شازل کا بلاگ

تیزی سے بدلتے حالات

کافی عرصہ بعد اپنے بلاگ کا چکر لگایا تو کچھ تبصرے پینڈنگ پڑے تھے سوچا انہیں‌بھی اجازت دے دوں‌اور ساتھ ہی دوستوں کو عید مبارک بھی دے دوں، سو دوستو آپ سب کو میری طرف سے میٹھی عید مبارک قبول ہو۔ ان دنوں پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا میں خاص طور پر غزہ میں‌ حالات تبدیل ہورہے ہیں امریکہ اپنے ناجائز بچے کی شیطانیوں‌پر آنکھیں‌بند کئے ہوئے ہے ساتھ ہی پوری دنیا بھی خاموش ہے اس خاموشی کے پیچھے کیا ہے امریکہ کا دباؤ ہے یا مسلمانوں‌کے ساتھ متعصبانہ رویہ ہے یا بے حسی کارفرما ہے۔ مجھے یقین ہے کہ لوگ بے حسں تو نہیں‌ہوسکتے ہیں البتہ میڈیا نے جس طرح آنکھیں‌چرا رکھیں‌ہیں‌اسے ہم میڈیا کا متعصب رویہ کہہ سکتے ہیں اس معاملے کیا جیو اور کیا اے آر وائی سبھی نے ایکا کیا ہوا ہے۔
پچھلے دنوں‌حامد میر اور جیو کے ساتھ جو کچھ ہوا اس پر لکھنے کو بہت جی چاہ رہا ہے فی الوقت اسے مؤخر کیے دیتے ہیں‌ یار زندہ صحبت باقی۔
آپ سب کو ایک بار پھر عید مبارک

جناب چاند بابو کی خدمت میں

اپنے ماجد بھائی المعروف چاند بابو (اردونامہ کے چیف آف آرمی اسٹاف) چاہتے ہیں کہ میں ایکبار پھر وہی رول نبھاؤں جو کبھی اردونامہ کو عروج پر پہنچانے کے لیے ادا کیا تھا۔ ان کی بار بار کی اپیلیں اس بار اکارت گئیں اور مجھ سے وہ رول ادا نہ کیا گیا وجہ اس کی یہ ہے کہ بندہ پانچ بجے شام کو گھر میں قدم رکھتا ہے تو تھکن اتارنے کےلیے کچھ دیر لیٹ جاتا ہے کھانا وغیرہ کھاتا ہے ایک آدھ دوست کا مفت میں کمپیوٹر ٹھیک کرتا ہے اور تقریبا سات بجے لیپ ٹاپ سنبھال کر بیٹھنے لگتا ہے کہ بچوں کے مسجد جانے کا وقت ہوجاتا ہے انہیں مسجد کس طرح جانا ہوتا ہے ایک ہی روٹین ہے کہ جب تک وہ ایک آدھ دھپ نہ کھالیں اٹھنے کا نام ہی نہیں لیتے ان سے فارغ ہوتے ہی بیگم کہیں نہ کہیں جانے کا پروگرام بنائے بیٹھے ہوتی ہیں جب گھر میں رہنا ہے تو ان کا کہنا بھی ماننا پڑتاہے رات گئے واپسی ہوتی ہے تو فیس بک کے اسٹیٹس کھنگالنے میں وقت صرف ہوجاتا ہے اور پھر نیند ایسا غلبہ طاری کرتی ہے کہ سونے میں ہی عافیت نظر آتی ہے۔
اب ایسے میں چاند بابو کہتے ہیں کہ میں کچھ کرہی نہیں رہا اور اردونامہ سے میرا دل اچاٹ ہوگیا ہے وغیرہ وغیرہ تو میری ان سے بنتی ہے کہ وہ میرے ٹائم ٹیبل کو ملاحظہ کرلیں تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے۔

عمران خان کے “آجو باجو”

اگرچہ انتخابات میں کافی دن رہتے ہیں اور بازی کبھی بھی پلٹ سکتی ہے لیکن عمران خان کے “آجو باجو” ابھی سے بھوکھلا گئے ہیں۔ حسن نثار نے ایسا یوٹرن مارا ہےکہ عمران خان بھی کیا مارتا ہوگاکہ پبلک بھی اش اش کراٹھی ہے ۔ ہارون الرشید جو کپتان کا کالم نگار کے نام سے مشہور ہے بروٹس جیسا کردار ادا کررہا ہے۔ خود پی ٹی آئی والے کہہ رہے کہ ان دونوں نے “ٹھپیاں” لی ہوئی ہیں اور من پسند افراد کو ٹکٹ نہ دیے جانے پر انہوں نے یوٹرن مارا ہے۔ ویسے ہارون الرشید نے اپنے آخری کالم میں کپتان کو مشورہ دیا ہے کہ جیسے تیسے جماعت اسلامی سے معاملات طے کرلیے جائیں۔
یہ صائب مشورہ ہے اور آج ہی کچھ خبریں ہیں‌کہ پی ٹی آئی ایک بار پھر جماعت اسلامی سے رشتے استوار کرنے کے لیے پیش رفت کررہی ہے۔ اگر جماعت اسلامی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوگئی تو سرحد میں پی ٹی آئی پوزیشن مار لے گی ورنہ تن تنہا سولو فلائیٹ سوائے رسوائی کے اور کچھ نہیں۔

Emmet یا جادو : فیصلہ آپ کے ہاتھ میں

ایمٹ (Emmet) جسے پہلے زین کوڈنگ (Zen Coding) بھی کہا جاتا تھا ایک بہت ہی سادہ اور قابل ٹیکسٹ ایڈیٹر پلگ ان ہے جو آپ نے شاید پہلے نہ کبھی دیکھا نہ سنا ہوگا۔ اس کی خاصیت یہ ہے کہ فوری طور پر سادہ کوڈ کو پیچدہ کوڈ میں بدل دیتا ہے(اس سے پہلے آپ نے پیچیدہ کوڈ کو سادہ کوڈ میں بدلنے بارے سنا ہوگا)۔ اگر ہم مختصراً اس کی تعریف کریں تو وہ یہ ہوگی کہ اس کے زریفے آپ طویل کوڈ لکھنے کی بجائے ایک لائن میں کوڈ لکھیں اور جو نہی آپ مخصوص کیز دباتے ہیں تو یہ اسے باقاعدہ کوڈ میں تبدیل کردیتاہے۔ اسے ہم شارٹ ہینڈ کہیں تو سمجھنے میں زیادہ آسانی ہوگی۔ یہاں ہم ایچ ٹی ایم ایل کی مثال لیتےہیں ورنہ یہ دوسری لینگوئجز کے ساتھ بھی کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سب سے پہلے ہم ابتدا کرتے ہیں اس کوڈ سے یہ مثال دیکھیں:

<!doctype html>

<html lang=”en”>

<head>

<meta charset=”UTF-8″>

<title>Document</title>

</head>

<body>

</body>

</html>

اسے لکھنے میں کچھ تو وقت لگتا ہوگا۔ لیکن اگراس کی جگہ یہ لکھیں

html:5

اور CTRL+E دبائیں تو کیسا لگے گا۔ بالکل جناب یہ طویل کوڈ کی کوفت سے ہمیں نجات دلاتا ہے۔ کیسے یہ دیکھیں: آپ ++Notepad میں لکھیں۔

.container

تو یہ کوڈ حاصل ہوگا۔

<div class=”container”>

</div>

یہ ہی نہیں آپ حیران رہ جائیں گے جب یہ لکھیں گے۔
ul>li*7 ان آرڈرڈ لسٹ میں سات لسٹ آئٹمز کا اصافہ ہوچکا ہوگا۔
اس طرح:

<ul>

<li></li>

<li></li>

<li></li>

<li></li>

<li></li>

<li></li>

<li></li>

</ul>

کچھ اس کوڈ کی وضاحت ہوجائے ul کے بعد ہم نے > کا اضافہ کیا اس کا مطلب ہے کہ unordered list کا چائلڈ li ہے اور اس کے بعد 7٭ کا مطلب ہے کہ یہ سات بار آخری کمانڈ کو کاپی کرے۔
اگر اس کی مکمل چیٹ شیٹ دیکھنا چاہتے ہیں تو اس سائیٹ کو وزٹ کریں
یہ چیٹس اتنے زیادہ ہیں کہ آپ کو باقاعدہ اس کا ریکارڈ رکھناہوگا تاکہ بھرپور طریقے سے اس کا استعمال کرسکیں۔ نہ صرف یہ کہ یہ نوٹ پیڈ پلس پلس کے لیے کام کرتا ہے بلکہ ڈریم ویور کے نئے ورژن Sublime 2 کے لیے بھی ۔اورکافی لمبی فہرست ہے لیکن زین کوڈنگ پر۔
نوٹ پیڈ پلس پلس کے لیے اس سائیٹ پر جائیں  ایکسٹریکٹ کرنے کے بعد نوٹ پیڈ پلس پلس کی ڈائریکٹری میں جائیں اور plugin کی ڈائریکٹری میں پیسٹ کریں اور پروگرام کو رن کریں۔
امید ہے آپ کو مختصر سا یہ ٹیوٹوریل پسند آئے گا رپلائی ضرور کیجئے گا۔

الیکشن سر پر ہیں

ملک میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی سیاسی درجہ حرارت بڑھنا شروع ہوگیا ہے پیپلز پارٹی کےپاس کوئی انتخابی نعرہ نہیں ہے وہ صرف امکانات کے سہارے حصہ لے گی کہ اگر اسے مرکز میں اتنی سیٹیں مل گئیں تو اتحادیوں کی مدد سے وہ ایک بار پھر حکومت بنانےکی پوزیشن بنانے میں آجائے گی ۔ یہ صورت حال کسی بھی طور قبول نہیں کیونکہ کراچی میں جو کچھ ہورہا ہے اس کی وجہ سے پورا ملک اضطراب کی کیفیت میں ہےاگر زردای اپنی حکومت بچانے کےلیے کراچی کے امن پر سودا نہ کرتے تو یہ صورت حال نہ ہوتی۔ یہ بات طے ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ میں اتنی مقبول نہیں رہی کہ وہ آسانی سے جیت سکے۔ اسے کچھ نشستوں پر نقصان ہوسکتا ہے بلکہ اس کے پاس سندھ کارڈ ہی نہیں رہا۔ ہوسکتا ہے اسے قوم پرست جو مسلم لیگ ن کے ساتھ جارہے ہیں ان کی وجہ سے اپ سیٹ شکست کا سامنا کرنا پڑجائے۔
اس وقت مسلم لیگ ن قومی سیاست پر چھائی ہوئی ہےحالیہ سرویز میں اس کاگراف اور بھی اونچا گیا ہےپنجاب میں صورت حال ویسی کی ویسی ہی رہے گی البتہ خیبرپختونخواہ میں اگر جمیعت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کا ساتھ مل جائے تو یہاں بھی معرکہ سرکر سکتی ہے۔ لیکن مصبت یہ ہےکہ نواز شریف نے کئی سالوں سے اس صوبہ کو نظر انداز کررکھا ہےسوائے ایک دو علاقوں کے وہ دورہ بھی نہیں سکے جس کی وجہ سے پارٹی میں باہمی انتشار بڑھا ہے اور ہوسکتا ہے کہ ٹکٹ دینے کے معاملے پر ووٹ تقسیم ہوجائے۔
صدرزرداری کی سیاسی حکمت عملی کا نتیجہ ہے کہ سیاسی خلا ہوتے ہی ایک ایسی پارٹی کو ابھرنے کاموقع ملا جو کبھی تانگہ پارٹی کہلاتی تھی لیکن آج اس کی وکٹوں پر وکٹیں گرنے کے باوجود اس سےکچھ امیدیں باقی ہیں۔ تحریک انصاف جنوبی پنجاب پر فوکس کئے ہوئے ہے لیکن کئی خاندان مسلم لیگ ن کی طرف لوٹ چکے ہیں بلکہ آخری اطلاع کے مطابق فخر امام بھی ن لیگ میں شامل ہوگئے ہیں، پی ٹی آئی کے حکومت میں آنے کے امکانات صفر ہیں لیکن وہ مسلم لیگ ن کے ووٹ توڑیں گے اس بات کا صدر زرداری کو بھی امید ہے اس لیے پیپلز پارٹی ان رہے گی۔

بے حس لوگ

میں نے وطن عزیز کے حالات پر کڑھنا چھوڑ دیا ہے کیوں اپنا دل جلاتا پھروں مفت تھوڑی ہے، کراچی میں روز کتنے لوگ مریں مجھے کیا، بلوچستان میں دھماکے ہوں میری بلاسے۔ انڈیا آنکھیں دکھائے یا امریکی ماریں اپنا دماغ خراب کرے سے فائدہ۔
ایک عرصہ ہوا میرا دل خون کے آنسو نہیں رو رہا، سچ ہےکہ جس جگہ آگ لگتی ہے درد اسی جگہ ہوتا ہے، ہم سب مفادات کے اسیر ہوچکے ہیں اگر میرا مفاد ہوگا کہ میری حکومت قائم رہے تو میں قاتلوں سے بھی سازباز کرلوں گا، بھلے میرے ہی لوگ مرتے رہیں لیکن جہاں پر میری دم پر پاؤں پڑے گا تو میری چیخیں نکل جائیں گی کہ یہ ظلم ہے تاریخ میں ایسا ظلم نہیں ہوا ہوگا۔
میں تو ابھی ابھی تازہ تازہ بے حس ہوا ہوں ہماری تاریخ گواہ ہے کہ حکمران کبھی کے اس مرض میں مبتلا ہوں بلکہ مجھے کہنے دیجئے کہ ہم عوام بھی کبھی کے بے حس ہوچکے ہیں، جس کے چہرے پر نظر ڈالو وہ اپنے ہی آزار میں مبتلا دکھائی دیتا ہے اسے کوئی غرض نہیں کہ کل اسی جگہ ایک دھماکہ ہوا تھا اور بہت سے لوگ ہلاک ہوئے تھے لیکن وہ اپنی ہی فکر میں مبتلا چلا جارہا ہے، کل کو وہ خود کسی دھماکے یا ٹارگٹ کلنگ میں مارا جائے تو کسی اور کو کیا پڑی ہے کہ اس کے غم میں اپنا خود جلاتا پھرے۔

ایک اور یوم آزادی

بہت عرصہ ہوا بلاگ پر کچھ لکھے ہوئے، ایک طویل غیر حاضری کے بعد واپس آنا عجیب لگ رہا ہے، الفاظ ساتھ نہیں دے رہے کہ کیا لکھوں، ایسا ہی معاملہ اس وقت ہوا تھا جب مجھے معلوم ہوا کہ اخبار میں کسی کےمتعلق لکھنا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں‌ہے لینے کے دینے بھی پڑسکتے ہیں۔ پھر اخبار میں لکھنا میرے لیے ممکن نہ رہا، چند ماہ سے میں سیاست کے موضوع پر لکھنا چاہ رہا ہوں‌ لیکن مجھے معلوم ہے کہ ہمارے دوست اسے پسند نہ کریں گے اور بوریت کا اظہار کریں گے۔
یہ چند ماہ اسی مخمصے کی نذر ہوگئے اور غیر حاضری طویل ہوتی گئی۔
بہرحال آپ سب بھائیوں اور بہنوں کو جشن آزادی مبارک ہو، اس دعا کے ساتھ اجازت چاہوں گا کہ اللہ پاک ماہ رمضان کی برکتوں سے پاکستان کو مشکلات سے نکالے اور ہم حقیقی منزل کی جانب رواں ہوں۔ آمین۔

اگر تحریک انصاف انتخاب جیت جاتی ہے

ایک فورم پر میری تحریر:
اگر تحریک انصاف الیکشن جیت جاتی ہے جیسا کہ اس کے سربراہ کا دعویٰ ہے تو کیا صورت حال ہو سکتی ہے ایک امکانی صورت حال پیش ہے۔ سب سے پہلے الطاف بھائی مبارک باد پیش کریں گے جواب میں بھائی خان بھی جوابی مبارک باد وصول اور پیش کریں گے۔ خفیہ طور پر جو مبارکیں ملیں گی اس کا ذکر نہیں کیا جاسکتا کیونکہ سیکورٹی رسک ہوسکتی ہیں۔ امریکی سفیر آکر ملیں گی اور یقین دہانیوں کا بیگ اٹھا کر واپس واشنگٹن روانہ ہوجائیں گی۔ ہر طرف پاشا پاشا ہورہا ہوگا۔ عوام میں صورت حال بالکل کراچی جیسی ہوجائے گی۔ کیونکہ بھائی خان نے الطاف بھائی سے ایک ہی سبق سیکھا ہے کہ بدمعاشی کس طرح جمائی جاتی ہے۔ ایک ایک مخالف کو چن چن کر ختم کیا جائے گا۔ گالیوں کا وہ طوفان ہوگا جس کے آگے بڑے بڑوں کی ہوا اکھڑ جائے گی۔
پانچ ماہ بعد ہارون الرشید کو گریبان سے پکڑ کر گھسیٹا جائے گا کیونکہ ہرمعاملے میں اس کی زبان قینچی کی طرح چلتی ہے۔ کب کہاں کیا بولنا ہے اس بڈھے انٹلکچوئل کو نہیں معلوم۔
جاوید ہاشمی کا منہ خوشی میں مزید خوبصورت ہوجائے گا اور پھر ایک دن کسی انقلاب میں بہہ جائے گا۔
ہاں قریشی کی البتہ پانچوں گھی میں ہونگی لیکن سرکڑاھی میں آتے آتے رہ جائے گا۔ ایک ان اسے بھی انقلاب کی نذر کردیا جائے گا۔ تھانوں پر حملے ہورہے ہونگے اور شریفوں کے ساتھ ساتھ پولیس والوں کو اپنی عزت پیاری ہوجائے گی حالانکہ سب کو پتا ہے کہ عزت شریف آدمی کی ہوتی ہے۔
لغاریوں اور قصوریوں کا دور دورہ ہوگا۔ اویس لغاری آئی ٹی منسٹری سنبھالیں گے اور انقلاب کا دور دورہ ہوجائے گا۔ دفتروں کا ریکارڈ تلف کرکے کمپیوٹرائز نظام متعارف کرایا جائے گا۔ کراچی عملا ڈان کے حوالے ہوگا اس میں ہمشیہ کی طرح کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ پنجاب نواز شریف سے چھن جائے گا۔
ہر طرف بھائی کی حکومت ہوگی ڈان اور بھائی مل کر کراچی جیسا موحول پیدا کردیں گے
یہ ایسا دور ہوگا جسے مورخ سنہری دور لکھے گا کیونکہ مورخ کو بھی آخر اپی عزت پیاری ہوتی ہے۔

ہیلو میرا نام شازل سمیر ہے

ایک فورم پر میری تحریر:
السلام اعلیکم دوستو
میرا نام شازل سمیر ہے میں خیبر پختونخواہ میں رہتا ہوں ۔ انٹرنیٹ سے پرانی دوستی ہے کبھی مقامی اخبار کے لیے کالم لکھتا تھا اخبار کے بند ہونے پر میں نے بھی کالم لکھنے بند کردیے اب یہ خدا ہی جانتا ہے کہ اخبار میری وجہ سے بندہوا تھا یا کسی مالی مشکل کی وجہ سے۔
بہرحال میری سب سے پہلی انٹری کمپیوٹنگ فورم پر ہوئی تھی اور میری روزانہ کی پوسٹنگ پر ایک دن موڈریٹر بن گیا اس کے بعد ایک اور فورم پر بھی یہی ذمہ داری انجام دی لیکن پھر اردونامہ فورم کے ماجد چوہدری نے مجھے اپنے فورم پر آنے کی دعوت دی اور پھر ہم نے اس تیزی سے سفر کیا کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہ رہا ۔ میں ایک بلاگ بھی رکھتا ہوں جہاں کبھی کبھار دل کی بھڑاس نکال لیتا ہوں۔
میں سیاست پی کے بر اکثر اوقات آتا رہتا تھا لیکن کبھی پوسٹنگ کی ہمت نہ کی شاید ایک دوبار کی ہو۔ میں نے نوٹ کیا کہ یہاں ایک ہی سیاسی جماعت کی اجارہ داری ہے اور وہ آپس ہی میں ایک مخالف سیاسی جماعت کو کوستے رہتے ہیں۔ بدقسمتی سے میں اسی سیاسی جماعت سے کچھ ہمدردی رکھتا ہوں۔
بہت سنا تھا کہ پی ٹی آئی والے بہت گالیاں دیتے ہیں اور دھمکیاں بھی۔ جیسا سنا تھا ویسے ہی پایا۔ بہرحال آپ اتنے ساروں میں میں اکیلا چنا کیا بھاڑ جھونک سکتاہوں اس لیے کچھ نہ کچھ تو کسی اور جماعت کی بھی نمائندگی ہونی ہی چاہئے تھی لیکن میرا خیال ہے کہ سبھی بھاگ جاتے ہونگے عزت کسے پیاری نہیں ہوتی ۔
لیکن آپ لوگوں کی قسمت کہ میں بھاگ جانے والوں میں سےنہیں ہوں۔ ڈٹ جانے والوں میں ہوں۔
امید ہے کہ آپ حسب توفیق میری آؤ بھگت کریں گے آخر کو میں آپ کا کنڑی مین ہوں۔ اسرائیل یا امریکہ سے نہیں آیا ۔ پسند اپنی اپنی ہوتی ہے۔ جماعت کوئی بھی جیتے یا ہارے، ہم سب اسے قبول کریں اور اپنے ملک کی اس طرح خدمت کریں جس طرح کرنے کاحق ہے۔

اگر تحریک انصاف انتخاب ہار جاتی ہے

عمران خان کے سپورٹرز کے فورم پر میری ایک پوسٹ:
اگر تحریک انصاف ماضی کی طرح انتخاب میں وہ کارکردگی دکھاتی ہے جو پہلے بھی دکھاتی رہی ہے یعنی بری طرح پٹ جاتی ہے تو خیال ہے کہ وہ پنچھی واپس اڑنا شروع ہوجائیں گے جو دانے چگنے کےلیے لمحہ پھر کو ٹھہر گئے تھے، ہو سکتا ہے جاوید ہاشمی خود کشی کرلیں یا سیاست پر لعنت بھیج کر بقیہ عمر اللہ اللہ کرتے گزار دیں۔(ویسے اللہ اللہ کرنے میں ہی ان کی بچت ہے) عمران خان اپنے بچے کچے بال نوچ کر نواز شریف بن جائیں اور اس بیٹی کو اپنانے پر غور کریں جسے اس نے کبھی قبول ہی نہیں کیاہے۔(بچی کے البتہ اس بارے میں تحفظات ہوسکتے ہیں) شاہ محمود ، البتہ قریشی بن کر دم کرنے کا کام جاری رکھ سکتے ہیں۔ یا کم ازکم فاروق لغاری تو بن ہی سکتے ہیں۔
رہے وہ ورکر جو گالیاں دینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے اور ہم وقت “شریفوں” کی عزت اتارنے پر تیار رہتے ہیں وہ ایک ایسا فورم بنا سکتے ہیں جہاں وہ اپنا “غم غلط” کرنے کے لیے اخلاقیات پر سیر حاصل بحث کرسکتے ہیں اور اس کے فوائد پر ڈھیر ساری پوسٹیں لگاسکتے ہیں۔ :p

گوگل گریوٹی

بات اگرچہ کچھ ایسی نہیں کہ ایک عدد پوسٹ ماری جائے لیکن تجربہ اتنا دلچسپ ہے کہ شیئر کئے بنا رہا نہیں جاتا۔
اس لنک پر کلک کریں اور دیکھیں کہ کیا وقوع پزیر ہوتا ہے۔
ہے نا مزے کی ٹپ؟

پانی پہ مکاں

کافی دن انٹرنیٹ سے دور رہنے کے بعد میری واپسی ہوئی ہےامید ہےکہ یہ سلسلہ اب جاری رہے گا۔ دور رہنے کی وجہ تو کوئی نہیں تھی لیکن اب اچانک واپسی میں کئی عوامل کارفرما ہیں۔ابھی کل ہی بات ہے ایک جاننے والے مجھے ایک مسئلے کے سلسلے میں لے گئے ان کے کمپیوٹر میں وائرس تو تھا ہی لیکن وہ اس سے پریشان نہیں تھے کیونکہ یہ کوئی انوکھی بات نہیں رہی ، ہر ایک کو انہی شیطانوں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے، بات اصل میں یہ تھی کہ وہ پورن سائٹس کے بند ہوجانے سے پریشان تھے۔ مجھے انہوں نے کچھ لنکس دیے کہ میں انہیں چیک کروں واقعی سائٹس دکھائی نہیں دے رہی تھیں۔ مجھے خیال گزرا کہ شاید حکومت نے انہیں بند کردیا ہےلیکن آج اچانک ہی ایس ایم ایس ملا کہ آپ کا خیال غلط تھا لنکس اب کھل رہے ہیں۔
ہماری نوجوان نسل کدھر جانکلی ہے اگر اس مرحلہ پر انہیں روکا نہ گیا تو یہ نشہ ان کی رگ رگ میں سما جائے گا (کچھ حد تک شاید سما بھی چکا ہو)۔انہیں کچھ حد تک آزادی دینا ہوگی لیکن واننگ کے ساتھ ۔ کچھ عرصہ پہلے ہم نے فیس بک کا بائیکاٹ کیا تھا اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا تھا کچھ دوستوں کا موقف تھا کہ ہمیں میدان نہیں چھوڑنا چاہئے تھا بلکہ میدان میں رہے کر ان کا مقابلہ کرنا چاہئے اور جزباتی ہوناخود ہمارے لیے ہی خطرناک ہوگا اور اپنا نقصان کریں گے کسی اور کو کیا پڑی ہے کہ وہ ہمارے احتجاج کو اہمیت دے بلکہ دلائل اور متحد ہوکر مقابلہ ان کا مقابلہ کرنا چاہئے۔
مجھے اب بھی ان لوگوں کے پیغامات ملتے رہتے ہیں جو فیس بک سے ریلٹیڈ ہوتے ہیں ایک عرصہ تک انہیں نظر انداز کرتا رہا بحث کرنے کو دل کرتا رہا لیکن خود پر قابو پانا تھا سو پایا لیکن ایک واقعے نے مجھ پر اپنی گرفت پالی ، وہ واقعہ دہرانا نہیں چاہتا لیکن اس وقت اگر ہم میدان میں رہ کر مقابلہ نہ کرتے تو کوئی کامیاب ہوجاتا اور اب تک شیر ہوچکا ہوتا مگر ہم سب کی کوششوں سے راکھشس پر قابو پایا جاچکا ہے، ایسا ہی ردعمل اگر ہم فیس بک پر دکھاتے تو پتھر پر بوند بوند پانی گرنے سے کچھ نقش ان کے دل پر بھی ابھر چکا ہوتا۔ (جاری ہے)

فرق؟

پاکستان میں امریکہ یا نیٹو کے ہاتھوں کئی لوگوں کی جان جاچکی ہے جن میں اکثریت بےگناہ لوگوں کی تھی لیکن ہماری سپاہ ہمیشہ اس کاالزام حکومت کو دیتی رہی کہ وہ ہمیں اجازت نہیں دیتی ورنہ ہم بھی حملے روک سکتے ہیں۔
یکایک سپاہ غیرت کیوں کھا گئی کہ اس نے تندوتیز بیان جاری کردیے۔ کیا پہلے بھی پاکستانی نہیں‌مرتے رہے نیٹو یا امریکہ کے ہاتھوں۔
کیا اس لیے کہ حملے میں ان کے لوگ مارے گئے ہیں۔
کیا سویلین جانور اور خچر ہیں جو وہ مرتے رہے تو کسی کے کان پر جوں نہیں رینگی اور اب انسان مرے ہیں تو غیرت آنے لگی۔