سیف قاضی بلاعنوان

"مائے جرنی ٹو اسلام "

مجھے نت نئے تجربات کرنے کا بڑا شوق ہے ۔۔ اور  اگر انفارمیشن ٹیکنالوجی کا میدان ہو تو میری دلچسپی مزید بڑھ جاتی ہے۔ بلاگر سے لے کر اینڈرائڈ ایپ کا سفر اسی شوق کا نتیجہ ہے۔
تقریباً ایک ہفتہ قبل  نو مسلموں کی قبول اسلام کی کہانیوں پر مشتمل کتاب " نسیم ھدایت کے جھونکے "  کا مطالعہ کر رہا تھا۔ دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ اس موضوع پر انگریزی میں کچھ کام کیا جائے ؟
خیال آتے ہی  فوراً گوگل کو زحمت دی ۔۔   معلوم ہوا کہ اس سمت میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے۔  انگریزی زبان میں اس موضوع پر اچھی ویب سائٹس موجود ہیں۔  اور  بہت ساری ویب سائٹس   پر تو با قاعدہ ٹول فری ہیلپ لائن شروع کی ہوئی ہے ۔  ویب سائٹس سے مطمئن ہونے کے بعد اشتیاق ہوا کہ کیا گوگل پلے میں ایسی اینڈرائڈ ایپس ہیں ؟ گوگل پلے میں دیکھنے کے بعد پتا چلا کہ عربی میں ایک ایسی ایپ ہے جو نو مسلم افراد کے قبول اسلام کی کہانیوں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ  کسی اور زبان میں ہو سکتی ہے لیکن اردو اور انگریزی میں تو البتہ ایسی کوئی ایپ نہیں ہے۔
دل میں خیال ہوا کہ  کیون نہ  اس خلا کو پر کرنے کے لیے ایک اینڈرائڈ  ایپ تیار کی جائے ؟
ایپ کے لیے ایک مختصر سا خاکہ ذہن میں تیار کیا اور اللہ کا نام لے کر شروعات کی۔
الحمد للہ  مختصر سے وقت میں اس موضوع پر ایک  ایپ تیار ہوگئی۔اس ایپ کو
MY JOURNEY TO ISLAM
 نام سے گوگل پلے اسٹور میں اپلوڈ کیا گیا ہے۔ 
    فی الحال اس ایپ میں  نو مسلم افراد کے قبول اسلام کی کہانیوں کے ساتھ ساتھ مشہور اسلامک اسکالرس کی  کچھ کتابیں پی ڈی ایف فارمیٹ میں شامل کی گئی ہیں۔ آئندہ اس میں   ہیلپ لائن نمبر وغیرہ شامل کرنےکا ارداہ ہے۔امید کرتا ہوں کہ اس سے مسلم  و غیر مسلم افراد یکساں مستفیذ ہوں گے۔  

بزم اردو لائبریری کی اینڈرائڈ ایپ ۔۔۔۔ :)

   قارئین بلاگ ۔۔۔
جیسا کہ آپ سبھی حضرات جانتے ہیں کہ  ہم  " بزم اردو " کے پلیٹ فارم سے عصر حاضر کی جدید ٹیکنالوجی کا موزوں استعمال کرتے ہوئے  اردو ادب کی ترویج و اشاعت  کی کوشش کر رہے ہیں۔
بزم اردو لائبریری اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی   الحمد للہ آپ حضرات نے اس پروجیکٹ کی خوب پذیرائی کی اور اپنا ادبی تعاون بھی پیش کیا  لیکن موبائل اور ٹیبلیٹ کے زمانے میں خاکسار لائبریری کے لیے اینڈرائڈ ایپ کی بڑی کمی محسوس کر رہا تھا۔ اللہ کے فضل و کرم سے محنت کرتے ہوئے     ہم  نے لائبریری کے لیے ایک اینڈرائڈ ایپ بنائی ہے جو گوگل پلے اسٹور میں " بزم اردو لائبریری " نام سے اپلوڈ کی گئی ہے۔ فی الحال یہ ایپ اینڈرائٹ 4.0 اور اس کے اوپر کے ورژن پر کام کرتی ہے۔ آپ تمام حضرات سے درخواست ہے کہ   اس ایپ کا جائزہ لیں اور اگر پسند آئے تو  گوگل پلے اسٹور میں 5 ستاروں  اور اپنے تبصرے سے ضرور نوازیں ۔
والسلامطالب دعا  ڈاکٹر سیف قاضی

کہانی ۔۔ بزم اردو لائبریری کی


 کہانی ۔۔ بزم اردو لائبریری کی 
لائبریری سے متعلق یہ تحریر جنوری  میں ہی شائع ہو جانی چاہیے تھی لیکن  چاہتے ہوئے بھی کچھ تحریر نہیں کر سکا یا  دوسرے لفظوں میں مصروفیات نے کبھی بلاگ کی طرف رخ کرنے کا موقعہ ہی نہیں دیا۔ آج    فیس بک پر  عزیز بھائی مکرم نیاز  اور دیگر احباب سے  اردو بلاگنگ کے متعلق تبادلہ خیال ہوا  تب ہی دل میں یہ خیال پیدا ہو تھا کہ آج ضرور لائبریری سے متعلق پوسٹ تحریر کروں گا  اتفاق سے  ابھی نیٹ کنیکشن  نہیں آ رہا ہے  اس لیے سونے سے پہلے آف لائن یہ پوسٹ تحریر کر رہا ہوں۔
کوئی ڈیڑھ سال پہلے کی بات ہے ۔۔ ہندوستان سے اردو  فورمز کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے احقر نے بہت سارے سنجیدہ مزاج احباب ، تعلیمی اداروں اور دینی مراکز سے رابطہ قائم کیا تھا تا کہ ایک وسیع ترین دینی ، علمی و  ادبی پورٹل شروع کیا جائے جہاں تشنگان علم و ادب سیراب ہو سکیں۔  لیکن یقین جانیے کہ پچاسوں لوگوں  سے رابطہ کرنے کے بعد محض چند لاحباب نے جواب دینے کی زحمت گوارا کی تھی ان چند لوگوں میں سے سید مکرم نیاز اور اعجاز عبید ( معروف بہ الف۔عین) صاحب نے نہ صرف میری حوصلہ افزائی کی بلکہ ہر ممکن تعاون بھی کیا۔اعجاز عبید انکل کے مشورے سے یہ طئے پایا  کہ   فیس بک کی طرح ایک سماجی گٹھ جوڑ کی اردو  ویب سائٹ تیار کی جائے اور ساتھ میں علم و ادب کے سرمایہ کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک آن لائن لائبریری بھی  شروع کی جائے ۔میں نے  تکنیکی طور سے احباب سے تعاون حاصل کرنے کی بڑی کوشش کی لیکن ۔۔۔۔۔ بالآخر تنھا محنت کرتے ہوئے  26 جنوری 2013  سے " بزم اردو سوشل نیٹورک " شروع کر دیا۔میرے سامنے   دوسرا مسئلہ لائبریری کی ویب سائٹ تیار کرنا تھا ۔ میں ایک ایسے شہر میں مقیم ہوں جو بلحاظ اردو انتھائی  بنجر ہے  ۔اس لیے میں نے مالیگاؤں اور اورنگ آباد جیسے شہروں میں ویب ڈیولپر کی تلاش شروع کی لیکن  "اردو کےعقیدتمندوں " نے  اردو ویب سائٹ کی تیاری  کا خرچ اتنا بتایا جو میری دو  ماہ کی آمدنی سے بھی زیادہ تھا۔ ایک ماہ تک مسلسل تلاش کے بعد مجھے اپنے شہر میں دو غیر مسلم ڈیولپرس مل گئے جو کم خرچ میں ویب پر کام کرنے کے لیے راضی تھے۔ انہوں نے مجھ سے ویب سائٹ مکمل کرنے کے لیے  تین ہفتہ کا وقت مانگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ۔۔ ابھی عشق کے امتحان اور بھی تھے۔ویب سائٹ کے لیے نصف رقم میں پیشگی ادا کر چکا تھا  پورے تین مہینے گذر جانے کے بعد بھی زیادہ پیش رفت نہیں ہوئی ۔۔ کچھوے کی چال چلتے ہوئے انہوں نے ویب سائٹ تقریباً 80  فیصد مکمل کر دی لیکن ابھی بھی اس میں بہت زیادہ بگس تھے۔میں نے انہیں کچھ رقم اور اداکر دی کہ شاید اس طرح  کچھ کام بن جائے۔ لیکن۔۔۔۔ بالآخر طیش میں آکر مجھے ان دونوں سے جھگڑا کرنا پڑا اور وہ کام بھی اسی جگہ پر اٹک گیا۔میں دوبارہ ویب ڈیولپرس کی تلاش میں جٹ گیا  لیکن اس ادھورے کام کو پورا کر نے کے لیے کوئی راضی نہ ہوا۔ ۔۔۔  وقت گذرتا جا رہا تھا اعجاز عبید انکل کو میل کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ پتا نہیں  وہ میرے بارے میں  کیا سوچتے ہوں گے۔ اردو  فورمز کی دنیا کی ایک مشہور  شخصیت سے رابطہ کیا  وہ اس سے پہلے اس طرح کے پروجیکٹ پر کام کر چکے تھے لیکن ان کا کوئی جواب نہیں آیا ۔۔ اعجاز انکل سے درخوات کی کہ آپ  ای میل کریں ۔۔ لیکن ان صاحب نے اعجاز انکل کو بھی جواب نہیں دیا۔ایک صاحب سے ملاقات ہوئی انہوں نے بڑا دلاسہ دیا لیکن اس کے بعد ایسے غائب ہوئے کہ نہ کال ریسیو کی اور نہ ہی ای میل کا جواب دیا۔ نا امیدی اس قدر طاری ہو گئی تھی کہ اب لائبریری ویب سائٹ کے نام سے الجھن ہونے لگتی تھی۔  اس دوران ایک صاحب ملے جو ورڈپریس پر کام کرتے ہیں ان کا مشورہ تھا کہ "آپ کسٹم پروجیکٹ کو بھول جائیں میں آپ کو ایک ہفتہ میں بہترین ورڈ پریس بیسڈ  لائیبریری تیار کر دوں گا"۔اس وقت میں ورڈ پریس کو بطور بلاگنگ پلیٹ فارم ہی جانتا تھا ۔ لیکن ان صاحب کے اطمینان دلانے کے بعد میں تیار ہو گیا۔ لیکن یہاں بھی اپنی قسمت خراب تھی یا یہ کہا جا سکتا  ہے خدائے تعالٰی کو یہ ہی منظور تھا کہ ویب سائٹ میں خود تیار کروں۔۔۔۔  یہ حضرت بھی غائب ہوگئے۔یا اللہ اب مزید کتنے امحانا ت باقی ہیں ؟نہ پری کی زلف میں الجھا نہ ریش واعظ میںدل غریب لقمہ ہوا امتحانوں کا  اس وقت ذہن میں بات آئی کہ کیوں نہ ورڈ پریس سے دو دو ہاتھ کر لیے جائے ؟ فوراً گوگل کے کان مروڑے ، مکرم بھائی کو ای میل کیا ۔۔۔  گوگل نے بتایا کہ یہ ایک بہترین سی ایم ایس ہے اور اس سے الگ الگ قسم کی ویب سائٹ بنائی جا سکتی ہے۔ مکرم بھائی کا جواب آیا کہ اگر آپ ایچ ٹی ایم ایل سی ایس ایس اور پی ایچ پی سے واقف ہوں تو ورڈپریس سے بہترین ویب سائٹ تیار کر سکتے ہیں۔بلاگر کی وجہ سے ایچ ٹی ایم ایل اور سی ایس ایس کا مختصر تعارف ہو گیا تھا لیکن پی ایچ پی۔۔۔خیر تقریباً مکمل ایک ہفتہ ورڈپریس کو سمجھنے میں سرف کیا ۔۔  پچاسوں آرٹیکل پڑھے یو ٹیوب  پر ٹیوٹوریل دیکھے۔۔۔۔۔ اور کچھ دنوں بعد ورڈپریس میری لوکل مشین پر انسٹال ہو گیا ۔مختلف پلگ ان اور تھیمز کے تجربے کرنے میں مجھے بہت مزہ انے لگا تھا  اس دوران میں نے پچاسوں ورڈپریس تھیم کھوج نکالی  ۔ نہ جانے کتنی پلگ ان کو فعا ل اور غیر فعال کیا ۔پورے ایک مہینے کی کڑی جدوجہد کے بعد بالآخر میں ورڈپریس کو مختلف پلگ ان اور آئی پن نامی تھیم کے ذریعے ایک لائیبریری ویب سائٹ میں ڈھالنے میں کامیاب ہو گیا ۔لیکن ابھی تک ویب سائٹ میں جاذبیت محسوس نہیں  ہو رہی تھی۔ اتفاق دیکھیے کہ اسی دوران مجھے اسکل پیجس نامی ویب سائٹ سے میرے ایک دوست کا دعوت نامہ ملا اور وہاں سے میں نے ایک ڈیزائنر ڈھونڈ نکالا۔ میں ڈیزائنر کو اپنے آئیڈیا دیتا گیا اور کچھ دنوں میں لائبریری ویب سائٹ ایک خوبصورت لے آؤٹ  کے ساتھ منظر عام  پر  آ گئی۔یہاں جتنی بھی کتابیں پوسٹ ہو رہی ہے وہ اعجاز عبید انکلاور ان کے اردو محفل کے رفقاء کی محنت کا نتیجہ ہے اللہ ان تمام احباب کو جزائے خیر عطا فرمائیں۔  کتابوں کے سر ورق  کے لیے  فی الحال میں تنھا  کام کر رہاہوں۔ الحمد للہ  محض دو ماہ میں لائبریری کا فی مشہور ہو گئی ہے ۔لائبریری  پر کام کرتے ہوئے مجھے بہت کچھ سیکھنے ملا اور الحمد للہ میں نے لائبریری کے بعد آن لائن ادبی جریدہ "سَمت " اور ایک نرسنگ انسٹی ٹیوٹ کی ویب سائٹ بھی بنائی۔قارئین بلاگ سے درخواست ہے کہ لائبریری کے لیے اپنا قلمی تعاون ضرور پیش کریں۔

عین دوپہر کے وقت شہر کلکتہ اندھیرے میں ڈوب گیا



27 اگست  
یہ تصویر ہندوستان کے شہر کلکتہ کی  ہے جب اچانک دوپہر دو بجے پورے شہر میں انتہائی خطرنا ک کالے بادل کی وجہ سے اندھیرا چھا گیا۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ بادل 50 لو میٹر لمبا اور 12 کلو میٹر چوڑا تھا۔ ہندوستان میں بادل پھٹنے ی وجہ سے اترا کھنڈ اور وادی کشمیر میں بھاری تباہی پھیلی تھی۔ اس طرح کے بادل اور اچانک اندھیرے سے شہریوں میں کافی بے چینی پھیل گئی تھی لیکن کچھ دیر کے بعد آسمان صاف ہو گیا۔

محی الدین احمد ابوالکلام آزاد کی سیاسی بصیرت: تاریخ کی بے رحم کسوٹی پر

محی الدین احمد ابوالکلام آزاد کی سیاسی بصیرت: تاریخ کی بے رحم کسوٹی پر 
تحریر : ع۔ ح۔ شفیع لیثی
-----------------------محی الدین احمدابوالکلام آزاد بر صغیر کی تاریخ کا وہ نفیس کردار ہے جو کسی تعارف کا محتاج نہیں، آپ غیرمنقسم ہندوستان کی عظیم اور مقتدر شخصیتوں میں سے ایک تھے اور یقینا علم وفراست کے امام تھے۔ آپ کوسماج، معاشرہ، زبان کلام بیان مذہب بین المذاہبی تقابلات اور سیاست کے پیچ و خم پر عبور حاصل تھا۔ آپ نے قرآن کی تفسیر لکھی، مذہب کو جانچا،آباء کی دیرینہ رسومات کو ترک کیا،سیاست کے دشت میں آبلہ پائی کی،اصول و نظریات کو نیا اور معتبر لب و لہجہ دیا ، سیاسی بصیرت کے مفاہیم کو نئی روشنی دی اور خود ساختہ قائدین ملت کے اجتماعی سیاسی شعورکو بونا کردیا۔یقینا یہ متحدہ بھارت کا عظیم سرمایہ تھا جسے نفس پرست سیاست داں سمجھ نہ سکے اور آج نصف صدی سے زیادہ وقت گزر جانے کے باوجود بھی ان کے ویژن،حالات کی نبض شناشی اور ان کی عظیم سیاسی بصیرت پر ہم جیسے طالب علم انھیں خراج عقیدت پیش کرنے پر مجبور ہیں۔ مولانا بیک وقت عمدہ انشا پرداز، جادو بیان خطیب، بے مثال صحافی اور ایک بہترین مفسر تھے۔ ابوالکلام آزاد ہرلحاظ سے جامع شخصیت کے مالک تھے ان پر انگریزی لفظ Polymath پورا اترتا ہے جس میدان میں قدم رکھا اپنی شخصیت علم اور ثابت قدمی کی وجہ سے کامیابی کی منزلیں چھولیں اپنوں نے دھتکاراگالیاں دیں لیکن انھوں نے ہمیشہ مہذب لہجے میں کلام کیا اور ادب ولحاظ کی حدود کی پاسداری کی ان پر علامہ اقبال کا یہ شعرپورا اترتا ہے #
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ورپیدا
مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ ملت اسلامیہ ہند کا روشن چراغ ہیں جس کی روشنی بصیرت و بصارت کو جلا دیتی ہے۔
ابو الکلام آزاد علم دوست ،حریت پسند اور قوم پرست مسلمان رہنما تھے۔ زندگی کا سفر 1888میں شروع ہوا۔ عملی زندگی کا آغاز1904سے شروع ہوا ۔ 1923، 1930 اور 1939میں آل انڈیا نیشنل کانگریس کے قائم مقام صدر مقرر کیے گئے۔ 1940 میں کانگریس کے(دوبارہ۔ابن کلیم)صدر منتخب ہوئے اورمسلسل 1946 تک ہندوستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ رہے۔ صحافت میں ہفتہ وارالہلال( 1912)اور ہفتہ وارالبلاغ(1915) جاری کیا جو اردو صحافت کی تاریخ میں نئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ خطیب تھے تو بے مثل۔ رولٹ ایکٹ کے خلاف کراچی کی ایک عدالت میں جو بیان دیا، وہ قول فیصل کے نام سے لوح تاریخ پہ ثبت ہے۔ قلم اٹھایا تو اردو نثر کے شاہکار غبار خاطر اور تذکرہ ان کی تراوش فکر کی بلندیوں کے معمولی نمونے بنے۔ صحافت کی دنیا کی سیر کرنے پہ آیا تو بڑے بڑے صحافی اس کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرتے نظر آئے، علم قاموسی اور بیان کی فصاحت ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر گئی ۔ دینی علوم کی غواصی کی تو تفسیر قرآن میں ایسے موتی دریافت کیے جن کی آپ اہل علم کے لیے کحل جواہر قرار پائی۔ سیرت النبی پربولنے اور لکھنے پر آیا تو بڑے بڑے سیرت نگارحیرت میں پڑگئے ۔ مولانا آزاد بیس برس کی عمر میں آزادی کی تحریک میں شامل ہوئے۔ قید و بند کا سلسلہ رانچی بہار سے شروع ہوااور قلعہ احمد نگر میں 1945میں ختم ہوا۔ کل 68برس اور سات ماہ۔ اس میں 9برس اور 8ماہ انگریز کی قید کاٹی۔ گویا عمر عزیز کا ہر ساتواں روز جیل میں کٹا۔
اب جسے مولانا ابو الکلام آزاد کی سیاسی بصیرت میں شک ہو وہ غیر جانب داری کے ساتھ ملک کی تاریخ کامطالعہ کرلے کہ اس وقت ملک کے حالات کیا تھے ؟کس دباوٴ کا سامنا تھا؟مسلمانوں کی کیفیت کیا تھی؟ یقینا مولا نا آزاد کے بارے میں اس کی رائے بدل جائے گی۔ ”انڈیا ونس فریڈم“پرایک نظر ڈالیے تعجب ہوتا ہے ۔ اور یہ ماننا پڑتا ہے کہ علامہ آزاد کی سیاسی بصیرت کے تذکرہ کے بغیرملک کی جنگ آزادی کی تاریخ کا تذکرہ بے معنی ہو جائے گا۔۔ نہرو ہوں یا پٹیل ،گاندھی ہوں یا جناح مولانا کی رائے کا اعتبار تسلیم شدہ امر تھا۔ نپی تلی بات لیکن کوئی ایک لفظ شرافت اور شائستگی سے گرا ہوا نہیں۔ کوئی ایک جملہ نہیں جو سچائی ، توازن اور حقیقت سے خالی ہو۔ سچ پوچھئے تو مولانا نے اس تصنیف میں جسے آزادی ہند کے بنیادی ماخذ میں سرفہرست شمار کیا جاسکتا ہے ، سب سے کڑا احتساب خو د اپنی ذات کا کیا ہے حالانکہ احتساب ایک کڑا اور کڑوا عمل ہے۔
مولانا کے نقطہ نظر سے سیاسی مکالمے کی معروف روایت میں اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے اوراس پر بھی بات ہو سکتی ہے کہ مولانا آزاد عملی سیاست کے جوڑ توڑ سے ماورا تھے یا نہیں؟ تاہم مولانا کی سیاسی بصیرت، شرافت، بلند نگاہی، علمی حیثیت، وضع داری اور خودداری پر کوئی سوال اٹھایا ہی نہیں جاسکتا۔ محمد علی جناح کے سیاسی کیرئیر پر یہ ایک بدنما نشان ہے کہ مفادات کی بساط پرکھیلے جارہے سیاسی کھیل میں مسلم لیگ کی مذہبی شناخت کو اجاگر کرنے کے لیے جب انھوں نے کانگریس کو ہندو جماعت قرار دینا چاہا تو محی الدین ابو الکلام آزاد کو کانگریس کا ”شوبوائے“ قرار دے دیا۔جبکہ مولانا کو اس قسم کے حملوں کا جواب دینے کی عادت تھی اور نہ ہی مولانا آزاد اسے ضروری سمجھتے تھے۔ معاملہ ویژن اور شعور کا تھالیکن اس کے برخلاف مولانا نے اپنی تصنیف میں حیران کن طور پر محمد علی جناح کا ایک سے زیادہ مقامات پر نہ صرف یہ کہ تذکرہ کیا بلکہ متعدد امور و معاملات میں ان کے نقطہ نظر کو مسترد کرنے کے لیے معقول لب ولہجہ اختیار کیا اوراصول وعقلیت کے معیار کا پورا لحاظ رکھا ہے۔
مسلم لیگ کی قیادت نے متحدہ بھارت میں جس خود غود غرض سیاسی ثقافت کو آگے بڑھایااور فکری تنگ نظری کے حصار میں بند ہوکر یہ لوگ جس طرح ملک کی تقسیم میں برطانیہ اور ان کے رفقاء کے نظریاتی المیہ اور مفادات کی جنگ کا ہراول دستہ بنے اس المیہ پرمولانا آزاد کی دوررس نگاہوں نے حالات کی سنگینی کووقت سے پہلے محسوس کرلیا تھا۔ سچ یہ ہے کہ مولانا کی سیاسی بصیرت ان بد ترین مضمرات کو دیکھ رہی تھی جوقومیت کی بنیاد پرالگ ملک کے قیام سے پیدا ہونے والے تھے اور یہ مولانا آزاد کی سیاسی بصیرت ہی تھی کہ دو قومی نظریہ اور قیام پاکستان کو انھوں نے قطعیت کے ساتھ مسترد کردیا تھا۔ اب یہ ملک و ملت کی بدقسمتی تھی کہ حالات کے تباہ کن جبرنے بر صغیر کی تاریخ اور جغرافیہ کو بدل ڈالا، بدقسمتی سے ملک تقسیم ہوگیا۔ مسلم لیگ اور مسلم سیاست کا کمزورویژن تاریخ کے صفحات پرمحفوظ ہوگیااورمولانا مرحوم کی سیاسی بصیرت اور زمینی سچائیوں کی امید افزا پکار صدا بہ صحرا ثابت ہوئی۔ لیکن کیا مولانا آزاد ناکام ہو گئے تھے؟
قیام پاکستان سے تقریبا سوا سال قبل اپریل 1946 جریدہ چٹان میں قیام پاکستان کو لے کر مولانا نے کچھ پیشین گوئیاں کی تھیں،یہ انٹرویو شورش کاشمیری نے لیا تھا۔ انٹرویو کے اقتباسات درج ذیل ہیں:
1۔ کئی مسلم ممالک کی طرح پاکستان کی نااہل سیاسی قیادت فوجی آمروں کی راہ ہموار کرے گی۔
2۔ بیرونی قرضوں کا بھاری بوجھ ہوگا۔
3۔ پڑوسیوں سے دوستانہ تعلقات کا فقدان ہوگا اور جنگ کے امکانات ہوں گے ۔
4۔ داخلی شورش اور علاقائی تنازعات ہوں گے۔
5۔ پاکستان کے صنعتکاروں اور نودلتیوں کے ہاتھوں قومی دولت کی لوٹ مار ہوگی۔
6۔ نودلتیوں کے استحصال کے نتیجے میں طبقاتی جنگ کا تصور پیدا ہوگا۔
7۔ نوجوانوں کی مذہب سے دوری،عدم اطمینان اور نظریہ پاکستان کا خاتمہ ہوجائے گا۔
8۔ پاکستان پر کنٹرول کرنے کے لیے عالمی طاقتوں کی سازشیں بڑھیں گی۔
مارچ2012تقریباً 65 سال بعد پاکستان جیوٹی وی کے پاکستانی اینکرکامران خان لائیو ٹیلی ویژن شو میں پاکستان کے تئیں مولانا آزاد کے خدشات کی سچائیوں پر تفصیل سے گفتگو کرتے نظرآئے ۔یعنی وہ لوگ جو دو قومی نظریہ کی چمک میں عقل و خرد کی منزلیں پار کر گئے تھے، جن کی نظروں میں مولانا آزاد کا متحدہ قومیت کا سیاسی نظریہ ناقابل معافی جرم تھا اور جو لوگ مسلسل مولانا آزاد کے ساتھ قومی مجرم جیسا سلوک کرتے رہے ہیں وہی آ ج مولانا آزاد کی سیاسی بصیرت کو سلام کرتے نظر آرہے ہیں۔اس پروگرام کی تفصیل کے لیے دیکھئے یو ٹیوب :
"Kamran Khan of GEO analysing today's Pakistan in context of Maulana Azad speech"
مولانا آزاد کی سیاسی بصیرت کا ہی کمال تھا جونہ صرف نظریہ پاکستان کے خالقین کے تصوراتی مملکت کے خد وخال پر ان کی گہری نگاہ تھی بلکہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اس وقت بھی سارا منظر اور پس منظر ماضی ، حال اور مستقبل کی جزئیات اور تفصیل کے ساتھ مولانا کی دور رس نگاہوں کے سامنے موجود تھا۔ یہ مولانا آزاد کی سیاسی بصیرت ہی تھی جو قومیت کی بنیاد پر ملک کی تقسیم کے بھیانک مضمرات محسوس کررہی تھی اور مولانا آزاد کی دوربیں نگاہیں حالات کے دونوں پہلووں کو دیکھ رہی تھیں۔ اکتوبر 1947میں جامع مسجد دہلی میں مسلمانوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد نے خبردارکیا تھا کہ:
”میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ تم حاکمانہ اقتدار کے مدرسے سے وفاداری کی سرٹیفکٹ حاصل کرو اور کاسہ لیسی کی وہی زندگی اختیار کرو جو غیر ملکی حاکموں کے عہد میں تمہارا شعار رہا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جو اجلے نقش ونگار تمھیں اس ہندوستان میں ماضی کی یاد گار کے طور پر نظر آرہے ہیں وہ تمہارا ہی قافلہ تھا، انھیں بھلاوٴ نہیں ،انھیں چھوڑ و نہیں، ان کے وارث بن کر رہو او رسمجھ لو کہ اگر تم بھاگنے کے لیے تیار نہیں تو پھر تمھیں کوئی طاقت بھگا نہیں سکتی۔ آوٴ عہد کرو کہ یہ ملک ہمارا ہے۔ ہم اس کے لیے ہیں او را س کی تقدیر کے بنیادی فیصلے ہماری آواز کے بغیر ادھورے ہی رہیں گے۔“
یوپی سے پاکستان جانے والے ایک گروہ سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا تھا:
”آپ مادر وطن چھوڑ کر جارہے ہیں آپ نے سوچا اس کا انجام کیا ہوگا؟ آپ کے اس طرح فرار ہوتے رہنے سے ہندوستان میں بسنے والے مسلمان کمزور ہوجائیں گے اور ایک وقت ایسابھی آسکتا ہے جب پاکستان کے علاقائی باشندے اپنی اپنی جدا گانہ حیثیتوں کا دعویٰ لے کر اٹھ کھڑے ہوں۔ بنگالی، پنجابی، سندھ، بلوچ اور پٹھان خود کو مستقل قومیں قرار دینے لگیں۔ کیا اس وقت آپ کی پوزیشن پاکستان میں بن بلائے مہمان کی طرح نازک اور بے کسی کی نہیں رہ جائے گی؟ ہندو آپ کامذہبی مخالف تو ہوسکتا ہے ،قومی مخالف نہیں۔ آپ اس صورت حال سے نمٹ سکتے ہیں مگر پاکستان میں آپ کو کسی وقت بھی قومی اوروطنی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑجائے گا جس کے آگے آپ بے بس ہوجائیں گے۔“
یہ کوئی جذباتی اپیل نہیں تھی نہ ہی کوئی نظریاتی تقریر تھی یہاں مولانا کی سیاسی بصیرت کا نقطہ عروج بول رہا تھا اور آپ کی سیاسی بصیرت مستقبل میں جھانک رہی تھی۔ جبکہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ ایک ایسے دانشور تھے جس کی نگاہِ دور رس نے بھانپ لیا تھا کہ ملک کی تقسیم کسی طرح بھی مسلمانوں کے لیے سودمند نہ ہوگی۔ اگر ملک کا بٹوارہ ہوا تو مسلمان ہندوستان میں نہ صرف ایک کمزور اقلیت بن کر رہ جائیں گے بلکہ اکثریت کے رحم وکرم پر زندگی گزاریں گے یہ کوئی بے معنی خوف نہیں تھا۔ اول تا آخر حالات شاہد ہیں کہ تقسیم کی بابت مولانا آزاد کا انتباہ بالکل درست تھا ۔ مولانا نےIndia wins Freedomمیں لکھا:
”میں نے مسلم لیگ کی پاکستا نی اسکیم پر ہر زاویے سے غور کیا تو میں نے یہی نتیجہ اخذ کیا کہ تقسیم ملک کے لیے اور بالخصوص مسلمانوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے کیوں کہ اس سے مسائل ختم ہونے کے بجائے مزیدپیدا ہوجائیں گے۔“
مولانا نے رام گڑھ کے کانگریس کے ایک اہم اجلاس میں جو وقیع خطبہ دیا تھا آئیے ذرا اس کے ایک پیراگراف پر نظر ڈالتے ہیں:
”میں مسلمان ہو ں اور فخر کے ساتھ محسوس کرتاہوں کہ مسلمان ہوں، اسلام کے تیرہ سو برس کی شان دارر وایتیں میرے وِرثے میں آئی ہیں ، میں تیار نہیں ہوں کہ اس کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا حصہ بھی ضائع ہونے دوں، اسلام کی تعلیم ،اسلام کی تاریخ ،اسلام کے علوم و فنون،اسلام کی تہذیب میری دولت کا سرمایہ ہے اور میرا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کروں،بہ حیثیت مسلمان ہونے کے میں مذہبی اور کلچرل دائرے میں اپنی خاص ہستی رکھتاہوں اور میں برداشت نہیں کر سکتا کہ اس میں کوئی مداخلت کرے ،لیکن ان تمام احساسات کے ساتھ میں ایک اور احساس بھی رکھتاہوں جسے میری زندگی کی حقیقتوں نے پیدا کیا،اسلام کی روح مجھے اس سے نہیں روکتی،بلکہ وہ اس راہ میں میری رہنمائی کرتی ہے ،میں فخر کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ میں ہندوستانی ہوں،میں ہندوستان کی ایک ناقابل تقسیم متحدہ قومیت کا ایک عنصر ہوں،میں اس متحدہ قومیت کا ایک ایسا عنصر ہوں جس کے بغیر اس کی عظمت کا ہیکل ادھورا رہ جاتا ہے ،میں اس کی تکوین کا ایک ناگزیر عامل فیکٹر ہوں ،میں اس دعوے سے کبھی دست بردار نہیں ہو سکتا۔ ہم تو اپنے ساتھ کچھ ذخیرے لائے تھے ،اور یہ سر زمین بھی ذخیروں سے مالا مال تھی، ہم نے اپنی دولت اس کے حوالے کردی اور اس نے اپنے خزانوں کے دروازے ہم پر کھول دیے ،ہم نے اسے اسلام کے ذخیرے کی وہ سب سے زیادہ قیمتی چیز دے دی جس کی اسے سب سے زیادہ ضرورت تھی،ہم نے اسے جمہوریت اور انسانی مساوات کا پیام پہنچادیا۔“
مولانا آزاد کی سیاسی بصیرت کو سلام کیا جانا چاہیے کہ سا نحہ تقسیم کے باوجود بھی بڑی حد تک ملک سیکولر زم کی راہ پر گامزن رہااور اس کا سہرا بڑی حد تک مولانا کے سر جاتا ہے۔ مولانا کی قیادت، ان کے تدبر، ان کی شخصیت میں مرکوز ہندوستانی امتزاج ، سیکولرزم کے لیے ان کی جہد مسلسل اور ان کی مشترکہ تہذیب کی زندہ جاوید علامت ہونے کی بدولت ہی ہندوستان سیکو لر بنا رہا اور ملک کے مسلمانوں کی خوش قسمتی ہے کہ مولانا آزاد جیسی شخصیت نے ان کی رہنمائی کی ۔لیکن المیہ یہ ہے کہ ہندوستانی قومی تحریک کے عظیم رہنماوٴں میں مولانا آزاد کی تعلیمات کو محض ادھورا سمجھا گیا ہے اور عوام کی اکثریت کے سامنے ان کی حیثیت بس ایک قوم پرست مسلم رہنما کی ہے۔ مولانا آزاد رحمہ اللہ کی قومی تحریک ایک جذباتی یادگار،نشانی اوربھولی بسری وراثت کے طور پر باقی رہ گئی ہے جس کی عزت تو کی جاتی ہے مگر اسے واضح اور تنقیدی طور پر سمجھنے کا احساس نہیں ہوتا جبکہ مولانا آزاد پوری زندگی سیکولرزم کی نمائندگی کرتے رہے۔ سیاسی بصیرت کے نقطہ کمال پر فائز آزاد کے خوابوں کا بھارت ایک مضبوط خود اعتمادی سے معمور سیکولر بھارت تھا:”دنیا کو ہمارے ارادوں کے بارے میں شک رہا ہو مگر ہمیں اپنے فیصلوں کے بارے میں شک نہیں گزرا۔ وقت کا کوئی الجھاوٴ، حالات کا کوئی اتار چڑھاوٴ اور معاملوں کی کوئی چبھن ہمارے قدموں کا رخ نہیں بدل سکتی“… امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد۔ 
علامہ شورش کاشمیری کے ان اشعار کے ساتھ جو انھوں نے 10 مارچ 1858 مولانا آزاد کے مزار پر لکھاتھا:
کئی دماغوں کا ایک انساں میں سوچتا ہوں کہاں گیا ہے
قلم کی عظمت اجڑ گئی ہے زباں سے زور بیاں گیا ہے
اتر گئے منزلوں کے چہرے، امیر کیا؟ کارواں گیا ہے
مگر تیری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے 
یہ کون اٹھا کہ دیر وکعبہ شکستہ دل، خستہ گام پہنچے
جھکا کے اپنے دلوں کے پرچم خواص پہنچے عوام پہنچے
تیری لحد پہ ہو رب کی رحمت،تیری لحد کو سلام پہنچے
مگر تیری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے 

بشکریہ فری لانسر ممبئی

تحفہ رمضان

یاران بزم رمضان المبارک کا ایک خاص تحفہ لے کر حاضرخدمت ہوں۔رمضان المبارک   میں قرآن کریم سے ہمارا شغف بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے لیکن  جو لوگ  بحالت مجبوری اکثر آن لائن ہوتے ہیں  وہ تلاوت سے محروم رہتے ہیں۔ایسے احباب کے لیے قرآن فلیاش ڈاٹ کام نامی ویب سائٹ نے  ایک بہترین ٹول تیار کیا ہے جس سے قرآن کریم کی انٹرنیٹ کے ذریعے تلاوت بہت آسان ہوجاتی ہے۔جو احباب روانی کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کرنا چاہتے ہوں وہ  یہاں کلک کریں۔آیات قرآنی پر نظر رکھتے ہوئے اپنے  محبوب قاری کی آواز میں قرآن سننے ،  ترجمہ  اور دوسری بہت ساری سہولتوں کے لیے یہاں کلک کریں۔طالب دعاسیف

اردو کی اینگلو انڈین شاعرات

اردو کی اینگلو انڈین شاعرات
( یہ مضمون میں ہما کے اردو نمبر سے نقل کر رہا ہوں جو اپریل 1972 میں منظرعام پر آیا تھا۔ مین نے پورا مضمون جوں کا توں نقل کرنے کی کوشش کی ہے کاتب کی غلطی سے اگر اشعار ساقط الوزن ہوں تو مجھے معذور سمجھا جائے۔)
اردو زبان کی ترقی   وتریج میں ہندوؤں ، مسلمانوں اور سکھوں ہی کا نہیں بلکہ عیسائیوں کا بھی حصہ ہے اگرچہ اس دور میں اردو کے عیسائی شاعر اور ادیب بہت کم نظر آتے ہیں۔ مگر اب سے   70- 80 برس قبل  نہ صرف عیسائی یا اینگلو انڈین یورپین مرد ہی ارد وشاعری کے میدان میں موجود تھے بلکہ خواتین بھی تھیں۔ چنانچہ ان میں سے بعض مشہور خواتین کا مطبوعہ کلام بھی ملتا ہے ان میں سے چند شاعرات کا حال درج ذیل ہے۔ملکہ جان ملکہؔ ملکہ جان ایک آرمینی خاتون تھی اپنے زمانہ کی ایک بہترین رقاصہ اور موسیقار ۔۔ کلکتہ میں مقیم تھی  اور " مخزن الفت ملکہ" کے نام سے اس نے اپنا دیوان بھی شائع کیا تھا ۔ یہ دیوان  محمد  وزیر ، مالک این پریس نے شائع کیا تھا۔ یہ دیوان  108 صفحات پر مشتمل ہے ار اس میں  106 غزلیں ہیں ، اس میں گیت ٹھمریاں وغیرہ بھی شامل ہیں۔ ملکہ شاعری میں حکیم بانو صاحب ہلال کی شاگرد تھیں۔ مشاعروں میں بھی شرکت کرتی تھیں اور اپنے یہاں بھی مشاعرے منعقد کرتی تھیں۔ چنانچہ اس سلسلے میں وہ کہتی ہیںمملو ہے آج بزم سخن موج شعر سےملکہ ہے جش رحمت پرردگار کےملکہ  و ہ مجمع شعراء اور لطف شعرقربان میں عنایت پروردگار کےملکہ کے دیوان کی ایک جلد برطانیہ کے عجائب گھر میں رکھی ہوئی ہے۔ حمد میں کہتی ہیں ،دیکھا جسے وہ شاغلِ حمدِ غفور ہےنغمہ یہی سنا ہے چمن مین ہزار کاملکہ ہے جس کے ورد زبں نام کبریاصدمہ نہ ہوگا اس کو لحد کے فشار کاغزل کے چند مختلف اشعار یہ ہےاپنی حیرت کی کوئی شکل بنالوں تو کہوںسامنے آئینہ سازوں کو بٹھا لوں توکہوںدلِ صد چاک پہ ائے جان جہاں فرقت میںکیا گزرتی ہے ذرا ہوش میں آ لوں تو کہوںمختلف اشعارکیا جفا و ظلم کا ملکہ ترے شکوہ کریںجو کیا جان جہاں بہتر کیا اچھا کیاجگر ملکہ کا اور فرقت کے صدمےخط تقدیر میں یونہی لکھا تھاملکہ اسی طرح جو تصور بندھا رہاہوگی نصیب ان کی زیارت تمام رات


مکمل تحریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

آپکا موبائل نمبر اب ذاتی نہیں رہا!


آپکا موبائل نمبر اب ذاتی نہیں رہا! سیف قاضیجی ہاں صرف آپکا اپنا نمبر نہیں بلکہ ہندوستان کے وزرائ، صنعت کار ، فلمی شخصیات اور یہاں تک کہ خفیہ ایجنسیوں کے اعلیٰ عہدہ داران تک کہ نمبر اب ذاتی نہیں رہے ہیں۔ کچھ دنوں قبل ہمارے ایک دوست نے ایک اینڈرائڈ ایپ کے بارے میں بتایا کہ یہ ایپ ایسی ہے جو بتا دیتی ہے کہ آنے والا نمبر کس شخص کے نام سے رجسٹرڈ ہے۔ ہمیں ان کی بات پر بالکل یقین نہیں ہوا۔اور ہوتا بھی کیسے۔ ہماری معلومات کے مطابق انڈیا میں موبائل فونس کی پبلک ڈائرکٹری سرے سے موجود ہی نہیں ہے اور ایسا کرنا حکومتی قوانین کے خلاف بھی ہے۔
 لیکن وہ اپنی بات پر بضد رہے کہ ایسے ایپ موجود ہیں۔ ہم نے فوراً گوگل پلے سے " ٹرو کالر " نامی اس ایپ کو ڈھونڈ کر ڈاونلوڈ کیا جس کے بارے میں یہ بتایا جا رہا تھا کہ یہ آپ کو نمبر کے ساتھ نام بھی بتا دیتا ہے۔ انسٹال کرنے کے بعد جب ہم نے اس کا استعمال کیا او ر متفرق دوستوں کے نمبر تلاش کیے تو بالکل ان دوستوں کے نام نظر آنے لگے۔ ہم فوراً True Caller کی ویب سائٹ پر پہنچے اور حقیقت جاننے کی کوشش کی کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے۔ تھوڑی دیر بعد یہ پتا چلا کہ یہ ایپ آپ کے فون بک سے تمام نمبر لے لیتا ہے ۔یہ نمبر نام اور ٹیلی کام سرکل کے ایڈریس کے ساتھ اس ایپ کے سرور پر محفوظ کر دیے جاتے ہیں اور جب بھی کوئی نمبر اس سے تلاش کریں تو اس کی معلومات ٹرو کالر کے سرور سے فوراً آپ کے موبائل فون پر دستیاب ہو جاتی ہے۔کچھ اور سرچ کرنے کے بعد پتہ چلا کہ ہندوستان اس سویڈش کمپنی کے ایپ کا سب سے بڑا مارکیٹ ہے اور اس کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگا یا جا سکتا ہے کہ اس ایپ کی ابھی تک گوگل پلے میں 85،787 ریٹنگس کی گئی ہے۔ اور اس کے انسٹال کرنے والے یوزرس کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ اس ایپ کو انسٹال کرنے کے بعد اگر یوزر " Enhanced Search " متبادل منتخب کرتاہو تو یوزر کی فون بک کے تمام نمبر ٹرو کالر کے سرور پر درج ہو جاتے ہیں۔ اندازہ لگائیے کہ اوسط ایک فون بک میں 150 نمبر محفوظ ہوتے ہیں ،اگر ایک کروڑ صارفین نے اپنے فون بک کے نمبر اس ایپ کے ساتھ شیئر کیے ہیں تو اس ایپ کے سرور پر کتنے لوگوں کے نام ان کے موبائل نمبر اور ایڈریس کے ساتھ جمع ہو گئے ہوں گے۔ ہماری فون بک کی ایک خاص بات یہ ہوتی ہے کہ ہم یاد رکھنے کے لیے نام کے ساتھ دوستوں کے کام کے تعلق سے بھی کوئی نوٹ ،نک نیم یا کوئی خاص شناخت درج کر دیتے ہیں،تاکہ سرچ کرنے اور ڈھونڈنے میں آسانی ہو ۔ جیسے " پرویز ڈاکٹر " ، " عارف بلڈر " ، وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح اس کمپنی کے پاس صرف نام اور نمبر نہیں بلکہ کام کی تفصیلات بھی جمع ہوتی جا رہی ہے جو ایک پریشان کن بات ہے۔فی الحال یہ کمپنی مفت میں نمبر کے ذریعے نام تلاش کرنے کی اجازت دیتی ہے لیکن اگر آپ اس کے کریڈت خرید تے ہیں تو یہ آپ کو نام کے ذریعے بھی نمبر تلاش کرنے کی اجازت دیتی ہے اور یہ اس ایپ کا سب سے خطرناک پہلو ہے۔کمپنی نے اپنی ویب سائٹ پر فون ڈائرکٹری سے اپنا نمبر خارج کرنے کے لیے unlist کا متبادل بھی رکھا ہے ۔لیکن کسی شخص کی اجازت کے بغیر اس کے نمبر کو عام کر دینا یہ کسی بھی صورت میں قابل قبول بات نہیں ہے۔
یہاں پر یہ بات بھی واضح کر دینے کی ہے کہ اس سلسلہ کی یہ محض ایک ایپ نہیں ہے بلکہ انٹرنیٹ کی دنیا میں ایسے سیکڑوں ایپ اور ویب سائٹ موجود ہیں جو ایسی معلومات فراہم کر رہی ہیں جس کے بارے میںعام افراد کو تو خیر خواص کو بھی کچھ معلوم نہیںہے اور وہ ڈھکے چھپے انداز میںہماری پرسنل انفارمیشن جمع کر رہی ہیں۔ نیٹ کالنگ کے لیے مشہور ایپلی کیشن وائبر سے متعلق بھی اس طرح کے بہت سارے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔اس پر کاروائی کرنا اشد ضروری ہے کہ یہ معلومات کا ذریعہ نہیں بلکہ رازوں کو چرانے کا ایک خوبصورت اور موثر طریقہ ہے ،جس سے خاطر خواہ فائدہ اٹھا یا جا سکتاہے ۔یہ حکومتوں اور دفاعی اداروں کے لئے بھی کم خطرناک نہیں ہے کہ نا جانے اس کے ذریعہ کون سی معلومات کب اچک لی جائے ،اور کب کس کو کو ٹارگیٹ بنا لیں ۔اسلئے اس بابت حکومتوں اور اداروں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فورا ًاس پر کاروائی کریں ۔اور عام لوگوں کے علاوہ ملک کے تحفظ کو بھی یقینی بنائیں ۔

اپریل فول اوراسلام


بزم اردو کے قابل احترام رکن اور بصیرت آن لائن کے ایڈیٹر جناب غفران ساجد قاسمی کی یہ تحریر آج 'اخبار مشرق کلکتہ میں شائع ہوئی تھی۔ چونکہ ہمارے اخبارات تصویوری شکل میں شائع ہوتے ہیں اور اس کی وجہ سے اہم مضامین بھی کہیں دفن ہو جاتے ہیں اس لیے میں نے قاسمی صاحب سے درخواست کی کہ مضمون کی ان پیج یا ورڈ فائل مجھے ارسال فرمائیں تاکہ اس مضمون کو محفوظ بنایا جا سکے۔ یہ مضمون یہاں پوسٹ کر رہا ہوں امید کرتا ہوں اراکین بزم اس تحریر کو پسند کریں گے۔
اپریل فول اوراسلام                                                                                                              غفران ساجدقاسمی  چیف ایڈیٹر:  بصیرت آن لائن ڈاٹ کام،ریاض،سعودی عرب
جھوٹ،فریب،دغابازی اوردھوکہ دہی کی ممانعت صرف مذہب اسلام میںہی نہیں بلکہ دنیاکے تمام مذاہب میں موجودہے،اتناہی نہیں دنیاوی قانون بھی ایسے شخص کو مجرم گردانتی ہے جوان افعال قبیحہ کامرتکب پایاجاتاہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ کی برائی بیان کرتے ہوئے بہت صاف اورصریح لفظوںمیں فرمایا:’’الصدق ینجی والکذب یہلک‘‘(الحدیث)،کہ سچائی انسان کونجات دلاتی ہے اورجھوٹ انسان کوہلاکت میں ڈالتاہے۔ایک دوسری طویل حدیث میں سچ اورجھوٹ کے فرق کواس طرح بیان کیاگیاہے:۔ترجمہ: حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’کہ بے شک سچ نیکی کی طرف لے جاتاہے اورنیکی جنت کی طرف لے جاتاہے،اورجوشخص سچ بولتاہے یہاںتک کہ اللہ کے نزدیک اسے سچالکھ دیاجاتاہے،اورجھوٹ برائی کی طرف  لے جاتاہے اوربرائی جہنم کی طرف لے جاتاہے اورجوشخص جھوٹ بولتارہتاہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک اسے جھوٹالکھ دیاجاتاہے۔(بخاری۸؍۳۰)اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن کی شان بیان کرتے ہوئے ارشادفرمایاکہ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بولتاہے:حضرت صفوان بن سلیم سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیاگیاکہ کیامومن بزدل ہوسکتاہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ارشادفرمایا:ہاں،پھرپوچھاگیاکہ کیامومن بخیل ہوسکتاہے؟جواب میںارشادفرمایا:ہاں،آخرمیںپوچھاگیاکہ کیامومن جھوٹاہوسکتاہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاکہ نہیں،مومن جھوٹ نہیں بول سکتا۔(رواہ امام مالک فی المؤطا)ہرسال پہلی اپریل کوپوری دنیامیں’’اپریل فول‘‘کے نام سے منایاجاتاہے،اوراس میں جانے انجانے میں ہم مسلمان بھی برابرکے شریک رہتے ہیں،اپریل فول کا مطلب جھوٹ اوردھوکہ کے ذریعہ ایک دوسرے کوبیوقوف بنانااورجب وہ بے وقوف بن کرشرمندہ ہوجائے تواپنی اس نام نہاداورجھوٹی کامیابی پرخوش ہونا،اسی کواپریل فول کہتے ہیں۔اپریل فول نام ہی ہے جھوٹ،فریب،مکراوردھوکہ بازی کاجس کی نہ تودنیاکاکوئی مذہب اجازت دیتاہے اورنہ ہی دنیاوی قانون،لیکن اس کے باوجودآج کی یہ مہذب دنیا اس قبیح فعل اورجھوٹ ودغابازی کے اس مکروہ عمل کوانجام دے کرخوش ہوتی ہے اورجوجتنے زیادہ لوگوںکواس جھوٹ اورفریب کے ذریعہ بے وقوف بناتے ہیںوہ اتنازیادہ فخرمحسوس کرتے ہیں،پہلے پیراگراف میں احادیث کے ذکرکرنے کامنشاومقصودہی یہی تھاکہ جس جھوٹ اورفریب کے گھناؤنے کھیل کاہم تذکرہ کرنے جارہے ہیںپہلے اسلامی تعلیمات کی روشنی میںاس کی قباحت کواچھی طرح سے اجاگرکردیاجائے۔مذکورہ حدیثوںمیںآپ یہ دیکھ رہے ہیںکہ کس طرح اسلام نے جھوٹ اورجھوٹ بولنے والوںکے لیے کتنی سخت وعیدیںبیان کی ہیںاتناہی نہیںبلکہ یہاںتک کہاگیاکہ مومن جھوٹ نہیںبول سکتا،اس کامطلب یہی ہواکہ جوجھوٹ بول رہا اورجھوٹ کے اس عمل میںشریک ہورہاہے خواہ وہ اسے ایک معمول کی ہنسی مذاق ہی سمجھ کرسہی وہ مذکورہ بالاحدیث کی روشنی میں مومن نہیں ہوسکتا،کیوںکہ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔
مزید مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں

شاعروں کی انوکھی مجلس دائرۃالکہلاء


والد صاحب کی پرانی کتابیں دیکھ رہا تھا اتفاق سے ہما اردو ڈائجسٹ کا 1976 میں شائع شدہ اردو نمبر ہاتھ لگا ۔ یہ انتہائی مفید ہے اورزبان اردو کی ارتقائی تاریخ اور محسنین اردو کے تذکرے پر مشتمل ہے۔ یہ موضوع اتنا دلچسپ لگا کہ بزم اردو میں اردو نامہ نام سے ایک سیکشن اس مضوع پر شروع کر دیا جہاں اردو نمبر کی منتضب تحریریں پوسٹ کر رہا ہوں۔ جو مضمون میں خود ٹائپ کرنے سے قاصر ہں وہ کسی اور دوست کو اسکین کر کے ارسال کر دیتا ہوں۔ زیر نظر تحریر اسی کتاب سے لی گئی ہے جو انتہائی دلچسپ ہے۔ اسے بزم میں موجود ایک دوست " ابولمزاح " صاحب نے ٹائپ کیا ہے۔ *****************************************************شاعروں کی انوکھی مجلس دائرۃالکہلاء
جگر صاحب کا پہلی بار تقریبا ً تین ماہ بھوپال میں قیام رہا اس کے بعد وہ واپس چلے گئے اور ایک سال بعد وہ دوبارہ تشریف لائے اور محمود علی خان جامعی کے یہاں قیام کیا ۔ جو اس وقت بھوپال میں مردم شماری کے آفیسر تھے ۔ پھر محفلیں جمنے لگتیں اور بھوپال کے تقریباً تمام اچھے شعرا ء اس محفل میں حصہ لینے لگے ۔ ان میں کم عمر بھی ہوتے تھے جوان اور پیر بھی ۔ اور رات کے تین تین بجے تک محفل جمی رہتی تھی ۔ یہ زمانہ موسم برسات کا تھا ۔ اوربھوپال میں برسات کا موسم بہار کی کیفیت پیدا کرتا ہے ۔ اس موسم میں آرام طلبی کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور مزاج میں سستی آجاتی ہے ۔ اس لیے کاہلی کی تحریک شروع کی گئی ۔ ایک بات اور سامنے آئی ۔ چھوٹے بڑے ایک دوسرے کے سامنے بے تکلف نہیں ہو پاتے۔اور بے تکلفی کے بغیر کام نہیں چلتا تھا اس لیے بھی ضرورت محسوس کی گئی کہ ایک ایسی انجمن بنائی جائے جس میں فرق مراتب کا خیال ختم کر دیا جائے ۔ اور ان بے فکروں کو آداب ِ محفل سے کچھ حد تک بے نیازی حاصل ہو جائے ۔ مولوی مہدیؔ بھی اسی جگرؔنوازوں کی جماعت سے تعلق رکھتے تھے ۔ ان کی عادت تھی کہ جب وہ آتے تو فوراً ہی لیٹ جاتے اور ہلکی چادر جسم پر ڈال لیتے اور صرف ایک پیر کو جنبش دیتے رہتے ۔ صبح سے رات تک انکا یہی معمول تھا ۔ چونکہ سب سے زیادہ معمر تھے ۔ اس لیے ہر فرد ان کا ادب و احترام کرتا تھا ۔ ان کی سستی اور کاہلی کو دیکھ کر ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ کیوں نہ ہر شخص کیلئے کام سے بچنے کے مواقع پیدا کیے جائیں ۔ چنانچہ کئی دنوں کی بحث ومباحثہ کے بعد ایک انجمن قائم کی گئی جس کا نام "دائرۃ الکہلا" رکھا گیا ۔جس کی کی بنیاد محمود علی صاحب کے گھر پررکھی گئی ۔ پھر اسے "دارالکہلا " کا نام دیا گیا ۔ اس انجمن کی بنیاد کی وجہ یہ بتائی گئی کہ دنیا میں جتنی پریشانیاں اور مشکلات پیدا ہو رہی ہیں وہ سب سرعت رفتار کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہیں ۔ اسی کی وجہ سے جنگیں بھی ہو رہی ہیں اور جنگوں کیلئے آسانیاں بھی پیدا ہو رہی ہیں ۔ اسی کی وجہ سے دنیا والے مشکلات اور تکالیف میں گرفتار ہوتے چلے جا رہے ہیں اس لئے ضرورت کہ اس کی روک تھام کی جائے ۔ سستی اس سلسلے میں بڑی مددگار ثابت ہو سکتی ہے ۔ اسی غرض سے کاہلوں کی انجمن بنائی گئی تاکہ کاہلی اور سستی کی اشاعت کی جا سکے اور جنگ اور دوسری مشکلات کا سد باب ہو سکے ۔انجمن کی فیس ایک تکیہ رکھی گئی ۔ جو شخص بھی اس انجمن کا رکن ہوتا تھا وہ ایک تکیہ لا کر دار الکہلا میں ڈال دیتا تھا ۔ ایک بات یہ طے پائی کہ لیٹا ہوا آدمی اول درجہ کا کاہل شمار کیا جائے گا ۔ بیٹھا ہوا دوم ۔ اور کھڑا ہوا سوم درجہ کا ۔ اس لیے لیٹا ہوا بیٹھے ہوئے کو اور بیٹھا ہوا کھڑے ہوئے کو کسی کام کا حکم دے سکتا ہے ۔ مثلاً چلم بھرنا ، پانی پلانا وغیرہ ۔ کام سے بچنے کیلئے اکثر ممبران دروازے پر پہنچتے ہی کھڑے کھڑے لیٹ جاتے تھے اور لیٹے لیٹے کمرے میں داخل ہوتے تھے تاکہ کسی قسم کا حکم نہ دیا جا سکے ۔ موٹی کور کی پیالی میں چائے پینا ایک دم ممنوع قرار پایا ۔ اس لیے کہ اس میں منہ زیادہ کھولنا پڑتا ہے جو کاہلی کیلئے نقصان دہ ہے ۔
مزید مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں


مولانا آزاد کا خط سید سلیمان ندوی کے نام




مولانا آزاد کا خط سید سلیمان ندوی کے نام
دارالمصنفین اور علامہ شبلی نعمانی سے تعلق کی بنا پر مولانا ابوالکلام آزاد کے تعلقات سید سلیمان ندوی سے بہت دیرینہ تھے۔ اس تعلق کی وجہ سے دونوں کے بیچ خطوط کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ خطوط علمی، ادبی اور تاریخی اعتبار سے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ زندگی کے آخری مرحلہ میں آزادکو یہ درد ستانے لگا کہ ان کے بعد ”الہلال“ کو کون سنبھالے گا، چنانچہ اسی قلق واضطراب میں انہوں نے ےہ خط سید سلیمان کو لکھا۔نو جنوری 1914 ، کلکتہصدیقی الجلیل الاعز، افسوس کہ میں جس خط کا منتظر تھاوہ باوجود وعدہ آپ نے نہیں لکھا، بہرحال آج میں اپنے شورش قلبی سے مجبور ہوکر ایک بار اور کوشش وصل کرتا ہوں۔ آپ نے پونہ میں پروفیسری قبول کرلی، حالانکہ خدانے آپ کو درس وتعلیم سے زیادہ عظیم الشان کاموں کے لئے بنایا ہے۔کیا حاصل اس سے کہ آپ نے چند طالب علموں کو فارسی وعربی سکھا دی، آپ میں وہ قابلیت ہے کہ لاکھوں نفوس کو زندگی سکھلاسکتے ہیں۔میرے تازہ حالات آپ کو معلوم نہیں، خدا شاہد ہے مسلسل چار گھنٹے کام نہیں کر سکتا، ورنہ آنکھوں میں تاریکی چھا جاتی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ’الہلال‘ ایک تحریک تھی جس نے استعداد پیدا کی لیکن اس استعداد سے معاً کام لینا چاہئے، اور میں نے قطعی ارادہ کر لیا ہے کہ خواہ الہلال کی کچھ ہی حالت کیوں نہ ہو لیکن کام شروع کر دیا جائے، چنانچہ شروع بھی کر دیا ہے، ایسی حالت میں قباحت ہے، اگرچہ آپ باوجود استطاعت و طاقت رکھنے کے میری اعانت سے انکار کر دیں۔ آپ یاد رکھئے کہ اگر ان مصائب و موانع کی وجہ سے میں مجبور رہ گیا تو قیامت کے دن یقینا آپ اس کے ذمہ دار ہوں گے کہ آپ نے ایک بہت بڑے وقت کے رد عمل کو اپنی علیحدگی سے ضائع کر دیا۔ آپ آ کر الہلال بالکل لے لیجئے، جس طرح جی چاہئے اسے ایڈٹ کیجئے، مجھے سوا اس کے اصول و پالیسی کے (جن میں آپ مجھ سے متفق ہیں) اور کسی بات سے تعلق نہیں، میں بالکل آپ پر چھوڑتا ہوں اور خود اپنے کاموں میں مصروف ہو جاتا ہوں، صرف اپنے مضامین دے دیا کروں گا، اور کچھ تعلق نہ ہوگا۔ایک وقت یہ ہے کہ ہر کام کے لئے شرائط کا اظہار ضروری ہے، اور ایسا کیجئے تو آپ کہتے ہیں کہ طمع دلاتے ہو، استغفراللہ، لیکن میں یقین دلاتا ہوں کہ بغیر کسی ایسی نیت کے محض شرائط معاملہ کے طور پر چند امور عرض کرتا ہوں۔ یہ ایک بہتر کام ہے جو الہلال کی گرفتاریوں کی وجہ سے میں شروع نہیں کر سکتا۔ اب اگر اور دیر ہو گئی تو سخت نقصان ہوگا اور اسی لئے میں نے آخری فیصلہ اس کی نسبت کر لیا ہے۔ میں آپ کو پابند نہیں کرنا چاہتا لیکن اگر آپ خود چاہیں تو جتنی مدت کے لئے کہیں معاہدہ قانونی بھی ہو سکتا ہے۔مجھ کو پوری امید ہے کہ میری یہ سعی بے کار نہ جائے گی کیونکہ میں سچے دل سے آپ کا طالب ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ سچی طلب و مودت ہمیشہ کامیاب ہوتی ہے۔ابوالکلام

 بشکریہ ٹی ایس آئی

کمپیوٹر انٹرنیٹ اور زبان اردو

 یہ مضمون علی شیراز کے بلاگ سے ماخذ ہے ۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر فروغ اردو کی نسبت سے کچھ اسی طرز کا مضمون ہندوستانی اردو اخبارات کے لیے تحریر کرنا مقصود تھا لیکن اس مضمون پر جب نظر پڑی تو الگ سے ایک اور مضمون تحریر کرنا وقت کی بربادی محسوس ہوئی اور  یہ مناسب لگا کہ اسی میں کچھ مفید اضافے کر دیے جائیں ۔ اس مضمون میں ہندوستان سے اردو کے لیے کی گئی کوششوں کا تذکرہ نہیں کیا گیا تھا اعجاذ عبید صاحب سے مشورہ اور تصحیح کے بعد مزید کچھ اضافوں کے ساتھ یہ مضمون اخبارات کو ارسال کر دیا گیا۔ قارئین سے گذارش ہے کہ اصلاح کی کوئی صورت نظر آئے تو ضرور مطلع فرمائیں۔  

کمپویٹر انٹرنیٹ اور زبان اردوعصر حاضر میں کمپیوٹر اور انٹر نیٹ ایک بنیادی ضرورت اور ہماری زندگی کا جزو لاینفک بن چکا ہے۔ خیالات کی ترسیل کے لئے پہلے خطوط لکھے جا تے تھے اور کاغذ انسانی ہاتھ کے لمس کی مہک سے معمور ہوتے تھے۔ کاغذ کے دور سے کی بورڈ، کتاب کے دور سے ای کتاب اور خط کے دور سے ای میل تک کا سفر انسان نے بہت جلد طے کر لیا۔ یہ سب کچھ جدید ٹیکنالوجی کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کی بدولت ہوا۔ فاصلوں کا جھنھجٹ ہی ختم ہوا اور جغرافیائی سرحدیں اپنا سا مْنہ لے کر رہ گئیں۔اردو کمپیوٹنگ دراصل کمپیوٹر پر اردو استعمال کرنے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں اردو کے متعلق اور اردو میں تعلیم و تحقیق کا نام ہے۔ برصغیر میں ٹائپ رائٹر کی آمد کے تھوڑے عرصے بعد ہی اردو بھی ٹائپ رائٹر سے لکھی جانے لگی لیکن ٹائپ رائٹر سے صرف نسخ رسم الخط یعنی نسخ فانٹ میں ہی اردو لکھی جا سکتی تھی۔ بلکہ مولانا ابو الکلام آزاد کی کچھ تصانیف کی کمپوزنگ بھی ٹائپ کے ذریعے ہوئی تھی۔نستعلیق رسم الخط تکنیکی لحاظ سے تھوڑا پیچیدہ ہے کیونکہ اگر ہم مشین پر نستعلیق لکھنے کے حوالے سے بات کریں تو جیسے جیسے کسی لفظ کے میں حروف کا اضافہ ہوتا ہے ویسے ویسے پچھلے حروف نئے لکھے گئے حرف کے مطابق اپنی شکلیں اور جگہیں تبدیل کرتے ہیں۔ نستعلیق کی ایسی پیچیدگیوں کی وجہ سے ماضی میں کئی لوگوں نے یہ کہا تھا کہ اردو کا معیاری رسم الخط فارسی والوں کی طرح نستعلیق سے نسخ کر دینا چاہئے۔اور بعض احباب نے تو یہاں تک مشورہ دیا تھا کہ اردو کی ترقی کے لیے رومن یا دیوناگری رسم الخط کا استعمال کرنا چاہیے۔کمپیوٹر کا دور شروع ہوتے ہی اردو والوں نے بھی کمپیوٹر کے ذریعے کتابت کرنے کی کھوج لگانی شروع کر دی۔ تقریباً 1980ء میں پاکستان کے ایک بڑے اشاعتی ادارے کے مالک مرزا جمیل احمد نے جنگ گروپ کے تعاون سے کاروباری نکتہ نظر سے ایک نستعلیق نظام تیار کروایا جس کو انہوں نے اپنے والد مرزا نور احمد کے نام پر نوری نستعلیق کا نام دیا۔اسی نظام کی کچھ تختیاں وہ ہندوستان میں فرحان اشہر (مشہور افسانہ نگار جیلانی بانو اور ادیب انور معظم کے صاحبزادے)کے پاس چھوڑ آئے تھے۔ انہوں نے راجیو شری واستو کے ساتھ مل کر ’اردو پیج کمپوزر‘ یا ’صفحہ ساز‘ نامی سافٹ وئر بنایا۔ جس سے روزنامہ سیاست حیدر آباد نے کمپیوٹر کی چھپائی کا آغاز کیا۔ ادار? سیاست کے تعاون کی وجہ سے فرحان نے اس سافٹ وئر کے نستعلیق فانٹ کا نام بھی سیاست کے بانی عابد علی خاں کے نام پر ’عابد‘ رکھا۔ ہندوستان میں عرصے تک یہ سافٹ وئر استعمال کیا جاتا رہا۔ اور اب بھی حکومت ہند کے محکمہ انفارمیشن ٹکنالوجی میں اس کا نیا روپ ’ناشر‘ کے نام سے دستیاب ہے۔ یہاں سے کمپیوٹر کے ذریعے کتابت کا آغازہوا۔2000ء تک اردو کے کئی سافٹ ویئرز بنے اس کے بعد 2000ء تک کاروباری نقطہ نظر اور عام کمپیوٹر صارفین کے لئے کئی ایک سافٹ ویئرز بنے۔ ان میں جو سافٹ ویئر معیاری تھے وہ کاروباری نکتہ نظر سے بنائے گئے تھے اور ان کی قیمت عام صارفین کے بس سے باہر تھی۔ اس کی سب سے بڑی مثال ان پیج ہے جو کہ آج بھی تقریباً پندرہ ہزار روپئے قیمت کا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سافٹ ویر بھی کنسیپٹ سافٹ   ویئرزویئرز نامی کمپنی نے  ہندوستان   دو غیر مسلم انجنیئر راریندر سنگھ اور وجئے گپتا کی کوششوں سے بنایا تھا۔ اسے بنانے میں کامران روحی کی کمپنی ملٹی لنگل سولیوشنز  (یوکے ) اپنا تعاون پیش کیا تھا۔   اس میں کوئی شک نہیں ان پیج اپنے وقت کا ایک معیاری سافٹ ویئر تھا لیکن اس کی وجہ شہرت شاید اس کے معیار کی بجائے اس کی چوری تھی ہوا یوں کہ پاکستان کے کسی مسٹر ڈونگل نے اس سافٹ ویئر کو کریک کر کے ہر ایک کے لئے مارکیٹ میں پھیلا دیا اب آپ اسے سافٹ ویئر کی چوری کہیں یا کچھ اور۔شر سے خیر نے جنم لیا کہیں یا جرم سمجھیں۔لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ اس جرم کے نتیجہ میں ہی عام صارف کمپیوٹر پر بہتر انداز میں اردو لکھ پایا۔ شروع میں کمپیوٹر کے آپریٹنگ سسٹمز میں جس طرح انگریزی کی سہولت موجود تھی اس طرح اردو کی سہولت نہیں تھی یعنی جہاں کچھ لکھا جا سکتا تھا وہاں پر انگریزی تو لکھی جا سکتی تھی مگر اردو نہیں لکھی جا سکتی تھی اس لئے اردو کے لئے علیحدہ نظام بنا کر اور پھر اس خاص نظام کے ذریعے سافٹ ویئرز سے بنائے جاتے دراصل ان پیج اور تب کے دیگر اردو سافٹ ویئر کا اپنا اپنا ایک الگ نظام تھا اور یہی وجہ تھی کہ ان سافٹ ویئرز میں لکھی ہوئی اردو تحریر صرف انہیں میں ہی دیکھی جا سکتی تھی تب اگر کسی کو تحریر کسی دوسرے سافٹ ویئر یا انٹرنیٹ پر لے جانا پڑتی تو پہلے وہ تحریر کو تصویر میں منتقل کرتے اور پھر اس تصویر کو اپنی مطلوبہ جگہ پر لے جاتے۔ یعنی تب کمپیوٹر کی اردو نہیں بلکہ تصویری اردو تھی۔یہ مسئلہ صرف اردو کے ساتھ نہیں تھا بلکہ دیگر کئی ایک زبانوں کے ساتھ تھا اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے کام شروع ہوا اور پھر ایک ایسا نظام بنایا گیا جس میں دنیا کی تقریباً تمام زبانوں کو لکھنے کی سہولت دی گئی۔ اس نظام کا نام یونیکوڈ ہے۔ونڈوز کے پرانے ورڑن میں ہی یونیکوڈ نظام شامل کر دیا گیا تھا لیکن اردو کے حوالے سے یونیکوڈ نظام کو مکمل طور پر ونڈوز ایکس پی میں شامل کیا گیا اس سہولت کے شامل ہونے سے کسی خاص اردو سافٹ ویئر کی ضرورت باقی نہ رہی بلکہ جہاں دیگر کوئی زبان جیسے انگریزی لکھی جاتی تھی وہیں پر اردو بھی بالکل ویسے ہی لکھنے کی سہولت مل گئی اور یہیں سے اصل معنیٰ میں اردو کمپیوٹر میں شامل ہوئی۔کمپیوٹر کی اصل اردو: اردو ہو یا کوئی بھی زبان کمپیوٹر صرف اسے ہی تحریر سمجھتا ہے جو اس کے تحریر لکھنے والے نظام کے تحت لکھی جاتی ہے کیونکہ اب کمپیوٹر پر تحریر لکھنے کا نظام یونیکوڈ ہے لہٰذا کمپیوٹر صرف اسے ہی تحریر سمجھے گا جو یونیکوڈ نظام کے تحت لکھی جائے گی۔یونیکوڈ نظام سے پہلے کیونکہ ہم براہ راست ہر جگہ اردو نہیں لکھ سکتے تھے اس لئے مجبوری تھی بلکہ واحد راستہ یہ تھا کہ اگر ہمیں انٹرنیٹ پر اردو ڈالنی ہے تو اسے تصویر صورت میں منتقل کر لیں۔ یعنی تصویری اردو سے کام چلایا جاتا۔ اس تصویری اردو نے جہاں کمپیوٹر پر وقتی طور پر کام چلایا وہیں پر بعد میں وہی تصویری اردو اردو کی ترویج کے لئے زہر قاتل ثابت ہوئی اور ابھی تک یہ تصویری اردو ٹیکنالوجی کے میدان میں اردو کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اب جب ہم جدید تقاضوں کے مطابق بالکل انگریزی کی طرح اردو لکھ سکتے ہیں تو پھر ہمیں تصویری اردو کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر آپ غور کریں تو کمپیوٹر کا سب سے زیادہ استعمال جلد سے جلد اور آسانی سے معلومات کا حصول ہے جس کی سب سے بڑی مثال انٹرنیٹ کی دنیا سے منٹوں میں بہت ساری معلومات حاصل کر لی جاتی ہے یعنی کمپیوٹر کا سب سے زیادہ استعمال معلومات کی تلاش ہے لیکن تصویری صورت میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر پھیلائی ہوئی اردو میں سے کچھ تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ مثال کے طور پر نہ تو آپ گوگل میں تصویری اردو کے ذریعے کچھ تلاش کر سکتے ہیں اور نہ ہی گوگل تصویری اردو سے کچھ تلاش کر کے آپ کو مطلوبہ معلومات فراہم کر سکتا ہے کیونکہ کمپیوٹر تصویری اردو کو ایک تصویر سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا اور اس تصویری اردو کے نقصانات ہی نقصانات ہیں بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں تصویری اردو کو اردو کہنا ہی، اردو کی توہین ہے چھوٹی سی بات یہ کہ تصویری اردو ایک اندھیرا کنواں ہے جبکہ کمپیوٹر کی اصل یعنی جدید یونیکوڈ نظام کے تحت لکھی جانے والی اردو میٹھے پانی کا وہ چشمہ ہے جو ساری دنیا کو سیراب کر سکتا ہے۔ یاد رہے کمپیوٹر کی نظر میں تحریر وہی ہے جو یونیکوڈ نظام کے تحت لکھی جاتی ہے۔ یونیکوڈ اردو کے فوائد ہی فوائد ہیں۔ جہاں جہاں کمپیوٹر دیگر کسی زبان میں کچھ کر سکتا ہے بالکل وہیں پر یونیکوڈ اردو میں اردو کے لئے وہی سب کچھ کر سکتا ہے جو کسی دیگر زبان کے لئے کرتا ہے یونیکوڈ اردو اور تصویری اردو میں فرق سمجھنا ایک عام کمپیوٹر صارف کے لئے نہایت ہی آسان ہے سیدھی اور سادہ بات یہ کہ جو اردو تصویری کی صورت جیسے GIFیا JPG وغیرہ میں ہو وہ تصویری اردو ہے اور جو عام تحریر، جسے ہم منتخب کر کے ایک جگہ سے دوسری جگہ کاپی پیسٹ کر سکیں وہ یونیکوڈ اردو یعنی کمپیوٹر کی اصل اردو ہے۔ مثال کے لئے آپ بی بی سی اردو کی ویب سائٹ دیکھیں تو وہ یونیکوڈ اردو میں ہے جبکہ ہمارے اکثر ہندوستانی اور پاکستانی اخبارات کی ویب سائٹ تصویری اردو میں ہیں۔ ونڈوز ایکس پی میں اردو کی مکمل سہولت شامل تو ہو گئی تھی لیکن اردو کے لئے دیگر کئی قسم کی چیزیں جیسے کیبورڈ لے آؤٹ سافٹ ویئر اور فانٹ وغیرہ تیار کرنے اردو ویب سائٹ بنانے اور خاص طور پر اردو بلاگنگ جیسے کام اور کئی دیگر مسائل کا حل خود اردو والوں کو کرنا تھا اور سونے پر سہاگہ یہ کہ انیسویں صدی میں جینے والے یعنی تصویری اردو سے کام چلانے والوں کو بھی سمجھانا تھا کہ جدید طریقوں سے اردو لکھو تاکہ اردو کی ترویج آسانی سے ممکن ہو سکے یہ ساری کوششیں ایک عام صارف کے لئے کرنی تھیں تاکہ وہ آسانی سے کمپیوٹر پر اردو لکھ سکے جبکہ کاروباری لوگ تو بہت پہلے سے کاروباری نکتہ نظر سے اور پیسے کے زور پر اپنے کام چلائے ہوئے تھے ونڈوز آپریٹنگ سسٹم میں اردو کی سہولت شامل ہونے کے بعد ٹیکنالوجی کے میدان میں اردو کی ترویج کے لئے انفرادی طور پر لوگ کام کر رہے تھے۔2002 میں ہی اعجاز عبید (اصل نام اعجاز اختر) نے یاہو اردو کمپیوٹنگ گروپ بنایا۔ اور اردو کی کمپیوٹر پر تدریج کے لئے اس فعال گروپ میں ہند و پاک کے سارے تکنیکی لوگ جمع ہو گئے۔ اسی گروپ اور اردو پاک ٹائپ گروپ کے ارکان نے اور بہت سے نسخ یونی کوڈ فانٹس اور مختلف کی بورڈس بنائے۔اسی دوران 2002ء میں ہی بی بی سی اردو نے جدید یونیکوڈ نظام کے تحت اپنی ویب سائٹ بنا دی یہ ویب سائٹ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اردو لکھنے لگی۔ اور اس نے بہت شہرت حاصل کی کمپیوٹر میں اردو شامل ہو چکی تھی تو ہر ادارے نے اس طرف دوڑیں لگا دیں2004ء میں مشہور آن لائن انسائیکلوپیڈیا یعنی وکی پیڈیا نے بھی اردو کو شامل کر لیا اور اب تو گوگل تک اردو میں دستیاب ہے۔ 2005ء تک زیادہ تر انفرادی طور پر کام ہوتا رہا۔ اس کے علاوہ حکومت پاکستان کا ادارہ ’مقتدرہ اردو زبان‘ تھا جس نے کچھ کام کیا تھا اور کر رہا ہے۔ اگرچہ یہ سارے فعال رضاکار یاہو اردو کمپیوٹنگ گروپ سے متعلق تھے۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو کی ترویج کا اصل کام تب شروع ہوا جب 2005ء4 میں چند رضاکاروں نے مل کر اردو ویب ڈاٹ آرگ ویب سائٹ کی بنیاد رکھی۔ نبیل نقوی جو خود بھی یاہو اردو کمپیوٹنگ گروپ کے رکن تھے، نے یہ خیال ظاہر کیا کہ اگر اردو لکھنے کے لئے آن لائن ٹول دستیاب ہو سکے تو عام آدمی کی بورڈ اور فانٹ کے علم کے بغیر اردو لکھ سکے۔ اسی خیال کو عملی جامہ پہناتے ہوئے نبیل نقوی نے اردو پیڈ کے نام سے ایک ایڈیٹر بنایا۔اور نبیل نقوی کے ساتھ زکریا اجمل، آصف اقبال اور قدیر احمد نے اسی ویب سائٹ پر ایک فورم تشکیل دیا گیا اور اس کا نام اردو محفل رکھا۔ پی ایچ بی بی نامی سافٹ وئر کو اردو روپ دیا تھا قدیر احمد نے اور اس میں نبیل کا اردو پیڈ شامل تھا۔ اسی فورم پر تمام رضاکار مل کر تکنیکی اور دیگر حوالوں سے اردو کی ترویج کے لئے کھوج لگانے لگے خاص طور پر جدید نظام کے مطابق اردو میں ویب سائٹ بنانے اور انٹرنیٹ کے ایک موثر ہتھیار یعنی بلاگ اردو میں بنانے پر کام کیا گیا۔ اردو ویب والوں نے شروعات میں ہی اردو سیارہ کے نام سے ایک بلاگ ایگریگیٹر بنا دیا تھا آج آپ کو انٹرنیٹ پر جو اردو نظر آ رہی ہے اس میں سب سے بڑا ہاتھ اردو ویب ڈاٹ آرگ کا ہی ہے۔ اردو ویب کی بدولت کئی ایک اردو فورم وجود میں چکے تھے لیکن ایک اچھے نستعلیق رسم الخط کی کمی ہر جگہ محسوس ہوتی تھی پھر 2008ء میں پشاور کے ایک نوجوان2008ء امجد حسین علوی نے علوی نستعلیق بنا کر جیسا انقلاب برپا کر دیا گو کہ آج بہت کم لوگ علوی نستعلیق کے بارے میں جانتے ہیں مگر اردو محفل کے ہی پلیٹ فارم سے علوی نستعلیق ہی تھا جس نے فانٹ سازی کو ایک نئی راہ دکھائی پھر اردو محفل میں ہی اسی راہ پر چلتے ہوئے جمیل نوری نستعلیق بنا اور اب حا ل ہی میں شاکر القادری صاحب نے اردو والوں کو وہ تفہ دے دیا جو قسمت والوں کو نصیب ہوتا ہے۔ شاکرالقادری صاحب نے ہمیں القلم تاج نستعلیق کی صورت میں ایک بہت بڑا تفہی دیا۔ القلم تاج نستعلیق مکمل طور پر مفت ہے اور بلا خوف و خطر استعمال کیا جا سکتا ہے۔اردو ویب سائٹ بنانے اور اردو میں بلاگنگ کے مسائل کے حل ہوتے گئے کئی مشہور سافٹ ویئر کا اردو ترجمہ ہوا یہاں تک کہ ایک نوجوان محمد علی مکی نے لینکس آپریٹنگ سسٹم کا اردو ترجمہ کر ڈالا ٹیکنالوجی کے میدان میں اردو والوں کا قافلہ دن بدن بڑھتا جا رہا تھا۔اردو بلاگنگ کے ارتقاء4 کے لئے بھی ایم بلال کا زبردست رول رہا ہے۔ اردو میں بلاگ کس طرح بنایا جائے، اس کے ٹیوٹوریل لکھے۔ کئی رضاکاروں نے بلاگ کے سانچے بنائے، اس کے علاوہ مرحوم اردو ٹیک نامی ویب سائٹ نے اردو بلاگ کی پیش کش کی تو بہت سے لوگوں نے بلاگس شروع کئے۔ بیشتر اردو بلاگس میں رائے کے اظہار کے لئے وہی نبیل نقوی ولا اردو پیڈ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔لیکن ایک چیز قابل غور تھی کہ اس قافلے میں زیادہ تر ٹیکنیکل لوگ تھے کچھ دوستوں کا خیال تھا کہ کمپیوٹر پر اردو کی سہولت شامل کرنے کا طریقہ تھوڑا لمبا اور مشکل ہے اس وجہ سے عام کمپیوٹر صارف کو مشکلات کا سامنا ہے اور وہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو لکھنے میں دقت محسوس کرتے ہیں بلکہ کئی لوگ تو مشکل کی وجہ سے بھاگ ہی جاتے ہیں ان مشکلات کو دور کرنے اور اردو کی زیادہ سے زیادہ ترویج کے لئے ایم بلال ایم نے 2011ء4 میں پاک اردو انسٹالر کے نام سے ایک ایسا سافٹ ویئر بنایا جس کے ذریعے، صرف چند کلک سے کمپیوٹر پر اردو کے متعلق تمام سہولیات خودبخود شامل ہو جاتی ہیں۔ پاک اْردو انسٹالر کمپیوٹر اور انٹر نیٹ پر اْردو لکھنے کے لئے ایک مْفت سافٹ وئیر ہے۔ اس سافٹ وئیر کے خالق ایم بلال ہیں۔ پاک اردو انسٹالر ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کے لئے ہے۔ پاک اردو انسٹالر انسٹال کرنے کے بعد کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر جس جگہ کچھ لکھا جا سکتا ہے وہاں پر جدید تقاضوں کے مطابق اردو بھی لکھی جا سکتی ہے اور اردو بہتر انداز میں پڑھنے کے لئے اردو کے چند ضروری فانٹس خودبخود انسٹال ہو جاتے ہیں۔اردو کی ترویج کے لئے آج کے جدید ہتھیار انٹرنیٹ کو اپنائیے اور زیادہ سے زیادہ معلومات انٹرنیٹ پر ڈالنے کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں کو بھی اردو کی طرف قائل کریں۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں آج ان گنت یونیکوڈ اردو فورمز اور ویب سائٹس وجود میں آئی ہیں۔اور اردو کے چاہنے والوں کے لیے ایک بہت بڑا ذخیرہ ان ویب سائٹس پر جمع کر دیا گیا ہے لیکن پوری دیانت داری سے جائزہ لیا جائے تو وطن عزیز ہندوستان سے اس سمت میں پیش رفت بہت سست رہی ہے۔ جو ویب سائٹس موجود ہیں وہ اپنے تصویری فارمیٹ کی وجہ سے اردو داں طبقہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے سے قاصر ہیں۔ لیکن بعض فکر مند احباب ایک عرصہ سے یونیکوڈ اردو کی ہندوستان میں ترویج و ترقی کے لیے کوشاں ہیں تاکہ زمانہ کی رفتار کے ساتھ ہماری زبان بھی ترقی کر سکے۔ الحمدللہ وقت کی رفتار کو دیکھ کر بہت ساری ویب سائٹس اب یونیکوڈ فار میٹ میں بھی نظر آنے لگی ہیں۔ کچھ اخبارات نے بھی اپنے یونیکوڈ ایڈیشن شروع کیے ہیں جو انتہائی قابل مبارکباد عمل ہے۔آج کل سوشل ویب سائٹس کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے اور خواص و عوام ان ویب سائٹ سے جڑے ہوئے ہیں لیکن ان سوشل ویب سائٹس پر بڑھتی ہوئی بے حیائی اور فحاشی سے سلیم الفطرت نفوس کافی پریشان کہ ان کے اثرات سے ہماری نسلوں کی حفاظت کیسے ہو، ہماری لسانی تہذیبی اور ثقافتی قدروں کی کس طرح حفاظت کی جائے؟ اس بات کی شدید ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اردو طبقے کا اپنا کوئی سوشل نیٹورکنگ پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے۔ اسی ضرورت کی تکمیل کے طور پر حیدر آباد سے اعجاز عبید اور منماڑ سے ڈاکٹر سیف قاضی نے اپنی مشترکہ کوششوں سے اردو کو خواص سے نکال کر عوامی سطح پر لانے ، اردو رسم الخط کی ترویج و ترقی ، صالح اقدار کے فروغ اور مثبت سماجی روابط کی برقراری کے لیے اردو داں طبقے کی خاطر بزم اردو ڈاٹ نیٹ نام سے ایک غیر منفعتی اردو سوشل نیٹورکنگ ویب سائٹ کا آغاز کیا ہے۔الحمدللہ یہ ویب سائٹ بھی محبان اردو کی اجتماع ثابت ہو رہی ہے اور عوام و خواص یہاں پر شامل ہو کر اپنے ذوق کی تکمیل کر رہے ہیں۔آج کی دنیا کے جدید ہتھیاروں میں ایک بلاگ بھی ہے اردو میں بلاگ لکھئے ،فیس بک اور ٹوئیٹر پر اردو لکھیں بزم اردو میں اردو داں احباب سے دوستی کریں اور اردو میں اپنا پیغام اور آواز سب تک پہنچا دیجئے۔ لیکن ان ویب سائٹس پر اردو تحریر کرنے کے لیے آپ کے کمپیوٹر کو اردو پڑھنے اور لکھنے کے لائق بنانے کی ضرورت پیش آئے گی۔ اس کے لیے آپ کو کسی مخصوص کی بورڈ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ محض پاک اردو انسٹالر کی تنصیب کے ساتھ آپ کا کمپیوٹر ونڈو کی اپلیکیشنس اور دیگر ویب سائٹس پر اردو تحریر کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ پاک اردو انسٹالر حاصلکرنے کے لیے www.mbilalm.com پر تشریف لے جائیں۔

بزم اردو سوشل نیٹ ورک کا آغاز


بزم اردو سوشل نیٹ ورک کا آغاز
اردو کو خواص سے عوام تک پہنچانے کی کوشش
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس برق رفتار دور میں  بیچاری اردو کہاں  کھڑی ہے اس بات سے ہم اور آپ بخوبی واقف ہیں۔  سائنس اور ٹیکنالوجی میں مغربی ممالک  کی سبقت نے  اقوام عالم کی تہذیب و ثقافت ، رہن سہن ، طرزمعاشرت اور زبانوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ دور حاضر میں مغرب سے آنے والی ہر چیز کو سند مانا جاتا ہے اور چونکہ انگریزی کو ایجاد و اختراع کی زبان تسلیم کیا جا چکا ہے اس لیے اردو داں طبقے کا اردو سے دور ہونا کوئی بعید ازقیاس بات نہیں ہے۔ بات صرف زبان تک محدود ہوتی تو ٹھیک تھا لیکن لسانی اثرات کے ساتھ جدید نسل میں تہذیبی اثرات  بھی اس قدر سرایت کر چکے ہیں کہ انہیں اپنی زبان و تہذیب  کا پاس و لحاظ دقیانوسی باتیں محسوس ہونے لگی ہیں۔
دور حاضر انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے اس دور میں  جدید نسل کا ناطہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سے جڑا ہوا ہے   اور سوشل ویب سائٹس کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ بر صغیر ایشیا میں لوگ فیس بک نامی وبائی مرض کی جس طرح لپیٹ میں آئے ہوئے ہیں اس سے ہم اور آپ بخوبی واقف ہیں۔ ڈیجٹل میپ ایشیا کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2012 میں  صرف انڈیا کے فیس بک صارفین کی تعداد  43,497,980 سے متجاوز کر چکی ہے۔
بچے ہوں یا بوڑھے، کیا   امیر کیا غریب، ہر کسی کو فیس بک کا چسکہ لگا ہوا ہے۔ اور کیوں نہ لگے؟ ایک طرف یہاں ہر کسی کے ذوق کے مطابق تفریح طبع کا سامان میسر ہے تو دوسری طرف اپنی تخلیقات و ذہنی اپج کو بہت ہی کم عرصہ میں دوسروں تک پہنچانے کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے۔جہاں ایک طرف ان ویب سائٹس کی افادیت مسلم ہے   وہیں دوسری طرف ان ویب سائٹس پر روز بروز  فحاشی ، بیہودگی اور عریانیت  سے سلیم الفطرت نفوس پریشان ہیں کہ ان کے اثرات سے ہماری نسلوں کی حفاظت کیسے ہو، ہماری لسانی تہذیبی اور ثقافتی قدروں کی کس طرح حفاظت کی جائے؟چونکہ ایک صالح معاشرے کی تعمیر میں زبان و ادب کا بڑا  اہم حصہ ہوتا ہے اس لیے کافی دنوں سے یہ کوششیں کی جا رہی ہیکہ اردو زبان کو کمپیوٹر  و انٹرنیٹ سے جوڑا جائے اس کے لیے دنیا بھر سے بہت ساری ویب سائٹس بھی تیار کی گئی لیکن اکثر ویب سائٹس عمدہ مشمولات کے با وجود اپنے امیج فارمیٹ کی وجہ سے اردو داں حضرات کی توجہ مبذول کرنے میں ناکام رہی ۔ ہندوستان سے تحریر ی اردو (یونیکوڈ) ویب سائٹس بہت کم نظر آتی ہیں لیکن جو موجود ہیں وہ بھی بے توجہی کا شکار ہیں۔
بعض فکر مند احباب ایک عرصہ سے یونیکوڈ اردو کی ہندوستان میں ترویج و ترقی کے لیے کوشاں ہیں تاکہ زمانہ کی رفتار کے ساتھ ہماری زبان بھی ترقی کر سکے۔ چونکہ آج کل سوشل ویب سائٹس کا بہت بول بالا ہے اور خواص و عوام دونوں اس سے جڑے ہوئے ہیں اس لیے  حیدر آباد سے اعجاذ عبید صاحب اور منماڑ سے ڈاکٹر سیف قاضی نے اپنی مشترکہ کوششوں سے اردو کو خواص سے نکال کر عوامی سطح پر لانے ،  اردو رسم الخط کی ترویج و ترقی ، صالح اقدار کے فروغ اور  مثبت سماجی روابط کی برقراری کے لیے اردو داں طبقے کی خاطر ایک  غیر منفعتی اردو سوشل نیٹورکنگ ویب سائٹ  کا آغاز کیا ہے۔
26 جنوری 2013 سے اس اردو سوشل نیٹورک کا آغاز عمل میں آیا ہے ۔جسے اس پتہ پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویب کے منتظمین نے اردو طبقے سے گزارش کی ہے کہ اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کریں۔ محض مشاہدہ کرنے یا شمولیت اختیار کرنے کے لیے یہاں تشریف لائیں۔
بزم اردو سوشل نیٹورک


دنیا کی اولین غیر منفعتی اردو سوشل نیٹورکنگ ویب کا آغاز


محترم قارئین بلاگ !آپ سوچ رہے ہوں گے اتنے  دن ہو گئے ہماری کوئی پوسٹ نہیں آئی ۔۔ آخر ہم کہاں کھو گئے ؟ در اصل ہم  ایک انتہائی اہم کام میں مصروف تھے۔ اور ماشا ءاللہ آج آپ حضرات کے لیے ایک بڑی خوشخبر ی لے کر حاضر ہوئے ہیں۔آپ کو یہ اطلاع دیتے ہوئے مجھے از حد خوشی محسوس ہو رہی ہیکہ ہندوستان سے دنیا کی اولین اردو سوشل نیٹورکنگ ویب سائٹ کا قیام عمل میں آ چکا ہے ۔جی ہاں یہ سچ ہے ۔۔ یقین نہیں ہوتا ؟
اچھا تو لیجیے ہم آپ کو لنک دیتے ہیں خود ہی دیکھ لیجیے ۔۔۔بزم اردو سوشل نیٹورک

بلاگر کے لیے خوبصورت اردو سانچہ


بلاگر کے لیے خوبصورت اردو سانچہ
قارئین !آج ہم بلاگر کے لیے ایک خوبصورت سانچہ پیش کر رہے ہیں امید ہے کہ پسند کیا جائیگا۔یہ سانچہ بلاگر کی سادہ تھیم کی مدد سے بنایا گیا ہے۔ جو احباب اس سانچہ کو استعمال کرنا چاہتے ہیں وہ اس بات کو ملحوظ رکھیں کہ سانچہ اپلوڈ کرنے کے بعد وجٹ اکثر بے ترتیب ہو جاتے ہیں لھٰذا  اگرآپ کے بلوگ کے ساتھ ایسی کوئی صورت پیش آئے تو وجٹ از سر نو ترتیب دیں۔


مکمل نمونہ دیکھنے کے لیےیہاں کلک کریں۔


ڈاونلوڈ کرنے کے لیےیہاں کلک کریں


فلیش ڈرائیو کو بطور رام استعمال کریں


فلیش ڈرائیو کو بطور رام ( Ram  )استعمال کریں
ونڈوز سیون کی ایسی بہت ساری خصوصیات ہے جو عام صارفین نہیں جانتے ۔ جب بھی ونڈوز سے ہم  USB Storage  Drive منسلک کرتے ہیں Auto-play Pop Up   ہوتا ہے کیا آپ نے کبھی اس پر غور کیا ہے کہ اس میں کون کون سے متبادل نظر آتے ہیں۔آج ہم ان ہی متبادل میں سے ایک کے ذریعے آپ کے سسٹم کی رفتار بڑھانے کا طریقہ بتانے جا رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کافی احباب اس طریقے کو جانتے ہوں لیکن جو ہماری طرح طفل مکتب ہیں ان کے لیے یہ بہت ہی کارگر نسخہ ثابت ہ سکتا ہے۔  ہم درج ذیل تصویر میں آپ کو  ظاہر ہونے والا  Pop Up  دکھاتے ہیں ۔

جی ہاں آپ نے بالکل صحیح اندازہ قائم کیا ہمارا اشارہ   Speed Up My System  کی طرف ہی تھا ۔ ونڈوز 7 مین یہ آپشن موجود ہے اور تقریباً دو سال سے 7 کا استعمال کرتے ہوئے بھی ہماری نظر اس آپشن کی طرف نہیں گئی تھی۔ اس آپشن کے ذریعے ہم اپنی ونڈوز کی رفتار کو بڑھانے کی کشش کرینگے۔اس کے لیے دو چیزیں ضروری ہے ۔ 
ونڈوز 7 اور compatible  فلاش ڈرائیو 
آئیے ہم طریقہ بتاتے ہیں بعض اوقات پاپ اپ ظاہرنہیں ہوتا ہے ایسی صورت میں My computers  پر کلک کیجیے ۔اس کے بعد آپ کی فلیش درائیو پر Right Click    کیجیے

 اور اس کے بعد آپ کو   Properties پر کلک کرنا ہے ۔ پراپرٹیس پر کلک کرنے کے بعدآپ کے اسکرین پر کچھ اس طرح ونڈو ظاہر ہوگی ۔ 
اب اس ونڈو میں Ready boost  پر کلک کیجیے ۔ آپ کو درج ذیل نظر آئیگا۔


ظاہر ہونے والے متبادل میں سے کسی ایک کا انتخاب کیجیے۔ ونڈوز آپ کی فلیش ڈرائیو کے حجم کے مطابق مختص حجم تجویز کرتا ہے اب  Ok  پر کلک کریں اور آپ اپنے سسٹم کی رفتار کا مشاہدہ کریں۔

ونڈوز 7 کی رفتار میں اضافہ کرنے کے تعلق سے مزید ایک اور مضمون آپ یہاں  دیکھ  سکتے ہیں۔

براؤزر میں از خود اردو فونٹ انسٹال کرنے کی کوشش



بہت دنوں پہلے کہیں پڑھا تھا کہ کچھ ویب سائٹس ایسی ہوتی ہے جو ازخود براوزر میں اپنے فونٹ شامل کرتی ہے اس کے فونٹس آپ کے کمپیوٹر میں ہونا ضروری نہیں ۔ چونکہ وہ میرا بلاگنگ کا شروعاتی دور تھا اور تب مجھےبلاگنگ کی الف ، ب ، بھی ٹھیک سے نہیں پتا تھی اس لیے اس تحریر سے سرسری گذر گیا تھا ۔آج اچانک دل میں  یہ خیال اردو فونٹس کے تعلق سے آیا کہ اردو فونٹس بھی اس طرح براؤزر میں ازخود انسٹال ہوتو کتنا اچھا ہوگا۔ دن بھر گوگل کے کان مروڑتا رہا   نہ جانے کتنی ویب سائٹس اور گروپس کی خاک چھانی ۔ فونٹ فیس کے متعلق  گوگل گروپس میں پڑھنے کے بعد کچھ امید نظر آئی۔لیکن مسئلہ اردو فونٹس کے حجم کا بھی تھا  ۔ اسی دوران نفیس نستعلیق کا خیال آیا کہ اس کا حجم کم ہے۔ چونکہ فونٹ فیس  رولس کے مطابق  یا تو وہ فونٹ آپ کوے سرور پر موجود ہونا چاہیے یا پھر جس سرور پر موجود ہو اس کا لنک چاہیے ۔ لیکن نفیس نستعلیق کا براہ راست لنک مجھے نہیں ملا ۔ اس کے بدلے مجھے اردو جہاں پر 'پاک نستعلیق' کا ڈائرکٹ لنک مل گیا (ہو سکتا ہے یہ نفیس نستعلیق ہی ہو کیونکہ ویسا ہی دکھائی دیتا ہے )۔  بلاگر ٹیملیٹ میں یہ فونٹ  اور فونٹ فیس رول شامل کرنے کے بعد میں نے اپنے کمپیوٹر سے نفیس نستعلیق  اور پاک نستعلیق فونٹ نکال دیے ۔ اور اس کے بعد اپنا بلوگ  'ڈیمو بلاگ' چاروں مشہور براؤزرس کروم ، فائر فاکس ، اوپیرا اور انٹر نیٹ اکسپلورر میں چیک کیا۔
اوپیرا میں میرا تجربہ کامیاب رہا اور بلاگ 'پاک نستعلیق فونٹ ' میں نظر آیا۔


کروم میں یہ نتائج ملے جلے سے نظر آئیں۔ بعض جگہ فونٹ ٹھیک سے ڈسپلے نہیں ہوا۔




فائر فاکس اور انٹرنیٹ اکسپلورر نے مجھے مایوس کیا ان دونوں  براؤزرس میں  ڈیمو بلاگ 'پاک نستعلیق 'میں نہیں دیکھ پایا ۔
میں ایک طالبعلم کی حیثیت رکھتا ہوں اور کمپیوٹر کی زبان سے قطعی نا اقف ہوں ، جو لوگ اس شعبے میں ماہر ہیں وہ اگر تجربات کریں تو کافی خوش آئند نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

ڈیمو بلاگ دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

نوٹ : اگر آپ کے کمپیوٹر میں پاک نستعلیق فونٹ موجود ہو تو اسے تھوڑی دیر کے لیے نکال کر ڈیمو دیکھیں ۔


اپنی ڈائری سے ۔ ۔ ۔

اپنی ڈائری سے ۔۔۔۔
(یہ تحریر  06/11/2006 کی ہے آج اتفاقاً اپنی  پرانی تحریر پر نظر پڑی تو و دلچسپی کے لحاظ سے سوچا  یہ مزیدار تحریر یہاں  پوسٹ کروں۔ )
رات میں ڈاکٹر سیف ا لدین کے یہاں RMO  کے فرائض انجام دے رہا ہوں۔ ہاسپٹل میں زیادہ  IPD  ہوتی نہیں ہے محض کوئی بھولا بھٹکا Emergency Case  آ ئے تو وہاں اپنی قابلیت کے جوہر دکھانے پڑتے ہیں اور پھر آرام سے سونا !!کل رات میں سونے کی کوشش کر رہا تھا کہ اچانک کال بیل کی آواز سے لاحول پڑھتا ہوا اٹھا ۔ ۔ ۔ Emergency  میں جا کر دیکھا تو ایک حسینہ میک اپ میں لدی پھندی ، کہنیوں تک مہندی سجائے ہوئے بستر پر کراہ رہی تھی۔مختصر حالات معلوم کر نے کے بعد پتا چلا کہ نا معلوم گولی کھانے سے گھبراہٹ شروع ہوئی ، لیکن معائنہ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہونچا کہ شاید یہ نفسیاتی مریضہ ہے ۔ ۔ ۔ پھر بھی احتیاطاً ایک Avil  انجکشن دے دیا تا کہ اگر میری تشخیص میں کوئی غلطی بھی ہو رہی ہو تو محترمہ کو قدر راحت مل جائے۔ اور پھر ۔ ۔ ۔جیسا کہ اور نفسیاتی مریضوں کو ضرورت ہوتی ہے توجہ اور ذہنی سکون کی ۔ ۔ ۔ ایک گلوکوذ لگا کر اس میں ذہنی سکون کے لیے تھوڑی سی آئی وی دوائی ملا دی۔اپنی کیبن میں آکر اس حسینہ کے ساتھ آئے ہوئے معصوم نوجوان سے History پوچھا تو وہ معصوم نہیں مظلوم نکلا۔قصہ یوں تھا کہ محترمہ کی شادی ہوئے صرف دودن کاعرصہ گذرا تھا اور پچھلے دودن سے وہ Anxiety Disorder کا شکار تھی۔ میں نے مزید تفصیلات معلوم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کیونکہ اس معصوم شوہر کا چہرہ ہی طویل داستان بیان کر رہا تھا۔میرے لیے ایک بڑی مصیبت یہ تھی کہ اس لڑکی کے میکے و سسرال والے تمام لوگ جمع ہو گئے تھے اور ہر ایک کا یہی سوال تھا کہ " ڈاکٹر صاحب ان کو کیا ہو گیا ؟"خیر تمام تر الزامات دواؤں کے مضر اثرات کے سر تھونپ کر میں مظلوم شوہر کے حق میں دعا کرتا ہوا سو گیا  ؛) 

اردو بلاگنگ کیسے کریں ؟


 اردو بلاگنگ کیسے کریں ؟
(یہ پوسٹ ان ہندستانی بھائیوں کے لیے تحریر کی گئی  ہے جو اردو بلاگنگ تو کرنا چاہتے ہیں لیکن اس بات سے واقف نہیں ہے کہ بلاگنگ کیسے کی جاتی ہے )
آج کل اردو بلاگنگ کا رجحان زور پکڑ رہا ہے ۔ اردو بلاگنگ پہلے پاکستان تک ہی محدود تھی لیکن اب وقت کے ساتھ ساتھ ہندوستانی اردوداں حضرات بھی اردو بلاگنگ میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔ اکثر احباب کے ساتھ میرا اردو بلاگنگ کے موضوع پر تبادلہ خیال ہوتا رہتا ہے اور بہت سارے لوگ یہ کہتے  ہیں کہ ہم  کمپیوٹر اور بلاگنگ کی باریکیوں سے واقف نہیں  ہیں اس لیے  بلاگنگ  نہیں کر پاتے۔
جہاں تک باریکیوں کا سوال ہے تو مجھے  اردو کمپیوٹنگ اور بلاگنگ میں  سرے سے کوئی  باریکی  نظر ہی نہیں آتی۔ آج ہر چیز آپ کے لیے تیار ہے۔ بلال بھائی نےپاک اردو انسٹالر تیار کیا ہے جو محض چند کلک کے ساتھ آپ کے کمپیوٹر کو ( بہترین نستعلیق رسم الخط میں ) ارد وپڑھنے اور لکھنے کے قابل بنا دیتا ہے ۔  بلوگر آپ کو ٹیمپلیٹ ایڈٹ کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے  ، اور ماشاءاللہ بہت سارے احباب روز بروز  بلاگر کے لیے نت نئی ٹیمپلیٹس کو اردو سانچے میں ڈھال رہے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک ٹیمپلیٹ کا انتخاب کر نے کے بعد آپ کو بلاگر میں اپلوڈ کرنا ہے اور آپ بلاگنگ کے لیے بالکل تیار ہو جاتے ہوں۔سہولت کے لیے ہم آپ کو   درج ذیل عنوانات کت تحت سمجھانے کی کوشش کرینگے۔اپنے کمپیوٹر کو اردو پڑھنے اور لکھنے کے قابل بنانااردو کے لیے یونیکوڈ فونٹس تیار ہونے سے پہلے ہم کمپیوٹر میں  اردو  کا استعمال تصویری انداز میں کرتے تھے   یہ اردو نہیں بلکہ اردو کی تصاویر ہوتی ہے جنہیں کمپیوٹر کا نظام نہ ہی سمجھ سکتا ہے اور نا ہی سرچ انجن اسے ڈھونڈ کر آپ تک نتائج پہنچا سکتا ہے۔ یونیکوڈ فونٹس کی تیاری کے ساتھ ہم اس قابل ہو گئے ہیں کہ کسی بھی اپلیکیشن میں ہم بہترین اردو رسم الخط میں اردو تحریر کر سکتے ہیں۔ اپنے کمپیوٹر کو اردو لکھنے اور پڑھنے کے قابل بنانے کے لیے تین چیزوں کی ضرورت ہوتی ہیں۔1۔ اردو  یونیکوڈ فونٹس2۔ اردو کی بورڈ3۔ ونڈوز کے لیے اردو سپورٹیہ تینوں چیزیں مشہور بلاگر بلال صاحب نے ایک جگہ جمع کی ہے اور پاک اردو انسٹالر نام سے ایک سوفٹ ویئر تیار کیا ہے جس کی مدد سے محض چند کلک کی بناء پر ہمارا کمپیوٹر اردو لکھنے اور پڑھنے کے لائق بن جاتا ہیں۔کمپیوٹر میں اردو تحریر کرنے کا طریقہفرض کیجیے آپ کو ایم ایس وردڈ میں اردو تحریر کرنی ہے۔ایم ایس ورڈ  کا صفحہ کھولیں ، اب   Alt=Shift دبا کر اردو زبان منتخب کریں۔ اب فونٹس میں آپ کا اردو فونٹ بھی ظاہر ہونے لگے گا۔ اردو فونٹس میں کوئی بھی فونٹ منتخب کریں اور بہترین اردو رسم الخط میں تحریر کرنا شروع کریں۔تحریر کرنے کے دوران یہ بات ملحوظ رہے کہ پاک اردو انسٹالرمیں فونیٹک کی بورڈ شامل کیا گیا ہے۔ لھٰذا اردو تحریر بھی آپ کو فونیٹک کی بورڈ کے لحاظ سے ہی کرنی ہوگی جو انتہائی آسان ہے۔ اردو بلاگنگ کیسے کریں ؟بلاگر اور ورڈ پریس دو مشہور ویب سائٹس ہے جو آپ  کو مفت بلاگ کی خدمات مہیا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی اور بہت ساری ویب سائٹس ایسے ہیں  جہاں آپ اپنا بلاگ مفت شروع کر سکتے ہیں۔ ٹمبلر ایک ایسی سوشل ویب سائٹ ہے جسے آپ  ٹوئٹر ، فیس بک اور بلاگر یا ورڈ پریس کا مرکب کہ سکتے ہیں ۔ یہ سوشل ویب سائٹ آپ کو بیک وقت تقریباً   وہ تمام خصوصیات عطا کرتی ہے  جو فیس بک ٹوئٹر اور بلاگر میں موجود ہے۔ ٹمبلر ٹوئٹر کی طرح ہے لیکن وہاں حروف کی قید نہیں ہے ، آپ اپنے دوستوں کے ساتھ اپنا مواد شیئر کرنے کے لیے فیس بک کی طرح کی خصوصیات استعمال کر سکتے ہیں اور مزید یہ آپ کو اپنے بلاگ کی ایچ ٹی ایم ایل ایڈت کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے لیکن فی الحال  یہ ویب سائٹ برصغیر ہند میں یہ اتنی مقبول نہیں ہوئی ہے۔ چونکہ بلاگر ایچ ٹی ایم ایل ایڈٹ کرنے کی سہولت عطا کرتا ہے اور یہ نسبتاً آسان ہے اس لیے ہم یہاں بذریعہ بلاگر ہی بلاگنگ پرگفتگو کریں گے۔سب سے پہلے آپ کو www.blogger.com   پر اپنا بلوگ بنانا ہوگا ۔ یہ انتہائی آسان ہوتا ہے ۔ گوگل سے سائن ان کرنے کے بعد محض چند کلکس کے ساتھ بلاگر آپ کو نیا بلاگ تیار کر دیتا ہے۔

دوسرا مرحلہ اردو بلاگز کے لیے اردو سانچے کا ہوگا ۔ جو لوگ اپنے بلاگ کو نستعلیق رسم الخط میں دیکھنا پسند کرتے ہیں انہیں ایسی ٹیمپلیٹ اپلوڈ کرنی ہوتی ہے جس میں اردونستعلیق فونٹ شامل ہو۔آجکل بلاگر کے لیے بہت سارے اردو سانچے دستیاب ہے ہم نے بھی دو تین سانچے ابھی تک اس بلاگ پر پوسٹ کیے ہیں ۔ مزید سانچے مندرجہ ذیل ویب سائٹس سے حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
منظر نامہ
بیسٹ اردو تھیمز


یہ سانچے ڈاونلود کرنے کے بعد  آپ کو ان سانچوں کو بلاگر میں اپلوڈ کرنا ہوگا۔


بلاگر ڈیش بورڈ میں جا کر ٹیمپلیٹ پر کلک کیجیے۔

اب آپ کو دائیں طرف    back up/ Restore   آپشن نظر آئیگا۔

اب اس پر کلک کرنے کے بعد آپ کو درج ذیل نظر آئیگا۔

اب آپ کو  Choose file  پر کلک کرنا ہے اور اس کے بعد اپنا منتخب کردہ ارو سانچہ اپلوڈ کرناہے۔
ایک بار سانچہ اپلوڈ ہونے کے بعد آپ کا بلاگ دلکش نستعلیق رسم الخط کے ساتھ بلاگنگ کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔اب اگر آپ نے ایم ایس ورڈ میں کوئی مضمون تحریر کیا ہو اور اسے پوسٹ کرنا چاہتے ہیں یا براہ راست بلوگر میں کوئی تحریر پسٹ کرنہ ہے تو New Post  پر کلک کریں اور اپنی پوسٹ شائع کریں۔
اگر آپ ایچ ٹی ایم ایل سے تھوڑی بہت واقفیت رکھتے ہیں تو آپ خود بلاگر سانچوں کو اردو میں ڈھال سکتے ہیں۔ یہ بھی بہت آسان ہوتا ہے اور  اس میں آسانی یہ ہیکہ بہت ساری ویب سائٹس پر بلاگر کے ہزاروں سانچے مفت استعمال کی سہولت کے ساتھ وجود ہیں آپ اپنے من پسندسانچوں کا انتخاب کرنے کے بعد انہیں اردو پیرہن پہنا سکتے ہیں۔یہ سانچے آپ مندرجہ ذیل ویب سائٹس سے مفت صاصل کر سکتے ہیں۔

آل بلاگ ٹولز


بلاگر ٹیمپلیٹس فور یو
بلاگر کے اردو سانچوں میں اردو فونٹ شامل کرنے کے لیے   ٹیمپلیٹ میں جہاں کہیں فونٹ کا تذکرہ  ہو وہاں آپ کو اردو فونٹس شامل کرنے ہوتے ہیں۔ مثلاًbody {            margin:0 auto;            padding:0px 0px 0px 0px;            background:#212121  url(http://2.bp.blogspot.com/-JbDQlnDRmD0/UGURHndf9mI/AAAAAAAAGtc/BvPZenzpNsY/s1600/body.png);            font-family: Arial, verdana,Tahoma,Century gothic,  sans-serif;            font-size:16px;         text-align:right;          line-height: 1.5em;کی بجائے آپ کو اس طرح اردو فونٹ شامل کرنے ہوگے۔body {            margin:0 auto;            padding:0px 0px 0px 0px;            background:#212121  url(http://2.bp.blogspot.com/-JbDQlnDRmD0/UGURHndf9mI/AAAAAAAAGtc/BvPZenzpNsY/s1600/body.png);            font-family:"Jameel Noori Nastaleeq","Alvi Nastaleeq", Arial, verdana,Tahoma,Century gothic,  sans-serif;            font-size:16px;         text-align:right;          line-height: 1.5em;
ایک بار آپ بلوگنگ شروع کر یں اور دل میں شوق ہو تو یہ باریکیاں کوئی معنیٰ نہیں رکھتی۔ تو دیر کس بات کی قارئین آپ کے بلاگ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ فوراً سے پیشتر نیا بلاگ بنائیے۔




معذرت


معذرت
میں بلاگ کے معزز سبسکرائبرس  سے معذرت خواہ ہوں کچھ ٹیکنیکل مسائل کی وجہ سے مجھے مکمل بلاگ حذف کرنے کے بعد دوبارہ ایک نئئےسانچے کے ساتھ اپلوڈ کرنا پڑا اب جب بھی میں کسی پرانی تحریر میں نئے سانچے کی وجہ سے کچھ ترمیم کرتا ہوں تو سبسکرائبر س کو نئی پوسٹ کی اطلاع دی جا رہی ہے۔ اسی طرح اردو ویب سیارہ کے ریڈرس سے بھی میں معذرت خواہ ہوں وہاں پر نئی پوسٹس کے متعلق اطلاعات کا سلسلہ نظر آ رہا ہے ۔ امید کرتا ہوں  کہ تکنیکی غلطی کی وجہ سے پیدا ہونے والی اس صورتحال میں مجھے معذور سمجھا جائیگا۔

Pages