سیف قاضی (اردو شاعری)

Dr Saif Qazi has gifted you 25% off* to shop.

MYNTRA.COM look good   Men Women Kids Brands Sale Trends         Hey,

Your friend, Dr Saif Qazi, thought you'd like to be a part of Myntra.com, India's Largest online fashion store. GET 25% Off
on your first purchase at Myntra. ACCEPT INVITATION   » Free shipping » 30 Day return/exchange » Cash on Delivery » 24 Hour dispatch   Our new arrivals   SHOP MEN'S
FOOTWEAR »
  SHOP MEN'S
APPAREL »
  SHOP MEN'S
ACCESSORIES »
  SHOP WOMEN'S
FOOTWEAR »
  SHOP WOMEN'S
APPAREL »
  SHOP WOMEN'S
ACCESSORIES »
  New
Arrivals
Style
Blog
Look of
The Day
  MEN   WOMEN       Shirts
T-Shirts
Trousers
Jeans
Shorts Casual Shoes
Sports Shoes
Formal Shoes
Sandals
Bags & Backpacks
Fragrances & Deos
Sunglasses
Wallets
Watches   Dresses
Shirts & Tops
Jeans & Jeggings
Shorts & Skirts
Sarees
Kurtis & Suits Sandals
Heels
Flats
Casual Shoes
Sports Shoes
Boots Bags
Cosmetics
Jewellery
Sunglasses
Watches   Myntra.com is India's largest online fashion and lifestyle store for men, women, and kids.
Shop online from the latest collections of apparel, footwear and accessories, featuring the best brands.
We are committed to delivering the best online shopping experience imaginable.   support@myntra.com | Call +91-80-43541999 Connect with us     Offer valid on Myntra.com only. Myntra logo is a registered trademark of www.myntra.com, India.
Check out our Privacy Policy © 2013. All Right Reserved. www.myntra.com

محسن نقوی کی ایک بہترین غزل

 ​قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ​اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ​​اپنی پوشاک کے چھن جانے پہ افسوس نہ کر​سر سلامت نہیں رہتے یہاں دستار کے بیچ​​سرخیاں امن کی تلقین میں مصروف رہیں​حرف بارود اگلتے رہے اخبار کے بیچ​​کاش اس خواب کی تعبیر کی مہلت نہ ملے​شعلے اگتے نظر آئے مجھے گلزار کے بیچ​​ڈھلتے سورج کی تمازت نے بکھر کر دیکھا​سر کشیدہ مرا سایا صف اشجار کے بیچ​​رزق، ملبوس ، مکاں، سانس، مرض، قرض، دوا​منقسم ہو گیا انساں انہی افکار کے بیچ​​دیکھے جاتے نہ تھے آنسو مرے جس سے محسن​آج ہنستے ہوئے دیکھا اسے اغیار کے بیچ​​محسن نقوی​

Ghazal by Dr Javed jameel | ڈاکٹر جاوید جمیل کی ایک تازہ غزل

غزلاز ڈاکٹر جاوید جمیل
نہ ملا  کبھی کسی سے اسے دیوتا سمجھ کربھلا کیسے پوجتا پھر میں اسے خدا سمجھ کر
میں یہ چاہتا ہوں مجھ سے وہ ملے تو دوست بن کےنہ بڑا سمجھ کے خود کو،  نہ مجھے بڑا سمجھ کر
کوئی انکو یہ بتا دے مرے منہ میں بھی زباں ہےوہ ستم کریں گے کب تک مجھے بے نوا سمجھ کر
کئے فیصلے ہمیشہ ترے رخ کو دیکھ کر ہیکبھی باوفا سمجھ کر، کبھی بے وفا سمجھ کر
ترا غم اٹھا رہا ہوں، ترا درد سہہ رہا ہوںمری بندگی سی الفت کی حسیں جزا سمجھ کر
مرے عشق کو مقدر درجات دے رہا ہےکبھی ابتدا سمجھ کر، کبھی انتہا سمجھ کر
کوئی حکم دوں اسے میں یہ نہیں مقام میرامری بات کاش مانے مری التجا سمجھ کر
مری باطنی حقیقت انھیں کیا دکھائی دے گیجو مجھے ستا رہے ہیں کوئی سر پھرا سمجھ کر
 وہ زوال_ آدمیت کی ہے شاہراہ جاویدہے زمانہ جس کا راہی رہ_ ارتقا سمجھ کر

Munawwar Rana`s Ghazal | غزلِ منور رانا

جب بھی دیکھا مرے کردار  پہ دھبا کوئیدیر تک بیٹھ کے تنہائی میں رویا کوئی
لوگ ماضی کا بھی اندازہ لگا لیتے ہیںمجھ کو تو یاد نہیں کل کا بھی قصہ کوئی
بے سبب آنکھ میں آنسو نہیں آیا کرتےآپ سے ہوگا یقیناً  مرا رشتہ کوئی
یاد آنے لگا ایک دوست کا برتاؤ مجھےٹوٹ کر گر پڑا جب شاخ سے پتّہ کوئی
بعد میں ساتھ نبھانے کی قسم کھا لینادیکھ لو جلتا ہوا پہلے پتنگا کوئی
اس کو کچھ دیر سنا لیتا ہوں رودادِ سفرراہ میں جب کبھی مل جاتا ہے اپنا کوئی
کیسے سمجھیگا بچھڑنا وہ کسی کا راناٹوٹتے دیکھا نہیں جس نے ستارہ کوئی

غزل حسین باندی شباب بنارسی

 غزل حسین باندی شباب بنارسی
مے کشی کا لطف تنہائی میں کیا، کچھ بھی نہیںیار پہلو میں نہ ہو جب تک، مزا کچھ بھی نہیں
تم رہو پہلو میں میرے، میں تمہیں دیکھا کروںحسرتِ دل اے صنم، اِس کے سوا کچھ بھی نہیں
حضرتِ دل کی بدولت میری رسوائی ہوئیاس کا شکوہ آپ سے اے دلربا کچھ بھی نہیں
قسمتِ بد دیکھئے، پُوچھا جو اُس نے حالِ دلباندھ کے ہاتھوں کومیں نے کہہ دیا، کچھ بھی نہیں 
آپ ہی تو چھیڑ کرپُوچھا ہمارا حالِ دلبولے پھرمنھ پھیرکے، ہم نے سُنا کچھ بھی نہیں
کوچہؑ الفت میں انساں دیکھ کے رکھے قدمابتدا اچھی ہے اِس کی، انتہا کچھ بھی نہیں
حسین باندی شباب بنارسی

غزل ناصر کاظمی | Ghazal by Nasir Kazmi

غزلِناصر کاظمی 
ترے خیال سے لَو دے اٹھی ہے تنہائی شبِ فراق ہے یا تیری جلوہ آرائی
تو کس خیال میں ہے منزلوں کے شیدائی اُنھیں بھی دیکھ جِنھیں راستے میں نیند آئی
پُکار اے جرسِ کاروانِ صبحِ طرب بھٹک رہے ہیں اندھیروں میں تیرے سودائی
ٹھہر گئے ہیں سرِ راہ خاک اُڑانے کو مسافروں کو نہ چھیڑ اے ہوائے صحرائی
رہِ حیات میں کچھ مرحلے تو دیکھ لئے یہ اور بات تری آرزو نہ راس آئی
یہ سانحہ بھی محبّت میں بارہا گزرا کہ اس نے حال بھی پوچھا تو آنکھ بھر آئی
دلِ فسردہ میں پھر دھڑکنوں کا شور اُٹھا یہ بیٹھے بیٹھے مجھے کن دنوں کی یاد آئی
میں سوتے سوتے کئی بار چونک چونک پڑا تمام رات ترے پہلوؤں سے آنچ آئی
جہاں بھی تھا کوئی فتنہ تڑپ کے جاگ اُٹھا تمام ہوش تھی مستی میں تیری انگڑائی
کھُلی جو آنکھ تو کچھ اور ہی سماں دیکھا وہ لوگ تھے، نہ وہ جلسے، نہ شہرِ رعنائی
وہ تابِ درد وہ سودائے انتظار کہاں اُنہی کے ساتھ گئی طاقتِ شکیبائی
پھر اس کی یاد میں دل بے قرار ہے ناصر بچھڑ کے جس سے ہوئی شہر شہر رسوائی

ساحر لدھیانوی | Sahir ludhyanwi`s Ghazal

خودداریوں کے خون کو ارزاں نہ کر سکےہم اپنے جوہروں کو نمایاں نہ کر سکے
ہو کر خرابِ مے ترے غم تو بھلا دیئےلیکن غمِ حیات کا درماں نہ کر سکے
ٹوٹا طلسمِ عہد محبّت کچھ اس طرحپھر آرزو کی شمع فروزاں نہ کر سکے
ہر شے قریب آکے کشش اپنی کھو گئیوہ بھی علاجِ شوق گریزاں نہ کرسکے
کس درجہ دل شکن تھے محبت کے حادثےہم زندگی میں پھر کوئی ارماں نہ کرسکے
مایوسیوں نے چھین لیے دل کے ولولےوہ بھی نشاطِ روح کا ساماں نہ کر سکے

غزل محسن نقوی


غزل ======محسن نقوی ---------------------
وفا میں اب یہ ہنر اختیار کر نا ہے وہ سچ کہے نہ کہے ، اعتبار کرنا ہے 
یہ تجھ  کو جاگتے رہنے کا شوق کب سے ہوامجھے تو خیر ترا انتظار کرنا ہے 
ہوا کی زد میں جلانے ہیں آنسووں کے چراغ کبھی یہ جشن سر_ راہ گزار کرنا ہے 
مثال _شاخ _برہنہ ، خزاں کی رت میں کبھی خود اپنے جسم کو بے برگ و بار کرنا ہے 
تیرے فراق میں دن کس طرح کٹیں اپنے کہ شغل _شب تو ستارے شمار کرنا ہے 
کبھی تو دل میں چھپے زخم بھی نمایاں ہوں قبا سمجھ کے بدن تار تار کرنا ہے 
خدا خبر یہ کوئی  ضد کہ شوق ہے محسن خود اپنی جان کے دشمن سے پیار کرنا ہے

مزاحیہ غزل ڈاکٹر فریاد آزرؔ

مزاحیہ غزل
ڈاکٹر فریاد آزرؔ 
(روحِ احمد فراز سے معذرت کے ساتھ)
’سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں‘سو ہم بھی آج یہی کام کر کے دیکھتے ہیں
ہے شوق اس کو موبائل سے بات کرنے کاسو ہم بھی چار چھ مِس کا ل کر کے دیکھتے ہیں
جن عاشقوں کو بڑھاپہ کی پونچھ اگنے لگیسنا ہے وہ بھی اسے دم کتر کے دیکھتے ہیں
بس اس لئے کہ اسے پھر نظر نہ لگ جائےلگا کے سب اسے چشمے نظر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے بالوں سے اس کو بڑی محبت ہےتمام گنجے اسے آہ بھر کے دیکھتے ہیں
سدھار پائے نہ جن کو پولس کے ڈنڈے بھیوہی موالی اسے خود سدھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ربط ہے اس کو امیر زادوں سےسو آج ہم بھی اسے جیب بھر کے دیکھتے ہیں
وہ بالکونی میں آئے تو بھیڑ لگ جائےرقیب ایسے میں جیبیں کتر کے دیکھتے ہیں
سڑک سے گزرے تو ٹریفک بھی جام ہو جائےکہ اہلِ کار بھی اس کو ٹھہر کے دیکھتے ہیں
مجھے بھی آج کسی پار لر میں لے چلئےاسے رقیب بہت بن سنور کے دیکھتے ہیں
ہماری بات ہوئی تھی نہ دیکھنے کی اسےہم اپنی بات سے پھر بھی مکر کے دیکھتے ہیں
مشاعروں کے لئے چاہئے غزل ا س کویہی ہے مانگ تو پھر مانگ بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے شوق ہے تیمار داریوں کا اسےسو اپنے آپ کو بیمار کر کے دیکھتے ہیں
سنا گیا ہے کہ مردہ پرست ہے وہ بھیتو جھوٹ موٹ کا پھر ہم بھی مر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے جب سے لی ’جوڈو‘ کی تربیت اس نےرقیب دور سے ہی اس کو ڈر کے دیکھتے ہیں
مکان اس کا ہے سرحد کے اس طرف لیکنادھر کے لوگ بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ہیں
’فرازؔ تم کو نہ آئیں محبتیں کرنی‘سو اس گلی سے اب آزر ؔ گزر کے دیکھتے ہیں

ڈاکٹر فریاد آزر کی ایک غزل

آزما کر عالمِ ابلیس کے حربے جدیدہوگئے قابض مری صدیوں پہ کچھ لمحے جدید

ننھا کمپیوٹر، قلم، کاغذ، کتابوں کی جگہاس قدر سوچا نہ تھا ہو جائیں گے بچے جدید

دفن کر دیتا تھا پیدا ہوتے ہی عہدِقدیمرحم ہی میں مار دیتا ہے اسے دورِ جدید

ہو گیا محروم بینائی سے بھی اب آخرشدیکھتا تھا رات دن وہ آدمی سپنے جدید

دادی اور نانی کے قصّوں میں مزہ اتا نہیںاب سناتے ہیں مرے بچّے انھیں قصّے جدید

کیوں نہیں لے جاتی اب وحشت بھی صحرا کی طرفبن گیا کیوں شہر از خود آج صحرائے جدید

سب سنائی دیتا ہے آزرؔ اذانوں کے سوامحوِ حیرت ہیں کہ ہم بھی ہو گئے کتنے جدی

اصغر گونڈوی کی ایک غزل



افتادگانِ عشق نے سَر اَب تو رکھ دیااٹھیں گے بھی تو نقشِ کفِ پا لئے ہوئے
رگ رگ میں اور کچھ نہ رہا جُز خیالِ دوستاس شوخ کو ہوں آج سراپا لئے ہوئے
دل مبتلا و مائلِ تمکینِ اِتّقا!جامِ شرابِ نرگسِ رسوا لئے ہوئے
سرمایہ حیات ہے حرمانِ عاشقیہے ساتھ ایک صورتِ زیبا لئے ہوئے
جوشِ جنوں میں چھوٹ گیا آستانِ یارروتے ہیں‌منہ پہ دامنِ صحرا لئے ہوئے
اصغر ہجومِ دردِ غریبی میں اُس کی یادآئی ہے اِک طلسمِ تمنّا لئے ہوئے

حسن عباسی کی ایک غزل

  حسن عباسی کی ایک غزل
مرتی ہوئی زمیں کو بچانا پڑا مجھے
بادل کی طرح دشت میں آنا پڑا مجھے

وہ کر نہیں‌ رہا تھا مری بات کا یقیں
پھر یوں ہوا کہ مر کے دکھانا پڑا مجھے

بھولے سے میری سمت کوئی دیکھتا نہ تھا
چہرے پہ ایک زخم لگانا پڑا مجھے

اس اجنبی سے ہاتھ ملانے کے واسطے
محفل میں سب سے ہاتھ ملانا پڑا مجھے

یادیں تھیں دفن ایسی کہ بعد از فروخت بھی
اس گھر کی دیکھ بھال کو جانا پڑا مجھے

اس بے وفا کی یاد دلاتا تھا بار بار
کل آئینے پہ ہاتھ اٹھانا پڑا مجھے

ایسے بچھڑ کے اس نے تو مر جانا تھا حسن
اس کی نظر میں خود کو گرانا پڑا مجھے

--

غزل پروفیسر اقبال عظیم



                                                                                                                    غزل                                                                ========پروفیسر  اقبال عظیم----------------------------
غلط معانی  دئیے جاتے ہیں زیرلب تبسم  کوسمجھ پاۓ نہ اب  تک  لوگ اس خاموش قلزم کو
بڑا  دھوکہ دیا ہم کو ہماری خوش خیالی نےنہ جانے کیا سمجھ بیٹھے نگاہوں کے تصادم کو
محبت میں خطائیں ایک جانب سے نہیں ہوتیںنہ تم الزام دو ہمکو ، نہ ہم الزام دیں تم کو
زباں خاموش ،ماتھے پر شکن ، آنکھوں میں افسانےکوئی سمجھاۓ کیا کہتے ہیں اس طرز تکّلم کو
تمھیں ناراض ہونے کا سلیقہ بھی نہیں آتاشکن ماتھے پی ڈالو ،اور روکو اس تبسم کو
زمانہ ہو گیا اقبال ہم اک ساتھ رہتے ہیںتعجب ہے سمجھ پاے نہ تم ہمکو ، نہ ہم تم کو------------------------------مرسلہ ----سعود صدیقی

.

بیٹھا ہوں تری خاطر الفت کے ذخیروں پر

غزل

از ڈاکٹر جاوید جمیل

 

الطاف کی بارش ہے گمراہ شریروں پر

طوفاں ہیں مصائب کے نیکی کے سفیروں پر

 

جب زیست میں آئے گا، دیکھے گا تعجب سے

بیٹھا ہوں تری خاطر الفت کے ذخیروں پر

 

رہتا ہوں تخیل میں سائے میں ستاروں کے

لکھی ہے مری قسمت شنبنم کی لکیروں پر

 

بے نام غریبوں کی پروا ہے یہاں کس کو

انعام برستے ہیں بد نام امیروں پر

 

منزل ہے فقط انکی خود اپنی ہوس پرسی

پھر کیسے بھروسہ ہو ان جیسے مشیروں پر

 

شیطاں کے وساوس سے کس طرح بچا جائے

اک بار مسلسل ہے لاچار ضمیروں پر

 

اے وقت! تمنا ہے ہم کو بھی اسی پل کی

کب ابر کرم برسے ہم ایسے حقیروں پر

 

اک جہد مسلسل ہو میدان حقیقت میں

کیوں پھرتے ہیں آوارہ خوابوں کے جزیروں پر

 

ہشیار تھے دشمن سے، سوچا نہ تھا یہ لیکن

"جاوید" لکھا ہوگا احباب کے تیروں پر

 

تمام شُد - محسن نقوی


وہ درد، وہ وفا، وہ محبت تمام شُد
لے! دل میں ترے قرب کی حسرت تمام شُد

یہ بعد میں کُھلے گا کہ کس کس کا خُون ہوا
ہر اِک بیاں ختم، عدالت تمام شُد

تُو اب تو دشمنی کے بھی قابل نہیں رہا
اُٹھتی تھی جو کبھی وہ عداوت تمام شُد

اب ربط اک نیا مجھے آوارگی سے ہے
پابندیء خیال کی عادت تمام شُد

جائز تھی یا نہیں، ترے حق میں تھی مگر
کرتا تھا جو کبھی وہ وکالت تمام شُد

وہ روز روز مرنے کا قصہ ہوا تمام
وہ روز دِل کو چِیرتی وحشت تمام شُد

محسن میں کُنجِ زیست میں چُپ ہوں پڑا
مجنُوں سی وہ خصلت و حالت تمام شُد

محسن نقوی

کبھی یاد آؤ تو اس طرح.. محسن نقوی


کبھی یاد آؤ تو اس طرح
کہ لہو کی ساری تمازتیں
تمہیں دھوپ دھوپ سمیٹ لیں
تمہں رنگ رنگ نکھار دیں
تمہیں حرف حرف میں سوچ لیں
تمہیں دیکھنے کا جو شوق ہو
تو دیارِ ہجر کی تیرگی کو
مژہ کی نوک سے نوچ لیں
کبھی یاد آؤ تو اس طرح
کہ دل و نظر میں اُتر سکو
کبھی حد سے حبسِ جنوں بڑ ہے
تو حواس بن کے بکھر سکو
کبھی کھِل سکو شبِ وصل میں
کبھی خونِ جگر میں سنور سکو
سرِ رہگزر جو ملو کبھی
نہ ٹھہر سکو نہ گزر سکو
مرا درد پھر سے غزل بنے
کبھی گنگناؤ تو اس طرح
مرے زخم پھر سے گلاب ہوں
کبھی مسکراؤ تو اس طرح
مری دھڑکنیں بھی لرز اٹھیں
کبھی چوٹ کھاؤ تو اس طرح
جو نہیں تو پھر بڑے شوق سے
سبھی رابطے سبھی ضابطے
کسی دھوپ چھاؤں میں توڑ دو
نہ شکستِ دل کا ستم سہو
نہ سنو کسی کا عذابِ جاں
نہ کسی سے اپنی خلش کہو
یونہی خوش پھرو، یونہی خوش رہو
نہ اُجڑ سکیں ، نہ سنور سکیں
کبھی دل دُکھاؤ تو اس طرح
نہ سمٹ سکیں ، نہ بکھر سکیں
کبھی بھول جاؤ تو اس طرح
کسی طور جاں سے گزر سکیں
کبھی یاد آؤ تو اس طرح!!!!!!
کبھی یاد آؤ تو اس طرح!!!!!!
( محسن نقوی )

 

تمہیں کیسے بتائیں ہم -سلیم کوثر

 

تمہیں کیسے بتائیں ہم

محبت اور کہانی میں کوئی رشتہ نہیں ہوتا

کہانی میں

تو ہم واپس بھی آتے ہیں

محبت میں پلٹنے کا کوئی رستہ نہیں ہوتا

ذرا سوچو!

کہیں دل میں خراشیں ڈالتی یادوں کی سفاکی

کہیں دامن سے لپٹی ہے کسی بھولی ہوئی

ساعت کی نم ناکی

کہیں آنکھوں کے خیموں میں

خراغِ خواب گل کرنے کی سازش کو

ہوادیتی ہوئی راتوں کی چالاکی

مگر میں بندہ خاکی

نہ جانے کتنے فرعونوں سے اُلجھی ہے

مرے لہجے کی بے باکی

مجھے دیکھو

مرے چہرے پہ کتنے موسوں کی گرد

اور اس گرد کی تہہ میں

سمے ی دھوپ میں رکھا اک آئینہ

اور آئینے میں تاحد نظر پھیلے

محبت کے ستارے عکس بن کر جھلملاتے ہیں

نئی دنیاؤں کا رستہ بتاتے ہیں

اسی منظر میں آئینے سے الجھی کچھ لکیریں ہیں

لکیروں میں کہانی ہے

کہانی اور محبت میں ازل سے جنگ جاری ہے

محبت میں اک ایسا موڑ آتا ہے

جہاں آکر کہانی ہار جاتی ہے

کہانی میں کچھ کردار ہم خود فرض کرتے ہیں

محبت میں کوئی کردار بھی فرضی نہیں ہوتا

کہانی میں کئی کردار

زندہ ہی نہیں رہتے

محبت اپنے کرداروں کو مرنے ہی نہیں دیتی

کہانی کے سفر میں

منظروں کی دھول اڑتی ہے

محبت کی مسافر راہ گیروں کو بکھرنے ہی نہیں دیتی

محبت اک شجر ہے

اور شجر کو اس سے کیا مطلب

کہ اس کے سائے میں جو بھی تھکا ہارا مسافر آکے بیٹھا ہے

اب اس کی نسل کیا ہے دنگ کیسا ہے

کہاں سے آیا ہے

کس سمت جانا ہے

شجر کا کام تو بس چھاؤں دینا ہے

دھوپ سہنا ہے

اسے اس سے غرض کیا ہے

پڑاؤ ڈالنے والوں میں کس نے

چھاؤں کی تقسیم کا جھگڑا اُٹھا یا ہے

کہاں کس عہد کو توڑا کہاں وعدہ نبھایا ہے

مگر ہم جانتے ہیں

چھاؤں جب تقسیم ہوجائے

تو اکثر دھوپ کے نیزے

رگ و پے میں اترتے ہیں

اور اس کے زخم خوردہ لوگ

 

جیتے ہیں نہ مرتے ہیں۔۔۔ ۔۔۔ ۔

 

سلیم کوثر

کامران اسیر ساگر کی ایک بہترین غزل

 

قدیم تخت پہ لکھیں روایتیں پڑھ کر

شجر بھی رات کو روتے ہیں آیتیں پڑھ کر

 

چراغ بام پہ اوندھے پڑے ہوئے ہیں یہاں

ہوا بھی چیخ رہی ہے عبارتیں پڑھ کر

 

تمام خواب حقیقت پہ کھل رہے ہیں ابھی

کوئی جواب نہیں ہے شکایتیں پڑھ کر

 

کوئی وجود میسر نہیں ابھی مجھکو

بھٹک رہا ہوں میں دنیا کی نسبتیں پڑھ کر

 

 

قدم قدم پہ اذیت کا رقص جاری ہے

بتا یہ خواب کی تعبیر وحشتیں پڑھ کر

 

میں خواب خواب سجاتا ہوں وقت کا سینہ

گزشتہ قوم پہ گزری حکایتیں پڑھ کر

 

ستارے آن گرے خواب گاہ میں ساگر

سو آگئی ہے قیامت، قیامتیں پڑھ کر

 

 

کامران اسیر ساگر

غزل امجد اسلام امجد

 

نہ ربط ہے نہ معانی ، کہیں تو کس سے کہیں!

ہم اپنے غم کی کہانی ، کہیں تو کس سے کہیں!

 

سلیں ہیں برف کی سینوں میں اب دلوں کی جگہ

یہ سوزِ دردِ نہانی کہیں تو کس سے کہیں!

 

نہیں ہے اہلِ جہاں کو خود اپنے غم سے فراغ

ہم اپنے دل کی گرانی کہیں  تو کس سے کہیں!

 

پلٹ رہے ہیں پرندے بہار سے پہلے

عجیب ہے یہ نشانی کہیں تو کس سے کہیں!

 

نئے سُخن کی طلب گار ہے نئی دُنیا

وہ ایک بات پرانی کہیں تو کس سے کہیں

 

نہ کوئی سُنتا ہے امجدؔ نہ مانتا ہے اسے

حدیثِ شامِ جوانی کہیں تو کس سے کہیں!

 

 

 

غزل فیض احمد فیض

 

شہر میں‌ چاک گریباں ہوئے ناپید اب کے

کوئی کرتا ہی نہیں ضبط کی تاکید اب کے

 

لطف کر، اے نگہِ یار ، کہ غم والوں‌ نے

حسرتِ دل کی اُٹھائی نہیں‌تمہید اب کے

 

چاند دیکھا تری آنکھوں میں ، نہ ہونٹوں پہ شفق

ملتی جلتی ہے شبِ غم سے تری دید اب کے

 

دل دکھا ہے نہ وہ پہلا سا، نہ جاں تڑپی ہے

ہم ہی غافل تھے کہ آئی ہی نہیں عید اب کے

 

پھر سے بجھ جائیں گی شمعیں‌ جو ہوا تیز چلی

لا کے رکھو سرِ محفل کوئی خورشید اب کے

 

-- فیض احمد فیض

Pages