جعفر

ہم دل والوں کو بہت کچھ ہوتا ہے صنم

روحان یونیورسٹی جانے کے لیے  گھر سے نکلا تو دس بج رہے تھے۔  بلیو جینز پر وائٹ ٹی شرٹ ، جس  پر سامنے "کَم بے بی کَم" لکھا ہوا تھا، پولیس کا   چشمہ، نفاست سے ترشی ہوئی داڑھی اور گُوچی کی خوشبو میں بسا روحان  کمال  کسی فیری ٹیل کا پرنس یا یونانی دیوتا یا کسی فیشن میگزین کااطالوی ماڈل  لگ رہا تھا۔ نئے ماڈل کی کار کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھنے سے پہلے اس نے کار میں بیٹھنے کی دُعا پڑھی جو اس نے  اسی ہفتے علامہ اللہ دتّہ  کے تازہ ترین  درس میں سیکھی تھی۔  دس بجے کے بعد رش آور ختم ہوجاتا ہے ۔روحان نے کینال روڈ پر ایک سو تیس کی رفتار سے گاڑی دوڑانا شروع کی۔ کار سٹیریو پر یویو ہنی سنگھ   فل والیم میں اپنی سریلی آواز میں  گنگنا رہا تھا۔۔۔چار بوتل واڈکا کام میرا روز کانہ مجھ کو کوئی  روکےنہ کسی نے روکاکار جہاں سے گزرتی ، دھم دھم کی آواز سے  لوگ باگ مُڑ کے دیکھتے ۔ کہیے تو جیسے روحان کمال، موبائل ڈی جے بٹ  ہو۔روحان نے   مارلبرو کے پیکٹ سے سگریٹ نکالا اور طلائی لائٹر سے سلگا کے لمبا کش لیا۔  نِرنے کلیجےمیں پہلا کش ٹھاہ کرکے لگا تو روحان کو یاد آیا کہ اس نے ناشتہ نہیں کیا۔ اس نے فورا گاڑی کا رخ  مکڈونلڈز کی طرف موڑدیا۔  ڈبل چِیز برگر اور ایکسٹر ا لارج پیپسی نے اسے تازہ دم کردیا۔  روحان کی کار کیمپس میں داخل ہوئی تو اسے محسوس ہوا کہ آج معمول سے زیادہ چہل پہل ہے۔ گاڑی پارک کرکے وہ پولٹیکل سائنس ڈپارٹمنٹ کی طرف گامزن ہوا۔  نیلے آسمان پر ہلکے سرمئی بادل سورج سے آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔ فضا میں خوشگوار سی خنکی اور رومانیت تیر رہی تھی۔  ایسے موسم میں کس کافر کا دل سگریٹ پینے کو نہ چاہے۔ روحان نے سگریٹ سلگایا اور پہلا کَش لیتے ہی تمباکو ، پیپسی اور برگر  کا ملا جلا ڈکار مارا اور زیر لب الحمدللہ کہا۔  روحان کو اس وقت بالکل احساس نہ ہوا کہ کوئی اسے بہت انہماک سے دیکھ رہا ہے۔ وہ اپنی دُھن میں اجے دیوگن سٹائل میں سگریٹ ہونٹوں میں دبائے اپنے ڈپارٹمنٹ کی طرف  رواں دواں تھا۔ روحان پولٹیکل سائنس میں ماسٹرز کررہا تھا۔  اپنے ڈپارٹمنٹ کا وہ سب سے ذہین سٹوڈنٹ مانا جاتا تھا۔ روحان اتنے گولڈ میڈل جیت چکا تھا کہ اس  نے اپنی امّی  کو پانچ تولے کے کنگن بنا کے دئیے تھے۔  یہ اس کا اپنی امّی کے لیے ایک حقیر سا تحفہ تھا جنہوں نے اسے کپڑے سِی سِی کر پالا پوسا اور پڑھا رہی تھیں۔  ڈپارٹمنٹ میں پہنچ کر اسے چہل پہل کی وجہ معلوم ہوئی۔ آج ان کے ڈپارٹمنٹ میں نئے طلباء کی ویلکم پارٹی کا اہتمام تھا۔  روحان وہاں پہنچتے ہی سب کی توجہ کا مرکز بن گیا۔  پروفیسر عطیہ بخش نے روحان کو بلایا اور ہدایت کی کہ تقریب کی نظامت اس کے ذمہ ہے اور مہمان خصوصی کی خدمت میں سپاس نامہ بھی اسے ہی پیش کرنا ہے۔ نصابی کے ساتھ ساتھ روحان ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی دلچسپی لیتا تھا۔وہ   یونیورسٹی کی فٹبال، ہاکی، کرکٹ، سکواش، بیڈ منٹن، باڈی بلڈنگ،  شطرنج، کبڈی اور ڈبیٹنگ ٹیموں کا کپتان تھا۔  اس کی زیر قیادت ہر سال انٹر یونیورسٹی مقابلوں میں  کلین سویپ کیا جاتا تھا۔  تقریب شروع ہوئی ۔ روحان کمال نے اپنے مخصوص انداز میں سپاسنامہ پیش کیا۔ اشعار سے سجے اس اظہار یے نے شرکاء کو دم بخود کردیا۔ سپاسنامہ ختم ہوا  تو پورا  پنڈال تالیوں سے گونج اٹھا۔ روحان نے نئے طلباء کے نمائندہ کو تقریر کے لیے بلایا  تو یکدم جیسے وقت ٹھہر سا گیا ہو۔ بنفشی آنکھیں، میدے جیسے رنگت، ستواں ناک، گلاب کی پنکھڑیوں جیسے ہونٹ ، نچلا ہونٹ تھوڑا سا اٹھاہوا، سرو قد، سر اور کان حجاب میں لپٹے ہوئے، فٹنگ والی بلیک شرٹ جس کے گلے پر سرخ کڑھائی اورسگریٹ ٹراؤزر ۔۔۔ جوبن ایسا کہ برسوں کی تپسّیا بھنگ کردے۔ روحان کی نظریں اس مایا جال میں ایسی الجھیں کہ اسے ڈائس خالی کرنا بھول گیا۔  اس مہ وش کی سانسیں جب اسے اپنے چہرے پر محسوس ہوئیں تو یکلخت جیسے وہ ہوش میں آگیا ہو۔ اس نے نظر بھر کے ایک دفعہ پھر اسے دل میں اتارا اور ڈائس اس کے حوالے کرکے  سٹیج کے عقب میں جا  کھڑا ہوا۔ روحان کو اس کا اندازہ اس دن ہوا کہ حُسن کوجس طرف سے بھی دیکھیں حُسن ہی رہتا ہے۔  سٹیج کے عقب میں کھڑے ہو کر اس پری وش کو تکتے رہنا  اس کے بس کی بات نہیں تھی۔ ایک عجیب سی بے اختیاری اس پر طاری تھی ۔  وہ سگریٹ تک بھول چکا تھا ۔ یاد تھا تو بس وہ ایک نظارہ۔۔۔۔ یہ روحان کمال کی جوبنہ ودود سے پہلی ملاقات تھی۔ کیوپڈ اپنا کام کرچکا تھا۔ روحان کمال کا دل چھلنی ہوچکا تھا اور اس کے دل سے بہنے والے خون نے جوبنہ کا نام اس کی روح پر لکھ  دیا تھا۔ جوبنہ کا حال بھی مختلف نہیں تھا۔ آج صبح یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہی اس نے روحان کمال کو کمال بے نیازی سے سگریٹ پیتے ہوئے دیکھا تو اس کا دل اس کی نفاست سے ترشی ہوئی داڑھی میں اٹک گیا ۔ یہ محبت کی وہ گھاتیں ہیں جو معصوم دلوں کو چھلنی کردیتی ہیں گھائل پنچھی  اڑنا بھول جاتے ہیں۔  پیار کے گیت گاتے ہیں اور پیتم کو یاد کرتے ہیں۔ روحان اور جوبنہ نے وقت ضائع نہیں کیا۔ تقریب سے اگلے ہی دن روحان نے کلاس کے بعد جوبنہ کو گراسی پلاٹ میں برگد کے پیڑ کے نیچے بلایا ۔ جوبنہ فیروزی ٹی شرٹ اور جینز میں  پرستان سے آئی پری لگ رہی تھی۔ اس نے حسب معمول سر اور کان اچھی طرح سکارف سے ڈھکے ہوئے تھے ۔ ایک بال تک نظر نہیں آتا تھا۔  روحان نے جوبنہ کی  ساگر جیسی آنکھوں میں جھانکا، اس کامرمریں ہاتھ پکڑا، چشمہ اتار کے شرٹ کے کالر کی پچھلی طرف اٹکایا، اور اس سنگ مرمر سے بنے ہاتھ کو  اپنی آنکھوں سے لگا لیا۔ جوبنہ بے اختیار ہوکر روحان کی  مضبوط بانہوں میں سما گئی۔   دور کہیں کنٹین پر یہ گانا چل رہا تھا۔۔۔۔میں تے ماہی اینج جیویںٹچ بٹناں دی جوڑیعشق اور مُشک چھپائے نہیں چھپتے۔ روحان اور جوبنہ کی کہانی بھی یونیورسٹی میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ روحان کمال یونیورسٹی کی طلباء تنظیم کا صدر بھی تھا۔ طلباء تنظیم کی ہائی کمان کی طرف سے اسے   پیشی کا بلاوا آیا۔  روحان ، یونیورسٹی سے فارغ ہو کر ہیڈ آفس پہنچا تو تنظیم کے سارے بڑے اس کا انتظار کررہے تھے۔ چئیرمین واسع شریف  نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔ ان کا رویہ واضح طور پر سرد تھا۔ انہوں نے تنظیم کے اغراض و مقاصد  اور ضابطہ اخلاق پر روشنی ڈالی۔ اسلام، نظریہ پاکستان اور اخلاقی اصولوں و مشرقی روایات کی اہمیت بیان کی۔  تمہید کے بعد واسع شریف نے  صاف الفاظ میں روحان اور جوبنہ کے تعلق کا ذکر کیا اور جوبنہ کے ملبوسات کو مشرقی و اسلامی روایات کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے روحان کمال سے وضاحت طلب کی کہ بطور صدر آپ یونیورسٹی میں ضابطہء اخلاق کے نفاذ کے ذمہ  دار ہیں۔ اور آپ نے آج تک یہ ذمہ داری بخوبی ادا کی ہے ۔ لیکن جوبنہ ودود کے مخرب الاخلاق ملبوسات بارے آپ نے یہ کوتاہی کیوں کی؟ روحان کمال نے  جیب سے پیکٹ نکالا، سگریٹ کھینچا، منہ میں دبایا، طلائی لائٹر سے اسے سلگا کر ایک طویل کش لیا ۔ دھواں واسع شریف پر چھوڑتے ہوئے بے نیازی سے جواب دیا۔۔۔اوہنوں سج دے وی  نیں۔۔۔۔

پانامہ کا ہنگامہ - لاسٹ لاف

پانامہ کا معاملہ اپنے منطقی انجام کی طرف رواں دواں ہے۔ میاں نواز شریف اپنی سیاسی  بقاء کے لیے آخری حد تک جا چکے ہیں۔ انکے پاس جو تُرپ کا پتّہ تھا وہ کھیلا جا چکا ہے۔ اب صرف اس کے نتائج و عواقب کا انتظار ہے۔ اس معاملے کی تفصیل سے پہلے ایک کہانی سن لیجیے۔سترہویں صدی عیسوی کے اختتام کا ذکر ہے۔ شمالی ہندوستان کے ایک غیرمعروف قصبے میں ایک پختون خاندان آباد تھا۔ گھر میں غربت نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ بچوں میں سب سے بڑے لڑکے نے فیصلہ کیا کہ وہ شہر جا ئے گا اور  اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کی خوشحال زندگی کے لیے محنت مزدوری کرے گا۔ لڑکے کی عمر بمشکل پندرہ سولہ سال تھی۔ والدین نے بوجھل دل کے ساتھ بیٹے کو رخصت کیا اور پھر اپنی زندگی میں اس کی شکل دوبارہ نہ دیکھ سکے۔  دن مہینے سال گزرتے گئے اور اس لڑکے کی کوئی خبر نہ آئی۔ گھر والوں نے صبر کرلیا کہ شاید کسی حادثے کا شکار ہوگیا ہوگا۔ جیسے تیسے گھر کا نظام چلتا رہا۔ زمانہ بیت گیا۔ لڑکے کے والدین وفات پاگئے۔  بہن بھائیوں کی شادیاں ہوگئیں۔ سب اس لڑکے کو بھول بھال چکے تھے کہ ایک دن اچانک وہی لڑکا ایک ادھیڑ عمر شخص بن کر واپس آگیا!۔کھچڑی بال، کندھوں تک دراز زلفیں، ترشی ہوئی خوبصورت داڑھی ، چہرے پر ایسا رعب کہ  دوسری نظر ڈالنی مشکل۔ بہن بھائیوں نے مشکل سے پہچانا کہ جب گھر چھوڑا تو سب بہت چھوٹے تھے۔ انہوں نے اسی قصبے میں جگہ لے کر ایک خانقاہ نما حویلی تعمیر کرانی شروع کی۔  حویلی تعمیر ہوچکی تو روزانہ وہاں لنگر پکتا اور سب کے لیے دعوتِ عام ہوتی۔ آہستہ آہستہ قرب و جوار میں ان کی شہرت پھیلتی گئی۔ یہ کوئی روحانی بزرگ یا پیر نہیں تھے لیکن پھر بھی دور دور سے لوگ ان سے ملنے آتے اور اپنے مسائل ان کے سامنے رکھتے۔ وہ دعا اور دوا ، دونوں سے ان کا حل نکالنے کی کوشش کرتے۔ بظاہر کوئی ذریعہ آمدن نہ ہوتے ہوئے بھی  حویلی کی تعمیر، لنگر  اور ضرورت مندوں کی مدد ، بہت سے لوگوں کے لیے حیرت کا باعث تھا۔  ایک دن انہوں نے سب گھروالوں کو اکٹھا کیا اور ان سے رازداری کا حلف لے کر انہیں اپنے غیاب کی کہانی سنائی۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ گھر سے نکلے تو بردہ فروشوں کے ہتھے چڑھ گئے۔ چار سال ایک بیگار کیمپ میں گزارے۔ موقع پا کر وہاں سے فرار ہوئے اور ہمالیہ کی ترائی میں جا پہنچے۔  بردہ فروشوں کے خوف سے وہ کسی آبادی کے قریب نہیں جاتے تھے اور جنگل میں ہی بسر کرتے تھے۔ ایک رات  سوتے ہوئے ان کو زہریلے سانپ نے ڈس لیا۔   ان کی چیخ و پکار اس جنگل میں سننے والا کوئی نہیں تھا۔ اسی حالت میں بے ہوش ہوگئے۔ آنکھ کھلی تو خود کو ایک غار میں پایا۔  جہاں ایک دھان پان سے بزرگ بھی موجود تھے۔ اگلے دس سال انہوں نے اسی بزرگ کے ساتھ گزارے اور ان کی خدمت کرتے رہے۔ بوقت وصال ان بزرگ نے ان کو ایک ایسا راز دیا جس کے لیے زمانہءقدیم سے لوگ اپنی زندگیاں وقف کرتے آرہے ہیں۔بزرگ نے انہیں سونا  بنانے کا نسخہ بتایا۔ اس کے ساتھ کچھ شرائط بھی عائد تھیں۔   اس سے اپنی ذات پر صرف بقدرِ ضرورت خرچ کیا جاسکتا تھا۔ اور یہ نسخہ آخری وقت میں صرف بڑے بیٹے کو منتقل کیا جاسکتا تھا اس سے پہلے ایسا کرنے کی کوشش کی جاتی یا کسی اور بتانے کی کوشش کی جاتی تو سونا بننا بند ہوجاتا۔  نسل در نسل یہ سلسلہ چلتا رہا ۔ یہ خاندان ہجرت کرکے موجودہ پاکستان میں آپہنچا۔ نسل در نسل اس راز کی حفاظت ہوتی رہی اور ضرورت مندوں اور محتاجوں کی مدد کی جاتی رہی۔ اپنی ضروریات پر کسی نے کچھ خرچ نہیں کیا اور محنت مزدوری کرکے خاندان کا پیٹ پالتے رہے۔ یہ اسّی کی دہائی کی ذکر ہے۔ جنرل ضیاء کا مارشل لاء لگ چکا تھا۔ پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد تھیں۔ افغان جہاد شروع ہوچکا تھا۔ ایٹمی پروگرام فیصلہ کُن مرحلے پر پہنچ چکا تھا۔ بھٹو کی موت کے بعد عربوں نے ایٹمی پروگرام کی فنڈنگ سے ہاتھ اٹھا لیا ۔ حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ شاید یہ پروگرام ، جو پاکستان کی سلامتی کی ضمانت تھا، بند کرنا پڑتا۔ وزراتِ خزانہ کے ایک اعلی افسر ،جو  ایک پولیس آفیسر کے بچپن کے دوست تھے، انہوں نے اس بات کا ذکر ان سے کیا اور فکرمندی کا اظہار کیا کہ حالات بہت نازک ہیں۔ اگر فنڈز کا بندوبست نہ ہوا تو شاید ہمیں ایٹمی پروگرام روکنا پڑے۔ پولیس افسر  یہ بات سن کر چونکے اور اپنے دوست سے کہا کہ کیا وہ ان کی ملاقات کسی ذمہ دار حکومتی شخصیت سے کروا سکتے ہیں۔ بہت اصرار پر بھی انہوں نے اپنے دوست کو کچھ بھی بتانے سے انکار کردیا اور کہا کہ وہ اصل بات کسی ذمہ دار حکومتی شخصیت کو ہی بتائیں گے۔یہ پنڈی کے حساس علاقے میں موجود ایک عمار ت کا کانفرنس روم تھا۔ کمرے میں جنرل ضیاء، غلام اسحاق خان، ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور جنرل غلام جیلانی موجود تھے۔ پولیس آفیسر نے بات شروع کی۔ انہوں نے اپنےوزارتِ خزانہ میں موجود اپنے دوست کے ساتھ ہوئی  بات چیت کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ فنڈز کا مسئلہ حل کرسکتے ہیں۔ جنرل ضیاء کے چہرے کے تاثرات سے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہ  یہ بات سن کر بالکل محظوظ نہیں ہوئے۔ انہوں نے سخت لہجے میں پوچھا، "آپ کے پاس سونے بنانے کا نسخہ ہے؟" پولیس آفیسر نے جواب دیا، " جی ہاں"۔  یہ جواب سن کر کانفرنس روم میں ایک دم سنّاٹا چھا گیا۔ پولیس آفیسر نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ان کو موقع دیا جائے تو وہ اس بات کو ثابت کرسکتے ہیں۔ جنرل ضیاء نے ڈاکٹر قدیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کو ساتھ لے جائیں   اور دیکھیں کہ یہ کیا کرتے ہیں۔قصّہ مختصر، یہ پولیس آفیسر اسی پختون خاندان سے تعلق رکھتے تھے جن کے بزرگ کو ہمالیہ کی ترائی میں سونا بنانے کا نسخہ ملا تھا۔ انہوں نے کہوٹہ لیبارٹریز میں سب سائنسدانوں کے سامنے لوہے سے سونا  بنا کے دکھایا۔ ہر قسم کے ٹیسٹ کرنے کے بعد جب سب کو یقین ہوگیا کہ یہ خالص سونا ہے تو سب حیرت سے انگشت بدنداں رہ گئے۔ یہاں سے ایٹمی پروگرام کا آخری مرحلہ شروع ہوا۔ سونا بنانے کے لیے لوہے کی کثیر مقدار درکار  ہوتی تھی۔  اگر سرکاری طور پر خام لوہے کی کثیر مقدار در آمد کی جاتی تو اس سے غیرملکی ایجنسیوں کے کان کھڑے ہوسکتے تھے جو پہلے ہی پاکستان پر نظریں جمائے بیٹھے تھے۔ اس موقع پر جنرل جیلانی نے لاہور کے شریف خاندان سے سلسلہء جنبانی شروع کیا۔ ان کو اس شرط پر اتفاق فونڈری واپس کی گئی کہ وہ اپنے نام پر سکریپ در آمد کریں گے اور حکومت کے حوالے کردیں گے۔ اس خدمت کے بدلے میاں شریف کے بڑے صاحبزادے کو پنجاب میں نمائشی قسم کا وزیر خزانہ بھی مقرر کیا گیا۔  سونا بنانے کا یہ کام تقریبا دو سال جاری رہا۔ اور  انیس سو تراسی کے لگ بھگ ایٹمی پروگرام  پایہء تکمیل کو پہنچا۔ یہ پولیس آفیسر، جہانگیر ترین کے والد تھے۔جنرل ضیاء کی شہادت کے بعد بے نظیر حکومت میں آئیں۔ اس کے بعد دس سال تک جمہوری حکومتوں کی میوزیکل چئیرز جاری رہی۔ ایٹمی پروگرام کی تکمیل کے بعد پاکستان نے میزائل پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ غلام اسحاق خان نے جہانگیر ترین کو بلایا اور ان سے درخواست کی کہ میزائل پروگرام کے لیے فنڈز چاہییں جبکہ سیاسی حکومتوں کے لوٹ کھسوٹ سے ملک تقریبا دیوالیہ ہونے والا ہے۔ لہذا آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ جہانگیر ترین کے والد کے انتقال کے بعد سونا بنانے کا نسخہ ان  تک منتقل ہوگیا  تھا اور انہوں نے بھی اپنے والد کی طرح  اسے ملک کی خدمت کے لیے استعمال کیا۔نوّے کا عشرہ جہاں سیاسی افراتفری اور حکومتی لوٹ کھسوٹ کا زمانہ گنا جاتا ہے وہیں اس عشرے میں پاکستان کا میزائل پروگرام بھی پروان چڑھا۔ اس کا سہرا سائنسدانوں کے بعد جہانگیر ترین کے سر ہے۔ غلام اسحاق خان نے بصد اصرار جہانگیر ترین کو بینک سے قرضہ لے کر دیا اور کہا کہ آپ ملازمت چھوڑ دیں اور کاروبار کریں تاکہ یکسو ہو کر ملک کی خدمت ہوسکے۔  دو ہی سالوں میں بینک کا سارا قرضہ لوٹا دیا گیا اور یہ سب کاروبار کی کامیابی سے ہوا۔ حیرت کی بات یہ کہ سونا بنانے کی صلاحیت کے باوجود، اس فن سے اپنی ذات پر ایک دھیلا بھی خرچ نہیں کیا گیا۔ یہ سب ملک و قوم اور اسلام کی خدمت کے لیے استعمال ہوا۔  اسی دور میں اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدانوں سمیت پورے حکمران طبقے میں ایک غیر تحریری معاہدہ طے پایا کہ چاہے کوئی بھی اقتدار میں ہو اور کیسے بھی حالات ہوں، جہانگیر ترین اور ان کے خاندان کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا ۔ ان کو غیرسرکاری طور پر پاکستان کی فرسٹ فیملی کا درجہ دے دیا گیا۔  یہ بھی طے ہو ا کہ جیسے بھی سیاسی حالات ہوں، سیاسی مخالفت کسی بھی درجے تک پہنچی ہو، جہانگیر ترین پر کوئی بھی وار نہیں کرے گا  کیونکہ یہ خاندان پاکستان کا حقیقی محسن ہے۔ جنرل مشرف آئے ، اس کے بعد پی پی کی حکومت آئی۔ اس سارے عرصے میں سیاسی طور پر بہت خاک اڑائی گئی  لیکن کسی بھی طرف سے ترین کو ہدف نہیں بنایا گیا۔ وہ ن لیگ میں بھی رہے۔ جنرل مشرف کے ساتھ بھی رہے۔ ق لیگ میں بھی رہے لیکن انکا احترام ہر حکومت اور پارٹی نے ملحوظ رکھا۔  دو ہزار گیارہ میں جب پی ٹی آئی کا عروج شروع ہوا تو جہانگیر ترین  پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے۔ لوگ آج تک سوال اٹھاتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے پاس اتنے بڑے جلسے کرنے،  میڈیا پر اتنی کوریج کے لیے فنڈز کہاں سے آتے ہیں۔ اس کا جواب جہانگیر ترین اور ان کا سونا بنانے کا فن ہے۔ پاکستانی سیاست سے گند صاف کرنے کے لیے انہوں نے اپنے اس فن کو دوبارہ استعمال کیا۔ دو ہزار تیرہ کے انتخابات کی کہانی پہلے بیان ہوچکی ہے کہ کیسے اس وقت کی فوجی قیادت نے پی ٹی آئی کی کمر میں خنجر گھونپا تھا۔ اگر دھاندلی نہ ہوتی تو آج پاکستان کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔ دھرنے کے دوران اور اس کے بعد جہانگیر ترین کا ہر وقت عمران خان کے ساتھ ہونا میاں نواز شریف کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ مشکل یہ بھی تھی کہ ترین کے خلاف وہ کسی بھی قسم کی کوئی کاروائی نہیں کرسکتے تھے۔پانامہ لیکس لیکن اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوا۔ میاں نواز شریف کو علم ہوچکا تھا کہ ان کے خلاف منصوبہ بنانے والوں میں شہباز شریف اور چوہدری نثار بھی شامل ہیں۔ بیماری کا بہانہ بنا کر لندن روانہ ہونے سے پہلے انہوں نے دو کام کیے۔ حمزہ شہباز کو اغوا کرواکے افغانستان بھجوادیا جہانگیر ترین کے خلاف جعلی بنک دستاویزات تیار کروائیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے بنک سے قرضہ معاف کروایا۔ حمزہ شہباز کو اغوا کرنے کی کہانی دلچسپ اور عبرت آموز ہے۔ کسی دور میں حمزہ کو ن لیگ میں نواز شریف کا جانشین سمجھا جاتا تھا۔ سیاسی سوجھ بوجھ اور متحرک شخصیت کی وجہ سے وہ کارکنان میں ہر دلعزیز تھے۔  لیکن اقتدار کا کھیل ایسا ظالم ہے کہ خون کے رشتے بھی اس کے سامنے ماند پڑجاتے ہیں۔ شہباز شریف نے اقتدار کی خاطر بھائی کے خلاف منصوبے میں شرکت کی اور بھائی نے اقتدار کے لیے سگے بھتیجے کو اغوا کراکے بھائی کو پیغام دیا کہ  اقتدار کے لیے وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ لندن میں قیام کے دوران انہوں نے جہانگیر ترین کے بچوں کے نام پر جائیداد کا سراغ لگانے کے لیے پیسہ پانی کی طرح بہایا۔ جہانگیر ترین اگر چاہتے تو سارا لندن خرید سکتے تھے ان کے لیے دولت کوئی مسئلہ نہیں۔ ریاست پاکستان ان کو دنیا میں کسی بھی جگہ ہر قسم کی سہولیات فراہم کرنے پرہروقت تیار رہتی تھی۔ لیکن انہوں نے اپنے  جائز کاروبار سے کمائی ہوئی دولت سے اپنے بچوں کے لیے جائیداد خریدی۔ جس خاندان نے اس ملک کے لیے ایسی خدمات سرانجام دیں کہ شاید تاریخ میں اس کی مثال نہ مل سکے اس کو ایسے رسوا کرنا پرلے درجے کی بددیانتی اور بے ایمانی گنی جائے گی۔پاکستانی فیصلہ سازوں کا پیمانہءصبر لبریز ہوچکا ہے۔ جہانگیر ترین کے خلاف حالیہ کردار کشی کی مہم  ناقابل برداشت ہے۔ میاں نواز شریف نے اس غیر تحریری معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے جس کی پاسداری آج تک پاکستان کے ہر سیاستدان، جنرل اور مقتدر شخص نے کی ۔ میاں صاحب نے محسن کشی کی۔ آج وہ اگر اس مقام پر ہیں تو  جہانگیر ترین کی وجہ سے ہیں نہ ان کو اتفاق فاؤنڈری واپس ملتی اور نہ وہ پنجاب کے نمائشی وزیر خزانہ بنتے۔ اپنی سیاست کے لیے انہوں نے خون کے رشتوں سے وفا نہیں کی تو ملک سے کیا وفا کریں گے۔ میاں صاحب، آپ کے دن گِنے جا چکے ہیں۔ 

پانامہ کا ہنگامہ

بالآخر اس کھیل کا انجام ہونے کو ہے جو آج سے چھ سال پہلے شروع ہوا تھا۔ یہ دو ہزار گیارہ کے اوائل کا قصہ ہے۔ پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت تھی  اور نواز شریف ڈیل کے تحت انتخاب لڑنے کے اہل نہیں تھے لہذا قومی اسمبلی سے باہر تھے۔ مقتدر حلقوں کے ساتھ ان کے تعلقات کی تاریخ کافی پرانی اور تلخ ہے۔ جبکہ ان کے برادر خورد ہمیشہ سے ان حلقوں کے فیورٹ رہے ہیں۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن کا ذکر آگے آئے گا۔اسی سال کے شروع میں چوہدری نثار کے ذریعے نواز شریف نے جی ایچ کیو سے دوبارہ رابطہ استوار کرنے کی کوششیں کیں۔ اس کی فوری وجہ سیاسی منظرنامے پر عمران خان کی دھماکہ خیز آمد تھی۔ نواز شریف جو اگلے انتخاب کو اپنی جیب میں سمجھ رہے تھے ان کے لیے یہ امر بہت تشویش ناک تھا۔ عام خیال کے برعکس عمران خان کے سیاسی ابھار کی وجہ مقتدر حلقوں کی حمایت نہیں تھی۔ اصل بات اس سے بالکل الٹ تھی۔ عمران خان  انہی معاملات کو لے کر چل رہے تھے جو عام آدمی کے دل میں تھے ۔ مثال کے طور پر ڈرون حملے، پاکستان میں غیرملکی مداخلت، کرپشن، اقربا پروری، موروثی سیاست، میرٹ کا قتلِ عام وغیرہ۔  عمران خان پاکستانی سیاست میں ایک نیا مظہر تھا۔ روایتی دائیں بازو کا ووٹر تو ان سے متاثر تھا ہی لیکن شہری علاقوں کی اپر مڈل اور اپر کلاس جو روایتی طور پر سنٹر کا ووٹ سمجھی جاتی ہے وہ عمران خان کی پرجوش حمایت میں نکل آئی۔  یہ صورتحال ن لیگ اور نواز شریف کے لیے کسی بھیانک خواب سے کم نہیں تھی۔ یہ رائے ونڈ کے شریف محلات کے ایک عالیشان کمرے مین ن لیگ کے تھنک ٹینک کے اجلاس کا منظر تھا۔ حاضرین میں نواز شریف، چوہدری نثار، اسحاق ڈار، شہباز شریف اور ایک حاضر سروس ہستی موجود تھی۔ اس اجلاس کا یک نکاتی ایجنڈا "عمران کا رستہ کیسے روکا جائے" تھا۔  بات چوہدری نثار نے شروع کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بجائے عمران کی مخالفت کے اس کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔ قومی اسمبلی کی پچاس سیٹیں ، پنجاب میں سینئر وزیر اور چھ وزارتیں اور کے پی کے کی وزارت اعلی پی ٹی آئی کو آفر کرنی چاہیے۔  شہباز شریف اس سے متفق تھے۔ انہوں نے اس پر اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے کلین امیج کا ہمیں بھی فائدہ ہوگا اگر ہم اس کے ساتھ انتخابی اتحاد کرلیں۔  شہباز شریف نے مہاتیر محمد سے ملاقات کا بھی ذکر کیا۔ مہاتیر  جب پاکستان کے دورے پر آئے تو  شہباز شریف سے بھی ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اس ملاقات میں شہباز شریف کو بتایا کہ آپ کے پاس ایک ایسا شخص موجود ہے جو اس ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر ڈال سکتا ہے ۔ شہباز شریف کے استفسار پر انہوں نے عمران خان کا نام لیا اور کہا کہ یہ شخص قائد اعظم ثانی ہے۔ اگر یہ ملائشیا میں ہوتا تو ہم شاید پوری دنیا پر حکمرانی کرر ہے ہوتے۔ مہاتیر نے یہ مشورہ بھی دیا کہ آپ اس کے ساتھ مل کے اگلا انتخاب لڑیں ۔ لوگ آپ پر نوٹ اور ووٹ نچھاور کردیں گے۔ نواز شریف خاموشی یہ سب سن رہے تھے۔ ان کے چہرے کے تاثرات سے اندازہ لگانا مشکل تھا کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں۔  شہباز شریف خاموش ہوئے تو نوا ز شریف نے گفتگو کا آغاز کیا۔ ان کی لہجے کی تلخی  محسوس کی جاسکتی تھی۔ انہوں نے نثار/شہباز کی تجویز کو کُلّی طور پر رد کرتے ہوئے محفل کے پانچویں فرد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان سے پوچھیے کہ یہ عمران خان کے بارے کیا سوچتے ہیں۔ حاضر سروس ہستی نے  ختم ہوتے سگریٹ سے اگلا سگریٹ سلگایا۔ لمبا کَش لیا اور اپنی مخصوص دھیمی آواز میں کہنے لگے ۔ "عمران اس ملک کے پاور سٹرکچر کا سٹیک ہولڈر بن گیا تو ہم سب مارے جائیں گے۔ ہم کسی بھی صورت یہ رسک نہیں لے سکتے۔" انہوں نے بطور خاص نثار اور شہباز سے مخاطب ہوکر کہا کہ اگر آپ اس سے متفق نہیں ہیں تو ہم پی پی سے بات کرلیتے ہیں۔ لیکن عمران کا آنا کسی بھی صورت ہمیں قبول نہیں ہے۔اسحاق ڈار جو اس اجلاس میں اب تک خاموش تھے۔ انہوں نے اپنے بریف کیس سے کاغذات کا پلندہ نکال کر میز پر دھرا اور بولے۔ یہ سب ہمیں پاکستان  واپس لانا پڑے گا۔ آپ کو اندازہ ہے کہ یہ سب کتنا ہے؟ تئیس 23 بلین ڈالرز۔ یہ ہماری ساری زندگی کی کمائی ہے۔ آپ یہ سب برباد کرنے کو تیار ہیں؟بظاہرشہباز اور نثار لاجواب ہوچکے تھے۔ نواز شریف ، اسحاق ڈار اور حاضر سروس  اس معاملے پر ایک پیج پر تھے کہ عمران کو روکا جانا چاہیے۔ شہباز اور نثار کو بھی بادلِ نخواستہ ہاں میں ہاں ملانی پڑی۔  اس کے بعد جو ہوا وہ سب ویسا نہیں تھا جیسا عام طور پر سمجھایا یا دکھایا گیا۔ حاضر سروس ہستی کے خاندان کے افراد کو بڑے بڑے ٹھیکے ملے۔ ان کے ایک معتمد جن پر عمران کی سیاسی اتالیقی کا الزام تواتر سے آج تک لگایا جاتا ہے، انہوں نے بھی اس گنگا میں جی بھر کے اشنان کیا۔ یہ سموک سکرین تھی تاکہ لوگوں اور میڈیا میں یہ تاثر بنایا جائے کہ پی ٹی آئی کی بڑھتی ہوئی سیاسی حمایت کے پیچھے مقتدر حلقے ہیں۔ اور یہ تاثر کامیابی سے بنایا گیا۔ اس اجلاس میں طے پانے والی ڈیل کے باوجود عمران اور پی ٹی آئی کا راستہ روکنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا تھا۔ مقتدر حلقوں کی اپنی ایجنسیوں کے سروے اور رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی ساٹھ فیصد نشستیں جیتنے جارہی تھی۔ یہ صورتحال جہاں ن لیگ کے لیے خوفناک تھی وہیں کچھ حاضر سروس لوگوں کے لیے بھی بے خواب راتوں کا سبب بنی ہوئی تھی۔ پی ٹی آئی کا راستہ روکنے کے لیے ہر حربہ آزمایا جارہا تھا۔ الیکٹ ایبلز کو ہانکا لگا کر ن لیگ میں دھکیلا جا رہا تھا۔ کچھ لوگوں نے انکار کرنے کی جرات کی تو انہیں جانی، مالی طور پر نقصان پہنچا کر عبرت ناک مثال بنایا گیا۔  الیکٹرانک میڈیا پورے کا پورا خرید لیا گیا تھا۔ صرف اس مد میں چوہتر 74 ارب روپے خرچ کیے گئے۔  عمران خان کو مختلف لوگوں کے ذریعے ترغیبات /دھمکیاں بھی دی گئیں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ خان کے چہرے پر سوائے  ایک طنزیہ مسکراہٹ کے کوئی تاثر نہیں ہوتا تھا۔ سب حربوں کے باوجود پی ٹی آئی پنجاب میں میدان مارتی جارہی تھی۔ میٹرو/لیپ ٹاپ جیسے مہنگے اور بلاضرورت منصوبوں کے باوجود لوگ  ن لیگ سے متنفر ہوتے جارہے تھے۔ اس  موقع پر آخری داؤ کھیلا گیا۔جب یہ نظر آنے لگا کہ انتخابات میں پی ٹی آئی واضح اکثریت سے جیتنے جارہی ہے تو انتخابات ملتوی کرنے کا منصوبہ بنا۔ اس کام کے لیے  مقتدر حلقوں نے اپنے آزمائے ہوئے طاہر القادری کو میدان میں اتارا۔ عام تاثر یہی تھا کہ طاہر القادری ، نواز شریف دشمنی میں یہ سب کررہے ہیں جبکہ حقیقت اس سے بالکل مختلف تھی۔  اس کے برعکس قادری کے دھرنے کا سارا خرچہ بمع ساڑھے سات ارب کیش ، نواز شریف نے اپنی جیبِ خاص سے ادا کیا۔ پلان یہ تھا کہ قادری کے دھرنے کو جواز بنا کر انتخابات ملتوی کردئیے جائیں۔ تین سال کے لیے نگران حکومت بنا دی جائے اور اس عرصے میں پی ٹی آئی کا مکمل صفایا کرکے انتخابات کرادئیے جائیں۔ اس ظالمانہ نظام کو بچانے کا یہ حربہ بھی ناکام گیا۔ قادری کا دھرنا ایک مذاق ثابت ہوا۔ اس میں اہم کردار پھر پی ٹی آئی کا تھا۔ عمران خان نے اس دھرنے کی شدت سے مخالفت کی۔ جبکہ سوشل میڈیا پر موجود پی ٹی آئی کے نوجوانوں نے اس کو ایک مذاق بنا کے رکھ دیا۔ ایک اور وار خالی گیا۔انتخابات سر پر تھے اور آزادانہ  سروے، ملکی اور غیر ملکی  انٹیلی جنس رپورٹس پی ٹی آئی کی لینڈ سلائڈ فتح کی پیشگوئی کررہی تھیں۔  اگر کہا جائے کہ پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ رہی تھی تو بے جا نہ ہوگا۔ عمران خان کو بطور وزیر اعظم پاکستان  ہضم کرنا پاکستانی اشرافیہ، مقتدر طبقات کے علاوہ بین الاقوامی اشرافیہ کے لیے بھی ڈراؤنا خواب ثابت ہوسکتا تھا۔  اس بھیانک خواب سے بچنے کے لیے اس کھیل کا آغاز ہوا جسے اسرائیل کی تخلیق کے بعد شاید سب سے بڑی سازش قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس کھیل میں سبھی ملکی اور غیر ملکی کھلاڑی  شامل تھے۔ پاکستا ن کا ایک "دوست" ملک، ایک دشمن ہمسایہ، عالم اسلام کے قلب میں گڑا ہوا خنجر اور اس کا سرپرست سب اکٹھے تھے۔ سب کا مقصد صرف ایک تھا۔ پی ٹی آئی کا راستہ روکنا۔ اس کے لیے پاکستان میں خرید و فروخت کا ایسا بازار لگا جس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ کیا صاف شفاف سیاستدان، کیا سو کالڈ ایماندار جج اور  کیا  باضمیر صحافی،  سب  اس بازار میں برائے فروخت تھے۔  اس  کام کے لیے ایک سو سترہ ارب روپے مختص ہوئے۔ لیکن ایک بات شاید خریدنے والے بھول گئے۔ عوام کو خریدنا  ممکن نہیں ہوتا۔ آخر گیارہ مئی کا دن آپہنچا۔  انتخاب ہوا  اور تمام تر دھاندلی، دھونس اور بدمعاشی کے باوجود پی ٹی آئی  نے میدان مار لیا۔ سب منصوبے، خرید و فروخت، سازشی پلان دھرے کے دھرے رہ گئے۔ کے پی کے ابتدائی انتخابی نتائج آنے کے بعد جب منصوبہ سازوں کو احساس ہوا کہ ان کی ساری کوششیں نقشِ بر آب ثابت ہوئی ہیں تو "پلان بی" پر عمل در آمد شروع کردیا گیا۔ نتائج روک دئیے گئے۔ ریٹرننگ آفیسرز کو یرغمال بنا لیا گیا اور جس نے چوں چرا کرنے کی کوشش کی اسے خاندان سمیت عبرت کا نشان بنانے کی دھمکیاں دی گئیں۔ تعاون کرنے والوں کو نقد  اور آؤٹ آف ٹرن ترقی کے وعدے کیے گئے جو بعد میں پورے بھی ہوئے۔  ایک سابق نگران وزیر اعلی پر ہوئی عنایتیں سب کے سامنے ہیں۔پاکستان کے عوام سے ایک بار پھر حقِ نمائندگی چھین لیا گیا۔ پی ٹی آئی ایک سو تریپن 153 نشستوں پر جیت رہی تھی۔ لیکن نتائج مکمل ہوئے تو اس کے پاس صرف چالیس کے قریب نشستیں بچی تھیں۔  کوئی بھی اس پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھا۔ عمران خان کو متحرک رکھنے سے روکنے کے لیے انتخابی مہم کے آخری حصے میں ایک پلانٹڈ حادثے کا شکار کردیا گیا۔ منصوبہ سازوں کو علم تھا کہ متحرک عمران خان کے ہوتے ہوئے  دن دہاڑے انتخاب چرانا ممکن نہیں ہوگا۔ عمران ہسپتال کے بستر پر بے یارومددگار پڑے تھے اور  پاکستانی عوام کا حقِ رائے دہی لوٹا جا رہا تھا۔  یہ پاکستانی تاریخ کا سب سے تاریک دن تھا۔  منصوبہ سازوں کی امیدوں کے برعکس عمران  اپنی قوت ارادی کے بل بوتے پر وقت سے پہلے صحت یاب ہو کر میدان میں اتر آئے۔ اب ان کا ایک ہی ایجنڈا تھا۔ عوام کا حقِ رائے دہی واپس لینا۔ پہلے دن سے انہوں نے اس کھلی بے ایمانی کے خلاف آواز بلند کی۔ پارلیمان میں ان کی تقریر آج بھی ریکارڈ پر موجود ہے۔ انہوں نے کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے انکار کیا اور انتخابات میں دھاندلی کی کھلی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ سازشی ٹولہ اس مطالبہ کو  کبھی نہیں مان سکتا تھا۔ عمران کا مذاق اڑایا گیا۔ ان کو زچ کیا گیا ۔ آخر کار کپتان نے سب سازشیوں کا بلف کال کر لیا۔ اسلام آباد تک لانگ مارچ اور دھرنے کے اعلان نے منصوبہ سازوں کے ایک دفعہ پھر ہوش اڑا دئیے ۔ ان کو علم تھا کہ عوام کا سمندر ہوگا اور پھر ان کو بچانے والا کوئی نہیں رہے گا۔ مقتدر حلقوں میں ہونے والی تبدیلیاں بھی پاکستان کے لیے خوش خبری تھیں۔ ذاتی مفادات کے لیے ملک کو داؤ پر لگانے والے جا چکے تھے اور ان کی جگہ پاکستان کے سچّے سپوت لے چکے تھے۔  منصوبہ سازوں نے اس انقلاب کو ڈی فیوز کرنے کے لیے پھر اپنا آزمودہ مہرہ میدان میں اتارا۔ طاہر القادری  کو یہ سارا شو ہائی جیک کرنے کےلیے میدان میں اتارا گیا۔ ماڈل ٹاؤن کا واقعہ بھی منصوبہ سازوں کی ایماء پر ہوا تاکہ ساری توجہ طاہر القادری کی طرف مبذول کرائی جاسکے۔میڈیا میں یہ تاثر پھیلایا جارہا تھا کہ طاہر القادری اور عمران خان مقتدر حلقوں کی  شہ پر اسلام آباد کی طرف چڑھائی کررہے ہیں تاکہ جمہوریت کو ختم کیا جاسکے۔ حقیقت اس کے برعکس تھی۔ عمران خان جمہوریت کو بچانے جبکہ طاہر القادری اس کو تباہ کرنے کے درپے تھے۔ چودہ اگست کا دن آپہنچا اور عمران خان، عوام کے ایک سمندر کے ساتھ اسلام آباد آن براجے۔ لوگوں کو نظر آرہا تھا کہ اب پاکستان میں ایک حقیقی تبدیلی اور انقلاب آرہا ہے۔ سازشی اور لٹیرے بے نقاب ہورہے ہیں۔ اور خلق خدا کے راج کا آغاز ہونے والا ہے۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے مقتدر حلقوں  سے مدد مانگی تو وہاں سے صاف جواب ملا کہ سیاسی معاملے کو سیاسی طریقے سے حل کریں  اور اس میں ہم آپ کی کوئی مدد نہیں  کرسکتے۔ دھرنے نے منصوبہ سازوں کے ہوش و حواس اڑا کے رکھ دئیے تھے۔ کبھی چین کی اربوں ڈالرز امداد کی افواہیں پھیلائی جاتیں اور کبھی عمران خان پر الزامات لگائے جاتےکہ یہ پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ ہر حربہ آزمانے کے باوجود بھی جب عمران خان کو ہلایا نہ جاسکا تو پھر منصوبہ سازوں نے ایسا گھناؤنا وار کیا جس کی امید بدترین دشمن سے بھی نہیں ہوسکتی۔یہ امر شاید سب کے لیے حیران کُن  نہ ہو کہ آرمی پبلک سکول سانحہ میں  ہمسایہ ملک کی مدد سے معصوم بچوں کو شہید کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ اسی ملک کے حکمران تھے۔ تاکہ اس دھرنے سے نجات حاصل کی جائے جس نے ان کے جعلی اقتدار کو حقیقی خطرے سے دوچار کر رکھا تھا۔ بادلِ نخواستہ دھرنا ختم کرنا پڑا۔   منصوبہ سازوں کا ایک دفعہ پھر وقتی کامیابی حاصل ہوچکی تھی۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ اس گھناؤنے فعل سے ان کی اپنی صفوں میں ہی پھُوٹ پڑ چکی ہے۔ بہت خفیہ ہونے کے باوجود اس منصوبے کی بھنک چوہدری نثار اور شہباز شریف  کو مل چکی تھی۔ جن کے ذریعے یہ خبر مقتدر حلقوں تک بھی پہنچ گئی۔ اس دفعہ بننے والا منصوبہ پاکستان کو بچانے والا تھا۔ اس منصوبے میں چوہدری نثار، شہباز شریف اور دو حاضر سروس  شامل تھے۔ شہباز شریف ساری زندگی بڑے بھائی کے بلنڈرز کی پردہ پوشی کرتے رہے لیکن یہ سانحہ شاید اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوا۔ وہ کھل کر ان کے خلاف صف آرا ہوچکے تھے۔ یہ شہباز شریف ہی تھے جن کے بیٹے کو پورا خاندان، مشرف کے پاس ضمانت کے طور پر چھوڑ گیا تھا ۔ شہباز شریف کی کارکردگی پر ہر دفعہ ووٹ لے کر جیتنے والے نواز شریف نے کبھی ان کو وہ اہمیت نہیں دی جو ان کا حق تھا۔ حمزہ شہباز جو جلاوطنی کے دنوں میں ن لیگ کو زندہ رکھے ہوئے تھے ان کو مریم نواز شریف کے سیاسی کیرئیر پر قربان کرنے کا منصوبہ بھی بن چکا تھا۔ شہباز شریف نے اپنی زندگی اور کیرئیر تو بھائی پر قربان کردی لیکن جب اولاد کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوتا نظر آیا تو  ان کی برداشت جواب دے گئی۔ یہ پنڈی کے ایک حساس علاقے میں موجود عمارت کا ڈرائنگ روم تھا۔ شہباز شریف، چوہدری نثار،  حمزہ شہباز اور دو حاضر سروس ہستیاں اس  کمرے میں موجود تھیں۔ موضوع گفتگو "گیٹ نواز شریف سُون" آپریشن تھا۔ شہباز شریف نے اپنے  کوٹ کی جیب سے یو ایس بی نکالی اور میز پر موجود لیپ ٹاپ میں لگا کر سب لوگوں کو متوجہ ہونے کا کہا۔ اس یو ایس بی میں وہ تمام معلومات تھیں جن سے ثابت ہوتا تھا کہ کیسے پاکستان کی دولت لوٹ کر اسے بیرون ملک بھیجا گیا۔ بے نامی بینک اکاؤنٹس، کمپنیز، ٹرانزیکشنز سب کچھ اس میں موجود تھا۔ کمرے میں موجود  دونوں افسر دم بخود یہ سب دیکھ رہے تھے۔ شہباز شریف نے اپنی پریزنٹیشن ختم کی اور یو ایس بی نکال کر اپنے ساتھ بیٹھے افسر کے حوالے کردی۔  یہ پانامہ لیکس کی شروعات تھیں۔اس کے بعد اس آپریشن کا آغاز ہوا جسے تاریخ میں سب سے عظیم سپائی آپریشن کے نام سے یاد کیا جائے گا۔ پوری دنیا کی انٹیلی جنس ایجنسیز کے مقابلے میں پاکستانی افسروں نے وہ کارنامہ کر دکھایا جو کسی کے تصور میں بھی نہیں تھا۔ جرمن اخبار کو  موساک فانسیکا بارے معلومات دینے والا نامعلوم شخص کوئی اور نہیں بلکہ پاکستانی آفیسر ہی تھا۔ جس نے جان پر کھیل کر یہ معلومات حاصل کیں۔ اگر یہ سب پاکستانی میڈیا کے سامنے پیش کیا جاتا تو اس پر جمہوریت کے خلاف سازش کا الزام لگا کے اس کو رد کردیا جاتا  لیکن چوہدری نثار کی ذہانت نے یہ مسئلہ حل کردیا۔  غیرملکی ثقہ اخبار میں چھپنے کی وجہ سے اس کی کریڈیبلٹی پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکا۔ بالآخر وہ وقت آگیا ہے جب عوام کے ووٹ اور ان کی دولت لوٹنے والے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔ ان کے لیے اب کوئی راہِ فرار باقی نہیں رہی۔ مقتدر حلقوں میں ان کے ہمدرد ختم ہوچکے۔  مکافات عمل اب ان کا انتظار کررہا ہے۔عمران خان بالآخر سچّا ثابت ہوا۔

سٹین لیس سٹیل وُضو

آپ کو یہ ماننا پڑے گا کہ  عبدالمنّان پیدائشی صُوفی بزرگ ہیں۔ یہ پیدا ہوئے تو دائی نے انہیں نہلایا۔ یہ ان کا پہلا وُضو تھا۔  یہ آج تک اس وُضو کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ایک چلتا پھرتا معجزہ ہیں۔ یہ سب کچھ کھاتے ہیں۔ ان کا ناشتہ دیکھ کے پہلوان سکتے میں رہ جاتے ہیں۔  یہ سات روغنی نان ، نہاری کی چار پلیٹیں ، دیسی گھی کے تین پراٹھے، پندرہ انڈوں کا آملیٹ ، پانچ مگ دودھ پتّی اور ادّھ رڑکے کے تین جگ  ناشتے میں ڈکار جاتے ہیں۔ ان کا لنچ گوالمنڈی کے بٹ صاحبان کو غش کھانے پر مجبور کرسکتا ہے۔ ان کی ایوننگ ٹِی ، ویری ہائی ٹِی ہوتی ہے۔ ان کا ڈنر کانٹی نینٹل ہوتا ہے۔ یہ رات کو سونے سے پہلے کھجوروں والے دودھ کے جگ میں آدھ کلو دیسی گھی ملا کے نوش کرتے ہیں۔ عبدالمنّان  کی شادی بھی ہوچکی ہے۔ یہ چار بچوں کے باپ بھی ہیں۔ یہ سب کچھ کر کے بھی ان کا وُضو نہیں ٹوٹتا۔  یہ کیسے ہوتا ہے؟ میڈیکل سائنس اس پر حیران ہے۔    یہ سب ایمان کا کرشمہ ہے۔ عقل اس کو کبھی انڈرسٹینڈ نہیں کرسکتی۔ یہ حاجی ثناءاللہ کے لنگوٹیے ہیں۔  یہ جب بھی پریشان ہوتے ہیں انکو کوئی مسئلہ تنگ کرنے لگتا ہے ان کی زندگی سے فَن ختم ہونے لگتاہے، یہ حاجی صاحب کے پاس چلے جاتے ہیں۔ یہ ان کی دکان پر دو گھنٹے گزارتے ہیں۔ ان کی بیٹری چارج ہوجاتی ہے۔ یہ دوبارہ فریش ہوجاتے ہیں۔ ان کا انرجی لیول میکسیمم ہوجاتا ہے۔  حاجی ثناءاللہ سے انہوں نے زندگی میں بہت کچھ سیکھا۔ یہ پہلے سچ نہیں بولتے تھے۔ یہ لوگوں کو گیڑے کراتے تھے۔ یہ بچوں کی کلفیاں چھین کے کھا جاتے تھے۔  یہ خواتین کو ایسے دیکھتے تھے جیسے خواتین ،لان کے نئے پرنٹ دیکھتی ہیں۔  حاجی صاحب یہ سب نوٹس کرتے رہے۔ یہ خاموشی سے عبدالمنّان کی حرکتیں دیکھتے رہے۔  ایک دن انہوں نے عبدالمنّان کو دکان پر بلایا۔ ان کو چکن شاشلک اور پھجّے کے پائے کھلائے۔ ان کو گولڈفلیک کے پکے سگریٹ پلائے۔ شیزان کی بوتل میں مرنڈا  اور ماؤنٹین ڈیو ڈال  کے پلائی۔ کسٹرڈ اور آئسکریم  مکس کر کے کھلائی۔ یہ جب فُل ہوگئے۔ ان کے ڈکار ہَمک مارنے لگے توحاجی صاحب نے انہیں سمجھانا شروع کیا۔ حاجی صاحب نے انہیں اپنی روٹین کی ڈیٹیلز بتائیں۔  یہ انہیں کہنے لگے۔ ہمیشہ سچ بولیں۔ کبھی کسی کو دھوکہ نہ دیں۔ کسی کا حق نہ ماریں۔ یہ بالکل سمپل ہے۔آپ  جو بھی بولیں اس کو  سچ سمجھیں۔ آپ جو بھی کریں اس کو درست سمجھیں۔ یہ دنیا ایک عارضی جگہ ہے۔ اس کے لوگ دھوکہ باز ہیں۔ اس سے پہلے کہ کوئی آپ کو دھوکہ دے۔ آپ اس کو دھوکہ دے دیں۔ یہ بالکل جائز ہے۔ اس دن کے بعد عبدالمنّان کی لائف چینج ہوگئی۔ ان کا وُضو جو پیدائشی ان بریک ایبل تھا، راک سالڈ ہوگیا۔ یہ بزنس میں دن دگنی رات ملک ریاضوی ترقی کرنے لگے۔ یہ اب بچوں سے کُلفیاں چھیننے کی بجائے ان میں کلفیاں بانٹنے لگے۔  یہ خواتین کو گھورنے کی بجائے ان سے نکاح کرنے لگے۔ یہ اپنی کمائی سے اللہ کی راہ میں دل کھول کر خرچ کرنے لگے۔ یہ بیواؤں  اور بے روزگاروں میں سمارٹ فون بانٹنے لگے۔ یہ فیس بک پر بھی چلے گئے۔ انہوں نے وہاں "سٹین لیس سٹیل وُضو  عرف شیطان شئیر کرنےسے روکے گا" نامی پیج بھی بنایا۔ یہ ہر لائک پر دو سو روپے نقد دینے لگے۔ ہر کامیاب انسان کی طرح ان کے بھی حاسد پیدا ہوگئے۔ یہ ان پر الزام لگانے لگے۔ یہ کہنے لگے کہ عبدالمنّان ایک فراڈئیے ہیں۔ یہ لوگوں کو  ٹوپی کراتے ہیں۔ یہ شعبدے باز ہیں۔ ان کا وُضو نہ ٹوٹنا ایک جھوٹ ہے۔  عبدالمنّان کو ان کی کوئی پرواہ نہیں تھی لیکن حاجی صاحب نے ان کوسمجھایا۔  جب لوگ آپ کے بارے سچ بولیں تو آپ ان کے بارے جھوٹ بولیں۔ یہ آپ کا سچ ہوگا۔ کسی کو اپنے بارے سچ پھیلانے کی اجازت نہ دیں۔ ان کے ساتھ آہنی عزم کے ساتھ نمٹیں۔ عبدالمنّان نے یہ بات گرہ سے باندھ لی اور فورا مجھے فون کیا۔ یہ اخبار کے سنڈے میگزین میں اپنا فیچر چھپوانا چاہتے تھے۔ میں نے حامی بھرلی۔
اس کے بعد جو ہوا وہ آپ کے سامنے ہے۔ کیا کسی ان بریک ایبل وُضو والے پیدائشی صوفی بزرگ کا فیچر چھاپنا اتنا بڑا گناہ  ہے کہ لوگ مجھے گالیاں دیں؟ میرا کیا قصور ہے؟ میں اس وقت سے صحافی ہوں جب اخبار  چھپتا نہیں تھا بلکہ صحافی گھر گھر جا کے لوگوں کو زبانی خبریں سناتے تھے ۔  میں دسویں جماعت میں تھا جب چاٹ کی اُنیس پلیٹیں کھاکے دس روپے والی شرط جیتی۔ ایف اے  کے امتحان میں میری جوابی شیٹس کا اتنا وزن تھا کہ اس کے بدلے ردّی والے نے پندرہ کلو مرونڈا اور لاہوری پُوڑا دیا تھا۔  بی اے کی ڈگری مجھے امتحان میں شرکت کئے بغیر ہی دے دی گئی کیونکہ بورڈ والوں کے پاس  اتنے فنڈز نہیں تھے کہ میری جوابی شیٹس کا خرچہ برداشت کرسکیں۔ میں ہیومن ہسٹری میں وہ واحد شخص ہوں جس نے گریجویشن کے امتحان میں شرکت کئے بغیر ٹاپ کیا۔ اس زمانے میں ٹاپ پوزیشن والوں کو لیپ ٹاپ کی بجائے لُڈّو ملتی تھی۔وہ  لُڈّو آج بھی محفوظ ہے۔ میرے بچوں نے اسی پر لُڈّو کھیلنا سیکھا۔  میں نے جب صحافت شروع کی تو ایڈیٹر کی سائیکل صاف کرنے سے لے کر ان کی گھر کا سودا سلف لانے تک ہر کام کیا۔ سودے سلف کے پیسوں میں سے بچت کرکرکے میں نے ایک کریانے کی دکان کھول لی۔ آپ میرے وژن کو داد دیں۔ میرے ہارڈ ورک کو اپریشئیٹ کریں۔ میں ان پیسوں سے گرماگرم سائیڈ پروگرام والی انگلش فلم بھی دیکھ سکتا تھا۔ میں  اس  سے گولڈ لیف کے سگریٹ بھی پی سکتا تھا۔ میں راجہ جانی والا پان بھی کھا سکتا تھا۔ میں نے یہ سب نہیں کیا۔ میں نے فیوچر کو ذہن میں رکھا۔ میں نے پلاننگ کی۔  وہ کریانے کی دکان آج ایک بڑے جنرل سٹور میں بدل چکی ہے۔ لیور برادرز والے مجھے سپیشل کراچی بلا کے لکس صابن اور ڈالڈا کوکنگ آئل فری میں دیتے ہیں۔ یہ مجھے ایکسی لینس سرٹیفکیٹ بھی دیتے ہیں جس میں گولڈن فونٹ سے میرا نام بڑا کرکے لکھا ہوتا ہے۔ چوہدری جنرل سٹور آج لالے موسے کا سب سے بڑا اور قابل اعتماد نام ہے۔ میں نے ساری زندگی صحافت کے نام کر دی ہے۔۔ کیا یہ میرا قصور ہے؟ مجھے کیوں ماں بہن کی گالیاں دی جاتی ہیں؟ میں نے کیا کِیا ہے؟

میاں صاحب کی ڈائری

رات سے طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ شباژ صاب نے الگ پریشان کیا ہوا تھا کہ پائین۔۔۔ جان دیو سُو۔۔۔ نئیں تے فیر سانوں جانا پیناں۔۔۔ اسی پریشانی میں کچھ کھایا بھی نہیں گیا۔ صبح بھوک سے جلدی آنکھ کھل گئی۔ بیگم صاحبہ ابھی سوئی ہوئی تھیں۔ میں نے آہستگی سے بیڈروم والی فریج کھولی تو اس میں وہی آلو مٹر گاجریں، کدو کی بھجیا اور بھنڈیوں کا سالن تھا۔ بیگم صاحبہ نے سختی کی ہوئی ہے اسی لیے میں زیادہ تر دوروں پر ہی رہتا ہوں۔ گھر میں تو یہی کچھ کھانا پڑتا ہے۔ کوئی اک مصیبت اے۔۔۔۔کچن کی فریج دیکھی تو اس میں کباب، بریانی، نہاری، ہریسہ وغیرہ ٹھنسے ہوئے تھے۔ جلدی میں صرف دس بارہ کباب، نہاری کی ڈیڑ ھ پلیٹ اور آدھا ڈونگا ہریسے کا ہی کھا سکا۔ کھانا مزے دار ہو تو ٹھنڈا بھی مزا دیتا ہے۔ سپرائٹ کی ڈیڑھ لیٹر والی بوتل سے تین چار گھونٹ لیے.نشے آگئے۔ ابھی فجر میں وقت تھا لہذا ٹی وی لاؤنج میں گیا۔ ورزش صحت کے لیے بہت ضروری ہے چنانچہ شلپا شیٹی کی ورزش والی ویڈیو لگا کر دیکھی۔ جسم فریش ہوگیا۔ ورزش باقاعدگی سے کرتا ہوں۔ اسی لیے اللہ کے فضل و کرم سے میرا ذہن اتنا تیز ہے۔ ماشاءاللہ۔۔۔سیٹھی صاب کو فون کیا۔ وہ سونے کی تیاری میں تھے۔ ورلڈ کپ کی ڈیل فائنل ہونے کا پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ بات پکّی ہوگئی ہے۔ پیسے آج ہی ٹرانسفر ہوجائیں گے۔ اللہ کا شکر ادا کیا۔ رزقِ حلال بھی کتنی بڑی نعمت ہے۔ سیٹھی صاب بہت اچھے بندے ہیں۔ مجھے انگریزی بھی سکھائی ہے۔ جگتیں بھی کرتے ہیں۔ ایک دن کہنے لگے ۔۔ میاں صاب، تسی انگریزی اینج بولدے او۔۔ جیویں جھنگ آلے اردو بولدے نیں۔۔۔ ہیں جی۔پہلے اسلام آباد والے شاہ جی ہوتے تھے۔ ان کی انگریزی بھی اچھی کڑاکے دار تھی۔ پچھلے دنوں ملنے بھی آئے تھے۔ میں نے ان کو روٹی شوٹی کھلائی۔ کہنے لگے کہ انگریزی سکھانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ انتظار کریں اگلی دفعہ مقدس سرزمین سے واپس آئیں گے تو آپ کو ہی انگریزی سکھانے پر رکھوں گا۔ خوش ہوگئے۔ اچھے بندے ہیں۔ شاہ جی نے وڈّے چوہدری صاب کا سلام بھی دیا۔ چوہدری پیجے کی وجہ سے بات نہیں بنتی ورنہ وڈّے چوہدری صاب بڑے سیانے بندے ہیں۔ شباژ صاب، پیجے کا نام سنتے ہی غصہ کر جاتے ہیں۔ ڈائننگ ٹیبل پر مُکّے مار مار کے تقریر شروع کردیتے ہیں۔ شعر بھی سَناتے ہیں۔ امّی جی کو شکایت لگانے کی دھمکی دیتا ہوں۔ پھر چُپ کرتے ہیں۔ شباژ صاب بھی باچھا بندے ہیں۔ کبھی کبھی تو مجھے ان سے ڈر لگنے لگتا ہے کہ اگلا مارشل لاء شباژ صاب ہی نہ لگا دیں۔فجر پڑھ کے نیند کی ایک جُھٹّی اور لگائی۔ اٹھ کے ناشتہ کی تیاری کررہا تھا کہ خواجہ صاب کا فون آگیا۔چھوٹتے ہی بولے۔۔ یہ جو اے، جو اے، ببلو اے، یہ جو اے، کمانڈو جو اے، اس کو جو اے، کیا چکر اے؟۔۔۔۔ خواجہ صاب بندوں کو تپانے میں ماہر ہیں۔ ایک دفعہ ببلو کے گَل پڑ گئے تھے۔ پھر ببلو کو سیریں کرائیں۔ کلفیاں کھلائیں۔ جھولے بھی دلائے۔ پھر کہیں جا کے اس کا موڈ ٹھیک ہوا۔ ان کو کل والے معاملے کی بھنک پڑ گئی تھی تو اب مجھے تپا رہے تھے۔ میں نے بہت سمجھایا کہ جگر جی۔۔ پہلے ہی دس سال کھجل ہوئے ہیں اب تھوڑا مال پانی بنا لینے دیں اگلی باری پتہ نہیں آئے نہ آئے۔۔۔ پر خواجہ صاب کی سوئی ایک دفعہ اڑ گئی تو اڑ گئی۔۔۔ سیالکوٹی جو ہوئے۔روٹی کھانی حرام کی ہوئی ہے۔ جب بھی روٹی کھانے بیٹھو کوئی نہ کوئی اپنا سِیڑی سیاپا لے کے آجاتا ہے۔ اَنسان اتنی محنت مشقت کس لیے کرتا ہے؟ روٹی کے لیے۔۔ وہی سکون سے نصیب نہ ہو تو کیا فائدہ سارے ٹشنوں کا۔۔۔۔ ہزار دفعہ کہا ہے کہ روٹی کے چھ ٹائم نکال کے جس وقت مرضی فون کرلیا کریں۔ مجال ہے کسی پر اثر ہوتا ہو۔ الٹا مذاقیں کرتے ہیں۔ جگتیں لگاتے ہیں۔ شرم، حیا، مروّت ہی ختم ہوئی ہوئی ہے۔ ببلو اس معاملے میں ٹھیک ہے۔ اس کو بھی روٹی کھانے کا بڑا شوق ہے۔ ایک دن ہم دونوں نے مل کے ستونجہ قیمے والے نان کھائے تھے۔ بڑا مزا آیا تھا۔ اسلامباد والے چوہدری صاب بھی پوری نیّر سلطانہ ہیں۔ جب دیکھو، بڈّھے کی جوان زنانی کی طرح رُسّے رہتے ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے میں نے شغل میں پوچھا، چوَری صاب، چھاویں تے وگ لاء کے رکھ لیا کرو۔۔۔ بس ناراض ہوگئے۔ شباژ صاب کو شکایتیں لگائیں۔ دس ہزار ترلے کیے پھر کہیں جا کے مانے۔ مانے سے یاد آیا اپنے خاں صاب کا بھی بڑا یارانہ ہے چوہدری صاب سے۔ دونوں ہی غصے میں رہتے ہیں۔ کم روٹی کھانے کا یہی انجام ہوتا ہے۔ بندہ روٹی تو رَج کے کھائے کم سے کم۔ببلو کو میں نے بڑا سمجھایا کہ تمہیں وڈّا کمانڈر لگوا دوں گا۔ تنخواہ بھی ریالوں میں اور عمرے فری۔ بس یہ کمانڈو والی ضد چھوڑ دے۔ اس بات پر ببلو کا رنگ مزید سرخ ہوجاتا تھا۔ ایک دن تو میرے پیٹ میں مُکا بھی ٹکا دیا۔۔ بعد میں کہتا ہے۔۔ شغل کیتا سِی۔۔ بس مجھے اسی دن پتہ لگ گیا کہ کمانڈو کو چھوڑنا ہی پڑے گا۔ ورنہ ببلو اگلا مُکا کنپٹی پر مارے گا۔ زندگی کے لیے بندہ اتنے جتن کرتا ہے۔ مرگیا تو یہ ہریسے، نہاریاں، بریانیاں، نان، کباب، تکّے، پیپسیاں، ادھ رڑکے، دودھ پتیاں لوگ ہی پئیں گے۔ کبھی قُل شریف کے نام پر اور کبھی چالیسویں اور برسی کے ختم پر۔
جان ہے تو جہان ہے۔۔ ہیں جی!

سپہ سالار کی ڈائری - توسیعی ورژن

شبِ رفتہ سے ہی طبیعت کچھ بوجھل سی تھی۔ نیند دیر سے آئی۔ تہجّد سے کافی دیر پہلے آنکھ کھل گئی۔ وضو بنایا۔ تہجّد کے وقت تک نوافل ادا کئے۔ دل کو کچھ قرار سا آیا۔ کل کی ملاقات میں مقتدرین نے اپنی خواہش کا برملا اظہار کر دیا۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں ملک و ملّت کی خدمت سے کنارہ کش ہوجاؤں اور ان کو لوٹ مار کے لیے آزاد چھوڑ دیا جائے۔ میں نے صاف انکار کردیا کہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ جب تک وطنِ عزیز اسلام کا قلعہ نہ بن جائے میں اپنی ذمہ داریاں کیسے نظر انداز کرسکتا ہوں؟ وہ کچھ بولے تو نہیں مگر کبیدہ خاطری ان منحوسوں کے چہروں سے عیاں تھی۔ شب کے آخری پہر، خدا کے حضور مناجات کرنے سے دل کو تسلّی ہوئی۔ فجر کے بعد معمول کی ورزش کی۔ ناشتے میں آلو والے پراٹھے تھے۔ میں نے زوجہ سے باز پُرس کی کہ ان کے لیے رقم کا بندوبست کہاں سے ہوا؟ ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ کہنے لگیں پچھلے دو ہفتوں سے وہ ایک وقت کا کھانا کھا رہی ہیں۔ اس سے جو رقم بچ رہی اس سے یہ پراٹھے بنائے۔ دل بھر آیا۔ لقمہ ہاتھ سے رکھ دیا۔ اِدھر اُدھر دیکھ کر زوجہ کا رُوئے انور چوم لیا۔ بد پرہیزی کرتے ہوئے تینوں پراٹھے کھائے اگرچہ زوجہ تیسرے پراٹھے پر شکایتی نگاہوں سے دیکھتی رہیں لیکن منہ سے کچھ نہ بولیں۔ جنّتی خاتون ہیں۔ الحمدللہ۔۔۔بیٹ مین لطیف نے بائیسکل چمکا کے پورچ میں کھڑی کردی تھی۔ لطیف اوائل افسری سے میرے ساتھ ہے۔ اس کے ساتھ عجب اُنسیت سی ہے۔ اس کا معاملہ گھر کے فرد جیسا ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ برسوں گزرے ایک عجیب واقعہ پیش آیا تھا جس کے بعد لطیف کی اہمیّت دو چند ہوگئی۔ان دنوں لطیف کے گھر  پہلی خوشی آنے والی تھی۔ ایک رات خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بزرگ، پن سٹرائپ سوٹ پہنے، خشخشی داڑھی، منہ میں پائپ دبائے کش پہ کش لگاتے، ایک سفید گھوڑے پر سوار، دفتر کے باہر تشریف لاتے ہیں اور با رُعب آواز میں پکارتے ہیں، "شکیل، باہر آؤ"۔ میں حیران ہو کر باہر نکلتا ہوں تو وہ شہادت کی انگلی بلند کرکے گویا ہوتے ہیں۔ "ہم ایک عظیم ذمہ داری تمہارے سپرد کرنے آئے ہیں۔ وعدہ کرو کہ اسے نبھاؤ گے"۔ میں جھٹ حامی بھرلیتا ہوں۔ بزرگ پائپ منہ سے اور دھواں نتھنوں سے نکالتے ہیں۔ اچھل کر گھوڑے سے اترتے ہیں۔ میرے قریب آکر کندھے پر ہاتھ رکھتے ہیں اور یوں گویا ہوتے ہیں۔۔"تمہارے گھر ایک مہمان آنے والا ہے۔ اسے معمولی نہ سمجھنا۔ عنفوان شباب تک اس کی دیکھ بھال اور حفاظت کرنا۔ یہ بچہ ملک و ملّت کا پاسبان ہوگا۔ سارے ادبار دور کردے گا۔ دشمنانِ دین و ملّت اس کے درپے رہیں گے لیکن تمہیں وعدہ کرنا ہوگا کہ جب تک تمہاری سانس میں سانس ہے اس کی حفاظت و نصرت کرو گے۔ اور ہاں سنو۔۔ ایک بات اور ہے۔۔ یہ اللہ کی دَین ہے۔ اس لیے اس کا نام اللہ دتّہ ہوگا"۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ خوابگاہ میں ایک ملکوتی سا سکوت اور عجیب سی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ میں فورا اٹھا، غسل کیا اور خدا کے حضور سجدہ ریز ہوگیا جس نے مجھے اس کارِ عظیم کے لیے چُنا۔ پھر میں نے سوچا کہ زوجہ کے ہاں تو ابھی کسی نئے مہمان کے آثار نہیں تو یہ نیا مہمان کہاں سے آئے گا؟۔اس کا جواب اگلی صبح ملا جب بیٹ مین لطیف، مٹھائی کا ڈبّا لیے آیا۔ ڈبّا بائیسکل کے کیرئیر پر رکھ کے دھرتی دہلا دینے والا سلیوٹ مارا اور خوشی سے لال ہوتے چہرے سے اطلاع دی کہ وہ بیٹے کا باپ بن گیا ہے۔ ذہن میں روشنی سی لپکی اور گزشتہ شب کا خواب اور پن سٹرائپ سوٹ والے بزرگ کی بشارت اور اپنا وعدہ یاد آگیا۔ اس دن کے بعد سے آج تک میں نے اللہ دتّے کو اپنی اولاد سے بڑھ کر توجہ دی۔ اعلی درسگاہوں سے اس کو تعلیم دلائی۔ آج کل اللہ دتّہ ملک فرنگ میں اعلی ترین تعلیم کے لیے مقیم ہے۔دفتر جانے کے لیے بائیسکل کا پیڈل مارا ہی تھا کہ لطیف ہانپتا ہوا آیا اور کہنے لگا کہ مخبر اعلی نے فورا آپ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے ابھی ایک ہرکارہ ان کا پیغام لے کر آیا ہے۔ میں فورا بائیسکل سے اترا اور رکشے کو ہاتھ دے کر روکا۔ ہنگامی حالات میں ایک ایک منٹ کی اہمیت ہوتی ہے۔بھاگم بھاگ دفتر پہنچا تو مخبر اعلی پہلے سے موجود تھے۔ انہوں نے شتابی سے دفتر کا دروازہ بند کیا اور بولے۔۔۔ ابھی ابھی اطلاع ملی ہے کہ دشمن نے اللہ دتّے کو درسگاہ سے واپس آتے ہوئے اغوا کر لیا ہے اور ان کی طرف سے ابھی تک کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ میں فورا ساری گیم سمجھ گیا۔ یقینا یہ مقتدرین کی سازش ہے۔ انہیں علم ہے کہ مجھے کسی بھی طرح جھکنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ حتی کہ میری اپنی اولاد بھی اگر داؤ پر لگی ہو تو میں کبھی ملک و ملّت کے مفاد کو پسِ پُشت نہیں ڈال سکتا۔ لیکن اللہ دتّے کا معاملہ الگ ہے۔ اس کے ساتھ غیر معمولی انسیّت کا راز میں نے آج تک کسی پر ظاہر نہیں کیا لیکن مخبروں کی دنیا الگ ہوتی ہے۔ شاید کوئی ٹیلی پیتھی کا ماہر دشمن جاسوس میرے ذہن میں جھانک کر اللہ دتّے سے میری بے پناہ محبّت سے واقف ہو گیا تھا۔ جس کا فائدہ اب مقتدرین اٹھا رہے ہیں۔ اسی اثناء میں مخبر اعلی کے واچ ٹرانسمیٹر پر ٹوں ٹوں ہونے لگی۔ ملکِ فرنگ میں موجود علاقائی مخبر نے اطلاع دی کہ اللہ دتّے کے اغوا کاروں نے بہت عجیب مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپہ سالار نے چوبیس گھنٹوں کے اندر مُقرّرہ مدت میں سپہ سالاری چھوڑنے کا اعلان نہ کیا تو وہ اللہ دتّے کو اگلے جہان میں ہی مل سکیں گے۔یہ بہت مشکل مرحلہ تھا۔ ایک طرف ملک و ملّت کی پاسبانی اور دوسری طرف وعدے کی نگہبانی۔ پھر مجھے یاد آیا کہ اللہ دتّے کی نگہبانی کے صدقے ہی شاید مجھے سپہ سالاری ملی تھی اگر اسی کام میں ناکام رہا تو روزِ قیامت اس بزرگ کو کیا منہ دکھاؤں گا۔ اللہ دتّے کی تعلیم مکمل ہونے میں کچھ ہی عرصہ باقی ہے۔ بزرگ نے عنفوانِ شباب تک اس کی سرپرستی کا کہا تھا۔ وہ وقت مکمل ہوا چاہتا ہے۔ شاید میری ذمّہ داری یہیں تک تھی۔ ملک و ملّت کا اصلی مسیحا آنے کو ہے۔ میری قربانی سے اگر اس کا راستہ ہموار ہوجائے تو اس سے بڑی سعادت کیا ہوگی۔ جو کام میں پورا نہ کرسکا وہ میرا اللہ دتّا پورا کرے گا۔ میں نے مقتدر اعلی کو فون ملایا اور ان کے مطالبے کو پورا کرنے کی حامی بھرلی۔ یہ سنتے ہی ان کی آواز پر چھائی مُردنی یکایک شگفتگی میں بدل گئی۔ وہ حسبِ عادت چکنی چُپڑی باتیں کرنے لگے۔ میں ان کی دلی حالت کا اندازہ کر سکتا تھا۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ ان کو کھلی چھُٹّی مل گئی ہے۔ وہ جیسے چاہیں اس ملک کو لوٹیں۔ ملّت کا شیرازہ بکھیریں۔ ان کو کوئی روکنے والا نہیں۔۔ مگر ان کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں ہے کہمیرا اللہ دتّہ آئے گا۔۔۔۔

سیلفی اور ثالثی

یہ موسم سرما کی ایک خُنک رات تھی۔ دُھند نے چاروں اطراف کو یوں گھیرے میں لیا ہوا تھا جیسے عاشق، محبوب کو  بانہوں میں بھر لیتا ہے۔۔۔ جپھّی اک واری کُٹ کے توں پاء گُجرا۔۔۔۔ یہ ایک رومانٹک اور اداس کردینے والی کیفیت تھی۔ میں نے کتاب سے نظر ہٹائی اور سٹڈی کی کھڑکی کے دھندلے شیشے سے باہر دیکھا۔ ایک مطمئن سی اداسی میرے رگ و پے میں دوڑ گئی۔ چیبانگا موزونگو کی بھیجی ہوئی زمبابوین کافی کا گھونٹ بھر کے میں نے سر کو راکنگ چئیر کی پشت سے ٹکایا۔ ایک طویل ڈکار لیا۔ حیدر آبادی بریانی، بیف کباب اور کوک کی خوشبو سے ساری سٹڈی مہک اٹھی۔ میں نے آئی فون سکس (کسٹم میڈ) ٹیبل سے اٹھایا۔ اداس اور رومانٹک چہرے کی ایک سیلفی لے کر فیس بک پیج پر اپ لوڈ کی اور دوبارہ کتاب پر جھک گیا۔اچانک فون کی بیل بجی۔ سکرین پر "میاں صاحب" کا نام جگمگا رہا تھا۔ میں حیران رہ گیا۔ یہ ایک خلاف معمول بات تھی۔ یہ کبھی گیارہ بجے کے بعد فون نہیں کرتے۔ یہ جانتے ہیں کہ میں ایک جوان جہان آدمی ہوں۔ میری ازدواجی ذمہ داریاں بھی ہیں۔ یہ اس بات کو سمجھتے ہیں اس لیے کبھی مجھے ڈسٹرب نہیں کرتے۔ میں نے کال ریسیو کی۔ یہ بوجھل آواز میں بولے ۔۔۔ "یار جیدے ۔۔ کِی کرئیے۔۔۔ دوویں لڑ پئے نیں؟"۔۔ یہ ایک نازک مرحلہ تھا۔ یہ دنیا کی تاریخ میں میک آر بریک والا معاملہ تھا۔ ایک غلط فیصلہ اس دنیا سے انسانوں کا وجود ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتا تھا۔ میں نے فون ٹیبل پر رکھا۔ ایک طویل سانس لی۔ گلاسز اتار کے شیشے صاف کیے۔ کافی کا گھونٹ بھرا۔ فون دوبارہ اٹھایا تو میاں صاحب بولے۔۔" دانشوراں آلی ایکٹنگ بعد اچ کر لئیں۔۔ پہلے میں جو پُچھیا او دس"۔ میں کچّا ہوگیا۔ مجھے شرم آگئی۔ میں نے فورا بات بدل لی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آج آپ نے ڈنر میں کیا کھایا۔ میاں صاحب نے پھر مجھے جگت کرادی کہنے لگے۔۔ چوہدری ای رہ، کلاسرہ نہ بن۔۔۔ میں فورا سنجیدہ ہوگیا۔ میں نے بادشاہ والی کہانی کی آواز بنالی اور یوں گویا ہوا۔۔۔۔ میاں صاحب، تاریخ آپ کی راہ دیکھ رہی ہے۔ عظمت آپ کا انتظار کر رہی ہے۔ عزّت آپ کے لیے نظریں بچھائے کھڑی ہے۔ ہسٹری آپ کو ویلکم کرنے کے لیے بے تاب ہے۔ مؤرخ سنہری انک والا پین لے کر آپ کا منتظر ہے۔  میاں صاحب نے ایک طویل ہمممممم کیا اور فون بند کردیا۔یہ ایک سرد صبح تھی۔ بیدار ہونے پر ایسا فِیل ہورہا تھا جیسے سب کچھ فریز ہے۔ اس لیے فریش ہونے کے لیے دو دفعہ کافی پینی پڑی۔ واک کے لیے جوگرز پہنے ہی تھے کہ میاں صاحب کا فون آگیا۔ انہوں نے دس منٹ کے اندر ائیرپورٹ پہنچنے کی ریکویسٹ کی۔ میرا ٹریول بیگ ہمیشہ ریڈی رہتا ہے۔ میں نے بیگ اٹھایا۔ جلدی میں بیگم کا پرپل کوٹ پہنا۔ یہ ایک آنسٹ مسٹیک تھی لیکن اس مسٹیک نے ہسٹری کا دھارا بدل دیا۔ اس کا ذکر آگے آئے گا۔ فلائٹ ٹیک آف کرتے ہی میاں صاحب اور جنرل صاحب میرے پاس تشریف لے آئے۔ یہ ایک اچھی جوڑی ہے۔ دلیپ کمار/مدھو بالا، امیتابھ/ریکھا، انیل کپور/مادھوری، شاہ رخ/کاجل، بدرمنیر/مسرت شاہین، سلطان راہی/انجمن  کے بعد شریف/شریف ایسی جوڑی ہے جو سُپر ہٹ ہونے کا پوٹینشل رکھتی ہے۔ یہ ایک دوسرے کو انڈرسٹینڈ اور رسپیکٹ کرتے ہیں۔ یہ سمارٹ بھی ہیں اور ہینڈسم بھی۔ یہ انٹیلیجنٹ بھی ہیں اور انٹلکچوئل بھی۔ یہ ناٹی بھی ہیں اور جولی بھی۔ میاں صاحب نے ادھر ادھر دیکھا اور آہستگی سے اپنی واسکٹ کی جیب سے ایک شاپر نکال کے میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ میں نے شاپر کھولا تو ہر طرف قیمے والے نان کی خوشبو پھیل گئی۔ میاں صاحب جانتے تھے کہ میں نے بریک فاسٹ نہیں کیا۔ آپ ان کے مینرز دیکھیے۔ آپ ان کی کرٹسی ملاحظہ کیجیے۔ ائیرپورٹ آتے ہوئے رستے میں انہوں نے گاڑی رکوا کر چار قیمے والے نان لیے۔ ایک نان جنرل صاحب کو دیا، ایک خود کھایا جبکہ دو نان میرے لیے رکھ لیے۔ یہ بہت بڑی تبدیلی ہے۔ یہ پہلے کسی کو نان کی ہوا نہیں لگواتے تھے۔ یہ کسی کو نان کی ایک بُرکی دینے کے روادار نہیں تھے۔ اب یہ خود ایک نان کھاتے ہیں۔ یہ دو نان دوسروں کو دے دیتے ہیں۔ یہ جان چکے ہیں کہ مل جل کر کھانا برکت کا باعث ہوتا ہے۔پلین لینڈ کرنے کے بیس منٹ کے اندر ہم پیلس میں پہنچ چکے تھے۔ یہ ایک شاندار عمارت ہے۔ یہ رومن، گوتھک، اٹالین، سپینش اور عربک آرکیٹکچر کا شاہکار ہے۔ اس میں فوارے بھی ہیں اور باغ بھی۔ سوئمنگ پول بھی ہے اور مسجد بھی۔ ہم اس کے مرکزی ہال میں داخل ہوئے تو میزبان نے ہمارا استقبال کیا۔ یہ بہت تپاک سے ملے۔ انہوں نے میری چُمیاں بھی لیں۔ یہ پرپل کوٹ پر بار بار ہاتھ پھیرتے رہے۔ یہ مجھ سے پوچھتے رہے ۔۔ ہذا کوٹ جمیل جدا۔۔ من وین انت حصل ہذا؟۔۔۔ میں ایک دفعہ پھر کچّا ہوگیا۔ یہ ایک نازک صورتحال تھی۔ اگر میں سچ بول دیتا۔ اگر میں بتا دیتا کہ یہ زوجہ کا کوٹ ہے۔یہ میں بائی مسٹیک پہن کے آگیا ہوں تو سوچیے کتنا بڑا بحران پیدا ہوجاتا ہے۔ میزبان غصے میں آجاتا۔ یہ ہم سب کو پیلس سے نکال دیتا۔ دنیا تباہی کے کنارے پر پہنچ جاتی۔ میں نے حواس قائم رکھے۔ میں نے فون نکالا۔ سب کو ریڈی کہا اور ایک سیلفی لے لی۔ سب کا دھیان بٹ گیا۔ میں نے میاں صاحب کو آنکھ ماری۔ انہوں نے میزبان کو باتوں میں لگا لیا۔ یہ ہیومن ریس کے لیے ایک تاریخ ساز لمحہ تھا۔ اگر میں گھبرا جاتا۔ اگر میاں صاحب آنکھ مارنے کا اشارہ نہ سمجھتے تو آج میں یہ سب بتانے کے لیے یہاں نہ ہوتا۔ آپ دیکھیے۔ لوگوں نے میرا مذاق بنا لیا۔ یہ مجھے شوخا پرپل کوٹ والا کہنے لگے۔ یہ میری سیلفیوں پر اعتراض کرنے لگے۔ یہ جانتے نہیں تھے۔ ان کو معلوم نہیں تھا۔ آل ہیومن کائنڈ کو میرا تھینک فل ہونا چاہیے۔یہ ایک ورلڈ سیونگ سیلفی تھی۔

ہدایت نامہ برائے معشوقاں - جدید

دستورِ زمانہ یہی رہا ہے کہ ایسے ہدایت نامے ہمیشہ عُشّاق کے لیے لکھے جاتے رہے  کہ ان نصیب جلوں کو شربتِ دیدار تو دُور کی بات، کوئی شکر کا شربت بھی نہیں پوچھتا تھا۔  کوئی پَلُّو کی ایک لپک پر عاشق ہو ا تو ساری زندگی اسی لپک جھپک میں بِتا دی۔ کسی نے پیر دیکھ لیے تو اسی آرزو میں زیست بسر کردی کہ کسی طرح ان کو دھو کے پِی لیا جائے۔ کسی نے ہاتھ دیکھا تو اپنے رُخسار سہلاتا رہا کہ کاش چانٹے کی صورت ہی سہی، اس رُخسار پر وہ ہاتھ آئے تو ۔۔۔۔ کجرارے نین بھی انہی "ویپنز آف ماس ڈسٹرکشن" میں شمار ہوا کرتے تھے۔ ماس ڈسٹرکشن کے اصلی ویپنز دیکھنے  کی حسرت لیے یہ عُشّاق کسی عم زاد کے ساتھ شادی کے گھاٹ اتر جاتے تھے مگر معشوق ان سے ہمیشہ بارہ پتھر باہر ہی رہتے تھے۔ سالم معشوق پر عاشق ہونا ، گناہِ کبیرہ سمجھا جاتا تھا۔ یوں بھی سالم معشوق کا نظر آنا ، اُڑن  طشتری نظر آنے سے زیادہ مشکل تھا۔  جس کو معشوق کی جو چیز نظر آئی، پہلی فرصت میں اسی پر عاشق ہوگیا۔ قیاس کے گھوڑے دوڑائیں تو مشاہیر عُشّاق اگر شروع میں ہی سالم معشوق دیکھ لیتے تو آج ہم عشق کی بہت سی داستانوں سے محروم ہوتے۔ حضرت قیس کے جنون کی وجہ بھی شاید لیلیٰ کا دیدار تھا۔ حضرت نے جب آخر کار لیلیٰ بی بی کو دیکھ لیا تو کلّے پیٹ لیے ۔۔۔۔وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں۔۔۔۔ قُدماء کی شاعری میں بھی معشوق، چنگیز خان جیسی خصلت کا مالک نظر آتا  تھا۔ جہاں کوئی عاشق نظر آیا اس کے دل، جگر اور دیگر اعضائے رئیسہ کے ٹکڑے کرکے  اپنی راہ لگتا ۔اکابرینِ عُشّاق کےالمناک  تجربات اور دورِ جدید کے فِتن سے آج کل کے  عُشّاق شدید گُھنّے اور میسنے   ہوگئے ہیں  لہاذا معشوقوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ انہیں ٹیکن فار گرانٹڈ لینا بند کردیں۔۔۔۔ وہ دن ہوا  ہوئے کہ پسینہ گلاب تھا۔۔۔۔ کہاں وہ دن کہ معشوق کو سالم دیکھنے کی چاہ لیے عاشق قبر میں جا اترتے تھے اور اب یہ حال کہ نمبر بعد میں مانگتے ہیں اور'سالم'  کلوز اپ والی فوٹو پہلے۔ وٹس ایپی پیغام کا جواب دس منٹ تک موصول نہ ہو تو جدید عاشق، نئے معشوق سے سلسلہء دلبری ، باندازِ دگر شروع کرنے میں جھجکتے نہیں۔ دنیائے عاشقی میں اس ہیبت ناک پیرا ڈائم شفٹ کی وجہ سے ضرورت ہے کہ معشوقوں کے لیے ایک ہدایت نامہ تشکیل دیا جائے تاکہ انہیں ان مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے جو قدیم عُشّاق جھیلتے آئے ہیں۔ سب سے پہلے تو عاشق کو انسان سمجھنا شروع کردیں۔ پرانی عادتیں بھول جائیں کہ۔۔۔ گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا۔۔۔ اب ایک طعنہ دیں گے تو ہزار سننے کو ملیں گے۔ ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ نے آپشنز لا محدود کر دئیے ہیں۔ پرانے بریک اپ عاشق کی فوتیدگی تک اپنا اثر قائم رکھتے تھے  جبکہ آج کل  معمولی سی بے التفاتی بھی عاشق کو ریس کردیتی ہے۔ اس پر خصوصی توجہ دیں۔اصلی شکل اور ڈی پی میں انیس بیس سے زیادہ فرق نہیں ہونا چاہیے۔ فوٹو فلٹر ز  آپ کی ڈی پی تو جینیفر لارنس جیسی بنا سکتے ہیں لیکن اصلی شکل ایسی کرنے کے لیے کثیر مقدار میں روپے درکار ہوتے ہیں ۔ لہاذا ۔۔۔ تھوڑا برائٹ کریں۔۔ تو چل سکتا ہے۔۔ زیادہ برائٹ نہیں چلے گا۔آلو گوبھی وغیرہم تناول کرکے پاستا، سپیگٹی کی باتیں نہ کریں۔ برگر کی سِدّھ پُٹھ پتہ نہ ہو تو آلو والے پراٹھے کے ذکرکو ہی اکابرین نے افضل جانا ہے۔ناز و انداز مناسب حد اور مقدار تک استعمال کریں۔ جدید عاشق، چوہدری رانجھا فرام تخت ہزارہ کی طرح صرف چُوری سے نہیں بہلتے۔ ونجلی بجانے کی ضد کرنے لگتے ہیں۔ احتیاط کریں۔آئی فون ، گلیکسی، کھاڈی،  جے ڈاٹ  وغیرہ کا پیہم ذکر کرنے سے امکان ِ غالب ہے کہ عاشق آپ سے کم از کم بیلنس تو مانگنا شروع کر ہی دے گا۔ اجتناب کریں۔چھُنّی کاکی نہ بنیں۔ اس سے میسنے ہونے کاشک ، یقین میں بدل جاتا ہے۔ گول روٹی کی تصاویر تسلسل سے اپ لوڈ کرنے پر عاشقانِ باصفا آپ کو تندور والی سمجھ سکتے ہیں۔ ایسی حرکات کبھی کبھار تک محدود رکھیں۔
اس جزوی ہدایت نامہ پر عمل کرنے سے کثیر فوائد و برکات حاصل ہوں گے۔ جن میں عُشّاق کو باندازِ دگر اُلّو بنانے سے لے کر اعلی ٹائم پاس تک بہت سے فضائل شامل ہیں۔
وما علینا الا البلاغ

کہانی کی کہانی

کہانی پڑھنا، کہانی سننے سے زیادہ دلچسپ ہے۔ بچپن کی کچھ دھندلی اور بہت سی واضح یادوں میں سے ایک، اگلی جماعتوں کی اردو کی کتابیں پڑھنا شامل ہے۔ شاید تیسری جماعت میں تھا، جب اخبار پڑھنا شروع کیا۔ پہلا اخبار  'جسارت' تھا جو ان دنوں شام کو فیصل آباد پہنچا کرتا تھا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ابّو، جماعت کے متفقین میں شامل تھے۔ اس میں ہماری دلچسپی کا سامان اندر کے صفحات میں "فلیش گورڈن" کی قسط وار، باتصویر کہانی ہوتی تھی۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس دور کے مُتقین اتنے خُشک نہیں تھے۔ آج کل شاید ان کہانیوں کو کامکس کہا جاتا ہے۔۔۔۔ خیر۔۔۔ پڑھنے کی لَت بہرحال دو تین مختصر پیروں سے تسکین نہیں پاتی تھی۔ لہذا شہزادی، بادشاہ، جن، پری، دیو، شہزادہ، لکّڑ ہارا، چرواہے کی کہانیوں والے مختصر سے رسالے اپنے جیب خرچ سے خرید کے پڑھنا شروع کیے۔ ہمدرد، نونہال وغیرہ بھی کہیں نہ کہیں سے مل جاتے تھے۔ لیکن یہ کہانیاں زیادہ عرصہ ہمارا دل نہ لُبھا سکیں۔ ان دنوں ابّو، تقریبا روزانہ شام کے وقت ایک کتاب لے کے بیٹھ جاتے۔ جس کے سرِ ورق پر پستول تھامے، سوٹ پہنے ہوئے کوئی شخص ہوا کرتا تھا۔ ان سے پوچھتا کہ اس "رسالے" میں کیا ہے تو جواب ملتا کہ ۔۔ چور، سپاہی کی کہانی ہے۔۔۔ میں اصرار کرتا کہ میں بھی پڑھوں گا تو مسکرا کے کہتے کہ بڑے ہوجاؤ ، پھر پڑھنا، ابھی سمجھ نہیں آئے گی۔ وہ "رسالے" ابنِ صفی سے ہمارا پہلا تعارف تھا۔جناح کالونی میں چھتری والے چوک سے ہوزری مارکیٹ کی طرف جائیں تو سیدھے ہاتھ کونے پر ویسٹ اینڈ بیکری ہوا کرتی تھی شاید اب بھی ہو۔ اس کے ساتھ ایک دو دکانیں چھوڑ کے "رفیق لائبریری" تھی۔ لائبریری کے مالک، رفیق صاحب، ایک دھان پان، معنّک، گورے چٹّے، بیٹھی ہوئی آواز والے چاچا جی تھے۔ ابّو کے دوست ہونے کی وجہ سے ہم ان کو چاچا جی کہتے تھے۔ انکی دوستی کی وجہ بھی وہی "رسالے" تھے۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں دوپہر تک ہمیں دکان پر قید کیا جاتا تھا کہ گھر میں رہتے ہوئے، چھٹیوں کے کام کی بجائے ہم بنٹے، کرکٹ اور ایسی ہی دوسری مفید سرگرمیوں میں ملوّث رہتے تھے۔ تو صبح سویرے ہم بستہ اٹھائے، ابّو کےساتھ دکان پر تشریف لے جاتے۔ جناح کالونی میں واقع پاکستان نیشنل سنٹر سے ہمارا تعارف انہی دنوں ہوا۔ جیسے ہی ابّو کسی کام کے لیے نکلتے، ہم سُودی کو ساتھ لیتے اور پاکستان نیشنل سنٹر میں جا دھمکتے۔ وہاں بہت سے اخبار، کتابیں، رسائل ہمارے لیے کسی خزانے سے کم نہیں تھے۔ ایک چھوٹی سی الماری میں بچّوں کے لیے کتابیں تھیں۔ عنبر، ناگ، ماریا، چلوسک ملوسک، داستانِ امیر حمزہ وغیرہ ہم نے وہیں بیٹھ کر پڑھیں۔ انہی دنوں ہم نقل مکانی کرکے اپنے آبائی مکان جھنگ بازار سے عوامی کالونی منتقل ہوگئے۔ یاد نہیں کہ پہلی دفعہ ظہیر لائبریری، ہمارا جانا کیسے ہوا لیکن ایک دفعہ تعارف ہونے کے بعد عوامی کالونی میں گزرے ہوئے طویل عرصے میں شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جب دن میں کم ازکم ایک چکّر، ظہیر لائبریری کا نہ لگا ہو۔ طارق روڈ سے عوامی کالونی میں داخل ہوں تو گلی نمبر چھ میں بائیں ہاتھ پر تیسرا مکان ہمارا تھا۔ گلی کی دائیں نُکّڑ پر 'سلیم اختر راہی بیسٹ ٹرنر اینڈ ریپیئرنگ" نامی خراد کی دکان تھی۔ راہی صاحب، قاری سعید چشتی کے گہرے دوست تھے اور قاری صاحب اکثر شام کو اپنے ویسپے سمیت اس دکان پر پائے جاتے تھے۔ قاری صاحب اس وقت تک صرف قاری ہی تھے، قوّال نہیں ہوئے تھے۔ گلی کی بائیں نُکّڑ پر استاد خالد کی ویلڈنگ کی دکان تھی۔ گلی پار کرکے گلستان روڈ (اب شاید بمبینو روڈ) آتا تھا جس کے دوسری طرف گلشن کالونی تھی۔ ظہیر لائبریری گلستان روڈ پر گلی نمبر ایک کے کونے سے تیسری دکان میں واقع تھی۔ تینوں دیواروں پر لکڑی کے ریک استادہ تھے۔ جو کتابوں سے بھرے ہوتے تھے۔ ایک چھوٹا سا کاؤنٹرتھا جس کے پیچھے پروپرائٹر ظہیر لائبریری، ظہیر الدین بابر براجمان ہوتے تھے۔ کاونٹر کے سامنے والی دیوار کے ساتھ لکڑی کا ایک بنچ تھا۔ جس پر کافی عظیم شخصیات اپنی تشریف رکھتی تھیں۔اشتیاق احمد سے پہلا تعارف، ظہیر لائبریری کی وساطت سے ہوا۔ یہ ہمارے لیے ایک بالکل نئی چیز تھی۔ بادشاہ، ملکہ، شہزادی، لکڑہارا، جن، دیو، پریوں کی بجائے ، عام کردار۔ ہمارا ماننا ہے کہ چور، سپاہی کی کہانی سے دلچسپ شاید ہی کوئی اور کہانی ہوتی ہو۔ تو اشتیاق احمد ہمارے پسندیدہ ترین لکھنے والے بن گئے۔ جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے گئے، ابّو کا رجحان مذہبی ہوتا گیا۔ رسالے، ناول وغیرہ خرافات میں شامل ہوتے گئے۔ جماعت اسلامی کے رسالے، نُور، بتول اور ترجمان القرآن باقاعدگی سے آنے لگے۔ ہم بھی لیکن چھپ چھپا کر خرافات پڑھتے ہی رہے۔ اشتیاق احمد کے بعد عمران سیریز کی باری آئی۔ مظہر کلیم، صفدر شاہین، ایچ اقبال وغیرہ کے ناولز پڑھے۔ مظہر کلیم ان سب میں سے اچھا لکھتے تھے۔ ابنِ صفی کو ساتویں میں پہلی دفعہ پڑھا تو بہت بورنگ لگے، چھوڑ دیا۔ دسویں کے پیپر دے کے دوبارہ شروع کیا اور آج تک نہیں چھوڑا۔نسیم حجازی، اسلم راہی ایم اے، قمر اجنالوی، عنایت اللہ وغیرہ کو بھی پڑھ ڈالا۔ نویں جماعت میں پہلا ڈائجسٹ پڑھا، جاسوسی ڈائجسٹ۔ "شکاری وہ پہلی کہانی تھی جس سے ڈائجسٹ کا چسکا لگا۔ بس پھر چل سو چل۔۔۔ سب رنگ، جاسوسی، سسپنس، مسٹری میگزین، عمران ڈائجسٹ، نیا رخ، نئے افق، عالمی ڈائجسٹ۔۔۔ ڈائجسٹوں کے لکھاریوں کی اپنی ایک الگ دنیا تھی۔ شکیل عادہ زادہ، احمد اقبال، علیم الحق حقّی، اثر نعمانی، ایم اے راحت، محی الدین نواب، طاہر جاوید مغل، محمود احمد مُودی، کاشف زبیر، ساجد امجد، جبار توقیر، اقلیم علیم اور بہت سے دوسرے۔۔۔۔۔ ڈائجسٹ سے ہی غیرملکی کہانیوں کے ترجمے پڑھنے کا موقع ملا۔ ایک نئی دنیا سے تعارف۔۔۔کالج کے پہلے سال، منٹو کا ذکر سنا۔ یہ ذکر اور تاثر کچھ ایسا خوشگوار نہیں تھا۔ ہمارے ایک دوست جو بعد میں کاکول کو پیارے ہوگئے، انہوں نے منٹو کی کہانی "ٹھنڈا گوشت" پڑھنے کو دی اور بائیں آنکھ مِیچ کے بولے۔۔ "مزے آجان گے"۔۔۔ مزے تو خیر کیا آتے، جتنی سمجھ آئی۔۔ اسی میں ہمارے کان لال ہوگئے۔ اس سے بہرحال ایک فائدہ یہ ہوا کہ ہمیں ادب پڑھنے کی تحریک ملی۔ احمد ندیم قاسمی کے افسانے شاید وہ پہلی ادبی تحریر تھی جو ہم نے پڑھی۔ ممتاز مفتی، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، غلام عباس، خدیجہ مستور، اے حمید، قرۃ العین حیدر، عصمت چغتائی، عبداللہ حسین۔۔ الغرض جو بھی ہمارے سامنے آیا ہم نے پڑھ ڈالا۔۔۔۔ بہت کچھ سر کے اوپر سے گزر گیا۔۔ بہت عرصے بعد دوبارہ پڑھا تو گتھیاں سلجھیں۔ تارڑ کے سفرنامے پڑھے اور سچّی بات کہ زیادہ متاثر نہیں کرسکے۔ تارڑ سے اصلی والا ٹاکرا "راکھ" پڑھ کے ہوا اور تب سے تارڑ کے سحر میں مبتلا ہیں۔نان فکشن بہت کم پڑھا۔ ڈاکٹر سلیم اختر، سبطِ حسن اور ڈاکٹر مبارک علی کے نام  ذہن میں آرہے ہیں۔ اس میں اگر مذہبی لٹریچر کو بھی شامل کرلیا جائے تو مولانا مودودی اور شبلی نعمانی کا نام آتا ہے۔شاعری سے کوئی لگاؤ نہیں تھا۔ اقبال کے علاوہ ہم کسی کو شاعر نہیں سمجھتے تھے اور اقبال کا نام سنتے ہی ہمارے ذہن میں عقیدت و احترام کی اگر بتّیاں سلگنے لگتی تھیں۔ ایک دن ظہیر سے گپ شپ کرتے، ریک میں پڑی ایک کتاب کے عنوان نے توجہ کھینچ لی۔۔۔ دشمنوں کے درمیان شام۔۔۔ ورق گردانی کی تو ایک انوکھی چیز پڑھنے کو ملی۔ یہ ہمارے شاعری سے لائف لانگ رومانس کا آغاز تھا۔ منیر نیازی، شاعری میں ہماری پہلی محبّت ہیں۔ پہلی محبّت کبھی نہیں بھولتی۔

اقبال، خُودی اور بُلبلیں

علاّمہ اقبال سے ہماری عقیدت کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ زمانہءطالبعلمی میں ہمارا خیال تھا کہ شاعر صرف اقبال ہوتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے امیتابھ بچن بارے ہمارا خیال تھا کہ ہیرو صرف 'میتا بچن' ہوتا ہے۔ سکول کے مرکزی دروازے سے داخل ہوتے ہی طویل برآمدے کی دونوں اطراف اقبال کے اشعار سے مُزین کتبے لگے ہوتے تھے۔ جن پر موج، دریا، کشت، زرخیز، نم، کاشغر، نیل (اس وقت ہم اسے رابن نیل سمجھا کرتے تھے)، شاہین (الحمدللہ ۔۔ اس وقت ہمیں مسرّت شاہین کا قطعی علم نہیں تھا) ، لوح و قلم وغیرہ کا ذکر تھا۔ ابّو کی چھوٹی سی لائبریری سے ہمیں شکوہ، جواب شکوہ بھی ملی۔ جسے پڑھتے ہوئے ہم تخیّلاتی دنیا میں "آخری چٹان"، "داستانِ مجاہد" وغیرہ کے ہیرو بن کے کفّار کے لشکروں کے لشکر تہہ تیغ کر دیا کرتے تھے۔ اہلِ زبان نہ ہونے کے سبب ہم شِکوہ کو شِکَوہ اور دارا شِکَوہ کو دارا شِکوہ پڑھا کرتے نیز دارا شِکَوہ کو ایک گمراہ اور فاسق انسان بھی سمجھتے تھے۔ ویسے بھی کسی شہزادے کا نام دارا ہونا ہی محلِ نظر ہے، کسی لوفر لونڈے کا نام لگتا ہے۔ خیر۔۔۔علاّمہ صاحب کی شاعری پر بہت تحقیقی کام ہوچکا ہے اور محققین نے اس میں سے مابعد الطبیعیات سے کوانٹم فزکس تک سب کچھ برآمد کرلیا ہے۔ ہم نے بھی اس سلسلے میں کچھ غورو فکر کیا اور کچھ ایسی حیران کُن باتیں دریافت کی ہیں جن کی طرف شاید کسی کا دھیان نہیں گیا۔ علاّمہ صاحب فرماتے ہیں۔۔تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر۔۔۔اس شعر سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو کوہ پیمائی کا بہت شوق تھا اور اکثر چٹانوں وغیرہ پر چڑھ جایا کرتے تھے۔ آپ کی شاعری میں جو بلندی نظر آتی ہے ہمیں اس کی وجہ بھی یہی لگتی ہے۔ خود ہی سوچیے، جو شاعری سطح سمندر سے کئی ہزار فٹ کی بلندی پر کی گئی ہو اس میں تو بلندی خودکار طریقے سے ہی آجائے گی۔ علاّمہ صاحب نے اپنے شعروں میں جگہ جگہ خُودی کا ذکر کیا ہے۔ اس کی تشریح میں بہت سے اہلِ علم خطا کھا گئے ہیں اور اس کی عجیب و غریب تاویلات کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں۔ یہ بہت سادہ سی بات تھی۔ ایک مشہور مصرعہ جو غلطی سے کسی اور سے منسوب ہوگیا، وہ علاّمہ صاحب کا تھا جس میں آپ فرماتے ہیں۔۔۔امّی کہتی ہیں جو کہتا ہے وہ "خُود ای" ہوتا ہے۔۔یہ "خُود ای" کثرت استعمال سے خُودی بن گیا اور لوگوں نے رائی کا پہاڑ بنا لیا۔علاّمہ صاحب کو پختونوں سے بہت لگاؤ تھا۔ اس کی مثالیں جا بجا ان کے شعروں میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ آپ نے اپنے المشہور ملّی نغمے ۔۔۔ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا۔۔ میں فرمایا ہے۔۔ہم بُلبلیں ہیں اس کی۔۔ یہ گلستاں ہمارا"بُلبل" کا اتنا برمحل استعمال کم ہی دیکھنےمیں آیا ہے۔ برسبیل تذکرہ، آپ نے جب یہ ملّی نغمہ لکھا تو قائد اعظم نے آپ کو خط لکھ کے ان الفاظ میں سخت سرزنش کی تھی: " بالے۔۔ ہم تمہیں مفکّر پاکستان بنانے کا سوچ رہے ہیں اور تم ابھی تک ہندوستان کے ملّی نغمے لکھ رہے ہو؟"۔ پھر آپ نے اسی زمین میں دوسرا نغمہ لکھا جو یہاں سے شروع ہوتا ہے۔۔چین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارامسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارااورخنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا۔۔۔اس پر قائد اعظم بہت خوش ہوئے اور علاّمہ صاحب کو حُقّے کے لیے عمدہ قسم کا تمباکو بھیجا نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ علاّمہ صاحب بھی قائد اعظم کے غصے سے ڈرتے تھے۔وما علینا الا البلاغ

۔۔۔ تو ناچتی بوتل

کوئی جائے اور شہباز مسیح کو بتائے؛ فقیروں کو لُوٹ کے تونگری نہیں ملتی۔خدا اس کی قبر کو نُور سے بھر دے۔ ربع سال ہوتا ہے، جون کی تپتی صبح کو جانکاہ اطلاع ملی، جارج گھسیٹے خاں گزر گئے۔ ایسا نجیب و بے ریا آدمی۔ زمین کا نمک۔ دو دہائیوں کی سنگت رہی۔ ایک بھی دن ایسا نہیں کہ شکایت کا موقع دیا ہو۔ ہمیشہ جو کہا، وہی ملا۔ قناعت ایسی کہ تہواروں پر بھی وہی دام جو عام دنوں میں۔ فقیر، بُہتیرا اصرار کرتا کہ میاں، سب زیادہ لے رہے ہیں۔۔۔ تم کیوں نہیں لیتے؟ آنکھیں بھر آتیں، کانوں کو ہاتھ لگاتے اور آسمان کی طرف انگشت شہادت سے اشارہ کرکے گویا ہوتے۔۔۔ خدا کو کیا منہ دکھائے گا؟ فقیر، شاہوں کی محفلوں میں بھی گیا اور اپنے جیسے بے مایہ رندوں کے ساتھ بھی محفلیں جمائیں، پَر جو بوتل، خلد آشیانی لاتا تھا ویسا خالص پن کہاں۔۔۔۔ جو مزا چھجّو کے چوبارے وہ بلخ نہ بخارے۔۔۔برّصغیر کا مزاج مگر تقلید کا ہے۔ نشہ حرام ہے حضورِ والا۔۔ مشروب حرام نہیں۔ یہ نکتہ مگر سب پر نہیں کھلتا۔ حالی، شہرہءآفاق مُسدّس میں یوں گویا ہوئے۔۔۔نشہ شراب میں ہوتا تو ناچتی بوتلمگر کون سنتا ہے، کون غور کرتا ہے۔ تقلید کے خُوگر صرف عامی نہیں، جلیل القدر علماء بھی اکابرین کا آموختہ دھراتے ہیں۔ مشروب حرام اور لسّی مرغوب۔ روح چیخ اٹھتی ہے۔ ایک سے فکر کی پرواز بلند کہ کائنات کے راز کھولنے پر آمادہ اور دوسری ایسی کہ انسان کو گوبھی بنا دے۔ غنودگی اور بسیارگی۔ درویش کی خدمت میں حاضر ہوا۔دل بے چین اور روح مضطرب۔ خاموش ایک کونے میں براجمان ہوا۔ طالب علم کی حالت مگر درویش سے اوجھل کیسے رہ سکتی ہے۔ سر اٹھایا، ہچکی لی اور بوتل، طالب علم کی طرف بڑھا دی۔ دو گھونٹ لئے تو دل کو قرار آیا۔ ذہن سوچنے کے قابل ہوا۔ درویش سے ماجرائے درد بیان کیا۔ وہی قصّے ہیں وہی بات پرانی اپنیکون سنتا ہے بھلا رام کہانی اپنیکون سنتا ہے مگر سوائے درویش کے۔ دل چیر کے رکھ دیا۔ چار ماہ ہونے کو آئے۔ خالص مشروب کی ایک بوند حلق سے نہیں اُتری۔ ڈیڑھ سو کی کُپّی کے چار سو تک ادا کیے۔ نرا پانی۔ جب حلق ہی تَر نہ ہوا تو دماغ کیسے تَر ہوگا۔ قارئین، حیران اور برگشتہ۔ لکھتا ہوں تو ۔۔ ماروں گُھٹنا پھُوٹے آنکھ۔۔۔ والا حال۔ حضرت جنید بغدادی سے شروع ہونے والی تحریر، اختتام تک صدارتی نظام کی حمایت بن جاتی ہے۔ ایک دو دفعہ تو العیاذ باللہ، میاں صاحب کی حمایت بھی سرزدِ قلم ہوئی۔ مدیر بھی ایسے کہ بعینہ شائع کردی ۔۔۔۔ کَلّی کَلّی جان دکھ لکھ تے کروڑ وےدور جان والیا مہاراں ہُن موڑ وےمردانِ باصفا کی قدر ان کے جانے کے بعد ہوا کرتی ہے۔ جارج گھسیٹے خان کا ذکر آیا تو آنکھیں برس اٹھیں۔ درویش بے اختیار اٹھے، لڑکھڑائے اور دھڑام سے طالبعلم پر آ پڑے۔ گلے سے لگا لیا۔ دل کو قرار آیا۔ آنسو پونچھے۔ تسلّی دی۔ الماری کھول دی۔ اذن دیا کہ جو جی چاہے لے لو۔ مشروب کی خوش وضع بوتلیں کہ قطار اندر قطار پریاں۔ ہاتھ باندھ دئیے۔عرض کیا۔۔ حضور، کوئی مستقل حل عنایت ہو۔ درویش نے سر جھُکا لیا۔ چند ثانیے گزرے۔۔۔ ایک آہ بھری سر اٹھایا اور گویا ہوئے۔۔۔ جان دے سکتے ہیں۔۔۔۔ سپلائر کا نام نہیں دے سکتے۔بوجھل دل کے ساتھ طالبعلم اٹھا۔ دو ریڈ لیبل اور تین جیک ڈینئیلز اٹھائیں اور صدری کی جیبوں میں ٹھونس لیں۔ اپنی آزمائش سے خود ہی نبرد آزما ہونا پڑتا ہے۔ انسان، سپلائر سے نہیں اس پر اصرار سے برباد ہوا کرتا ہے۔ ڈھونڈے پر تو خدا مل جاتا ہے۔ ایک صالح سپلائر کی کیا حیثیت!
کوئی جائے اور شہباز مسیح کو بتائے؛ فقیروں کو لُوٹ کے تَونگری نہیں ملتی۔

سپہ سالار کی ڈائری

نماز فجر ادا کی۔ ورزش کرنے کے لیے قریبی میدان کا رخ کیا۔ جاگنگ کرتے ہوئے دو سپاروں کی تلاوت کی۔ الحمدللہ۔ واپس گھر پہنچا تو بیگم نے بچوں کے سکول کی فیس بابت دریافت کیا۔ میں نے بتایا کہ کل تنخواہ ملی تھی۔ آفس سے آتے ہوئے رستے میں جماعت الدعوۃ کے امدادی کیمپ پر نظر پڑگئی۔ شام کے پناہ گزینوں کے لیے امداد اکٹھی کی جارہی تھی۔ ساری تنخواہ وہیں دے آیا۔ بیگم نے فخر سے میری طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہا، کوئی بات نہیں۔ اللہ تعالی اور کوئی سبب بنا دیں گے۔ شادیوں کا سیزن شروع ہے۔ چار گھنٹے کی بجائے آٹھ گھنٹے سلائی کرلوں گی۔رات کی بچی ہوئی روٹی اور پانی سے ناشتہ کیا۔ آج سرکاری دورے پر مُلکِ فرنگ جانا تھا۔ ولیمے پر جو شلوار قمیص اور واسکٹ پہنی تھی، بیگم نے کل وہی دھو کر بستر کے نیچے بچھادی تھی تاکہ استری ہوجائے۔ کپڑے بدل کر سائیکل نکالی اور ہوائی اڈے کی جانب روانہ ہوا۔ کچھ ہی دور گیا تھا کہ ایک کیفے کے باہر ایک نوجوان پریشان حالت میں فٹ پاتھ پر بیٹھا ہوا دیکھا۔ اس کے قریب جا کے سائیکل روکی اور ماجرا دریافت کیا۔ اس نے رقّت آمیز لہجے میں بتایا کہ اس کے پاس آئی فون فائیو ہے جبکہ نیا آئی فون لانچ ہوچکاہے۔ اس کے پاس خریدنے کے لیے رقم نہیں۔ معاشرے میں اس کی کیا عزت رہ جائے گی؟ یہ کہہ کر وہ زار و قطار رونے لگا۔ میں نے ٹکٹ کی رقم نکال کے اس نوجوان کو نئے فون کے لیے دی، سائیکل کو پیڈل مارا اور عازمِ ہوائی اڈّہ ہوا۔رستے میں سو طرح کے وسوسے ذہن میں کلبلاتے رہے۔ بغیر ٹکٹ کے کیسے سفر کروں گا۔۔ یہ سرکاری رقم میرے پاس امانت تھی، کیا میں نے خیانت کی؟ یہی سوچتے ہوائی اڈے پر پہنچ گیا۔ سٹینڈ پر سائیکل کھڑا کرکے ٹوکن لے کر مُڑا ہی تھا کہ سامنے ایک سفید پوش نورانی صورت والے بزرگ، عصا تھامے کھڑے تھے۔ انہوں نے اشارے سے پاس بلایا۔ پاس جانے پر انہوں نے میرا ہاتھ تھاما اور کہا، شکیل، آنکھیں بند کرلو۔ ایک لحظہ گزرا تو انہوں نے آنکھیں کھولنے کا حکم دیا۔ دیکھا تو ہم لندن کے ہوائی اڈے کے باہر موجود تھے۔ میں نے بزرگ سے دریافت کیا کہ واپسی کا کیا بندوبست ہوگا۔ ان کا چہرہ جلالی ہوگیا۔ انہوں نے عصا میری تشریف پر رسید کیا اور کہا، ہم تمہیں یہاں لاسکتے ہیں تو واپس بھی لے جاسکتے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ دفعتا غائب ہوگئے۔فلائٹ کے پہنچنے میں ابھی کافی وقت باقی تھا لہذا پیدل ہی سفارتخانے کا قصد کیا۔ تاکہ عامیوں پر یہ روحانی واردات ظاہر نہ ہو۔ اس سے سفارتخانے کی گاڑی کا پٹرول بھی بچا۔ ایک ایک پیسہ ہمارے پاس عوام کی امانت ہے۔ مغرب کا وقت ہوگیا تھا۔ ٹیمز کے کنارے وضو کرکے نماز ادا کی۔ بیگم نے زادِ راہ کے طور پر مُٹھّی بھر بھُنے ہوئے چنے اور پانی کی چھاگل ساتھ کردی تھی۔ تھوڑے سے چنے چبائے، دو گھونٹ پانی کے پئے اور سفارتخانے کی جانب روانہ ہوا۔ وہاں پہنچا تو سکیورٹی گارڈ نے اندر داخل ہونے سے روک دیا۔ لاکھ کہا کہ میں سپہ سالار ہوں۔ لیکن وہ جوابا کہنے لگا کہ میں برطانیہ کی ملکہ ہوں۔ ستم ظریف، فیصل آباد کا لگتا تھا۔ بعد میں تحقیق سے یہی ثابت ہوا۔ شور سن کر سفیر صاحب باہر تشریف لائے۔ مجھے دیکھ کر ان کی گھِگھّی بندھ گئی۔ بڑی مشکل سے کُھلی۔سفیر صاحب نے شب بسری کے لیے ڈورچسٹر ہوٹل میں بندوبست کیا تھا۔ میں نے سختی سے انکار کردیا۔ سفارتخانے میں رات گزارنے پر بھی دل راضی نہیں ہوا۔ عوام کا پیسہ اپنی ذات پر خرچ کرنا، امانت میں خیانت لگتا ہے۔ سفیر صاحب سے کل کی ملاقات بارے بریفنگ لی دوران بریفنگ سختی سے منع کیا کہ کسی بھی قسم کے مشروبات نہ لائے جائیں۔ خواہش ہوگی تو میں اپنی گرہ سے چائے پی لوں گا۔ رات گئے سفارتخانے سے نکلا۔ عشاء کا وقت ہوچکا تھا۔ ٹیمز کنارے ایک پُرسکون جگہ ڈھونڈی۔ رات کے کھانے میں بھُنے ہوئے چنے کھائے اور پانی پی کر اللہ کا شکر ادا کیا۔ وضو تازہ کیا اور نماز کے لیے قبلہ رُو ہوا۔ فرض ادا کرکے سلام پھیرا تو کیا دیکھتا ہوں کہ پیچھے حدِّ نظر، سفید پوش نورانی وجود صفیں باندھے ہوئے ہیں۔ دل کی عجیب سی حالت ہوگئی۔ ایک گنہگار پر پروردگار کی اتنی رحمتیں۔ فورا سجدہءشکر بجا لایا۔ بقیہ رات ذکر اذکار میں گزری۔ سردی بھی تھی۔ نوافل کی ادائیگی سے جسم کو گرمی ملتی رہی۔دس بجے وزیر اعظم سے ملاقات طے تھی۔ پیدل ہی جانے کا فیصلہ کیا۔ اس سے ورزش بھی ہوئی اور قیمتی زرِمبادلہ کی بچت بھی۔ ڈاؤننگ سٹریٹ کے قریب پہنچنے پر پولیس والے نے روکا اور شناخت پوچھی۔ تعارف کرایا تو وہ دم بخود رہ گیا۔ دو قدم پیچھے ہٹا اور ایک زوردار سلیوٹ کیا۔ پھر آگے بڑھ کر عقیدت سے میرا ہاتھ تھام کر چُوما اور دعا کی درخواست کی۔ وزیرِاعظم نے میرا استقبال کیا اور مذاکرات کے لیے میٹنگ روم میں لے گئے۔ میز پر انواع و اقسام کے مشروبات و ماکولات تھے۔ میں نے نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ وزیر اعظم کا لہجہ رُوکھا تھا۔ انہوں نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا کہ ان کے منصوبوں کی راہ میں واحد رکاوٹ میں ہوں۔ حکومت پاکستان ہر وہ کام کرنے کو تیار ہے جو ہم چاہتے ہیں لیکن آپ کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہے۔ بتائیں۔۔ آپ کی قیمت کیا ہے؟۔ یہ سنتے ہی میں نے غضب کے عالم میں ان کی طرف دیکھا۔ جیسے ہی ہماری نظریں ملیں، بجلی کڑکی اور کھڑکی سے تیز دودھیا روشنی کی لکیر سیدھی ان کے دل تک پہنچی۔ وہ بے اختیار اٹھے اور سجدے میں گرگئے۔ میں نے فورا اٹھ کر دروازہ مقفل کیا۔ ان کو سجدے سے اٹھایا اور گلے سے لگا لیا۔نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریںوزیر اعظم نے کہا کہ ان کو کلمہ پڑھایا جائے۔ کلمہ پڑھا کر ان کو مشرف بہ اسلام کیا۔ ان کا اسلامی نام داؤد فریدون رکھا۔ وہ سب کچھ تیاگ کر میرے ساتھ پاکستان جانے کو تیار تھے۔ میں نے ان کو مومنانہ فراست سے کام لینے کا مشورہ دیا اور کہا کہ کسی کو اس کایا پلٹ کی خبر نہیں ہونی چاہیے۔ حسبِ معمول وزارت عظمی پر فائز رہیں۔ اور پاکستان اور عالمِ اسلام کے خلاف ہر سازش کی خبر مجھے دیں۔ یہی ان کا جہاد ہوگا۔ انہوں نے اس پر صاد کیا۔ یہود و ہنود کی سازشوں بارے انہوں نے لرزا دینے والے انکشافات کیے۔ میں نے ان کو سمجھایا کہ آئندہ کسی بھی سازش بارے خبر ملے تو مجھے مِس کال کردیں۔ میں خود ان تک پہنچ جاؤں گا۔ کسی بھی صورت سکائپ کال، وٹس ایپ، ایمیل یا ڈی ایم نہ کریں۔ سو سجن سو دشمن۔ملاقات ختم ہوئی۔ وزیر اعظم مجھے دروازے تک چھوڑنے کے لیے آنا چاہتے تھے۔ میں نے منع کیا کہ خلاف مصلحت ہے۔ باہر نکل کر دیکھا تو سفید پوش بزرگ کے دور دور تک کوئی آثار نہ تھے۔ لشٹم پشٹم ہائیڈ پارک تک پہنچا۔ تین گھنٹے انتظار کرنے پر بزرگ ظاہر ہوئے۔ میں نے تاخیر کا سبب دریافت کیا تو کمالِ بے نیازی سے بولے۔۔۔۔۔۔" اکھ لگ گئی سِی"۔۔۔

کیِ فرق پیندا اے

کالونی کے مرکزی دروازے سے داخل ہوتے ہی بردارِ خُورد نے ون وے کی خلاف ورزی کی تو ہم نے ان سے دریافت کیا، "کِی تکلیف اے تینوں؟"۔ جواب ملا کہ دوسری طرف سے جانے پر یوٹرن لینا پڑتا۔ مزے کی بات یہ کہ صرف بیس پچیس میٹر کا فرق پڑتا۔ ہم نے انہیں بائیک موڑنے اور اسی طرف سے جانے کا حکم دیا۔ مرتا کیا نہ کرتا، سگ باش بردارِ خورد مباش۔۔۔برادر نے بائیک موڑی اور اسی سڑک پر ہولئے۔ گھر پہنچنے پر ہم نے ان کو ایک عدد پُر جوش لکچر دیا جس میں قوانین کا احترام اور ان کی اہمیّت سمجھانے کی کوشش کی گئی تھی۔ سب کچھ بظاہر بغور سننے کے بعد وہ ہم سے یوں گویا ہوئے۔۔" بھائی جی۔۔ سڑک تے خالی سِی بالکل۔۔ کیِ فرق پیندا اے"۔زیادہ تر کیسز میں کچھ سال ملک سے باہر گزارنے والوں کو گھروالے اور حلقہءاحباب، کالا صاحب سمجھنے لگتے ہیں۔۔۔ پیسے آگئے نیں تے دماغ ستویں اسمان تے پہنچ گیا اے۔۔ ایتھے ای کھجل ہندا سِی پہلے۔۔۔ ہماری لیکن کھال موٹی ہے اور ہم ایسی باتیں ایک کان سے سن کر ان کا جواب اپنی گز بھر لمبی زبان، بقول امّی جی "لُتری" سے دیتے ہیں۔بچپن میں گھر اور سکول سے ہمیں ٹریفک بارے جو معلومات یا تربیت ملی وہ صرف اتنی تھی کہ سڑک دونوں طرف دیکھ کے پار کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ کبھی کسی نے کچھ سمجھانے یا بتانے کی کوشش نہیں کی۔ بائیک ہم نے اس وقت چلانی شروع کی جب ہمارے پاؤں زمین پر نہیں لگتے تھے۔ ہمیں کسی نے منع نہیں کیا۔ ڈرائیونگ لائسنس تو کالج میں کہیں جا کے بنوایا۔ سڑک پر ہمارے رویّے ایسے تھے اور ہیں جیسے سب گھر سے اس امر کا تہیّہ کرکے نکلے ہوں کہ زندہ گھر واپس نہیں جائیں گے اور یہیں کہیں کسی کھوتا ریڑھی یا ویگن سے ٹکرا کر شہید ہوجائیں گے یا کسی کو شہید کردیں گے کہ حادثے میں فوت ہونا بھی شہادت ہی ہوتی ہے۔ چند سال پہلے ہمیں دیس نکالا ملا اور ہم ایک ایسے ملک میں پہنچے جہاں ٹریفک کا نظام دیکھ کر ہماری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔۔۔ ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی۔۔۔ اس ٹریفک کا وطنِ عزیز و مُلکِ خدداد سے موازنہ کیا تو ہمیں یوں لگا جیسے مادرِ وطن میں سڑکوں پر ٹریفک نہیں چلتی، موت کے کنوئیں کا شو چلتا ہے۔ سڑک پر موجود ہر شخص اتنی جلدی میں ہوتا ہے جیسے فائر بریگیڈ کا ملازم ہو اور بازارِ حُسن میں آگ لگنے کی اطلاع پر آگ بجھانے جارہا ہو۔ہم جب بھی وطنِ عزیز کا چکر لگاتے ہیں تو ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ٹریفک بارے جو کچھ ہم نے پردیس میں رہ کر سیکھا ہے اس پر ہر ممکن حد تک عمل کرسکیں اور جن پر ہمارا بَس چلتا ہے ان کو بھی تاکید کریں۔ ٹریفک سگنل پر سبز بتّی جلتی ہے تو اکثر ہم اکیلے ہی کھڑے ہوتے ہیں کہ باقی سب احباب ساٹھ یا اسّی سیکنڈ کا طویل عرصہ گزارنے کی سکت نہیں رکھتے اور سگنل توڑ کر آگ وغیرہ بُجھانے نکل جاتے ہیں۔ اکثر احباب تو ہمیں اکیلا سگنل پر کھڑا دیکھ کر ہنستے ہیں اور کچھ تو باقاعدہ جُگتیں بھی کرتے ہیں۔ فیصل آبادی جو ہوئے۔ ہم ڈھیٹ بنے کھڑے رہتے ہیں۔ کسی کو تو کھڑا ہونا ہی ہے۔ ہم اپنی پوری ایمانداری سے بیان کرتے ہیں کہ بچپن سے لے کر آج تک ہم نے کسی مسجد میں ٹریفک یا کسی بھی قسم کے قوانین کے احترام کا وعظ یا بیان نہیں سُنا۔ ہم نے ہر قسم کی مساجد میں نمازیں باقاعدگی سے پڑھی ہیں۔ بریلویوں کی مسجد ہمارے محلے میں تھی۔ دیوبندیوں کی مسجد میں ہم ابّو کے ساتھ جمعہ پڑھنے جاتے تھے۔ اہل حدیثوں کی مسجد میں وہ جمعہ پڑھتے تھے جس دن کرکٹ میچ آرہا ہوتا تھا کہ ان کا جمعہ جلد اور سب سے پہلے ختم ہوجاتا تھا۔ ان مساجد میں ہم نے ہر قسم کے قصّے، کہانیاں، ایمان کو گرما دینے والے وعظ، شلوار کی اونچائی اور داڑھی کی لمبائی، روزے کے مسائل، مدارس کے لیے چندہ دینے کے فضائل، جہاد کی اہمیّت (صرف سننے والوں کے لیے)، نُور بشر کے مسائل، قربانی کی کھالوں کا درست مصرف، فلسطین، کشمیر، بوسنیا وغیرہ کے مسلمانوں کی امداد، یہود و ہنود کی سازشیں، شیعوں کا کُفر، بریلویوں کا شرک، دیوبندیوں اور اہل حدیثوں کا گستاخ رسول ہونا۔۔۔ یہ سب ہم نے سنا۔ نہیں سُنا تو یہ نہیں سُنا کہ سگنل توڑنا، گناہ کبیرہ ہے اور یہ اقدام قتل کے برابر ہے۔ یہ نہیں سُنا کہ مُلکی قوانین کو جان بوجھ کے توڑنا، فتنہ ہے۔ اور فتنہ قتل سے بدتر ہے۔ سوچنے کا مقام ہے کہ اگر مسجد کے منبر سے کہے گئے لفظ پر لوگ اپنا مال اور جان قربان کرسکتے ہیں تو کیا انہیں یہ نہیں سکھایا جاسکتا؟
تعلیم کے پیچھے دوڑ رہے ہیں اور تربیّت بالکل بھُلا دی گئی ہے۔ تعلیمی اداروں میں بے دال کے بُودم بن رہے ہیں۔ والدین کے نزدیک سکول اور کالج کی فیسیں دے کے ان کی ذمّہ داری ادا ہوجاتی ہے۔ بچّے جانیں اور ان کے تعلیمی ادارے جانیں۔ یہ سب ہوتے ہوئے اگر آپ کو سڑک پر پاگلوں کا ایک ہجوم دکھائی دیتا ہے تو اس میں حیرانی کی کیا بات ہے؟

مقطع میں آ پڑی ہے سُخن گسترانہ بات

قادیانی/مرزائی/احمدی احباب بارے پھر بحث چھڑی ہے کہ کسی کو کافر کیوں قرار دیا جائے؟ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ آئین میں ترمیم کریں اور انہیں مسلم قرار دے دیں۔ جب تک ریاستی قانون انہیں غیرمسلم قرار دیتا ہے تب تک اسے ماننا پڑے گا۔ دوسرا رخ اس کا یہ کہ اس بنیاد پر ان سے امتیازی سلوک کیا جائے یا تشدّد کی کسی بھی قسم سے کام لیا جائے تو یہ مذہی، قانونی، اخلاقی کسی بھی رُو سے نہ تو جائز ہے اور نہ ہی اس کی کوئی توجیہہ یا حمایت کی جاسکتی ہے۔ یہ پاکستان کے شہری ہیں اور انہیں وہی حقوق (یا ان کی حق تلفی) حاصل ہیں جو عمومی طور پر ہم سب کو حاصل ہیں۔تیسرا رُخ یہ کہنا کہ بھُٹّو نے مولویوں کے دباؤ میں یہ فیصلہ کیا تھا، قطعی غلط ہے۔ یہ انیس سو چوہتّر کا واقعہ ہے جب بھٹّو اپنے اقتدار کے عروج پر تھے۔ جن مولویوں کے دباؤ کی بات کی جاتی ہے، انہیں اسمبلی سے ڈنڈا ڈولی کرکے باہر پھینک دیا جاتا تھا۔ جو بات ہم سمجھنا نہیں چاہتے وہ یہ کہ ان کے پیشوا (موروثی)  کو پارلیمان نے اپنا موقف بیان کرنے کا پورا موقع دیا اور ان کا مؤقف ظاہر و باہر اور آن ریکارڈ ہے کہ جو مرزا صاحب کو نبی اور مسیح موعود نہیں مانتا، ان کے نزدیک وہ ان کے دائرہ اسلام سے خارج اور کافر ہے۔ ان کی حق گوئی کی داد دی جانی چاہیے کہ جس بات کو انہوں نے درست سمجھا اسے ڈنکے کی چوٹ پر ریاست کی مقنّنہ  کے سامنےبغیر کسی ہچکچاہٹ بیان کیا۔ اسی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے مقنّنہ نے بھی وہ فیصلہ کیا جسے وہ حق سمجھتی تھی۔ جمہوری اصول کے تحت اس فیصلہ کا احترام تب تک کیا جانا چاہیے جب تک اسے وہی مقنّنہ بدل نہ دے۔قادیانی احباب اپنے پیشواؤں  کے جیسے مقلّد ہیں وہ شاید ان احباب کو جاننے والے حضرات بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ جائز اور اکثر ناجائز طور پر ہم مولویوں پر تنقید کرتے ہیں اور ان میں لبرل حضرات خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ لیکن آج تک کبھی کسی نے، قادیانی احباب جس پیشوائی چنگل میں جکڑے ہیں، اس پر ایک لفظ نہیں لکھا۔ یہ بھی مذہبی پیشوائیت کے ہاتھوں اتنے ہی ڈسے جا رہے ہیں جتنے ہم ہیں شاید اس سے بھی زیادہ۔ ہم تو اپنے مولویوں پر ہر قسم کی تنقید اور ان کا پوسٹمارٹم کرتے رہتے ہیں لیکن یہ اس پیشوائیت کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھاتے یا اٹھا نہیں سکتے۔
ایک زمانہ تھا جب ہم ان دوستوں بارے بہت سخت زبان استعمال کرتے تھے اور مرزا صاحب بارے وہ سب کچھ کہتے تھے جو یقینا ہم اپنے بارے سننا نہیں چاہیں گے۔ لیکن آہستہ آہستہ یہ جانا کہ نفرت کاشت کرنے سے تشدّد کی فصل اگتی ہے اور تشدّد زدہ معاشرہ معذور ہوجاتا ہے۔ تو اب کوشش یہ ہوتی ہے کہ اپنے عقیدے پر رہتے ہوئے، مناسب انداز میں اپنی رائے بیان کردی جائے۔

آخری ٹُل

آپ سلطان کو دیکھ لیں۔ یہ بانسانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نمبردار کے مُنشی تھے۔ یہ بہن بھائیوں میں وچکارلے تھے۔ یہ بچپن سے ہی کھیل کُود کے شوقین تھے۔ ان کی والدہ سے روایت ہے کہ قبل از پیدائش بھی کافی اودھم مچایا کرتے تھے۔ بانسانوالہ کی گردونواح میں وہی اہمیّت تھی جو پارٹیشن سے پہلے علی گڑھ کی یو پی میں تھی۔ ان کے والد اعلی تعلیم یافتہ تھے۔ سلطان کی ابتدائی تعلیم نمبردار کے ڈیرے پر ہوئی۔ جہاں یہ والدکے ساتھ جاتے تھے کیونکہ یہ گھر میں سب کا جینا حرام کیے رکھتے تھے۔نمبردار کے ڈیرے سے ہی ان کو گلّی ڈنڈا کھیلنے کا شوق ہوا۔ یہ ابّا جی کی نظر بچا کر ڈیرے سے بھاگ جاتے۔ یہ فرینڈز کے ساتھ آوارہ گردی کرتے۔ یہ ٹیوب ویل پر نہاتے۔ یہ گنّے توڑتے (کھیتوں سے)۔ بڑے لڑکوں کو گلّی ڈنڈا کھیلتے دیکھ کر ان کو بھی کھیلنے کا شوق پیدا ہوا۔ نیامت ورک، جو گلّی ڈنڈے کا ماہر کھلاڑی تھا، سے دوستی گانٹھ کر سلطان بھی بڑے لڑکوں کے ساتھ کھیلنے لگے۔ یہ پیدائشی کھلاڑی نکلے۔ ان کا ٹُل ایسا جاندار ہوتا کہ کوئی اس پر ہاتھ ڈالنے کی جرات نہ کرتا۔ ابتدائی دور میں ہی انہوں نے اتنی گُلّیاں اپنے ٹُلّوں سے گم کیں جو گلّی ڈنڈے کی ہسٹری میں کوئی نہیں کرسکا۔ فیلڈنگ میں بھی ان کو ملکہ حاصل تھا۔ یہ ٹُل باز کے ڈنڈے کی ابتدائی حرکت سے جان لیتے کہ ٹُل کدھر جائے گا۔ ٹُل کو کیچ کرنے میں بھی ان کو یدِ طُولٰی حاصل تھا۔ ریومر ہیز اٹ ۔۔۔کہ ایک دفعہ انہوں نے چار پَیلیاں دوڑ کر ٹُل کیچ کیا۔ گلّی ان کی ہتھیلی میں پیوست ہوگئی لیکن کمٹمنٹ ایسی کہ کیچ نہیں چھوڑا۔وقت گزرتا گیا۔ سلطان، جوان ہوگئے۔ ہر طرف ان کے کھیل کی دُھومیں تھیں۔ دوشیزائیں ان کا میچ دیکھنے کے لیے پانی بھرنے کا بہانہ بنا کر آتیں اور ہر ٹُل پر اَش اَش کرتیں۔ یہ لنگوٹ کے اتنے پکّے تھے کہ کبھی لنگوٹ کسا ہی نہیں تھا۔ یہ اپنے مدّاحوں سے ایک مناسب فاصلہ رکھتے اور ان سے کبھی تحائف وغیرہ وصول نہیں کرتے تھے کوئی زبردستی گھر پہ دے جاتا تو کسی کا دل نہیں توڑتے تھے۔ یہ ایک ہینڈسم ہَنک تھے۔ بانسانوالہ کے طول و عرض کے کمادوں اور مکئی میں ان کے پیار کی داستانیں بکھری پڑی تھیں۔ نِگّو سے نسرین اور پِینو سے بشرٰی تک۔ یہ پیار کا جواب ہمیشہ پیار سے دیتے تھے۔ یہ دل سے یقین رکھتے تھے کہ کسی کا دل توڑنے سے بڑا گناہ کوئی نہیں۔گلّی ڈنڈے میں انہوں نے نئی اختراعات کیں۔ اس سے پہلے گلّی ڈنڈے میں کپتان کا کوئی تصوّر نہیں تھا۔ یہ بانسانوالہ کی ٹیم کے پہلے کپتان بنے۔ یہ کھلاڑیوں کی فٹنس پر خاص توجّہ دیتے تھے۔ یہ کھلاڑی کا تہہ بند دیکھ کے بتا دیتے تھے کہ یہ آج کیسا پرفارم کرے گا۔ یہ ایک دلیر اور بہادر کپتان تھے۔ مخالف ٹیم کے بہترین ٹُل باز کے عین سامنے کھڑے ہوجاتے تھے۔ وہ گھبرا کر ٹُل مِس کردیتا تھا۔ یہ مخالف ٹُل باز کے ڈنڈے کی حرکت سے گلّی کی سمت کا اندازہ لگا لیتے تھے۔ان کے لگائے ہوئے ٹُل کی پاور کا یہ حال تھا کہ جہاں گلّی گرتی تھی وہیں زمین میں دھنس جاتی تھی۔ ان کو یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ پورے کیرئیر میں کبھی ان کے ٹُل کو کیچ نہیں کیا جاسکا۔بانسانوالہ کی ہزاروں سالہ تاریخ میں یہ واحد سپو ت تھے جو "آل بُچّیکِی گلّی ڈنڈا گولڈ کپ" کے فاتح ٹھہرے۔ ان کی کپتانی اور کھیل نے وہ معجزہ کر دکھایا جو بانسانوالہ کی ہسٹری کا گولڈن چیپٹر ہے۔ اس اعزاز کو حاصل کرنے پر اہالیانِ بانسانوالہ نے ان پر گندم، چاول، دیسی گھی، پیاز، آلو، دیسی مرغیوں، اور میوے والےگُڑ کی بارش کردی۔ نیامت ورک جو اپنے ابّاجی کی ڈیتھ کے بعد بانسانوالہ کے سب سے بڑے زمیندارے کے وارث ٹھہرے تھے۔ انہوں نے سلطان کو دس پیلیاں، ایک ٹریکٹر اور ٹیوب ویل کا نذرانہ پیش کیا۔ اتنی محبّت اور پیار اور رسپیکٹ سے سلطان کا دل موم ہوگیا۔ یہ خود کو بانسانوالہ کا مقروض سمجھنے لگے۔انہی دنوں خواب میں ان کو ایک بزرگ کی زیارت ہوئی۔ یہ سفید تہہ بند اور کالے کُرتے میں ملبوس پست قامت نورانی چہرے والے بزرگ تھے جن کے ہاتھ میں گلّی ڈنڈے والا ڈنڈا تھا۔ انہوں نے گلّی کو زوردار ٹُل لگایا اور جلالی لہجے میں سلطان سے کہا۔۔۔ "اٹھ اوئے کاکا سلطان۔۔ تے بانسانوالے نوں ظالموں دے چنگل توں آزاد کرا۔۔۔۔"۔ سلطان یہ خواب دیکھ کر اپ سیٹ ہوگئے۔ یہ پریشان ہوگئے۔ یہ دبدھا میں پڑ گئے کہ اس خواب کی کیا تعبیر ہے۔ یہ اپنے بچپن کے دوست نیامت ورک کے پاس گئے اور خواب بیان کیا۔ نیامت ورک اٹھے اور انہیں لے کر بابا تُوڑی سائیں سرکار کے مزار پر پہنچ گئے۔ خادم انہیں لے کر حجرہءخاص میں پہنچا جہاں مزار کے متوّلی پیر کَڑدِھن شاہ بے اولاد زنانیوں میں تعویذ بانٹ کے فارغ ہوئے تھے۔ پِیر صاحب نے خواب سُنا۔ ان پر رقّت طاری ہوگئی۔ ان کی حالت غیر ہوگئی۔ خادم نے چپٹی سی شیشی سے محلول ایک گلاس میں ڈال کر ان کی خدمت میں پیش کیا۔ جسے پی کر ان کی طبیعت ذرا بحال ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ خواب میں نظر آنے والے بزرگ بابا تُوڑی سائیں سرکار تھے اور ان کا اشارہ نمبردار کے بانسانوالے پر چنگل کی جانب تھا۔ پیر صاحب نے کہا کہ اب یہ سلطان پر فرض ہے کہ وہ اپنے علاقے کو ان ظالموں سے نجات دلائے۔ سلطان یہ سب خاموشی سے سنتے رہے۔ یہ سوچ میں ڈوبے رہے۔ دس منٹ بعد انہوں نے سر اٹھایا اور پیر کَڑدِھن شاہ سے یوں مخاطب ہوئے۔ "میں پاغل آں۔۔۔ بیفکوف نئیں۔۔۔"۔ یہ کہہ کر سلطان اُٹھے اور حجرہءخاص سے باہر نکل گئے۔

مُتفرّقات

٭ مچھلی، پانی اور مولوی، لاؤڈ سپیکر کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔٭ درشت مزاجی کو ۔۔"میں تو صاف بات کرتا ہوں"۔۔ میں نہ چھپائیں۔٭ قابلیت کے بغیر ایمانداری، گولی کے بغیر بندوق ہے۔٭ عقیدت، عقل کا کینسر ہے.٭ گمان کو حقیقت اور پھر اس کو ایمان سمجھ لینا، پاگل پن کا اعلی ترین درجہ ہے.٭ سب سے مہلک سراب، اپنی اہمیت کا احساس ہے.٭ عبادت بہرحال نہایت ذاتی معاملہ ہے.. محبت کی طرح٭ حماقت کا دفاع نہیں ہوسکتا صرف پیروی ہوسکتی ہے۔٭ صرف وہ گرنا اہمیت رکھتا ہے جس کے بعد آپ اٹھ نہ سکیں۔٭ طیش کو سستا نہ کریں۔٭ تبلیغ، عمل کا نام ہے، خطبوں کا نہیں۔٭ مسلسل انتظار میں گزری زندگی ، پرندے کی قفس سے محبّت کا استعارہ بن جاتی ہے۔٭ چلے جانے والوں اور چھوڑ جانے والوں کی یاد میں دل اس ادھ جلے کوئلے کی طرح ہوجاتا ہے جو ذرا سی ہوا پا کر دھک اٹھے۔۔۔٭ ممدوح کی شان بیان کرتےہوئے کسی کو گالی دینے کی ضرورت پڑجائے تو یہ گالی اصل میں ممدوح کے لیے ہی ہوتی ہے۔٭ کم گو کی بات توجہ سے سنی جاتی ہے۔٭ پرہیزگاری کے شدید احساس کو فاشزم کہتے ہیں۔٭ پچھتاوے کا کوئی علاج نہیں۔٭ اعلی ترین اخلاقی اقدار کا پرچار، دودھاری تلوار ہوتا ہے۔٭ سکھانے والا ہی سیکھتا ہے۔٭ ملحدین، زنادقہ، روافض۔۔۔ اگر ان کا مطلب پتہ نہ ہو تو کیسے عمدہ لفظ لگتے ہیں۔٭ وہ اپنے مُنکر سے جینے کا حق نہیں چھینتا، ہم آپ کیسے چھین سکتے ہیں؟٭ فوری ردّعمل، ناپختگی کی نشانی ہے۔٭ فنکار مرد اور خود مختار عورت۔ دونوں جنسِ مخالف کے لیے مرعوب کُن ہوتے ہیں۔٭ مطلقہ خاتون اور شادی شدہ مرد کا المیہ ایک جیسا ہے۔ دونوں کی سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔٭ دنیا، نظریات کی بجائے ضروریات پر چلتی ہے۔٭ بجٹ اور محبوب کے وعدے ایک سے ہوتے ہیں۔٭ سانپ کو مارنے کے لیے لاٹھی ٹوٹنے کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔٭ محبّت کرنے والے کو وضاحت کی ضرورت نہیں ہوتی اور نفرت کرنے والا اس کا حقدار نہیں ہوتا۔٭ نااہلی کا خسارہ ایمانداری بھی پورا نہیں کرسکتی۔٭ اگر آپ نے زندگی میں صرف نصابی کُتب پڑھی ہیں تو یقین جانیے آپ جاہل ہیں۔

مانی

یادیں، مدّہم پڑ سکتی ہیں، محو ہوسکتی ہیں، وقت کی گرد انہیں چھپا سکتی ہے۔ پر جو منظر دل پر نقش ہوجائیں وہ کبھی مدّہم نہیں پڑتے، محو نہیں ہوتے، وقت کی گرد ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔ وہ ہمیشہ ویسے ہی سفّاک، شفّاف اور واضح نظر آتے ہیں۔ جب نظر جھکائی، دیکھ لیا۔۔۔مانی مجھ سے بہت چھوٹا تھا۔۔۔ کہیں تو سب بہن بھائیوں میں آخری نمبر۔ بہت کم عمری میں بھی کچھ الگ سا تھا ۔۔ بیمار ہوتا تو روتا نہیں تھا، تنگ نہیں کرتا تھا۔ چہرے پر نقّاہت سے پتہ چلتا کہ صاحب کی طبیعت برابر نہیں ہے۔ ہنس مُکھ ایسا کہ محلّے کے بچّے اسے باہر لے جانے کے لیے باری کا انتظار کرتے ۔ میری خالہ کہا کرتی تھیں کہ "اس کی آنکھیں ہنستی ہیں"۔۔۔۔خالہ کا اس سے بہت انس تھا۔۔۔ سادھ بیلے سے تقریبا روزانہ آیا کرتیں اور جس عمر میں بچہ ماں سے چند منٹ دور نہیں رہتا، وہ ان کے ساتھ ان کے گھر چلا جاتا اور سارا دن ان کے ساتھ رہتا۔تھوڑا بڑا ہوا تو اس کی سب سے من پسند سرگرمی، موٹر سائیکل کی سیر تھی۔ محمّد پورہ کے بازار جسے "وڈّا بازار" کے نام سے یاد کیا جاتا تھا، ناشتہ لینے کے لیے جانا ہوتا تو مانی میاں موٹر سائیکل کے ساتھ پہلے سے کھڑے ہوتے کہ ہم بھی جائیں گے۔۔ حلوہ اور پوری ان کا من بھاتا کھاجا تھا۔ وڈّے بازار میں پاء شفیع کی حلوہ پوری سب سے مزے دار ہوتی تھی اور رش بھی خوب۔ مانی کے لیے دو پوریاں اور انکے درمیان حلوہ رکھ کے الگ باندھا جاتا کہ اسے ایسا ہی پسند تھا۔جولائی کا مہینہ تھا اور دسویں کی گرمیوں کی چھٹیاں چل رہی تھیں۔ برسات کے موسم میں پھوڑے پھنسیاں نکل ہی آتی ہیں۔۔ اس کی کمر پر عین ریڑھ کی ہڈی کے اوپر ایک پھنسی سی نکلی۔۔ یہ کوئی خلاف معمول بات نہیں تھی۔۔ آم کھانے کے شوقین ہوں تو پھنسیاں تو نکل ہی آتی ہیں۔۔ کافی دن گزر گئے اور یہ پھنسی بڑھ کر پھوڑا بن گئی۔۔ مانی جو کبھی روتا نہیں تھا اور تنگ نہیں کرتا تھا وہ بے چین سا رہنے لگا۔۔۔ گھریلو ٹوٹکے آزمائے جاتے رہے کہ معمولی سا پھوڑا ہے، ٹھیک ہوجائے گا، لیکن نہیں ہوا۔ جولائی کی ایک گرم صبح ابّو اسے ساتھ لے کر ڈاکٹر کے پاس گئے۔ کہ چیک تو کروائیں کہ کیا مسئلہ ہے۔۔۔ اسی دن گیارہ بجے کے قریب، میں درمیان والے کمرے میں امّی کے ساتھ بیٹھا تھا۔ کھڑکی سے دیکھا کہ برآمدے سے نکل کر تایا جی صحن میں آئے۔۔۔ مانی کو دونوں ہاتھوں پر اٹھائے۔۔۔ ابّو ان کے پیچھے تھے۔۔۔ مانی ایک کپڑے سے ڈھکا ہوا تھا۔۔۔ یہ منظر ہے۔۔ جو نقش ہے۔۔۔۔اس کے بعد کیا ہوا اس کا کچھ وضاحت سے مجھے علم نہیں۔۔۔۔ عصر کے بعد ہم نے اسے دفنا دیا۔ سخت گرمی اور حبس کا دن تھا۔ جنازے کے ساتھ جاتے ہوئے بھی میں سب سے پیچھے رہا۔۔۔ قبر میں کس نے اتارا، مجھے کچھ علم نہیں۔۔۔وہ رات، خدا سے پہلے شکوے کی رات تھی۔ اس سے پہلے مجھے اس سے کوئی شکایت نہیں تھی۔ میں سوچتا رہا کہ اتنی گرمی اسے لگتی تھی تو اب کیسے گڑھے میں اتنی مٹّی کے نیچے پڑا ہوگا۔۔ تو یہ سب کرکے خدا کو کیا ملا اور یہ چیز مجھے ایسی تکلیف دیتی تھی جس کا کوئی تجربہ مجھے اس سے پہلے نہیں تھا۔۔۔ میں گم آواز میں روتا رہا کہ مرد رویا نہیں کرتے ۔۔۔اس بات کو بہت عرصہ گزرگیا ۔۔۔ مانو تو ایک لائف ٹائم گزر گیا ۔۔ لیکن وہ منظر آج بھی ویسا ہی شفّاف، سفّاک اور واضح ہے۔

بخاری مسجد

یہ تیسری جماعت کا قصّہ ہے۔ نئے سکول میں ہم خوش تھے اور تعلیمی مدارج ہنسی خوشی طے کررہے تھے جب ہمارے والدین کو ہماری دینی تعلیم کی فکر ہوئی۔ ہر محلّے کی طرح ہمارے محلّے میں بھی قرآن پاک پڑھانے والی ایک "خالہ جی" موجود تھیں۔۔ استاد خالد کی والدہ۔ عمر رسیدہ، سفید برف جیسے بال۔ انتہائی شفیق۔ تو ہم بھی ایک سہانی شام سر پر جالی والی ٹوپی جمائے، ہاتھ میں نیا نورانی قاعدہ لیے، سڑک پار کرکے خالہ جی کے گھر جا پہنچے۔ ہم، چونکہ، نئی بھرتی تھے تو ہمیں تین باجیوں میں سے سب سے چھوٹی باجی کے سپرد کیا گیا۔ ان کی طبیعت کچھ جلالی قسم کی تھی اور ہم کسی نوابزادے سے کم نہیں تھے۔ ان کی دو ایک گھُرکیوں پر جب ہماری معصوم سی آنکھوں میں آنسو آگئے تو انہوں نے فورا ہمیں مرغا بن جانے کا حکم دیا۔ مرتا کیا نہ کرتا۔ مرغا بننا پڑا۔ وہ ہمارا خالہ جی کے گھر میں پہلا اور آخری تدریسی دن تھا۔ واپس گھر پہنچ کے ہم نے قطعی فیصلہ سنا دیا کہ کل سے ہم خالہ جی کے پاس سیپارہ پڑھنے ہرگز نہیں جائیں گے۔ امّی نے لاکھ پوچھا کہ ہوا کیا۔۔ لیکن ہم بھی ایک کائیاں تھے اپنی عزت افزائی کا بالکل ذکر نہیں کیا اور وہی راگ الاپتے رہے کہ ہم نہیں جائیں گے، نہیں جائیں گے، نہیں جائیں گے۔۔۔دو تین دن گزر گئے اور امّی کے اصرار اور دھمکیوں کے باوجود ہم سیپارہ پڑھنے نہیں گئے تو یہ معاملہ ابّو جی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ابّو جی جان گئے کہ سکول کی طرح اس کی سّوئی یہاں بھی اٹک گئی ہے لہذا اس کا کوئی اور بندوبست کرنا پڑے گا۔ اگلے دن ہم سکول سے واپس دکان پر پہنچے تو ابّو نے کہا کہ یہ آپ کے کپڑے ہیں، اوپر گیلری میں جا کے بدلیں، کھانا کھائیں اور پھر سیپارہ پڑھنے کے لیے مسجد جانا ہے۔ ہماری دکان جناح کالونی کی ہوزری مارکیٹ میں واقع تھی۔ فیصل آبادی احباب جانتے ہوں گے کہ یہ مارکیٹ بہت سے چھوٹے پروڈکشن یونٹس پر مشتمل تھی (اور ہے شاید)۔ ہماری دکان دوسرے بازار کے کونے پر واقع تھی اور دوسرے اور تیسرے بازار کے عین درمیان بخاری مسجد تھی۔ ہر دکان کے ساتھ ایک برآمدہ تھا جہاں ایک یا دو یا تین پریس مین ہوتے تھے جو بنیان یا جرابیں استری کرتے تھے۔ ایک کَٹَر ماسٹر ہوتا تھا اور ایک مرمتّیا۔۔ جس کے کان کے اوپر ہوزری مشین کی سُوئی ہر وقت ٹِکی رہتی تھی۔ کچھ دکانوں کی گیلریوں میں فلیٹ اور اوورلاک مشینیں بھی تھیں۔ کپڑا بُننے کی مشینیں زیادہ تر کوئی مکان کرائے پر لے کر لگائی جاتی تھیں اور وہیں فلیٹ اور اوورلاک کی مشینیں بھی ہوتی تھیں، اسے جناح کالونی کی زبان میں "کارخانہ" کہا جاتا تھا۔ ہمارے دکان چونکہ نُکڑ پر واقع تھی تو کافی جگہ میسر تھی۔ چار پریس مین، دو کٹر اور ایک مرمتّیا اس وقت دکان پر کام کرتے تھے۔ خیر۔۔۔ تو ہم گیلری میں جاپہنچے، کپڑے بدلے اور کھانا کھا کے اپنے ابّو کے ساتھ سہ پہر تین بجے کے قریب بخاری مسجد جا پہنچے۔مسجد کے داخلی دروازے کے بائیں طرف صحن پار کرکے ایک کمرہ تھا۔ جس میں پینتیس چالیس مختلف عمروں کے لڑکے آمنے سامنے دو قطاروں میں اپنے سامنے پڑے لکڑی کے طویل ڈیسک پر قرآن پاک رکھے، ہِل ہِل کے پڑھ رہے تھے۔ ایک سرے پر قاری صاحب بیٹھے تھے جن کے سامنے ایک چھوٹا سا لکڑی کا میز تھا۔۔ جس پر کچھ کتب رکھی ہوئی تھی۔ قاری صاحب، ابّو کے جاننے والے تھے، اٹھ کر تپاک سے ان سے ملے۔ حال احوال کے بعد ہمیں باقاعدہ قاری صاحب کا شاگرد بنا دیا گیا۔قاری صاحب، طویل قامت، چھریرے بدن کے مالک اور نرم گو انسان تھے۔ پڑھنے لکھنے سے ہمیں کبھی نفور نہیں رہا۔۔ رویّے البتہ ہمارے لیے ہمیشہ اہم رہے۔ بخاری مسجد میں ہماری دینی تعلیم، جو ناظرہ قرآن تک محدود تھی، دن دوگنی چار چوگنی رفتار سے بڑھتی رہی۔ ہمارے ہم سبق زیادہ تر صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے تھے۔ جن کی عمریں چھ سات سال سے لے کر سترہ اٹھارہ سال تک تھیں۔ انکی رہائش، کھانے اور دوسری ضروریات مسجد اور مدرسے کی انتظامیہ کے ذمّے تھیں۔ دوسری منزل پر ایک قطار میں دس بارہ کمرے تھے جہاں یہ سب رہتے تھے۔ ہمارے ذہن میں اس وقت یہ خیال آتا تھا کہ اپنے امی ابو کے بغیر یہ اتنی دور، اتنا عرصہ کیسے رہ لیتے ہیں؟ ہمیں تو یہ سوچ کے ہی رونا آنے لگتا تھا۔مدرسے کے ان طالبعلموں میں جناح کالونی سے تعلق رکھنے والوں کا صرف ایک بچہ شامل تھا۔ وسیم بھائی، جو پاک سویٹس والوں کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ لحیم شحیم۔۔ حفظ کے طالبعلم تھے۔ فربہ لوگوں کی اکثریت کی طرح ہنس مُکھ اور خوش مزاج۔ ان کے علاوہ کوئی بھی طالبعلم گردونواح سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔ مسجد اور مدرسے کا انتظام چلانے میں جناح کالونی کے کاروباری حضرات پیش پیش تھے۔ مالی طور پر مدرسے کی انتظامیہ کو کبھی تنگی پیش نہیں آئی لیکن مدرسے میں دی جانے والی تعلیم، البتّہ اپنے بچوں کو دلانے میں کسی کو خاص دلچسپی نہیں تھی۔ سب کے بچے اچھے سکولوں میں پڑھتے تھے۔ ہمارا معاملہ مختلف اس لیے تھا کہ ہم ایک عارضی طالبعلم تھے جو چند مہینے، پڑھ کے وہاں سے فارغ ہوگیا۔ اس دور میں طبقاتی تقسیم اتنی واضح اور عریاں نہیں تھی لیکن پھر بھی مدرسے کے ان طالبعلموں اور میرے جیسے عام سے بچّے کے طرز معاشرت میں واضح فرق تھا۔ جیسے دو مختلف دنیاؤں کے باسی۔ قاری صاحب نے ان چند مہینوں میں ہم سے نہایت شفقت برتی۔ سوائے سر پر ایک ہلکی سی چپت کے، جو مسلسل دو چھٹیاں کرنے کی سزا تھی، ہمیں انگلی تک نہیں لگائی۔ ان کے میز کے نیچے پڑی چپٹی لکڑی البتّہ دوسرے طالبعلموں پر بے دردی سے برستی تھی۔ ہم حیران ہوتے تھے کہ اتنے اچھے قاری صاحب ایک دم اتنے گندے کیوں ہوجاتے ہیں؟ اس کا جواب ہمیں کبھی نہ مل سکا۔ٹی وی، کارٹون، ڈرامے، جنوں اور پریوں کی کہانیوں والے رسالوں کی باتیں جب ہم اپنے ہم درسوں سے کرتے تو وہ ان کے لیے کسی اور دنیا کی باتیں ہوتی تھیں۔ وقت کے ساتھ یہ فرق کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی رہا ۔۔ اس میں سیاست، تزویراتی گہرائی اور مذہبی مفادات کے تڑکے لگتے رہے۔۔۔۔ اور آج ہم جہاں پر ہیں وہ۔۔تیس برس کا قصّہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں۔۔۔ 

بچّی، حضور والا، بچّی

دو ہزار سال ہوتے ہیں۔۔۔اُس نادرِ روزگار عبقری نے کہ، راسپوٹین جس کا نام تھا، کہا، " حُسنِ بلاخیز ہر جُرم سے ماوراء ہوتاہے۔" لوگ مگر غور نہیں کرتے۔ الحذر الحذر۔۔۔عارف نے کہا تھا، "بچّی اپنے فگر سے پہچانی جاتی ہے۔" بیس یوم اُدھر، طالب علم پنج ستارہ ہوٹل میں چند ہم نشینوں کے ہمراہ قہوہ پی رھا تھا کہ ایک عزیز اصرار سے اس طرف لے گیا کہ جہاں رنگ برنگی تتلیاں اور کوہ قاف کو شرماتی پریاں، حُسن کو دھار پر لگا رہی تھیں۔ ایسے مناظر کہ زاہدِ خُشک بھی سبحان اللہ پُکار اٹھے۔ لیکن نگاہ کو جس کا ہوکا تھا وہ صورت، نظر میں نہ آسکی۔ شتابی سے سوال کیا۔ "آیان کہاں ہیں؟" جواب سُنا تو روح لرز اٹھی۔۔۔۔ تاریخ کے چوراہے میں سوئی، انجام سے بے خبر قوم اور اس کے رہنما۔۔۔ کوئی ہے جو جائے اور ان کو جگائے؟ روح چیخ اٹھتی ہے۔ مکھّن جیسی بچّی اور ایسا ظُلم۔۔ امراء القیس، وہ شاعر، وہ شہزادہ کہ جس کا نام آج بھی دوشیزاؤں کے سانس اتھل پتھل کردیتا ہے۔۔۔ بلادِ شام سے واپسی کا سفر تھا۔۔ شب آپہنچی تو پڑاؤ کا قصد کیا۔۔۔ کمر بھی سیدھی نہ کرپایا کہ قاصد پیام لایا۔۔ "شہزادے، امتحان آپہنچا۔۔۔ رُقیّہ قید میں ہے۔۔۔"۔ شہزادہ، الفاظ کا ہی نہیں، تلوار کا بھی دھنی تھا۔۔ اُٹھا اور وہ کہا جو آج تک تاریخ میں مثلِ شمس جگمگا رہا ہے۔۔۔" بچّی، امراء القیس کو پکارے اور وہ نرم بستر میں سوتا رہے۔۔۔ تُف ہے ایسی مردانگی اور شہزادگی پر۔۔" اسباب سمیٹا۔۔ گھوڑے کو ایڑ لگائی ۔۔۔  باقی تاریخ ہے۔حکمرانوں سے کیا گلہ۔۔ تاریخ کا جن کو شعور نہیں۔ اپنی ذات سے اٹھ کر وہ سوچ نہیں سکتے۔ کوتاہ نظر و ظاہر بیں۔۔۔ شکوہ مگر کپتان سے ہے۔ ایسا جری اور بانکا جواں بھی جب ظُلم و جَور کے سامنے سِپر ڈال دے تو ۔۔ کس کا گلہ کرے کوئی۔۔۔ طالب علم کے لیے ہر شب، قیامت اور ہر دن امتحان کا ہے۔ لُقمہ، حلق سے اترتا نہیں۔۔ دل نے عارف کی دُھائی دی تو سفر کا قصد کیا۔ شام ڈھلے خدمت میں حاضر ہوا۔۔ حالت بیان کی۔۔ عارف نے سر اٹھایا اور بھیگے لہجے میں کہا۔۔۔ہم رات بہت روئے بہت آہ و فغاں کیدل درد سے بوجھل ہو تو نیند کہاں کیالمیہ مگر ہمارا یہ ہے کہ تفکّر نہیں کرتے۔ بے سبب کینہ پالتے ہیں۔ جتنی رقم کا الزام، بچّی پر لگا ہے اتنی تو اس کے پیروں کا صدقہ، مجھ جیسا فقیر دے سکتا ہے۔ جھوٹ ہے، صریح جھوٹ۔ اب بھی یہ قوم حشر نہ اٹھا دے تو سمجھیے کہ دل بنجر اور ذہن بے فیض ہوئے۔ کوئی امیّد باقی نہ رہے گی۔ وقت آ لگا ہے جب کھرا اور کھوٹا الگ کردیا جائے گا۔۔۔ اس بے مثال گویّے، جازی بی نے جیسا کہا تھا۔۔۔حُسناں دی سرکاردلاں نوں لُٹ دی جاوےدو ہزار سال ہوتے ہیں۔۔۔اُس نادرِ روزگار عبقری نے، کہ راسپوٹین جس کا نام تھا، کہا، " حُسنِ بلاخیز ہر جُرم سے ماوراء ہوتاہے۔" لوگ مگر غور نہیں کرتے۔ الحذر الحذر۔۔۔

کیتھرین اور وال سٹریٹ کی شام

"تم ہمیشہ اداس کیوں نظر آتے ہو؟"۔ کیتھرین میری طرف جھکی اور آنکھوں میں جھانکتے ہوئے نرم لہجے میں پوچھا۔ کیتھرین کا سوال مجھے ماضی میں کئی سال پیچھے لے گیا۔ میں اس وقت سکول میں پڑھتا تھا۔ گھر کا خرچ چلانے کے لیے سکول سے آنے کے بعد ہم تنکوں سے ٹوکریاں اور ہیٹ بناتے تھے جو لاہور کا ایک تاجر ہم سے خرید لیتا تھا۔ ایک ٹوکری کے پانچ روپے اور ہیٹ کے دس روپے ملتے تھے۔ ہمارے ہُنر کو کوڑیوں کے بھاؤ خرید کر وہ انہیں موتیوں کے بھاؤ ایکسپورٹ کردیتا تھا۔ ایک ٹوکری پانچ لاکھ اور ہیٹ پندرہ لاکھ میں بیچتا تھا۔ اس کے پاس ڈیفنس میں دو ایکڑ کا وسیع و عریض محل تھا۔ اس کے بچّے امریکہ میں پڑھتے تھے۔ لمبرگینی اور فراری سے پورشے اور بنٹلے تک۔۔ اس کے پاس اعلی سے اعلی گاڑیاں تھیں۔ اس کے سوٹ اٹلی سے سِل کر خصوصی جہاز پر آتے تھے۔ اس کے پاس بارہ شیف تھے جو دنیا کی اعلی سے اعلی ڈشز بنانے میں کمال مہارت رکھتے تھے۔ اس کے محل میں آئ میکس سینما سے لے کر چڑیا گھر تک ہر چیز موجود تھی۔ یہ سب اس نے ہماری محنت کی کمائی لُوٹ کر بنایا جبکہ میرے پاس سکول کی فیس دینے کے پیسے تک نہیں ہوتے تھے۔۔۔ اتنا کہہ کر میں سانس لینے کے لیے رُکا۔۔۔ کیتھرین دم سادھے یہ کہانی سُن رہی تھی۔۔۔ اس کا تیسرا ہمبرگر ابھی تک ویسے کا ویسا ہی پلیٹ میں رکھا ٹھنڈا ہورہا تھا۔۔ بئیر پڑی پڑی گرم ہورہی تھی۔۔۔"بہرحال" میں دوبارہ گویا ہوا۔۔ " جیسے تیسے میں نے میٹرک پاس کرلیا اور ملتان چلا آیا۔ یہاں میرے ہم وسیب بہت سے دوست تھے جنہوں نے میرا بڑا ساتھ دیا۔ ان کی محبتیں اور احسان میں کبھی نہیں بھول سکوں گا۔ ایم اے انگلش کرنے کے بعد میں نے اخبار میں نوکری کرلی۔ انہی دنوں اس اخبار میں ایک پنجابی جو ایم اے جرنلزم کرکے آیا تھا، وہ بھی بھرتی ہوا۔ میں اس سے ہر لحاظ سے بہتر تھا۔ مجھے انگلش بھی فر فر آتی تھی۔ جبکہ وہ بے چارہ اردو بھی نہیں بول سکتا تھا۔ لیکن مجھے سائیڈ لائن کرکے اس کو پروموٹ کیا گیا۔ اس کا کالم بھی شائع کرنا شروع کردیا گیا۔ نامور پنجابی صحافیوں نے اس کو پروموٹ کیا۔ آج وہ سب سے مقبول کالم نگار ہے۔ سب سے ہائلی پیڈ جرنلسٹ ہے۔۔۔ مجھے کیا ملا؟ مجھے ہمیشہ دیوار سے لگایا گیا۔ میری حق تلفی کی گئی۔ کسی اخبار یا چینل میں مجھے ٹِکنے نہیں دیا جاتا۔ میرا جُرم صرف یہ ہے کہ میں اپنی مظلوم قوم کے حق میں آواز اٹھاتا ہوں۔ میں نے ظالم پنجابی حکمرانوں کی کھربوں ڈالرز کی کرپشن کا سراغ لگایا۔ لیکن میری آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی۔"کیتھرین کی آنکھیں بھر آئی تھیں۔۔۔۔ اس نے میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے تھپتپھایا۔۔۔ "اصل بات ابھی باقی ہے میری دوست"۔۔۔ میں نے سلسلہءکلام جوڑتے ہوئے کہا، " اگر اس تربیتی کورس کے سلسلے میں میرا نیویارک آنا نہ ہوتا تو میں کبھی نہ جان سکتا کہ میری محنت کی کمائی سے کیا کیا ہورہا ہے۔۔۔ سنو، پیاری کیتھرین، مجھے وال سٹریٹ پر ان تنکوں کی خوشبو آتی ہے جن سے ہم نے ٹوکریاں اور ہیٹ بنائے اور تم شاید سن کر حیران ہوگی کہ ایک عظیم الشان برانڈ چین میں، میں نے وہی ٹوکریاں اور ہیٹ لاکھوں ڈالرز میں بکتے دیکھے ہیں۔ ہماری خون پسینے کی کمائی سے آپ لوگوں نے نیو یارک جیسے شہر کھڑے کرلیے ہیں۔۔ تخت لہور ہو یا وال سٹریٹ۔۔۔ سرائیکی وسیب کا خون سب نے چُوسا ہے۔۔ سوال تو یہ ہے کہ ہمیں کیا ملا؟ غربت، ناانصافی، طعنے۔۔۔"کیتھرین نے بچا ہوا تیسرا ہمبرگر منہ میں ڈال کے گرم بئیر کا لمبا گھونٹ لیا۔۔۔ اور ایک طویل ڈکار لے کے میرے دونوں ہاتھ تھام لیے اور میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولی۔۔۔ "رؤف، میں ان سب ناانصافیوں کا اُپائے تو نہیں کرسکتی لیکن اپنا قرض ضرور ادا کرسکتی ہوں۔۔"اس کی آنکھوں میں محبّت اور سُپردگی تھی۔

Pages