ضیاء الحسن خان (حیران و پریشان)

یقین!!

ہماری بہت ہی محترم چھوٹی بہن عائشہ بنت نفیس کی ایک پُر اثر تحریر آپ قارئین کی نظر اپنئ آراء سے ضرور نوازیں اور عائشہ ٹوئیٹر پر @AyeshaBNafees کے نام سے موجود ہیں

اسکی ہنسی بہت خوبصورت تھی۔ شفاف اور دلکش۔ چمکتی آنکھوں کے ساتھ جب اس کے تیکھے نقوش میں دو گڑھوں کا اضافہ ہوتا تو اس لمحے کوئی بھی لڑکی
اسے اپنا دل دے بیٹھتی۔ اور اس وہ اسکی گھبرائی بوکھلائی دلیل سن کر دل کھول کر ہنس رہا تھا۔
"تو کیا تمہیں اس کی محبت کا یقین نہیں؟"- عمار آدھے گھنٹے سے اسے راحیل کی غیرسنجیدگی سے ڈرا کر تفریح کر رہا تھا۔ اس نے مزید چھیڑنے کے لئے پوچھا۔ "کیا تمہارے لئے یہ تسلی کافی نہیں کہ وہ جہاں بھی جائے گا، گھر لوٹ کر تمہارے پاس ہی آئے گا؟"
ثمرہ کی مبہم مسکراہٹ اچانک سے گہری ہو گئی۔
"آپ نے کبھی مذہب کو پڑھا ہے؟"
"مطلب؟ قرآن شریف پڑھا ہے۔ روزوں میں پورا قرآن ختم کرتا ہوں۔" اس کا فخریہ انداز اور سنجیدگی دیکھ کر ثمرہ کا ایک لمحے کو زور سے ہنسنے کا دل چاہا۔ لیکن اس نے اپنا سوال دہرایا۔
"مذہب ۔ میرا مطلب ہے comparative religion کو سٹڈی کیا ہے؟"
"نہیں۔ کیوں!؟"
"آپ اور میں پیدائشی مسلمان ہیں ۔ اندھا یقین ہے ہمارا قرآن پر۔ لیکن ھمارے دل پھر بھی بےچین رہتے ہیں اور ہم اپنی عبادات سے بھی دور ہیں اور اپنے رب سے بھی۔ مذہب ہمارے ارد گرد ہوا کی طرح موجود ہے اور ہمیں اسکی قدر نہیں ۔ اس کے برعکس وہ شخص جو سوچ سمجھ کر اپنا مذہب اپناتا ہے، اسے اُسکی پوری قدر ہوتی ہے۔ وہ اس کے دل میں اتر کر اس کا سکون بن جاتا ہے۔ عجیب سی بات ہے لیکن اکثر ہم religiously converted لوگوں کے چہروں سے ان کے سکون اور یقین کو پڑھ سکتے ہیں ۔ وہ ہوا میں صرف سانس نہیں لیتے۔ وہ اپنے عقیدے کی پختگی اور اسکی خوشی گھونٹ گھونٹ پیتے ہیں۔ محبت بھی ایسی ہی چیز ہے۔ خود سے محبت کے ہونے کا یقین کر لو، تو ہوا کی طرح موجود تو رہتی ہے، مگر بے رنگ اور بےبو۔ اپنی محبت کی conviction اگر دیکھ لو تو پھر دل میں ہی نہیں، سینے میں اتر کر روح تک سرشار کر دیتی ہے۔ مجھے اس سے محبت ہے عمار ۔ کیا وہ مجھے یہ conviction دے سکتا ہے؟ "

باتیں کروڑوں کی اور دوکان پکوڑوں

باتیں کروڑوں کی اور دوکان پکوڑوں کی جس نے بھی یہ محاورہ بنایا ہے کوئی کمال کا ہی حقیقت پسند انسان ہوگا یا پھر اسکا واسطی ایسے لوگوں سے ہی پڑا ہوگا کے جنکی زندگی صرف باتیں کرتی ہی گذری ہوگی خیر یہاں آج ایسا کوئی خاص موضوع نہیں ہے سوائے اسکے کے یہ جو آجکل بلاگنگ بلاگنگ کا شور مچا ہوا ہے اور ہر شخص اپنی حیثیت، تجربے اور مشاہدے کے مطابق جو بھی معاشرے میں اچھائی یا برائی نظر آرہی ہے اسکو لکھ رہا اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کے اب بھی لوگوں میں اچھائی اور برائی محسوس کرنے کی صلاحیت باقی۔۔۔۔۔۔

اب آتے ہیں اصل مسئلے کی جانب جہاں کچھ دوست لوگ بلاگنگ کو سوائے ایک اندھے کنوئیں کو کچھ نہیں سمجھتے ہیں وہیں ہمارے ملک، یہاں ہمارے ملک اس لئے کہا ہے کے کسی اور ملک میں ایسا کوئی واقعہ دیکھنے کا میرا کوئی تجربہ نہیں، تو ہمارے ملک کا آج کے دور کا سب سے اہم میڈیا جس کو الیکٹرانک میڈیا کہا جاتا ہے اور انکے ذیلی ادارے جو لوگوں کو لاکھوں روپے تنخواہ اور دیگر مراعات دے کر اپنے پاس ملازمت دیتے ہیں کے وہ انکے ادارے کے لئے کچھ لکھیں گے، اس ہی میڈیا کے بڑے بڑے مشہور صحافی اور اینکرز ان چھوٹے چھوٹے اردو بلاگرز کی تحاریر کو بغیر کسی اجازت کے اپنے کالمز میں چھاپتے رہے ہیں اور چھاپ رہے ہیں اور اگر کوئی نشاندہی کردے تو بجائے اسکے کہ اس پر شرمندہ ہوں آگے سے تاویلیں دینا شروع کردیتے ہیں کے یہ تو ہمارے پاس برسوں سے لکھی ہوئی رکھی تھی۔۔۔

تو کہنے کا مقصد یہ ہے کے اردو بلاگنگ سے وابسطہ لوگ چاہے کوئی بھی ہوں اور انکے آپس میں کیسے بھی تعلقات ہوں سرد و گرم یہ تو ویسے بھی زندگی کی نشانی ہے مگر کم سے کم ان میں اتنی صلاحیتیں تو موجود ہیں کہ اللہ نے جو ان کو عقل و فہم دیا ہے اسکو استعمال کرتے ہیں اور بغیر کسی لالچ اور بغیر کسی مشہوری کی خواہش کے جو دیکھتے ہیں وہ لکھ دیتے ہیں اور ایسے تمام لوگوں سے بہت ہی بہتر ہیں جو پیسے بھی لیتے ہیں انکی مشہوری پر لاکھوں روہے بھی خرچ ہوتے ہیں اور لکھنے کے لئے انکو صرف دوسرے کے بلاگز کی اسٹالکنگ کرنی پڑتی ہے اور پرانی کوئی اچھی تحریر اپنے نام سے چھاپ دیتے ہیں۔

اب اس بات سے ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے جس شخض کو اتنا بھی علم و فہم، نہیں کے وہ کس طرح معاشرے کی برائی اور اچھائی عوام الناس کو دکھا سکے اس سے یہ کیسے امید لگائی جاسکتی ہے کے وہ معاشرے کو برائی سے بچا سکے گا،،،،

پتہ نہیں بات کہاں سے کہاں نکلے جارہی ہے کہنے کا مطلب یہ ہے کے اردو بلاگرز کو پڑھیں یہاں بہت اچھے اچھے لکھنے والے ملیں گے اور ہر موضوع پر انکو صرف اس وجہ سے کنوئیں کا ڈڈو نہ کہیں کے یہ اپنی قومی زبان میں لکھتے ہیں اور قومی زبان کے فروغ کے لئے بغیر کسی لالچ کے انتھک محنت کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ انکی نہ دوکانیں انچی ہیں اور نہ ہی یہ بڑے بڑے نام نہاد صحافیوں اور چینلیز کی طرح صرف باتیں کروڑوں کی کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

والسلام

ہم، تم اور فاصلے۔۔۔۔۔۔۔۔ گردشوں کے سفر میں یہی مستقل ٹھہرے


محبت۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم، تم اور فاصلے۔۔۔۔۔۔۔۔
گردشوں کے سفر میں یہی مستقل ٹھہرے۔


نواز شریف کی کرپشن کی تاریخ بیان کرتے کرتے میری تحریر کا موضوع اچانک محبت جیسا لطیف جذبہ ہوگیا۔۔۔۔۔ شاید لوگوں کو حیرت ہو گی کیونکہ کہاں ٹویٹر کی سخت الفاظ استعمال کرتی ہوئی تلخ ، بدتمیز اور بدزبان لڑکی اور کہاں محبت کا لفظ۔
اس لڑکی کے تو محبت کبھی قریب سے بھی نہ گزری ہوگی۔ لیکن جو لوگ میرے قریب ہیں یا تھے، چاہے وہ تحریکی ہوں، پٹواری ہوں یا نام نہاد نیوٹرل، میری وہ سائڈ جانتے ہیں جو محبت سے لبریز ہے۔
میرے دل سے صرف محبت کی ترسیل ہوتی ہے۔ میرے اندر سیاست کو لے کر جو تلخیاں بھری ہیں وہ میری پاکستان سے بےپناہ محبت کی وجہ سے ہی اتنی شدید ہیں۔ میرا دل محبت کے سوا کچھ اور کرنا اور سوچنا جانتا ہی نہیں۔

میں نے اس موضوع پر اپنے احساسات قلمبند کرنے کا فیصلہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی کیا۔ شاید یہ تحریر آپکو بے ربط لگے اور اسکا مقصد بھی سمجھ میں نہ آئے۔ اس تحریر کا مقصد تو مجھے خود بھی سمجھ میں نہیں آیا لیکن آج شاید پیمانہ چھلک گیا ہے، شاید میں catharsis کرنا چاہتی ہوں۔ شاید دل کا بوجھ ہلکا ہوسکے یا شاید کوئی اسکو پڑھ کر نصیحت ہی حاصل کرلے۔

ایک عزیز دوست سے باتوں کے دوران گفتگو کا رخ غیر ارادی طور پر محبت کی طرف مڑ گیا۔ ایسا میرے ساتھ پہلی مرتبہ ہوا کہ ایک مرد نے مجھے محبت کا مفہوم ایک مرد کے perspective سے بتایا۔

سن کر دھچکا لگا۔ محبت کے خوبصورت جذبے کی یہ تشریح میرے لیئے ناقابلِ فہم تھی۔
'عورت کا دل ایک ہوتا ہے، مرد کے کئی دل ہوتے ہیں۔'
دوست کے کہے اس ایک جملے نے مجھے ہر بات سمجھا دی۔ میرے دماغ میں زویا کیے لکھے بلاگ کا ایک ایک لفظ گونجنے لگا۔
میرے اس دوست نے مرد کے دل اور محبت کو کیسے بیان کیا میں انہی کے الفاظ میں بتانے کی کوشش کرتی ہوں۔
'مرد فطرتاً ٹھرکی ہوتے ہیں۔ انکا دل مچلا ہی رہتا ہے۔'
بات اگرچہ تلخ ہے لیکن عورت اور مرد کی نفسیات میں بہت فرق ہے۔ جب دل اور دماغ ایک ہی طرح فنکشن کرتے ہیں تو نفسیات فرق کیوں؟
'سچ تو یہ ہے کہ مردوں کو 'بہک' جانے کے بہانے چاہیئے ہوتے ہیں۔' یہ میرے نہیں ایک مرد دوست کے الفاظ ہیں۔
'خالص محبت صرف عورت کا ظرف ہے، مرد شاذ و نادر. ہاں محبت کے نام پر بیوقوف بنانے کے مرد ماہر۔۔۔۔ ایک ڈھونڈو ہزار دستیاب ہیں۔'
شاید ہر لڑکی کو ڈی ایم میں 'تم میری آخری محبت ہو' کاپی پیسٹ کرکے بھیجا جاتا ہے۔

مرد کی نفسانی خواہشات زیادہ ہیں۔ یہ قاعدہ کس نے بنایا ہے؟ عورت چاہے جانے اور سراہے جانے کی خواہش میں مردوں کی چالبازی کا شکار ہوتی ہے جسے وہ اپنی دانست میں محبت سمجھ رہی ہوتی ہے۔ مرد دل بھر جانے پر اپنا راستہ پکڑتے ہیں اور عورت اسے محبت میں دھوکہ سمجھ کر سوگ مناتی رہ جاتی ہے حالانکہ مرد نے اس سے محبت کی ہی نہیں ہوتی۔ مردوں کے پاس ہزار جال، ہزار ترکیبیں۔ لڑکیاں معصوم مردوں کی دُکھی داستانیں سن کر آبدیدہ ہوجاتی اور انکی محبت میں غوطے لگانے لگتی ہیں۔ یہ نہیں سمجھتیں کہ یہ ناخدا نہیں ہیں، ڈوب جانے دینگے۔
مرد کے وعدے، قسمیں کسی رومانوی ناول یا دیسی فلموں میں تو سچے ہوتے ہیں لیکن حقیقی زندگی میں خال خال۔
اور محبت جب ہوتی ہے تو بےحد ہوتی ہے۔ اس میں توازن رکھنے کا کہنے والے محبت کا مفہوم جانتے ہی نہیں۔ مردوں نے اس جذبے کو جھوٹ اور دھوکہ دہی سے داغدار کردیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ آج یہ لفظ اپنا اعتبار کھو رہا ہے حالانکہ کہتے ہیں کہ محبت آفاقی جذبہ ہے۔
میں feminist نہیں ہوں لیکن دل تو بہرحال عورت کا ہی ہے۔
میرا مقصد کسی خاص شخص یا گروپ کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ انصافی ابھی بچے ہیں۔ زندگی کی تلخیوں کا ابھی اندازہ نہیں ہے۔ عام نوجوانوں کی طرح فلمی محبتیں کرتے ہیں۔ دوستوں کیساتھ سکرین شاٹس وغیرہ شئیر کرنا بہرحال گھٹیا حرکت ہے چاہے کسی بھی عمر میں کی جائے۔ پٹواری البتہ گھاگ مرد ہیں۔ انہیں اپنی ٹھرک لفاظی کر کے 'عشق' کی صورت پیش کرنے میں زیادہ دقّت پیش نہیں آتی۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ انکی اس حرکت سے لڑکی کی نفسیات ہمیشہ کیلئے ڈسٹرب ہوجاتی ہے۔ وہ ہمیشہ کیلئے insecurities کا شکار ہوجاتی ہے۔ زندگیاں برباد کرتے ہوئے وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ انکی بہن، بیٹی، ماں بھی عورت ہیں اور اسی عورت کی پسلی سے وہ اس دنیا میں لائے گئے ہیں۔
مرد لڑکی کو کیا سمجھتے ہیں یہ تفصیلات ایک مرد کی زبانی سن کر تکلیف تو بہت ہوئی لیکن محبت پر میرا پختہ ایمان اور مضبوط ہو گیا۔ محبت اگر خالص ہو تو عبادت ورنہ ٹائم پاس کیلئے ڈی ایمی محبتیں تو ہر وقت دستیاب ہیں۔

دل وہ ہے کہ فریاد سے لبریز ہے ہر وقت___
ہم وہ ہیں کہ کچھ منہ سے نکلنے نہیں دیتے

یہ بلاگ لکھا ہے محترمہ ZAF صاحبہ نے وہ ایک مہمان لکھاری ہیں انکو ٹوئیٹر پر @MaonBillii کے نام سے تلاس کیا جاسکتا ہے

بنو قریظہ کے واقعے سے استدلال


معلوم نہیں، آرمی اسکول کے بچوں کو قتل کرنے کے حق میں بنو قریظہ کے واقعے سے استدلال، ذمہ داروں نے واقعی کیا ہے یا نہیں، لیکن اگر کیا ہے تو یہ افلاس علم کے باوجود تحکم اور خود اعتمادی کے اسی رویے کی ایک مثال ہے جو اس پورے طبقے میں علی العموم دکھائی دیتا ہے۔ بنو قریظہ کے جن مردان جنگی کے قتل کا فیصلہ، خود انھی کے مطالبے پر مقرر کردہ حکم نے کیا اور جو خود تورات کی شریعت کے مطابق تھا، وہ یہودیوں کے کسی مدرسے میں بیٹھ کر تعلیم حاصل نہیں کر رہے تھے جن پر اچانک جا کر دھاوا بول دیا گیا اور کہا گیا کہ زیر ناف بال دیکھ کر بالغوں اور نابالغوں کو الگ کر دیا جائے اور بالغوں کو قتل کر دیا جائے۔ بنو قریظہ نے مسلمانوں کے ساتھ عہد شکنی کی تھی اور ایک نہایت نازک موقع پر مدینہ پر حملہ آور مشرکین کے ساتھ ساز باز کر کے مسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی سازش کی تھی۔ ان کا باقاعدہ جنگی قوانین کے مطابق محاصرہ کیا گیا اور پھر انھی کے مطالبے پر انھیں اس شرط پر ہتھیار ڈالنے کی اجازت دی گئی کہ ان کے متعلق فیصلہ ان کے اپنے منتخب کردہ حکم سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے کروایا جائے گا۔ چونکہ بنو قریظہ کی پوری آبادی اس جنگی جرم میں ملوث تھی، اس لیے ان کے عورتوں اور بچوں کوچھوڑ کر تمام مردان جنگی کو یہ سزا دیا جانا کسی بھی لحاظ سے جنگی اخلاقیات کے منافی نہیں تھا۔ اس سے یہ استدلال کرنا کہ دشمن کے کیمپ سے متعلق غیر مقاتلین پر اور وہ بھی ایک تعلیمی ادارے میں جمع ہونے والے معصوم بچوں پر حملہ آور ہو کر انھیں قتل کر دینا، سنت نبوی کی پیروی ہے، جہالت اور سفاہت کی ایک عبرت ناک مثال ہے۔

ناسٹیلجیا ۔۔۔۔۔


ہمارے دوست ابو نجمہ سعید صاحب کی جانب سے ایک بہترین قسم کا اظہار اور ماضی کی یاد۔۔۔۔۔۔ تمام اردو بلاگرز حضرات سے انکی شخصیت کوئی دھکی چھپی نہیں ہے۔۔۔۔۔

انا للہ و انا الیہ راجعون۔ سچ کہا جس نے کہا کہ آدمی کو مکان اور اس کے متعلقات سے اتنی ہی محبت ہوتی ہے جتنی عزیزوں سے۔ واٹس ایپ پر ویڈیو اور تصاویر موصول ہوئیں، اس حسرت ناک خبر کے ساتھ کہ آم کا پیڑ کاٹ دیا گیا۔ ہائے ہائے!!! خبر کیا تھی اک تیر پُر ستم تھا جو سیدھا جگر میں پیوست ہوا۔ ایسا لگا کہ آرا پیڑ پر نہیں ہمارے دلوں پر چلا۔ کاٹا اسکو نہیں ہمیں گیا۔ اکھاڑا اسکو نہیں ہمیں گیا۔ شاخیں اسکی نہیں بازو ہمارے کاٹے گئے۔اوندھے منھ وہ نہیں ہم گرے۔ ہائے ہائے!! آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں۔ تو پکارے ہائے گل، میں چلاؤں ہائے دل۔ یہ تو معلوم نہیں کب سے تھا وہ ۔ البتہ آنکھ جب سے کھولی تب سے تھا وہ۔ کرکٹ بھی اسی کی چھاؤں میں کھیلی، کیریاں بھی اسی کی کھائیں۔ اسی کے نیچے اپنے دادا کو پوتوں کا قرآن سنتے دیکھا۔ ان کے بعد والد صاحب اور چچاؤں کو دیکھا۔ آنے والے مہمانوں کو دیکھا۔ ہونے والی مٹنگوں کو دیکھا۔دی جانے والی اذانوں کو دیکھا۔ پڑھی جانے والی نمازوں کو دیکھا۔ ہونے والی شادیوں کو دیکھا۔ رکنے والی گاڑیوں کو دیکھا۔ بہنے والے پانیوں کو دیکھا۔پانی پینے والے بیلوں کو دیکھا۔ نہلائے جانے والی بھینسوں کو دیکھا۔ تیرنے والے ہم عمروں کو دیکھا۔ وضوء کرنے والے بزرگوں کو دیکھا۔پڑھے جانے والے قرآنوں کو دیکھا۔ ہونے والے دوروں کو دیکھا۔ دینے والے مالکوں کو دیکھا۔ لینے والے مزدوروں کو دیکھا۔ میٹنگ ہال بھی تھا وہ۔ مردان خانہ بھی تھا وہ۔ مہمان خانہ بھی تھا وہ۔گاڑیوں کا گیراج بھی تھا وہ۔ آنے والے مرد مہمان اسکے نیچے بچھی چارپائی پہ بیٹھتے اور عورتیں گھروں میں چلی جاتیں۔ چائے ناشتہ جو ہوتا وہ اس کی چھاؤں میں۔ شادی بیاہ کے ہنگامے جو ہوتے وہ اس چھاؤں میں۔ اذانیں جو ہوتیں وہ اسکی چھاؤں میں۔ نمازیں جو ہوتیں وہ اسکی چھاؤں میں۔ صرف دو موقعوں سے ویران ہوتا۔ ایک برسات میں دوسرے رات میں۔ اول الذکر کی وجہ بیان کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ ثانی الذکر کی وجہ آپ جانتے ہی ہونگے ۔ واٹس ایپ پر جو آج خبر موصول ہوئی تو ایسے لگا جیسے دادا کا ایک بار پھر انتقال ہوگیا۔ لگنا بھی بجا ہے کہ آخر تھا بھی وہ دادا ہی کی عمروں کا۔ دادا ہی طرح ہمیشہ دیا لیا کبھی نہیں۔ حتی کہ مرتے ہوئے بھی نہال کرگیا ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ سچ کہا جس نے کہا کہ آدمی کو مکان اور اس کے متعلقات سے اتنی ہی محبت ہوتی ہے جتنی عزیزوں سے۔ہائے ہائے!! آ عندلیب! مل کے کریں آہ و زاریاں۔ تو پکارے ہائے گل، میں چلاؤں ہائے دل۔ حالت غم میں ہوں یارو! تعزیت کرتے جاؤ یارو!

کیونکہ میں پاکستان ہوں۔۔


ہمارے ایک بہت ہی قریبی دوست حافظ عبدالناصر کی لکھی ہوئی ایک بر اثر تحریر آپ سب کے لئے بیشِ خدمت ہے ۔۔۔

کیونکہ میں پاکستان ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں لگتا ہے ، کہ کسی نے کراچی کو الگ کرنے کی بات کی تو مجھے دکھ نہیں ہوا۔۔۔۔ تمہیں لگتا ہے ، کہ جیت ہار کے فیصلے پر کسی نے پنجاب کو برا بھلا کہا ، تو مجھے دکھ نہیں ہوا۔۔۔ تمہیں لگتا ہے ، کہ مری غریب جاہل عوام کو بے غیرت کہا گیا تو مجھے دکھ نہیں ہوا۔۔۔
تمہیں لگتا ہے، کہ لوگوں نے جب پاکستان کی امید کے مرنے کی بات کی تو مجھے دکھ نہیں ہوا۔۔۔
تمہیں لگتا ہے، کہ جیتنے والوں کی دھاندلی کا دکھ نہیں ہے مجھے۔۔۔ تمہیں لگتا ہے، کہ ہارنے والوں کے حوصلوں کی تکلیف مری تکلیف نہیں ہے۔۔۔۔ تمہیں لگتا ہے۔۔۔ بلوچ مرے بلوچ نہیں ہہیں۔۔۔۔ تمہیں لگتا ہے، کہ سرائیکیوں کی ہار کا نعرہ مجھے چھلنی نہیں کر رہا۔۔تمہیں لگتا ہے، کہ آرمی کو چوڑیوں کی پیشکش مرا زخم نہیں ہے۔۔۔۔ تمہیں لگتا ہے، کہ انتخابی قافلوں پر حملوں میں مری جان نہیں گئی۔۔۔۔ تمہِیں لگتا ہے کہ ریلیوں پر مرنے والوں کا دکھ نہیں پہنچا مجھ تک۔۔۔۔ تمہیں لگتا ہے ، کہ ایوانوں تک پہنچنے والے بے ضمیروں پر مجھے غصہ نہیں ہے۔۔۔ تمہیں لگتا ہے،ن، پ ق ، انصاف کے خاندانی حکمران مری آنکھوں میں نہین چھبتے۔۔۔۔۔۔
مجھے تم سب سے دکھ ہے ، مگر تم سب میں ہی مرا حوصلہ ہے۔۔۔۔ میں پاکستان ہوں۔۔۔۔ امید مرے جسم میں خون بن کر دوڑتا ہے۔۔۔۔ اور میں کبھی مایوس نہیں ہوتا۔۔۔۔تب بھی نہیں جب تم تھکے ٹوٹے ہارے چہرے اور بچوں جیسی چیخ پکار لے کر شور مچانے لگتے ہو۔۔۔۔ کیونکہ میں تمہاری ماں ہوں۔۔۔۔۔ تم میری اولاد ہو۔۔اچھی بری ہو، نکمی ہوشیار بھی ہو۔۔مگر مری اپنی ہو۔۔۔۔۔ تم مجھے دکھ بھی دو، مگر مری جھولی میں تمہارے لئے دنیا بھر کی دعائیں اور محبت ہے۔۔۔۔۔
بس ، اپنے اپنے کام کرنا، مگر یاد رکھنا۔۔۔۔ مری محبت تب تک ہے، جب تک میں ہوں۔۔۔۔ مری محبت کو مرنے نہ دینا۔۔۔۔ میں اپنی نہیں تمیاری زندگی مانگ رہا ہوں۔۔۔۔ کیونکہ میں پاکستان ہوں۔۔۔۔ بہت دکھ میں ہوں، مگر امید مری رگوں میں اب بھی خون بن کر دوڑ رہی ہے۔۔۔۔ اور مجھے مری ساری اولاد اپنی غلطیوں سمیت عزیز ہے۔۔۔۔۔۔
پاکستان زندہ باد۔۔۔۔

تو آپﷺ ذکر قیامت تک بلند رہے گا انشاء اللہ


حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوسرے صاحبزادے کا جب انتقال ہوا تو عرب کے کفار بہت خوش ہوئے ، خونی رشتوں کی عرب میں بہت اہمیت تھی مگر ابو لہب تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف میں دیکھ کر خوش ہوا کرتا تھا ، جب یہ تکلیف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آئی تو اسکی تو جیسے عید ہوگئی۔ صبح ہوئ تو وہ گھر گھر یہ خبر پہنچانے لگا (ابتر محمد اللیلتہ) آج رات محمد کی جڑ کٹ گئی اوروہ لا ولد ہوگئے (نعوذ باللہ )
اس کے بعدمکہ کے ایک سردار عاص بن وائل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ابتر کا لفظ خاص کر دیا جب بھی کوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرتا تو وہ فورا" منہ بنا کر کہتا کہ ان کی کیا بات کرتے ہو وہ تو ابتر (جڑ کٹے ) آدمی ہیں (نعوذ باللہ ) اس نے اس ابتر والی بات کو خوب پھیلایا یہ بات دو دھاری تلوار کی طرح تھی اس سے انکا مقصد یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے صاحبزادوں کے انتقال کا غم ستاتا رہے اور دوسرا یہ کہ لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھا دی جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی قوم سے کٹ کر اس درخت کی مانند ہوگئے ہیں جس کی جڑیں کٹ گئی ہوں اور وہ گرنے ہی والا ہو ( استغفراللہ )
عاص بن وائل طنزا" کہتا یہ بے نسل رہ گئے انکا کوئی نام لیوا نہیں انکا نام مٹ جائے گا ، مسلمان جدھر سے گزرتے تو کفار ابتر ابتر کہہ کر انکا مذاق اڑاتے، جس سے مسلمانوں کو بہت تکلیف ہوتی ،
اللہ تعالی نے لفظ ابتر کے مقابلے میں سورۃ کوثر کو نازل فرمایا ،
اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم نے تمہیں کوثر عطا کیا پس تم اپنے رب کی نماز پڑھو اور قربانی کرو ، بے شک تہمارا دشمن ہی جڑ کٹا ہے
جب یہ سورۃ نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مخالفین کے سامنے پڑھی تو وہ اس کے ادبی حسن سے مبہوت رہ گئے لیکن انہیں لفظ کوثر کے بارے میں کچھ معلوم نہ تھا ، چنانچہ وہ لفظ ابتر کو بھول گئے اور لفظ کوثر کے پیچھے پڑ گئے کہ اسکا کیا مطلب ہے ،
لوگ ایک دوسرے کو پوچھنے لگے کہ یہ کوثر کیا ہے، لوگ ماہرین کلام کے آگے پیچھے پھرنے لگے ہر بازار ، ہر گلی ، ہر کوچہ ، ہر محفل میں بس ایک ہی لفظ کی تکرار رہ گئی ، لفظ ابتر کے مقابلے میں لفظ کوثر کا صوتی حسن بہت زیادہ ہے حتیٰ کے لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھیوں سے رجوع کیا اور لفظ کوثر کا مطلب پوچھا ، اس طرح لفظ کوثر نے مخالفین کے پروپیگنڈے کے پرخچے اڑا کر رکھ دیے ، وہ مخالفین جو ابتر ابتر کہتے پھرتے تھے ان پر ایک زبردست ضرب لگائی کہ تم مخالف ہی جڑ کٹے ہو ، اللہ نے اپنی نبی کو تو خیر کثیر ، اللہ کا دین اور حوض کوثر عطا کیا ، اولاد کس کی باقی رہی ہے یہ تو سب مٹ جانے والے ہیں ،
اس وقت رواج تھا کہ خانہ کعبہ کے دروازے پر چیلنج کے طور پر کسی شعر یا کلام کو آویزاں کر دیا جاتا کہ اس کے مقابلے میں کوئی شعر یا کلام ہے تو لاؤ ۔ اگر کوئی لے آتا تو پہلے والا اتار کر دوسرا آویزاں کر دیا جاتا ،
مسلمانوں نے بھی سورۃ کوثر کے اعجاز و اثر کو دیکھ کر خانہ کعبہ کے دروازے پر آویزاں کر دیا ، اس چیلنج کا جواب دینے کے لیے بہت جوش وخروش پیدا ہوا اور اس کے بدلے کوئی کلام لانے پر خوب زور لگایا گیا مگر بے سود ، آخر عاجز آ کر کہنے لگے کہ یہ انسان کا قول نہیں ہے
دیکھا آپ نے کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن کا کیسے منہ توڑا ، اور انکو ذلیل کیا
انشاء اللہ آج بھی یہ دشمن اور چیلنج کرنے والے منہ کی کھائیں گے اور ذلیل ہونگے ، بے نام ونشان ہو کر رہ جائیں گے اور انکی آنے والی نسلیں انکا انجام دیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگائیں گی
قرآن پاک میں ہے ، اور ہم نے تیرے لیے تیرے ذکر کو بلند کر دیا ، تو آپ ذکر قیامت تک بلند رہے گا انشاء اللہ

خوش خیالیاں

خوش خیالیاں ________!!!
وہ وقت کیسا عجیب ہوگا جب لوگوں کو معلوم ہوگا کہ عمل کے نام پر جو کچھ وہ دنیا میں کرتے رہے وہ بے عملی کی بد ترین شکل تھی،
انکا اصلی کمال یہ تھا کہ وہ کمزوروں کا لحاظ کریں، لیکن وہ طاقت وروں کا استقبال کرتے رہے،
انکے لئے زیادہ بہتر یہ تھا کہ معانی کے خاموش سمندر میں غوطہ لگایں، لیکن وہ شور و غل کے ہنگامے کھڑے کرنے میں مصروف رہے،
انکی ترقی کا راز یہ تھا کہ وہ خود اپنا احتساب کرنے والے بنیں، مگر وہ دوسروں کا احتساب کرنے میں مصروف رہے،
آجکی دنیا میں لوگ دوسروں کے ظلم کا اعلان کرنے کے بہادر بنے ہوۓ ہیں،
اسوقت لوگوں کا کیا حال ہوگا حب انکو معلوم ہوگا کہ اصل بہادری یہ تھی کہ وہ خود اپنے ظلم کو جاننے کے بہادر بنیں،
لوگ الفاظ بول کر خود کو بر الزمہ سمجھ رہے ہیں، اسوقت لوگوں کا کیا حال ہوگا جب معلوم ہوگا کہ یہ صرف حقایق تھے جو کسی کو بری الزمہ کر سکتے تھے،
لوگ دوسروں کی غلطیوں کی فہرست مرتب کر رہے ہیں، اسوقت لوگوں کا کیا حال ہوگا جب فرشتے خود انکی غلطیوں کی فہرست انکے سامنے پیش کرینگے،
لوگ زندگی کو اصل مسئلہ سمجھ رہے ہیں، اسوقت کیا ہوگا جب معلوم ہوگا کہ انکا اصل مسئلہ موت تھی نہ کہ دنیا کی چند روزہ زندگی،
لوگ استقبال کرنے والوں کی بھیڑ پا کر اپنے کو خوش قسمت سمجھ رہے ہیں، اسوقت لوگوں کا کیا حال ہوگا جب انکو معلوم ہوگا کہ خوش قسمت صرف وہ تھا جسکے استقبال کیلئے الله اور اسکے فرشتے اسکا انتظار کر رہے تھے،
ہر آدمی نے اپنی خوش خیالیوں کی ایک دنیا بنا رکھی ہے، اور اپنے آپکو اسکے اندر پا کر مطمین ہے، مگر قیامت ایسے تمام گھروندوں کو توڑ دیگی!،
سمجھدار وہ ہے جو اس دن کے آنے سے پہلے اس دن کی تیاری کرلے!

یہ بھی نہ تھی محبت!!!

تو پھر جب دل میں کچھ کچھ ہونے لگا اور بے بڑھنے لگی اس دوسری محبت کو دیکھ کر تو مجھے لگا کہ شائد یہی ہے محبت کہ نیند بھی کم آنے لگی تھی اور بھوک تو جیسے مانو کہ ختم ہی ہوگئی تھی بس ہم آفس سے آنے کے بعد دوست کی کتابوں کی دکان تھی اسکے تھڑے پر ہی ڈلے رہتے تھے اور ہماری یہ جدید محبت بھی ہر وقت چھت پر ٹنگی رہتی تھی زمانہ اتنا جدید نہیں تھا کہ موبائل فون وغیرہ ہوتے یہ بات ہے سن 1998 کی، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ والی محبت واقعی بہت حسین تھی اور ماشاءاللہ سے خوش اخلاق بھی بہت تھی ۔

خیر جیسے تیسے بہت ہی تگ و دوڑ کے بعد گھر کا فون نمبر لینے میں کامیابی ہوئی شروع میں دو تین مرتبہ فون ملانے پر انکے ابا حضور کی کریلے میں ڈوبی آواز سن کر دل نے کہا ہمت نہیں ہارنی ہے اور اسی وقت دل نے راہ بھی دکھا دی کہ جیسے ہی انکے ابا جمعہ کی نماز پڑھنے نکلے ویسے ہی ہم نے کال ملا دی وہ جو کہتے ہیں نہ دل سے دل کو راہ ہوتی ٹھیک ہی کہتے ہیں فون پر جب پہلی مرتبہ آواز سنی تو لگا کہ کسی نے کانوں میں شہد گھول دیا وہ تو جب اس محبت کی حقیقت کھلی تو سمجھ میں یہ آیا کہ شہد وغیرہ کچھ نہیں ہوتا سوائے دماغی خلل کے۔۔۔۔۔۔

خیر دو چار ملاقاتوں کے بعد اپنی طرف سے تمام سابقہ تجربوں کی روشنی میں چھان بین کرنے کے بعد پھر اپنے پیر و مرشد ابا حضور کی خدمت میں حاضری دی اور کچھ افلاطونیاں جھاڑنے کے بعد اصل مدعا انکے گوش گذار کیا تو ابا نے پھر وہی کہا جو پہلے کہا تھا کہ اگر سچی محبت ہے تو ہماری مرضی کیا حیثیت رکھتی، ہم نے بھی جان لگادی اور انکے ساتھ ساتھ اماں بہنوں کو بھی راضی کر ہی لیا کہ بس اب اگر شادی ہوگی تو یہیں ہوگی خیر ابا نے کہا رمضان ہیں عید کے بعد جائینگے عندیہ لے کر اس دوران مزید اچھی طرح سے چیک کر لو۔۔۔۔۔۔۔


اس دروان ہمارے ٹیلی فونک خطابات زور و شور سے جاری تھے ک ایک مرتبہ فون کا بل دیکھ کے ابا نے کہا کہ برائے مہربانی یہ خطابات کو دوررانیہ کم کرو کیوں کہ ان دنوں کوئی آٹھ، دس گھنٹے فون پر بات کر لینا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔۔۔۔۔۔

اس دوران الحمداللہ عمر کوئی بائیس سال کی ہوگی کہ جب محبت میں کچھ نظر نہیں آتا سوائے دو تین چیزوں کہ اور جبکہ ماحول بھی کافی رنگین ہو تو ہم کوئی زمانے سے الگ نہیں تھے اور نہ ہی ہم کوئی شییخ سعدی تھے بلکہ ایک انتہائی محترم بزرگ سے یہ سن چکے تھے کہ اگر مخالف جنس کو دیکھ کر آپکو کچھ محسوس نہیں ہوتا تو سمجھو آپکی مردانگی پر نشان ہے اور اس عمر میں اکثریت مردانگی صرف اسکو ہی سمجھا جاتا ہے کہ کس نے کتنی مرتبہ اور کتنی دیر تک اپنی "مردانگی" ثابت کری ہے تو اسی ذیل میں ہمارے ذہن میں بھی یہی کچھ چل رہا تھااسکی وجہ شائد ہمارے آفس کا ماحول بھی ہوں جہاں گوریاں بعض مرتبہ تو ایسے لباس میں آجاتی تھی کہ دل کرتا تھا کہ یہیں ساری مردانگی جھاڑ دی جائے، خیر اللہ نے کرم کیا اور ایک مرتبہ پھر بہت ہی سوچا دل کو ٹٹولا تو اس میں سے ہر مرتبہ یہی آواز آئی کہ یار سب چھوڑ بس کوئی ایسی تگمڑ لڑا کہ مردانگی ثابت کر کے اسکو دوستوں یاروں کو بتایا جائے۔

بس پھر میں نے خود ہی ابا کو منع کردیا کہ یہاں بھی جانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ محبت ہے نہیں ایسی محبت تو ڈائمنڈ مارکیٹ اور نپئیر روڈ پر جا کے روزآنہ کی بنیاد پر کی جاسکتی ہے، اوہ تیری خیر یہ بات سن کر ابا نے ایسے دیکھا کہ جیسے کہہ رہے ہوں کہ بیٹا میں ابا ہوں تیرا :)

اور بلکل سچ بتاؤں محبت پاکیزہ ہوتی بہت ہی معصوم ہوتی کہ جس میں جسمانی تعلق کے کوئی معنیٰ نہیں ہوتے ہاں چونکہ ایک فطری عمل سےجس سے کسی کو انکار بھی نہیں۔۔۔۔۔

خیر یہ اسکے بعد جب مجھے واقعی محبت ہوئی جو کہ میرے اعتبار سے اور جو محبت کا میرا معیار ہے اننی وا ہوئی ہے جس کے بارے جلد ہی لکھونگا

وہ محبت تھی ہی نہیں!!!


وہ محبت تھی ہی نہیں اگر محبت ہوتی تو اتنی آسانی سے اس سے دستبردار نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔
میرے حساب سے تو مجنوں سے ایک لیول کے اپر تھا میں محبت میں گھر پہنچتے ہی ابا سے ملاقات ہوئی اور میں نے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ ابا حضور مجھے محبت ہوگئی ہے تو ابا نے پہلے تو کچھ دیر مجھے دیکھا اور پھر کہا کہ میرے نکمے لعل تو یہ اسکو بتا جس سے محبت ہوئی ہے مجھے بتانے سے کیا فائدہ میں نے کہا کہ اصل میں وہ جس سے محبت ہوئی ہے وہ جس گھرانے کا ستارہ اور کرن ہے وہاں شائد آپ کی رضا نہ ہو تو اب کہنے لگے کہ اگرچہ محبت واقعی ہے تو پھر ہماری مرضی ہو یا نہ ہو کوئی فرق نہیں پڑے گا بشرطیکہ محبت ہو،۔۔اس مکالمے کے بعد میں نے ابا کو ساری تفصیل بتادی کہ کس سے ہوئی اور کتنی ہوئی اور یہ بھی کہ دونوں جانب برابر کی آگ لگی ہوئی ہے اس پر ابا اتنی آسانی سے راضی ہوجائینگے یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں تھا۔۔۔۔خیر ابا صرف اور صرف ہماری محبت کی شدت دیکھ کر اپنے پرانے خاندانی جھگڑوں کی بھلا کر پہنچ گئے رشتہ لے کر وہاں پہنچ کر پہلا سامنا ہی ہماری محبت سے ہو گیا اور ابا چونکہ بہت ہی دوراندیش تھے اسی دور اندیشی کو سامنے رکھتے ہوئے انہوں نے صرف اتنا کہا کہ آج تو میں یہ جو سلسلہ چل رہا ہے اسکو فائنل کر کے ہی جاؤنگا یہ سنتے ہی ہماری محبت نے جو جواب دیا اسکو سننے کے بعد میں تو چکرا ہی گیا اور ابا نے جو مجھے دیکھا تو میں سمجھ گیا کہ جیسے کہہ رہے رہوں یہ ہے تمھاری محبت جو ایک سوال کے سامنے نہیں رک سکی وہ ساری زندگی تمام تر مشکلات اور پریشانیوں میں کیا ساتھ دے گی تمھارا۔۔۔۔۔اور اسکے بعد ہماری محبت تو شائد ختم نہیں ہوئی تھی مگر جس سے محبت تھی اسکی محبت شائد ٹھنڈی پڑگئی تھی مگر میں بھلا اپنے دل کا کیا کرتا جو کہ کسی طور سنبھل ہی نہیں رہا تھا اسکا حل ایسا نکالا میں نے کہ دل و جاں صرف اور صرف پڑھائی پر لگادی مشکل توبہت ہوئی خیر اب اتنی بھی مشکل نہیں مگر محبت کا بھوت اتر گیا یا یوں کہہ لو کہ خاموش ہوگیا اسی دوران چار سال گذر گئے اور ہماری پہلی محبت بھی شائد اپنی پہلی محبت کے ساتھ اپنے پیا گھر سدھار گئیں جس کا کہیں دل کے کسی گوشے میں افسوس تو بہت ہوا تھا مگر کہتے ہیں نہ وقت بڑا مرہم ہے تو اس مرہم نے بھی یہی کام کیا اور بس کچھ بھول بھال کے نوکری میں لگ گیا اسے کے بعد پھر اچانک ہی کچھ کچھ ہونے لگاباقی اب پتہ چلا کہ محبت جب ہوتی ہے تو وہ کم نہیں ہوتی وہ بڑھتی ہی جاتی ہے مطلب اس رفتار سے بڑھتی ہے کہ جسکا مجھے اب پتہ چلا اور کبھی کبھی تو لگتا سوچتا ہوں کہ ضروری نہیں کہ پہلی محبت ہی پہلی ہو اکثر دوسری تیسری محبت بھی پہلی ہی ہو سکتی کیونکہ جو ہو کہ بھول جائے یا بھلا دی جائے وہ محبت ہوتی ہی نہیں ہے اور جس محبت میں صرف ترقی ہی ترقی ہو اور جس میں کوئی مفاد اور توقع نہ ہو اصل محبت وہی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔آخر میں ابا مرحوم کا بہت بہت شکریہ کہ جنکی رہمنائی اور جنکی نصحتیں آج تک ہمارے بدرجہ اتم کام آرہی ہیں :)

باقی ریفیرینس کے لئے دو جنوری والی پوسٹ تو سب نے پڑھی ہی ہوگی

چلو صلح کر لیتے ہیں......


چلو ایسا کرتے ہیں صلح کر لیتے ہیں .....
غلطیاں ہوجاتی ہیں کوئی بڑی بات نہیں اصل انسان وہ ہوتا جو غلطیوں سے سیکھ جائے اور آئندہ ایسی غلطیوں سے کریز کرے...
ہاں میں نے بھی بہت غلطیاں کی ہیں اور ان سے سیکھا بھی بہت کوشش کر کے کہ آئندہ کوئی ایسی غلطی نا ہو جس سے دل آزاری ہر کسی کی ...
اب بہت ہوا اور مجھے یہ منانے میں کوئی عار نہیں .....
کہ میں نے اس طرح قدر نہیں کی جیسی کرنی چاہیے جس کا خمیازہ تو بھگتنا پڑے گا .....
اب بہت ہوا .....
یہ احساس ہوا ہے کہ میری زندگی بلکل نامکمل ہے تم سب کے بغیر بظاہر تو ہنسنا ہنسانا لگا رہتا ہے ..مگر سمجھ مگر اندر لگتا جیسے کوئی بہت بڑا خلاء ہے . کچھ سمجھ نہیں آرہا مجھے .. ویسے ہی یہ لکھا بھی کسی کو سمجھ نہیں آئے گا

بڑا آدمی



میں جب بچہ تھا تو یہ گمان کرتا کہ بڑا آدمی وہ ھے جس کا قد لمبا ھو۔ چنانچہ میں پنجوں کے بل کھڑا ھونے کی کوشش کرتا تو کبھی کسی اونچی جگہ پر کھڑا ھو جاتا تاکہ خود کو بڑا ثابت کر سکوں۔ جب کچھ شعور میں ارتقاء ھوا تو علم ھوا کہ بڑا آدمی وہ نہیں جس کا قد لمبا ھو بلکہ بڑا وہ ھے جس کی عمر زیادہ ھو۔ چنانچہ میں جلد از جلد عمر میں اضافے کی تمنا کرنے لگا تاکہ بڑا بن سکوں۔

جب زندگی نوجوانی کی عمر میں داخل ھوئی تو پتا چلا کہ بڑے آدمی کا تعلق عمر سے نہیں دولت سے ھوتا ھے۔ جس کے پاس اچھا بینک بیلنس، لیٹسٹ ماڈل کی کاریں ، عالیشان مکان اور آگے پیچھے پھرتے نوکر چاکر ھوں تو اصل بڑا آدمی تو وھی ھوتا ھے۔

جب میں نے یہ دولت اور آسائشیں حاصل کر لیں تو محسوس ھوا کہ میں ابھی تک بڑا آدمی نہیں بن پایا۔ اندر کےچھوٹے پن کی ایک خلش سی محسوس ھونے لگی۔ یہ خلش اتنی بڑھی کہ راتوں کو اچانک آنکھ کھل جاتی اور یہ سوال ھتھوڑے کی طرح دماغ پر اثر انداز ھوتا۔ چنانچہ میں دوبارہ اس سوال کا جواب تلاش کرنے نکل کھڑا ھوا کہ بڑا آدمی ”کون ھے؟

میں صوفیوں کے پاس گیا تو انہوں نے بتایا کہ بڑا آدمی وہ ھے جو خود کو نفس کی خواھشات سے پاک کرلے، جوگیوں نے کہا کہ دنیا چھوڑ دو ، یہ دنیا تمہارے پیچھے چلنے لگے گی اور یوں تم بڑے آدمی بن جاؤ گے۔ دنیا داروں نے مادی سازو سامان میں اضافے کا مشورہ دیا۔ فلسفیوں نے علم میں اضافے کے ذریعے لوگوں پر دھاک بٹھانے کے لئے کہا۔ لیکن ان میں سے کسی جواب سے تشفی نہ ھوئی کیونکہ ھر جواب انسانوں کا بنایا ھوا تھا۔

پھر خیال ھوا کہ یہ بات کیوں نہ اسی سے پوچھ لی جائے جو سب سے بڑا ھے۔ چنانچہ خدا سے لو لگائی اور اس کی کتاب اٹھالی۔ قرآن کو دیکھا تو علم ھوا کہ خدا کے نزدیک “بڑا آدمی” وہ ھے جو خدا کا تقوٰی اختیار کر لے، خود کو اپنے خالق کے سامنے ڈال دے، اپنی ھر خواھش کو اس کے حکم کے تابع کرلے، اپنا جینا ، مرنا خدا سے وابستہ کرے، اپنی جسم کی ھر جنبش پر رب کا حکم جاری کر دے، اپنے کلام کے ھر لفظ کو اسکے رعب کے تابع کر لے، اپنے دل کی ھر دھڑکن اسکے یاد کے معمور کر لے۔ سب سے بڑھ کر بڑا آدمی وہ ھے۔ جو دنیا میں خدا کے مقابل چھوٹا بننے پر آمادہ ھو جائے ۔ اگر یہ سب ھو جائے تو خدا اس شخص کو اتنا بڑا کر دیتا ھے کہ وہ پہاڑوں کی بلندیوں سے بلند ھو جاتا ھے۔ کیا آپ بھی ایسا بڑا آدمی بننا چاھتے ھیں ؟؟؟

میں, وہ اور لمبی سڑک

یہ ایک ایسی کہانی ہے جس کا ہر کردار آپکو اپنے اطراف میں با آسانی مل جائے گا ..... اور جنکو سمجھ نا آئے تو انکو سمجھنے کی ضرورت بھی نہیں کہ یہ انکے لئے ہے بھی نہیں .....

تو اصل میں یہاں بات ہوگی 4 افراد کی,

میں
وہ
چیلا نمبر ایک
چیلا نمبر دو

ویسے تو چیلے ہزاروں میں مگر ہم صرف سمجھنے کے لئے دو چیلوں کا ہی سہارا لیں گے

سین نمبر ایک :
میں : یار کیا بہترین اور عمدہ سڑک ہے دونوں اطراف میں درخت لگے ہوئے ہیں دن میں سورج کی درختوں سے چھنتی ہوئی روشنی جب تارکول کی سیاہ سڑک پر پڑتی ہے تو بہت ہی بھلا معلوم ہوتا ہے ... مگر آج تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ یہ سڑک جاتی کہا تک ہے......

وہ : او چھوڑ اوے تو اسکو ایڈا تو فلسفی کبھی جایئو بھی نا اس سڑک کے آخر تک بہت ہی خطرناک ہے میں گیا ہوں کئی مرتبہ اسکے آخری سرے تک ... اور تو کرے گا کیا جا کر وہاں تو رہنے ہی دے تیرے بس کا روگ نہیں ہے تو یہیں لگا رہ .....
(یہ لیکچر "جھاڑنے" کے بعد 'وہ' خود موٹر سائیکل سٹارٹ کرتا ہے اور کہتا اچھا جانی میں جارا زرا سڑک کے آخری حصے کی طرف تو نا آئیو میرے پیچھے.... اوے اسکو سمجھا)

چیلا نمبر ایک : یار تو سمجھتا نہیں ہے اسکی بات کو یہ تیرے ہی بھلے کی بات کر رہا ہے اور اس میں تیرا ہی فائدہ ہمارا کوئی فائدہ نہیں ....

میں : یار عجیب ہی بات ہے خود وہاں جا رہا اور ہم کو منع کر رہا ....

چیلا نمبر دو : یار یہ سڑک ہے تو بہت زبردست اور اس پر وہیلنگ کرنے کا بھی اپنا ہی مزہ اور گاڑی کا کانٹا 220 نا مارے تو سمجھو کوئی فیدہ نہیں .......

میں : (چیلا نمبر دو کو) اوے بس کر تو ایڈا تو آیا سلطان گولڈن کا پتر ... خبردار جو کبھی گیا اس سڑک پر تیرے کو پتہ نہیں کتنی خطرناک سڑک ہے یہ کتنے پر خطر موڑ ہیں اس پر کچھ اپنا نہیں تو اپنے اماں ابا کا ہی دھیان رکھ ( اسکے بعد "میں" نے گاڑی کا سلف مارا اور نکل گیا اسی سڑک کی لمبائی ناپنے)

چیلا نمبر دو : (چیلا نمبر ایک, سے) یار بڑا ہی کوئی چول ب ---- د بندہ ہے یار خود چلا گیا اور ہم کو ایسے منع کر گیا جیسے ہم اس سڑک پر گئے تو ایک زلزلہ آئے گا اور ساری سڑک تہس نہس ہو جائے گی ..... ایوں خود کو پتہ نہیں کیا سمجھ رکھا ہے .....

چیلا نمبر ایک : ہاں یار بڑا ہی عجیب انسان ہے یہ "میں" خود چلا گیا اور تجھے ایسے منع کر رہا تھا جیسے خود آرمی کا چیف لگا ہو مجھے ایسے بندے پڑے ہی چیپ لگتے ہیں یار ب ----- د

چیلا نمبر دو : یار ایک بات بتا میرے دوست چیلے نمبر ایک, جب 'وہ' گیا تھا تو, تونے 'میں' کو کہا تھا کہ تیرے ہی فائدے کی بات کر رہا ہے تیرا خیرخواہ ہے تیرا نقصان نہیں دیکھ سکتا, اب 'میں' مجھے وہی کہہ کر گیا جو 'وہ' کہہ کر گیا تھا تو, تو 'میں' کو گالیاں دے رہا ہے یہ کیا چکر ہے یار .......

چیلا نمبر ایک : یار بات بہت ہی آسان ہے 'میں' جو ہے, 'میں' ہے اور 'وہ' جو ہے استاد ہے


ختم شد ب ------------------ د

معاشرہ کیسے بنتا ہے؟

..معاشرہ کیسے بنتا ہے؟
دُشنام سے نہیں شیرینی بیان سے۔ سوئے ظن سے نہیں حسنِ ظن سے۔ تصادم سے نہیں مکالمے سے۔
تنوع میں خیر ہے اور حکمت بھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری الہام میں بتادیا ہے کہ وہ تمام عالم انسانیت کو ایک اُمت بناسکتا تھا (لیکن اس نے ایسانہیں کیا)۔ اس نے تو یہ دیکھنا ہے کہ کون ہے جو سیدھے راستے کا انتخاب کرتا ہے۔ گویا انتخاب کا حق خود مشیتِ الٰہی ہے۔ اس سے تنوع وجود میں آتا ہے اور اسی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ہم انسانوں کی ایک بستی میں رہتے ہیں۔ زبان،نسل، رنگ، مذہب، مسلک، ہمارے درمیان ان گنت اختلافات ہیں۔ یہ سب نہ بھی ہوں تو ذوق کااختلاف بہرحال ہے جو کسی دلیل کا پابند نہیں۔ مجھے ایک گلوکار پسند ہے۔ ممکن ہے آپ کے دل کو نہ بھاتا ہو۔ مجھے ایک مقرر اور خطیب اچھا لگتا ہے۔ ممکن ہے آپ کی سماعت اسے سننے سے اباءکرتی ہو۔ مجھے ایک رنگ اچھا لگتا ہے۔ ممکن ہے آپ کے ذوق پرگراں گزرتا ہو۔ اس دائرے کو وسیع کرتے چلے جائیے، آپ اس نتیجے تک پہنچیں گے کہ تنوع کا اعتراف کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ جو اس راز کو پاگیا، اس نے زندگی کو آسان کردیا۔ ورنہ دشنام ہے، سوئے ظن ہے اور تصادم۔
کیا اچھا درس ہے جو اللہ کے آخری رسول نے دیا۔ کہارمضان میں کوئی تصادم پر اتر آئے تو تم کہو: میں روزے سے ہوں۔ رمضان تو محض بہانہ ہے ورنہ اللہ جو تقویٰ اپنے بندوں میں پیدا کرنا چاہتے ہیں، وہ کچھ دن کے لیے نہیں، عمر بھر کے لیے ہے۔ مقصود یہ ہے کہ جب بھی تصادم کی صورت پیدا ہو، تم اس درس کو یاد کرو جو تمہیں رمضان میں دیا گیا۔گویا اس تربیت کو حرزِ جاں بنالو جو تمہیں اس مہینے میں دی جاتی ہے۔ یہ صبر وتحمل جو تمہیں ان دنوں میں سکھایا جاتا ہے، اس لیے تو نہیں کہ شوال کا چاند نکلے اور تم اس سے دست بردار ہوجاﺅ۔ یہ صحیح ہے کہ انسان ہمیشہ ایک کیفیت میں نہیں رہتا۔ جس طرح کسی اچھی صحبت سے زیادہ دن دوری رہے تو خیر کے اثرات مدہم ہونے لگتے ہیں، اسی طرح رمضان سے جیسے جیسے دوری ہوتی جاتی ہے، زندگی پر سماج کا رنگ غالب آنے لگتا ہے۔ جو بدقسمتی سے بہت دیدہ زیب نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے سال میں ایک مہینہ مختص کیا ہے کہ ایک دفعہ پھر صبغتہ اللہ کو نمایاں کیا جائے۔ اگر بھول جانے کا عمل رمضان ہی سے شروع ہوجائے تو سوچنا چاہیے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا روزہ دار ایسے ہوتے ہیں؟
مذہب، فلسفہ، نظریات، افکار۔۔۔سب کیا ہیں۔۔۔انسان کو اچھا بنانے کے طریقے۔ ان سب کا موضوع انسان ہے۔ اصل اہمیت آدابِ زندگی کی ہے۔ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ میرا وجود اس زمین پر بوجھ ہے یا انسانوں کے لیے باعث خیر۔ اس کے آداب ہم نے سیکھنے ہیں۔ جنگ، آفت، قحط، یہ زندگی کی فکری حالتیں نہیں ہیں۔ ان کا تعلق ہنگامی حالات سے ہوتا ہے۔ اگر زندگی گزارنی ہے تو ان کیفیات کے لیے بھی آداب سیکھنے چاہیں۔یہی وجہ ہے کہ اسلام اور دیگر افکار میں جنگ کا فلسفہ ہے اور آداب بھی۔ تاہم یہ زندگی کی فطری حالت نہیں ہوتی۔فطری حالات وہی سماجی زندگی ہے، جس میں میرا رویہ میرے گھر اور ماحول پر اثرانداز ہوتا ہے اور اس سے سماج تشکیل پاتا ہے۔
پاکستان کی اصل قوت وہی ہے جو سماج کی طاقت ہے۔یہ ہم ہیں، یہاں کے شہری، جنہوں نے یہ طے کرنا ہے کہ انہوں نے زندگی کو جنت کا نمونہ بنانا ہے یا جہنم کا۔ خارجہ عوامل یقینا اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہماری معاشرت کی بربادی انہی’خوارج“کی دین ہے۔ تاہم اگر سماج زندہ ہو اور مثبت اقدار پر کھڑا ہو تو پھر خارجی قوتیں بھی کامیاب نہیں ہوسکتیں۔
یوں بھی خارجی قوتیں ہمارے قابو میں نہیں۔ پھر یہ معاملات ریاست سے متعلق ہیں اور ہمارے حکمران طبقے کا اندازِ فکر عوام سے مختلف ہے۔ ہمیں اگر بھروسہ کرنا ہے تو اپنی سماجی قوت پر۔ ہمیں ایک دوسرے کے دست وپا بننا ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہوگا جب تنوع ہمارے لیے باعث آزاد نہ بنے۔یہ ہماری قوت کا سبب بن جائے۔ رنگ ونسل،مذہب ومسلک اور فکر ورائے کے اختلاف کو ہم سماج کے عمومی اور ناگزیر رنگ سمجھیں۔ سرخ گلاب اس لیے نہیں ہوتا کہ سفید موتیے کا رنگ مدہم پڑ جائے۔ گل داﺅ دی کے کئی رنگ ہیں۔ ان میں سب سے چمن کی رونق ہے اور دوسرے کا وجود بھی پہلے کے امتیاز کی دلیل ہے۔
ہمیں فطرت سے سیکھنا چاہیے۔ فطرت کا ایک درس وہ ہے جو اس کائنات کے نظم میں ہے یا بہارِ چمن میں۔ ایک درس جنگل میں بھی ہے جہاں خوف ہے، عدم اطمینان ہے، چیرپھاڑ ہے اور طاقت کی حکمرانی ہے۔ جنگل کے جانور مکالمہ نہیں کرتے، ان کا قانون یہی ہے کہ دوسرے کو برداشت نہ کیا جائے۔ ہمیں اب انتخاب کرنا ہے کہ چمن کے پھولوں سے سیکھنا ہے یا جنگل کے درندوں سے۔
پاکستان کو اگر زندہ ہونا ہے تو اپنی سماجی طاقت سے۔ یہ طاقت بڑھے گی اگر ہم تنوع کی افادیت اور حسن کو جان لیں۔ ہم دوسروں کو جینے کا حق دیں اور اختلاف کا۔ اب دُشنام کے بجائے مکالمے کا کلچر عام کریں۔ گفتگو ہو، ایک ساتھ مل بیٹھیں، ایک دوسرے کو دیانت داری سے سمجھیں۔ دوسروں کو شک کا فائدہ دیں اور حسنِ ظن کو غالب رکھیں الا یہ کہ حقائق ہمیں کسی دوسری رائے تک پہنچا دیں۔
مجھے اس پر تشویش ہے کہ ہم طبقات میں سمٹ رہے ہیں۔ اختلاف رائے کو ہم نے دیوار بنا دیا ہے۔ یوں سماج کے اندر دیواریں ہیں۔ جتنے انسان اتنی دیواریں۔ مسلمان تہذیب کا معاملہ تو بہت مختلف ہے۔ مغربی تہذیب نے خود غرضی کے کلچر کو فروغ دیا۔ مسلم تہذیب تو انفاق اور دعوت کے اصول پر کھڑی ہے۔ یہ وسائل کو سمیٹنے کا نہیں، پھیلانے کا پیغام ہے۔ یہ خیر کو خود تک محدود رکھنے کا نہیں، تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کا کلچر ہے۔ یہ اپنے پیٹ ہی کی نہیں پڑوسی کی بھوک کو جاننے کا نام ہے۔ یہ اپنی آخرت ہی کا احساس نہیں، دوسروں کو بھی نارِ جہنم سے بچانے کی کوشش ہے۔ ایسے دین کو ماننے والے اور ایسی تہذیب کے علمبردار دشنام، سوئے ظن اور تصادم پر اتر آئیں تویہ معمولی المیہ نہیں۔ ہمیں سوچنا ہے کہ اگر ہم نے اس سماج کو جنت نہ بنایا تو اُس جنت کے لیے اپنا استحقاق ثابت نہ کرسکیں گے۔ دُشنام، سوئے ظن اور تصادم، گھرہویا سماج اسے جہنم بنادیتے ہیں۔ جنت بنانے کا لائحہ عمل بالکل دوسرا ہے۔ شیرینی بیان، حسن ظن اور مکالمہ۔صحن کو کھلا کیجیے، دیواریں نہ بنائیے!

دو گروہ

یہ دو گروہ اس دنیا میں شائد ازل سے ہیں اور قیامت آنے سے کچھ پہلے تک دو ہی رہیں گے اور قیامت آئے گی ہی اس وقت جب ان میں سے ایک گروہ جو اللہ کو ماننے والا ہے بلکل ختم ہو کر صفحہ ہستی سے ہی مٹ جائے گا .....

یہ اللہ کا بہت ہی کرم اور احسان ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی انسان کو ماننے والوں میں کردے اور اس کے بعد یہ اس ماننے والے کا کام ہوتا ہے کہ وہ کس طرح اللہ کہ اس انعام اور اکرام کی قدر کرتا ہے کہ اسکی اس دی ہوئی نعمت میں اللہ کی طرف سے اضافہ ہوتا رہے کہ وہ ہمیشہ دسروں کے لئے بھی اس بات کا ذریعہ بنا جائے کہ لوگ اسے عمل سے متاثر ہو کر اللہ کی جانب راغب ہوں اور ان کے دلوں میں بھی اس بات کی خواہش بیدار ہو جائے کہ انکا تعلق بھی اللہ سے جوڑ جائے ....

اگر اللہ چاہے تو اس پوری کائنات تو اپنا مطیع بنا لے اور اسکو بنانے میں اتنا وقت بھی نا لگے جتنا پلک جھپکنے میں لگتا ہے ... مگر اللہ نے انسان کے اپر کوئی زور زبردستی نہیں رکھی ہے اللہ چاہتا ہے کہ انسان اپنی مرضی اور اپنی خوشی سے اپنے خالق سے تعلق جوڑے .. اور اگر اللہ نے زبردستی کرنی ہی ہوتی تو انبیاء علیہ کا کوئی سلسلہ نہیں ہوتا .... اور انبیاء کرام کا سلسلہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ چاہتا ہے کہ ہر انسان کامیاب ہوجائے اور کوئی انسان جب اللہ کے پاس لوٹے تو کامیاب پہنچے ..... اور انیباء کرام کی محنت سے لوگ کا تعلق اللہ سے بنتا تھا اور وہ لوگ اللہ کے بندے اور اللہ کے ماننے والے جاننے جاتے ہیں ... اور جو نہیں مانتے وہ خالق کے نافرمان
اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں شائد...

ماننے والوں کی ذمہ داری نا ماننے والوں سے زیادہ ہوتی ہے کہ جو لوگ جنہوں نے دین کو مذاق سمجھا ہوا وہ اس بات کی تاک میں رہتے ہیں کہ جیسے ہی آپ نے کوئی غلط بات کی اور غلط کام کیا وہ فورا اس بات کو جواز بنا کر دین سے متعلق غلط باتوں کو پھیلا سکیں اور دوسرے لوگوں کو دین کے خلاف اکسا سکیں ... اور نا ماننے والوں کا یہی وطیرہ رہا ہے ازل سے ..... لیکن ان کو ابھی اس بات کا ادراک ہی نہیں ہے کہ دین بھی مخلوق ہے اور اس میں دیئے گئے احکامات بھی مخلوق ہیں .. اگر کوئی جدانخواستہ دین اور اسکے احکامات کا مذاق بنا رہا تو وہ دراصل میں ..... میری تو اتنی جسارت ہی نہیں کہ میں یہ لکھ سکوں.....

اب اصل بات یہ ہے کہ کوئی بھی ایسا شخص جو دین اور اسے احکامات سے روگردانی کر رہا کہیں اسکی وجہ وہ لوگ تو نہیں جو دین کے ماننے والے ہیں .... یقین جانئے اگر ایسا ہے تو یہ سراسر نقصان کا سودا ہے .....

یہ بھی بلکل صدقہ جاریہ کی طرح سے ہے کہ اگر کوئی ایک شحص ہماری وجہ سے سیدھے راستے پر آگیا تو ہماری نجات کے لئے کافی اور اسی طرح اگر کوئی بھی ایک شخص ہماری کسی بات اور کسی عمل کی وجہ سے دین سے دور ہو گیا تو وہ ایک ہی ہمارے سارے اعمال کو راندہ درگاہ کرنے کے لئے کافی ہو سکتا ہے .... اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے........

اور یہ تو المیہ ہی ہے خاص طور پر آج کے دور کے انسان کا کہ , وہ دوسرے کو دیکھ کر دین پر عمل کرتا ہے اور لوگ صرف جلوت کی زندگی ہی نہیں خلوت میں گذارے جانے والی زندگی کو بھی دیکھ رہے ہوتے ہیں تو ایسے میں اگر ماننے والے اپنی زندگی کے قول اور فعل کے تضاد کو ختم کرنے کی سعی اور کوشش نہیں کرینگے تو معاملات کبھی بھی قابو میں نہیں آئیں گے .... اور حالات زور مزید درگوں ہوتے چلے جائینگے ....

بقول ہمارے ایک بزرگ کے, کہ آج کا مسلمان ہی مسلمان اور اغیار کا دین پر عمل کرنے اور دین میں داخل ہونے کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے .....

اللہ ہم سبکو کو ویسا بنا دے جیسا وہ چاہتا ہے ... اور اسکے لئے اب کوئی فرشتہ نہیں آئے گا یہ سب, ہم سب کو آپس میں مل کر غور و فکر سے حل کرنا ہے ... اللہ سبکو توفیق دے ... آمین

سمت کا تعین .....

یار آج تو میں غالب کے تمام خطوط اور اشعار کو ازبر کر کے آیا ہوں ... ان شاءاللہ آج کا پرچہ تو بہت ہی بہترین ہو گا اور میرے نمبر بھی اچھے ہی آئینگے .... یہ بات آج کا پیپر شروع ہونے سے پہلے اپنے دوستو سے کی .. تو ایک دوست نے پہلے تو حیرت سے دیکھا اور پھر ہنستا ہی چلا گیا .. کافی دیر بعد جب اسکے حواس بحال ہوئے تو اس سے ہسنے کی وجہ پوچھی .... کہنے لگا ابے احمقوں کے سردار آج اردو کا نہیں حساب کر پرچہ ہے... اور تو اردو کی تیاری کر کے آگیا ... ابے صفر بھی نہیں ملے گا تجھکو ... چاہے غالب کیا دنیا کے ہر اردو شاعر کے بارے تو مفصل لکھ دے ........

ایک اور مثال بلکل آسان اور سیدھی سی صرف یاد دہانی کے لئے......
ایک شخص جس کو لاہور جانا ہے اور وہ ایک ایسی گاڑی میں سفر کر رہا ہے جو کوئٹہ جا رہی ہے بہت ہی تیز رفتاری کیساتھ تو چاہے کتنا بھی زور لگا لے لاہور قیامت تک نہیں پہنچے گا جب تک اپنا رخ اس سمت کی جانب نا کرلے جو لاہور کیطرف ہے ......

یہ باتیں اس لئے کی ہیں ... کہ ایک وہ شخص جو دین اسلام پر ہے چاہے اسکا عمل تھوڑا ہی کیوں نا ہو ان شاءاللہ کامیاب ضرور ہوگا اور ایک ایسا شخص جو دین کو سرے سے مانتا ہی نہیں مگر اسکے عمل سے انسانیت کو فائدہ بھی بہت پہنچ رہا ہو .. تو اسکو اسکے اس عمل کا بدلہ اس عارضی دنیا میں تو ضرور مل جائے گا جیسا کہ نظر بھی آرہا ہے مگر.. اگر وہ چاہتا ہے کہ ہمشیہ کے لئے کامیاب ہو تو اسکو اس دین کو جو اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے پہنچایا ہے لازم قبول کرنا پڑے گا ...

اور بحثیت مسلمان ہم کو یہ زیب بھی نہیں دیتا کہ ہم کسی انکار کرنے والے کا موازنہ کسی اللہ کے ماننے والے سے کریں ... کیونکہ یہ کبھی برابر ہو ہی نہیں سکتے....

اور ایسا کرنے کی صرف ایک ہی وجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ آج ہمارے دلوں میں اللہ کہ وہ بڑائی عظمت اور کبیرائی نہیں رہی ہے...

اللہ ہم سب کے قلوب میں اپنی عظمت اور بڑائی راسخ کر کے غیر کا یقین نکال دے

واقعی ہم اب وہ نہیں رہے

ہاں واقعی ہم اب وہ نہیں رہے جو بحثیت مسلمان ہم کو ہونا چاہیےتھا اور رہیں بھی کیسے .. کیونکہ کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں اس ماحول کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے جس میں وہ رہ رہا ہوتا ہے.. اسی لئے اگر تمام انبیاء علیہ صلوۃ سلام کی زندگیوں کا مطالعہ کیا جائے تو کم و بیش تمام انبیاء نے بکریاں چرائیں ہیں اور بکریاں چروانے کا مقصد یہی تھا کہ انکے اندر مسکنت پیدا ہو ... یہ بھی سنا ہے کہ شیر کی صرف کھال کے اپر بیٹھنے سے انسان کے اندر تکبر پیدا ہوتا ہے. یہ بات صرف اس لئے لکھی ہے کہ ہم کو اندازہ ہو سکے کہ انسان کی زندگی میں ماحول کے کیا اثرات ہوتے ہیں...

ویسے تو یہ بات بحیثیت مسلمان ہر شخص جانتا ہے کہ آج جو مسلمانوں کا پوری دنیا میں حال ہے اسکا کوئی اور نہیں خود ہم مسلمان ہی ذمہ دار ہیں. مسلمان اس پری طرح سے پریشان اور مجبور ہے کہ اسکا کوئی پرسان حال نہیں.. کبھی افغانستان میں, کبھی فلسطین میں, کبھی کشمیر میں تو کبھی خود اپنے ہی گھر میں, اور سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا اللہ پاک نعوزبااللہ یہ سب نہیں دیکھ رہا اور اگر دیکھ رہا ہے تو پھر اپنے ماننے والو کی مدد کیوں نہیں کر رہا..

اصل میں اللہ پاک نے اپنی مدد کو ایمان کے ایک مخصوص لیول کیساتھ مشروط کیا ہوا ہے .... اب مسئلہ یہ ہے کہ ہم کہتے ہیں اللہ تو بس ہماری مدد فرما دے باقی ہم کرینگے تو وہی جو ہمارا دل چاہے گا . تو اس طرح اللہ پاک کی مدد تو نہیں البتہ وہی ہوگا جو اس وقت ہو رہا.

اور اس بات میں کوئی شک اور کوئی ابہام نہیں میرا یقین ہے کہ جس دن ہمارا ایمان و عمل اس معیار کو چھو لینگے جو اللہ پاک کو مطلوب ہے ... تو اللہ کی پاک کی مدد آج بھی بلکل اسی طرح سے ہمارے ساتھ ہوگی جس طرح سے اللہ پاک نے ابراہیم علیہ سلام کی آگ میں مدد کی تھی, موسی علیہ سلام کی نیل میں سے گذرنے میں مدد کی تھی اور جس طرح عبدالمطلب کی مدد کی تھی ابابیل بھیج کر اور یہ سب تو اللہ کہ مخلوق ہیں واللہ اس بات میں بھی کوئی تردد نہیں کہ اللہ پاک ہماری آج بھی اسی طرح مدد کرینگے جس طرح سے کفار مکہ کے مقابلے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد و نصرت فرمائی تھی.

مگر اسکے لئے شرط وہی ہے کے پہلے ہم کو اللہ کی ماننی پڑے گی بلکل اسی طرح جس طرح ماننے کا حق.

تو یہ بات تو بہت ہی واضح ہے کہ آج ہم بذات خود مسلمان ان حالات کے ذمہ دار ہیں اس کے لئے کسی اور کو قصور وار ٹھرانا سراسر زیادتی ہے ہم اور ہمارے اعمال خود اللہ کے مدد راستے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں تو اغیار سے کس بات کی شکایت.

بات آسان ہے بس اللہ پاک ہم سبکو یہ بات سمجھا دے ... کہ ہم اللہ کو بلکل اسی طرح ماننے جس طرح اللہ کو ماننے کا حق ہے ... اس یقین کیساتھ کہ اللہ جب ساتھ ہوگا تو چاہے سامنے کوئی بھی ہمارا کچھ بھی نہیں کر سکے گا. اور اللہ پاک نے خود بھی فرمایا ہے جسکا مفہوم ہے کہ .. غالب تم ہی رہو گے اگر تم پورے ایمان والے ہو

اللہ پاک ہم سبکو یہ بات سمجھ کر اس پر عمل کرنے والا بنا دے

آمین

مقاصد اردو بلاگنگ...

اردو بلاگنگ کے جتنے چاچے مامے ہیں ان سے آج ایک سوال ہے کہ اردو بلاگنگ کا مقصد کیا ہے...
کیا اردو بلاگنگ کا مقصد صرف ایک دوسرے کی بینڈ بجانا ہے یا پھر صرف دوسروں کی پیروڈی کرنا ہے..

اگر کسی انسان کو اللہ نے کوئی صلاحییت دی ہے تو اسکو مثبت راستے پر استعمال کریں اور خاص کر اس وقت جب آپ کو خود یہ پتہ ہو کہ ایک جم غفیر ہوتا ہے جو آپکی بلاگ پوسٹ کا شدد سے انتظار کررہا ہوتا ہے.. تو کیوں نہ اس بات کا فائدہ اٹھا کر کچھ ایسا تعمیری اور تربیتی لکھا جائے کہ اس سے پڑھنے والا اثر لے , قاری کی سوچ تبدیل ہو اگر وہ منفی زہن رکھتا ہو تو مثبت ہوجائے, اگر قاری آپکی تحریر صرف پڑھتا ہے اور اس پر اسکا کوئی اثر نہیں تو ایسے لکھنے والوں کو دینا , چول چوہدری, کپی, رولیکس والا بابا اور نا جانے کیا کیا کہتی ہے یہ لوگ ویسے ہی کثیر تعداد میں موجود ہیں اپنے آپ کو اس میں شامل کر کے مزید چولوں کا اضافہ نہ کریں....

تو میری ان تمام اردو بلاگرز خواتین اور حضرات سے جنکے قاری لاتعدد ہیں اپنے ہنر کو خوب سے خوب اور بہتر سے بہتر طریقے سے استعمال کر کے لوگوں کی فلاح کے لئے لکھیں...

اور قارئین اردو بلاگرز سے بھی یہی التماس ہے کہ کسی بھی تحریر کو صرف اس لئے نہیں پڑھیں کہ یہ آپکے کسی عزیز دوست نے لکھی ہے بلکہ اچھی تحریر پڑھنے کا مقصد ہی یہ ہونا چاہیے بلکہ یہ نیت ہونی چاہیے کہ جو بھی اچھی بات پڑھیں گے اس پر پورا پورا عمل کرنے کی کوشش کرینگے ..

دس بلاگرز

بلکل اسی طرح جتنے ٹی وی چینل ہیں انکی ہی مقدار کے برابر ایوارڈ ہوتے ہیں ... اور کچھ ایسا ہی سلسلہ ہمارے اردو بلگرز میں بھی سٹارٹ ہو گیا ہے جتنے بلاگرز اتنے ہی ایوارڈ ...

تو آج میں بھی آپ سب کی خدمت میں اردو کے 10 بہترین بلاگرز پیش کرنا چاہتا ہوں.... اگر کسی کو اعتراض ہو تو وہ اپنے پسندیدہ بلاگرز کی ایک نئی فہرست بنا کر ایوارڈ کے بندر کو بانٹ دیں.....

اچھا جی پہلے طریقہ کار کو وضع کر دوں کے بلاگرز کو کس طریقے سے منتخب کیا گیا ہے....

بہت ہی آسان فارمولہ ہے ...

1- پہلے اپنے 10 پسندیدہ بلاگرز منتخب کریں

2- ہر بلاگرز کے نام کی 10, 10 پرچیاں بنائیں

3- اور اب باری باری ہر بلاگر کے نام کے دس پرچیاں ھاتھ میں لے کر خوب ہلائیں اور انکو اچھال کر زمین پر ڈال دیں...

4- پھر اگر آپکے اپنے دس بچے ہیں تو ٹھیک اگر کچھ کمی ہے تو آس پڑوس کے بچوں کو بلا کر 10 کی گنتی پوری کریں....

5- اسکے بعد وہ بلاگرز جو پہلے ہی سے ہم سیٹ کرچکے ہیں نمبر 01 سے 10 نمبری تک اسی ترتیب سے پرچیاں اچھالیں اور ایک جگہ نوٹ کرتے جائیں کے کون نمبر 01 اہے اور کون نمبر 10 ہے

.... اب ہم آپکو بتائیں گے کہ وہ کون سے دس بلاگرز ہیں جنکو ہماری نظر نے ایوارڈ کا مستحق قرار دیا ہے...

ویسے تو کسی بھی خاتون بلاگر کو ہم پہلا نمبر دے سکتے تھے لیکن جینڈر ڈسکریمینیشن بھی کوئی شئے ہے تو ... درج ذیل میں فہرست ملاحظہ ہو...

01-محسن شفیق حجازی... یہ اردو بلاگر نہیں ہیں مگر اگر انسے درخواست کی جائے تو بن سکتے ہیں ...

02‏شبیہہ فاطم پاکستانی

03- زینب واحدی بٹ

04- عطا محمد تبسم

05-منظر نامہ جو خود ایوارڈ بانٹتے کیا وقت آگیا کہ انکو بھی ایوارڈ مل گیا

06-محترم ہر دلعزیز طارق عزیز

07-جاہل اور سنکی

08- وقار اعظم

09- آزاد

10- ابو شامل

میرے حساب سے یہ دس بہترین بلاگرز ہیں... ہر ایک اپنے لکھنے میں ایک منفرد انداز رکھتا ہے... اور چونکہ یہ میرے پسندیدہ بلاگرز ہیں تو کسی کو کوئی اعتراض تو ہونا نہیں چاہیے ...

اور میری طرف سے ان تمام بلاگرز کو شبھ شبھ مبارکباد .... بلاگستان زندہ ہی باد

اور اگر کسی بلاگر کو نمبر پت اعتراض ہو تو بتا دے نمبر تبدیل کرنے کی سہولت ہے اور بچے بھی اپنے ہی ہیں جب دل چاہے گا نئی پرچیاں نکال دی جائیں گی ...

باقی میری طرف سے کچھ بلاگرز سے معذرت بھی ہے ...... :ڈ

واہ رے ٹیڑھی پسلی

وہ میرا دوست تھا .. کیونکہ اب میں کم سے کم اسکو اپنا دوست تو نہیں کہہ سکتا ....

ابے بھائی کون تھیں یہ خاتون جن کو تو اتنے برے انداز سے پرا بھلا حتی کے گالیاں بھی دے رہا تھا .... اچھا ... واقعی ... نہیں یار مذاق نا کر اسطرح کی گالیاں تو ہم کسی خاتون فقیر بلکہ کسی وحشیا کو بھی سرعام اس طرح نہیں دے سکتے ....

جی ہاں ہمارے ایک سابقہ دوست جن سے اتفاق سے دوستی ہوگئی تھی اپنی دادی یعنی کے اپنے ابا کی سگی اماں کو گالیاں دے رہے تھے.

وجہ پوچھی تو پتہ چلا کے انکی دادی نے انکی اماں پر بہت ظلم ڈھائے اور انکے ابا نے انکی اماں کی حمایت میں اپنی اماں کو گالیاں نہیں دیں اس لئے یہ اپنی اماں کا بدلہ اپنے ابا کی اماں سے لے رہے ہیں.....

20 سال بعد .... زرا ڈھنگ تو دیکھو آج کل کی اولاد کے بیوی کے کہنے میں آکر اپنی اماں سے ہی بدزبانی اور بدتمیزی کر رہا ہے کوئی اسکو سمجھاتا کیوں نہیں ہے ... ماں ہوں میں اسکی اگر ایک بددعا دے دی تو دنا بھی خراب اور آخرت بھی........
یہ بات اماں جی آپنے اس وقت کیوں نا سوچی تھی جب آپ اپنے مجازی خدا سے ہر وقت اس بات پر ہی جھگڑتی رہتی تھیں کہ تم اپنی اماں کو کھری کھری کیوں نہیں سناتے ہو....

واہ رے ٹیڑھی پسلی کی پیداوار کوئی کل بھی سیدھی ہے کہ نہیں

بس ثابت یہی ہوا کہ اس میں تربیت کا شدید فقدان ہے اور بچوں کو بڑوں کے معاملے میں بولنے دینے کا رجحان بھی.

Pages