م بلال م

اک محبوب نگری – سفرنامۂ جہاز بانڈہ – چوتھی قسط


جھیل کٹورہ ٹریک کے آغاز پر ہی منظرباز نے پہاڑوں کے اوپر دیکھتے ہوئے کہا ”میخانے کا دروازہ کھول کہ رِند آئے ہیں“۔ پھر ہم خطرناک پتھروں پر بے حال ہوئے چلے جا رہے تھے۔ سچ ہے کہ حُسن کشٹ مانگتا ہے۔ جھیل یونس کے بعد راستے کی خطرناکی دیکھتے ہوئے شاہ رخ صاحبہ نے کہا ”سوچ لو کہ آج مرنا ہے“۔ پھر ایک لڑکی نے ظلم ڈھایا اور ہم نے غصہ کھایا۔ آخر جھیل کٹورہ پہنچ ہی گئے۔ اس مقام کی تاثیر یہ تھی کہ ”تم“ آئے چناب کی صورت۔ خیر جھیل کنارے مسافرِشب سے ماڈلنگ کرائی۔ فوٹوفوٹی جنگ ہوئی، بونے ناچے اور کئی لڑکیوں نے ”کُڑی مارکہ“ کا عملی نمونہ پیش کیا۔ آخر ریل گاڑی چلی اور پھر اچانک حادثہ←  مزید پڑھیں

اک محبوب نگری – سفرنامۂ جہاز بانڈہ – تیسری قسط


خواتین کو دیکھ کر ”خواتینے“ بھی ایسے تیار ہوئے جیسے مقابلہ حسن میں جانا ہو، حالانکہ ہم پہاڑوں کو اپنا آپ دکھانے نہیں بلکہ انہیں دیکھنے جاتے ہیں۔ خیر دس خواتین، سترہ مرد اور ایک مسافرِشب، چند گدھے اور ایک منظرباز ٹریک پر نکلے۔ پہلے ایک چشمہ، پھر جنگل، پھر چراگاہ اور پھر جہازبانڈہ آ گیا۔ کیا واقعی؟ سچی؟ نہ سائیں نہ۔ ایسے نہیں۔ ناریل پھوڑا نہ چوگ بھرا۔ کوئی موم بتی جلائی نہ چادر چڑھائی۔ ایسے تو نہیں ہوتا۔ جہاز بانڈہ ہے کوئی مذاق نہیں۔ بہرحال ٹریک کی مشکلات، فطرت کا انتقام، راجہ تاج محمد کا بندوق کے زور پر خوش آمدید کہنا، رات کی فوٹوگرافی، الاؤ کے گرد خواتین و حضرات کے گانے اور پائل کی جھنکار←  مزید پڑھیں

اک محبوب نگری – سفرنامۂ جہاز بانڈہ – دوسری قسط


پتہ نہیں سفر خوش نصیب تھا یا پھر ہم۔ وہ کیا ہے کہ نگینے جمع ہوتے جا رہے تھے اور مجھے لگا کہ محسن اتنے لکھاریوں کو اکٹھا کر کے ایک ساتھ سمندر برد کرنا اور جان چھڑانا چاہتا ہے۔ ویسے امیرِکارواں نے لیلیٰ مجنوں سے بھی بہت زیادتی کی۔ تتربتر مسافروں کو آدھے تیتر اور آدھے بٹیر بنا کر دو گاڑیوں میں سوار کر دیا۔ میری تو تصویرِکائنات ہی بے رنگ ہو گئی، مگر باقی ایسے چپ تھے جیسے سب کی ناراض ہو کر چلی گئی ہو۔ گاڑی کی وجہ سے میرے سر میں درد ہونے لگا، جبکہ بائیک پر ایسا نہیں ہوتا، البتہ تب کہیں اور درد ہوتا ہے۔ صدا آئی کہ سو جاؤ! ابھی تو بلندیوں پر ’نچ کے یار منانا‘ ہے۔ یونس ’بےبی ڈول‘ کو دیکھنے اور احسن بھائی←  مزید پڑھیں

اک محبوب نگری – سفرنامۂ جہاز بانڈہ – ابتدائیہ


اور پھر کہا کہ اب اگر میں خواتین اور باذوق لوگوں کے لئے علیحدہ علیحدہ گاڑی ہونے پر کچھ بولا تو خواتین غصہ کر جائیں گی اور مجھے پھینٹی لگے ہی لگے۔ پہلے ہی میری فرینڈ لسٹ میں لڑکیوں کی شدید لوڈشیڈنگ ہے۔ ویسے بھی جب تصویرِ کائنات ہی بے رنگ ہو گی تو کیا خاک ادب تخلیق ہو گا۔ بہرحال کارواں رانا عثمان کے حیرت کدہ اور محمد احسن کے مےکدہ یعنی جہاز بانڈہ کی اور چلا۔ میں چاند کو دیکھتا مگر مجال ہے جو گاڑی میں پیچھے مڑ کر دیکھا ہو۔ کیونکہ پیچھے لڑکیاں بیٹھی تھیں اور آپ تو جانتے ہی ہیں کہ میں کتنا شرمیلا ہوں۔ مسافر خراٹے اور گاڑی فراٹے بھر رہی تھی۔ ڈرائیور کی نیند سے ہم شادی شدہ تو کنوارے ہی مرنے←  مزید پڑھیں

کمراٹ اور جھیل کٹورہ پر کبھی آؤ چناب کی صورت


سنو…روح بنجر ہے اور پیاسا من…کبھی آؤ چناب کی صورت۔ دِیاخلیل صاحبہ کا یہ شعر مجھے بہت پسند ہے۔ یوں محبوب کو چناب کی صورت بلانے کے تو کیا ہی کہنے۔ سن لیا تم نے؟ نہیں سنا تو یہ سنو کہ لمبی چوڑی سیاحتوں، دربدر بھٹک کر، لمبی لمبی تحریروں اور ڈھیروں تصویروں سے جو کچھ حاصل کرنا چاہتا ہوں، اس کی ایک جھلک جب میرے سامنے پردۂ سکرین پر چل رہی تھی، تب جھیل کٹورہ کے کنارے محترم شفان حسن نے اور کمراٹ آبشار کے سامنے انم خان صاحبہ نے وہ نایاب لمحات قید کر دیئے۔ تُو اس وقت چناب کی صورت آیا اور سارے منظرنامہ پر چھایا اور دھرتی نے گایا اور عشق نے بلھے کو نچایا اور پھر←  مزید پڑھیں

سیروسیاحت کے لئے بہترین سمارٹ فون ایپس


آج کے دور میں سیر و سیاحت اور سفر کے لئے جہاں دیگر تیاریاں ہوتی ہیں، وہیں پر کچھ سمارٹ فون ایپس(Apps) بھی ضروری ہیں، جو کہ سفر کے دوران بہت مددگار ہوتی ہیں اور ان سے کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ ان ایپس کی مدد سے مفت میں موسم اور راستوں کی معلومات، ہوٹل کی تلاش، زمین پر اپنا مقام اور اس کی نشاندہی، رفتار، سمتیں اور سطح سمندر سے اپنی بلندی وغیرہ معلوم ہوتی ہے۔ اور تو اور اپنے سفر کا مکمل ٹریک بھی بن جاتا ہے اور آپ کے اپنے آن لائن گھر بیٹھے دیکھ سکتے ہیں کہ آپ اس وقت کدھر ہیں یا کس سمت سفر کر رہے ہیں۔ سب سے پہلی زبردست ایپ کا نام اور طریقہ استعمال یہ ہے کہ←  مزید پڑھیں

ہرن مینار میں انارکلی


جو سوتے ہیں، وہ کھوتے ہیں اور آج کل ”کھوتے“ کو تو لوگ کھا جاتے ہیں۔ یہ خیال آتے ہی فوراً بستر چھوڑا، تیاری کی، فوٹوگرافی کے لئے کیمرا رکھا اور انارکلی کی تلاش میں ہرن مینار چل دیا۔ یہ مینار مغل بادشاہ جہانگیر نے بنوایا تھا۔ وہی جہانگیر جو پہلے شہزادہ سلیم عرف شیخو ہوا کرتا تھا اور جس کی چکربازیوں کے چکر میں بیچاری انارکلی کو زندہ دیوار میں چنوا دیا گیا اور بعد میں خود جناب ”نورالدین“ بن بیٹھے۔ خیر سلیم کو چھوڑو اور انارکلی کی تلاش میں ہرن مینار کا چکر لگاؤ، تالاب میں ڈبکیاں نہ لگاؤ، بس بارہ دری میں چین کی بنسری بجاؤ اور اگر طبیعت زیادہ خراب ہو تو منظرباز کی طرح ایک انارکلی نہیں بلکہ کئی انارکلیوں سے←  مزید پڑھیں

چناب بادشاہ کا نیا راستہ اور شہباز پور پُل


لمبے انتظار کے بعد ایک دن دریائے چناب پر پُل بننا شروع ہوا۔ پل کے حفاظتی بند بنا کر جب کمپنی پل بنانے کے لئے دریا میں اتری تو حکومت بدل گئی۔ درخت کاٹ کر سیمنٹ سریا اُگانے کی قائل حکومت نے آتے ہی اس منصوبے کو منسوخ کر دیا۔ پل کا جو کچھ بنا ہوا تھا وہ ویسا ہی پڑا رہا اور من موجی دریا اسے آہستہ آہستہ بہا لے گیا۔ منصوبے کی فائل سردخانے میں پڑی رہی اور پھر ایک دن ”شریفِ لاہور“ کی میز پر پہنچی۔ یوں دوسری دفعہ اپنی نوعیت کا منفرد پل خشکی پر بننا شروع ہوا۔ بند باندھ کر دریا کو بند کر دیا گیا۔ پانی وسیع رقبے پر پھیل گیا۔ گندم کی تیار فصل برباد ہو گئی۔ اب اگر ہم ڈوبے ہیں تو صنم←  مزید پڑھیں

پردے کے پیچھے کیا ہے؟


چلیں! آج منظرباز کی ذات کے حوالے سے پردے کے پیچھے جھانکتے ہیں۔ دوستو! سوشل میڈیا پر یہ جو ہنستا کھیلتا اور کئی باتوں سے بے نیاز سا نظر آتا ہے، درحقیقت پسِ پردہ اس کی زندگی میں بھی کئی مسائل اور اُتار چڑھاؤ ہیں۔ لیکن لکھنا پڑھنا، سیروسیاحت اور فوٹوگرافی وغیرہ جیسے مشاغل نے اسے کئی دکھوں سے بچا رکھا ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ اندر ہی اندر درد سہتا، آنسو پیتا مگر زندگی جیتا ہے اور اس جینے کے لئے سفر کرنا، پہاڑ چڑھنا، بہروپ بنانا، تاک لگانا اور خاک ہونا پڑتا ہے۔ جی ہاں! خاک ہونا پڑتا ہے، کیونکہ ہر خوشی کی کوئی نہ کوئی قیمت ہوتی ہے۔ ویسے نوبت لہو اُگلنے تک آنے سے پہلے ہی منظرباز←  مزید پڑھیں

فوٹوگرافر اللہ دا فقیر


فوٹوگرافی کے حوالے سے ایک منفرد اعزاز ہمارے شہر جلالپورجٹاں کے پاس ہے۔ دراصل قیامِ پاکستان سے پہلے کی بات ہے کہ جب شہرِ خوباں ارضِ جاناں میں ایک بچے کو فوٹوگرافی کا شوق ہوا۔ تب اُس نے 13روپے کا کیمرہ خریدا۔ وہ شوقیہ فوٹوگرافی کرتا اور اخبارات کو تصویریں بھیجتا۔ اللہ دا فقیر کہہ گیا ہے کہ ”بات پیسے کی نہیں، بات تو ذہنی سکون کی ہے“۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ سب کچھ لُٹ گیا اور غربت نے ناک میں دم کر دیا۔ فقیر کویت چلا گیا۔ ادھر سخت مزدوری کرتا اور روتا اور دعا کرتا کہ یااللہ فوٹوگرافی کے علاوہ کوئی کام مجھے آتا نہیں، بس تو ہی کوئی راستہ نکال۔ اور پھر رب نے ایسا راستہ نکالا کہ دنیا نے دیکھا←  مزید پڑھیں

یاراں نال بہاراں


ان سے ملئے! یہ ہیں چند ”نمونے“۔ ایک انٹرویو میں مجھ سے سوال ہوا ”کیا آپ ایک اچھے دوست ہیں؟“ میرا جواب تھا ”یہ تو پتہ نہیں، لیکن میرے دوست بہت اچھے ہیں“۔ بس جی! بعض دفعہ جواب دینے میں انسان سے غلطی ہو جاتی ہے۔ ویسے مانتا ہوں کہ جو میری حرکتیں ہیں ان سے دوسرے تنگ آ سکتے ہیں۔ مگر میرے دوست نہیں آتے اور مجھے برداشت کرتے ہیں، نمونے جو ہوئے۔ بس جی! موجیں لگی ہوئی ہیں، گھومتے پھرتے ہیں اور غم چھپائے بیٹھے ہیں۔ ورنہ وقت بدلتا ہے اور لوگ بدلتے ہیں۔ کوئی جیتا ہے، کوئی مرتا ہے۔ سدا وقت ایک سا نہیں رہتا۔ دکھ ہر بندے کی زندگی←  مزید پڑھیں

قلعہ روہتاس کی سیر – فرخ اور رانا عثمان کے ساتھ


یہ تب کی بات ہے جب ہمیشہ کی طرح وطنِ عزیز تاریخ کے نازک ترین موڑ سے گزر رہا تھا اور انسانیت خطرے میں تھی۔ یہ بات ہے اکیسویں صدی کے بالغ ہونے کی یعنی جب وہ اٹھارہ سال کی ہو چکی تھی اور گاتی پھر رہی تھی ”سوہنیا… میں ہو گئی اٹھرہ سال کی“۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ وہ اتوار کا دن تھا، جب راجپوتوں کے سپوت نے اپنے دوستوں کی فوج کے ہمراہ شیرشاہ سوری کے قلعۂ روہتاس پر یلغار کر دی۔ فوج جیسے تیسے دریائے راوی، چناب اور جہلم عبور کر کے روہتاس پہنچی۔ وہاں انسانی روپ میں چھپے بھیڑیئے لڑکیاں تاڑ رہے تھے۔ قلعے میں ایک دوشیزہ نے ہماری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ←  مزید پڑھیں

منظرباز کے چار یار – شمس، بمبوکاٹ، چندر بھاگ اور عکس ساز


یوں تو ہم ایک زمانے کو دوست رکھتے ہیں لیکن ابھی ذکر ہے جنابِ شمس، مسٹر بمبوکاٹ اور محترم چندربھاگ کا… اور عکس ساز کا۔ یہ سب منظرباز کے ہمراز ہیں۔ اب ایسا بھی نہیں کہ اشرف المخلوقات کو چھوڑ کر ان سے دوستی کر لی۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ انسان کو دل کی بات کہتے ڈر لاگے ہے صاحب۔۔۔ چناب کنارے والے نے محبوب نگری میں کہا تھا کہ سب تعبیریں اک خواب کیں… سب پنکھڑیاں اک گلاب کیں… سب کرنیں اک آفتاب کیں… جن میں… ہم کنارے چناب کے… ہم سپوت دوآب کے… ہم شہرِخوباں کے… ہم ارضِ جاناں کے… اور ہم←  مزید پڑھیں

فوٹوگرافی میں ایکسپوژر – شٹر، اپرچر اور آئی ایس او

Exposure in Photography Shutter Aperture and ISO
جاندار کی آنکھ ہو یا پھر کیمرے کی، دونوں ایک طرح ہی کام کرتی ہیں۔ جس طرح آنکھ کی پتلی پھیل یا سکڑ کر روشنی کی شدت کو قابو کرتے ہوئے پردۂ چشم پر عکس بناتی ہے، بالکل ایسے ہی کیمرے میں اپرچر کو بڑا یا چھوٹا کر کے مناسب عکس بنایا جاتا ہے۔ اپرچر کے ساتھ ساتھ شٹر اور آئی ایس او سے بھی روشنی کی شدت یعنی ایکسپوژر کنٹرول کیا جاتا ہے۔ فوٹوگرافر بننے کے لئے ان چیزوں کی سمجھ بہت ضروری ہے۔ کیمرہ سیکھنے، اچھی فوٹوگرافی کرنے اور نئے لوگوں کی آسانی کے لئے اس تحریر میں←  مزید پڑھیں

ڈیجیٹل کیمروں کی اقسام

Types of Digital Cameras
جوشیلے کیمروں کی طرح مشہورِ زمانہ ”تاڑو مارو“ کیمرے یعنی پوائنٹ اینڈ شوٹ کا شمار بھی چھوٹے کیمروں میں ہی ہوتا ہے۔ ان سے اوپر سپرزوم کیمروں کا نمبر آتا ہے اور پھر لینز تبدیل ہونے والے کیمرے سب سے اچھے ہوتے ہیں۔ ڈی ایس ایل آر کیمرے فوٹوگرافی کے بے تاج بادشاہ اور ہر فن مولا ہیں اور ان کا شمار لینز تبدیل ہونے والے کیمروں میں ہوتا ہے۔ ابھی ہم ڈیجیٹل کیمروں کی اقسام اور ان کے فنکشنز کی تفصیل دیکھتے ہیں تاکہ کیمرہ خریدنے اور اچھی فوٹوگرافی کرنے←  مزید پڑھیں

ڈیجیٹل کیمرہ خریدنے کی راہنمائی

Digital Camera Buying Guide
موبائل میں کیمرہ آنے کی وجہ سے ہر کوئی فوٹوگرافر بن چکا ہے۔ بعض لوگ بڑی زبردست تصاویر بناتے ہیں، جبکہ بعض تو کیمرے کو اذیت ہی دیتے ہیں۔ میرے خیال میں بے تکی اور بغیر موضوع کے فوٹوگرافی کو تصویر کشی کی بجائے ”تصویر زنی“ کہنا زیادہ بہتر ہے۔ بہرحال اچھا فوٹوگرافر بننے، فوٹوگرافی کی دنیا میں آگے بڑھنے اور تصویروں میں حقیقی رنگ بھرنے کے لئے یہ سلسلہ شروع کیا ہے، تاکہ کچھ آپ اور کچھ ہم سیکھیں اور دنیا کو ایک نئے انداز سے دیکھیں۔ یہاں کیمرہ خریدنے کی تفصیلی معلومات←  مزید پڑھیں

ہمارے بچپن کے رمضان المبارک

Ramzan in childhood
بھلے زمانے کی بات ہے کہ خلیل میاں فاختہ اڑایا کرتے تھے اور تب میڈیا پر ”رمضانی ٹرانسمیشن“ نہیں ہوتی تھی۔ روزہ کشائی کی بجائے افطاری ہوا کرتی تھی۔ ویسے ہم کوئی ”انیس سو پتھر“ کے زمانے کے بھی نہیں اور نہ ہی قائم علی شاہ صاحب ہمارے ہم جماعت تھے۔ ہمارا بچپن گزرے تو ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں۔ خیر ہمارے بچپن میں تو رمضان کی سب سے مزے کی چیز عید کارڈ اور تراویح ہوتی تھی۔ تراویح میں بچہ پارٹی خوب تفریح کیا کرتی۔ جیسا کہ ایک بچے نے حاجی صاحب کو حالتِ سجدہ میں←  مزید پڑھیں

انٹرنیٹ پر تخلیقی مواد کی حفاظت اور چوروں کے خلاف کاروائی

Protect Copyrights and Stop Copyright Infringement on Internet
کسی بھی تخلیقی مواد مثلاً تحریر یا تصویر کے تخلیق ہونے کے ساتھ ہی اس پر کاپی رائیٹ خود بخود لاگو ہو جاتا ہے اور کسی رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کسی کا تخلیقی مواد بغیر اجازت استعمال کرنا کاپی رائٹ کی خلاف ورزی اور اخلاقی جرم ہے۔ ہمارے ملک میں یہ جرم زوروشور سے ہو رہا ہے۔ انٹرنیٹ پر مواد چور پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ ایسے ہٹ دھرم چوروں کا بہتر علاج یہی ہے کہ ان کی ویب سائیٹس، بلاگز اور اکاؤنٹس وغیرہ ہمیشہ کے لئے بند کروا دیں۔ جس کا طریقہ یہ←  مزید پڑھیں

میری سات سالہ اردو بلاگنگ کا آغاز کیسے ہوا

My Seven Years of Urdu Blogging
بلاگ لکھتے ہوئے آج پورے سات سال ہو گئے ہیں۔ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ چھ ماہ تک ایک پوسٹ بھی نہ لکھی ہو۔ خیر آج بلاگ گرہ ہے تو کچھ اوٹ پٹانگ حاضرِ خدمت ہے۔ اکثر لکھاریوں کو لکھنے کا شوق بچپن سے ہوتا ہے۔ جبکہ ہمارے لکھنے کی تو بچپن میں ہی واٹ لگ گئی تھی۔ یہ تو پردیس میں وطن کی یاد نے ستایا تو ہم حادثاتی طور پر لکھاری بن بیٹھے۔ اوپر سے شعاعوں کی بجائے ”تعویذوں“ کی وجہ سے ہماری اردو اچھی ہو گئی۔ آپس کی بات ہے اور کسی کو بتانا نہیں کہ بیسویں صدی بعد از مسیح میں ہم←  مزید پڑھیں

بوڑھی انسانیت

Weak Humanity
اس ”ہارن باز“ ہجوم کے چکر میں حالت ایسی ہو گئی کہ ہمت ہارنے لگا۔ آخر کار آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا اور میں گھٹنوں کے بل گرا۔ ساتھ ہی اک خیال آیا کہ یہ شہ سوار میدانِ جنگ میں گر رہا ہے یا پھر طفل گھٹنوں کے بل ہو رہا ہے؟ گویا میں خود پر ہنسا۔ پھر ایک آواز سنائی دی۔ ہاتھ میں گلاس پکڑے وہ میرے سامنے تھی۔ گلاس میں پانی تھا لیکن اگر زہر بھی ہوتا تو چپکے سے میرے خلق میں اتر جاتا۔ اس چُلو بھر زندگی میں محبت کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور وہ←  مزید پڑھیں

Pages