سیف قاضی (اردو شاعری)

منور رانا کی حقیقت بھری غزل

سیاسی آدمی کی شکل تو پیاری نکلتی ہےمگر جب گفتگو کرتا ہے چنگاری نکلتی ہے
لبوں پر مسکراہٹ دل میں بیزاری نکلتی ہےبڑے لوگوں میں ہی اکثر یہ بیماری نکلتی ہے
محبت کو زبردستی تو لادا جا نہیں سکتاکہیں کھڑکی سے میری جان الماری نکلتی ہے
یہی گھر تھا جہاں مل جل کے سب ایک ساتھ رہتے تھےیہی گھر ہے الگ بھائی کی افطاری نکلتی ہے

وصی شاہ کی ایک دلکش غزل


میں تیرے لب پہ ہوں دیرینہ شیکایت کی طرحیاد رکھنا ہے تو نے مجھ کو عداوت کی طرح
چاند نکلے تو میرا جسم مہک اُٹھتا ھےرُوح میں اُٹھتی ہوئی تازہ محبت کی طرح
تیری خاطر تو کوئی جان بھی لے سکتا ھوںمیں نے چاہا ہے تجھے گاؤں کی عزت کی طرح
کھل رہی ہےمیرے دیرینہ مسائل کی گرہمیرے ماحول میں اُترا ہے وہ برکت کی طرح
اب تیرے ہجر میں کوئی لطف نہیں ہے باقیاب تجھے یاد بھی کرتے ہیں تو عادت کی طرح
تم میری پہلی محبت تو نہیں ہو لیکنمیں نے چاہا ہے تمہیں پہلی محبت کی طرح
وہ جو آتی ہے تو پھر لوٹ کے جاتی ہی نہیںتم لپٹ جاؤ کبھی ایسی مصیبت کی طرح
میرے دل میں کوئی معصوم سا بچہ ہے وصیؔجو تجھے سوچتا رہتا ہے شرارت کی طرح

امجد اسلام امجد کا فن پارہ


ہاتھ پہ ہاتھ دَھرے بیٹھے ہیں‘ فرصت کتنی ہےپھر بھی تیرے دیوانوں کی شہرت کتنی ہے!
سورج  گھر سے نکل چکا تھا کرنیں تیز کیےشبنم گُل سے پوچھ رہی تھی ”مہلت کتنی ہے!“
بے مقصد سب لوگ مُسلسل بولتے رہتے ہیںشہر میں دیکھو سناٹے کی دہشت کتنی ہے!
لفظ تو سب کے اِک جیسے ہیں‘ کیسے بات کھلے؟دُنیا داری کتنی ہے اور چاہت کتنی ہے!
سپنے بیچنے آ تو گئے ہو‘ لیکن دیکھ تو لودُنیا کے بازار میں ان کی قیمت کتنی ہے!
دیکھ غزالِ رم خوردہ کی پھیلی آنکھوں میںہم کیسے بتلائیں دل میں وحشت کتنی ہے!
ایک ادھورا وعدہ اُس کا‘ ایک شکستہ دل‘لُٹ بھی گئی تو شہرِ وفا کی دولت کتنی ہے!
میں ساحل ہوں امجد اور وہ دریا جیسا ہےکتنی دُوری ہے دونوں میں‘ قربت کتنی ہے

جاوید اختر کا دلکش کلام


غزلِ جاوید اختر 

درد کے پھول بھی کھِلتے ہیں بِکھر جاتے ہیںزخم کیسے بھی ہوں کچھ روز میں بَھر جاتے ہیں
راستہ روکے کھڑی ہے یہی اُلجھن کب سےکوئی پُوچھے تو کَہیں کیا کہ کدھر جاتے ہیں
چھت کی کڑیوں سے اُترتے ہیں میرے خواب مگرمیری دیواروں سے ٹکرا کے بِکھر جاتے ہیں
نرم الفاظ بھلی باتیں مہذّب لہجےپہلی بارش ہی میں یہ رنگ اُتر جاتے ہیں
اس دریچے میں بھی اب کوئی نہیں اور ہم بھیسر جھُکائے ہوئے چُپ چاپ گزر جاتے ہیں

راحتؔ اندوری اپنے مخصوص لہجے میں۔۔۔

راحتؔ اندوری اپنے مخصوص لہجے میں۔۔۔
سمندر پار ہوتی جا رہی ہےدعا ، پتوار ہوتی جا رہی ہے
دریچے اب کھلے ملنے لگے ہیںفضا ہموار ہوتی جا رہی ہے
کئی دن سے مرے اندر کی مسجدخدا بیزار ہوتی جا رہی ہے


مسائل، جنگ، خوشبو، رنگ، موسمغزل اخبار ہوتی جا رہی ہے
بہت کانٹوں بھری دنیا ہے لیکنگلے کا ہار ہوتی جا رہی ہے
کٹی جاتی ہیں سانسوں کی پتنگیںہوا تلوار ہوتی جا رہی ہے
کوئی گنبد ہے دروازے کے پیچھےصدا بیکار ہوتی جا رہی ہے
گلے کچھ دوست آ کر مل رہے ہیںچھری پر دھار ہوتی جا رہی ہے

قتیل شفائی کی ایک پیاری غزل

قتیل شفائی کی ایک پیاری غزل
تمہاری انجمن سے اُٹھ کے دیوانے کہاں جاتےجو وابستہ ہوئے تم سے وہ افسانے کہاں جاتے
نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ مے خانہتو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے

تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کیتم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے
چلو اچھا ہوا، کام آ گئی دیوانگی اپنیوگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے
قتیلؔ اپنا مقدر غم سے بیگانہ اگر ہوتاتو پھر اپنے پرائے ہم سے پہچانے کہاں جاتے

غزلِ امجد اسلام امجد


غزلِ امجدؔ اسلام امجد 
نہ ربط ہے نہ معانی ، کہیں تو کس سے کہیں!
ہم اپنے غم کی کہانی ، کہیں تو کس سے کہیں!

سلیں ہیں برف کی سینوں میں اب دلوں کی جگہ
یہ سوزِ دردِ نہانی کہیں تو کس سے کہیں!

نہیں ہے اہلِ جہاں کو کو خود اپنے غم سے فراغ
ہم اپنے دل کی گرانی کہیں تو کس سے کہیں!

پلٹ رہے ہیں پرندے بہار سے پہلے
عجیب ہے یہ نشانی کہیں تو کس سے کہیں!

نئے سُخن کی طلبگار ہے نئی دُنیا
وہ ایک بات پرانی کہیں تو کس سے کہیں

نہ کوئی سُنتا ہے امجد نہ مانتا ہے اسے
حدیثِ شامِ جوانی کہیں تو کس سے کہیں!

امجد اسلام امجد کی پیاری غزل


ہم تو اسیرِ خواب تھے تعبیر جو بھی تھی 
دیوار پر لکھی ہوئی تحریر جو بھی تھی 

ہر فرد لاجواب تھا، ہر نقش بے مثال
مِل جُل کے اپنی قوم کی تصویر جو بھی تھی 

جو سامنے ہے، سب ہے یہ،اپنے کیے کا پھل
تقدیر کی تو چھوڑئیے تقدیر جو بھی تھی

آیا اور اک نگاہ میں برباد کر گیا
ہم اہلِ انتظار کی جاگیر جو بھی تھی

قدریں جو اپنا مان تھیں، نیلام ہو گئیں 
ملبے کے مول بک گئی تعمیر جو بھی تھی 

طالب ہیں تیرے رحم کےعدل کے نہیں 
جیسا بھی اپنا جُرم تھا، تقصیر جو بھی تھی

ہاتھوں پہ کوئی زخم  نہ پیروں پہ کچھ نشاں 
سوچوں میں تھی پڑی ہُوئی، زنجیر جو بھی تھی

یہ اور بات چشم نہ ہو معنی آشنا
عبرت کا ایک درس تھی تحریر جو بھی تھی

جون ایلیا : خواب کے رنگ دل و جاں میں سجائے بھی گئے



خواب کے رنگ دل و جاں میں سجائے بھی گئےپھر وہی رنگ بہ صد طور جلائے بھی گئے
انہیں شہروں کو شتابی سے لپیٹا بھی گیاجو عجب شوق فراخی سے بچھائے بھی گئے
بزمِ شوق کا کسی کی کہیں کیا حال جہاںدل جلائے بھی گئے اور بجھائے بھی گئے
پشت مٹی سے لگی جس میں ہماری لوگو!اُسی دنگل میں ہمیں داؤ سِکھائے بھی گئے

یادِ ایام کہ اک محفلِ جاں تھی کہ جہاںہاتھ کھینچے بھی گئے اور مِلائے بھی گئے
ہم کہ جس شہر میں تھے سوگ نشینِ احوالروز اس شہر میں ہم دھوم مچائے بھی گئے
یاد مت رکھیو رُوداد ہماری ہرگزہم تھے وہ تاج محل جونؔ جو ڈھائے بھی گئے

بہت پر لطف گو اردو زباں ہے حافظ محمد ولایت اﷲ حافظ (ناگپوری)



بہت پر لطف گو اردو زباں ہےحافظ محمد ولایت اﷲ حافظ (ناگپوری)
 بہت پر لطف گو اردو زباں ہے
مذکر اور مونّث کی ہے دقّت

حجاب و پردہ گھونگھٹ اور برقع
مذکر ہے یہ کل سامانِ عورت

مونث ہے جناب شیخ کی ریش
ہو کچھ بھی اس کی مقدار و طوالت

مذکر ہو گیا گیسوئے جاناں
ہوئی اس کی طوالت کی یہ عزّت

دُوپٹّہ عورتوں کا ہے مذکر
مونث کیوں ہے دستارِ فضیلت

فراق و وصل ہیں دونوں مذکر
مونث ہے مگر واعظ کی صحبت

ہوئیں جب مونچھ اور داڑھی مونث
تو پھر کرنا پڑا دونوں کو رخصت



خمارؔ بارہ بنکوی کی غزل




ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہیجذبات میں وہ پہلی سی شدّت نہیں رہی
ضعفِ قویٰ نے آمدِ پیری کی دی نویدوہ دل نہیں رہا، وہ طبیعت نہیں رہی
سر میں وہ انتظار کا سودا نہیں رہادل پر وہ دھڑکنوں کی حکومت نہیں رہی
کمزوریِ نگاہ نے سنجیدہ کر دیاجلووں سے چھیڑ چھاڑ کی عادت نہیں رہی
ہاتھوں سے انتقام لیا ارتعاش نےدامانِ یار سے کوئی نسبت نہیں رہی

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر ۔ ۔ مجروح سلطانپوری




جب ہُوا عرفاں تو غم آرامِ جاں بنتا گیاسوزِ جاناں دل میں سوز دیگراں بنتا گیا
رفتہ رفتہ منقلب ہوتی گئی رسمِ چمندھیرے دھیرے نغمۂ دل بھی فغاں  بنتا گیا
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگرلوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
جس طرف بھی چل پڑے ہم آبلہ پایانِ شوقخار سے گل اور گل سے گلستاں  بنتا گیا
شرحِ غم تو مختصر ہوتی گئی اس کے حضورلفظ جو منہ سے نہ نکلا داستاں  بنتا گیا
دہر میں مجروحؔ کوئی جاوداں مضموں کہاں میں جسے چھوتا گیا وہ جاوداں بنتا گیا

محسن ؔبھوپالی کی ایک غزل

محسن ؔبھوپالی کی ایک غزل
وہ برگِ خشک تھا اور دامنِ بہار میں تھانمودِ نو کی بشارت کے انتظار میں تھا
مری رفیقِ سفر تھیں حسد بھری نظریںوہ آسمان تھا اور میرے اختیار میں تھا
بکھر گیا ہے تواب دل نگار خانہ ہےغضب کا رنگ اس اک نقشِ اعتبار میں تھا
اب آگیا ہے تو ویرانیوں پر طنز نہ کرترا مکاں اسی اجڑے ہوئے دیار میں تھا
لکھے تھے نام مرے قتل کرنے والوں کےعجیب بات ہے، میں بھی اسی شمار میں تھا
مجھے تھا زعم مگر میں بکھر گیا محسنؔوہ ریزہ ریزہ تھا اور اپنے اختیار میں تھا

امجدؔ اسلام امجد کی ایک پیاری سی غزل


امجدؔ اسلام امجد کی ایک پیاری سی غزل
یہ رُکے رُکے سے آنسو، یہ دبی دبی سی آہیںیونہی کب تلک خدایا،  غم زندگی نباہیں
کہیں ظلمتوں میں گھِر کر، ہے تلاشِ دست رہبرکہیں جگمگا اُٹھی ہیں مرے نقشِ پا سے راہیں
ترے خانماں خرابوں کا چمن کوئی نہ صحرایہ جہاں بھی بیٹھ جائیں وہیں ان کی بارگاہیں
کبھی جادۂ طلب سے جو پھرا ہوں دل شکستہتری آرزو نے ہنس کر  وہیں ڈال دی ہیں بانہیں
مرے عہد میں نہیں ہے،  یہ نشانِ سر بلندییہ رنگے ہوئے عمامے  یہ جھکی جھکی کُلاہیں

Pages