عمار ابن ضیاء

Review: Dexter (Season 1)


میں ان دنوں جن انگریزی ٹی وی سیریز سے لطف اندوز ہو رہا تھا، ان میں ’دی بلیک لسٹ‘ اور ’ڈیزگنیٹڈ سروائیور‘ وہ دو سیریز ہیں جو ابھی ٹی وی پر نشر ہو رہی تھیں، اور گزشتہ ہفتے ان دونوں ہی کا رواں سیزن اپنے اختتام کو پہنچا ہے۔ سیزن ختم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اب چند مہینوں یا سال بھر کے لیے چھٹی، اور وہ بھی تب جب اگلے سیزن کی گنجائش یا ضرورت ہو، ورنہ تو مستقل ہی خیرباد کہنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے میں ساتھ ہی ایسی کوئی سیریز بھی جاری رکھتا ہوں جو پرانی ہو اور اس کے کئی سیزن نشر ہوچکے ہوں۔ یوں آپ کے پاس ڈھیروں (بیسیوں/ سیکڑوں) اقساط کی صورت میں مستقل کچھ نہ کچھ دیکھنے کو موجود رہتا ہے۔ چنانچہ ان دنوں، جو پرانی سیریز میں دیکھ رہا ہوں، وہ ہے ’’ڈیکسٹر‘‘۔ڈیکسٹر کے پہلے سیزن کا پریمئر یکم اکتوبر 2006ء کو ہوا تھا اور اس کا آٹھواں (اور آخری) سیزن 22 ستمبر 2013ء کو انجام تک پہنچا۔ سات سال کے دورانیے میں اس کی 96 اقساط نشر ہوئیں، اور ہر قسط تقریباً پون سے ایک گھنٹے پر مشتمل ہے۔ میں چونکہ ابھی دوسرے سیزن پر ہوں، اس لیے میرے پاس ابھی دیکھنے کو بہت کچھ باقی ہے۔کہانی  کا مرکزی کردار ڈیکسٹر مورگن ہے جسے مائیکل سی ہال نے نبھایا ہے۔ سچ کہوں تو شروع میں مجھے ہال کچھ خاص پسند نہیں آئے لیکن پھر ان کے چہرے کے تاثرات، دیکھنے کا انداز اور عمدہ اداکاری نے خوب لطف دیا۔یہ ڈیکسٹر مورگن نامی ایک شخص کی کہانی ہے جو میامی پولیس میں بطور بلڈ اینالسٹ (خون کا تجزیہ کرنے والے) کے طور پر ملازمت کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی وہ ایک پُر اسرار اور خفیہ زندگی بھی جی رہا ہے: بطور سیریل کلر۔ جہاں وہ دن میں دوسرے قاتلوں کو پکڑنے میں مدد کرتا ہے، وہیں رات میں وہ خود قاتل بن جاتا ہے۔ لیکن اس کے قاتل بننے کے پیچھے ایک پوری داستان ہے جو پہلے سیزن میں وقتاً فوقتاً بیان کی گئی ہے۔ نہایت کم عمری میں اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی ماں کو قتل کیا گیا ہوتا ہے اور اس نے کئی دن خون میں لت پت اپنی ماں کی لاش کے ساتھ گزارے ہوتے ہیں۔ جائے وقوع پر پہنچنے والا پہلا پولیس افسر،  ہیری مورگن اس  لڑکے کی معصومیت دیکھ کر اسے گود لے لیتا ہے اور اپنے بیٹے کی طرح پالتا ہے۔ تاہم جوں جوں وقت گزرتا ہے، اسے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس لڑکے کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے۔ ہیری اس سے بات چیت کرکے جان جاتا ہے کہ ڈیکسٹر میں قتل کرنے کی خواہش ابھرتی ہے اور یہ طلب اتنی شدید ہے کہ اسے دبایا نہیں جاسکتا۔ چنانچہ پولیس افسر ہونے کے ناتے وہ اسے تربیت دیتا ہے کہ ایسا قتل کیسے کیا جائے جس کا کوئی سراغ نہ رہے۔ ساتھ ہی ہیری اس کے دل میں کچھ اصول پختہ کرتا ہے، جسے ڈیکسٹر ’’ضابطہ ہیری‘‘ (کوڈ آف ہیری) کے نام سے یاد کرتا ہے۔ ان اصولوں میں جہاں محفوظ قتل کے طریقے ہوتے ہیں، وہیں اخلاقی ضابطے بھی ہوتے ہیں کہ کبھی کسی بے قصور یا معصوم شخص کو قتل نہیں کرنا ورنہ زندگی بھر اس کا پچھتاوا ساتھ رہے گا۔ چنانچہ ڈیکسٹر کا نشانہ ہمیشہ قاتل ہوتے ہیں۔ وہ صرف انھی لوگوں کو نشانہ بناتا ہے جن کے قاتل ہونے کے پختہ ثبوت اس کے پاس موجود ہوتے ہیں۔ڈرامے کی کہانی دلچسپ طریقے سے آگے بڑھتی ہے اور میامی پولیس ایک نئے سیریل کلر کا تعاقب شروع کرتی ہے، دوسری طرف انھی کے درمیان ایک سیریل کلر موجود رہتا ہے۔ ڈرامے میں تھرل تو ہے ہی، لیکن ہیری کا بطور باپ ڈیکسٹر سے جو رشتہ دکھایا گیا ہے، اور جس طرح ہیری اپنے لے پالک بیٹے کی انتہائی منفی فطرت کو مثبت سمت میں استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ بھی سبق آموز ہے۔ والدین اور اولاد کے درمیان اگر دوستی کا تعلق قائم ہو اور والدین اپنے بچوں کے اتنا قریب ہوں کہ ان کی ضرورت اور فطرت سے واقف ہوسکیں تو وہ اپنی توجہ سے ان میں بہت سی تبدیلیاں لاسکتے ہیں۔ڈرامے کے پہلے سیزن میں میامی پولیس ایک سیریل کلر کی تلاش میں ہے جسے آئس ٹرک کلر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ قاتل، عورتوں کو قتل کرنے کے بعد ان کے جسم سے خون نکال لیتا ہے اور پھر ان کے جسم کے ٹکڑے کرکے کسی مقام پر پولیس کے لیے رکھ دیتا ہے۔ دوسری طرف ڈیکسٹر کو محسوس ہوتا ہے کہ جیسے قاتل کا اس کے ساتھ کوئی تعلق ہے اور وہ کبھی اسے چیلنج دے رہا ہے اور کبھی اس کے بھولے ہوئے ماضی کی یادیں تازہ کر رہا ہے۔ اور آخر اس پر یہ انکشاف ہوتا ہے کہ وہ قاتل دراصل کون تھا اور ڈیکسٹر کے ساتھ اس کا کیا تعلق تھا۔اب ڈراما چونکہ قاتلوں سے متعلق ہے تو اس میں قتل اور خون کے مناظر بھی ہیں، اور بعض جگہ جنسی یا کچھ حد تک برہنگی کے مناظر بھی۔ لیکن اگر آپ ڈراما دیکھ رہے ہوں تو آپ پر کہانی کی گرفت اتنی مضبوط ہوجاتی ہے کہ آپ بے اختیار ان مناظر کو آگے بڑھاکر یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ پھر کیا ہوا۔تو پھر کیا ہوا، اس کے لیے آپ کو ڈیکسٹر ہی دیکھنا ہوگا۔

Pakistani Dramas VS English TV Series


میرا خیال ہے کہ ایسے گھر شاذ و نادر ہی ملیں گے جہاں ڈرامے نہ دیکھے جاتے ہوں (وہ ڈرامے جو ٹیلی ویژن چینلوں سے نشر ہوتے ہیں، وہ نہیں جو گھروں میں ہوتے ہیں)۔ کچھ عرصہ قبل تک ٹی وی ڈرامے دیکھنے کے لیے ٹی وی کا ہونا لازمی شرط تھا، لیکن سوشل میڈیا کے انقلاب اور مقبولیت نے اب یہ شرط بے معنی کردی ہے۔ یوٹیوب اور ایسی دیگر ویڈیو اسٹریمنگ ویب سائٹوں پر غالباً دنیا کے ہر چینل اور ہر زبان کا ڈراما دستیاب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے دنوں جب بھارتی ٹی وی چینلوں پر پابندی عائد کی گئی تو بھارتی ڈراموں کے رسیا خواتین و حضرات کے ایک بڑے طبقے کو کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ایک کرم فرما نے فیس بک پر ’’مووی پلانٹ‘‘ نامی ایک گروپ میں شامل کیا ہوا ہے۔ وہاں مختلف اراکین اپنی پسندیدہ (یا ناپسندیدہ) فلموں پر مختصر ریویو پیش کرتے ہیں اور پھر باقی احباب تبصرے کرکے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک دوست نے اسی گروپ میں احباب سے رائے طلب کی کہ وہ ہالی ووڈ فلموں، بھارتی فلموں، ٹی وی ڈراموں وغیرہ میں سے کیا چیز شوق سے دیکھتے ہیں۔ جواب میں جہاں بیشتر رائے دہندگان نے ہالی ووڈ فلموں کے حق میں ووٹ دیا، وہیں مجھ جیسے گنتی کے چند صارفین نے ’ٹی وی سیریز‘ کو منتخب کیا۔ میرا اپنا حال یہ ہے کہ جب سے امریکی ٹی وی سیریز یا ڈرامے دیکھنا شروع کیے ہیں، فلمیں چھوٹ گئی ہیں۔ ویسے تو اگر میں یہ کہوں کہ مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ میں نے آخری فلم کب اور کون سی دیکھی تھی تو اس میں زیادہ قصور میری یادداشت ہی کا ہوگا، لیکن سچ یہ ہے کہ اب فلم دیکھے کئی مہینے گزر جاتے ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ ہمیشہ ہی سے مجھے ٹی وی ڈراموں کا شوق رہا ہو۔ مجھے وہ وقت بھی یاد ہے جب گھر میں پاکستانی ٹی وی ڈرامے چلا کرتے تھے اور میں ہر ممکن کوشش کیا کرتا تھا کہ اس کمرے میں موجود نہ ہوں جہاں ٹی وی چل رہا ہو۔ وجہ یہ تھی کہ ہمارے اور پڑوسی ملک کے ڈرامے دیکھے جائیں تو لگتا ہے کہ ہمارے ہاں خاندانی جھگڑوں، سازشوں، حسد، اور پیار محبت کے علاوہ کچھ ہوتا ہی نہیں۔ ہر ڈراما محبت کی کہانی یا خاندانی مسائل کے بھنور میں پھنس گیا ہے۔ ایسے میں، نہ صرف یہ کہ کوفت بہت زیادہ ہوتی ہے، بلکہ حساس طبیعت رکھنے والوں کے لیے بعض جذباتی مناظر پر اپنے جذبات قابو میں رکھنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ یہی سبب تھا کہ میں نے ایک عرصے تک ڈراموں پر فلموں کو ترجیح دی، جنھیں آپ ایک سے دو گھنٹے میں نمٹا سکتے ہیں۔اور اگر کوئی جذباتی وابستگی ہو بھی تو جلد ہی ختم ہوجاتی ہے۔ لیکن پھر میرا تعارف انگریزی ٹی وی سلسلوں سے ہوا۔کیفر سدھرلینڈ المعروف جیک باور کی ٹی وی سیریز ’24‘ نے مجھے ایک نئی دنیا سے روشناس کروایا۔ یہ میری پہلی انگریزی ٹی وی سیریز تھی۔ مزے کی بات یہ کہ میں نے اس کا آخری سیزن پہلے دیکھا کیونکہ وہ ٹی وی پر نشر ہوتا ہوا نظر آگیا تھا۔ پھر میں نے پہلے سیزن سے دیکھنا شروع کی۔ اس منفرد ٹی وی سیریز کا نشہ ایسا تھا کہ میں ایک کے بعد ایک قسط دیکھے چلا جاتا تھا اور اسکرین سے نظریں ہٹانے کا دل نہ کرتا تھا۔ جب اس سیریز کی تمام 204 اقساط دیکھ چکا تو یہ امتحان سامنے تھا کہ اب کون سی سیریز دیکھی جائے جو اسی طرح تجسس اور ہیجان خیزی سے بھرپور ہو۔ یوں مزید سلسلوں سے آگاہی ہوئی جنھوں نے ایک نیا ’چسکا‘ لگا دیا۔ہمارے ہاں کے ٹی وی ڈراموں اور انگریزی ٹی وی سلسلوں کا موازنہ کیا جائے تو زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ اس فرق کا سبب چند عوامل ہیں۔1۔ موضوعاتہمارے اور انگریزی ڈراموں میں سب سے بڑا فرق موضوعات کا ہے۔ جہاں ہمارے لوگ گنتی کے دو موضوعات کو پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں، وہیں ان کے پاس موضوعات کا انبار لگا ہے۔ سیاست، معیشت، شخصیات، طب، سائنس فکشن، مافوق الفطرت، خوفناک، مزاحیہ، جاسوسی، ہیجان خیزی، کلاسیک، غرض کون سی صنف ہے جس میں وہاں ڈرامے نہیں بن رہے۔ وہ موضوعات جنھیں ہمارے ہاں فلموں کے لیے بھی تصور میں نہیں لایا جاسکتا، وہاں ان پر کئی کئی سالوں سے ڈرامے نشر ہو رہے ہیں۔2۔ بجٹاگر کوئی پروڈیوسر یا پروڈکشن ہاؤس کسی منفرد اور اچھوتے خیال پر ڈراما بنانے کا تہیہ کر بھی لے، تو بجٹ کا سوال آ کھڑا ہوتا ہے۔ منفرد تصورات کی عکس بندی اور کمپیوٹر گرافکس استعمال کرنے کی ضرورت ڈرامے کے بجٹ کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہے۔ امریکی ڈراما نگاروں اور پروڈیوسروں کو یہاں یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ وہ مارکیٹ وسیع ہونے کے باعث یہ اخراجات وصول کرسکتے ہیں۔ چنانچہ ان کے ہاں ہمیں انتہائی مہنگے ڈرامے بھی نظر آتے ہیں۔ بعض ڈراموں کی تو ایک ایک اقساط اتنی مہنگی ہوتی ہیں کہ ہمارے ہاں اس بجٹ میں کئی کئی ڈرامے مکمل تیار کرلیے جائیں۔ مثلاً ’لوسٹ‘ (Lost) نامی ٹی وی سیریز کی ایک قسط کا بجٹ 4 ملین ڈالر تھا۔ یہی نہیں، مشہور ٹی وی سیریز، ’گیم آف تھرونز‘ (Game of Thrones) کی ایک ایک قسط کا بجٹ 6 ملین ڈالر تک ہوتا ہے۔ گزشتہ دو دہائی میں بے حد مقبول رہنے والی ٹی وی سیریز ’فرینڈز‘ (Friends) کی ایک قسط کا بجٹ 10 ملین ڈالر تک جا پہنچتا تھا کیونکہ اس کے ہر مرکزی کردار کو ایک قسط کا معاوضہ 1 ملین ڈالر دیا جاتا ہے۔ جی ہاں، ایک ملین ڈالر فی قسط۔ یہی نہیں، ’گیم آف تھرونز‘ کے مرکزی اداکاروں کو فی قسط ڈھائی ملین ڈالر سے زیادہ معاوضہ دیا جارہا ہے۔ ہماری مارکیٹ میں اتنے زیادہ اخراجات کو پورا کرنے کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔3۔ اندازِ فکرموضوعات اور بجٹ کی اہمیت اپنی جگہ، ہمارا اندازِ فکر بھی ایسا ہے کہ گھسے پٹے موضوعات ہی کو مسلسل گھسیٹا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ اگر کسی ڈرامے کا بجٹ زیادہ بھی ہو تو وہ بجٹ منفرد تصورات پیش کرنے کی بجائے پُر تعیش طرزِ زندگی، مہنگے ملبوسات، اور انتہائی قیمتی زیورات کے استعمال پر خرچ کردیا جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال پاکستانی ٹی وی ڈراما، ’بشر مومن‘ ہے جسے پاکستان کی تاریخ کا سب سے مہنگا ٹی وی ڈراما قرار دیا جاتا ہے، لیکن اس کی کہانی میں بھی کوئی انفرادیت نہیں تھی۔4۔ ناظرینٹھیک ہے کہ ہمارے ہاں ناظرین کی اچھی خاصی تعداد اب موضوعات میں تنوع دیکھنا چاہتی ہے اور اس کے لیے وہ انگریزی مواد کی طرف رجوع کر رہی ہے، لیکن ہمارے ملک کا ایک بڑا طبقہ ابھی بھی روایتی موضوعات پر مبنی کہانیاں دیکھنا پسند کرتا ہے۔ ہمارے ہاں گھروں میں اب بھی روایتی ساس بہو اور خاندانی جھگڑوں اور سازشوں کی کہانیوں کے ڈرامے یا پڑوسی ملک کے ’’طارق مہتا کا الٹا چشمہ‘‘جیسے کارٹون ڈرامے شوق سے دیکھے جاتے ہیں۔ گھریلو خواتین کی بڑی تعداد ایسے ہی ڈراموں کو ترجیح دیتی ہے۔ جب ڈراما سازوں کو یہ علم ہو کہ منفرد موضوع پر بننے والے ڈرامے ناظرین کی بڑی تعداد کو متوجہ نہیں کرسکتے تو وہ اس سے احتراز ہی برتتے ہیں۔ تاہم وہ اتنا ضرور کرسکتے ہیں کہ آہستہ آہستہ اپنے موضوعات میں تبدیلی لانا شروع کریں اور ڈرامے میں خواہ گھریلو ماحول کا عنصر ضرور شامل رکھیں لیکن اس کا کینوس بڑھائیں اور دیگر موضوعات کا احاطہ بھی کریں۔ ابتدا میں چند مقبول انگریزی ٹی وی سلسلوں کو اردو میں ڈب کرکے بھی پیش کیا جاسکتا ہے۔ جب ترکی ڈرامے چل سکتے ہیں تو انگریزی کیوں نہیں۔یہ تو بات ہوئی اردو ٹی وی ڈراموں اور انگریزی ٹی وی سلسلوں کے مابین فرق کی۔ اگر اس چھوٹی سی تحریر نے آپ کو بھی اکسایا ہو کہ کیوں نہ آپ بھی کوئی انگریزی ٹی وی سیریز دیکھیں، لیکن آپ سوچ رہے ہوں کہ دیکھیں تو کون سا؟ تو ذرا انتظار کیجیے۔ میں آنے والے دنوں میں چند اچھی کہانیوں اور متنوع موضوعات پر مشتمل انگریزی ٹیلی ویژن ڈراموں کا تعارف پیش کرنے کی کوشش کروں گا جن سے آپ آغاز کر سکتے ہیں۔

نوٹ: میرا یہ بلاگ 11 مئی 2017ء کو ایکسپریس نیوز کی ویب سائٹ پر شائع ہوا۔

end...

’’ٹھک ٹھک ٹھک۔۔۔!‘‘میں ہڑبڑا گیا۔یہ صبح صبح کون شور مچانے لگا؟ میں نے ناگواری سے اِدھر اُدھر دیکھنے کی کوشش کی۔اس کے ہاتھ میں کلھاڑی تھی، لیکن وہ سر جھکائے کھڑا تھا۔ شاید ہانپ رہا تھا۔میں ابھی کھنکھار کر اس سے گفتگو شروع کرنے کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ وہ تن کر کھڑا ہوگیا۔’’ٹھک ٹھک ٹھک۔۔۔!‘‘کلھاڑی پھر چلنے لگی۔’’سنو!‘‘’’ٹھک ٹھک ٹھک۔۔۔!‘‘’’رک جاؤ!‘‘ میں پوری قوت سے چیخا۔وہ ٹھٹک کر رک گیا، سر گھما کر اس نے میری طرف رخ کیا اور ایسے آنکھیں نکالیں جیسے پوچھ رہا ہو کہ جی حضرت، آپ نے مجھ سے کچھ فرمایا۔میں نے خود کو ہلا جلا کر اسے اس بات کا یقین دلانے کی کوشش کی، لیکن مجھ میں بالکل طاقت نہیں تھی، اور نہ ہی ایسی ہوا چل رہی تھی کہ اسی کی مدد سے کچھ یہاں وہاں ہل جاتا۔اس نے سر جھٹک کر میری طرف سے رخ پھیر لیا اور پھر فضا میں کلھاڑی بلند کی۔’’میاں، کیا کر رہے ہو یہ؟‘‘ میں نے ایک بار پھر آواز نکالی۔اب کی بار وہ میری جانب مڑا تو اس کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات تھے۔’’دیکھتے نہیں کہ کیا کر رہا ہوں،‘‘ اس نے تیوریاں چڑھا کر کہا۔’’دیکھ رہا ہوں، جبھی تو حیران ہو رہا ہوں۔ بھلا ایسا بھی کوئی بے وقوف ہوتا ہے کہ جس شاخ پر بیٹھا ہو، اسی کو کاٹنے لگے۔‘‘اس نے ایسے دیکھا جیسے اسے میری بات سمجھ نہ آئی ہو اور پھر دوسری طرف منھ کرلیا۔’’تم اپنی ٹانگ کاٹ رہے ہو، احمق۔‘‘ میں نے غصے اور بے بسی سے کہا۔اس نے اب مجھ سے لاتعلق ہونے میں بہتری سمجھی۔’’ٹھک ٹھک ٹھک۔۔۔!‘‘وہ بے وقوف اپنے پاؤں کو درخت سمجھ کر کاٹتا رہا۔میں اسے صدائیں دیتا رہا مگر اس نے سنی ان سنی کردیں۔’’ٹھک ٹھک ٹھک۔۔۔!‘‘اس کا ہر وار اس کے پاؤں کو اس کے جسم سے الگ کر رہا تھا۔’’ٹھک ٹھک ٹھک۔۔۔!‘‘میں نے آنکھیں بند کرلیں۔جب خاموشی چھائی تو میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا۔ وہ ہانپتا کانپتا مگر خوشی خوشی اپنی ٹانگ گھسیٹ کر جا رہا تھا۔میں نے اوپر دیکھا۔سورج کے ماتھے پر بل تھے۔

یومِ ارض، 22 اپریل 2017ء کے لیے۔

Memories: Ludo Tournament in School

گزشتہ تحریر میں اپنے اسکول ٹیچر، سر اسامہ کے متعلق لکھا تھا۔ کچھ دن بعد ان سے رابطہ کرنے میں آخرکار کامیابی ہو ہی گئی۔ خوشگوار حیرت ہوئی کہ انھیں نہ صرف میں یاد تھا، بلکہ میرے بھائی بہن اور اسکول کے دنوں سے متعلق کئی لمحات اور باتیں انھیں نہیں بھولی تھیں۔ کوئی بارہ، چودہ سال بعد ہونے والی گفتگو میں ایک جس واقعے کا انھوں نے ذکر کیا، وہ لوڈو مقابلہ تھا۔پبلک پیراڈائز ایک چھوٹا سا اسکول تھا جس کی فیس بھی معمولی تھی اور بجٹ بھی محدود۔ لہٰذا اسکول میں کئی سہولتوں کا فقدان تھا۔ تاہم، سر اسامہ طلبا کی خاطر اسکول کو بہتر بنانے میں مختلف کوششیں کرتے رہتے تھے۔ ایسی ہی ایک کوشش اسکول میں لوڈو مقابلے کا انعقاد تھا۔ ہر جماعت سے دو دو طلبا پر مشتمل ایک ٹیم نے اس مقابلے میں حصہ لیا، لیکن ہماری آٹھویں جماعت سے چونکہ حصہ لینے والے چار امیدوار تھے، لہٰذا دو ٹیمیں بنیں: ایک میری اور یوسف کی، اور دوسری دو لڑکیوں کی جن میں ایک جویریہ اور دوسری غالباً صبا نامی لڑکی تھی۔ ہمی چار لوگ ایک طرح سے مقابلے کے منتظم بھی تھے۔ چنانچہ جب دو ٹیموں کا مقابلہ ہوتا تو ہم میں سے کوئی ایک ٹیم ریفری کے فرائض انجام دیتی اور اگر ہماری ہی ٹیم کا کسی دوسری جماعت کی ٹیم سے مقابلہ ہوتا تو بھی دوسری ٹیم ریفری ہوتی۔ دوسری ٹیموں کے مقابلے تو بڑی ایمانداری سے کھیلے جاتے، لیکن جب ہم دونوں میں سے کسی دوسری ٹیم کا مقابلہ ہوتا تو ریفری بننے والی ٹیم بے ایمانی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ ذرا کسی کی نظر چوکی اور ایک گوٹ باہر نکال لی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ فائنل مقابلے کے لیے ہمی دو ٹیمیں کوالیفائی کرسکیں۔اب بے ایمانی کا سوال پیدا نہیں ہوتا تھا، کیونکہ دونوں ٹیمیں ایسے ہر حربے سے واقف تھیں۔ اب جو مقابلہ شروع ہوا تو صاف نظر آنے لگا کہ میری اور یوسف کی جوڑی ہار جائے گی۔ وجہ یہ تھی کہ یوسف کی کوئی گوٹ کھلنے کا نام ہی نہ لیتی تھی۔ اور اگر کوئی کھلتی بھی تو فوراً مات کھاجاتی۔ نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ مخالف جوڑی کی صرف ایک گوٹ بچی جو اپنی منزل کے بالکل قریب تھی۔ تبھی یوسف کی گوٹ باہر نکلی اور اس نے مخالف ٹیم کی آخری گوٹ کو پیٹ دیا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے یوسف کی ہر گوٹ باہر تھی، اور دوسری ٹیم کی آخری گوٹ بار بار پٹتی رہی، یہاں تک کہ بازی پلٹ گئے۔ ہماری ٹیم میچ جیت گئی۔مقابلہ جیتنے پر ملنے والی یہ ٹرافی شاید مقابلے سے ایک دن پہلے ہی میں اور یوسف پچیس روپے میں خرید کر لائے تھے۔ لیکن اس کا کم قیمت ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔ اس پورے ٹورنامنٹ کا انعقاد اور خوشگوار تفریح کا میسر ہونا ہی بہت بڑی خوشی تھی۔ یہ تصویر اب بھی اس مقابلے کی یاد دلاتی ہے۔سر اسامہ میں بہت کچھ کرنے کا جذبہ تھا۔ انھوں نے اپنی کمپیوٹر لیب ہی میں طلبا کے لیے لائبریری قائم کرنے کا منصوبہ بنایا۔ تمام طلبا سے کہانیوں کی کتب عطیہ کرنے کی اپیل کی گئی۔ ڈھیروں کتب جمع ہوگئی۔ سب سے زیادہ کتب دینے والوں میں سر فہرست میرا نام اور پھر میری ہم جماعت جویریہ کا نام تھا۔ لائبریری کی ممبرشپ فیس دو روپے ہفتہ رکھی گئی۔ انتظامی ٹیم کے کارڈ بنائے گئے۔ ممبرشپ فیس سے حاصل ہونے والی رقم اخبارِ جہاں اور دیگر رسائل خریدنے میں استعمال ہوا کرتی تھی۔ پھر مجھے اخبار نکالنے کا خیال آیا۔ چنانچہ میں نے ہفتہ وار اخبار تیار کرنا شروع کیا۔ جمعہ کے دن ایک سفید پوسٹر شیٹ لے لیا کرتا اور اس پر اسکول سے متعلق مختلف خبریں اور طلبا کی کہانیاں ہوتیں۔ ’’اندر کی خبریں‘‘ لانے میں ہمارا خفیہ ذریعہ سر اسامہ ہی ہوا کرتے تھے۔انھی دنوں اسکول والوں نے سالانہ تقریب منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ سر اسامہ نے مشہور فلم ’’شعلے‘‘ کی پیروڈی ’’چھولے‘‘ کا اسکرپٹ لکھا اور طلبا کو ریہرسل کروائی۔ ایسے ہی کئی دیگر یادگار مواقع ہیں۔اس اسکول میں، میں نے صرف ایک سال پڑھا۔ لیکن باتیں یاد کرنے بیٹھوں تو ایسا لگتا ہے کہ نجانے کتنا طویل عرصہ گزارا تھا اور کتنی خوشگوار یادیں وابستہ رہیں۔

Sir Osama - A Remarkable Teacher


میں نے آٹھویں جماعت کی تعلیم نارتھ کراچی کے ایک چھوٹے سے اسکول پبلک پیراڈائز میں 2001ء میں حاصل کی۔ وہاں ہمیں کمپیوٹر کا مضمون ’’محمد اسامہ‘‘ نامی ایک استاد پڑھاتے تھے۔ کمپیوٹر پر اُن کی دسترس تو بہر حال تھی ہی, لیکن اُس کے علاوہ وہ بہت اچھے انسان بھی تھے۔ طلبا کے ساتھ گھل مل جانا اُنھیں خوب آتا تھا۔ صرف تدریسی ہی نہیں بلکہ دیگر معاملات میں بھی طلبا کی بہت راہ نمائی کیا کرتے تھے۔اسکولوں میں کمپیوٹر کا نصاب خاصا بنیادی اور سرسری سا ہوتا ہے۔ سَر اُسامہ کو گرافکس ڈیزائننگ، اینی میشن اور دیگر پروفیشنل پروگراموں پر مہارت تھی۔ اسکول کے نزدیک ہی ہمارے ایک ہم جماعت، یوسف کا گھر تھا۔ اسکول سے نکل کر ہم اُس کے گھر کے پاس کھڑے ہوجاتے تھے اور سر جیسے ہی اسکول سے اپنے گھر جانے کے لیے نکلتے ہم اُنھیں روک لیتے اور اصرار کرکے اُس دوست کے گھر لے جاتے کہ پلیز سر دس منٹ ہمیں کچھ سکھادیں۔ اور وہ ہمیں کبھی گرافک ڈیزائننگ کے سوفٹ ویئر کی بنیادی معلومات دیتے تو کبھی اینیمیشن سوفٹ ویئر کی۔ گو کہ اُس زمانے میں کمپیوٹر اپنے گھر پر نہ ہونے کی وجہ سے میں اتنا زیادہ سیکھ نہیں سکا تھا لیکن اُن ہی کی رہنمائی کا نتیجہ تھا کہ کمپیوٹر کے بارے میں میری سوجھ بوجھ خاصی بہتر ہوگئی۔ اور بعد میں میرے لیے کمپیوٹر استعمال کرنا اور نت نئے سوفٹ ویئر از خود سیکھنا بہت آسان ہوگیا۔ کبھی ہم سر کے ساتھ کھانا کھاتے، کبھی باتوں کا وہ دور چلتا کہ بس۔۔۔ اُن کے ساتھ ماہِ رمضان میں افطاریاں بھی یادگار ہیں۔ کبھی اُن کے گھر، کبھی میرے گھر، کبھی کسی دوسرے ہم جماعت کے گھر۔ محفل افطاری کی ہو یا دوسری، ہمیشہ کئی گھنٹوں پر محیط ہوتی تھی۔ ہم اپنی چھوٹی چھوٹی باتیں اُنھیں سناتے رہتے، اور وہ بھی بہت مزے سے سنتے اور ہنسی مذاق کرتے۔ میں وہ محفلیں کبھی نہیں بھول سکوں گا۔ جن دنوں امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا تھا، ان دنوں ہماری اور اُن کی جو جذباتی کیفیت تھی، وہ اب بھی یاد آتی ہے۔مجھے کمپیوٹر سیکھنے کا بہت شوق تھا۔ میں اَبّو سے ضد کرتا تھا کہ کمپیوٹر لے آئیں، اُنھیں گھر کے دیگر ضروری اخراجات پوری کرنے کی فکر تھی۔ سر اُسامہ کو اس بات کا اندازہ تھا۔ ایک دن اُنھوں نے مجھے کمپیوٹر لیب میں بلوایا۔ میں پہنچا تو اُنھوں نے ایک سفید لفافہ میری طرف بڑھایا اور کہنے لگے کہ تم کمپیوٹر لینا چاہ رہے تو میری طرف سے یہ تحفہ رکھ لو، تھوڑی سی رقم ہے۔ میں نے قطعی انکار کردیا لیکن اُنھوں نے اپنا اصرار جاری رکھا۔ مجھے لگا کہ ان کے خیال میں، میں کمپیوٹر لینے لگا ہوں تو مٹھائی وغیرہ کے لیے رقم دے رہے ہیں، شاید انھوں نے خود بھی ایسی ہی کوئی بات کہی۔ میں نے ان کے اصرار کرنے پر وہ لفافہ لے لیا، انھوں نے اس بارے میں کسی سے ذکر نہ کرنے کی تاکید کی۔ اور جب کلاس میں آکر چپکے سے اُسے کھولا تو پل بھر کے لیے میری سانسیں رُک گئیں۔ اُس لفافے میں چار ہزار روپے تھے۔ اُن دنوں اسکول میں اُن کی اپنی تنخواہ صرف دو ہزار روپے تھی اور وہ مجھے اپنی دو مہینے کی تنخواہ یوں دے رہے تھے۔۔۔ بغیر کسی رشتے ناتے کے۔ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ میں کیا کروں۔ بعد میں بہت ضد کے بعد اُن سے یہ طے ہوا کہ میں ہر مہینے اُنھیں ہزار ہزار روپے کرکے لوٹادوں گا۔ یوں میرے گھر کمپیوٹر آسکا۔ میں اب تک سوچتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں کہ ایسا کون ہوتا ہے جسے اپنے طالبِ علم کی اتنی فکر ہو۔۔۔ طالبِ علم بھی ایسا جو اکلوتا منظورِ نظر نہ ہو۔ اور بھی کئی طلبا تھے جو اُنھیں بہت پسند تھے اور شاید مجھ سے زیادہ اُن کے قریب تھے۔ یا شاید ہر ایک طالب علم کی اُنھیں اتنی ہی قدر تھی اور ہر ایک کو ان سے اپنائیت کا ایسا ہی احساس تھا۔سر اُسامہ نے اسکول میں اپنی معمولی سی تنخواہ کے باوجود ہمیشہ کوشش کی کہ اسکول کا معیار بہتر کرسکیں۔ اُنھوں نے طلبا کے گروہ بناکر اُنھیں مختلف ذمے داریاں دیں۔ اُن کی ترغیب پر طلبا نے اسکول میں ایک بہترین لائبریری قائم کی، سائنس لیب کا معیار بہتر کیا، میں نے ہفت روزہ ’’پھلجڑی‘‘ اخبار نکالنا شروع کیا۔ لائبریری کا پروجیکٹ تو بہت ہی بہترین تھا۔ افسوس ہمارے بعد اسکول والوں نے اسے ختم کردیا۔ اسکول کے فنکشنز میں سر اُسامہ کی نگرانی میں ہم طلبا پر مشتمل ٹیم نے بہترین کارکردگی دکھائی اور اسکول کی تقریبات کو چار چاند لگائے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک اسکول فنکشن میں انھوں نے ’’شعلے‘‘ فلم کی پیروڈی ’’چھولے‘‘ کے نام سے تیار کی تھی۔ہماری قوم سازشوں اور سیاست سے کبھی باز نہیں آتی۔ سر اُسامہ کی اتنی محنت کے باوجود اسکول انتظامیہ (بالخصوص خواتین اساتذہ) کو اُن سے مسائل رہے۔ نتیجتاً وہ اسکول چھوڑگئے۔ آٹھویں جماعت مکمل کرکے میں نے بھی اسکول چھوڑ دیا۔ کچھ عرصہ ملاقاتیں رہیں، پھر اُنھوں نے کہیں ملازمت شروع کردی۔ بعد میں سنا تھا کہ اُن کی شادی ہوگئی ہے۔ اُن دِنوں موبائل فون اتنا عام نہیں ہوا تھا اس لیے اُن کا کوئی رابطہ نمبر بھی نہیں لے سکا۔ مجھے نہیں پتا کہ وہ اب کہاں اور کس مقام پر ہیں، لیکن میں آج جس مقام پر ہوں، یہاں تک پہنچنے میں بلاشبہ ان کا بھی اہم کردار ہے۔ اُن کے لیے ہمیشہ دل سے بہت ساری دعائیں نکلتی رہیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ پرانی تحریر دوبارہ شیئر کرنے کا خیال یوں آیا کہ طویل تلاش اور مسلسل کوشش کے بعد بالآخر سر اسامہ کی فیس بک آئی ڈی ڈھونڈنے میں کامیابی ملی ہے، لیکن علم نہیں کہ وہ اسے اب بھی استعمال کرتے ہیں یا نہیں۔ بہرحال، کچھ امید ضرور ہے کہ رابطہ بحال ہوسکے گا۔

The Blacklist - Do We Have All Answers?

ٹی وی سیریز (خصوصاً امریکی) جب وقفے (مثلاً کرسمس بریک) پر جاتی ہیں تو اپنے ناظرین کو ایسے موڑ پر چھوڑ جاتی ہیں کہ ان کا تجسس اپنے عروج پر پہنچ جائے اور وہ اس کی واپسی کے منتظر رہیں۔لیکن، ایلزبتھ کین اور ریمنڈ ’ریڈ‘ ریڈنگٹن کے ’دی بلیک لسٹ‘ کی بات کیجیے تو اس بار وقفے پر جانے سے پہلے وہ ایسا کوئی موڑ دے کر نہیں گیا ہے۔ این بی سی سے نشر ہونے والے ڈرامے ’’دی بلیک لسٹ‘‘ کے چوتھے سیزن کی آٹھویں قسط 10 نومبر 2016ء کو نشر کی گئی اور اب 5 جنوری 2017ء کو اس کی واپسی ہوگی۔سیزن کے آغاز سے قبل ایلزبتھ کین کے حوالے سے جو ٹیگ لائن دی گئی تھی کہ ’’تمھارا باپ کون ہے؟‘‘ (Who is your daddy)، بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ اس کا جواب مل چکا ہے۔ مرکزی کردار، ایلزبتھ کین کا باپ ہونے کا دعویٰ کرنے والے الیگزینڈر کرک کی حقیقت سامنے آچکی ہے کہ وہ کسی غلط فہمی میں مبتلا تھا۔ اسی غلط فہمی کے نتیجے میں اس نے ایلزبتھ کو اغوا کرنے اور خود اس کا باپ ہونے کا یقین دلانے کی کوشش کی۔ لیکن اسے اس غلط فہمی میں مبتلا کس نے کیا تھا؟ کیا خود اسی کی بیوی کیترینا رستووا نے؟ کیونکہ جب کرک نے ریڈ کو ڈی این اے رپورٹ کا حوالہ دیا تو ریڈ کا جواب تھا کہ تم نے اسی پر یقین کیا جو کیترینا روستووا چاہتی تھی۔اور سب سے اہم سوال یہ کہ کیا ریڈ ہی ایلزبتھ کین کا باپ ہے، جیساکہ ہمیں وقتاً فوقتاً اشارے دیے جاتے رہے ہیں، تو کرک کے سوال پر ریڈ نے اعتراف کیا کہ ہاں، وہی اس کا باپ ہے۔ لیکن اگر ڈراما نگاروں کی خواہش ہو تو وہ اب بھی اس جواب کی دوسری تاویل نکال سکتے ہیں۔ جب ریڈ نے ایلزبتھ کا باپ ہونے کا اعتراف کیا تو وہ حالات ایسے تھے کہ یہ جواب مجبوراً بھی تصور کیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ ریڈ نے اس سے قبل کرک سے یہ بھی کہا کہ ’’کیا میں وہی کہوں جو تم سننا چاہتے ہو؟‘‘ گویا، چونکہ کرک اپنے شبہات کی من مانی تصدیق چاہتا تھا تو ریڈ نے وہی جواب دیا۔تو کرسمس بریک سے واپسی پر یہ ڈراما کس رخ پر جائے گا، یہ کہنا خاصا مشکل ہے۔اس سیزن کے شروع ہونے کے بعد سے ناظرین کی تعداد مسلسل گھٹنے کے باعث اس سیریز پر منسوخی کا خطرہ بھی منڈلانے لگا ہے۔ تخلیق کار ایک اسپن آف سیریز یعنی اسی سیریز سے اخذ کردہ کہانی پر ایک نئی سیریز ’’ریڈمپشن‘‘ (نجات) بنانے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں تاکہ ایک بار پھر ناظرین کی بڑی تعداد کو متوجہ کیا جاسکے۔ اس نئی سیریز میں ٹام کین اور اس کی ’’مبینہ‘‘ ماں اسکاٹی ہارگریو کی کہانی کو بنیاد بنایا جائے گا۔’’مبینہ‘‘ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک ہم نے صرف ریڈنگٹن ہی کی زبانی سنا ہے کہ وہ ٹام کی ماں ہے۔ ان دونوں کا سامنا تب ہوا تھا جب اسکاٹی کی ٹیم ایلزبتھ کو چھڑانے کی کوششوں میں مدد کر رہی تھی۔ لیکن کیا اسپن آف سیریز میں بھی ٹام کو اپنی حقیقی ماں کی پہچان کرنے کے لیے اتنی ہی مشکلات اٹھانی پڑیں گی جتنی ایلزبتھ کو اپنے حقیقی باپ کی تلاش کے لیے اٹھانی پڑیں؟امید کرتے ہیں کہ تخلیق کار اور کہانی نگار ہماری دلچسپی سیریز میں برقرار رکھنے اور توقعات پر پورا اترنے میں کامیاب ہوسکیں۔
a blog about US TV series, The Blacklist - season 4 is on christmas break and will be back in January 2017. But do we have any question still unanswered?

'Team 1' and Expectations from SEE TV


ایکشن تھرل ڈراموں کا شوقین ہونے کے ناتے گزشتہ دنوں جب میں نے سی ٹی وی (See tv) پر ’ٹیم 1‘ نامی ڈرامے کی جھلکیاں دیکھیں تو میں نے سوچا کہ آئندہ دیکھنے والی ٹی وی سیریز کی فہرست میں اسے بھی شامل رکھنا چاہیے۔ میں فی الحال امریکی ڈراما ’دی بلیک لسٹ‘ کا تیسرا سیزن دیکھ رہا ہوں، جبکہ ٹی وی پر ان دنوں چوتھا سیزن نشر ہورہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں چوتھا سیزن ختم ہونے سے پہلے اسے جا لوں گا۔ ویسے بھی افواہ سنی ہے کہ این بی سی والے ناظرین کی تعداد میں مسلسل کمی کے باعث دی بلیک لسٹ کو منسوخ کرنے پر غور کر رہے ہیں، لہٰذا اگلی ٹی وی سیریز کی تلاش ضروری تھی۔اگلے دن میں نے حسبِ عادت ’ٹیم 1‘ کے بارے میں ابتدائی معلومات کی تلاش کا آغاز کیا۔ مجھے اتنا تو اندازہ تھا کہ یہ ترکی ڈراما ہے جسے اردو میں ڈب کرکے نشر کیا جارہا ہے۔ لیکن میں اسے اردو میں دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔ اس کا سبب میں آگے چل کر بتاؤں گا۔بہرحال، میں نے سب سے پہلے یہ کھوجنے کی کوشش کی کہ اس ڈرامے کا ماخذ یا ترکی نام کیا ہے اور ٹی وی چینل کی ویب سائٹ کی طرف رجوع کیا۔ سی ٹی وی کی ویب سائٹ خاصی دیدہ زیب ہے لیکن جب میں اس ڈرامے کے صفحے تک پہنچا تو وہاں صرف اس کی اقساط ہی موجود تھیں۔ اس کے علاوہ مجھے کوئی معلومات نہ مل سکیں۔  پھر میں نے ایک موہوم سی امید کے ساتھ ویکیپیڈیا کا رخ کیا۔ وہاں بھی صرف سی ٹی وی سے متعلق ایک مختصر سا مضمون موجود تھا جس کے مطابق اس چینل نے 2015ء میں اپنی نشریات کا آغاز کیا اور اس کا صدر دفتر استنبول، ترکی میں ہے۔ یہاں سے ناکامی کے بعد، میں نے مذکورہ ڈرامے اور ٹی وی چینل کے نام سے موجود فیس بک صفحات کھنگالے لیکن کوئی سرا ہاتھ نہ آیا۔ وہ صفحات بعض شوقین افراد اپنے ہی طور پر شوقیہ چلا رہے ہیں۔پھر مجھے ایک خیال آیا اور وہ یہ کہ ڈرامے کے شروع یا آخر میں اداکاروں کے نام دکھائے جاتے ہیں۔ اگر وہ دیکھ لیے جائیں تو شاید اصل ڈرامے تک پہنچا جاسکے۔ چنانچہ میں نے ڈرامے کے کچھ اقساط کے ابتدائی اور آخری حصے دیکھے۔ سچ کہوں تو بے حد افسوس ہوا۔ ہر قسط کے آخر میں جو نام دکھائے جاتے ہیں، وہ صرف اردو میں ڈھالنے والی (یعنی ترجمہ اور ڈبنگ کرنے والی) ٹیم کے ہیں، اور قسط کے آغاز میں جہاں ترکی فن کاروں کے نام تھے، انھیں سیاہ رنگ سے چھپا دیا گیا ہے۔ یہ صریح ناانصافی محسوس ہوئی۔ اصل تخلیق کاروں کو ان کے کام کا کریڈٹ دینے سے بھلا کیا جاتا ہے؟قصہ مختصر، مجھے انگریزی ویکیپیڈیا پر ترکی ڈراموں کی ایک طویل فہرست ملی۔ اس فہرست سے میں نے وہ ڈرامے چنے جن کی اقساط سو یا اس سے زائد تھیں کیونکہ سی ٹی وی سے اس ڈرامے کی سو سے زائد اقساط نشر ہوچکی ہیں۔ پھر باری باری ہر ڈرامے کا نام گوگل پر سرچ کیا تو بالآخر میں اصل ڈرامے تک پہنچ ہی گیا جس کا ترکی نام ’ Nizama Adanmış Ruhlar‘ یا ’ekip 1‘ (اردو ترجمہ ’ٹیم 1‘) ہے۔ ڈرامے تک پہنچا تو اس کی اقساط تک پہنچنا مشکل نہیں رہا۔ یوٹیوب پر اصل ڈرامے کی تمام اقساط موجود ہیں۔بیشتر ترکی ڈراموں کی طرح ’ٹیم 1‘ بھی طویل دورانیے کا ڈراما ہے۔ اصل ڈرامے کی ہر قسط تقریباً پونے دو گھنٹے طویل ہے، سیریز چار سیزن پر مشتمل ہے اور اس کی مجموعی اقساط 121 ہیں۔ اگر ہر قسط اوسطاً سو منٹ (ایک گھنٹہ چالیس منٹ) کی بھی لگائی جائے تو یہ 12 ہزار سے زائد منٹ بنتے ہیں۔ گویا اگر آپ کو یہ ڈراما پسند آجائے تو اچھے خاصے عرصے کے لیے آپ کو کسی دوسرے ڈرامے کی تلاش کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ لیکن کیا یہ ڈراما آپ کو پسند آئے گا؟میرے لیے ایک بنیادی منفی نکتہ اس کی اردو میں ڈبنگ ہے۔ جیسے کہ میں نے پہلے ذکر کیا، میں اس کا اردو ورژن دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔ اردو میں ڈھالے گئے مکالمے اگرچہ کرداروں کے ہلتے ہونٹوں سے خاصی مطابقت رکھتے ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ مکالموں کا سیدھا سیدھا ترجمہ کیا گیا ہے،  انھیں اردو قالب میں ڈھالا نہیں گیا ہے۔ بعض اوقات ایک کردار کی کسی بات کے جواب میں دوسرا کردار جو مکالمہ ادا کرتا ہے، وہ زبردستی کی بات لگتی ہے یا اس میں ہمارا مقامی تاثر نہیں آتا۔ پھر یہ کہ ترکی ڈراموں کی اردو ڈبنگ کرنے والی پوری ٹیم کا تعلق پنجاب سے معلوم ہوتا ہے۔ میں نے اب جتنے ترکی ڈراموں کی اردو ڈبنگ دیکھی ہے، تقریباً سبھی کرداروں کا لہجہ پنجابی ہے۔ وہ اردو کی بجائے اگر پنجابی میں ڈبنگ کرتے تو شاید زیادہ جان ڈال سکتے تھے۔ تمام صداکار بغیر تاثرات اور لہجے میں تبدیلی کے مکالمے بولتے چلے جارہے ہیں۔ جہاں انھیں سرگوشی کرنی چاہیے، وہاں بھی وہ معمول کی آواز میں بات کر رہے ہیں اور جہاں انھیں چیخنا چاہیے، وہاں بھی ان کی وہی ٹون ہے۔ جملوں کی ساخت میں جو مصنوعی پن اور کمزوریاں ہیں، ان کا ذکر تو رہنے ہی دیجیے۔لیکن مجھے یہ ڈراما انگریزی میں ڈب نہیں مل سکا اور نہ ہی ڈرامے کے انگریزی سب ٹائٹلز ملے۔ مجبوراً میں نے اردو ہی میں ابتدائی چند اقساط دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ پہلی قسط نے خاصا مایوس کیا۔ حالانکہ کہانی کا آغاز ہی دہشت گردوں کے ٹھکانے پر حملے سے ہوتا ہے۔ اسے سنسنی خیز بنایا جاسکتا تھا۔ شاید کوشش بھی یہی رہی ہوگی، لیکن اس کے برعکس یہ خاصا سست رفتار محسوس ہوا۔ پولیس کی ٹولی ایک گھر میں موجود دہشت گردوں کے صفائی کے لیے صرف دو اہلکاروں کو اندر بھیجتی ہے جبکہ باقی ڈھیروں اہلکار باہر ناکہ بندی کرتے ہیں۔ ایسے میں پوزیشن لیے ہوئے اہلکار کے پاس جب اس کے گھر سے بار بار فون آتا ہے تو وہ فون پر اپنی بیٹی سے بات کرنے لگتا ہے۔ کیا واقعی ایسا ہوتا ہے؟ یا مجھے انگریزی ڈراموں میں ایف بی آئی کی تیز رفتار کارروائیاں دیکھنے کی عادت ہوگئی ہے؟میں نے ابھی ہمت نہیں ہاری ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ آنے والے دنوں میں ’ٹیم 1‘ کی مزید اقساط دیکھوں گا۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ پاکستان کا (غالباً) واحد ایچ ڈی انٹرٹینمنٹ چینل ہونے اور ترکی سے وابستگی کے ناتے سی ٹی وی ناظرین کو بہتر تفریح فراہم کرسکتا ہے۔ بس اسے خود کو عالمی پائے کا چینل ثابت کرنے کے لیے صرف ٹی وی پر مواد پر نشر کرنے اور انھیں ویڈیو اسٹریمنگ کی ویب سائٹس پر اپلوڈ کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر کاموں کی طرف بھی توجہ دینی ہوگی۔

Google - A Short History

دورِ حاضر میں لفظ ’’گوگل‘‘ اس قدر عام ہوگیا ہے کہ گفت گو کے سیاق و سباق کے بغیر اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ ’’گوگل‘‘ سے کیا مراد ہے؟ گوگل انکارپوریٹڈ ادارہ، گوگل سرچ انجن، یا تلاش کرنا؛ کیوں کہ اکثر لوگ انٹرنیٹ پر کچھ تلاش کرنے کے لیے بھی کہہ دیتے ہیں کہ فلاں چیز گوگل کرلو۔ مراد یہ ہوتی ہے کہ گوگل پر تلاش کرلو۔ گوگل ایک امریکی کمپنی ہے جو خصوصاً انٹرنیٹ سے متعلقہ خدمات اور مصنوعات فراہم کرتی ہے۔اگرچہ گوگل کی باقاعدہ بنیاد ۴ ستمبر ۱۹۹۸ کو مینلو پارک، کیلے فورنیا میں رکھی گئی، لیکن اس کی داغ بیل جنوری ۱۹۹۶ میں ڈال دی گئی تھی جب اسٹینفرڈ یونی ورسٹی، کیلے فورنیا کے دو پی ایچ ڈی طالب علموں، لیری پیج اور سرگئے برن نے اسے ایک تحقیقی منصوبے کے طور پر شروع کیا۔ اُس زمانے میں موجود سرچ انجنوں پر جب کوئی لفظ تلاش کیا جاتا تھا تو وہ یہ دیکھتے کہ کسی ویب صفحے پر یہ لفظ کتنی بار استعمال ہوا ہے۔ نیا سرچ انجن بناتے ہوئے لیری اور سرگئے کے سامنے یہ نظریہ تھا کہ اس لفظ کی تعداد کی بجائے سرچ انجن یہ دیکھے کہ وہ ویب صفحہ کتنا متعلقہ ہے۔ اس کے لیے اُنھوں نے ایک نئی تکنیک ’’پیج رینک‘‘ متعارف کروائی جو ویب سائٹ کے صفحات کی تعداد اور اُن صفحات کی اہمیت کو اس بنیاد پر جانچتی تھی کہ اُنھیں کتنی بار دوسری ویب سائٹوں سے مربوط کیا گیا ہے۔ابتدا میں اُن کا سرچ انجن اسٹینفرڈ یونی ورسٹی ہی کے ڈومین پر موجود رہا۔ بعد ازاں، ۱۵ ستمبر ۱۹۹۷ کو گوگل کا ڈومین، اور ۴ ستمبر ۱۹۹۸ کو کمپنی رجسٹر کروائی گئی۔ آج جس کمپنی کا جال دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے، اُس کی بنیاد مینلو پارک، کیلے فورنیا کے ایک گیراج میں رکھی گئی تھی۔۱۹۹۹ کے اوائل میں دونوں بانیوں کو گوگل کا قیام بوجھ محسوس ہونے لگا، کیوں کہ اُن کے وقت کا بیشتر حصہ اُس پر صَرف ہو جاتا تھا، اور یہ اُن کی تعلیمی سرگرمیوں میں بھی رکاوٹ بن رہا تھا۔ چناں چہ وہ ایکسائٹ (Excite) کے سی۔ای۔او کے پاس گئے اور اُسے دس لاکھ ڈالر کے عوض گوگل خریدنے کی پیش کش کی، لیکن اُس نے نہ صرف اُن کی یہ پیش کش مسترد کر دی، بل کہ ایکسائٹ کے ایک سرمایہ دار، ونود  کھوسلا، کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا جس نے لیری اور سرگئے سے ساڑھے سات لاکھ میں سودا طے کرنے کی کوشش کی تھی۔۱۹ اگست ۲۰۰۴ کو پہلی بار گوگل کے آئی پی او (initial public offering) انجام پانے کے بعد لیری پیج، سرگئے برن، اور ایرک شمٹ نے فیصلہ کیا کہ وہ آئندہ بیس سال (۲۰۲۴) تک اکٹھے گوگل میں کام کریں گے۔ اسی موقع پر ان تینوں نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ وہ سالانہ صرف ایک ڈالر تنخواہ لیا کریں گے؛ حال آں کہ اس سے پہلے ایرک سالانہ ڈھائی لاکھ ڈالر، جب کہ لیری اور سرگئے سالانہ ڈیڑھ لاکھ ڈالر تنخواہ وصول کر رہے تھے۔آہستہ آہستہ گوگل نے دیگر اداروں کو خرید کر اپنا حجم بڑھانے کی طرف قدم بڑھایا۔ ۲۰۰۴ میں گوگل نے ’کی ہول انکارپوریٹڈ‘ کو خرید لیا، جس نے ’ارتھ ویور‘ (earth viewer) نامی ایک سوفٹ ویئر تخلیق کیا تھا جو زمین کا سہ رخی منظر دکھاتا تھا۔ گوگل نے اسے ۲۰۰۵ میں گوگل ارتھ کا نام دے کر جاری کیا۔ اکتوبر ۲۰۰۶ میں گوگل نے ویڈیو شیئرنگ کی مشہور و معروف ویب سائٹ ’یوٹیوب‘ خریدنے کا اعلان کیا۔ مختلف کمپنیاں خریدنے کے ساتھ ساتھ گوگل نے کئی اداروں کے ساتھ شراکت بھی کی، جن میں ناسا، مائکروسوفٹ، نوکیا، ایریکسن، وغیرہا شامل ہیں۔یکم اپریل ۲۰۰۴ کو گوگل نے مفت ای میل سروس ’جی میل‘ کا آغاز کیا، اور جب دیگر ای میل سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں اپنے صارفین کو دو سے چار ایم بی کا ان باکس فراہم کرتی تھیں، گوگل نے ایک جی بی  کا ان باکس فراہم کرکے تہلکہ مچا دیا۔ گوگل وقتاً فوقتاً مختلف خدمات و مصنوعات جاری کرتا رہا، جن میں سے چند مشہور اور فعال یہ ہیں:
  • گوگل تلاش
  • جی میل
  • گوگل ڈرائیو
  • اینڈروئیڈ (موبائل فون  آپریٹنگ سسٹم)
  • کروم (ڈیسک ٹاپ آپریٹنگ سسٹم)
  • گوگل کروم ویب براؤزر
  • گوگل پلس
  • گوگل ٹرانسلیٹ
  • گوگل ڈوکس
  • ہینگ آؤٹ
  • گوگل کیلنڈر
  • بلاگر (بلاگ اسپاٹ)
  • گوگل بکس
  • گوگل والٹ
  • گوگل پلے اسٹور

انٹرنیٹ سے متعلقہ خدمات اور دیگر مصنوعات فراہم کرنے کے علاوہ گوگل اب  آلات کی فراہمی کے میدان میں بھی قدم جما چکا ہے، جن میں سے چند یہ ہیں:
  • نیکسس فون
  • نیکسس ٹیبلٹ
  • کروم بکس
  • کروم کاسٹ

ایسی کمپنی جس کے بانی ایک وقت میں اُس کا بوجھ اپنے کندھوں سے اتارنا چاہتے تھے، دس سال کے عرصے میں اس مقام پر پہنچ گئی کہ اس میں ملازمت کا حصول  بھی باعثِ افتخار سمجھا جانے لگا۔ بلاشبہ یہ انتھک محنت، اور جوش و ولولے کا واضح ثبوت ہے۔

Senior


’’جناب، آپ کو ایسی بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔‘‘’’او بھائی، خیال سے، ’وہ‘ سینئر ہیں۔‘‘’’سر، آپ نے فلاں فلاں الزام لگایا، آپ کے پاس کوئی ثبوت ہے؟‘‘’’ارے، ’وہ‘ سینئر ہیں۔‘‘’’ویسے کیا کمی تھی کہ آپ بھی ایسی حرکتوں پر اتر آئے؟‘‘’’سب باتیں ایک طرف، لیکن ’وہ‘ سینئر ہیں۔ کم از کم اسی بات کا خیال کرلو۔‘‘
ایسے سینئروں اور اُن سینئروں کی بتیوں سے ہمیں روزمرہ زندگی میں واسطہ پڑتا ہی رہتا ہے۔ سینئر تو خیر سینئر ہوتے ہیں، لیکن سینئروں کی بتیاں وہ ہوتی ہیں جو خود سینئر نہیں ہوتیں لیکن اُن میں سینئر بننے کی حسرت ہوتی ہے، لہٰذا وہ سینئروں کی سنیارٹی کی بتی بناکر اُس سے استفادہ کرتی ہیں۔ہر شعبے کی طرح بلاگنگ میں بھی سینئر ہونے کے بے شمار فوائد ہیں۔ لیکن فوائد گنوانے سے کوئی حاصل نہیں کہ سبھی ان سے واقف ہیں۔ اصل راز یہ ہے کہ سینئر بلاگر کیسے بنا جائے۔ ہم تو الحمد للہ دس سال کی بلاگنگ کے بعد بھی سینئر نہیں بن سکے، لیکن ہاں ان دس سالوں میں بہت سوں کو سینئر بنتے دیکھا۔ تو تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر کچھ عرض کرتے ہیں۔ مشورہ اگرچہ مفت ہے لیکن اس کے نتائج کی ذمہ داری ہم پر ہرگز نہ ہوگی۔1۔ تاریخ سے رشتہ جوڑیں۔سب کو بتائیں کہ آپ بہت قدیم بلاگر ہیں۔ ڈرنے کی کوئی بات نہیں، اُردو بلاگنگ کے ابتدائی پلیٹ فارمز اب نابود ہوچکے ہیں، ان کی کوئی تاریخ موجود نہیں۔ کسی بھی ایسے بلاگنگ پلیٹ فارم پر بلاگ بنانے کا دعویٰ کرلیں کہ 1857ء میں فلاں فلاں نام سے بلاگ بنایا تھا۔2۔ ہر بات میں ٹانگ اڑائیں۔جہاں اُردو بلاگنگ سے متعلق کوئی بات ہو، پہنچ جائیں اور تبصرہ کرنا اپنا فرضِ عین سمجھیں۔ جن لوگوں کا اُردو بلاگنگ سے کوئی تعلق نہ ہو اور وہ کبھی اُردو بلاگنگ کی بات کر بیٹھیں تو وہاں سب سے پہلے پہنچنے کی کوشش کریں اور خود کو ایسے ظاہر کریں کہ اُردو بلاگنگ کے کرتا دھرتا آپ ہی ہیں، اور آپ ہی کے وجودِ ’’زن‘‘ ہے تصویرِ بلاگنگ میں رنگ۔3۔ خود کو قائد سمجھیں۔قائدِ اعظم سمجھنا مشکل ہو تو قائدِ تحریک کی مثال بھی موجود ہے۔ ہر معاملے کی قیادت کرنے کی سرتوڑ کوشش کریں۔ جس تقریب یا معاملے میں قیادت نہ مل سکے، اسے ملک دشمن، دین بیزار، سامراجی ایجنڈا، صیہونی سازش اور بکواس قرار دیں۔ فاروق درویش بن جائیں۔ جس تقریب میں آپ کی خاطر خواہ پذیرائی نہ ہو اسے فلاپ قرار دیں۔ بہتر ہے کہ ایسی تقاریب ختم ہونے سے پانچ منٹ پہلے باہر نکل جائیں تاکہ بعد میں کہہ سکیں کہ میں تو احتجاجاً تقریب ہی ادھوری چھوڑ آیا تھا۔4۔ ساتھ دیں اور چھوڑ دیں۔جب کوئی نیا کام کرنے لگے تو آپ اس کے ساتھ کی ہامی بھریں۔ جب وہ آگے بڑھتا محسوس ہو تو ساتھ چھوڑ دیں اور اپنے چیلوں کے ذریعے اُس کی خوب ٹانگ کھینچیں۔ بات بے بات اعتراضات کریں۔ کسی کو کامیابی کی مبارک باد دینے کی مجبوری آن پڑے تو منفی پہلو کی وضاحت سے نہ چوکیں۔ اور کچھ نہ ملے تو یہی کہہ دیں کہ غیروں سے تعاون لینے کی بجائے آپ ہی سے رابطہ کرلیا گیا ہوتا۔ سامنے والے کا دامن صاف ہو تو اس کے ساتھ تعاون کرنے والوں میں نقص تلاش کریں۔ (’’ریما کے گھر کے پاس ایک شخص کو کتے نے کاٹ لیا‘‘ اور ’’عمران خان کے دوست کی اہلیہ کا نام پاناما لیکس میں آگیا‘‘ جیسی مثالیں پیشِ نظر رکھیں۔)5۔ الزامات لگائیں۔تمام بڑے لوگ الزامات لگاتے ہیں۔ یہ شہرت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ آپ بھی الزامات لگائیں۔ مخالفین کو سرِ بازار ننگا کردیں۔ جب کچھ دنوں تک ماحول پُر امن محسوس ہو، کوئی شرلی چھوڑ دیں۔ کبھی ایسی کسی بات کا دعویٰ کردیں جو ہوئی ہی نہ ہو اور کبھی کسی وقوع پذیر بات سے مکر جائیں اور سامنے والے کو جھوٹا، مکار، فریبی اور خفیہ ایجنڈے پر کارفرما قرار دیں۔ دلائل نہ بھی ہوں تو ایسے نڈر بنے رہیں جیسے’ئل‘ کے بغیر لفظ ’دلائل‘۔ بس، الزامات لگائیں۔6۔ الزامات واپس لے لیں۔الزامات لگالیے؟ اب الزامات واپس لے لیں۔ جن الزامات میں آپ کے پاس دلائل ہوں، وہ الزامات تمام تر دلائل پیش کرنے کے بعد واپس لیں تاکہ مخالف اچھی طرح رسوا ہوجائے۔ جہاں آپ کے پاس دلائل اور ثبوت کی کمی ہو، وہاں اچھی طرح گند پھیلانے کے بعد اجتماعی مفادات کے پیشِ نظر الزامات واپس لے لیں تاکہ لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات تو گھر کرجائیں۔ الزامات واپس لینے سے واضح ہوگا کہ آپ کتنے بڑے ’وہ‘ ہیں۔ ارے سینئر!وقتاً فوقتاً لوگوں پر واضح کرتے رہیں کہ آپ اُردو بلاگنگ کے چاچے مامے نہیں ہیں، یہ کہنے سے لوگوں کے ذہن میں یہ خیال زور پکڑے گا کہ دراصل آپ ہی اُردو بلاگنگ کے چاچے مامے ہیں۔
فی الحال ان چھ مشوروں کو غنیمت جانیے۔ ہاں، بس یہ یاد رکھیے کہ وہ زمانے لد گئے جب سینئروں کی ہر بھلی بری بات اُن کی سنیارٹی کی بنیاد پر برداشت کرلی جاتی تھی۔ اب کی نسل منافق نہیں ہے، بڑی کھری ہے۔ اچھی بات پر ساتھ پائیں گے تو بری بات پر ایسا جواب پائیں گے کہ بتیاں سلگ جائیں گی۔

My Karachi - 00 Intro

صوبۂ سندھ کا دارالحکومت، پاکستان کا سب سے بڑا اور زیادہ آبادی والا شہر، دنیا کے دس بڑے میٹروپولیٹن علاقوں میں سے ایک، آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سرِ فہرست شہروں میں سے ایک، یہ ہے کراچی شہر!By Nomi887 (Own work) [CC BY-SA 3.0], via Wikimedia Commonsکراچی کی آبادی دو کروڑ چالیس لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے، یعنی بہت جلد کراچی شہر ڈھائی کروڑ انسانوں کا مسکن ہوگا۔ ترقی یافتہ، صنعتوں کا مرکز، بندرگاہ کا حامل اور نتیجتاً روزگار کی کثرت ہونے کے باعث یہاں شہرکاری (urbanization) کا عمل خاصا تیز رہا ہے۔ شہرکاری کے باعث وسائل محدود ہوتے چلے گئے اور مسائل بڑھتے چلے گئے۔ یہ صورتحال اب تک برقرار ہے اور آنے والے کئی سالوں تک اس میں بہتری کے امکانات نظر نہیں آتے۔ وجہ یہ ہے کہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات نہیں کیے گئے اور یہ مسائل گمبھیر ہوتے چلے گئے، نیز اب تک متعلقہ حکام اور اداروں میں منصوبہ بندی اور ارادے کا فقدان نظر آتا ہے۔گزشتہ چند مہینوں سے، کراچی کی سڑکوں پر سفر کے دوران میرے ذہن میں یہ خیال ضرور کلبلاتا ہے کہ جو مسائل نظر آرہے ہیں انھیں تحریر میں لاؤں۔ شکستہ حال سڑکیں، پانی یا صاف پانی کی عدم فراہمی، ذرائع نقل و حمل خصوصاً پبلک ٹرانسپورٹ کی حالتِ زار، اشیائے ضرورت کی دستیابی، بجلی اور گیس کی آنکھ مچولی، یہ تمام خالصتاً عام آدمی کے مسائل ہیں۔ ان بنیادی مسائل سے آگے بڑھیں تو فرقہ واریت، لسانیت، امن و امان سے متعلقہ مسائل بھی کراچی شہر میں موجود ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ اب تک ان مسائل کے حل کے لیے کیا گیا اور مستقبل میں کب اور کیسے بہتری کی گنجائش موجود ہے۔
سیاسی جماعتوں اور حکومتِ وقت کا کردار اگرچہ نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، تاہم میرا مقصد الزام تراشی نہیں، اس لیے کوشش رہے گی کہ اس پہلو سے دور ہی رہوں اور اصل مدعا پیش کرنے پر توجہ مرکوز رکھوں۔اس سلسلے کے تحت شائع ہونے والی تحاریر علمی یا تحقیقی نوعیت کی نہیں ہوں گی، بلکہ یہ کراچی کے ایک شہری کی حیثیت سے میرے مشاہدے اور خیالات کا بیان ہوگا۔

Abhijeet's Tere Bina

میٹرک کے دو سالوں میں غالباً مجھے دو ہی میوزک البموں کی کیسٹیں تحفے میں ملی تھیں۔ دونوں ہی کنول ناز نے دی تھیں۔ ایک عدنان سمیع کی ’تیرا چہرہ‘، اور دوسری ابھیجیت کی ’تیرے بنا‘۔ ٹیپ کیسیٹوں کا زمانہ اب تو بس رخصت ہی ہوچکا، لیکن اُن دِنوں ایسی صورتِ حال نہیں تھی۔ کیسیٹوں کا کاروبار اچھا خاصا ہوا کرتا تھا کیوں کہ کمپیوٹر، ایم پی تھری پلیئر، ٹیبلٹ اور اسمارٹ فون اتنے زیادہ عام نہیں ہوئے تھے۔
مجھے یاد نہیں کہ پہلے ’تیرا چہرہ‘ البم ملا تھا یا ’تیرے بنا‘؛ لیکن یہ ضرور یاد ہے کہ اُس وقت ان دونوں ہی البموں کو اتنا سنا تھا کہ ایک ایک گیت ہی نہیں، گیتوں کے درمیان موسیقی کا اُتار چڑھاؤ اور سارے سُر تک حفظ ہوگئے تھے۔ ابھیجیت بھٹاچاریا کی آواز میں اب نئے گیت تو خال خال ہی سننے کو آتے ہیں، اور نئی گلوکاروں کی آمد سے وہ گم نامی کے گوشوں میں گم ہوتے جا رہے ہیں، لیکن اُس وقت وہ خاصے مقبول تھے۔ ہر دوسری فلم میں اُن کی آواز میں کوئی نہ کوئی گیت ضرور شامل ہوتا تھا۔ شاہ رخ خان کی فلم ’یس باس‘ میں ’سنیے تو‘ اور ’میں کوئی ایسا گیت گاؤں‘، فلم ’بادشاہ‘ میں ’بادشاہ او بادشاہ‘، فلم ’میں ہوں نا‘ میں ’تمھیں جو میں نے دیکھا‘، فلم ’چلتے چلتے‘ میں ’سنو نا سنونا سن لو نا‘، ’چلتے چلتے‘ اور ’توبہ تمھارے یہ اشارے‘، سنیل سیٹھی کی فلم ’دھڑکن‘ میں ’تم دل کی دھڑکن میں‘، ڈینوموریا کی فلم ’راز‘ میں ’پیار سے پیار ہم‘، فلم بوبی دیول کی فلم ’ترکیب‘ میں ’تیرا غصہ‘، اکشے کمار اور انیل کپور کی فلم ’بے وفا‘ میں ’عشق چھپتا نہیں چھپانے سے‘ وغیرہ، ابھیجیت کے مشہور و معروف گیتوں میں سے چند ہیں۔ ابھیجیت اپنی منفرد آواز کی وجہ سے الگ ہی پہچانے جاتے ہیں اور مجھے اسی لیے ’بطور گلوکار‘ وہ پسند رہے ہیں۔بہرحال، ابھیجیت کا میوزک البم ’تیرے بنا‘ ۲۰۰۳ میں جاری ہوا تھا۔ البم میں درج ذیل آٹھ گیت شامل تھے:
  1. کبھی یادوں میں آؤں
  2. دھیرے دھیرے دھیرے
  3. چلنے لگی ہیں ہوائیں
  4. کچھ تو کہو
  5. کبھی موسم
  6. نیندوں میں خوابوں کا سلسلہ
  7. مجھے کنہیا کہا کرو
  8. ہوگیا ہوگیا
البم کے تمام آٹھ گیتوں کو الفاظ کا جامہ نصرت بدر نے پہنایا جب کہ موسیقی سپتریشی ابھیجیت نے ترتیب دی۔ ۲۰۰۴ سے لے کر اب تک، میں نے اس البم کو نجانے کتنی ہی بار سنا ہے اور لطف اُٹھایا ہے۔ البم کا ہر گیت دیگر پاپ البموں سے الگ ہے۔ ہر گانا محبت کے احساس سے سرشار، دل لبھانے والا اور محبت کی وادی میں لے جانے والا ہے۔
مثلاً
کبھی یادوں میں آؤں، کبھی خوابوں میں آؤں
تیری پلکوں کے سائے میں آکر جھلملاؤں
میں وہ خوشبو نہیں جو ہوا میں کھو جاؤں
ہوا بھی چل رہی ہے، مگر تُو ہی نہیں ہے
فضا رنگیں وہی ہے، کہانی کہہ رہی ہے
مجھے جتنا بھلاؤ، میں اُتنا یاد آؤں!

جو تم نہ ملتیں، ہوتا ہی کیا بھول جانے کو
جو تم نہ ہوتیں، ہوتا ہی کیا ہار جانے کو
میری امانت تھیں تم، میری محبت ہو تم
تمھیں کیسے میں بھلاؤں!

یا پھر، محبوب کی یاد میں

چلنے لگی ہیں ہوائیں
ساگر بھی لہرائے
پل پل دل میرا ترسے
پل پل تم یاد آئے

اسی طرح ’کبھی موسم‘ بھی کہ

یہ پنگھٹ سونے سونے ہیں
وہ خالی خالی جھولے ہیں
لہراتا ساگر کنارا تم بن ادھورا لگے
لہر قدموں سے ٹکرائی
مجھے تم یاد آئے
کبھی موسم ہوا ریشم
کبھی بارش ہوئی رم جھم
مجھے تم یاد آئے

البم کے سبھی گیت بہت ہلکے پھلکے اور لطف دینے والے ہیں۔ شاعری میں کوئی عظیم الشان فلسفہ نہیں ہے، موسیقی میں کوئی عالی شان کمال نہیں دکھایا گیا ہے، گائیکی میں کوئی آسمان کو چھولینے والے سُر نہیں ہیں، لیکن ان میں محبت ہے۔ محبت کرنے والے ایک عام شخص کی کیفیات ہیں، حالِ دل کا بیاں ہے۔
مجھے یاد ہے کہ البم سننے کے ابتدائی دِنوں سے مجھے اس کا ایک گیت خاص کر پسند رہا، ’نیندوں میں خوابوں کا سلسلہ‘۔

ملے جب سے تم سے، خود سے جدا ہوگئے
خدا کی قسم تم پہ فدا ہوگئے
جاگی جاگی آنکھوں نے دیکھے خواب تمھارے ہیں
دیوانے تمھارے ہوئے جب سے ہیں ہم
سبھی یار ہم سے دیکھو خفا ہوگئے
خدا کی قسم تم پہ فدا ہوگئے
نیندوں میں خوابوں کا سلسلہ!
خوابوں میں یادوں کا سلسلہ!

کبھی میں سوچتا ہوں کہ ہوسکتا ہے اس البم میں ایسی کوئی خاص بات نہ ہو، اور ہوسکتا ہے کہ مجھے یہ البم صرف اس لیے پسند ہو کہ عمر کے ایک خاص حصے میں، ایک خاص شخص کی جانب سے، ایک خاص کیفیت میں دیا گیا تحفہ تھا اور اُس کیفیت میں سنتے ہوئے مجھے اچھا لگنے کے باعث اب تک اچھا لگتا ہو، اور ہوسکتا ہے کہ دوسروں کو کچھ خاص نہ لگے، لیکن پسند اپنی اپنی!

گھریلو کاموں میں مرد کا حصہ

اکثر مشرقی ثقافتوں میں کچھ کام عورتوں کے ساتھ ایسے مخصوص ہیں کہ مردوں کا وہ کام کرنا معیوب تصور کیا جاتا ہے۔ ان کاموں میں گھریلو نوعیت کے کام قابلِ ذکر ہیں، مثلاً: باورچی خانے کے کام، گھر کی صفائی، کپڑوں کی دُھلائی، وغیرہ۔ ان کاموں کے معیوب ہونے کا تصور، ہوسکتا ہے کہ کسی زمانے میں مردوں کا تخلیق کردہ ہو لیکن موجودہ دور میں ان تصورات کی پاس دار خواتین ہیں۔ سلیقہ شعاری اور سگھڑاپے کے نام پر لڑکیوں کے ذہنوں میں شروع سے یہ راسخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ گھریلو نوعیت کے کام اُن کی ذمہ داری اور فریضہ ہیں، چناں چہ اُنھیں گھر کے مردوں (باپ اور بھائیوں) کی خدمت کرنی چاہیے اور اُنھیں گھر کے ایسے کام کرنے نہیں دینے چاہئیں۔ یہ تصورات گھر میں بہو آنے کے بعد زیادہ زور پکڑ جاتے ہیں اور اگر لڑکا ایسے کسی کام میں اپنی بیگم کا ہاتھ بٹانے لگے تو عورت اچانک ساس کا روپ دھار لیتی ہے اور بہو پر طنز کے تیروں کی برسات ہوتی ہے کہ ہم نے تو کبھی اپنے بیٹے سے ایسے کام نہیں کروائے، ہمارے ہاں لڑکے یہ کام نہیں کرتے، وغیرہ وغیرہ۔ یوں ہی اگر کسی مرد کے بارے میں خبر ملے کہ وہ گھر بھر کے کپڑے دھوتا ہے یا کسی دوسرے کام میں اپنی بیگم کا ہاتھ بٹاتا ہے تو بھی اسی طرح کی باتیں بنائی جاتی ہیں کہ نجانے کس قسم کی عورتیں ہوتی ہیں جو اپنے شوہروں سے ایسے کام کرواتی ہیں، اور الا بلا۔
ایک طرف عورت کا اپنی ہم صنف کے بارے میں یہ رویہ اور دوسری طرف صنفِ مخالف یعنی مرد کی یہ سوچ کہ اصل کام یعنی محنت مزدوری اور کمائی تو ہم کرتے ہیں، سارا دن گھر میں رہنے والی عورت کے پاس کام ہی کیا ہے۔چناں چہ گھر لوٹنے پر وہ یہ چاہتے ہیں کہ بیگم اُن کی خدمت میں جت جائے اور اُف تک نہ کرے۔اس کے برعکس وہ معاشرے ہیں جہاں صرف شوہر اور بیوی ہی نہیں، اولاد بھی گھر کے ہر کام میں حصہ دار ہے۔ شوہر کماتا ہے تو بیوی بھی کماتی ہے، اس لیے کوئی دوسرے کو یہ طعنہ نہیں دے سکتا کہ اصل کام (کمائی) تو وہ کر رہا ہے۔ نتیجتاً گھر کے کاموں میں بھی دونوں ہی کو برابر حصہ ڈالنا پڑتا ہے۔ ساتھ ہی اولاد کو بھی، چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی، شروع ہی سے گھر کے کام سونپے جاتے ہیں، کسی بچّے کے ذمے دوپہر کا کھانا، کسی کے ذمے صبح کا ناشتہ، کسی کے ذمے چھوٹے بہن بھائی کو تیار کرنا، وغیرہ، یوں کسی کے بھی ذہن میں برتری کے جذبات پیدا ہونے کا سدِّباب کرلیا جاتا ہے۔جس طرح گھر کی دوسری ذمہ داریوں میں مرد اور عورت برابر کے حصہ دار ہیں، اُسی طرح اولاد کی پرورش کا معاملہ بھی ہے۔ صرف کماکر دینے سے باپ کے فرائض پورے نہیں ہو جاتے؛ اولاد کی تعلیم و تربیت، تفریح اور کھیل کود، اور زندگی کے ہر پہلو کی مناسبت سے ماں اور باپ، دونوں ہی پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ باپ صرف اس لیے نہیں ہوتا کہ اولاد کی روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے عوض ولدیت کے خانے میں اُس کا نام لکھ دیا جائے۔گزشتہ ہفتے کے اختتام پر، امریکی عمرانی انجمن (امیریکن سوشیولوجیکل ایوسی ایشن) کے سالانہ اجلاس میں جورجیا اسٹیٹ یونیورسٹی نے ایک تحقیق پیش کی ہے کہ مل جل کر اپنی اولاد کی پرورش کرنے والے ازدواجی جوڑوں کے تعلقات اور جنسی زندگی زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ نو سو (۹۰۰) سے زائد شادی شدہ جوڑوں کی معلومات پر تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج کے مطابق بچّوں کی پرورش اور نگہداشت کی ذمہ داریاں بانٹنے سے جوڑے خوش رہتے ہیں، اور والدین جنسی اور جذباتی طور پر زیادہ اطمینان محسوس کرتے ہیں؛ جب کہ جہاں عورتیں بچّوں کی نگہداشت میں زیادہ حصہ ڈالتی ہیں، وہاں مرد اور عورت دونوں ہی کم مطمئن نظر آئے۔تحقیق اگرچہ صرف اولاد کی نگہداشت کے حوالے سے مرد و عورت کی ذمہ داریوں سے متعلق ہے، تاہم میرا ماننا یہ ہے کہ ازدواجی تعلقات میں بہتری کے لیے صرف اولاد کی ذمہ داریاں نہیں، بلکہ دوسرے معاملات میں بھی مل جل کر کام کرنے اور ایک دوسرے کا ہاتھ بٹانے سے معاملات خاصے بہتر رہتے ہیں۔ اگر مرد اپنی ہفتہ وار چھٹی کے دن صرف یہ سوچ کر، کہ عورت کو گھریلو کاموں سے کسی بھی دن چھٹی نہیں ملتی، گھر کے کاموں میں عورت کا ساتھ دینے لگے تو دونوں کے تعلقات میں خاصی خوش گوار بہتری آسکتی ہے۔ ایک طرف عورت کو یہ احساس ہوگا کہ شوہر کو اُس کا خیال ہے تو دوسری طرف مرد کو بھی یاد رہے گا کہ گھر کے کام معمولی نہیں ہوتے، اچھا خاصا تھکا دینے اور کبھی ختم نہ ہونے والے ہوتے ہیں۔بچّے پالنے کا تجربہ رکھنے والے بخوبی جانتے ہوں گے کہ یہ کام کس قدر مشکل ہے۔ بچّے خواہ جتنے چھوٹے ہوں، سمجھ بوجھ رکھتے ہیں اور آپ کو تگنی کا ناچ نچا سکتے ہیں۔ بچّوں کی ضد سے متعلق ایک دلچسپ لطیفہ ہے کہ اکبر بادشاہ کے دربار میں اسی موضوع سے متعلق ایک بار گفتگو ہو رہی تھی۔ اکبر بادشاہ نے کہا کہ بچّوں کو پالنا ایسا کون سا مشکل کام ہے۔ ملّا دو پیازہ نے کہا، ٹھیک ہے حضور، کچھ وقت کے لیے میں بچّہ بن جاتا ہوں اور آپ میرے باپ بن کر مجھے بہلائیں۔ بادشاہ تیار ہوگیا۔ ملّا دو پیازہ نے فوراً رونا شروع کردیا۔ بادشاہ نے پوچھا، کیا چاہیے؟ کہنے لگے، اونٹ چاہیے۔ بادشاہ نے اونٹ منگوا دیا۔ اونٹ آیا تو ملّا دوبارہ رونے لگے۔ بادشاہ نے دریافت کیا، کیا چاہیے؟ بولے، سوئی چاہیے۔ لیجیے جناب، حکم پر سوئی بھی حاضر کر دی گئی۔ اب تو ملّا مزید مچل مچل کر رونے لگے۔ بادشاہ نے خواہش پوچھی تو بولے، اونٹ کو سوئی کے ناکے سے گزارو۔ بادشاہ نے بہت سمجھایا کہ سوراخ بہت چھوٹا ہے اور اونٹ اتنا بڑا، اس میں سے کیسے گزرے گا، لیکن ملّا مان کر نہ دیے۔ آخر بادشاہ کو ہار ماننی پڑی۔
تو، جب مرد دن بھر گھر سے باہر رہتے ہیں تو شام میں واپس آکر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بچّے کے ساتھ کچھ باتیں کرلیں، کھیل لیے تو کافی ہے۔ بچّہ دن بھر کیا کرتا رہا ہے، اگر پڑھ رہا ہے تو پڑھائی میں کیسا ہے، زندگی میں کن مسائل کا سامنا کر رہا ہے، کوئی پروا نہیں۔ اور بچّہ ابھی ننھا ہو، رات میں تنگ کرتا ہو تو بھڑک جاتے ہیں۔ اپنی نیند اور آرام زیادہ عزیز رکھتے ہیں، غصّے میں چیختے چلّاتے ہیں، اور اگر زیادہ شرافت دکھائیں تو تکیہ چادر اُٹھاکر دوسرے کمرے کا رُخ کرتے ہیں۔ پھر بچّہ اپنی ماں کو جب تک ستائے جائے، جگائے جائے۔ ہاں، یہ توقع ضرور ہوتی ہے کہ بچّے کی ماں اگلے دن صبح صبح ان کی خدمت کے لیے تیار ہو اور ناشتہ بناکر دے سکے۔ایسے میں بچّے کی ماں، جو دن بھر اُس کی دیکھ بھال کرکے تھک چکی ہوتی ہے، رات میں بچّے کے تنگ کرنے پر کبھی کبھی خود بھی قابو نہیں رکھ پاتی۔ بچّے کو ایک تھپڑ پڑتا ہے، پھر بچّہ بلک بلک کر روتا ہے، اور ماں سسک سسک کر۔اللہ کا شکر ہے کہ حفصہ (میری بیٹی) رات میں زیادہ تنگ نہیں کرتی، لیکن کبھی اُس نے تنگ کیا بھی تو میں نے تھکن اور نیند سے چور ہونے کے باوجود کمرے سے باہر چلے جانا اولاد سے اپنی محبت کی توہین سمجھا۔ کئی بار ایسا ہوا کہ عروسہ (اہلیہ) کی تھکن دیکھ کر میں نے اُسے سونے کا کہہ دیا اور خود حفصہ کو بہلاتا رہا۔ گھر میں دن بھر بچّے کی دیکھ بھال کرنے سے زیادہ تھکانے والا شاید کوئی کام نہیں، جسمانی اور ذہنی، ہر دو طرح کی تھکن ہوجاتی ہے۔ ایسے میں بچّہ اگر رات میں بھی ستانے لگے تو صبر کا پیمانہ لبریز ہوتے دیر نہیں لگتی۔ ایسے میں آپ کو کسی ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے؛ اور شوہر سے بہتر ساتھی کون۔صرف اولاد کی پرورش ہی نہیں، گھر کے دیگر کاموں میں بھی میری کوشش ہوتی ہے کہ ممکن حد تک ہاتھ بٹاسکوں، خواہ دل چاہے یا نہ چاہے۔ عروسہ کی بیماری یا تھکن کی حالت میں، میں نے کپڑے دھونے، برتن دھونے، کھانا تیار کرنے، کپڑے استری کرنے میں کبھی کوئی عار محسوس نہیں کیا۔ یہ سب کام جتنے ایک عورت کے ہیں، اُتنے ہی مرد کے بھی ہیں۔ حقیقتاً ذمہ داری تو مرد ہی کی ہیں۔ کوشش کرتا ہوں کہ ایک اچھا شوہر اور ایک اچھا باپ بن سکوں۔تحریر کا آغاز گھریلو ذمہ داریاں خواتین تک محدود رکھنے کے تصور سے کیا تھا، اختتام اس تصور کے خاتمے کے لیے اپنی معمولی کوششوں کے تذکرے پر۔

نوجوان والدین کی اولاد سے محبت

مجھے اپنی اولاد سے بے حد محبت ہے۔یقیناً سبھی والدین کو ہوتی ہے۔لیکن مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب کے والدین اپنی اولاد سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ نجانے کیوں! کیا اس لیے کہ اب والدین اور اولاد کے درمیان تعلق کی نوعیت خاصی تبدیل ہوگئی ہے اور اُس میں دوستی کا عنصر زیادہ شامل ہوگیا ہے، یا واقعی نئی نسل کو اپنی اولاد سے محبت زیادہ ہے۔ہمارے والدین بننے سے پہلے جو والدین تھے/ہیں، اُن کا اپنی اولاد سے تعلق محبت کے ساتھ ساتھ رعب اور دبدبے کا بھی تھا۔ اُس میں رکھ رکھاؤ تھا، فاصلہ تھا۔ بے تکلفی نہیں تھی۔ اب اس میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔والدین اور اولاد کے حوالے سے ایک اور نمایاں تبدیلی بھی مجھے محسوس ہوتی ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اب باپ اپنی اولاد سے زیادہ قریب ہوگئے ہیں۔ اُن سے زیادہ محبت کرنے لگے ہیں۔ اُن کی زیادہ فکر کرتے ہیں۔ اُنھیں زیادہ وقت دینا چاہتے ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ میں باپ بننے کے بعد اپنی اولاد کے لیے جو محبت محسوس کر رہا ہوں، اُس کے آگے مجھے اپنے والدین کی محبت اور توجہ کم لگ رہی ہے۔ میں نے کئی رشتے دار اور جان پہچان والے باپوں کے رویوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ یہاں تک کہ میں نے نوجوان ماؤں کو طنزاً اپنے شوہروں سے یہ کہتے ہوئے بھی سنا ہے کہ آپ کو ماں سے زیادہ اولاد کی مامتا ہے۔ کیا واقعی ایسا ہے؟

From Karachi Board to AKU-EB

ماہِ رواں (اگست) کے پہلے ہفتے میں ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی (میٹرک بورڈ) پر خاصی ہنگامہ آرائی رہی۔ وجہ میٹرک کے امتحانی نتائج تھے جو ماہِ جولائی کی آخری تاریخ کو جاری کیے گئے تھے۔ احتجاج کرنے والے بعض طلبا کو یہ شکایت تھی کہ جو پرچے اُنھوں نے دیے تھے، اُن میں اُنھیں غیر حاضر ظاہر کیا گیا ہے، اور بعض طلبا نے نتائج میں دیگر غلطیوں کی بھی نشاندہی کی۔ طلبا کے غضب اور توڑ پھوڑ کو دیکھتے ہوئے عملے کو وہاں سے جانا پڑا۔ بعد ازاں چیئرمین بورڈ انوار احمد زئی نے مطالبات حل کرنے کی یقین دہانی کروائی تو احتجاج ختم ہوا۔ چیئرمین بورڈ کے مطابق متاثرہ طلبا کی تعداد آٹھ سو سے زائد ہے۔ معاملہ حل کرنے کے لیے متاثرہ طلبہ و طالبات کی کاپیوں کی دوبارہ جانچ کے احکامات جاری کیے گئے، بورڈ میں خصوصی کاؤنٹر قائم کیے گئے۔  لیکن یہ کوئی نئی خبر تو نہیں۔ہر سال ہمیں امتحانی نتائج کے اعلان پر ایسی ہی خبریں سننے کو ملتی ہیں۔ کبھی اسکول، کبھی کالج، اور حتاکہ کبھی کبھی جامعات کی سطح پر بھی امتحان اور جانچ پڑتال کے نظام پر اعتراضات اُٹھتے ہیں، خامیاں سامنے آتی ہیں، احتجاج ہوتے ہیں اور پھر مطالبات پورا ہونے کی یقین دہانی۔خود مجھے انٹرمیڈیٹ کے امتحانی نتائج میں ایک مسئلے کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک مضمون جس کا میں نے امتحان دیا تھا، اُس کے نتائج درج نہیں تھے اور ایک وہ مضمون جسے میں نے منتخب ہی نہیں کیا تھا، اُس کے آگے مجھے غیر حاضر لکھا گیا تھا، چناں چہ مجموعی طور پر میں امتحان میں ناکام تھا۔ لہٰذا مجھے انٹرمیڈیٹ بورڈ کا رُخ کرنا پڑا۔ ایک دو دن تک تنگ کرنے کے بعد، جب متعلقہ اہلکار نے میرا کام کیا تو وہ بھی اس طرح کہ میرے سامنے ہی میری متعلقہ امتحانی کاپی نکالی، وہ رجسٹر کھولا جس میں تمام امتحانی نتائج ہاتھ سے درج کیے جاتے تھے، اور ہاتھ کے ہاتھ میرے امتحانی نتائج درست کر دیے۔ جی ہاں، کوئی کمپیوٹر ریکارڈ نہیں، کوئی جانچ پڑتال نہیں، کوئی نگرانی نہیں۔ ایسی صورت میں اگرچہ وضاحت کی ضرورت تو نہیں پڑتی، پھر بھی لکھ رہا ہوں کہ اس طرح کی لکھت پڑھت میں دو نمبری کرنے کے امکانات کے روشن ہونے میں کس احمق کو شبہ ہوسکتا ہے۔ اور وہاں دو تین دن آنے جانے کے دوران، میں نے مشاہدہ بھی کیا کہ کئی لوگوں کے کام بس یوں ہی ہو رہے تھے۔۔۔ سفارشیں، فون، پیسہ! سب کچھ!تو، میٹرک بورڈ پر ہنگامے کی خبر پڑھ کر آغا خان یونیورسٹی ایگزامنیشن بورڈ کی ٹیم کے ساتھ ملاقات کی یادیں تازہ ہوگئیں۔ آغا خان بورڈ نے ماہِ جولائی کے آغاز میں میڈیا سے منسلک اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک افطار ڈنر کا اہتمام کیا تھا جس میں بحیثیت بلاگر مجھے اور کاشف نصیر کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ آغا خان بورڈ کے حوالے سے کئی باتیں اور سوالات ایک عرصے سے میرے ذہن میں تھے، اور اُس ملاقات میں بہت کچھ جاننے کا موقع ملا۔ اس غیر رسمی دعوت میں کوئی لیکچر یا پریزنٹیشن یا تقریر نہیں تھی، صرف ہلکی پھلکی گفتگو تھی۔ بورڈ کے تقریباً سبھی شعبوں سے کوئی ایک نمائندہ موجود تھا؛ امتحانی پرچے مرتب کرنے والے، امتحانی پرچوں کی جانچ پڑتال کرنے والے، انتظام کرنے والے، مارکیٹنگ والے، سبھی تھے۔ یہاں تک کہ ایگزامنیشن بورڈ کے ڈائریکٹر جناب شہزاد جیوا بھی۔یہ میری آغا خان یونیورسٹی ایگزامنیشن بورڈ کے ساتھ صحیح معنوں میں پہلی شناسائی تھی۔ اس سے پہلے صرف نام پتے ہی سے واقفیت تھی۔ آغا خان کمیونٹی پاکستان میں صحت اور تعلیم کے فروغ کے لیے جو خدمات انجام دے رہی ہے، اُن سے اور اُن کے اعلا معیار سے سبھی واقف ہیں؛ لیکن امتحانی بورڈ کے بھی اعلا معیارات کے بارے میں جان کر حیرانی بھی ہوئی اور فخر بھی۔آغا خان بورڈ کا تمام تر نظام کمپیوٹرائزڈ ہے۔ ہر طالبِ علم کو ملنے والی ہر امتحانی کاپی کا ایک ایک صفحہ خاص طور پر اُسی کے لیے تیار ہوتا ہے۔ ہر صفحے پر ایک منفرد بار کوڈ ہوتا ہے جو اُس طالبِ علم سے منسلک ہوتا ہے۔ امتحانات کے بعد ہر امتحانی کاپی کو اسکین کیا جاتا ہے اور سوالات کے لحاظ سے ڈیجیٹل صفحات الگ کرلیے جاتے ہیں۔ بعد ازاں، ہر سوال الگ ممتحن کے پاس بھیجا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ایک امتحانی پرچے میں دس سوال ہیں تو دس ممتحن بیٹھے ہیں۔ پہلا ممتحن صرف پہلے سوال کی جانچ کر رہا ہے، دوسرا ممتحن صرف دوسرے سوال کی، اور تیسرا ممتحن تیسرے سوال کی۔ چناں چہ،  ہر ممتحن کی تمام تر توجہ ایک ہی سوال پر رہے گی اور وہ نشانات لگانے (نمبر دینے) میں بہتر انصاف کرسکے گا۔ بعد ازاں، ہر صفحے پر موجود بارکوڈ ہی کی مدد سے ہر طالبِ علم کے تمام امتحانی پرچے اکٹھے کیے جاتے ہیں اور پھر امتحانی نتیجہ مرتب کیا جاتا ہے۔امتحانی پرچوں کی جانچ کا یہ طریقہ میرے لیے نیا اور انوکھا ہی ہے، کیوں کہ ایم۔اے ایجوکیشن کرتے ہوئے ’’اسیسمنٹ اینڈ ایولیویشن‘‘ (Assessment & Evaluation) کے مضمون میں بھی میں نے یہ طریقہ کار نہیں پڑھا تھا۔ اس طریقے میں شفافیت یقینی بنایا جانا بھی ممکن ہوپاتا ہے کہ ہر مضمون کی کاپی ہی نہیں، بلکہ ہر کاپی کے صفحات کی جانچ کرنے والے بھی الگ الگ لوگ ہیں۔ ورنہ کراچی میٹرک بورڈ کے امتحانی نتائج میں خرابی پر کرپشن اور گھپلوں کا الزام فوراً سامنے آجاتا ہے، کیوں کہ سبھی جانتے ہیں کہ دیگر سرکاری اداروں کی طرح سرکاری امتحانی بورڈ کی کیا صورتِ حال ہے۔اس طریقۂ کار کے تحت ’’ترس کھا کر‘‘ نمبر لینے کے امکانات بھی نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں۔ ورنہ آپ نے سوشل میڈیا پر ایسی امتحانی کاپیوں کی تصاویر تو دیکھ ہی رکھی ہوں گی، یا اپنے زمانۂ طالبِ علمی میں ایسے طلبا کو جانتے ہوں گے جو امتحانی کاپی میں اپنے دُکھڑے لکھ کر آتے تھے اور اُمید کرتے تھے کہ اُن کی درد بھری کہانی پر ترس کھاکر ممتحن اُنھیں کسی صورت پاس ہی کردے گا۔امتحانی نظام میں ’’اسکروٹنی‘‘ کا مرحلہ بھی بے حد اہم ہوتا ہے۔ اگر کوئی طالبِ علم سمجھتا ہے کہ اُس کا امتحانی نتیجہ درست نہیں ہے تو وہ دوبارہ جانچ پڑتال کی درخواست دے سکتا ہے۔ کراچی بورڈ کے برعکس آغا خان بورڈ اسکروٹنی کی درخواست پر صرف نمبر دوبارہ شمار کرکے نہیں بتادیتا، بلکہ ’ہیڈ ایگزامنر‘‘ سے کاپی کی دوبارہ جانچ کروانے کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے۔ اس صورت میں کاپی کا ہر ہر سوال دوبارہ چیک کیا جاتا ہے۔ امتحانی نتائج کے علاوہ اسکول کو ایک خلاصہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ اسکول کی کارکردگی کیسی رہی اور دوسرے اسکولوں کی کارکردگی کیسی تھی، وغیرہ وغیرہ۔ غرض ایک مختصر رپورٹ پیش کی جاتی ہے۔اعلا معیارات کا جب بھی ذکر ہوتا ہے، ہمیں فوراً حساب کتاب کا خیال آتا ہے۔ ہم یہ سوچتے ہیں کہ معیار اعلا ہے تو رقم بھی اچھی خاصی اینٹھی جا رہی ہوگی، اور جہاں رقم زیادہ ہو وہاں پھر طبقاتی تقسیم کو پروان چڑھانے کا اندیشہ سر اُٹھاتا ہے۔ لہٰذا ہم نے اس بارے میں بھی سوال کر ڈالا۔ آغا خان بورڈ کے تحت میٹرک کے امتحانات کی فیس آٹھ ہزار روپے وصول کی جاتی ہے۔ کراچی میٹرک بورڈ کی تقریباً ایک ہزار روپے امتحانی فیس کے مقابلے میں اگرچہ یہ کچھ زیادہ ہے لیکن اتنی زیادہ بھی نہیں، متوسط طبقہ بآسانی یہ رقم دے سکتا ہے۔تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے جہاں مختلف نصاب اور درسی کتب پڑھائے جانے کی اہمیت اجاگر کی جاتی ہے، وہیں مختلف نصاب اور درسی کتابوں کو طبقاتی خلیج میں اضافے کا سبب بھی ٹھہرایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں آغا خان بورڈ نے یہ پالیسی اپنائی ہے کہ وہ کسی مخصوص درسی کتاب کو پڑھائے جانے پر اصرار نہیں کرتا۔ ہر مضمون کے جاری کردہ سلیبس کی تدریس کے لیے چند کتابیں تجویز ضرور کی جاتی ہیں لیکن کتابوں کا انتخاب اسکول کی اپنی صوابدید پر چھوڑا جاتا ہے۔ وہ اسکول غیر ملکی کتب کے ذریعے بھی سلیبس کی تکمیل کرسکتا ہے اور ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتب سے بھی۔آغا خان بورڈ کے مختلف احباب سے مختلف موضوعات پر گفتگو رہی؛ تعلیمی نظام میں بہتری کے راستوں، امتحانی طریقہ کار کی اہمیت، نتائج کو شفاف بنانے کی ضرورت، اور آغا خان بورڈ کی مارکیٹنگ ٹیم کے سوشل میڈیا پر متحرک نظر نہ آنے پر بات چیت ہوئی۔آغا خان بورڈ امتحانات لینے کے ساتھ ساتھ اسکول کے اساتذہ کی تربیت کا اہتمام بھی کرتا ہے۔ پاکستان کے قومی نصاب کو اپنانے کے باعث بورڈ کے تحت امتحان دینے والے طلبا کسی بھی دوسرے تعلیمی ادارے میں بآسانی داخلہ لے سکتے ہیں اور دوسرے تعلیمی بورڈز کے برعکس ان طلبا کے امتحانی نتیجوں میں نمبروں کی کٹوتی نہیں ہوتی۔بورڈ کے ڈائریکٹر، شہزاد جیوا نے ملاقات کے اختتام پر دفتر آنے کی دعوت بھی دی۔ چناں چہ ۷ اگست کو اُن کے دفتر میں دو گھنٹے طویل ملاقات رہی جس میں بورڈ کی امتیازی خصوصیات اور دیگر معاملات پر کھل کر گفتگو ہوئی۔ شہزاد جیوا کا انداز کچھ ایسا دوستانہ ہے کہ ملنے والے کو اجنبیت کا احساس نہیں ہونے دیتے اور بڑی اپنائیت سے کھل کر ہر پہلو پر گفتگو کرتے ہیں۔ ملاقات میں اُنھوں نے وہ رجسٹر بھی دکھایا جس پر، بورڈ کے دفتر آنے والے مختلف لوگ تبصرے درج کرتے ہیں۔ مثبت اور منفی تبصرے بھی پڑھ کر سنائے اور دلچسپ واقعات بھی۔پاکستانی معاشرے میں بہتری لانے اور تعلیمی نظام کو سدھارنے کے لیے امتحانی نظام کو بہتر بنانے کے ضمن میں شہزاد جیوا اور آغا خان یونیورسٹی ایگزامنیشن بورڈ کا جو وژن ہے، قوی اُمید کی جاسکتی ہے کہ معاشرے پر واقعی مثبت اثرات مرتب کرے گا۔ 

Your Greatest Weakness

انسان ہو اور اُس میں کوئی خامی یا کمزوری نہ ہو، ایسا کہاں ممکن ہے۔ اسی لیے غلطی کرنے کو تقاضائے بشریت کہا جاتا ہے۔ ہم میں سے سبھی غلطیاں کرتے ہیں؛ ہمارے رویوں میں فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ بعض لوگ اپنی غلطیاں تسلیم کرتے ہیں اور بعض ان سے قطعی انکار کر دیتے ہیں۔ لیکن اگر آپ سے کسی ملازمت کے لیے انٹرویو کے دوران سوال کیا جائے کہ آپ کی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے تو آپ کا جواب کیا ہوگا؟جاب انٹرویو کے دوران آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے زیادہ سے زیادہ مثبت پہلو اجاگر ہوں، چناں چہ اس سوال کا جواب اکثر افراد کے لیے مشکل ثابت ہوتا ہے۔ یہی سوال کوئرا ڈاٹ کام پر ایک صارف نے پوچھا، جس پر مختلف صارفین اور ماہرین کی جانب سے آرا سامنے آئیں۔ نکی وین فلیٹ (Nicky Van Fliet) نے بھی، جو ریکریوٹمنٹ (بھرتی) ایکسپرٹ ہیں اور ’گریجویٹ جاب ان اے ویک‘ کے عنوان سے ویب سائٹ بھی چلاتی ہیں، اپنی رائے درج کی۔ اُردو قارئین کے استفادے کے لیے ترجمہ و تلخیص درج ہے۔

’’آپ کی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے؟‘‘ایک خوف ناک سوال، لیکن اگر اس کا جواب درست طریقے سے دیا جائے تو یہ آپ کے حق میں کار آمد بھی ثابت ہوسکتا ہے۔سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ جب انٹرویو لینے والا یہ سوال کرتا ہے تو اُس کا مقصد آپ کی خود شناسی اور تجزیاتی صلاحیتوں کے ثبوت  کی تلاش ہوتی ہے۔اس سوال کا جواب دیتے ہوئے چار آسان نکات ذہن نشین رکھیں:
  1. یہ کبھی نہ کہیں کہ آپ میں کوئی کمزوری نہیں۔ ہر شخص میں کوئی نہ کوئی کمزوری ضرور ہوتی ہے۔
  2. کوئی ایسی کمزوری بیان کریں جس کا آپ کے کردار [ملازمت] سے تعلق نہ ہو۔ مثال کے طور پر، اکاؤنٹنٹ کی ملازمت کے لیے انٹرویو دیتے ہوئے یہ ہرگز نہ کہیں کہ آپ کو نمبروں کی سمجھ نہیں آتی [یا آپ نمبروں میں الجھ جاتے ہیں]۔
  3. کسی معمولی بات کا انتخاب کریں جسے بآسانی درست کیا جاسکتا ہو۔
  4. ہمیشہ ہمیشہ ہمیشہ یہ ضرور کہیں کہ آپ اپنی اس کمزوری کا ادراک کرچکے ہیں، اور اس پر قابو پانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں اُٹھائے جانے والے اقدامات بھی بیان کریں۔
جواب کا نمونہ (سیلز کے شعبے میں جہاں بہت کم کاغذی کارروائی درکار ہوتی ہے):’’میری سب سے بڑی کمزوری کاغذی کارروائی ہے۔ سیلز ایگزیکٹیو کے طور پر میری گزشتہ ملازمت میں، ہم جب بھی کچھ فروخت کرتے تھے تو ہمیں تھوڑا بہت بنیادی سا انتظامی کام بھی کرنا پڑتا تھا۔ میں لوگوں سے بات کرنے اور اُنھیں اپنی سروس سائن اپ کروانے کے لیے اتنا پُر جوش ہوا  کرتا تھا کہ کاغذی کارروائی کو آخری وقت کے لیے چھوڑ رکھتا تھا اور پھر اپنا سارا وقت اُسے مکمل کرنے ہی پر لگانا پڑتا تھا۔
تاہم مجھے اس بات کا احساس ہوگیا کہ یہ میرے لیے مسئلہ بنتا جا رہا ہے چناں چہ میں نے اس کی اصلاح پر کمر کس لی۔
اس کام کے ساتھ الجھنے کی بجائے میں نے کاغذی کارروائی فوراً مکمل کرنا شروع کردی، یوں یہ کام فوری نمٹنے لگا۔ اس حکمتِ عملی کے اپنانے سے میری سیلز میں 10 فی صد تک اضافہ بھی ہوا ہے۔‘‘یہ جواب عمدہ کیوں ہے؟
  • مذکورہ مسئلہ معمولی نوعیت کا ہے۔
  • بیان کردہ کمزوری مذکورہ ملازمت کے لیے اہم نہیں ہے۔
  • امیدوار نے خود شناسی کا مظاہرہ کیا ہے، کہ اُسے مسئلے کا احساس بھی ہے اور وہ اس کے سدّباب کے لیے کوشش بھی کر رہا ہے۔
  • اُس نے  یہ بھی بیان کیا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے نتیجے میں اُسے بہتر نتائج حاصل ہوئے ہیں۔
تو آپ بتائیے، آپ کی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے؟

پہلا روزہ - یادیں

گزشتہ چند سالوں سے یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ میری یادداشت اب میرا ساتھ چھوڑنے لگی ہے۔ کچھ ہفتوں، کچھ دنوں، کچھ گھنٹوں پہلے تک کی باتیں اکثر بھول جاتا ہوں اور پھر یاد کرنے کے لیے ذہن پر زور دینا پڑتا ہے، لیکن بچپن کے حوالے سے میری یادداشت ہمیشہ سے قابلِ رشک رہی ہے۔ مجھے اتنی چھوٹی عمر کے واقعات کی جھلکیاں ایسی یاد ہیں کہ بہن بھائی حیرت میں ڈوب جاتے ہیں، اور ابّو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں کہ یہ بات مجھے کسی بھی صورت یاد ہوسکتی ہے، کیوں کہ میری عمر بہت چھوٹی رہی ہوگی۔ میری سب سے پرانی یاد کوئی ڈھائی تین سال کی عمر کی ہے۔لیکن مجھے لگتا ہے کہ میری یادوں کے خزانے میں اُن باتوں کی کثرت ہے جو کچھ الگ تھیں، منفرد تھیں، اسی لیے ذہن کے کسی گوشے میں ایسی بس گئیں کہ کبھی نہ نکل سکیں۔ اس کے برعکس، پہلے روزے کی یاد۔۔۔!پہلے روزے پر جب تحاریر کا سلسلہ شروع ہوا تو مجھے اوّل اوّل مجھے انتظار ہوا کہ مجھے کب ٹیگا جائے گا۔ لیکن جیسے جیسے یہ سلسلہ بڑھا اور لوگوں کی تحاریر سامنے آئیں تو میں اس پریشانی میں مبتلا ہوگیا کہ نجانے کب مجھے ٹیگ دیا جائے۔ وجہ یہ ہے کہ بلاگر دوستوں کی اپنے پہلے روزے کے بارے میں یادداشت بہت عمدہ ہے۔ لوگوں کو جزئیات تک یاد ہیں۔ حیران کن!میرا معاملہ کچھ یوں ہے کہ چوں کہ گھر کا ماحول بے حد مذہبی تھا، اس لیے بچپن ہی سے اسلامی شعائر دیکھ کر اُنھیں اپنانے کی خواہش رہی۔ بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا، مدرسے جایا کرتا تھا، اس لیے شاید چار، پانچ سال ہی کی عمر سے روزے رکھنا شروع کردیے تھے۔ یہ کوئی ۱۹۹۲ کا برس رہا ہوگا۔ پہلا روزہ اتنی عام بات تھی کہ اُس سے متعلق کوئی ایک یاد بھی ذہن میں نہیں۔یاد ہے تو اتنا یاد ہے کہ میرے ساتھ میرا چھوٹا بھائی بھی مدرسے جایا کرتا تھا۔ تو رمضان کے مہینے میں، دوپہر میں جب کھانے کا وقفہ ہوا کرتا تھا تو وہ مجھ سے ضد کرتا تھا کہ اُس کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھوں۔ میں اُسے سمجھاتا تھا کہ میرا روزہ ہے، میں نہیں کھا سکتا تو وہ ضد لگالیتا تھا کہ وہ بھی نہیں کھائے گا۔روایت کے مطابق، اب مزید بلاگروں کو ٹیگ میدان میں دعوت دینی ہے، اور یہ بھی یاد نہیں آ رہا کہ کون کون پہلے ہی ٹیگا جاچکا ہے۔۔۔ میری طرف سے ٹیگ ہیں:

Memories of Early Urdu Blogging Days

اُردو بلاگنگ کے لیے ۲۰۰۷ء سے ۲۰۰۹ء ایک سنہرا دور تھا۔ بیشتر لوگ بلاگنگ میں نئے تھے، جوش و ولولے اور کچھ کر گزرنے کے عزم سے بھرپور تھے۔ دوست احباب کو اُردو بلاگنگ کی طرف دعوت دی جاتی، ترغیب دلائی جاتی۔ اُردو بلاگروں کی مدد کے لیے کئی مراکز سامنے آئے، جیسے اُردو ویب، اُردو ٹیک، اُردو ہوم، وغیرہ، اور کئی لوگ بھی سامنے آئے، جیسے نبیل، زکریا، عمران حمید ، قدیر احمد، ساجد اقبال، وغیرہ۔ ورڈپریس اور بلاگ اسپاٹ کے سانچے اُردو میں ڈھالے جاتے، پلگنوں (plugins) پر کام ہوتا، اور مسابقت کے کسی حاسدانہ جذبے کے بغیر، بڑھ چڑھ کر ایک دوسرے کی مدد کی جاتی۔وہ دور اُردو بلاگنگ کے لیے سنہرا دور اس لیے بھی تھا کہ نہ صرف اُردو بلاگنگ کے لیے کام ہو رہا تھا، بلکہ لکھا بھی بہت جا رہا تھا۔ اُردو جہاں والے جہانزیب اشرف، اُردو بلاگنگ والے راشد کامران، بدتمیز والے عمران حمید، اُردو ہوم والے نجیب پردیسی، ابو شامل والے فہد کیہر، بے طقی باتیں بے طقے کام والے شعیب صفدر، خاور کھوکھر، بیاض سمیت متعدد بلاگ بنانے اور پھر حرفِ غلط کی طرح مٹا دینے والے قدیر احمد، اُردو ماسٹر والے ساجد اقبال، ڈفرستان کے ڈفر، شب والی حجاب، ہالہ والی امن ایمان، منفرد بلاگ کی منفرد بلاگر زینب، منظرنامہ والی ماورا، غرض کئی لوگ باقاعدگی سے لکھ رہے تھے۔ محب علوی لوگوں کو گھیر گھیر کر اُردو بلاگنگ کی طرف لا رہے تھے۔ وہ میرے لیے اُردو بلاگنگ کا ایک یادگار دور تھا۔پھر جیسے کسی فلمی کہانی میں ایک فلمی سا موڑ آتا ہے، ویسے ہی اُردو بلاگنگ میں بھی ایک بڑا ڈرامائی موڑ آیا۔ اُس کا نام فیس بک تھا۔ اچھے خاصے بلاگ کرنے والے فیس بک کی طرف ایسے گئے کہ اُسی تک محدود ہوکر رہ گئے۔ ڈفر جیسا بلاگر جو ایک ماہ میں سات سات تحاریر لکھ ڈالتا تھا، اب سات مہینوں میں ایک تحریر لکھنے لگا۔ اب اُردو بلاگنگ کا حال یہ ہے کہ کہنے کو بیسیوں اُردو بلاگران ہیں، لیکن وہ اپنے بلاگ سے زیادہ فیس بک یا ٹوئٹر پر پائے جاتے ہیں، اور باقاعدگی سے لکھنے والے یا خاص طور پر بلاگنگ کے لیے کچھ کرنے والے بہت کم رہ گئے ہیں۔
یادوں کا خزانہکبھی کبھی کوئی پرانی تحریر پڑھتے ہوئے جب میں تبصروں پر نظر ڈالتا ہوں تو بہت یادیں تازہ ہوتی ہیں۔ شاہدہ اکرام صاحبہ کے مشفقانہ تبصرے، بدتمیز اور قدیر کی نوک جھونک، ماورا اور امن ایمان کا آئے دن ایک نیا سانچہ اپنے بلاگ پر لگانا، ڈفر کا اُردو ماسٹر پر آکر تکنیکی مسائل کے حل دریافت کرنا، وغیرہ۔کبھی کبھی آرکائیو ڈاٹ آرگ کی وے بیک مشین کے ذریعے اور پیچھے چلا جاتا ہوں، اُن صفحات کو کھوجتا ہوں جو اب اپنی جگہ پر موجود نہیں ہیں۔ اُردو ماسٹر، بدتمیز، اُردو ٹیک، اُردو ہوم، وغیرہ کے مٹ جانے والے ویب صفحات اور بلاگ۔ کتنی یادیں! کتنے بلاگ! جنھیں پڑھ کر سوچتا ہوں کہ غالب نے تو کہا تھاخاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیںلیکن یہاں کتنے بلاگ ہیں جو فیس بک کی خاک تلے پنہاں ہوگئے ہیں۔
پسِ نوشت:نہ میں مورخ، نہ یہ اُردو بلاگنگ کی تاریخ۔ چناں چہ اس میں تاریخی تسلسل اور حفظِ مراتب کا خیال نہیں رکھا گیا ہے۔ بہت سے ناموں اور کاموں کا ذکر بھی رہ گیا ہے۔ یہ صرف میری یادوں کا ایک گوشہ ہے۔

IB - Another Educational System in Pakistan

ایک مثالی استاد کیا ہوتا ہے اور روایتی طریقۂ تدریس کو مثالی کیسے بنایا جاسکتا ہے، یہ میں نے جامعہ کراچی میں حصولِ تعلیم کے دوسرے سال سیکھا۔ پہلے سال، جب ایک استاد نے طلبا سے سوال کیا گیا کہ شعبۂ تعلیم کا انتخاب اُن کا اپنا تھا یا جامعہ کا، تو تیس طلبا یعنی پانچ لڑکوں اور پچیس لڑکیوں کی جماعت میں سے شاید گنتی کے پانچ طلبا کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے داخلہ فارم پر تعلیم کا مضمون لکھا تھا، ورنہ باقی سب نے یہی کہا کہ وہ کسی دوسرے شعبے میں داخلہ چاہتے تھے لیکن گزشتہ امتحانات میں اچھے نتائج نہ ہونے کے باعث اُنھیں اس شعبے میں داخلہ ملا اور وہ مجبوراً یہاں پڑھ رہے ہیں، اُنھیں اگر موقع ملا تو وہ اپنا شعبہ تبدیل کروالیں گے۔ میرا  شمار اوّل الذکر طلبا میں ہوتا تھا۔ شعبۂ تعلیم میرا اپنا انتخاب تھا، اگرچہ ثانوی۔ پہلا انتخاب میں نے ابلاغِ عامہ رکھا تھا۔اس پہلے پیرا میں بعض باتیں کئی قارئین کے لیے حیرت یا اُلجھن کا سبب ہوسکتی ہیں۔ مثلاً، شعبوں یا مضامین کا انتخاب طلبا خود ہی کرتے ہیں، جامعہ نے یہ انتخاب کیوں کیا؟ اور یہ کہ جامعہ کراچی کے داخلہ فارم پر کتنے شعبوں کے نام لکھے جاتے ہیں؟ طلبا میں لڑکے اور لڑکیوں کے تناسب میں عدم توازن پر پہلے بھی لکھ چکا ہوں، اس لیے اس سوال کو رہنے دیتے ہیں۔جامعہ کراچی کے داخلہ فارم پر آٹھ مضامین/ شعبہ جات کے نام لکھنے درکار ہوتے تھے۔ طلبا اپنی ترجیحات کے مطابق شعبوں کے نام لکھتے تھے۔ مثلاً، میری پہلی ترجیح ابلاغِ عامہ، دوسری تعلیم، تیسری پولیٹکل سائنس، چوتھی اُردو، پانچویں عمرانیات تھی۔ باقی تین اب یاد نہیں کہ کیا لکھی تھیں اور لکھی بھی تھیں یا خالی چھوڑ دی تھیں۔ پھر داخلہ انتظامیہ ہر طالبِ علم کے فارم کا جائزہ لیتے ہوئے اُس کی گزشتہ تعلیمی کارکردگی دیکھتی تھی اور اُس کے حساب سے اُسے کسی  شعبے میں داخلہ دے دیتی تھی۔ شعبہ ابلاغِ عامہ میں داخلے کے لیے انٹرمیڈیٹ امتحان میں کم از کم ۷۵ فی صد نمبروں کا حصول لازمی ہے۔ میرے چوں کہ ۶۸ فی صد تھے، اس لیے اُس شعبے میں داخلے سے محروم رہا۔ اب سوچتا ہوں کہ یہ بہت ہی اچھا ہوا۔ (داخلے کے طریقہ کار میں اب شاید کوئی معمولی سی تبدیلی آئی ہے۔)تو، بات شروع یہاں سے ہوئی تھی کہ جامعہ کراچی میں، مجھے دوسرے سال میں علم ہوا کہ مثالی استاد کیسے ہوتے ہیں اور تدریس دراصل کس طرح ہونی چاہیے۔ یہ کمال تھا ہمارے معلم، امتیاز احمد صاحب کا۔ اُن کے اندازِ تدریس نے مجھے اس بات کا شعور دیا کہ خدایا، ہم اب تک کتنے بکواس اور فرسودہ طریقے سے تعلیم حاصل کرتے آئے ہیں، اور خود رو پودوں کی طرح اُگ آنے والے نجی اسکولوں کے اساتذہ اپنے سر سے ذمہ داری کا بوجھ جیسے تیسے اُتارنے کی کوششوں میں سرگرداں ہیں۔ جامعہ کے تیسرے سال میں مزید دو قابل اساتذہ کا اضافہ ہوگیا۔ ایک جناب معروف بن رؤف، اور دوسرے محمد عاصم صاحب۔ یہ تین اساتذہ ایسے تھے کہ شعبۂ تعلیم کو ان پر فخر ہونا چاہیے تھا۔ (’’تھا‘‘ پر زور ہے جس کا بہت افسوس ہے۔)جامعہ کراچی میں چار سال مکمل کرنے کے بعد میرے احساسات یہ تھے کہ ہمارے بیشتر نجی اسکولوں کے طلبا قابلِ رحم ہیں کہ بے چارے اتنے نالائق اساتذہ سے پڑھ رہے ہیں جنھیں تدریسی طریقوں کی الف بے تک کی خبر نہیں۔ اور حکومت کا نافذ کردہ میٹرک بورڈ نظام اب تک گویا ’’ڈارک ایج‘‘ میں ہے۔ وہ خالصتاً روایتی فرسودہ طریقۂ تدریس پر انحصار کرتا ہے جس میں طالبِ علم کو نہ مضامین کے انتخاب کا حق حاصل ہے، نہ طریقۂ حصولِ تعلیم کا۔ دنیا بھر میں ’’طلبا مرکز تعلیم‘‘ (چائلڈ سینٹرڈ ایجوکیشن) کا چرچا ہے اور ہم اب تک ’’استاد مرکز‘‘ اور کتاب مرکز‘‘ نظامِ تعلیم پر زندہ ہیں۔ ہمارے اسکولوں کی جماعتوں کا حال یہ ہے کہ فلاں مضمون کا استاد کمرے میں داخل ہوا، اس مضمون کی کتاب باہر نکل آئی، اُس نے ضروری کارروائیوں کے بعد بتایا کہ آج کون سا سبق پڑھیں گے، پھر اُس سبق کی بلند خوانی (ریڈنگ) کی یا کسی طالبِ علم سے کروائی، خاتمے پر ایک ایک سوال کا سبق کے متن میں سے جواب تلاش کرکے نشانات لگادیے، باقی کام گھر سے، چھٹی!اس نظامِ تعلیم میں سب کچھ ہے؛ استاد، کتاب، اسکول، تعلیمی بورڈ، سیاست؛ بس ایک بے چارا طالبِ علم ہی نہیں ہے۔ اور مسئلہ یہ ہے کہ آپ صوبائی ٹیکسٹ بک بورڈ اداروں کے مقابلے پر جتنی اچھی درسی کتب سامنے لے آئیں، نویں اور دسویں جماعت میں آپ کا کوئی زور نہیں چل سکتا کیوں کہ ان درجات پر تعلیمی بورڈ امتحان لیتا ہے اور اُس کے امتحان کی بنیاد اُس صوبے کے ٹیکسٹ بک بورڈ کی شائع کردہ کتاب ہی ہوتی ہے۔ گزشتہ آٹھ سالوں میں طالبِ علم نے کتنے ہی اچھے نظامِ تعلیم سے کیوں نہ پڑھا ہو، آخر کے دو سال اُس نے ’’ڈارک ایج‘‘ ہی میں گزارنے ہیں۔اس روایتی بورڈ امتحانات سے ہٹ کر دو راستے مزید ہیں۔ ایک کیمبرج امتحانات (او-لیول) اور ایک آغا خان بورڈ۔ کیمبرج امتحانات کے لیے پڑھانے والے اسکول اس لحاظ سے ضرور بہتر ہیں کہ اُن کی کتب خاصی عمدہ اور امتحانات کا انداز رٹّے کو فروغ دینے والا نہیں۔ آغا خان بورڈ نے آغاز میں ایک اونچی اُڑان بھری تھی لیکن پھر اُس کے بعد نجانے جیسے لہروں میں تلاطم نظر نہیں آیا اور سمندر پُر سکون ہوگیا۔ گزشتہ عرصے بہت کم اسکولوں کے بارے میں سنا کہ اُن کا الحاق آغا خان بورڈ سے بھی ہے۔ تاہم، اب ایسا لگتا ہے کہ اسکولوں میں آغا خان بورڈ کی طرف رجحان بڑھنا شروع ہوا ہے اور کئی بڑے اسکولوں نے آغا خان بورڈ سے الحاق کیا ہے۔ میں نے آغا خان بورڈ کی کچھ کتب دیکھی تھیں تو وہ بہت عمدہ تھیں۔اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس سے منسلک ہونے کے بعد میں نے انٹرنیشنل بیکولوریٹ (International Baccalaureate)، مختصراً آئی بی، کا نام سنا لیکن یہ تعارف صرف اسی حد تک محدود رہا کہ یہ بھی ایک تعلیمی نظام ہے جو پاکستان میں اتنے محدود پیمانے پر ہیں کہ ناشرین یہاں کتابیں تیار کرنے کی بجائے بیرونِ ملک سے درآمد کرلیتے ہیں۔ [لفظ بیکولوریٹ (Bacculaureate) دراصل بیچلر ڈگری ہی کا مترادف ہے، اُردو میں ’’فاضل‘‘ کی سند۔]
اب بیکن ہاؤس اسکول سسٹم نے پاکستان میں آئی بی کو باقاعدہ متعارف کروانے کا عزم کیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ۱۹۶۸ء میں تشکیل پانے والا یہ نظام پہلی بار پاکستان میں اب آ رہا ہے۔ جیساکہ میں نے پہلے ذکر کیا، گنتی کے چند اسکولوں میں یہ پہلے سے رائج تھا۔ بیکن ہاؤس کی انفرادیت یہ کہی جاسکتی ہے کہ یہ پہلا چین اسکول سسٹم ہے جو یہ نظام اپنا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس نظام میں ایسا کیا منفرد ہے؟ کیا یہ بھی کیمبرج اور آغا خان بورڈ جیسا ہی ایک نظام ہے؟میں نے اپنی تحریر میں، اوپر جتنے نظامِ تعلیم و امتحانات کا ذکر کیا، اُن میں اور آئی بی میں چند ایک بنیادی امتیازی پہلو ہیں۔ ایک تو یہ کہ آئی بی صرف کتابیں، نصاب، اور امتحان کا نظام فراہم کرنے تک محدود نہیں ہے۔ آئی بی کی تنظیم پہلے ہر اسکول کی جانچ پڑتال کرتی ہے، آئی بی کا نصاب پڑھانے کے لیے رکھے جانے والے اساتذہ کی قابلیت کا معیار دیکھتی ہے، اسکول کا معیار دیکھتی ہے، اساتذہ کو تربیت کرواتی ہے، اُس کے بعد کسی اسکول کو اجازت ملتی ہے کہ وہ آئی بی نصاب پڑھا سکتا ہے اور اُس کے طلبا آئی بی کے امتحان میں قبول کیے جائیں گے۔ یہ شرط بھی ایسی کڑی ہے کہ ایک اسکول کو اجازت ملنے کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ اسکول کا مالک بعد ازاں جتنے بھی اسکول کھولے، سب میں آئی بی پڑھاسکے۔ ہر اسکول کے لیے الگ منظوری لینا لازمی ہے۔ اور ایک اسکول کو اجازت ملنے کا یہ مقصد بھی نہیں ہے کہ اب زندگی بھر کے لیے اسکول کا الحاق آئی بی سے ہوچکا۔ آئی بی تنظیم باقاعدگی سے اسکول کی کارکردگی پر نظر رکھتی ہے اور معیار سے نیچے آنے پر اسکول کا الحاق منسوخ بھی کیا جاسکتا ہے۔دوسری امتیازی خصوصیات طلبا کو متنوع مضامین کا انتخاب کرنے کی آزادی ہے۔ طلبا کی دلچسپیوں اور رجحانات کے پیشِ نظر مضامین کو اس طرح زمروں میں رکھا گیا ہے کہ تعلیم کا حصول بھی ہو اور طلبا کی دلچسپی بھی قائم رہے۔دیگر نظام ہائے تعلیم کی طرح آئی بی میں بھی تین درجات ہیں، پرائمری جسے ’آئی بی پرائمری ایئر پروگرام‘ کہا جاتا ہے (تین سے بارہ سال تک کے طلبا کے لیے)، سیکنڈری جسے ’آئی بی مڈل ایئر پروگرام‘ کہا جاتا ہے (گیارہ سے سولہ سال تک کے طلبا کے لیے)، اور ’ڈپلوما پروگرام‘ (۱۶ سے ۱۹ سال تک کے طلبا کے لیے)۔ ڈپلوما پروگرام روایتی تعلیمی بورڈ کے انٹرمیڈیٹ اور کیمبرج کے ’اے لیول‘ کے مساوی ہے۔ اس کے علاوہ آئی بی کیریئر سے متعلق بھی ایک پروگرام پیش کرتا ہے۔آئی بی کے مثبت پہلو تو کئی ہیں، جیسے ہر پانچ سال میں نصاب پر نظرِ ثانی کی جاتی  ہے، کام یاب اور ناکام ہونے کا تصور دیگر نظاموں کی طرح نہیں ہے، بلکہ اگر آپ ایک مخصوص حد تک گریڈ لیتے ہیں تو آپ کو اختتام پر ڈپلومے کی ڈگری ملے گی، ورنہ کورس سرٹیفکیٹ دیا جائے، وغیرہ؛ لیکن ان سب کے ساتھ ساتھ کچھ دیگر معاملات بھی ہیں۔آئی بی اگرچہ مادری زبان کی اہمیت پر زور تو دیتا ہے، لیکن پاکستان میں تقریباً سبھی مضامین انگریزی میں پڑھائے جا رہے ہیں (سوائے کسی دوسری زبان کی تعلیم کے)۔ پاکستان میں مادری یا قومی زبان کے فروغ کے لیے آئی بی اسکولوں کا کردار صرف یہ ہے کہ وہ طلبا کو مادری زبان میں کتب خانے سے غیر نصابی کتب پڑھنے کی ترغیب دیں۔ایک دوسری بات جس نے مجھے تھوڑا مایوس کیا، وہ بیکن ہاؤس کی جانب سے صرف ڈپلوما درجے کا پروگرام ہی پیش کرنا ہے۔  پرائمری اور مڈل درجے صرف ایک یا دو اسکولوں ہی میں موجود ہیں۔ اگرچہ بیکن ہاؤس کا موقف اپنی جگہ درست ہے کہ اس کے لیے اجازت نامے کا حصول اتنا آسان نہیں، لیکن میرے خیال میں کامیابی اُسی صورت میں مل سکے گی جب نظام کا ہر ہر حصہ دستیاب ہوگا۔ طالبِ علم کی بنیاد ابتدائی درجات ہی سے بنتی ہے۔ایک اور پہلو، جس پر سب سے زیادہ خدشات کا اظہار کیا جاتا ہے، وہ آئی بی اسکولوں کی ماہانہ فیس ہے جو تیس ہزار روپے سے زائد ہے۔ اس سے بعض لوگ یہ تاثر لیتے ہیں کہ اس طرح کے مہنگے نظامِ تعلیم ملک کے مختلف طبقوں کے درمیان حائل خلیج کو مزید وسیع کریں گے۔ یہ تاثر سو فی صد نہ درست ہے اور نہ غلط۔ میری رائے اس میں یہ ہے کہ تعلیم کی بنیادی ذمہ داری ریاست کی ہے۔ ریاست چونکہ عوام سے ٹیکس لیتی ہے، اسی لیے وہ اس قابل ہوتی ہے کہ عوام کو تعلیم میں رعایت فراہم کرسکے۔ ایک نجی ادارے کا نہ یہ فرض ہے اور نہ ہی اُس کی استطاعت کہ وہ معیاری تعلیم کے لیے ماہانہ لاکھوں روپے خرچ کرے لیکن طلبا کو مفت یا برائے نام فیس میں تعلیم دے۔ کسی نجی ادارے کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کیوں کہ اس کا ذریعۂ آمدنی اس کے سوا کچھ نہیں ہے۔ وہ نہ این جی او ہے کہ اُسے امداد ملتی ہو، نہ وہ ریاست ہے کہ وہ ٹیکس لیتا ہو۔جب تک حکومت کے لال نیلے پیلے اسکول جاری رہیں گے اور وہاں سے غیر معیاری تعلیم دی جاتی رہے گی، نجی اداروں کی جانب سے بہتر نظامِ تعلیم کے لیے کوششیں کی جاتی رہیں گی اور طبقات کے درمیان خلیج وسیع ہوتی چلی جائے گی۔

Zuhair Abbas and Jahan-e-Science

حسبِ معمول، جب کام کرتے کرتے تھک گیا اور ذہن تر و تازہ کرنے کے لیے کچھ مطالعے کی ضرورت محسوس ہوئی تو بلاگستان کے ساتھ ساتھ اردو محفل کھول لی۔ عرصہ ہوا کہ اردو محفل پر آمد و رفت برائے نام ہے، لیکن جب انٹرنیٹ پر کچھ پڑھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور کچھ سمجھ نہیں آتا تو آف لائن رہتے ہوئے اردو محفل پر ایک نظر ڈال لیتا ہوں۔ اردو محفل نہ صرف معلومات کا خزانہ ہے بلکہ اردو زبان کے فروغ کے لیے کام کرنے والے مخلص افراد کا مرکز بھی ہے۔ اگر انٹرنیٹ پر اردو سے متعلق غیر جانب دارانہ تاریخ مرتب کی جائے تو اردو محفل (اردو ویب) کا ذکر نمایاں حروف میں لکھا جائے گا۔بہرحال، اردو محفل کھولی تو گفتگو کے ایک عنوان پر نظر پڑی: ’’ڈسکوری چینل کے پروگرام How The Universe Works، سیزن 1 کا اردو ترجمہ‘‘۔ دلچسپی کے احساس نے یہ موضوع دیکھنے پر اکسایا اور پھر پڑھنا شروع کیا تو جیسے گم ہی ہوگیا۔ کوئی زہیر عباس نامی رکن تھے جو محفل پر نئے نئے وارد ہوئے تھے۔ اُنھوں نے ڈسکوری چینل کے مذکورہ پروگرام کا اردو ترجمہ کیا تھا، اور کیا ہی خوب ترجمہ تھا۔ دلچسپ موضوع، ڈھیروں معلومات، اور انداز عام فہم۔افسوس اس بات پر ہوا کہ اس موضوعِ گفتگو پر دیگر اراکین کے تبصرے اور ریٹنگ کی تعداد توقع سے خاصی کم تھی۔ پھر زہیر صاحب کے ایک اور موضوع پر نظر پڑی۔ وہ بھی سائنس سے متعلق اور پہلے کی طرح دلچسپ۔ بس، رہا نہیں گیا۔ اردو محفل پر لاگ ان ہوا اور جناب کو نہ صرف مراسلہ ارسال کیا بلکہ بلاگنگ کی دعوت بھی دے ڈالی۔مجھے اس حقیقت کے اعتراف میں کوئی جھجک نہیں کہ میں اچھا قائل کرنے والا نہیں ہوں۔ فیلڈ مارکیٹنگ کی ملازمت کو میں نے دو ہی دن میں خیرباد کہہ دیا تھا۔ لہٰذا، اگر زہیر عباس بلاگنگ کے لیے فوراً ہی تیار ہوگئے تو اس میں میرا کوئی کمال نہیں بلکہ درحقیقت وہ خود تیار بیٹھے تھے۔ ہماری ذرا سی بات ہوئی، بلاگنگ سے متعلق بنیادی باتیں طے ہوئیں اور بلاگ تیار ہوگیا۔
جہانِ سائنس بلاگ کا ایک منظرفنون (آرٹس) کا طالبِ علم ہونے کے باعث سائنس سے متعلق میری معلومات کچھ زیادہ اچھی نہیں، اور میری خواہش ہے کہ کوئی آسان انداز میں مجھے سائنس سمجھائے اور کائنات کے بارے میں حیرت انگیز باتوں سے آگاہ کرے۔ زوہیر عباس کا کام دیکھ کر روشنی کی کرن نظر آئی ہے۔ہر دور میں ایسے لوگ موجود رہے ہیں جن کا پیشہ تو کچھ اور تھا لیکن اُنھوں نے اپنے ہنر کے جوہر کسی مختلف میدان ہی میں دکھائے۔ زہیر عباس کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ یوں تو آپ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں، لیکن ہمیں سائنسی مضامین سے مستفید کر رہے ہیں۔تو، اردو بلاگنگ کی دنیا میں بھرپور استقبال کیجیے بلاگ جہانِ سائنس کے +Zuhair Abbas  کا۔

BLOG TV - Mian Iftikhar (B.C., M.C.)

السلام علیکم حاضرین، ناظرین، سامعین (اور دراصل قارئین)میں ہوں آپ کا جانا پہچانا میزبان اور آپ دیکھ (پڑھ؟) رہے ہیں بلاگ ٹی وی کی خصوصی نشریات ’’ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری‘‘۔ناظرین! آپ نے بہت سے چوروں کو دیکھا یا اُن کے بارے میں پڑھا یا سنا ہوگا۔ بعض چھوٹی موٹی چیزیں چراتے ہیں، بعض تھوڑی بڑی، بعض پورے پورے انسان چرا لیتے ہیں، اور انتہا یہ ہے کہ بعض چور ملکی خزانہ بھی چرا کر رفوچکر ہوجاتے ہیں۔ چوری کے مختلف پیمانوں کی بنیاد پر چوروں کی اقسام بیان کی جاتی ہیں، لیکن اصلی اور خاندانی چوروں کی ایک نمایاں خصوصیت اُن کی سینہ زوری ہے۔ جی ہاں، چوری اور پھر سینہ زوری۔آپ جانتے ہی ہیں کہ بلاگ ٹی وی کا یہ پروگرام نئے نئے چوروں کو بے نقاب کرتا رہا ہے۔ آج ایسے ہی ایک سینہ زور چور کو ہم نے اپنی خصوصی نشریات میں مدعو کیا ہے۔ یہ ایک منفرد قسم کے چور ہیں۔ یہ مال نہیں چراتے، یہ چیزیں نہیں چراتے، یہ انسان یا حکومتی خزانے نہیں چراتے؛ لیکن یہ سب نہ چرانے کی وجہ یہ ہے کہ ان کو یہ چیزیں چرانے کا موقع نہیں ملتا۔ ان کا بس نہیں چلتا ورنہ یہ سبھی کچھ چرالیتے۔ اپنی اوقات کے مطابق ان کا بس صرف دوسروں کی تخلیقات پر چلتا ہے۔ چناں چہ یہ دوسروں کی تخلیقات اور تحاریر چراتے ہیں۔ جہاں کسی تحریر پر ان کا جی آیا، وہ فوراً اٹھا کر اپنے نام سے شائع کردی۔ جہاں کوئی تحریر اچھی لگی، مصنف یا لکھاری کا نام مٹایا اور اپنا نام لکھ کر اُس کی تشہیر کرتے پھرے۔ تو بآوازِ بلند ’بی سی! بی سی!‘ کے نعروں میں استقبال کیجیے، میاں افتخار، بی سی، ایم سی کا۔ (بی سی یعنی بلاگ چور اور ایم سی یعنی مشہور چور، آپ کیا کچھ اور سمجھے؟ آپ کی مرضی ہے بھئی)

میزبان: کیسے ہیں آپ؟افتخار چور: بہت مشہور و معروف۔ سبحان اُس کی قدرت کہ میرے بلاگ کے وزیٹرز کی تعداد صرف ایک سال میں چار لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ بڑے بڑے بلاگوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے میں نے۔میزبان: بی سی، آپ کے بلاگ کی مقبولیت کا راز کیا ہے؟افتخار چور: دیکھیں جناب، دراصل میں اپنے بلاگ پر محنت بہت کرتا ہوں۔ آپ میرا بلاگ دیکھیے، روزانہ ایک سے دو نئی تحاریر موجود ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ میں ’ایس ای او‘ (S.E.O) ایکسپرٹ بھی ہوں۔ تو کچھ اس ہنر کا بھی استعمال کرتا ہوں۔میزبان: گزشتہ دنوں کئی بلاگروں کی جانب سے یہ الزام لگایا گیا کہ افتخار چور اُن کے بلاگ سے تحاریر چرا کر اپنے بلاگ پر شائع کر رہا ہے۔ اس الزام میں کتنی صداقت ہے؟افتخار چور: ہاہاہاہا! تحاریر کی چوری! بھئی، چوری سامان کی ہوتی ہے، دولت کی ہوتی ہے، تحاریر کی چوری کب ہوتی ہے؟ اگر ہوتی بھی ہے تو یہ جو ہوتی ہے وہ چوری ہے؟ ہاہاہا۔۔۔ یہ تو میں نے پہلی بار سنا ہے۔ میرے قہقہے نہیں رک رہے۔میزبان: آپ آرام سے تشریف رکھیں، ورنہ کچھ دیر میں اوپر کے قہقہے رکنے کے بعد آپ کے نیچے سے جو قہقہے نکلیں گے، وہ بھی نہیں رکیں گے۔(افتخار چور نے اپنے ہونٹوں پر ’مڈل فنگر‘ رکھ لی)میزبان: گزشتہ دنوں آپ نے معروف بلاگر ڈاکٹر افتخار راجہ صاحب کے بلاگ سے ایک تحریر ’’ہنزہ، خوبانیاں اور کینسر‘‘ چرائی، پھر ایک اور اُردو بلاگر عمار ابنِ ضیا کے بلاگ سے ایگزیکٹ کے بارے میں نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کااردو ترجمہ اور نیللی بیلے سے متعلق تحریر چراکر اپنے بلاگ پر شائع کی اور اُن کا حوالہ تک نہیں دیا، جس پر ان دونوں بلاگروں نے آپ سے شکوہ بھی کیا۔ آپ کے پاس اس کا کیا جواب ہے؟افتخار چور: ہیں جی! آپ نے مجھ سے کچھ پوچھا ہے؟میزبان: جی ہاں! آپ ہی سے پوچھا ہے، م ک ل۔ (م ک ل، یعنی ماں کا لاڈلا۔ باقی، اگر آپ نے کچھ اور سوچا تو وہ بھی ٹھیک ہی ہوگا)افتخار چور: دیکھیں جی، میرا بلاگ روزانہ سیکڑوں لوگ پڑھتے ہیں، ہزاروں کی تعداد میں روز کے پیج ویوز ہیں۔ اگر میں نے کسی کی کوئی تحریر اپنے بلاگ پر لگا دی تو اس میں کسی کا کیا جاتا ہے۔ زیادہ لوگ اس سے مستفید ہوں گے۔میزبان: لیکن وہ بلاگر جب خود نہیں چاہ رہے کہ آپ ایسا کریں،  اور آپ ان تحاریر پر اُن کا حوالہ بھی نہیں دے رہے، تو آپ انھیں اپنے بلاگ سے ہٹا کیوں نہیں دیتے؟افتخار چور: ناں ناں! یہ بات بھی نہ کرنا۔ چلیں حوالہ دے دوں گا، لیکن ڈیلیٹ کوئی تحریر نہیں ہوگی۔ یہ کوئی سوچے بھی نہیں۔ چور ہوں اور سینہ زور ہوں۔میزبان: آپ ان تحاریر پر حوالہ کب دیں گے؟ حوالہ دینے کی بات تو آپ نے عرصہ پہلے کی تھی۔افتخار چور:  میرے پاس اب اتنا فالتو وقت تو نہیں ہے کہ سارا وقت لوگوں کے کام کرنے میں لگادوں۔ حوالہ بھی آجائے گا۔ ایک بار وہ تحاریر دوسری تحاریر تلے دب تو جانے دیں۔میزبان: آپ خود سے تحاریر کیوں نہیں لکھتے؟افتخار چور: کیا کروں بھئی، لکھنے کی کوشش تو بہت کرتا ہوں۔ کموڈ پر بیٹھ کر بہت زور لگاتا ہوں۔ لیکن جتنی بھی تحاریر آتی ہیں، سب فلش میں بہ جاتی ہیں۔میزبان: آپ نے بلاگ کے ماتھے پر لکھ رکھا ہے، ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ کا پہلا اردو بلاگ ۔ اسلامی، معلوماتی، ادبی، تاریخی، مزاحیہ تحریریں اور میرے کالم‘‘۔ تو آپ کے بلاگ قارئین کو اسلامی، معلوماتی، ادبی، تاریخی، اور مزاحیہ تحاریر پڑھنے کو تو ملتی رہتی ہیں، جو کہ بآسانی آپ کسی بھی بلاگ سے کاپی پیسٹ کرلیتے ہیں، لیکن آپ کے کالم پڑھنے کو نہیں ملتے۔افتخار چور: بھئی، میں نے کبھی لکھاری ہونے کا دعوا تو کیا نہیں۔ میں تو ایس ای او ایکسپرٹ ہوں۔ یہ تو میں نے بس شوقیہ بلاگ بنا ڈالا تھا۔ خود تعارف میں، میں نے اعتراف کیا ہے کہ صرف تعارف کا صفحہ لکھنے کے بعد مجھے ابتدا میں سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ مزید کیا لکھوں۔ وہ الگ بات ہے کہ تعارف کا صفحہ بھی میں نے کہیں سے کاپی پیسٹ ہی کیا تھا۔ لیکن جب کچھ سمجھ نہیں آیا تو میں نے یہ کام شروع کردیا۔ وہ تو میں نے لوگوں کو آگ لگانے کے لیے ایویں ہی بڑی بڑی باتیں کی تھیں۔ اور لوگ میری شہرت سے گھبرا بھی گئے۔ حد ہے! باجی ڈر گئیں، باجی ڈر گئیں والا لطیفہ نہ ہوگیا۔میزبان: یہ تو لوگ ہی بتا سکیں گے کہ باجی ڈر گئیں والا لطیفہ ہوا ہے یا آپ کی پھٹ گئی والا لطیفہ۔ ویسے آپ کا دعوا ہے کہ آپ ایس ای او ایکسپرٹ ہیں۔ اردو میں اس موضوع پر بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ آپ ہمارے ناظرین (قارئین) کو کچھ بتائیں، کچھ مشورے دیں۔افتخار چور: دیکھیں جی، یہ فن ہے بہت مہنگا۔ مفت میں تو نہیں بانٹا جاسکتا۔ اب اس کے بارے میں زیادہ تر لکھا بھی انگریزی میں گیا ہے۔ رحم کریں مجھ پر۔ کہاں سے کاپی پیسٹ کروں گا اُردو میں۔
میزبان: آپ سوشل میڈیا پر کبھی آسٹریلیا اور کبھی کسی دوسرے ملک میں رہنے کا دعوا کرتے ہیں، لیکن آپ کا موبائل نمبر (03113704269) پاکستان کا ہے۔ ایسا چمتکار کیسے ممکن ہوا؟افتخار چور: ہیں جی؟ اچھا میں چلتا ہوں۔ بہت وقت ہوگیا۔ بہت زور سے کئی تحاریر آ رہی ہیں۔ میرے بلاگ کی بجائے کہیں آپ کا اسٹوڈیو ہی گندا نہ ہوجائے۔میزبان: ارے رکیے! بھاگے کہاں جا رہے ہیں! وہ ’’کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے‘‘ والی بات کی تو باری آئی ہی نہیں۔ ابے سن، بی سی! م ک ل!
جی ناظرین! یہ تھے میاں افتخار چور، جو اپنی چوری پر سینہ زوری دکھا رہے تھے۔ آنکھیں کھلی رکھیں کہ ایسے کئی چور آپ کے اردگرد بھی ہیں۔ ان کی نشان دہی ضرور کریں، اور اُن کی صحبت سے بچ کر رہیں کہ کہیں آپ پر بھی سرقہ بازی کا رنگ نہ چڑھ جائے۔ہمیشہ ہمیشہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ جب بھی کسی دوسرے کی تحریر کہیں پیش کریں، چاہے مختصر اقتباس ہی کیوں نہ ہو، حوالہ ضرور دیں۔ ورنہ یاد رکھیں کہ کل کو ہماری خصوصی نشریات کے مہمان آپ بھی ہوسکتے ہیں۔نعرۂ افتخار چور کے ساتھ آپ سے اجازت چاہیں گے۔ مل کر نعرہ لگائیں!سوشل میڈیا پر شور ہےمیاں افتخار چور ہے
پسِ نوشت:ویسے میاں صاحب یہ تحریر چرا کر اپنے بلاگ پر ڈالیں تو مانوں۔
اعلان:میاں افتخار رشید کو یہ تحریر اپنے بلاگ پر شائع کرنے کی عام اجازت ہے۔

Pages