شاہدہ اکرام (شاہدہ کابلاگ)

نیا سال مبارک

اللہ تعالی سب کے لئے یہ نیا سال مبارک ثابت ہو اور سب کی جائز خواہشات پوری ہوں پوری دنیا کے لئے امن و امان کا پیامبر ہو آمین
(حجاب آپ کے یا کسی کے بهی بلاگ پر تبصرہ کرنے کے لئے سب جتن کر کے دیکه لئے آپ نے کہا تها اپنے بلاگ سے لاگ ان ہو کر تبصرہ کریں لیکن کیسے کچه پلے نہیں پڑرہا تو سوچا یہ طریقہ آزما دیکهوں اب دیکهتے ہیں کون کیسے بتاتا ہے جزاک اللہ)

کیُوں آخِر کیُوں؟؟؟

بہُت دِن پہلے یہ آدھی ادُھوری تحریرلِکھی تھی جو پُوری تو نا ہو سکی لیکِن اندر کہیں بار بار تکلیف دیتی تھی کہ جو بات تُمہیں اِتنا تکلیف دے رہی ہے شیئر کرنے میں کیا حرج ہے؟؟؟ لیکِن کِسی کی بھی دِلآزاری کرنے کا تو میں سوچ بھی نہیں سکتی اوریہی بات مُجھے کُچھ بھی کہنے سے روکتی تھی اور ہمیشہ روکتی رہی ہے لیکِن اب جب اِتنی عجیب بات میڈیا کے واسطے سے سامنے آئ ہے تو میں نے سوچا کہ یہ بات کب سے دِل میں تھی جو ایک پھانس کی طرح چُبھ رہی تھی لوگوں کے دِلوں میں بھی یہ باتیں ہوتی توہیں لیکِن پتہ نہیں ہم کبُوتر کیُوں بن جاتے ہیں جبکہ اِس ساری صُورتِ حال سے ہم خُود بھی گُزر رہے ہوتے ہیں لیکِن ماڈرن بننے اور کہلانے کے شوق میں اندھا دُھند بھاگتے جاتے ہیں اندھی تقلید میں لیکِن کہیں اندر ہی اندر ہم شاید ماضی کے گرداب سے نِکل نہیں پاتے یا ہمیں ماضی میں رہنا بہُت اچھا لگتا ہے وُہ سادہ کھانا ماں کے ہاتھ کی بنی عام سی سبزی دال چاول چٹنی سب یاد آتے ہیں تولگتا ہے شاید یہ باتیں بھی اُس سب کا حِصّہ ہیں لیکِن دِل کہتا تھا ایسا نہیں ہے یہ تہزیبوں اور روایتوں کی باتیں ہیں اور جب یہ سب ختم ہو رہا ہے تو تکلیف ہونا لازمی بات ہے ہم نے آنکھ کھول کر جِس ماحول کو دیکھا وُہ آج تک ہمارے اندر سانس لے رہا ہے اور ہماری زِندگیوں کے ساتھ ہی جو بدلتے حالات ہم دیکھ رہے ہیں وُہ ہمیں دُکھ دے رہے ہیں صُبح سویرے اُٹھ کر جو آواز کانوں میں پڑتی تھی امّی پیار سے اُٹھاتی تھیں کانوں میں اذان کی آواز اور نماز کے بعد ٹی وی سے مولانا شاکِر قاسمی کی خُوبصُورت آواز میں تلاوت بصیرت پروگرام اور پِھر بچوں کو قُرآن پاک پڑھاتے ہُوئے دِن کا آغاز،،،لیکِن اب زمانے کے انداز کیا بدلے گھروں سے یہ سب خُوبصُورت روایات ایسے غائِب ہُوئیں کہ بےبی بے بی یس ماما کرتے کرتے نا جانے کب ہم صِرف یس یس کرتے ہی رہ گئے اورنا صِرف اپنی روایات کو بُھولے بلکہ پرایوں کی مزہبی رسُومات اور اقدار کو اپنا اوڑھنا بِچھونا بنا لیا اور شرمِندگی کا کہیں کوئ شائبہ تک نہیں بچے کوری سلیٹ کی مانِند ہوتے ہیں ہم جو بھی لِکھنا چاہیں بآسانی اُس پر لِکھ سکتے ہیں جی بِالکُل جو کُچھ ہم لِکھنا چاہیں جو دِکھانا چاہیں جو سمجھانا چاہیں وُہ وہی کریں گے سوچ لیں ہم کیا دِکھاتے ہیں اپنے بچوں کوتازہ ترین فضُول نغمے اور پِھر اُ س سے بھی عجیب بات ہر ایک کو اِتنے فخر سے بتایا جاتا ہے جی دیکھیں اِس کو تو یہ پُورا گانا آتا ہے اب اگر بندہ پُوچھے کہ بیٹا کلمہ آتا ہے بِسمِ اللہ آتی ہے السلامُ علیکُم کریں تو جواب نہیں آئے گا سارادِن بچے کارٹُون دیکھیں گے تو اُن کی بولی گئ زبان ہی سیکھیں گے میں قدامت پسند نہیں ہُوں لیکِن مزہب اور اِپنی روایات سے دُوری نے آج ہمیں یہ دِن دِکھا ئے ہیں کہ ہماری بُرے بھلے کی تمیز ہی ختم ہو گئ ہے مُختلِف اور چھوٹی چھوٹی باتیں جو چلتے پِھرتے بہُت پیار سے سِکھائ جا سکتی ہیں کیا فرق پڑتا ہے آپ کی ہی اولاد ہے نا اور جنّت کی حقدار بھی تو آپ ہی ہیں نا تو جنّت کمانے والے کام بھی کر لیں پتہ ہے کل کو یہی بچے آپ سے بھی سوال کریں گے کہ ہم تو انجان تھے لا عِلم تھے آپ کا فرض تھا ہمیں سمجھاتے ،،،سُنا تھا کہ گُناہ میں لزّت ہوتی ہے تو جب بڑے مجبُور ہو سکتے ہیں حالانکہ میرا ماننا یہ ہے کہ ایسی مجبُوری جبھی ہو سکتی ہے جب اپنا ایمان کمزور ہو یا بچپن سے غلط اور درُست کی پہچان نا رہی ہو تو نا سمجھی کی عُمر میں تو جو سامنے ہو وُہی اچھا لگے گا مزہ دے گا تو کیا ہم ایسا مزہ دینا چاہتے ہیں اپنے بچوں کو جو اُن کی آئیندہ کِسی معمُولی سی بھی تکلیف کا سبب بنے ہم اُن کی معمُولی سی خواہِش ،،معمُولی سی دِلآزاری بھی نہیں کرنا چاہتے ایسے میں کیا ہم اُن کی بُرائ چاہ سکتے ہیں ہمیشہ کی بُرائ،،،سوچیئے ذرا دِل پرِ ہاتھ رکھ کر کہ میں کیا کہنا چاہتی ہُوں ؟؟؟؟
کیا ہم اپنے بچوں کو سبھی سہُولتوں کے ساتھ ویسی سُکھ شانتی دے رہے ہیں جو ہمیں اپنے بچپن میں مِلی تھی آج اُن میں کفایت اور شُکر کیُوں نہیں ہے کیُوں سب کُچھ میّسر ہونے کے باوجُود وُہ اِتنے بے چین اور ہر وقت کُچھ نا کُچھ ڈیمانڈ کرتے رہتے ہیں؟؟؟؟
ھَل مِنِ مزید کی طلب اُنہیں اوراور اور زیادہ کی ہوس میں کیُوں مُبتلا رکھتی ہے ؟؟؟؟
کیُوں آخِر کیُوں؟؟؟
کیا میں اپنا مطلب سمجھانے میں کامیاب ہو گئ ہُوں؟؟؟

کُلُّ عام وَاَنتُم بخیر

اللہ تعاليٰ نے اپنی رحمتوں ، برکتوں اور خاص فضلوں سے نوازنے کے لۓ ہميں ايک بار پھرماہِ مُبارکہ عنايت کيا ہے اللہ تعاليٰ کا جِتنا بھی شُکرادا کيا جاۓ کم ہے ہم لوگ اِتنے گُنہگار ، اِتنے نا شُکرے لوگ ہيں ،ليکِن اللہ تعاليٰ کی خُود سے مُحبت تو ديکھيں کہ ہميں خُود موقع ديا جاتا ہے کہ آؤ فلاح کی طرف ،آؤ بھلائ کی طرف ، پُکارنے والا پُکارتا ہے کِتنی پياری بات ہے کہ ايک ايک لمحے کا ثواب ہے آؤ لُوٹ لو آؤ ايمان سے جھولی بھر لو، کبھی بھی يقين نہيں ہوتا کہ اگلے سال ہميں یہ خُوبصُورت مہينہ عنايت ہوگا يا نہيں اور اگر عنايت ہُوا ہے تو ہم مُتامِل کيُوں ہوں آئيں اور رحمتوں سے جھولی بھر ليں اللہ تعاليٰ کو ہمارے سجدوں اور رکُوع و سجُود کی ضرُورت نہيں وُہ تو دِ لوں کا حال جانتا ہے ،نيّتوں کو بھانپ ليتا ہے صِرف مُنہ بندکر لينا ہی روزہ نہيں ،ہر اُس بات يا چيز جِس سے آپ کو خُود پتہ لگ سکتا ہے کہ کہاں اور کيا غلط ہو رہا ہے؟؟؟کيا بات قابلِ گرِفت ہے مُنہ سے ہم کہيں نا کہيں ، مانيں نا مانيں اندر سے ہم سب جانتے ہيں کيا بات درُست ہے اور ہم کہاں غلطی پر ہيں ؟؟؟تو کيُوں نا اِس رمضان ک بابرکت ماہ ميں اپنے سے وعدہ کريں کہ کوئ ايسا کام کرتے وقت اگر زيادہ نہيں تو کم از کم ايک بار ضرُور سوچيں کيا جو ہم کر رہے ہيں وُہ درُست ہے يا نہيں اور کيا ہماری کسی بات يا انداز سے کسی کا دِل تو نہيں دُکھا ، اللہ تعاليٰ ہميں اِس ماہِ مُبارکہ کی رحمتوں اور برکتوں کا فيض اُٹھانا نصيب کرے آمين اپنے اِرد گِرد ايسے لوگوں پر بھی نظر رکھيں جو اپنی سفيد پوشی کا بھرم رکھے اِن خُوشيوں اور راحتوں کو ويسے نہيں منا پا رہے جيسا کہ اُس کا حق ہے اور دامے دِرمے سُخنے اُنہيں بھی اپنے ساتھ اِن رحمتوں ميں شامِل کريں اللہ تعاليٰ ہماری دُعاؤں اور عِبادتوں کو قبُول کريں ميرے سب بہن بھائيوں کو ميری طرف سے رحمتوں کا يہ مہينہ مُبارک ہو سب کی دِلی دُعائيں اللہ تعاليٰ قبُول کرے سب کی جائِز خواہِشات کو قبُوليت کا شرف عطا ہو سب کی دُعائيں مُستجابُ الدعوہ ہوں آمين مُجھے اور ميرے خاندان کو بھی اپنی دُعاؤں ميں ياد رکھيں

مُعافی تلافی

اگر زندگی کا کُچھ حِصّہ تلخیوں یا محرُومیوں کی نزر رہا ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں کوئ بہُت بڑا انعام دینے والے ہیں ایسا انعام جو اِس دُنیا میں خُوشی اور آخرت میں بخشِش کا سبب بن جائے گا بس ہمیں مُعاف کرنے کا ہُنر آنا چاہیئے اور سب سے پہلے اپنے آپ کو مُعاف کریں ہر غلطی ،ہر بد گُمانی کے لئے،کیونکہ تب ہی ہم دُوسروں کو مُعاف کرنے کے قابِل بنتے ہیں جب پہلی مُعافی خُود کو دی جائے کر کے دیکھیں ایسا بہُت مزہ ہے مُعافُ کر دینے میں،،،،

اِحساس کی موت

مُجھے پتہ نہیں کہ میری ساری برداشت ختم ہو چُکی ہے یا میں بے حِس ہو چُکی ہُوں لیکِن اگر میری بے حِسی اِتنی اِنتہا تک پہُنچ چُکی ہوتی تو ہر تکلیف پر میرا دِل کیُوں دھڑکنا بُھول جاتا ہے میں کہ عام عوام ہُوں جِن پر گُزرتی ہے اُن کی تکلیف خُود پر محسُوس کرتی ہُوں بہُت وقت سے لِکھنا چاہنے کے باوجُود نا لِکھ پاتی ہُوں اور نا ہی ہِمّت پاتی ہُوں اپنے اندر کہ اِن دُکھی دِلوں پر مرہم رکھ پاؤں لگتا ہے کہ میرے الفاظ کھوکھلے ہو چُکے ہیں اِظہار کی طاقت کھو چُکے ہیں ،،،پھر خیال آتا ہے کہ کیا میں اِن کے دُکھ میں شامِل نہیں ہونا چاہتی اور یہ سوچ ہی مُجھے اندر ہی اندر مارے ڈالتی ہے آنکھیں نا صِرف شرم سے جُھک جاتی ہیں کہ میں ایمان کے ادنیٰ درجے پر فائز ہو نے کے بھی قابِل نہیں رہی کہ الفاظ سے ہی اِن کے دُکھ میں شامِل ہو جاؤُں بار بار ایک کے بعد ایک ہونے والے دہشت گردی کے حملوں میں جانی اور مالی نُقصانات کا اندازہ کوئ کیا کرے گا ؟؟؟آج کراچی میں ہونے والے تازہ تکلیف دہ حادثے نے دِل دہلا دیا کیا اِس وجہ سے کہ کراچی کی اِن ہی سڑکوں اِن بازاروں میں گُھومتے ایک وقت گُزرا نہیں پُورے پاکِستان کی ہر تکلیف پر دِل ایسِے ہی دُکھتا ہے ،،،کِتنابھی کہیں کہ کیا ہو گیا ہے پاکِستان کو ؟؟؟کیا بنے گا پاکِستان کا؟؟؟ پھر بھی کیُوں سبز پرچم کو دیکھتے ہی دِل دھڑک اُٹھتا ہے ؟؟؟ ؟کیُوں یہ سبز پرچم دُنیا کے سُب پرچموں سے زیادہ خُوبصُورت لگتا ہے؟؟؟اِس لئے کہ ہمیں اپنے مُلک سے پیار ہے تو یہ سب کرکے ماؤں کی گودیں اُجاڑنے والے ،،گھروں کو برباد کرنے والے کیا اِس مُلک کے باسی نہیں ہیں یا اِن کی کوئ ماں نہیں کوئ اولاد نہیں کیا اِن کا کوئ مزہب نہیں ؟؟؟ سب باتوں کو ایک طرف رکھیں کیا یہ اِنسانیت کے مرتبے سے بھی گِر چُکے ہیں کہ کِسی کی بھی تکلیف یا دُکھ کا اِحساس نہیں کر پاتے اور اگر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ سب خُود کُش دھماکے کرنے والے اپنی کسی تکلیف کے جواب میں ایسا کرتے ہیں تو میرے خیال میں تو ہم جیسی تکلیف سے خُود گُزرتے ہیں اُس تکلیف کا اِحساس ہمیں دُوسرے سے زیادہ ہوتا ہے یا پھر بعض لوگ تکلیف پا کر دُوسرے کو بھی ویسی ہی تکلیف میں دیکھنا پسند کرتے ہیں ہم اِسے اذیت پسندی بھی کہہ سکتے ہیں اِتنے لوگوں کو تکلیف میں دیکھ کر اذیت سے تڑپتے دیکھ کر کونسی حِس کی تسکین مِلتی ہوگی میرا دِل تو کِسی جانور کو بھی تکلیف میں دیکھنا برداشت نہیں کرتا حتیٰ کہ اُس تکلیف پر دُکھی نا ہونا یا اپنے دُکھ کا اِظہار نا کرنے پر بھی خُود کو موردِ اِلزاِم سمجھتی ہُوں اے کاش کہ ہم دُوسرے کے دُکھ کو اپنا دُکھ سمجھیں اور اے کاش کہ ہم پر مُسلّط کئے گئے حُکمران بھی یہ سوچیں کہ اِس سب کے لئِے وُہ سب بھی کِتنے ذِمّے دار ہیں اور کِس قدر جواب دِہ ہوں گے کاش کہ وُہ جان سکیں کہ اُن کے کندھوں پر ڈالی گئ ذِمّے داری کا حِساب کِتنا سخت دینا ہوگا دُعا ہی کر سکتے ہیں سب کے لِئے اور دوا کا کام بھی کر لیں تو بہتر ہوگا کہ دوا کے بغیر دُعا بھی کام نہیں کرتی اللہ تعالیٰ ہمیں دُعا اور دوا دونوں کی توفیق عطا کرے آمین اور اللہ تعالیٰ میرے پیارے مُلک کو سُکھ سکُون نصیب کرے امن و امان کی رونقیں بخشے آمین
آئیے ہم سب مِل کر دُعا گو ہوں کہ اِس وقت اِجتماعی دُعاؤں کی بہُت سخت ضرُورت ہے اور دُعاؤں کی ضرُورت ہر ایک کو ہر عُمر میں رہتی ہے اور دُعا کے لِئے اُٹھے ہُوئے ہاتھ بہُت خُوبصُورت لگتے ہیں سو ہمیں بھی اپنی دُعاؤں میں یاد رکھیں
مع السلام

ایک دھڑکا ہے ،،،،،

میں تیری چھاؤں میں پروان چڑھوں
اپنی آنکھوں پہ تیرے ہاتھ کا سایہ کرکے
تیرے ہمراہ
میں سُورج کی تمازت دیکھُوں
اس سے آگے نہیں سوچا دِل نے
… … پھر بھی احوال یہ ہے کہ
اِک بھروسا ہے کہ دِل سبز کئے رکھتا ہے
ایک دھڑکا ہے کہ خُوں سرد کئے رکھتا ہے

کیا وُہ وقت آگیا؟؟؟؟

وقت سدا ایک سا نہیں رہتا اور اِس کا اندازہ کبھی ہم گُزرتے موسموں سے لگاتے ہیں،،،کبھی کیلنڈروں کے بدلتے ہِندسوں کی آنکھ مچولی سے لگاتے ہیں اور کبھی اپنے ہی سامنے کے بچوں کے بڑھتے قدو قامت سے یا اُن کی نا سمجھی کی عُمر کی اِنتہائ تکلیف دِہ فضُول باتوں سے، لیکِن وقت کے گُزرنے کا اندازہ کبھی کبھار ہمیں اِرد گِرد پھیلتے بدلتے روّیوں سے بھی ہوتا ہے ہو سکتا ہے وُہ سب بھی شاید ہماری ہی کِسی کمزوری کی نِشاندہی کرتے ہوں میں ہمیشہ سے ہی اپنی کوتاہیوں کو نظر میں رکھا کرتی ہُوں اور یہ بات سرِ فہرِست سب سے اُونچے مقام پر رکھا کرتی ہُوں ایسے میں یہ بھی دِل چاہتا ہے کہ جب میں سب کے ساتھ بہترین روّیہ رکھنے کی کوشِش کیا کرتی ہُوں تو بے شک میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا لیکِن ایسا کبھی نہیں ہوتا اور میں گُھوم پِھر کر خُود کو ہی موردِ اِلزام ٹھہرا کر مُطمئِن ہونا چاہتی ہُوں لیکِن اب کُچھ دِنوں سے مُجھے اپنے اِس روّیے پر اعتراض ہونا شُرُوع ہو گیا ہے کہ میرا اِستعمال کافی بے دردی سے ہو رہا ہے اور یہ سب میری بار بار در گُزر کرنے کی عادت کی وجہ سے ہے یعنی دیکھا نا غلطی پِھر میری ہی برآمد ہو گئ نا ایسے میں جب یہ الفاظ کانوں سے ٹکرائیں کہ آپ کو کُچھ پتہ تو ہوتا نہیں یا یہ کہ آپ کو کبھی ہماری کِسی خُوشی کا خیال نہیں ہوتا تو میں سوچ کر رہ گئ کہ خُوشیوں کا اِحساس کرنا کِسے کہتے ہیں؟؟؟؟
کیسے خُود کو ختم کر کے بھی ہم یہ سُن سکتے ہیں کہ آپ کبھی ہماری خُوشیوں کا اِحساس نہیں کرتے؟؟؟
پِھر کیا اِحساس دِلانے کو مرنا ضرُوری ہے ؟؟؟
اور اِس کی بھی کیا گارنٹی ہے کہ ہمارے مرنے کے بعد بھی کہیں کوئ اِحساس جاگنے والا ہے،،،اور اگر جاگ بھی گیا تو ہمیں کیا فائِدہ یا یہ کہ بِنا کِسی اچھی سوچ کو دِل میں جگہ دِئے سر جُھکا کر ستائِش کی تمنّا نا رکھی جائے ،،،ٹھیک ہے اچھا بدلہ تو اللہ کی ذات ہی دے سکتی ہے لیکِن بحیثیت ایک اِنسان کے ہم اچھی بات کے مُتمنی تو ہوتے ہیں ںا کہ اِنسان ہیں فرِشتہ تو نہیں نا،،،
کیا ایسی اُلجھی سوچ کے پیچھے میری ناکامی کا ہاتھ ہے کہیں نا کہیں کوئ نا کوئ غلطی تو ہُوئ ہی ہے جبھی میں ایسے الفاظ کی حقدار ٹھہرائ گئ یا اب وقت آگیا ہے یہ سُننے کا کہ آپ کو کیا پتہ؟؟؟

کُرسی،،،

کب کسی کی ہُوئ ہے یہ ہرجائ
کس پہ آخِر جفا نہیں کرتی
جان دیتے ہیں لوگ کُرسی پر
اور کُرسی جفا نہیں کرتی

اںور شعُور

فرمانِ علی رضی اللہ تعالیٰ

حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں
جِسے چار چیزیں مِل گئیں، وُہ چار چیزوں سے محرُوم نہیں رہتا

نمبر ایک۔۔دُعا کے بعد حاجت روائ سے
نمبر دو۔۔توبہ کے بعد قبُو لیت سے
نمبر تین۔۔استغفار کے بعد مغفرت سے
نمبر چار۔۔شُکر کے بعد زیادتئِ نِعمت سے

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسی بہُت سی چیزوں کے قابِل بنائے،،،آمین

اُن جھاڑیوں کے درمیاں،،اِن بستیوں کے درمیاں

زندگی کی کرچیاں
بکھری ہُوئ تھیں
خُون میں لتھڑی ہُوئ
سفاک کانٹوں سے بھری
اُن جھاڑیوں کے درمیاں
زندگی کی کرچیاں
کُچھ ہڈیوں کی کرچیاں
اور گوشت کی کُچھ دھجیاں
ننھے بچوں کی مہکتی ،،رس بھری قِلقاریاں
بکھری ہُوئ تھیں
خُون میں لتھڑی ہُوئ
سفاک کانٹوں سے بھری
اُن جھاڑیوں کے درمیاں،،،

خواب کی سر سبز دُنیا پل میں مٹی ہو گئ
قہقہوں کے سارے منظر سُرخ خُوں میں جل گئے
خُو بصُورت آرزُوؤں کا دمکتا کارواں
راکھ بن کر بِلبِلاتی خاک کا حِصّہ بنا
نرم و نازُک عورتوں کی جگمگاتی خواہِشیں
نیچے گِر کر رہ زنوں کی حِرص کا لُقمہ بنیں
ایک چادر آنسُوؤں کی چار جانِب تن گئ
ہو گئے سب قتل اُمّیدوں کی آنکھوں کے دِئے
رہ گئے غارت گری کے کالے پنجوں کے نِشاں
اُن جھاڑیوں کے درمیاں
خُون میں لتھڑی ہُوئ
سفاک کانٹوں سے بھری
اُن جھاڑیوں کے درمیاں،،،

ہر طرف ہے پیار کی خُوشبُو نہ خنجر یہاں
چاہتوں کی ۔آرزُو کی، کوکھ ہے بنجر یہاں
اِن بستیوں کے درمیاں
رنگ و نسل و فِرقہ و ماں بولیوں کے نام پر
کِتنی ماؤں کے جِگر گوشے ہُوئے صیدِ سُپر
زہر اُگلتے
دار کی صُورت کِھنچے
دیوارو در کے درمیاں
زِندگی کی کِرچیاں بِکھری ہُوئ ہیں
اِن بستیوں کے درمیاں

مرگ نامہ کِس نے لِکھا؟؟
دستِ قاتِل ہے کہاں؟؟
اُن جھاڑیوں کے درمیاں،،اِن بستیوں کے درمیاں

ہم اِس دور میں جی رہے ہیں کِتنی تکلیف کی بات ہے یہ؟؟؟؟

یاد رکھنے کی باتیں،،،

جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے وُہ کبھی بدلہ نہیں لیتا،،،

حسد کرنے والا موت سے پہلے مر جاتا ہے،،،

کسی پر اعتماد نا کرو جبتک اُسے غُصّے میں نا دیکھ لو،،،

موت کو یاد رکھنا نفس کی تمام بیماریوں کی شفا ہے،،،

خُوشی اِنِسان کو اِتنا نہیں سِکھاتی جِتنا غم،،،

سچائ ایک ایسی دوا ہے جِس کی لزّت کڑوی مگر تاثیر میٹھی ہے،،،

اذان کے وقت خاموش رہا کرو تا کہ موت کے وقت کلمہ نصیب ہو،،،

صفائ اپنائیے خُوش اور صِحتمند رہئیے،،،،

Image and video hosting by TinyPic

بعض اوقات ہم بہُت سی باتیں کہناچاہتے ہیں لیکِن زبان دانتوں میں ہی دبائے رکھنا پڑتی ہے کیا کریں مجبُوری جو ٹھہری،،،لیکِن مجبُوری تو میری اور آپ کی ہو سکتی ہے نا باقی ساری دُنیا کو تو ایسی کوئ مجبُوری لا حق نہیں رہی ہوتی نا سو پِچھلے دِنوں ایک خاتُونِ خانہ کی ذِمے داری نِبھاتے ہُوئے کُچھ ایسے تجرُبات سے گُزری کہ دِل و دِماغ ماننے سے اِنکاری ہیں مگر آنکھوں دیکھی کو کیا جُھٹلانا گو ایسا ایسا بہُت کُچھ اکثر اوقات دیکھتے ہی رہتے ہیں ہم لوگ ،،،مگر گھر میں دیکھنا اور برداشت کرنا اور بات ہے کُچھ روز پہلے ایک چینل پر ایک بہُت اچھی طرح ڈریس اپ ہُوئ ایک بہُت شاندار خاتُون کو دیکھا جو ایک ٹاک شو میں موجُود تھیں پہلے تو مُجھے اُن کے بیٹھنے کے انداز پر ہی اعتراض ہُوا عجیب مردانہ انداز تھا بیٹھنے کا ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر تو بیٹھ ہی جاتے ہیں لیکِن بہُت ہی عجیب انداز تھا جو یُوں سرِ محفِل کافی معیُوب سا لگ رہا تھا یا ہم ٹھہرے پُرانے خیالات رکھنے والے لوگ اِس لِئے بہُت عجیب لگاُ ہوگا ابھی میں اِس شاک سے ہی نِکل نہیں پا ئ تھی کہ مُحترمہ نے بہُت مضبُوطی سے اپنی جُوتی کو نیچے سے کس کر پکڑ لیا اور پِھر سارا پروگرام پکڑے ہی رکھا کہ کہیں جُوتی نظر بچا کر بھاگ نا لے اکرم صاحِب کی جو میری حد سے بڑھی ہُوئ صفائ پر عمل تو کرتے ہیں یہ دیکھ کر تو ہنسی اِتنے زور سے نِکلی کہ اب بتاؤ اور میں بھلا اب کیا بتاتی ؟؟؟
غُصّہ بھی آ رہا تھا اور کُچھ کر بھی نہیں پا رہی تھی بس سارا پروگرام نظر میں رکھا کہ دیکھُوں شاید جان چُھٹ گئ ہو بے چاری جُوتی کی لیکِن نا جی ،،
ہمارے ہاں بہُت سے لوگ اِسِ بات کو بہُت بُرا سمجھتے ہیں کہ کوئ خاص طور پر اِنہیں ہاتھ وغیرہ دھونے کا کہے جائے کہنا تو اچھا نہیں لگتا کِسی کو بھی کہ اکثر لوگ بُرا مان جاتے ہیں مگر مُجھے یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ ایک مُسلمان ہونے کے ناطے صفائ میں حِصّے دار بنیں نا صِرف صفائ کا فائِدِہ ہو گا بلکہ ہم بہُت سی بیماریوں سے بھی بچ جائیں گے لیکِن ہوتا یہ ہے کہ ہم اِگر خُود بھی صاف صفائ کا خیال رکھیں تو بجائے اِسِ کے کہ اِسے سراہا جائے اُلٹا مزاق کا نِشانہ بناِیا جاتِا ہے کہ اِسے دیکھو ذرا ،،،پِچھلے دِنوں ہمارے گھر میں بھی یہی بات مُشاہِدہ ہُوئ کہ چلیں جی ویسے نا سہی کم از کم کھانا کھاتے وقت تو ہاتھ دھو لِئے جائیں جبکہ کھانا کھانے سے پہلے اور بعد میں تو ہاتھ دھونا سُنّت بھی ہے اور یہ بات تو ہمیں بہُت بچپن سے ہی سِکھائ جاتی ہے اور بچپن کی عادتیں تو ہمیشہ بہُت پُختہ ہوتی ہیں یعنی کہ ایسی باتیں بچپن سے نہیں سِکھائ گئ ہوں گی یا ہم اب ایسی باتوں کو درخورِ اِعتنا ہی نہیں سمجھتے جو کہ دیکھنے میں بہُت معمُولی لیکِن آئیندہ کے لِئے ہمارے لِئے ہی فائِدِہ مند ہے پِھر بہُت سے امراض صِرف اور صِرف گندگی کی وجہ سِے ہی پھیلتے ہیں اور لا عِلاج ہوتے ہیں تو کیا یہ صِرف ہمارے اور ہماری آنے والی نسلوں کے لِئے بھی نُقصان کا باعث نہیں ہے جب ہمیں خُود ہی اِس کا عِلم نہیں ہوگا تو ہم اہنے بچوں کو یہ سب کیسے سِکھائیں گے ہمارے ہاں لڑکوں کو کِسی بھی طرح کی بات سے منع نہیں کیا جاتا بقول کِسِی کے وُہ تو راجے ہوتے ہیں اور نہائے دھوئے پیدائشی صاف سُتھرے ہی ہوتے ہیں مزید صفائ کی ضرُورت نہیں ہوتی تو ہمارے مُطابق جِنہیں ہم گورے کہہ کر خُود کوئ اعلیٰ چیز بن جاتے ہیں کہ صفائ نِصف ایمان ہے تو ہمارے مزہب میں کہا جاتا ہے تو ہم نے اپنی اعلیٰ ترجیحات خُود دُوسروں کو تفویض کر دی ہیں میں نے تو بس ویسے ہی کُچھ دُکھے دِل کے ساتھ یہ پوسٹ لِکھنی تھی لِکھنی شُرُوع کی تو دیکھا کہ واہ بھئ آج تو ہاتھ دھونے کا عالمی دِن ہے گو ِمیری سُستی کی وجہ سے وُہ آج کا دِن کل میں بدل چُکا ہے لیکِن خیر ہے کوئ بات نہیں دیر آید درُست آید،،،مگر جاتے جاتے ایک بات کہ کیا اکثر آپ کے ساتھ بھی ہوتا ہے کہ کِسی کی ناگوار گُزرنے والی عادت پر کُچھ کہہ نا پائیں مگر نظر بار بار اُدھر ہی لُڑھک جاتی ہو میرے ساتھ تو ہمیشہ ہی ایسا ہوتا ہے غُصّہ بھی آئے جا رہا ہوتا ہے اور اور بس،،،