de Lesseps) کی کچھ کم مدد نہیں کی تھی۔۔۔'' (ص:444,442)عالمی سطح پر مسلم دشمن بلکہ انسانیت دشمن بدنام زمانہ تنظیم کے گرینڈ ماسٹر کو سچا مجاہد بناکر پیش کرنے والے ''فہم دین'' اور ''تفہیم شریعت'' کے داعیوں کے متعلق اگر کوئی یہ سمجھے کہ وہ بھی ''مظاہر فطرت، عقل اور اخلاقی قانون کے الوہی تخلیق کار کے باہم موافقت رکھنے والے مظاہر'' میں سے ہیں تو کیا یہ غلط گمان ہوگا؟ سوال یہ ہے کہ جو شخص 1864ء سے 1877ء تک یعنی تقریباً تیرہ سال تک ایک بدنام زمانہ دین دشمن ومسلم کش تنظیم کا رکن رہا، اس کی کارگردگی کو دنیا میں متعارف کروانے کی آپ کو ضرورت کیا پڑی ہے؟ کیا یہی تازہ عالمی منظر نامے میں امت مسلمہ کی وہ رہنمائی ہے جس کی طرف ''مثبت پیش رفت ہماری ملّی ضرورت کی حیثیت رکھتی ہے''کیا یہی وہ مشعل راہ ہے جو ''اسلام کے تصور جہاد کے درست تعارف کے لیے گراں قدر اثاثے کی حیثیت رکھتی ہے''؟[واوین میں مذکور الفاظ امیر موصوف کے ثنا خواں عمار خان صاحب کے ہیں[.انگریز مصنف کو پاکستان میں دوسرا کوئی نہ ملا، صرف آپ میں یا آپ کے طبقے میں اسے کیا خصوصیت نظر آئی کہ اس نے یہ کتاب تنقید و تحقیق کے لیے آپ کو بھیجی۔ آپ کی صہیونی ایجنٹوں سے فطری ہم آہنگی اور نظریاتی اشتراک کی بنیاد کیا ہے؟کیا امیر نے تنظیم چھوڑ دی تھی ؟ خان صاحب نے  اپنے  جوابی کالم میں  لکھا کہ  امیر نے تنظیم چھوڑ دی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سفاک اور پر اسرار تنظیم میں جو شخص ایک بار داخل ہوجائے وہ اپنی مرضی سےنہیں  نکل سکتاہے ،یہ تنظیم عام کارکن سے جو حلف لیتی ہے وہ  دجال کے متعلق لکھی گئی مستند  کتابوں (دجال، عالمی یہودی تنظیمیں) میں بالتفصیل ذکر ہے۔ یہ تو دمشق کے میسونی لاج کا اعزازی گرینڈ ماسٹر نامزد کیا گیا  تھا  ، اس سےکیسا حلف لیا گیا ہوگا ؟  چلیں  بالفرض ہم یہ  مان لیتے ہیں   کہ امیر نے یہ تنظیم چھوڑ دی تھی، سوال یہ کہ  اس نے اپنی مہر میں (جو آپ نے کتاب کے پشتی سرورق پر اپنے والد محترم کے نام کے عین اوپر چھاپی ہے) آخر دم تک کیوں مخصوص یہودی علامتیں نقش کر رکھی تھیں؟ مذکورہ کتاب کے پشتی سرورق پر اس مہر کا نقش موجود ہے، جس میں چھ کونوں والا ستارہ پکار پکارکر امیر پر اور آپ کی   تحریک غامدیت پر مہر یہودیت ثبت کررہا ہے۔ کتاب کے ص 285 کے حاشیے پر لکھا ہے:''امیر کی مہر دو ''مثلثوں'' پر مشتمل تھی جن میں ایک سیدھی اور دوسری معکوس تھی۔ دونوں مثلثیں ایک دوسرے کے اوپر تھیں جس سے کچھ کونوں والے ستارے کی شکل بن جاتی تھی۔ ان کے اردگرد ایک دائرہ تھا۔ اوپر کی طرف نوک والی مثلث روحانی طاقت کی علامت تھی جبکہ نیچے کی طرف نوک والی مثلث دنیاوی اقتدار کی نمایندگی کرتی تھی۔ دائرہ الوہی رحمت کی علامت تھا۔''جب الوہی رحمت کی علامت اپنا کر فری میسنری کی غلامی قبول کرلی گئی تو یہودی سرمایہ دار ایسے شخص کی حمایت سے کیوں پیچھے رہتے؟ مشہور زمانہ یہودی خاندان ''روتھ شیلڈ'' ہمارے ممدوح مجاہد کی مدد کو آگیا۔ سنیے اور سر دھنیے:''اس نے دمشق اور بیروت کے درمیان پل تعمیر کرایا اور جیمز روتھ شیلڈ کی شراکت سے محصول چونگی بھی قائم کی۔۔'' (ص:406)حقیقت میں  تنظیم چھوڑنے کا شوشہ پیرس کی طرف سے ''عربوں کے حقیقی بادشاہ'' کو شام کی گورنری دلوانے کے لیے چھوڑا گیا تھا، ورنہ کوئی اس تنظیم کو چھوڑنا بھی چاہے تو یہ تنظیم اسے نہیں چھوڑتی۔(جاری ہے)

خود اعتمادی

"تم نے وقت پر سکول کی بیل نہیں بجائی تمہارے اوپر جرمانہ کریں گے۔تم کام بھی  کچھ نہیں کرتے اس کا بھی تمہارے اوپر جرمانہ کریں گے، جرمانہ نہیں دو گے تو ہم  تمہیں ادھر سکول کے گراؤنڈ میں رسی سے باندھ دیں گے"۔"جا اوئے  بڑا آیا جرمانہ کرنے والا، کیوں جرمانہ کرو گے میں یہ کرسی اٹھا کر تمہارے سر  پر ماروں گا، دیکھو ایڈمن  صاحب یہ کہتا ہے میں تمہارے اوپر جرمانہ کرونگا، میں پرنسپل صاحب کو جا کراسکا بتاتا ہوں"آج صبح میں جب اپنے آفس میں داخل ہوا تو  سکول کا  کلرک نواز ہمیشہ کی طرح نائب قاصد  فرمان  خان کو  چھیڑ رہا تھا تھا،   فرمان اسکی باتوں سے   غصہ سے پاگل ہوا جارہا تھا۔ "تم جس کو مرضی بتاؤ رات کو تمہیں دو سو کی روٹی کھلانی ہی پڑے گی"۔ نواز  کا اتنا کہنا تھا فرمان  نے جوتی  اتاری  اور  اسکے پیچھے دوڑ پڑا۔آپ سوچ  رہے ہونگے کہ شاید فرمان کوئی مینٹل آدمی  ہے یا  کوئی  غریب بچہ ہے جو سکول میں پانی وانی پلانے کے لیے بھرتی ہوگیا ہے۔ ایسا نہیں ہےیہ  چالیس سال کا ایک آدمی ہے، چھے فٹ قد، موٹے تازے جسم  کا مالک اور   سابقہ فوجی ہے۔ اس میں کمی صرف  یہ ہے کہ اسکا دماغ اسکے جسم کیساتھ بڑا نہیں ہوسکا۔ یہ بات مجرب ہے کہ  ایسے لوگ بہت  محنتی اور تابعدار ہوتے ہیں ، فرمان کو  جس کام کا کہو ،فورا کرتا ہے، بلکہ  بعض اوقات تو  ہمارے   منہ سے بات مکمل نہیں ہوتی ،فرمان وہ کام کرنے کے لیے  کمرے سے نکل چکا ہوتا ہے، ہم بڑبڑاتے رہی رہ جاتے ہیں، پھر تھوڑی دیر بعد واپس آکر پوچھتا ہے ساب جی تسی کے آخیا سی ؟ پھر میں اسکو ساری بات سمجھا کر بھیجتا ہوں۔ شروع میں مجھے اس سے کام کرواتے بہت  مسئلہ ہوتا تھا ، مثلا  میں اسکو کہتا   یہ فائل فلانی کلاس  کے ٹیچر کو دے آؤ اور فلانی کلاس سے اس نام کے لڑکے کو بلا لاؤ، یہ فائل جس کلاس سے لڑکے کو بلانا ہوتا اس میں دے آتا اور دوسری کلاس سے کسی لڑکے کو پکڑ آتا۔   اب میں اسکو سمجھنے لگ  گیا ہوں۔ اسکو ایک وقت میں ایک ہی کام کا کہتا ہوں۔ فرمان کی شادی بھی ہوئی ہوئی ہے اسکا ایک بچہ بھی ہے لیکن  بیوی بچے سمیت  دو سال سے اپنے میک میں رہ رہی ہے ۔ فرمان کی چوبیس گھنٹے سکول میں ہوتا  ہے ، صبح سکول میں کام کرتا ہے رات کو اسکی چوکیداری کے لیے سکول میں ہی  سوتا ہے۔فرمان کے حالات اور  اسکے رویہ کو  دیکھتے ہوئے  مجھے یہ تجسس رہتا تھا کہ اسکے ماضی کے بارے میں  کسی سے پوچھوں، یہ پیدائشی ابنارمل لگتا نہیں ۔ اک دن مجھے ڈرائیور نے بتایا کہ نواز فرمان کا کزن ہے ، فراغت کے لمحات میں  میں نے نواز سے  فرمان  کے ماضی کے حالات کے بارے میں پوچھ ہی لیا۔  اس نے جو مجھے فرمان کی زندگی کی کہانی  سنائی وہ بڑی عجیب ہے۔کہانی کچھ یوں ہے :فرمان جب سولہ  سترہ سال کا تھا تو اسکی والدہ فوت ہوگئی تھیں، اسکا والد  انتہائی سخت اور شکی طبیعت کا مالک آدمی تھا، ذرا ذرا سی بات پر بیوی اور بچوں کو مارنا، گھر میں چینخنا چلانا اسکا معمول تھا، فرمان کا ایک سگا بھائی اور ایک بہن ہے۔  انکوتینوں  گھر سے نکلنے کی بالکل  اجازت نہیں ہوتی تھی، ہم سب لوگ گلی میں کھیلتے، کودتے،  ادھر ادھر گھومتے پھرتے رہتے اور یہ دونوں کھڑکیوں سے ڈرے سہمے ہمیں دیکھ  رہے ہوتے تھے ، جوں ہی انکا والد گلی میں داخل ہوتا یہ کھڑکیاں بند کرکے کتابیں کھول کر بیٹھ جاتے ، اسکے والدین کی سوچ یہ تھی کہ سوسائٹی کا ماحول ٹھیک نہیں ہے  ا س لیے بچوں کو باہر نہیں نکلنے دینا ،کہیں آوارہ نہ ہوجائیں، انہوں نے انہیں شہر کے اچھے سکول میں داخل کروایا ، ٹیوشن بھی گھر لگا کردی لیکن انہیں صرف سکول کے لیے گھر سے نکلنے کی اجازت تھی، نماز جب پڑھنی ہوتی تو انکا والد انہیں خود ساتھ لے کر جاتا تھا۔یہ بہن بھائی گھر کی  چھت پر آپس میں ہی  کچھ کھیلتے رہتے تھے یا گلی میں تاکتے رہتے تھے ۔"خاندان  میں ہونے والی شادی بیاہ  یا عید وغیرہ پر کیا انکو اپنی مرضی سے  تمہارے ساتھ گھومنے پھرنے کی اجازت ہوتی تھی" میں نے نواز سے پوچھا۔" نہیں بالکل نہیں، انکو کسی کے ساتھ ادھر ادھر ہونے کی بالکل اجازت نہیں تھی، انکا والد خود انکو رشتہ داروں کے گھر لے کر جاتا، وہاں بھی یہ اسکے ساتھ ہی چپ چاپ بیٹھے رہتے تھے ، ایک دن کیا ہوا کہ ہمارے گھر شادی تھی  اسکی والدہ ہمارے گھر آئی ہوئی تھی اور اسکے والد آفس گئے ہوئے تھے، انکا شاید پیپر تھا  یہ  بہن بھائی سکول سے جلدی واپس آگئے،   میں نے انہیں دیکھ لیا اور انکو اپنے ساتھ اپنے گھر لے جانے پر اصرار کرنے لگا  لیکن یہ نہ مانے کہ ابو ماریں گے، میں نے انہیں سمجھایا کہ تمہاری والدہ بھی وہیں ہیں ، تم ادھر  اکیلے کیا کرو گے ،بہت زور لگایاتو یہ تیار ہوگئے، ہم گلی میں نکلے تو میں نے  ان کے چہرے  پر پہلی دفعہ خوشی دیکھی، یہ اچھلتے ، کودتے  میرے ساتھ دوڑنے لگتے  ، پھرچلتے ہوئے ادھر ادھرایسے گھوم گھوم کر  دیکھتے ، جیسے کوئی طوطا پنجرے سے آزاد ہوگیا ہو۔  ہم گھر گئے لیکن کوئی کام تو ہم نے کرنا نہیں تھا، اس لیے   جہاں دیگیں پک رہی تھیں، وہاں چلے گئے ۔وہ ایک  کھلا میدان تھا  ہم نے وہاں کھیلنا شروع کردیا، شادی کا موقع تھا سارے کزن آئے ہوئے  تھے ، ہم نے خوب کرکٹ کھیلی،  اتنے میں  انکے والد آگئے انہوں نے فرمان اور اسکے بھائی کو   بلایااور   ہم سب کے سامنے انکے  منہ پر تھپڑ مارے اور انکو  اسی طرح مارتے مارتے  گھر لے گئے ۔" پہلے انکے والدین نے انہیں گھر میں بند کیے رکھا، کسی سےملنے،  بولنے، بات کرنے نہیں دیا جس سے یہ اندر ہی اندر گھٹن کا شکار ہوگئے ،  اپنی مرضی سے کچھ کرنے نہیں دیا  جس سے ان میں قوت ارادی، فیصلہ کرنے کی قوت  پیدا نہیں ہوسکی  پھر   اس دن سب کے سامنے انکی   عزت نفس کو بری طرح مجروع  کردیا گیا !!ان تینوں بچوں کے اس دن جذبات  کیا ہونگے " نواز آگے بھی کچھ    بولتا جارہا تھا  لیکن  میرا تخیل ان بچوں کے اس دن کے جذبات کے اندازے لگا رہا تھا اور انکے  اترے ہوئے سرخ چہروں دیکھ  رہا تھا۔" اچھا نواز  ۔یہ تو اتنے اچھے سکولوں میں پڑھتے رہے، تمہارے بقول سکول میں  اسکے بھائیوں کی  پوزیشن بھی آتی تھی پھر یہ  اتنے پیچھے  کیوں رہ گئے  ، کوئی  اچھاعہدہ کیوں نہیں حاصل کرسکے؟ ؟اپنا یہ سوال مجھے خود ہی غیر معقول سا لگا کہ  انکے اندر کے ساری  صلاحیتوں کو تو بچپن میں ہی روند دیا گیا اب یہ کس عہدے کے لیے اہل تھے جو تم یہ پوچھ رہے ہو ؟ انکا اچھے سکول سے پڑھنا ، اچھا تعلیمی بیک گراؤنڈ  کچھ دیر کے لیے  مجھے بھی فرمان کے  والد کی طرح  ایک اچھے عہدے  کا ضامن لگا،  اس لیے میں نے  پوچھ ہی لیا۔"سر جی یہ جب  میٹرک کے پیپر دے رہا تھا تو اسکی والدہ فوت ہوگئی ،  بغیر پڑھے   پیپر دیتا رہا بحرحال پاس ہوگیا۔انکی والدہ کے مرنے کے بعد ان کے حالات مزید خراب ہوگئے، ایک سال تو انکوکوئی  کپڑے دھو کر دینے والا  نہیں  تھا، فرمان کو کسی رشتہ دار  نے فوج میں اپلائی کروایا، جسامت کے لحاظ سے یہ ٹھیک تھا ، بیٹ مین بھرتی ہوگیا، تقریبا  دس سال اس نے نوکری کی لیکن پھر اسکو وہاں سے بھی فارغ کردیا گیا، اسکے  بڑے بھائی نے ابھی ایک سرکاری محکمے سے پنشن لی ہے ،وہ بھی نائب قاصد بھرتی ہوا تھا۔   اس کی والدہ کے مرنے کے بعد  اسکے والد نے ایک بیوہ عورت سے شادی کرلی  بھی جو ابھی انکی ماں ہے ، اس کے بھی دو بچے ہیں  ایک بائیس سال کا ہے اور ایک شاید  پچیس سال کا ہے۔"کیا وہ بھی ان جیسے ہی  ہیں " میں نے نواز کی بات کاٹتے ہوئے اس سے پوچھا۔" نہیں جی وہ انکے بالکل الٹ ہیں، پڑھائی کے لحاظ سے تو بالکل نل ہیں لیکن بہت تیز طراز ہیں" نواز بولا۔"یہ کیوں انکے والد نے ان پر سختی نہیں کی؟؟ "" نہیں جی ، ایک تو انکی والدہ خود بڑی سخت مزاج اور اپنی مرضی کرنے والی عورت ہے  اس نے اسکے والد کی بات کو ذیادہ چلنے نہیں دیا، دوسرا انکا والد جب یہ پندرہ سال کے تھے تو فوت ہوگیا تھا۔ اس کے بعد فرمان اور اسکے بھائی کی تنخواہ سے انکے گھر کا  خرچہ چلتا تھا۔ ان لڑکوں کو بھی سکولوں میں داخل کروایا گیا لیکن انہوں نے پڑھا  وڑھاکچھ بھی نہیں، کرکٹ ہی کھیلتے رہے۔ ابھی بھی انکا حال یہ ہے کہ فرمان کے بھائی کو جو پنشن ملی اس سے ایک کو دوبئی بھیجا گیا وہ دو  مہینے بعد واپس آگیا،  دوسرے کو ایک کیری ڈبا خرید کر دیا گیا وہ اس پر دوستوں کو لے کر گھومتا رہتا ہےاور انکے ساتھ   گاڑی میں بیٹھ کر چرس پیتا ہے۔ فرمان کا  بھائی صرف اس وجہ سے خوش  ہے  کہ اس کیری ڈبے کے پیچھے والے شیشے پر  اس لڑکے نے  فرمان خان جدون اور خرم خان جدون بڑا سا کرکے لکھوا یا ہوا ہے۔ اس سے یہ دونوں سمجھتے ہیں کہ یہ گاڑی انکی  ہے"۔ فرمان کمرے میں داخل ہورہا تھا اسکو چھیڑنے کے لیے نواز نے قدرے اونچی آواز میں یہ جملے کہے ۔ وہ اسے گھورتے ہوئے  باہر نکل گیا۔ میں سوچنے لگا یہ ہمارے معاشرے کے والدین کی سوچ کی دوسری انتہاء ہے ، ایک انتہاء یہ تھی کہ اپنے ذہن کے مطابق اپنے  بچوں کا اتنا خیال رکھا ، ان پر  اتنی توجہ  دی کہ بچوں کو  اپنی مرضی سے کھل کر سانس بھی  نہیں لینے دیا، دوسری طرف انتہاء یہ ہے کہ  اتنی بے پرواہی  برتی گئی اور اتنی   آزادی دی  گئی   ہے کہ انکی سانسیں گندی ہونے لگی ہیں۔اچھا فرمان کی شادی بھی ہوئی،  اب اسکی بیگم کیوں ناراض ہے؟ میں نے نواز سے پوچھا"اسکی بیوی ایک اچھے  گھرانے کی انتہائی شریف لڑکی ہے، یہ شادی بھی اسکے ماموں نے جو کہ علاقے کاناظم رہا ہے' کسی کو پتا نہیں کیسے راضی کرکے کروائی تھی۔ ورنہ اسکے تو جو حالات ہیں اسکو کوئی بکری بھی  نہ دیتا"۔ نواز نے مزاح کا پہلو نکالنے کی کوشش کی۔"  وہ تین سال اسکے ساتھ رہی، حالت اسکی یہ  تھی کہ وہ سارا دن اکیلے ان سب بھائیوں کےکپڑے دھوتی،استری کرتی،  کھانا پکاتی ، اسکا بچہ پیدا ہوا پھر بھی اسی طرح دن رات انکے کام میں  لگی رہتی تھی ۔ اسکو دیا کیا جاتا تھا اسکی والدہ گلی کی  کونے والی کپڑوں کی  دکان  پر لگنے والی  سے عید پر اسے ایک جوڑا خرید کر دے دیتی تھی، خود اسکے بھائی عیاشیاں کرتے اور بچے کو دودھ کی جگہ  پانی میں چینی ملا کر پلائی  جاتی تھی"۔" اچھا نواز  اس فرمان کا  اسکے ساتھ رویہ  کیسا تھا؟ میں نے کچھ سوچتے ہوئے ایک دم اسکی بات کاٹی۔" یہ گھر ہی نہیں جاتا تھا جی ، سکول سے چھٹی ہوتی یہ کھانا کھا کر  کپڑے بدل کر دوبارہ سکول میں  آجاتا تھا، اس کے ساتھ یہ شاید ہی کبھی گھنٹہ بیٹھا ہو،   رات یہیں گزارتا تھا ، اسکے علاوہ کبھی ہم نے اسے اپنا بچے کو اٹھائے اور پیار کرتے بھی  نہیں دیکھا۔ وہ لڑکی اتنی اچھی تھی کہ اس نے  کبھی اپنے گھر میں نہیں بتایا کہ اسکے ساتھ یہاں کیا ہورہا ہے۔ ایک دن بیمار تھی ، اچانک  اس کا بھائی انکے گھر  آگیا وہ دوبئی میں  ہوتا ہے اس نے اسے اس حال میں دیکھا  تو اسکو لے کر اپنے گھر چلا گیا۔ اب انکی یہ شرط ہے کہ فرمان اسکو علیحدہ رکھے تو وہ اس لڑکی کو بھیجیں گے ۔ لیکن فرمان کی ماں اسکو کیسے چھوڑ سکتی ہے۔ فرمان کے ذریعے تو اسے چھے ہزار روپے ملتے ہیں ۔ تنخواہ ملتے ہی یہ دوڑ کر اسکے ہاتھ میں تھما  آتا ہے"۔" یار نواز سارا مسئلہ یہی نہیں ہے، خود اس کے اپنے حالات بھی تو ٹھیک نہیں ہیں ،اپنے اوپر اعتماد اس میں نہیں ہے، ذہن اسکا کام نہیں کرتا،  کوئی مرد اسکو  ٹکٹکی باندھ کر دیکھے یہ شرمانے لگتا ہے ،فیصلہ کرنے کی قوت اس میں نہیں ہے، لکیر کا فقیر ہے،   یہ اس لڑکی کو اکیلے    کیسے  سنبھال سکے گا؟  اتنے میں نواز کو پرنسپل صاحب نے آواز دی ،وہ انکی بات سننے  چلا گیا اور میں ظہر کی نماز کے لیے مسجد کی طرف چل پڑا ، سارے راستے اور نماز میں بھی   میرے ذہن میں یہی باتیں گھومتی رہیں  کہ بچوں کی تربیت کے سلسلے میں اس افراط وتفریط سے کیسے بچا جاسکتا ہے؟  اپنے بچوں کے بارے میں انتہائی حد تک حساس رہنے والے ان  والدین کو کیسے سمجھایا جائے کہ صر ف اچھی تعلیم دلوانا ہی کامیابی کا  ضامن نہیں ہے؟؟ بچوں کو  ہر وقت پابند کیے رکھنے  سے انکی تربیت نہیں ہوتی بلکہ  انکے اندر کی صلاحیتیں مرجاتی ہیں  ،انکی شخصیت مسخ ہوجاتی ہے ۔ ۔  انکو سب کے سامنے مارنے سے انکے غلط کاموں کی اصلاح نہیں ہوجاتی بلکہ  انکی سیلف ریسپیکٹ ختم ہوجاتی ہے ، وہ باغی ہوجاتے ہیں۔ ۔ ۔  انکو ضرور پڑھائیے ، بری صحبت سے بھی  بچائیے لیکن خدارا انکی معصوم خواہشوں کا گلا نہ گھوٹیے ۔۔ ان کلیوں کو کھلنے دیجیے ،    انکو اپنے بچپنے کا اظہار کرنے دیجیے  ۔ ۔ ۔ اپنی  نظروں کے سامنے ہی سہی  لیکن  انکو  اپنی عمر کے بچوں کے ساتھ کھیلنے کا  موقع دیجیے ۔ ۔۔  انہیں  اپنی مرضی سے گھومنے پھرنے دیجیے ۔ ۔ ۔انکو رشتہ داروں میں بیٹھنے کی اجازت   دیجیے تاکہ  ان کو بات کرنے کا،   ملنے ملانے کا سلیقہ آئے ۔ ۔   خدارا آپ اپنی زندگی جیسی کیسی گزار چکے  انکو زندگی کی  تنہاء گلی میں  نہ دھکیلیں    ۔ ۔ انکو  بولنے دیجیے کہ انکے   اندرکی  گھٹن  ختم ہو۔ ۔  انکو غلطیاں کرنے دیجیےکہ  ان سے انکو ان سے کچھ سیکھنے کا موقع ملے ، اور یہ   صحیح اور غلط کا فیصلہ کرسکیں۔ ۔ ان پر اعتبار کیجئے،  انکے اچھے کاموں پر انکی  تعریف کیجئے ، انکو   اپنی مرضی  کرنے دیجیے تاکہ   انکے اندر  خود اعتمادی پیدا ہو ۔ ۔ ۔

ایک ادبی واردات

ناول "جب زندگی شروع ہوگی"   سے ہمارا  پہلا تعارف   فیس بک  پر اس  کے متعلق چلنے والی تشہیری مہم سے ہوا  ۔ اس میں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ  ناول میں  ایک علامتی کہانی کے ذریعے قرآن و حدیث کی روشنی میں  روز آخرت کی منظر کشی کی گئی  ہے او ر اس نے ہزاروں لوگوں کی زندگیاں بدلی ہیں۔ ناول خریدا  لیکن ان دنوں کچھ مصروفیت تھی اس لیے  ناول کو چند جگہ ہی سے پڑھنے کا موقع ملا ،  جتنا پڑھا   اسکو دیکھتے ہوئے دوستوں کی یہ  با ت درست لگی کہ   مصنف نے قیامت کے حالات  کی زبردست منظر نگاری کی ہے ، بہت سی جگہوں پر  باطل نظریات  کی تدسیس بھی نظر آئی لیکن مصنف سے حسن ظن   ،  دوستوں کی تجویز پر اعتبار اور  قیامت کے حالات کے  حکایتی انداز  میں بیان نے اسے  نظر انداز کرنے پر مجبور کردیا ۔  ناول کا حکایتی انداز  ہماری اس خواہش کے مطابق تھا جس کا اظہار ہم اکثر اپنے لکھاری دوستوں سے کرتے رہتے  ہیں   کہ دیندار اور نظریاتی اہل قلم کو " حکایتی ادب" کی طرف  بھی آنا چاہیے۔ قرآن و حدیث  میں ایسے دلچسپ قصص کی متعدد مثالیں ملتی ہیں جن سے باتوں باتوں میں انسان بہت کچھ سیکھ جاتا ہے۔ اس لیے  اس   ناول   کی تعریف میں اپنے بلاگ پر ایک تحریر بھی  لکھ کر پوسٹ کرڈالی ، ہماری اس تحریر سے   ناول کی بہت پروموشن ہوئی، تحریر کئی سائیٹس پر شئیر ہوئی، خود ہمارے بلاگ پر  ہزار کے قریب لوگوں نے پڑھی اور اس ناول کو  ڈاؤنلوڈ کیا ۔   چند ماہ پہلے   اسی   ناول کے مصنف کی سائیٹ کو دیکھتے ہوئے اس پر کچھ عجیب وغریب نظریات  کی حامل  تحریرات  پر نظر پڑی  ، بدن میں جھرجھری سی دوڑ گئی ، ایک دیکھی، دوسری، تیسری ۔ ۔ ۔سارا غامدی مذہب ایک نئے اسلوب کیساتھ نظر آیا،   پہلی فرصت میں ناول دوبارہ پڑھنے کی ٹھانی، جب پڑھنا شروع کیا  تو حیرانگی بھی ہوئی اور اپنے اوپر غصہ بھی آیا  کہ  ناول کے متعلق ہم نے  تحقیق کیوں نہ کی ، ایک مجہول رائٹر کے ناول  کو صرف حسن ظن کی بنیاد پر تحریری شکل میں  آگے تجویز کیوں کیا۔۔اسی دن سے  یہ عزم  کیا کہ آئندہ  جب تک کسی مصنف یا مقرر کا علمی نسب اور سند معلوم نہ ہو جائے ، اسے پڑھنے ،  سننے  اور آگے تجویز کرنے سے  گریز کروں گا اور اس  ناول اور اسکے مصنف کی پوری تحقیق کرنے کے بعد  اپنی غلطی کا ازالہ بھی  کروں گا ۔ اسی کوشش میں مصنف کا علمی حسب ونسب اور نظریاتی مسلک ومشرب معلوم کرنا شروع کیا ،ویب سائیٹ اور فیس بک پر پیغام بھیجا لیکن مصنف کی تعریف اور تعارف سے آگاہی نہ  ہوئی  ۔ جیسے جیسے شکوک وشبہات بڑھتے گئے ، ویسے ویسے اس گمنام و مجہول مصنف کی نقاب کشائی کا شوق بھی  بڑھتا گیا۔ آخر انہوں نے ہماری ایک میل کا جواب دے ہی دیا  اور  یہ عقدہ کھلا کہ آں محترم  دراصل ، فضیلت   الشیخ جناب جاوید احمد  صاحب الغامدی  کے شاگرد  محترم ریحان احمد یوسفی صاحب ہیں۔ آنجناب غامدی صاحب کی  سائیٹ'  المورد'  پر مفتی کا منصب بھی  سنبھالے ہوئے ہیں اور   غامدی  فقہ کی   روشنی میں سوالوں کا جواب دیتے رہتے  ہیں۔ غامدی صاحب کے ہونہار شاگردوں نے  انکے  مسلک  کی   ترویج  و اشاعت کے لیے مختلف  طریقوں اور راستوں کا انتخاب کیا ہے ، انکے ایک  شاگرد  نے غامدی صاحب کے نظریہ جہاد   کی اشاعت و ترویج کے لیے  یہود  کے  ایک منظورنظر فرضی مجاہد   کی انگریزی میں  لکھی گئی سوانح عمری   کا  اردو   ترجمہ کیا  اور   اسے  اپنا نام درج کیے بغیر کتابی شکل میں شائع کروایا،  لیکن   ذیادہ دیر چھپے نہ رہ  سکے اور بتوں کی اس عاشقی میں عزت سادات سے بھی ہاتھ دھوئے۔  پھر انہی کے ہم مکتب وہم مشرب جناب ریحان احمد یوسفی صاحب   نے غامدی  نظریات خصوصا  اسی نظریہ  جہاد کو  ایک ناول کے ذریعے اسی مخصوص ''نقاب پوش'' انداز میں   پیش کیا ۔    ویسے  تو ناول  کے مشکوک ہوجانے کے لیے مصنف کا غامدی نظریات والا ہونا  ہی کافی تھا لیکن  پھر بھی ہم نے   ناول میں قیامت کے حالات کے تذکرے   میں گھول کر پلائے گئے مخصوص نظریات کی نشان دہی کرنا ضروری سمجھا ہے ۔ غامدی صاحب  کےعجیب وغریب اور متضاد دینی  نظریات،  قرآن وحدیث و فقہی  مسائل کی تشریحات  میں   بلاوجہ کی  جدت پسندی، تلبیسات   کی پچھلے چند سالوں میں  جو حقیقت کھلی   اس  کا یہ اثر ہواکہ وہ ایک  مخصوص طبقے تک محدود ہوکر رہ گئے، وہی انکو سنتا اور پسند کرتا ہے۔ یہ بات خود غامدی مکتب بھی جانتا ہے اس لیے اس  ناول کے مصنف   نے اپنے شیخ  کی اس  بری شہرت  کے اثر سے  اپنے ناول کو بچانے اور جو غامدی مکتب کو پسند نہیں کرتے ان   کو بھی   یہ ناول پڑھوانے کے لیے   ایک  چال چلی ۔ انہوں نے ناول اپنے اصلی نام  کیساتھ چھپوانے کے بجائے  ایک جہادی   اور عربی ٹائپ  کی کنیت سے   چھپوایااور  " صاف  چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں" والی تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے  غامدی صاحب کے  گمراہانہ تصورات ایسے طریقے سے گول کر پلائے کہ بہت  سے  انکے مخالف طبقہ کے لوگ بھی    انہیں  باآسانی ہضم کرگئے۔ یہی طریقہ جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا انکے ایک اور دوست استعمال کرچکے  ہیں،  تعجب اور لطف کی بات یہی نہیں کہ طریقہ واردات غامدی صاحب کے ان دونوں شاگردوں کا   ایک جیسا  ہے ، بلکہ روداد واردات  بھی ملتی جلتی ہے۔ جو کارنامےاس فرضی  الجزائری مجاہد کے تھے وہی" جب زندگی شروع ہوگی " نامی اس ناول نما  داستان کے ہیرو کے ہیں۔ اس نیم اسرائیلی نیم اسلامی قصے کا مرکزی کردار عبداللہ نامی ایک نوجوان ہے، جو تمام وہ کام کرتا ہے جو "عظیم جہادی شخصیت"  امیرالجزائر کی مغرب میں وجہ محبوبیت کا باعث ہیں۔حملہ آوریہودی دشمن اورسپرپاور سے ٹکراؤ سے بچنے کی ترغیب:پہلا نظریہ جو ناول نگار کے خیال میں مجاہدین اور دیندار عوام کو اپنانا چاہیے وہ  یہ ہے کہ    سپرپاور کی غلامی  پر" راضی برضا" رہتے ہوئے اس سے ٹکرانے سے  بچیں،    اپنا نماز روزہ کرتے رہیں، دعوت دیتے رہیں ،  اس کے خلاف بغاوت کا سوچیں بھی نا۔ مصنف   صالح نوجوان کے ذریعے  نئی نسل کی " اصلاحی  و فراہی" ذہن سازی  کرتے ہوئے  عالمی طاغوتوں کے خلاف جہاد  کا خیال  دل سے نکالنے  کی جابجا ترغیب  دی ہے ۔ ایک جگہ   اپنا نظریہ جہاد بنی اسرائیل   کے ایک غیر معروف  نبی  کی زبان سے  پیش  کیا ہے ۔ مصنف  ناول کے ہیرو'عبداللہ'   کی  صالح نامی فرشتے کی معیت میں بنی اسرائیل کے ایک نبی سے ملاقات کا حال بیان کرتا ہے۔ عبداللہ کہتا ہے : " یرمیاہ نبی کے حالات اور زندگی میں میرے لیے ہمیشہ بڑی رہنمائی رہی ۔ مجھے  ان سے ملنے کا بہت اشتیاق ہے ۔ ۔جس وقت حضرت یرمیاہ کی بعثت ہوئی بنی اسرائیل اس دور کی عظیم سپر پاور عراق کی آشوری سلطنت اور اس کے حکمران بخت نصر کے باج گزار تھے۔ اس دور میں  بنی اسرائیل کا اخلاقی زوال اپنی آخری حدوں کو چھورہا تھا۔ ان میں  شرک عام تھا۔ زنا معمولی بات تھی۔ اپنے ہم مذہبوں کے ساتھ یہ لوگ بدترین ظلم و ستم کا معاملہ کرتے۔ سود خوری اور غلامی کی لعنتیں عام تھیں۔ ایک طرف اخلاقی پستی کا یہ عالم تھا اور دوسری طرف سیاسی امنگیں عروج پر تھیں۔ ہر طرف بخت نصر کے خلاف نفرت کا طوفان اٹھایا جارہا تھا۔ ان کے مذہبی اور سیاسی لیڈروں کی ساری توجہ اس بات کی طرف تھی کہ اس سیاسی محکومی سے نجات مل جائے۔ قوم کی اصلاح، اخلاقی تعمیر، ایمانی قوت جیسی چیزیں کہیں زیر بحث نہ تھیں۔ مذہب کے نام پر ظواہر کا زور تھا۔ ایمان و اخلاق اور عمل صالح کی کوئی وقعت نہ تھی، ایسے میں حضرت یرمیاہ اٹھے اورانہوں نے پوری قوت کے ساتھ ایمان واخلاق کی صدا بلند کی۔ انہوں نے اہل مذہب اوراہل سیاست کو ان کے رویےپر تنقید کانشانہ بنایا۔ ان کی اخلاقی کمزوریوں، شرک اوردیگر جرائم پر انہیں متنبہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے اپنی قوم کو سختی سے اس بات پر متنبہ کیا کہ وہ بخت نصر کے خلاف بغاوت کاخیال دل سے نکال دیں۔ انہیں سمجھایا کہ جذبات میں آکر انہوں نے اگر یہ حماقت کی توبخت نصر قہر الہی بن کر ان پر نازل ہو جائے گا۔۔ مگر ان کی قوم باز نہ آئی۔ اس نے انہیں کنویں میں  الٹا لٹکادیا اور پھر جیل میں  ڈال دیا۔ اس کے ساتھ انھوں نے بخت نصر کے خلاف بغاوت کی۔ جس کے نتیجے میں  بخت نصر نے حملہ کیا۔ چھ لاکھ یہودیوں کو اس نے قتل کیا اور چھ لاکھ کو غلام بناکر ساتھ لے گیا۔ یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی۔ پورا شہر خاک و خون میں  بدل گیا۔ '' (ص: 60-62،    197-199)1. مصنف نے اس تاریخی واقع کو صرف اپنی بات پیش کرنےکے لیے  بالکل بدل کر پیش کیا ہے۔ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ   یرمیاہ بخت نصر کے آنے سے پہلے بنی اسرائیل کو دعوت دے چکے تھے  اور  بنی اسرائیل کی جو اینٹ سے اینٹ بجائی گئی وہ باج گزاری کے دور میں بخت نصر کی   بغاوت   کرنے کی  وجہ سےبالکل  نہیں تھی . یہود حملے سے پہلے   بخت نصر کے باج گزار تھے ہی نہیں،  نہ اس  سے پہلے انکا اس کے ساتھ کوئی تعلق   تھا۔ قرآن مجید نے اس واقعہ کو سورۃ بنی اسرائیل کے شروع میں  بیان کیا ہے  اور یہ بتایا ہے  کہ حملہ آور لوگ دراصل قہر الٰہی تھے کیونکہ بنی اسرائیل نے زمین پر فساد مچارکھا تھا۔2. مصنف نے   خصوصی طور پر بنی اسرائیل  کے  ایک غیر معروف نبی یرمیاہ کو چنا،  سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نوجوان کو   ایک  اس غیر معروف نبی  کی زندگی میں ہی رہنمائی کیوں نظر آئی اور اس سے ملنے کا اشتیاق کیوں  ہوا؟ حضرت موسی و ابراہیم  علیہ السلام  کے حالات زندگی میں عبداللہ کے لیے   راہنمائی کیوں نہیں تھی ؟  کیا اس لیے کہ انہوں نے   نبوت ملتے ہی وقت کے ظالم حاکم کے خلاف کلمہ حق کہا؟ دوسری بات' جہاد کے بجائےدعوت'( جس پر مصنف نے فوکس کرتے ہوئے موجودہ دور کی کفر کے خلاف برسرپیکار جہادی تنظیموں اور لوگوں  پر طنز کی)  کیا ان  دونوں پیغمبروں نے کلمہ حق بلند کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی   قوموں کو ذاتی اصلاح کی دعوت نہیں دی تھی ؟  موسی کے بجائے یرمیاہ  کو منتخب کرنے کی وجہ شاید یہی ہے کہ  موسی علیہ السلام کے حالات بالکل واضح ہیں اور مصنف کے  لیے   ان  کی آڑ میں    اپنے مخصوص نظریات کو پیش کرنا ممکن  نہیں  تھا ۔ موسی علیہ السلام اور انکے حالات قرآن  نے بیس سے زائد مقامات پر  تفصیل سے بیان  کیے ہیں    اور ان  سے یہ  واضح ہے کہ  وہ نہ صرف قوم  کو اصلاح کی دعوت دیتے رہے  بلکہ ساتھ ساتھ  وقت کی سپر پاور کے خلاف  نفرت کو بھی کم نہیں ہونے دیا اور مناسب موقع ملتے  ہی بغاوت کردی ، اس بغاوت کے وقت بھی انکی قوم کی دینی حالت  کوئی اتنی اچھی نہیں تھی ، قرآن خود بتاتا ہے کہ   جب حالت ایسی بن گئی کہ  آگے سمند ر اور پیچھے فرعون کا لشکر  آگیا، بنی اسرائیل  کہنے لگے موسی ہم تو پکڑے گئے۔۔ !! فرعون سے نجات ملنے کے بعد  بھی انکے اعمال کیسے تھے اس کابھی قرآن میں کئی جگہ تذکرہ موجود ہے۔۔ یرمیاہ نبی کے حالات پہلے تو اتنے واضح نہیں ہیں   جس کی وجہ مصنف کا انکو اپنی مرضی کے انداز سے بیان کرنا آسان ہے ،دوسرا ان کے دور میں یہود  کسی   بادشاہ  کے ظلم کا شکار تھے ہی نہیں اس لیے  ان  کی تعلیمات میں  ایسی  بات کا تذکرہ  بھی  نہیں ہے جو سپرپاور کے خلاف کھڑے ہونے پر ابھارتی ہو ۔3. مصنف نے اس ناول پر  کیے گئے اعتراضات کے جواب میں لکھی گئی   اپنی  ایک  کتاب 'تیسری روشنی' میں لکھا کہ   مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی رحمہ  اللہ نے بھی قصص القرآن میں  یرمیاہ نبی کے واقع کو اسی طرح  بیان فرمایا ہے۔آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا   تاریخ انبیاء پر  مستند ترین سمجھی جانے والی اس کتاب    میں بھی   کیا واقعی ایسے ہی لکھا ہے کہ  یہود  پر ذلت اس لیے مسلط ہوئی تھی کہ انہوں نےباج گزاری کے دور میں    اپنی اصلاح کرنے کے بجائے  بخت نصر کے خلاف جہاد شروع کردیا تھا  ؟ مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی  رحمہ اللہ نے بنی اسرائیل کے اس دور کا تذکرہ بیس سے زائد صفحات میں کیا ہے،  اسکا خلاصہ ملاحظہ فرمائیں: سورۃ  بنی اسرائیل کے شروع میں  بتایا گیا ہے کہ  یہود کی دونوں دفعہ شرانگیزیوں پر بصورت عذاب  جابر و قاہر بادشاہوں بخت نصر اور طیطوس کو مسلط کیا گیا انہوں نے دونوں مرتبہ یروشلم کو تباہ برباد کیا ۔ حضرت داؤد وسلیمان علیہ السلام کے بعد پہلی مرتبہ  'جب  انکی مذہبی اور اخلاقی پستی کا یہ عالم تھا کہ جھوٹ فریب  ظلم و سرکشی اور فساد وفتنہ انگیزی ا انکا شعار بن گئے تھے  حتی کہ شرک و بت برستی تک ان میں رچ گئی تھی اللہ نے اسکے باوجود ان  کو مہلت دی،  نبی بھیجنے   کا سلسلہ جاری  رکھا  مگر یہود  انکی دعوت پر ایمان لانے  کے بجائے انتہائی شقاوت و بدبختی پر اتر آئے اور خدا کے انہی معصوم پیغمبروں  کو قتل کرنا شروع کردیا ۔ یرمیاہ نبی کی کتاب اسکا تذکرہ کرتی ہے  " اور ایسا ہوا کہ جب یرمیاہ ساری باتیں کہہ چکا جو خداوند نے اسے حکم دیا تھا کہ ساری قوم سے کہے تب کاہنوں اور نبیوں ( جھوٹے مدعیان نبوت) اور ساری قوم نے اسکو پکڑا اور  کہا کہ تو یقینا قتل کیا جائے ۔(باب 21 آیات1)تب یکایک  غیرت حق نے قہر اور بطش شدید کی شکل اختیار کرلی اور اسکا زبردست ہاتھ انکی جانب پاداش عمل کے لئے بڑھا ۔ چنانچہ  بابل  کا ایک جابر حاکم  بنو کدزار  عرب اسکو بخت نصر کہتے تھے انکی جانب بڑھا، جب یہوداہ کی سرزمین کے باشندوں نے یہ سنا تو انکے ہوش و حواس جاتے رہے اور بادشاہ سے لے کر رعایا تک سب کو موت کا نقشہ نظر آنے لگا اور  اب وہ سمجھے کہ یسعیاہ اور یرمیاہ نے ہماری بدکاریوں پر متنبہ کرتے ہوئے جس سزا اور عذاب الہی کا ذکر کیاتھا اور جس سے ناراض ہوکر  ہم نے یرمیاہ کو قید  خانہ میں ڈال رکھا ہے وہ وقت آپہنچا  مگر شومی قسمت انہوں نے اس کے باوجود  نہ  نبی کو قید خانہ سے نکالا  نہ اللہ  طرف رجوع کرتے ہوئے اپنے گناہوں پر توبہ  کی  بلکہ  اپنی مادی طاقت ، اسباب ووسائل پر بھروسہ کرتے ہوئے شاہ بابل کی مقاومت کے لیے آمادہ ہوگئے پھر  نتیجتا انکو تباہ وبرباد کردیا گیا ۔ اس ساے خلاصے سے   یہ   بات بالکل واضح  ہے جو ہم نے اوپر بھی بیان کی کہ یہود نہ بخت نصر کے باج گزار تھے اور نہ   یرمیاہ نے انہیں بخت نصر کے خلاف بغاوت کرنے  سے روکا تھا ، بلکہ بنی اسرائیل  پہلے سے مسلسل فساد کے مرتکب تھے جن کی انکو ظالم بادشاہ مسلط کرکے سزا دی گئی تھی،  جیسا کہ  مشہور مفسرقاضی بیضاوی رحمہ اللہ  یہود کی شرانگیزیوں کے متعلق لکھتے  ہیں  کہ ان پر یہ تباہیاں اس وقت لائی گئیں جبکہ وہ اپنی شرات  میں اس درجہ بڑھ گئے تھے کہ انبیاء علیہم السلام کے قتل سے بھی باز نہیں  رہتے تھے ۔ (بیضاوی سورۃ السری)صفحہ نمبر 199 "میں  اسی سوچ میں  تھا کہ صالح نے غالباً میرے خیالات پڑھ کر کہا:’’ٹھیک یہی کام تمھارے زمانے میں  تمھاری قوم کررہی تھی۔ وہ علم، تعلیم، ایمان، اخلاق میں  بدترین پستی کا شکار تھی، مگر اس کے نام نہاد رہنما اسے یہی سمجھاتے رہے کہ ساری خرابی وقت کی سپر پاورز اور ان کی سازشوں کی وجہ سے ہے۔ ایمان و اخلاق کی اصلاح کے بجائے سیاسی غلبہ اور اقتدار ہی ان کی منزل بن گیا۔ ملاوٹ، کرپشن، ناجائز منافع خوری، منافقت اور شرک قوم کے اصل مسائل تھے۔ ختم نبوت کے بعد ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ دنیا بھر میں  اسلام کا پیغام پہنچاتے، مگر ان لوگوں نے قوم کی اصلاح اور غیر مسلموں کو اسلام کا پیغام پہنچانے کے بجائے غیرمسلموں سے نفرت کو اپنا وطیرہ بنالیا۔ ان کے خلاف جنگ و جدل کا محاذ کھول دیا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے بنی اسرائیل نے اپنی اصلاح کرنے کے بجائے بخت نصر کے خلاف محاذ کھولا تھا۔ چنانچہ بنی اسرائیل کی طرح انھوں نے بھی اس عمل کا برا نتیجہ بھگت لیا۔‘‘ناول کا ہیرو 'عبداللہ' ایک فلسطینی ہے   اور فلسطینی  مسلمان  پچھلے پچاس،  ساٹھ  سالوں سے اسرئیل کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں، ناول میں  یرمیاہ، یہود اور بخت نصر   کی خودساختہ داستان بیان کرنے کے بعد عبداللہ اورقارئین کو  یہ سمجھایا جارہا ہے کہ   حملہ  آور ظالم کے خلاف اٹھنا جہاد نہیں  بغاوت ہے۔  مصنف اور انکے شیخ اکبر  نے  اپنی دوسری کتابوں میں بھی ایسی کسی حرکت کو اپنے جد امجدسرسید احمد خان کی طرح بغاوت ہی لکھا ہے۔ مصنف کا یہاں بھی  سارا زور اسی پر ہے کہ انہیں اسرائیل کے خلاف جہاد نہیں کرنا چاہیے ،  چاہے وہ انکی عورتوں کی بے حرمتی   کریں  یا  انکے  بچوں، بوڑھوں کو ذبح کریں ،  انکی بستیاں اجاڑ  دی جائیں یا  انہیں ویرانوں میں یا کیمپوں میں رہنے پر مجبور کردیا جائے    اور  پھر انہی کیمپوں پر ٹینک چڑھا دیے جائیں  ،  انکو بس نماز روزہ میں لگے رہنا چاہیے ، دعوت کا کام ہی کرتے رہنا چاہیے ،   یہی اصل   شہادت ہے ، ظلم کے خلاف بالکل  آواز نہیں اٹھانی چاہیے کیونکہ یرمیاہ نبی  نے اس سے منع کیا تھا اور یہود کو ایسا کرنے  کی ہی سزا ملی تھی۔ ۔ ۔حالانکہ   اس دور کےیہود کا  موجودہ دور  میں مسلمانوں کے مختلف ممالک  فلسطین ،  افغانستان،عراق وغیرہ میں اپنے اوپر حملہ  دشمن  کے خلاف برسرپیکار جہادی تحریکوں کے ساتھ موازنہ کسی صورت  بنتا ہی نہیں ،  وہ بت پرست ، نبی کو قید میں رکھ کر  میدان میں آئے  تھے ،  جبکہ موجودہ فلسطینی یا افغانی جہادی لوگ ایسی کسی برائی کا شکار نہیں۔۔ سوال یہ ہے کہ کیا  فلسطینی، عراقی یا افغانی  قوم یہود کی طرح کی تمام برائیوں کا شکار ہے؟؟  یہ  اس لیے پس رہے ہیں  کہ انہوں نےیرمیاہ کے دور کے  یہود کی طرح باطل کے خلاف جہاد  شروع کیا ہوا ہے ؟ ؟؟ کیا حملہ آور دشمن کے خلاف بھی  جہاد فرض نہیں ؟؟  کیا  چپ کرکے مارکھاتے رہنا مسئلہ کا حل ہے؟ کیا یاسرعرفات کے اس سلسلے کے  کمپرومائزز نے فلسطینی قوم کو کوئی فائدہ دیا ؟ ایک بات واضح کرتا چلوں   کہ   ہمیں اصلاح احوال کی دعوت دینے پر بالکل  کوئی اعتراض نہیں ہے  ، قارئین کو اصلاح احوال کی طرف سے متوجہ کرنا   اپنی جگہ بالکل درست  ہے، لیکن  اصلاحی دعوت کو آڑ بناتے ہوئے عالمی ظالموں ، بدمعاشوں  کے خلاف مزاحمت  کا خیال دل سے  نکالنے کی کوشش کرنا بالکل  غلط اور  انہی دہشت گردوں کی  مدد  کرنے اور انکی نمائندگی کرنے  کے مترادف ہے۔ اپنی اصلاح اور دعوت  کیساتھ   ضرورت کے وقت جہاد  لازم ملزوم  ہے  اسی سے ظالم  کے خلاف اللہ کی مدد آتی ہے۔   باطل  کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ  اس کے رنگ  ہر دور میں بدلتے ہیں ، اب یہ روشن خیال ، تجدد پسندطبقہ کے لوگ     ہمیں  اپنے مادی وسائل  پر اعتبار کرنے  اور سیاست، اسلحہ،  ٹیکنالوجی کی دوڑ وغیرہ  میں لگنے کے بجائے نماز روزہ، تبلیغ  کرنے کی دعوت دے رہے ہیں  حالانکہ   جب  ا مریکہ نے افغانستان پر حملہ  کیا تھا  تو جو لوگ رجوع الی اللہ اور جہاد کی بات کرتے تھے ، یہی   غامدی   مکتبہ فکر  کے لوگ  انکو طعنے دیتے تھے  اور یہ  دلیلیں دیتے نظر آتے تھے  کہ  ہمارے پاس امریکہ  کے برابر کی ٹیکنالوجی اور ہتھیار نہیں ، وہ ہمیں پتھر کے دور میں پہنچا دے گا، افغان طالبان بیوقوف ہیں جو ان وسائل کے بغیر جہاد کا نعرہ لگا کر سپرپاور سے ٹکر لے رہے ہیں ، پہلے ان جیسی دفاعی قوت  پیدا کرو پھر ان سے لڑو۔ ایک صاحب جو غامدی صاحب کے بہت پرانے پرستار ہیں  انہوں  نے ہمارے ساتھ اس مسئلہ پر کافی لمبی بحث بھی کی تھی جو یہاں موجود ہے ۔ریحان یوسفی عرف ابویحیی  صاحب نے   ناول میں   ناصرف  جہاد چاہے وہ دفاعی ہی  کیوں نہ ہو'کی   مذمت کی ہے      بلکہ جنت میں   شہداء کے  عام منصب پر بھی  صرف  انہیں دکھایا ہے  جو بس   لوگوں کو  دین کی دعوت  دیتے رہے۔ایک اور موقع پر صالح عبداللہ کی بیوی ناعمہ کو بتاتا ہے ۔" اب آخر  میں سارے انبیاء  اور شہداء پیش ہونگے"۔" کیا شہید وہ لوگ ہیں جو اللہ کی راہ  میں قتل ہوئے "؟ ناعمہ نے صالح سے سوال کیا: " نہیں وہ شہداء نہیں۔ وہ بھی بڑے اعلی اجر کے حقدار ہوئے ہیں ، مگر  یہ شہداء حق کی گواہی دینےو الے لوگ ہیں۔ یعنی انہوں نے انسانیت پر اللہ کے دین کی گواہی کے لیے اپنی زندگی وقف کردی تھی۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے انبیاء کے بعد انکی دعوت کو آگے پہنچایا۔" (ص :210) اسی طرح ایک اور جگہ حوض کوثر کے " وی آئی پی لاؤنج" میں انعام یافتہ لوگوں کا تذکرہ ہے، مگر اس میں سے قرآنی تصریح کے برخلاف شہداء کا ذکر سرے سے غائب کردیاگیاہے۔مصنف نے  بڑے طریقے سے دعوت اور جہاد کو مکس کرتے ہوئے مسئلہ  کو کنفیوز اور قارئین  کو گمراہ  کرنے کی کوشش کی ہے۔من گھڑت  نظریات :ناول میں  مذہب کے حوالے سے بھی  کئی متجددانہ   نظریات باتوں باتوں میں سادہ لوح قارئین کے دل ودماغ میں جاگزیں کیے گئے  ہیں ۔کسبی نبوت : ایک  جگہ مصنف  نوجوانوں کو بتاتے ہیں کہ  نبوت وہبی نہیں کسبی شے ہے۔ جن انسانوں نے اپنے اختیار سے امتحان کا سخت پرچہ چنا انہیں اللہ نے نبی بنا دیا، ملاحظہ فرمائیں  صالح کہتا ہے۔"اس میں  بھی خدا کی کریم ہستی نے کمال عنایت کا مظاہرہ کیا تھا۔ تم جانتے ہو کہ دنیا میں  سب کا امتحان یکساں نہیں ہوتا۔ یہ امتحان بھی اس روز ہر شخص نے اپنی مرضی سے چن لیا تھا۔" پھر اس نے اس طویل گفتگو کا خلاصہ کرتے ہوئے کہا:’’اصل اصول جوتمام اقسام کے گروہوں میں کام کررہا ہے وہ ایک ہی ہے۔ زیادہ رہنمائی، زیادہ سخت حساب کتاب اور زیادہ بڑی سزا جزا۔ کم رہنمائی، ہلکا حساب کتاب، کم سزا جزا۔ مگر کسی انسان کا تعلق کس گروہ سے ہے اس کا انتخاب انسانوں نے خود کیا ہے،اللہ تعالیٰ نے نہیں"۔( ص:81)یہ   اجماع امت کے خلاف ایک ایسا گمراہ کن نظریہ ہے جو عقیدہ رسالت کی  بنیاد ڈھا دیتا ہے۔ تقریبا یہی  وہ قادیانی  گمراہ کن نظریہ ہے  جس کے مطابق مرزا قادیانی تو  اپنی ریاضت اور محنت سے نبی بن گیا  اور عمر اور ابوبکر نہیں بن سکے۔سلف صالحین   کی پیروی کی مخالفت:  کئی جگہ کتاب کے مکالموں میں نوجوانوں کو مسلک پرستی ، فرقہ پرستی کی مذمت کی  آڑ میں سلف صالحین  سے مستغنی ہو کر براہ راست خداپرستی کی ترغیب دی گئی ہے۔ایک موقع پر (معاذ اللہ) ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ناول کے ہیرو  عبداللہ کو وجہ  بتاتے ہیں کہ  اسے  ہی اسکے  زمانے کے تمام لوگوں میں  بلند درجہ  کیسے ملا؟" دیکھو عبداللہ ! اس مجمع میں ہر شخص کا انتخاب اللہ تعالی نے کیا ہے۔ جانتے ہو  کہ اس کے نزدیک انتخاب کا معیار کیا ہے؟" میں خاموشی سے ان کی شکل دیکھنے لگا۔ انہوں نے اپنے سوال کا خود ہی جواب دیا۔"تعصبات ، جذبات اور خواہشات سے بلند ہوکر جس شخص نے حق کو اپنا مسئلہ بنالیا  اور توحید و آخرت  کو اپنی زندگی کا مشن بنالیا  وہی اللہ کے نزدیک اس شہادت کے کام  کے  سب سے ذیادہ حقدار ہیں ۔ دیکھو تمہارے زمانے کے مذہبی لوگ خواہشات سے تو شاید بلند ہوگئے تھے ، مگر  ان کی اکثریت تعصبات اور جذبات سے بلند نہیں ہوسکی۔ لوگ مختلف فرقوں اور مسالک کے اسیر تھے ۔(ص:151)فرقہ واریت کی نفی کرنا ٹھیک ہے لیکن  مصنف نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ذریعے امت مسلمہ کے اجماعی فقہی مسالک   کے پیروکاروں کو تعصبات،  جذبات    اور خواہشات  میں پھنسے ہوئے لوگ کہا  ہے   اور ان   سے بالاتر ہوکر اپنے طور پر حق کو اپنانے کی فضیلت سنائی ہے ۔۔ اس بات  پر کیے گئے کسی کے اعتراض  کے جواب میں مصنف اپنی کتاب  تیسری روشنی  صفحہ نمبر 74 پر لکھتے ہیں  کہ اس میں سلف صالحین سے تعلق  کی نفی نہیں کی گئی ۔اب شاید  امام ابو حنیفہ ، امام مالک، امام احمد بن حنبل، امام شافعی  یا تو  مصنف کے نزدیک سلف صالحین میں شامل ہی نہیں ہیں یا     ان سے اتنا ہی تعلق رکھنے کی تلقین کی جارہی ہے جتنا مصنف اور اسکے شیخ اکبر  غامدی صاحب  کا ہے، صاحب  ایک جگہ لکھتے ہیں   کہ ہم لوگ تقلید (سلف صالحین کی پیروی)کے قائل نہیں، دین پر براہ راست غور کرتے ہیں اور قران و سنت کے علاوہ اخلاقی اصولوں کی روشنی میں کسی بھی مسئلہ پر غور اور مکمل احاطہ کے بعد رائے قائم کرتے ہیں، اسی طرح ایک  اور جگہ لکھتے ہیں  اجتہاد کے کوئی شرائط نہیں ہیں، لوگوں کو اجتہاد کرنا چاہیے، ان میں سے ایک غلطی کرے گا تو دوسرے کی تنقید اسے درست کر دے گی۔!!!جدید جنتی معاشرت و اخلاقیات:ناول کے مصنف کا  دعوی ہے کہ یہ ناول قرآن و حدیث کی  روشنی میں لکھا گیا  ہے  جبکہ حقیقت میں   ناول  میں ایک جگہ بھی جنتیوں  کے طرز عمل، اخلاق اور  اٹھنے بیٹھنے  کے متعلق  قرآن و حدیث کے بیان  سے  مدد نہیں لی گئی ، ہر  جگہ غیر سنجیدہ اور وقار کے منافی عادات و حرکات جنتیوں سے منسوب کی گئی ہیں۔ ناول میں بیان کی گئی جنتیوں کی معاشرت کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ   اس میں سوئزلینڈ  ٹائپ کی  جنتیوں کے احوال بیان کیے گئے ہیں۔  ملاحظہ فرمائیں کیسی   چھچھوری حرکات  اہل جنت کی طرف منسوب کرکے  قارئین کو دنیا میں اس جنت  کا نمونہ قائم کرنے کی بین السطور ترغیب دی جارہی ہے۔ حشر کے میدان  میں سیٹیاں، تالیاں ، رقص :"جس وقت کوئی شخص پیش ہوتا، اس کے زمانے کے سارے حالات، اس کے مخاطبین کی تفصیلات، لوگوں کا ردعمل اور اس کی جدوجہد ہر چیز کو تفصیل سے بیان کیا جاتا۔ سامعین یہ سب سنتے اور اسے داد دیتے۔ آخر میں  جب اس کی کامیابی اور سرفرازی کا اعلان ہوتا تو مرحبا اور ماشاء اللہ کے نعروں سے فضا گونج اٹھتی۔ اہل جنت تالیاں بجاتے، بعض اٹھ کر رقص کرنے لگتے اور بعض سیٹیاں اور چیخیں مار کر اپنی خوشی کا اظہار کرتے۔"غور کیجیے ! سابقین اولین اور انعام یافتہ مقربین کی محفل اور اس میں تالیاں، رقص، سیٹیاں اور چیخیں..!!! ایسا محسوس ہوتا ہے کہ  حشر کا میدان نہیں کسی  کالج  کی تقسیم انعامات کی تقریب منظر ہے ۔نا محرم لڑکیوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کرنا :۔ صالح نوجوان  جابجاغیر محرم لڑکیوں  کے ساتھ مذاق کرتااور  گپیں مارتا نظر آتاہے۔ ملاحظہ فرمایئے:''میں اسی سوچ میں تھا کہ نحور نے میر ی بات کاجواب دیتے ہوئے کہا : '' ان شاء اللہ ان سے بھی جلد ملاقات ہوجائے گی، مگر سرد ست تو میں آپ کسی اورسے ملواناچاہتاہوں ''۔ یہ کہتے ہوئے وہ مجھ سے الگ ہوئے اورخیمے کی طرف رخ کر کے کسی کو آواز دی : ''ذراباہر آنا ! دیکھو تو تم سے کون ملنے آیاہے ؟''نحور کے آواز کے ساتھ ایک لڑکی خیمے سے نکل کر ان کے برابر آکھڑی ہوئی۔ یہ لڑکی اپنے حلیے سے کوئی شہزادی اور شکل وصور ت میں پر ستان کی کوئی پری لگ رہی تھی۔ (ص:62)میں  شائستہ کی سمت سے اس کے قریب پہنچا اور زور سے کہا:’’اے لڑکی! چلو ہمارے ساتھ۔ ہم تمھیں ایک نامحرم مرد کے ساتھ گھومنے پھرنے کے جرم میں  گرفتار کرتے ہیں۔‘‘شائستہ میری بلند آواز اور سخت لہجے سے ایک دم گھبراکر پلٹی۔ تاہم نحور پر میری بات کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ انھوں نے اطمینان کے ساتھ مجھے دیکھا اور کہا:’’پھر تو مجھے بھی گرفتار کرلیجیے۔ میں  بھی شریک جرم ہوں۔‘‘، یہ کہتے ہوئے انہوں نے دونوں ہاتھ آگے پھیلادیے۔ پھر ہنستے ہوئے کہا:’’مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہاں نہ جیل ہے اور نہ سزا دینے کی جگہ۔   ـ(صفحہ 194) ناول کا ہیرو (جو صدیقین میں سے ہے) اور انبیاء کے صحابہ کے   جگہ جگہ  نامحرم لڑکیوں کیساتھ  اختلاط ، آزادانہ فقرہ بازی کے ایسے ایسے  مناظر دکھائے گئے ہیں  کہ قاری کو  محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ آخرت کامنظر   نہیں  روشن خیالوں کے کسی فنکشن  کا منظر ہے  یا  کسی رومانٹک انڈین فلم کا  کوئی سین چل رہا ہے۔ قاری کے جنسی جذبات کو مشتعل کرنے  کے لیے وہی رومانوی ناولوں ،  کہانیوں اور ڈراموں  والا انداز جنت کے ان مناظر میں بھی اختیار کیا گیا اورلیلی مجنوں طرز  کے  بازاری   عشق  کو قرآن و حدیث کے نام پر جنتیوں کے ذمے لگا دیا گیا ہے ۔ مخلوط محافل اورموسیقی :۔ پردے سے مستثنی قرار دیے جانے کے بعد مخلوط محفلوں اور موسیقی کے جواز کی باری آنی چاہیے۔ مصنف نے باتوں باتوں میں موسیقی اورمخلوط محفلوں کے حوالے سے محتاط ذہن سازی کی ہے، اس کی داد نہ دیناناانصافی ہوگی۔ ''تاروں کی دودھیار وشنی اورٹھنڈی ہوامیں کھانے کی اشتہا انگیز خوشبو نے فضا کوبے حد مؤثر بنا رکھا تھا۔ بازار کی طرح یہاں بھی پس منظر میں دھیمی سی موسیقی چل رہی تھی۔ ۔ (ص:255)عبداللہ جنت کے بازار میں دھیمی دھیمی موسیقی کا نقشہ یوں بیان کرتاہے:''وسیع وعریض رقبے پر پھیلاہو ا یہ بازار اپنے اندر ہر قسم کی دکانیں لیے ہوئے تھا۔ ملبوسات، فیشن، جوتے، آرائش، تحائف اورنہ جانے کتنی ہی دیگر چیزوں کی دکانیں یہاں تھیں۔ ہر دکان اتنی بڑی تھی کہ کئی گھنٹوں میں بھی نہیں دیکھی جاسکتی تھی۔ دنیاکابڑے سے بڑا شاپنگ سنٹر بھی ان دکانوں کے سامنے کچھ نہ تھا۔ لیکن یہاں کی اصل کشش یہ دکانیں نہیں بلکہ وہ مسحو ر کن ماحول تھا جو ہر سوچھایاہواتھا۔ دل ودماغ کو اپنی طرف کھینچتی چیزوں سے بھری دکانیں، ان میں جگمگ جگمگ کرتی روشنیاں، معطّر فضا، خنک ہو ا، دھیمی دھیمی موسیقی، خوبصورت فوّارے، رنگ ونور کی ہزار ہاصناعیاں، طرح طرح کے دیگر ڈیزائنز، دلکش مناظر اورحسین ترین لوگوں کے چہل پہل، سب مل کر ایک انتہائی متأثر کن ماحول پیداکررہے تھے۔'' (ص:256)غور فرمائیے! دھیمی دھیمی موسیقی، دلکش مناظر اورحسین ترین لوگوں سے بھر ےمتأثر کن ماحول کی منظر نگار ی۔۔!! اگر قرآن وحدیث میں سرچ کی جائے تو  جنتیوں کی تہذیب و اخلاق پر سینکڑوں آیات اور احادیث موجود ہیں،   ان سب کو چھوڑ  کر ناول  نگار نے اس ناول میں  اپنی پسند یدہ  روشن خیال اور جدید مغربی تہذیب و معاشرت  کو جنتی  معاشرت کے طور پر پیش کیا ہے، یہ بات بالکل واضح ہے  لیکن  پھر بھی  اس کے  ساتھ    اس بات کا دعوی کہ یہ ناول  قرآن و حدیث کی روشنی میں لکھا گیا ہے شاید مغربی معاشرت کو  قرآن و حدیث سے جنتی  معاشرت ثابت کرنے کی کوشش ہے۔ایک بات واضح کرتا چلوں  کہ  ہمیں جنت میں موسیقی  کے تذکرے پر اعتراض ہے اور نہ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ جنت میں موسیقی نہیں ہوگی  اور  مرد عورت شرعی پردہ میں پھریں گے،  بلکہ ہمیں اعتراض اس  دنیاوی طرز کی بے حیاء معاشرت ،  مخلوط منظر کشی، موسیقی ، ہوٹنگ اور بکواس پر ہےجسکو آخرت و جنت  کے ذکر میں بیان کیا گیا ہے۔۔ !!   اس کا جنت سے کیا تعلق ہے اور دنیا   کی بے پردگی،  موسیقی، مخلوط محفلیں اور ان میں ہونے والی ہلڑ بازی ،  مغربی طرز کے بازار وں ،  شاپنگ مالوں اور  دوکانوں کے   نقشے دکھا کر جنت میں  بھی یہی کچھ ثابت کرنے کا آخر  مقصد کیا ہے؟ ان ناول نگاروں سے بہتر تووہ غیر مسلم   ناول نگار ہیں جن کے ناولوں میں مذہب  کا تذکرہ نہیں لیکن انکے ذاتی  خلوص ،  سچائی  اور وجدان نے  انکی تحریروں میں وہ رنگ بھر دیا ہے کہ قاری   انکو ایک مذہبی کتاب سمجھ کر پڑھنے لگتا ہے۔انکے ناول  سوسائٹی  میں مذہب کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے  کے بجائے     لوگوں کو ناصرف مذہب اور روحانیت کی جانب راغب کرتے ہیں  بلکہ  انکی   روحانیت کو مزید ترقی  بھی دیتے ہیں۔

غامدی صاحب کے چند منفرد اجتہادات

گزشتہ تحریر لکھتے ہوئے  ہم نے یہ ارادہ کیا تھا   کہ اس میں غامدی صاحب کے تمام بڑے اجتہادات و نظریات پر بات کرتے ہوئے اس موضوع  کو کلوز کردیں گے ،  لیکن  حیات و نزول مسیح  کے  مسئلہ کی وضاحت  میں ہی  تحریر اتنی طویل ہوگئی ہے کہ انکے باقی نظریات پر  تبصرے کی اس تحریر میں گنجائش  ہی نہ  رہی،   اپنی اس تحریر میں ہم باقی نظریات پر مختصر تبصرہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس سے پہلے ہم دو  تحاریر میں غامدی صاحب کی سیرت اور علمی  مقام ومرتبہ پر اظہار خیال کرچکے ہیں ۔ جناب   کے اس مخصوص خاندانی  وعلمی  پس منظر   کیوجہ سے انکی   دینی تشریحات  میں جو  نکھار آیا اور اجتہاد و تحقیق   کے  جو  نمونے سامنے آئے ہیں وہ ایسے ہیں کہ بڑے بڑے فقہاء کو  حیران کردیں۔  اگر غامدی صاحب کی  تمام تر  دینی کوششوں کو دیکھ کر انداز لگانے کی کوشش کی جائے تو یہی بات سامنے آتی ہے ( بقول ایک عالم ) جناب  کے نزدیک تجدیددین کا مفہوم بس اتنا ہی ہے کہ  متفقہ ، مروج ومعروف  مسائل کو  عقل اور روح عصر سے متصادم قرار دے کر اپنی محققانہ علمیت کا ڈھنڈورا پیٹا جائے،  امت جن مسائل میں متفق ہے ان  میں بھی  اختلافی دراڑ یں پیدا کردی جائیں۔ مختلف  حلقہ ہائے فکر ونظر اسلامی سے ہٹ  کر ایک نئی راہ نکالنے اور منفرد نظر آنے  کا معاملہ تو ان کی خاص ضرورت ہے،  تمام نصوص ،  معاملات او رنقطہ ہائے نظر سے خورد بینی نگاہ کے ساتھ ایسے پہلو یا گوشے نکالتے ہیں کہ ایک متوسط قاری یہ تاثر لے  لیتا  ہے کہ  شاید وقت کا کوئی بڑا مجتہد پیدا ہوا ہے جو عام سی باتوں میں ایسے ایسے لطیف نکتے نکالتا ہے کہ سر پھر جاتا ہےمگر اہل علم وتحقیق اگر بغور تجزیہ کریں تو تفرد و مکر کے سوا کچھ نظر نہیں آتا ،   تضاد اتنا ہے کہ    اپنے ایک موقف کے لیے قرآن و حدیث و فقہاء کے اقوال کی ایک جگہ کوئی تشریح   کرتے ہیں ، اس پر ایک اپنا ایک اصولی موقف قائم کرتے ہیں  دوسری جگہ اسی کا انکار کرتے ہوئے مختلف تشریح کرجاتے ہیں ،  دیانت دار بھی بہت ہیں،  عموما اعتراضات کے تحریری جوابات اپنے شاگردوں کے نام سے دیتے ہیں تاکہ  انکے  غلط ثابت ہوجانے  پرانکی بے عزتی نہ ہو اور  خفت اٹھانی نہ پڑے  اور  اس میں سے کسی بات کو کوئی  انکے خلاف سند کے طور پر بھی  پیش نہ کرسکے (یہ اندازہ  معترضین  کے  علمی اعتراضات کے جوابات میں انکی سائیٹ سے پبلش ہونے والی   تحریروں سے لگایا گیا ہے)۔ غامدی صاحب کے اجتہاد  اور طریق  اجتہاد پر ہم یہاں تفصیلی تبصرہ پیش کرچکے ہیں ۔ اس تحریر میں  دین کے اس  جدید غامدی ایڈیشن  پر ہلکا پھلکا تبصرہ  ملاحظہ فرمائیں۔غامدی صاحب اور حدیث مقدمہ 1: غامدی صاحب اپنا ایک اصول حدیث لکھتے ہیں کہ ''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کے اخبار آحاد جنہیں بالعموم 'حدیث' کہا جاتا ہے، ان کے بارے میں ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ ان سے دین میں کسی عقیدہ و عمل کا ہرگز کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔" ( میزان :ص10،11 طبع دوم اپریل 2002ء، لاہور،  واصول و مبادی: ص11، طبع دوم فروری 2005ء، لاہور)غامدی صاحب کے نزدیک (1)حدیث صرف اخبار آحاد کا نام ہے۔(2) کسی حدیث سے دین کا کوئی عقیدہ ثابت نہیں ہوتا۔ (3)کسی حدیث سے دین کا کوئی عمل ثابت نہیں ہوتا۔پہلی بات  حدیث صرف اخبار آحاد کا نام نہیں بلکہ اس میں اخبار متواترہ بھی شامل ہیں ۔ یہ منکرین حدیث کی ایک دلیل  ہے کہ  احادیث کو خبر واحد کہہ کر یہ یقینی نہیں ، احادیث سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ جب  اخبار احاد کے نقل کرنے کے راستے متعدد ہوں اور انکی سندیں بھی درست ہوں اور انکی معارض احادیث بھی موجود نہ ہوں  تو یہ خبریں یقین کا فائدہ ہی دیتی ہیں ، جیسے حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کے متعلق احادیث۔دوسری بات  غامدی صاحب کے نزدیک  دین حدیث کے بغیر بھی مکمل ہے اس سے کوئی عقیدہ یا عمل ثابت نہیں ہوتا ، حدیث کے بغیر دین کا یہ تصور بھی صرف  منکرین حدیث کے ہاں پایا جاتا ہے۔ اہل اسلام کے ہاں  اسلام نام ہی قرآن و حدیث کے مجموعے کا ہے۔تیسری بات غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ حدیث سے دین کا کوئی عقیدہ ثابت نہیں ہوتا جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اسلام کے جو عقائد حدیث سے ثابت ہیں ، یہ  ان سب کے منکر ہیں ۔ جیسے تقدیر پر ایمان لانا ، قبر کا عذاب (صحیح بخاری:1372)قبر میں فرشتوں کا آنا اور میت سے سوال و جواب کرنا (صحیح بخاری:1338) ختم نبوت کا عقیدہ اور مدعی ٔ نبوت کا واجب القتل ہونا۔ (صحیح بخاری:3535،سنن ابی داود:4252)، عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر زندہ اُٹھایا جانا (رفع عیسی) ؛ اور اُن کا دوبارہ قیامت کے قریب دنیا میں تشریف لانا (نزولِ عیسیٰ ) (صحیح بخاری:2222) وغیرہ وغیرہ اس طرح کے مزید بہت سے مسلّمہ اسلامی عقائد ہیں جنکی وضاحت اور ثبوت  صرف حدیث ملتا ہے۔ اب اگر غامدی صاحب کے اس نظریے کو درست مان لیا جائے کہ حدیث سے دین کا کوئی عقیدہ ثابت نہیں ہوتا تو ہمیں بہت سے مسلمہ اسلامی عقائد کو ترک کرنا پڑے گا ۔چوتھی باتغامدی صاحب فرماتے ہیں کہ  حدیث سے دین کا کوئی عمل یا حکم ثابت نہیں ہوتا ،حالانکہ: شراب نوشی پر سزا(صحیح مسلم:1706)مردوں کے لئے داڑھی بڑھانا(صحیح بخاری:5893)عورتوں کے لئے خاص ایام میں نماز کا معاف ہونا(صحیح بخاری:306)مردوں کے لئے سونے کے استعمال کا حرام ہونا (سنن ترمذی:1720)مردوں کے لئے ریشم کا لباس پہننے کی ممانعت و حرمت (صحیح بخاری:5833)کسی مسلمان مرد کے لئے اپنی پھوپھی، بھتیجی یا خالہ ، بھانجی کو بیک وقت نکاح میں رکھنے کا حرام ہونا (صحیح بخاری:5109)نماز تراویح (صحیح بخاری:1147)مختلف قسم کے اموال پر زکوٰۃ کے نصابات وغیرہ جیسے  سینکڑوں دینی اعمال و احکامات صرف احادیث سے ہی  ثابت ہیں ۔مقدمہ2: غامدی صاحب اپنی کتاب 'میزان' میں لکھتے ہیں کہ: ''قرآن سے باہر کوئی وحی خفی یا جلی، یہاں تک کہ خدا کا وہ پیغمبر بھی جس پر یہ نازل ہوا ہے،اس کے کسی حکم کی تحدید و تخصیص یا اس میں کوئی ترمیم و تغیر نہیں کر سکتا۔ دین میں ہر چیز کے ردّ و قبول کا فیصلہ اس کی آیات بینات ہی کی روشنی میں ہو گا۔"( میزان: ص 25، طبع سوم مئی 2008ء لاہور)مزید لکھتے ہیں کہ:''حدیث سے قرآن کے نسخ اور اس کی تحدید و تخصیص کا یہ مسئلہ سوے فہم اور قلتِ تدبر کا نتیجہ ہے۔ اس طرح کا کوئی نسخ یا تحدید و تخصیص سرے سے واقع ہی نہیں ہوئی کہ اس سے قرآن کی یہ حیثیت کہ وہ میزان اور فرقان ہے، کسی لحاظ سے مشتبہ قرار پائے۔"(میزان: ص 35، طبع سوم مئی 2008ء لاہور)معلوم ہوا کہ غامدی صاحب کے نزدیک (1)دین میں ہر چیز کے ردّ و قبول کا فیصلہ صرف قرآن کی روشنی میں ہو گا۔ (2)حدیث کے ذریعے قرآن کے کسی حکم کی تحدید و تخصیص نہیں ہو سکتی۔(3)اگر قرآن کے کسی حکم میں حدیث سے تحدید و تخصیص مان لی جائے تو اس سے قرآن کا میزان اور فرقان ہونا مشتبہ اور مشکوک ہو جاتا ہے۔(1)غامدی صاحب کا یہ دعوی ہے کہ دین میں ہر چیز کے ردّ و قبول کا فیصلہ صرف قرآن کی آیات بینات کی روشنی میں ہو گاجبکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:''اے ايمان والو! اطاعت كرو الله کی اور  اطاعت كرو رسول كی اور ان كی جو تم میں سے اہل اختیار ہیں۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو'﴿ سورة النساء ٥٩﴾غامدی صاحب کے استاد مولانا امین احسن اصلاحی اس آیت کے تحت لکھتے ہیں :''رد إلی اللہ والرسول کا طریقہ یہ ہے کہ جب کسی امر میں شریعت کا حکم معلوم کرنا ہو تو پہلے کتاب اللہ کی طرف رجوع کرے۔ اگر اس میں نہ ملے تو نبی کی سنت کی طرف رجوع کرے۔ اگر اس میں نہ ملے تو پھر اس کے معلوم کرنے کا راستہ اجتہاد ہے۔"( تدبر قرآن: جلد 2، ص 325، طبع 1983ء لاہور)مولانا مزید لکھتے ہیں :'' آیت خود شہادت دے رہی ہے کہ اس کا تعلق مستقبل ہی سے ہے۔ ظاہر ہے کہ حضور کی وفات کے بعد آپ کی سنت ہی ہے جو آپ کے قائم مقام ہو سکتی ہے۔(2)غامدی صاحب کا دوسرا دعوی ہے کہ  حدیث کے ذریعے قرآن کے کسی حکم کی تحدید و تخصیص نہیں ہوتی۔ تحدید  کی دو مثالیں ملاحظہ فرمائیں:''اور جن بيويوں سے تمہیں سر کشی کا اندیشہ ہو اُنہیں سمجھاؤ، ان سے ہم بستری چھوڑ دو اور (اس پر نہ مانیں تو) اُنہیں مارو''...﴿ سورة النساءٰ٣٤﴾... ایک حدیث کے ذریعے قرآن کے اس مطلق حکم میں یہ تحدید ہو گئی ہے کہ صرف ایسی مار جائز ہے جو اتنی تکلیف دہ نہ ہو کہ اس سے کسی عضو کو کوئی نقصان پہنچ جائے۔''(صحیح مسلم حدیث: 2950) دلچسپ  بات یہ ہے کہ  غامدی صاحب اپنی کتاب 'میزان' اور 'قانونِ معاشرت' میں اس تحدید کو مانا ہے ،  لکھتے ہیں کہ: ''نبی نے اس کی حد 'غیر مبرح' کے الفاظ سے متعین فرمائی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایسی سزا نہ دی جائے جو کہ پائیدار اثر چھوڑے"(میزان: ص 423، طبع سوم 2008ء، لاہور؛ قانونِ معاشرت، ص 30، طبع اوّل، مئی 2005ء، لاہور)دین کے بارے میں ایسے کھلے تضاد کا حامل ہونا صرف غامدی صاحب ہی کو زیب دیتا ہے۔تحدید کی دوسری مثال:''اور وہ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ آپ کہیں وہ ایک گندگی ہے لہٰذا اس میں بیویوں سے الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں، اُن کے قریب نہ جاؤ۔''﴿ سورة البقرة ٢٢٢﴾...صحیح احادیث سے قرآن کے اس مطلق حکم کی تحدید ثابت ہوئی کہ ایسی حالت میں بیویوں سے صرف مباشرت منع ہے، اس کے سوا سب کچھ جائز ہے۔ اسی طرح حدیث کے ذریعے کسی قرآنی حکم میں تخصیص واقع ہونا اہل علم کے نزدیک ثابت ہے۔ اس کی پہلی مثال یہ ہے:''اللہ تمہارے اولاد کے بارے میں تمہیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ (وراثت میں) ایک لڑکے کو دو لڑکیوں کے برابر حصہ دیا جائے۔''﴿ سورة النساء ١١﴾...لیکن صحیح حدیث میں ہے کہ:'قاتل وارث نہیں ہو سکتا۔'' (سنن ابو داؤد، کتاب الدیات، حدیث 4564) اس لئے اگر کوئی بد بخت لڑکا اپنے باپ کو قتل کر دے گا تو مذکورہ حدیث کے حکم کے مطابق اپنے مقتول باپ کی میراث سے محروم ہو جائے گا۔تخصیص کی دوسری مثال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:''اور اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام ٹھہرایا ہے۔''﴿ سورة البقرٰة ٢٧٥﴾...مذکورہ آیت ہر طرح کی تجارت کو حلال ٹھہراتی نظر آتی  ہے،  لیکن صحیح بخاری میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے کہ"بے شک اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردہ جانور، خنزیر اور بتوں کی تجارت کو حرام قرار دیا ہے۔"(صحیح بخاری: کتاب البیوع، حدیث 2236) (3)غامدی صاحب لکھتے  ہیں کہ اگر حدیث سے کسی قرآن حکم کی تخصیص یا تحدید مان لی جائے تو اس سے قرآن کا میزان اور فرقان ہونا مشتبہ ہو جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ حدیث کے ذریعے قرآنی احکام میں تخصیص اور تحدید واقع ہونے سے قرآن مجید کا فرقان ہونا قطعا مشتبہ نہیں ہو جاتا بلکہ اس سے قرآن احکام کی وضاحت ہو جاتی ہے اور ان کا صحیح مدعا اور منشا معلوم ہو جاتا ہے جیسا کہ اوپر کی مثالوں سے واضح ہے۔غامدی صاحب  اپنی کتاب 'میزان' میں 'مبادئ تدبر حدیث' کے عنوان کے تحت حدیث کے متعلق اپنا موقف ذرا کھل کر لکھتے ہیں "نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کی روایتیں جو زیادہ تر اخبار آحاد کے طریقے پر نقل ہوئی ہیں اور جنہیں اصطلاح میں 'حدیث' کہا جاتاہے، ان کے بارے میں یہ دو باتیں ایسی واضح ہیں کہ کوئی صاحب علم انہیں ماننے سے انکار نہیں کرسکتا۔ایک یہ کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی حفاظت اور تبلیغ و اشاعت کے لئے کبھی کوئی اہتمام نہیں کیا۔دوسری یہ کہ ان سے جو علم حاصل ہوتا ہے، وہ کبھی علم یقین کے درجے تک نہیں پہنچتا۔(میزان: ص68، طبع اپریل 2002ئ، لاہور)یہی اصل میں  غامدی صاحب کے نزدیک حدیث کا مقام ہے(  ان دونوں باتوں  کا جواب ہم منکرین حدیث  کے متعلق تحریر میں دے چکے ہیں)۔اگر غور کیا جائے تو غامدی صاحب کا حدیث کے متعلق موقف مسٹر پرویز سے ذیادہ مختلف نہیں ہے، فرق صرف یہ ہے غامدی صاحب اس سے ذرا چالاک واقع ہوئے ہیں ، صریح انکار سے بچتے ہیں تاکہ احادیث کے انکار کی وجہ سے کفر کا فتوی نہ  لگ سکے اور اپنے موقف پر ضرورت کے وقت احادیث سے بھی دلیل اٹھائی جاسکے۔قرآن اور غامدی صاحب:گزشتہ  ایک تحریر میں ہم غامدی صاحب کی قرآن کی معنوی تحریف کی چند مثالیں پیش کرچکے مزید ایک تشریح ملاحظہ فرمائیں۔غامدى صاحب 'اسلام كے حدود و تعزيرات' پر خامہ سرائى كرتے ہوئے لكھتے ہيں: "موت كى سزا قرآن كى رو سے قتل اور فساد فى الارض كے سوا كسى جرم ميں نہيں دى جاسكتى- اللہ تعالىٰ نے پورى صراحت كے ساتھ فرمايا ہے كہ ان دو جرائم كو چهوڑ كر، فرد ہو يا حكومت، يہ حق كسى كوبهى حاصل نہيں ہے كہ وہ كسى شخص كى جان كے درپے ہو اور اسے قتل كرڈالے- (سورہ) مائدہ ميں ہے:"جس نے كسى كو قتل كيا، اس كے بغير كہ اس نے كسى كو قتل كيا ہو، يا زمين ميں فساد برپا كيا ہو، تو اس نے گويا سب انسانوں كو قتل كيا"( سورة المائدة ٣٢)... (ميزان صفحہ 283، طبع دوم،اپريل 2002ء، مطبوعہ لاہور)غامدى صاحب نے  مذكورہ آيت كا صرف اتنا حصہ لكها ہے جس سے ان كو اپنا خود ساختہ مفہوم نكالنے ميں كچھ آسانى پيدا ہوگئى ہے-مکمل آیت یوں ہے "اسى سبب سے ہم نے بنى اسرائيل كيلئے لكھ ديا كہ جس نے كسى كو بغير قصاص كے يا بغير زمين ميں فساد پهيلانے كى سزا كے قتل كيا تو گويا اس نے تمام انسانوں كو قتل كرڈالا اور جس نے كسى ايك شخص كى جان بچائى، اس نے گويا سارے انسانوں كى جان بچائى ۔۔۔-"آیت کا شروع کا حصہ  غائب کر دینے کی وجہ ایک یہ بھی تھی کہ ا س حصہ سے یہ واضح ہورہا تھا کہ  مذكورہ آيت كے مضمون كا تعلق بنى اسرائيل سے ہے ، اسلامى حدود و تعزيرات سے نہيں- اس آيت كو دوسرے تمام مفسرين كى طرح ان كے استاد 'امام' امين احسن اصلاحى بهى اسلامى حدود و تعزيرات كا ماخذ نہيں سمجهتے بلكہ انہوں نے بهى اس آيت كے مضمون كو يہوديوں سے متعلق قرار ديا ہے-(تدبر قرآن: جلد2/صفحہ 503)  غامدی صاحب نے اس حیلہ کے ذریعے صحيح احاديث (متواتر) سے ثابت شدہ دو شرعی حدود شادى شدہ زانى كے لئے رجم، یعنى سنگسارى كى سزا اور مرتد كيلئے موت كى سزا  'کے انکار کا بھی راستہ نکالا ہے- غامدی صاحب اور مسئلہ تكفیر:غامدی صاحب لکھتے ہیں "مسلمانوں کے کسی فرد کی تکفیر کا حق قرآن و سنت کی رو سے کسی داعی کو حاصل نہیں ہے، یہ ہوسکتا ہے کہ دین سے جہالت کی بنا پر مسلمانوں میں سے کوئی شخص کفر و شرک کا مرتکب ہو، لیکن وہ اگر اس کو کفر و شرک سمجھ کر خود اس کا اقرار نہیں کرتا تو اس کفرو شرک کی حقیقت تو بے شک اس پر واضح کی جائے گی… لیکن اس کی تکفیر کے لئے چونکہ اتمام حجت ضروری ہے، اس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ حق اب قیامت تک کسی فرد یا جماعت کو بھی حاصل نہیں رہا کہ وہ کسی شخص کو کافر قرار دے۔ (اسلام اور انتہا پسندی، ص:۲۱)سوال یہ ہے کہ کفر و شرک کے مرتکب کو کافر و مشرک کہنا کیونکر ممنوع ہے؟ کیا خلفاء کے دور میں مرتدین اور خوارج کے خلاف جو جنگیں کی گئی  ان میں صحابہ غلطی پر تھے ؟  شاید غامدی صاحب  کے خیال میں کسی کو از خود کافر بنانے کو تکفیر کہتے ہیں حالانکہ علماء کافر بناتے نہیں بتاتے ہیں،  صرف  کافرانہ اور مشرکانہ عقائد کی نشاندہی  کرتے ہیں۔ كیا غٖامدی صاحب  قرآن و سنت کی کوئی دلیل پیش فرماسكتے ہیں جس میں واضح طور پر فرمادیا گیا ہو کہ اسلام سے پھر کر مرتد ہونے اور کفر و شرک اختیار کرنے والے کو کافر نہ کہا جائے؟ اگر جواب نفی میں ہے اور یقینا نفی میں ہے تو اس کا یہ معنی نہیں کہ موصوف کفر و اسلام کی سرحدوں کو مٹانے اور مسلم و کافر کے فرق کو مٹانے کی ناپاک تحریک کے علم بردار ہیں۔کہیں ایسا تو نہیں کہ جناب غامدی صاحب قادیانیوں جیسے منکرین ختم نبوت ،سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین جیسے گستاخوں اور ملعونوں کو مسلمان باور کرانااور دکھانا چاہتے ہیں اور یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستانی پارلیمنٹ نے  علماء  کے مطالبے پر  قادیانیوں کو جو غیر مسلم اقلیت قرار دیا ہے، یہ فیصلہ دینا پارلیمنٹ کے دائرہ کار میں نہیں آتا تھا اس لیے یہ نہ  کافر ہیں اور  نہ اس فیصلہ کی کوئی شرعی یا قانونی حیثیت ہے۔ ۔!! ایک جگہ خود ایک فیصلہ سناتے ہیں  " تصوف ایک متوازی دین ہے"۔(برہان صفحہ 188) مطلب  تمام صوفیاء اور انکے پیروکار اسلام کے بجائے کسی اور دین کی پیروی کررہے ہیں اس لیے وہ  سب کافر  ہیں ! جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔رجم کی حد اور غامدی صاحب:اسلام میں شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا مقرر ہے جو کہ حد شرعی ہے  اس پر دس سے زائد صحیح احادیث موجود ہیں  جن سے  واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی شدہ آزاد زانیوں پر کوڑوں کی بجائے رجم کی سزانافذ کی۔ ۔ غامدی صاحب اسکے انکاری ہیں  اور جیسا کہ اوپر ذکر ہوا موت کی سزا   صرف  دو جرائم پر تسلیم کرتے ہیں ۔ غامدی صاحب کے نزدیک زانی چاہے شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ،دونوں صورتوں میں اس کی سزاسو کوڑے ہے،حالانکہ غامدی صاحب کا یہ موقف قرآن  ، احادیث ، اجماع امت ،فطرت صحیحہ کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ عقل کے بھی خلاف ہے۔ عقل میں آنے والی بات ہے کہ اگر کوئی غیر شادی شدہ عورت مرد زناکی مرتکب ہوتے ہیں تو اللہ کی نافرمانی اور معصیت کی وجہ سے ان کی ایک سزامقرر کی گئی ہے، لیکن اگر کوئی شادی شدہ عور ت یا مرد زنا کا مرتکب ہوتا ہے تواب صورت حال یہ ہے کہ ایک طرف تو اللہ کی نافرمانی ہوئی ہے اور دوسری طرف اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لیے جائز راستہ ہونے کے باوجود اللہ کی نافرمانی کی،تیسرایہ کہ خاوند یا بیوی کے حقوق تلف ہوئے اور جذبات مجروح ہوئے، چوتھا خاندان کا شیرازہ بکھرنے کی صورتیں جمع ہوئیں۔ ان مفسدات کو پہلی صورت سے کہیں زیادہ بعد حاصل ہے، اسی لیے دوسری صورت کی سزا پہلی سے مختلف اور سخت ہونی چاہیے تھی ۔ یہی وہ بنیادیں ہیں جن کی وجہ سے مغربی ممالک میں بھی ان دونوں قسم کے احوال کے لیے مختلف قوانین وضع کیے گئے ہیں جن کی سراسر بنیاد ہی عقل و مشاہدہ ہے۔ یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے اس لیے چند دن پہلے    انڈیا اور  پھر  پاکستان میں بھی ساری عوام زانیوں کو موت کی سزا دینے کا مطالبہ کررہی  تھی۔  انڈیا   کے ایک   ہندو  جج تک نے ان زانیوں پھانسی کی سزا سناتے ہوئے کہا میں ان لوگوں کے لیے موت سے کم کسی سزا کو جائز نہیں سمجھتا،  اور ہمارے یہ  الغامدی صاحب   خود کو اسلامی عالم سمجھتے ہیں اور  مستند احادیث  میں مذکورحضور کی سنائی ہوئی سزا کو ظلم قرار دیتے نظر آتے ہیں۔ غامدی صاحب اور مرتد کی سزا:نبى كريم صلی اللہ علیہ وسلم كی مستند احادیث كى بنا پر علماے امت كا مرتد كى سزا قتل ہونے پر اجماع ہے،  كتب ِاحاديث اور معتبر كتب ِتاريخ سے ثابت ہے كہ چاروں خلفاے راشدين نے اپنے اپنے دور ِخلافت ميں مرتدين كو ہميشہ قتل كى سزا دى ،  ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدوں کیخلاف جہاد مشہور ہے۔ غامدی صاحب کا  موقف ان سب سے بالکل الٹ ہے ۔ ایک جگہ  لکھتے  ہيں :"ارتداد كى سزا كا يہ مسئلہ محض ايك حديث كا مدعا نہ سمجهنے كى وجہ سے پيدا ہوا ہے۔ابن عباس كى روايت ہے۔ يہ حديث بخارى ميں اس طرح نقل ہوئى ہے من بدل دينه فاقتلوه ۔جو مسلمان اپنا دين بدل لے تو اسے قتل كردو “ہمارے فقہا اسے بالعموم ايك حكم قرار ديتے ہيں جس كا اطلاق ان كے نزديك ان سب لوگوں پر ہوتا ہے جو زمانہ رسالت سے لے كر قيامت تك اس زمين پر كہيں بهى اسلام كو چهوڑ كر كفر اختيار كريں گے۔ ان كى رائے كے مطابق ہر وہ مسلمان جو اپنى آزادانہ مرضى سے كفر اختياركرے گا، اسے اس حديث كى رو سے لازماً قتل كرديا جائے گا- اس معاملے ميں ان كے درميان اگر كوئى اختلاف ہے تو بس يہ كہ قتل سے پہلے اسے توبہ كى مہلت دى جائے گى يا نہيں اور اگر دى جائے گى تو اس كى مدت كيا ہونى چاہئے “. (برہان: صفحہ 127، مطبوعہ ستمبر 2001ء) مزيد فرماتے ہيں كہ "ليكن فقہا كى يہ رائے كسى طرح صحيح نہيں ہے- رسول اللہ كا يہ حكم تو بے شك ثابت ہے مگر ہمارے نزديك يہ كوئى حكم عام نہ تها بلكہ صرف انہى لوگوں كے ساتھ خاص تها جن ميں آپ كى بعثت ہوئى  "  مزيد لكھتے ہيں كہ"ہمارے فقہا كى غلطى يہ ہے كہ انہوں نے قرآن و سنت كے باہمى ربط سے اس حديث كا مدعا سمجهنے كے بجائے اسے عام ٹھہرا كر ہر مرتد كى سزا موت قرار دى اور اس طرح اسلام كے حدود و تعزيرات ميں ايك ايسى سزا كا اضافہ كردياجس كا وجود ہى اسلامى شريعت ميں ثابت نہيں ہے"۔(برہان صفحہ 143، طبع 2006)غامدی صاحب حدیث میں موجود حکم کو  حضور کے دور کیساتھ  خاص   قرار دے رہے ہیں حالانکہ  حدیث بالکل تخصیص نہیں کررہی ،  حدیث  میں لفظ  " مَنْ (جو ) استعمال ہوا ہے،  غامدی صاحب کی  لغت میں شاید یہ' خاص' کے  معنی میں اورصرف  مشرکین کے لیے  استعمال ہوتا ہو  ۔  لیکن ایک اور حدیث میں یہی لفظ آیا ہے "من غش فليس منا"جس نے دھوكہ ديا، وہ ہم ميں سے نہيں" کیا یہاں بھی  وعید  دهوكہ دينے والے سے  حضور کے دور کا  خاص فرد مراد ہے؟۔ غامدی صاحب اپنی کتاب میزان میں ایک اصول بیان کرتے ہیں جسکی وہ یہاں خلاف ورزی بھی کرگئے ہیں ۔ فرماتے ہیں "کسی حدیث کا مدعا متعین کرتے وقت اس باب کی تمام روایات پیش نظر رکھی جائیں ، بارہا ایسا ہوتا ہے کہ آدمی حدیث کا ایک مفہوم سمجھتا ہے لیکن اسی باب کی تمام روایتوں کا مطالعہ کیا جائے تو وہ مفہوم بالکل دوسری صورت میں نمایا ں ہوتا ہے۔(میزان، صفحہ 73، طبع دوئم، اصول و مبادی صفحہ 72، طبع فروری 2005) انکے اسی اصول کو دیکھتے ہوئے ہم انکے سامنے  دوسری صحیح حدیث پیش کرتے ہیں " حضرت عبداللہ بن مسعودسے روايت ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا: كسى مسلمان كا خون بہانا جائز نہيں جو يہ گواہى ديتا ہو كہ اللہ كے سوا كوئى معبود نہيں اور يہ كہ ميں اللہ كا رسول ہوں ، ما سوا تين صورتوں كے:ايك يہ كہ اس نے كسى كو قتل كيا ہو، دوسرى يہ كہ وہ شادى شدہ زانى ہو اور تيسرى يہ كہ وہ اپنا دين چهوڑ كر (مسلمانوں كى) جماعت سے الگ ہوجائے-" یہ حدیث نا صرف  انکے اس مرتد کی سزا بلکہ رجم  کی سز ا کے متعلق موقف  کو بھی  غلط ثابت کررہی ہے ۔اپنی سائیٹ پر یہاں  غامدی صاحب   کے ایک شاگرد نے ان کے موقف کے مطابق  ارتداد کے مسئلہ کو   سورة التوبہ كى جہاد کے متعلق آيت ٥ سے جوڑا ہے۔ علمى ديانت كا تقاضا تو يہ تها كہ مرتد  کے متعلق  حديث كو قرآن مجيد کی  ارتداد اور مرتدين  کے متعلق آیات سے جوڑا جاتامگر ايسا دانستہ طو رپر نہيں كيا گيا۔ بھلا مرتد كے بارے ميں مذكورہ ا حاديث کا  جہاد و قتال   کی اس آیت کیساتھ  کیا تعلق   ؟ "پهر جب حرام مہينے گزر جائيں تو ان مشركين كو جہاں پاؤقتل كردو اور اس كے لئے ان كو پكڑو اور ان كو گھيرو اور ہر گهات ميں ان كے لئے تاك لگاؤليكن اگر وہ كفر و شرك سے توبہ كرليں اور نماز كا اہتمام كريں اور زكوٰة ادا كرنے لگيں تو انہيں چهوڑ دو- بے شك اللہ مغفرت كرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے-"(سورة التوبہ :٥) کیا  یہاں مشرکین سے مراد  مرتدین ہیں؟  موصوف  نے اس آیت سے ارتداد کے مسئلہ کے لئے  معلوم نہیں کہاں سے حکم  نکال لیا؟ حالانکہ قرآن کی ہر آیت اور تقریبا ہر صحیح حدیث کا پس منظر موجود ہے اور   پھر آج تک  کسی ایک  صحابی، تابعی، مستندمفسر   کے  بھی   ارتداد کے متعلق اس حدیث کو جہاد و قتال کے متعلق اس  آیت کے ساتھ جوڑنے کا ثبوت موجود نہیں ۔ کیا  يہ بات زيادہ معقول اور قابل فہم  نہیں  كہ اس بارے ميں واضح احادیث و اقوال صحابہ اور  چودہ صديوں كے جملہ علماے اسلام كو غلط ٹھہرانے كى بجائے صرف اس نوزائيدہ عجمى شخص  کی من مانی تاویلات کو  غلط قرار دے  دياجائے ۔ ؟غامدی صاحب اور شرعی پردہ:عور ت کے پردے کے بارے میں جناب جاوید احمدغامدی صاحب کا کوئی ایک موقف نہیں ہے بلکہ وہ وقت اور حالات کے مطابق اپنا موقف بدلتے رہتے ہیں :کبھی فرماتے ہیں کہ عورت کے لئے چادر، برقعے، دوپٹے اور اوڑھنی کا تعلق دورنبوی کی عرب تہذیب و تمدن سے ہے اور اسلام میں ان کے بارے میں کوئی شرعی حکم موجود نہیں ہے۔کبھی ارشاد ہوتا ہے کہ سورة الاحزاب کی آیت 56 ... جس میں ازواجِ مطہرات، بناتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور عام مسلمان خواتین کو جلباب یعنی بڑی چادر اوڑھ کر اور اس کا کچھ حصہ چہرے پر لٹکا کر گھر سے باہر نکلنے کا حکم ہے... یہ حکم ایک عارضی حکم تھا اور ایک وقتی تدبیر تھی جو مسلم خواتین کو منافقین اور یہودیوں کی طرف سے چھیڑنے اور ایذا پہنچانے سے بچانے کے لئے اختیار کی گئی تھی۔ یہ قرآن کا مستقل حکم نہیں تھا جو بعد میں آنیوالی مسلمان خواتین پر بھی لاگو ہو۔کبھی فرماتے ہیں کہ حجاب کا تعلق صرف ازواجِ مطہرات کے ساتھ خاص تھا۔۔قرآن و حدیث  میں تو پردہ کے متعلق واضح احکامات موجود ہیں اور  ان پر سینکڑون کتابیں اور آرٹیکلز انٹرنیٹ پر بھی موجود ہیں ۔  ہم انکے بجائے غامدی صاحب  کے  استاد اور امام امین احسن اصلاحی صاحب  کا اس بارے میں موقف پیش کئے دیتے ہیں جنکے علمی مرتبہ کے متعلق  غامدی صاحب خود  ایک جگہ لکھتے ہیں کہ باقی علماء  کے مقابلے میں     امین احسن اور ان کے استاد حمیدالدین فراہی کا درجہ  وہی ہے کہغالب نکتہ داں سے کیا نسبت   خاک کو آسماں سے کیا نسبت امین اصلاحی صاحب  سورہ احزاب کی آیت 59 کی تفسیر کرتے ہوئے آخر میں لکھتے ہیں "اس ٹکڑے (ذَٰلِكَ أَدْنَىٰٓ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ) سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ یہ ایک وقتی تدبیر تھی جو اشرار کے شر سے مسلمان خواتین کومحفوظ رکھنے کے لئے اختیار کی گئی اور اب اس کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اول تو احکام جتنے بھی نازل ہوئے ہیں ، سب محرکات کے تحت ہی نازل ہوئے ہیں لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ محرکات نہ ہوں تو وہ احکام کالعدم ہوجائیں ۔ دوسرے یہ کہ جن حالات میں یہ حکم دیا گیا تھا، کیا کوئی ذی ہوش یہ دعوی کرسکتا ہے کہ اس زمانے میں حالات کل کی نسبت ہزار درجہ زیادہ خراب ہیں ،البتہ حیا اور عفت کے وہ تصورات معدوم ہوگئے جن کی تعلیم قرآن نے دی تھی۔"( تدبرقرآن: جلد6، ص270) مزید لکھتے ہیں کہ ''قرآن نے اس جلباب (چادر) سے متعلق یہ ہدایت فرمائی کہ مسلمان خواتین گھروں سے باہر نکلیں تو اس کا کچھ حصہ اپنے اوپر لٹکا لیا کریں تاکہ چہرہ بھی فی الجملہ ڈھک جائے اور انہیں چلنے پھرنے میں بھی زحمت پیش نہ آئے۔ یہی 'جلباب' ہے جو ہمارے دیہاتوں کی شریف بوڑھیوں میں اب بھی رائج ہے اور اسی نے فیشن کی ترقی سے اب برقعہ کی شکل اختیار کرلی ہے۔ اس برقعہ کو اس زمانہ کے دل دادگان اگر تہذیب کے خلاف قرار دیتے ہیں تو دیں لیکن قرآن مجید میں اس کا حکم نہایت واضح الفاظ میں موجود ہے، جس کا انکار صرف وہی برخود لوگ کرسکتے ہیں جو خدا اوررسول سے زیادہ مہذب ہونے کے مدعی ہوں ۔"(  تدبرقرآن: جلد6، ص269)معلوم ہوا کہ دن رات اختلاف امت اور فرقہ واریت کو لعنت کہنےوالا اپنے استاد کے ساتھ بھی متفق نہیں ۔ مکتب فراہی کے  آپس میں اتنے اختلافات ہیں کہ  دونوں دو فرقے بنائے بیٹھے ہیں۔ ان  امت کو ایک  اسلام پر  جمع کرنے کے نام پر متفقہ مسائل میں  کنفیوزین پیدا کرنے والوں  نے  امت کو سوائے ذہنی خلفشار کے کچھ نہیں دیا۔قراء ات متواترہ  کا انکار:اپنی کتاب ' میزان ' میں لکھتے ہیں کہ ''یہ بالکل قطعی ہے کہ قرآن کی ایک ہی قراء ت ہے جو ہمارے مصاحف میں ثبت ہے۔ اس کے علاوہ اس کی جو قراء تیں تفسیروں میں لکھی ہوئی ہیں یا مدرسوں میں پڑھی اور پڑھائی جاتی ہیں، یا بعض علاقوں میں لوگوں نے اختیار کر رکھی ہیں، وہ سب اسی فتنۂ عجم کی باقیات ہیں جن کے اثرات سے ہمارے علوم کا کوئی شعبہ، افسوس ہے کہ محفوظ نہ رہ سکا۔ "( میزان:صفحہ 32، طبع دوم، اپریل 2002ء)حقیقت  میں  قراء اتِ متواترہ کا یہ اختلاف دنیا کی ہر زبان کی طرح تلفظ اور لہجے کا اختلاف ہے۔ ان سے قرآنِ مجید میں کوئی ایسا ردّ و بدل نہیں ہوجاتا جس سے اس کے معنی اور مفہوم تبدیل ہوجائیں یا حلال حرام ہوجائے بلکہ اس کے باوجود بھی قرآن قرآن ہی رہتا ہے اور اس کے نفس مضمون میں کسی قسم کا کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔خود ہماری اُردو زبان میں اس کی مثالیں موجود ہیں: مثلا۔ '' پاکستان کے بارہ میں '' یا '' پاکستان کے بارے میں، 'ناپ تول'' یا ''ماپ تول۔'' خسر'' یا ''سسر''  اسی طرح انگلش کا لفظ Schedule ہے۔ اس کے دو تلفظ ' شیڈول' اور ' سکیجوئل' ہیں اور دونوں درست ہیں، Cosntitutionکو کانسٹی ٹیوشن او رکانسٹی چوشن بھی پڑھتے ہیں اور یہ بھی محض تلفظ اور لہجے کا فرق ہے، کوئی معنوی فرق نہیں ہے۔ بالکل یہی حال قرآنِ مجید کی مختلف قراء اتِ متواترہ کا ہےجو  صحابہ و تابعین سے تواتر کے ساتھ منقول ہیں ،تمام قدیم و جدید اہم تفاسیر میں ان قراء ات کو تسلیم کیا گیا ہے۔ عالم اسلام کی تمام بڑی دینی جامعات مثلاجامعہ ازہر اور جامعہ مدینہ منورہ وغیرہ کے نصاب میں یہ قراء ات شامل ہیں۔ عالم اسلام کے درجن بھر ممالک (جن میں مراکش، الجزائر، تیونس، لیبیا اور موریطانیہ وغیرہ شامل ہیں) میں روایت حفص کی بجائے روایت ورش  رائج ہے اور وہ اسی روایت ورش کے مطابق قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور اسے قرآن سمجھتے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ غامدی صاحب جس واحد ' روایت حفص ' کو ' قراء ت عامہ ' کا جعلی نام دے کر صحیح مانتے اور باقیوں کو عجم کا   فتنہ قرار دیتےہیں وہ دراصل امام عاصم بن ابی النجود رحمة اللہ علیہ کی قراء ت ہے جس کو امام ابو حفص نے ان سے روایت کیا ہے اور خود امام عاصم بن ابی النجود  بھی  عجمی تھے۔ حقیقت میں یہ قراتیں عجم کا فتنہ نہیں ہیں غامدی صاحب خود عجم کا فتنہ ہیں۔متفرق مسائل :ان چیدہ چیدہ مسائل کے علاوہ   مزید کئی  مسائل میں غامدی صاحب کا موقف امت مسلمہ کے متفقہ موقف کے بالکل الٹ ہےں،  یہ تحریر ان پر بھی  تبصرے کی متحمل نہیں ہوسکتی ، چند لفظوں میں انکو بیان کرکے کی کوشش کرتا ہوں ، غامدی صاحب  قادیانیوں کی طرح حیات و نزول عیسی کے منکر ہیں اس پر تبصرہ ہم یہاں کرچکے، قرآن کی متشابہ آیات کا ایک واضح اور قطعی مفہوم بیان کرتے ہیں ، انکے نزدیک دین کے مصادر قرآن کے علاوہ دین فطرت کے حقائق، سنت ابراہیمی اور قدیم صحائف بھی ہیں ، معروف اور منکر، حلال و حرام  کا تعین انسانی فطرت سے کراتے ہیں ،  زکوۃ کے نصاب کو منصوص اور مقرر نہیں سمجھتے ، کھانے کی صرف چار چیزوں خون، مردار، سور کا گوشت اور غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ کو حرام قرار دیتے ہیں،  دیت کے قانون کو وقتی اور عارضی اور عورت اور مرد کی دیت برابر قرار دیتے ہیں، شراب نوشی پر کسی  شرعی سزا کے قائل نہیں ، اس دور میں  جہاد و قتال کے بارے میں کسی  شرعی حکم کے قائل نہیں  ہیں وغیرہ وغیر۔ آخر میں غامدی  ازم پر  رفیق صاحب کے کچھ اشعار  ملاحظہ فرمائیں۔ شراقیوں سے کہہ دو کہ رہے گی تا قیامت                      وہ محمدی شریعت کہ نہیں فقط حجازی یہ ترا عجیب دعوی کہ جو د ین تو نے سمجھا                   نہ سمجھ سکا تھا اس کو کوئی شافعی نہ رازی یہ ترا اصول باطل کہ 'حدیث دیں نہیں ہے'                       ہے خسارا ہی خسارا یہ نبی سے بے نیازی نہ کوئی اصول تیرا، نہ کوئی رفیق مذہب ہے                   کبھی سخن طرازی ، ہے کبھی زبان درازی

عقیدہ حیات و نزول عیسی علیہ السلام قرآن کی روشنی میں

قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ جب یہود نے عیسی علیہ السلام کو صلیب دے کر قتل کرنے کی کوشش کی تو قرآن نے جو فرمایا کہ 'اللہ نےانہیں اپنی طرف بلند کردیا 'وہ حقیقت میں انہیں بلند نہیں کیا گیا تھا بلکہ انکے درجات بلند کردیے گئے تھے ، اس جگہ پر درجات کے بلند ی کا یہ فیدہ ہوا کہ صلیب پر وہ زندہ رہے اور یہود کو شبہ لگ گیا کہ وہ وفات پاچکے ہیں اور وہ انہیں چھوڑ کر چلے گئے، عیسی پھر کسی اور علاقہ میں چلے گئے وہاں تقریبا نصف صدی حیات رہے پھر طبعی وفات پائی اور انکی قبر کشمیر میں ہے، اب ایک نیا مسیح پیدا ہونا تھا جو کہ ایک محبوط الحواس بھینگے میٹرک فیل دجال و کذاب مرزاقادیانی کی شکل میں پیدا ہوا ہے۔۔یہی عقیدہ تھوڑی سی کمی پیشی کیساتھ غامدی صاحب کا بھی ہے ، یہ بھی ان قادیانیوں کی طرح وفات عیسی کا عقیدہ رکھتے ہیں لیکن کہانی تھوڑی سی مختلف بیان کرتے ہیں۔ غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام کو صلیب کے قریب ہی موت دی گئی پھر انہیں کہیں دفن کرنے کے بجائے انکا جسم آسمان پر اٹھا لیا گیااور اب وہ دوبارہ نہیں آئیں گے۔ غامدی اور قادیانی دونوں آیت ” إِذْ قَالَ اللَّـهُ يَا عِيسَىٰ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ ۔)اٰ ل عمران 55 پارہ 3( میں متوفیک“سے ”موت“مراد لیتے ہیں اور اس لفظ کو اپنے عقیدہ وفات مسیح کے لیے نص قطعی قرار دیتے ہیں۔ غامدی صاحب اس آیت کی تشریح کرنے والی متواترصحیح احادیث اور جید صحابہ کےاقوال کو تسلیم نہیں کرتے جبکہ قادیانی انہی احادیث سے مسیح علیہ السلام کے دوبارہ پیدا ہونےکا عقیدہ گھڑ کر مرزا قادیانی کو مسیح قرار دیتے ہیں۔ ہمارے نزدیک مرز ا قادیانی نے تو محض عیسی علیہ السلام کی سیٹ خالی دیکھ کر خود کو مسیح کہلوانے کے لیے قرآن سے عیسی کی وفات کا عقیدہ اور اسکی قبر کے قصے گھڑے، اسکی کذب، چال بازیوں ، بیہودہ تاویلات پر سینکڑوں دفعہ بات چیت ہوچکی ہے، آج ہم غامدی صاحب کی  اس عقیدہ کے متعلق عبارات پر تبصرہ انکی پسند کے مطابق صرف قرآن سے پیش کریں گے۔ غامدی صاحب لکھتے ہیں ۔
" سیدنا مسیح علیہ السلام کے بارے میں جو کچھ میں قرآن مجید سے سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہ انکی روح قبض کی گئی اور اسکے فورا بعد انکا جسد مبارک اٹھا لیا گیا تھا تاکہ یہود اسکی بے حرمتی نہ کریں۔ یہ میرے نزدیک انکے منصب رسالت کا ناگزیر تقاضا تھا، چنانچہ قرآن مجید نے اسے اسی طرح بیان کیا ہے۔ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ ۔ اس میں دیکھ لیجیے تو فی وفات کے لئے اور "رفع" اسکے بعد رفع جسم کے لیے بالکل تصریح ہے "۔( ماہنامہ اشراق، اپریل 1995، صفحہ 45)ایک اور جگہ لکھتے ہیں :حضرت مسیح کو یہود نے صلیب پر چڑھانے کا فیصلہ کر لیا تو فرشتوں نے انکی روح ہی قبض نہیں کی انکا جسم بھی اٹھا کر لے گئے کہ مبادا یہ سر پھری قوم اسکی توہین کرے۔"(اشراق جولائی 1994، صفحہ 32) القرآن یفسّر بعضہ بعضاً :۔ قرآن کی آیات کی تفسیر کے چند اصول ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی بھی آیت کی تفسیر کے لیے سب سے پہلے قرآن میں دیکھا جائے گاکہ آیا کوئی دوسری آیت اسکے مطلب کی وضاحت کررہی ہے، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ، پھر اقوال صحابہ سے مدد لی جائے گی۔ اس عقیدہ رفع ، نزول و حیات عیسی کی تائید میں احادیث تو اتنی موجود ہیں کہ اتنی ارکان اسلام کے متعلق بھی نہیں، بیس سے زائدجید صحابہ روایت کررہے ہیں ، اسی طرح صحابہ، تابعین، تبع تابعین ، آئمہ اور تمام بڑے علمائے امت کے ان پر اتفاق و اجماع کیوجہ سے انکو تلقی بالقبول حاصل ہے۔ غامدی صاحب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح اور انکے شاگردوں کی تفاسیر کو قبول کرنے کے لیے تو تیار نہیں ہم انکی پسند کے مطابق انکے اس عقیدہ کی بنیاد سورۃ ال عمران کی اس آیت کی ’’القرآن یفسّر بعضہ بعضاً (قرآن کے کچھ حصّوں کی قرآن کی دوسرے حصّے تفسیر کرتے ہیں) کےتحت قرآن سے ہی تحقیق پیش کرتے ہیں۔ سوال یہ اٹھایا گیا ہے کہ کیا قرآن کی دوسری آیات انکی (غامدی صاحب) اس آیت کی تشریح کی تائید کرتی ہیں؟ کیا واقعی احادیث اور صحابہ و علمائے امت کا اجماع قرآن کی اس آیت کے خلاف ہے؟ مسئلہ حیات عیسی اور قرآن:۔ غامدی صاحب نے جو آیت پیش کی ہے اس سے پہلے آنے والی آیت میں ہے و مکرو ا و مکراللہ۔ واللہ خیر المکرین۔ اور ان کافروں نے (عیسی علیہ السلام) کے خلاف خفیہ تدبیر کی اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی۔ اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ اس تدبیر کی اور پھر اگلی آیت جس کے ایک لفظ کی بنیاد پر غامدی صاحب ساری امت سے عقیدہ میں اختلاف کیے بیٹھے ہیں ' کی وضاحت سورۃ النساء آیت 157 یوں کرتی ہے : وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّـهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا ﴿١٥٧﴾ بَل رَّفَعَهُ اللَّـهُ إِلَيْهِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا ﴿١٥٨﴾ (النساء157،159 پارہ 6)ترجمہ: اور یہ کہا کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسی ابن مریم کو قتل کردیا تھا، حالانکہ نہ انہوں نے عیسی کو قتل کیا تھا ، نہ انہیں سولی دے پائے تھے بلکہ انہیں اشتباہ ہوگیا تھا۔اور حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے، وہ اس سلسلے میں شک کا شکار ہیں، انہیں گمان کے پیچھے چلنے کے سوا اس بات کا کوئی علم نہیں ہے، اور یہ بات بالکل یقینی ہے کہ وہ عیسی کو قتل نہیں کرپائے۔ بلکہ اللہ نے انہیں اپنے پاس اٹھا لیا تھا، اور اللہ بڑا صاحب اقتدار، بڑا حکمت والا ہے۔( آسان ترجمۃ القرآن، 157، 158)
 آیت سے دو باتیں بالکل واضح ہیں ۔ پہلی بات آیت میں وما قتلو“۔۔۔۔”وما صلبو“۔۔۔۔”وما قتلو یقینا کے الفاظ سے ان کے قتل/ موت کی مطلق نفی کی گئی ہے۔ دوسری قتل سے بچانے کا انتظام یہ کیا گیا کہ " بل رفعہ اللہ الیہ ، بلکہ اللہ نے اٹھا لیا اس کو اپنی طرف"۔ یہاں "بل "کے بعد بصیغہ ماضی" رفعہ" کو لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ تمہارے قتل و صلب سے پہلے ہی ان کو ہم نے'الیہ' یعنی اپنی طرف اٹھا لیا تھا۔ وکان اللہ عزیزا حکیما ۔ لفظ' توفی' کی قرآن سے وضاحت:.منکر حدیث، قادیانی اور غامدی آیت ” إِذْ قَالَ اللَّـهُ يَا عِيسَىٰ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ ۔)اٰ ل عمران 55 پارہ 3( میں متوفیک“ سے مطلق ”موت“مراد لیتے ہیں، جبکہ اگر یہاں اس سے موت مراد لے لی جائے تو پھر ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ کافروں نے جو عیسی علیہ السلام کو قتل کرنے کی تدبیر کی تھی وہ اس میں کامیاب ہوگئےتھے۔ ۔ !! جبکہ قرآن کہہ رہا ہے کہ بہتر تدبیر اللہ کی ہی رہی'۔ لفظ'توفی' کی وضاحت کے لیے بھی ہم قرآن سے رجوع کرتے ہیں ۔ 1. اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا ۖ فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَىٰ عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَىٰ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ) الزمر 42 پارہ 24(ترجمہ : اللہ تمام روحوں کو انکی موت کے وقت قبض کرلیتا ہے اور جن کو ابھی موت نہیں آئی ہوتی، انکو بھی انکی نیند کی حالت میں ، پھر جن کے بارے میں اس نے موت کا فیصلہ کرلیا، انہیں اپنے پاس روک لیتا ہے اور دوسری روحوں کو ایک معین وقت تک چھوڑ دیتا ہے۔ اس آیت مبارکہ سے صاف ظاہر ہے کہ ”توفی“بمعنی موت کے نہیں ہیں ،بلکہ ”توفی“موت کے علاوہ کوئی شے ہے جو کبھی موت کے ساتھ جمع ہوجاتی ہےتو کبھی نیند کے ساتھ ۔ اور”حِينَ مَوْتِهَا “کی قید سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ ”توفی“ موت کے وقت بھی ہوتی ہے عین موت نہیں ۔جس طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کو رات کو "توفی" دیتا ہےاور صبح اٹھ کر لوگ ایک بار پھر زندہ ہوکر اپنے کاموں میں مشغول ہوجاتے ہیں اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام "توفی" کے بعد بھی حیات ہیں اور قیامت سے قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا، جسکی وضاحت احادیث میں موجود ہے۔ 2. وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُم بِاللَّيْلِ الخ (الانعام 60 پارہ 7 )ترجمہ:وہ ہی ہے جو رات کے وقت تمہاری روح قبض کرلیتا ہے ۔ اس مقام پر بھی ”توفی“موت کے بجائے نیند کے موقع پر استعمال کیا گیا ۔ اگر توفی سے مراد صرف موت ہی ہوتی تو یہاں اسکو استعمال نہ کیا جاتا۔ 3. حَتَّىٰ يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ الخ (النساء15 پارہ 4)ترجمہ : یہاں تک کہ انہیں موت اٹھا کر لے جائے۔ اگر توفی کا معنی بھی موت تھا تو آگے لفظ 'موت' لانے کی کیا ضرورت تھی ؟حقیقت یہ ہے کہ جس جگہ ”توفی “ کے ساتھ موت اور اس کے لوازم کا ذکر ہوگا ۔اس جگہ ”توفی “سے مراد موت لی جائے گی ۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ قُلْ يَتَوَفَّاكُم مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ الخ ( السجدة 11 پارہ 21)ترجمہ : تو کہہ قبض کر لیتا ہے تم کو فرشتہ موت کا جو تم پر مقرر ہے پھر اپنے رب کی طرف پھر جاؤ گے۔ اس مقام پر ملک الموت کے قرینہ سے ”توفی “سے مرادموت لی جائے گی ۔ اسی طرح قرآن میں دوسرے انبیاء کی موت کا جہاں کہیں تذکرہ ہے وہاں موت کا لفظ استعمال فرمایا گیا ۔ نبی علیہ السلام کے لیے انک میت وانہم میتون، افائن مت فہم الخالدون اسی طرح سلیمان علیہ السلام فلما قضینا علیہ الموت ما دلھم علی موتہ ۔ ۔ جبکہ عیسی علیہ السلام کے لیے رفع اور توفی استعمال کیا ہے۔اور توفی جیسا کہ اوپر دی گئی آیات کی مثالوں سے ظاہر ہے جسمانی موت کے لیے وہاں استعمال ہوتا ہےجہاں اس کے ساتھ موت کے لوازمات کا بھی ذکر کیا جائے جبکہ غامدی صاحب کی پیش کی گئی آیت میں اس لفظ کے بعد موت کی کسی علامت کا تذکرہ کرنے کے بجائے قرآن کی دوسری آیت کی ہی تائید میں رافعک کا ذکر ہے، یہی بات فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْ میں بھی ہے۔اس ساری تفصیل یہ واضح ہے کہ عیسی علیہ السلام کے متعلق غامدی صاحب کے عقیدہ کو قرآن بھی غلط قرار دے رہا ہے۔ غامدی صاحب محض ایک ذومعنی لفظ کی بنیاد پر عیسی علیہ السلام کی وفات کا عقیدہ گھڑتے ہیں پھر جسم اوپر اٹھائے جانے کا واضح قرآنی اشارہ نظر آتا ہے تو لاش کو بھی آسمانوں پر اٹھانے لینے کی وجہ گھڑ لیتے ہیں کہ جی سرپھری قوم کہیں اسکی توہین نہ کریں اور یہ منصب رسالت کا ناگزیر تقاضا بھی ہے۔ ۔ شاید انکے علم میں نہیں کہ یہود نے زکریا ، یحیی علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے دوسرے ہزاروں نبی کس بے دردی سے شہید کیے تھے ، حیرت ہے اس اس سے منصب نبوت یا شان الہی میں کوئی فرق نہیں آیا ؟ آسان اور سادہ سی بات تھی کہ یہود نے مل کر عیسی علیہ السلام کو قتل کرنے کی تدبیر کی ، اللہ نے اسکو ناکام بناتے ہوئے عیسی کو زندہ سلامت اپنی طرف اٹھالیا۔ غامدی صاحب نے اپنے تفرد میں اس واضح اور متفقہ عقیدہ کی بھی عجیب کھچڑی بنا کر رکھ دی۔ مسئلہ نزول عیسی اور قرآن:۔غامدی صاحب لکھتے ہیں : " ایک جلیل القدر پیغمبر کے زندہ آسمان سے نازل ہوجانے کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ لیکن موقع بیان کے باوجود اس واقعہ کی طرف کوئی ادنی اشارہ بھی قرآن کے بین الدفتین کسی جگہ مذکور نہیں ہے۔ علم و عقل اس خاموشی پر مطمئن ہوسکتے ہیں؟ اسے باور کرنا آسان نہیں ہے"۔ (میزان، ص 178، طبع سوئم ) غامدی صاحب نے لفظ توفی سے حیات عیسی کے انکار کا عقیدہ تیار کیا پھر اس عقیدہ کے دفاع میں نا صرف انہیں اس متعلق تمام احادیث کا انکار کرنا پڑا اور ساری امت کی مخالفت کرنی پڑی بلکہ نزول عیسی کا منکر بھی ہونا پڑا۔اپنے نزول عیسی کے انکار کے عقیدہ کی یہ دلیل دے رہے ہیں کہ اس متعلق قرآن میں کوئی تذکرہ موجود نہیں ۔ ۔ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ جب تمہاری تحقیق کے مطابق قرآن نزول عیسی کے حق یا خلاف میں کچھ نہیں بتا رہا تو پھر تم صحیح احادیث کو کیوں رد کررہے ہو؟۔ یہاں تمہارے پاس کونسی نص قطعی ہے جسکی ان احادیث کو صحیح مان لینے سے خلاف ورزی ہورہی ہے۔ ؟ پرویز ی تو چلیں حدیث کے صریح منکر ہیں وہ ایسا عقیدہ رکھ بھی سکتے ہیں تم تو اپنی کتابوں اور سائیٹس پر" قرآن و سنت کی روشنی میں " کے الفاظ سجا سجا کر لکھتے ہو ۔! اس سنت سے کس کی سنت مراد ہے؟ جب تمہیں اتنی متواتر اور صحیح احادیث قبول نہیں اور صرف قرآن ہی تمہاری ساری شریعت کا ماخذ ہے تو پھر اس سنت کے لفظ کوقرآن کے ساتھ سے ہٹا کیوں نہیں دیتے تاکہ لوگوں کا واضح پتا چل جائے کہ یہ بھی اہل قرآن ( منکر حدیث ) ہیں۔۔پھر تمہیں ان لوگوں پر اعتراض کیوں ہے جو یہ کہتے ہیں کہ غامدی مکتبہ فکر صرف اسی صحیح یا ضعیف حدیث کو مانتا ہے جو انکی بات کی تائید کرتی ہو یا جس سے انکو اپنے موقف کی دلیل مل سکتی ہو، اس کے علاوہ کسی مسئلہ میں بھی صحیح سے صحیح حدیث کو بھی خاطر میں نہیں لاتا ۔!! حقیقت یہ ہے کہ احادیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نزول عیسی کے متعلق ارشادات کے علاوہ قرآن میں بھی انکے نزول کے واضح اشارے موجود ہیں۔ مثلا قرآن میں دو جگہ انکے بچپن اور ادھیڑ عمر میں بات کرنے کے معجزے کا ذکر ہے۔ وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۔اور وہ ماں کی گود میں بھی لوگوں سے باتیں کرے گا اور بڑی عمر میں بھی، اور راست باز لوگوں میں سے ہوگا۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ماں کی گود میں کلام کرنا تو ایک معجزہ تھا ادھیڑ عمرمیں تو مومن، کافر، جاہل ہر کوئی کلام کیا کرتا ہے اس کو ساتھ خصوصی طور پر ذکر کرنے کی کیا ضرورت تھی،؟ اسکا جواب یہ ہے کہ روایات عیسی علیہ السلام کے اٹھائے جانے کی عمر تیس اور پینتیس سال کے درمیان بتاتی ہیں ، اب ادھیڑ عمر میں جبھی کلام ہوسکتا ہے جب وہ دوبارہ تشریف لائیں ، یہی انکا معجزہ ہے۔ جو لوگ یہود کی طرح انکے بارے میں بدگمانی اور شبہ میں پڑ کران کے دوبارہ نزول کے منکر ہوجائیں گے اس اشارہ سے انہیں بھی بتایا جارہا ہے کہ وہ قیامت کے قریب دوبارہ ضرورتشریف لائیں گے اور بڑھاپے کی عمر پائیں گے ۔ اسی کی وضاحت ایک اور آیت سے ہورہی ہے۔ وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ اتَّبِعُوْنِ۔) سورۃ الزخرف آیت 61(اور یقین رکھو کہ وہ (عیسی علیہ السلام) قیامت کی ایک نشانی ہیں ۔ اس لیے تم اس میں شک نہ کرو اور میری بات مانو۔ بہت سے مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام قیامت کی نشانیوں میں سے ہیں۔ انکی دوبارہ تشریف آوری اس بات کی نشانی ہوگی کہ قیامت قریب آگئی ہے ، اس بات کی تائید صحیح احادیث بھی کررہی ہیں۔قرآن اسکا بھی تذکرہ کرتا ہے کہ قیامت کے قریب اہل کتاب کا انکو دیکھ کر ردعمل کیا ہوگا ؟ ’’وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ الخ النساء 158 اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو اپنی موت سے پہلے ضرور بالضرور عیسی پر ایمان نہ لائے،۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ و تابعین کی بڑی جماعت نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ جو اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت موجود ہوں گے ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ رہے گا جو ان پر ایمان نہ لائے۔"(البحر المحیط ج 3 ص 392) (تفسیر بیضاوی ج 1 ص 255) غامدی مکتبہ فکر عقیدہ حیات نزول مسیح کی قرآن و احادیث کی واضح تائید کو جھٹلا کر محض اپنے تفرد میں اپنے گھڑے ہوئے عقیدہ پر بضد ہے۔ اگر انکے اس عقیدہ کے عیسی علیہ السلام کو مردہ آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا کو صحیح بھی مان لیا جائے تو سوال یہ  ہے کہ اگر انکے عقیدہ کے مطابق واقعی عیسی علیہ اسلام کی لاش آسمانوں پر اٹھائی گئی ہے تو وہ دنیا میں کب آئے گی ؟ حشر کا میدان تو زمین پر لگے گا، اس دن خاتم الانبیاء سمیت سب انسان اپنی انہی قبروں سے اٹھیں گے، کیا عیسی آسماں پر زندہ کیے جائیں گے اور اللہ اور فرشتوں کیساتھ آسمان سے نازل ہوں گے ؟؟؟ قرآن میں اسکی تصریح یا اشارہ کہاں ہے؟ عقیدہ حیات و نزول عیسی کو عیسائیوں سے درآمد شدہ کہنے والے خود ناصرف حیات عیسی کے متعلق نصاری کے عقیدہ پر ایمان لائے ہوئے ہیں بلکہ انہیں الوہیت عیسی کےبھرپور دلائل بھی فراہم کررہے ہیں۔'سکالر اسلام 'کی دورخی کا یہ عالم ہے کہ ایک طرف صاحب پرانے صحائف میں موسیقی کے تذکرے کی آیات کی تصدیق قرآن میں موجود داؤد علیہ السلام کے زبور پڑھنے کی آیات سے کرتے ہیں اور انہیں قرآن سے موسیقی کا اشارہ کہتے اور پرانے صحائف میں موجود موسیقی کے متعلق آیات کو انکی وضاحت کہہ کر موسیقی کو جائز قرار دیتے ہیں، دوسری طرف نزول عیسی علیہ السلام کے بارے میں انجیل اور قرآن میں موجود واضح دلائل کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں ۔ کتاب مقدس کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں :’’اورجب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا، اس کے شاگردوں نے الگ اس کے پاس آ کر کہاہم کو بتا کہ یہ باتیں کب ہوں گی؟اور تیرے آنے اور دنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہو گا؟ یسوع نے جواب میں ان سے کہا خبردار!کوئی تم کو گمراہ نہ کر دے۔کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے۔‘‘ (متی۲۴ :۳۔۵)
 اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ ۔
منکر حیات و نزول مسیح کے بارے میں علمائے امت کی رائے :۔
ہمارے ہاں قادیانی مسائل پر کی گئی پاکستان و ہندوستان کے جید علماء کی تحقیقات ہر دوسرے مذہب کے مسئلہ پر کی گئی تحقیقات سے ذیادہ ہیں، ہزاروں علماء نے جانی و مالی قربانیوں کے ساتھ نے قادیانی دلائل اور شبہات کے معقولی و منقولی انداز میں جوابات دے کر اپنے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا انتظام کیا ، ختم نبوت کے متعلق ایک ایک بات کو پرکھا ، تولا گیا، اس پر ہر رخ سے دلائل دیے گئے۔ ہزاروں صفحات کی سینکڑوں کتابیں موجود ہیں۔ مرزا قادیانی چونکہ حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات و نزول کا بھی منکر تھا اس لیے اس مسئلہ پر بھی پہلے سے کافی تحقیق موجود ہے، جس سے یہ واضح ہے کہ عقیدہ حیات و نزول مسیح کا منکر ناصرف قرآنی دلائل کو جھٹلاتا ہے بلکہ متواتر احادیث کا بھی انکار کرتا ہے۔ برصغیر کے علماء نے قرآن و سنت کی روشنی میں عیسی علیہ السلام کےآسمانوں پر زندہ ہونے اور دوبارہ تشریف لانے کے منکر کو کافر قرار دیا، اس کے لیے عرب کے بڑے علماء سے بھی رائے لی گئی اور شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ جیسے عرب شیوخ نے بھی اس فتوی کی تائید کی ۔ خطرہ کی بات یہ ہے کہ غامدی صاحب قادیانیوں، پرویزیوں کی طرح اس مسئلہ میں بھی اپنی کم علمی، جدت پسندی اور تفرد کی وجہ سے نہ صرف خود کفر کی طرف جارہے ہیں بلکہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ کی ایک بڑی اکثریت کو  بھی اپنے ساتھ لیے جارہے ہیں ۔ ۔ ۔

اجتہاد کی اجازت

’روشن خیال‘ لبرل اور سیکولر طبقہ کے   لوگ قرآن و سنت کے مطابق زندگی بسر کرنے میں  گھٹن محسوس کرتے اور اسےمذہبی  جمود کا نام دیتے ہیں، انکے خیال میں   امت مسلمہ کی  زبوں حالی، پس ماندگی  اور  ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہنے  کی وجہ  بھی  یہی  مذہبی جمود ہے  اوراس  كا ذمہ دار وه علمائے كرام كو ٹھہراتے ہیں کہ علمائے کرام  اجتہاد کے دروازے پر 'چوپڑی' مار کر بیٹھ گئے ہیں  اور اس  اجتہاد کے   رک جانے کی وجہ سےمسلمان ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں ۔ان ترقی پسند بقراطوں  سے  کوئی پوچھے کہ  دنیا کی تاریخ میں اولین او ربھرپور ترقی پہلے مسلم اسپین (اندلس)  بعد میں  مغربی یورپ کو نصیب ہوئی، کیا سپین صرف علماء کے    اجتہادات کی بدولت ترقی کی راہ پر گامزن ہوا تھا ؟ جواب نفی میں ہے اور یقینا نفی میں ہے   تو  کیا ہمیں سوچنے کی ضرورت نہیں کہ وہاں کے مسلمانوں نے  آخر وہ  کیا طریقہ اختیار کیا تھا کہ سپن' جیول آف دی ورلڈ' بنا اور  پھر وہ کیا  کمزوریاں تھیں جنکی وجہ سے اپنی تمام تر  سائنسی ومادی ترقی اپنی تمام تر شان وشوکت کے باوجود اندلس  زوال پذیر ہو گیا  تھا ؟ !!  تاریخ  سے سبق سیکھنے  کے بجائے  آج ان روشن خیالوں کے سامنے یورپ کے مذہب کو دفن کرنے کی واحد مثال ہی ترقی کی بنیاد ہے یہ اس بات کو بالکل نظر انداز کیے بیٹھے ہیں  کہ اس ترقی کی عمارت محکوم اقوام کے ریسورسز  ہتھیا کر تعمیر کی گئی  اور اس ترقی کی  پہلی سیڑھی نو آبادیاتی لوٹ مار اور  دو عالم گیر جنگیں  تھیں   جس میں کم از کم چار کروڑ افراد لقمہ اجل بنے اور  وہی نوآبادیاتی نظام  آج بھی سرمایہ دارانہ نظام  کی آڑ میں کام کرہا ہے، انکو یہ بھی بالکل نظر نہیں آرہا کہ آج مغربی ممالک کے عوام  مذہب کی  غلامی سے آزاد ہو کر سرمائے کے غلام بن کر رہ گئے ہیں، سرمایہ دارانہ نظام اور  ملٹی نیشنل کمپنیوں کی منظم لوٹ مار اسی  ترقی کا ایک الم ناک باب ہے۔اقبال نے اسکی خوب منظر کشی کی تھی ۔نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب مغرب کی            یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہےاقبال کو شک اس کی شرافت میں نہیں ہے                 ہر ملک میں مظلوم کا یورپ ہے خریداروہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندانِ مغرب کو            ہوس کی پنجہ خونیں میں تیغ کار زاری ہےتدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا جہاں میں جس تمدن کی بناءسرمایہ داری ہے  جدیدیت پسندوں کے  منہ  سے  یہ دلیلیں  عام سننے کو ملتی   ہیں  کہ آج کی دنیا سائنسی دنیا ہے،تقاضے بدل گئے ہیں ، چودہ سو سال پرانے اسلام پر عمل کرنا ممکن نہیں رہا ،  لہذا   اجتہاد کیا جانا چاہیے۔عام لوگوں کو  بھی  یہ نعرے خوشنما لگتے ہیں کہ جی  ٹھیک ہی  کہہ رہے ہیں صحابہ کے دور کے مسائل اور آج کے دور کے مسائل میں فرق ہے ، اجتہاد کی اجازت ہے اس لیے  جدید دور کے مسائل کا قرآن و سنت  کی روشنی میں حل نکالا جانا چاہیے۔ جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہےیہ طبقہ ہرگز اس  قسم  کے اجتہاد کی  آواز نہیں لگارہا،اس  کو  اس اجتہاد کی  آواز لگانے کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ  یہ اپنی ذاتی زندگی  میں  جدید معاملات تو درکنار  پرانے معاملات میں بھی نہ شرعی نقطہ نظردیکھتا ہے اور نہ  دیکھنا پسند کرتا ہے ، دوسری بات   یہ کام غیر محسوس طریقے سے ہر دور کے علماء کرتے آرہے ہیں،  تسلی بخش تحقیق اور فقہی ابحاث کے بعد   اس جدید دور کے بھی ہر مسئلہ میں  راہنمائی کردی گئی ہے۔ حقیقت میں  جدت پسندوں کی طرف سے جس اجتہاد پر اصرار کیا جاتا ہے  وہ ایسا اجتہاد ہے جو  انکے فکری و عملی انحرافات کو مذہبی جواز فراہم کردے ، اسلام کے جو احکام  انہیں 'اوکھے ' لگتے ہیں اور  جو عیاشی کے کام اسلام نے حرام قرار دیے  ہوئےہیں انہیں حلال نہیں تو کم از کم مستحب یا مکروہ ہی تسلیم کرلیاجائے، اجتہاد   ایسا  ہو جو انکے ساتھ  پورے معاشرے کو   بھی مغربی لوگوں کی طرح ہر مذہبی پابندی  سے آزاد کردے۔اسی لیے یہ  دین کی موجودہ شکل کی پیروی کو روایت پسندی کہتے ،  اسلامی حدود  کو سخت اور انسانی حقوق کے خلاف کہتے نظر آتے ہیں   ، مزید  گہرائی میں انکی   بات کو سنا  اور پرکھا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ انکا مطالبہ اجتہاد کا نہیں بلکہ  تجدید  دین کا ہے  وہ بھی  اس طریق پر کہ اپنے تہذیبی اور علمی ورثے کوبالکل  چھوڑ کر  ہر مسئلہ کو از سر نو تحقیق و تجربہ کا موضوع بنایا جائے اور   دین کو سمجھنے کے لیے  نئے سرے سے قانون سازی کی جائے۔اس کا ایک طریقہ  جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب یہ  بیان کرتے ہیں کہ  ایک نئی فقہ پارلیمنٹ کے ذریعے بنائی جائے‘ جس میں امامیہ‘ حنفی ‘ مالکی وغیرہ سب مکاتب فکر شامل ہوں‘ جس میں ہر کوئی اپنی پسند کے مطابق اپنے مسئلے کاحل نکال لے۔ !! کچھ مفکرین  یہ دلیل دیتے نظر آتے ہیں کہ   عقائد ہوں یا نظریات سب وقت کے ساتھ expire ہو جاتے ہیں، اس لیے ان فرسودہ تعلیمات سے جان چھڑائی جائے ۔ اس کے لیے  کوئی  ایسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ      دین کا نام  تو اسلام ہی  رہے اور ہمیں بھی لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی اور مسلمان کہیں  بس (یہودیت او ر عیسائیت کی طرح) اسلام کی اصل  تعلیمات و تشریحات کو  کہیں دفن کرکے  اسلام کا ایک جدید ورژن متعارف کروایا جائے ۔ اس کا طریقہ جاوید   غامدی صاحب  یہ تجویز فرماتے ہیں  کہ  دین کی تشریح قرآن و سنت واجماع  صحابہ و امت  کے بجائے  عقل و اصول  فطرت  کی روشنی میں کی جانی  چاہیے،  جو چیز بندے کی فطر ت سے مناسبت رکھتی نظر آئے  اسے جائز ہونا چاہیے، جو عقل میں آئے اسے دین ہونا چاہیے  ۔۔  معروف و منکر،  حلال و حرام  کی پہچان اور تمیز کے  جو قوانین اسلام نے بتائے ہیں ان کو چھوڑ کر  انسانی  فطرت کو سامنے رکھ کر انکا  فیصلہ کیا جانا چاہیے ،  مغرب کی طرف سے اسلام کی جن جن باتوں پر اعتراض آرہے ہیں انکا جواب دینے میں ٹائم ضائع کرنے بجائے ان  باتوں کو   ہی بدل دیا جائے ،  دین  کو موم کی طرح ادھر ادھر مروڑتے  ہوئے  بالکل ایسے زاویے پر فٹ کردیا جائے  کہ یہ  نہ  کسی باطل  کو ہٹ کرے نہ کسی مخالف کو برا لگے۔ یہی  انکا نظریہ جہاد ،  نظریہ اتحاد و رواداری مذاہب  اور یہی انکے اسلامی حدود و قوانین پر اٹھائے گئے  اعتراضات کی بنیا د بھی ہے۔ جو سوچ ہمارے آج کے جدت پسندوں اور متجددین کی ہے وہی  سر سید او ران کے رفقاء  کی تھی کہ  انگریر سر کار   کو سجدہ کیے اور اسکی تہذیب کو اپنائے بغیر  مسلمانان ہند  کبھی ترقی نہیں کرسکتے،سرسید  ایک جگہ لکھتے ہیں:”جو شخص قومی ہمدردی سے اور دور اندیشی سے غو رکرے گا وہ جانے گا کہ ہندوستان کی ترقی ، کیا عملی اور کیا اخلاقی، صرف مغربی علوم میں اعلیٰ درجہ کی ترقی حاصل کرنے پر منحصر ہے۔ اگر ہم اپنی اصلی ترقی چاہتے ہیں، ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی مادری زبان تک بھول جائیں، تمام مشرقی علوم کو نسیا منسیا کردیں، ہماری زبان یورپ کی اعلیٰ زبانوں میں سے انگلش یا فرنچ ہوجائے ، یورپ ہی کے ترقی یافتہ علوم دن رات ہمارے دست وپاہوں، ہمارے دما غ یورپین خیالات سے (بجز مذہب کے) لبریز ہوں، ہم اپنی قدر ، اپنی عزت کی قدر خود آپ کرنی سیکھیں، ہم گورنمنٹ انگریزی کے ہمیشہ خیرخواہ رہیں اور اس کو اپنا محسن ومربی سمجھیں۔“ ( مقالات سرسید ج5، ص:66)  یہ ایک حقیقت ہے کہ برصغیر پاک و ہند    میں    ان دو صدیوں میں جس  نے بھی  الحاد و  تجدید دین کی آواز لگائی اگر  اسکے کے علمی وفکری نسب کو دیکھا جائے تو اسکی کڑی کہیں نہ کہیں سرسید احمد خان سے جا ملتی ہے ۔ ان کی پیروی میں دو فکری سلسلوں نے اس فتنے کو پروان چڑھایا۔ ایک سلسلہ عبداللہ چکڑالوی اور اسلم جیراج پوری سے ہوتا ہوا غلام احمد پرویز تک پہنچا ،  دوسرا سلسلہ حمید الدین فراہی اور امین احسن اصلاحی سے گزرتا ہوا جاوید احمد غامدی تک آیا۔ ان میں سے پرویزی سلسلہ نے اپنے عقائد و نظریات کی اشاعت میں تقیہ کرنے کے بجائے صاف گوئی اور   بے باکی  سے کام لیا ، اسی وجہ سے انکے نظریات کا  پوری طرح نقد بھی   ہوسکا  اور انکا کفر و اعتزال عوام کے سامنے واضح  ہوا۔ غامدی  مکتبہ  فکر نے اس  سلسلے کے لوگوں کیساتھ ہونے والے سلوک کو  دیکھتے ہوئے   بیچ کی راہ اختیار کی ہےوہ یہ کہ یہ      ”صاف چھپتے بھی نہیں اور سامنے آتے بھی نہیں“ ۔ یہ   دین   پر ہونے والی  چودہ سو سالہ تحقیقات،  تشریحات اور ان گہری تحقیقات کے نتیجے میں بننے والے اصول و قوانین    کے مقابلے میں اپنی تشریحات اور اصولوں کو اس طریقہ  سے متعارف کروانے کی کوشش میں  ہیں  کہ انکا  انکار شریعت واضح  نہ ہو جسکی بنیاد پر    کوئی  ان پرصریح  فتوی بھی نہ لگایا جاسکے جس طرح غلام قادیانی اور غلام پرویز پر لگا یا گیا۔!!  مثلا جناب غامدی صاحب  وحی، کتاب، سنت، تواتر، فطرت، اجماع، معروف، منکر اور عرف جیسی بہت سی اسلامی اصطلاحات  کے بارے میں کہتے ہیں کہ ہم انکو مانتے ہیں  لیکن  ان کے مفاہیم اپنی طرف سے بیان کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ  کوشش کرتے ہیں کہ  عام چھوٹے مسائل میں  سلف سے ہی رابطہ استوار رکھا جائے تا کہ کوئی بالکل یہ نہ سمجھ لے کہ یہ پرویزیوں کی طرح  بالکل کوئی نیا دین متعارف کروانے جارہے ہیں ۔ عموما  جن مسائل  میں   انکے لیے اسلاف کے دیے گئے قرآن و حدیث پر مبنی   دلائل  کا انکار ممکن نہیں ہوتا  ان مسائل  میں  اپنے قائم کیے گئے موقف کی   دلیل عموما   قرآن و حدیث کے  بجائے لغت، فطرت انسانی، پرانے صحائف وغیرہ سے لاتے  ہیں ، موقف پر کوئی اعتراض آجائے تو  پہلے پورا زور لگا کر اسکا دفاع کرتے ہیں، قرآن کی بات ہو تو کہہ دیتے ہیں یہ اس زمانہ کے ساتھ  مخصوص تھی، حدیث کی بات ہو تو  کسی دوسری حدیث کے ذومعنی لفظ  کو لے کر تاویل کرجاتے ہیں یا اسکے  قرآن کے خلاف ہونے کا دعوی کردیتے ہیں ،  ایک طرف  مسئلہ رجم، حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات و آمد ثانی، عورت  کے پردے، موسیقی، مجسمہ سازی، مرتد کی سزا،  قرات قرآنیہ کے بارے میں احادیث کے ساتھ   فقہاء کے فہم  کو بھی ٹھکراتے نظر ہیں  ،  دوسری طرف اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہیں پھنس جائیں  ہیں تو فقہاء کی ہی  شاذ آر اء کو  اپنے موقف کی تائید کے لیے بطور ڈھال استعمال کرنا شروع کردیتے ہیں ۔ اگر   پھر بھی بات نہ  بنے   تورسالہ یا  کتاب کے اگلے ایڈیشن میں اپنا موقف ہی بدل دیتے ہیں  اور اسکو اپنی  سوچ کے ارتقاء کا نام دیتے ہیں ، اسی 'ارتقاءئی' سفر میں جناب غامدی صا حب    78ء سے 2005ء تک  صرف سنت پر چودہ موقف بدل چکے ہیں۔ کبھی عورت کی ختنہ، ڈاڑھی ، طلاق ، تیمم، نماز عید، نماز جمعہ سنت تھی اب نہیں رہی، پہلے نماز، روزہ، زکوۃ سنت تھی پھر فرض بن گئی ، اسی طرح  پہلے جمہوریت نظام کفر و شرک تھا آج دنیا کا عظیم ترین بلکہ الہامی نظام ہوگیا۔ ۔ چلے تو تھے  چودہ سو سال سے دین پر ہونے والی تنقیدات اور پھر انکے ردعمل میں ہونے والی  تحقیقات اور   اصلاحات   کے بعد اپنی مچور سطح تک پہنچ جانے والے دینی مسائل   کے مقابلے میں نئے سرے سے  پورے  دین  کا  ایک نیا ایڈیشن متعارف کروانے ،  لیکن تیس  سال  سنت اعمال کا تعین کرنے میں ہی  لگ گئے۔   ایک طرف علم و تحقیق  اتنی  نابالغ  ہے  کہ  بنیادی تصور دین  میں ہی  ہر نئے دور کے ساتھ  تبدیلی در آتی ہے  دوسری طرف ناصرف  ہر ترمیم پر  دعوائے  قطعیت کرتے ہیں  بلکہ  جید صحابہ  و فقہاء کے فہم پر اعتراض اور پھر   اپنی پوزیشن کو مستحکم رکھنے کے لیے انکے بارے میں توہین آمیز کلمات کہنے سے بھی نہیں ڈرتے۔ شرعی اجتہاد کی تعریف اور  حدود:اجتہاد کے بارے میں ہمارے ان  تجدد پسند سکالروں  نے کئی قسم کی غلط فہمیاں پھیلا رکھی ہیں ۔ ایک بنیادی غلط فہمی انکی طرف سے   اسکی تعریف  میں پھیلائی گئی  ہے۔  انکے نزدیک  لفظ ” اجتہاد“ کے معنی کوشش کرنا او ر مفہوم آزادرائے دینا ہے۔ یہیں سے غلطی کا آغاز ہوتا ہے ا وراس بنیاد پر جو عمارت کھڑی ہوتی ہے ، وہ بھی غلطیوں کا مجموعہ ہوتی ہے ، حقیقت یہ ہے کہ شرعی اجتہاد محض کوشش کرنے اور رائے زنی کا نام نہیں، نہ اجتہاد کا مطلب کسی  پرانے حکم کو منسوخ کرکے نیا حکم گھڑناہے بلکہ  شریعت کے ایک حکم سے دوسرا  حکم نکالنا ہوتا ہے۔ کسی بھی  درپیش مسئلہ، جس کے بارے میں واضح حکم شرعی کتاب وسنت میں موجود نہیں، اس کا حل مآخذ شریعت کی چھان پھٹک کرکے، نظائر وامثال پر غور وفکر کے بعد پیش کرنا ” شرعی اجتہاد“ کہلاتا ہے۔ دوسری غلط فہمی یہ پھیلائی گئی ہے  کہ شاید آزادانہ اجتہاد کی حدود میں تمام مسلمات شریعت بھی داخل ہیں  حالاں کہ جن مسائل میں نصوص قطعیہ موجود ہوں وہ ہر دور میں دائرہ اجتہاد سے خارج ہیں ، اجتہاد صرف ان مسائل تک محدود ہے جو نہ منصوص (وہ احکام جو  واضح طور پر قرآن یا حدیث میں بیان کیے  گئے ہوں)ہوں نہ اجماعی(جنکے ایک  حل اور تشریح پر ہر دور کے علمائے امت تحقیق کے بعد متفق چلے آرہے ہیں )۔ آسان لفظوں میں  قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں جو واضح اور  منصوص احکام شرعیہ آگئے ہیں ،وہ امت کے لئے ہرحالت میں واجب الاطاعت ہیں اور اجتہاد کے دائرے سے بالاتر ہیں۔ہاں  اگر احادیث میں کچھ تعارض ہے یا قرآن کریم کی دلالت قطعی موجود نہیں ہے ، نہ علمائے امت کا ایسے مسائل میں کوئی اجماع موجود ہے  جیسے وہ مسائل جو جدید تمدن نے پیدا کئے ہیں اور  سابقہ فقہ اسلامی کے ذخیرہ میں ان کا ذکر نہیں ہے، نہ نفیاً نہ اثباتاً، یا  وہ  مجتہد فیہ مسائل  ہیں  ( وہ عملی اور فروعی احکام جن میں کوئی قطعی دلیل موجود نہ ہو) ان میں اجتہاد کی اجازت ہے ۔ شریعت کی روشنی  میں ان مشکلات کو حل کرنا اور جدید تقاضوں کو پورا کرنا دور کے اجتہاد کی صلاحیت رکھنے والے  علماء کا فریضہ ہوتا ہے اور وہ ان مسائل کا قیاس واجتہاد سے قدیم ذخیرہ کی روشنی میں فیصلہ کرتے ہیں۔شرائط مجتہد  و اجتہاد:عہدِ رسالت میں مسائل کا حل قرآن تھا یا فرمان نبوی ، دورنبوت کے بعد فتوحات اسلامیہ کے ساتھ نئے مسائل نے سر اُٹھایا تو ان کے حل کے لیے فقہاء نے قرآن و سنت کو سامنے رکھتے ہوئے قواعد وضوابط مرتب کیے اور نئے مسائل کے” اجتہادی“  حل تجویز کیے ، ان میں سے چار فقہی مذاہب مستقل  مدون ہوئے اور   فقہ حنفی، فقہ مالکی، فقہ شافعی اور  فقہ حنبلی کے نام سے مشہور ہوئے ۔ تشریع اسلامی کی تاریخ،  فقہی دور کی تکمیل اور ہر زمانے میں جدید مسائل پر کتابوں کی تصنیف اس امر کی قطعی دلیل ہے کہ جن مسائل میں کتاب سنت کے نصوص موجود نہیں ان میں اجتہاد کا دروازہ ہر وقت کھلاہےچنانچہ امت اسی اصول پر کار بند رہی اور یہی آج تک یہی روایت چلی آرہی ہے ، دوسری طرف جدیدیت پسندوں کی طرف سے جو اجتہاد پر اصرار کیا جاتا ہے اور جس طرح عام لوگوں کو اجتہاد کی رغبت دلائی جاتی ہے  اس  سےبعض  اوقات  یہ محسوس ہوتا ہےکہ شاید اجتہاد کوئی عبادت ہے  جسکا یہ لوگوں کو شوق دلارہے ہیں،  حالانکہ کہ اجتہاد ایک بڑی ذمہ داری ہے اور اسکی سخت شرائط ہیں ۔شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے اپنی کتابوں میں اجتہاد کی چند  شرائط کا ذکر کیا ہے جنکاایک  مجتہد میں پایا جانا ضروری ہے ۔1. عربی لغت سے اتنی واقفیت ہو کہ کسی بھی عربی کلام کے معنی بخوبی سمجھ سکے۔2. قرآن وحدیث سے ماخوذ ان علوم سے واقفیت ہو جن کے بغیر عربی کلام کے معنی سمجھ نہیں آسکتے۔3. قرآن ، حدیث ،  اجماع امت اور  امت کے اجماعی واجتہادی مسائل جو پہلے سے طے کیے جاچکے انکا مکمل علم  ہو۔4. فقہ اسلامی کی کتابوں سے واقفیت اور فہم کتاب و سنت کے لیے جن علوم کی ضرورت ہے ،ان میں مہارت ہو خصوصاعلم اصول فقہ میں کامل بصیرت ہونی چاہیئے اس کے بغیر ایک قدم بھی  آگے نہیں چلا جاسکتا ۔5. ان آیات و روایات کا علم ہو جن میں احکام کا بیان ہے، یہ تقریبا پانچ سو آیات اور تین ہزار احادیث ہیں۔6. اجتہاد کے اصول وقواعد، احکام شرع کے مصالح ومقاصد،  ماحول ومعاشرے اور زمانے کے حالات وضروریات کا علم ہو۔7. بالغ نظری اور دقیقہ رسی کے ساتھ تقوی،خشیت الہیہ اور دین خداوندی کے ساتھ کامل اخلاص موجود ہو ۔8. دلائل پر غور وفکر کرکے احکام کے استنباط کا ملکہ بھی ہو، اسے ”فقہ النفس“ بھی کہا جاتا ہے۔9. ایسے یکتا اشخاص کا وجود جو ان مجتہدانہ صفات میں کامل ہوں ، موجود دور میں  بیحد مشکل ہے ،اس لیے ”شخصی رائے “کی کمی کو جماعت کی آراء سے پورا  کرنے  کے لیے شورائی اجتہاد کا اہتمام ہو ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی  امت کو یہ ہدایت فرمائی ہے کہ جدید مسائل میں انفرادی رائے کی بجائے ”فقہاوعابدین“سے مشورہ کیا جائے ” (کنزالعمال حدیث نمبر: ۴۱۸۸)۔ یہی وجہ ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فقیہہ الامت ہونے کے باوجود ،انفرادی اجتہاد نہیں کیا بلکہ اس مقصد کے لیے ایسے چالیس افرا د کی جما عت تشکیل کی جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ یکتائے زمانہ تھا جیسا کے الموفق نے ”مناقب ابی حنیفہ رحمہ اللہ “میں ذکر کیا ہے ۔)حجۃاللہ البالغہ باب الفریق بین المصالح و الشرائع، عقد الجید ) یہ  چند شرائط  ہیں   جنکا ایک مجتہد میں پایا جانا ضروری ہے اب اگر انکو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ دور کے  ان سیلف میڈ عظیم  مجتہدین یا مجددین   کی  علمی حالت چیک کی جائے اور یہ دیکھا  جائے  کہ  کیا  ان میں  اجتہاد کی صلاحیت یا  مجتہد  کی کوئی شرط پائی جاتی ہے  تو  تحقیق کرنے کے بعد پتا چلتا ہے  کہ  علوم شریعہ  میں رسوخ تو دور کی بات  کسی نےدین کی باقائدہ تعلیم بھی  حاصل نہیں کی ہوئی،  اکثر  صرف بی اے ، ایم اے کرکے ڈاکٹر کا سابقہ  لگا کر عینک اور واسکٹ  پہن کر ٹی وی پر آبیٹھے ہیں  اور انکی تحقیق کیا ہیں بھان متی کا کنبہ ہیں،  سارے ماخذ دین   کو سامنے رکھتے ہوئے نئے مسائل کے حل کے بارے میں ایک رائے قائم  کرنے کی صلاحیت تو  درکنار اکثر اتنی قابلیت بھی نہیں رکھتے کہ  بغیر ترجمہ کے قرآن و حدیث کا مطالعہ کرسکیں ۔ جرات اختلاف   اتنی ہے کہ   فقہائے امت اور صحابہ کے فہم  کو غلط قرار دے جاتے  ہیں  اور اپنی علمی حیثیت یہ ہے کہ   زیر بحث مسئلہ سے متعلق  تمام قرآن  اور احادیث کی تعلیمات کیا ہیں  ان کا مکمل  و گہرائی  میں علم نہیں۔ انکی اجتہادی کوششیں صرف   فروعی یا  اجتہادی مسائل  پر  نہیں کہ انکو کسی درجہ  میں  اختلاف کی اجازت دی جاسکے    بلکہ متفقہ و منصوص مسائل کو  اختلافی بنانے کے لیے کی جارہی  ہیں  ۔ سارے اختلاف کی وجہ کیا ہے ؟  محض جدت پسندی ، احساس کمتری اور تن آسانی۔ اس کے لیے مذاہب فقہا سے چھانٹ چھانٹ کر رخصتیں تلاش کرتے  اور قرآن و حدیث کی معنوی تحریف کرتے ہیں ۔ اجتہاد کی علمی بنیاد کیا ہے  ؟ دو ڈھائی سو  اردو میں لکھی ہوئی یا  اردو انگریزی میں   ترجمہ شدہ کتابیں، چار پانچ ڈکشنریاں  اور ایک بہکا ہوا نفس اور عقل ۔عموما ساری جرات اور اجتہاد  کا  انحصار صرف  عقل  پر ہوتا ہے۔ ہم مانتے ہیں   بلاشبہ عقل نور فروزاں ہے مگر اس کے لیے ایک خاص دائرہ ہے ۔ عقل ان امور کا ادراک نہیں کر سکتی جو وحی کی آنکھ سے نظر آتے ہیں۔ عقل کے لیے یہی فخر بہت ہے کہ وہ وحی کےبیان کردہ حقائق کا ٹھیک ٹھیک ادراک کر لےاور ان حقائق کی بلندحکمتوں ،گہری مصلحتوں اور باریک اسرار و علل کا سراغ لگانے میں کامیاب ہو جائے ۔ جس طرح  نصوص وحی کے نہ ہونے کی صورت میں بھی عقل  سےکا م نہ لینا نری حماقت اور کوتاہی ہے اسی  طرح منصوص وحی کے ہوتے ہوئے بھی عقل کو ہر چیز میں مقدم رکھنا بڑی گھناؤنی جسارت ہے۔صحیح راستہ ان دونوں کے درمیان سے گزرتا ہےاور وہی صراط مستقیم ہے ۔

غامدی صاحب کا علمی مقام

پچھلی تحریر میں غامدی صاحب کے پیش کیے گئے تعارف پر کچھ دوستوں نے اعتراض کیا کہ کسی مذہبی سکالر کے بارے میں ایسے القاب استعمال نہیں کرنے چاہیے, انکا اختلاف فقہی ہے اور فقہ میں اختلاف کی گنجائش ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ اس تحریر میں غامدی صاحب کے متعلق ہم نے اپنی طرف سے کچھ بھی نہیں لکھا تھا صرف انکے اساتذہ، انکے پرانے نام اور عرف کا تذکرہ کیا تھا، یہ سب باتیں غامدی صاحب کی زندگی کا حصہ ہیں۔ اب اگر غامدی صاحب کے پرانےنام اور عرف کا تذکرہ انکے کسی عاشق کو برا لگتا ہے تو اس میں ہمارا قصور نہیں (ویسے غامدی صاحب نے اپنی کتاب 'برہان' میں علماء، مذہبی جماعتوں کے قائدین، فقہاء کے بارے میں تنقید کرتے وقت طنزو تضحیک کا جو اسلوب اختیار کیا ہے،کم از کم اسکی موجودگی میں ان کے قارئین وسامعین کو کسی کے غامدی صاحب کے خلاف لکھے گئے سخت الفاظ پر اخلاقیات کے درس نہیں دینے چاہیے)۔ دوسری بات کیا غامدی صاحب واقعی ایک جید عالم یا مذہبی سکالر ہیں یا انکو دینی علوم میں اتنا رسوخ حاصل ہے کہ انکو فقہاء امت کے ساتھ اختلاف کرنے ، انکی تحقیق کے مقابلے میں اپنی رائے پیش کرنے ،انکو اصل حقیقت سے لاعلم اور جاہل قرار دینے، امت کے چودہ سوسالہ متفقہ مسائل کو رد کرنے کا حق حاصل ہے؟؟ انکے کئی قارئین ، سامعین اور تلامذین بھی یہ دعوے کرتے رہتے ہیں کہ غامدی صاحب دینی و دنیاوی دونوں علوم پر مکمل عبوررکھتے ہیں، صاحب کو عربی خصوصا قرآنی علوم میں تو کمال حاصل ہے ، انگریزی ادب ہو یا جدید سائنسی علوم غامدی صاحب کا انکے متعلق علم پاکستان کے کسی بھی دوسرے عالم، مولوی، مذہبی سکالر سے ذیادہ ہے۔۔!!آیئے! تعصب اور جانبداری کو ایک طرف رکھتے ہوئے ''مجتہدعصر'' کے متعلق ان دعووں کا کھلے دل اور کھلی نظر سے جائزہ لیتے ہیں۔ اگر ان باتوں کی حقیقت آشکارا ہوجائے تو ان کے بقیہ اُٹھائے ہوئے مباحث کی حقیقت سمجھنا کچھ مشکل نہ ہوگا۔ ہم نے اپنی اس تحریر میں کوشش کی ہے کہ صرف ضروری باتیں ہی کیں جائیں کیونکہ یہ کوئی مقالہ تو ہے نہیں، بات سمجھنے سمجھانے کی ایک مخلصانہ کوشش ہے۔ جتنی صاف ستھری، براہ راست اور پیچیدگی سے پاک ہو اتنی ہی مفید رہے گی لیکن موضوع ایساہے کہ تحریر نہ چاہتے ہوئے بھی طویل ہوگئی ہے اس پر ہم معذرت خواہ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اسے میری قوم کے لوگوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنائے۔ غامدی صاحب کی عربی دانی:. خود غامدی صاحب اور ان کے شاگردوں کا یہ دعویٰ ہے کہ ''اسلامی دنیا میں ان کے پائے کا عربی دان اور عربی زبان وادب پر عبور رکھنے والا کوئی شخص نہیں نیز یہ کہ بڑے بڑے عرب علما ان سے استفادے کے لیے آتے ہیں اور جب غامدی صاحب عربی کے اسباق دیتے ہیں تو یہ علمائے عرب لغت کھول لیتے اور دانتوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں۔'' جب یہ تعلی اور تکبر اہل علم کے سامنے آیا تو انہوں نے اس کی حقیقت بیا ن کرنا اپنا فرض سمجھا۔چنانچہ چند سال پہلے کراچی سے شائع ہونے والے ایک ماہنامے ''ساحل'' (اپریل ومئی 2007) میں مشہور محقق ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی کا تحقیقی مضمون شائع ہوا ہے۔ سچ پوچھیے تو بڑے خاصے کی چیز ہے ، پڑھا تو لطف آگیا۔ لکھنویوں کی اردو، ندویوں کا انداز تحریر اور پھر پچاس سال سے عربی لکھنے لکھانے، پڑھنے پڑھانے والے صاحب علم کی طرف سے محاسبہ ومحاکمہ۔ پڑھتے جایئے اور سر دھنتے جائیے۔غامدی صاحب کی عربی دانی پر تبصرے سے پہلے ماہنامے کے اداریے سے چند سطریں پڑھ لیجیے تاکہ پس منظر وپیش منظر سمجھنے میں آسانی ہو: ''اس دعوی کے جائزے کے لیے ہم نے جاوید غامدی صاحب کے مطبوعہ کام کا بالاستیعاب مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ اپنی ساٹھ سالہ علمی زندگی میں انہوں نے صرف ایک سو بائیس صفحات عربی میں لکھے تھے۔ ان میں سے صرف بائیس صفحات رسالہ ''الاعلام'' میں محفوظ ہیں جبکہ بقیہ سو صفحات جو عربی تفسیر ''الاشراق'' اور ''میراث'' پر ایک علمی رسالے کے لیے لکھے گئے تھے، غامدی صاحب نے ضائع کردیے کیونکہ ان کے قلم سے لکھی گئی عربی ان کے عجمی محض ہونے کی داستان، بڑے کروفر سے سنارہی تھی۔ اس کے باوجود ''المورد'' کی ویب سائٹ پر انہیں الاشراق، مثنوی، خیال و خامہ اور باقیات کا مصنف ظاہر کیا گیا ہے جبکہ یہ تصانیف آج تک شائع نہیں ہوئیں۔ بائیس صفحات کے ایک ایک سطر اور ایک ایک جملے میں عربی قواعد، املا، انشا، زبان، بیان، صرف نحو کی بے شمار غلطیاں اسی طرح در آئی ہیں جس طرح ان کے فکر و نظر اعتقادات اور ایمانیات میں اغلاط اور الحاد کا گردو غبار داخل ہوگیا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ 1982ء میں لکھی گئی یہ غلط سلط عربی تحریر 5 اپریل 2007ء تک المورد کی ویب سائٹ پر جوں کی توں موجود تھی یعنی ستائیس سال میں بھی غامدی صاحب اور ان کے حلقے کی عربی دانی کا ارتقا نہ ہوسکا"۔(بڑے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر کلک کردیں) غامدی صاحب نے الاعلام میں عربی دانی کے جو جوہر دکھائے تھے ان پر ڈاکٹر رضوان علی ندوی کا تبصرہ ملاحظہ فرمائیے۔
''ان مختصر عربی مضامین کے بارے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ ان کے اندازبیان میں وہ عیب ہے جو عربی زبان میں ''عجمہ'' یعنی عجمیت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی ان کی عربی تحریریں پڑھ کر یہ احساس ابھرتا ہے کہ مصنف عربی زبان کے عصری اسلوب سے بے خبر ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی طالب علم کے سامنے قدیم عربی کی کتابیں ہیں وہ ان کے جملے، تشبیہات و استعارات اپنی تحریر میں منتقل کررہا ہے۔ عربی نثرنحوی اغلاط سے پر ہے۔ ان کی تحریروں میں نحو یعنی قواعد زبان کی ایسی غلطیاں ہیں کہ کسی عربی کالج و اسکول کا لڑکا بھی نہیں کرے گا۔ بلکہ دارالعلوم ندوۃ العلماء (لکھنؤ) سے شائع ہونے والے عربی ماہنامے البعث الاسلامی میں لکھنے والے نوجوان ندوی بھی ایسی اغلاط نہیں کرتے۔ "
 اسالیب عربی سے لاعلم یہ عجمی جو ایک مختصر نثر پارہ درست عربی میں لکھنے پر قادر نہیں، اپنے غرور علم میں صحابہ کبار، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، ائمہ، مفسرین اور ماہرین لغت کی عربی دانی کو حقارت سے رد کرتا ہے۔منسکہ تصویر میں آخری لائن میں والسماء ذات الحبک پر تبصرہ گزر چکا ، اسی کے آگے موصوف لکھتے ہیں: واما الذین قالو ان المراد بہ نجوم السمائ، فانہم لم یتتبعوا کلام العرب حق التتبع، ولم یتأ ملوفیما یقتضی موقعہ ہنا، فلم یتبین لہم معناہ، فاخطاؤا وجہ الصواب.''اور جن لوگوں نے کہا کہ اس سے مراد آسمان کے ستارے ہیں تو یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کلام عرب کی اچھی طرح چھان بین نہیں کی اور نہ اس پر غور کیا کہ یہاں کس بات کا موقع و محل ہے۔ اس لیے انہیں اس (ذات الحبک) کے معنی سمجھ میں نہیں آئے اور وہ غلطی کے مرتکب ہوئے"۔غامدی صاحب نے جن لوگوں کو کلام عرب سے جاہل کہا ہیں وہ نسلی عرب اور مشہور آئمہ تفسیر امام حسن بصری و سعید بن جبیر جیسے تابعین اور طبری و زمخشری جیسے ادیب و ماہرین لغت و مفسرین قرآن ہیں ۔ (ملاحظہ ہو: اس آیت قرآن کی تفسیر طبری اور زمخشری میں) ۔غامدی صاحب کے سرپر ایک زمانے میں قرآن کریم کے مقابلے میں آیات سازی کا جنون بھی سوار تھا اور انہوں نے اپنے پاس سے چالیس مہمل، بے ربط اور رکیک جملے گھڑ کر انہیں آیات کا نام دے رکھا تھا اور اسے محفلوں میں سنایا کرتے تھے۔ اس روداد کے نقل کے لیے ہم ایک مرتبہ پھر ماہنامہ ''ساحل'' کے مشکور ہیں۔ صفحہ بہت پرانا تھا اس لیے صحیح سکین نہیں ہوسکا۔ ملاحظہ ہو: 1975ء میں جناب غامدی صاحب ممتاز اہل حدیث عالم علامہ ساجد میر کے بھانجے ڈاکٹر مستنصر میر کی دعوت پر سیالکوٹ تشریف لائے۔ ایک محفل میں جناب غامدی نے قرآن کی وہ چالیس آیات پیش فرمائیں جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ یہ قرآن کے چیلنج کا جواب ہے، چالیس فرضی آیات کی مجلس میں راقم بھی حاضر تھا۔ اس کے علاوہ اسد صدیقی، ڈاکٹر سہیل طفیل، برادر مستنصر میر، ڈاکٹر مستنصر میر، ڈاکٹر منصور الحمید، اسد صدیقی اور دیگر رفقائے خاص اس موقع پر موجود تھے۔ غامدی صاحب نے بعدازاں یہ آیتیں کتابی شکل میں اشاعت کے لیے منڈی مریدکے ایک کاتب سے کتابت بھی کرائی تھیں لیکن کتابت بہت ناقص تھی لہٰذا مسودہ روک دیا گیا۔ دریں اثنا ڈاکٹر مستنصر میر کی زجروتوبیخ کے باعث غامدی صاحب نے مسودہ ضائع کردیا ۔ راقم کے پاس اس مسودے کا ایک ٹکڑا محفوظ رہ گیا تھا۔ حاضر ہے۔ ترجمہ غامدی صاحب کے قلم سےہے: (بڑے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر کلک کردیں)‘‘اقسم بخالق الخیل، والریح الھابة بلیل بین الشرط ومطالع سھیل،ان الکافرلطویل الویل ،وان العمر لمکفوف الذیل ،اقز مدارج السیل وطائع التوبة من قبیل ،تنج وما اخالک بناج’’تصویری فائل میں غامدی صاحب کی عربی دانی کا حال آپ نے ملاحظہ فرمایا، اس ٹکڑہ اور اسکے ترجمہ کتنی غلطیاں ہیں مضمون کی طوالت کے ڈرسے اس پر ہم تبصرہ نہیں کرتے ۔ غلطیاں محض تعبیر واسلوب کی نہیں کہ کوئی کہہ سکے اس طرح کی اصلاح تو ہر ایک کے کلام پر ہوسکتی ہے۔۔۔ نہ حضور نہ۔۔۔۔ یہ غلطیاں اس قسم کی ہیں کہ درجہ اولیٰ کے طالب علم دیکھیں تو انگلیاں دانتوں تلے دبالیں اور منتہی طلبہ پڑھیں تو انہیں زمین آسمان کی نبضیں تھمتی محسوس ہوں۔ آزمائش شرط ہے اور ثبوت کے طورپر مزید ایک صفحہ پیش خدمت ہے جس پر محترم ڈاکٹر رضوان ندوی صاحب کی اصلاح موجود ہے۔ یوں تو پورا صفحہ پڑھنے کے بجائے ایک نظر ڈالنا کافی ہے کہ غلطیاں یوں بکھری ہوئی دکھائی دیتی ہیں جیسے کسی چیچک زدہ منہ پر پھیلے ہوئے مواد بھرے دانے۔ اتنی درخواست ہے کہ پہلے صفحہ کا آخری جملہ اور اس پر ڈاکٹر ندوی صاحب کا تبصرہ ضرور پڑھ لیجیے۔ طبیعت باغ باغ ہوجائے گی۔ غامدی صاحب لکھتے ہیں:(بڑے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر کلک کردیں)''فبھذا السبب کان عمل أعضاء ھذا النوع من الأحزاب أن یقضوا طیلۃ حیاتہم لحصول النجاۃ من سوء نتائج حسابھم ھذا.''پڑھیے اور داد دیجیے کہ ایسی بے معنی، مہمل، بھونڈی، رکیک اور جملہ عیوب سے آراستہ عربیت اور اس پر متکبرانہ دعوی کہ غامدی مکتب فکر ہی عصر حاضر کا وہ طبقہ ہے جو قرآن کی روح سے واقف اور اس کے مزاج سے آشنا ہے۔ خودساختہ فتنہ انگیز مسائل پر دانش وری بگھارنا صرف اس کا حق ہے، آنے والا دور صرف ان کا ہے اور دبستان شبلی کا واحد اور حقیقی جانشین صرف وہی ہے۔اسلامی علوم اور عربیت میں غامدی صاحب اور ان کے لائق شاگردوں (جو 27 سال میں اپنے استاذ کی لکھی ہوئی چند سطریں پڑھ کر ان کی اصلاح نہ کرسکے) کی اہلیت ومہارت آپ نے ملاحظہ فرمائی۔ اسی سے ان کے فتویٰ نما دعوؤں کی علمی حیثیت اور شرعی مسائل پر مجتہدانہ تبصروں کی حقیقت آپ پر واضح ہوگئی ہوگی۔

غامدی صاحب کی قرآن فہمی:. یہ تو معلوم ہوچکا ہے کہ علوم عربیت سے غامدی صاحب کی واقفیت کس قدر ہے؟ آیئے! آج ذرا قرآن فہمی کے حوالے سے ان کے کام کا جائزہ لیتے ہیں جو ان کی تمام کاوشوں کی بنیاد اور سہارا ہے۔ قرآن فہمی کے جھوٹے دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لیے ان کا پہلا اور آخری سہارا عربیت دانی کا دعویٰ ہے کہ وہ عربی لغت اور ادب عربی کو اتنا اچھا سمجھتے ہیں کہ اس کے سہارے قرآن کے معنی و مفاہیم کو خود سے متعین کرسکتے ہیں۔ چاہے اس سے اجماع کا انکار ہو، اسلام کے مسلمہ احکام کی تردید کرنا پڑے یا پھر سرے سے خود قرآن ہی سے ہاتھ دھولیا جائے۔ آنجناب کو ''عربی معلی'' (بامحاورہ عربی) جاننے کا بڑا زعم ہے اور ان کا یہ فرمان مستند سمجھا جاتا ہے کہ خالص عربیت کو سامنے رکھ کر قرآن کا معنی متعین کرنے میں ان کا مدمقابل کوئی نہیں ہے۔ یہ دعوی اتنا ہی لچر اور بے اصل ہے جتنی آنجناب کی عربی سے واقفیت کا زعم۔ ہم اگر اپنے قارئین کو یہ حقیقت سمجھنے سمجھانے میں کامیاب ہوجائیں کہ ان کی عربیت سے واقفیت اتنی ہی ہے جتنی ملعون رشدی کی انگریزی سے تو یہ سمجھنے میں مشکل نہ رہے گی کہ ملعون کو ''سر'' کا خطاب اور غامدی صاحب کو ''اسکالر'' کا اعزاز کس وجہ سے ملا ہے؟  پہلی مثال :سورۃ اعلیٰ میں ہے: ''وَالَّذِیْ أَخْرَجَ الْمَرْعیٰ فَجَعَلَہ، غُثَائً اَحْوٰی.'' غامدی صاحب نے اس کا ترجمہ کیا ہے: ''اور جس نے سبزہ نکالا پھر اسے گھنا سرسبز وشاداب بنادیا۔'' (البیان: صفحہ 165) اس کے علاوہ غامدی صاحب کے فکری ونظریاتی ''امام'' امین احسن اصلاحی بھی اس مقام کا ترجمہ یوں کرتے ہیں: ''اور جس نے نباتات اُگائیں، پھر ان کو گھنی سرسبز وشاداب بنایا۔'' (تدبر قرآن: 311\9) یہ دونوں ترجمے عربیت ،قرآن مجید کے نظائر ،احادیث کے شواہد ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین کے اقوال ، اجماع امت اور اُردو کے تمام مترجمین کے ترجموں کے خلاف ہےاس آیت کا صحیح ترجمہ یہ ہے: ''اور جس نے سبز چارہ نکالا اور پھر اسے سیاہ کوڑا بنادیا۔'' اللہ تعالیٰ اس دنیا میں ہر چیز کی چمکتی دمکتی ابتدا وعروج اور پھر جلد ہی بھولا بسرا فنا وزوال سمجھانا چاہتے ہیں۔ خود تدبر قرآن میں غامدی صاحب کے ''امام'' امین احسن اصلاحی نے جہاں قرآن میں دوسرے مقام پر ''غثاء'' کا لفظ آیا ہے اس کا ترجمہ خس وخاشاک ہی کیا ہے: ''فأخذتھم الصیحۃ بالحق فجعلنھم غثاء'' (المؤمنون: 41) ''تو ان کو ایک سخت ڈانٹ نے شدت کے ساتھ آدبوچا۔ تو ہم نے ان کو خس وخاشاک کردیا۔'' (تدبر قرآن: جلد5، صفحہ 312) ع جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی! غامدی صاحب اور ان کے شیخ اجل کے ذوق اختلاف اور شوق اجتہاد نے یہاں ان سے وہ سنگین غلطی کروائی ہے، جس سے ان کی اہلیت کی قلعی بالکل اس طرح اتر گئی ہے جیسے نقلی زیور کی پالش ایک دھوپ کھاتے ہی پول کھول دیتی ہے۔ دوسری مثال:''وَالسَّمَاءَ بَنَیْنٰھَا بِأَیْدٍ وَّإِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ.'' (الذاریات: 47)غامدی کے شیخ اور امام، اصلاحی صاحب اس آیت کا یہ ترجمہ کرتے ہیں: ''اور آسمان کو ہم نے بنایا قدرت کے ساتھ اور ہم بڑی ہی وسعت رکھنے والے ہیں۔'' پھر اس کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ''أیدٍ کے معروف معنی تو ہاتھ کے ہیں لیکن یہ قوت وقدرت کی تعبیر کے لیے بھی آتا ہے۔ '' (تدبر قرآن: 626\7) اس مقام پر مولانا اصلاحی صاحب کی سنگین غلطی یہ ہے کہ انہوں نے لفظ ''أید'' کو ''ید'' کی جمع سمجھ لیا جو کہ قطعاً غلط ہے۔ ''أید'' کے معنی طاقت اور قوت کے ہیں جیسا کہ دوسری آیت میں آیا ہے: ''واذکر عبدنا داؤد ذاالأید'' اور ہمارے بندے داؤد کا تذکرہ بیان کرو جو قوت والا تھا۔ جمہور مفسرین نے اس کی تصریح کی ہے۔ اب سوچنے کی یہ بات ہے کہ جو لوگ قرآنی الفاظ کے مادوں (Roots) ہی سے بے خبر ہوں اور اس کے دو مختلف الفاظ میں امتیاز نہ کرسکتے ہوں، ان کی عربیت پر کیسے اعتماد کیا جاسکتا ہے؟ اور جب استاد کی عربیت کا یہ حال ہے تو شاگردوں کی تفسیر اور من مانے اجتہادات کا کیا حال ہوگا؟؟ پورے فراہی مکتب فکر کامسئلہ یہ ہے کہ الفاظ کے متد اول معانی کے بجائےغیر معروف و شاذ معانی اختیار کرتا ہے۔ اقوال صحابہ کرام اور تابعین پر اعتماد کرنے پیش کرنے کے بجائے کلام جاہلی سے مثالیں اٹھاتے ہیں۔ جیسے سورہ الزاریات کی آیت ’’المقِّسمٰت امراً‘‘کی تفسیر میں مولانا فراہی اور غامدی نے لغت سےمددلی ، جبکہ تمام مفسرین طبری ، قرطبی، ابن کثیر وغیرہ رحمہ اللہ جنہوں نے اس دو لفظی آیت کی تفسیر سیدنا علی، سیدنا عمر اور سیدنا عبداللہ ابن عباس رضوان اللہ اور ان شاگردوں سے روایت کی ہے 'نے ’’فالمقسمٰت أمراً‘‘ کے معنی فرشتے دیے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف امورِ دنیا پر مامور ہیں اور یہی معنی دوسری صدی ہجری کے دو قدیم ماہرین لغت قرآن الفراء اور ابو عبیدہ معمر بن المثنی نے بھی دیے ہیں۔حتی کہ مشہور عقلیت پسند (معتزلی) مفسر زمخشری نے بھی ان آیات کے وہی معنی بتائے ہیں۔چلیں فراہی اور غامدی قدیم مفسرین کو تو درخور اعتناء نہیں سمجھتے تھے لیکن یقین ہے کہ وہ لغت پسندی کی وجہ سے ان دونوں ماہرین لغت کے مرتبے سے تو واقف تھے پھر بھی یہ لکھ گئے ہیں. ’’جب یہ ثابت ہوگیا کہ سید نا عمراور سید نا علی ، حضرت عبداللہ بن عباس، اور دسیوں تابعین اور ان کے فوراً بعد دو قدیم ترین مشہور ماہرین لغت نے ان چار آیات کے معانی چار مختلف چیزیں بتائی ہیں تو ان کی اس رائے کی کوئی وقعت نہیں رہتی کہ یہ بات نظائر قرآن اور کلام عرب کے خلاف ہے‘‘۔  کیا تیرہ سو سال بعد کا ایک عجمی مصنف ان لوگوں سے زیادہ کلام عرب کا راز داں ہوسکتا ہے۔؟ !! یہ ہے وہ غرور علمی جو کسی کو خاطر میں نہیں لاتا اور اسکو تحقیق اور فقہی اختلاف کا نام دیا جارہا ہے۔ تحریفِ قرآن کی چند مختصر مثالیں:غامدی صاحب کے ہاں تحریف قرآن، تلعب بالقرآن اور مذموم تفسیر بالرائے کی مثالیں بکثرت پائی جاتی ہیں۔ تفصیلی مثالوں کے بعد ذیل میں ہم ان کی کتاب ''البیان'' سے چند مختصر مثالیں پیش کرتے ہیں۔ (1)سورۃ اللہب میں (1)''تَبَّتْ یَدَآ أبِیْ لَھَبٍ''کا ترجمہ یہ کیا ہے: ''ابولہب کے بازو ٹوٹ گئے۔'' پھر اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ''یعنی اس کے اعوان وانصار ہلاک ہوئے۔'' (البیان ص: 260،) کوئی بتائے کہ جناب نے ''ید'' (ہاتھ) کا ترجمہ بازو کس قانون سے کیا ہے؟  (2)سورۃ الاخلاص میں''قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أحَدُ'' کا ترجمہ اس طرح کیا ہے: ''وہ اللہ سب سے الگ ہے۔'' (البیان، صفحہ: 261) ''أحد'' کا ترجمہ ''الگ'' کس قاعدے سے کیا گیا ہے۔ یہ تو ''أبداً، أحدٌ'' کی تختی پڑھنے والے بچے بھی جانتے ہیں کہ ''أحد'' کے معنی ایک ہیں۔ (3)سورۃ الفیل میں''تَرْمِیْھِمْ بِحِجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ''کا ترجمہ کیا ہے: ''تو پکی ہوئی مٹی کے پتھر انہیں مار رہا تھا۔'' (البیان، صفحہ 240) آگے تفصیل میں غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ پتھر قریش کے لوگوں نے لشکر پر برسائے تھے اور پرندے صرف نعشیں نوچنے آئے تھے(شاید غامدی صاحب کے نزدیک یہ بھی اللہ کی طرف سےآنے والے عذاب کی ایک شکل ہے ) ۔ حالانکہ سلف سے خلف تک، تمام مفسرین کرام کا اتفاق اور اجماع ہے کہ اللہ نے پرندے بھیجے تھے جنہوں نے ابرہہ کے لشکر پر سنگ ریزوں اور کنکروں کی بارش کردی اس کے نتیجے میں ہاتھیوں سمیت پورا لشکر تباہ و برباد ہوگیا، آیت کے الفاظ(ارسل علیہم طیرا ابابیل) بھی اسی کی گواہی دے رہے ہیں۔ غامدی صاحب نے اپنے موقف کے لیے تَرْمِیْھِمْ کا مطلب کسی چیز کو بازو یا فلاخن کے ذریعے پھینکنے کے معنی میں لیا ہے حالانکہ یہ بلندی سے نشانہ باندھ کر کوئی چیز نیچے گرانے کے معنی میں بھی ہیں ۔ قرآن کی دوسری آیات بھی گواہ ہیں کہ قرآن میں جہاں کہیں کسی قوم کی ہلاکت و بربادی کے سلسلے میں أَلَمْ تَرَ‌، اَرْسَلَ عَلَیْھِمْ کے الفاظ آئے ہیں، واضح طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے عذاب کے لئے آئے ہیں اور حجَارَة مِّنْ سِجِّیْل کے الفاظ بھی ۔ جیسا کہ سورةالحجر کی آیت 74 میں آئے ہیں وہاں بھی کسی انسان کی طرف سے پتھر پھینکنے گئے پتھروں کے لیے نہیں آئے:جَعَلْنَا عَـٰلِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْ‌نَا عَلَيْهَا حِجَارَ‌ةً مِّن سِجِّيلٍ...﴿ سورۃ ھود ٨٢﴾. ''پھر ہم نے اُس (بستی) کو زیر و زبر کردیا اور اُن لوگوں پر کھنگر کے پتھر برسا دیے۔''  (4)سورۃ البروج میں ''قُتِلَ أصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ. النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدُ.'' کا یہ ترجمہ کیا ہے: ''مارے گئے ایندھن بھری آگ کی گھاٹی والے۔'' (البیان، صفحہ: 157) اور پھر اس کی تفسیر یوں فرمائی ہے: ''یہ قریش کے ان فراعنہ کو جہنم کی وعید ہے جو مسلمانوں کو ایمان سے پھیرنے کے لیے ظلم وستم کا بازار گرم کیے ہوئے تھے۔'' (البیان، صفحہ 157) غامدی صاحب سے پہلے دنیا کے کسی مفسر نے اس آیت کا مصداق قریش کو نہیں قرار دیا ۔ یہ تو پچھلی قوموں میں سے ''خندق والوں'' کے نام سے مشہور قصے کا ذکر ہے جو جمہور مفسرین کے مطابق یمن میں پیش آیا تھا۔ قارئین محترم! یہ ہیں سابقہ محمد شفیق اور حالیہ جاوید احمد غامدی صاحب کی قرآن دانی اور قرآن فہمی کی حقیقت ۔لے دے کے آنجناب کی پونجی میں ایک چیز ایسی رہ جاتی ہے جس کی بنا پر وہ پاکستان کے سب سے بڑے اسکالر ہونے کا بھرم قائم رکھنے کی کوشش کرسکتے ہیں اور وہ ہے جدید علوم سے واقفیت اور انگریزی دانی۔ آیئے! لگے ہاتھوں انکے اس دعوے کی حقیقت کا جائزہ بھی لے لیتے ہیں ۔

 غامدی صاحب کی انگریزی دانی:.
(بڑے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر کلک کردیں)دبستان غامدی سے وابستہ جدیدیت پسندوں کا دعوی ہے کہ حضرت الشیخ الغامدی کئی زبانوں کے ماہر ہیں۔ انگریزی میں مہارت کے ثبوت میں آنجناب کی انگریزی میں فرمائی گئی شاعری کو پیش کیا جاتا ہے۔ یہ شاعری 64 مصرعوں پر مشتمل چار نظموں کو ''محیط'' ہے اور قطع نظر اس کے کہ عربی نثر سے زیادہ بے تکی، مضحکہ خیز اور غنائیت، سلاست وشعریت سے محروم ہے، اسے سرقے کا عالمی شاہکار کہا جاسکتا ہے۔ غامدی صاحب کی یہ چار نظمیں انگریزی کے مشہور شعرا کے کلام سے 'سرقہ' کی گئی ہیں ۔ یقین نہ آئے تو منسلکہ موازنہ پڑھ لیجیے اور غامدی صاحب کے حوصلے کی داد دیجیے کہ کس بے باکی اور جی داری سے نامی گرامی شعرا کی مشہور زمانہ نظموں سے سرقہ کیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہمیں اس پر تعجب تو ہوا لیکن کچھ خاص نہیں اس لیے کہ حضرت غامدی صاحب جب صحابہ کرام وتابعین عظام رضی اللہ عنہم نیز ائمہ مجتہدین اور اُمت کے اکابرین کے علمی مقام ومرتبے کا لحاظ نہیں رکھتے تو انگریزی شعرا کی کیا حیثیت کہ ان کے کلام پر ہاتھ صاف کرتے ہوئے انہیں کچھ جھجھک محسوس ہوئی ہوگی یا تکلف آڑے آیا ہوگا۔

غامدی صاحب کی جدید علوم سے واقفیت:.اس بات کا پرچار بھی بڑے زوروشور سے کیا جاتا ہے: ''غامدی صاحب، مغربی فکر وفلسفے پر عبور رکھتے ہیں جبکہ علمائے کرام اگرچہ دینی علوم میں رسوخ رکھتے ہیں لیکن جدید علوم اور سائنس وفلسفہ سے آشنا نہیں اس لیے سکہ بند قول تو وہ ہے جو حضرت الغامدی صاحب کی زبان عالی سے ارشاد ہو۔ مانا کہ غامدی طبقہ کو عربی یا انگریزی نہیں آتی، اسلامی علوم میں عبور نہیں، لیکن یہ پڑھا لکھا روشن خیال طبقہ مغرب اور مغربی علوم سے تو واقف ہے۔'' واقعہ یہ ہے کہ قدیم یونانی منطق و فلسفہ (جس میں اہل مدارس محققانہ بصیرت رکھتے ہیں) کی طرح غامدی صاحب اور ان کے شاگردان رشید جدید مغربی فلسفہ اور جدید سائنس کی حقیقت سے بھی واقف نہیں۔ اس کی دو دلیلیں ہیں:  (1)غامدی صاحب کے قائم کردہ اکیڈمی ''المورد'' کے نصاب میں جدید علوم، فلسفہ، سائنس، سوشل سائنسز شامل تھے نہ ہیں۔ یونانی فلسفہ تو ویسے ہی شامل نہیں۔ مغربی فکر وفلسفے پر پورے غامدی مکتب فکر کا کوئی کام نہیں۔ اور غامدی صاحب تو کیا ان کے استاذ محترم امین احسن اصلاحی صاحب اور استاذ الاستاذ حمید الدین فراہی صاحب دونوں حضرات بھی مغربی فکر وفلسفے سے قطعاً ناواقف تھے۔ جب بانیان مکتب کا یہ حال ہے تو وابستگان مکتب کی حالت جانچنا کچھ مشکل نہ ہونا چاہیے۔ مزیدان بیس پچیس سالوں کے ''دانش سرا'' کراچی سے لے کر ''المورد'' لاہور تک غامدی صاحب کے کام کو اگر دیکھا جائے تو آنجناب کی تمام تر قوت اسلامی اقدار اور روایات کو متنازعہ بنانے، مسلمانوں کو اسلام کی مبارک حدود وقیود سے آزادی دلانے اور اکابرین امت کی توہین وتردید پر صرف ہورہی ہے۔ ان کی تحریر وتقریر میں اسلام کے مسلمہ اُصولوں اور اجماعی مسائل کے خلاف تو آپ کو بہت کچھ ملے گا لیکن کسی ایک تحریر یا تقریر میں۔۔۔۔۔۔ میں دہراتا ہوں۔۔۔۔۔۔ کسی ایک تحریر یا تقریر میں مغربی استعماریت، صہیونیت، صلیبیت، جدیدیت، سرمایہ داریت، اشتراکیت او رمستشرقین کے اسلام پر رکیک حملوں اور نازیبا الزامات کے خلاف ایک لفظ نہیں ملے گا۔ ان کا سارا زور اس پر ہے کہ ٹوپی نہ پہنی جائے۔ شلوار گھسیٹ کر چلا جائے۔ عورت کے سرپر چادر نہ رہے، وہ مردوں سے بے حجابانہ ہاتھ ملائے اور بے باکانہ گفتگو کرے ، موسیقی سنی جائے تاکہ اسلام کی وہ حقیقی شکل لوگوں کے سامنے آئے جو ملاؤں نے ''چھپا'' رکھی ہے۔ جناب کا اس سے جو وقت بچ جائے وہ مولویوں کی برائی اور غیبت میں صرف ہوتا ہے کہ انہیں کچھ اتا پتا نہیں، یہ صرف فرقہ واریت پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں ۔ حالانکہ خود آنجناب کی بھی پاکستانی معاشرے میں رائج برائیوں، بدعنوانیوں اور بے دینی کے رجحانات ختم کرنے پر کوئی توجہ ہے نا دینی علوم یا مغربیت کی لادینیت، جدید فلسفہ، جدید فتنہ خیز نظریات، سائنس، ٹیکنالوجی کے بارے میں کچھ خبر ہے اور نہ ان کے حلقے میں ایسے افراد ہیں جو ان چیزوں کا ذوق رکھتے ہوں۔ البتہ ملا حضرات نہ صرف راسخ علم اور استعداد رکھتے ہیں بلکہ وہ اسلامی تحقیقات اور عصر حاضر کے بارے میں بدرجہا بہتر اور تازہ معلومات رکھتے ہیں اور ہرجدید مسائل پر دینی نقطہ نظر اور مدلل اور معقول تشریحات پیش کرچکے ہیں، فلسفہ کے موضوع پر علما کی پانچ کے قریب کتابیں تو ہمارے اس بلاگ پر بھی موجود ہیں۔  (2) غامدی صاحب نے ساٹھ سال کی عمر تک کتابی شکل میں اُردو نثر کے نو سو صفحات تحریر فرمائے ہیں۔ ان تمام تحریروں میں ایک جگہ کے علاوہ کسی مغربی فلسفی یا مفکر کا کوئی حوالہ نہیں ملتا اور جو پہلا اور آخری حوالہ مغربی فلسفی ہیگل کا انہوں نے دیا ہے وہ مکمل طورپر غلط ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم وجدید علوم کا جامع ہونے کی حقیقت کیا ہے؟ یہ حضرات جو جدید فلسفہ پر ایک سطر نہیں لکھ سکے جدید فلسفیانہ مباحث کو سمجھنے یا اس پر نقد کرنے کی کیا اہلیت رکھتے ہوں گے؟

 بھان متی کا کنبہ:.یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ غامدی صاحب نے اپنی اس لیول کی 'قابلیت 'کے باوجود اتنا علمی مواد کیسے لکھ لیا ہے، بہت سےلوگووں نے اس پر تحقیق کی، جو کچھ سامنے آیا وہ اندازے کے مطابق اور دلچسپ تھا، چند اشارے ملاحظہ فرمائیں : قانون میراث پر انکی تحقیق ابوالجلال ندوی کے مضمون میراث اور اسلم جیراج پوری کے الوارثت فی الاسلام کا "کامل سرقہ" ہے ۔ زکوۃ اور میراث پر غامدی صاحب کے سرقوں کی مزید حقیقت معلوم کرنے کے لیے ادارہ تحقیقات اسلامی کے سابق صدر ڈاکٹر فضل الرحمن کی تحریرات اور ابو الجلال ندوی کی کتاب ربوہ ،زکوۃ اور ٹیکس دیکھی جاسکتی ہے ۔قرآن سے مختلف فقہی مسائل کا استنباط عمر عثمانی اور طاہر مکی کی کتاب فقہ القرآن کے دلائل، آثاراور امثال کی "حسین نقل" ہے ۔ رجم پر غامدی صاحب کی تمام تحقیق اور تکبر، تملق وتفرد اور صرار درحقیقت فقہ القرآن کی ہی ا یک جلد " حقیقت رجم " کا سرقہ ہے ۔ رجم کا سورہ مائدہ سے اثبات و استدلال حمید الدین فراہی کے موقف کا اعادہ ہے ۔ میزان کے کئی صفحات امین احسن اصلاحی کا لفظ بلفظ سرقہ ہیں، البیان میں غامدی صاحب کا نقظہء نظر کہ یہود ونصارى جنتی ہیں ، جو بھی توحید کا اقرار کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے وہ جنتی ہے ۔ رسالت محمدی صلى اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ضروری نہیں، وحدت ادیان قرآن سے ثابت ہے، جن یہودیوں اور نصرانیوں سے قرآن نے ترک موالات کا حکم دیا وہ خاص جزیرۃ العرب کے تھے آج کے نہیں وغیرہ' وحدت ادیان کے عالمی مکتبہ فکر روایت کے بانی " رینے گینوں" کا تتبع اور " مارٹن لنگز" کے مضمون "wtth all thy mind"کا ہو بہو سرقہ ہے ، سنت ابراہیمی کی روایت کا ملحدانہ استدلال " جواد علی" کی کتاب " المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام" کی معلومات سے سرقہ کیا گیا ہے ۔ بنو امیہ، بنوعباس کی تاریخ، واقعہ کربلا ، اور شہادت حسین کے واقعات پر مبنی تاریخ سے انکار کا غامدی نقطہ نظر انکا ذاتی نہیں بلکہ حکیم محمود عباسی ،حکیم علی احمد عباسی ،حبیب الرحمن کاندھلوی اور مفتی طاہر مکی کی فکر کا چربہ ہے ۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر کے سلسلے میں غامدی صاحب کی تحقیق حکیم نیاز احمد کی کتاب کا حرف بحرف چربہ ہے ، غامدی صاحب کی انگریزی شاعری جو چار نظموں اور چونسٹھ مصرعوں پر محیط ہے " شکسپیئر" اور "کیٹس " کی شاعری سے چرائے گئے مصرعے ہیں۔ 
چند عاجزانہ گزارشات:. ٭۔۔۔۔۔۔غامدی صاحب سے درخواست ہے کہ آپ نے آج تک اسلام کے دفاع اور مستشرقین کے اسلام پر حملوں کے خلاف ایک لفظ نہیں کہا، نہ سہی، لیکن خدارا! امت کے اجتماعی اور متفقہ مسائل میں اختلاف کا رخنہ ڈال کر اپنا اور قوم کا ایمان برباد نہ کیجیے۔ ایک نئے فرقے کا اضافہ نہ کیجیے اور روز محشر کی حشر سامانیوں سے ڈریے! جہاں کوئی سایہ، کوئی پناہ گاہ نہ ہوگی۔ آپ آج خلق خدا کے سامنے اپنے ایک دعوے کو درست ثابت نہیں کرسکتے، کل عالم الغیب کے سامنے امت کی بھنور میں پھنسی کشتی کو مزید ہچکولے دینے پر کیا جواب دیں گے؟ ٭۔۔۔۔۔۔غامدی صاحب کے شاگردوں سے گزارش ہے کہ وہ ہر طرح کے تاثر اورتعصب سے پاک ہوکر پیش کیے گئے دستاویزی ثبوتوں کی روشنی میں سوچیں اور غور کریں کہ کہاں اجتہاد کا مقدس علمی منصب اور کہاں یہ ہفوات اور علمی سرقے؟ جو شخص عربی کی ابتدائی باتیں نہیں جانتا، اپنا نام صحیح نہیں لکھ سکتا، اسے اپنا امام، شیخ یا مقتدا ماننا اور اس کی تقلید کرتے ہوئے امت کے متفقہ موقف سے انحراف کرنا کہاں کی عقل مندی ہے؟ ٭۔۔۔۔۔۔ چینل مالکان جو غامدی حضرات کو اہل علم ودانش سمجھ کر اپنے چینل پر وقت دیتے ہیں ' سے عرض ہے کہ وہ بلاوجہ دہرے گناہ بے لذت کے مرتکب ہورہے ہیں۔ قوم کے نظریات میں بھی الحاد پیدا ہورہا ہے اور علم کے نام پر جہالت اور دین کے نام پر بے دینی بھی پھیل رہی ہے۔ ٭۔۔۔۔۔۔میرے جو ہم مذہب وہم وطن بھائی غامدی صاحب کی علمیت وصلاحیت اجتہاد کے معترف ہیں ازراہ کرم وہ اتنا کرلیں کہ کسی پروگرام کے سوال وجواب کے سیشن میں ان سے یا ان کے شاگردوں سے پوچھ لیجیے کہ آپ عربی ، انگلش كی چند سطریں درست طرح سے نہیں لکھ سکتے تو ضخیم تفاسیر اور ذخیرہ احادیث سے کیسے استفادہ کرلیتے ہیں؟ چلیں جانے دیجیے بائیس صفحات ضرب بائیس اغلاط کو، صرف مذکورہ بالا عربی جملے (جو مضمون کے شروع میں گزرے) کا مطلب بتادیجیے۔ اگر غامدی مکتب فکر کے دو تین مجتہدین اور پانچ دس مفکرین مل کر اپنے مجتہد اعظم کے ایک جملے کو درست ثابت نہیں کرسکتے تو میرے سادہ لوح ہم وطن بھائیوں کو مان لینا چاہیے کہ اصل ورثاءعلوم نبوت ، علمائے حق جو بات کررہے ہیں فی اللہ کہہ رہے ہیں۔ ٭۔۔۔۔۔۔میرے جوجدید تعلیم یافتہ نوجوان دوست علمائے کرام کے بیانات میں دلچسپی نہیں لیتے کہ اس کے لیے ٹوپی پہن کر مسجد جانا پڑتا ہے اور چینلوں پر آنے والے ڈاکٹرز، اسکالرز کو پسند کرتے اور ان کی آزاد خیالی سے لطف اندوز ہوکر ان کو دین کا حقیقی ترجمان سمجھتے ہیں، ان سے التماس ہے کہ منسلکہ شاعری پڑھیے۔ یہ بے جا اور مضحکہ خیز کلام کیا اس قابل نہیں کہ Percy Wyndham Lewis کی مرتبہ کتاب The Stuffed owl میں شامل کیا جاسکے؟ آپ کو تو معلوم ہوگا کہ اس کتاب کے مرتب نے انگریزی کے بھونڈے اشعار سے نادر انتخاب کیا تھا۔ تھوڑی دیر کے لیے سوچیے! کیا آپ کا دل مانتا ہے جو شخص عالمی سطح کے معروف کلاسیکل لٹریچر پر اس دھڑلے کے ساتھ ہاتھ صاف کرسکتا ہے وہ آپ کو قرآن وحدیث کے حوالے دیتے وقت (جن کا پس منظر آپ قطعاً نہیں جانتے) انصاف ودیانت سے کام لیتا ہوگا؟نہیں میرے عزیز! ہرگز نہیں۔ غامدی صاحب توبہ کریں نہ کریں آپ کو ان کی عقیدت سے توبہ کرلینی چاہیے۔ جو لوگ حقیقت میں دین کی سمجھ رکھتے ہیں، دینی علوم کے شعبہ سے وابستہ ہیں ، وہ جیسے بھی ہوں کم ازکم دینی معلومات کی فراہمی میں بددیانتی سے کام نہیں لیتے۔ یہ وہ وصف ہے جو آپ کو نام نہاد ڈاکٹرز، اسکالرز کے ہاں نہ ملے گا۔ کسوٹی ہم نے آپ کے ہاتھ میں دے دی ہے۔ حقیقت کو پرکھنا اور ہدایت کی تلاش کرنا آپ کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی راہنمائی فرمائے اور ہر قسم کے فتنے سے میری اور آپ کی حفاظت فرمائے۔

Pages