شاکر عزیز (آواز دوست)

گزارش

میرے سامنے کچھ تصویریں ہیں۔ایک سوختہ انسانوں کی ہے, نیچے کچھ لکھا ہے۔کچلے جسموں والے دو کمسن بچوں کی تصویریں ہیں۔اور ایک بے لباس لاشہ ہے۔اور پھر جملے ہیں۔ چھوٹی بڑی طوالت کے لاتعداد جملے ۔ اگر مگر کرتے جملے، ثابت کرتے اور رد کرتے جملے، دھمکی دیتے اور شرم دلاتے جملے ۔اور پھر میں ہوں، خالی الذہن، اس سب کی فہم و تشریح سے قاصر۔ کوئی نتیجہ اخذ کرنے سے قاصر۔ تصویروں، جملوں اور تبصروں میں پیش کردہ نتائج کو قبول یا رد کرنے سے قاصر۔اس سب میں ایک نام، ہاں ایک نام بار بار آتا ہے، اور اس نام پر میرے اندر تک ایک احساس پیدا ہوتا ہے۔میرے نبی جی ﷺ کا نام آتا ہے۔ جب اُن ﷺ کا نام آتا ہے تو میرے لب اللہم صل علی محمد و اٰل و اصحابِ محمد میں مگن ہو جاتے ہیں۔ بس اس سب میں ایک یہ وقفہ ہے جب مجھے کچھ محسوس ہوتا ہے۔میں کیا لکھوں؟ کیا کہوں؟ بس جب ان ﷺ کا نام آتا ہے۔ تو لبوں سے اللہم صل علی سیدنا و مولانا محمد، و علی اٰل و اصحاب سیدنا و مولانا محمدنکلتا ہے۔لرزتے لبوں سے اس سے آگے کچھ نہیں کہا جاتا۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں سُوجھتا، یوں جیسے چار دیواری ہے اور میں اس میں مقیّد۔ عجب بے بسی ہے ، عجب بے کسی ہے، عجب تنہائی ہے۔اپنی کھڑی کی گئی دیواروں کا قیدی ہوں، نیلی چھتری والے کا شکر ہے کہ ا س نے رحمت اللعالمین ﷺ کی صورت میں اپنی رحمت سے نواز رکھا ہے۔ بس انہیں ﷺ کا آسرا ہے۔انہیں ﷺ کے آگے عرض گزاری ہے۔مولاﷺ آپ کی گلیوں کے کُتے بھی مجھ سے افضل۔مولا ﷺ یہ رذیل، کمینہ، یہ گھٹیا آپ کی اُمت میں سب سے کمزور ایمان ۔مولاﷺ آپ کے آگے عرض گزار۔مولاﷺ صبر ختم ہونے لگا ہے۔مولا ﷺ اپنی رحمت کا سایہ کیجیےمولا ﷺ میری قوم آپ کے نام پر ۔۔۔مولا ﷺ میری قوم آپ کے نام پر کیا کیا کچھ کرنے لگی ہے۔مولا ﷺ آپ کے عاشق۔۔۔۔۔۔مولاﷺ اپنی رحمت کا سایہ کیجیےمولا ﷺ اپنے کرم کی نظر کیجیےمولا ﷺ آپ کے سوا کس سے کہیں۔۔۔۔مولاﷺ آپ کے سوا کون ہے۔۔۔۔۔مولا ﷺ نیلی چھتری والے سے سفارش کیجیےمولا ﷺ آپ ہی تو ہمارے آقا و مولا ہیںمولا ﷺ آپ ہی تو ہمارے مائی باپ ہیںمولا ﷺ آپ کے سوا کس سے کہیںاللہم صل علی سیدنا و مولانا محمد اللہم صل علی سیدنا و مولانا محمداللہم صل علی سیدنا و مولانا محمد

پیار کا آخری شہر

زمانہ حاضر کےمارکو پولو، البیرونی لیکن عموماً ال اندرونی (یعنی بیشتر وقت میں کمرے میں رہنے والی مخلوق یعنی ہم) نے اپنے ملک کے عظیم سیّاح، لکھاری اور دانشور جناب بابا مستنصر حسین تارڑ جٹ کی اقتداء میں یورپ کی سیاحت، جہاں گردی وغیرہ وغیرہ کا ارادہ فرمایا تو اس مرتبہ نظرِ انتخاب پیرس پر اور طلبہ کے "تفریحی" دوروں کا بندوبست کرنے والی ایک ایجنسی پر پڑی۔ مابدولت نے پاکستانیوں کی آفاقی عادت کے عین مطابق کچھ احباب کو بھی ساتھ گھسیٹ لیا تاکہ ہم پھنسیں تو ان کے پیچ بھی کسیں۔ اگر شومئی قسمت انجوائے منٹ کا ایک آدھ کلو ان کی قسمت میں آ جائے تو اس میں حصہ داری کر کے ہر ممکن حد تک ورچوئل "شریک" (یہاں ابرار کا گانا شریکاں نوں اگ لگدی گنگنانے سے معنی و معرفت کے نئے جہان کھلنے کا امکان پایا جاتا ہے) ہونے کا ثبوت دیا جا سکے۔
ایک دوست (جو سیانے واقع ہوئے ہیں) عین موقع پر ود ڈرا کر گئے چنانچہ بقیہ آوارہ گردانِ ملت نے سفر جاری رکھا اور بھاگم بھاگ بس پکڑی جس نے علی الصبح انہیں پیرس ڈیلیور کرنا تھا۔ تو جناب سفر شروع ہوا، اور جیسا کہ ہر سفر کے شروع میں ہوتا ہے، کئی ماہ کی جمع شدہ باتوں کی ٹنکی سے پانی دھڑا دھڑ بہتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ نل پر چشمے کا گمان ہونے لگتا ہے لیکن آہستہ آہستہ یہ  نل واسا کا نل بن جاتا ہے، تھکن اور نیند غلبہ پا لیتی ہے، تو ایسے ہی یہ سفر بھی شروع ہوا۔ جرمنی سے بیلجیئم اور پھر فرانس میں صبح سویرے ایک نخلستان (یہاں پٹرول پمپ پڑھا جائے) میں چہرے کی مرمت اور دیگر متعلقہ امور کی انجام دہی کے بعد دونوں بسوں نے صبح ساڑھے سات بجے "مال" آئفل ٹاور پر لا پھینکا۔ اور پھر حسبِ رواج عوام نے چڑھتے سورج کی مخالف سمت میں انھّے وا کالی تصاویر بنائیں جن میں ازقسم سیلفی، ویلفی، اکلوتی، گروپی اور کہیں کہیں آئفل ٹاور اور اس کے اطراف کو بھی شرفِ عکس بندی سے نوازا گیا تھا۔  اور آخر میں آئفل ٹاور کی قدم بوسی کی نشانی کے طور پر وہاں سے کچھ بچہ آئفل ٹاور خریدے گئے جن میں چابیاں ڈال کر آئندہ زندگی آئفل ٹاور کی یاد میں گزاری جائے گی۔
تصاویر بنانے کی آدھ گھنٹے کی رخصت کے بعد "بچوں "کو دوبارہ بسوں میں ٹھونس کر پیرس کا مفت ٹور کروایا گیا۔ ساتھ ناشتے کے نام پر دو دو سانپ نما ڈبل روٹیاں پیش کی گئیں جن کے بعد عوام کا عام خیال پیرس کی بجائے نیند کی طرف منتقل ہوتا چلا گیا۔ فرنچ جرمن خاتون گائیڈ کی انگریزی اور کہیں کہیں زبردستی گھُس آنے والی جرمن کبھی کبھی ناشتے کے خمار جو ناشتے سے زیادہ رات بھر کی تھکن کا کمال تھا، کو چیرتی ہوئی کانوں میں گھُس جاتی۔ ایسی ہی ایک ٹِپ "پِٹّی پےَلی" (چھوٹا محل) کا تعارف تھا، جہاں خاتون کے بقول کوئی مفت نمائش وغیرہ لگی ہوئی تھی یا لگی رہتی تھی۔ چنانچہ جہاں جہاں جس جس کو جو جو کچھ یاد رہا سب نے ذہنی نوٹس بنا لیے تاکہ بس سے اُتر کر دماغ کونیند کے چنگل سے چھڑانے کے لیے کچھ لالی پاپ ملے رہیں۔ ڈیڑھ گھنٹے کے نیند آور ٹور، اندرونِ شہر پیرس کے چند کلومیٹر کے علاقے میں کئی ایک چکروں، دریائے سَین کے متعدد نظاروں اور پُلوں، اگلے دن ہونے والی پیرس میراتھن ریس کے درجنوں تذکروں اور کچھیاں پہنے بابے بابیوں کو دوڑ کی تیاری میں سویرے سویرے سڑکوں پر ہانپتے دیکھنے کے دوران ہی کسی وقت ٹور ختم ہو گیا۔ ہمیں نقشے اور رہنما کتابچے پکڑائے گئے اور رات ساڑھے گیارہ اسی جگہ دوبارہ جمع ہونے کی تلقین کر کے خداوندانِ ٹور نے بسیں خالی کروا لیں۔ اس کے بعد غریب الوطن تھے، اور غریب الوطنوں جیسے ہزارہا اور سیاح جن پر آج کے دن ان سڑکوں پر رُلنا اور ان دیواروں سڑکوں درختوں مجسموں پُلوں اور از قسم دیگر "وں" کا نظارہ فرض کر دیا گیا تھا۔ 
ابتدائی فوٹو گرافی کا شوق پورا ہو چکا تھا۔ آئفل ٹاور جو تصویروں میں کسی مسجد کے مینار جتنا ہی لگتا ہے قریب سے دیکھنے پر دیو قامت عمارات کا کزن ثابت ہو کر ہم پر رعب جما چکا تھا، لیکن اب نکوٹین کی طلب اور دیگر جسمانی ضرورتیں پوری کرنے کا تقاضا ان احساسات کو بُلڈوز کر رہا تھا۔ چنانچہ کسی ریستوران کی تلاش شروع ہوئی جہاں ترجیحاً بیت الخلاء کا فرانسیسی ورژن دستیاب ہوتا، کچھ پوچھ تاچھ کے بعد ایک ڈرگ سٹور سے مساوی داموں میں کافی پینے اور پہلے سے نوش کردہ مائعات نکالنے کا اہتمام کیا گیا اور پھر خاتون گائیڈ کے مشوروں کی روشنی میں اگلا لائحہ عمل طے کیا گیا، خلاصہ جس کا یوں تھا کہ چلا جائے اور چلتے رہا جائے۔ تو پھر چلنا شروع ہوا، تصویر کشی جاری رہی۔ محرابِ فتح سے شانزے لیزے پر چلتے چلتے پیرس کے نظاروں سے آنکھیں گرم ٹھنڈی کرتے ہم، جو آوارہ گرد ہونے کے شدّت سے خواہشمند تھے، اور ہم جیسے ہزاروں جو کچھ ایسی ہی خواہشات رکھتے تھے، اور ان کے درمیان پیرس والے جوہر دو سے بے نیاز اپنے کام نمٹا رہے تھے۔ چلتے چلتے نِکّا محل آ گیا جہاں گائیڈ کے مطابق مُفت بری کی جا سکتی تھی، تو اکثریت رائے سے نمائش دیکھنے کا پروگرام بنایا گیا۔ سیکیورٹی سے گزر کر معلوم ہوا کہ نمائش مفت نہیں، یا یہ جگہ پِٹّی پے لی نہیں، خیر وجہ جو کچھ بھی ہو چار حرف بھیج کر پرانا کام یعنی چلنا پھر سے شروع کیا گیا۔ اور چلتے چلتے بالآخر شانزے لیزے کو رحم آ گیا، کہ بائیں طرف کچھ باغات سے نظر آئے جہاں بنچ لگے تھے اور دھوپ تھی اور آرام کا موقع تھا، تو عوام نے یا تھکن نے یا فریاد کُناں ٹانگوں نے فیصلہ کیا کہ کچھ دیر آرام کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ کھایا جائے۔ چنانچہ معروف ریستورانوں کے جھرمٹ میں سامنے پبلک بنچ پر بیٹھ کر گھر سے پکا کر لایا گیا چکن پکوڑا کھایا گیا اور فیس بُک پر شریکوں کو ساڑنے کے لیے قُرعہ اندازی سے ایک ریستوران کو "چیک اِن" کے لیے چُنا گیا۔ لنچ ختم ہونا تھا ہو گیا، دن البتہ وہیں تھا اور پیرس بھی باقی تھا، چنانچہ پھِر سےسڑکیں تھیں اور ان پر کچھ تردد سے چلتی ٹانگیں۔
جاری ہے۔۔۔۔۔

ایک خواہش

یہ وسطی پنجاب کا ایک چھوٹا سا شہر ہے جہاں سے ہم باہر نکل رہے ہیں۔ نہر کا پُل پار کرتے ہی بائیں طرف کو ایک سڑک مُڑتی ہے۔ چھ سات فٹ چوڑی یہ سڑک جو پچھلی سے پچھلی سرکار نے بنا کر دی تھی اب عمر کے اس حصے میں ہے کہ ہموار چلتے چلتے اچانک غوطہ کھا جاتی ہے۔ کہیں سے تارکول اور بجری اڑ گئی ہے، کہیں سے پتھر بھی داغِ مفارقت دے گیا ہے اور وہاں ایک گھاؤ منہ پھاڑے اپنے شکار کا منتظر ہے۔ اور اگر سڑک سے بے وفائی کر کے کچے میں نہ اترا جائے تو اس کی بوڑھی ہڈیوں کا درد جیسے سواری سے ہوتا ہوا سوار کے اندر تک اترتا چلا جاتا ہے۔ کچھ دیر نہر کے ساتھ چلنے کے بعد سڑک دائیں مڑ کر اس سے جدا ہو جاتی ہے۔ دونوں جانب کھیت ہیں اور بیچ میں یہ ادھڑی ہوئی پٹی جس پر سواری چلتی جاتی ہے۔ کچھ دور جا کر یہ ٹکڑا ختم ہوتا ہے تو ایک نسبتاً نیا ٹکڑا شروع ہو جاتا ہے جو موجودہ صوبائی سرکار کے ازحد کرم کا نتیجہ ہے۔ سواری کچھ تیز ہوتی ہے اور پھر پنجاب کے دیہی علاقوں کا منظر ابھرنے لگتا ہے۔ درمیان سے گزرتی سڑک، ایک جانب اسکول، دوسری جانب دوکانیں اور پنجاب کی مٹی کے رنگ جیسے گندمی لوگ، جنہیں اب ایسی سواریاں دیکھنے کی عادت ہو گئی ہے۔ کچھ برس پہلے تک جہاں فصلیں تھیں اب وہاں کچی گلیاں اور پکی اینٹوں سے اٹھائی کچی دیواروں کے مکان کھڑے ہیں۔ یہ مکان بھی لیکن کچھ دیر بعد ساتھ چھوڑ جاتے ہیں اور کھیت منظر میں واپس چلے آتے ہیں۔ سڑک چلتی جاتی ہے اور سڑک کے ساتھ سواری اور سوار، اور پھر چلتے چلتے کچھ کہے سنے بغیر وہ سڑک کو چھوڑ کر ایک اور دیہے کی جانب مُڑجاتے ہیں۔ سڑک کو شاید ایسی الوداعی ملاقاتوں کی اب عادت ہو گئی ہے، وہ کچھ کہے بغیر آگے بڑھ جاتی ہے اور سوار پکی اینٹوں والی کچی گلیوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ سواری رکتی ہے، اور سوار اتر تے ہیں۔ تیس کے قریب پہنچتی عمر کے دو جوان اور  بڑھاپے کی دہلیز میں داخل ہو چکی ایک خاتون۔ پکی اینٹوں لیکن گارے کی کچی دیواروں سے بنے مکان کا دروازہ کھلتا ہے اور ہم اندر داخل ہوتے ہیں۔ ایک طویل گلی ہے، جس کے بعد ایک مختصر سا کچا قطعہ اور پھر پکی اینٹوں کا فرش ہے۔ ایک طرف بیری کا درخت چھاؤں کیے ہے دوسری طرف بوڑھی کنیر کا پھولدار درخت ہے۔ اور ان کی چھاؤں میں ایک ہڈیوں بھرا وجود، جس میں آنے والوں کو دیکھ کر جیسے زندگی بھر گئی ہے، دئیے کی سی ٹمٹماتی آنکھوں میں روشنی جاگ اٹھی ہے ، چارپائی سے اٹھنے کے لیے کوشاں ہے۔ اپنی بیٹی کے بیٹوں کو پیار دیتا ہوا ، اپنی بیٹی سے ملتا ہوا یہ وجود میری نانی اماں، میری ماں کی ماں جن کے توانائی بھرے، متحرک وجود کی یادیں میرے ذہن کی تختی پر کندہ ہیں، اور آج ان کا وجود کتنا اجنبی ہو گیا ہے۔ جیسے اصل کا صرف سایہ باقی رہ گیا ہو۔
بیس برس پیچھے چلتے ہیں۔ وہی مکان ہے، ویسی ہی لمبی گلی ہے، صحن ابھی کچا ہے، تین کمروں کے سامنے ابھی برآمدہ تعمیر نہیں ہوا، کنیر ہے لیکن بیری ابھی نہیں ہے، ایک سایہ دار دھریک کا درخت گرمیوں کی اس شام اندھیرے میں سیاہ وجود سمیت کھڑا  ہے۔ کچے صحن میں چارپائیاں بچھی ہیں اور ایک طرف ایک بوڑھا وجود لیٹا ہے۔ اور اس کے قریب چند جوان مرد اور بڑھاپے کی دہلیز پر کھڑی ایک خاتون، اس سے محوِ کلام ہیں۔ بوڑھا وجود میری والدہ کی دادی اور ان کی بیٹی اور ان کے بچے، جنہیں دیکھ کر اس بوڑھے کی وجود کی آنکھوں میں بھی روشنی اترتی ہو گی، جن کے قدموں کی چاپ پر وہ بھی اٹھ بیٹھنے کو بے تاب ہوتی ہوں گی، جن کے چلتے پھرتے، متحرک اور توانائی بھرے وجود کی یادیں ان جوان بچوں کے ذہنوں میں بھی نقش ہوں گی۔
حال میں واپس آتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر ایک تصویر زیرِ گردش ہے، ایک بوڑھا وجود، چارپائی پر غربت اور پیرانہ سالی کی چادر تلے چھپے ایک اور بوڑھے وجود کے ہمراہ ہے۔ ایک اور تصویر میں وہ اسے کھینچتا ہوا لے جا رہا ہے۔ کسی نے یہ تصویر شیئر کر رکھی ہے، کسی نے اس کے نیچے سرکار کو گالیاں لکھ رکھی ہیں۔
تین منظر ہیں، لیکن کردار یکساں ہیں پیرانہ سالی، دکھ، بے کسی، لاچاری، محتاجی۔ کہیں یہ لاچاری اولاد نے کچھ سنبھال رکھی ہے کہیں ہسپتالوں اور سڑکوں پر رُل رہی ہے۔ اور دیکھنے والی آنکھ جب یہ سب کچھ دیکھتی ہے تو پالنے والے سے اپنے اور ان کے لیے پناہ اور رحم مانگتی ہے۔ ان کے آخری دن آسان کرنے کی دعا مانگتی ہے۔ کریم نے اپنے آخری نبی ﷺ کو یہ دن دیکھنے سے پہلے اٹھا لیا، بڑھاپے کی لاچاری سے محفوظ رکھا۔ لیکن جو بوڑھے ہو جاتے ہیں وہ اپنی جان تو نہیں لے سکتے۔ انہیں تو لکھی ہوئی زندگی گزارنا ہے۔ یہ زندگی کیسے گزرے گی، ترس ترس اور سسک سسک کر یا کچھ آسانی کے ساتھ، آج حضرتِ انسان کو ٹیکنالوجی اور ایجادات نے جو سہولیات مہیا کر دی ہیں ان کے استعمال سے یا چارپائی پر پڑے اولاد یا سرکار کی طرف دیکھتے ہوئے، معذوری کی حالت میں۔ چند دن قبل ایک خبر نظر سے گزری کہ جرمن آمر ہٹلر کے پراپیگنڈہ وزیر گوئبلز کی سیکرٹری 106 برس کی عمر میں انتقال کر گئی۔ یہ مائی اتنا عرصہ جی، سوال اٹھا کہ کیا ایسے ہی جی ہو گی جیسے میرے وطن میں بزرگ جیتے ہیں؟ یقیناً نہیں۔ جرمنی اور جاپان جیسے ممالک میں بزرگوں کو یقیناً ایسی سہولیات حاصل ہیں کہ ان کی آخری عمر ہر ممکن حد تک آرام دہ گزرتی ہے۔ لیکن میرا ملک تو جوان اور بچوں کی صحت کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے، کُجا بزرگ۔ کوئی گلہ شکوہ شکایت نہیں ہے، کوئی تجویز مشورہ حل بھی نہیں ہے۔ بس ایک خواہش ہے، کاش کہ رب اتنی توفیق دے دے، کہ ان بزرگوں کی بہتری کے لیے کچھ کیا جا سکے۔ کاش کوئی ایسا سلسلہ بن جائے کہ ان کی زندگیوں کو آرام دہ بنایا جا سکے۔ بس ایک خواہش ہے۔

بلاگیات، چلغوزیات اور باہمی دلچسپی کے کچھ دیگر امور

تو بات بلاگنگ کی ہو رہی تھی۔ بات کیا ہو رہی تھی کچھ احباب نے اس پر جاندار تبصرے فرمائے، کچھ ارشادات ادھر اُدھر سے آئے، کسی نے بلاگنگ کو فوت فرمایا، کسی نے فوت شدہ کو دوبارہ قبر سے نکال کر کھڑا کیا اور کسی نے بلاگروں کے حالات پر سیرِ حاصل گفتگو فرمائی۔ تو عرض ہے کہ فدوی بھی عرصہ (دور)د دراز سے ایک عدد بلاگ رکھتا ہے اور اس پر کبھی کبھار ایک آدھ پوسٹ کا اضافہ کر کے اپنا نام شہیدوں (یہاں بلاگروں پڑھا جائے) میں شامل کروانے کا خواہشمند رہتا ہے۔ تو فدوی نے بھی اس پُر فِتن دور میں کہ جب بلاگنگ پر آزمائش و ابتلا کا نزول جاری ہے، کچھ کہنے کے لیے مائیکروسافٹ ورڈ (2016 ورژن ہے ویسے میرے پاس) کے کچھ صفحات سیاہ کیے ہیں۔

تو جناب بلاگنگ کے نباضوں کا کہنا ہے کہ اردو بلاگنگ (پیچھے جہاں جہاں بلاگنگ لکھا ہے اسے بھی اردو بلاگنگ پڑھ لیجیے، اگر نہیں پڑھا تو اب جا کر پڑھ لیں صرف ایک پیراگراف تو ہے، تب تک میں یہ پیرا گراف مکمل کر لوں۔۔)ایک انجمن ستائشِ باہمی والوں کا گروہ تھا جو ایک نِکّے یعنی چھوٹے گروہ سے ایک وڈّے یعنی بڑے گروہ میں تبدیل ہو گیا ہے۔ تو ہم نباضوں کے اس ارشاد (مس عالیہ کہہ نہیں سکتے مسٹر کہے لیتے ہیں تو مسٹر) عالیہ سے پانچ سات سو (یا جتنے سو آپ کو مناسب لگیں) فیصد متفق ہیں۔ اگر ہم متفق ہیں تو آپ کا وقت کیوں ضائع کر رہے ہیں؟ اس کے لیے اگلے پیرا گراف میں تشریف لائیں۔ یہیں نیچے بھائی، اس کے ساتھ ہی لکھا ہے۔

ہاں جی یہاں۔ تو ہم نے کچھ اپنی عرض بھی کرنا تھی۔ تو عرض یہ ہے کہ ایک عرصہ ہوا ہم بھی وہی کچھ اپنے یک صفحاتی بلاگ پر کرتے تھے جو آج لوگ ان پورٹلز  پر کرتے ہیں۔ (کون سے پورٹل؟ بھولے بادشاہو یہی میڈیا کے وڈّے اور فیس بکی لکھاریوں کی زیرِ سرپرستی چلنے والے پورٹل)۔ تو لوگ کیا کرتے ہیں؟ اس کے لیے وڈّے بزرگوں نے کہا تھا چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرتے ہیں۔ عرض یہ ہے کہ فیس بک پر چند ہزار لوگوں کا ایک آئینہ خانہ وجود میں آ چکا ہے جہاں ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں ناز و انداز دکھاتا ہے۔ ان ناز و انداز کو دیکھ کر کسی کے منہ سے جو کچھ نکلتا ہے اکثر اوقات آپ اسے ان پورٹلز پر مضامین (یعنی بلاگز) کی صورت میں دیکھتے ہیں۔ اس سے پہلے ایک جگہ عرض کیا تھا کہ ارشادات، جوابی ارشادات، یعنی عمل اور ردعمل کی ایک دنیا ہے۔ دو دو پیرا گراف کی تحاریر ہیں، کچھ اچھی ہیں کچھ بری ہیں، کچھ سے عطر کی سی خوشبو آتی ہے کچھ سے قے کی سی بدبو آتی ہے، تو یہ سب کچھ ان پورٹلز پر چلتا ہے جسے اردو بلاگنگ کے نباض اردو بلاگنگ کا مستقبل قرار دیتے ہیں۔ ہم جب یہی کچھ کرتے تھے تو دیکھنے سننے پڑھنے والا کوئی نہیں ہوتا تھا، ہمارا شیش محل ہی ایک کمرے کا تھا (غریب کا مکان ایک کمرہ وہیں کچن وہیں بیڈ روم اور ساتھ بکری کی رہائش کا بندوبست بھی، گھٹیا سٹیج ڈرامے والی مثال ہے ناں، تو جو زبان پر آئے اسے لکھنے کو ہی تو بلاگنگ کہتے ہیں، یعنی ہور چُوپو تحریر چھوڑ کر تشریف لے جائیں ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے) تو بقیہ ماندہ قارئین کے لیے، عرض تھی کہ ہمارا شیش محل یک کمرہ جاتی تھا، موجودہ شیش محل کے پانچ سو کمرے ہیں اور ہر کمرے میں ایک الگ مہاراجہ /مہارانی نے اپنا دربار سجا رکھا ہے۔ کسی نے چلغوزے لگائے ہوئے ہیں، کسی نے ۔۔۔ چلیں چھوڑیں۔ یہ چلغوزے بھی ایسے ہی ہمارے دماغ میں آ گئے۔ اور چلغوزوں سے یاد آیا کہ بس یہی اردو کی خدمت ہے کہ ہر روز ایک نیا کٹا کھلا ہوتا ہے۔ اور اس پر باں باں کرتی اور سینگیں لڑاتی بھیڈیں جنہیں اردو میں بھیڑیں کہا جاتا ہے یعنی اس ترقی یافتہ دور کے اردو لکھاری (جمع مفتی، ناصح،  ملحد، اسلام پسند، ترقی پسند، رجعت پسند، مارکسسٹ، سوشلسٹ، عظیم، عجیب، غریب، بے تکے، بے ڈھنگے۔۔۔) یعنی بلاگر ۔ آپ کو ہر روز ایک نیا تماشہ دیکھنے کو ملتا ہے، ایسا ہی تماشہ جیسے ہمارے بچپن میں مداری نے ریل کے پھاٹک کے ساتھ خالی جگہ پر لگا رکھا ہوتا تھا۔

تو عرض یہ کہ اگر اب ہم نے بلا وجہ سات سو (ورڈ ویسے سات سو چوبیس بتا رہا ہے) الفاظ لکھ مارے ہیں، تو ہم سے بہتر اور لائق لوگ کیا قیامت نہ ڈھاتے ہوں گے۔ ہماری مجبوری بس یہ ہو گئی ہے کہ سینگ تڑوائے ایک عرصہ ہو گیا۔ جب جب لکھنے والوں کو پڑھا تو پتا چلا کہ پڑھیں تو اچھا لکھا جا تا ہے، اب یہ حال ہے کہ نہ پڑھیں نہ لکھ سکیں۔ اور فیس بک کے اس آئینہ خانے میں سچ پوچھیں تو اتنے لوگ روڑے اٹھائے پھرنے لگے ہیں کہ ہمیں ڈر لگتا ہے کوئی ہمیں ہی نہ (کڈھ ) مارے۔ تو اپنی عزت اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے بھائی، ہم ردعمل میں کچھ نہیں لکھتے، ہم بغیر پڑھے بھی کچھ نہیں لکھتے، ہم کسی مذہبی ، غیر مذہبی، سیاسی ، غیر سیاسی موضوع پر بھی کچھ نہیں لکھتے کہ ابھی ہمارے بچے بھی اللہ میاں کے پاس ہیں اور ہمارا سنگسار ہونے کا قطعی موڈ نہیں ہے، اور ہمارے مامے کا کوئی پُتر کوئی وڈی ویب سائٹ بھی نہیں چلاتا کہ ہماری ہر ڈیڑھ پیرے کی تحریر جھٹ سے شائع  کر دے۔ اس لیے ہم آج بھی اپنے بلاگ پر لکھتے ہیں، کوئی پڑھے تو اس کا بھلا، کوئی نہ پڑھے تو اس کا بھی بھلا ۔ مولا خوش رکھے۔ کبھی کبھار برسوں میں ایک تحریر افادۂ  عام والی سرزد ہو جائے تو پہلے کسی رسالے میگزین کو ارسال ہو جاتی تھی اب ان آنلائن ویب سائٹوں کو بھیج دیتے ہیں۔ کوئی شائع کر دے تو مولا خوش رکھے ، اس کے بچوں کے بچوں کے بچوں کی بھی خیر کرے، نہ شائع کرے تو ہمارا بلاگ تو ہے ہی، ہم وہیں شائع کر کے اپنا لکھاریانہ سٹیٹس برقرار رکھتے ہیں، اور پھولے نہیں سماتے۔ تو جناب ہم ایک بلاگر ہیں، بہت پرانے ، پڑے پڑے ٹھُس ہو چکے ہیں لیکن کبھی کبھی راکھ میں سے چنگاری بھڑک اٹھتی ہے۔ اب یہی دیکھ لیں اس بے تُکی تحریر پر تین مجازی صفحے سیاہ کیے اور دو چار لوگوں کا وقت برباد کیا ہی ہو گا۔

[اگر آپ نے یہاں تک اس تحریر کو پڑھا ہے تو آپ کی عظمت کو اکتالیس توپوں کی ورچوئل سلامی۔ لگتا ہے آپ کے پاس بھی ہماری طرح کوئی اور چنگا کام نہیں تھا۔]

دعا

اے میرے رباے بزرگ تراے سب سے زیادہ عزت والےاے عزت دینے والےاے ذلتوں سے بچانے والےاے پردہ رکھنے والےاے ارحم الراحمیناے رحمانمیں قعرِ مذلت کی گھاٹیوں میں پڑامیں ذلتوں میں لُتھڑامیں قلب و رُو سیاہمیں گناہوں میں پھنساتیری رحمت کا طلبگارتیری آزمائشوں سے پناہ کا طالبتیری ستّاری کا بھکاریتیرے در پہ بیٹھاتیرے حبیب ﷺ کے صدقےتیرے سخی حبیب ﷺ کے صدقےتجھے تیری عزت، جبروت، سخاوت، بزرگی اور ستّاری کا واسطہ دے کرتیری رحمت کا طلبگار ہوںتیری عطاء کا بھوکا ہوںتیری نظرِ کرم کا منتظر ہوںاے میرے مالکمجھ پر اپنے فضل و کرم کا سایہ رکھیومیری خطاؤں پر پردہ رکھیومجھے آزمائشوں سے بچائے رکھیومجھے علمِ نافع عطاء کیجیومجھے رزقِ حلال کی توفیق دیجیواے عزت والےاپنے عزت والے نبی ﷺ کے صدقےمیری عزت کو کم ظرفوں سے اپنی امان میں رکھیوآمین یا رب العالمین

تھوڑ دِلا

ممتاز مفتی کہتا ہے کہ رب جی سے یاری لگا لو۔ رات سونے لگو تو ساری باتیں رب جی کو سنا کر، دل کا بوجھ ہلکا کر کے سویا کرو۔ میری خوش قسمتی یا بدقسمتی کہ کوئی آٹھ دس برس پہلے مفتی کو پڑھ لیا۔ اور اس کے دئیے گئے اس سبق کو بھی دل پر لے لیا۔ اور اب رب جی کے بغیر گزارہ نہیں ہوتا۔ رب جی سے سب کہہ دیتا ہوں۔ سوتے جاگتے، چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، اکیلے یا محفل میں رب جی سے باتیں جاری رہتی ہیں۔
پنجابی میں تھوڑ دِلا کہتے ہیں، ایسا شخص جس کا دِل بہت تھوڑا سا ہو۔ مطلب تو اس کا شاید یہ ہے کہ تھوڑ دِلا دوسروں کے ساتھ کچھ بانٹنے سے بھاگتا ہے۔ شاید کچھ مطلب یہ بھی ہے کہ تھوڑ دِلا زود غم اور زود حس ہوتا ہے۔ ذرا سی بات پر دل دھڑک اٹھتا ہے کہ کچھ ہو گیا۔ اور یہ کچھ اکثر بُرا والا کچھ ہوتا ہے، اچھا والا نہیں۔ تو میں اس قسم کا تھوڑ دِلا ہوں۔ ہر بات پر بِدک جاتا ہوں، ہر آہٹ پر تریہہ جاتا ہوں اور خاموشی بھی کسی طوفان کا پیش خیمہ زیادہ اور سکون کی علامت کم لگتی ہے۔ میرے جیسا تھوڑ دِلا پھر اور کس کے در پر جا سوال کرے گا؟ بس رب جی کے آگے دستِ سوال دراز کر کے بیٹھ جاتا ہوں۔
رب جی کے ساتھ یاری بڑا اوکھا کام ہے جی۔ میرے جیسے منافقوں کی یاری بھی مطلب کی یاری ہوتی ہے۔ آپ سے کیا چھپانا بس ڈر لگتا ہے، بہت ڈر لگتا ہے، رب جی کی آزمائشوں سے بہت ڈر لگتا ہے۔ جب بھی کوئی ایسا موقع آتا ہے، یا میرے اندر کا تھوڑ دِلا مجھے خبردار کرتا ہے کہ ایسا کچھ ہونے والا ہے تو میرے روئیں روئیں میں الارم بجنے لگتے ہیں۔ بس پھر ایک ہی اُپائے ہوتا ہے، رب جی کے حضور درخواست گُذاری۔ رب جی کے حضور درخواست کرتا ہوں۔ بار بار کرتا ہوں۔ دیکھ لے مولا تُو تو رب ہے ناں، تیرا کیا چلا جائے گا۔ ایک میرے ساتھ اگر رحمت والا معاملہ کر دیا تو تیرے خزانے میں کونسا کمی آ جائے گی۔ میں مانتا ہوں کہ میرے پلّے کچھ نہیں ہے، لیکن تُو تو رب ہے۔ پالنہار ہے، تجھے پُوچھنے والا کون ہے۔ تُو تو آل اِن آل ہے، میرے ساتھ رحمت والا معاملہ کر دے میرے مالک۔ تجھے پتا ہے مجھے تیری آزمائش سے ڈر لگتا ہے، بہت ڈر لگتا ہے۔ مجھے تیرے عذاب سے بھی ڈر لگتا ہے۔ مجھے تیرے مُنصف بن جانے سے بھی ڈر لگتا ہے۔ کہ اگر تُو مُنصف بن گیا تو میرے پاس تو کچھ بھی نہیں پاس ہونے کےلیے۔ تُو رحمت والا معاملہ کر دے ناں، تو میرے لیے اس دنیا میں بھی اپنا کرم کر دے ناں۔ تو مجھ پر اپنی عطاء کر دے گا تو تیرا کیا چلا جائے گا۔ رب جی سے ایسی ایسی باتیں کہ کوئی اور سُن لے تو مجھے پاگل کہے۔
اور جب کوئی چارہ نہیں رہتا، جب کوئی اور امید نہیں رہتی تو پھر ایک ہی واسطہ ہوتا ہے۔ رب جی، نبی جی ﷺ کا صدقہ اپنی عطاء کر دو۔ نبی جی ﷺ کا نام ایسا ہے کہ بس اس کے بعد کچھ اپنے بس میں نہیں رہتا۔ نبی جی ﷺ کے نام کے بعد لفظ نہیں صرف آنسو کام کرتے ہیں۔ رب جی کے دربار میں نبی جیﷺ کے واسطے دے کر بھی تھوڑ دِلا کیا مانگتا ہے؟ دنیا ۔ لیکن تھوڑ دِلا کیا کرے، رب جی کی مہربانی سے اگر اب کچھ ملا ہے، تو تھوڑ دِلا تریہہ جاتا ہے۔ ہر آہٹ اور خاموشی پر بدک اٹھتا ہے۔ رب جی کی آزمائش کا خوف اسے چین نہیں لینے دیتا۔ تو پھر تھوڑ دِلا اگر رب جی سے رحمت مانگنے کی ٹیپ نہ چلائے تو اور کیا کرے؟ تھوڑ دِلا تو یہی کر سکتا ہے کہ رب جی سے معافی مانگتا رہے، اور رحمت مانگتا رہے اور نبی جی ﷺ کا واسطہ دیتا رہے۔ اور بھلا تھوڑ دِلا کیا کر سکتا ہے؟

اردو بلاگنگ اور انٹرنیٹ پر اردو کا ارتقاء

بلاگنگ پچھلی صدی کے آخری عشرے کے اواخر میں شروع ہوئی تھی۔ ہماری ناقص معلومات کے مطابق لوگوں نے اپنی ویب سائٹوں پر personal یا اپنے نام سے ایک ڈائریکٹری یا سب ڈومین بنا کر اس پر دن بھر کی مصروفیات، روئداد یا کسی ذاتی یا غیر ذاتی موضوع پر اپنے خیالات کو ایک ڈائری یا بیاض کی شکل میں بیان کرنا شروع کیا۔ زبان کی یہ تحریری صنف مضمون لکھنے جیسے ہی تھی، لیکن یہ اس سے مقابلے میں زیادہ بے تکلفانہ اور ذاتی رنگ لئے ہوئے تھی۔
 انگریزی اور دیگر زبانوں کی بلاگنگ کو دیکھتے ہوئے اردو میں بھی لوگوں نے 2004 یا اس کے بعد بلاگنگ شروع کی۔ اور چند برسوں میں چند لوگوں سے یہ تعداد سو کا ہندسہ پار کر گئی۔اردو بلاگرز نے 2005 سے 2010 بلکہ تین چار برس بعد تک بھی بلاگز چلائے، اور ان پر قارئین کی ایک مناسب (چند درجن سے سو یا زیادہ وزٹر فی پوسٹ) تعداد بھی آتی رہی۔ لیکن جیسا کہ انٹرنیٹ پر ہر چیز تیزی سے ارتقاء پذیر ہو کر نئی نئی شکلوں میں ظہور پذیر ہوتی رہی، ویسے ہی بلاگنگ کی شکل بھی بدلی اور اس میں پہلے جیسی دلچسپی بھی برقرار نہ رہ سکی۔
انگریزی کی بلاگنگ 2010 سے ایک دو برس پہلے سے ہی اپنا رخ تبدیل کر رہی تھی۔ اب لوگوں نے ذاتی بلاگنگ کی بجائے عنواناتی بلاگنگ پر توجہ دینا شروع کی۔ انٹرنیٹ پر اشتہارات کے ذریعے آمدن، اور اشتہارات لگانے کے لیے نئے تحریری (اب تصویری، ویڈیو مواد بھی) کی ضرورت محسوس ہوئی تو لوگوں نے مختلف شعبوں میں مدد کے لیے بلاگز بنائے (فلاں کام کیسے کریں، جنہیں انگریزی میں ہاؤ ٹُو قسم کی تحاریر کہا جاتا ہے)، کسی خاص شعبے کے حوالے سے خبریں، تازہ ترین اور معلومات کی فراہمی کا سلسلہ شروع ہوا (مثلاً انگریزی میں ٹیکنالوجی، قانون، مذہب وغیرہ سے متعلق بلاگز وجود میں آئے)، کمپنیوں نے بلاگنگ کی طاقت دیکھتے ہوئے اپنی ویب سائٹس پر عوام سے انٹرایکشن کے لیے بلاگ سیکشن شروع کر دئیے، اخبارات میں بلاگ سیکشن شروع ہوئے (پاکستان کے انگریزی اخبارات 2009 سے بلاگز چلا رہے ہیں، اردو اخبارات نے دو تین برس تاخیر سے یہی کام شروع کیا)۔ اب بلاگنگ سے ارتقاء پذیر ہو کر تحریری (اور دیگر اقسام کے) مواد کی تخلیق کا عمل اتنا کمرشل ہو گیا ہے کہ باقاعدہ آنلائن میڈیا ہاؤسز موجود ہیں جو اخبارات کی طرح (لیکن کاغذ پر چھاپے بغیر صرف آنلائن) مواد تخلیق کرتے ہیں۔ ان کمرشل سائٹوں میں ٹیکنالوجی سے متعلق ویب سائٹیں بھی ہیں (یہ اتنی ترقی کر چکی ہیں کہ کبھی کبھار بلاگ کی تعریف پر پوری نہیں اترتیں)، اپنی مدد آپ کے حوالے سے بلاگز یا ویب سائٹس بھی ہیں، اور وائرل مواد (میش ایبل اور اس کی پاکستانی نقل مینگو باز) کی خبر دینے والی ویب سائٹس بھی موجود ہیں۔
اردو کے حوالے سے (جیسا کہ اوپر بتایا گیا) لوگوں نے بلاگنگ کچھ برس تاخیر سے شروع کی۔ لیکن انہوں نے انگریزی والے رجحانات کی پیروی کر کے اپنے ذاتی بلاگز سے ہی ابتدا کی۔ بدقسمتی سے اردو میں بلاگز کا ارتقاء انگریزی والے پیٹرن پر نہیں ہو سکا جس کی بنیادی وجہ اردو میں دستیاب مواد کو کمرشل بنیادوں پر استعمال نہ کر سکنا تھا۔ اردو میں لوگ مواد تخلیق کرنے کو تو تیار تھے، لیکن انہیں اردو زبان میں موجود ویب سائٹس کے لیے اشتہارات (جو انٹرنیٹ پر آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں، اور اس حوالے سے آج بھی گوگل ایڈ سینس کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں) نہیں ملتے تھے ۔ چنانچہ ذاتی قسم کے بلاگز لوگوں نے کچھ عرصہ لکھے اور اس کے بعد آہستہ آہستہ یہ رجحان اب بہت کم رہ گیا ہے (جیسا کہ انگریزی اور دیگر زبانوں میں ہوا تھا)۔ اس وقت اردو زبان میں موضوعاتی بلاگنگ کے نام پر کرک نامہ، سائنس کی دنیا اورآئی ٹی نامہ جیسے چند ایک بلاگز ہی موجود ہیں، جو اشتہارات کے بغیر بھی معیاری اردو مواد تخلیق کر رہے ہیں۔ اردو زبان میں ذاتی بلاگز میں دلچسپی کم ہونے کی ایک اور وجہ سوشل میڈیا ویب سائٹس جیسے فیس بُک اور ٹوئٹر کی مقبولیت بھی تھی۔ ٹرینڈ فالو کرنے کی دوڑ، کم الفاظ یعنی کم وقت میں بات کہنے کی صلاحیت، زیادہ لوگوں سے انٹرایکشن کا موقع وغیرہ نے اردو بلاگرز کو فیس بک اور ٹوئٹر کا قیدی بنا دیا، اور ان کے بلاگ ماضی کے مزار بن گئے۔
انٹرنیٹ پرتحریری اردو کے فروغ میں بلاگنگ اصل میں تیسرا قدم تھی۔ اس سے پہلے انٹرنیٹ پر اردو فورمز (اردو محفل فورم، ہماری اردو فورم وغیرہ) تحریری اردو اور سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز مہیا کر رہے تھے۔ درحقیقت بیشتر اردو بلاگرز یہیں سے بلاگنگ کی طرف آئے۔ اور اِن آنلائن اردو چوپالوں سے بھی پہلے بی بی سی اردو، وائس آف امریکہ وغیرہ کی اردو ویب سائٹس نے تحریری اردو کے فروغ کی بنیاد ڈال دی تھی۔ روزنامہ جنگ کی تحریری اردو کی ویب سائٹ بھی بہت پرانی ہے اگرچہ لوگ زیادہ تر نستعلیق (یعنی تصویری اردو) والی ویب سائٹ پر ہی جانا پسند کرتے تھے۔
اردو بلاگنگ کے بعد؟ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا کہ اردو بلاگنگ کا مختصر سا عروج جو 2007 اور اس کے بعد پانچ سات برس تک رہا، اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ اب لوگ بلاگ کی بجائے اپنی فیس بک وال پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔ فیس بُک اور دیگر سوشل میڈیا پر لوگوں کی دھڑا دھڑ آمد نے ہمارے روزمرہ کے ٹاکرے (یا مناظرے) بھی آنلائن کر دئیے، چنانچہ یہاں لبرل، سیکولر، ملحد، قدامت پسند، اسلام پسند اور دیگر "پسندوں" نے سینگ اڑا کر مناظرے کیے۔ وہ مناظرے ختم ہو گئے یا ختم ہوں گے، اس سوال سے قطع نظر لوگوں نے سوچا کہ ان سوشل میڈیا ٹاکروں کے لیے جو کچھ لکھا جاتا ہے اسے مناسب جگہ پر شائع کیا جائے چونکہ فیس بک پر تو مواد چند دنوں میں آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کے مصداق اپڈیٹس کے انبار تلے دفن ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ہر نقطہ نظر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ویب سائٹس کی بنیاد رکھی جن میں لالٹین، ہم سب، دلیل، مکالمہ، ایک روزن، آئی بی سی اردو۔۔۔وغیرہ وغیرہ ایک لمبی فہرست گنوائی جا سکتی ہے۔ ان میں سے کچھ ایک خاص نقطہ نظر کی ترجمان ہیں، کچھ ایسی نہیں ہیں، لیکن حاصلِ گفتگو یہ ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے وڈّوں کی زیرِ سرپرستی چلنے والی یہ تحریری اردو کی ویب سائٹس ہمارے خیال میں بلاگنگ کے بعد انٹرنیٹ پر اردو کے ارتقاء کا اگلا قدم ہیں۔ (اگرچہ اردو پوائنٹ اردو آنلائن جرنلزم کا بہت پرانا نام ہے، لیکن ان کی ویب سائٹ آج بھی نیم تحریری اور باقی تصویری اردو پر چلتی ہے، اور ان کی آمدن کے ذرائع آغاز سے ہی مقامی کمپنیوں سے ملنے والے اشتہارات ہیں۔) ان ویب سائٹس کے اجراء نے نئے لکھاریوں کو لکھنے اور چھپنے کے آسان ذرائع مہیا کر دئیے ہیں جو اگرچہ ذاتی بلاگ کی شکل میں پہلے موجود تو تھے لیکن قارئین کی تعداد نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اس سے بددل ہو جاتے تھے۔ میڈیا کے وڈّے وڈّے ناموں کے سایہء عاطفت میں آج آپ جہاں بھی چلے جائیں، آپ کو تجزیہ کاروںِ، مضمون نگاروں، جوابی مضمون نگاروں، نوٹ نگاروں، اختلافی نوٹ نگاروں اور لکھاریوں کی ایک فوج ظفر موج نظر آتی ہے۔ ان میں سے کچھ بہت اچھے ہیں، کچھ اچھے ہیں، کچھ مناسب ہیں اور کچھ راقم کی طرح دھکا سٹارٹ ہیں۔ لیکن لوگ لکھ رہے ہیں، اردو لکھ رہے ہیں، یہ ایک اچھی بات ہے چونکہ اس سے اردو ترقی کرتی ہے، اردو پڑھنے سے تماشائیوں کو بھی اردو کو اردو میں لکھنے کی ترغیب ملتی ہے۔ ان ویب سائٹس نے نوجوانوں کو اپنی فرسٹریشن نکالنے کے ذرائع بھی مہیا کر دئیے ہیں جس سے مختلف علاقوں کا درجہ حرارت معمول پر رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ تفنن برطرف، آخر میں ہم آپ کی خدمت میں چند سوالات رکھ کر اجازت چاہیں گے۔
کیا مستقبل قریب میں انٹرنیٹ پر اردو مذہبی، نیم مذہبی، غیر مذہبی، سیاسی اور اس قسم کی دیگر مضمون بازی اور لفظی کُشتی سے آگے نکل پائے گی؟
کیا اردو اس قابل ہو سکے گی کہ اسے تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے (مثلاً سائنس کی دنیا جیسی کاوشیں جو سائنس سے متعلق تحاریر کا اردو ترجمہ مہیا کر رہے ہیں)؟
کیا اردو اس قابل ہو سکے گی کہ اس میں معیاری تفریحی، تعلیمی، یا کسی بھی قسم کا مواد پیدا کر کے روزگار کمایا جا سکے؟
اور کیا مستقبل قریب میں ایسا ممکن ہے کہ مذکورہ بالا فرضی اردو ویب سائٹس کو گوگل جیسی عالمی کمپنیاں نہیں تو مقامی کمپنیاں ہی اشتہارات دے کر ان کی روزی روٹی کے ذرائع پیدا کریں؟ (الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے وڈّوں کے زیرِ سایہ چلنے والی ویب سائٹس کو آج بھی کچھ نہ کچھ اشتہارات مل سکتے ہیں، جس کے لیے اکثر اوقات ان کا نام ہی کافی ہو گا، چونکہ ان ویب سائٹس کوآ گیا چھا گیا کے مصداق آتے ہی ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اس لیے ٹریفک اور وزٹرز کی تعداد، نیز رینکنگ وغیرہ کا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں چنانچہ کمپنیاں انہیں اشتہارات مہیا کرنے میں زیادہ دلچسپی لیں گی۔)

مرد

پدر سری معاشروں میں مرد ایک مظلوم جانور کا نام ہے۔ معاشرہ اس کی کچھ ایسی تربیت اور کردار سازی کرتا ہے، اس کے اوپر کنکریٹ کا کچھ ایسا لیپ کرتا ہے کہ وہ دُور سے "مردِ آہن" اور "سنگ دل" نظر آتا ہے۔ اپنے معاشرتی کردار سے مجبور ہو کر وہ مروّجہ رسوم و رواج کی پیروی کرتا ہے، صنفِ مخالف کو دباتا ہے، طرح طرح سے اپنی بڑائی اور طاقت کا اظہار کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں اسی معاشرے کے ترقی پسند لبرل حلقوں کی جانب سے بھی گالیاں کھاتا ہے۔
مرد کے مروجہ معاشرتی کردار کو عطاء کردہ ایک صفت "مرد روتا نہیں ہے"، "کیا عورتوں کی طرح ٹسوے بہا رہے ہو"، "مرد بنو مرد"، "تم اب بچے نہیں ہو" جیسے جملوں کی صورت میں زبان میں ظاہر ہوتی ہے۔ آنسو بہانا انسان کے بنیادی خصائل میں سے ایک ہے۔ انسان جب جذبات سے اوور لوڈ ہو جاتا ہے، جب دل و دماغ میں اُبال آتا ہے تو پانی آنکھوں کے راستے چھلک پڑتا ہے۔ یہ اُبال کبھی خوشی کی وجہ سے ہوتا ہے، اور کبھی غم کی وجہ سے۔ پدرسری معاشروں میں مرد کو عطاء کردہ معاشرتی کردار یا سماجی سانچے میں آنسو بہانے والا مرد فِٹ نہیں بیٹھتا۔ نتیجتاً ایسے مردوں کے سماجی کردار یا ان کی "مردانگی" پر سوال اُٹھایا جاتا ہے۔
فیس بک پر ایک تحریر پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ انسان آج کے دور میں اتنی مواصلاتی سہولیات کے باوجود تنہا ہے، تو اس میں مرد ذات کی تنہائی عورت ذات کی نسبت زیادہ ہے۔ ایک پدر سری معاشرے کا پروردہ مرد جسے اوور لوڈ ہو کر اپنا جذباتی بوجھ ڈمپ کرنے کی اجازت نہیں ہے، جو انتہائی خوشی اور انتہائی غمی کے موقع پر عزم و ہمت کا پیکر نظر آنے کی توقعات تلے پِسا چلا جاتا ہے، جسے پنجابی کلچر کا وڈّا بن کر دکھانا ہوتا ہے؛ اس مظلوم مخلوق سے بڑھ کر تنہائی اور کس کے نصیب میں ہو گی۔ اوپر سے طاقتور، مطمئن، اور پُر سکون نظر آنے والا مرد اندر سے کتنا ناتواں، برانگیختہ اور بے چین ہوتا ہے، یہ پہلو وہ کم ہی کسی کو دکھا سکتا ہے۔
ایسے میں اگر پالنہار سے اس کا رابطہ نہ ہو تو یہ کیفیات شاید ڈپریشن، بلڈ پریشر اور سرطان جیسی بیماریوں کا باعث ہی بنتی ہوں گی۔ باہر سے ٹھنڈا اور اندر سے گرم نظر آنے کی یہ کیفیت پنجابی والا تتّا ٹھنڈا کر دیتی ہے تو چڑھنے والا بخار کسی بند دروازے کے پیچھے نیم ملگجے اندھیرے کمرے کے ایک کونے میں بچھے جائے نماز پر پالنے والے کے سامنے سجدہ ریزے ہونے سے ہی اتر سکتا ہے۔ اس کے سامنے سارے حجاب اُٹھ جاتے ہیں۔ وہ جو شہ رگ سے بھی قریب ہے، اسے سب معلوم ہے۔ اسے اندر باہر چلنے والے ٹھنڈی اور گرم ہر دو طرح کیفیات کا علم ہے۔ اس کے سامنے آ کر معاشرتی کردار، سماجی سانچہ اور اپنے جیسے دو پیروں پر چلنے والوں کی توقعات بھری گڑی نظریں سب کہیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ "تعلیم" اور "تربیت" کا لبادہ اتار کر جب مخلوق خالق کے سامنے ایک ننگ دھڑنگ، بے چین اور بے قرار، کُرلاتا ہوا بچہ بن کر پیش ہوتی ہے تو پھر کائنات میں صرف دو ہی کردار باقی بچتے ہیں: مخلوق اور خالق۔ اور اس رشتے کے ناتے مخلوق اپنے خالق سے سب کچھ کہہ ڈالتی ہے۔ پہلے پہل الفاظ ساتھ دیتے ہیں، پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ لفظوں کے پر جلنے لگتے ہیں، جذبات کے سمندر میں لفظ چھوٹی چھوٹی بے معنی کشتیاں بن کر ڈوبنے لگتے ہیں اور پیچھے صرف آنسوؤں کا جوار بھاٹا رہ جاتا ہے۔ جیسے چودھویں کی رات سمندر بے قرار ہو ہو کر ساحل سے سر پٹکتا ہے، ایسے ہی جذبات بے قرار ہو ہو کر دل و دماغ سے آنکھوں کے ساحل تک پہنچتے ہیں، چھلکتے ہیں، بہہ نکلتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب خالق اور مخلوق کا کنکشن مضبوط ترین ہوتا ہے، سگنل فُل ہوتے ہیں اور تصویر بالکل ٹھیک آ رہی ہوتی ہے۔ مخلوق کا ریسیور اور انٹینا دھل کر صاف ہو جانے سے خالق کے ہونے کا احساس اور اسے حال بتانے کی صلاحیت، ہر دو کیفیات حاصل کر لیتے ہیں۔ تب ان کہی بھی کہی بن جاتی ہے، تب شکوے شکایتیں، اور گِلے بیان ہوتے ہیں۔ تب خالق کی رحمت کا احساس بھی بدر کی طرح اپنی روشنی سے منوّر کر دیتا ہے۔ تب دعائیں، مناجاتیں اور حاجتیں پیش اور قبول ہوتی ہیں۔
اس کیفیت کا طاری ہو جانا بھی اس کی عطاء ہے۔ اور جس پر اس کی عطاء ہوتی ہے وہ کبھی نامراد نہیں رہتا۔ دعا ہے کہ آپ اور مجھے رب العالمین اپنے سامنے ایسے پیش ہونے کی توفیق دیتا رہے۔ آمین

اردو محفل فورم کی گیارہویں سالگرہ پر

عرض کیا ہے کہوہ بھی کیا دن تھےجب ہم جِن تھےاب ہم چھوٹے موٹے ہی سہیدیو ہیںیعنیجِنوں کے پیو ہیںقصہ 2005 کے اواخر 2006 کے اوائل کسی وقت کا ہے۔ جب ہم اتنی ہی صحت، کچھ کم وسیع متھا شریف اور متھا جمع بُوتھا شریف پر ذرا کم کم جُھریوں کے حامل تھے۔ بی کام تقریباً کر لیا تھا۔ اور اس کے بعد کیا کرنا ہے، کچھ نہیں پتہ تھا۔ عرصہ کئی برس سے کمپیوٹر پر اردو لکھنے کی کوششیں فرما رہے تھے۔ ان دنوں یاہو اور ایم ایس این نیٹ ورک کی چَیٹ سروس بڑی مقبول تھی۔ اور ہم ایک بیرون ملک مقیم پاکستانی کے تیار کردہ سافٹویئر اردو لنک میسنجر کو استعمال کر کے اردو میں چَیٹنے کی کوشش فرمایا کرتے تھے۔ بس انہیں دنوں کا قصہ ہے کہ ہمیں اعجاز عبید صاحب کے یاہو اردو کمپیوٹنگ گروپ کا پتہ چلا۔ اور پھر ایک نئے اردو فورم "اردو محفل" کی بھنک پڑی۔ اور ہم اس پر جا پدھارے۔
میرا خیال یہ فورم قائم ہوئے کوئی چھ ماہ کا عرصہ ہو چلا تھا۔ فورم کے ممبران کی بڑی تعداد بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی تھی۔ ہندوستانی احباب بھی چند ایک موجود تھے۔ ان میں سے اکثر لوگ اردو بلاگ بھی لکھتے تھے یا بعد میں لکھنے لگے۔ تو یہ ان دنوں کا قصہ ہے جب ہم ذرا جوان شوان تھے، اور اردو کے لیے بہت کچھ کرنے کے جذبے سے سرشار تھے۔ آج سے گیارہ برس قبل یہ فورم ایک عملی ثبوت تھا کہ کمپیوٹر پر اردو لکھی جا سکتی ہے۔ ہم اتنے خوش تھے کہ کئی ایک پراجیکٹ شروع کرنے کی ٹھانی۔ ایک لائبریری جس میں اردو کی کلاسک کتابیں ٹائپ کر کے رکھی جائیں۔ تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے اردو متون کمپیوٹر پر دستیاب ہوں۔ اس کے لیے ہم نے ایک عدد کتاب ہاتھ سے ٹائپ فرمائی اور پھر ایسے بھاگے کہ پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا۔ شاید ایک آدھ اور کسی کام میں بھی حصہ لیا ایک اردو فہرستِ الفاظ کی تیاری میں کچھ ہاتھ بٹایا (جسے بعد میں اوپن آفس میں اردو املاء یعنی سپیل چیکنگ کے لیے استعمال کیا گیا)، لائبریری پراجیکٹ کے لیے ایک آدھ سافٹویئر (جسے بعد میں کبھی اپڈیٹ نہیں کیا) جس کا کام امیج کو دیکھ کر ٹائپنگ میں مدد دینا تھا، اور پھر خاموشی کے طویل وقفوں کے بعد کبھی کبھی کفن پھاڑ پوسٹنگ (ادھر اُدھر سے اکٹھی کر کے کچھ اردو انگریزی اور انگریزی اردو لغات ڈیٹابیسز کی تیاری وغیرہ)۔ عرصہ ساڑھے دس برس کا یہی خلاصہ ہے۔
ان گیارہ برسوں میں اس فورم نے اردو کمپیوٹنگ کے حوالے سے کئی ایک کارہائے نمایاں سرانجام دئیے۔ اس کے اراکین نے ویب پر نستعلیق کی فراہمی سے لے کر کرننگ، اور کئی ایسے سافٹویئر بنانے کا کام سرانجام دیا جو کمیونٹی ڈویلپمنٹ ماڈل کے تحت اردو کمپیوٹنگ کے فروغ کا باعث بنے۔ یہ فورم انٹرنیٹ پر اردو کے عروج کے معماروں میں سے ہے۔ اس کا حصہ رہنا میرے لیے باعثِ فخر رہا ہے اور رہے گا۔ آج مجھے وہ رونق نظر نہیں آتی جو پانچ سات برس قبل اس کا خاصا تھی، بہت سے آشنا چہرے کسی اور منزل کے راہی ہو چکے ہیں، انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا سائٹس کی مقبولیت نے بلیٹن بورڈ فورمز کے بل پر اپنی یوزر بیس میں اضافہ کیا ہے، لیکن پھر بھی ایسے فورمز کی اپنی ایک اہمیت ہے۔ انٹرنیٹ کے لامحدود خلاء میں یہ چھوٹی چھوٹی انسانی بستیاں اپنائیت کا احساس دلاتی ہیں۔ اس تیز رفتاری سے بدلتی دنیا میں یہ بستیاں ہمارے ماضی (سمجھ لیں کہ انٹرنیٹ کے دس برس شاید عام زندگی کے پچاس یا سو برس ہیں) کی یاد دلاتی ہیں کہ ہم نے ابتدا کہاں سے کی تھی۔ جب تک انٹرنیٹ ہے ہماری کوشش رہے گی کہ ایسی بستیاں آباد رہیں۔ ہم کہیں بھی چلے جائیں، واپس لوٹ کر یہاں ضرور آتے ہیں۔ اس بستی سے کچھ ایسی محبت ہے کہ یہاں کسی سے کلام نہ بھی کریں، چپ چاپ کسی گلی کوچے میں بیٹھے رہنا، آتے جاتے رہنا، اور پنجابی والی جھاتیاں مارتے رہنا اچھا لگتا ہے۔ اللہ اس فورم کو آباد رکھے۔ اس بستی کو سلامت رکھے کہ اس کے در و دیوار پر ہماری آپ کی تاریخ رقم ہو رہی ہے۔

مہلت

زندگی مہلت نہیں دیتی۔ ہے نا؟ہر کسی کو بس روز و شب گزارنے اور کام کاج نپٹانے کا لالچ ہوتا ہے۔ اسی لالچ میں 24 گھنٹے گزر جاتے ہیں اور اگلے 24 گھنٹوں کے ساتھ اگلا لالچ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ منحوس چکر کبھی ختم نہیں ہوتا۔آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل۔ سیانوں نے سچ کہا ہے۔ جب احباب ساتھ ہوں تو وہی زندگی ہوتے ہیں۔ جب ساتھ نہ رہے تو ایک اور طرح کی زندگی وجود میں آ جاتی ہے۔ دوستوں کے حلقے ٹوٹتے بنتے یونہی زندگی گزرتی جاتی ہے۔ اور ایک دن ایک اکیلا جیسے آیا تھا ویسے ہی مٹی کی چادر اوڑھ لیتا ہے۔ اور یہی زندگی ہے۔
ان دوستوں کے نام جو کبھی میری زندگی کا حصہ تھے۔ لیکن زمان و مکان کی گردشوں نے ہمیں اتنا دور کر دیا کہ شاید ہی کبھی ملاقات ہو سکے۔

بہار کی شام

آج کا سورج اپنی آخری سانسوں پر آ  کر آسمان کو سرخ کیے ہوئے ہے۔ لمحہ بہ لمحہ ماند پڑتی روشنی منظر کو دھیرے دھیرے رنگین سے بلیک اینڈ وائٹ میں منتقل کرتی جاتی ہے۔ ابھی مغرب کو عازمِ سفر ایک طیارہ سورج کی روشنی میں کسی غیر ارضی جسم کی طرح نظر آ رہا تھا، اور ابھی وہ آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔ پتوں سے بوجھل درخت ہوا سے ایسے لہلہاتے ہیں جیسے فقیر کو توقع سے بڑھ کر خیرات مل جائے تو وہ جھوم اُٹھتا ہے۔ پرندوں کی چہچہاہٹ اس تاریک پڑتے منظر میں نہ ہو تو دنیا گونگی ہو جائے۔
یہ منظر میری حسِ بصارت اور حسِ سماعت سے ٹکرا کر اتنا مجبور کر دیتا ہے کہ میں کامن روم کی بالکنی میں جا کھڑا ہوتا ہوں۔ اور تب مجھ پر اس منظر کی ایک اور جہت کھُلتی ہے، سوندھی سوندھی سی خوشبو۔ میرے وطن میں جب رُکھوں (رُکھ= درخت، شجر) پر بہار اترتی ہے تو بُور (ننھے پھول) کھِلتا ہے۔ ٹاہلی کے پھول، نیم کے پھول اور دھریک کے پھول۔ ان پھولوں کی مہک بھی ایسی ہی جاں فزا ہوتی ہے، سوندھی سوندھی، ہلکی ہلکی اور مسلسل۔ اس اجنبی دیس کی اجنبی فضاؤں میں گھُلی یہ مہک جب میری سانسوں سے ہم آغوش ہوتی ہے تو میں بے خود ہو کر اپنے دیس، دور اپنے سوہنے دیس اُڑ جانے کے لیے مچل اُٹھتا ہوں۔ لیکن میں ایک پر کٹا پرندہ صرف پھڑپھڑا کر رہ جاتا ہوں۔
لیکن میری سوچ کی اُڑان پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہ مہک، یہ بو باس مجھے ان گلی کُوچوں میں، کھیت کھلیانوں میں لے جاتی ہے، اس وقت میں لے جاتی ہے جب میرے دیس میں بہار اترتی تھی۔ اور دھریک پر ننھے ننھے پھول کھلا کرتے تھے۔ اور ان کی مست کر دینے والی خوشبو گرد و نواح کو مہکا دیتی تھی۔ کہتے ہیں کہ مہک اور بو باس کے ساتھ بھی یادیں وابستہ ہوتی ہیں۔ خوشی اور غم کے احساسات منسلک ہوتے ہیں۔ سائنس کی زبان میں کہوں تو مالیکیول جب ایک خاص تناسُب سے نتھنوں سے ٹکراتے ہیں تو خاص قسم کے برقی سگنل پیدا کرتے ہیں۔ جو دماغ میں عصبی خُلیوں کو متحرک کر دیتے ہیں۔ مہک محسوس کرواتے ہیں۔ اور اس سے وابستہ یادوں کو بیدار کر دیتے ہیں۔ آج ، اس وقت، یہ دھیرے دھیرے اترتی شام، گزرے برسوں کی بہاروں کی ان ہزاروں شاموں میں سے ایک شام بن کر مجھ پر اترتی ہے۔ اور میں اس خوشبو کو سانسوں میں بسا کر، پہلی تاریخوں کے ہلال کو دیکھ کر، اپنے رب سے اُس کی رحمت کا طلبگار ہوتا ہوں۔

دس منٹ

"اچھا وقت کتنی جلد ختم ہو جاتا ہے نا؟"، اس کے لہجے میں شکوہ نُما سوال چھُپا تھا۔"وقت بھلا کہاں رُکتا ہے۔" جواباً میری افسوس زدہ سی آواز بلند ہوئی تھی۔ابھی بسیں چلنے میں کچھ وقت تھا۔ ڈرائیور باہر کھڑے متوقع نظروں سے شرکاء کو دیکھ رہے تھے۔ ابھی اُمید باقی تھی، کہ ابھی وہ لمحہ نہیں آیا۔ کچھ لوگ الوداعی کلمات ادا کر کے سوار ہو چکے تھے۔ اور کچھ ہم جیسے لوگ جیسے کسی معجزے کے منتظر تھے، شاید ہونی ان ہونی ہو جائے۔ یا شاید چند لمحے اور چُرانے کے لالچ میں حقیقت سے آنکھیں چُرا رہے تھے۔"مجھے فیس بُک پر ایڈ کر لینا یاد سے۔" اس نے تاکیداً کہا۔"میں جلد ہی تمہارے شہر آؤں گا۔ اپنا شہر گھماؤ گی نا؟" میں نے غیر محسوس انداز میں بات پلٹی۔"ہاں، ہاں ضرور۔۔۔" اس کی آنکھیں یکدم چمکیں اور آواز میں اُمید کی کھنکھناہٹ در آئی۔دس منٹ، دس صدیاں تھے یا دس لمحے۔۔۔ گزرنے کا احساس تب ہوا جب ڈرائیور نے سٹیرنگ سنبھال لیا۔ مہلت ختم ہو گئی۔ اب جانا تھا۔ میں نے آخری بار اس کا ہاتھ دبایا۔ آخری مرتبہ نظریں ملیں، ایک دوسرے کے خال و خد جیسے حفظ کرنے کی آخری کوشش ہوئی۔ اور پھر میں کچھ کہے بغیر بس کی جانب پلٹ آیا۔"اپنا خیال رکھنا۔۔۔" پیچھے سے اُس کی آواز میں لرزاہٹ اُتر آئی تھی، یا میرا وہم تھا۔"تُم بھی اپنا خیال رکھنا۔۔۔" میں نے مُڑے بغیر کہا۔ اور بس میں سوار ہو گیا۔میں نے دانستہ دوسری طرف کی نشست چُنی۔ دوبارہ نظر پڑتی تو صبر کا دامن ہاتھ سے چھُوٹ سکتا تھا۔ بس چل پڑی۔"وہ بھی اپنی منزل کی جانب رواں ہو گئی ہو گی۔" میں نے سوچا۔اور میرا ہاتھ موبائل سے کھیلنے لگا۔ "فیس بُک پر ایڈ کر لینا۔۔۔"۔ اُس کی ہدایت یاد آئی لیکن میں نے سُنی ان سُنی کر دی۔اب میرے سامنے تصاویر تھیں۔ کانفرنس کے پہلے دن جب ہم ملے تھے۔ چائے پیتے ہوئے، لنچ کرتے ہوئے، لیکچر سُنتے ہوئے، اور پھر ان تصویروں میں وہ بھی آ شامل ہوئی تھی۔ اگلے دن چائے پر، لنچ پر اور پھر ڈنر پر جب ہم آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ اس نے ہاتھ میں سرخ وائن پکڑے جام سے جام ٹکراتے ہوئے مُجھے ٹوکا تھا "میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر۔۔۔" اور میں نے خجل ہو کر دوبارہ سے وہ عمل دوہرایا تھا۔ اُس کی مُسکراتی آنکھیں، جن کا سحر جوان ہوتی رات کے ساتھ ساتھ جوبن پر آتا چلا گیا تھا۔ اور پھر موسیقی کی لے تیز ہوئی تو اس نے مجھے بھی ساتھ کھینچ لیا تھا۔ میری رقص کرنے کی کوشش میں ناکامی پر اس کی رقص سکھانے کی کوشش بھی جب ناکام ہوئی، تو ہمارے مشترکہ قہقہے۔ اور پھر ڈی جے نے جب بھنگڑا میوزک لگایا تو ہر کسی کا مُڑ مُڑ کر میرا ذرا کم لڑکھڑاتا اور اس کا بہت زیادہ لڑکھڑاتا ہوا بھنگڑا دیکھنا۔۔۔اور پھر ہماری نقل کی کوشش کرنا۔۔۔ناکام ہونا اور پھر ہمارا کھِلکھِلانا۔۔۔۔ان سب یادوں کے کچھ عکس محفوظ تھے۔ جیسے کوئی مووی چلتے چلتے رک گئی ہو اور کلک کرنے پر دوبارہ چل جائے، یونہی لگتا تھا کہ یہ منظر دوبارہ چل پڑے گا۔ میں نے ایک آخری بار اس کے چہرے پر نظر ڈالی۔ اور اس کے عکس حذف کر دئیے۔"کاش کسی طرح اپنی یادوں سے بھی اس کے عکس مٹا سکتا"، میں نے موبائل بند کرتے ہوئے تمنا کی۔بس آٹو بان پر فراٹے بھرتی میرے شہر کی طرف رواں تھی۔ دھوپ بھرا روشن منظر بس ایک لحظے کے لیے دھندلایا تھا۔ اور "آنکھ میں کُچھ پڑ گیا ہے"، بڑبڑاتے ہوئے میں نے آنکھیں رگڑ ڈالی تھیں۔---بابا مستنصر حسین تارڑ کے سفرناموں سے متاثر ہو کر لکھی گئی ایک تحریر۔ کرداروں اور مقامات کی مماثلت محض اتفاقیہ ہو گی۔

کچھ لکھیے!

"کچھ لکھیے۔" آج کئی دن ہو گئے ہمارے اندر کھد بد سی جاری ہے۔ ہر کچھ دیر بعد اندر سے ایک آواز آتی ہے "کچھ لکھیے ناں"۔ ہمارے کان لال ہو جاتے ہیں، گالوں کا درجہ حرارت سو کو چھونے لگتا ہے۔ ہم پہلے ہڑبڑا کر ادھر اُدھر دیکھتے ہیں پھر خود کو لعنت ملامت کرتے ہیں کہ ایسی بھی کیا ۔۔اچھا خیر چھوڑیے۔ اصل میں مسئلہ ہے کہ اندر سے آنے والی یہ آواز خاصی لوچ دار اور نرم و نازک سی ہوتی ہے۔ جیسے بھلے وقتوں میں کوئی دروازے کے پیچھے سے مُنے کے ابا کو کہا کرتا تھا،" اجی سنیے بازار سے کشمش ہی لیتے آئیے گا"۔ تو شاید ہمیں ہسٹیریا، دو قطبیت یا اس کا قریبی رشتہ دار کوئی چھوٹا موٹا نفسیاتی عارضہ ہو گیا ہے جو  ہمارے کان بجنے لگتے ہیں۔ اور کمبخت کچھ ایسے ٹیون ہوئے ہیں کہ ایک ہی فریکوئنسی کی آواز کیچ کرتے ہیں۔ اللہ نہ کرے کبھی کوئی کھرکھراتی ہوئی، بیٹھی ہوئی، کھانستی ہوئی یا بلغم زدہ آواز میں "کچھ لکھیے ناں" کہے۔ جمالیات کا تو بیڑہ غرق جو ہو گا سو ہو گا، لکھا بھی ہسپتالوں کی حالتِ زار قسم کے موضوع پر جائے گا۔
تو صاحب آج کل ہمارے اندر سے کوئی آواز آتی ہے کہ کچھ لکھیے۔ ہم عرصہ پچیس یوم سے کچھ ایسی بنجر زمین ہوئے ہیں کہ جرمنی کی سرد بارشیں بھی اس پر ہریاول لانے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں۔ ہمارے سامنے ٹہنیوں پر بُور آیا اور اب نوجوان پتے لہلہاتے ہیں۔ لیکن ہم کچھ ایسی زمین بن گئے ہیں کہ گھاس بھی روٹھ گئی ہے۔ اب اس بے موسم خزاں میں بھلا کیا لکھا جائے۔ لیکن ہم نے بھی آج کچھ لکھنے کا تہیہ کر رکھا ہے ۔ تو آئیں بسم اللہ کرتے ہیں۔ آپ پڑھتے جائیں ہم لکھتے جاتے ہیں۔
سیاست ، جسے پیار سے ہم سیاہ ست پکارا کرتے ہیں، پر کچھ لکھا جا سکتا ہے۔ ہمارے کشمیری میاں صاحب وزیرِ اعظم اور ان کی سیاسی فلم کے ولن عمران خان نیازی آج کل بڑھک آرا (بر وزن معرکہ آرا) ہیں۔ بڑا گرما گرم موضوع ہے اور یار لوگ دھڑا دھڑ پکوڑے تل تل کر بیچ رہے ہیں۔ ہم بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لیں۔ وزیرِ اعظم کو دو چار دھولیں رسید کر لیں۔ ماہرِ دھرنا احتجاجیوں کی ٹانگ کھینچ لیں۔ پانامہ لیک کی بوری  سے کچھ مزید گندے کپڑے برآمد کر لیں۔ یا پہلے ہی برآمد شدہ کو ذرا اونچا کر کے ٹانگ کر ان پر تبصرہ کر دیں۔ لیکن پھر ہمیں ہر دو طرف کے "مجاہدین" کے ہاتھوں توپ دم ہونے سے کون بچائے گا؟ تو ہم اس موضوع پر اپنی رائے محفوظ رکھتے ہوئے کسی اور موضوع کی طرف چلتے ہیں۔
ہماری بدقسمتی یا خوش قسمتی کہ کچھ مہینوں میں ہم فیس بُک پر بہت سے لکھاریوں کے پیروکار (فالور) بن گئے ہیں۔ کوئی دو ایک ایسی ویب سائٹس لانچ ہو گئی ہیں جن پر بہت بڑے بڑے گلیور قسم کے سخن ور اپنی دانش کے موتی بکھیرتے نظر آتے ہیں۔ آج کل فیس بُک پر ایک معرکہ حق و باطل برپا ہے جس کے ایک طرف اسلام کے "محافظ" رائٹسٹ اور دوسری طرف "نئے" بیانیے کے داعی سیکولر(فاشسٹ وغیرہ وغیرہ) اپنے اپنے قلم سونتے معرکہ آرائی کرتے نظر آتے ہیں۔ ایک گھُمسان کا رن پڑا ہے، کمنٹس کے چھینٹے اُڑ رہے ہیں، لائیکس چلائے جا رہے ہیں اور دھڑا دھڑ پوسٹس شیئر ہو رہی ہیں۔ مشورے دئیے اور لئے  جار ہے ہیں۔ ایک قیامت کا سا سماں ہے، سینگ سے سینگ لڑا ہے اور ہم کافی فاصلے سے چوری چوری دیکھ رہے ہیں۔ ہمارا بھی دل کرتا ہے کہ ہم بھی کسی سے سینگ لڑائیں۔ لیکن ایسا کرنے کے لیے ہمارے نازک سر پر ایک عدد ہیلمٹ ہونا چاہیئے جو ہمیں جوابی بھیڈوانہ (بھیڈو پنجابی میں بھیڑ کے جوان بچے کو کہتے ہیں) ٹکروں سے بچائے۔ تو ان ٹکروں بلکہ ڈھُڈوں سے بچنے کے لیے ہم اس موضوع پر لکھنے سے بھی توبہ کرتے ہیں۔
تو صاحب اس کا منطقی نتیجہ کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں اس پر لکھا جائے۔ اور آج کل ہم لسانیات کر رہے ہیں۔ اللہ کی رحمت سے ہم پی ایچ ڈی کرنے کی کوشش شروع کر چکے ہیں۔ اپنا موضوعِ تحقیق جسے انگریزی میں ریسرچ پروپوزل کہتے ہیں تیار کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ہمارے سامنے طرح طرح کے پاکستانی انگریزی بلاگز کا ڈیٹا ہے اور اس کے ساتھ ہم لُکن میٹی کھیل رہے ہیں۔ گراف ہیں، ٹیبل ہیں، ایچ ٹی ایم ایل فائلیں ہیں اور ان سے ڈیٹا نکالنے کے لیے سی شارپ نامی ایک پروگرامنگ زبان میں کچھ شاعری (بقول شخصے  coding is poetry) فرمانا آج کل ہماری مصروفیات میں شامل ہے۔ آپ سے لسانیات کی بات کریں تو کیا کریں۔ ہم کون سا ادبی نقاد ہیں جو مصنف کی تحریر پڑھ کر ایک اور ادبی قسم کی تحریر لکھ ڈالیں۔ ہماری آٹھ سالہ تربیت تو کچھ ایسے ہوئی ہے کہ آنکھیں ایکسرے مشین بن گئی ہیں۔ لفظ مل کر ترکیب (فریز) بناتے ہیں، جس سے جملہ اور پھر پیرا گراف بنتا ہے۔ آوازیں اور صرفیے ، معانی اور سیاقی معانی (پریگمیٹکس) اور لسانی تغیرات۔ ہماری تربیت اگر آرٹسٹ کے طور پر ہوئی ہوتی تو ہم بھی کچھ لکھتے۔ ہم رینچ پانا پکڑے ایسے مستری جیسے ہیں جس کی نظر گاڑی کی خوبصورتی نہیں اس کے کُل پرزوں اور ڈھانچے پر جاتی ہے۔ اس کے ہونے کو انجوائے کرنے کی بجائے وہ بونٹ کھول کر اپنے ہاتھ کالے کرنے میں روحانی اطمینان اور سکون محسوس کرتا ہے۔ تو صاحب اب آپ ہی بتائیں آپ کو اپنے رینچ پانےاور سیاہی بھرے کالے ہاتھ دکھائیں یا یہ تحریر یہیں ختم کر کے آپ کی بھی خلاصی کروائیں؟ لگتا ہے کہ موخر الذکر آپشن بہتر ہے۔ 
تو اخلاقی سبق یہ ملا کہ ہم نے آج ناں ناں کرتے ہوئے بھی کچھ لکھ ہی لیا۔

ہر سانحے کے بعد

ہر کربلا کے بعد، ہر سانحے کے بعد، ہر گلشن اجڑ جانے کے بعد میں جو ایک پیشہ ور نوحہ گر ہوں بیٹھتا ہوں، نوحہ لکھتا ہوں۔ میں جو ایک پیشہ ور عزا دار ہوں، سینہ پیٹتا ہوں۔ ہر قیامت گزرنے کے بعد سینہ چاک کیےگلیوں میں مرثیے پڑھتا پھِرتا ہوں۔ ہر بار میرا دل کرتا ہے کاش میں اُن ﷺ کے قدموں میں جا کر بیٹھ سکتا۔ اُن ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر، اُن ﷺ کے سامنے بیٹھ کر رو رو کر پگھل جاتا۔ اُنھیں بتاتا کہسیدی ﷺ میرا وطن لہو لہو ہے۔سیدی ﷺ، آپ کے نام لیواؤں نے ایک دوسرے پر زمین تنگ کر دی ہے۔سیدی ﷺ میرے وطن میں بہار اُترے تو وہ بھی خزاں میں بدل جاتی ہے۔سیدی ﷺ جہاں میرے نونہالوں کے گلشن ہونا تھے وہاں بارود اور موت کا راج ہے۔سیدی ﷺ جہاں گلابوں کی کیاریاں ہونی تھیں وہاں خون کی سرخی کے کیارے ہیں۔سیدی ﷺ اب تو لگتا ہے کہ نیلی چھتری والے نے بھی ہم سے آنکھیں پھیر لی ہیں۔سیدی ﷺ آنکھیں رو رو کر صحرا ہو گئیں لیکن رحمت کی بارش نہیں برستی۔سیدی ﷺ لگتا ہے کہ دعائیں بھی آدھ رستے سے واپس لوٹ آتی ہیں۔سیدی ﷺ میں لاشے اُٹھا اُٹھا کر تھک گیا ہوں۔کاش میں ان ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو سکوں۔ ان ﷺ کے سامنے رو رو کر پگھل جاؤں، ان ﷺ کے پیروں کی خاک ہو جاؤں ۔ کاش رنج و الم کی یہ گٹھڑی جو ہر گزرتے دن کے ساتھ بھاری ہوتی چلی جاتی ہے، میں انﷺ کے سامنے لےجا  کر رکھوں، انھیں ایک ایک زخم کھول کھول کر دکھاؤں۔ کاش مالک مجھ پر یہ کرم کر دے کہ میں اُن ﷺ کے سامنے حاضر ہو سکوں۔ اور عرض کروں کہ سیدی ﷺ اپنی رحمت کا سایہ کیجیے، ہم سے آسمان والا روٹھ گیا، ہماری سفارش کیجیے۔ سیدی ﷺ ہمیں کالی کملی کے سائے میں چھُپا لیجیے۔

اللہ کے فضل کی تلاش

میں نے جب یہ سنا کہ اللہ کو گِڑ گِڑانا بہت پسند ہے، ہاتھ پھیلائے اس کے در پر بھیک مانگو تو اسے دینا اچھا لگتا ہے، تو میں نے اپنی دعاؤں میں گِڑگِڑانا شروع کر دیا۔ جب پتا چلا کہ اس کا شکر کرنے سے وہ اور دیتا ہے، تومیں نے طوطے کی طرح شکر کا رٹا لگانا شروع کر دیا۔ جب معلوم ہوا کہ ادھار دو تو وہ دس گُنا بڑھا کر دیتا ہے، میں نے اُس کی راہ میں خرچ کرنا شروع کر دیا، اس نیت سے کہ اب مال دس گُنا ہو کر واپس آئے گا۔ اُس نے ہر طرح سے مجھے دیا۔ مانگنے پر دیا، شکر کرنے پر دیا اور اپنی راہ میں دینے پر اور زیادہ دیا۔ بابا جی سرفراز اے شاہ صاحب اللہ سائیں سے اس کا فضل اور کرم مانگنے کا کہا کرتے ہیں۔ میں نے جب یہ جانا تو اپنی دعاؤں میں پوری مصنوعی عاجزی طاری کر کے اور مسکین منہ بنا کر اس کا فضل، رحمت، کرم ، عطاء جو لفظ میری لغت میں اس کی رحمت کو ڈیفائن کرنے کے لیے موجود تھا سب استعمال کر کر کے اس سے مانگنا شروع کر دیا۔ تب اُس نے مجھے اور زیادہ عطاء کیا۔
میں پاکستان کی نوے فیصد آبادی کی طرح غربت کو دیکھ کر پلا بڑھا۔ پالنہار کی مہربانی اس نے کبھی بھُوکا نہیں سُلایا، لیکن اپنے والدین کو روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جب سخت جدوجہد کرتے دیکھا تو میرے سامنے خودبخود پہلی منزل یہ آ گئی کہ اتنا کمالوں کہ انہیں دوبارہ وہ دن نہ دیکھنے پڑیں۔ تو میں نے اللہ سے جب اس کا فضل مانگنا شروع کیا تو اس کے بیک اینڈ پر بھی یہی معنی ہوتے کہ اللہ جی بہت سا رزق یعنی روپیہ دے دیجیے۔ کافی زیادہ، بلکہ بہت زیادہ سا۔ اور اس نے مجھے دیا۔ پھر میں نے سنا کہ رزق صرف روپے کی صورت میں نہیں ملتا، اس کی اور بھی بے شمار صورتیں ہیں جیسے اولاد۔ اسی طرح اس کا فضل صرف روپے کی صورت میں نہیں ملتا اس کی بھی بے شمار صورتیں ہیں۔
آج ہمارا جرمن لینگوئج کورس باضابطہ طور پر ختم ہو گیا، ہمارا آخری ٹیسٹ بھی ہو گیا اور ہم یونیورسٹی جانے کے لیے آزاد ہو گئے۔ آج اپنے احباب کے درمیان ایک الوداعی سی تقریب میں وقت گزارا تو احساس ہوا کہ اہل علم کی صحبت بھی اس کا فضل ہے۔ پچھلے چار ماہ مُجھ پر پالنہار کا یہ فضل رہا کہ میں پاکستان کے بہترین دماغوں کے ساتھ اُٹھتا بیٹھتا رہا۔ ان میں سے ہر ایک جو اپنے شعبے کا ماہر ہے، جس کا اظہار ان کی گفتگو سے ہوتا۔ ان کے اندازِ تخاطب، نشست و برخاست اور طرزِ عمل سے پتا چلتا کہ یہ لوگ اس مقام کے حقدار تھے۔ یہ پاکستان میں جب اپنے اپنے شعبے میں، تدریس یا تحقیق جہاں بھی ہوتے ہوں گے تو وہاں اس کی ترقی کے لیے کتنے مؤثر ہوں گے۔ اور آج جب یہ یہاں ہیں، اور تین برس بعد واپس ڈاکٹر بن کر جائیں گے تو ان کی مہارت سے میرے ملک کو کتنا فائدہ ہو گا۔ تو مجھے بڑی شدت سے یہ احساس ہوا کہ ان کے ساتھ رہنا بھی باعثِ سعادت تھا۔ میں جو کسی زمانے میں اپنے والد کی ناشتے کی ریڑھی پر بیرا گیری کرتا تھا، آج مُجھے اُس کریم کی ذات نے کہاں لا بٹھایا ہے۔ تو مجھے احساس ہوا کہ مجھ پر اس کا کِتنا فضل اور رحمت ہے۔ اور جو میں طوطے کی طرح ہر دعا میں آموختہ دوہراتا ہوں کہ مولا میں تیری رحمت کا محتاج، مجھ پر اپنا کرم کر دے، فضل کر دے، عطاء کر دے، تو وہ دعائیں رائیگاں نہیں جا رہیں۔ اس کی بارگاہ میں قبولیت پا رہی ہیں۔ تو میرا سر اس کی رحمت کے احساس سے جھُک گیا۔
میں نے آج یہ سیکھا کہ اچھا حلقۂ احباب بھی اس کا فضل ہے۔ علمِ نافع بھی اس کا فضل ہے۔ چاہے وہ دنیا کا ہو یا دین کا۔ میں نے یہ جانا کہ میں اور میرے یہ سب ساتھی، واپس جا کر اپنے اپنے شعبے میں اپنے وطن کی ترقی کے لیے کچھ کام کرنا چاہتے ہیں۔ جس کا فائدہ عوام کا معیارِ زندگی بہتر ہونے کی صورت میں ہو گا۔ پالیسی سازی، قانون سازی، تدریس اور تحقیق میں اس کا بالواسطہ اور بلاواسطہ اثر ہو گا۔ ان سب کی نیت نیک ہے، تو ان کا عمل حاصل کرنے کا عمل بھی ایک نیک عمل قرار پائے گا۔ اور اس کی توفیق بھی اُس ذات کا فضل ہے۔ میں اپنے رب سے دعا گو ہوں کہ وہ اپنے حبیب ﷺ کے صدقے ہم سب کو نیک نیتی کی توفیق دے، ہمیں اپنے اپنے شعبے کی بہتری کے لیے صدقِ دل اور دیانتداری سے کام کرنے کی توفیق دے۔ اور ہمارے اس علم کو اپنی مخلوق کی مدد کرنے کا آلہ، ان کی زندگی آسان بنانے کا ذریعہ اور ہمارے اہل و عیال کے لیے رزقِ حلال کے حصول کا وسیلہ بنا دے۔ آمین، یارب العالمین۔

ایک شہر

شہر تھا، نہروں کا شہر ایمسٹرڈیم۔ جال تھا، ایک دوسرے کو کاٹتی ہر طرف کو بڑھتی چلی جاتی سڑکوں کا جال۔ مشینیں تھیں، سڑکوں پر دوڑتی ان گنت مشینیں۔ عمارتیں تھیں، قطار اندر قطار کھڑی چھوٹی  بڑی قدیم اور جدید عمارتیں۔ وجود تھے، دو ٹانگوں والے ہزاروں وجود، آپس میں مگن چلتے رکتے چہلیں کرتے وجود۔ اور ایک مسافر تھا، تنہا مسافر۔
پانی تھا، گدلا سبزئی پانی۔ بجرے تھے، کشتیاں تھیں اور گھر تھے۔ ان میں آنکھیں تھیں، متجسس آنکھیں، مگن آنکھیں، ٹٹولتی آنکھیں، کچھ ڈھونڈتی آنکھیں۔ جنگل تھا، کنکریٹ کا جنگل، آپس میں مگن، بے نیاز عمارتوں کا جنگل۔ اور ایک مسافر تھا، بے قرار مسافر۔
آسمان تھا، سرمئی چادر اوڑھے نیم روشن آسمان۔ ہوا تھی، سرد اور بے پرواہ ہوا۔ سورج تھا، بادلوں کی اوٹ میں چھپا شرمندہ سا سورج۔ درخت تھے، پتوں سے عاری ٹنڈ منڈ درخت۔ اور ایک مسافر تھا، اجنبی مسافر۔
بستی تھی، سرخی میں ڈوبی ایک بستی۔ پنجرے تھے، شیشے کے پنجرے۔ مال تھا، غازے میک اپ سے سجا مال، جوان بوڑھا خوبصورت بھدا مال۔ چہرے تھے، تاثرات سے عاری چہرے، لُبھاتے بُلاتے چہرے۔  نگاہیں تھیں، ہوس ناک نگاہیں، کھا جانے والی نگاہیں۔ اور ایک مسافر تھا، سزا جزا نیکی بدی کے بیچ معلق مسافر۔
رات تھی، سیاہ رات۔ روشنیاں تھیں، ہر طرف سے پھُوٹتی روشنیاں، دعوت انگیز روشنیاں۔ رنگ تھے، چمکیلے بھڑکیلے رنگ۔ اجنبیت تھی، زمین سے اُبلتی اجنبیت۔ تنہائی تھی، لامتناہی تنہائی۔ اور ایک مسافر تھا، سرگرداں مسافر۔

اعتراف

آج میرے لینگوئج سکول میں ہم نے اپنے اساتذہ کے لیے ایک الوداعی پارٹی رکھی تھی۔ یہاں چار ماہ گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا۔ میرے ملک کے عظیم دماغ جن کی صحبت کا شرف مجھے حاصل رہا۔ سائنس، معیشت، قانون غرض ہر شعبے کے ابھرتے ہوئے ستارے اور مجھ جیسا ایک عام سا انسان جو بس تُکے سے ان کے ہمراہ ہو لیا۔ پنجابی میں اسے انھے ہتھ بٹیرا (اندھے کے ہاتھ بٹیر) والی مثال سے سمجھا اور سمجھایا جاتا ہے۔
لوگ سمجھتے ہیں کہ میں استاد ہوں اور میں نے یہ بھی مشہور کر رکھا ہے کہ کئی برس سے ترجمہ کر کر کے میں اچھا خاصا مترجم ہو چکا ہوں۔ دوسروں کے الفاظ ترجمہ کر  کر کے اور لوگوں کی کتب سے پڑھا پڑھا کر مجھے چند لفظ کہنے اور لکھنے کا فن آ گیا ہے۔ میرے احباب نے میرے اس بہروپ کو سچ سمجھ کر جب الوداعی کلمات بولنے کے لیے کھڑا کیا تو اپنی کم مائیگی  کا احساس اور شدید ہو گیا۔ اتنے بڑے بڑے لوگ اور ان کے سامنے کھڑا ایک بونا بھلا کیا بولتا۔ انگریزی میں چند جملے بول کر رہ گیا۔ وہ لفظ تو میری زبان سے نکل گئے، لیکن مجھے بہت دیر بعد (جیسا کہ میرا معمول ہے) احساس ہوا کہ ان الفاظ کا کیا مطلب ہے۔ کہ ان عظیم دماغوں کا ساتھ اب چند دنوں کا ہی ہے۔ پھر سب اپنے اپنے شہر پی ایچ ڈی کے لیے چلے جائیں گے، اور میں جو ان کی تابانی سے روشن ہو کر خود کو بھی ایک ہیرا سمجھنے لگ گیا تھا پھر سے بے قیمت کوئلہ رہ جاؤں گا۔
بھلا صلاح الدین جیسا ہنس مُکھ اور بے لوث دوست کہاں ملے گا۔ اس کی سدا بہار مسکراہٹ اور ایک خاص وقفے سے بلند ہوتی ہوئی ہنسی، عبدالرحمٰن کا افسرانہ انداز اور نپی تلی باتیں بھلا کون بھولے گا۔ عمران کی کھلکھلاتی ہوئی خاموش مسکراہٹ، رانا فیصل شہزاد کا اپنی تعریف پر جھینپتے ہوئے قہقہے لگانا، محمد فیصل کا میری جگت اندازی کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا، ظفر صاحب  کا حیران کن حد تک وسیع جرمن ذخیر ۂ الفاظ، سہیل آفتاب بھائی کامشفقانہ اور بزرگانہ انداز ۔۔ تنزیلہ علوی، غزالہ عنبرین، عظمیٰ علی جنہوں نے مجھے چھوٹا بھائی سمجھ کر سُدھارنے کی کوشش کی اور جو سخت ناکامی سے دوچار ہوئی، بشرٰی غفران احمد کا سو سنار کی کے جواب میں ایک لوہار کی چوٹ لگانا اور اس پر مخاطب کا بلبلا اُٹھنا، میمونہ منیر کا پانچ سالہ تدریسی تجربہ جو انہوں نے اس کلاس میں بے دریغ آزمایا اور ماریہ (اور ان کا بیٹا محمد عبداللہ)۔۔۔ یہ سب لوگ ستاروں کا ایک ایسا کلسٹر تھے جن کے قریب سے گزرتے گزرتے میں، ایک آوارہ سیارہ، کچھ عرصے کے لیے روشن ہو گیا۔ اور جب یہ سفر ختم ہوا تو پھر سے اندھیرا اس بے آب و گیاہ وجود کا مقدر ہو گا۔
جے میں ویکھاں عملاں ولےکُجھ نئیں میرے پلے
جے ویکھاں تیری رحمت ولےبلے بلے بلے
میرے پلّے تو کبھی کچھ تھا ہی نہیں۔ میں کل بھی تہی دامن تھا، آج بھی خالی ہاتھ ہوں۔ جو کچھ ہے اُس کی رحمت ہے۔ ان احباب کا ساتھ بھی اس کی رحمتوں میں سے ایک رحمت تھی۔ میرے لیے بہت کچھ سیکھنے کا موقع، جو میری نالائقی سے ضائع جا رہا ہے۔ جب میرے ہاتھ اُٹھیں اور آنکھیں بھر آئی ہوں تو منہ سے یہی لفظ ادا ہوا کرتے ہیں کہ مالک یہ تو تُجھے اور مُجھے پتا ہے کہ میرے پلّے کچھ نہیں ہے۔ لیکن تُو تو ستّار ہے، تُو میرے عیبوں پر پردہ ڈالے رکھیو، یہ جو بہروپ میں نے بھر رکھا ہے، جو سوانگ رچا رکھا ہے اس پر اپنی عطاء کی چادر ڈالے رکھیو۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ شاکر بہت کچھ ہے، لیکن یہ تو تُو اور میں جانتے ہیں کہ شاکر نامی یہ مٹی کا باوا ہر سانس تیری رحمت کا منتظر ہے، جس سانس تیرا کرم اس پر سے اُٹھا وہ سانس اس کی آخری سانس ہو گی۔

میں کیسا بلاگر ہوں؟

میں ایک بلاگر ہوں۔ ایک عدد بلاگ بنا کر اردو بلاگنگ نامی سڑک کے کنارے عرصہ دس برس سے پڑا ہوا ایک ایسا پتھر ہوں جس پر دھوپ، بارش، گرمی، سردی  نے کچھ نشانات چھوڑ دئیے ہیں، کہیں کچھ کائی سی جمی ہے، کچھ خراشیں آ چکی ہیں، کچھ کنارے جھڑ چُکے ہیں اور کچھ رنگ اُڑ چکا ہے۔ یعنی بحیثیتِ مجموعی ایک "قدیم" حجر شمار ہو سکتا ہوں۔ اس "قدامت" پر اکثر اوقات مجھے ایک کمینہ سا فخر رہا کرتا ہے۔
میں اردو بلاگنگ نامی سڑک کا ایک ایسا سنگِ میل ہوں جو ایک ویرانے میں نصب ہے۔ جب یہ سڑک میرے پاس سے گزرتی ہے تو صرف ویرانہ اور بنجر بیابان زمین نظر آتی ہے۔ گو کہ یہ سڑک بڑے زرخیز خِطوں اور علاقوں سے گزرتی ہے،  اس کی راہ میں بڑے نابغۂ روزگار لکھاریوں کے گھر آتے ہیں اور پھر اب تو اردو بلاگنگ نامی یہ سڑک ڈان اردو، جنگ بلاگز، ہم سب اور لالٹین جیسے کئی بڑے بڑے شہروں تک بھی جاتی ہے۔ لیکن میں ایک تنہائی پسند پتھر ہوں جسے اس سڑک کا ایک گمنام سا سنگِ میل رہنا منظور ہے۔
میں بلاگر ہونے کے ناطے ایک لکھاری بھی ہوں۔ لیکن میری مثال راج مستری کے مقابلے میں ایک ایسے مزدور کی سی ہے جو اینٹیں ڈھونے کے ساتھ ساتھ فرش ہموار کر کے اس پر سیمنٹ ڈال کر ذرا پکا صحن بنانے کا کام بھی جاننے لگ جاتا ہے۔ اور اسی جاننے میں خود کو راج مستری سمجھنے لگتا ہے۔ میں بھی ایسا ہی ایک نیم پکا ہوا لکھاری ہوں جس کا مطالعہ کم ہوتے ہوتے صفر تک آن پہنچا ہے۔ جس کے پاس مشاہدہ نہ ہونے کے برابر ہے چنانچہ وہ جب لکھتا ہے تو راج مستری نما مزدور کی طرح ایک اونچا نیچا فرش بنا دیتا ہے۔ دیوار کھڑی کرتا ہے تو ٹیڑھی ہوتی ہے، چھت ڈالتا ہے تو پہلی برسات میں ہی رِسنے لگتی ہے۔ میں ایک ایسا لکھاری ہوں جو کنویں میں رہنے والے مینڈک کی طرح صرف ایک اور شخصیت سے واقف ہوتا ہے : اس کا اپنا عکس۔ چنانچہ جب کنویں کا مینڈک کچھ ارشاد کرتا ہے تو وہ اس کی اپنی شان میں ہی فرمائی گئی کوئی بات ہوتی ہے۔ میری تنگ دستی، کم فہمی اور کوتاہ نظری کسی بھی بیرونی معاملے پر میری تحریر کے امکانات صفر کر دیتی ہے نتیجتاً میں خود پر، اپنے بارے میں، اپنے سے متعلق اشیاء کے بارے میں لکھتا ہوں جس کا پڑھنے والے سے شاذ ہی کوئی تعلق نکلتا ہے۔
اپنے اس بے ترتیب، بے ڈھنگے سفر میں مُجھ سے نادانستگی میں کچھ ایسی بلاگ پوسٹیں سرزد ہو چکی ہیں جنہیں وسیع و عریض صحرا میں پانی کے سراب سے تشبیہ دینا زیادہ مناسب رہے گا۔ کہ کبھی کبھی میرے قارئین کو لگتا ہے کہ میں ایک ہنرمند مستری قسم کا لکھاری ہو چکا ہوں۔ لیکن یہ کیفیت برسوں میں ہی کبھی وارد ہوتی ہے۔ اپنی اس مختصر سی بلاگ زندگی میں چلتے چلتے بائی داو ے قسم کے دو چار ایسے کام مجھ سے سرزد ہو چکے ہیں جن پر بلاشبہ مذکورہ بالا کمینہ سا فخر میں اپنا حق خیال کرتا ہوں۔ ان میں کسی زمانے میں ورڈپریس کے ترجمے کی کوشش، لینکس آپریٹنگ سسٹم کی تنصیب کے اسباق، اردو بلاگنگ کے حوالے سے کچھ پوسٹس، کچھ اردو نیوز ویب سائٹس کا ڈیٹا اکٹھا کر کے ایک ٹیکسٹ آرکائیو بنانا، اور حالیہ برسوں میں اپنے ترجمے کے کام کو آسان بنانے کے لیے ادھر اُدھر سے ڈیٹا اکٹھا کر کے دو تین آفلائن اردو لغت ڈیٹا بیسز کی تخلیق جیسی چیزیں شامل ہیں۔
تنہائی کا دائمی مریض ہونے کی وجہ سے اپنے بِل سے نکلنا مجھے کم ہی پسند ہے ۔ لیکن کبھی کبھی تجربے کی خاطر میں سوشل گیدرنگ میں بھی چلا جاتا ہوں۔ چنانچہ چند ایک اردو بلاگرز جو مجھ سے بالمشافہ ملاقات کا شرف رکھتے ہیں وہ تصدیق کریں گے کہ ان الفاظ کو لکھنے والی ٹنڈمنڈ شخصیت کو دیکھ ان شاخوں پر کبھی بہار نہ اترنے کا گمان یقین میں بدل جاتا ہے۔
چنانچہ اے میرے قارئین (اگر کوئی ہے تو) میری بلاگنگ پاکستان میں موسمِ گرما میں بجلی کی فراہمی جیسی ہے جو اکثر غائب رہتی ہے لیکن کبھی کبھار آ بھی جاتی ہے۔ بلاگنگ کے نام پر ایک داغ ہونے کی حیثیت سے میں شرمندہ شرمندہ کسی کو اپنے بلاگ پر کھینچنے کے لیے جگہ جگہ اپنی بلاگ پوسٹس کے ربط نہیں دیتا، کسی بڑی ویب سائٹ کو اپنی تحریر نہیں بھیجتا (اگر ایسا کبھی ہوا بھی تو ناقابلِ اشاعت کا پیغام بھی موصول نہیں ہوتا)، اپنے بلاگ پر سینکڑوں پیج ویوز کی شماریات کا اعلان نہیں کرتا (چونکہ سینکڑوں پیج ویوز ہوتے ہی نہیں) اور اپنے بلاگ پر لکھے کو دو چار ماہ بعد خود ہی پڑھ کر خوش ہو لیتا ہوں۔ 
تو جناب آج آپ نے جانا کہ میں کیسا (یعنی کس قسم کا) اور کیسے (یعنی کس طرح سے) بلاگر ہوں۔ تو آپ اگر مانیں یا نہ مانیں میں ایک بلاگر ہوں، اور بلاگنگ کے گلے میں اٹکا ایک ایسا کانٹا ہوں جو نہ نِگلا جا سکتا ہے اور نہ اُگلا جا سکتا ہے۔

ملعون نسلِ انسانی از مارک ٹوین

پچھلے برس ایک کرم فرما کے لیے مارک ٹوین کا مضمون دی ڈیمڈ ہیومن ریس ترجمہ کیا تھا۔ ادب کے حوالے سے انتہائی محدود مطالعہ ہونے کی وجہ سے کبھی ادبی ترجمہ کرنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔ یہ بچگانہ سی نوعیت کا ترجمہ بھی آپ احباب کے ساتھ ڈرتے ڈرتے بانٹ رہا ہوں۔
میں نے (نام نہاد) ادنیٰ حیوانات کے عادات و خصائل کا مطالعہ کیا ہے، اور انہیں انسان کے عادات و خصائل سے ملا کر دیکھا ہے۔ مجھے اس کا نتیجہ اپنے لیے باعثِ ذلت محسوس ہوا ہے۔ کیونکہ یہ مجھے مجبور کرتا ہے کہ میں 'انسان کے ادنٰی حیوانات سے عروج' کے ڈارونی نظریے کے ساتھ اپنی وفاداری سے اظہارِ برأت کر دوں؛ چونکہ اب مجھے صاف صاف لگتا ہے کہ اس نظریے کو ایک نئے اور زیادہ سچے نظریے سے تبدیل کر دینا چاہیئے، یہ نیا اور زیادہ سچا نظریہ 'اعلیٰ حیوانات سے انسان کا زوال' کہلا سکتا ہے۔
اس ناپسندیدہ نتیجے  پر پہنچنے کے لیے میں نے اندازے یا قیاس کے گھوڑے نہیں دوڑائے، بلکہ ایک ایسا طریقہ استعمال کیا ہے جو عرفِ عام میں سائنسی طریقہ کار کہلاتا ہے۔ اس سے مراد ہے کہ میں نے سامنے آنے والے ہر مفروضے کو حقیقی تجربے کی ناگزیر کسوٹی پر پرکھا ہے، اور اس کے نتیجے کے مطابق اسے اپنایا یا مسترد کیا ہے۔ چنانچہ میں نے اپنے راستے کے ہر قدم پر تصدیق اور ثبوت کی فراہمی کے بعد ہی اگلا قدم اٹھایا ہے۔ یہ تجربات لندن زوالوجیکل گارڈنز میں سرانجام دئیے گئے، اور کئی ماہ کے جفاکش اور تھکا دینے والے کام پر مشتمل تھے۔ان تجربات کی جزئیات بیان کرنے سے قبل، میں ایک یا دو چیزیں بیان کرنا چاہوں گا جو اگلے حصوں کی بجائے یہاں بیان کرنا مناسب معلوم ہوتی ہیں۔ ان کا مقصد صراحت پیدا کرنا ہے۔ ان اجتماعی تجربات نے میرے خیال کے عین مطابق کچھ عمومی اُصول ثابت کیے، یعنی:
1۔ یہ کہ نسلِ انسانی ایک ممیّز نوع سے تعلق رکھتی ہے۔ اس میں آب و ہوا، ماحول، اور دیگر عوامل کے باعث معمولی تغیرات (جیسے رنگ، قدوقامت، ذہنی استعداد وغیرہ وغیرہ) پائے جاتے ہیں؛ لیکن یہ اپنے آپ میں ایک نوع ہے، اور اسے کسی اور نوع کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیئے۔
2۔ یہ کہ چوپائے بھی ایک ممیّز خاندان ہیں۔ اس خاندان میں تغیرات پائے جاتے ہیں (جیسے رنگ، حجم، کھانے کی ترجیحات وغیرہ وغیرہ؛ لیکن یہ اپنی ذات میں ایک خاندان ہے)۔
3۔ یہ کہ دیگر خاندان (پرندے، مچھلیاں، حشرات، خزندے وغیرہ) بھی کم یا زیادہ ممیّز ہیں۔ وہ ایک تسلسل میں پائے جاتے ہیں۔ وہ ایک ایسی زنجیر کی کڑیاں ہیں جو اعلیٰ حیوانات سے نیچے پیندے میں موجود انسان تک پھیلی ہوئی ہے۔ 
میرے کچھ تجربات خاصے متجسسانہ تھے۔ اپنے مطالعے کے دوران میرے سامنے ایک کیس آیا جس میں، کئی برس قبل، ہمارے عظیم میدانوں میں کچھ شکاریوں نے ایک انگریز ارل کی تفریح طبع کے لیے بھینسے کے شکار کا اہتمام کیا۔ انہوں نے بڑا دلکش کھیل پیش کیا۔ انہوں نے بہتر کی تعداد میں یہ عظیم حیوانات مار ڈالے؛ اور ان میں سے ایک کا کچھ حصہ کھا کر بقیہ اکہتر کو سڑنے کے لیے چھوڑ دیا۔ ایک ایناکونڈا اور ایک ارل (اگر ایسی کوئی چیز وجود رکھتی ہے تو) کے مابین فرق کا تعین کرنے کے لیے میں نے کئی ننھے بچھڑے ایک ایناکونڈا کے پنجرے میں ڈالے۔ اس ممنون خزندے نے فوری طور پر ان میں سے ایک کو کچل کر نگل لیا، اور پھر مطمئن ہو کر لیٹ گیا۔ اس نے بچھڑوں میں مزید کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی، اور نہ انہیں نقصان پہنچانے کی جانب مائل ہوا۔ میں نے دیگر ایناکونڈا کے ساتھ یہی تجربہ سرانجام دیا؛ نتیجہ ہمیشہ یہی نکلا۔ اس سے ثابت ہوا کہ ایک ارل اور اینا کونڈا میں فرق یہ ہے کہ ارل ظالم ہے جبکہ ایناکونڈا ایسا نہیں؛ اور یہ کہ ارل کو جس کی ضرورت نہ ہو اسے خوامخواہ غارت کر دیتا ہے، لیکن ایناکونڈا ایسا نہیں کرتا۔ اس سے خیال پیدا ہوتا تھا کہ ایناکونڈا کا جدِ امجد ارل نہیں ہے۔ اس سے یہ خیال بھی پیدا ہوتا تھا کہ ارل کا جدِ امجد ایناکونڈا ہے، اور وہ اس وراثتی تبدیلی کے دوران بہت سے خصائل گنوا چکا ہے۔
میں باخبر ہوں کہ بہت سے انسانوں، جنہوں نے کروڑوں روپے کے اتنے انبار لگا لیے ہیں کہ تمام عمر خرچ کرنے سے بھی ختم نہ ہوں، نے مزید دولت کی سگ گزیدہ بھوک ظاہر کی ہے، اور جزوی طور پر یہ بھوک مٹانے کے لیے انہوں نے بے خبروں اور بے کسوں کی جمع پونجی لوٹنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ میں نے ایک سو مختلف اقسام کے جنگلی اور پالتو حیوانات کو کھانے کی بڑی مقداریں ذخیرہ کرنے کے مواقع فراہم کیے، لیکن ان میں کسی نے بھی ایسا نہ کیا۔ گلہریوں اور شہد کی مکھیوں اور کچھ پرندوں نے ذخائر جمع کیے، لیکن وہ بھی ایک سرما کے برابر ذخیرہ کر کے پیچھے ہٹ گئے، اور انہیں ایمانداری یا حیلے بازی، کسی بھی طریقے سے مزید کرنے پر مائل نہ کیا جا سکا۔ اپنی بری شہرت کو مزید تقویت دینے کے لیے چیونٹی نے ظاہر کیا کہ وہ رسد ذخیرہ کر رہی ہے، لیکن میں نے دھوکا نہ کھایا۔ میں چیونٹی کو جانتا ہوں۔ ان تجربات نے مجھے قائل کیا کہ انسان اور اعلیٰ حیوانات میں یہ فرق پایا جاتا ہے: انسان حریص اور بخیل ہے؛ وہ نہیں ہیں۔اپنے تجربات کے دوران میں نے خود کو قائل کیا کہ حیوانات میں سے انسان اکلوتا حیوان ہے جو اہانتیں اور زخم اکٹھے کرتا ہے، انہیں سینچتا ہے، موقع ملنے کا انتظار کرتا ہے، اور پھر بدلہ لیتا ہے۔ اعلیٰ حیوانات بدلہ لینے کے جذبے سے آشنائی نہیں رکھتے۔
مرغ حرم رکھتے ہیں، لیکن یہ ان کی داشتاؤں کی اجازت کے ساتھ ہوتا ہے؛ اس لیے اس میں کوئی برائی نہیں۔ انسان حرم رکھتا ہے لیکن اس کے لیے وحشیانہ طاقت استعمال کرتا ہے، اور اسے خبیثانہ قوانین کی حمایت حاصل ہوتی ہے جن کے بنانے میں دوسری صنف کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہوتا۔ اس طرح سے انسان مرغ سے بھی کہیں پست مقام پر جا فائز ہوتا ہے۔
بلیوں کا اخلاق کمزور ہوتا ہے، لیکن وہ بے خبری میں ایسا کرتی ہیں۔ آدمی بلیوں سے نسبِ وراثت کے حصول کے دوران ان کی کمزور اخلاقیات تو اپنے اندر لے آیا لیکن اس نے بے خبری کو پیچھے چھوڑ دیا (خاصیت جس کے باعث بلیاں قابلِ معافی قرار پاتی ہیں)۔  بلی معصوم ہے، انسان نہیں ہے۔
ابتذال، سفلہ پن، فحاشی عریانی (یہ بعینہ انسان تک محدود ہیں)؛ یہ اس نے ایجاد کیے۔ اعلٰی حیوانات میں ان کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ وہ کچھ نہیں چھپاتے؛ وہ شرمسار نہیں ہوتے۔ انسان، اپنے آلودہ دماغ کے ساتھ، خود کو ڈھانپتا ہے۔ وہ اپنا سینہ اور پُشت برہنہ چھوڑ کر کمرہ ملاقات میں بھی داخل نہ ہو گا، چنانچہ وہ اور اس کے رفقاء نازیبا مشورے سے اتنے حساس ہوتے ہیں۔ انسان ایک ایسا حیوان ہے جو قہقہہ لگاتا ہے۔ لیکن بندر بھی ایسا کرتا ہے، جیسا کہ مسٹر ڈارون نے اشارہ کیا؛ اور اسی طرح آسٹریلوی پرندہ، جسے قہقہہ لگاتا گدھا کہا جاتا ہے، بھی کرتا ہے۔ نہیں! آدمی ایک ایسا حیوان ہے جو شرم سے سرخ ہو جاتا ہے۔ وہ ایسا کرنے یا کرنے کا موقع پانے والا اکلوتا حیوان ہے۔
اس مضمون کے آغاز پر ہم نے دیکھا کہ چند دن قبل تین بھکشوؤں کو جلا کر مار دیا گیا، اور ایک مہمتمم کو سنگدلانہ اذیت پہنچا کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ کیا ہم تفصیلات میں جائیں؟ نہیں؛ یا کیا ہمیں سراغ لگانا چاہیے کہ مہمتمم کے اعضاء کی قطع برید کو اشاعتی الفاظ کی حد میں نہیں لایا جا سکتا۔ انسان (جب وہ شمالی امریکی انڈین ہو) اپنے قیدیوں کی آنکھیں نکال لیتا ہے؛ جب شاہ جان ہو تو بھتیجے کو بے ضرر بنانے کے لیے لوہے کی سرخ سلائیاں پھیر دیتا ہے؛ قرونِ وسطیٰ میں کافروں کے مقابل جوشیلا مذہبی ہو تو اپنے قیدی کی زندہ ہی کھال کھینچ کر پشت پر نمک چھڑک دیتا ہے؛ رچرڈ اول کے دور میں ہو تو کثیر تعداد میں یہودی خاندانوں کو ایک ٹاور میں بند کر کے آگ لگا دیتا ہے؛ کولمبس کے عہد میں ہو تو ہسپانوی یہودیوں کے ایک خاندان کو پکڑ لیتا ہے اور (لیکن یہ قابلِ اشاعت نہیں ہے؛ ہمارے زمانے کے انگلینڈ میں ایک آدمی کو دس شلنگ کا جرمانہ ہوا اور اس کا جرم صرف اپنی ماں کو کرسی کے ساتھ مار مار کر ادھ مُوا کر دینا تھا، اور ایک اور شخص کو چالیس شلنگ کا جرمانہ بھرنا پڑا کہ اس کے قبضے سے چکور کے چار انڈے برآمد ہوئے جن کے ذریعۂ حصول کے بارے میں وہ قابلِ اطمینان وضاحت پیش نہ کر سکا)۔ تمام حیوانات میں، صرف انسان ہی ظالم ہے۔ وہ اکلوتا حیوان ہے جو درد اس لیے دیتا ہے کہ اس سے لطف اندوز ہوا جا سکے۔ یہ ایک ایسی خاصیت ہے جو اعلیٰ حیوانات کے لیے اجنبی ہے۔ بلی خوفزدہ چوہے کے ساتھ کھیلتی ہے؛ لیکن اس کے پاس بہانہ ہے، کہ وہ نہیں جانتی کہ چوہا تکلیف میں ہے۔ بلی معتدل ہے (غیر انسانی طور پر معتدل: وہ چوہے کو صرف ڈراتی ہے، وہ اسے تکلیف نہیں پہنچاتی؛ وہ انسان کی طرح اس کی آنکھیں نہیں نکالتی، یا اس کی کھال نہیں کھینچتی، یا اس کے ناخنوں تلے لکڑی کی کھچیاں نہیں گھسیڑتی)؛ جب وہ چوہے سے کھیلنے سے اکتا جائے تو ایک ہی بار نوالہ بنا کر اسے تمام تکلیف سے نجات دلا دیتی ہے۔ انسان ظالم حیوان ہے۔ وہ اکیلا ہی اس امتیاز کا حامل ہے۔
اعلیٰ حیوانات انفرادی لڑائیوں میں ملوث ہوتے ہیں، لیکن کبھی منظم جتھوں میں یہ کام نہیں کرتے۔ انسان اکلوتا حیوان ہے جو خباثتوں کی خباثت، یعنی جنگ، میں ملوث ہوتا ہے۔ وہ اکلوتا حیوان ہے جو اپنے بھائی بندوں کو گرد جمع کرتا ہے اور سفاکی اور پرسکون دل کے ساتھ اپنی نوع کو نابود کرنے کے لیے نکل پڑتا ہے۔ وہ اکلوتا حیوان ہے جو فرومایہ اجرت کے بدلے جنگ پر نکل کھڑا ہو گا، جیسے ہمارے انقلاب میں کرائے کے جرمن سپاہیوں نے کیا، اور جیسے لڑکا نما شہزادہ نپولین نے زولو کی جنگ میں کیا، اور اپنی ہی نوع کے اجنبیوں کے قتلِ عام میں مدد فراہم کرے گا جنہوں نے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا اور جن کے ساتھ اس کا کوئی جھگڑا نہیں۔
انسان اکلوتا حیوان ہے جو اپنے بے کس ہم وطن کو لوٹ لیتا ہے -- اس کو قبضے میں لے لیتا ہے اور اسے ملکیت سے بے دخل کر دیتا ہے یا تباہ کر دیتا ہے۔ انسان نے ہر قرن میں ایسا کیا ہے۔ اس کُرے پر زمین کا ایک ایکڑ بھی ایسا نہیں ہے جو اپنے جائز حقدار کے قبضے میں ہو، یا جسے مالک در مالک، سلسلہ در سلسلہ، طاقت اور خون ریزی کے ذریعے ہتھیایا نہ گیا ہو۔
انسان اکلوتا غلام ہے۔ اور وہی اکلوتا حیوان بھی جو غلام بناتا ہے۔ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں غلام رہا ہے، اور ہمیشہ اس کی جبری بندش میں کسی نہ کسی انداز میں غلام موجود رہے ہیں۔ ہمارے دور میں وہ ہمیشہ اجرت کے لیے کسی نہ کسی انسان کا غلام ہوتا ہے، اور اس انسان کا کام کرتا ہے؛ اور اس غلام کے نیچے کم تر اجرت پر دیگر غلام ہوتے ہیں، اور وہ اِس کا کام کرتے ہیں۔ اعلٰی حیوانات اس حوالے سے خاص ہیں کہ وہ اپنے کام بذاتِ خود سرانجام دیتے ہیں اور اپنی روزی آپ کماتے ہیں۔
انسان اکلوتا محب وطن ہے۔ وہ خود کو اپنے ملک، اپنے ذاتی جھنڈے کے نیچے الگ تھلگ کر لیتا ہے اور پھر دوسری اقوام کا ٹھٹھہ اڑاتا ہے، اور بھاری اخراجات پر بے شمار وردی پوش قاتل تیار رکھتا ہے تاکہ دوسروں کے ممالک کے ٹکڑے ہتھیا سکے، اور انہیں اپنے ملک کے ساتھ ایسا کرنے سے باز رکھ سکے۔ اور مہمات کے درمیانی اوقات میں، وہ اپنے ہاتھ دھو کر خون صاف کر لیتا ہے اور منہ سے انسان کی عالمی اخوت کا درس دینے لگتا ہے۔
انسان مذہبی حیوان ہے۔ وہ اکلوتا مذہبی حیوان ہے۔ وہ اکلوتا مذہبی حیوان ہے جس کے پاس سچا مذہب ہے، کئی ایک سچے مذہب۔ وہ اکلوتا حیوان ہے جو اپنے پڑوسی سے اپنی ذات کی طرح محبت کرتا ہے، اور اگر اس کا عقیدہ درست نہ ہو تو اس کا گلا کاٹ دیتا ہے۔ اس نے خوشی اور جنت تک اپنے بھائی کا راستہ صاف کرنے کی مخلصانہ کوشش میں کرۂ ارض کو ایک قبرستان بنا دیا ہے۔ اس نے سیزر کے عہد میں ایسا کیا، اس نے عہدِ تفتیش میں ایسا کیا، اس نے فرانس میں دو صدیوں تک ایسا کیا، اس نے میری کے دور کے انگلینڈ میں ایسا کیا، وہ تب سے ایسا کر رہا ہے جب اس نے پہلی روشنی دیکھی تھی، اس نے آج کے کریٹ میں ایسا کیا (بمطابق اوپر پیش کردہ ٹیلی گرام) وہ مستقبل میں بھی کسی جگہ ایسا ہی کرے گا۔ اعلٰی حیوانات کا کوئی مذہب نہیں۔ اور ہمیں بتایا جاتا ہے کہ آخرت کی زندگی میں انہیں شامل نہیں کیا جائے گا۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ آخر کیوں؟ پسند کا یہ معیار قابلِ اعتراض سا معلوم ہوتا ہے۔
آدمی عقلی حیوان ہے۔ خیر دعویٰ تو یہی کیا جاتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس پر مباحثہ ہو سکتا ہے۔ درحقیقت، میرے تجربات نے مجھے بذریعہ ثبوت بتایا کہ وہ غیر عقلی حیوان ہے۔ اس کی تاریخ دیکھیں، جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا۔ مجھے تو صاف لگتا ہے کہ وہ جو کچھ بھی ہو کم از کم ایک عقلی حیوان نہیں ہے۔ اس کا ماضی ایک جنونی کا شاندار ماضی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کی ذہانت کے خلاف مضبوط ترین حقیقت یہ ہے کہ اپنے پیچھے ایسے ماضی کے باوجود وہ بڑی نرمی سے خود کو ان سب کا سربراہ حیوان مقرر کر لیتا ہے: جبکہ اپنے ہی معیارات کے مطابق وہ ارذل ترین حیوان ہے۔
حقیقت میں، انسان ایک ایسا احمق ہے جس کا علاج نہیں ہو سکتا۔ سادہ چیزیں جو دیگر حیوان باآسانی سیکھ لیتے ہیں، وہ انہیں سیکھنے کے قابل نہیں۔ میرے تجربات میں یہ پیش آیا۔ ایک گھنٹے میں مَیں نے ایک بلی اور کتے کو دوست رہنا سکھایا۔ میں نے انہیں ایک پنجرے میں ڈالا۔ اگلے گھنٹے میں مَیں نے انہیں خرگوش کے ساتھ دوستی سے رہنا سکھا دیا۔ دو دنوں کے دوران میں ایک لومڑی، ایک ہنس، ایک گلہری اور کچھ فاختاؤں کو شامل کرنے میں کامیاب رہا۔ آخر کار ایک بندر بھی شامل کر لیا۔ وہ پرامن -- بلکہ پیار بھرے -- انداز میں اکٹھے رہے۔
اس کے بعد، میں نے ایک پنجرے میں ٹپریری سے ایک آئرش کیتھولک کو محبوس کر دیا، جیسے ہی وہ سدھایا گیا تو میں نے ایبرڈین سے ایک اسکاچ پريسبيٹيريَن کو ساتھ ڈال دیا۔ بعد ازاں قسطنطنیہ سے ایک ترک؛ کریٹ سے ایک یونانی عیسائی؛ ایک آرمینیائی؛ آرکنساس کے جنگلات سے ایک میتھوڈسٹ؛ چین سے ایک بُودھ؛ بنارس سے ایک برہمن۔ آخر میں واپِنگ سے جیشِ نجات کا ایک کرنل ڈالا۔ پھر میں دو مکمل دن ان سے دور رہا۔ جب میں نتائج کے اندراج کے لیے واپس آیا، تو اعلیٰ حیوانات کا پنجرہ بالکل ٹھیک تھا، لیکن دوسرے پنجرے میں خونی فسادات اور پگڑیوں کے سِروں اور طرپوشوں اور اونی چادروں اور ہڈیوں اور ماس کے علاوہ کوئی زیرِ مطالعہ نمونہ باقی نہیں بچا تھا۔ یہ عقلی حیوانات ایک مذہبی مسئلے پر اختلاف کا شکار ہوئے تھے اور اس مسئلے کو ایک 'اعلٰی عدالت' میں لے گئے۔
فرد یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ کردار کے حقیقی غرور میں مبتلا انسان گھٹیا ترین اعلیٰ حیوانات تک پہنچنے کا دعویٰ بھی نہیں کر سکتا۔ یہ بالکل واضح ہے کہ وہ دستوری طور پر اس بلندی تک پہنچنے کے لیے معذور ہے؛ یہ کہ وہ دستوری طور پر ایک نقص کا شکار ہے جس کے باعث ایسی کوئی کوشش ہمیشہ کے لیے ناممکن ہو جانی چاہیئے، چونکہ یہ عیاں ہے کہ  اس میں یہ نقص مستقل، لازوال اور ناقابلِ انسداد ہے۔
میرے خیال میں یہ نقص حسِ اخلاق ہے۔ ایسی کوئی چیز رکھنے والا یہ اکلوتا حیوان ہے۔ یہ اس کی تنزلی کا راز ہے۔ یہ ایسی صفت ہے جو اسے غلط کرنے کے قابل کرتی ہے۔ اس کا اور کوئی منصب نہیں ہے۔ یہ کوئی اور فعل سرانجام دینے کے قابل ہی نہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا تھا کہ نفرت کا کوئی اور مقصد ہو۔ اس کے بغیر، انسان کچھ غلط نہیں کر سکتا تھا۔ وہ فوراً اعلیٰ حیوانات کے رتبے پر عروج کر جائے گا۔
چونکہ حسِ اخلاق کا صرف ایک ہی منصب ہے، اکلوتی اہلیت (یعنی انسان کو غلط کرنے کے قابل بنانا) یہ صریحاً اس کے لیے کسی قدر کی حامل نہیں۔ یہ اس کے لیے اتنی ہی بے قدر ہے جیسے کوئی بیماری ہو۔ درحقیقت، یہ اعلانیہ طور پر ایک بیماری ہے۔ باؤلا پن برا ہے، لیکن یہ اس بیماری جتنا برا نہیں۔ باؤلا پن انسان کو ایک کام کرنے کے قابل بناتا ہے، جو وہ صحت مند حالت میں کبھی نہ کرے: زہریلے دانتوں سے کاٹ کر اپنے پڑوسی کو مارنا۔ باؤلے پن کا شکار کوئی بھی انسان بہتر نہیں ہے: حسِ اخلاق انسان کو غلط کرنے کے قابل بناتی ہے۔ یہ اسے ہزاروں طریقوں سے غلط کرنے کے قابل بناتی ہے۔ باؤلا پن تو حسِ اخلاق کے مقابلے میں ایک معصوم بیماری ہے۔ تو پھر، حسِ اخلاق کا حامل کوئی بھی انسان بہتر انسان نہیں ہے۔ تو کیا آدم پر خدائی لعنت اس کی وجہ ہے؟ صاف طور پر یہ آغاز میں جو تھی: انسان پر حسِ اخلاق کا عذاب؛ اچھائی کو برائی سے ممتاز کرنے کی صلاحیت؛ اور اس کے ساتھ، لازماً، برائی کرنے کی صلاحیت؛ چونکہ مُرتکب میں برائی کے شعور کے بغیر کوئی برا فعل سرزد نہیں ہو سکتا۔
تو اس لیے میں نتیجہ نکالتا ہوں کہ ہم، کسی دُور پار کے جد سے (کوئی خردبینی ایٹم جو پانی کے ایک قطرے کے عظیم افقوں کے مابین اتفاقاً مزے لے رہا ہو گا) حشرہ در حشرہ، حیوان در حیوان، خزندہ در خزندہ، طویل راستے پر گندگی اور کم تر معصومیت پر اترتے رہے، یہاں تک کہ ہم ارتقاء کی ارذل ترین منزل پر آ پہنچے (جسے نسلِ انسانی کا نام دیا جا سکتا ہے)۔ ہم سے ارذل کچھ نہیں ہے۔

فیس بُک پر لائیکنے کے رہنما اُصول

فیس بُک پر لائیکنے کے رہنما اُصول

حضراتِ گرامی فیس بُک آج اُمت کی زندگی کا ایک اہم جزو بن چکی ہے۔ لاتعداد صالحین روزانہ اس میدان میں برسرِ عمل نظر آتے ہیں۔ فیس بک کی ان بے پایاں خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں ضرورت محسوس ہوئی کہ فیس بُک کے حوالے سے کچھ آداب وضع کر لیے جائیں۔ علماء کے ہاں لائیکنا فیس بُک کی ایک اہم سرگرمی شمار کی گئی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمیں لائیکنے کے آداب اور اصول و مبادی پر کوئی خاطر خواہ تصنیف نہیں ملتی۔ اسی کمی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فدوی یہ مختصر رسالہ لکھ رہا ہے تاکہ عوام الناس کو فیس بک پر صراطِ مستقیم اپنانے کی تلقین ہو۔

1۔ مقدس ہستیوں سے منسوب اشیاء کی تصاویر کو لائیکنا فیس بُک کے فرائض میں شمار کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں کسی قسم کی تحقیق کی ضرورت محسوس نہ کی جائے۔ تصویر میں دئیے گئے تیر کے نشان کو فالو کرتے ہوئے لائیک کا بٹن دبایا جائے۔ بلکہ افضل یہ ہے کہ لائیکنے کے ساتھ ساتھ شیئرنے کا عمل بھی سرانجام دے کر شیطان کو شکست دی جائے جو ہمیشہ آپ کو ایسی تصویر شیئرنے سے روکے گا۔ امید ہے اس طرح مزید خیر و برکت حاصل ہو گی۔

2۔ ڈی پی اور کور فوٹو تبدیل ہوتے ساتھ ہی لائیک کرنا فیس بُک کے واجبات میں شمار کیا جائے گا۔ آپ کے فرینڈز آپ کے پڑوسی ہیں اور پڑوسیوں کا خیال رکھنا آپ کا فرض ہے۔ نیز چونکہ آپ اپنی ڈی پی کے لیے بھی ان کی جانب سے لائیکنے کی توقع رکھتے ہیں، اس لیے ان کے لیے بھی وہی چاہیں جو آپ اپنے لیے چاہتے ہیں۔ ڈی پی اور کور فوٹو فوراً لائیکنا افضل ہے تاہم مصروفیت کی وجہ سے چند گھنٹے تک کی تاخیر گوارا کی جا سکتی ہے۔ ڈی پی یا کور فوٹو پر جا کر تعریفی کمنٹس بھی افضل عمل شمار کیے جائیں گے۔

3۔ آپ کی فیڈ میں آنے والی تصویری اور عبارتی شاعری کو لائیکنا فیس بُک کے علماء کے نزدیک ایک مستحسن عمل خیال کیا گیا ہے۔ اس سے نہ صرف فرینڈز کی دلجوئی ہوتی ہے بلکہ انہیں مزید عملِ نیک کی توفیق بھی ملتی ہے۔

4۔ آپ کے فرینڈز میں اگر کوئی فیس بُکی رائٹر یا شاعر موجود ہیں تو ان کی طبع زاد پوسٹوں کو لائیکنا باعثِ فضیلت ہے۔ اس سلسلے میں ثقہ علماء نے لائیکنے کو نئے پودوں کو پانی دینے سے تشبیہ دی ہے۔ آپ کے لائیکنے سے یہ ننھے پودے کل تناور درخت بھی بن سکتے ہیں۔

5۔ اپنے فرقے/ گروہ/ قوم کی تعریف کرنے والی اور مخالفین کی ذاتیات پر حملہ کرنے والی پروپیگنڈہ تصاویر اور پوسٹس کو لائیکنا بھی فیس بُک کے افضل الاعمال میں سے ایک ہے۔ اس سلسلے میں ثقہ علماء نے شیئرنے کی بھی پرزور تاکید کی ہے۔

فیس بک کے حوالے سے یہ رسالہ ابھی زیرِ تکمیل ہے۔ ہماری دیگر علمائے فیس بُک سے بھی دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ اس کارِ خیر میں حصہ ڈالیں اور اُمت کو فیس بُک پر صراطِ مستقیم دِکھا کر ثوابِ دارین حاصل کریں۔

Pages