سیف قاضی (اردو شاعری)

افتخار راغب کی ایک غزل

 

ایک غزل آپ سب کی نذر براے تنقید و تبصرہ

والسلام

افتخار راغبؔ

دوحہ قطر

غزل

چاہوں کہ ہمیشہ میں زمانے کی دعا لوں
سوچوں کہ درختوں کی طرح خود کو بنا لوں

اے میری جھجک ساتھ مِرا چھوڑ دے ورنہ
ڈر ہے کہ کسی روز تجھے مار نہ ڈالوں

کس روز نظر آئے گا تعبیر کا جگنو
کب تک میں تِرے خواب کو آنکھوں میں سنبھالوں

کیا درد کی لذّت سے شناسائی ہوئی ہے
ہر درد کو جی چاہے کہ سینے سے لگا لوں

جو موجبِ نقصان کسی کے لیے ٹھہرے
مر جاؤں مگر ایسا کوئی شوق نہ پالوں

کس طرح سے روکوں میں اُمنْڈتے ہوئے جذبات
راغبؔ دلِ خوش فہم کو کس طرح سنبھالوں

افتخار راغبؔ

 

تاریخ کا شیوہ ہے صدیوں کو نگل جانا

 

غزل

 

از ڈاکٹر جاوید جمیل

 

چپکے سے قریب آنا، پھر دور نکل جانا

ہر پل کا مقدّر ہے ماضی میں بدل جانا

 

کر کر  کے تری باتیں، پڑھ پڑھ کے ترا چہرہ

ہر صنف سخن سیکھی، ہر رنگ غزل جانا

 

اک فرض ہے ہستی پر ہر پل کی پذیرائی

تاریخ کا شیوہ ہے صدیوں کو نگل جانا

 

پڑتی ہیں پہاڑوں پرسورج کی شعاعیں جب

مشکل کہاں رہتا ہے پھر برف پگھل جانا

 

کردار ادا کرنا ہر شخص کو پڑتا ہے

آساں نہیں قوموں کی تقدیر بدل جانا

 

جاوید ضروری ہے دنیا میں اندھیرا بھی

ہے مصلحت یزداں یہ شام کا ڈھل جانا

--

.

ڈاکٹر احمد ندیم رفیع کی عنایت کردہ ایک طویل غزل



               غزل
         احمد ندیم رفیع

اے   دلِ  نادان  ،  چلا ہے کہاں عشق  تو ہے کار گہِ  ہفت خواں 
    خود  لبِ  فریاد   ہے  زخمِ کہن    ٹھیک  نہیں   نیّتِ   چارہ  گراں
ہو   گۓ   ہم   کشتۂ   منقارِ  تیزسنتے  ہوۓ  نغمۂ  شیریں زباں
    حُسن  چلا  ایسی قیامت کی چال    عشق  ہوا   زیر و زبر،  نا تواں
روز  اُدھر   ایک    تقاضا   نیا اور  اِدھر   ایک   وہی نقدِ جاں
    طرّۂ   پُر پیچ    ہو   یا   زندگی    سلسلہ   در  سلسلہ   اک امتحاں
دُور افق  پار  ہے سورج کی لَویا  ہے کوئی   جلتا   ہوا  آشیاں
    گاہ   وہی   درد   بھری خامشی    گاہ   وہی   شورشِ  آہ  و  فغاں
آہ  نکلتی  ہے  نفس  در  نفس کیسے کروں شرحِ غمِ رفتگاں
    سنتے  رہے ہم جرسِ دل فریب   اڑتی  رہی   گردِ   رہِ   کارواں
 گُھل   گۓ جب رنگِ نشاط والم  بن  گئی  تصویرِ  دلِ   رائیگاں
         ایک پری  چہرہ  مرے  روبرو    اورمیں خوش فہم گماں درگماں
زیرِ زنخداں  ترا نازک سا ہاتھ  سوچ میں  ڈوبا  ہوا سارا جہاں
                                ق               ( حمدیہ )
سہمی  ہوئی  چشمِ  تحیر مریسامنے اک  جلوہ  گہِ  بیکراں
ایک  طرف میری  جبینِ  نیاز ایک  طرف سنگِ  درِ  آستاں
ایک طرف  ساحلِ کوۓ مراد ایک طرف  لغزشِ موجِ رواں
ایک  ہی  محور قدم اندر قدم ایک ہی تسبیح زباں در زباں
میری طرف  بھی نظرِ التفات خام  سہی  میری  نواۓ فغاں
لوحِ  دلِ زار پہ لکّھا ہے سب گرچہ نہیں جُراَتِ عرض وبیاں
مٹ گۓ جب فاصلے تو یہ کُھلاکچھ بھی نہ تھا تیرے مرے درمیاں
       ڈاکٹر احمد  رفیع 

عالیہ تقوی کا مزاحیہ قطعہ بسلسلہء عید


ترے ذریعہ جو پیغام عید آیا ہےیہ آج اپنا موبائل بہت ہی بھایا ہے
بجایا ہارن ادھر میں نے ایک بائک کاادھر رقیب کا گھوڑا بھی ہنہنایا ہے
لو ان کی بزم میں آ دھمکا ایک گبّر سنگھبم اور رائفل بھی اپنے ساتھ لایا ہے
کہا سلیم نے ماڈرن بن انار کلییہ جینس ٹاپ اسی واسطے دلایا ہے
سویّاں دیکھتے ہی بچّے ماں سےبول اٹھےیہ ارتھ وورم سا ماں تم نے کیا بنایا ہے
رہی نہ کھانے کی سدھ عالیہ نہ پینے کیکہ لیپ ٹاپ پہ دل پہلی بار آیا ہے
عالیہ تقوی الہ آبادآٹھ اگستدوہزار تیرہ 

الہ آباد کی دو غیر مسلم شاعرات تحریر رضیہ کاظمی


الہ آباد کی دو غیر مسلم شاعرات[۱]   اہلشریمتی جانکی بی بی۔ یہ ۱۹ویں صدی کی ایک خوش فکر شاعرہ تھیں۔ یہ شہر کے کایستھ قوم سے تھیں۔ ان کا تذکرہ  الہ آباد یونیورسٹی کے پروفیسر ضامن ععلی صاحب نے ایک کتاب چراغ محفل ٖفصاحت میں کیا ہے۔انکی ایک طویل غزل سے چند اشعار پیش خدمت ہیں؎اشعارتونے تو رہا کر ہی دیا زلف دوتا سےہم جان سے جائیں بھی تو اب تیری بلا سے
ملتا ہے وہ مضمون ہمیں ذہن رسا سےرہ جاتا ہے جو بندش فکر شعرا ؐ سے
کعبہ کی طرف نشہ میں کس طرح سے جاؤںدشوار سنبھلنا ہے مجھے نغزش پا سے
لایا جو شب ہجرمیں اے اہل زباں پرتاثیرہم آغوش ہوٗی آکے زباں سے۔۔۔۔
اس گل کا نہ لائے کبھی پیغام مرے پاسشرمندہ کبھی میں نہ ہوا باد صبا سے
تاحشر جدا ہوں نہ میں اس حور لقا سےخواہش ہےاگردل میں تو اتنی ہے خدا سے
لیکر کہیں چھلّےکو کرےمجھ کو نہ بدناماتنا ہے فقط خوف مجھےدزد حنا سے
باقی نہ رہے خواہش مے بادہ کشوں کوبےہوش کچھ ایسے ہوئے ساقی کی صلا سے
سچ پوچھئے تو خاک در یار پہ ہم کوآرام ہے بڑھ کر کہیں نقش کف پا سے

[۲]سوشیلاشریمتی سوشیلا عرف برج کشوری۔ یہ ۱۸۹۸میں الہ آباد میں پیدا ہوئی تھیں زمانہ کے لحاظ سے ان کی تعلیم گھر پرہی ہوئی تھی۔ ہندی کے علاوہ انھوں نےانگریزی اوراردو میں بھی قابلیت حاصل کی۔ انکے شوہر جو پیشہ سے اسسٹنٹ انجینیر تھے شاعری کرتے تھےتذکرہ شعرائے کشمیری پنڈتاں المعروف بہ بہار گلشن کشمیر جلد ثانی سے ان کی دو نظمیں پیش ہیں یہ کتاب ۱۹۳۲میں شائع ہوئی تھی۔ ناظرین  سوسال پہلے ایک گھریلوعورت کےآزادئی نسواں سے متعلّق خیالات  ملاحظہ فرمائیں  ۔ یہ نظم کس موقع پر کہی گئی تھی اگر حوالہ دستیاب ہوتا تو پڑھ کر زیادہ لطف آتانظم اوّلبحث تو یہ تھی اصولی مشفق شیریں زباںاشتعال طبؑ کا باعث ہوا کیا مہرباں۔۔۔۔۔۔۔۔
بندہ پرورمجھ کو ہود عویٰ سخن کا کس طرحمدّتوں سے ہے وطن پنجاب،پنجابی زباں
یہ سنا تھا آپ کا طرز بیاں دلچسپ ہےشاعری کا آپ کی ہے معتقد سارا جہاں
ساری کوشش کی ہے صرف داستان حسن وعشقبتکدہ کا آپ نے چوما ہے سنگ آستاں
مرحبا شان سلاست،حبّذا ذوق سلیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔خوب دی داد فصاحت آپ نے اے مہرباں
یہ فصاحت، یہ بلاغت، یہ سلاست آپ کیاس پہ سونے پر سہاگہ اکبر آبادی زباں
چشم بد بیں دور، مطلع مطلع انوار ہےجوہر پاکیزگی ہے دونوں مصرعوں سے عیاں
ٹھنڈے دل سے آپ نے سوچی کبھی یہ بات بھیکیا ہیں وصف اردھانگنی کے،کیا ہیں اس میں خوبیاں
ہے شریک رنج وغم گوشامل راحت نہ ہوآپ گو برہم ہوں لیکن وہ سدا ہے مہر باں
جام شیریں بادۂ الفت سے بھرتی ہے مدامعفوکرتی ہےبرائی ،وصف سے تر ہے زباں
بیٹیاں ہوں یا ہوں بہنیں آپ کی شیدا ہیں وہہے محبّت ان کی گویا ایک بحر بےکراں
کچھ ثبوت الفت ہمشیر کی حاجت نہیںنخل الفت کے ثمر دونوں ہیں بیٹے بیٹیاں
آپ کے دم سےشجاعت میں ہےباقی ضرورہم نہ ہوتیں گر تو مٹ جاتا محبّت کا نشاں
دیکھئےمردوں کی خود داری کا یہ ادنیٰ ثبوتلیڈیوں کے سامنے اٹھتی ہیں ان کی ٹوپیاں
شاستروں نے مرد کی اردھانگنی ہم کو کیااور بیٹر ہاف کہتا ہے ہمیں سارا جہاں
نذر کرتی آپ کو ہم  ہیں جواہر بے بہاہے ہماری ہی بدولت نسل کا  قائم نشاں
آپ موجد ہیں ہر اک ایجاد کے مانا مگرموجدوں کے کون موجد ہیں یہ کہئےمہرباں
دہر ناقص ہےیہاں تکمیل ہےکس کونصیباک مکمّل ذات حق کی ہے بلا ریب و گمان
اے سوشیلا جس بلندی پر نشیمن ہے مراطبع موزوں کی وہاں پہچینگی کیا طغیانیاں
دیگرسن چکے ماہ گزشتہ میں ہو مردوں کا بیاںاب سنو میری زبانی عورتوں کی داستاں
زور بازوپر اگر مردوں کو نازو زعم ہےہیں تحمّل اور شکیب و صبر کی ہم پتلیاں
بھیم وارجن کی اگر طاقت پہ تم کو ناز ہےدروپدی اور پدمنی سی ہم میں بھی تھیں رانیاں
رام چندر نے پتا کا گر وچن پالن کیاتھی پتی برت دھرم میں سیتا بھی یکتائے زماں
تم پھروآزاد وآوارہ جہاں میں در بدر۔۔۔۔۔۔طابع فرماں رہیں ہم اور  پابند مکاں
عقل میں کچھ کم نہیں ہیں شکل میں بہترہیں ہمتم توانا ہو یہ مانا اور ہم ہیں ناتواں
کیوں نہ ہم چلّا ئیں، چیخیں، شیوۂ بیداد پرکیوں نہ فریادی بنیں ہم بھی تو رکھتے ہیں زباں
ایک پہیے کی کبھی گاڑی چلا کرتی نہیںتیر گرٹوٹاہوا ہے تو کماں بار گراں
ہم تووہ ہیں جان بھی قربان کردین آپ پرآپ ہم سے ہو رہے ناحق کوہیں یوں بدگماں
یہ تو بتلاؤ کہ آخر حاصل محنت ہے کیاکیا کیا ہے آج تک جس پر ہو کرتے شیخیاں
ہوچکا بس ہوچکا،اب انتظام قوم و ملکآپ کی بد انتظامی پر ہے روتا آسماں
آزمائش میں ہوئے ہو بےطرح ناکامیاباب یہی بہتر ہے ہم کو دو حکومت کی عناں
آگیا اب روز آزادئی نسواں آگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مدّتوں کے بعد پاؤں کی کٹینگی بیڑیاں
خواہش حشمت نہیں ہم کو نہ شوق انتقامبے غرض اور نیک دل ہیں ہو نہ ہم سےبدگماں

رضیہ کاظمی صاحبہ کی تین غزلیں

رضیہ کاظمی صاحبہ کی تین غزلیں
ان کو عادت ہے آزمانے کی
اور  مجھ  کو   فریب  کھانے  کی
جایئں کیوں در پہ بار بار اُن کے
بات    یہ  ہے       اَنا    گنوانے    کی
اپنے  معمول  چھوڑ  کر   ان  کو
صرف دُھن ہے مجھے ستانے کی
ان کے  آنے  سے بڑھ گئ رونق
جاگی  قسمت   غریب خانے  کی
ہے   خبر  گرم    آ  گیا   صیّاد
اب   نہیں  خیر  آشیانے   کی
شاعری  دل  کو  جو چُھوۓ  رضیہ
مستحق    ہے   وہ   داد   پانے    کی
==================
وہ نہ کردہ گناہوں کی سزا  دیتے ہیں
ہم کہ اقرار میں سر اپنا  جھکا دیتے ہیں
مشتعل  ہونا   یوں  ہی  فطرتِ  انسانی  ہے
پھر بھی ہم کس لیے شعلوں کو ہوا دیتے ہیں
گہہ لگا لیتے  ہیں آنکھوں سے وہ سرمہ کی طرح
مشتعل  آنسو  کبھی  نظروں سے گرا  دیتے ہیں
اک  تکلف  کی   جو   دیوار  کھڑی کر   لی  ہے
اب سمجھداری سے خود  مِل  کے گرا دیتے ہیں
دِ ن بدن رشتوں میں پڑتی رہیں یوں ہی گا نٹھیں
کیوں کہ ہم ہاتھ میں غیروں کے سِرا دیتے ہیں
یہ قدم وہ ہیں ٹھہر جایئں جہاں بھی تھک کر
ایک  منزل    نیئ    اُس  جا   کو  بنا   دیتے  ہیں
یا د آجاتے ہیں  ماضی  کے  سنہرے  لمحے
اور  وہ  رضیہ  ہمیں  دیوانہ  بنا  دیتے  ہیں


ہر چلن ہر نیے  معیار سے ڈر لگتا ہے
آج کل گرمیئ بازار سے ڈر لگتا ہے
وہ قیامت ابھی آجاۓجو کل آنی ہے
سر پہ لٹکی ہوئ  تلوار سے ڈر لگتا  ہے
اِ ن مکھوٹوں میں ہوں گے وہ ہی پُرانے چہرے
ہر   بدلتی   ہوئ   سرکار    سے    ڈر   لگتا   ہے
پا بہ  زنجیر  کیا   گھر   کے  جھمیلوں  نے   یوں
اب تو خود اپنے ہی گھر بار سے  ڈر لگتا   ہے
ایک سایہ بھی جو قسمت سے  ملا  یہ مجھ کو
ڈھے نہ جاے کہیں دیوار سے ڈر لگتا ہے
مشتبہ ٹھہرے  سبٖھی رضیہ  زمانے  والے

آستینوں میں  چھپے  مار  سے  ڈر لگتا ہے

فریاد آزر صاحب کی ایک غزل


لمحہ لمحہ سلگتی ہوئی زندگی کی مسلسل قیامت میں ہیںہم ازل سے چمکتی ہوئی خواہشوں کی طلسمی حراست میں ہیں
اس کے کہنے کا مفہوم یہ ہے کہ یہ زندگی آخرت عکس ہےاب ہمیں سوچنا ہے کہ ہم لوگ دوزخ میں ہیں یا کہ جنت میں ہیں
تجھ سے بچھڑے تو آغوشِ مادر میں‘پھر پانووں پر ‘پھر سفر درسفردیکھ پھر تجھ سے ملنے کی خواہش میں کب سے لگاتار ہجرت میں ہیں
بس ذرا سا فرشتوں کو بھی سمتِ ممنوعہ کی خواہشیں بخش دےاور پھر دیکھ یہ تیرے بے لوث بندے بھی کتنی اطاعت میں ہیں
اُس طرف سارے بے فکر اوراق خوش ہیں کہ بس حرفِ آخر ہیں ہماِس طرف جانے کتنے مفاہیم پوشیدہ اک ایک آیت میں ہیں
منتظر ہے وہ لمحہ ہمارا‘ ہمارے سب اعمال نامے لیے اور ہم بسترِ زندگی پر بڑے ناز سے خوابِ غفلت میں ہیں

ہر ایک شب کو ترے نام ہونا پڑتا ہے


غزلاز ڈاکٹر جاویدؔ جمیل
ہر ایک شب کو ترے نام ہونا پڑتا ہےاداس دل کو سرِشام ہونا پڑتا ہے
خبیث تہمتیں دامن کو چیر جاتی ہیںتمہارے واسطے بدنام ہونا پڑتا ہے
ہمیں سے لگتا نہیں ہے کسی پہ بھی الزامہمیں کو موردِ الزام  ہونا پڑتا ہے
قلم ہیں کتنے جو تلوار بن کے جیتے ہیںیہاں قلم کو بھی نیلام ہونا پڑتا ہے
یہی ہے ارض و سماوات کا اصول، ہمیںکبھی سبب کبھی انجام ہونا پڑتا ہے
ہر اک گناہ گواہی سے بچ نہیں سکتاکبھی تو رجم سرِ عام ہونا پڑتا ہے
ہدف پہ لگنے سے پہلے یہ ہوتا ہے جاویدؔکئی نشانوں کو ناکام ہونا پڑتا ہے

عالیہ تقوی کی ایک غزل


 حال دل کا کہا نہیں جاتااور چپ بھی رہا نہیں جاتا
ہوگا کچھ تجھ میں ایسا ورنہ دلہر کسی کو دیا نہیں جاتا۔۔
ان کے دل کی طرف بتا رہبرکیا کوئی راستہ نہیں جاتا
کیوں قفس سے لگاؤ یہ بلبلگو رہا ہوگیا نہیں جاتا
خود جیودوسروں کوجینےدویوں بھلا کیوں جیا نہیں جاتا
بس کر اےآسمان تیرا ستماور ہم سے سہا نہیں جاتا
ہےنکیرین عمربھرکی تھکنمت جگاؤاٹھا نہیں جاتا
دو گھڑی بانٹ لو کسی کا غماس میں کچھ عالیہ نہیں جاتا
عالیہ تقوی،الہ آباد

ماں... صدیق ثانی



ماںصدیق ثانی
تو جا کے سو گئی مٹی کی اوڑھ کر چادرسکھا گئی مری آنکھوں کو جاگنا شب بھر
میں اب جو روؤں تو آنسو زمین پر ٹپکیںکوئی نہیں جو سمیٹے انہیں گوہر کہہ کر
کوئی نہیں جو تشفی کو ہاتھ سر پہ رکھےکوئی نہیں جو دعاؤں کی بارشیں کر دے
میں روٹھ جاؤں کسی سے کوئی مناتا نہیںمیں ٹوٹ پھوٹ کے بکھروں کوئی اٹھاتا نہیں
میں بھوک پیاس کے صحرا میں جتنی دیر جلوںکسی کو فکر نہیں ہے کہ میں کہاں پر ہوں
کوئی اتار کے لاتا نہیں  صلیب سے ابکوئی بلاتا نہیں زور سے، قریب سے اب
یہ رنج و غم کی تپش اب مجھے جلاتی ہےمیں اب جو روؤں تو  تقدیر مسکراتی ہے
وہی ہے زعم وہی بال و پر ہوا ہے وہیمیں چلنا چاہوں تو قدموں میں راستہ ہے وہی
پر ایک حرفِ دعا کی کمی جو اب ہے مجھےاس ایک حرفِ دعا کی بڑی طلب ہے مجھے

انا قاسمی کی ایک غزل


غزل
روٹھنا مجھ سے مگر خود کو سزا مت دینازلف  رخسار سے کھیلے تو ہٹا مت دینا
میرے اس جرم کی قسطوں میں سزا مت دینابے وفائی کا صلہ یار وفا مت دینا
کون آئے گا دہکتے ہوئے شعلوں کے پرےتھک کے سو جاؤں تو اے خواب جگہ مت دینا
ساری دنیا کو جلا دے گا ترا آگ کا کھیلبھڑکے جذبات کو آنچل کی ہوا مت دینا
خون ہو جائیں نہ قسمت کی لکیریں تیریمیلے ہاتھوں کو کبھی رنگے حنا مت دینا
اوچھی پلکوں پہ حسیں خواب سجانے والےمیری آنکھوں سے میری نیند اڑا مت دینا
سوچ لینا کوئی تاویل مناسب لیکناس ہتھیلی سے مرا نام مٹا مت دینا

حمیدؔ ناگپوری کی ایک غزل

فکر پابندئ حالات سے آگے نہ بڑھیزندگی قیدِ مقامات سے آگے نہ بڑھی
ہم سمجھتے تھے غمِ دل کا مداو ا ہوگیوہ نظر پرسشِ حالات سے آگے نہ بڑھی
اُن کی خاموشی بھی افسانہ در افسانہ بنیہم نے جو بات کہی بات سے آگے نہ بڑھی
سرخوشی بن نہ سکی زہرِ الم کا تریاقزندگی تلخئ حالات سے آگے نہ بڑھی
عشق ہر مر حلۂ غم کی حدیں توڑ چُکاعقل اندیشۂ حالات سے آگے نہ بڑھی
ایسی جنت کی ہوس تجھ کو مُبارک زاہدجو ترے حسنِ خیالات سے آگے نہ بڑھی
نگہِ دوست میں توقیر نہیں اُس کی حمیدؔ وہ تمنّا جو مناجات سے آگے نہ بڑھی

صادق اندوری کی ایک غزل

مٹے کچھ ایسے کہ موجود خاک و خس بھی نہیںکہاں نشاں نشیمن کہیں قفس بھی نہیں
تلاش کرنا ہے خود ہم کو جادۂ منزلکہ راہبر کوئی اب اپنے پیش رپس بھی نہیں
یہ روز روز کے طعنے، یہ صبح و شام کے طنزسلوک دوست بجا، لیکن اس پہ بس بھی نہیں
ہر اک نفس پہ مسلط ہے تلخی ماحولجئیں تو کیسے جئیں زندگی میں رس بھی نہیں
تباہ کر دے جو پاکیزگی کے دامن کوبلند اتنا مگر شعلہ ہوس بھی نہیں
وہ اس مقام سے صادق پکارتے ہیں ہمیںجہاں ہمارے تخیل کی دسترس بھی نہیں

محسن بھوپالی کی ایک غزل


لب اگر یوں سئے نہیں ہوتےاُس نے دعوے کئے نہیں ہوتے
خُوب ہے، خُوب تر ہے، خُوب تریناِس طرح تجزیئے نہیں ہوتے
گر ندامت سے تم کو بچنا تھافیصلے خُود کئے نہیں ہوتے
بات بین السّطوُر ہوتی ہےشعر میں حاشئے نہیں ہوتے
تیرگی سے نہ کیجئے اندازہکچھ گھروں میں دیئے نہیں ہوتے
ظرف ہے شرطِ اوّلیں محسنجام سب کے لیے نہیں ہوتے

گلزار ؔ ( سمپورن سنگھ ) کی ایک غزل

خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میںایک پرانا خط کھولا انجانے میں
جانے کس کا ذکر تھا اس افسانے میںدرد مزے لیتا ہے جو دہرانے میں
شام کے سائے بالشتوں سے ناپے ہیںچاند نے کتنی دیر لگادی آنے میں
رات گذرتے شاید تھوڑا وقت لگےذرا سی دھوپ انڈیل میرے پیمانے میں
دل پر دستک دینے کون آ نکلا ہےکس کی آہٹ سنتا ہوں ویرانے میں

کلام نعیم اختر


کلام نعیم اختر  بن  دلاور حسُین مومن، بیلگام  
کہاں  یہ  ہم کھو گئے  ،  خودی ضِرار  ہو گئےخبر نہیں نقش پا کی ،راہ   فرار   ہو گئےبھلا  کیوں  راہ  زن ،ہمیں راہ بتاے گاملے گی  راہ  کیوں  بھلا  ،  راہ  قمار ہو  گئےسوال تو  کیا    نہ  تھا، جواب   پھر  ملے  گا  کیوںطلب تو حق  کی  تھی  نہیں   ، حق  غرار  ہو گئےکتاب  و  نور  پہنچ  گیا  ، تکمیل     دیں  ہو گیا     
یہ  کیسی بے  روخی ہے     ،   سُو  دیار  ہو  گئے  
 وہ  دیں  فلاح    دو جہاں   و   دیں  بقاء  ارمغانتڑپ  کچھ اسکی تھی  نہیں  ،  بد  مدارہو گئےنہ   ہو ئی  چشم  نم  کبھی  ،   نہ  تھا  سوزِ  دل   کہیںملے نجات کیوں ہمیں  ،    شرخیار ہوگئےدست قرآن و حدیث ِؐاست، فہمِ اصحا بہ ِ رسول ﷺرااطاعت رسول ؐسے ہی سلف ،خودی سرشار ہو گے


غزل شمبھو ناتھ توری


غزلشمبھو ناتھ تواری
نہیں کچھ بھی بتانا چاہتا ہےوہ آخر کیا چھپانا چاہتا ہے
رلایا ہے زمانے بھر کو اس نےمگر خود مسکرانا چاہتا ہے
لگا کر آگ گلشن میں بھلا وہمکمل آشیانہ چاہتا ہے
بہا کر بےگناہوں کا لہو وہمسیحا کہلوانا چاہتا ہے
ذرا سی بات ہے بس روشنی کیوہ اپنا گھر جلانا چاہتا ہے
بس اک قطرہ ہتھیلی پر سجا کروہ اک ساگر بنانا چاہتا ہے
زباں سے کچھ نہ بولوں ظلم سہہ کریہ کیا مجھ سے زمانہ چاہتا ہے
پرندے میں ابھی بھی حوصلہ ہےفلک کے پار جانا چاہتا ہے
سبھی کی خامشی یہ کہہ رہی ہےزباں تک کچھ تو آنا چاہتا ہے

ماجؔد دیوبندی کی ایک غزل

ماجؔد دیوبندی کی ایک غزل
دل ناداں کو کون سمجھائےکیا خبر کب کہاں مچل جائےڈھل گئے شام کے حسیں سائےدیکھیے رات کیا ستم ڈھائےدل کو ضد ہے کہ اس کی بات رہےخواہ یہ جان ہی چلی جائےپھر دل سادہ آج ڈھونڈتا ہےدشت کی دھوپ میں خنک سائےآسماں تک رہی ہے خشک زمیںکاش بادل اٹھے برس جائےہچکیاں آ رہی ہے ائے ماجدؔآج شاید ہم ان کو یاد آئے

بزم اردو سوشل نیٹ ورک کا آغاز

بزم اردو سوشل نیٹ ورک کا آغاز
اردو کو خواص سے عوام تک پہنچانے کی کوشش
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس برق رفتار دور میں  بیچاری اردو کہاں  کھڑی ہے اس بات سے ہم اور آپ بخوبی واقف ہیں۔  سائنس اور ٹیکنالوجی میں مغربی ممالک  کی سبقت نے  اقوام عالم کی تہذیب و ثقافت ، رہن سہن ، طرزمعاشرت اور زبانوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ دور حاضر میں مغرب سے آنے والی ہر چیز کو سند مانا جاتا ہے اور چونکہ انگریزی کو ایجاد و اختراع کی زبان تسلیم کیا جا چکا ہے اس لیے اردو داں طبقے کا اردو سے دور ہونا کوئی بعید ازقیاس بات نہیں ہے۔ بات صرف زبان تک محدود ہوتی تو ٹھیک تھا لیکن لسانی اثرات کے ساتھ جدید نسل میں تہذیبی اثرات  بھی اس قدر سرایت کر چکے ہیں کہ انہیں اپنی زبان و تہذیب  کا پاس و لحاظ دقیانوسی باتیں محسوس ہونے لگی ہیں۔
دور حاضر انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے اس دور میں  جدید نسل کا ناطہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سے جڑا ہوا ہے   اور سوشل ویب سائٹس کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ بر صغیر ایشیا میں لوگ فیس بک نامی وبائی مرض کی جس طرح لپیٹ میں آئے ہوئے ہیں اس سے ہم اور آپ بخوبی واقف ہیں۔ ڈیجٹل میپ ایشیا کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2012 میں  صرف انڈیا کے فیس بک صارفین کی تعداد  43,497,980 سے متجاوز کر چکی ہے۔
بچے ہوں یا بوڑھے، کیا   امیر کیا غریب، ہر کسی کو فیس بک کا چسکہ لگا ہوا ہے۔ اور کیوں نہ لگے؟ ایک طرف یہاں ہر کسی کے ذوق کے مطابق تفریح طبع کا سامان میسر ہے تو دوسری طرف اپنی تخلیقات و ذہنی اپج کو بہت ہی کم عرصہ میں دوسروں تک پہنچانے کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے۔جہاں ایک طرف ان ویب سائٹس کی افادیت مسلم ہے   وہیں دوسری طرف ان ویب سائٹس پر روز بروز  فحاشی ، بیہودگی اور عریانیت  سے سلیم الفطرت نفوس پریشان ہیں کہ ان کے اثرات سے ہماری نسلوں کی حفاظت کیسے ہو، ہماری لسانی تہذیبی اور ثقافتی قدروں کی کس طرح حفاظت کی جائے؟چونکہ ایک صالح معاشرے کی تعمیر میں زبان و ادب کا بڑا  اہم حصہ ہوتا ہے اس لیے کافی دنوں سے یہ کوششیں کی جا رہی ہیکہ اردو زبان کو کمپیوٹر  و انٹرنیٹ سے جوڑا جائے اس کے لیے دنیا بھر سے بہت ساری ویب سائٹس بھی تیار کی گئی لیکن اکثر ویب سائٹس عمدہ مشمولات کے با وجود اپنے امیج فارمیٹ کی وجہ سے اردو داں حضرات کی توجہ مبذول کرنے میں ناکام رہی ۔ ہندوستان سے تحریر ی اردو (یونیکوڈ) ویب سائٹس بہت کم نظر آتی ہیں لیکن جو موجود ہیں وہ بھی بے توجہی کا شکار ہیں۔
بعض فکر مند احباب ایک عرصہ سے یونیکوڈ اردو کی ہندوستان میں ترویج و ترقی کے لیے کوشاں ہیں تاکہ زمانہ کی رفتار کے ساتھ ہماری زبان بھی ترقی کر سکے۔ چونکہ آج کل سوشل ویب سائٹس کا بہت بول بالا ہے اور خواص و عوام دونوں اس سے جڑے ہوئے ہیں اس لیے  حیدر آباد سے اعجاذ عبید صاحب اور منماڑ سے ڈاکٹر سیف قاضی نے اپنی مشترکہ کوششوں سے اردو کو خواص سے نکال کر عوامی سطح پر لانے ،  اردو رسم الخط کی ترویج و ترقی ، صالح اقدار کے فروغ اور  مثبت سماجی روابط کی برقراری کے لیے اردو داں طبقے کی خاطر ایک  غیر منفعتی اردو سوشل نیٹورکنگ ویب سائٹ  کا آغاز کیا ہے۔
26 جنوری 2013 سے اس اردو سوشل نیٹورک کا آغاز عمل میں آیا ہے ۔جسے اس پتہ پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویب کے منتظمین نے اردو طبقے سے گزارش کی ہے کہ اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کریں۔ محض مشاہدہ کرنے یا شمولیت اختیار کرنے کے لیے یہاں تشریف لائیں۔
بزم اردو سوشل نیٹورک

اعجاذ عبید صاحب کی ایک پیاری سی غزل

میں نے کیا کام لاجواب کیا
اس کو عالم میں انتخاب کیاکرم اس کے ستم سے بڑھ کر تھے
آج جب بیٹھ کر حساب کیاکیسے موتی چھپائے آنکھوں میں
ہائے کس فن کا اکتساب کیاکیسی مجبوریاں نصیب میں تھیں
زندگی کی کہ اک عذاب کیاساتھ جب گردِ کوئے یار رہی
ہر سفر ہم نے کامیاب کیاکچھ ہمارے لکھے گئے قصّے
بارے کچھ داخلِ نصاب کیاکیا عبیدؔ اب اسے میں دوں الزام
اپنا خانہ تو خود خراب کیا

Pages