علی عامر

Hello world!

Welcome to WordPress. This is your first post. Edit or delete it, then start writing!

کہے فقیر سے لوح فقیر تک

کہے فقیر سے لوح فقیر تک ۔۔۔ سید انور قدوائی حکیم الامت علامہ اقبال نے کہا ہے اے شاہ عرب و عجم کھڑے ہیں منتظر کرم وہ گدا جنہیں عطا کی ہے تو نے شان سکندری جناب سید سرفراز شاہ اس دور کی ایک ایسی روحانی شخصیت ہیں جو مستحق اوردکھی مخلوق میں ’’دعا کے […]

بوسیدہ ملبوس اتارنے کے دن

بوسیدہ ملبوس اتارنے کے دن ۔۔۔ اوریا مقبول جان

دنیا میں زندہ قومیں آئین کی غلام نہیں ہوتیں بلکہ آئین ان کی خواہشات، امنگوں اور آرزؤں کا غلام ہوتا ہے۔ ان کی امنگیں اور آرزوئیں بدلتی ہیں تو وہ اس میثاق کی کتاب کو بھی بدل دیتے ہیں۔ ایسی قوموں کو اگر یہ یقین ہو جائے کہ ان کے ملک کی سیاسی قیادت مفادات کی گروی ہے اور عوام پر مخصوص طبقات کی حکمرانی ہی اس دستاویز کا مقصد ہے تو پھر وہ ایسے نمایندوں سے آئین تحریر کرنے کا حق بھی چھین لیتے ہیں۔
یہ سب ایک خواب نہیں ہے،بلکہ دنیا کے ایک مہذب ترین ملک نے اسے حقیقت بنا کر دکھایا ہے۔یہ ملک ایسا نہیں جہاں کوئی خونی انقلاب آیا ہو۔ یہ کسی فوجی آمر کے برسرِ اقتدار آنے کی کہانی بھی نہیں، بلکہ یہ تو سودی نظامِ بینکاری میں جکڑے ہوئے ایک جمہوری ملک آئس لینڈ کی صرف پانچ سال پرانی داستان ہے۔ ایک ایسا قصہ جسے فرسودہ جمہوریت اور کارپوریٹ سودی نظام میں جکڑی انتخابی سیاست کا غلام میڈیا بیان نہیں کرتا۔
یہ تو چند سال پہلے کی بات ہے جب2008میں دنیا بھر میں سودی بینکاری نظام اپنے فراڈ اور جھوٹی کاغذی کرنسی کی وجہ سے ڈوبنے لگا تو امریکا سے لے کر یورپ کے ہر بڑے معاشی ہیڈ کوارٹر پر دھرنے اور ہنگامے شروع ہوگئے۔ بینکوں نے اپنی ساکھ اور عمارت بچانے کے لیے سود کی شرح صفر کے قریب کرلی۔ لیکن آئس لینڈ ایک ایسا ملک ہے جہاں ہنگامے اور دھرنے اس قدر زور پکڑے کہ منتخب حکومت کو مستعفی ہونا پڑا۔
بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ پوری قوم کو ایک عوامی پارلیمنٹ تصور کرتے ہوئے ایسے تیس (30)غیر سیاسی لوگوں کو منتخب کیا گیا جو ملک میں علم اور تجربے کی وجہ سے شہرت رکھتے تھے۔ ان تیس افراد کو کہا گیا کہ تم ہمارے ملک کا ایک نیا آئین تحریر کرو جو ان تمام غلاظتوں اور جتھ بندیوں سے پاک ہو۔ایسی خرابیاں جو کارپوریٹ سرمائے سے پیدا ہوتی ہیں۔ کسی بھی جمہوری ملک میں عوام کے دھرنے سے اس طرح کی تبدیلی کی یہ واحد مثال ہے۔ اسی لیے دنیا بھر کی خوفزدہ کارپوریٹ کلچر کی گروی جمہوریتوں نے اپنے ملکوں کے میڈیا پر اس کی خبر تک نہ آنے دی۔
وجہ یہ ہے کہ میڈیا کو کارپوریٹ سرمایہ کنٹرول کرتا ہے اور کارپوریٹ سرمایہ سودی بینکاری کے فراڈ سے جنم لیتا ہے۔ یہ ہنگامہ اکتوبر2008ء سے لے کر 2010ء میں آئین کے ازسر نو تحریر کرنے تک چلتا رہا لیکن سی این این جیسے عالمی چینل پر بھی اسے ایک معمولی خبر کے طور دکھایا گیا۔ پورے امریکا میں اس خبر کا بائیکاٹ کیا گیا۔ لیکن عوامی احتجاج کے ذریعے ایک جمہوری لیکن بددیانت حکومت کے خاتمے پر لوگ سوشل میڈیا پر متحرک رہے اور اس پورے انقلاب پر ایک ڈاکو منٹری بھی بن چکی ہے جس کا نام ہے۔(Pots Pans & other solutions)
انقلاب کی یہ کہانی دلچسپ بھی ہے اور حیرت انگیز بھی۔18اکتوبر2008کی سرد دوپہر ملک کی معاشی بدحالی اور سیاسی نااہلی کے خلاف ایک شخصHordurاپنا گٹار اور مائیکروفون لے کر ایک مرکزی چوراہے پر جا کر کھڑا ہو گیا اور لوگوں کو بلا بلا کر حکومت کے خلاف بولنے کے لیے بلانے لگا۔ ایک ہفتے میں وہاں ایک ہجوم جمع ہونا شروع ہو گیا۔ پھر انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ہر ہفتے یہاں جمع ہوں گے اورحکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کریں گے اور یہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت چلی نہیں جاتی۔
20جنوری2009تک مظاہرے بڑھ گئے اور ہنگامے شروع ہو گئے۔ اس دن پولیس نے ان پر کالی مرچوں کا سپرے کیا، لاٹھی چارج کیا اور پارلیمنٹ کی عمارت کے سامنے سے 20لوگوں کو گرفتار کر لیا۔ ہنگامے زور پکڑے، پارلیمنٹ کی کھڑکیاں توڑ دی گئیں۔ دھواں پھیلانے والے بم پارلیمنٹ کی کھڑکیوں سے پھینکے گئے۔ وزیراعظم کی کار پر 21جنوری کو خالی ڈبوں، انڈوں اور برف کے گولوں سے حملہ کیا گیا۔ ہجوم نے تمام سرکاری عمارتوں کا گھیراؤ کر لیا۔ 22جنوری کو پولیس نے آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا۔
آئس لینڈ کی تاریخ میں ایسا60سال بعد ہوا، پہلے آنسو گیس1949ء میں استعمال ہوئی جب لوگ نیٹو کے خلاف سڑکوں پر نکلے تھے۔ ہجوم نے دھرنا جاری رکھا اور سرکاری عمارتوں پر پتھراؤ شروع کردیا۔ 23جنوری کو وزیراعظم (Geir Haardelthat)نے25اپریل کو وقت سے پہلے مڈٹرم الیکشن کا اعلان کر دیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے۔ لیکن عوام نے کہا کہ ہم اس آئین اور اس سسٹم کے تحت الیکشن نہیں مانتے۔ ہمیں ایک نئے آئین کی ضرورت ہے۔
عوام کے مطالبے پر 26جنوری کو وزیراعظم نے استعفیٰ دے دیا اور تمام سیاسی پارٹیاں اس پر متفق ہوگئیں کہ ہمیں ایک نیا آئین مرتب کرنا ہوگا۔ وہ پارٹیاں جو سب سے کم نمایندگی رکھتی تھیں ان کو ملا کر ایک نگران حکومت بنائی گئی۔ انھوں نے عوام کے مطالبے پر فیصلہ کیا کہ تمام عوام کو آئین بنانے میں شریک کیا جائے۔ پورے ملک سے1500لوگوں کو بلایا گیا جسے عوامی پارلیمنٹ کہا گیا۔ یہ لوگ مختلف شعبہ ہائے زندگی کے سرکردہ لوگ شامل تھے۔ ان لوگوں میں سے25لوگوں کو آئین تحریر کرنے کے لیے منتخب کیا گیا۔اس انتخاب کے خلاف پرانی وضع اور فرسودہ جمہوری نظام کے دیوانے سپریم کورٹ میں چلے گئے۔
سپریم کورٹ نے26اکتوبر2010میں ہونے والے یہ غیر سیاسی الیکشن غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے دیے۔ لیکن پارلیمنٹ ڈٹ گئی۔ انھوں نے کہا کہ جو عدلیہ عوام کی امنگوں،آرزو اور خواہشات کے مطابق نہ ہو،اس کے فیصلے نافذ العمل نہیں۔آئین تحریر کیا گیا۔پرانا آئین مسترد ہوا اور29جولائی2011کو اس کا ڈرافٹ پارلیمنٹ کے سامنے پیش کر دیا گیا۔اس کے بعد انھوں نے اس معاشی بدحالی کے ذمے دار وزیراعظم کو سزا دینے کے لیے ایک خصوصی ٹربیونل قائم کیا اور اپنے وزیراعظم کو وہاں مجرم کے طور پر کھڑا کر دیا۔
اس انقلاب میں نہ کوئی خون بہا اورنہ ہی قتل وغارت ہوئی، لیکن پورے ملک کاآئینی، قانونی اور انتظامی ڈھانچہ تبدیل ہو گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے پارلیمنٹ کو گھیرا تھا ان کی تعداد تین ہزار سے پانچ ہزار تک تھی۔ لیکن کسی نے یہ سوال تک نہ کیا کہ یہ پوری قوم کے جذبات کی ترجمانی نہیں کرتے۔کسی نے یہ جملہ بھی نہ بولا کہ یہ لوگ جمہوریت کو پٹری سے اکھاڑنا چاہتے ہیں۔اس لیے کہ سب سیاستدانوں کو اس حقیقت کا ادراک تھا، کہ عوام کے تمام مطالبات درست ہیں۔
پوری قوم ایک ایسے آئین اور ایسے جمہوری نظام کی غلام ہو چکی ہے جو کارپوریٹ سرمائے اور سودی بینکاری کے شکنجوں میں جکڑا ہوا ہے۔ ان بینکوں نے پوری قوم کو ایک نہ ختم ہونے والے سودی قرضے میں جکڑا اور اسی سرمائے سے سیاسی پارٹیوں کو اپنے مفادات کا تابع بنایا۔لوگوں نے اس محکوم سیاسی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دیا۔ کیا ہمارا سیاسی جمہوری نظام بھی چند طبقات اور چند آئینی شقوں کا غلام نہیں ہے؟
آپ آج ریفرنڈم کرائیں کہ اس نظام سے اگلے سو سال میں بھی کسی صاحبِ علم، اہل اور عام آدمی کو راستہ مل سکتا ہے تو اکثریت کا جواب نفی میں ہوگا۔قومیں ارتقائی منازل سے گزرتی ہیں تو اپنے میثاق بھی بدلتی ہیں اور اپنے قانون بھی۔ بوسیدہ کپڑے اتارے نہ جائیں ان کی بدبو اور غلاظت سے بدن میں کیڑے پڑ جاتے ہیں۔ ہمارا جمہوری اور آئینی نظام بھی وہ بوسیدہ ملبوس ہے جو چند طبقات کا تحفظ کرتا ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہم ایک خارش زدہ جسم کے ساتھ زندہ رہنا چاہتے ہیں یا صحت مند معاشرے کی طرح۔
کالم نویس: اوریا مقبول جان
بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس، لاہور
22 اگست 2014ء

جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو

جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو ۔۔۔ اوریا مقبول جان

عالمی سطح پر رائج جمہوری نظام اور عوام کی حکمرانی میں اتنا ہی فرق ہے جتنا مدتوں اس دنیا پر حکمران بادشاہوں اور عوام میں ان کی پذیرائی اور قبولیت میں فرق ہوتا تھا۔ بڑے بڑے فاتحین خواہ وہ سکندر ہو یا چنگیز خان، اپنے گھروں سے بڑی بڑی افواج لے کر نہیں نکلا کرتے تھے۔ آج سے دو سو سال پہلے تک جن پانچ ممالک نے پوری دنیا کو اپنی نوآبادی میں تبدیل کیا ان کا حجم اور افرادی قوت دیکھیں تو ہنسی آتی ہے کہ یہ اتنے مختصر سے ملک اتنے بڑے بڑے علاقوں پر کیسے قابض ہوگئے۔
برطانیہ‘ فرانس‘ اسپین‘ ہالینڈ اور پرتگال جن کی کل آبادی ملا کر بھی اس دور کے ہندوستان سے کم تھی، لیکن امریکا سے لے کر آسٹریلیا تک ہر خطہ ان کے زیر تسلط تھا۔ ان طاقتوں نے بھی علاقے فتح کرنے کا گر قدیم فاتحین سے سیکھا تھا۔ پہلے اچھی طرح جانچ پڑتال کرو کہ کس علاقے کی رعایا اپنے حکمران سے ناراض اور غیرمطمئن ہے، پھر اس رعایا میں اپنے ایسے حمایتی ڈھونڈو جو اقتدار کی خواہش رکھتے ہوں لیکن حکمرانوں کی طاقت کے سامنے ان کا بس نہ چلتا ہو اور ان کے ذہن میں کسی بیرونی طاقت کی مدد سے سازش کے ذریعے اپنے علاقے پر حکمرانی کرنے کی خواہش مچل رہی ہو۔
جب یہ دونوں عوامل جمع ہو جاتے تو حملہ کرنے کا اذن مل جاتا، اور چند دنوں میں وہ علاقہ، شہر یا ریاست فتح کر لی جاتی۔ ابن علقمی اگر عباسی خلفاء کا وزیر نہ ہوتا اور اس حیثیت میں بھی خلیفہ کے خلاف سازشوں میں مصروف نہ ہوتا تو ہلاکو کسی دوسری جانب اپنی فوجوں کا رخ موڑ دیتا۔ سکندر کو راجہ امبی کی صورت میں استقبال کرنے والا نہ ملتا تو وہ شاید وہیں سے پلٹ جاتا۔ اسی طرح میر جعفر اور میر صادق جیسے کردار میسر نہ آتے تو نہ جنگ پلاسی کی جرأت ہوتی اور نہ ہی میسور کے سرنگا پٹم پر حملے کا تصور۔
ان تمام فاتحین اور عظیم بادشاہوں کا ایک طریقۂ کار تھا۔ جہاں کوئی ہمدرد یا تعاون کرنے والا مل جاتا اس سے مدد حاصل کرتے‘ وہ لڑنے کے لیے افراد بھی فراہم کرتا‘ مالی امداد بھی کرتا اور کھانے پینے کا بندوبست بھی۔ یوں فوج میں اضافہ ہوتا تو اگلا علاقہ فتح کر کے سلطنت کو وسیع کرتے جاتے۔ وہیں سے لوگوں کو اپنی فوج کے لیے بھرتی کیا جاتا اور مزید علاقے فتح کیے جاتے۔ 1848 میں جب پنجاب میں سکھوں کی حکومت کے خلاف انگریز نے لڑائی شروع کی تو اس میں برطانیہ سے آئے فوجی نہیں بلکہ بنگال اور مدراس رجمنٹ کے چھوٹے چھوٹے قد کے سپاہی ان گبھرو جوانوں کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے۔
کوئی اس دور میں سکھوں کی آپس کی چپقلش کی تاریخ پڑھ کر دیکھ لے کہ کیسے ایک غیر مطمئن رعایا نے اپنی ہی فوج کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ اسی طرح پنجاب فتح ہونے کے صرف آٹھ سال بعد 1857 کا معرکا آزادی ہوا تو وہ پنجاب جسے ایک غیر ملکی طاقت نے فتح کیا تھا وہیں سے جوق در جوق لشکر انگریزوں کی مدد اور نصرت کے لیے گئے تھے اور لال قلعہ دہلی کو فتح کر کے واپس لوٹے تھے۔ جنگوں میں ساتھ دینے والے راجوں‘ مہاراجوں‘ سرداروں‘ وڈیروں کے لیے انعام وا کرام اور نوازشات کے بھی درجات ہوتے تھے۔
کسی کو اقتدار میں شریک کرکے اس علاقے کا حکمران‘ وزیر یا پھر مرکزی سطح پر اپنا معتمد خاص مقرر کر دیا جاتا تھا۔ کچھ کو جائیدادیں عطا کی جاتی تھیں اور بہت سوں کو شاہی دربار کی سند اور قبولیت کا شرف حاصل ہوتا تھا۔ بادشادہت کرنے کے گروں میں دو گر سب سے زیادہ اہم سمجھے گئے ہیں اور تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جس حکمران نے یہ دو گُر آزمائے اس کے اقتدار کو طوالت ملتی گئی۔ ایک یہ کہ رعایا خوشحال ہو اور ان کے درمیان انصاف کیا جائے۔ مطمئن اور پر سکون رعایا دنیا کے ہر حکمران کی سب سے مضبوط دفاعی لائن سمجھی جاتی تھی۔
دوسرا گر طرز حکمرانی کا شاطرانہ استعمال ہے۔ اس کی مثال اسپارٹا کے حکمران نے یوں سمجھائی جس کے پاس دیگر ریاستوں کے لوگ اپنے بچوں کو حکمرانی کے گر سکھانے بھیجتے تھے۔ وہ جاتے ہوئے ان کو ایک مکئی کے کھیت میں سے گزارتا جہاں تمام پودے تقریباً ایک سائز ہوتے، لیکن جو چند ایک سر اٹھاتے ہوتے انھیں تلوار سے کاٹ کر برابر کر دیتا۔ جس حکمران کو اپنی رعایا میں اقتدار کے خواہش مند، سر اٹھاتے لوگوں کا علم نہ ہوتا، اس کا زوال یقینی تھا۔
انسانی شعور اپنی منزلیں طے کرتا ہے تو لوگوں پر حکمرانی کی خواہش رکھنے والے بھی نئے طریقے ایجاد کرتے ہیں۔ پہلے بادشاہ لوگوں کو خوشحال اور مطمئن رکھتے تھے اور وہ ہردلعزیز حکمران کہلاتے تھے۔ ان کا عتاب صرف چند لوگوں تک محدود ہوتا، جس کی ایک پر سکون رعایا پروا بھی نہ کرتی۔ لیکن اب ایسا ممکن نہیں ہوتا جا رہا تھا۔ اقتدار میں شرکت کے خواہش مند بڑھتے جا رہے تھے۔ خواہشوں کا طوفان ہر سینے میں امڈتا تھا۔
عام سپاہی کے بادشاہ بننے یا عام سے شخص کے اپنی بصیرت کے بل بوتے پر وزیر بن جانے کی کہانیوں اور عوام کی حکمرانی کی خواب انگیز داستانوں نے حکمرانوں کے خلاف ہجوم کی صورت میں باہر نکلنے کا رواج ڈالا۔ فرانس کے ورسائی محل کی کھڑکی سے باہر نکل کر جب بادشاہ نے 1774 میں جھانکا تو حیرت میں گم ہو گیا کہ اتنی مخلوق یہاں کیسے جمع ہو گئی۔ یہ شہر تو بہت چھوٹا سا ہے۔ بادشاہوں کے سر کٹنے لگے تو وہ قوتیں جو صدیوں سے اقتدار پر قابض تھیں انھیں خطرے کا احساس ہوا۔ یہ سب اپنے اپنے علاقوں کے جاگیردار، وڈیرے، تاجر، قبائلی سردار تھے۔
ان کی طاقت اپنے علاقوں میں مستحکم تھی لیکن اگر بہت سے علاقوں کے پسے ہوئے عوام مل جاتے تو پھر ان کی طاقت کا چراغ گل ہو جاتا۔ اب ’’ہردلعزیز‘‘ حکمرانی کا ایک نسخہ ایجاد کیا گیا۔ یہ نسخہ تھا جمہوریت۔ بس چند دن کے لیے سہی مگر عوام کو حکمرانی میں شریک کیا جائے۔ وہ دن جب وہ اپنی رائے کا اظہار یا ووٹ دینے آتے ہیں۔ اسے ایک سیاسی عمل کا نام دیا گیا۔ سب سے پہلے عوام کو تقسیم کرنے کے لیے سیاسی پارٹیوں کا نظام وضع کیا گیا۔ پہلے ایک بادشاہ کو افرادی قوت اور سرمائے سے مدد فراہم کی جاتی تھی، اب پارٹی فنڈنگ کا راستہ نکالا اور افرادی قوت کی جگہ پارٹی ورکرز نے لے لی۔
پارٹیوں کو سرمائے کے ذریعے اپنے مقاصد کے لیے خریدنا آسان تھا، اسی لیے غیر جماعتی طریق انتخاب کو گالی بنا دیا گیا۔ یہاں تک کہ یک جماعتی نظام کو بھی آمریت کا روپ قرار دیا گیا۔ امریکا سے لے کر آسٹریلیا تک کوئی پارٹی ایسی نہیں جسے اربوں ڈالر میسر نہ ہوں اور وہ الیکشن جیت جائے۔ اس کے بعد نسخہ وہی جو بادشاہوں کا تھا کہ عوام کو خوشحال اور مطمئن رکھا جائے تو اقتدار قائم۔ اس کے لیے اپنی لوٹ مار سے ایک تھوڑا سا حصہ عوام پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔ یہی وہ نظام ہے جس نے دنیا میں پچاس ایسے افراد کو جنم دیا ہے جن کے پاس دنیا کی ساٹھ فیصد کے قریب دولت ہے۔
اب اہرام مصر، تاج محل اور سونے کے منقش محل نہیں بنتے بلکہ کاروباری سلطنتیں وجود میں آتی ہیں۔ انھی کاروباری سلطنتوں کی ہوس افریقہ کو پسماندہ، غلام اور قتل و غارت کا گڑھ بنائے ہوئے ہے اور اسی کا نشہ جمہوری حکمرانوں کو ویت نام، عراق اور افغانستان میں لاکھوں لوگوں کو قتل کرنے کے لیے بھیجتا ہے۔ کوئی حکمرانی میں ’’نام نہاد شریک عوام‘‘ سے نہیں پوچھتا کہ ہم تمہارے بچوں کو قتل گاہوں میں بھیج رہے ہیں۔
ان ہزاروں مقتولین کی یادگاریں بنائی جا رہی ہیں، انھیں وطن و قوم کا محسن قرار دیا جا رہا ہے، کسی کو اندازہ تک نہیں ہوتا کہ جنگ عظیم اول سے لے کر آج تک کروڑوں لوگ اسی جمہوریت اور آزادی کے نام پر قتل کیے گئے لیکن صرف اسلحہ ساز فیکٹریوں کے منافع میں اضافہ ہوا۔ جنہوں نے مزید پارٹی فنڈنگ سے اپنے لیے سیاسی رہنما اور جمہوری حکمران خرید لیے اور پھر ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے پارلیمنٹ اور کانگریس جیسے اداروں کو عوام کا نمایندہ کہہ کر ہر وہ کام کیا جس کا تعلق صرف اور صرف اس کارپوریٹ دنیا کے تحفظ کا تھا۔ لیکن یہ اپنی دولت کا مختصر سا حصہ عوام میں بانٹ کر انھیں مطمئن اور خوشحال رکھتے کہ کل کوئی جم غفیر فرانس کے شاہی محل کی طرح ان کے اس فراڈ نظام کی دھجیاں نہ بکھیر دے۔
دنیا میں بادشاہت ہو یا جمہوریت، نظام الٹنے، تہس نہس کرنے کے لیے صرف ایک ہی لازم شرط ہے۔ عوام کا غیر مطمئن، پریشان اور بدحال ہونا۔ رحم دل بادشاہ اور ظالم ترین جمہوری حکمران بھی اس شرط کو ضرور ذہن میں رکھتے اور اپنے اقتدار کو طول دیتے تھے۔
دنیا بھر کے میں بادشاہ ہوں یا جمہوری حکمران، جہاں کہیں تخت الٹے گئے یا تاج اچھا لے گئے، وہاں ایسا کام مٹھی بھر بپھرے ہوئے ہجوم نے کیا۔ لیکن ان کا یہ غصہ اور انتقام، کروڑوں غیر مطمئن، پریشان اور بدحال عوام کے دل کی آواز بن چکا ہوتا ہے۔ ایسے میں حکمرانوں کی آوازیں، سسٹم تباہ ہو جائے گا، ترقی کا پہیہ رک جائے گا، دوسرے حکمران ملوث ہیں ہم نے تمہارے لیے بہت کچھ کیا، سب صدا بصحرا ہو جاتی ہیں۔ لٹے پٹے، مفلوک الحال، پریشان اور غیر مطمئن لوگوں کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ کس کا محل مسمار ہوتا ہے اور کس کا اقتدار رخصت۔ انھیں تو اپنی بدحالی کے موسم میں کسی اور کی خوشحالی اچھی نہیں لگ رہی ہوتی۔
کالم نویس: اوریا مقبول جان
بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس،
18 اگست 2014ء

اس سانحے سے بچو

اوریا مقبول جان کے کالم ’’اس سانحے سے بچو‘‘ سے اقتباس:۔

ریاستی طاقت کا متعصبانہ استعمال کس قدر افسوسناک ہوتا ہے، اس کا اندازہ حکومتوں کی مسند پر بیٹھے افراد کو اس لیے نہیں ہوتا کہ اس کے نتیجے میں جو جہنم پیدا ہوتا ہے اس کی آگ میں صرف اور صرف عوام جلتے ہیں۔ تاریخ کا یہ سبق صدیوں پرانا ہو گا لیکن اس کی بدترین مثالیں تو ہم جیتے جاگتے اپنے اردگرد دیکھ رہے ہیں۔ لیکن شاید ہمیں ریاستی طاقت کا نشہ اندھا کر دیتا ہے اور ہمیں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ یہ نشہ اس وقت مزید خطرناک ہو جاتا ہے جب اس میں نسل، عقیدے، مسلک، زبان، علاقے یا گروہ کا تعصب شامل ہو جاتا ہے۔
اس ریاستی طاقت کے اندھے استعمال سے ایک ایسا انتقام جنم لیتا ہے جو انتہائی خوفناک ہوتا ہے۔ جو لوگ اس انتقام کے دوزخ کا الاؤ روشن کرتے ہیں وہ اسے کسی اعلیٰ مقصد کا لبادہ ضرور پہناتے ہیں۔ کوئی قومی آزادی کا نعرہ لگاتا ہے تو کوئی نسلی برتری کا۔ کوئی عقیدے کا پرچم تھامے نکلتا ہے تو کوئی ملک کی بقا کا جھنڈا۔
ریاستی طاقت کے اس بے مہابہ استعمال کے نتیجے میں ایسے لوگ بھی خونخوار بھیڑیے جیسے منتقم مزاج ہو جاتے ہیں کہ جن کی زندگی امن و محبت کے گیت گاتے ہوئے گزری ہوتی ہے۔

تحریکیں زور کیسے پکڑتی ہیں

تحریکیں زور کیسے پکڑتی ہیں ۔۔۔اوریا مقبول جان

دنیا کا شاید ہی کوئی ملک ہو جس میں مختلف اوقات پر زور دار تحریکیں نہ چلی ہوں اور انھوں نے حالات کا رخ نہ بدلا ہو۔ ہر ملک کے عوام کے مزاج، ماحول اور اقتدار کی مسند پر متمکن حکمرانوں کے رویے کے ردعمل کے نتیجے میں تحریکیوں کا مزاج بھی بدلتا رہا ہے۔
لیکن آج یہ تصور بہت زور شور سے پیش کیا جاتا ہے کہ تحریکیں، انقلاب اور انارکی صرف اور صرف ڈکٹیٹر شپ میں جنم لیتی ہیں اور کسی بھی ملک میں اگر جمہوری طور پر الیکشن ہوتے رہیں، نظام کا ایک تسلسل قائم رہے تو یہ ملک کو پرامن رکھنے اور فساد سے پاک بنانے کی ضمانت ہوتا ہے۔
جمہوری حکمرانوں کا رویہ، مزاج اور طرز حکومت جیسا بھی ہو، لوگ ان کے خلاف بغاوت کے لیے آمادہ نہیں ہوتے، وہاں کوئی تحریک منظم نہیں ہوپاتی، ان ملکوں میں عوامی غیظ و غضب کسی تبدیلی یا انقلاب کا ذریعہ نہیں بنتا۔ اس تجزیے سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تاریخی طور پر دنیا میں امن اسی وقت قائم ہوا، انسان نے سکون اور اطمینان کی شکل صرف اسی دور میں دیکھی جب دنیا نے حکمرانی کے لیے جمہوریت کا راستہ اختیار کیا۔ ورنہ اس سے پہلے تو اس دنیا میں چین تھا نہ اطمینان، بس ایک غلامانہ زندگی تھی۔
یہ دنیا ہزاروں سال سے آباد ہے اور اس کی معلوم تاریخ پانچ ہزار سال پر پھیلی ہوئی ہے۔ لیکن اس میں جمہوریت اور عوام کی حکمرانی کے تصور کی عمر صرف دو سو سال کے لگ بھگ بنتی ہے۔ ان دو سو سالوں میں پہلے سو سال تو جمہوریت نام کی چڑیا کے ابھی پر بھی نہیں نکلے تھے۔ جہاں تک ایک شخص ایک ووٹ کا تصور ہے اس کی تاریخ بھی اتنی پرانی نہیں ہے۔ مغربی جمہوریتوں میں عورتوں کو ووٹ دینے کا حق 1920ء کے لگ بھگ ملنا شروع ہوا اور سوئٹزر لینڈ میں تو خواتین کو ووٹ دینے کا اختیار 1973ء میں ملا۔ یعنی اس معاملے میں پاکستان ان سے تین سال آگے تھا۔
ہم 1970ء میں ایک فرد ایک ووٹ کے تصور پر عمل کرتے ہوئے الیکشن کروا کر 1971ء میں اپنا آدھا ملک گنوا بیٹھے تھے۔ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ بادشاہوں اور آمروں کے زمانے میں بھی لوگ چین کی بنسی بجاتے رہے اور جمہوری طور پر منتخب حکمرانوں کے زمانے میں بھی تحریکیں جنم لیتی رہیں، تبدیلیاں آتی رہیں، بحران کی کیفیت اور انارکی پھیلتی رہی۔
دنیا کی سب سے قدیم جمہوریت برطانیہ میں ایک ایسی تحریک چلی تھی جس کے نتیجے میں لوگوں نے ایک عوامی عدالت لگائی اور 30 جنوری 1649ء میں اپنے بادشاہ چارلس اول کا سرگیلوٹین کے تیز دھار چھرے سے کاٹ دیا۔ اس وقت برطانیہ میں الیکشن بھی ہوتے تھے اور پارلیمنٹ بھی موجود تھی۔ اس کے برعکس اسی دور میں دنیا کے اکثر ممالک بادشاہتوں کے زیر اثر تھے مگر وہاں چند ایک ممالک کو چھوڑ کر کہیں کوئی بدامنی، انارکی یا تحریکی صورت حال نظر نہیں آتی۔
دنیا بھر کی لائبریریوں میں ایسی ہزاروں کتابیں اور لاکھوں تحقیقیں موجود ہیںجو کسی علاقے، ملک یا قوم میں تحریکوں کے پس منظر سے پردہ اٹھاتی ہیں۔ ان سب میں ایک بات پر اتفاق پایا جاتا ہے اور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو تحریکیوں کے جنم لینے کی اصل وجہ بنتا ہے۔ اس نکتے کودنیا میں کہانی کہنے، سنانے اور لکھنے والوں نے کس خوبصورتی سے چند لائنوں میں سمیٹا ہے۔
دنیا کے کسی ملک کی کہانی اٹھالیں‘ اس میں اس طرح کے فقرے مشترک ملیں گے ’’ایک تھا بادشاہ، اس کے دور میں رعایا خوشحال، شہر پر امن اور حالات پر سکون تھے، اس لیے کہ وہ اس قدر منصف مزاج تھا کہ اس کے دور میں شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پیتے تھے‘‘ جب کہ اس کے برعکس کسی ظالم بادشاہ کو اس طرح بیان کریں گے کہ ’’بادشاہ ظالم تھا اس کے دور میں انصاف نام کو بھی نہ تھا۔ اس کے اہل کار لوٹ کھسوٹ میں لگے ہوئے تھے اور لوگوں کی زندگی عذاب تھی‘‘۔
پر سکون اور مطمئن رعایا ایک ایسا میدانی دریا ہوتی ہے جو انتہائی اطمینان کے ساتھ زمین کے سینے پر اپنا سفر جاری رکھتی ہے جب کہ ایک غیر مطمئن اور ظلم سے تنگ عوام کا حال پہاڑی ندی نالوں کی طرح ہوتا ہے جو ہر پتھر سے سر ٹکراتا، شور مچاتا بہتا چلا جاتا ہے۔ تحریکوں اور انارکی کے بڑے بڑے تجزیہ کار اور مفکر کسی ایسے معاشرے کی مثال ایک آتش فشاں کی طرح ہیں جس کے اندر لاوا جوش مار رہا ہوتا ہے لیکن اس کے دہانے پر موت کا سا سکوت ہوتا ہے۔
دوسری مثال وہ Tipping پوائنٹ کی دیتے ہیں جسے ایک گدھے سے تشبیہ دی جاتی ہے کہ آپ اس پر لکڑیاں لادتے جاتے ہیں۔ وہ برداشت کرتا رہتا ہے، کئی من لکڑیوں کے باوجود بھی وہ کھڑا رہتا ہے لیکن پھر اچانک ایک لکڑی آپ رکھتے ہیں تو وہ ہربڑا کر بوجھ نیچے گرا دیتا ہے۔ ہر وہ معاشرہ جس میں لوگ مر مر کر زندگی گزار رہے ہوں، انھیں ضروریات زندگی تک میسر نہ ہوں، ان پر انصاف کے دروازے بند کردیے جائیں، چند گروہ ان کو لاٹھیوں سے ہانکتے رہیں تو اس معاشرے میں کسی بھی تحریک کا مواد اور میٹریل کثرت سے موجود ہوتا ہے۔
یہ وہ غم و غصہ ہوتا ہے جس کا اظہار لوگ گھروں، دفتروں اور نجی محفلوں میں کرتے ہیں لیکن انھیں سمجھ نہیں آتی کہ ان کا یہ غصہ اور غضب کیسے حکمرانوں تک پہنچے۔ کبھی بجلی، پانی یا گیس بند ہونے پر سڑک پر نکل آتے ہیں، کبھی اپنے بے گناہ مقتول کی لاش اٹھا کر کسی ایوان کے سامنے دھرنا دیتے ہیں اور کبھی ناانصافی کے خلاف کسی پریس کلب یا شارع عام پر پلے کارڈ لے کر کھڑے ہوتے ہیں۔ ایک عادل اور منصف مزاج حکمران جسے سیاسی بصیرت بھی حاصل ہو وہ فوری طور پر اس غم و غصہ کے ازالے کی طرف توجہ دیتا ہے تاکہ اس غبارے میں ہوا نہ بھرنے پائے جب کہ سیاسی بصیرت سے عاری حکمران بہانہ بازیوں سے ٹالتا رہتا ہے‘ ان سب کو سازشی عناصر قرار دیتا ہے اور جمہوریت نے تو ان کو ایک اور لفظ سکھا دیا ہے کہ ’’یہ سسٹم کو پٹڑی سے اکھاڑنے کی کوشش ہو رہی ہے‘‘۔
صدیوں سے لوگوں پر حکمران رہنے والے بادشاہ اور بدترین آمر بھی اس حقیقت کو جانتے تھے کہ ایک غیر مطمئن رعایا پر حکومت نہیں کی جاسکتی‘ وہ ہر حال میں اسے خوش رکھنے کی کوشش کرتے‘ کیونکہ انھیں دوسرے بادشاہ کے حملے کا خوف ہوتا تھا کہ اگر ایسے وقت میں قوم ان کے ساتھ نہ ہوئی تو شکست یقینی ہے۔ آمروں اور ڈکٹیٹروں کو بھی اس کا ارداک ہوتا ہے اور جس کو نہیں ہوتا وہ عبرت کی مثال بن جاتا ہے۔
جب انقلاب فرانس آیا تو انگلستان کی معاشی غربت فرانس سے بدتر تھی۔ لوگ غربت کا شکار تھے لیکن وہاں فرانس کی طرح کوئی یہ کہہ کر تمسخر اڑانے والا نہیں تھا کہ ‘‘ اگر روٹی نہیں ملتی تو کیک کیوں نہیں کھاتے‘ یا پھر گھاس بہت ہے جاؤ اور کھاؤ‘‘ تاریخ بتاتی ہے کہ جس نے یہ کہا تھا‘ لوگوں نے پہلے اس کے منہ میں گھاس بھری اور پھر اس کی گردن تن سے جدا کر دی۔ یہی فضا ہوتی ہے جس میں کوئی بھی نعرہ‘ کوئی بھی آواز جو حکمرانوں کے خلاف بلند ہوتی ہے وہ لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹ لیتی ہے۔ کسی کو اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ کونسا نعرہ بلند ہو رہا ہے یا کون اس کی قیادت کر رہا ہے۔
وہ تو اپنا اپنا غصہ اور اپنی اپنی نفرت لے کر ساتھ چل پڑتے ہیں۔ کسی کو پولیس نے تنگ کیا ہوتا ہے‘ کسی کی زمین پٹواری نے ہضم کی ہوتی ہے‘ کسی کو میرٹ سے انکار پر نوکری نہیں ملی ہوتی‘ کوئی سیاسی گروہوں کے ظلم سے تنگ ہوتا ہے‘ کسی کے باپ یا بیٹے نے خود کشی کی ہوتی اورکوئی رات بھر بھوک‘ بیماری اور لوڈشیڈنگ کے عذاب سے لڑ کر آیا ہوتا ہے۔ یہ لوگ ہر اس گروہ کے گرد جمع ہو جاتے ہیں جو حکومت اور سرکار کے مقابل آکر کھڑا ہو جائے۔ انھیں نہ جمہوریت کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی شریعت کا‘ وہ نہ مزدور کے حقوق کے لیے کمیونزم چاہتے اور نہ ہی شفاف انتخابات‘ ان کا غصہ اجتماعی نفسیات بن جاتا ہے۔
قوموں کی یہ اجتماعی نفسیات آج دنیا کے ماہرین کا سب سے بڑا موضوع ہے اور وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ قومی غصے کی اجتماعی نفسیات حکمرانوں کے زوال کا باعث اس وقت بنتی ہے جب وہ ریاستی طاقت سے اسے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ پہاڑی ندی نالے کی طرح شور مچاتے عوام حکومتی طاقت سے سر ٹکراتے ہیں اور پھر یوں بپھرتے ہیں کہ دامن میں آباد ہر بستی کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جاتے ہیں۔ دانا لوگ ان شوریدہ سر نالوں پر بند نہیں باندھتے‘ گزرنے دیتے ہیں لیکن نادان اپنی طاقت پر بھروسہ کرتے ہوئے خود کو بدترین انجام تک لے جاتے ہیں۔
کالم نویس: اوریا مقبول جان
بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس،
10 اگست 2014ء

جسٹس جواد ایس خواجہ کے لیے

جسٹس جواد ایس خواجہ کے لیے ۔۔۔۔ کالم نویس ، جاوید چوہدری

جسٹس جواد ایس خواجہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے معزز جج ہیں‘ یہ وزیرآباد سے تعلق رکھتے ہیں‘ خواجہ صاحب کا خاندان وزیر آباد کی معزز اور متمول ترین فیملی تھی‘ پاکستان بننے کے بعد وزیرآباد شہر میں صرف دو گاڑیاں تھیں اور ان دو گاڑیوں میں سے ایک گاڑی کے مالک جسٹس جواد ایس خواجہ کے والد تھے‘ جسٹس جواد نے خوشحالی‘ نیک نامی اور تہذیب میں آنکھ کھولی‘ یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہیں‘ نیک نام بھی ہیں اور ایماندار بھی۔
یہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے قریبی ساتھیوں میں بھی شمار ہوتے ہیں‘ 19 اپریل 2014ء کے بعد ’’جیو ٹیلی ویژن‘‘ کا معاملہ اٹھا‘ جیو کی انتظامیہ نے مئی کے شروع میں سپریم کورٹ میں نشریات کی بندش کے خلاف پٹیشن دائر کی‘ چیف جسٹس نے جواد ایس خواجہ ‘ جسٹس گلزار احمد اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل تین رکنی بینچ بنا دیا‘ یہ خبرشایع ہوئی تو چند لوگوں نے اعتراض شروع کر دیا‘ میر شکیل الرحمن اورجسٹس جواد ایس خواجہ رشتے دار ہیں‘ میر شکیل الرحمن کی ہمشیرہ جسٹس جواد ایس خواجہ کی بھابی ہیں۔
یہ خبر شایع ہونے کے بعد نامعلوم افراد نے آبپارہ اور ریڈ زون میں جسٹس جواد ایس خواجہ کے خلاف بینر لگوا دیے‘ یہ بینر سوشل میڈیا پر شیئر ہونے لگے‘ یہ اخبارات میں بھی تصویر اور خبر کی شکل میں شایع ہو ئے اور ٹیلی ویژن چینلز نے بھی ان کی خبر نشر کر دی‘ جسٹس جواد ایس خواجہ نے 26 مئی کو ان بینرز کا نوٹس لے لیا‘ جسٹس صاحب نے اٹارنی جنرل‘ آئی جی اور ایس ایس پی اسلام آباد سے استفسار کیا‘ وفاقی حکومت اور پولیس متحرک ہوئی‘ 27 مئی کو تھانہ آبپارہ میں پولیس کی مدعیت میں دفعہ 504 اور 505(2) کے تحت ایف آئی آر درج ہوئی۔
پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے شروع کیے اور راولپنڈی کے ایک پینٹر شفیق بٹ اور اس کے 16 سال کے معاون محمد ناصر کو گرفتار کر لیا‘ اٹارنی جنرل سلیمان اسلم بٹ نے اگلے دن یعنی 28 مئی کو سپریم کورٹ کو ملزمان کی گرفتاری کی نوید سنا دی‘ سپریم کورٹ پولیس اور حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہو گئی یوں ایک کہانی ختم ہو گئی لیکن دوسری کہانی شروع ہو گئی‘ یہ پینٹر شفیق بٹ اور اس کے ہیلپر محمدناصر کی کہانی ہے۔
شفیق بٹ راولپنڈی کا ایک معمولی پینٹر ہے‘ یہ بنی کے علاقے میں جامع مسجد روڈ پر پل شاہ نذر کے قریب رہتا ہے‘ یہ 1964ء میں بچہ تھا‘ اسکول جاتا تھا‘ والد کا انتقال ہو گیا‘ پورے گھر کی ذمے داری دس سال کے بچے کے کندھوں پر آ گئی‘ یہ پیدائشی مصور تھا‘ ڈرائنگ اور خط اچھا تھا چنانچہ اس نے دس سال کی عمر میں وال چاکنگ شروع کر دی‘ یہ برش لے کر دیواروں پر اشتہار لکھنے لگا‘ شفیق بٹ کا کام چل نکلا‘ یہ چاکنگ اور بینر لکھنے کا کام کرنے لگا‘ یہ سلسلہ چلتا رہا۔
1980ء کی دہائی میں راولپنڈی میں منشیات عام ہو ئیں‘ بنی کے نوجوان بھی چرس‘ افیون اور ہیروئن کی لت میں مبتلا ہونے لگے‘ شفیق بٹ نے نوجوانوں کو نشے کے ہاتھوں برباد ہوتے دیکھا تو اس نے1992ء میں ’’نجات‘‘ کے نام سے نشیوں کی بحالی کا مرکز قائم کیا‘ یہ اپنی کمائی کا ایک حصہ ’’نجات‘‘ میں خرچ کرنے لگا‘ یہ مرکز چل پڑا‘ یہ مرکز آج ٹرسٹ بن چکا ہے‘ یہ ٹرسٹ سیکڑوں ہزاروں نوجوانوں کو بحال کر چکا ہے‘ شفیق بٹ راولپنڈی میں دو اولڈ پیپل ہوم بھی چلا رہا ہے۔ میں آپ کو پینٹرز کے کام کی بھی ذرا سی تفصیل بتاتا چلوں‘ پینٹرز کا کام شاگردوں اور ٹھیکے کی بنیاد پر چلتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم میں سے بعض لوگوں کو خوش خطی اور پینٹنگ کا ٹیلنٹ دے کر دنیا میں بھجواتا ہے‘ ہم میں سے ہر 13 واں شخص آرٹسٹ یا پینٹر ہوتا ہے‘ یہ لوگ اگر غریب اور پسماندہ علاقوں میں پیدا ہو جائیں تو یہ ذلیل و خوار ہو جاتے ہیں‘ لوگ ان کا مذاق بھی اڑاتے ہیں اور انھیں پتھر بھی مارتے ہیں‘ یہ لوگ غربت کی وجہ سے بچپن ہی میں وال چاکنگ اور بورڈوں کی لکھائی شروع کر دیتے ہیں‘ یہ کام بڑے شہروں میں ہوتا ہے چنانچہ یہ لوگ دیہات اور قصبوں سے بھاگ کر بڑے شہروں میں آ جاتے ہیں‘ شہروں کے پینٹر انھیں اپنا شاگرد بنا لیتے ہیں‘ یہ شروع میں چاکنگ کے لیے دیواروں پر سفیدی کرتے ہیں‘ یہ لوگ تیار شدہ بینر لٹکانے کا کام بھی کرتے ہیں‘ یہ ان پڑھ ہوتے ہیں‘ یہ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے‘ قدرت انھیں لفظوں کی نقالی کا ملکہ دے دیتی ہے‘ یہ حرف اور لفظ دیکھتے ہیں اور اس کو کاپی کر دیتے ہیں۔
آپ فلموں کے اشتہاروں میں عموماً ایک عجیب وغریب لفظ دیکھتے ہوں گے ’’آجشبکو‘‘۔ یہ لفظ تین الفاظ آج‘ شب‘ کو کا مجموعہ ہے‘ کسی پینٹر نے ان تینوں لفظوں کو اکٹھا لکھ کر ’’آجشبکو‘‘ بنا دیا تھا اور یہ آج تک آجشبکو چلا آ رہا ہے‘ پینٹر کے شاگرد جب تیار ہو جاتے ہیں تو یہ انھیں ٹھیکیدار بنا دیتے ہیں‘ یہ ٹھیکیدار شاگرد کام تلاش کرتے ہیں‘ بینر تیار کرتے ہیں‘ بینر لٹکاتے ہیں‘ معاوضے کا 75فیصد خود رکھ لیتے ہیں اور 25فیصد استاد کو دے دیتے ہیں‘ یہ استاد کی ’’گڈ ول منی‘‘ ہوتی ہے‘ شفیق بٹ کے پاس بھی درجن بھر شاگرد ہیں‘ مئی کے آخری عشرے میں شفیق بٹ کا ایک ہمسایہ اس کے شاگرد کے پاس آیا‘ رقم دی اور چھ سات بینرز کی تیاری کا آرڈر دے دیا‘ شاگرد نے بینر تیار کر دیے۔
یہ ہمسایہ دوسرے شاگرد محمد ناصر کو ساتھ لے کرگیا اورآبپارہ میں بینر لگوا دیے یوں یہ جاب ختم ہو گئی‘ بینر لگانے والے محمد ناصر کی عمر سولہ سال ہے‘ یہ کبیر والا کا رہنے والا ہے‘ ان پڑھ اور غریب ہے‘ یہ غربت سے بھاگ کر راولپنڈی آیا تھا‘ یہ روزانہ سو ڈیڑھ سو روپے کماتا ہے اور یہ سو ڈیڑھ سو روپے کبیر والا میں اس کے خاندان کی کفالت کا واحد ذریعہ ہیں‘ یہ لوگ کبھی سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے سے نہیں گزرے‘ یہ جسٹس‘ قانون اور وکیلوں کے نام تک سے واقف نہیں ہیں‘ یہ جسٹس جواد ایس خواجہ اور ان کے خاندان کے بارے میں بھی کچھ نہیں جانتے‘ یہ بینر بنانے اور لگانے والے انتہائی غریب لوگ ہیں۔
گلی کے ایک شخص نے انھیں بینر بنانے اور لگانے کا آرڈر دیا اور انھوں نے کاغذ پر لکھے ہوئے لفظوں کی نقالی کر دی مگر سپریم کورٹ نے جب نوٹس لیا تو کاغذ پر عبارت لکھنے‘ بینر کا آرڈر دینے اور بینر لگوانے والے بچ گئے لیکن یہ مزدور پکڑے گئے‘ شفیق بٹ اور ان کے شاگردوں نے پولیس کو بینرز کا آرڈر دینے اور بینر لگوانے والے کا نام اور پتہ تک دیا تھا۔
یہ اس گاڑی تک کی نشاندہی کر چکے ہیں جس کے ذریعے ان لوگوں کو بینر لگوانے کے لیے اسلام آباد لایا گیا تھا مگر پولیس نے آج تک اصل مجرم پر ہاتھ نہیں ڈالا جب کہ شفیق بٹ اور سولہ سال کا محمد ناصر 27 مئی سے جیل میں ہیں اور ملک کی کوئی عدالت سپریم کورٹ کی وجہ سے ان کی ضمانت لینے کے لیے تیار نہیں ‘ راولپنڈی کے چند اہل دل نے سیشن کورٹ میں محمد ناصر کی ضمانت کی درخواست جمع کروائی مگر عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی‘ آخر چھوٹی عدالتیں ملک کی سب سے بڑی عدالت کا بوجھ کیسے اٹھا سکتی ہیں۔
میری جسٹس جواد ایس خواجہ اور چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس تصدق حسین جیلانی سے درخواست ہے‘ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر سوچئے‘ سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات سے جب شفیق بٹ اور محمد ناصر جیسے لوگ گرفتار ہو جائیں گے تو ملک کی کون سی عدالت ان کی ضمانت لے گی‘ کون سی عدالت انھیں بے گناہ قرار دینے کا رسک لے گی؟ آپ ملک میں انصاف کی صورتحال بھی ملاحظہ کر لیجیے‘ بینر کا آرڈر دینے اور لگوانے والے آزاد ہیں مگر ان پڑھ اور غریب پینٹرز جیلوں میں سڑ رہے ہیں‘ یہ ہے ہمارے ملک کا انصاف اور قانون ۔ ہم اس قانون اور اس طرز انصاف کے ساتھ کتنی دیر زندہ رہ لیں گے۔
آپ دل پر ہاتھ رکھ کر چند لمحوں کے لیے سوچئے‘ مجھے یقین ہے آپ کو اپنے دل سے شفیق بٹ اور محمد ناصر جیسے بے بس لوگوں کی چیخوں کی آوازیں آئیں گی‘ میں آپ کی توجہ ایک دوسرے مقدمے کی طرف بھی مبذول کرانا چاہتا ہوں‘ آپ کو یاد ہو گا نومبر 2010ء میں حج سکینڈل سامنے آیا تھا‘ سپریم کورٹ کے نوٹس پر اس وقت کے ڈی جی حج رائو شکیل کو گرفتار کر لیا گیا تھا‘ مکہ اور مدینہ میں رہائش گاہوں کے تعین میں ڈی جی راؤ شکیل کا کوئی عمل دخل نہیں تھا‘ حج کے معاملات کی تمام منظوریاں وزارت مذہبی امور‘ وفاقی کابینہ اور وزیراعظم نے دیں‘ راؤ شکیل کے پاس ان منظوریوں کے تمام تحریری ثبوت بھی موجود ہیں۔
ان کا دعویٰ ہے ’’ یہ مان بھی لیا جائے میں ان انتظامات کا ذمے دار تھا تو بھی اس سال رہائش گاہیں کم کرائے پر حاصل کی گئی تھیں اور رہائش گاہوں کے مالکان نے حاجیوں کو رقم بھی واپس کی تھی‘‘ لیکن کیونکہ یہ مقدمہ چیف جسٹس کے سوموٹو نوٹس پر قائم ہوا تھا اور راؤ شکیل سپریم کورٹ کے دباؤ پر گرفتار ہوئے تھے چنانچہ یہ 45 ماہ سے جیل میں پڑے ہیں اور کوئی جج‘ کوئی تفتیشی ادارہ اور کوئی تفتیشی افسر ان کی بات سننے کے لیے تیار نہیں‘ یہ اگر واقعی ملزم ہیں تو پھر انھیں سزا کیوں نہیں دی جاتی اور یہ اگر بے گناہ ہیں تو ان کی ضمانت قبول کیوں نہیں ہورہی؟ کیا یہ باقی زندگی فیصلے کے بغیر جیل میں گزاریں گے؟ اگر ہاں تو کیا یہ انصاف ہو گا؟ کیا ہماری عدلیہ‘ ہمارے قانون اور ہمارے نظام کے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب ہے اور کیا ہم ’’ جس کے گلے میں پھندا آ جائے اسے لٹکا دیں‘‘ کی پالیسی کے ساتھ ملک کو چلا لیں گے۔
جسٹس صاحب آپ ایک لمحے کے لیے یہ ضرور سوچئے ‘ یہ ممکن ہے آپ کے نام پر لوگوں کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہو۔

بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس
19 مارجون 014ء

آسان موت

امر جلیل کے کالم ’’خشونت سنگھ کہیں نہیں گئے‘‘ سے اقتباس۔

موت اور مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے ایک ایسا راز ہے، ایسا معمہ ہے جس کو حل کرنا امکان سے باہر ہے۔ موت کا معمہ انسان کو وسوسوں اور وہموں اور سنی سنائی باتوں پر مبنی عقیدوں میں مبتلا کرتا رہے گا۔ اس موضوع پر خشونت سنگھ اس قدر عمیق گہرائیوں میں اتر گئے کہ ان کی آخری تحریروں میں، میں نے انہیں مرنے کے لئے تیاری کرتے ہوئے محسوس کیا۔
ایک جگہ انہوں نے لکھا تھا کہ آسانی سے اور ہلکا پھلکا مرنے کے لئے اپنے کندھوں سے بوجھ اتارو، قرضے اتارو، حقداروں کو حق دو، اشیا سے محبت کرنا چھوڑ دو، کچھ چھپا کر مت رکھو، اپنے خالی ہاتھ کھلے رکھو، موت آسان ہو جائے گی۔

بحوالہ: روزنامہ جنگ، لاہور۔ یکم اپریل 2014ء

حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓخواتین کی آئیڈیل رہنما

حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓخواتین کی آئیڈیل رہنما۔ ڈاکٹرسمیحہ راحیل قاضی

مارچ کامہینہ آتے ہی اقوام عالم میں عورت کے حقوق، مساوات اورآزادی کے نعرے بلند آہنگ کے ساتھ گونجنے لگتے ہیں۔ اخبارات ایڈیشن نکالتے ہیں۔سول سوسائٹی اور این جی اوز پنج ستارہ ہالوں میں کانفرنسیں کرتی ہیں۔ کروڑوں روپے کے اخراجات سےمختلف سرگرمیاں سرانجام پاتی ہیں۔حکومت بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہتی اور بلند و بانگ دعوئوں کے ساتھ سرکاری تقریبات بھی منعقد کی جاتی ہیں مگر عام عورت کی قسمت میں ہر سال وہی محرومی ، مجبوری اور زندگی کی تلخیاں برقرار رہتی ہیں کیونکہ صرف اُسی تلخی ، محرومی اور مجبوری ہی کا ہر طرف آوازہ جوگونج رہاہوتاہے۔ ایسے میں ہر باشعور پاکستانی کایہ فرض ہے کہ حقائق اور اعداد و شمار کی روشنی میں زندگی کی ان تلخیوں اور محرومیوں کو بھی کم کرنے کی کوشش کرے اور اس کے ساتھ ساتھ زندگی کی ان خوشیوں اور رعنائیوں کابھی ذکر کرے جو ہمارا معاشرہ ، ہماری اقدار اور ہمارا دین ہماری زندگیوں میں شامل کرتاہے۔ اسی سلسلے میں ویمن اینڈ فیملی کمیشن جماعت اسلامی پاکستان کے زیر اہتمام ایک مشاورت میں یہ طے پایا کہ ہم ہر سال کسی ایک نامور مسلم خاتون کو بطور رول ماڈل دنیاکے سامنے لائیں تاکہ ہماری روایتی معاشرے کی غیر اسلامی رسوم کی اڑتی ہوئی دھول میں ان خواتین کا جو موثر کردار زمانے کی نظروں سے اوجھل ہوگیا ہے اُسے سامنے لایاجائے۔ چنانچہ اس سال کا یوم خواتین سیرت حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ کو بطور رول ماڈل سامنے لانے کا فیصلہ ہوا۔
انسانی تاریخ میں حضرت خدیجۃ الکبریٰ طاہرہ ؓ کی طرح کی خواتین کم ہی نظر آتی ہیں جنہوں نے خواتین کے لئے عمل کی راہیں آسان تر اور روشن تر بنائی ہیں۔ اُن کی یہ عظمت تو قابل رشک ہے ہی کہ وہ حضور نبی کریمﷺپر پہلی ایمان لانے والی انسان ہیں۔ مگر اُن کی یہ عظمت ہمای نظروں سے پوشیدہ رہتی ہے کہ انہوں نے خود اپنے لئے اُس ذات بابرکات کو تلاش کیا اور منتخب کیا جس کے لئے اقبال ؒ کہتے ہیں کہ
آیۂ کائنات کامعنی دیریاب تو
نکلے تیری تلاش میں قافلہ ہائے کو بہ کو
انہوں نے عرب کی مالدار ترین خاتون ہوتے ہوئے امیرترین رئوسائے عرب کے رشتے ٹھکرائے اور اُس دُرِّ یتیم کو جسے محبوب دوجہاں بنناتھا۔ اس وقت پہچانا جب ابھی اس کے گوہر کو اللہ نے آشکار نہ کیاتھا۔ یہ حضرت خدیجہ ؓ کی فراست کی انتہاتھی اور ان کے مقدر کی خوش نصیب تابانی کہ حضور نبیﷺنے اپنے سے پندرہ سال بڑی اور دودفعہ بیوہ ہوجانے کے بعد بھی اُن کاپیغام قبول کیا اور روئے زمین کے سب سے بڑے خوش قسمت جوڑے ہونے کااعزاز اُن کے حصہ میں آیا۔
آج یوم خواتین پر حقوق نسواں اور عورت کی آزادی اور مساوات کا بڑاچرچا ہے مگر ہم اُن خواتین کا وہ معاشرتی رول دنیاکے سامنے نہیں لاپا رہے اور نہ ہی اُس پر عمل درآمد کے لئے کوئی طریقہ کار وضع کررہے ہیں۔ حضرت خدیجہ ؓ کا یہ فیصلہ کہ انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ کو خود منتخب کیا۔ اُن کی رائے کی آزادی اور ان کے حقوق کے حاصل ہونے کاایسا اعلان ہے کہ جس کا کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔ سیرت نبویﷺپر غور کریں تو ایک عرب شاعر نے اُن پر طنز کرتے ہوئے شعرکہاتھاکہ ’’جب سے اس دنیا میں محمد ﷺ آئے ہیں ، عورت کے حقوق کابڑا چرچاہے۔ ‘‘
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری عمر حضرت خدیجہ ؓ کابہت پیار اور احترام سے ذکرکیاکیونکہ انہوں نے وفا محبت اور قربانی کی لازوال داستان رقم کی ہے۔ خاندان نبوت کی ایسی آبیاری کی ہے کہ اُس میں اپنا تن بھی جلایا، اپنے من کو بھی وفا کی بھٹی میں تپایا اور اپنے دھن کو بھی قربان کیا۔ وہ مکہ کی انتہائی کامیاب اور مشہور تاجرہ تھیں جن کے تجارتی قافلے شام اور یمن تک تجارت کے لئے جایاکرتے تھے ، ۔ لیکن پھر شعب ابی طالب کی گھاٹیوں میں تین سال تک حضور اکرمﷺ کے ساتھ ایثار و قربانی کا ایسا رشتہ نبھایا کہ تاریخ اس طرح کی مثال دینے سے قاصر ہے۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو بطور رول ماڈل سامنے رکھتے ہوئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارا معاشرہ ان کے تاریخ ساز کردار سے عمل کی راہوں کو روشن کرسکے۔ ہم بھی اپنی عورتوں کو ویسے ہی حقوق دیں ۔ اُن کی اسی طرح سے حوصلہ افزائی کریں ۔ انہیں محبت اور حفاظت کے حصار مہیا کریں کیونکہ ایک روایت کے مطابق بی بی حوا کو حضرت آدم ؑ کی پسلی سے پیداکیاگیا اور پسلی دل کے قریب اور بازو کے نیچے ہوتی ہے۔ عورت کی فطرت کو اسی طور پر پیداکیاگیا کہ وہ محبت سے حفاظت کی محتاج ہوتی ہے اور جس عورت کو بھی یہ حصار میسر آجائیں وہ ہر ناممکن کام کو ممکن کرجاتی ہے۔ ہماری یہ بد قسمتی رہی ہے کہ جس تاریخ اور جس معاشرے کو مردوں اور عورتوں نے مل کر بنایاہے اُس میں سے عورت کو غائب کردیا گیاہے۔ اسی لئے دنیا نے ہماری تاریخ اور معاشرے دونوں کا ادھورا اور ناقص تصور لے لیا ہے۔اسلام کا خوبصورت اور روشن چہرہ دنیا کو دکھانے کے لیے ہمیں ان منور کرداروں کو سامنے لاناہوگا جنہوں نے روایت شکن اقدامات کرکے عورت کو ان کے حقوق دلائے ۔ سب سے پہلے حضور نبی کریمﷺکی ایسی دلجوئی کی اور تسلی کے وہ تاریخی الفاظ رقم کیے جن سے حضور نبی ﷺ کی شفیق ہستی کو وحی کی گران بار ذمہ داریاں سنبھالنے میں ڈھارس ملی۔ وہ نبوت کی پہلی ڈھال بنیں اور ہر جگہ اپنے محبوب شوہر کی غم گساری کی ۔
حضور نبی کریم ﷺنے بھی اُن کی ایسی حوصلہ افزائی کی کہ اُن کی صلاحیتیں اور بھی پروان چڑھیں اور اُن کے اعتماد میں مزید اضافہ ہوا۔ اُن کے ہوتے ہوئے حضورﷺ نے کوئی اور نکاح نہ کیا۔ یہ بھی اُن کا ایک بہت مبارک اعزاز ہے کہ اُن کی وجہ سے خانۂ نبوت کو اولاد عطا ہوئی ۔اُن کی اتنی منفرد اور بابرکت ذات تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو نوع انسانی کے سب سے مبارک گھرانے کامرکز محبت بنایا۔ عورت اپنے خاندان اور گھر کامرکز محبت ہوتی ہے اسی لئے قرآن کریم میں صنفی مساوات کاذکر کرتے ہوئے اللہ رب العالمین فرماتاہے۔
ترجمہ :جواب میں اُن کے رب نے فرمایا ’’میں تم سے کسی کا عمل ضائع کرنے والانہیں ہوں۔ خواہ مرد ہو یا عورت ،تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو۔ لہٰذا جن لوگوں نے میری خاطر اپنے وطن چھوڑے اور جو میری راہ میں اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے اور میرے لیے لڑے اور مارے گئے اُن کے سب قصور میں معاف کردوں گا اور انہیں ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ ا ُن کی جزا ہے اللہ کے ہاں اور بہترین جزااللہ ہی کے پاس ہے۔‘‘( سورہ آل عمران:۱۹۵)
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت کے بعد حضرت خدیجہ ؓ نے ایک لمحہ کی تاخیر کیے بغیر اسلام قبول کیا اور آپ کی نبوت کی تصدیق کرتے ہوئے آپ پر ایمان لائیں ۔علامہ ابن اثیر اپنی مشہور کتاب اسرالغلبۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں لکھتے ہیں کہ ’’وہ خلق خدا میں سب سے پہلے اسلام لانے والی تھیں۔ اس معاملہ میں نہ کسی مرد اور نہ کسی عورت نے اُن سے سبقت کی۔ ‘‘
ہم بھی آج حضرت خدیجہ ؓ کے کردار کو سامنے رکھتے ہوئے وطن عزیز میں عورت کے لئے راہ عمل متعین کریں ۔ معاشرے میں اُس کے استحصال پر کڑی نظر رکھیں اور اُس کے لئے محبت اور حفاظت کا ماحول بنانے کاانتظام کریں ۔مردوں کے اس معاشرے میں حضور نبی ﷺکی سیرت کی شفقت کو عام کریں اور وہی ماحول بنائیں جس میں زندہ درگور ہوتی عورت کو انسانیت کا شرف ملا۔ سر اٹھاکر جینے کا سلیقہ ملا ، رائے کی آزادی ملی اور اس کی صلاحیتوں کو اُجاگر کیا گیا اور اس کی حوصلہ افزائی کی گئی ۔ اُس کے خاندان کے مرکز محبت ہونے کے کردار کو ہی اتنی اہمیت دی گئی کہ اُس دور کی عورت کو اس غلط فہمی کا موقع ہی نہ مل سکا کہ گھر ایک قید خانہ ہے۔ اُس نے گھر کو جنت بناکر اُسی کردار کو اتنا فعال طریقے سے ادا کیاکہ اُس نے ایک ایسی نسل تیار کی کہ جس نے وہ معاشرہ تخلیق کیا جو آج بھی ڈیڑھ ارب انسانوں کے لیے آئیڈیل کی حیثیت رکھتاہے۔ آئیں اس یوم خواتین پر اُنہی مدہم ہوتے ہوئے نقوش کو تازہ کریں جن میں ہمارے پاس دنیا کی امامت بھی تھی اورآخرت کی فضیلت بھی۔ ہم نے اپنی تاریخ بھی فروزاں کی تھی اور ہمارا جغرافیہ بھی پھیل رہاتھا۔ اپنی اُس کھوئی ہوئی عظمت کو بازیاب کرانے کے لئے آئیں حضرت خدیجہ ؓ کے قدموں میں بیٹھ کر اپنے لیے عمل کی راہیں تلاش کریں اور اپنے حصے کی شمع جلاتے جائیں۔

بشکریہ: روزنامہ جنگ، جنگ گروپ آف پاکستان
8۔مارچ۔2014ء

خامہ بگوش کے قلم سے

نوری نستعلیق کا ذکر آیا تو ایک لطیفہ بھی سن لیجیے۔ کچھ عرصہ ہوا نوری نستعلیق کے موجد جناب جمیل مرزا نے ایک پریس کانفرنس کی تھی۔ اس کے بعد عشائیہ بھی تھا۔ جمیل مرزا صاحب نے ایک صحافی سے پوچھا: ’’کیا آپ کو کھانا پسند آیا؟‘‘ صحافی نے جواب دیا: ’’بہت مزے کا کھانا ہے۔ ایسا معلوم ہو رہا ہے جیسے میں نوری نستعلیق نگل رہا ہوں۔‘‘
معاف کیجیے، ہم کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ بات شعروں سے شروع ہوئی تھی اور ہم یہ عرض کر رہے تھے کہ مذکورہ شعر ہماری تصنیفِ لطیف نہیں ہیں۔ ممکن ہے بعض لوگ انھیں مولانا کوثر نیازی کے رشحاتِ فکر سمجھیں لیکن یہ بھی درست نہیں کیوں کہ تیسرے شعر میں تانیث کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ مولانا صاحب اپنی سیاسی وفاداریاں بدل سکتے ہیں، صیغہ نہیں بدل سکتے۔
تمھاری یاد میں بکھر بکھر جاتا ہوں
خود سے پوچھتا ہوں کیا سبب تھا بے وفائی کا
زندگی کی طلب ہے نہ مرنے کا مؤقف
جانے کیسے بے دلی کے عالم میں جی رہے ہیں ہم
ہزار تلخیاں ہیں اپنی ذات کے ساتھ
میں کہاں بھٹک گئی ہوں تیری یاد کے ساتھ
قارئین کرام کو زیادہ دیر تک سسپنس میں رکھنا مناسب نہیں، لہٰذا ہم بتائے دیتے ہیں کہ مذکورہ اشعار گلوکارہ ناہید اختر کے ہیں۔ لاہور کے ایک اخبار میں موصوفہ کا ایک انٹرویو شائع ہوا ہے جس میں انھوں نے انکشاف کیا ہے کہ:’’ یوں تو مجھے شروع ہی سے شعر گوئی کا شوق تھا لیکن گلوکاری کی مصروفیات کی وجہ سے میں اپنا شوق پورا نہ کرسکی۔ گزشتہ تین چار برس سے شعر کہنے کا شوق پھر زور پکڑ گیا تو میں نے طبع آزمائی شروع کر دی اور اب تک کئی غزلیں لکھ چکی ہوں۔‘‘
محترمہ کا نمونۂ کلام دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں شعر کہنے کی صلاحیت بدرجۂ اتم موجود ہے۔ کاش وہ گلوکاری کی مصروفیات کو بہانہ بنا کر شاعری کے شوق کو نہ دبائیں۔ مصروفیات تو قتیل شفائی اور اقبال صفی پوری کی بھی تھیں لیکن انھوں نے کبھی اپنے شوق کو نہیں دبایا۔ ہمیشہ شاعری کو دباتے رہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ شاعری اس حد تک دب گئی ہے کہ آج ان دونوں کا شمار بڑے شاعروں میں ہوتا ہے۔
بہرحال یہ امر مسرت کا باعث ہے کہ گزشتہ تین چار برسوں سے ناہید اختر کا شوقِ شاعری زور پکڑ گیا ہے۔ شاید اسی زور آزمائی کا نتیجہ ہے کہ ان کے شعر عروض کی پٹڑی سے اتر گئے لیکن یہ کوئی اعتراض کی بات نہیں۔ اچھے شعر کے لیے ضروری نہیں کہ وہ عروض کا پابند ہو۔ جب کسی شعر میں کام کی اور بہت

سی باتیں ہوں، عروض تو کیا معنوں کو بھی بآسانی نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔ محترمہ کے جو تین شعر اوپر درج کیے گئے ہیں ان میں بے شمار خوبیاں ہیں۔ مثلاً پہلے شعر ہی کو لیجیے۔ اس میں محترمہ نے اپنے لیے تذکیر کا صیغہ استعمال کیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کی سکت رکھتی ہیں۔ کسی کی بے وفائی کا سبب انھوں نے اپنے آپ سے پوچھا ہے، کوئی کم ہمت ہوتا تو فال نکالنے والے توتے سے پوچھتا۔
اگر ہم صاحبِ دیوان ہوتے تو اپنا دیوان دے کر محترمہ سے ان کے تینوں شعر لے لیتے۔ اب ہم یہی کر سکتے کہ محسن بھوپالی کے تینوں دیوان محترمہ کے حوالے کر دیں اور محترمہ کے تینوں شعر محسن بھوپالی کو سونپ دیں۔ سودا بُرا نہیں۔ محسن صاحب فائدے ہی میں رہیں گے کیوں کہ محترمہ نے اعلان کیا ہے کہ آیندہ وہ ٹی وی پر خود اپنا کلام گایا کریں گی۔ محسن بھوپالی کے کلام کو جب وہ اپنا کلام سمجھ کر گائیں گی تو یہ کلام زبان زدِ خاص و عام ہوجائے گا۔
ممکن ہے بعض لوگ یہ پوچھیں کہ ناہید اختر کے تین شعر محسن بھوپالی کے کس کام آئیں گے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ تینوں دیوان ناہید اختر کو دے دینے کے بعد محسن بھوپالی کے پاس کچھ نہ کچھ رہنا چاہیے۔ اگلے سال ساداتِ امروہہ کے مشاعرے میں انھیں کلام سنانا ہی ہوگا۔ یہ تین شعر وہاں کام آئیں گے۔ یہ دوسری بات ہے کہ ساداتِ امروہہ کے مشاعروں میں شعروں سے زیادہ شاعر کام آتے ہیں۔
ناہید اختر نے بتایا کہ ان میں شعر گوئی کا شوق احمدفراز اور پروین شاکر کی شاعری کے مطالعے سے پیدا ہوا ہے۔ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ فراز اور پروین کی شاعری کے مطالعے کا کوئی مثبت نتیجہ ظاہر ہوا‘ ورنہ اب تک تو ہم نے یہی دیکھا تھا کہ ان دونوں کے کلام سے متاثر ہو کر لوگ شاعری ترک کر دیتے تھے۔

ویسے بھی آج کل زمانہ بہت خراب ہے۔ ہم نے کئی ایسے استاد دیکھے ہیں جو اصلاح کے بہانے شاگردوں کا کلام ہتھیالیتے ہیں۔ اس سلسلے میں استاد اختر انصاری اکبر آبادی کا ایک واقعہ ان کے شاگرد سلطان جمیل نے سنایا ہے۔ سلطان جمیل اب تو اپنے منہ کا مزہ بدلنے اور دوسروں کے منہ کا مزہ خراب کرنے کے لیے

افسانے لکھتے ہیں لیکن کسی زمانے میں شعر بھی کہا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ انھوں نے اپنی ایک غزل استاد کو اصلاح کے لیے دی۔ کچھ دنوں بعد شاگرد نے غزل واپس مانگی تو استاد نے کہا: ’’میاں طبیعت پر زور دے کر شعر کہا کرو تمھاری غزل تو بڑی بے مزہ تھی۔ اصلاح کی گنجائش بالکل نہیں تھی، اس لیے میں نے پھاڑ کر پھینک دی۔‘‘
کچھ عرصے بعد یہی غزل استاد نے اپنے رسالے میں اپنے نام سے شائع کر دی۔ شاگرد نے دیکھی تو شکوہ کیا: ’’استاد! آپ نے تو کہا تھا کہ غزل پھاڑ کر پھینک دی، پھر یہ رسالے میں آپ کے نام سے کیسے چھپ گئی؟‘‘ استاد نے فرمایا: ’’میاں غلطی ہوگئی۔ جیب میں تمھاری غزل رکھی تھی اور میری بھی۔ اپنی غزل میں نے پھاڑ کر پھینک دی اور تمھاری غزل کاتب کے حوالے کر دی۔ آیندہ اصلاح کے لیے مجھے تم دو غزلیں دینا تاکہ ایک پھاڑ کر پھینک دوں تو دوسری اصلاح کے بعد تمھیں واپس کر دوں۔‘‘
(/9اگست 1985ء)
قافیہ و ردیف کا بوجھ
ہم تین چیزوں سے بہت ڈرتے ہیں۔ تجریدی مصوری سے، علامتی افسانے سے اور اساتذہ کے کلام سے۔ وجہ یہ ہے کہ اِن تینوں کے مفہوم اخذ کرنا ناظر یا قاری کی ذمہ داری ہے نہ کہ مصور، افسانہ نگار اور شاعر کی۔ مصور الوان و خطوط سے، افسانہ نگار الفاظ سے اور اساتذۂ سخن ردیف و قوانی سے فن پارے کو اِس حد تک گراں بار کر دیتے ہیں کہ اُس میں مزید کوئی بار اُٹھانے کی گنجائش نہیں رہتی۔ لہٰذا مفہوم و معنی کا یہ بار ہم جیسے ناتوانوں کو اُٹھانا پڑتا ہے۔ میر تقی میر کو بھی اِس قسم کا تجربہ ہوا تھا جس کا ذکر اِس شعر میں ملتا ہے:
سب پہ جس بار نے گرانی کی
اُس کو یہ ناتواں اُٹھا لایا
ہم تجریدی مصوری کی نمائشوں میں کبھی نہیں جاتے، یہاں تک احتیاط برتتے ہیں کہ جب شہر میں اِس قسم کی کوئی نمائش ہوتی ہے، تو گھر سے باہر نہیں نکلتے کہ کہیں فضائی آلودگی ہم پر بھی اثر انداز نہ ہوجائے۔ علامتی افسانے لکھنے والوں کا سامنا کرتے ہوئے گھبراتے ہیں کہ انھوں نے گفتگو میں علامتوں سے کام لیا تو ہمارا حشر بھی وہی ہوگا جو افسانے کی صنف کا ہوا ہے۔ اساتذۂ سخن کا ہم بے حد ادب کرتے ہیں اور اِسی وجہ سے ہم نے کبھی ان سے بے تکلف ہونے کی جسارت نہیں کی۔ یعنی ان کے دواوین کے قریب جانا اور چھونا تو کیا، انھیں دور سے دیکھنا بھی ہمارے نزدیک سوئِ ادب ہے۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ جب ہم اسکول میں پڑھتے تھے، تو بڑی جماعتوں کے طالب علموں کو اُن کی شرارتوں پر جو سخت سزا دی جاتی تھی وہ یہ تھی کہ اُن سے استاد ذوق کی کسی غزل کی شرح لکھوائی جاتی تھی۔ یہی سبب ہے کہ ہم نے بڑی جماعتوں میں پہنچنے سے پہلے ہی سلسلۂ تعلیم منقطع کر لیا۔ معلوم نہیں آج کل اسکولوں میں اِس قسم کی سزائیں دینے کا رواج

ہے یا نہیں۔ اگر ہوگا تو یقینا استاد اختر انصاری اکبر آبادی کا کلام سزا دینے کے کام آتا ہوگا۔ یہ بات ہم نے بلاوجہ نہیں کہی۔ سلطان جمیل نسیم نے یہ واقعہ ہمیں سنایا ہے کہ حیدرآباد میں ایک مجرم کو پندرہ کوڑے کھانے یا استاد کی پندرہ غزلیں سننے کی سزا دی گئی۔ سزا کے انتخاب کا حق استعمال کرتے ہوئے مجرم نے کوڑے کھانے کا فیصلہ کیا کیونکہ یہ سزا نسبتاً نرم تھی۔ سلطان جمیل نسیم چونکہ افسانہ نگارہیں، اِس لیے ممکن ہے بعض لوگ اِس واقعے کو درست نہ سمجھیں، لیکن ہمارا خیال ہے کہ کسی افسانہ نگار کا سہواً کسی واقعے کو صحیح بیان کر دینا خارج از اِمکان نہیں۔
استاد اختر انصاری شاعر ہی نہیں، ایک رسالے کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ رسالہ تو کبھی کبھی چھپتا ہے لیکن دیوان ہر سال باقاعدگی سے شائع ہوتا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں استاد کا بیسواں دیوان شائع ہوا تھا، تو وہ اُسے اپنے عقیدت مندوں میں قیمتاً تقسیم کرنے کے لیے کراچی تشریف لائے تھے۔ اِس سلسلے میں وہ ہم سے بھی ملے تھے۔ ہم نے عرض کیا تھا: ’’استاد! ہم اِس شرط پر قیمت ادا کریں گے کہ دیوان آپ کسی اور کو دے دیں۔‘‘ اس گزارش سے وہ بے حد خوش ہوئے اور فرمایا: ’’اگر سب عقیدت مند آپ کی طرح کے ہوں، تو پھر دیوان چھپوائے بغیر ہی اُس کا پورا ایڈیشن فروخت ہوسکتا ہے۔‘‘
جس طرح پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں، اُسی طرح تمام استاد بھی یکساں طور پر استادی کے درجے پر فائز نہیں ہوتے۔ حضرت تابش دہلوی کا شمار بھی اساتذۂ فن میں ہوتا ہے۔ لیکن اُن کی خوش گوئی اور خوش فکری میں کلام نہیں۔ بلاشبہ وہ ہمارے مقبول شاعروں میں سے ہیں۔ ہمارے دل میں ان کا بے حد احترام ہے۔ اسی لیے ہم نے ان کے مجموعہ ہائے کلام کو ادباً دور ہی سے دیکھا ہے۔ ان کے نئے مجموعے کو قریب سے دیکھنے کی اتفاقی صورت یوں پیدا ہوگئی ہے کہ پچھلے دنوں ہم حیدر آباد سندھ جا رہے تھے، بس میں ہمارے ساتھ جو صاحب بیٹھے تھے، اُن کے ہاتھ میں ایک کتا ب تھی جسے وہ بڑے انہماک سے پڑھ رہے تھے۔ ہمیں اُن صاحب
کی بد ذوقی پر حیرت ہوئی کہ بس کے تمام مسافر تو ڈرائیور کے ذاتی ریڈیو اسٹیشن سے نشر ہونے والے نازیہ اور زوہیب کے نئے گانوں سے محظوظ ہو رہے ہیں اور یہ صاحب کتاب پڑھ رہے ہیں۔ اسی دوران میں بلا ارادہ ہماری نظر اُس صفحے پر پڑی جو موصوف کے سامنے کھلا تھا۔ اس پر جلی حرفوں میں یہ عنوان درج تھا: ’’شان الحق حقی کی شادی پر غالب سے معذرت کے ساتھ۔‘‘ ہم شان صاحب کے پرانے نیاز مند ہیں۔ اس لیے اس عنوان پر ہمیں بے حد تعجب ہوا۔ شان صاحب کی

شادی پر غالب سے معذرت کی ضرورت ہماری سمجھ میں نہ آئی۔ شان صاحب غالب کے دیوان کی شرح لکھتے یا تضمین کرتے تو معذرت کی گنجائش تھی، مگر شادی تو بالکل ایک مختلف کام ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہم نے اپنے ہم سفر سے کتاب دیکھنے کی اجازت چاہی تو اُنھوں نے فوراً اُسے ہمارے حوالے کر دیا، جیسے وہ اسی انتظار میں ہوں کہ کوئی ان سے کتاب لے لے۔ اس کے بعد وہ تو گانے سننے میں اور ہم کتاب کی ورق گردانی میں مصروف ہوگئے اور یوں ہم نے جناب شان الحق حقی سے نیاز مندی کا رشتہ رکھنے کی پاداش میں حضرتِ تابش دہلوی کے چوتھے مجموعۂ کلام ’’غبارِ انجم‘‘ سے استفادہ کیا۔ اسے ہم اپنی خوش قسمتی سمجھتے ہیں۔

بشکریہ: اردو ڈائجسٹ، لاہور

نیلسن منڈیلا کی آپ بیتی

جرأت کے معنی جدوجہد میں شامل ان ساتھیوں ہی سے میں نے جرأت کے معنی سیکھے ہیں۔ بارہا میں نے مرد اور عورتیں دیکھے ہیں جو ایک نظریہ کی خاطر اپنی جانیں خطرے میں ڈالتے اور نثار کر دیتے ہیں۔ میں نے انسانوں کو ابتلا و اذیت کا مقابلہ ٹوٹے بغیر کرتے اور ایسی قوت اور ثابت قدمی دکھاتے دیکھا ہے جو انسانی تصور سے بالا ہے۔
میں نے محسوس کیا کہ یہ جرأت خوف سے چھٹکارا پانا نہیں بلکہ اس پر غلبہ پانا ہے۔ مجھے یاد نہیں کہ خود میں نے کتنی بار خوف محسوس کیا تھا لیکن ہر بار میں نے اسے دلیری کے نقاب کے نیچے چھپا لیا تھا۔ بہادر آدمی وہ نہیں جو خوف محسوس نہیں کرتا بلکہ بہادر وہ ہے جو اس پر فتح پا لے۔
نیکی ایک شعلہ میں نے کبھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا تھا کہ یہ تبدیلی عمل میں آئے گی… صرف عظیم ہیروئوں کی وجہ سے نہیں بلکہ میرے ملک کے عام مردوں اور عورتوں کے حوصلے کی وجہ سے۔ میں ہمیشہ جانتا تھا کہ ہر انسانی دل کی گہرائی میں رحم اور کشادہ دلی پنہاں ہوتی ہے۔
کوئی بھی دوسرے شخص کی کھال کے رنگ یا اس کے پس منظر یا اس کے مذہب کی وجہ سے اس سے نفرت کرتا پیدا نہیں ہوتا۔ لوگ نفرت کرنا سیکھتے ہیں اور اگر وہ نفرت کرنا سیکھتے ہیں تو انھیں محبت کرنا بھی سکھا سکتے ہیں کیونکہ محبت نفرت کے مقابلے میں زیادہ فطری طور پر آتی ہے۔
جیل کے مشکل ترین اوقات میں بھی جب مجھے اور میرے ساتھیوں کو تنہائیوں میں ڈالا گیا تھا میں ایک گارڈ میں شاید ایک سیکنڈ ہی کے لیے سہی انسانیت کی رمق دیکھ پاتا تھا لیکن وہ مجھے یقین دلانے اور زندگی کے معمولات جاری رکھنے کے لیے کافی ہوتی تھی۔ انسان کی نیکی ایک شعلہ ہے جسے چھپایا جا سکتا ہے مگر بجھایا نہیں جا سکتا۔
راستہ آسان نہیں تھا ہم نے کھلی آنکھوں کے ساتھ جدوجہد کا راستہ اختیار کیا تھا اور ہمیں کوئی غلط فہمی نہیں تھی کہ راستہ آسان ہو گا۔ ایک نوجوان کے حیثیت سے جب میں نے افریقن نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی‘ میں نے اپنے ساتھیوں کو اپنے نظریات کی قیمت ادا کرتے دیکھا تھا اور وہ بہت زیادہ تھی۔
جہاں تک میرا تعلق ہے میں نے جہد آزادی سے اپنی وابستگی پر کبھی افسوس ظاہر نہیں کیا اور میں ہمیشہ سختیوں کا سامنا کرنے کو تیار رہا جنھوں نے ذاتی طور پر مجھے متاثر کیا۔ لیکن میرے خاندان کو میری اس وابستگی کی خوفناک قیمت ادا کرنی پڑی‘ یہ قیمت بہت گراں تھی۔
زندگی میں ہر انسان کے جڑواں فرائض ہوتے ہیں… اپنے خاندان‘ اپنے والدین‘ اپنی بیوی اور بچوں کی طرف سے… اور اس پر اس کے عوام‘ اس کے معاشرے اور اس کے ملک کی طرف سے بھی فرض عائد ہوتا ہے۔ ایک مہذب اور ہمدرد معاشرے میں ہر شخص اپنے رجحانات اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق ان فرائض کو ادا کر سکتا ہے۔
لیکن جنوبی افریقا جیسے ملک میں میری پیدائش اور رنگ کے شخص کے لیے ان دونوں قسم کے فرائض کی ادائیگی تقریباً ناممکن تھی۔ جنوبی افریقا میں رنگ دار شخص اگر انسان کی حیثیت سے زندگی بسر کرنے کی کوشش کرتا تو اسے سزا دی جاتی تھی اور تنہائی میں ڈال دیا جاتا تھا۔
جنوبی افریقا میں کوئی شخص اپنی قوم کی طرف سے عائد شدہ فرض ادا کرنا چاہتا تو لازماً اسے اس کے خاندان اور اس کے گھر سے جدا کر دیا جاتا اور ایک الگ تھلگ زندگی گزارنے پر مجبور کیا جاتا جہاں وہ پوشیدگی اور بغاوت کے دھندلکوں میں سسکتا رہتا۔ میں نے شروع ہی میں یہ راستہ نہیں چنا تھا کہ اپنی قوم کو اپنے خاندان پر ترجیح دوں گا مگر اپنی قوم کی خدمت کرنے کی کوشش میں پتا چلا کہ مجھے ایک بیٹے‘ ایک بھائی‘ ایک باپ اور ایک خاوند کی حیثیت سے اپنے فرائض ادا کرنے سے روکا جا رہا ہے۔
آپ ہمارے ساتھ کیوں نہیں رہ سکتے اپنی قوم‘ لاکھوں ‘ کروڑوں‘ جنوبی افریقیوں سے میری وابستگی جنھیں میں کبھی نہیں جانتا تھا یا جن سے کبھی نہیں ملا تھا‘ ان لوگوں کی قیمت پر استوار تھی جنھیں میں سب سے اچھی طرح جانتا تھا یا جن سے سب سے زیادہ محبت کرتا تھا۔
یہ بات اسی طرح سادہ اور اسی طرح ہی ناقابل فہم تھی جس طرح کوئی چھوٹا بچہ اپنے والد سے پوچھتا ہے: ’’آپ ہمارے ساتھ کیوں نہیں رہ سکتے؟‘‘ اور باپ یہ خوفناک الفاظ کہنے پر مجبور ہوتا ہے: ’’تم جیسے اور بچے بھی ہیں جو بہت سے ہیں…‘‘ اور پھر اس کی آواز بھرا جاتی ہے۔
آزادی کی تمنا میں آزاد ہونے کی بھوک لیے پیدا نہیں ہوا تھا۔ میں بس آزاد پیدا ہوا تھا‘ ہر لحاظ سے آزاد جسے میں جان سکتا تھا۔ میں اپنی ماں کے جھونپڑے کے پاس بھاگنے دوڑنے میں آزاد تھا‘ صاف شفاف ندی میں تیرنے کے لیے آزاد تھا جو میرے گائوں میں بہتی تھی‘ ستاروں کے نیچے مکئی بھوننے میں آزاد تھا اور سست رفتار بھینسوں کی پشت پر سواری کرنے میں آزاد تھا۔ جب تک میں اپنے باپ کا مطیع تھا اور اپنے قبیلے کے رواج کی پابندی کرتا تھا‘ انسان یا خدا کے قوانین نے مجھے کوئی تکلیف نہیں دی تھی۔
یہ صرف اس وقت ہوا جب میں جاننے لگا کہ میرے لڑکپن کی آزادی اب ایک سراب ہے‘ جب ایک نوجوان کی حیثیت سے مجھ پر انکشاف ہوا کہ میری آزادی پہلے ہی مجھ سے چھینی جا چکی ہے۔ تب میں اس کی بھوک محسوس کرنے لگا۔ پہلے پہل میں ایک طالب علم کی حیثیت سے آزادی صرف اپنے لیے چاہتا تھا۔ رات کو باہر رہنے‘ اپنی پسند کا مطالعہ کرنے اور اپنی پسند کی جگہ جانے کی عبوری آزادیاں میرا منشا تھیں۔
بعد میں جوہانسبرگ میں ایک نوجوان آدمی کی حیثیت سے میں اپنے توانا مقاصد حاصل کرنے‘ اپنی روزی کمانے‘ شادی کرنے اور خاندان رکھنے کی بنیادی اور باعزت آزادیوں کی خواہش کرنے لگا اور ایسی آزادی کی تمنا کرنے لگا جس میں قانون کی پابندی زندگی بسر کرنے میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔
یہی وہ وقت تھا پھر بتدریج میں نے دیکھا کہ نہ صرف میں آزاد نہیں تھا بلکہ میرے بھائی اور بہنیں بھی آزاد نہیں تھے۔ میں نے دیکھا کہ یہ صرف میری آزادی ہی نہیں تھی جس پر بندشیں عائد تھیں بلکہ ہر کسی کی آزادی پابندیوں میں جکڑی ہوئی تھی جو میرے جیسا نقطہ نظر رکھتا ہے۔
یہی وہ وقت تھا جب میں افریقن نیشنل کانگریس میں شامل ہوا اور یہی وہ وقت تھا جب اپنی آزادی کے لیے میری بھوک اپنی قوم کی آزادی کے لیے میری عظیم تر بھوک میں بدل گئی۔ یہ میری قوم کی آزادی کے لیے خواہش ہی تھی کہ وہ وقار اور عزت نفس کے ساتھ اپنی زندگی بسر کریں جس نے میری زندگی میں ایک نئی روح پھونک دی جس نے ایک خوفزدہ نوجوان آدمی کو دلیر بنا دیا‘ جس نے قانون کے پابند وکیل کو مجرم بنا دیا‘ جس نے خاندان سے محبت کرنے والے خاوند کو بے گھر بنا دیا اور جس نے زندگی سے پیار کرنے والے شخص کو ایک راہب کی سی زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیا۔
سب زنجیریں میرے لیے اب میں کوئی دوسروں سے زیادہ نیک پاک اور ذاتی ایثار کرنے والا تو ہوں نہیں لیکن میں نے جان لیا کہ میں ان محدود سی آزادیوں سے بھی لطف نہیں اٹھا سکتا جو مجھے اس وقت حاصل تھیں جب میں نے جانا تھا کہ میری قوم آزاد نہیں۔ آزادی ناقابل تقسیم ہے۔ میری قوم کے کسی ایک فرد کی زنجیریں ان سب کے لیے زنجیریں تھیں اور میری ساری قوم کی زنجیریں میرے لیے زنجیریں تھیں۔
ان طویل اور تنہا برسوں کے دوران ہی میری اپنی قوم کی آزادی کے لیے میری بھوک گورے یا کالے سب لوگوں کی آزادی کے لیے بھوک بن گئی۔ میں کسی بھی اور چیز کی طرح یہ جانتا تھا کہ ظالم کو بھی اسی طرح آزادی دلانی چاہیے جس طرح مظلوم کو یقینی طور پر آزادی ملنی چاہیے۔
ایک آدمی جو کسی اور کی آزادی چھینتا ہے‘ نفرت کا قیدی ہوتا ہے‘ وہ تعصب اور تنگ نظری کی سلاخوں کے پیچھے قفل بند ہوتا ہے۔ میں حقیقی طور پر آزاد نہیں اگر میں کسی اور کی آزادی چھیننے لگوں جیسا کہ میں اس وقت یقینا آزاد نہیں ہوتا جب میری آزادی مجھ سے چھینی جاتی ہے۔ ظالم اور مظلوم دونوں سے یکساں طور پر ان کی انسانیت چھین لی جاتی ہے۔
جب میں جیل سے باہر آیا تو ظالم اور مظلوم دونوں کو آزادی دلانا میرا مشن تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ مقصد حاصل ہو گیا ہے۔ لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ صورت حال یہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم ابھی آزاد نہیں‘ ہم نے صرف آزاد ہونے کی آزادی حاصل کی ہے‘ خود پر ظلم نہ ڈھائے جانے کا حق حاصل کیا ہے۔
ہم نے اپنے سفر کا آخری قدم نہیں بلکہ صرف ایک طویل تر اور مشکل تر شاہراہ پر پہلا قدم اُٹھایا ہے۔ کیونکہ آزاد ہونے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ اپنی زنجیروں کو اتار پھینکا جائے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح زندگی بسر کی جائے جو دوسروں کی آزای کا احترام کرے اور اس کو وسعت دے۔ آزادی سے ہماری وابستگی کا حقیقی امتحان بس شروع ہو رہا ہے۔
کئی اور پہاڑیاں میں نے آزادی کی اس طویل شاہراہ پر سفر کیا ہے ۔ میں نے کوشش کی ہے کہ لڑکھڑا نہ جائوں اگرچہ اس راہ پر غلط قدم بھی اٹھائے ہیں۔ لیکن میں نے یہ راز پا لیا ہے کہ ایک بڑی پہاڑی پر چڑھنے کے بعد ہی انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ ابھی کئی اور پہاڑیاں سر کرنے والی ہیں۔
میں یہاں آرام کرنے کے لیے ایک لمحے کو رکا ہوں تاکہ اس شاندار منظر کو ایک نظر دیکھ سکوں جو میرے اردگرد پھیلا ہوا ہے اور پیچھے مڑ کر اس فاصلے پر طائرانہ نظر ڈال سکوں جو میں نے طے کیا ہے۔ لیکن میں صرف ایک لمحے کے لیے ٹھہر سکتا ہوں کیونکہ آزادی کے ساتھ ذمے داریاں آتی ہیں اور میں گھسٹتے رہنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔
٭٭

بشکریہ: اردو ڈائجسٹ، لاہور

نوری نستعلیق کے موجد احمد مرزا جمیل

زندگی آگے بڑھنے کا نام اور جمود موت ہے۔ نوری نستعلیق کی ایجاد سے خط نستعلیق کی دائمی حفاظت ہوگئی

اقبال خورشید کے قلم سے ۔۔۔۔ احمد مرزا جمیل کے بارےخصوصی تحریر !!

وہ کون سا لمحہ تھا، جب میں نے اپنا دل جذبۂ تشکر سے لبریز پایا؟
شاید وہ لمحہ، جب ذہن کی راہ داریوں میں گردش کرتے خیال نے مجھے برقیاتی کتابت کے لیے تیار کیا، اور احساسات ’’کی بورڈ‘‘ پر انگلیوں کی حرکت کے وسیلے الفاظ کی شکل اختیار کرنے لگے۔ یا پھر ٹھیک یہ لمحہ، جب یہ سطریں لکھی جارہی ہیں۔ یا پھر میری زندگی میں در آنے والا ہر وہ لمحہ، جو برقیاتی کتابت کے لیے مختص ہوگا!
میری انگلیاں، اِس بیتتے لمحے ’’کی بورڈ‘‘ پر حرکت کر رہی ہیں۔ الفاظ خط نستعلیق میں، کمپیوٹر اسکرین پر ظاہر ہورہے ہیں۔ خط نستعلیق، جسے اردو کا چہرہ قرار دیا جاسکتا، جس سے اردو داں طبقہ محبت کرتا ہے۔
تو وہ کون سے لمحات ہیں، جب ممنونیت میری سماعتوں میں سرگرشیاں کرتی؟

شاید ہر لمحہ!
میرا دل جذبۂ تشکر سے لبریز ہے۔ میں ممنون ہوں، اس انسان کا، جس کی حیران کن ایجاد نے اِس حسین خط کو، جو کاتبوں کا محتاج تھا، وقت کا متقاضی تھا، برقیاتی دنیا سے، کمپیوٹر کی وسیع و عریض کائنات، ہم آہنگ کر دیا۔ مشین پر منتقل کر دیا۔ ورنہ شاید یہ خط مٹ جاتا، اردو بے چہرہ ہوجاتی۔

یہ احمد مرزا جمیل کی کہانی ہے، جنھوں نے برقیات (کمپیوٹر) کے میدان میں، خط نستعلیق میں، الفاظ کو باہم جوڑنے کی انوکھی ترکیب وضع کی۔ کمپیوٹر پر خط نستعلیق کو حقیقت کر دکھایا، جس سے اردو کتابت، طباعت اور خطاطی کی کایا پلٹ گئی۔ اِس بطل جلیل نے اب سے 32 برس قبل یہ کارنامہ انجام دیا۔ واضح رہے کہ اُس وقت مشینوں پر فقط خط نسخ میں اردو لکھی جاتی تھی۔ یہ خط خاصی جگہ گھیرتا تھا۔ اِس عمل کا اثر براہ راست لاگت پر پڑتا۔ ساتھ ہی پڑھت میں بھی دشوار تھا۔ خط نستعلیق قارئین کو زیادہ بھاتا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ یہی وہ خط تھا، جس میں وہ اردو پڑھنا چاہتے تھے، مگر اس خط کا پیراہن زیب تن کرنے کے لیے اردو، بیسویں صدی کے اواخر میں بھی، جب مشینوں نے دنیا بدل ڈالی تھی، کاتبوں کی محتاج تھی۔ ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونے میں ناکامی کے باعث اس پر معدومیت کا خطرہ منڈلانے لگا تھا۔ پھر منظر میں احمد مرزا جمیل کی آمد ہوئی، اور سب بدل گیا۔ ان کی شب و روز کی محنت کے نتیجے میں خط نستعلیق کو پر لگے۔ برقیاتی کتابت کا آغاز ہوا۔ آگے کی کہانی تاریخ کا حصہ ہے!

اردو کے اس محسن عظیم سے ملاقات کے لیے جب کراچی میں واقع اُن کی رہایش گاہ پر پہنچے، تو اِس 92 سالہ موجد کو حیران کن حد تک ہشاش بشاش اور صحت مند پایا۔ ہم ایک ایسے شخص کے روبرو تھے، جس کی یادداشت لڑکھرانے کی قائل نہیں تھی، جس کی حس مزاح ہنوز جوان تھی۔ گفت گو کا آغاز اُن کے حالاتِ زندگی سے ہوا۔ پھر اُن کے کارنامے پر تفصیلی بات ہوئی۔ اِس بابت وہ کہتے ہیں،’’نوری نستعلیق کی ایجاد سے خط نستعلیق کی دائمی حفاظت ہوگئی۔ اس کی تشکیل اور ترویج تو ترکوں اور ایرانیوں نے کی، اور پھر کتابت اور چھپائی کی دقتوں کی وجہ سے خیرباد بھی کہہ دیا، مگر اِسے زندہ ہم نے رکھا۔‘‘
نہیں۔ ’’ہم‘‘ نے نہیں۔ فقط احمد مرزا جمیل نے۔ بلاشبہ!
آئیے، اِس نابغۂ روزگار کے دل چسپ اور حیران کن قصّے کا آغاز کرتے ہیں۔

شوق، جو وراثت میں ملا، کہانی کا ابتدائیہ۔
یہ بٹوارے سے کئی برس پہلے کی بات ہے۔ دہلی کے مسلم اکثریتی علاقے، محلہ حویلی اعظم خان میں ایک مغل گھرانا آباد تھا، خوش نویسی جس کی شناخت تھی۔ اِس گھرانے میں 21 فروری 1921 کو ایک بچے کی پیدایش ہوئی، جس کا نام احمد مرزا جمیل رکھا گیا۔ اور یہی بچہ اِس کہانی کا مرکزی کردار ہے۔
جس گھر میں اُنھوں نے آنکھ کھولی، وہاں نقاشی اور خطاطی کے شاہ کار بکھرے تھے۔ اُن کے والد، نور احمد نے اپنے بڑے بھائی، حافظ محمد احمد کے حکم پر، جو جانے مانے خطاط تھے، فن خوش نویسی سیکھا۔ قطعہ نگاری کے ایک بڑے مقابلے میں کام یابی بھی اپنے نام کی، مگر اِس فن کو نور احمد نے بہ طور پیشہ نہیں اپنایا۔ رجحان اُن کا آرٹ کی جانب تھا۔ اسی میں دل چسپی تھی، اِسے ہی کیریر بنایا۔ ’’ہمدرد دواخانہ‘‘ کے مشہور شربت، روح افزا کا ’’لیبل‘‘ اُن ہی کی تخلیقی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔ 1922 میں اُنھوں نے لکڑی کا ایک ہینڈ پریس خریدلیا۔ اُسے ’’نور فائن آرٹ لیتھو پریس‘‘ کا نام دیا۔ وہاں پتھر سے لیتھوگرافک چھپائی ہوا کرتی تھی۔ کتابوں کے سرورق تیار ہوتے، رنگین طغرے بنائے جاتے۔ کاروبار دُرست سمت جارہا تھا کہ ہندو شراکت دار کی دغابازی نے سب سبوتاژ کر دیا۔ نور احمد بمبئی کوچ کرنے پر مجبور ہوگئے، جہاں یافت کے لیے انھوں نے خود کو فری لانسر آرٹسٹ اور لیتھو گرافر کے قالب میں ڈھال لیا۔

اِن معنوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ نور احمد کی اولاد کو آرٹ میں دل چسپی وراثت میں ملی۔ خدا نے تین بیٹوں اور تین بیٹیوں سے اُنھیں نوازا تھا۔ احمد مرزا جمیل کا نمبر تیسرا تھا۔
ماضی بازیافت کرتے ہوئے کہتے ہیں،’’میرے بڑے بھائی، منظور احمد بہت اچھے آرٹسٹ تھے۔ اُنھوں نے قائداعظم کے کئی یادگار پورٹریٹ بنائے۔ قائد اعظم نے اُن کے ایک پورٹریٹ پر دست خط بھی کیے تھے، مگر وہ فن پارہ دہلی کے فسادات میں ضائع ہوگیا۔‘‘
یوں تو ان کے والد بہت حلیم انسان تھے، البتہ اصولوں کے معاملے میں انھوں نے کبھی سمجھوتا نہیں کیا۔ اولاد کو باپ کے مزاج کا پتا تھا، کبھی ایسی حرکت ہی نہیں کی کہ سزا کی نوبت آتی۔ بچپن میں وہ خاصے کھلنڈرے ہوا کرتے تھے۔ کھیلوں میں آگے آگے رہے۔ کرکٹ کھیلی، اسکول کی ٹیم کے کپتان رہے۔ دوڑ کے مقابلوں میں حصہ لیا۔
اور یوں بمبئی کی گلیاں اُن کی پرورش کرتی رہیں۔
گجراتی لازمی، جے جے آرٹ اسکول اور انعامات زمانہ تدریس کا…….
ایک علم وہ ہے، جو نصابی کتب میں چھپا ہوتا ہے اور ایک وہ، جو سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا ہے۔ آخر الذکر تو باپ سے وراثت میں مل گیا، اول الذکر کے لیے اُنھیں درس گاہوں کا رخ کرنا تھا۔احمد مرزا جمیل کے تعلیمی سفر کا آغاز میونسپل کے اسکول سے ہوا۔ ایک سال کے بعد زکریا مسجد اسکول کا حصہ بن گئے، جہاں قرآن پاک، اردو، انگریزی اور گجراتی کی تعلیم حاصل کی۔
اُس زمانے میں چوتھی پاس کرنے کے لیے گجراتی لازمی تھی۔ پھر سینٹ جوزف ہائی اسکول، بمبئی کا رخ کیا، جہاں سے فورتھ اسٹینڈرڈ (ساتویں جماعت) کا مرحلہ طے کیا۔ اب بمبئی کے مشہور زمانہ، جے جے اسکول آف آرٹ میں داخلہ لے لیا۔ یہ فیصلہ قابل فہم تھا کہ آرٹ کا شوق بہ درجہ اتم موجود تھا۔ دس برس کی عمر سے وہ بمبئی آرٹ سوسائٹی کی نمایشوں میں حصہ لے رہے تھے۔

38ء میں وہ جے جے اسکول کا حصہ بنے، 45ء تک وہاں رہے۔ آخری دو برس فیلو شپ کی۔ زمانۂ طالب علمی میں یوں تو مصوری کے ہر شعبے کا تجربہ کیا، مگر زیادہ رجحان میورل پینٹنگ کی جانب تھا۔ کئی بڑے اعزازات اُسی عرصے میں اپنے نام کیے۔ اُن کی ایک ڈرائنگ نے 1942 میں Dolly Cursetji Mural Decoration مقابلے میں پہلا انعام اپنے نام کیا۔ اگلے برس ہونے والے ’’آل انڈیا آرٹ ان انڈسٹری ایگزی بیشن‘‘ میں اُن کی اکلوتی انٹری تین اعزازات کی حق دار ٹھہری۔ 44ء میں ہونے والے اِسی مقابلے میں ان کی پینٹنگ نے پہلا انعام حاصل کیا۔ الغرض زمانۂ طالب علمی ہی میں خود کو بہ طور آرٹسٹ منوا لیا۔

اب احمد مرزا جمیل نئے میدانوں کا رخ کرنے کے لیے تیار تھے۔
روزے رکھنے والا ہندو اور ’’دیوداس‘‘ کا خالق فلم نگری کی یادیں
وہ خوابوں سی حسین دنیا تھی، پر خواب نہیں تھی۔ حقیقی تھی۔

بمبئی فلم نگری سے ان کا تعلق تراب اسٹوڈیو کے مالک، محمد تراب کے وسیلے قائم ہوا۔ اُنھوں نے احمد مرزا جمیل کا تعارف ’’چوہدری جی‘‘ کے نام سے معروف ایک فلم ڈائریکٹر سے کروایا، جنھوں نے 23 سالہ نوجوان آرٹسٹ کو اپنی فلم کے سیٹ اور ملبوسات ڈیزائن کرنے کی ذمے داری سونپ دی۔
تین ماہ وہ اس کام میں جٹے رہے۔ ایک دن ڈائریکٹر صاحب سے پوچھا: ’’کچھ پیسے ویسے بھی ملیں گے!‘‘ ڈائریکٹر نے منشی کو بلوا کر پچاس روپے تھما دیے۔ یہ پہلا معاوضہ تھا، وہ بھی تین ماہ کا۔ البتہ وہاں بہت کچھ سیکھا۔
اُن ہی دنوں بمبئی کے ایک صاحب، باسودیو پرساد سہنا نے ایک فلم ’’ایران کی ایک رات‘‘ پروڈیوس کرنے کا ارادہ باندھا، تو اُنھیں بہ طور آرٹ ڈائریکٹر کولکتا چلنے کی پیش کش کر دی۔ اُنھوں نے اس انوکھے تجربے سے گزرنے کا فیصلہ کیا۔ آرٹ ڈائریکشن پر دست یاب کتب کا مطالعہ کیا، اور باسو دیو سہنا کے ساتھ کولکتا روانہ ہوگئے۔ وہاں رہایش سہنا صاحب ہی کے بنگلے میں تھی۔ بتاتے ہیں،’’وہ ہندو تھا، مگر میرے ساتھ رمضان کے تیس روزے رکھا کرتا۔ ہم دونوں بغیر سحری کا روزہ رکھتے تھے، اور مغرب کے وقت ساتھ افطاری کرتے۔‘‘

معروف اداکار اور ’’دیوداس‘‘ کے ہدایت کار، پی سی بروا کی ڈائریکشن میں بننے والی ’’ایران کی ایک رات‘‘ کا سیٹ، کاسٹیومز اور پوسٹر ڈایزئن کرنے کی ذمے داری ان کے کاندھوں پر تھی۔ پی سی بروا کے معیار پر پورا اترنا سہل نہیں تھا، مگر انھوں نے لگن اور محنت سے یہ ممکن کر دکھایا۔ آنے والے عرصے میں چند اور فلموں میں کام کیا۔
پھر کولکتا میں سہنا صاحب اور ان کی بیوی، ساوتری دیوی کے ساتھ فلم پبلی سٹی اسٹوڈیو ’’مووی آرٹس‘‘ کھول لیا۔ فروری 50ء میں جمیل صاحب، بگڑتے حالات سے دل برداشتہ ہو کر پاکستان چلے آئے۔ یہ اسٹوڈیو اب بھی کولکتا میں موجود ہے۔
خاندان کبھی بمبئی لوٹ نہیں سکا داستانِ ہجرت
بٹوارے کے دن، وہ دن جو کچھ برس بعد اردو فکشن کا اہم ترین موضوع بننے والے تھے، اُنھیں خوب یاد ہیں۔ ہاں، تب ماحول میں تناؤ تیرا کرتا تھا، سناٹے میں خوف کی چاپ سنائی دیتی۔
یہ 1947 کے وسط کا ذکر ہے۔ بہن کی شادی کے سلسلے میں اہل خانہ کے ساتھ احمد مرزا جمیل کا دہلی جانا ہوا، جہاں فسادات پھوٹ پڑے۔ ان کا خاندان بمبئی لوٹ ہی نہیں سکا۔ حالات میں سدھار آنے تک بمبئی کا مکان چند دوستوں کو امانتاً سونپ دیا، جنھوں نے امانت میں خیانت کرنا ضروری خیال کیا، اور مکان پر قبضہ جما لیا۔ کسی نہ کسی طرح وہ تو دہلی سے کولکتا چلے گئے، مگر خاندان دہلی ہی میں رہا۔ بعد میں جب وہ اپنے فن پارے لینے بمبئی پہنچے، تو وہاں کے خرابے میں سب ضایع ہوچکا تھا۔ کچھ نہیں بچا تھا۔ اِس واقعے نے دل توڑ دیا۔ رنگوں سے وہ دور ہوگئے۔ بعد میں جب کبھی کینوس کے سامنے کھڑے ہوئے، وہ ہی منظر آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتا۔

حالات کے جبر نے خاندان کو پاکستان کی سمت دھکیل دیا، جو راول پنڈی اور لاہور سے ہوتا ہوا کراچی پہنچا۔ البتہ گھر والوں کی مالی معاونت کے لیے جمیل صاحب کو کولکتا ہی میں ٹھہرنا پڑا۔ کولکتا خود کشیدگی کے چنگل میں پھنس چکا تھا۔ وقت گزرتا رہا، مگر حالات میں سدھار کا کوئی امکان ظاہر نہیں ہوا۔ ہاں، بگاڑ کے نشانات واضح ہوتے گئے۔ مجبوراً تقسیم کے تین برس بعد وہ بھی کراچی چلے آئے۔
’’وکیل گودام لے کر کیا کرے گا؟
پیشہ ورانہ سفر کا جائزہ
نیا ماحول، نئے لوگ، نئی زندگی!

اس نئی دنیا میں معاشی مسئلہ سب سے قوی تھا۔ کراچی پہنچتے ہی اُنھوں نے ملازمت کی تلاش شروع کردی۔ تجربے سے لیس تھے، اِس لیے یہ مرحلہ دشوار ثابت نہیں ہوا۔ جلد ہی ایک ایڈورٹائزنگ کمپنی میں، 500 روپے ماہ وار پر بہ طور آرٹ ڈائریکٹر ذمے داریاں سنبھالی۔ اُن ہی دنوں قائداعظم کا وہ شہرۂ آفاق اسکیچ بنایا، جو گذشتہ چھے عشروں سے ری پرنٹ ہورہا ہے۔ اس اسکیچ کو معروف آرٹ کریٹک، مارجری حسین نے شاہ کار قرار دیا تھا۔
ڈیڑھ برس بعد اس ادارے سے الگ ہو کر اپنی کمپنی کی بنیاد رکھی، جلد ہی جس کا شمار صف اول کی پرنٹنگ کمپنیوں میں ہونے لگا۔
اپنی کمپنی شروع کرنے کا خیال کیوں کر سوجھا؟ یہ سوال اُنھیں ماضی میں لے جاتا ہے، جب کراچی میں ایک ایسی پرنٹنگ مشین کا چرچا تھا، جسے فقط ڈیزائن دینے کی ضرورت ہوتی، بلاک وغیرہ نہیں بنائے جاتے تھے۔ انھوں نے جب اُس کے متعلق سنا، تو خواہش ہوئی کہ یہ مشین دیکھی جائے۔ برنس روڈ پر واقع ایک ادارہ یہ مشین فروخت کر رہا تھا۔ ایک روز دفتر سے اٹھے، اور وہاں پہنچ گئے۔ پتا چلا کہ یہ ’’روٹا پرنٹ مشین‘‘ کہلاتی ہے۔ اس کی بابت کیے جانے والے دعویٰ سو فی صد درست تو نہیں، مگر اُن میں تھوڑی بہت صداقت ضرور ہے۔ خیال آیا، اُن کے والد اور بھائی کے آرٹ ورک کو مختلف پبلشرز نے چھاپ کر خوب کمایا، کیوں نہ خود یہ کام کیا جائے۔
51ء میں پندرہ ہزار روپے میں انھوں نے یہ مشین خرید لی۔ اب سوال پیدا ہوا کہ اِسے لگایا کہاں جائے۔ کراچی میں اس زمانے میں گھروں وغیرہ کی الاٹمنٹ ہورہی تھی۔ وہ بھی ’’ریفیوجی ری ہیبیلی ٹیشن ڈیپارٹمنٹ‘‘ پہنچ گئے۔ کہتے ہیں،’’میں ڈائریکٹر سے ملا۔ اس عہدے پر تعینات شخص نہ جانے کتنا کما سکتا تھا، مگر جو صاحب میرے سامنے بیٹھے تھے، اُن کے کپڑوں میں پیوند لگے تھے۔ ان کی شخصیت کے اس پہلو نے مجھے بہت متاثر کیا۔ خیر، میں نے مدعا بیان کیا۔ گو کوئی خالی پلاٹ نہیں تھا، مگر جب میں نے اپنے چھاپے ہوئے قائد اعظم کے، پوسٹ کارڈسائز کے پینسل اسکیچ پیش کیے، تو وہ چھپائی اور معیار دیکھ کر بہت خوش ہوئے، اور ایک وکیل کے نام الاٹ ہونے والے گودام کو یہ کہتے ہوئے؛’وکیل بھلا گودام لے کر کیا کرے گا؟‘ وہ 16×22 فٹ کی جگہ مجھے سونپ دی۔‘‘

کسٹم ہاؤس کے سامنے، بوہری روڈ پر واقع اس گودام کی کچی دیواروں کو پکا کرنے، زمین کے گڑھے بھرنے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ الیٹ پبلشرز کے پرچے تلے، دو ملازمین کے ساتھ انھوں نے کام شروع کیا۔ جب یہ خبر پھیلی کہ احمد مرزا جمیل نے اپنا پرنٹنگ پریس لگا لیا ہے، تو آرڈرز کا تانتا بندھ گیا۔ چھے ماہ کا کام جمع ہوگیا۔
آنے والے دن مصروفیات سے بھرپور تھے۔ شب و روز ایک کر دیے۔ سولہ سولہ گھنٹے کام کیا۔ کئی برس تک اتوار کی چھٹی نہیں کی۔ دھیرے دھیرے دفتر پھیلنے لگا۔ ملازمین کی تعداد بڑھ کر 150 ہوگئی۔ 61ء میں ان کا ادارہ سائٹ ایریا منتقل ہوگیا۔ آنے والے چند برسوں میں الیٹ پبلشرز لمیٹڈ نے پرنٹنگ کی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کر لیا۔ بہتوں نے ان کے ادارے میں تربیت حاصل کی، اور بعد میں پاکستان اور بیرون ملک اپنے پریس لگائے۔ 90 کی دہائی کے اوائل میں خود کو ان جھمیلوں سے الگ کرکے بچوں کو ذمے داری سونپ دی۔

اندیشوں نے گھیر لیا، راتوں کی نیند حرام ہوگئی، جب اردو تاریخ کا اہم ترین واقعہ رونما ہوا
خط نسخ کی برقی مشینوں سے دوستی پرانی تھی، مگر اردو قاری خط نستعلیق کے عشق میں مبتلا تھے، جو ہنوز خود کو مشین سے ہم آہنگ نہیں کرسکا تھا۔ کاتبوں کی جنبش قلم کا محتاج تھا۔ کتابوں کی اشاعت میں برسوں لگ جاتے کہ لازم تھا، پوری کتاب ایک ہی کاتب لکھے۔ تصحیح کی ضرورت پیش آتی، تو پورا صفحہ دوبارہ لکھا جاتا، مگر یہ صورت حال ہمیشہ نہیں رہنے والی تھی۔ تبدیلی کا آغاز ہونے کو تھا۔
جمیل صاحب ایک پبلشر تھے۔ اردو لکھاری اپنی کتابوں کی اشاعت کا ارادہ لیے ان سے ملنے آتے۔ جواب میں وہ کہتے،’’کتابت کروالیں، میں چھاپ دوں گا، مگر کتابت اچھی ہونی چاہیے۔‘‘ کوئی چھے ماہ بعد لوٹتا، کوئی ڈیڑھ سال بعد۔ اور جو کتابت ہوتی، اس سے وہ خود کو مطمئن نہیں پاتے تھے۔

ان ہی دنوں ایک انگریز سے ملاقات ہوئی، جو پرنٹنگ مشین فروخت کیا کرتا تھا۔ اس نے تیکنیکی مسائل کا حل، خط نستعلیق تج کر، ترکوں اور ایرانیوں کی طرح خط نسخ یا رومن اسکرپٹ میں تلاش کرنے کا مشورہ دیا۔ جواب میں اُنھوں نے کہا،’’انگریزوں نے دوسو برس برصغیر پر حکومت کی، جب اُس وقت تم ہمارا خط نہیں بدل سکے، تو اب کیا بدلو گے!‘‘
پرنٹنگ انڈسٹری کی معروف شخصیت، سید مطلوب الحسن اُن کے دیرنیہ دوست تھے۔ دونوں کے درمیان خط نستعلیق کو ’’میکانائز‘‘ کرنے کا مسئلہ زیربحث رہتا۔ ’’فوٹو ٹائپ سیٹنگ مشین‘‘ انھوں نے 62ء میں خریدی تھی، جس کے آٹھ سو خانوں میں فلمیں لگی ہوتیں۔ اِسے ماضی میں اُنھوں نے برقیاتی کتابت کے ارادے سے برتا تھا۔ خط نسخ تو ہاتھ آگیا، مگر خط نستعلیق دور کھڑا مسکراتا رہا۔ اندازہ ہوا کہ فلموں سے کام نہیں بنے گا۔ حروف کے ٹکڑے کرنے کے بجائے الفاظ کے ٹکڑے کیے جائیں۔ کیوں نہ یونٹ بنا دیے جائیں۔ یعنی ’’پر‘‘ لکھنے کے لیے ’’پ‘‘ اور ’’ر‘‘ کو الگ نہ کیا جائے، بلکہ ’’پر‘‘ ہی کا یونٹ بنایا جائے، جو ہر جگہ کام آئے۔ بہ قول اُن کے،’’یہ خیال مجھے قابل عمل لگا۔ جیسے ’فر‘ ایک یونٹ ہے۔ اس کے آغاز میں ’کا‘ لگا دیا جائے، تو ’کافر‘ ہوجا ئے گا۔ آخر میں ’حت‘ لگا دیں، تو ’فرحت‘ ہوجائے گا۔‘‘ دونوں دوست اس کلیے پر متفق تھے، مگر اس کا عملی تجربہ چاند کے سفر سا دشوار تھا۔

نومبر 79ء میں ان کا سنگاپور جانا ہوا، جہاں پرنٹنگ انڈسٹری کی ایک بڑی نمایش ہورہی تھی۔ وہاں مونوٹائپ کارپوریشن کے اسٹال پر رش لگا دیکھا۔ تجسس انھیں اسٹال تک لے گیا۔ پتا چلا کہ چینی زبان کمپوز ہورہی ہے۔ میز پر ’’کی بورڈ‘‘ رکھا ہے، جس میں چھے سات سو بٹن ہیں۔ آپریٹر ایک ایک بٹن دبا رہی ہے، اسکرین پر لفظ ابھر رہے ہیں، جو جُڑ کر ایک شکل اختیار کر لیتے۔
وہ ایک قیمتی لمحہ تھا۔ ایک حوصلہ افزا خیال ذہن میں کوندا۔ بہ قول اُن کے،’’میں نے خود سے کہا؛ چینی میں 80 ہزار کریکٹرز ہیں، جب اُنھوں نے80 ہزار اشکال قابو کرلیں، تو ہم کیوں نہیں کرسکتے۔ بس، اﷲ نے احسان کیا۔ جتنے پردے ذہن پر پڑے تھے، اٹھتے گئے۔ مونوٹائپ کارپوریشن کے سیلز مینیجر، مسٹر ڈیرک کارکیٹ وہاں موجود تھے۔ ہم ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ میں نے انھیں کراچی آنے کی دعوت دی۔ انھوں نے جواب دیا؛ ’میں ابھی پاکستان ہی سے آرہا ہوں۔ ہم نے اسی مشین پر مقتدرہ کو ایک سسٹم بنا کر دیا تھا، جسے رد کر دیا گیا، کوئی لینے کو تیار نہیں۔ ہمارا بہت نقصان ہوا۔‘ میں نے یہ کہہ کر انھیں قائل کر لیا کہ اگر ہمارا تجربہ ناکام گیا، تو مالی نقصان میں اکیلا برداشت کروں گا۔‘‘

جوں ہی لندن میں بیٹھے مونوٹائپ کے ڈائریکٹر، مسٹر جان مال نے اپنی رضامندی ظاہر کی، جمیل صاحب اِس منصوبے میں جٹ گئے۔ اردو کے ایک موقر روزنامے کا لاہور سے اجرا ہونے کو تھا۔ جب اخبار کے مالک کو اطلاع ملی کہ خط نستعلیق کو کمپیوٹر پر منتقل کیا جارہا ہے، تو انھوں نے جمیل صاحب سے رابطہ کیا، اور کہا کہ وہ اپنے لاہور کے پرچے کو اِس منصوبے کی تکمیل تک موخر کر دیتے ہیں۔ ساتھ ہی کام میں معاونت کے لیے ایک کاتب ان کی طرف روانہ کردیا۔
پہلے نمونے کی تیاری میں چھے ماہ لگے، جس کے لیے کاتب نے پانچ ملی میٹر کے قلم سے 154 یونٹ لکھے۔ 80ء کے موسم خزاں میں شہر لندن میں ہونے والی نمایش کے دوران مونو ٹائپ نے یہ نمونہ پیش کیا۔ وہاں موجود ایرانیوں اور افغانیوں نے تو بہت پسند کیا، البتہ پاکستانیوں نے شک کا اظہار کیا۔ پاکستان میں بھی ہر دوسرا شخص خط نستعلیق کے برقی مشین سے ہم آہنگ ہونے کے دعوے کو ڈھکوسلا قرار دیتا نظر آیا، مگر جمیل صاحب کو پروا نہیں تھی۔ وہ جانتے تھے کہ سرنگ کے دہانے پر روشنی ہے۔کراچی لوٹنے کے بعد وہ اس منصوبے میں شریک اپنے رفیق، سید مطلوب الحسن کے ساتھ مقتدرہ قومی زبان کے چیئرمین، اشتیاق حسین قریشی سے ملے، اور اپنے چھپے ہوئے نمونے پیش کیے۔ آئیڈیا اشتیاق قریشی کے دل کو لگا۔ انھوں نے اِسے مقتدرہ کے پلیٹ فورم سے پیش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ ساتھ ہی کہا کہ وہ صدر پاکستان سے ملاقات کے لیے جارہے ہیں، یہ نمونہ وہ اُن کے سامنے پیش کریں گے۔

جمیل صاحب کہتے ہیں،’’اشتیاق صاحب دہلی میں جنرل ضیاء الحق کے استاد رہ چکے تھے۔ ضیا الحق ان کی بہت عزت کرتے تھے۔ میں نے کہا کہ صدر صاحب سے اِس منصوبے کے لیے درآمد کی جانے والے پہلی دس مشینوں کی ڈیوٹی ضرور معاف کروالیں۔ دراصل ایک مشین کی قیمت 40 لاکھ تھی، اتنی ہی اس پر ڈیوٹی تھی۔ کُل ملا کر ایک مشین پر 80 لاکھ لاگت آرہی تھی۔ خیر، صدر صاحب نے ان سے پہلا سوال تو یہی کیا کہ اس دعوے میں کوئی جان ہے بھی یا نہیں؟ دراصل اِس سوال کے پیچھے نظام حیدرآباد کی وہ ہی فکر کارفرما تھی کہ خط نستعلیق کو مشین پر منتقل کرنا ممکن نہیں۔ انھوں نے بھی تقسیم سے قبل اس ضمن میں کوششیں کی تھیں، جو ثمر آور ثابت نہیں ہوئیں۔‘‘
حکومت کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی کے بعد مقتدرہ قومی زبان نے ایک پریس کانفرنس منعقد کی، جس میں خط نستعلیق کی برقیاتی کتابت میں کام یابی کا اعلان کیا گیا۔ ابتدائی نمونے دیکھ کر وہاں موجود لوگ حیران رہ گئے۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، اور اس دل کش خط کی کمپیوٹر کے ذریعے کتابت کی امید بڑھنے لگی۔

چند روز بعد برطانوی ماہرین کے ساتھ لندن میں جمیل صاحب کی میٹنگ ہوئی۔ زیربحث سوال یہ تھا کہ منصوبہ کب تک مکمل ہوسکتا ہے؟
بہ قول اُن کے،’’میٹنگ میں موجود ایک انگریز نے کہا کہ کیلی گرافی میں پونے انچ کے قلم سے یونٹ لکھے جائیں گے، 10×10 انچ کا کاغذ ہوگا۔ کتابت کا مرحلہ آتے آتے پانچ برس لگ جائیں گے۔ پھر ڈیجیٹائزنگ کے ماہر نے کہا؛ ہمارا کام ڈیڑھ سال کا ہے۔ اگر ہم شفٹ بڑھادیں، تو چھے ماہ میں بھی مکمل کرسکتے ہیں۔ میں نہ صرف ایک آرٹسٹ تھا، بلکہ پبلشنگ اور ماس پروڈکشن کا بھی وسیع تجربہ رکھتا تھا۔ میں نے بھی کہہ دیا کہ ہم بھی چھے ماہ میں منصوبہ مکمل کرلیں گے۔ اس وقت خیال یہی تھا کہ بیس کاتب اکٹھے کروں گا، اور تختیاں لکھوا لوں گا۔ بعد میں خیال آیا کہ بیس کاتب، بیس مختلف اساتذہ کے شاگرد ہوں گے۔ ہر ایک اپنے طرز پر تختی لکھے گا۔ تحریر میں ہم آہنگی نہیں ہوگی۔ ہم نے ایک کاتب کو بلوایا، جس نے ایک دن میں پچاس تختیاں لکھنے پر رضامندی ظاہر کی۔ جب اسے بتایا کہ پونے انچ کے قلم سے 10×10 انچ کے کاغذ پر لکھنا ہے، تو وہ پچاس سے یومیہ پانچ تختیوں پر آگیا۔ کمپیوٹر کی شرائط بتائیں، تو اس نے صاف انکار کر دیا۔‘‘
امکانات معدوم ہونے لگے۔ اندیشوں نے گھیر لیا۔ راتوں کی نیند حرام ہوگئی۔ کہتے ہیں،’’جنرل ضیاء الحق سے ہماری بات ہوچکی تھی، ملکی اور غیرملکی میڈیا میں اس ایجاد کا تذکرہ آچکا تھا، مگر اب آگے بڑھنے کے تمام راستے مسدود ہوگئے۔ وہ بڑا سخت وقت تھا۔ پھر سید مطلوب الحسن، اﷲ بخشے اُنھیں، کہنے لگے؛ جمیل یہ کام تم خود کرو گے۔ میں نے کہا؛ اﷲ اﷲ کرو۔ میں آرٹسٹ ضرور ہوں، میرے تایا خوش نویس تھے، مگر یہ کام بالکل الگ ہے۔ اس پر انھوں نے کہا؛ پھر تو بڑی سبکی ہوگی، لوگ مذاق اڑائیں گے۔ تو میں نے اﷲ کا نام لے کر وہ کام شروع کیا۔ جتنا تجربہ تھا، سب یک جا کیا۔ رات دن ایک کردیے۔ اس زمانے میں مَیں چھے سات گھنٹے سے زیادہ گھر نہیں آتا تھا۔ گھر والے کہنے لگے تھے کہ بستر بھی آفس ہی میں لگالیں۔ میں نے چھے مہینے میں اٹھارہ ہزار تختیاں لکھ لیں۔ پہلے تختیوں کا نیگٹو بنتا، پھر پوزیٹو تیار ہوتا۔ اس کے لیے میں نے ایک ٹیم بنائی۔ کمپیوٹر ک،م، ن تو نہیں جانتا۔ وہ تو نمبر جانتا ہے۔ تو ہم نے نمبروں کو یونٹ سے ہم آہنگ کیا۔‘‘
تجربہ کام یاب رہا۔ ان اٹھارہ ہزار تختیوں سے تین لاکھ سے زیادہ الفاظ بن سکتے تھے، جو الفاظ اس وقت رہ گئے، وہ مشین پر ٹائپ کرتے ہوئے نسخ میں ظاہر ہوتے، جن کی بعد میں کاتب تصحیح کرلیتے۔ والد، نور احمد کے نام پر اُنھوں نے اِس ایجاد کو ’’نوری نستعلیق‘‘ کا نام دیا۔ اور دنیا کے سامنے پیش کردیا۔

یکم اکتوبر 81ء کو جب لاہور سے اردو کے اُس موقر روزنامے کا اجرا ہوا، تو وہ نوری نستعلیق ہی میں تھا۔ کہتے ہیں،’’ہم نے بغیر کسی آزمایش اور تجربے کے یہ کام کیا۔ اور اﷲ کا کرم ہے کہ اخبار ایک دن بھی کمپوزنگ کی وجہ سے غیرحاضر نہیں ہوا۔‘‘
اردو کتابت اور طباعت کی دنیا میں انقلاب آچکا تھا۔
کون اکڑوں بیٹھ کر کتابت کرے گا؟

نوری نستعلیق کے بعد کی دنیا
وہ ایک عظیم تبدیلی تھی، جس سے مزید حیران کن تبدیلیاں جنم لینے کو تھیں!
جمیل صاحب کی ایجاد نے خط نستعلیق میں نئی روح پھونک دی۔ اردو پرنٹنگ کی دنیا بدل گئی۔ جس مشین کے ذریعے برقی کتابت کا آغاز ہوا تھا، وہ Slave کمپوزنگ مشین کہلاتی تھی۔ ابتدائی دس مشینوں پر صدرپاکستان نے وعدے کے مطابق ڈیوٹی معاف کر دی۔ ایجاد کا چرچا ہوا، تو مختلف ادارے ان سے رابطہ کرنے لگے۔ اخبارات اور کتابوں کی اشاعت کا عمل راتوں رات سہل ہوگیا۔ لاگت بھی گھٹ گئی، اور وقت بھی بچنے لگا۔
کچھ ہی برس گزرے ہوں گے کہ پرسنل کمپیوٹر کی منظر میں آمد ہوئی، جس نے انتہائی مختصر وقت میں مسند اقتدار سنبھال لی۔ جمیل صاحب کے بہ قول، کمپیوٹر کی آمد کے بعد Slave کمپوزنگ مشین ڈائناسور کے زمانے کی چیز لگنے لگی۔ جمیل صاحب کے مشوروں کی روشنی میں مونو ٹائپ کارپورشن نے اس کام کو آگے بڑھاتے ہوئے خط نستعلیق کو پرسنل کمپیوٹر سے ہم آہنگ کرنے کے لیے سوفٹ ویئر کی تیاری شروع کی۔ 91-92 میں ’’نوری نستعلیق ان پیچ‘‘ کے نام سے یہ سوفٹ ویئر مارکیٹ میں آگیا۔ اور گذشتہ دو عشروں سے یہ اردو کتابت اور طباعت پر چھایا ہوا ہے۔ اِس ایجاد پر حملے بھی ہوئے۔ ایک اخبار کے دفتر سے اس کے ترسیمے چرائے گئے، جنھیں بعد میں مشین پر منتقل کرکے، ان پیج کی آمد سے قبل ایک سوفٹ ویئر بنایا گیا تھا، مگر وہ مسئلے کا مکمل حل نہیں تھا۔ سو ناکام گیا۔
اپنی ایجاد سے متعلق گفت گو کرتے ہوئے جمیل صاحب کہتے ہیں،’’اچھا کاتب بننے کے لیے پانچ چھے برس خرچ ہوتے تھے، جب کہ کمپیوٹر پر اسے سیکھنے میں ایک سے دو ہفتے لگتے ہیں۔ یعنی کام آسان ہوگیا۔ ایک کاتب میرے پاس آئے، اور کہا؛ میرا بچہ کام نہیں سیکھتا۔ میں نے کہا، اب آج کے دور میں کون نوجوان گھنٹوں اکڑوں بیٹھ کر کام کرے گا۔ اسے کمپوزنگ سکھاؤ۔‘‘
کتابیں سرہانے رکھی رہتی ہیں
زندگی کے چند گوشے
کب خوشی محسوس کرتے ہیں؟ اِس سوال کا جواب دینا جمیل صاحب کے لیے سہل ہے۔ بہ قول ان کے، لوگوں کی مدد کرکے، ان میں اعتماد پیدا کرکے وہ مسرت محسوس کرتے ہیں۔ دُکھوں سے واسطہ کم ہی رہا۔ اپنوں کی جدائی نے کرب سے دوچار ضرور کیا، مگر اسے زندگی کا حصہ خیال کرتے ہیں۔ نوجوانوں کو اپنی مثال پیش کرتے ہوئے مسلسل کام، کام اور صرف کام کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
پاکستان کے موجودہ حالات اُنھیں دُکھی کر دیتے ہیں۔ کہتے ہیں،’’جب میں ہندوستان سے آرہا تھا، ایک ہندو نے مجھے سے کہا؛’تم مسلمانوں کا خون گرم ہے۔ یہاں تو ہم سے لڑتے رہتے ہو، وہاں جاکر کیا آپس میں لڑو گے؟‘ اور اس کی بات درست ثابت ہوئی۔ ہم نے اسلام کے نام پر یہ ملک بنایا، مگر آج ہم ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے ہیں۔ دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ بندوقوں کے سائے میں نماز پڑھی جائے۔ یہ صورت حال افسوس ناک ہے۔‘‘
ہر صاحب ذوق کے مانند اچھے شعر اُنھیں بھی بھاتے ہیں، خصوصاً ایسے، جن سے رجائیت جھلکتی ہو۔ البتہ مصروفیات نے فکشن سے دور رکھا۔ اقبال بانو اور فریدہ خانم کی آواز اچھی لگتی ہے۔ کسی زمانے میں فلمیں بھی دیکھیں۔ دلیپ کمار کی صلاحیتوں کے معترف ہیں۔ کتابیں سرہانے رکھی رہتی ہیں۔ جب وقت ملتا ہے، پڑھ لیتے ہیں۔ آپ بیتی لکھنے کا سوچا ضرور، مگر خود کو اس کام کے لیے مناسب خیال نہیں کرتے۔
49ء میں ان کی شادی ہوئی۔ کہتے ہیں، مصروفیات بہت رہی، مگر گھر والوں، خصوصاً بیگم کے تعاون کے طفیل کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ خدا نے انھیں تین بیٹوں، دو بیٹیوں سے نوازا۔ خیر سے اب پردادا ہیں۔
ان کے نزدیک زندگی مسلسل آگے بڑھنے کا نام ہے، جمود تو موت ہے۔ زندگی سے مطمئن ہیں۔ رب کے ممنون ہیں، جس نے انھیں صحت اور آگے بڑھنے کا حوصلہ ادا کیا۔

مرزا جمیل کا ہم پر ایک احسان ہے۔۔۔
اردو زبان و ادب کی کئی قدآور شخصیات نے اپنے اپنے انداز میں اِس محسن عظیم کو خراج تحسین پیش کیا۔ قارئین کے لیے یہاں چند مشاہیر کے الفاظ نقل کیے جارہے ہیں:
’’اِس ایجاد نے اردو کی طباعتی دنیا میں انقلاب برپا کرکے نسلوں پر احسان کیا ہے۔‘‘ (احمد ندیم قاسمی)
’’مرزا جمیل کا ہم پر ایک احسان ہے، جو خط نوری نستعلیق انھوں نے وضع کیا ہے، یہ بہت بڑا کارنامہ ہے۔‘‘ (فیض احمد فیض)
اردو زبان اور اس کی ترقی میں جو کئی نوری سال حائل تھے، نوری نستعلیق نے ان نوری سالوں کو عبور کرلیا۔ (پروین شاکر)
’’نوری نستعلیق نے حُسن کے ساتھ ہماری زبان کو ہمارے عہد، بلکہ مستقبل کی رفتار عطا کردی ہے۔‘‘ (ابوالخیر کشفی)
’’ہم سب کو احمد مرزا جمیل کا احسان مند ہونا چاہیے، انھوں نے قومی زبان کے فروغ کے لیے ایک تاریخ ساز کارنامہ انجام دیا۔‘‘ (ڈاکٹر جمیل جالبی)
قلم سے کمپیوٹر تک یہ سفر (نوری نستعلیق) حیران کن بھی ہے، اور اور دل چسپ بھی۔ اور بیسیویں صدی کی ایجادوں میں ایک معجزہ بھی۔ (محسن احسان)
ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے بڑا اور کیا اعزاز ہوگا!
احمد مرزا جمیل کو بے شمار اعزازات سے نوازا گیا۔
82ء میں تمغۂ امتیاز ان کے حصے میں آیا۔ اگلے ہی برس پشاور یونیورسٹی نے سپاس خیبر پیش کیا۔ 99ء میں انھیں جامعہ کراچی کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا ہوئی۔ نجی کمپنیاں وقتاً فوقتاً ان کی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈز سے نوازتی رہیں۔ ڈاکٹریٹ کی ڈگری کو وہ اپنے لیے بڑا اعزاز قرار دیتے ہیں، جس کا، اُن کے نزدیک کسی ایوارڈ سے موازنہ ممکن نہیں۔ یوں تو پرنٹنگ کی دنیا میں بھی اُنھوں نے کئی کارنامے انجام دیے، مگر خواہش یہی ہے کہ اُنھیں نوری نستعلیق کے خالق کے طور پر یاد رکھا جائے۔
٭ حرکت میں برکت ہے
92 برس کی عمر میں بھی وہ انتہائی متحرک ہیں۔ کیا صحت کا راز ورزش میں پہناں ہے؟ اِس سوال کا جواب یوں دیتے ہیں،’’نہیں باقاعدہ ورزش تو نہیں کرتا، مگر یہ ضرور ہے کہ حرکت میں برکت کا قائل ہوں۔ خود کو مصروف رکھتا ہوں، ذہن کو بھی استعمال کرتا رہتا ہے۔ اسی وجہ سے حافظہ اچھا ہے۔‘‘
ان کے نزدیک آرٹسٹ کے ہاتھ میں چاہے برش ہو، قلم ہو، یا کمپیوٹر، اس کا ذہن اسی طرح سے کام کرتا ہے۔ 80 برس کی عمر میں کمپیوٹر سے ان کی دوستی ہوئی تھی، جو ہنوز قائم ہے۔ روٹری انٹرنیشنل کے ڈسٹرکٹ گورنر اور ’’پاکستان ایسوسی ایشن آف پرنٹنگ اینڈ گرافک آرٹ‘‘ (PAPGAI) کے دو بار چیئرمین منتخب ہوچکے ہیں۔

کاروبار سے تو بیس برس قبل خود کو الگ کرلیا تھا۔ اب معمولات کچھ یوں ہیں کہ صبح اٹھ کر اخبار پڑھتے ہیں۔ ناشتے کے بعد باغیچے کی سیر کرتے ہیں، ٹی وی دیکھتے ہیں۔ مطالعہ بھی ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے۔ ادبی مجلے توجہ کا مرکز ہیں۔ جو تحریر اچھی لگتی ہے، اُسے محفوظ کر لیتے ہیں۔ ظہرانے کے بعد قیلولہ نہیں کرتے۔ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں،’’میں اب بھی فیکٹری کے اوقات کار فالو کر رہا ہوں۔ قیلولے کی عادت نہیں پڑی۔‘‘

٭ تکمیل ایک نادر نسخۂ قرآن کی۔۔۔
ناممکن سے ممکن کا سفر

احمد مرزا جمیل کے کئی کارناموں میں ایک نمایاں کارنامہ اُن کے ادارے الیٹ پبلشرز کے تحت شائع ہونے والا قرآن پاک بھی ہے، جس کی تکمیل کی کہانی، ایک حیران کن کہانی ہے کہ اس کی خطاطی انوکھے انداز میں مکمل ہوئی۔
قصّہ کچھ یوں ہے کہ خطاطی ان کے والد، نور احمد کا محبوب مشغلہ تھا۔ اسی شوق کے تحت الیٹ پبلشر کے قیام کے بعد اُنھوں نے خواہش کا اظہار کیا کہ احمد مرزا جمیل قرآن کریم کا ایک نسخہ طبع کریں، جو فنی معیار سے انتہائی دیدہ زیب ہو۔ اِس منصوبے میں اہم ترین مرحلہ خطاطی کا تھا، جس کا بیڑا 72 برس کی عمر میں نور احمد صاحب نے خود ہی اٹھایا۔ چھے میں ماہ میں نو سپارے مکمل کیے تھے کہ بلاوا آگیا۔
والد کی اِس تمنا کے ناتمام رہنے کا خاندان کو شدید قلق تھا۔ کچھ عرصے بعد ان کے بھائی، ظہوراحمد نے خیال ظاہر کیا کہ نامکمل خطاطی سے عکس لے کر باقی سپارے ترتیب دیے جائیں۔ بہ ظاہر یہ طریقہ ناممکن تھا، تاہم دھیرے دھیرے یہ امکان کے قالب میں ڈھلنے لگا، جس کا تعاقب کرتے ہوئے خوش نویس، منشی رضا حسین اور ان کے چچا، مقبول احمد نے کام شروع کیا۔
طریقہ کچھ یوں تھا کہ کتابت شدہ 9 پاروں سے ایسے حروف، ترسیمے اور الفاظ منتخب کر کے چھاپ لیے گئے، جو نسخے کی گرافک خطاطی میں درکار تھے۔ پھر سطر کی گنجاش اور الفاظ کی نشست و کشید کی موزونیت سے تراشے منتخب کیے گئے۔ انھیں جوڑ کر ایک ایک سطر ترتیب دی گئی۔ حسب ضرورت اعراب اور نقطے لگائے گئے۔
یوں صبر آزما مراحل سے گزرنے کے بعد، 14 برس کی محنت کے نتیجے میں یہ منفرد اور بے مثال نسخہ مکمل ہوا۔ تصحیح، تزئین اور طباعت میں مزید کچھ برس لگے۔ کمال یہ تھا کہ پہلے 9 اور باقی 21 پاروں میں زرہ برابر فرق نہیں تھا۔۔

بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس

مقتدرہ قومی زبان اور احمد مرزا جمیل

مقتدرہ قومی زبان اور احمد مرزا جمیل از قلم جبار مرزا

جنرل ضیاء الحق اردو کی ترویج، نفاذ اور فروغ چاہتے تھے اس سلسلے میں انہوں نے ایک ادارہ ’’مقتدرہ قومی زبان‘‘ (National Language Authority) اکتوبر 1979ء میں آئین پاکستان کی دفعہ (1)251 کے مقاصد کی بجاآوری کے لئے قائم کرکے ممتاز محقق، ادیب اور دانشور پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی صاحب کو اس کا سربراہ بنایا تھا جسے صدر نشین کہا جاتا ہے، ادارے کا پہلا دفتر کراچی میں ڈاکٹر اشتیاق حسین صاحب کے گھر میں ہی تھا، ادارے کے قیام کا مقصد اردو کو پاکستان کی قومی زبان کی حیثیت سے سرکاری دفاتر میں اس کا نفاذ اولین ترجیح تھی۔ کاروبار حکومت کے تین چوتھائی امور اردو میں انجام دینا قرار پائے تھے۔ کابینہ میں خلاصے، ایجنڈے اور رودادیں اردو میں پیش کرنا طے پایا تھا، ایوان صدر نے اپنے تمام امور اردو میں انجام دے کر مثال قائم کرنی تھی، سیکریٹریٹ کے تمام امور کی انجام دہی اردو میں ہونا تھی مگر ہوا کیا کہ ملک کے کسی بھی ادارے میں اردو کا نفاذ نہ ہو سکا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کو انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو ترجمہ چیف جسٹس مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری کے حکم سے حال ہی میں شروع ہوا ہے، مقتدرہ قومی زبان کے قیام کو چونتیس برس بیت گئے اس دوران اردو کے نامی گرامی شاعر ادیب اور محقق اس کے سربراہ رہے جن میں ڈاکٹر وحید قریشی ، ڈاکٹر جمیل جالبی ، افتخار عارف اور پروفیسر فتح محمد ملک کے علاوہ ڈاکٹر انوار احمد جبکہ قائم مقام میجر آفتاب حسن بھی شامل ہیں۔

دنیا میں اس وقت قریب قریب چھ ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں اردو کا تیسرا نمبر ہے۔ مقتدرہ قومی زبان کی کارکردگی اور کامیابیوں کا جائزہ لیا جائے تو اس نے اتنے طویل سفر کے بعد دو کارنامے سر انجام دیئے ہیں۔2012ء تک یہ کیبنٹ ڈویژن کا ذیلی ادارہ تھا جبکہ دسمبر 2012ء سے اس کی خودمختار حیثیت ختم کر کے اسے وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات و قومی ورثہ کے ماتحت کردیا گیا ہے ادارے کا سربراہ اب ڈائریکٹر جنرل کہلاتا ہے جبکہ دوسرا کارنامہ یہ ہے کہ ادارے کا نام ’’مقتدرہ قومی زبان‘‘ سے بدل کر ’’ادارہ فروغ قومی زبان‘‘ رکھ دیا گیا ہے بعض بچوں کی صحت ٹھیک نہیں رہتی یا دل لگا کر پڑھتے نہیں، سستی اور کاہلی ان پر چھائی رہتی ہے تو والدین ایسے بچوں کا نام یہ کہہ کر بدل دیتے ہیں کہ وہ ’’بھاری‘‘ تھا۔ مقتدرہ قومی زبان بھی ایک بھاری نام ثابت ہوا ہے جبھی چونتیس برسوں میں اردو نافذ نہ ہو سکی اور اگر نام بدلنے سے زبان فروغ پا جائے تو اتنا بھی غنیمت ہے، مقتدرہ قومی زبان کے نامہ اعمال میں ایک ایسا کارنامہ بھی درج ہے جو اس نے انجام ہی نہیں دیا جس کے بارے میں اس کے پہلے سربراہ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی صاحب نے 6؍دسمبر 1980ء کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھرّائی ہوئی آواز اور ڈبڈباتی آنکھوں سے کہا تھا کہ ’’مقتدرہ کے پاس وسائل تھے اور نہ ہی آدمی، یہ ان لوگوں کی فراخدلی ہے کہ انہوں نے اس عظیم کام کو مقتدرہ کے پلیٹ فارم سے پیش کیا ’’لیکن مقتدرہ نے کبھی مڑ کے اپنے اس محسن کو پوچھا تک نہیں، کسی تقریب یا کانفرنس میں نہیں بلایا، محکمہ تعلیم ، وفاقی وزارت اطلاعات ونشریات یا اکیڈمی آف لیٹرز، کسی نے بھی اس شخص کو کبھی یاد نہیں کیا جس نے دھیرے دھیرے ناپید ہوتی اور سسکتی اردو کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچادیا ہے، دنیا کی تیسری بڑی زبان اردو جو کاتبوں کے گھٹنوں پر کلبلاتی رہتی تھی اسے کمپیوٹر کی جدید ترین ٹیکنالوجی سے روشناس کرایا، وہ احمد مرزا جمیل ہیں جن کے بارے میں جنرل ضیاء الحق نے کہا تھا کہ ’’احمد مرزا جمیل نے تاریخ میں اپنا نام محفوظ کرلیا ہے اردو کے لئے اس سے بڑا کوئی کارنامہ نہیں ہو سکتا‘‘۔ کراچی یونیورسٹی نے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری پیش کی، پشاور یونیورسٹی نے سپاس خیبر دی۔ فیض احمد فیض نے کہا تھا کہ احمد مرزا جمیل کا ہم پر احسان ہے، احمد ندیم قاسمی نے کہا احمد مرزا جمیل نے نسلوں پر احسان کیا ہے، حفیظ جالندھری نے قابل قدر کارنامہ کہا جبکہ پروفیسر اشتیاق اظہر نے کہا تھا کہ احمد مرزا جمیل کو نشان امتیاز ملنا چاہئے لیکن حکومت پاکستان نے 14؍ اگست 1982ء کو صدارتی اعزازات کی فہرست میں درج سب سے نچلا اعزاز ’’تمغہ امتیاز‘‘ دیتے وقت احمد مرزا جمیل کو اردو زبان کے عظیم محسن کے خطاب سے نوازا اور ان کے کارنامے کو قومی اہمیت کی ایجاد کہا تھا۔احمد مرزا جمیل نوری نستعلیق کے موجد ہیں اردو کا یہ واحد خط تھا جسے چھپائی کے لئے ہاتھ سے کتابت کیا جاتا تھا۔ اخبارات میں درجنوں کاتب قطار اندر قطار گھٹنوں پر کاغذ رکھے خبریں لکھا کرتے تھے، کتابوں کی لکھائی اور چھپائی پر برسوں مہینوں لگ جایا کرتے تھے۔ 1773ء سے اردو کو مشینی دور میں داخل کرنے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوچکی تھیں۔ حیدرآباد دکن کے نواب نے 1939ء میں کہہ دیا تھا کہ نستعلیق کا اردو ٹائپ نہیں بن سکتا لیکن احمد مرزا جمیل نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا انہوں نے اپنے والد گرامی کے نام مرزا نور احمد کی مناسبت سے اردو نستعلیق کو نوری نستعلیق کا نام دے کر کمپیوٹر سے کتابت کا آغاز کیا۔ نوری نستعلیق رسم الخط کو ایک ہی جست میں اردو زبان کو دنیا کی ترقی یافتہ زبانوں کی صف اول میں لاکھڑا کیا۔

احمد مرزا جمیل کا گھریلو نام مرزا جمیل احمد تھا مگر شعور کی منزلوں کو پہنچے تو انہیں گوارہ نہ ہوا کہ نبی آخری الزماں حضرت احمد مجتبیٰؐ کا نام نامی ان کے نام کے بعد آئے اس لئے احمد کو اپنے نام سے پہلے لگا کر احمد مرزا جمیل ہوگئے۔ وہ 21فروری 1921ء کو دہلی کے محلہ چتلی قبر کے ایک حصے اعظم خان حویلی میں پیدا ہوئے پانچ سال کی عمر میں والدین کے ساتھ بمبئی چلے گئے۔ جے جے اسکول آف آرٹ سے تعلیم مکمل کی 1943ء میں آل انڈیا آرٹ اینڈ انڈسٹری کا اعلیٰ ترین ایوارڈ پایا پھر کلکتہ چلے گئے ملکہ ترنم نورجہاں اور دلیپ کمار کی فلم جگنو کا ٹائٹل تیار کیا۔ پاکستان بنا تو ہجرت کی راولپنڈی چکلالہ پھرلاہور اور آخرکار کراچی جابسے۔ مرزا صاحب کے بڑے بھائی پورٹریٹ پینٹنگ کے ماہر استاد بنے سرکاری دفاتر میں آویزاں قائداظمؒ کی پینٹنگ منظور احمد کی بنائی ہوئی ہے، آپ کے دادا مرزا یٰسین بیگ حافظ قرآن اور صاحب ادراک دانشور تھے۔ دہلی کے علمی و ادبی حلقوں میں ان کا بہت احترام تھا۔احمد مرزا جمیل کے والد مرزا نور احمد اپنے دور کی بے مثال طغریٰ نویس، نقاش ، مصور اور شوقیہ خوش نویس بھی تھے وہ قرآن حکیم کی کتابت کرکے چھاپنا چاہتے تھے۔ جنوری تا جون 1966ء تک ابھی9 سیپاروں کی ہی کتابت کرپائے تھے کہ بیمار پڑگئے پھر 19نومبر 1966ء کو وفات پاگئے یوں پھر ان کی خواہش احمد مرزا جمیل اور ان کے چچا مرزا مقبول نے یوں پوری کی کہ کتابت شدہ 154 صفحات میں سے ایک ایک لفظ اور حرف کا عکس لے کر ایک ایک سطر ترتیب دے کر باقی اکیس سیپاروں کے 391 صفحات مکمل کرائے، اس سلسلے میں ممتاز صحافی سلمیٰ رضا کے والد منشی رضا حسین نے چودہ برس صرف کئے۔ اس طرح وہ قرآن پاک منصئہ شہود پر آیا جس کا ایک نسخہ میری لائبریری میں بھی محفوظ ہے۔

احمد مرزا جمیل اس وقت بانوے برس کے ہیں ان کی شادی 21؍اگست 1949ء کو کراچی میں ہوئی ان کی بیگم بانو جمیل اب پچاسی برس کی ہیں، مرزا صاحب نے نوری نستعلیق کی ایجاد سے حرف و قرطاس کی بصری رعنائی پر مشتمل جو انقلاب آفرین باب رقم کیا ہے اس کی کہانی بہت طویل ہے۔ کالم کی تنگ دامنی آڑے آرہی ہے المختصر احمد جمیل مرزا کو دنیا گھومنے کا شوق ہے۔ 1979ء میں انہوں نے سنگاپور کی ایک بین الاقوامی نمائش میں دیکھا کہ کمپیوٹر پر ایک لڑکی چینی زبان ٹائپ کررہی ہے سامنے ایک بہت بڑا KEY BOARD جس پر سات آٹھ سو حروف تھے وہ بار بار اٹھ اٹھ کر ٹائپ کررہی تھی۔ مرزا صاحب نے سوچا چینی زبان جس کے ALPHABET ہی نہیں ہیں وہ اگر کمپوٹر پر آسکتی ہے تو اردو کے تو صرف چالیس حروف ہیں، اپنے دیرینہ دوست سید مطلوب الحسن سے بات کی جن کا پرنٹنگ کی دنیا کا وسیع تجربہ تھا وہ قائداعظم کے سیکرٹری بھی رہے، ارشاد نامی کاتب کی خدمات حاصل کرکے مختلف لفظوں کے 164 ترسیمے (LIGATUREs) بنانے میں مدد لی۔ 1980ء میں لندن کی IPEX کی نمائش میں نمونے دکھائے وطن واپسی پر مقتدرہ کے اس وقت کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی جو جنرل ضیاء الحق کے استاد بھی تھے سے کہا گیا کہ وہ ضیاء صاحب کو اس کامیابی سے آگاہ کریں اور کم از کم دس مشینوں (ٹائپ سیٹنگ لیزر یونٹ) کی برآمد پر ڈیوٹی معاف کرادیں، جنرل ضیاء الحق نے تعاون تو کیا مگر حالات کا جائزہ لینے کے لئے کرنل زیڈ اے سلہری کو برطانیہ بھجوا کر معلومات بھی لیں۔ جب سارے معاملات طے پاگئے تو اب مسئلہ ٹائپ سیٹنگ میں ایک خط کا تھا جب کہ کاتب مختلف استادوں کے سدھائے ہوئے تھے احمد جمیل مرزا مصور اور آرٹسٹ تو تھے مگر کتابت ان کا شعبہ نہ تھا باوجود اس کے انہوں نے ساٹھ سال کی عمر میں چھ ماہ تک روزانہ اٹھارہ گھنٹے کام کرکے 10×10 انچ کے بیس ہزار ترسیمے جو تقریباً ڈھائی لاکھ الفاظ پر مشتمل تھے خود کتابت کرکے اپنے خط کو دنیا بھر میں رائج کرادیا یوں اردو کو ڈیجیٹائزنگ کے ذریعے کمپیوٹر کے حافظے میں محفوظ کیا اور ایسا پہلی دفعہ ہوا کہ کوئی ٹیکنالوجی یا ایجاد مشرق سے مغرب کی طرف گئی ہے۔

بشکریہ۔ روزنامہ جنگ، جنگ گروپ آف پاکستان
27 نومبر 2013ء

گوگل کے پندرہ برس

سائبر ٹیکنالوجی کے موجودہ دور میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے سرچ انجن گوگل کی عمر 15 برس ہوگئی ہے۔ ابتدا میں یہ صرف ایک سرچ انجن تھا۔ تاہم، جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اس کی دیگر سروسز کا بھی آغاز ہوتا گیا۔
ساتھ ہی گوگل کے مالکان نے بہت سی سوشل میڈیا اور شیئرنگ سائٹس، جیسے آرکیٹ، یو ٹیوب، انفوگرام وغیرہ بھی خرید کر گوگل کا حصّہ بنا لیا اور یوں گوگل سرچ انجن سے مکمل سروس پورٹل بن گیا۔ جب کہ گوگل کی اپنی سروسوں میں گوگل ارتھ، گوگل میپس، جی میل، گوگل ٹرانسلیٹ، گوگل نیوز، گوگل گروپس، گوگل پلے جیسی سروسز کا آغاز ہوتا گیا۔ یہی نہیں گوگل یہ سہولت بھی فراہم کرتا ہے کہاسی کی آئی ڈی کی مدد سے بہت سی دیگر سروسز سے بھی منسلک ہوا جاسکتا ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی، بلکہ گوگل نے ہارڈویئر سازی کے میدان میں بھی قد جما لیے ہیں۔ اس کی پروڈکٹس میں گوگل گلاس، گوگل ٹی وی، پکسل کروم نوٹ بُک اور سب سے اہم اینڈرائڈ فونز کے لیے اوپن سورس آپریٹنگ سسٹم، جس کی مدد سے اسمارٹ فونز ٹیکنالوجی میں انقلاب آگیا ہے۔ گزشتہ دنوں انٹرنیٹ سرچ انجن گوگل نے مواد کی تلاش کے عمل میں بہتری لانے کے لیے اپنا نظام اَپ گریڈ کیا ہے۔جسے ’’ہمنگ برڈ‘‘ کا نام دیا گیا ہے اور یہ گزشتہ تین برسوں میں گوگل سرچ کا پہلا بڑا اَپ گریڈ ہے۔گوگل کے مطابق، یہ نظام گذشتہ ایک ماہ سے کام کر رہا ہے اور اس کا اثر گوگل پر ہونے والی 90 فی صد سرچ پر ہوا ہے۔اس پروگرام کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے گوگل نے اس کی خصوصیات تو بیان نہیں کیں۔ تاہم، کمپنی کے مطابق، ’’ہمنگ برڈ‘‘ طویل اور پیچیدہ سوالات کے لیے کارآمد ہے۔گوگل کے مطابق، یہ نیا الگورِتھم اس لیے اہم ہے کہ اب صارف سرچ انجن سے زیادہ قدرتی اور بات چیت کے طریقے سے رابطہ کرنے کی اُمید رکھ سکتے ہیں۔اپنے پیش رو ’’کیفین‘‘ کے برعکس ’’ہمنگ برڈ‘‘ صرف ویب سائٹس کی فہرست دینے کی بجائے سرچ کے لیے آنے والی درخواستوں کا زیادہ سمجھ داری سے جائزہ لے گا۔کمپنی کی جانب سے اسے اَپ گریڈ کی تشہیری تقریب میں گوگل کی ایک اہل کار نے اس پروگرام کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔اس اہل کار نے پہلے اپنے موبائل فون پراسے ایفل ٹاور کی تصاویر ڈھونڈنے کے لیے کہا اور تصاویر سامنے آنے پر اس کی اونچائی معلوم کرنا چاہی۔ درست جواب ملنے پر اہل کار نے اس کی تعمیر کی تصاویر طلب کیں، جس پر سرچ انجن نے مختلف مراحل کی تصاویر دکھا دیں۔تاہم انٹرنیٹ سرچ کے ایک ماہر ڈینی سلویئن کا کہنا ہے کہ ’’ہمنگ برڈ‘‘ کے اثرات جانچنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ چوں کہ سرچ انجن کی پندرہویں سالگرہ بھی ہے اور اس اَپ گریڈ کی خبر سلیکون ویلی کے اسی گیراج میں میڈیا کے سامنے لائی گئی، جہاں آج سے 15 برس پہلے سرگئی برن اور لیری پیج نے یہ سرچ انجن متعارف کروانے سے قبل کام کیا تھا۔

گوگل کی پندرہویں سالگرہ سے متعلق یہ صفحہ بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
بشکریہ: روزنامہ دنیا نیوز لاہور

بل گیٹس کا دلچسپ جواب

ہارورڈ یونیورسٹی میں حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران بل گیٹس سے پوچھا گیا کہ کمپیوٹر یا سافٹ وئیر استعمال کرتے ہوئے ان Control+Alt+Delete کے مجموعے کا استعمال کیوں ضروری ہے؟
تو بل گیٹس کے جواب نے سبھی کو حیران کر ڈالا۔۔۔ !
ان کا کہنا تھا کہ ہم اس کے لیے ایک key یا ایک بٹن بھی استعمال کر سکتے تھے، لیکن اس وقت جس شخص نے یہ کلیہ بنایا، غلط بنایا، یہ ایک غلطی تھی۔ اس جواب پرحاضرین نے بل گیٹس کوتالیاں بجا کر داد دی اور بہت محظوظ بھی ہوئے۔

بشکریہ: روزنامہ دنیا نیوز لاہور

تین منٹ

’’جاوید چوہدری کی فکر انگیز تحریر – مجھے صرف تین منٹ چاہئیں‘‘
ہمیں مرے ہوئے تین منٹ ہو چکے تھے لیکن ہمیں یقین نہیں آ رہا تھا‘ ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا‘ ہم بھی مر سکتے ہیں‘ میرے ساتھ ایک اسمارٹ قسم کا خوبصورت مردہ بیٹھا تھا‘ اس کے بازو‘ ٹانگیں‘ گردن‘ چھاتی پیٹ اور کمر بتا رہی تھی‘ اس نے زندگی کا زیادہ تر وقت جم میں گزارا ہو گا‘ یہ دنیا کی متوازن اور بہترین خوراک کھاتا ہو گا اور اس نے اپنے جسم کو ہر قسم کی آلودگی‘ بیماری اور بدپرہیزی سے بھی بچا کر رکھا ہو گا‘ میں نے اس سے پوچھا ’’ تم نے کبھی سگریٹ پیا‘‘ اس نے انکار میں سر ہلا دیا۔
میں نے پوچھا ’’ شراب‘ چرس‘ گانجا‘‘ اس کا سر انکار میں ہلتا رہا‘ میں نے پوچھا تم نے کبھی رش ڈرائیونگ کی‘ پانی میں اندھی چھلانگ لگائی‘ تم سڑک پر پیدل چلتے رہے ہو یا تم لوگوں سے الجھ پڑتے ہو‘‘ اس نے انکار میں سر ہلایا اور دکھی آواز میں بولا ’’ میں نے زندگی میں کبھی کوئی غلط کام نہیں کیا‘‘ میں نے پوچھا ’’ تمہاری عمر کتنی تھی‘‘ اس نے جواب دیا ’’ صرف 32 سال‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا ’’ پھر تم کیسے مر گئے‘‘ اس کا دکھ بڑھ گیا‘ میں بھی اس بات پر حیران ہوں‘ میں اپنے آپ سے مسلسل پوچھ رہا ہوں‘ میں کیسے مر سکتا ہوں‘‘ میں نے پوچھا ’’ تم مرے کیسے تھے‘‘ اس نے چیخ کر جواب دیا ’’ میں اپنے لائونج میں ٹی وی دیکھ رہا تھا‘ مجھے اچانک سینے میں درد محسوس ہوا۔ میں نے چائے کا کپ میز پر رکھا‘ دُہرا ہوا اور اس کے بعد سیدھا نہیں ہو سکا‘ میں مر گیا‘‘۔
میں نے پوچھا ’’ تمہاری اس وقت سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟‘‘ اس نے میری طرف دیکھا اور بولا ’’ تین منٹ کی زندگی‘ میں صرف تین منٹ کے لیے واپس جانا چاہتا ہوں‘ میرے والد میرے ساتھ خفا تھے‘ میں اپنی بیوی سے بدتمیزی کرتا تھا‘ میں نے اپنے بچوں کو کبھی پیار نہیں کیا‘ میں ملازموں کو وقت پر تنخواہ نہیں دیتا تھا‘ اور میں نے اپنے لان میں گلاب کے پھول لگوائے تھے لیکن میں ان کے پاس نہ بیٹھ سکا اور میں نے ہمیشہ اپنے جسم کو اللہ تعالیٰ کی کبریائی سے مقدم رکھا‘ میں تین منٹ میں سب سے معافی مانگنا چاہتا ہوں اور میں اپنے گلابوں کو چھو کر دیکھنا چاہتا ہوں‘‘ ہم سب سناٹے میں آ گئے‘ پہلوان کی بات ابھی جاری تھی کہ دوسرا بول پڑا۔
یہ ایگزیکٹو قسم کا سیریس مردہ تھا‘ اس کے چہرے پر کامیاب بزنس مین کا اعتماد تھا‘ کامیابی انسانی چہرے پر اعتماد کی چند لکیریں چھوڑ جاتی ہے‘ یہ لکیریں کامیاب لوگوں کو عام اشخاص سے مختلف بنا دیتی ہیں‘ آپ دنیا کے مختلف کامیاب لوگوں کی تصویریں لیں‘ یہ تصویریں میز پر رکھیں اور غور سے دیکھیں‘ آپ کو تمام چہروں پر خاص قسم کا اعتماد ملے گا اور وہ خاص اعتماد اس کے چہرے پر بھی موجود تھا‘ میں نے اس سے پوچھا ’’ تم بھی مر گئے؟‘‘ اس نے افسوس سے سر ہلایا اور جواب دیا ’’ میں بھی اس بات پر حیران ہوں‘ میں دنیا کے بہترین ڈاکٹر‘ اعلیٰ ترین اسپتال اور مہنگی ترین دوائیں افورڈ کر سکتا تھا‘ میں نے دنیا کی مہلک ترین بیماریوں کی ویکسین لگوا رکھی تھی‘ میں امریکا اور یورپ کی بہترین لیبارٹریوں سے ہر چار ماہ بعد اپنے ٹیسٹ کرواتا تھا۔
ہفتے میں دو بار اسٹیم باتھ لیتا تھا‘ میں ڈائیٹ چارٹ کے مطابق خوراک کھاتا تھا‘ ہر ہفتے فل باڈی مساج کرواتا تھا‘ میں کام کا سٹریس بھی نہیں لیتا تھا‘ میں نے ہمیشہ بلٹ پروف گاڑی اور ذاتی جہاز میں سفر کیا‘ میرے پاس پانچ ہزار لوگ ملازم تھے‘ یہ لوگ میرا سارا سٹریس اٹھا لیتے تھے اور میں صرف عیش کرتا تھا مگر پھر مجھے کھانسی آئی‘ میں نیچے جھکا‘ فرش پر گرا اور مر گیا اور میں پچھلے تین منٹ سے یہ سوچ رہا ہوں‘ میں کیسے مر سکتا ہوں‘ میں نے تو کبھی مرنے کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا‘‘ میں نے اس سے پوچھا ’’ تم اب کیا چاہتے ہو‘‘ اس نے تڑپ کر جواب دیا ’’ تین منٹ کی زندگی‘ میں واپس جا کر اپنی ساری دولت ویلفیئر کے لیے وقف کرنا چاہتا ہوں‘ میں اس سے فری میڈیکل کالج‘ ملک کا سب سے بڑا تھیلیسیمیا اسپتال یا پھر ملک کی سب سے بڑی سائنس یونیورسٹی بنانے کا حکم دوں گا اور پھر واپس آ جاؤں گا۔
آپ لوگوں کے پاس‘‘ ابھی اس کی بات جاری تھی تیسرا مردہ بول پڑا‘ یہ مردہ چال ڈھال اور شکل شباہت سے سیاستدان دکھائی دیتا تھا‘ دنیا کے تمام سیاستدانوں کے چہروں پر مکاری ہوتی ہے‘ اس کے چہرے پر بھی مکاری موجود تھی‘ میں نے پوچھا ’’بٹ صاحب آپ بھی فوت ہو گئے‘‘ وہ دکھ میں ڈوبی آواز میں بولا ’’ ہاں اور میں اسی بات پر حیران ہوں‘ سوچ رہا ہوں‘ میں کیسے مر سکتا ہوں‘ میں تو وہ شخص تھا جس کے ایک نعرے پر لوگ جان دیتے تھے‘ میری گرفتاری‘ میری قید پر میرے ورکر خود سوزی کر لیتے تھے‘ لوگ مجھ سے ٹکٹ لینے کے لیے گیارہ ہزار وولٹ کے کھمبے پر چڑھ جاتے تھے۔
میرے جوتے اٹھا کر سینے سے لگا لیتے تھے اور میں اس وقت تک کوئی چیز کھاتا تھا اور نہ ہی پیتا تھا‘ میرے ڈاکٹر جب تک اس کی تصدیق نہیں کر دیتے تھے‘ میں ہمیشہ بلٹ پروف شیشوں کے پیچھے رہا اور میں تقریر بھی بلٹ پروف کیبن میں کھڑے ہو کر کرتا تھا‘ میں ہر مہینے عمرے کے لیے جاتا تھا اور ہر دوسرے دن دو لاکھ روپے خیرات کرتا تھا مگر آج اچانک میرے سر میں درد ہوا‘ میں نے کنپٹی دبائی‘ میرے دماغ میں ایک ٹیس سی اٹھی‘ میں نے چیخ ماری اور میں مر گیا۔
میرے ڈاکٹر مجھے زندہ کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں مگر میں اب آپ کے ساتھ کھڑا ہوں‘‘ میں نے اس سے بھی پوچھا ’’ آپ کی اس وقت سب سے بڑی خواہش کیا ہے‘‘ اس نے ہنس کر جواب دیا ’’ تین منٹ کی زندگی‘ میں اس دنیا کے تمام سیاستدانوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں‘ آپ موت سے نہیں بچ سکتے چنانچہ عوام اور اپنے درمیان سے بلٹ پروف شیشے ہٹا دیں‘ خدمت اور تبدیلی وہی ہے جو آپ آج لے آئے‘ اگر آج کی ٹرین مس کر دی تو دوبارہ نہیں پکڑ سکیں گے‘ آپ خادم ہیں تو خدمت کریں نعرے نہ لگائیں‘‘ وہ خاموش ہوا تو چوتھا مردہ بول پڑا۔
یہ مسکین مردہ تھا‘ نائین ٹو فائیو والا مسکین شخص‘ یہ لوگوں کی وہ کلاس ہے جو کندھے پر کوہلو کا شہتیر لے کر پیدا ہوتی ہے اور زندگی ایک دائرے میں گزار دیتی ہے‘ یہ قانون کے اس قدر پابند ہوتے ہیں کہ یہ قانون کی لکیر پر اپنا اور کسی دوسرے کا پائوں نہیں آنے دیتے‘ یہ ناک کی سیدھ میں زندگی گزارتے ہیں اور ناک ٹیڑھی ہونے دیتے ہیں اور نہ ہی زندگی‘ میں نے اس سے پوچھا ’’ تم بھی مر گئے‘‘ اس نے کہا ’’ یہ ہی تو پریشانی ہے‘ میں نے زندگی میں کبھی غلطی نہیں کی‘ حرام کو ہاتھ تک نہ لگایا‘ پونے آٹھ بجے دفتر پہنچا‘ چھٹی کے بعد آدھ گھنٹہ دفتر بیٹھا‘ ہمیشہ فائلیں گھر لے کر آیا اور اپنے عزیز ترین شخص کو بھی کوئی رعایت نہیں دی‘ پانچ وقت نماز پڑھی‘ پورے روزے رکھے‘ اپنے ضمیر کو ہمیشہ مطمئن رکھا۔
نفس کو خواہشوں کے ڈنگ سے بچا کر رکھا مگر میں اس کے باوجود مارا گیا‘ میں نے پوچھا ’’ تم کیسے مارے گئے‘‘ اس نے جواب دیا ’’ میں چھت سے اپنی قمیض اتارنے گیا‘ آوارہ گولی آئی‘ سر میں لگی اور میں بیالیس سیکنڈ میں زندگی کی حد کراس کر گیا‘‘ میں نے پوچھا ’’ تم اب کیا چاہتے ہو‘‘ اس نے فوراً جواب دیا ’’ میں بھی تین منٹ کی اضافی زندگی چاہتا ہوں‘ میں ان تمام سائلوں سے معافی مانگنا چاہتا ہوں جنھیں میں نے جعلی ضابطوں اور جھوٹے اصولوں کی ٹکٹکی پر لٹکائے رکھا‘ میں اپنے کولیگز کو بھی یہ بتانا چاہتا ہوں‘ ضابطے انسانوں کے لیے ہیں‘ انسان ضابطوں کے لیے نہیں‘ آپ کو کسی کے جائز کام کے لیے ضابطے کی ساری کتاب بھی قربان کرنی پڑے تو کر جائیں کیونکہ آپ نے اصول پسندی کی اس جھوٹی ضد کے باوجود اچانک مر جانا ہے‘‘ ابھی اس کی بات جاری تھی کہ مولوی صاحب کا مردہ سیدھا ہو گیا۔
ان کے ماتھے پر زہد اور تقویٰ کا محراب تھا‘ گردن عجز اور انکساری کے بوجھ سے جھکی ہوئی تھی‘ میں نے انھیں پوچھا ’’ حضور آپ بھی مر چکے ہیں‘‘ مولوی صاحب بولے ’’ میں بھی اس بات پر حیران ہوں‘ میں نے زندگی میں سیکڑوں جنازے پڑھائے‘ اپنی ہر تقریر میں موت‘ میدان حشر اور حساب کا ذکرکیا لیکن اس کے باوجود مجھے یقین تھا میں نہیں مروں گا‘ اللہ تعالیٰ مجھے سو سال سے زائد عمر دے گا اور میں جب تک موت کے فرشتے کو اجازت نہیں دوں گا یہ میرے بستر کے قریب نہیں پھٹکے گا مگر ہوا اس سے الٹ‘ میں موٹر سائیکل سے گرا اور ٹرک میرے اوپر سے گزر گیا اور مجھے بھی اب صرف تین منٹ چاہئیں۔
میں دنیا کو بتانا چاہتا ہوں ہم لوگ آپ کو جو مذہب سکھا رہے ہیں‘ یہ غلط ہے‘ آپ کو اللہ‘ کتاب اور رسولؐ کے سواکسی مولوی‘ کسی پیر‘ فقیر کی ضرورت نہیں‘ اللہ سے اپنی غلطیوں‘ گناہوں اور کوتاہیوں کی معافی مانگو‘ نماز نہیں پڑھتے تو بھی نماز کے وقت قبلہ رو ہو کر آنکھیں بند کرو اور صرف تین سیکنڈ کے لیے اللہ سے کہو‘ یا اللہ میں حاضر ہو گیا‘ مجھے معاف کر دے‘ قرآن مجید ترجمے کے ساتھ پڑھو اور رسولؐ کی کوئی ایک سنت پوری زندگی سنوارنے کے لیے کافی ہے‘ اس کی بات ابھی ادھوری تھی اور وہ لوگ میری طرف مڑے اور مجھ سے پوچھا ’’ اف جاوید چوہدری تم بھی مر گئے‘ تمہیں تو نہیں مرنا چاہیے تھا‘‘۔
مردوں کی اف میری روح میں ترازو ہوگئی‘ میں نے سوچا ’’ واقعی میں کیسے مر سکتا ہوں‘ میں ڈسپلن میں رہنے والا شخص ہوں‘ میں نے تو ابھی مرنے کا منصوبہ ہی نہیں بنایا تھا مگر میں سویا اور صبح اٹھ نہ سکا‘ میری ننھی بیٹیاں مجھے اٹھاتی رہیں‘ یہ میرے اوپر چھلانگیں لگاتی رہیں‘ ان کا خیال تھا میں ان کے ساتھ مذاق کر رہا ہوں‘ میں ابھی بھی اٹھوں گا‘ مگر میں نہ اٹھا اور ان کے قہقہے چیخوں میں بدل گئے‘ میں نے زندگی میں اپنی بچیوں کو کبھی دکھ نہیں دیا‘ میں انھیں زندگی میں پہلی بار روتے‘ چیختے دیکھ رہا ہوں اور ان کی چیخیں میری روح کو تار تار کر رہی ہیں‘ مجھے بھی تین منٹ چاہیے تھے‘ صرف تین منٹ‘ میں ان کی گیلی پلکوں پر بوسہ دینا چاہتا ہوں‘ میں انھیں روز کی طرح اسکول بھجوانا چاہتا ہوں‘ خدا کے لیے مجھے صرف تین منٹ چاہئیں‘ کوئی مجھے یہ تین منٹ دے دے گا؟ خدا کے لیے‘‘۔
کالم نویس: جاوید چوہدری
بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس 14 اپریل 2013ء

جب اسکردو میں فرشتے اترے

ابابیلوں نے آنا چھوڑ دیا ہے لیکن فرشتوں کا اُترنا ابھی جاری ہے۔ یہ کہانی انہی کی ہے۔ اسکردو سے بھی اور آگے ایک گاؤں ہے: کورفے۔ یہ پاکستان کا شاید آخری گاؤں ہے۔ اس سے آگے کوہ قراقرم اور کے ٹو کی چوٹی ہے۔ ان پہاڑوں پر چڑھنے کیلئے دنیا بھر کے کوہ پیما اسی علاقے سے گزرتے ہیں۔ وہ ذرا سا گاؤں کورفے اب دنیا کے نقشے پر نظر آنے لگا ہے۔ یہاں اس کا قصّہ سنانا ضروری ہے۔یہ بات اب پرانی ہوئی۔ ایک امریکی کوہ پیما گریگ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کوہ قراقرم پر گیا۔ واپسی میں ان کی ٹیم منتشر ہوگئی اورگریگ اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گیا۔ بہرحال وہ مرتا کھپتا پہاڑ سے نیچے اترا اور راہ میں اسے جو پہلا گاؤں ملا وہ کورفے تھا۔ گاؤں کے بلتی باشندوں نے تباہ حال کوہ پیما کی تیمار داری اور خاطر داری بھی کی۔ جب گریگ کی صحت بحال ہوئی اور وہ گاؤں کو دیکھنے نکلا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ گاؤں میں کوئی اسکول نہیں، بچّے کھلے آسمان کے نیچے بیٹھ کر پڑھتے ہیں۔ ان کے پاس نہ کاغذ ہیں نہ کتابیں اور وہ سوکھی لکڑی سے مٹّی میں حروف اور ہندسے بنا رہے ہیں۔ گریگ نے گاؤں والوں کا احسان چکانے کے لئے ایک وعدہ کیا۔ اس نے کہا کہ وہ امریکہ جاکر کچھ رقم جمع کرے گا اور واپس آکر کورفے کے بچّوں کے لئے اسکول بنائے گا۔
گریگ نے امریکہ جاکر لیکچر دینے شروع کئے اور لوگوں کو بتایا کہ دنیا میں ایک اسکول ایسا بھی ہے جہاں بچّے خاک پر پڑھتے ہیں اور خاک ہی پر لکھتے ہیں۔ اس پر لوگ عطیات دینے لگے، ایک بڑے مالدار اور بوڑھے شخص نے کہا کہ یہ لو رقم اور کورفے کے بچّوں کے لئے اسکول تعمیر کرو۔ بس یہ ہے کہ جب اسکول بن جائے تو اس کی تصویر لاکر میرے کمرے میں لگا دینا تاکہ میں ہر ایک کو دکھا سکوں کہ دیکھو یہ میرا اسکول ہے۔
دیکھتے دیکھتے خواب حقیقت بننے لگے۔ قراقرم کی تاریخ میں پہلی بار ایک اسکول کی عمارت کھڑی ہوئی، کلاسیں بن گئیں، فرنیچر لگ گیا، استاد آگئے اور پہاڑوں کے سنّاٹے میں پہلی بار روز صبح اسکول کا گھنٹہ بجنے لگا۔ وقفے میں کھیلتے ہوئے بچّوں کے وہ چھوٹے چھوٹے قہقہے گونجنے لگے اور علاقے کی تقدیر بدلنے لگی۔
اس کے بعد قصہ طویل لیکن تاریخی ہے۔ گریگ نے شمالی پاکستان سے افغانستان کے اندرونی علاقوں تک بچوں کے اسکول بنانے کی تحریک شروع کی اور اس کے لئے سینٹرل ایشیاء انسٹیٹیوٹ یا سی اے آئی نام کی ایک تنظیم قائم کی۔ اِس وقت گلگت بلتستان سے لے کر واخان تک کتنے ہی جدید اسکول بن گئے ہیں جن میں نہایت صاف ستھرے، شگفتہ اور شائستہ بچّے، خصوصاً بچّیاں تعلیم پا رہے ہیں۔ گریگ کا خیال ہے کہ لڑکیوں کو پڑھانا ضروری ہے تاکہ تعلیم کا سلسلہ نسل در نسل آگے بڑھے۔
یہ تو ہوا آج کی کہانی کا ایک رخ۔ اب اس داستان کا بالکل تازہ باب لکھتا ہوں۔ یہ کورفے کی چھ سال کی بچّی سکینہ کی کہانی ہے جس کی بلتی ماں کا نام چوچو اور باپ کے نام ابراہیم ہے۔ سکینہ اپنے گاؤں کے بچوں کی طرح کھیلتی کودتی نہیں تھی۔ اس کا بستر سے اٹھنا محال تھا کیونکہ اس کے دل میں سوراخ تھا اور سوراخ بھی ایسا جس کا علاج بے حد مشکل ہے۔ اس کے باپ ابراہیم کو اندازہ تھا کہ بچی بیمار ہے اور یہ احساس بھی تھا کہ لڑکی کے دوا علاج کے لئے اس کی جیب میں کچھ بھی نہیں۔
پچھلے سال موسم خزاں میں سی اے آئی کی ایک ٹیم کورفے آئی۔ جس وقت یہ لوگ اسکول کا معائنہ کر رہے تھے، ابراہیم پھٹے پرانے کوٹ میں لپیٹ کر سکینہ کو وہاں لے آیا۔ گریگ اور اس کے ساتھیوں نے بچی کا معائنہ کیا۔ دبلی پتلی بچی گہری گہری سانسیں لے رہی تھی اور رطوبت سے بھرے پھیپھڑوں سے طرح طرح کی آوازیں نکل رہی تھیں۔ اس کا دل بے ڈھنگی چال چل رہا تھا جس کی ہر دھڑکن پر یہ گمان ہوتا تھا کہ اب رُکا اور اب رُکا۔ گریگ جب نیچے اسکردو آیا تو سکینہ کو ساتھ لے آیا تاکہ اسپتال میں اس کے ٹیسٹ ہو سکیں۔
وہاں ہر قسم کے ٹیسٹ ہوئے۔ ہر ایک کا ایک ہی نتیجہ نکلا، سکینہ زیادہ عرصے نہیں جئے گی۔ اتفاق سے اُنہی دنوں اٹلی کے کوہ پیماؤں کی ایک جماعت اسکردو میں موجود تھی جو دنیا کی گیارہویں سب سے اونچی چوٹی گیشربرم اوّل سر کرنے جا رہی تھی۔ یہ لوگ مقامی آبادی میں گھل مل گئے تھے اور چاہتے تھے کہ انہیں سی اے آئی کے فلاحی کام دکھائے جائیں۔ تنظیم کے بلتی منیجر نذیر اور خود گریگ نے ان اطالوی مہمانوں سے کہا کہ پہلے اس بچّی کو دیکھیں جس کا نام سکینہ بتول ہے۔ مہمانوں میں شامل خاتون انا لیزا نے لڑکی کا معائنہ کیا اور کہا کہ اس کے دل کا آپریشن کرنا ہوگا ورنہ اس کا بچنا مشکل ہے۔ گریگ نے انہیں بتایا کہ اس کی تنظیم جو خدمت انجام دے چکی ہے اس سے زیادہ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اس پر انا لیزا نے اعلان کیا کہ وہ کچھ کرکے رہے گی۔اب بچی کے باقاعدہ ٹیسٹ ہونے تھے تاکہ دل کو اچھی طرح پرکھا جائے۔ سی اے آئی نے ابراہیم اور سکینہ کو راولپنڈی پہنچایا جہاں دل کے مرض کے فوجی اسپتال میں اس کا معائنہ ہوا۔ تشخیص پریشان کن تھی، وہ یہ کہ آپریشن میں بھی جان جانے کا خطرہ ہے۔
انا لیزا حوصلہ نہ ہاری۔ اس نے اٹلی کے شہر میلان میں بچوں کے دل کے علاج کے بہت بڑے ماہر ڈاکٹر ایساندرو اور دوسرے ماہروں سے مشورہ کیا۔ انہوں نے بھی کہا کہ آپریشن خطرناک اور پیچیدہ ہوگا البتہ سکینہ کے بچ جانے کا امکان پچاس فیصد ہے۔ اٹلی کے ڈاکٹروں نے فیصلہ کیا کہ وہ مدد کریں گے اور جیسے بھی بنے گا، اخراجات کے لئے رقم فراہم کریں گے۔ادھر سی اے آئی کی مدد سے سکینہ اور اس کے والد نے پانچ مہینے راولپنڈی میں گزارے تاکہ بچی میں اتنی توانائی آجائے کہ وہ آپریشن کے دشوار مرحلے سے گزر سکے۔ تنظیم کے منیجر نذیر نے اس دوران پاسپورٹ اور ویزا حاصل کرنے کا کام شروع کیا اور مترجم کے طور پر خود ساتھ جانے کا فیصلہ کیا۔ اُدھر اٹلی والوں نے ہوائی سفر، خوراک اور دوا علاج کے لئے رقم جمع کرنی شروع کی اور تیرہ ہزار ڈالر اکٹھے کر لئے۔ فروری میں یہ تینوں اٹلی میں میلان کے ہوائی اڈے پر اترے۔ کمسن سکینہ شروع میں تو گھبرائی لیکن جب رضا کار لڑکیاں اور بچے اس سے کھیلنے اور تصویری کہانیاں سنانے کے لئے اس کے پاس آنے لگے تو اس کا دل بہل گیا۔
17 فروری کو آپریشن ہوا۔ اسپتال والے بتاتے ہیں کہ آٹھ ماہر سرجنوں نے آپریشن کیا جو اس اسپتال کے سب سے زیادہ پیچیدہ آپریشنوں میں شمار ہو گا۔ سرجری کے بعد انا لیزا بچی کو دیکھنے گئی اور اسے اپنے آنسو روکنا مشکل ہو گیا۔ سکینہ کے جسم میں ہر طرف طرح طرح کے پائپ اور تار لگے ہوئے تھے جیسے وہ بندھی پڑی ہو۔ بس یہ ضرور تھا کہ وہ زندہ تھی۔ اگلے روز انا لیزا نے اپنے بلاگ میں لکھا کہ سکینہ کی حالت ابھی تک اچھی نہیں، وہ بدستور آئی سی یو میں ہے، اسے تیز بخار ہے، سینے پر بلغم بہت ہے اور دل کے بائیں حصے میں خون کی گردش ٹھیک نہیں، اسے دعاؤں کی ضرورت ہے شاید انا لیزا کی یہ درخواست کام کر گئی۔ سکینہ اٹھ بیٹھی۔ ایک ہفتے کے اندر اندر وہ چلنے لگی اور اس کمرے میں جا پہنچی جو بچوں کے کھیلنے کے لئے مخصوص ہے۔ اٹلی کے میڈیا نے اس کی خبریں خوب نشر کیں اور چھ اخبار اور ایک ٹیلی وژن چینل والے اسپتال آئے۔
سکینہ کی خبریں شائع ہوئیں تو اس کے لئے لوگوں نے اور رقم دی۔ اس کی خاطر میراتھن ریس ہوئی جس میں لوگوں نے عطیات دیئے۔ بیس دن بعد یہ تینوں واپس پاکستان پہنچ گئے۔ نذیر نے بتایا کہ سکینہ اب بالکل ٹھیک ہے۔ اس کے سینے پر شگاف کا نشان ضرور ہے لیکن ٹانکے نکل گئے ہیں اور سب کچھ درست ہے۔ اب سکینہ کچھ وقت راولپنڈی میں اور اسکردو میں گزارے گی اور مئی تک یعنی یہ قصہ شروع ہونے کے پورے ایک سال بعد گاؤں والے اسے گود میں اٹھائے ناچتے گاتے کورفے میں داخل ہوں گے۔ قراقرم کی چوٹیاں انسان دوستی کا یہ جذبہ دیکھ کر فخر سے کچھ اور اونچی ہو جائیں گی اور ڈوبتے سورج کی سنہری کرنیں کے ٹو کے رخساروں پر افشاں بن کر پھیلیں گی۔
مگر ٹھہرئیے۔ یہاں تک پہنچ کر مجھے اچانک ایک خیال آیا۔ درد مند دل رکھنے والے جن فرشتہ صفت لوگوں کا اس کہانی میں ذکر آیا، سوچتا ہوں کہ وہ تو عیسائی تھے، وہ مسیحی تھے، ہم سے مختلف، ہم سے جدا، وہ ہمارے دوست نہیں ہو سکتے، ہم تو ان سے بہتر اور افضل ہیں، تو کیا کریں۔ کیوں نہ ان پر کوئی تہمت تھونپ دیں اور چل کر ان کی بستی پھونک دیں؟
کالم نویس: رضا علی عابدی
بشکریہ: روزنامہ جنگ، 29 مارچ 2013ء

تُو باقی نہیں ہے

میں جب بھی عشق و محبت کی وارفتگی کے مناظر دیکھتا ہوں۔ ہمیشہ اس سوچ میں ڈوب جاتا ہوں کہ یہ سب کچھ، جو بدن کی لرزش میں دکھائی دیتا ہے، جو عقیدت کا نورانی ہالہ بن کر ہمارے وجود کا احاطہ کر لیتا ہے، جو درد میں ڈھل کر جوئے خوں کی طرح ہماری آنکھوں سے ٹپکتا ہے، جو سوز و گداز کا دل دوز آہنگ لئے ہمارے وعظوں، خطبوں، نعتوں، نوحوں اور مرثیوں میں رچ بس جاتا ہے اور جو ہمیں کچھ دیر کے لئے دنیا و مافیہا سے بے گانہ کر دیتا ہے، وہ ہمارے کردار و عمل کا حصہ کیوں نہیں بن پاتا؟

مجھے جب بھی حج و عمرہ کی سعادت نصیب ہوئی، اس سوال کی چبھن تیز تر ہوگئی۔ مکہ و مدینہ کے حرمین میں ایسے ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ دنیا آنکھوں سے تحلیل ہو جاتی ہے، کسی رشتہ و پیوند کا تصور تک باقی نہیں رہتا، ریاض الجنہ میں گریہ و زاری کرتے لوگ، روضہٴ رسول کی سنہری جالیوں کی طرف لپکتے روتے بلکتے اور دعائیں مانگتے لوگ، خانہ کعبہ کا دیوانہ وار طواف کرتے لوگ، باب کعبہ کو تھامے بچوں کی طرح آنسو بہاتے لوگ۔ یہ سب کچھ دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے حرمین شریفین کی آغوش رحمت میں ایک نئی قوم جنم لے رہی ہے، ایک نئی امت مسلمہ وجود میں آ رہی ہے، اللہ سے لو لگانے اور محمد عربی سے لازوال محبت کو حاصل حیات سمجھنے والے انسانوں کا ایک نیا قبیلہ پرورش پا رہا ہے۔ جذب و عشق کے اس دریائے نور سے نکل کر جب یہ باہر قدم رکھیں گے تو ان کے اندر ایک انقلاب بپا ہو چکا ہو گا۔ یہ سر تا پا ایک نئے سانچے میں ڈھل چکے ہوں گے۔ یہ وہ نہیں رہیں گے، جو تھے۔ پھر مجھے علامہ کے وہ اشعار یاد آتے ہیں جن میں بندہ مومن کی صفات بیان کی گئی ہیں۔

ہاتھ ہے اللہ کا، بندئہ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں کار کشاؤ کارساز
خاکی و نوری نہاد، بندئہ مولا صفات
ہر دو جہاں سے غنی، اس کا دل بے نیاز

پھر میں دیکھتا ہوں کہ ہم سب محبت و عقیدت میں بھیگی عبائیں اور ندامت کے آنسوؤں سے تر بتر احرام اتار کر جدہ ہوائی اڈے کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ہاتھوں میں مدینہ منورہ کی کھجوروں کے تھیلے، زمزم کے کین اور رنگارنگ سامان سے ٹھنسے بکسے رہ جاتے ہیں۔ پھر ہم پاکستان اپنے اپنے ہوائی اڈوں پر اترتے ہیں۔ ہمارے عزیز ہمارے گلوں میں تازہ گلابوں کے ہار ڈالتے، پھولوں سے آراستہ گاڑیوں میں بٹھاتے، گھر لے آتے ہیں۔ پھر محفلیں آراستہ ہوتی ہیں۔ ہم مکہ مدینہ کی داستانیں سناتے ہیں اور پھر گردش شام و سحر میں سب کچھ بھولی بسری کہانی ہو جاتا ہے۔ ہمارے اندر پھر سے وہی جالے تن جاتے ہیں، پھر سے وہی کدورتیں جاگ اٹھتی ہیں اور ہم پھر سے ”سگ زمانہ“ بن کے رہ جاتے ہیں۔

یہی کیفیت جشن میلاد النبی کی ہوتی ہے۔ حضور ختم المرسلین کی ولادت کا معطر دن محبتوں اور عقیدتوں کا ایک سیل رنگ و نور لے کر طلوع ہوتا ہے۔ چار سو نعتوں کے زمزمے پھوٹتے ہیں۔ عشّاق بڑے بڑے جلوسوں کی شکل میں سڑکوں پر آتے ہیں۔ واعظان کرام حضور کے مشکبور تذکرے سے دلوں کو گرما دیتے ہیں۔ عربی لباس پہنے، گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار چھوٹے بڑے حجاز کے عہد رفتہ کو آواز دیتے ہیں۔ دیگیں پکتی اور سبیلیں لگتی ہیں۔ کوچہ و بازار پرچموں، بینروں اور جھنڈیوں سے آراستہ کئے جاتے ہیں۔ عمارتیں چراغوں سے جگمگا اٹھتی ہیں اور پھر سعادتوں اور برکتوں سے بھرا زمانوں پر محیط یہ مہکتا اور دمکتا دن وقت کی تقویم میں گم ہو جاتا ہے۔ صبح طلوع ہوتی ہے، پھر شام اترتی ہے، پھر کچھ اور صبحیں پھر کچھ اور شامیں…!! اور پھر نبی رحمت سے محبت و عقیدت کے بے مثل مظاہروں کی تصویر دھندلا جاتی ہے۔ ہم حضور کے اسوئہ حسنہ سے بے خبر، آپ کی منور تعلیمات سے بے نیاز، ڈھورڈنگروں کی طرح دنیا کی شاداب چراگاہوں کی تلاش میں لگ جاتے ہیں۔

محرم بھی کچھ اسی انداز سے آتا ہے۔ کون سا مسلمان ہے جو حسین ابن علی کے تاریخ ساز کردار اور آپ کی شہادت عظمیٰ کے مقام بلند کا معترف نہ ہو۔ کون سا مسلمان ہے جس کا دل آپ اور آپ کے اہل و عیال اور آپ کے رفقا پر ٹوٹنے والی قیامت پر غم سے بھر نہ جاتا ہو۔ پھر ماتم گروں کے جلوس، ان کا ماتم، ان کی آہ وزاری، ذاکران کرام کے وجد آفریں بیان، مرثیے، سوز، سلام، نوحے، مجلسیں، شام غریباں، عزاداری، حسین اور کربلا کی یاد کس شان اور کس عقیدت سے منائی جاتی ہے۔ لیکن کیا ہمارے اندر استبداد کے سامنے ڈٹ جانے کا عزم جواں پیدا ہوتا ہے؟ کیا ہمارے دلوں میں حسین کی روح حلول کرتی ہے؟ کیا ہم حق کی سربلندی کیلئے کٹ مرنے کے لئے آمادگی سے ہمکنار ہوتے ہیں؟ کیا ہماری جبینیں اس ایک سجدے کی تڑپ محسوس کرتی ہیں جو ہزاروں سجدوں سے بے نیاز کر دیتا ہے؟ حسین سے عشق و محبت کے یہ مظاہرے، حسین کو ہمارے فکر و احساس میں جگہ کیوں نہیں دیتے؟ علامہ اقبال نے کس سرور بخش لہجے میں کہا تھا۔

آں امام عاشقاں پورِ بتول
سروِ آزادے زبستان رسول
بہرآں شہزادئہ خیر الملل
دوش ختم المرسلین نعم الجمل
موسیٰ و فرعون وشبیر و یزید
ایں دو قوت از حیات آید پدید
زندہ حق از قوت شبیری است
باطل آخر داغ حسرت میری است
تا قیامت قطع استبداد کرد
موج خونِ او چمن ایجاد کرد
رمز قرآں از حسین آموختیم
زآتش او شعلہ ہا اندوختیم
شوکت شام و فرِ بغداد رفت
سطوت غرناطہ ہم از یاد رفت
تارِ ما از زخمہ اش لرزاں ہنوز
تازہ از تکبیر او ایماں ہنوز
اے صبا اے پیک دور افتادگاں
اشک، ما بر خاکِ پاک او رساں

(وہ جو عاشقوں کا امام و پیشوا اور فاطمة الزہرا کا فرزند اور رسول پاک کے باغ کا سروِ آزاد تھا۔ امت مسلمہ کے اس بہترین شہزادے کے لئے رسول کریم کے مبارک شانے، سواری تھے۔ موسیٰ اور فرعون، شبیر (امام حسین) اور یزید یہ دو متضاد قوتیں زندگی کے روز اول سے ہی چلی آرہی ہیں۔ حق شبیر کی طاقت سے ہی زندہ ہے اور باطل کا انجام حسرت و ناکامی کے سوا کچھ نہیں۔ حسین نے قیامت تک کے لئے جبر و استبداد کی جڑیں کاٹ دیں۔ آپ کی موج خوں نے ایک تازہ چمن ایجاد کیا۔ قرآن کے اسرار و رموز ہم نے حسین سے سیکھے۔ آپ ہی کی آگ سے حرارت ایمانی کے شعلے چُنے۔ شام کی شان و شوکت اور بغداد کی عظمت جاتی رہی، غرناطہ کی شوکت و سطوت بھی ہماری یادوں سے محو ہو گئی، لیکن ہماری زندگی کے تار آج بھی اسی مضراب کی وجہ سے لرزاں ہیں، اسی کے نعرئہ تکبیر کے سبب ہمارا ایمان آج تک زندہ ہے۔ اے بادِ صبا! اے دور کی بستیوں کے مکینوں کی نامہ بر! میرے آنسو اس کی قبر کی خاک پاک تک پہنچا دے)۔

کیا ہمارا دین، ہماری روایات، ہماری تاریخ، ہمارے اسلاف صرف تذکروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں؟ کیا اسلام کا روشن تریں پیغام، چند مظاہر میں سمٹ گیا ہے؟ کیا علامہ ہی کے الفاظ میں یہ امت ”روایات“ کی نذر ہو گئی ہے اور دین کی روح ہمارے حاشیہ کردار و عمل سے کہیں دور نکل گئی ہے۔ کیا مشرق کے اس عظیم شاعر نے ٹھیک کہا تھا کہ

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے
وہ دل وہ آرزو باقی نہیں ہے
نماز و روزہ و قربانی و حج
یہ سب باقی ہیں، تو باقی نہیں ہے

مضمون نگار: عرفان صدیقی
بشکریہ روزنامہ جنگ 25 نومبر 2012ء

بابا فرید شکر گنج 

زندگی کومیدان کربلا سمجھنے والے بابا فرید شکر گنج  … ڈاکٹر منظوراعجاز

بابا فرید شکر گنج  کے سالانہ عرس کے محرم کے اوائل میں ہونے سے کچھ عجیب سا لگتا تھالیکن پھر جب ان کی زندگی کو تھوڑا گہرائی سے دیکھا تو پتہ چلا کہ ایک ایسا مردقلندر جس نے زندگی کو کربلا کا میدان سمجھ کر جیا ہو اس کا عرس عاشورے کے دنوں میں نہیں ہوگا تو کب ہوگا۔ انہی کا مصرع ”چنت کٹھولا وان دکھ برہ وچھاون لیف “ ( چنتا یاپریشانی میری چارپائی ہے جسے دکھوں کے بان سے بنا گیا ہے اور مسلسل درد ہجر میرا توشک (گدا)ہے“۔لاکھوں عقیدت مند عرس کے موقع پرجان کی بازی لگا کر بہشتی دروازے سے گزریں گے لیکن یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگی کہ جب بابا فرید نے اس جہان فانی کو الوداع کہا تو ان کی قبر پر چننے کیلئے اینٹیں بھی میسر نہیں تھیں۔ چنانچہ ان کی درگاہ کے دروازے سے اینٹیں اکھاڑ کر مزار بنایا گیا۔ یہ تھا اصلی مرد مومن اور خاک نشین درویش کا حاصل زندگی۔ بہشتی دروازہ تو بعد میں خواجہ نظام الدین اولیاء نے بنوایا تھا جن کو بابا فرید نے اپنے بیٹوں کی ناراضی کے باوجود اپنا جانشین بنایا تھا۔
بابا فرید جب ملتان کے ایک گاوٴں کھوتوال میں ایک امام مسجد کے گھر پیدا ہوئے ہوں گے تو کون جانتا تھا کہ یہ بچہ پنجابی اور سندھی کا اولین شاعر ہونے کے علاوہ ہندوستان کے روشن خیال روحانی سلسلہ چشتیہ کا ایسا تیسرا مرشد اعلیٰ ہوگا جس کے سامنے دہلی دربار کے امراء بھی جھکیں گے۔ بابافرید اپنے گھر سے ابتدائی تعلیم لیکر ملتان کے بہت بڑے مدرسے میں طالب علم تھے تو چشتیہ سلسلے کے دوسرے مرشد حضرت بختیار کاکی نے ان کے جوہر کو پہچانتے ہوئے حلقہ ارادت میں لے لیا۔ انہی کے مشورے پر بابا فرید افغانستان اور وسط ایشیا میں مطالعہ جہان میں پانچ سال مصروف رہے، واپس آکر کچھ دیر اپنے گاوٴں میں رہے اور چشتیہ سلسلے کی نظامت سنبھالنے تک جھانسی میں بیس سال رہے۔ مزید برآں ان کے بارے میں یہ کہنا قطعاً بے بنیاد ہے کہ انہوں نے ایک شہزادی سے شادی کی۔ تاریخی حوالوں کے مطابق انہوں نے پہلی شادی جھانسی میں کی جس سے ایک بیٹی پیدا ہوئی جو مشہور و معروف صوفی صابر کلیری سے بیاہی گئیں۔ آپ نے دوسری شادی پاکپتن میں کی اور تیسری اپنے ایک مرحوم خلیفہ کی بے پرسان حال بیوی سے۔ آپ کی اولاد میں پانچ بیٹے اور تین بیٹیوں کا ذکر آتا ہے۔
زندگی کے سفر میں حضرت بختیار الدین کاکی  نے جب بابا فرید کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا تو ان کو جھانسی سے نقل مکانی کرکے دہلی جانا پڑا۔ روایت ہے کہ کچھ دیر وہاں رہنے کے بعد جب آپ ایک دن باہر گلی میں تشریف لے گئے تو جھانسی کے ایک خاک نشین نے آپ سے کہا کہ حضرت وہاں تو آپ کی روز زیارت ہو جاتی تھی لیکن یہاں دربان اندر ہی گھسنے نہیں دیتے۔ کہا جاتا ہے کہ اس واقعے کا آپ پر اتنا اثر ہوا کہ آپ نے دہلی چھوڑ کر چھوٹے سے شہر اجودھن (پاکپتن) میں ڈیرہ جما لیا۔ دلی کے شہرت و دبدبہ اور خوشحالی کو چھوڑ کر نیم صحرائی شہر پاکپتن میں جانے کا فیصلہ ایک مومن اور درویش ہی کر سکتا تھا۔دہلی چھوڑنے کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہاں کے شرفاء ملتان کے ایک دیہاتی کو مرشد اعلیٰ تسلیم نہ کرتے ہوئے سازشیں کر رہے تھے۔ بابا فرید چشتیہ سلسلے کے رہنما اپنی اہلیت کی بنا پر مقرر کئے گئے تھے جو دہلی کی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے چشتیوں کیلئے ہضم کرنا تھوڑا مشکل تھا۔ چشتیہ اور بہاؤ الدین ذکریا کے سہروردی سلسلے میں فرق ہی یہ تھا چشتیہ سربراہ اہلیت کی بنا پر اپنا جانشین مقرر کرتے تھے جبکہ سہروردیہ میں یہ وراثتی حق تھا۔ دونوں سلسلوں میں ایک اور بھی فرق تھا کہ چشتیہ درگاہوں پر ہر مذہب کے لوگ جاسکتے تھے جبکہ سہروردیہ اس کی اجازت نہیں دیتے تھے۔
اس پس منظر میں یہ سمجھنا آسان ہے کہ دلی کی پُرسازش فضاوٴں سے دور پاکپتن میں بھی آپ کی زندگی آسان نہ تھی، غرضیکہ آپ کوفے میں آگئے تھے۔ حضرت نظام الدین اولیاء کی ڈائری ”فوائد الفوائد“ ہی بابا فرید کی زندگی کے بارے میں واحد مستند ذریعہ ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ درگاہ پر جس دن ابلے ہوئے ڈیلوں (کریر کا پھل) میں نمک ہوتا تو وہ درویشوں کے لئے عید کے دن جیسا ہوتا تھا۔بابا فرید اپنے صاحب خانہ کو بھی درویشوں کا ہی کھانا کھلاتے تھے۔ انہوں نے اپنے ایک دوہے میں جس غربت اور امارت کے فرق کے بارے میں کہا ہے وہ ان کا اپنا ذاتی تجربہ بھی تھا کہ ”اکناں آٹا اگلّا اکناں ناہیں لون“ (کچھ کے پاس آٹے کے انبار ہیں اور کچھ کو نمک بھی میسر نہیں ہے)۔
معاشی تنگ دامانی کے ساتھ ساتھ شہر کا حاکم اور قاضی آپ کے اتنے بڑے جانی دشمن تھے کہ انہوں نے سازشی طریقے سے ان کے سب سے چھوٹے بیٹے کو شہید کروا دیا تھا۔ قاضی نے اس زمانے کے تعلیمی مرکز ملتان کے علماء اور فقہاء کو لکھا کہ یہ کیسے پڑھے لکھے عالم ہیں جو مسجد میں بیٹھ کر گانا سنتے ہیں اور کبھی کبھی رقص بھی کرتے ہیں۔ جب ملتان میں یہ پتہ چلا کہ یہ بابا فرید کے بارے میں کہا جا رہا ہے تو سب نے خاموشی اختیار کر لی۔ قاضی پھر بھی باز نہیں آیا اور آپ کے بیٹوں کو طرح طرح سے آزار دیتا رہا جس پر آپ کے بیٹے آپ سے شکایت کرتے تھے اور نالاں تھے۔ بابا فرید ان کو صبر کی تقلین کرتے کیونکہ ان کو علم تھا کہ عوام کے ساتھ بھی نہایت ظالمانہ سلوک کیا جاتاہے۔
میں جانیا دکھ مجھی کو دکھ سبھائے جگ
اوپر چڑھ کے ویکھیا گھر گھر ایہو اگ
(میں سمجھا تھا کہ میری ہی زندگی دکھی ہے لیکن جب اوپر چڑھ کر دیکھا تو ہر گھر میں یہی آگ نظر آئی)
چشتیہ سلسلے کا اپنے روحانی پیشواوٴں کے بارے میں اصول تھا کہ وہ آج کا جمع شدہ آج ہی صرف کریں گے اور کل کیلئے کچھ بچا کے رکھا نہیں جائے گا۔چنانچہ جب خواجہ نظام الدین اولیاء کا آخری وقت قریب آیا تو انہوں نے بیت المال کے انچارج سے پوچھا کہ کیا کچھ جمع ہے۔ جواب میں جب یہ بتایا گیا کہ درویشوں کیلئے چالیس دن کا غلہ وغیرہ ہے تو آپ بہت خفا ہوئے اور گلی میں جا کر اعلان کر دیا کہ یہ غلہ لوٹ لیا جائے۔خواجہ نظام الدین اولیاء نے تہی دستانہ روایت اپنے مرشد بابافرید سے ہی سیکھی تھی۔ آج ان کے مزار کے ساتھ ملحق گدی کی زمینیں ان کے پوتوں نے تغلق شاہی کا ساتھ دے کر لی تھیں، اپنی زندگی میں بابا فرید نے جاگیریں لینے سے صاف انکار کردیا تھا۔
ایک مرتبہ جب طغرل خان (جو بعد میں تغلق بادشاہ کہلایا) لشکر کے ساتھ ملتان جا رہا تھا تو اس نے پاکپتن کے قریب پڑاوٴ ڈالا۔ اس نے اپنے نمائندوں کے ذریعے نقدی اور کئی گاوٴں کی جاگیریں ان کو پیش کیں۔ بابا فرید نے یہ کہہ کر نقدی رکھ لی کہ یہ درویشوں کے کام آئے گی اور جاگیریں یہ کہہ کر لوٹا دیں کہ اس کے مجھ سے زیادہ دوسرے حقدار ہیں۔ طغرل خان کی فوج کے افسر اور سپاہی ان کی زیارت کے خواہاں تھے لیکن انہوں نے سرکاری افسروں سے ملنے سے انکار کر دیا۔ جب اصرار بڑھا تو بابا فرید کی قمیص کا دامن باہر دیوار سے لٹکا دیا گیا جسے فوجی بوسہ دیتے گزر جاتے۔ شام تک وہ کپڑا چیتھڑے بن چکا تھا۔اس موقع پر فوج کا ایک خاکروب کسی طرح سے اندر پہنچنے میں کامیاب ہو گیا اور اس نے کہا کہ ”حضرت آپ کو جو خدا نے دیا ہے اسے خلقت سے دور کیوں رکھتے ہیں“ بابا فرید نے اٹھ کر اسے گلے لگایا اور کہا کہ یہ پابندی تمہارے جیسے مسکینوں کیلئے نہیں ہے“۔
بابا فرید سے بہت سی ماورائی کہانیاں منسوب ہیں کہ وہ بارہ سال کوئیں میں لٹکے رہے یا اتنی ہی دیر جنگل میں لکڑی کو چبا کر زندہ رہے۔ غالباً عوام نے ان کے اس شعر سے یہ کہانی تخلیق کی ہے:
روٹی میری کاٹھ دی لاون مینڈی بھکھ
جنہاں کھاہدی چوپڑی گھنے سہن گے دُکھ
(میری روٹی لکڑی کی اور بھوک میرا سالن ہے۔ جو چُپڑی ہوئی کھا رہے ہیں آگے جا کر بڑے دکھ اٹھائیں گے)۔
تاریخ کا یہ پہلو بھی دلچسپ ہے کہ بابا فرید کا کلام ہم تک گرو گرنتھ صاحب کے ذریعے پہنچا ہے۔ بابا گورو نانک نے بابا فرید کے دوہے جمع کئے تھے جن کو گرو ارجن جی نے گرنتھ کا حصہ بنا دیا۔اب بھی گردواروں میں ”فرید بانی“ کا گا کر ورد کیا جاتا ہے۔ حیرت ہے کہ مسلمانوں میں بابا فرید کو ایک پیر کی حیثیت سے تو بہت بڑا مقام دیا گیا لیکن ان کی شاعرانہ عظمت کے بارے میں مکمل لاعلمی کا اظہار کیا گیا۔ آج بھی ان کے مزار پر دوسرے پنجابی و اردو شاعروں کا تو کلام گایا جاتا ہے لیکن نہیں گایا جاتا تو ان کا اپنا کلام !افسوس تو یہ ہے کہ بابا فرید کے دوہے عظیم شاعری کا نمونہ ہی نہیں بلکہ موسیقی کی بندشوں میں آ کر جو سماں پیدا کرتے ہیں وہ کم شاعروں کو ہی نصیب ہو سکتا ہے۔ بابا فرید کی شاعری کی لاانتہا فلسفیانہ، فنکارانہ اور سماجی جہتیں ہیں مثلاً وہ اپنے اردگرد کے معاشی، سیاسی اور سماجی نظام کے بارے میں اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں”ویکھ فریدا جو تھیا سکر ہوئی وِس“ (فرید دیکھو کس طرح سے شکر میں زہر ملا دیا گیا ہے)۔ لیکن وہ نظام کی خرابیوں کو تقدیر کا لکھا سمجھنے کی بجائے انسانوں کے افعال کا نتیجہ مانتے تھے۔ اسی کو واضح کرنے کے لئے کہتے ہیں ”لوڑے داکھ بجوڑیاں ککر بیجے جٹ “ (جاٹ بو تو کیکر رہا ہے اور امید باجوڑ کے انگوروں کی کر رہا ہے)۔ اسی طرح انہوں نے معاشی استحصال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ فصلیں بوتے ہیں اور کچھ اس کو لوٹتے ہیں لیکن ان سب کے باوجود ان کا فلسفہ حیات یہ تھا کہ
فریدا برے دا بھلا کر، غصہ من نہ ہنڈائے (او فرید بُرے کا بھلا کرنا چاہئے تاکہ غصہ آپ کی روح کوہڑپ نہ لے) ۔
جیسا کہ شروع میں کہا گیا بابا فرید نے زندگی کو کربلا کا میدان سمجھ کر گزارا۔ ان کے اشعار سے واضح ہوتا ہے کہ زندگی میں شہرت، حسن اور دولت فانی ہیں، ان کے لئے مصلحتوں سے کام لینا عبث ہے:
جیں لوئن جگ موہیا سو لوئن میں ڈٹھ
کجل ریکھ نہ سہندیاں پنکھی سوئے بٹھ
(میں نے وہ آنکھیں دیکھی ہیں جنہوں نے ایک جہان کو مسحور کیا ہوا تھا اور جن کی آنکھیں کجلے کا ایک ذرہ بھی برداشت نہیں کرتی تھیں اور پھر انہیں آنکھوں پر پرندوں کو بیٹ گراتے بھی دیکھا)۔
اسی بے یقین دنیا میں غرور ، تکبر کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
فریدا خاک نہ نندئیے خاکو جیڈ نہ کو
جیوندیاں پیراں تھلے مویاں اوپر ہوئے
(او فرید خاک کو گھٹیا مت سمجھو کیونکہ یہی زندگی میں پاوٴں پر کھڑا ہونے کی قابل بناتی ہے اور موت کے بعد لباس کی طرح ڈھانپتی ہے)۔

مضمون نگار: ڈاکٹر منظوراعجاز
بشکریہ: روزنامہ جنگ 23-نومبر-2012ء

گھر بیٹھے روزگار

آپ انٹرنیٹ کے ذریعے گھر بیٹھے روزگار بھی کما سکتے ہیں۔

ایک ایسے دور میں جب مہنگائی عروج پر ہو بیروزگاری عام ہوتی جائے تو ایسے دور میں انٹرنیٹ آپ کے لیے بہترین ذریعہ روزگار ثابت ہو سکتا ہے۔ یا وہ تمام افراد جو اپنی ماہانہ آمدنی میں اضافے کے لیے پارٹ ٹائم جاب کی تلاش میں ہیں ۔ وہ خواتین جو گھر کے کاموں سے فارٖغ ہونے کے بعد گھر بیٹھے کوئی کام کرنا چاہتی ہیں، جو ان کے لیے حصول آمدن کا باعث ہو اور گھر کا بجٹ بہتر طور پر چلایا جا سکے۔ وہ تمام طلبہ و طالبات جو پڑھائی کے ساتھ ساتھ کچھ کام کرکے اپنا جیب خرچ نکالنا چاہتے ہیں۔ ایسے تمام افراد کے لیے انٹرنیٹ بہترین ذریعہ روزگار ثابت ہوسکتا ہے۔

انٹرنیٹ استعمال نہ کرنے والوں کے ذہن میں اس کی بابت کئی خیالات ہوتے ہیں، جو عموماً مفروضے بن جاتے ہیں۔ مثلاً انٹرنیٹ پر کام کرنے کے لیے بہت اچھی انگریزی آنا ضروری ہے یا اس زبان کی بول چال کا جاننا ضروری ہے، جب کہ یہ قطعاً غلط ہے۔ اگر آپ محض میٹرک یا انٹر پاس ہیں اور تھوڑی سی انگریزی لکھنا پڑھنا جانتے ہیں، تو بس یہ مضمون آپ ہی کے لیے ہے۔ اب اضافی اخراجات اور دن بہ دن بڑھتی مہنگائی سے پریشان ہونا چھوڑ دیں۔

سب سے پہلے آپ کو اپنی صلاحیتوں کا ادراک کرنا پڑے گا اور اپنی دل چسپی کا محور ڈھونڈنا ہوگا۔ مثلاً آپ کس ہنر میں ماہر ہیں یا آپ کی تعلیم، ہنر، شارٹ کورسز کوئی ڈپلوما کورسز کیسے ہیں یا آپ لکھنے پڑھنے کے دل دادہ ہیں، تو آپ کو انٹرنیٹ پر اسی مناسبت سے کام ڈھونڈنا پڑے گا۔

انٹرنیٹ پر موجود کئی ویب سائٹس کام کرنے والوں کو مختلف صلاحیتوں کے اعتبار سے روزگار فراہم کرتی ہیں۔ درحقیقت یہ ویب سائٹس روزگار تلاش کرنے والوں اور روزگار مہیا کرنے والوں کے درمیان ایک مڈل (مڈل مین) ثالثی کا کردار ادا کرتی ہیں اور معمولی سے معاوضے کے عوض یہ رابطے کا ایک ذریعہ بنتی ہیں۔

ان ویب سائٹس پر اپنا اکاؤنٹ بنانے یا ممبر بننے کے لیے کئی یہ ویب سائٹس کچھ معاوضہ طلب کرتی ہیں، جب کہ کئی ویب سائٹس پر بلامعاوضہ بھی آپ ممبر بن سکتے ہیں۔ ممبر بنتے ہی آپ کو اپنے متعلق بنیادی معلومات ویب سائٹ پر درج کرنی پڑتی ہیں، مثلاً آپ روزگار حاصل کرنا چاہتے ہیں یا روزگار مہیا کرنا چاہتے ہیں ۔ آپ کی دل چسپی کس شعبے میں ہے۔ آپ اپنی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کس طرح کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کو لکھنے سے دل چسپی ہے تو کیا کیا لکھنا پسند کرتے ہیں، جیسے مضامین، خبریں، کہانیاں وغیرہ، غرض جس شعبے اور صنف میں آپ خود کو ماہر سمجھتے ہیں، وہی منتخب کریں۔ اس طرح آپ کا Profile تیار ہوجائے گا۔ اور ویب سائٹ پر کام کرنے والوں کی تلاش کے دوران آپ کا نام بھی آئے گا۔

آپ کی منتخب کردہ صلاحیتوں اور آپ کی دل چسپی کے دائرے کے مطابق جیسے ہی کوئی اسامی آئے گی، آپ کو بذریعہ ای میل مطلع کر دیا جائے گا۔ عموماً اسامیاں کم اور کام کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں، لہٰذا جو کم دام میں بہتر کام اور جلدی کرکے دے دیتا ہے، اس کو وہ کام دے دیا جاتا ہے۔ پروجیکٹ مکمل کرکے دینے پر ویب سائٹ پر آپ کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہونے کی تفصیل آجاتی ہے۔ کئی ویب سائٹس اپنے اراکین کے بینک اکاؤنٹ میں رقم منتقلی کا کام انجام دیتی ہیں، جس کے لیے چند ڈالر کی فیس کی اس رقم میں سے کٹوتی ہوجاتی ہے اور یوں جناب! گھر بیٹھے آپ کما سکتے ہیں۔

انٹرنیٹ کے ذریعے کمانے کے لیے آپ کو ذیل میں درج چند باتوں کا ضرور دھیان رکھنا چاہیے:

٭ اپنی صلاحیت کو بہترین انداز میں پیش کریں:
مشہور کہاوت ہے ’’پہلا تاثر ہی آخری تاثر ہوتا ہے۔‘‘ کوشش کیجیے آپ کا پہلا تاثر بہت اچھا اور متاثرکن ہو۔ اس کے لیے اپنا پروفائل بہترین بنائیے اور اپنی بہترین صلاحیتوں کے نمونے اس میں شامل کیجیے۔ مثلاً اگر آپ لکھنا چاہتی ہیں، تو آپ کا تحریر کردہ بہترین طبع زاد یا غیرمطبوعہ مضمون اس میں موجود ہو۔ اسی طرح اگر آپ گرافک ڈیزائنر ہیں تو بہترین پروجیکٹ کو اپنے پروفائل میں شامل کیجیے۔ اگر ویب سائٹ ڈیزائنر ہیں، تو بہترین ویب سائٹ کا لنک شامل ہو۔ غرض آپ جس میدان ہنر یا فن میں مہارت رکھتے ہوں، اس میں وہ آپ کا بہترین مظاہرہ ہونا چاہیے، تاکہ آپ کا پروفائل دیکھ کر پروجیکٹ کے لیے آپ کو منتخب کرنے والے کو کامل یقین ہوجائے کہ وہ بہترین شخص کا انتخاب کر رہا ہے، جو اس میدان میں ماہر ہے۔

٭ بہترین نتائج کے لیے محنت کریں:
ہر میدان عمل میں محنت کام یابی کی کنجی ہے۔ اسی طرح اس میں بھی آپ محنت کرکے اپنی صلاحیتوں کو چار چاند لگا سکتے ہیں۔ مثلاً مختلف کورسز کریں۔ مطالعہ کریں۔ تحقیق کریں ۔ وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ روز بروز ہر میدان عمل میں ترقی ہوتی جا رہی ہے۔ کوئی بھی کام کرنے کے لیے آپ کو پتا ہونا چاہیے اس میں نیا کیا ہو رہا ہے کیا نئی تحقیق ہوئی ہے۔ اس کے لیے آپ انٹرنیٹ پر موجود سرچ انجن کی بھی مدد لے سکتے ہیں۔

٭ سوشل نیٹ ورکنگ:
فی زمانہ سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائٹس بھی آپ کی صلاحیتوں کا کے بھرپور اظہار کا ایک موزوں ذریعہ ہیں ۔ آپ اپنا پیج یا گروپ بنا کر اس میں اپنی نگارشات یا اپنے کام کے مختلف نمونے یا اپنے پروجیکٹ کی تصاویر وغیرہ شامل کرکے دوسروں کو اپنے ہنر، اپنے فن اور اپنی صلاحیت سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ مثلاً کئی افراد جو یونٹ منیجمنٹ یا صرف شادیوں میں ڈیکوریشن کا کام کرتے ہیں، تو وہ مختلف تصاویر کے ذریعے آرڈر حاصل کر لیتے ہیں ۔ ڈریس ڈیزائنر اپنے ملبوسات کی تصاویر شامل کرکے آرڈر حاصل کر لیتی ہیں اور پھر بیرون شہر یا بیرون ملک ہونے کی صورت میں کوریئر سروس کے ذریعے بھجوا کر بینک اکاؤنٹ میں رقم کی وصولی کرلی جاتی ہے۔

اسی طرح بے شمار نوجوان مختلف میسنجرز مثلاً yahoo , Skype وغیرہ پر ٹیوشن لینے کا کام بھی کرتے ہیں۔ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر اس کے متعلق بتا کر یا اشتہار لگا کر وہ طالب علموں کو آن لائن پڑھاتے ہیں ۔ غرض انٹرنیٹ کے ذریعے بے شمار طریقوں سے آپ گھر بیٹھے کما سکتے ہیں ۔ بس صلاحیت ہو، پختہ یقین اور اعتماد ہو تو کام یابی آپ کے قدم چوم لیتی ہے۔

٭ دھوکے بازوں سے ہوشیار رہیں:
ہر شعبۂ زندگی کی طرح انٹر نیٹ کی دنیا میں بھی دھوکے عام ہیں۔ لہٰذا بہت سوچ سمجھ کر اور محتاط ہو کر کام کیجیے کوئی بھی پروجیکٹ کرنے سے پہلے آدھی ادائیگی کا مطالبہ ضرور کر دیجیے۔ اس کے علاوہ اپنی ذاتی معلومات کسی کو دینے سے قطعی گریز کریں۔ سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر بھی آرڈر کی تکمیل اسی صورت میں کریں، جب ایڈوانس ادائیگی آپ کو مل جائے۔ رقم کی منتقلی کے لیے بھی بہت محتاط ہو کر ویب سائٹس کا انتخاب کیجیے ۔ کئی معروف ویب سائٹس پاکستان میں رقم کی ترسیل کا کام نہیں کرتیں، لہٰذا اپنی ذاتی معلومات پتے، بینک اکاؤنٹ نمبر سوئفٹ کوڈ وغیرہ بغیر کسی کی مشاورت کے کسی ویب سائٹ پر نہ ڈالیں۔ ہر ویب سائٹ کے تعارف، قواعد و ضوابط کو بغور پڑھنے کے بعد کوئی بھی فیصلہ کریں۔

انٹرنیٹ کے ذریعے بہ حیثیت فری لانسر پیسہ کمانا جتنا پرکشش اور آسان محسوس ہوتا ہے، اتنا ہی خطرناک بھی ہے، کیوں کہ اس میں دھوکے، فراڈ ، چال بازیاں عام ہیں۔ انٹرنیٹ کی دنیا ایک سراب کی طرح ہے، بہت خوب صورت اور پرکشش نظر آنے والی پیش کش کے درپردہ کون ہے اور اس کے کیا عزائم ہیں؟ انٹرنیٹ یوزر عموماً اس سے لاعلم رہتا ہے۔ کئی دفعہ نوجوانوں کی دن رات کی محنت مٹی میں مل جاتی ہے ۔

جب ایسی کسی پیش کش سے فائدہ اٹھانے والے کو مطلوبہ رقم نہیں ملتی، اس کے ساتھ کسی چال بازی کے ذریعے پراجیکٹ کروا لیا جاتا، یا پھر کسی بھی ویب سائٹ کی مکمل آگاہی کے بغیر یعنی ہر ویب سائٹ کے جو اصول و ضوابط ہیں یا کام کرنے کی جو شرائط ہیں، ان کا بغور مطالعہ نہ کرنے کی صورت میں بھی بہت سے افراد محنت کرنے اور پراجیکٹ مکمل کرنے کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرپاتے۔ لہٰذا انٹرنیٹ پر کام کرنے اور پیسہ کمانے کے لیے بہت سوچ سمجھ کر پراجیکٹ قبول کریں اور رقم کی وصول کے لیے بھی بہت سمجھ داری سے کام لیں۔

ہمیشہ شرائط اور قواعد وضوابط بہ غور پڑھیں۔ بہ صورت دیگر آپ پریشان ہوسکتے ہیں، کیوں کہ ایسی ویب سائٹس بھی ہیں جو رقم کی منتقلی کے لیے مشہور ہیں، لیکن وہ پاکستان میں رقم کی منتقلی نہیں کرتیں، لہٰذا بہت سوچ بچار اور سمجھ داری سے ویب سائٹس منتخب کریں اور ان پر اپنی معلومات کا اندراج کریں۔ اندراج کرتے وقت اگر آپ سے معمولی سی بھی غلطی ہوگئی تو ہوسکتا ہے کہ رقم آپ کے اکاؤنٹ کے بجائے کسی دوسرے کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوجائے۔ اپنے بینک کا سوئفٹ کوڈ دیتے وقت بھی احتیاط لازمی ہے۔

انٹرنیٹ پر بحیثیت فری لانسر کام کرنے والوں کے ساتھ عموماً جو دھوکے اور چال بازیاں ہوتی ہیں ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

1۔ پراجیکٹ مکمل کرکے ان کے مطلوبہ ای میل پر بھیجنے یا ویب سائٹ پر بھیجنے کے بعد رقم کا آپ کے اکاؤنٹ میں منتقل نہ ہونا۔ یہ سب سے عام دھوکا ہے، جو بیشتر لوگوں کو انٹرنیٹ پر کام کرنے یا بہ حیثیت فری لانسر کام کرنے سے بد دل کر دیتا ہے۔ اس ضمن میں سب سے بہتر طریقہ یہی ہوتا ہے کہ آدھی پیمنٹ (رقم) یا رقم کا کچھ حصہ ایڈوانس میں وصول کرلیا جائے۔ بہ صورت دیگر اگر آپ نے ویب سائٹ پر ہی پراجیکٹ مکمل کرکے ارسال کیا ہے، تو آپ ویب سائٹ کے سپورٹ سسٹم سے بات کرکے براہ راست یا ایم میل کے ذریعے اپنی شکایت ان تک پہنچا سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ کوئی بھی پراجیکٹ قبول کرنے سے قبل پراجیکٹ دینے والے کے پروفائل میں اس کے متعلق لکھے گئے تبصرے یا تاثرات ضرور پڑھ لیجیے۔ اس کے علاوہ کئی ویب سائٹس پر مخصوص نشان ہوتے ہیں، جو ان کے پروفائل میں ہوتے ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے اکاؤنٹ میں ادائیگی کے لیے رقم ہے یا نہیں۔ اگر آپ مطمئن نہ ہوں تو پراجیکٹ قبول نہ کریں۔

2۔ اکثر آپ کو مختلف پیغامات بھی آپ کے نام پراجیکٹ کی صورت میں بھیجے جاتے ہیں ، جس میں اوپر ایک پراجیکٹ قبول کرنے کا ٹیپ ہوتا ہے۔ اس پر کلک کرتے ہی اس ویب سائٹ کی فی پراجیکٹ مقرر کردہ جو فیس ہوتی ہے وہ چند ڈالر کی صورت میں آپ کے اکاؤنٹ سے ویب سائٹ کو منتقل ہوجاتی ہے۔ لہٰذا کوئی بھی کلک کرنے کا پراجکیٹ قبول کرنے سے قبل بہ غور پڑھ لیں۔

3۔ کئی ویب سائٹس چند ہزار روپے کی ممبر شپ کے عوض آپ کو ممبرشپ دیتی ہیں، جس کے بعد مختلف پراجیکٹ کرنے پر آپ کے ویب سائٹ کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہوتی رہتی ہے، لیکن ان کی ایک مقررہ رقم ہوتی ہے، مثلاً سو ڈالر مقررہ رقم ہے ۔ اس سے کم رقم ہونے کی صورت میں آپ ویب سائٹ سے رقم اپنے بینک اکاؤنٹ میں منتقل نہیں کر سکتے۔ اس قسم کی ویب سائٹس شروع میں آپ کے پراجیکٹ قبول کرکے پسندیدگی کا اظہار کرتی ہیں اور جب مقررہ رقم میں کچھ رقم باقی رہ جاتی ہے تو آپ کے پراجیکٹ مسترد کر نا شروع کر دیتی ہیں اور یوں انٹرنیٹ کو ذریعۂ معاش بنانے کے خواہش مند مسلسل محنت کرنے کے باوجود صلہ نہیں پاتے اور ممبر شپ کی رقم بھی ڈوب جاتی ہے ۔ لہٰذا ایسے چال بازوں سے ہوشیار رہیں۔

مضمون نگار: منیرہ عادل
بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس۔ 18 نومبر 2012ء