سعدیہ سحر

ہم اور معاشرہ

یوں تو لکھا یہ پچھلے برس تھا فیس بک پر شئیر کیا تھا ۔ مگر بلاگ ویران پڑاتھا اب بلاگ پر شئیر کر رہی ہوں 


ادھر ادھر سے

سوشل میڈیا پر کچھ بھی لکھا جائے ۔ کچھ دیر میں وہ کسی اور کے نام سے گردش ہو رہا ہوتا ہے میں نے امیج بنانا شروع کیا ۔ لوگ بھی کمال کے ہیں ۔ نام ایڈیٹ کر دیتے ہیں پتا نہیں اتنی محنت کرتے ہیں اس سے کم وقت میں اگر دماغ پر زور دیں تو زیادہ اچھا لکھ سکتے ہیں ۔ مگر کچھ نہ کچھ تو کرنا ہوتا ہے زندہ لوگوں نے ۔ بلاگ پر تحریر محفوط تو رہتی ہے جب تک بلاگ ہے

توہینِ انسانیت

قصور کے واقعے کے بعد لاہور کے ہوٹل کی وڈیو دیکھی ۔۔ اسے شئیر کرنا مناسب نہیں ۔ وہ کلپ بہت سے لوگوں نے دیکھا ہوگا ۔ حیرت ہے کسی کی غیرتِ ایمانی نہیں جاگی ۔ دل چاہ رہا ہے جہلم کے لوگوں کو وہ ووڈیو دیکھاؤں کتنے لوگ لاٹھی ہاکی بیٹ جو ھاتھ لگے اینٹ پتھر لے کر گھر سے نکل آئیں گے کلمہ گو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہنے والے مسلمان کیسے قومِ لوط کے نقشے قدم پر چل سکتے ہیں کسی بھی ایمان بھرے دل کے مالک انسان سے یہ برداشت ہو سکتا ہے کوئ قرآن کے حکم کو پسِ پشت ڈال دے یقینا ایسے ہوٹلوں کے اور ایسے لوگوں کو زندہ جلا دیں گے یہ قرآن کی توہین ہے جسے پڑھ کر چوم کر گھر کی سب سے اونچی جگہ رکھا جاتا ہے ۔ اس کا ایک ورق بھی اگر کوئ ذات کا کمی چھو لے تو بے حرمتی ہو جاتی جواب میں ایسے کافروں کو زندہ جلا کر اپنی جنت پکی کی جاتی ہے ۔ دنیا میں جلانے کی سزا کافر کو دی جا سکتی ہے مسلمان قیامت تک آزاد ہیں ان کی جنت اور جہنم کا فیصلہ بہت پیار سے اللہ تعالیٰ کریں گے ستر ماؤں جتنا پیار اللہ اپنی مخلوق سے نہیں صرف مسلمان سے کرتا ہے ۔ 
قرآن پر ہاتھ رکھ کر جھوٹی گواہی دی جا سکتی ہے ۔ جھوٹی قسم کھائ جا سکتی ہے ۔ اس سے عورتوں سے نکاح کیا جا سکتا ہے ۔ مردوں کے بنائے گے معاشرے کے مردوں نے سمجھا شاید قرآن کو بھی نکاح کی حاجت ہے ۔گھر کی بہنوں بیٹیوں کا نکاح قرآن سے کر انھیں ایک بیوہ سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ کوئ اس روایت کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا کیونکہ برسوں پرانی روایت ہے سب اس کے عادی ہو چکے ہیں ۔ اور سوچنے سمجھے کیکچھ کہنے کی ضرورت نہیں ۔۔ پاکستانی بہت جذباتی قوم ہیں ۔ معاشرے کی برائیوں کو دیکھ کر جذباتی کیوں نہیں ہوتے ۔ اپنے اندر کی دبی ہوئ بھڑاس کمزور کو مار کر نکالتے ہیں - کبھی کبھی ایسا لگتا ہے قوم نفسیاتی مریض بن چکی ہے ایک باپ اپنی بیٹی کو روٹی گول نا بنانے کے جرم میں مار دیتا ۔ دوسرا باپ بیٹی کو اپنی پسند کی شادی کرنے کے جرم میں اینٹیں مار مار کر ہلاک کر دیتا ۔ چوری کے شک میں دو بھائیوں کے پورا شہر مل کر تشدد کرتے کرتے مار دیتا ہے ۔ پھر یہ لوگ ایسے لوگوں پر رحم کیسے کر سکتے ہیں جو نا ان کے فرقے کے ہیں نا مذہب کے جو ان کی نظر میں ویسے بھی کافر ہیں انھیں مارنے کا تو ویسے بھی ثواب کا کام ہے ۔۔۔۔ ثواب کا کام کرنے میں مسلمان کیسے دیر کر سکتا ہے ۔۔۔زرا بتائیں کہیں قرآن کی بے حرمتی تو نہیں ہو رھی ۔۔۔۔۔ کچھ دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں حقیقت کیا ہے واقعہ کیا تھا میں ریڈی ہوں کہاں آگ لگانی ہے ماچس بھی پاس تیر تلوار تو پاس نہیں پھر بھی کچھ نا کچھ تو مل ہی جائے گا کھاٹ کباڑ گلی کوچوں سے مل جائے گا آگ بھڑکانے کے لیے ۔۔۔توہین انسانیت ہم برداشت کر سکتے ہیں انسانیت کے بارے میں ہمارا مذہب کیا کہتا ہے ۔۔ چھوڑیں ۔۔۔ بچوں سے زیادتی ہو رہی ہے ۔۔ ہونے دیں ۔۔۔۔ غریبوں کے بچے ہیں ۔۔۔ لا وارث ۔۔۔۔ مر بھی گئے تو ۔۔۔دفنانے والا بھی نہیں ہو گا ۔۔۔۔۔ دھرتی کا بوجھ 

تضاد

پاکستان سے لوگ یورپ آتے ہیں امریکہ کینیڈا جاتے ہیں ۔ گھر والے قرض لے کر گھر کی عورتیں اپنا زیور بیچ کر اپنے بیٹوں اور شوہروں کو پردیس بھیجتی ہیں کئ رستے میں مارے جاتے ہیں ۔ باقی برسوں محنت کرتے اپنی زندگی سیٹ کرنے کے لیے ۔ جو بھی یہاں آتا ہے اس کا مقصد یہاں تباہی مچانا نہیں ہوتا ایک بہترین مستقبل اور پاکستان میں اپنے گھر والوں کو سپورٹ کرنا ہوتا ہے ۔ جب بھی کو ئ دھشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے تو ان سب لوگوں کو نفرت اور ہر طرح کے ری ایکشن کا سامنا کرنا پڑتا ہے  لوگ فرانس کے واقعے کے بعد جن لوگوں نے اپنی ڈی پیز فرانس کے پرچم کے ساتھ لگائے ہیں انھوں لعن طعن کر رہے ہیں -جتنے بھی لوگ فرانس کا پرچم لگا رہے ہیں ان کا مطلب یہ ہر گز نہیں انھیں پاکستان یا اسلام سے محبت نہیں ۔ اس کا صرف ایک مقصد ہے وہ دھشت گردوں کے ساتھ نہیں ۔ جن کے دل میں اسلام کا درد جاگا ہوا ہے پاکستانیت جن میں کھوٹ کھوٹ کر بھری ہوئ ہے ۔ روزانہ کسی نا کسی اسلامی ملک میں  درجنوں لوگ مر رہے ہیں وہ کیا کرتے ہیں ؟؟ پاکستان میں ھزارہ کمیونٹی کے ھزاروں لوگ مارے گئے کیا ہوا ؟؟ درباروں مزاروں مساجد میں بے گناہ مارے گئے تو یہی لوگ صفائ پیش کرتے نظر آتے ہیں یہ کس وجہ سے کر رہے ہیں تب صرف صفائ دیتے نظر آتے ہیں - مذمت کرنے کی بھی توفیق نہیں ملتی ۔ اور اگر ان کا یا ان کے بیٹوں کو یورپ اور امریکہ کا ویزہ مل جاتا ہے تو خوشی سے لڈو بانٹتے نظر آتے ہیں 
ٹی وی پر خبر آرہی ہے دوسری جنگِ عظیم کے بعد فرانس میں پہلی بار اتنے لوگ اتنے لوگ مارے گئے ہیں  - سارا یورپ ایک ساتھ اکھٹا کھڑا ہے  - مسلم امہ کا شور مچانے والے کب اور کہاں اکھٹے ہوئے تھے  ایک محلے کی مسجد میں لوگ مارے جاتے ہین تو فرقہ دیکھ کر افسوس کرتے ہیں - مگر چاہتے ہیں دنیا ہمارے دکھ کو محسوس کرے  جب ہم خود اپنے دکھ کو محسوس نہیں کرتے تو دنیا کو کیا پڑی ہے  کتنے ملک تباہ ہو گئے مسلم امہ کیا ایک ساتھ کھڑی ہوئ کہ اگر کسی مسلم ملک کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا تو ہم ایک ہیں -یہ دکھ نا قابلِ برداشت ہے لوگ فرانس کے دکھ میں دکھی کیوں ہو رہے ہیں  - جب تک تضاد ختم نہیں ہوں گے ہم مار کھاتے رہیں گے 

نومبر کے کچھ فیس بک کے سٹیٹس

چند لفظوں کی کہانیایک دفعہ کا ذکر ہے ۔ گیارہ ستمبر کو امریکہ کے ٹاروز پر حملہ ہوا ۔ کہا گیا یہ حملہ طالبان نے کیا ہے
دنیا میں شور مچا ۔ طالبان نے کہا سوری
اور پھر سب ھنسی خوشی رہنے لگے

.........................................................................................
یورپین ممالک کے سربرہان میرے فیورٹ ہیں ۔ ان کا ایک شہری بھی مارا جائے تو طوفان اٹھا دیتے ہیں ۔ ہمارے وزیراعظم سے ایک انٹر نیشنل ادارے کی اینکر انٹرویو لیتے ہوئے کہتی ہے پاکستان کے حالات ٹھیک نہیں نو جوان ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں ۔
اور ہمارا وزیر اعظم کہتا ہے تو جائیں روکتا کون ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ اینکر حیرت سے اگلا سوال بھول جاتی ہے
..................................................................................
پاکستانی جمہوریت میں اتنا حسن کہ وہ ملکہ حسن بن سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تالیاں

...........................................................................................
یورپ میں عام شہری پاسپورٹ اپنے پاس نہیں رکهتے .. یورپ بهر میں سفر کرنا ہو تو شناختی کارڈ کافی ہوتا ہے ..... دهشت گرد اپنی شناخت کے لئے پاسپورٹ ساتھ لے کر گهومتے هیں ......
.....................................................................
فیس بک پر اندازہ ہوا ... شیطان کے پاس انٹر نیٹ ہے ... وہ بھی فیس بک پر ہے خود کچه شئیر نہیں کرتا اور آپ کو بهی شئیر کرنے سے روکتا ہے

..............................................................
پیزس حملے کے بعد سے سوچ رہی ہوں ... کون سے مسلم ملک کی ہڈیاں زیادہ مضبوط ہیں . جو توڑنے کے قابل ہیں . عراق کی ابهی تک آہیں نکل رہی ہیں ... ادهر سے سوری آچکا ہے
....................................................................
ہر ایکشن کا ری ایکشن ہوتا ہے ۔۔ یہ اس بات پہ منحصر ہے ری ایکٹ کرنے والا کتنا پاور فل ہے
........................................................
دنیا میں کہیں بھی کوئ دہشت گردی کا واقعہ ہو ۔۔۔۔۔۔ سب سے پہلا سوال ہوتا ہے ۔ دھشت گردوں کا تعلق کہاں سے ہے ۔۔۔۔۔۔ اگر مسلمان ہوں تو ذہنی طور پہ تیار رہنا پڑتا ہے لوگوں کی نظروں کا..............................................................اگر اظہار یکجہتی کے لیے ڈی پی رنگین کرنی ہوگی ۔ تو مجھے بہت سے ممالک کے پرچم چائیے
........................................................................لاش کا کوئ مذہب نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئ بھی مرے مرتے انسان ہیں
...............................................................................ابھی ایک پوسٹ دیکھی جس میں لکھا تھا جو مسلمان ہے وہ اسے ضرور شئیر کرے گا ....اور میں نے شئیر نہیں کیا .... مفتیان فیس بک کیا کہتے ہیں . تجدیدِ ایمان کے لیے خود ہی کلمہ پڑھ لوں یا کسی مولانا کے پاس جاوں ،؟؟؟؟.....................................................................




خبریں اور تبصرے

کراچی میں بارش ہونے پر حکومت نے سکون کا سانس لیا ۔۔۔۔ موسم ٹھنڈا ہونے پر لوگوں کا مزاج بھی ٹھنڈا ہونے کی توقع ہے ۔۔۔ ویسے تو گرمی کی شدت سے سنا ہے دو ڈھائ سو لوگ ٹھنڈے ہو کر ایدھی کے کول ہاؤس میں پہنچ گئے ہیں ۔ 
شہر میں کئ مقامات پر لوگوں کی قطاریں لگی ہوئیں ہیں جیسے من و سلویٰ مفت میں تقسیم ہو رہا ہے معلوم کرنے پر پتا چلا برف بک رہی ہے ۔ لوڈ شیڈنگ نے فرج کو بھی پانی پانی کر دیا ہے ۔۔۔۔۔
محترم وزیرِاعظم کا فرمان ہے بجلی کے مسلے کو جنگی بنیادوں پر حل کیا جائے ۔۔۔۔۔اور واقعی وہی ہو رہا ہے جنگی حالات میں ہوتا ہے ۔۔۔ شہر بھر میں بلیک آؤٹ 
بی بی نے مرنے سے پہلے قاتلوں کے خلاف ایف آئ آر کٹوا  دی تھی ۔۔۔ ان کے قاتلوں کو معاف نہیں کیا جائے گا ہم اپنے پانچ برس کے دورِ حکومت میں خواب کی کیفیت میں تھے کہ ۔۔ ہم بر سرِ اقتدار آچکے ہیں ۔۔۔۔پانچ برس حکومت بچانے کے لیے جوڑ توڑ میں  اور دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں لگے رہے کیونکہ دونوں ہاتھ اور دماغ جوڑ توڑ میں مصروف تھا اس لیے قاتلوں کی طرف نہیں گیا - اب اپنےدھواں دھار  بیان کے بعد بی بی کا کارڈ کھیلنا  نا گزیر ہو گیا تھا  ۔۔۔۔۔
سیاستدانوں کو اپنے مسائل  افہام و تفہیم سے حل کرنے چاھئیے ۔۔ خورشید شاہجب ایک ہی تھالی میں کھانا ہو تو مل جل کر کھایا جائے تو برکت ہوتی ہے ورنہ تھالی ہی الٹ جاتی ہے  ۔ 
بجلی کی بندش کے خلاف  ۔۔ شہریوں کا احتجاج حسب معمول  ٹائر جلائے گئے  ۔  آسمان  آگ برسا رہا تھا ۔  لوڈ شیڈنگ نے زندگی اجیرن کر دی تھی  ۔ تو عوام پیچھے کیوں رہتے  ۔ اپنا حصہ تو ڈالنا تھا 

محنت ایمانت اور دیانت جیسے سنہرے اصول اپنا کر پاکستان کو ترقی کی منازل سے ہمکنار کریں گے  ۔۔۔۔ قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے خادم ِ اعلیٰ نے فرمایا یہ مستقبل کے پلان ہیں   عوام فی الحال بیان پر گزارہ کریں 
 لوڈ شیڈنگ کا جن قابو سے باہر  ۔۔۔۔۔۔ویسے تو مہنگائ کا جن  ۔۔۔ کرپشن  کا جن بھی  قابو سے باہر ہو چکا ہے ----- جنوں کو قابو کرنے والے عاملوں  سے رابطہ کریں  ۔ کیا پتا وہ کوئ طریقہ نکال لیں ---
چائنا کٹنگ میں بڑے بڑے نام آتے ہیں -----فیشن ڈزائینرز کے نہیں سیاست سے وابستہ لوگوں کے نام ہیں ۔۔۔  یہ کوئ ہیئر اسٹائل نہیں زمینوں پر غیر قانونی قبضے کی  کٹنگ ہے کروڑوں روپے انتخابات  میں لگانے والے چند ہزار کے لیے تو اقتدار میں نہیں آتے پیسے بھی تو پورے کرنے  ہوتے ہیں پورے سود کے ساتھ  

غیرت کے نام پر اپبی بیوی کو قتل  کر دیا ۔۔۔ غیرت کے نام پر کرنے کے واقعات اخبار کی زینت بنتے رہتے ہیں ۔ جو کہ معمول کی بات  ہے ۔ خبر تب ہو گی جب کوئ ماں یا بیوی اپنے بد کردار بیٹے یا  شوہرکو غیرت کے نام پر قتل کر دے گی ۔۔۔۔ غیرت صرف مردوں میں پائ جاتی ہے جس کا وہ اظہار آئے دن تیزاب پھینک کر یا ناک یا گلا کاٹ کر کرتے رہتے ہیں ۔۔۔

زندگی کے موسم



وسیع اور پر شکوہ چار منزلہ بلڈنگ کوئ بھی گزرتے ہوئے سرسری نظر کے بعد کچھ دیر کھڑے ہو کر غور سے ضرور دیکھتا ہے خوبصورت لان قطار میں لگے پودے اور کیاریوں میں بہار دیکھاتے پھول چھوٹے بڑے فوارے کونے پر بنی مصنوعی آبشار جس کا پانی جل ترنگ بکھیر ے رکھتا ہے  داخلی دروازے کے بائیں  جانب پر وال ٹو وال شیشے کے دروازے اور کھڑکیوں  پر مشتمل کیفے ٹیریا   جس میں بیٹھ کر آپ باہر کے نظارے سے دل بہلا سکتے ہیں دائیں جانب لائیبریری ساتھ  وسیع اور روشن ٹی وی لاؤنج  اس میں بیٹھے باتیں کرتے ھوئے اور ہنستے ہوئے لوگ دوسری جانب ریلیکس روم جہاں آپ اپنا وقت خاموشی سے گزار سکتے ہیں سائیڈ پہ ایک پیانو دھرا ہے سامنے ایک لمبا کوریڈور دونوں جانب کمرے بنے ہیں چلتے ہوئے اپنا مطلوبہ نمبر نظر آیا ہلکے سے دستک دی دروازہ کھولا سامنے ایک اجلے رنگ کی بزرگ خاتون دراز تھی میں انھیں نہیں جانتی تھی میری دوست کی فیملی ملنے جا رھی تھی میں بھی ان کے ساتھ ملنے چلی گئ اتنے لوگوں کو دیکھ کر کھل اٹھی سب کا حال پوچھ رھی تھیں ۔ اپنے بچوں کی باتیں بتا رھی تھیں ۔ خود ہی سوال کرتی خود ہی جواب دینے لگتی باربار اپنے سب بچوں ذکر کر رھی تھیںاحمد نہیں آیا ۔۔۔۔۔ ہاں بیچارے کی طبیعیت ٹھیک نہیں تھی ایسی لیے نہیں آیا ہوگافوزیہ نے کتنے دن سے فون نہیں کیا ۔۔۔۔ اس کی بیٹی کے گھر میں مسلہ چل رھا تھا بس اسی کی پریشانی میں فون نہیں کیا ہوگا  اللہ اس کی پریشانیاں دور کرے قانتہ  ملنے کیسے آ سکتی ہے اسے تو خود جوڑوں کا درد ہے تھوڑی دیر بعد انھیں اپنے کسی بچے کا خیال آتا  - پھر خود  ہی اس کی مجبوری  بیان کرنے لگتیں ہم لوگ کچھ دیر ان کے پاس بیٹھ کر اٹھ آئے یہ  یہاں کا اولڈ ہوم  ہے ۔ یہاں لوگ  اولڈ کہلانا پسند نہیں کرتے  ستر پچھتر برس کی عمر میں بھی خود کو جوان  مانتے ہیں  اس لیے  اس کا نام سینئر  ہاؤس رکھا گیا ہے بھاگتی ہوئ زندگی میں  سبھی مصروف ہیں کچھ لائف اسٹائل ایسا ہے سب اس کے عادی ہیں یہاں لوگ    یا  تو شادی نہیں کرتے یا بچوں کا جھنجٹ نہیں پالتے  - بچے ہوں بھی تو اٹھارہ برس  کی عمر کے بعد اپنی مرضی سے والدین کے ساتھ رہنا چائیں تو ٹھیک ہے ورنہ  جا سکتے ہیں والدین ذہنی طور پر  اس کے لیے تیار ہوتے ہیں ۔ بوڑھے ہونے پروہ جانتے ہیں ان کا ٹھکانااو لڈ ہومز ہیں ۔سینئر ہاؤس میں گروپس میں بیٹھے  قہقہے لگاتے  لوگ دیکھے ٹی وی لاؤنج کیفے ٹیریا لائبریر ی میں بیٹھے لوگ  سب اسی معاشرے میں پلے بڑھے تھے  سب کی زبان ایک تھی   خوش گپیوں میں مصروف  مگر ایک پاکستانی ماں  یا پاکستانی باپ جس کی زندگی جس کے خواب  جس کی زندگی کا محور اس کا گھر اس کے بچے ہوتے ہیں اسے اکیلے  رہنا ایک عذاب سے کم نہیں  ۔  اور ایک پاکستانی عورت جو اس معاشرے میں پلی بڑھی نہیں جس کی زبان  الگ ہے  جو بڑھاپے میں بھی خود کو چادر میں لپیٹے رکھتی ہے اجنبی لوگوں میں اٹھنا بیٹھا گھومنا پھرنا ایک بڑےامتحان سے کم نہیں وہ بزرگ عورت   جس نے تیس پنتیس  برس بیوگی کے گزارے  اس میں زیادہ وقت ایک بیٹے کے پاس رہیں  - بیٹے کو ہارٹ اٹیک ہوا بہو بھی بیمار تھی کوئ اور بچہ رکھنے کو تیار نہیں تھا  سب کی اپنی اپنی مجبوریاں تھی  پھر آخری ٹھکانا  اولڈ ہوم ٹھہرا   آٹھ ماہ اولڈ ہوم رہنے کے بعد     مدر ڈے کے  ایک دن پہلے اپنے بچوں کی مجبوریاں کو جانتی تھیں  اس لیے خاموشی سے دنیا سے چلی گئیں آج   مدر ڈے ہے سینئرز ہاؤس میں لوگ بہت خوش ہیں  کسی کے بچے کا فون آرہا ہے کسی کا بچہ پوتا   یا نواسہ ان سے ملنے آرہا ہے کسی نے  پھول بھیجے ہیں  کتنے اچھے بچے ہیں  اتنی مصروف زندگی  میں  اتنی دور سے  ملنے آرہے ہیں  ۔ کتنی  خوشی کی بات ہے آج مدر ڈے ہے اور بچوں کو یاد ہے  کسی ماں کے لیے اتنی خوشی بھی  بہت ہے میں اپنے ماں باپ کو دیکھتی ہوں بچوں میں بیٹھا   چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں خوش ہوتا ۔ اور تنہائ میں خاموش بیٹھا  ان کا اب کوئ اپنا  خواب نہیں  بچے ان کی حقیقت ہیں   ماں باپ کے خواب  اور زندگی ان کے بچے ہوتے ہیں  مگر بچوں  کے خواب ان کے  اپنے حوالے سے ہوتے ہیں  - پردیس میں بچے اپنے خواب پورے کرنے آئے ہیں اور دیس میں بیٹھے ماں باپ ان کے خواب پورے ہونے کے لیے خدا کے سامنے  ہاتھ پھیلائے بیٹھے رہتے ہیں   -پاکستان میں پارک میں بیٹھے بوڑھے لوگوں کو دیکھا جو دن بھر پارک میں کسی درخت کے نیچے  سرجھکائے بیٹھے  رہتے ہیں  شاید سر اٹھا کر دیکھنے کے لیے  ان کے پاس کچھ نہیں  ہوتا ۔ ایک دن ٹی وی آن کیا  تو بچوں کے بارے میں  پروگرام چل رہا تھا  ۔ ایک این جی او  کے خاتون آئیں ہوئ تھی  وہ بتا رھی تھی وہ یتیم خانہ چلا رہی ہیں  رات کے اندھیرے میں کبھی لوگ ان کے دروازے پہ بوڑھے ماں باپ کو چھوڑ جاتے ہیں  حکومت کو چاہیے بوڑھوں کے لیے  کچھ کرے  - لمبی عمر  رحمت ہے  کبھی زحمت بن جاتی ہے انسان کے اپنے لیے  ۔ کبھی اپنوں کے لیے  ۔ محبت کم ہو تو زندگی مشکل  بن جاتی ہے وسائل کم ہوں  تو محبت  مسائل میں گم ہو جاتی ہے 
زندگی چلتی رہتی ہے  ۔ زندگی میں  ہر موسم  آتا ہے سردی گرمی بہار خزاں مگر  ہر کسی کی برداشت الگ ہوتی ہے اور ہر جگہ موسم ایک سی شدت سے نہیں آتے کہیں سورج کی تپش اتنا نہیں جلاتی کہیں سردی جسم کو منجمد کر دیتی ہے کہیں بہار زمین کی گود پھولوں سے بھر دیتی ہے کہیں بہار میں زمین دو بوند پانی کو ترستی رھتی ہے کہیں خزاں میں  ویرانی چھا  جاتی ہے کہیں  خزاں بھی رنگوں سے بھری رھتی ہے     

کچھ میری پسندیدہ

دنیا بھر میں نئ سے نئ ایجادات ھو رھی ہیں - جنھیں دیکھ کر حیرت ذدہ رہ جاتے ہیں ۔ کچھ  تو مجھے بہت اچھی لگی ۔میری سب سے پسندیدہ ونگ سوٹ ہے - بچپن سے ایک خواب تھا کاش میں پرندوں کی طرح  اڑ سکتی - ونگ سوٹ بنانے والے کا بھی شاید یہی خواب ھو ۔ میں نے صرف خواب  دیکھا تھا ۔ مگر کسی نے اسے حقیقت بنا دیا ۔ونگ سوٹ آٹھ سو سے دو ھزار  یورو تک میں مل جاتا ہے وڈیو دیکھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں کتنے مزے کی چیز ہے - ونگ سوٹ آٹھ سو سے دو ھزار  یورو تک میں مل جاتا ہے وڈیو دیکھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں کتنے مزے کی چیز ہے - ہاں اس کے ساتھ پیرا شوٹ بھی چاھئیے جو  دو سے تین ہزار یورو کا مل جاتا ہے

ماحولیاتی آلودگی دنیا بھر کا مسلہ ہے زرائے آمد و رفت سے زندگی میں سہولت بھی اور سب کی ضرورت بھی ۔ یورپ میں اکثریت کے پاس ذاتی کار ہے ۔ عرصہ سے کوشش کی جا رھی ہے شہر یا کم فاصلے کی آمد و رفت کے لیے ایسی چیزیں بنائ جائیں جو کم پٹرول خرچ کریں اور کم آلودگی کا باعث ہوں رولر اسکوٹر سٹی بائیک کے مختلف نئے اسٹائل ھر سال سامنے آتے ہیں ۔ سب سے مزے کا مجھے ائر ویل یا سٹی ویل لگا ۔ چین اور جاپان سے شروع ھوا اب یورپ میں بھی کئ فرمیں بنا رھی ہیں چھ سو سے اٹھارہ سو یورو تک کا مل جاتا ہے بیٹری  کی  طاقت  رفتار اور وزن قیمت کے حساب سے مختلف  ہے  ۔ 
سب سے حیرت انگیز چیز تھری ڈی پرنٹر ہے اس سے ایک معمولی سے پیچ سے گاڑی اور مکان تک بنانے کے تجربات ھو رھے ہیں - جس حساب سے ٹیکنالوجی ترقی کر رھی ہے آئندہ آنے والے پندرہ  بیس برس میں آج کا زمانہ پس ِ ماندہ لگے ۔ جیسے آج سے پچیس تیس برس پہلے کے لوگ اگر زندہ ھو جائیں تو بہت سی اشیاء ایسی ہیں جو انھیں حیرت ذدہ کر دیں گی 


Pages