سید محمد نقوی (فاضل کا بلاگ)

امجد فرید صابری اور محمد داراشکوہ

عجیب اتفاق ہے، کہ آج ہی مجھے ایک کتاب ملی جس کو میں شاید دو سال سے بھی زیادہ عرصے سے ڈھونڈ رہا تھا۔ اور اس کے ساتھ ہی امجد فرید صابری کے قتل کی بھی خبر ملی۔میں ذکر کررہا ہوں، دیوان داراشکوہ کا، جس کو میں کافی عرصے سے ڈھونڈ رہا تھا اور بالآخر آج مجھے دستیاب ہوئی۔ ضرور یہ سوال پیش آئے گا کہ ان دونوں میں کیا ربط ہے؟ داراشکوہ کے دیوان اور امجد فرید صابری کا آپس میں کیا تعلق ہے؟بات اصل میں یہ ہے کہ انسانی زندگی میں بہت سارے واقعات ہوتے ہیں، جن کا آپس میں کبھی تعلق ہوتا ہے، اور کبھی بہت مختصر تعلق ہوتا ہے، لیکن میرے خیال میں انسانی واقعات ایک دوسرے سے بے ربط کبھی نہیں ہوتے ہے۔میں کافی عرصے سے داراشکوہ کے آثار اور اس کی زندگی کا مطالعہ کررہا ہوں۔شہزادۂ بلند اقبال محمد داراشکوہ، شاہ جہاں کے بڑے صاحبزادے اور ولیعہد تھے۔ ولیعہد اور فوجی کمانڈر ہونے کے علاوہ، داراشکوہ علم اور مطالعہ کا خاص شوق رکھتے تھے۔ چنانچہ اپنی زندگی اسی راہ میں گذاری، مختلف مسالک اور مذاہب کے علما اور فقہا سے ملاقاتیں کرتے تھے، مختلف ادیان کی کتابوں کا ترجمہ کروایا، جن میں اوپنشید اور گیتا کا پہلا ترجمہ بھی شامل ہے جو انہوں نے اس وقت سنسکرت سے فارسی میں کیا، آج بھی یہ ترجمہ موجود ہے اور کئی بار چھپ چکا ہے۔ مجمع البحرین، رسالۂ حق نما، دیوان اور چند دیگر تصنیفات بھی ان کے کارنامے میں شامل ہیں۔ لیکن، میں اس وقت ان کی ان تصنیفات یا علمی خدمات کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ یہ ایک الگ فرصت طلب موضوع ہے۔جس موضوع کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں، وہ داراشکوہ اور امجد صابری کا وجہ تشابہ ہے۔ بلکہ ان دونوں کا آپس میں رابطہ ہے، جو تقریبا ساڑھے تین سو سال گذرنے کے باوجود آج بھی بہت واضح ہے۔داراشکوہ، بہت پڑھا لکھا اور صلح طلب حکمران تھا، اپنے والد کے دور حکومت میں مختلف ریاستون کی حکومت داراشکوہ کو دی گئیں۔ اس دوران داراشکوہ کا محل، ہمیشہ علمی اور مذہبی محفلوں اور نشستوں کا مرکز رہا کرتا تھا، جن کو آج کی زبان میں ہم علمی کانفرینس کہتے ہیں۔ داراشکوہ تصوف کی طرف مائل اور ادیان کی اکائی کا قائل تھا، اور سمجھتا تھا کہ یہ اختلافات جو مختلف ادیان کے پیروکاروں میں پائے جاتے ہیں، وہ غلط برداشت کا نتیجہ ہیں۔ اسی لیے اس کی کوشش تھی کہ ہندوستان میں موجود مختلف ادیان کے عملا اور پیروکاروں کو اس بات پر متفق کرے کہ ہمارے ادیان میں بہت ساری چیزیں ملتی جلتی ہیں، جو ہمیں ایک دوسرے کے نزدیک لاسکتی ہیں۔ اپنی کتاب سر اکبر میں، جو اپنشید کا فارسی ترجمہ ہے، کہتے ہیں کہ “میں نے بہت ساری تفسیروں کا مطالعہ کیا، بہت سارے علما سے گفتگو کی اور قرآن کو سمجھنے کی کوشش کی، لیکن جب میں نے اپنشید کا مطالعہ کیا تو مجھے ایسا لگا کہ میں قرآن کی تفسیر پڑھ رہا ہوں، اور ایسی اچھی اور بہترین تفسیر کہ شاید اس سے بہتر الفاظ میں قرآن کے مفاہیم کو بیا نہ کیا جاسکے۔” وہ اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ ہندو دین بھی اصل میں توحیدی دین تھا، اور اصل میں ہندو خدائے واحد کے قائل تھے، لیکن بعد میں دین کچھ تبدیلیاں آگئیں۔ ان کی اس بات سے اختلاف یا اتفاق کرنا ایک الگ موضوع ہے، ضروری نہیں کہ ہر بات ایک شخص کی صحیح ہو، لیکن بات یہ ہے کہ انہوں نے کوشش کی، انسانوں کو یہ بات سمجھانے کی کہ ہمارے پاس متفق ہونے کی وجوہات، اختلاف کرنے کی وجوہات سے زیادہ ہین، تو کیوں نہ ہم آپس میں مل بیٹھ کر ایک دوستانہ زندگی گذانے کا طریقہ سیکھیں۔ یہ ان مرحوم کا مختصر تعارف تھا، ایک بات اور ان کی نقل کرتا چلوں، اپنی کتاب مجمع البحرین، جس میں وہ اسلام اور ہندوئزم کے مشترک مفاہیم پر روشنی ڈالتے ہیں، کے مقدمے میں کہتے ہیں کہ “مجھے معلوم ہے کہ میں آج جو باتیں کہہ اور لکھ رہا ہوں، وہ بہت سارے لوگوں گو ناگوار لگتی ہیں، اور میرے دوست مجھے منع بھی کرتے ہیں۔ شاید مجھے ان باتوں کی خاطر جان بھی دینا پڑے، لیکن میں یہ باتیں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ مجھے اپنا فریضہ پورا کرنا ہے، اور بعد میں ایسے لوگ ضرور آئیں گے جو ان باتوں کو سمجھیں۔”اب آپ دیکھیں ایک طرف ایک ایسا انسان ہے جس کے پاس زندگی کی ساری سہولیات ہیں، دولت ہے، حکومت ہے، غرض یہ کہ ہر چیز ہے، پر اپنی حکومت اور زندگی خطرے میں ڈال کر انسانی فلاح کی باتیں کررہا ہے، جس کی وجہ سے بعد میں جان بھی دینا پڑتی ہے اسے۔ اس کے مقابلے میں، اسی انسان کا چھوٹا بھائی ہے، جس کا نام اورنگزیب ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اورنگ زیب علمی اور فکری طور پہ کس قسم کا آدمی تھا۔ لیکن ذرا اورنگ زیب کا رد عمل ملاحظہ ہو۔ جب شاہ جہاں بیمار ہوئے، انہوں نے داراشکوہ کو اپنا ولیعہد مقرر کیا۔ اورنگ زیب کو یہ بات ناگوار گذری، اورنگ زیب نے داراشکوہ پر حملہ کیا اور اس کو پے دے پے شکستین دیں۔ اسی دوران ایک کام اور کیا، اورنگ زیب نے اس دوران، لوگوں کو، خاص طور پہ مسلمانوں کو داراشکوہ کے خلاف یہ کہہ کر ورغلایا کہ، یہ تو کافر ہے، یہ مرتد ہوگیا ہے، اور ہندو ہوگیا ہے، دیکھتے نہیں ہو کہ ہندوؤں اور صوفیوں کے ساتھ بیٹھتا ہے، ان کی کتابیں پڑھتا رہتا ہے، ان کی زبانیں سیکھتا ہے، ساتھ ہی کچھ مولویوں سے داراشکوہ کے کفر اور واجب القتل ہونے کا فتوا بھی نکلوالیا۔ نتیجہ کیا ہو، اورنگ زیب نے حکومت حاصل کرنے کے لیے، دین کا خوشرنگ لباس پہنا، اور دین کے نام پر، اپنے ہی بھائی کو، اپنے ذاتی مفادات کی خاطر نہایت وحشیانہ طریقے سے مارا۔ پہلے داراشکوہ کے بیٹوں کا سر باپ کے سامنے قلم کیا، پھر خود داراشکوہ کا سر قلم کرکے، شاہ جہاں کو بھیج دیا۔ اور اس طرح دین اسلام کو ایک کافر کے فتنے سے بچا لیا۔
آج بھی ہم اسی اورنگ زیبی فکر کے شکار ہیں، آج امجد فرید صابری کی شہادت، داراشکوہ کی شہادت ہے، آج جب میں نے امجد فرید صابری کے جنازے کی تصویر دیکھی تو میرے ذہن میں داراشکوہ کے قتل کا منظر مجسم ہونے لگا۔ نہ صرف داراشکوہ، بلکے ہزاروں، لاکھوں ایسے لوگ جو ایس نام نہاد مذہبیت اور ظاہری دین کے دفاع کے چکر میں مارے گئے، مارے جارہے ہیں، اور مارے جائیں گے۔ اورنگ زیب ایک مثال ہے، جس کی مزید مثالیں آج ہمارے سامنے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں، جو دین کا لباس پہن کر، ہر اس شخص کو مارنا چاہتے ہیں، جو ان کی راہ میں رکاوٹ ہے، بھی اسی حلقے میں شامل ہیں، جو اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ کوئی قتل ہو اور ہم اس کو اپنے گریبان پر مل کر اس خون کو فائدہ اٹھائیں، وہ لوگ بھی اس حلقے میں شامل ہیں، اور یہ حلقہ آج پھیلتا جارہا ہے۔ اور قربانی کون ہے؟ عام آدمی، وہ عام آدمی جو مسلمان ہے، ہندو ہے، عیسائی ہے، شیعہ ہے، سنی ہے، احمدی ہے، بودائی ہے، اور نہ جانے کتنے اور مسالک کا پابند ہے، وہ عام آدمی جو باپ یا ماں ہے، بیٹا یا بیٹی ہے، بھائی یا بہن ہے، دادا یا دادی ہے، نانا یا نانی ہے، اور نجانے کتنے رشتوں میں جکڑا ہوا ہے۔ وہ عام آدمی جس کو چند خوں خواروں نے اپنا کھلونا بنا یا ہوا ہے۔ وہ عام آدمی جو کو یہ یقین دلایا ہوا ہے کہ تمہاری جان بے قیمت ہے، تم کو اپنی جان ہمارے مفادات پر قربان کرنی چاہیے۔ وہ عام آدمی بھی قربانی ہوتا ہے، جو ہاتھ میں اسلحہ لیے امجد فرید صابری کے جسم پر گولی چلاتا ہے، اور امجد صابری بھی قربانی ہے، کیا بات ہے کہ قاتل اور مقتول دونوں ہی قربانی ہے، دونوں کا خون وہ چوس کر اور موٹے ہوتے جا رہے ہیں، اور ہم شاید ایک دو دن میں زیادہ سے زیادہ اس شخص کو پکڑوا لین جس نے گولی ماری ہے، اس کو شاید سزا بھی مل جائے، لیکن سلسلہ جاری رہے گا، یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہم کھولنے بنے رہیں گے۔ جب تک ہم کو یہ احساس نہ ہو کہ کھلونے ہیں، اور ہم اپنے پیرون پر کھڑا ہونا نہ سیکھیں، اسی طرح ہم مارے جائیں گے۔یہ تو چند دنوں کی بات ہے کہ سوشل میڈیا پر اور ٹی وی پر، مقابلے ہوتے رہیں گے کہ امجد صابری کو ہم سے بہتر کوئی نہیں جانتا تھا۔ خراج عقیدت پیش کیے جائیں گے۔ اور ایک یا دو ہفتوں میں، سب ٹھنڈا ہوجائے گا۔ پھر شہید کے گھر والے ہوں گے اور ان کا غم۔ پھر کوئی شاید ان کو پوچھے بھی نہیں۔۔۔۔۔اور ہم اس انتظار میں بیٹھ جائیں گے کہ ٹی وی پر ایک اور قتل کی پٹی چلے اور ہم پھر سے پرشور بیانات جاری کریں۔۔۔۔اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔۔۔
امجد فرید صابری، آپ کو شہادت مبارک ہو، اس دنیا کو خیرباد کہنا مبارک ہو۔ ہم بھی آنے ہی والے ہیں، شاید آج شاید سو سال بعد، شاید طبیعی موت، شاید قتل، پتہ نہیں، لیکن یہ بات ضرور ہے، کہ ہر کسی کو کسی دن جواب ضرور دینا ہے، آپ اس وقت جواب دیں، ہم اپنی باری کے منتظر ہیں۔۔۔۔۔
سید محمد نقوی
۲۲ جون ۲۰۱۶

ایرانی صدر کا پاکستان آنا اور ہمارے حکمرانوں کا ایران جانا۔۔۔

ایران کے صدر حسن روحانی کی پاکستان آمد کے حوالے سے یہ یادگار ڈاک ٹکٹ، یاددہانی کی غرض سے پیش کررہا ہوں۔ پتہ نہیں اس سفر کے بعد بھی ڈاک ٹکٹ یا سکوں کا اجرا ہوگا کہ نہیں۔ لیکن تاریخ یاد رکھتی ہے، تاریخ کا حافظہ بہت تیز ہے، ہر چیز یاد رکھتی ہے۔ کاش ہمارے حکمران بھی گذشتہ حکمرانوں سے سبق سیکھیں اور تاریخ کے اوراق پر اپنا نام اچھائی اور خوبی کے ساتھ ثبت کرانے کی کوشش کریں۔تصویر میں دو ٹکٹ ہیں، ان میں سے ایک سکندر مرزا اور دوسرا ایوب خان کے سفر کے حوالے سے ایران نے شائع کیے تھے۔ بڑی دلچسب بات ہے کہ ان دونوں کے اجرا میں شاید ایک ہی سال کا  فاصلہ پڑا۔ ایک اور بات یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ شاید آپ کو پتہ ہو کہ اسکندر مرزا ایران کے شہر ری میں دفن ہے۔ یہ بھی بڑی دلچسب کہانی ہے، کہ جب ان کا لندن میں انتقال ہوا، حکومت پاکستان نے ان کے جنازے کو پاکستان لانے کی اجازت نہ دی۔ ایران کے حکام نے مداخلت کی اور آخر کار یہ طے پایا کہ ان کو ایران میں ہی حکومتی پروٹوکول کے ساتھ دفن کیا جائے گا، اس پر بھی پاکستان نے ان کے عزیزوں کو جنازے میں شرکت کی اجازت نہ دی۔  گو کہ ان کو اس سے مطلب نہیں تھا کہ کس حکمران کی تصویر چھپے یا کون ٹھیک ہے کون غلط، ان کو تو پاکستان سے بھی مطلب نہیں تھا، ان کا مقصد یہ تھا کہ ان کے مفاد پورے ہوں، چاہے جتنے ٹکٹ چھپوانا پڑیں۔ ہمارے مفاد کی ان کو کیوں فکر ہوگی، جب خود ہمیں ہی اس کی فکر نہیں۔ایک بات اور یہ بھی یاد دلاتا چلوں کہ اسکندر مرزا کی دوسری اہلیہ کا تعلق ایران کے ایک سیاسی خاندان سے تھا، شاید ان کی اس تدفین کی ایک وجہ یہ بھی ہو۔خیر میں تو اس تصویر کے ساتھ ایک سطر لکھنا چاہتا تھا، اور وہ اتنا لمبا ہوگیا۔ جناب مختار مسعود کی کتاب ”لوح ایام” پڑھنے کا وقت ملے تو آپ اندازہ ہوگا کہ اس زمانے میں کیا ہوا، اور پاکستان کہاں سے کہاں پہنچا۔ ایک زمانہ تھا کہ ہمارے حکمرانوں کا دوسرے ملکوں میں بڑی شان و شوکت سے استقبال ہوا کرتا تھا۔ کیا زمانہ ہوتا ہوگا، ہم نے تو نہیں دیکھا پر سنا ہے کہ قدرے بہتر تھا۔۔۔دیکھیے ہمیں، ہمارے حکمرانوں اور ہمارے زمانے کو تاریخ کن الفاظ میں یاد رکھتی ہے۔۔۔



مرزا غالبؔ اور مرزا عالیؔ

چند مہینے قبل ہی جناب جمیل الدین عالیؔ ہمارا ساتھ چھور گئے، ان کے انتقال سے نہ صرف اردو ادب اور پاکستان کے علمی حلقوں میں ایک خلاء پیدا ہوا، بلکہ غالب کا عہد بھی اب اور دور نظر آنے لگا۔ اس کی وجہ اگلی سطروں میں سامنے آئے گی۔ عرصہ دراز سے میری خواہش تھی کہ عالیؔ صاحب سے ملوں، پر کبھی یہ خواہش پوری نہ ہوئی، اس سال ایک کتاب پڑھنے کا اتفاق ہوا جو اکثر کتاب خانے میں میرے سامنے ہی ہوتی تھی پر کبھی غور سے اسے پڑھا نہیں تھا، اکثر اس میں سے کبھی کوئے خط یا کوئے حصہ پڑھ لیا کرتا تھا، گذشتہ اگست یا ستمبر کی بات ہے کہ میں نے اس کتاب “غالب کے خطوط”، جو خلیق انجم صاحب نے مدون کی ہے، کا پیش لفظ پڑھا۔ جمیل الدین عالیؔ صاحب نے یہ پیش لفظ اس کتاب کے پاکستانی ایڈیشن پر لکھا ہے۔ اس کو پڑھ کرعالیؔ صاحب سے ملنے کی خواہش مزید بڑھ گئی، اور یکایک غالب کا عہد کافی نزدیک نظرآنے لگا۔ پر صد افسوس کہ عالیؔ صاحب اس دنیا کو خیرباد کہہ کر، اپنے خالق حقیقی سے جا ملے، اور ہمیں داغدار چھوڑ گئے۔ اللہ دونوں کے درجات بلند کرے۔ آج میں اس پیش لفظ کا ایک حصہ یہاں نقل کررہا ہوں، شاید آپ کو بھی دلچسپ لگے۔ اس واقعے میں گفتگو کا موضوع اور سوالات کی نوعیت اتنی اہم نہیں، جتنی خود ملاقات اہم ہے۔ شاید اس بات کاذکر اب بھی نہ مناسب ہو، نہ ہی اس کی کوئی ضرورت ہو، پر اس میں اہم بات یہ ہے کہ عالیؔ صاحب نے ایک ہی واسطے سے غالبؔ کے بارے میں سنا یا جانا ہوگا۔ شاید یہ اعزاز اب کسی کو حاصل نہ ہو۔ واقعہ ملاحظہ ہو: 


۔۔۔۔۔۔۔ اس مضمون میں اس وقار کی نسبت سے ایک اور واقعہ یہیں ریکارڈ کردوں کہ بہرحال یہ تمام اشاعت غالبؔ سے متعلق ہے۔غالب شناس جانتے ہیں کہ غالبؔ نے اپنی سالی کے بیٹے زین العابدین خاں کے دو لڑکے پالے تھے۔ ان میں سے ایک باقر علی خاں کامل تھے۔ ان کی شادی نواب ضیاء الدین خاں نیر و رخشاں کی صاحب زادی معظم زمانی عرف بگہ بیگم سے ہوئی۔ خطوط غالب میں ان کا ذکر آتا ہے اور ان کی بڑی صاحبزادی جندوبیگم کا بھی، جنہیں غالبؔ مرزا جیون بیگ کے خطاب سے یاد کرتے ہیں۔ یہ نیر و رخشاں کے پوتے نواب شجاع الدین خاں تاباںؔ برادر بزرگ نواب سراج الدین خاں سائلؔ سے بیاہیں۔ (بگہ بیگم کے نواسے، ان کی چھوٹی صاحبزادی کے بیٹے فخرالدین علی احمد مرحوم ایک وقت میں صدر ہندوستان ہوئے) آزادی سے پہلے ان بگہ بیگم سے پروفیسر حمید احمد خاں مرحوم نے ایک تفصیلی انٹرویو لے کر شائع کیا تھا۔ وہ رشتے میں میرے والد کی پھوپھی ہوتی تھیں۔ہم عید بقر عید پر ان کے سلام کو جاتے تھے۔ بالکل پھونس ہوگئی تھیں۔ میری شادی کے بعد غالبا ۱۹۴۵ء میں وفات پائی۔ بصارت تقریبا جاچکی تھی۔ سماعت جارہی تھی، ایک بار میں نے ان سے خوب کھود کھود کر مرزا غالبؔ کی شراب نوشی پر پوچھا۔ (وہ ان کے آخری زمانے میں بہت چھوٹی عمر میں بیاہ کر آئی تھیں) بہت برافروختہ ہوئیں۔ فرمایا کم بخت میرے سسر کو شرابی کہتا ہے۔ شراب سے کیا تعلق ان کا۔میں نے جوئے اور جیل کا ذکر کیا تو اور بھی رجز و توبیخ کی۔ یقینا یہ واقعہ، ان کی پیدائش سے بہت پہلے کا تھا اور مرد بزرگوں نے ممکن ہے انہیں نہ بتایا ہو لیکن یہ تو ناممکن ہے کہ امراؤ بیگم نے (جو نہایت وفادار بیوی ہونے کے باوجود اپنے ہی خاندان کی ایک فرد، اپنی بہو کے سامنے جو آخرش اسی خاندان سے تھیں) کبھی مرزا صاحب کے یہ واقعات بیان نہ کیے ہوں۔بہر حال میں نے ایک بار سے زیادہ یہ بات چھیڑی (اس وقت، ہیرنگ ایڈز، نہ تھیں مگر ہم ان کے کانوں پر ایک نلکی یا کپّی الٹی رکھ کر اپنی بات ان تک خوب پہنچا دیتے تھے، انہوں نے کبھی اس امر کی تصدیق نہ کی بلکہ الٹا ڈانٹا۔ یہ باتیں اس وقت کی ہیں جب میں انیس برس کا ہوچکا تھا، سب خوب یاد ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(غالب کے خطوط، خلیق انجم، انجمن ترقی اردو پاکستان، حرفے چند، صفحہ س)
۱۸ فروری ۲۰۱۶ءسید محمد نقویاردوئے معلیٰhttps://telegram.me/urduimualla

اردو لشکری زبان؟

نہ جانے کب سے سنتا آرہا ہوں کہ اردو چند زبانوں کو ملا کر بنائی گئی ہے، اسی لیئے اسے ریختہ یا اردو کہاجاتا ہے، اسی وجہ سے اس کی تاریخ بھی دو ڈھائی آدی سے زیادہ نہیں، و غیرہ و غیرہ۔۔۔لیکن یہ بات ماننا بہت مشکل تھی، ہمیشہ اس کے بارے میں شک و شبہہ ہی رہا، لیکن کیا کیا جاسکتا ہے کہ جب بزرگوں سے یہی سنتے آرہے ہیں، بلکہ اکثر و بیشتر یہی پڑھا بھی مختلف کتابوں میں۔ شروع میں تو اس بات کو نہ ماننے میں کوئی علمی پہلو نہ تھا، بلکہ ایک لسانی تعصب ہی سمجھ لیجیئے۔ لیکن جب مطالعہ بڑھا اور کچھ معلومات میں اضافہ ہوا تو کچھ اعتراضات اس سلسلے میں پیدا ہوئے۔ چند دن پہلے ایک دوست نے اس مضمون کا ربط فراہم کیا، جس میں اردو کی ابتدا اور اس سے مرتبط نظریات کے بارے میں، کافی تحقیقی اور علمی بحث ہوئی ہے۔ شاید کوئی ڈاکٹر رئوف پاریکھ صاحب کی رائے سے متفق نہ ہو یا شاید اس کے طرفدار اور بھی ہوں، جن کا مجھے علم نہیں، پر یہ نظریہ بھی ایک اہم نظریہ ہے جس کو پڑھنا اور اس پر کام کرنا لطف اندوز ہوگا۔ مضمون پوری طرح سے یہاں نقل کررہا ہوں اور اس کا ربط بھی نیچے موجود ہے۔


اردو لشکری زبان؟ازڈاکٹر رؤف پاریکھ
حال ہی میں راقم الحروف کو جامعہ میں اردو زبان کے آغاز اور ارتقأ سے متعلق کورس پڑھانے کا موقع ملا تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اکثرطالبِ علم اردو کو لشکری زبان سمجھتے ہیں ۔ان کا استدلال تھا کہ ہم بچپن سے یہی سنتے آئے ہیں کہ اردو لشکری زبان ہے۔ اردو زبان کے آغاز و ارتقأ کے بارے میں آج تک جو مختلف نظریات پیش ہوئے ہیں، ان میں سب سے زیادہ معروف و مقبول لیکن سب سے قابل توجہ نظریہ یہی ہے کہ اردو لشکری زبان ہے۔ اگرچہ ماہرینِ لسانیات نے یہ بات کوئی ایک صدی پہلے ثابت کردی تھی کہ اردو لشکری زبان نہیں ہے لیکن افسوس کہ آج بھی یہ نظریہ موجود ہے کہ اردو لشکری زبان ہے ۔اردو زبان کے آغاز اور ارتقاء سے متعلق مباحث میں لشکری زبان کے نظریے کی تردید میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے ۔ چونکہ ہمارے ہاں طالب علموں کی نظر سے ایسا تحقیقی موادِ مطالعہ بالعموم نہیں گزرتا لہٰذا وہ ایسے فرسودہ نظریات کے اسیر رہتے ہیں۔ یہ سطور اپنے طالب علموں کی رہنمائی کی غرض سے لکھی جارہی ہیں ۔ لشکری زبان کا نظریہ ہے کیا؟اردو کے لشکری زبان ہونے کا نظریہ ، جسے نظریہ نہیں قیاس آرائی کہنا چاہیے ۱ ، کہتا ہے کہ اردو ایک کھچڑی یا ملواں زبان ہے اور یہ مغلوں کے عہد میں بیرونِ ہندوستان سے آئے ہوئے مسلمانوں کی زبانوں(مثلاً عربی ، فارسی اور ترکی وغیرہ ) کے الفاظ اور مقامی بولیوں کے سنسکرت الاصل یاہندی الاصل الفاظ سے مل کر بنی ہے۔ اس نظریے کو درست ماننے والوں کی ایک دلیل یہ ہے کہ ’’اردو‘‘ترکی زبان کا لفظ ہے اور اردو کے معنی ترکی میں لشکر یا فوجی چھاؤنی کے ہیں۔ چونکہ مغلوں کے لشکر میں مختلف زبانیں بولنے والے سپاہی شامل تھے اور وہ آپس میں گفتگو کے لیے ایک ایسی زبان استعمال کرتے تھے جس میں ان تمام زبانوں کے الفاظ شامل تھے، اسی لیے اس زبان کا نام ’اردو‘ پڑ گیا۔ غلط فہمی کا آغاز کیسے ہوا؟اردو کے لشکری زبان ہونے کا نظریہ سب سے پہلے میر امن دہلوی (۱۷۵۰ء تا ۱۸۳۷ء )کے ہا ں ملتا ہے۔ انھوں نے’ باغ و بہار‘ کے دیباچے میں لکھا ہے:’’حقیقت اردو زبان کی بزرگوں کے منھ سے یو ں سنی ہے کہ دلی شہر ہندوؤں کے نزدیک چو ’جگی ۲ہے ۔ اِنھِیں کے راجا پرجا قدیم سے وہاں رہتے تھے اور اپنی بھاکھا بولتے تھے۔ ہزار برس سے مسلمانوں کا عمل ہوا ۔ سلطان محمود غزنوی آیا۔ پھر غوری اور لودی ۳ بادشاہ ہوئے ۔ اس آمدو رفت کے باعث کچھ زبانوں نے ہندو مسلمان کی آمیزش پائی ۔ آخر امیر تیمور نے (جن کے گھرا نے میں اب تلک نام نہادِ سلطنت کا چلا جاتا ہے) ہندوستان کو لیا۔ ان کے آنے اور رہنے سے لشکر کا بازار شہر میں داخل ہوا ۔ اس واسطے شہر کا بازار اردو کہلایا۔ پھر ہمایوں بادشاہ پٹھانوں کے ہاتھ سے حیران ہو کر ۴ ولایت ۵ گئے ۔ آخر وہاں سے آن کر پس ماندوں کو گوش مالی دی ۔۔۔ جب اکبر بادشاہ تخت پر بیٹھے تب چاروں طرف کے ملکوں سے سب قوم قدر دانی اور فیض رسانی اس خاندانِ لاثانی کی سن کر حضور میں آجمع ہوئے [کذا]۔ لیکن ہر ایک کی گویائی اور بولی جدی جدی تھی۔ اکٹھے ہونے سے آپس میں لین دین سودا سلف سوال جواب کرتے ایک زبان اردو کی مقرر ہوئی۔ جب حضرت شاہ جہاں صاحبِ قراں نے قلعہ مبارک اور جامع مسجد اور شہر پناہ تعمیر کروایا ۔۔۔ اور شہر کو اپنا دارالخلافت بنایا تب سے شاہ جہاں آباد مشہور ہوا (اگرچہ دلی جدی ہے، وہ پرانا شہر اور یہ نیا شہر کہلاتا ہے)اور وہاں کے بازار کو اردوئے معلیٰ خطاب دیا۔‘‘ ۶ َٖ حافظ محمود شیرانی نے تفصیل سے بتایاہے کہ لفظ اردو کب کب اور کن کن معنوں میں کس کس نے استعمال کیا ہے۷۔ شیرانی صاحب کی تحقیق سے اندازہ ہوتا ہے کہ میر امن کے بعدجن لوگوں نے لفظ اردو اور اردو زبان کے بارے میں اظہار خیال کیا ،ان میں سے کئی نے اردو کے لشکری زبان ہونے کی قیاس آرائی کو الفاظ کے رد و بدل کے ساتھ دہرادیا ہے۔ مثلاً چرنجی لال (مؤلف’ مخزنِ محاورات‘) ، سید احمد دہلوی (مؤلف ’فرہنگِ آصفیہ‘)،محمد حسین آزاد، سر سید احمد خاں ، امام بخش صہبائی اور حکیم شمس اللہ قادری وغیرہ نے اردو کی ابتدا کا تعلق لشکر، بازار، اردوئے معلیٰ اور مختلف زبانوں کی آمیزش سے جوڑا ہے۔ ۸ محمد حسین آزاد کے ہاں تو تضاد یہ ہے کہ وہ دیباچے کے بعد ’’آبِ حیات‘‘ کا آغاز ہی اس جملے سے کرتے ہیں : ’’اتنی بات ہر شخص جانتا ہے کہ ہماری اردو زبان برج بھاشا سے نکلی ہے‘‘۹ لیکن چند ہی صفحات کے بعد کہتے ہیں : ’’ ترکی میں اردو بازارلشکر کو کہتے ہیں۔ اردوئے شاہی اور دربار میں ملے جلے الفاظ زیادہ بولتے تھے۔ وہاں کی بولی کانام اردو ہوگیا۔‘‘۱۰ یہاں ’’اردوئے شاہی ‘‘ سے آزاد کی مراد شاہی قلعہ ہے کیونکہ اردو کے معنی قلعے کے بھی تھے ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر’’ اردو‘‘ کے معنی’’ بازار‘‘ ہوتے تو پھر ’’بازار بازار‘‘ کہنے کی کیا تُک تھی؟ ان قابلِ احترا م بزرگوں کی بات جب تواتر سے دہرائی گئی تو ظاہر ہے کہ اسے معروف و مقبول ہونا ہی تھا۔ ہمارے یہ سب قابلِ احترام بزرگ یہ باتیں اس زمانے میں کررہے تھے جب لسانیات کا علم یا تو وجود ہی نہیں رکھتا تھا یا مغرب میں بھی گھٹنوں کے بل چل رہا تھا۔ بعد میں لسانیات کے علم نے اتنی ترقی کرلی کہ اس کی کئی شاخیں ہوگئیں ، جن کی مزید ذیلی شاخیں بھی ہیں؛ مثلاً تاریخی لسانیات، تقابلی لسانیات، تجزیاتی لسانیات ، صوتیات، فونیمیات،صرفیات اور نحوی مطالعات وغیرہ۔ گویا یہ بزرگ لسانیات سے واقف نہیں تھے جبکہ بقولِ مرزا خلیل احمد بیگ اردو کے آغاز اور ارتقأ کا مسئلہ خالصتاً لسانیات کا مسئلہ ہے۔ وہ لوگ جو لسانیات سے کما حقہ‘ واقفیت نہیں رکھتے نیز ہند آریائی زبانوں کے تاریخی ارتقأ اور ان کے صرفی و نحوی اصولوں پر نظر نہیں رکھتے، وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں کہ اردو کوئی ملواں یا کھچڑی زبان ہے اور یہ مختلف زبانوں کے ملنے سے وجود میں آئی ہے۔۱۱ مزے کی بات یہ ہے کہ میر امن کے پیش کردہ اس غلط نظریے سے بعض غیر ملکی ماہرین بھی متاثر ہوگئے حتیٰ کہ رڈوف ہورنلے (A.F.Rudolf Hoernle)اور گریرسن (G.A.Grierson)جیسے اہلِ علم نے بھی اردو کو ملی جلی زبان بتایا۔۱۲ اس ضمن میں شوکت سبزواری نے بالکل درست نشان دہی کی ہے کہ گریرسن نے جب ہندوستان کا تفصیلی لسانی جائزہ لیا تو اس نے اس خیال سے رجوع کرلیااور اردو کو بالائی دو آبے اور مغربی روہیل کھنڈمیں بول چال میں مستعمل ’’ہندوستانی‘‘ [یعنی اردو] بولی پر مبنی قرار دیا۔۱۳ اس موقع پراس کے الفاظ یہ ہیں: "Literary Hindustani is based on the vernacular Hindustani spoken in the Upper Doab and in Western Rohilkhand ". ۱۴اس ضمن میں گریرسن کے الفاظ جو اس نے حواشی میں وضاحتاً دیے ہیں، یہ ہیں :" It will be noticed that this account of Hindustani and its origin differs widely from that which has been given hitherto by most authors (including the present writer), which was based on Mir Amman's preface to the 'Bagh-o-Bahar'. According to him Urdu was a mongeral mixture of the languages of the various tribes who flocked to the Delhi bazar. The explanation given above was first put forward by Sir Charles Lyall in the year 1880, and the Linguistic Survey has shown the entire correctness of the view. Hindustani is simply the vernacular of the Upper Doab15 and Western Rohilkhand, on which a certain from amount of literary polish has been bestowed, from which a few rustic idioms have been excluded."اس عبارت کا ترجمہ کچھ یوں کیا جاسکتا ہے:’’یہ بات محسوس کی جائے گی کہ ہندوستانی[یعنی اردو] اور اس کے آغاز کے بارے میں یہ بیان ان باتوں سے بہت مختلف ہے جو آج تک بیشتر لکھنے والوں نے، بشمول راقم الحروف، پیش کی ہیں اور جن کی بنیاد میر امن کی ’باغ وبہار‘ کا دیباچہ تھا۔ میر امن کے مطابق اردو ان مختلف قبائل کی زبانوں کا مرکب تھی جنھوں نے دہلی کے بازار کا گروہ در گروہ رخ کیا۔( اس غلط فہمی کے ازالے کے لیے) جو وضاحت سطور بالا میں درج ہے، وہ سب سے پہلے سر چارلس لائل نے ۱۸۸۰ء میں پیش کی تھی اور اس لسانیاتی جائزے سے ان کا یہ نقطۂ نظر پوری طرح درست ثابت ہوگیا ہے۔ سیدھی سی بات یہ ہے کہ ہندوستانی بالائی دو آبے اور مغربی روہیل کھنڈ کی بولی ہے جس پر ایک خاص مقدار میں ادبی صیقل گری کی گئی ہے اور جس میں سے بعض دیہاتی محاورے خارج کردیے گئے ہیں۔‘‘ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہاں ہندوستانی سے مراد اردو ہے۔ اردو کو یہ نام یورپی ماہرین نے دیا تھا اور اب اس نام کی کوئی زبان دنیا میں وجود نہیں رکھتی۔ اگرچہ پڑوسی ملک کے بعض دانش ور لفظ ’’ہندوستانی‘‘استعمال کرکے اردوکا تشخص مجروح کرنے اور اردو کو ہندی ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔لشکری زبان کا نظریہ کیوں غلط ٹھہرتاہے؟ اردو کے لشکری زبان ہونے کا نظریہ پیش کرنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ دو یا زیادہ زبانوں کے ملنے سے کوئی نئی تیسری زبان وجود میں آسکتی ہے ۔ اس ضمن میں کام کے دواصول یاد رکھنے ضروری ہیں جو شوکت سبزواری نے مختلف مآخذات بالخصوص میکس ملر (Max Muller) سے اخذ کرکے پیش کیے ہیں : ۱۔ زبانوں کی تقسیم اور ان کے باہمی رشتوں کا تعین ان کی صرفی اور نحوی خصوصیات اور ساخت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اور اس سلسلے میں ذخیرۂ الفاظ کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ ۱۶۲۔ دوسرے یہ کہ یہ خیال سراسر غلط اور لسانی بحثوں میں حقیقت سے بھٹکانے والا ہے کہ دو یا دو سے زیادہ زبانوں کو جوڑ کر کوئی نئی تیسری زبان بنائی جاسکتی ہے۔ کوئی زبان آس پاس کی زبانوں اور بولیوں سے غذا حاصل کر کے اور ان کی فضا میں سانس لے کر توانائی تو حاصل کر سکتی ہے لیکن کسی زبان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ کسی دوسری زبان سے مل کر ایک تیسری زبان بنا سکے۔ زبان دراصل ایک ایسی چیز ہے جو مسلسل ارتقاء اور تغیر کے ذریعے وجود میں آتی ہے۔۱۷محض ذخیرۂ الفاظ کی بنیادپر کسی زبان کی اصل اور اس کے آغاز کا اندازہ لگانا اس لیے غلط ہے کہ الفاظ تو ایک زبان سے نکل کر دوسری زبان میں چلے جاتے ہیں اور دنیا کی شاید ہی کوئی زبان ایسی ہو جس میں دوسری زبانوں کے کچھ نہ کچھ الفاظ نہ ہوں۔مثال کے طور پر انگریزی میں دنیا کی سو سے زائد زبانوں کے الفاظ شامل ہیں۔ لیکن کوئی نہیں کہتا کہ انگریزی کھچڑی زبان ہے کیونکہ زبانیں اس طرح نہیں بنا کرتیں ۔ ان کی تشکیل اور ارتقأمیں صدیاں اور بسا اوقات اس سے بھی زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔ اردو کی تشکیل میں بھی سیکڑوں بلکہ ہزاروں سال لگے ہیں ۔ اگر باہمی رابطے سے نئی زبان بنا کرتی تو دنیا کے کئی خطے ایسے ہیں جہاں مختصر رقبے میں کئی مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اس طرح کئی ملواںیا کھچڑی زبانیں دنیا میں ہوتیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ صرفی اور نحوی ساخت کی اہمیت کے ساتھ ساتھ لفظیات بھی اہمیت رکھتی ہے، خاص کر بنیادی الفاظ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ بنیادی الفاظ میں بعض مصادر (آنا، جاناوغیرہ)،اعداد (ایک ،دو ،تین وغیرہ) اور بنیادی رشتے (ماں، باپ، بھائی، بہن وغیرہ) ایک ہی خاندان کی زبانوں میں مماثلت رکھتے ہیں۱۸ اور ان سے اس زبان کے ڈھچر کا بہت کچھ اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ میر امن کا یہ بیان کہ’’ آپس میں لین دین، سودا سلف، سوال جواب کرتے ایک زبان اردو کی مقرر ہوئی‘‘ان کی سادگی کے سوا کچھ اور نہیں کہلا سکتا (اور بقول شخصے دیگر بزرگوں کے اس طرح کے الفاظ بھی محض ان کا تبرک سمجھ کرپڑھنے چاہئیں ،ان پر ایمان لانا ضروری نہیں ہوتا) ۔ اگر زبانیں اس طرح مقررکرنے سے بنا کرتیں تو دنیا میں کتنی ہی نئی زبانیں مقرر ہو کر وجود میں آچکی ہوتیں۔ زبان کوئی ایسی چیز نہیں جسے کسی معاشرے پر اوپر سے تھوپا جاسکے۔ زبان تو ایک بہتے دریا کی طرح ہوتی ہے جو اپنا راستہ خود بناتی ہے۔ قابلِ غور با ت یہ ہے کہ باقاعدہ سوچ اور ارادے سے جتنی بھی ’’نئی‘‘ زبانیں تجرباتی بنیادوں پر اختراع کی گئیں ان میں سے کوئی بھی کامیاب نہ ہوسکی۔ دراصل وہ سب غیر فطری زبانیں تھیں اور ماہرینِ لسانیات انھیں مصنوعی زبانیں (artificial languages) کا نام دیتے ہیں ۔ ان میں سے نمایاں مثال ’’اسپرانتو‘ ‘(Esperanto) کی ہے۔ یہ ایک مصنوعی زبان تھی جو ۱۸۸۷ء میں بین الاقوامی ذریعۂ اظہار کے طور پر یورپ کی بڑی زبانوں کے الفاظ کے مادوں سے بنائی گئی تھی۔ اس کا بانی زمینوف( Zamenhof ) نامی ایک پولستانی (Polish) عالمِ زبان تھا ۔ وقتی طور پر مقبول ہوجانے کے باوجود یہ زبان اپنی موت آپ مرگئی لیکن اس طرح کی کئی سو مصنوعی زبانیں ہیں جو وفات پاچکی ہیں۔۱۹ اب صرف لسانیات کی کتابوں میں لکھے ہوئے ان کے نام ان ناکام کوششوں کا اعلان ہیں جو، اگر میر امن کے الفاظ مستعار لیے جائیں تو، آپس کے لین دین کے لیے زبان’’ مقرر‘‘ کرنے کے سلسلے میں کی گئی تھیں۔گویا کوئی زبان ارادے سے یا مختلف زبانوں کے ملنے سے وجود میں نہیں آسکتی۔ آزاد کا یہ نظریہ کہ اردو برج بھاشا سے نکلی ہے، دراصل ہورنلے نے سب سے پہلے پیش کیا تھا ۔یہ اس لیے قابل تسلیم نہیں کہ اردو اور برج بھاشا میں بعض ایسے صرفی، نحوی اور صوتیاتی فرق ہیں کہ اردو برج کی بیٹی نہیں ہوسکتی۔ ان اختلافات اور مختلف خصوصیات کی تفصیل شوکت سبزواری صاحب بخوبی بیان کرچکے ہیں اور ان کو دہرانا تحصیلِ حاصل ہے۔ مختصراً یہ کہ اردو کا لسانی سرمایہ برج سے کہیں زیادہ، پیچیدہ اور بعض صورتوں میں قدیم تر ہے لہٰذ ا وہ کسی طرح بھی برج سے ماخوذ نہیں ہوسکتا۔۲۰دل چسپ بات یہ ہے کہ لشکری اردو کے نظریے کو درست ماننے والے امیر خسرو کو، جن کا انتقال ۱۳۲۵ء میں ہوا ، اردو کا شاعر مانتے ہیں اور اردو کا آغاز مغلوں کے دور سے بھی مانتے ہیں حالانکہ مغل دور کا آغاز ۱۵۲۶ء میں پانی پت کے میدان میں بابر کی کامیابی سے ہوتاہے۔ گویا ان کے خیال میں اردو کے آغاز اور اس کی ابتداء سے بھی چند سو سال قبل امیر خسرو اردو میں شاعری فر ما رہے تھے۔یوں اردو کا آغاز مغل دور سے قبل کیوں نہ تسلیم کیا جائے؟ خود آزاد نے بھی ’’آبِ حیات‘‘ میں امیر خسرو کا احوال اور ان کی اردو شاعری کے نمونے دیے ہیں۔زبان کس طرح بنتی ہے؟ہر زبان کا ایک بنیادی صرفی اور نحوی ڈھانچا ہوتا ہے اور اسی کی بنیاد پر اس زبان کی اصل اور اس کے خاندان کا فیصلہ کیا جاتاہے۔ اس کے علاوہ بنیادی لفظیات بھی اہم ہوتی ہے لیکن زبانیں کس طرح بنتی ہیں اور ان کا آغاز و ارتقأ کیسے ہوتا ہے، یہ لسانیات کا ایک دل چسپ موضوع ہے ۔زبان بننے سے متعلق کئی مختلف نظریات موجود ہیں۔ ان کی تفصیل کا یہ موقع بھی نہیں اور یہ تفصیل کئی کتابوں میں دی گئی ہے۔مثلاً گیان چندجین کی کتاب ’’لسانی مطالعے‘‘ میں ’’آغازِ زبان کے نظریے ‘‘ کے عنوان سے ایک مفصل مضمون شامل ہے ۔۲۱ مختصراً یہ کہ خود ماہرین ِ لسانیات بھی کسی ایک نظریے پر متفق نہیں ہیں۔ البتہ کسی نے بھی یہ عجیب نظریہ پیش نہیں کیا کہ دو یا زیادہ زبانوں کے ملنے سے کوئی نئی زبان بن سکتی ہے۔ بقول سہیل بخاری ’’پاک و بھارت کی زبانوں میں سے کوئی زبان ایسی نہیں ہے جو دو زبانوں کے میل جول سے وجود میں آئی ہوبلکہ دو زبانوں کے میل سے تو اس برِ صغیر کیا دنیا میں کوئی زبان آج تک پیدا نہیں ہوئی ہے۔‘‘۲۲اردو کا آغاز اور زبانوں کے خانداندنیا کی زبانوں کو ماہرینِ لسانیات نے ان کی لسانی خصوصیات کی بنا پر خاندانوں میں تقسیم کیا ہے۔ وہ زبانیں جویکسانیت کی حامل ہوتی ہیں۔ انھیں ایک گروہ یا خاندان میں رکھا جاتا ہے ۔ اسے زبانوں کا خاندان(family of languages) کہتے ہیں۔ اردو کے آغاز اور ارتقأ کے بارے میں کوئی حکم لگانے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اردو کا تعلق زبانوں کے کس خاندان سے ہے۔ دنیا کی دیگر زبانوں کی طرح اردو کو بھی اس کی لسانی مماثلتوں اور مشترک خصوصیات کی بناپر ایک لسانی خاندان میں رکھا گیا ہے جس کا نام ہند یورپی (Indo-European) ہے۔ یہ زبانوں کا سب سے بڑا اور اہم ترین خاندان ہے اور برِ عظیم پاک وہند، یورپ، برِ اعظم امریکہ، افریقہ کے جنوبی حصوں اور آسٹریلیا پر بھی محیط ہے۔ ۲۳ دنیا کی کئی بڑی زبانیں اسی خاندان میں شامل ہیں اور اس کی بہت سی شاخوں میں سے ایک اہم شاخ ہند ایرانی(Indo-Iranian) کہلاتی ہے۔ اسے اِنڈِک یا ہند آریائی بھی کہتے ہیں ۔ اس کا ارتقأ برِ عظیم پاک و ہند میں ہوا۔۲۴ عام طور پر کہا جاتاہے کہ آریا وسط ایشیا سے لگ بھگ پندرہ سو سال قبلِ مسیح میں ترک وطن کر کے یہاں آئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی زبان پر اثرات پڑتے گئے اور یہ ایرانی(اس سے مراد موجودہ فارسی نہیں ہے) سے ہند آریائی سانچے میں ڈھل گئی۔ ۲۵ البتہ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ آریاؤں کے اصل وطن اور ان کی ہندوستان آمد کے بارے میں اب جدید تحقیق کی روشنی میں کچھ اختلافات ہوگئے ہیں اور بالخصوص بعض بھارتی عالم اور تاریخ داں اس نظریے سے اختلاف کرنے لگے ہیں۔گیان چندجین کے مطابق آریاؤں کی زبان کے ارتقأ کی تین منزلیں بتائی جاتی ہیں،جو یہ ہیں: ۱۔ قدیم ہند آریائی دور : یہ پندرہ سو سال قبلِ مسیح سے پانچ سو سال قبلِ مسیح تک تھا۔ اس دور میں قدیم ہند آریائی زبان تین مرحلوں سے گزری اور اس کی شکلیں ویدک سنسکرت، کلاسیکی سنسکرت اور پالی تھیں۔ ۲۔ وسطی ہند آریائی دور:یہ دور پانچ سو سال قبلِ مسیح سے ایک ہزار عیسوی تک تھا۔ اس میں زبان نے ارتقا پاکر پراکرت کی شکل اختیار کی اور پھر اس کا ایک اور روپ بنا جسے اپ بھرنش کہتے ہیں۔ ۳۔ جدید ہند آریائی دور:یہ دور ایک ہزار سا ل ِ عیسوی سے تا حال ہے۔ ۲۶ ان ادوار اور ان میں ہونے والی لسانی تبدیلیوں کی طویل تفصیلات ہیں۔ مثلاً یہ کہ مختلف علاقوں میں مختلف پراکرتیں بولی جاتی تھیں جن کے الگ نام تھے۔پھر پراکرتوں کا ارتقأ ہوا اور انھوں نے اپ بھرنشوں کی شکل اختیار کی۔ اپ بھرنش بھی کئی طرح کی تھی ۔ گویا پراکرت اور اپ بھرنش کسی ایک زبان کا نام نہیں۔ اس کے بعد اپ بھرنش کی جگہ مختلف بولیوں نے لے لی۔ ان بولیوں کے ناموں اور علاقوں اور ان کی صرفی و نحوی خصوصیات کی نشان دہی بھی کئی کتابوں میں کی جاچکی ہے۔ یہ ساری تفصیل گیان چند جین ، مرزا خلیل احمد بیگ ، شوکت سبزواری اور بعض دیگر ماہرین نے دی ہیں۔ ۲۷ ان سب کو یہاں دہرانا مقصود نہیں ہے۔مختصراً یہ کہ اردو کی جڑیں تاریخ میں بہت دور تک پیوست ہیں۔اردو کی عمرمحض چند سو سال نہیں اور نہ ہی یہ مغل دور میں پیدا ہوئی ہے۔ اردو کا آغاز مغلیہ دور سے بہت پہلے ہوچکا تھا۔ بس اس کا نام اس وقت اردو نہیں کچھ اور تھا اور اس کی شکل بھی یقیناًموجودہ اردو سے بہت مختلف تھی۔ اتنی مختلف کہ قدیم اردو کے بعض نمونے دیکھ کر بعض لوگ کہہ اٹھتے ہیں کہ یہ اردو تو نہیں ہے! یہ کون سی زبان ہے؟ ۔اردو کانام پہلے اردو نہیں تھااردو کا وجود بہت قدیم ہے لیکن ا س کا نام نیا ہے۔ اردوسے پہلے اس کے کئی نام تھے جو مختلف علاقوں اور مختلف زمانوں میں مختلف تھے۔مثلاً ہندوی، ہندی، دہلوی، گجری، دکنی اور ریختی۔ بعض مغربی دانش وروں نے ا سے اِنڈوستان(Indostan ) کا نام دیا ( اسی لیے اس کا نام ہندوستانی بھی پڑ گیا)اور بعض نے اسے مُور( Moor ) یعنی مسلمانوں کی زبان کہا۔۲۸ شمس الرحمٰن فاروقی یہ بات وزن رکھتی ہے :’’ہماری زبان کے نام کے طور پر لفظ’اردو‘ کا استعمال اٹھارھویں صدی عیسوی کے ربع آخرسے پہلے نہیں ملتا۔ زبان کے نام کے طور پر اس لفظ (اردو) کی زندگی غالباً ’زبانِ اردوے معلاے شاہجہاں آباد ‘ کی شکل میں شروع ہوئی اور اس سے مراد تھی’’ شاہجہاں آباد کے شہرِ معلی ؍ قلعۂ معلی؍ دربار معلی کی زبان۔‘‘ایسا لگتا ہے کہ شروع شروع میں اس فقرے سے ہماری اردو زبان نہیں بلکہ فارسی مراد لی جاتی تھی۔ مرورِ ایام کے ساتھ یہ فقرہ مختصر ہوکر زبانِ اردوے معلی، پھر زبانِ اردواور پھر اردو رہ گیا ۔‘‘۲۹شمس الرحمان فاروقی نے ایک او راہم بات یہ بھی بتائی ہے کہ پہلے لفظ ’’اردو‘‘ سے دہلی کا شہر مراد لیا جاتا تھا۔۳۰ گویا کسی زبان کے نام کی بنیاد پر اس کی تاریخ اور آغاز و ارتقأ کا فیصلہ کرنا نہایت گمراہ کن ہے۔ اردو کی ابتدا پراکرت سے ہوئیاردو کی ابتدا سے متعلق کئی نظریے ہیں لیکن ان نظریات پر تبصرے کایہ موقع نہیں اور ان پر تبصرے بھی بہت سی کتابوں میں موجود ہیں۔۳۱ مختصراً یہ کہ اس بات پر تو سب متفق ہیں کہ اردو لشکری زبا ن نہیں ہے اور یہ سنسکرت میں جڑیں رکھتی ہے، پھر پراکرت اور اپ بھرنش کے مرحلوں سے گزری اور مختلف علاقوں میں مختلف بولیوں کی شکل میں سامنے آئی۔ البتہ اختلاف اس پر ہے کہ وہ کون سی پراکرت یا اپ بھرنش تھی جس سے ارتقأ پاکر اردو آخر کار اردوبنی اور موجودہ شکل میں آئی ۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اردو نے غالباً شورسینی پراکرت سے ارتقأ پایا ہے۔ اردو کا آغاز مغلوں سے بہت پہلے ہوچکا تھا بعض تاریخی کتابوں میں ایسے کئی الفاظ،مرکبات، جملے اور مصرعے آئے ہیں جن سے یہ بات بخوبی ثابت ہوجاتی ہے کہ اردو (اس وقت اس کا نام ہندی یا ہندوی یا جوکچھ بھی تھا) مغلیہ دور سے قبل نہ صرف موجود تھی بلکہ اس کا استعمال عام بول چال میں بھی ہورہاتھا۔ مثال کے طور پر ساتویں صدی ہجری کے بزرگ حضرت فرید الدین گنج شکر ؒ (متوفیٰ ۶۶۴ھ) سے یہ جملہ منسوب ہے: ’’پونوں کا چاند بالا ہے۔‘‘۲ ۳ شاہانِ گجرات اردو میں بات چیت کرتے تھے اور محمود بیگڑا سے یہ جملہ منسوب ہے:’’نیچی بیری سب کوئی جھورے۔‘‘۳۳ سلطان فیروز شاہ خلجی کے بعد ناصرالدین محمدشاہ نے مشرقی ہندوستان سے تعلق رکھنے والے بعض افراد کو دہلی سے نکالنے کا حکم دیا تاکہ سیاسی معاملات میں مداخلت سے باز رہیں۔ جب ان میں سے کچھ لوگوں نے خود کو دہلی کااصلی باشندہ ظاہر کیا تو ان کی شناخت کے لیے ان سے لفظ’’کھڑا کھڑی‘‘ بلوایا گیا (جو مشرقی ہند کے لوگ آسانی سے نہیں بول سکتے تھے) اور جو نہ بول سکا اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔۳۴ پیرحسام الدین راشدی کا کہنا ہے کہ سندھ میں بھی تغلق دور میں عام زبان اردو تھی اور اس کی سند میں انھوں نے ایک واقعہ بیان کیا ہے ۔ لکھتے ہیں کہ ۷۵۱ ھ میں سلطان محمد تغلق نے سندھ میں سومروں کے صدر مقام ٹھٹھہ (جس کو فارسی اور عربی میں ’تتہ‘ لکھا جاتا تھا) پر فوج کشی کی لیکن اسی زمانے میں بیمار ہوکر وفات پائی۔ دس برس بعد فیروز تغلق نے ٹھٹھے پر حملہ کیا لیکن اسے پیچھے ہٹنا پڑا۔ ’’تاریخ فیروز شاہی ‘‘ کے مطابق اس پر ٹھٹھے والے بہت خوش ہوئے اور کہا ’’برکتِ شیخ پٹھا، ایک موا ایک ہٹا۔‘‘۳۵ کچھ نے اس لفظ کو نتھا، کچھ نے بھکا اور کچھ نے ہٹا پڑھا ہے۔ راشدی صاحب کا خیال تھا کہ یہ لفظ ہٹا یا نہٹا ہے۔ سید سلیمان ندوی نے اس جملے کو’’ برکتِ شیخ تھیا ، اک موا اک تہا‘‘لکھا ہے۔۳۶ راشدی صاحب نے لکھا ہے کہ شیخ حسین پتھا سندھ کے مشہور ولی ہیں اور’’تحفۃ الکرام‘‘ میں ان کی تاریخِ ولادت ۵۶۰ ھ اور وفات ۶۰۶ھ درج ہے نیز یہ کہ ان کا مزار آج بھی ٹھٹھہ شہر سے کچھ فاصلے پرواقع ہے۔۳۷ راقم کا خیال ہے کہ صاحبِ مزار ’’پیر پٹھا‘‘ (ٹھ مشدد) کے نام سے بھی معروف ہیں اور ممکن ہے کہ قافیے کی رعایت سے یہ لفظ ’’نٹھا‘‘(ٹھ مشدد) ہو جس کے معنی ہیں’’ بھاگا‘‘ یعنی یہ جملہ غالباً یوں ہوگا: برکتِ شیخ پٹھا ، ایک موا ایک نٹھا۔‘‘ مغل دور سے قبل جو فارسی لغات برعظیم پاک و ہند میں لکھی گئیں ،ان میں فارسی الفاظ کے اردو مترادفات بھی دیے گئے ہیں ہے۔۳۸ مغلیہ دور کی ابتدأ میں بھی اردو کا چلن عام تھا۔ خود مغلیہ سلطنت کے بانی بابر کا ایک شعر اس کے ترکی دیوان کے ایک قلمی نسخے میں ایسا ہے جس میں تقریباً ڈیڑھ مصرع اردو میں اور بقیہ ترکی میں ہے۔ ۳۹اردو اور مسلمانوں کی ہندوستان آمدیہ بات تو سبھی مانتے ہیں کہ اردو کی جدید صورت گری میں فارسی ، عربی اور مسلمانوں کی دوسری زبانوں کا بھی بڑا ہاتھ ہے ۔ اردو میں عربی اور فارسی کے الفاظ کثیر تعداد میں ہیں ۔ اس کے علاوہ ترکی ، پشتواور بعض دیگر زبانوں کے الفاظ بھی اس کے ذخیرۂ الفاظ میں شامل ہیں ۔معروف ماہرِ لسانیات سنیتی کمار چٹر جی کی یہ بات بھی درست ہے کہ مسلمان ہندوستان میں نہ آتے تو اردو کی تشکیل میں چند صدیوں کی تاخیر ہوجاتی۔ ۴۰ ممکن ہے کہ اس کی موجودہ صورت بھی کچھ اور ہوتی لیکن اردو کے آغاز کا سلسلہ مسلمانوں کی ہندوستان آمد سے جوڑنا تاریخی اور لسانی طور پر درست نہیں۔اردو اس سے بھی پہلے وجود رکھتی تھی، گو اس کی شکل کچھ اور تھی۔ یہ کہنا کہ گیارھویں صدی عیسوی میں (یعنی آج سے کوئی ایک ہزارسال قبل) مسلمانوں کی آمد سے اردو کی صورت گری پر فرق پڑا ایک بات ہے لیکن یہ کہنا کہ اردو مسلمانوں کی زبانوں اور مقامی زبانوں سے مل کر بنی ہے یا لشکری زبان ہے بالکل الگ بات اور سراسر غلط ہے۔ حواشی۱۔ بیگ، مرزا خلیل احمد؛ اردو زبان کی تاریخ؛ ص: ۴۱، ۷۳۔۲۔ چو ’جگی: یعنی چار ’جگوں کا؛ مراد : بہت قدیم۔۳۔ لودی: لودھی کاایک املا لودی بھی ہے۔ ۴۔ حیران ہو کر : بمعنی پریشان ہوکر، اب ان معنوں میں’’ حیران‘‘ کا استعمال بہت کم ہے۔ ۵۔ ولایت: ولایت یہاں ایران کے معنی میں ہے۔۶۔ مقدمہ، باغ وبہار ، مرتبہ: ممتاز حسین، ص:۵۔۶ ۷۔ ملاحظہ ہو : اردو زبان اور اس کے مختلف نام، مشمولہ مقالاتِ حافظ محمود شیرانی، جلد اول؛( مرتبہ مظہر محمود شیرانی)۔ص: ۱۱۰۔۱۴۴ ۸۔ ملاحظہ ہو شیرانی کی محولہ بالا تصنیف نیز پنجاب میں اردو؛ ص: ۲۹۔ ۵۶ و بعدہ‘۔ ۹۔ آبِ حیات؛ مرتبہ: ابرار عبدالسلام ؛ص :۴۔۱۰۔ ایضاً ؛ ص: ۱۲۔۱۱۔ اردو زبان کی تاریخ،؛ص: ۷۳۔۷۴ ۱۲۔ سبزواری، شوکت؛ داستانِ زبانِ اردو؛ ص: ۴۷۔ ۱۳۔ ایضاً۔۱۴۔ "Grierson, G.A., "Linguistic Survey of India", جلد ۹، ص۴۴۔ ۱۵۔ "Grierson, G.A., "Linguistic Survey of India", جلد ۹، ص۴۴، حاشیہ۔ ۱۶۔ سبزواری، شوکت؛ داستانِ زبانِ اردو؛ ص: ۲۵۔۲۹؛ سبزواری صاحب کے اخذکردہ ان اصولوں کی مرزا خلیل بیگ نے بھی نشان دہی کی ہے۔ دیکھیے: اردو زبان کی تاریخ، ص ۴۹۔۵۰؛ نیز گیان چند بھی ان کا ذکر کرتے ہیں؛ ملاحظہ ہو: لسانی مطالعے؛ص: ۶۸و بعدہٗ۔۱۷۔ سبزواری، شوکت؛ داستانِ زبانِ اردو؛ ص: ۲۹۔ ۱۸۔ جین،گیان چند؛ لسانی مطالعے؛ص: ۶۸۔۱۹۔ Fromkin & Rodman, "An introduction to language" ؛ص :۲۸۱،۲۸۲۔۲۰۔ سبزواری، شوکت؛ داستانِ زبانِ اردو؛ ص: ۶۳۔۲۱۶۴۔ ص: ۳۳۔۵۸۲۲۔ قدیم دکنی اور اردوزبان کا تقابلی مطالعہ؛ص: ۵۷۔ ۲۳۔ جین،گیان چند؛ عمومی لسانیات؛ص: ۷۹۲۔۲۴۔ بیگ،مرزا خلیل ؛اردو کی لسانی تشکیل؛ص: ۲۲۵۔۲۵۔ ایضاً؛ ص :۲۲۶۔۲۶۔ لسانی رشتے؛ ص: ۱۹۔۲۷۔ مثلاً مرزاخلیل بیگ کی کتاب اردو کی لسانی تشکیل؛ گیان چند جین کی کتاب لسانی رشتے اور شوکت سبزواری کی کتاب اردو لسانیات ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ ۲۸۔ فاروقی،شمس الرحمٰن ؛ اردو کاابتدائی زمانہ، ص ۱۲۔۱۳ نیزصدیقی، ابواللیث ، تاریخِ زبان و اد بِ اردو؛ ص: ۷۰۔۸۲ ۲۹۔ اردو کا ابتدائی زمانہ؛ ص: ۱۶۔۳۰۔ ایضاً؛ص:۱۸۳۱۔ مثلاً ایسی کتابوں میں سے چند کے نام یہ ہیں:اردو زبان کی تاریخ از مرزا خلیل احمد بیگ؛ اردو کی لسانی تشکیل از مرزا خلیل احمد بیگ؛تاریخِ زبان و ادبِ اردو از ابواللیث صدیقی؛ زبان اور اردو زبان از فرمان فتح پوری ؛زبان وادب از حبیب اللہ غضنفر؛لسانی رشتے از گیان چند جین۳۲۔ شیرانی؛ پنجاب میں اردو؛ ص :۲۲۔۳۳۔ ایضاً؛ص: ۲۳۔۳۴۔ ایضاً؛ص: ۲۳۔۲۴؛ حاشیہ۔۳۵۔ اردو زبان کا اصلی مولد: سندھ؛ص: ۱۹۴۔۱۹۵۔۳۶۔ نقوشِ سلیمانی؛ ص: ۲۵۹۔۳۷۔ اردو زبان کا اصلی مولد: سندھ؛ص: ۱۹۵۔۳۸۔ شیرانی؛پنجاب میں اردو؛ ص:۲۳۳ و بعدہٗ۔۳۹۔ عبدالحی؛ سید، گل ِ رعنا؛ ص:۹۔۴۰۔ بحوالہ بیگ؛ خلیل؛ اردو زبان کی تاریخ؛ ص: ۵۵۔فہرستِ اسناد محولہ۱۔ امن؛ میر؛ باغ و بہار؛مرتبہ: ممتاز حسین؛اردو ٹرسٹ کراچی؛ ۱۹۵۸ء۲۔ آزاد؛ محمد حسین؛ آبِ حیات؛ مرتبہ ابرار عبدالسلام،بہا ء الدین زکریا یونیورسٹی؛ ملتان؛ ۲۰۰۶ء۳۔ بخاری، سہیل؛ قدیم دکنی اور اردو زبان کا تقابلی مطالعہ؛ مشمولہ سہ ماہی اردو نامہ؛ کراچی؛ شمارہ ۱۸؛ اکتوبرتا دسمبر ۱۹۶۴ء۔ ۳۔ بیگ، مرزا خلیل احمد؛ اردو زبان کی تاریخ؛ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ؛۲۰۰۰ء؛ طبع دوم۔۴۔ بیگ، مرزا خلیل احمد؛ اردو کی لسانی تشکیل؛ ایجوکیشنل بک ہاؤس؛ علی گڑھ؛ ۲۰۰۰ء؛ طبع سوم۔۵۔ جین، گیان چند؛ عمومی لسانیات؛ترقی اردو بیورو، دہلی؛ ۱۹۸۵ء۔۶۔ جین،گیان چند؛ لسانی رشتے؛مغربی پاکستان اردو اکیڈمی، لاہور؛ ۲۰۰۳ء۔۷۔ جین، گیان چند؛ لسانی مطالعے؛ترقی اردو بیورو،دہلی؛۱۹۹۱ء؛ تیسرا ایڈیشن۔۸۔ راشدی، پیر حسام الدین؛ اردو زبان کا اصلی مولد: سندھ، مشمولہ اخبار اردو؛ اسلام آباد؛ مارچ۔اپریل؛۲۰۰۳ء ،۹۔ سبزواری، شوکت؛اردو لسانیات؛مکتبۂ تخلیقِ ادب،کراچی؛ ۱۹۶۶ء۔۱۰۔ سبزواری، شوکت؛ داستانِ زبانِ اردو؛ انجمن ترقی اردو، کراچی؛ ۱۹۸۷ء؛اشاعتِ دوم۔۱۱۔ شیرانی، حافط محمود؛ پنجاب میں اردو؛ نسیم بک ڈپو، لکھنوء؛۱۹۸۱ء۔۱۲۔ شیرانی، حافط محمود؛ مقالاتِ حافظ محمود شیرانی؛ جلد اول؛ مرتبہ: مظہر محمود شیرانی؛ مجلس ترقی ادب، لاہور؛ ۱۹۸۷ء؛ طبع دوم۔۱۳۔ صدیقی، ابواللیث ؛ تاریخِ زبان و اد بِ اردو؛ رہبر پبلشرز، کراچی؛ ۱۹۹۸ء۔۱۴۔ عبدالحی، سید، گل ِ رعنا، مطبع معارف؛ اعظم گڑھ، ۱۳۷۰ھ؛طبع چہارم۔۱۵۔ غضنفر، حبیب اللہ؛ زبان وادب؛ غضنفر اکیڈمی، کراچی؛ ۱۹۸۳ء۔ ۱۶۔ فاروقی،شمس الرحمٰن ؛ اردو کاابتدائی زمانہ؛ آج، کراچی؛۲۰۰۱ء؛ اشاعتِ ثانی۔ ۱۷۔ فتح پوری، فرمان؛ زبان اور اردو زبان؛ قمر کتاب گھر ، کراچی؛ ۱۹۸۰ء؛طباعتِ دوم۔ ۱۸۔ ;Fromkin, Victoria & Rodman,Robert"An introduction to language" ؛ہالٹ رائن ہارٹ اینڈ ونسٹن، لندن؛ ۱۹۷۸ء۔۱۹۔ گریرسن،جی، اے؛ "Grierson, G.A., "Linguistic Survey of India", لنگ وسٹک سروے آف انڈیا، جلد ۹؛ (اشاعتِ اول ۱۹۱۶ء)؛ لو پرائس پبلی کیشنز، دہلی(بھارت)؛ ۱۹۹۰ء؛ (طبعِ نو)۔ ۲۰۔ ندوی، سید سلیمان؛ نقوشِ سلیمانی؛اردو اکیڈمی سندھ، کراچی؛ ۱۹۶۷ء۔
مأخذ:http://nlpd.gov.pk/uakhbareurdu/july2011/10.html

حالات غالب بہ زبان غالب

آج ۱۵ فروری ۲۰۱۶ء ہے، غالب کی ایک سو سیتالسویں برسی ہے۔ یہ خط جس میں غالب اپنے حالات بیان کررہے ہیں، ان کے انتقال سے ٹھیک دو سال پہلے کا ہے۔ آج سے ٹھیک ۱۴۹ سال پہلے غالب اپنے بارے میں یوں لکھتے ہیں:
(مکتوب حضرت غالب بہ نام مولوی منشی حبیب اللہ خاں المتخلص بہ ذکا)
صبح جمعہ، دہم شوال سنہ ۱۲۸۳ھ، ۱۵ فروری سنہ ۱۸۶۷ء
بھائی! میں نہیں جانتا کہ تم کو مجھ سے اتنی ارادت اور مجھ کو تم سے اتنی محبت کیوں ہے؟ ظاہرا معاملۂ عالم ارواح ہے۔ اسباب ظاہری کو دخل نہیں۔ تمہارے خط کا جواب مع اوراق مسودہ روانہ ہوچکا ہے، وقت پر پہنچے گا۔ سترا بہترا اردو میں ترجمۂ "پیر خرفت" ہے۔ میری تہتر برس کی عمر ہے۔ پس میں اخرف ہوا۔ حافظہ گویا کبھی تھا ہی نہیں، سامعہ باطل بہت دن سے تھا، رفتہ رفتہ وہ بھی حافظے کی مانند معدوم ہوگیا۔ اب مہینہ بھر سے یہ حال ہے کہ جو دوست آتے ہیں، رسمی پرسش مزاج سے بڑھ کر جو بات ہوتی ہے وہ کاغذ پر لکھ دیتے ہیں۔ غذا مفقود ہے، صبح کو قند اور شیرۂ بادام مقشر، دوپہر کو گوشت کا پانی، سر شام تلے ہوئے چار کباب، سوتے وقت پانچ روپے بھر شراب، اور اسی قدر گلاب۔ خزف ہوں، پوچ ہوں، ہیچ ہوں، عاصی ہوں، فاسق ہوں، رو سیاہ ہوں، یہ شعر میر تقی کا میرے حسب حال ہے:مشہور ہیں عالم میں، مگر ہوں بھی کہیں ہمالقصہ نہ در پے ہو ہمارے کہ نہیں ہمآج اس وقت کچھ افاقت تھی۔ ایک اور خط ضروری لکھنا تھا۔ بکس کھولا تو پہلے تمھارا خط نظر پڑا۔ مکرر پڑھنے سے معلوم ہوا کہ بعض مطالب کے جواب لکھے نہیں گئے۔ ناچار اب کتابت جداگانہ میں لکھتا ہوں تاکہ خلعت کا حال اور میرے اور حالات تم کو معلوم ہوجائیں کہ میں:قوم کا ترک سلجوقی ہوں، دادا میرا ماوراءالنہر سے شاہ عالم کے وقت میں ہندوستاں آیا۔ سلطنت ضعیف ہوگئی تھی، صرف پچاس گھوڑے نقارہ نشان سے شاہ عالم کا نوکر ہوا۔ ایک پرگنہ سیر حاصل ذات کی تنخواہ اور  رسالے کی تنخواہ میں پایا۔ بعد انتقال اس کے جو طوائف الملوک کا ہنگامہ گرم تھا، وہ علاقہ نہ رہا۔ باپ میرا عبداللہ بیگ خاں بہادر لکھنئو جا کر نواب آصف الدولہ کا نوکر ہوا۔ تین سو سوار کی جمعیت سے ملازم رہا۔ کئی برس وہاں نوکر رہا۔ وہ نوکری ایک خانہ جنگی کے بکھیڑے میں جاتی رہی۔ والد نے گھر آکر الور کا قصد کیا۔ راؤ راجہ بختاور سنگھ کا نوکر ہوا، وہاں کسی لڑائی میں مارا گیا۔ نصراللہ بیگ خاں بہادر میرا حقیقی چچا مرہٹوں کی طرف سے اکبرآباد کا صوبے دار تھا۔ اس نے مجھے پالا۔ سنہ ۱۸۰۶ء میں جب جرنیل لیک صاحب کا عمل ہوا، صوبہ داری کمشنری ہوگئی اور صاحب کمشنر ایک انگریز مقرر ہوا۔ میرے چچا کو جرنیل لیک صاحب نے سواروں کی بھرتی کا حکم دیا۔ چارسو سوار جمع کیے، چار سو سوار کا برگڈیر ہوا۔ ایک ہزار سات سو روپیہ ذات کا اور لاکھ ڈیڑھ لاکھ روپیہ سال کی جاگیر حین حیات، علاوہ سال بھر مرزبانی کے تھی کہ بہ مرگ ماگاہ مرگیا۔ رسالہ برطرف ہوگیا۔ ملک کے عوض نقدی مقرر ہوگئی۔ وہ اب تک ہاتا ہوں۔ پانچ برس کا تھا، جو باپ مرگیا۔ آٹھ برس کا تھا، جو چچا مرگیا۔ سنہ ۱۸۳۰ء میں کلکتے گیا۔ نواب گورنر سے ملنے کی درخواست کی۔ دفتر دیکھا گیا، میری ریاست کا حال معلوم کیا گیا۔ ملازمت ہوئی، سات پارچے اور جیغہ، سرپیچ، مالاے مروارید، یہ تین رقم خلعت ملا۔ بعد غدر بہ جرمِ مصاحبتِ بہادر شاہ دربار و خلعت دونوں بند ہوگئے۔ میری بریت کی درخواست گزری۔ تحقیقات ہوتی رہی۔ تین برس کے بعد پنشن چھٹا۔ اب خلعت معمولی ملا۔ غرض کہ یہ خلعت ریاست کا ہے، عوض خدمت نہیں، انعامی نہیں۔ معوج الذہن نہیں ہوں، غلط فہم نہیں ہوں، بدگمان نہیں ہوں۔ جو جس کو سمجھ لیا اس میں فرق نہیں آتا۔ دوست سے راز نہیں چھپاتا۔ کسی صحب نے حیدرآباد سے گم نام خط ڈاک میں بھیجا۔ بند بری طرح کیا تھا، کھولتے میں سطر کٹ گئی۔ بارے مطلب ہاتھ سے نہیں جاتا۔ بھیجنے والے کی غرض یہ تھی کہ مجھ کو تم سے رنج و ملال ہو، قدرت خدا کی میری محبت اور بڑھ گئی اور میں نے جانا کہ تم مجھے دل سے چاہتے ہو۔ وہ خط بہ جنسہ تمہارے ہاس اس خط میں ملفوف کرکے بھیجتا ہوں۔ زنہار دستخط پہچان کر کاتب سے جھگڑا نہ کرنا۔ مدعا اس خط کے بھیجنے سے یہ ہے کہ تمہاری ترقیِ منصب اور افزونیِ مشاہرہ اس خط سے مجھے مرلوم ہوئی تھی۔
[غالب]
بہ حوالہ: اردوے معلیٰ (صدی ایڈیشن)، طبع اول، ۱۹۶۹ء، مرتب: سید مرتضی حسین فاضل، ناشر: مجلس ترقی ادب لاہور، حصہ اول، جلد اول، ص ۱۰۰۔

رکھنا ہر چیز کا اس کی غلط جگہ پر۔۔۔

بچپن میں، بلکے آج تک بڑے بزرگ ایک بات کہتے ہیں، جو ان کی باقی باتوں کی طرح مجھ جیسے خودسر نوجوان، نہیں مانتے۔ وہ یہ ہے کہ بیٹا ہر چیز کو اس کی اپنی مقررہ جگہ پر رکھا کرو۔ ہمارے بزرگوں نے بڑی کوشش کی کہ ہم اس کو اپنی زندگی کا اصول بنائیں، لیکن ہم کیوں بناتے، ہم کو تو تولیہ کسی نامعلوم جگہ پر ہی رکھنا ہوتا ہے تاکہ جب نہا چکیں، تو آواز دیں کہ کوئی تولیہ لادے۔ یا چابیاں بھی ایک ایسی خفیہ جگہ پر رکھنی ہوتی ہیں کہ آخر تالا توڑنا ہی پڑے۔ اسی طرح اکثر چیزیں اپنی غیر متعلقہ جگہ پر رکھتے ہیں، اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔ مجھ سے کسی نے پوچھا کہ تمہارا کمرہ اس قدر بکھرا کیوں رہتا ہے؟ میں نے بڑے فخر سے جواب عرض کیا، کہ اس بے ترتیبی میں بھی ایک ترتیب پنہاں ہے، جس کو صرف مجھ جیسا باشعور انسان ہی سمجھ سکتا ہے۔ یہ بھی ہمارا ایک معمول ہے کہ اپنے غلط کام کو غلط منطق پیش کر کے صحیح دکھائیں۔ اس ناشائستہ ترتیب کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک چیز جو میں نے سامنے ہی رکھی تھی، دو ہفتے سے مجھے مل نہیں رہی، جبکہ اس وقت مجھے اس کی سخت ضرورت ہے۔ تو اب یہ خیال آیا کہ کیوں نہ سنت و نصیحت آباء پر عمل کیا جائے۔ لیکن کیا کروں کہ اپنی سنت اتنی رچ بس گئی ہے کہ اس سنت قدیمہ کی گنجائش نہیں بن پاتی۔المیہ لیکن صرف یہ نہیں کہ چند معمولی چیزیں ہم صحیح جگہ پر رکھنے سے قاصر ہوگئے ہیں۔ کاش بات اتنی ہی ہوتی۔ لیکن افسوس کہ اس سے کہیں زیادہ آگے بڑھ چکی ہے۔ گویا بات کھلونے، کپڑے، تولیے سے شروع ہوئی اور آج بڑی چیزوں پر اس کا اثر نظر آتا ہے۔ اس کی سب سے واضح مثال یہ ہے کہ ہم اپنی اوقات میں رہنا بھول چکے ہیں، گویا ہمیں اپنی جگہ نہیں معلوم، ہم کو نہیں پتہ کہ اپنے آپ کو کیسے اور کہاں رکھنا چاہیئے۔ اک مجھ ہی کو دیکھ لیں، میں ایک طلبہ ہوں، طلبہ یا اسٹیوڈنڈ کو کس جگہ ہونا چاہیے؟ کلاس میں یا سڑک پر؟ کیا کرنا چاہیے؟ پڑھائی یا بے مقصد اور تباہ کن سیاسی جھگڑے؟ مجھے کچھ پتہ ہی نہیں۔ میں نہ اپنے مقام سے واقف ہوں نہ کوشش کرتا ہوں اس کی۔ اگر بچپن سے عادت ڈالی ہوتی اس بات کی کہ ہر چیز اپنی جگہ پر رکھنی چاہیئے، اور ہر کام اس کے مقررہ وقت پر، تو اس وقت میں ایک طلبہ ہونے کے ناطے بیٹھا اپنی تھیسز لکھ رہا ہوتا، تاکہ کم از کم وقت پر پوری ہوجائے۔ اس سادہ سی مثال کا نتیجہ دیکھیں۔ ہمارے طلبہ یا تو سرے سے پڑھتے ہی نہیں، کیونکہ اس کو اپنی شان قلندری کے خلاف اور اپنے نہایت ضروری سیاسی اور عشقیہ امور میں خلل انداز پاتے ہیں۔ اور بعض جو پڑھتے ہیں، وہ اس لیئے ہڑھتے ہیں کہ، ہم اچھی تعلیم حاصل کرکے کسی غیر ملکی ادارے میں ملازمت کریں گے اور پھر کسی (بظاہر) اچھے غیر ملک میں رہنے چلے جائیں گے۔ اب ان میں سے جو ملک سے باہر نہیں جا پاتے کسی بھی وجہ سے، مجبور ہوکر ملک میں ہی کہیں با دل ناخواستہ ملازمت کرلیتے ہیں۔ یہ جو تین گروہ ہیں، تینوں نے اپنے آپ کو غلط جگہ رکھا ہے، یعنی طالب علم کا کام پڑھنا ہے نہ سیاسی جھگڑے، اور یہ بات ذہن میں رکھ کر پڑھنا کہ جس ملک و قوم نے آپ کو پروان چھڑایا اور آپ کو یہاں تک پہنچایا پہلے اس کا حق بنتا ہے کہ آپ کی مخدوم ہو نہ یہ کہ آپ پاکستان کا کہائیں اور خدمت جاکر غیر ملکیوں کی کریں۔ اور اگر آپ کو ملک سے باہر جانا ہی ہے تو جائیں، یہ مجبوری کی حالت میں اپنے اوپر جبر کرکے ملک میں رہنے کا کیا فائدہ کہ کوئی ڈھنگ کا کام بھی نہ کرسکیں۔یہ ایک چھوٹی سی مثال تھی، اس کے نتائج کہیں زیادہ دور رس اور خطرناک ہیں۔ اب پاکستان ہی کو لے لیں۔ اگر ہم نے وہ اصول اپنائے ہوتے جن کا ذکر چند سطر پہلے ہوا تھا، تو ہمارے صنعت کار، صنعت کو فروغ دینے میں مصروف ہوتے، تاجر، ملک کی تجارت کو مضبوط کر رہے ہوتے، زمیندار، کھیتی باڑی اور زمینوں کی آبادکاری کے فرائض پورے کررہے ہوتے، کھلاڑی، مختلف کھیولوں میں جیت کر ملک کے لیئے طمغے حاصل کررہے ہوتے، مدیریت (مینجمنٹ) کے ماہرین اپنے اپنے متعلقہ شعبوں کو اچھی طرح سے چلا رہے ہوتے، سیاست دان ملک کی سیاسی باگ دوڑ سنبھالے ہوتے، اقتصاد دان قومی اقتصاد کو بہتری کی طرف لے جا رہے ہوتے، اور اسی طرح باقی شعبے بھی چل رہے ہوتے۔لیکن ہمارے ہاں آجکل سب کے سب اپنے شعبے چھوڑ کر سیاست کی مٹی پلید کرنے میں لگے ہیں۔ اس سے زیادہ بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم کو ایک قوم ہونے کہ ناطے یہ شعور نہیں ہے کہ ہم اپنے اوپر کس کو مسلط کررہے ہیں۔ ہم نے بلے بازوں کو سرسید بنادیا، وڈیروں کو اقبال، صنعت کاروں کو قائد اعظم، ہر  داڑھی اور پگڑی والے کو (نعوذ باللہ) پیغمبر۔ اور پھر امید کرتے ہیں کہ حالات بہتر ہوں گے۔ہاں حالات بہتر ضرور ہوں گے، مگر اس وقت جب ہم ہر چیز کو اسکی صحیح جگہ پر رکھنے کا ڈھنگ سیکھ لیں گے۔
اور ہاں، عید میلاد الرسول ص مبارک ہو، ساتھ ہی قائد اعظم کی سالگرہ بھی۔

سید محمد نقوی

بارے "منٹو" کے۔۔۔

آخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور سفید پردے پر پاکستان کا جھنڈہ قومی ترانے کی آواز کے ساتھ لہرانے لگا۔ جو کہ اس بات کی نوید تھی کہ چند لمحات میں فلم "منٹو" کا آغاز ہوجائے گا۔ جس کا کافی عرصے سے مجھے انتظار تھا۔ سینما ہال میں ہم تین، یعنی میں، میری اہلیہ اور ہمشیرہ کے علاوہ شاید چھ یا سات اور افراد ہوں گے، جو کہ سب قومی ترانے کے احترام میں کھڑے ہوگئے تھے۔ قومی ترانے کے بعد ایک ہندی فلم کے اشتہار نے تھوڑا مزہ کرکرہ تو کیا پر فلم شروع ہوتے ہی ایسا کھویا میں منٹو میں کہ بھول ہی گیا وہ کیا تھا اور کونسی فلم کا اشتہار تھا۔میں نے سینما کے جس ہال میں فلم دیکھی، اس کی نشستیں نہایت آرامدہ تھیں، یہاں تک کے آپ ان کو پوری طرح سیدھا کرکے لیٹ بھی سکتے ہیں۔ میں نے فلم شروع ہونے سے پہلے حسب عادت اپنی نشست کو سیدھا کیا، چپل اتاری اور کمبل اوڑھ کر لیٹ گیا۔ ابھی لیٹ کر اپنے چشمے کے شیشی صاف کررہا تھا کہ پردے پر منٹو صاحب بھی اپنے چشمے کے شیشے صاف کرتے ہوئے ظاہر ہوئے، مجھے اپنی گستاخی پر نہایت افسوس ہوا کہ منٹو جیسے ادیب کے سامنے اتنی بے ادبی کیسے کر ڈالی، چنانچہ نشست ٹھیک کرکے نہایت ادب و احترام کے ساتھ فلم دیکھنے لگا۔ سچ پوچھیے تو مجھے امید نہیں تھی کہ آج مجھے اتنا عمدہ شہپارہ دیکھنے کو ملے گا، میں تو ادب اور فلم کے شوق میں اپنے اس سنگم کو دیکھنے آیا تھا، مجھے تو اسی ناامیدی کا خوف تھا جو الہ آباد میں سنگم دیکھ کر ہوی۔ اس کی ایک عمدہ وجہ یہ تھی کہ گذشتہ چند برس میں پاکستان میں بننے والی فلموں میں، ایک یا دو فلمیں ایسی دیکھیں جن کو اچھی فلموں کے زمرے میں شمار کرتا ہوں، اور ان میں بھی کہیں اداکاری تو کہیں ہدایتکاری کا واضح نقص نظر آتا ہے، پر اندھوں میں کانا راجا والی بات ہے۔ لیکن آج "منٹو" دیکھ کر میری رائے پاکستانی سینما کے بارے میں بدل گئی، بلکے یہ کہنا بجا ہوگا کہ، "منٹو" نے پاکستانی سینما کو ایک نئے مقام پر لا کھڑا کیا۔ "منٹو" اور باقی پاکستانی فلموں میں فرق اس قدر واضح اور زیادہ ہے کہ اگر "منٹو" کو پاکستانی سینما میں ایک نئے باب کا آغاز کہا جائے تو شاید غلط نہ ہو۔ بلکہ میں تو کہتا ہوں اس فلم کامقابلہ دنیا کی بہترین سوانحی فلموں سے کیا جاسکتا ہے۔ کہانی، مکالمے، اداکاری، ہدایتکاری، گانے، سینماٹوگرافی، کیمرا، فریمنگ، غرض یہ کہ تقریبا ہر چیز بہترین تھی، اور سب سے بڑی بات یہ کہ ہر چیز مرتبط اور بجا تھی، ہر چیز ایک نہایت خوش نما مالا کی موتیوں کی طرح اپنی جگہ پر پروئی گئی تھیں۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا یہ باب کھلا رہتا ہے اور اس طرح کی یا اس سے اچھی مزید فلمیں بھی بنتی ہیں یا خدانخواستہ یہ باب یہیں بند ہوجاتا ہے۔میں تو خیر ماہر فن فلمسازی نہیں ہوں، پر شوق بہت ہے، اور فلمیں بہت دیکھی ہیں۔ خاص طور پہ اس طرح کی سوانحی فلموں کا مجھے بہت ہی زیادہ شوق ہے۔ کچھ عرصے پہلے ہالی وڈ میں ایک فلم بنی تھی مشہور سائنسدان اسٹیفن ہاکینگ کی زندگی پر، جو نہایت عمدہ فلم تھی، آج یہ فلم دیکھ کر مجھے بعض مقامات پر تو ایسا لگا کہ "منٹو" اس سے بھی بازی لے گئی۔بے جا نہ ہوگا اگر میں ۱۹۵۴ کی فلم “غالب” کا تذکرہ کروں۔ چند سال پہلے ہی میں نے یہ فلم دیکھی۔ اس زمانے میں میری ایک خراب عادت تھی کہ میں شروع اور آخر کے نام نہیں پڑھا کرتا تھا بلکے صرف فلم دیکھتا تھا۔ چنانچہ عادت کے مطابق میں نے فلم دیکھی اور مجھے بہت پسند آئی۔ اس کے بعد سے میں بار بار اس فلم کو دیکھتا رہا ہوں اور اس سے لطف اندوز ہوتا رہتا ہوں۔ آخر ایک دن میں نے نام پڑھے تو پتہ چلا کہ یہ فلم منٹو صاحب نے لکھی ہے، اور کیا خوب لکھی ہے۔ اسی فلم کے ذریعے فلمسازوں نے ایک خاص ماہرانہ انداز میں منٹو کے اندر غالب کی شخصیت کو ایسا پرویا ہے کہ ایک مقام پر دیکھنے والے کو پردے پر سرمد کھوسٹ کی شکل میں، منٹو کے کردار میں، غالب ابھرتا ہوا نظر آتا ہے، جس سے شاید یہ بتانا مقصود ہو کہ منٹو ادب جدید کا غالب ہے۔ جہاں ہدایتکاری اور اداکاری میں کھوسٹ صاحب نے کمال فن کا مظاہرہ کیا ہے، کہانی کے ساتھ ساتھ، غالب اور منٹو کو ایک کرنے کا یہ فن، شاہد ندیم کے قلم، کھوسٹ کی اداکاری، جمال رحمان کی موسیقی سازی اور نہ جانے کس کس کے فن کا مشترکہ اعجاز ہے۔ مقصد یہ کہ یہ فلم، فلمسازی کے لحاظ سے بہترین ہونے کے ساتھ ساتھ، ایک ادبی حیثیت اور مقام بھی رکھتی ہے۔ فلم دیکھنے کی بعد جب اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ یہ فلم مختلف مراحل سے گذر کر یہاں تک پہنچی ہے۔ شاید اس کی کامیابی کی ایک وجہ یہ بھی ہو۔ "کون ہے یہ گستاخ" سے "میں منٹو" اور آخر میں "منٹو"۔ ایسا لگتا ہے کہ شاہد ندیم صاحب اور سرمد کھوسٹ صاحب نے اس فلم کو پال پوس کر اس قابل بنایا ہے کہ سینما کے نقرئی پردے پر ہمیشہ کے لیئے ایک قابل قدر مقام حاصل کرے۔ایک بات اور جو اس فلم میں نمایاں ہے وہ یہ کہ ظاہرا تو آپ فلم ہی دیکھ رہے ہیں، پر ساتھ ہی آپ منٹو کو پڑھ بھی رہے ہیں، مزید یہ کہ منٹو کی لکھی ہوئی چند مختصر فلمیں بھی دیکھ رہے ہیں، اس کے افسانوں کی حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں، اس کے کرداروں کا دکھ محسوس کرسکتے ہیں، اور نہایتا منٹو کے دل میں بھرے بوجھ کو آپ اپنے دل میں محسوس کرسکتے ہیں۔منٹو کو اس فلم میں کوئی افسانوی یا دیومالائی کردار بنا کر پیش نہیں کیا گیا ہے، نہ ہی کوئی ڈرامائی انداز دیا گیا ہے، بلکہ وہ جیسا تھا ویسا ہی دکھایا ہے۔ اس کی تایید میں تو نہیں کرسکتا منٹو کی بیٹیوں اور چند ہم عصروں کے علاوہ میرے خیال میں اور کوئی نہیں جو اس بات کی تایید یا تردید کرے۔ لیکن فلم کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ منٹو کے کردار میں مبالغے کی آمیزش بہت ہی کم ہے۔ اتنی کم کہ اس کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔ میں یہ گنجائش اس لیے رکھ رہا ہوں کہ فلم بنانے کے لیے تھوڑی بہت آمیزش کرنی ہی پڑتی ہے جو شاید اس فلم میں بھی ہو لیکن اس کو کم سے کم رکھا گیا ہے۔ فلمساز، منٹو کو معاشرے کے بنائے ہوئے پیمانے میں نہیں ڈھالتا، کیونکہ منٹو کی جنگ انہی کھوکلے پیمانوں سے تھی، اور اگر وہ ایسا کرتے تو پھر وہ منٹو نہ ہوتا، گویا منٹو کی شخصیت ہے ہی ایسی کہ انسان کو گستاخ بنادیتی ہے۔ایک آخری بات جو ضروری سمجھتا ہوں یہ ہے کہ بعض فلموں میں دیکھا ہے کہ جتنی بھی اچھی اور بہترین فلم کیوں نہ ہو، کہیں نہ کہیں کوئی ایسا اداکار آجاتا ہے جو اپنی اداکاری سے فلم میں ایک نظر کے ٹیکے کا کردار نبھتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اس فلم میں تمام اداکاروں، موسیقاروں، لکھاروں، اور ہدایت کاروں نے مل کر ایک ایسا ہنرمندانہ شہپارہ بنایا ہے کہ جس میں بہت ہی مشکل سے کوئی نقص یا خرابی نظر آتی ہے۔یہاں میں اس فلم کے بنانے والوں کو گستاخی مبارک کہنا چاہوں گا۔ آج بھی اخلاق و اقدار کے وہی خود ساختہ ٹھیکیدار منٹو اور منٹو جیسوں کو برداشت نہیں کرسکتے کیونکہ یہ لوگ اس عریانی پر روشنی ڈالتے ہیں، جس کو ان ٹھیکیداروں نے جھوٹ، فریب اور ظلم کے اندھیرے میں چھپا رکھا ہے۔اس فلم کے بارے میں لکھنے اور کہنے کو تو بہت کچھ ہے، جو میرے قلم کی توانائی سے باہر ہے۔ میں آخر میں بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ یہ فلم دیکھ کر مجھے فخر کا احساس ہورہا ہے، اس فلم پر، منٹو پر، کھوسٹ پر، ندیم پر، اور پاکستان کی فلم سازی اور سینما پر۔
۔۔۔ یہ صدیوں کی بات ہے!۔۔۔

۱۱ ستمبر ۲۰۱۵سید محمد نقوی
کراچی

قتل چھپتے تھے کبھی ۔۔۔۔

قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ​اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ​​اپنی پوشاک کے چھن جانے پہ افسوس نہ کر​سر سلامت نہیں رہتے یہاں دستار کے بیچ​​سرخیاں امن کی تلقین میں مصروف رہیں​حرف بارود اگلتے رہے اخبار کے بیچ​​کاش اس خواب کی تعبیر کی مہلت نہ ملے​شعلے اگتے نظر آئے مجھے گلزار کے بیچ​​ڈھلتے سورج کی تمازت نے بکھر کر دیکھا​سر کشیدہ مرا سایا صف اشجار کے بیچ​​رزق، ملبوس ، مکاں، سانس، مرض، قرض، دوا​منقسم ہو گیا انساں انہی افکار کے بیچ​​دیکھے جاتے نہ تھے آنسو مرے جس سے محسن​آج ہنستے ہوئے دیکھا اسے اغیار کے بیچ​​محسن نقوی

جناب اسپیکر

#جناب_اسپیکر، ہم پر غلط الزام لگایا جارہا ہے کہ ہمیں عوام کی فکر نہیں، آج صرف سیلاب زدہ عوام سے ہمدردی کہ طور پہ ہم ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے ہیں،  تاکہ قوم کی پریشانیوں میں شریک رہیں...

جناب اسپیکر...

#جناب_اسپیکر، اس ایوان کا تقدس پامال نہیں ہونا چاہیئے، چاہے کتنی ہی ناپاک عوام گولیوں یا پانی کے سیلاب میں بہہ جائے، اچھا ہے ملک پاک ہوجائے گا....

گستاخی معاف...

جناب اسپیکر، گزارش کرتا ہوں کہ نواز شریف صاحب کی مقدس سیٹ پر،  ان کا مقدس لباس لٹکادیں تاکہ روز روز کلف خراب نہ ہو، یہ بھی بہت بڑا قومی مسئلہ ہے. ویسے بھی ان کو روز عوام کے سامنے سے گذرا میاں صاحب کی شان قلندری کے خلاف ہے.
جناب اسپیکر...

آمریت یا جمہوریت...

میں ڈکٹیٹرشپ کا حامی نہیں ہوں, لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہمارے ملک کو ایک مقتدر حکمران کی ضرورت ہے, جو ڈکٹیٹرشپ کی شکل میں ہی ہوسکتا ہے, جس میں اتنی قدرت اور صلاحیت ہو کہ ملک کے دشمنوں کو, چاہے مسجد میں چھپے ہوں یا غاروں میں, کہیں بھی ہوں ان کو ختم کرسکے. اور یہ جو شریعت کی آڑ میں آکر اتنے جرم کررہے ہیں, یہ تو نہ صرف ملک کے دشمن بلکہ انسانیت اور اسلام کے بھی  دشمن ہیں, انکے ساتھ بیٹھ کر صلح کی بات کرنا سیرت رسول ص کے خلاف ہے, آپ ص نے جب دیکھا کہ مسجد کی پناہ میں سازش ہورہی ہے, اس مسجد کو ضرار کا لقب دے کر ختم کردیا.
کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ حکومت کوئی صحیح قدم ان کو ختم کرنے کے لیئے اٹھائے؟ کیا اب بھی مذاکرات کرنے کا وقت ہے؟
جمہوریت کے نام پر ملک میں امن ختم کردینا اور انسانوں کے خون بہانے سے بہتر ہے کہ ایک ڈکٹیٹر ہو جو کم از کم امن کی صورتحال بہتر کرسکے. ہماری قوم اور نہ ہی ہمارے لیڈروں نے تاریخ سے کوئی سبق سیکھا بلکہ لگتا ہے جانتے ہی نہیں تاریخ کیا ہے. تاریخ صرف کتابوں اوع عجائب گھروں میں محفوظ کرنے کے لیئے نہیں ہوتی, سیکھنے, سمجھنے, محسوس کرنے اور سبق سیکھنے کے لیئے ہوتی ہے, تاکہ ہم پرانی غلطیاں نہ دہرائیں اور کم از کم کوئی نئی غلطی کریں.
جناب نواز شریف صاحب, ہم سب جلد ہی تاریخ کا حصہ بن جائیں گے, اب یہ آپ پر ہے کہ اپنا نام کس طرح تاریخ کے صفحات پر محفوظ کرانا چاہتے ہیں...

آمریت یا جمہوریت...

میں ڈکٹیٹرشپ کا حامی نہیں ہوں, لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہمارے ملک کو ایک مقتدر حکمران کی ضرورت ہے, جو ڈکٹیٹرشپ کی شکل میں ہی ہوسکتا ہے, جس میں اتنی قدرت اور صلاحیت ہو کہ ملک کے دشمنوں کو, چاہے مسجد میں چھپے ہوں یا غاروں میں, کہیں بھی ہوں ان کو ختم کرسکے. اور یہ جو شریعت کی آڑ میں آکر اتنے جرم کررہے ہیں, یہ تو نہ صرف ملک کے دشمن بلکہ انسانیت اور اسلام کے بھی  دشمن ہیں, انکے ساتھ بیٹھ کر صلح کی بات کرنا سیرت رسول ص کے خلاف ہے, آپ ص نے جب دیکھا کہ مسجد کی پناہ میں سازش ہورہی ہے, اس مسجد کو ضرار کا لقب دے کر ختم کردیا.
کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ حکومت کوئی صحیح قدم ان کو ختم کرنے کے لیئے اٹھائے؟ کیا اب بھی مذاکرات کرنے کا وقت ہے؟
جمہوریت کے نام پر ملک میں امن ختم کردینا اور انسانوں کے خون بہانے سے بہتر ہے کہ ایک ڈکٹیٹر ہو جو کم از کم امن کی صورتحال بہتر کرسکے. ہماری قوم اور نہ ہی ہمارے لیڈروں نے تاریخ سے کوئی سبق سیکھا بلکہ لگتا ہے جانتے ہی نہیں تاریخ کیا ہے. تاریخ صرف کتابوں اوع عجائب گھروں میں محفوظ کرنے کے لیئے نہیں ہوتی, سیکھنے, سمجھنے, محسوس کرنے اور سبق سیکھنے کے لیئے ہوتی ہے, تاکہ ہم پرانی غلطیاں نہ دہرائیں اور کم از کم کوئی نئی غلطی کریں.
جناب نواز شریف صاحب, ہم سب جلد ہی تاریخ کا حصہ بن جائیں گے, اب یہ آپ پر ہے کہ اپنا نام کس طرح تاریخ کے صفحات پر محفوظ کرانا چاہتے ہیں...

تحفہ شریف بحضور مادر مودی, کے بہانے...

بہت اچھی بات ہے کہ ہمارے وزیر اعظم صاحب, جناب نواز شریف صاحب قبلہ, اپنی والدہ کے آنسوؤں سے متاثر ہوکر, مودی صاحب کی والدہ محترمہ کے لیئے تحفہ لے گئے, بہت اچھی بات ہے, ماں کا مقام بہت بلند ہوتاہے اور جب اس طرح اس کی قدر کی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ سیاستدان اور حکمران حضرات بھی انسانی جذبات کے مالک ہوتے ہیں. ماں انسانی جذبات کا ایک اعلا نمونہ ہے, جس سے کوئی بھی انکار نہیں.
لیکن ایک بات, ایک سوال, ماں ہوتی کیا ہے؟ جناب نواز شریف صاحب, کیا ماں صرف مودی صاحب اور آپ کی والدہ کو ہی کہا جاسکتا ہے؟ کیا دنیا میں اور مائیں نہیں ہے؟ کیا وہ غریب عورت جس کی اولاد کو آپ جیسے سیاستدانوں کی سیاست کھا گٰئی ہے, وہ ماں نہیں؟ کیا وہ عورتیں جو پاکتان بھر میں, ہر وقت فون ہاتھ میں لیئے, اپنے لاڈلوں کے آنے یا ان کی موت کی خبر کے آنے کے انتظار میں دن رات کاٹ رہی ہیں ماں نہیں ہیں؟ کیا وہ عورتیں جو اپنے جگر پاروں کے گھر سے باھر نکلتے ہی اس پریشانی کا شکار ہوجاتی ہیں کہ کہیں اس بس کو آگ نہ لگادی جائے جس میں ان کا بچہ ہے, ماں نہیں؟
میں یہ نہیں کہتا کہ اب آپ ملک بھر کی تمام ماوؤں کے لیئے تحفہ لیکر ان کے گھر جائیں, جبکہ یہ کام اگر آپ کر بھی لیں تو ان کی پریشانیوں کے بدلے آپ نے کچھ بھی نہیں کیا. لیکن یہ میرا سوال آپ سے اور تمام سیاست بازوں سے ہے, کہ جب آپ کی نظر میں ماں کی اتنی عزت ہے, تو اپنے ملک کی ماوؤں کے لیئے کیا کیا یا کر رہے ہیں آپ؟ کم از کم انھی ماوؤں کے لیئے کچھ کریں جن کے ووٹوں سے آپ کو حکومت ملی ہے. میں تو آج تک یہی سمجھتا تھا کہ حکومت ہاتھ آنے کے بعد, انسانی جذبات ختم ہوجاتے ہیں, لیکن آپ کے اس کام نے میرے اس خیال کو غلط ثابت کردیا. اگر یہ ایک ڈراما تھا تب بھی, ذرا اپنے ڈرامے کو ہی پورا کریں.
کاش یہ تحفہ جو آپ مودی صاحب کی والدہ کے لیئے لیکر گئے ہیں, ہمارے ملک کی ماوؤں اور بہنوں کے لیئے بھی ایک نوید مسرت ہو. کاش جتنی فکر آپ کو امیتابھ اور لتا (ویسے مجھے امید ہے کہ یہ بات سراسر جھوٹ اور غلط ہو) سے ملنے کی ہے, اتنی ہی فکر اپنے ملک کی عوام کی ہو.
کاش...
کاش...
کاش...

لو، انھیں پہچانو!۔

جون ایلیا کی تحریر "تیرے دیوانے یہاں تک پہنچے" سے ایک اقتباس پیش کررہا ہوں۔ یہ فقرات آجکل کے حالات کی بھی عکاسی کرتے ہیں،  ہم مسلمان، جہاں بھی ہوں، خاص طور پہ پاکستان میں اسی قسم کی سوچ میں پھنسے ہوئے ہیں۔
"لو، انھیں پہچانو! یہ گروہ اپنے ذاتی عقیدے کو دوسروں پر مسلّط کرنا چاہتا ہے۔ انھیں اس کی کوِئی فکر نہیں کہ ایک شخص فاقے کی آگ میں جل رہا ہے، انھیں تو صرف اس بات سے سروکار ہے کہ وہ ان کا عقیدہ تسلیم کرتا ہے یا نہیں۔ یہ حضرات زمین اور اس کے معاملوں سے بہت بلند ہیں۔ انہوں نے تو آسمانوں کو گویا پہن لیا ہے۔  ان کے مقدس عقیدے کا نہ کوئی وطن ہے اور نہ کوئی زبان۔ یہ بستیوں کی امنگوں کو بجھا دینا  چاہتے ہیں۔  عالمی سماج کا نظریہ تمھیں وطن دشمنی اور اپنی تہذیب سے غداری کی تعلیم نہیں دیتا۔ مگر جس عالمی اخوت کا نعرہ یہ لوگ بلند کرتے ہیں، اس کا حاصل یہ ہے کہ تم اپنی آزادی، استحکام، حبِّ وطن سماجی سالمیت اور اپنی تخلیقی انا سے یک سر دست بردار ہوجاو، اچھا فرض کرو کہ ان کا مطلب یہ نہیں ہے اور ہم بپتان تراشی سے کام لے رہے ہیں، پر یہ سوچو کہ اگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں اور تم اپنی زبان، تہذیب اور اپنے وطن کی محبت سے یک سر بیگانہ ہو جاو تو اس کا فائدہ کون اٹھائے گا، تم یا تمھارے دشمن؟ یقین کر لو اس کا فائدہ تمھارے دشمن اٹھائیں گے، جو خود اُن حضرات کے بھی دوست نہیں ہیں۔کچھ لوگ ہیں جو اس ملک کو برا کہہ کر ہی سکون پاتے ہیں۔ ایسے لوگ صرف یہیں پائے جاتے ہیں، دنیا کی کوئی قوم بھی ایسی نہیں ہے جو ایسے لوگوں کو اپنے درمیان پائے اور انھیں برداشت کرتی رہے۔ جنھیں اس قوم پر غصّہ آتا ہے، ان کا احترام کرو، ان کے سامنے محبت اور عقیدت سے گردنیں جھکاو، مگر جو صرف برائی کرنا اور پاکستان کی تحریک کو طعنے دینا جانتے ہیں، انھیں نمک حرام اور غدار جانو کہ بُروں کو بُرا کہنا بھی بڑی نیکی ہے۔"جنوری ۱۹۶۳ء، جون ایلیافرنود، ۱۹۲
بشکریہ خالد احمد انصاری

یوم آزادی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حسب سابق, اس برس بھی ہم مع اہل خانہ اور اقرباء, یوم آزادی کی خوشیاں اپنے ہم وطنوں کے ساتھ بانٹنے, 14 اگست کو صبح سویرے, کوئی 12 بجے کے آس پاس, ناشتا کرنے نکلے.
اب صبح سویرے, اور 12 بجے کا وقت خود ایک بہت بڑا تضاد ہے, اس پر مزید یہ کہ ناشتے کا ارادہ. خیر کراچی جیسے شہر میں یہ شاید کوئی عجیب بات نہ ہو. لیکن اس پر مجھے حیرت اور خوشی ضرور ہوئی کہ ایک بجے دوپہر کے وقت بھی الحمد للہ, ناشتے کے لیئے حلوہ پوری مل ہی گیا. اس سلسلے میں ہمارے برادر خرد, نبیل کی محنتیں قابل تحسین ہیں.
ارے بات کہیں سے کہیں پہنچ گئی. میں ذکر جشن آزادی اور آپس میں خوشیاں بانٹنے کا کررہا تھا.
ہوا یہ کہ ہم صبح کو نکلے, گھومتے پھرتے, مختلف لوگوں کو اور مختلف سجاوٹوں کو دیکھتے, سراہتے, بورڈ بیسن پہنچے. کراچی سے ناواقف حضرات کے لیئے عرض ہے کہ یہ ساحل سمندر کے نزدیک, شہید بینظیر بھٹو پارک کے سامنے, اور مشہور و معروف بلاول ہاوس کے نزدیک ایک جگہ ہے, جہاں زیادہ تر کھانے پینے کی دوکانیں ہیں. مختلف قسم کے مزیدار کھانے یہاں ملتے ہیں, کراچی آنا ہو تو ضرور یہاں جائیے گا. ہاں تو عرض کررہا تھا کہ بورڈ بیسن پہنچے اور وہاں ایک تخت پر ہم سب بیٹھے ہی تھے کہ ایک منظر ہماری نظروں کے سامنے آیا. ویسے تو بہت سارے لوگ تھے جو ہرے اور سفید رنگ کے کپڑے پہنے تھے, اور بعض تو پورا پاکستان کا سبز ہلالی پرچم ہی پہن آئے تھے. اسی طرح کا ایک محب وطن جوان ہمارے سامنے والے تخت پر اپنے دوست اور دو سہیلیوں کے ساتھ بیٹھا تھا. ہرے رنگ کی ٹی شرٹ اور شاید نیلی جینز زیب تن کی ہوئی تھی, ہری پی کیپ بھی سر پر آراستہ تھی. ان سب کے ساتھ, ایک چیز بہت دور سے نظر آتی اور ذہن میں سوالات ابھارتی تھی, اور وہ تھا, ایک سرخ پرچم جس پر ایک ہلال اور ایک ستارہ بنا ہوا تھا, جو کہ غالبا ٹرکی کا جھنڈا ہے. یہ جھنڈا اس جوان نے اپنے سر پر رکھا ہوا تھا. یہ منظر دیکھتے ہی, ہمارے درمیان, بحث و تبادلہ خیال کا سلسلہ شروع ہو گیا, کوئی کہتا کہ شاید اسے معلوم نہیں کہ یہ ٹرکی کا جھنڈا ہے, کوئی کہتا کہ شاید یہ ہنسی مزاق کے ارادے سے یہ جھنڈا لے کر آیا ہے, خیر جتنے لوگ, اتنی باتیں. یہاں تک کے کافی دیر کے بعد, ہمارے بڑے بھائی, عدیل بھائی, نے اس سے پوچھ ہی لیا. کہ بھائی کافی دیر سے یہاں بات ہورہی ہے کہ آپ ٹرکی کی جھنڈا کیوں لیئے ہوئے ہیں, اب آپ خود ہی بتا دیں کہ ایسا کیوں کیا ہے.
اس سوال پر ہنستے ہوئے, پہلے تو یہ کہا کہ یہ پاکستان کا ہی جھنڈا ہے جو خون آلود ہوگیا ہے. پھر وضاحت کی کہ یہ جھنڈا تو ٹرکی کا ہی ہے, پر میں یہ جھنڈا اس لیئے لایا ہوں تا کہ "خون میں ڈوبا پاکستان" کا تصور پیش کروں, شاید کسی کے ذہن میں کچھ آئے اور کوئی کچھ کرنے کی کوشش کرے. اس جواب پر ہم نے شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے اس جذبے اور پیغام کو سراہا. بات گذر گئی, وہ بھی چلے گئے, ہم بھی ناشتا کرنے نکل چلے گئے, بیش قیمت, آزادی کی خوشی, خوشگوار موسم میں ساحل سمندر پر منائی. موسم سے لطف اندوز ہوتے رہے, آزادی مناتے رہے. نہایت بیش قیمت آزادی, جس کو پانے کے لیئے, نہ جانے کتنی جانیں, عزتیں, جاگیریں, دولت اور کیا کیا قربان کیا گیا.
اس آزادی کو ہم نے حقیقی, بلکہ افسانوی آزادی میں بدل دیا, ایسی آزادی جہاں آزادی کی خوشیاں بھی, خوں رنگ ہیں, جس میں کچھ لوگ آزادی کی خوشیاں اسلحے, بارود اور گولیوں سے بانٹتے ہیں. اور اس کی انتہا تو یہ ہے کہ آزادی کا پورا ہی مزہ چکھاتے ہوئے, اس جسم خاکی سے ہی آزادی دلا دیتے ہیں. اتنی آزادی کہ آپ کو یوم آزادی کی خوشیوں کی اطلاع, ان گولیوں کی آوازوں سے ملتی ہے, جن کی آواز سے شاید کسی کا دل رک گیا ہو یا وہ گولی خدا نخواستہ کسی کے سینے میں اتری ہو. میرے اس ہم وطن بھائی نے جب وہ بات کی, تو گذشتہ رات کی گولیوں کی آوازیں میرے کانوں میں گونجنے لگی, جس میں یہ فرق مشکل تھا کہ کونسی ہوائی فائر ہے, اور کونسی کسی انسانی جسم میں داخل ہورہی ہے. ہمارے ایک نہایت قریبی رشتے دار بڑے فخر سے فرما رہے تھے, کہ فلاں روز میں نے اتنی ہوائی گولیاں چلائیں. مجھے حیرت اس بات پر ہوئی کہ کیوں ایک ایسے قانون کو بھول گئے جو شاید اب تو پرائمری اسکول کے بچوں کو بھی معلوم ہے, کہ ہر اوپر جانے والی چیز نیچے ہی آتی ہے, اور نہ جانے آپ کہ یہ ہوائی گولی, اتر کر کس کے سر, دل یا کہیں لگ جائے. کیوں ہمیں خوشیاں بانٹنے, اور خوشیاں منانے کی تمیز نہیں, ہماری تہذیب کو کیا ہوا ہے. آزادی کا مطلب کیا یہ ہے؟
کاش ہمیں آزادی منانا آجائے. میں تو اس وقت اپنی عزیز از جاں قوم کے لیئے, یہی دعا مانگوں گا, کہ یا اللہ! ہماری قوم کا آزادی اور انسانیت کا جذبہ دوبارہ زندہ فرما. آمین

جشن آزادی مبارک.

یہ باتیں...

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں
یہ لوگوں نے پھیلائیں ہیں

تم انشا جی کا نام نہ لو
کیا انشا جی سودائی ہیں

غالب کی ایک فارسی غزل - خون می خوریم چون ہم ازین مردمیم ما

از وہم قطرگیست کہ در خود گمیم مااما چو وارسیم ہمان قلزمیم ما
در خاک از ہوای گل و شمع فارغیماز توسن تو طالب نقش سمیم ما
تمکین ما ز چرخ سبک سر بہ باد رفتخوش دستگاہ انجمن انجمیم ما
مردم بہ کینہ تشنہ ی خون ہم اند و بسخون می خوریم چون ہم ازین مردمیم ما
از حد گذشت شملہ ی دستار و ریش شیخحیران از این درازیِ یال و دمیم ما
دستت ز ما نہ شوی مسیحا کہ زیر خاکآب از تف نہیب صدای قمیم ما
پنہان بہ عالمیم ز بس عین عالمیمچون قطرہ در روانیِ دریا گمیم ما
ما را مدد ز فیض ظہوری ست در سخنچون جام بادہ راتبہ خوار خمیم ما
غالب ز ہند نیست نوائی کہ می کشمگوئی ز اصفہان و ہرات و قمیم ما
غالب

آج، غالب کیا لکھ رہے ہیں؟

ایک دوسرے سے باخبر رہنا، اور پیغامات کا پہچانا، ہمیشہ آج کی طرح آسان نہ تھا۔ آج کل تو خیر اس ام اس، ام ام اس، ای میل، ٹیلی فون، انٹرنٹ فون اور نہ جانے کتنی دوسری چیزوں سے رابطہ اتنا آسان ہو گیا ہے کہ لمحے بھر میں میلوں دور کی خبر آپ تک پہنچ سکتی ہے۔ خط و کتابت نہایت آسان اور تیز رفتار ہو گئی ہے۔ نئی نسل کے لیے تو شاید اس کا تصور بھی ممکن نہ ہو کہ کیسے لوگ ایک زمانے میں، خط بھیج کر مہینوں بعد تک اس کے جواب کا انتظار کرتے تھے۔ چند برس پہلے تک یہ رسم کافی حد تک برقرار تھی، لیکن اب آہستہ آہستہ ختم ہونے کے نزدیک ہے، شاید۔ اب بہت کم ہی کوئی ملتا ہے جو کسی کو خط لکھے، ای میل سے یا اس ام اس سے ہی کام چل جاتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ رسم بالکل ہی ختم ہو گئی ہے، آج بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں، جو خط و کتابت پر زار دیتے ہیں، خط لکھتے ہیں، اور جواب طلب کرتے ہیں۔خیر، یہ تو مفصل بات ہے۔ میں یہاں آج اس زمانے کی ایک یاد تازہ کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے معلوم نہیں، کیا وجہ ہے کہ جب پرانے زمانے کا کوئی خط پڑھتا ہوں، ایک عجیب سی کیفیت میرے اندر پیدا ہوتی ہے۔ بعض خط تو لکھنے والوں نے اتنے انہماک سے اور دل لگا کے لکھے ہوتے ہیں، کہ ایسا لگتا ہے ابھی وہ شخص خود خط سے باہر نکل آئے گا۔ ایسا لگتا ہے اس نے اپنی آپ کو ہی ان الفاظ و جملات کی شکل میں صفحہ قسطاس پر سجا کر، اپنے مکتوب الیہ کی جانب روانی کیا ہے۔ فلموں میں شاید دیکھا ہو، کہ جب کسی کو خط ملتا ہے، وہ جب خط کھول کر پڑھتا ہے، خط کی تحریر کو لکھنے والے کی آواز میں سناتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی محسوس ہوتا ہے مجھے بھی۔ نہ جانے کیا فن تھا یا کیا کیفیت تھی اس زمانے میں، کہ اپنے تمام تر تاثرات اور جذبات کو کاغذ پر ایسے نقش کرتے تھے، کہ آج تک ان کی تازگی میں فرق نہیں آیا۔ آج بھی آپ کوئی پرانا خط چاہے کتنا بھی سادہ اور مختصر ہو اٹھا کر دیکھ لیں، وہ ہی طراوت وہ ہی تازگی وہی احساس آج تک ان سطروں موجود ہوگا۔ کبھی محسوس کرنے کی کوشش کریں، بہت مزہ آتا ہے۔ نہ جانے آج کے کاغذ یا دوات کی خامی ہے، انسان بدل گئے ہیں، یا پھر وہ جذبات ہی ختم ہوگئے ہیں، جو انسانوں کو ایک دوسرے سے محبت کرنے، چاہنے، اور مرتبط ہونے پر مجبور کرتے تھے۔کبھی فرصت ہو تو یہ بھی ایک اچھا مشغلہ ہے کہ پرانے خطوط پڑھ کر دیکھا جائے، اس زمانے میں لوگوں کے جذبات، مسائل، مشکلات اور مشاغل کیا ہوا کرتے تھے۔ کیسی ایک دوسرے کو خطاب کرتے اور ایک دوسرے سے رابطہ رکھتے تھے۔اسی سلسلے میں، میں نے آج سوچا، یہ دیکھوں، کہ آج سے تقریبا ڈیڑھ صدی پہلے، مرزا غالب، اپنے دولت کدے میں، بیٹھے خط میں کیا لکھ رہے ہوں گے۔ جس وقت میں، لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھا کی بورڈ سے یہ الفاظ ٹائپ کررہا ہوں، اسی تاریخ میں، بس تقریبا 150 سال کے فاصلے سے مرزا غالب قلم و دوات سے صفحہ قرطاس پر یہ لکھ گئے بلکہ یوں کھوں کہ اس طرح اپنے جذبات کو قلمبند کرگئے ہیں۔|مکتوب بہ نام حکیم سید احمد حسن صاحب مودودی|
سید صاحب و قبلہ حکیم سید احمد حسن صاحب کو غالب نیم جاں کا سلام پہنچے۔وہ جو آپ نے سنا ہے کہ غالب کو مرض سے افاقت ہے۔ سو محض غلط ہے۔ آگے ناتواں تھا اب نیم جاں ہوں۔ خط نہیں لکھ سکتا، ایک لڑکے سے یہ چند سطریں لکھوا دی ہیں۔ جو میں کہتا گیا ہوں وہ غریب لکھتا گیا ہے۔ آپ سید ہیں اور بزرگ ہیں، میرے حق میں دعا کریں کہ اب تہتر برس سے آگے نہ بڑھوں، اور اگر کچھ زندگی اور ہے، تو حق تعالی تھوڑی سی صحت اور طاقت عنایت کرے تاکہ دوستوں کی خدمت بجا لاتا رہوں۔غالب۳، جولائی، ۱۸۶۷ ع(اردوئے معلی {مرتب: فاضل لکھنوی}، ج ۲، ص ۴۸۳، م ۲۷۸)
چلیں ہم بھی حکیم صاحب کے ساتھ، غالب کے لیئے دعا کرتے ہیں۔سید محمد نقوی۳، جولائی، ۲۰۱۳ ع 


قومی زبان

آجکل ٹیکنالوجی نے بہت ترقی کر لی ہے. وقت, مکان, فاصلہ, سرحدیں و غیرہ کوئی رکاوٹ نہیں ہیں. آپ جہاں بھی ہوں, بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے انٹرنیٹ کی دنیا میں داخل ہو کر دنیا کے ہر کونے تک آسانی سے اپنی بات, اپنا پیغام اور اپنی فکر پہنچا سکتے ہیں. فیس بک, ٹوئیٹر, گوگل پلس, بلاگینگ اور نہ جانے کتنے ہزار وسائل ہیں جس کو استعمال کیا جا سکتا ہے.اب اس وقت نہایت خوشی اور مسرت کی بات یہ ہے کہ الحمد للہ, اردو زبان بولنے والے اور اردو کے چاہنے والے اس دنیا میں بہت پیچہے نہیں ہیں. ہر سوشل نیٹورک پر, تقریبا, چند یا بعض میں ہزاروں کی تعداد میں اردو کے صفحات, مختلف عناوین کے تحت پائے جاتے ہیں. تاریخ, شعر, نثر, ادب, سیاست, اور نہ جانے کتنے موضوعات میں اردو کے صفحات پائے جاتے ہیں.لیکن ایک بات بہت شدت سے محسوس ہوتی ہے. وہ یہ کہ اکثر تحریروں میں,املا کی غلطیاں بہت زیادہ پائی جاتی ہیں.اور اس پر مزید المیہ یہ ہے کہ جو لوگ ان تحریروں اور تصویروں پر اظہار رائے کرتے ہیں, یا تو ان غلطیوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتے, یا اگر ہوتے ہیں, اس کی طرف توجہ دلانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے. مجھے نہیں معلوم کہ میرا یہ احساس کس حد تک قابل غور ہے. لیکن میں نے اس بارے میں کافی سوچا, میری سمجھ میں نہیں آیا اس کی وجہ کیا ہے. کیوں لوگ املا کی طرف متوجہ نہیں ہوتے؟ جبکہ اس وقت تو املا کی اصلاح بہت آسان ہے.خاص طور پہ جب کوئی شخص ایک معلوماتی تحریر لکھتا ہے, کم از کم ایک دفعہ پوسٹ کرنے سے پہلے اسے پڑھنا چاہیے, تا کہ ایک تو غلطیوں کا پتہ چلے اور یہ بھی معلوم ہو کہ لکھا کیا ہے. 
یہ واقعا ایک المیہ ہے, جس کی طرف ہم سب کو توجہ دینی ہوگی. ایک زبان کے لیئے خاص طور پہ قومی زبان کے لیئے یہ مصیبت ہوتی ہے کہ اس کی قوم اور اس کے بولنے والے اسے کم قیمت سمجھیں, اور اسے بھولنے لگیں. براہ کرم اردو کو نہ بھولیں...
امید ہے، میری اس تحریر میں، غلطیاں کم سے کم ہوں، اگر ہیں، تو ضرور آگاہ کیجیئے۔شکریہ

Pages