عمرانیات

شیطان اپنے ہتھیار بیچتا ہے

دور نو کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لئے شیطان نے فیصلہ کیا کہ پرانے ہتھیاروں سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ اس نے اخبار میں اشتہار دیا  اور سارا دن خریدار بھگتاتا رہا۔
ہتھیار شاندار تھے۔ایک ایسا پتھر جو نیک لوگوں کے قدم ڈگمگا دیتا تھا، ایک آئینہ جو آپکا خبطِ عظمت بڑھا دیتا تھا اور ایسے چشمے جو دوسروں کی اہمیت کم کر دیتے تھے۔ کچھ ہتھیار جو دیوار پر آویزاں تھے ، کافی توجہ  حاصل کر رہے تھے۔ ایک تیز دھار خنجر، دوسروں کی پیٹھ میں گھونپنے کے لئے۔ ایک ٹیپ ریکارڈر جو صرف افواہوں اور جھوٹ کو ریکارڈ کرتا تھا۔
''قیمت کی فکر نہ کریں” شیطان نے امکانی خریداروں کو کہا۔"جو پسند آئے گھر لے جائیں اور جب چاہیں قیمت ادا کر دیں۔ " ایک آدمی نے محسوس کیا کہ کونے میں پڑے تین ہتھیار، جو کہ کافی بوسیدہ تھے، زیادہ توجہ حاصل نہیں کر رہے تھے۔ حالاں کہ وہ کافی مہنگے تھے۔ اسے اس ظاہری تضاد کی وجہ جاننے کا اشتیاق ہوا۔
''وہ بوسیدہ ہیں کیوں کہ  میں انہیں سب سے زیادہ استعمال کرتا ہوں''۔شیطان نے ہنستے ہوئے کہا''اگر یہ زیادہ توجہ حاصل کرتے تو لوگوں کو خود کو بچانے کا طریقہ پتہ چل جاتا۔ لیکن میں ان تینوں کی صحیح قیمت مانگ رہا ہوں۔ ان میں سے ایک شک ہے، دوسرا احساس کمتری اور تیسرا ہے تلخی۔ دوسرے سارے بہکاوے ناکام ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ تین ہمیشہ کام کرتے ہیں۔ "
یہ تحریر ترجمہ ہے ۔ اصل تحریر پائولو کوئیلو کی ہے جسے آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔

یوٹیوب ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرنے کا آسان طریقہ

یوٹیوب بند ہونے کے باوجود یوٹیوب ویڈیوز دیکھنے اور ڈاؤن لوڈ کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ مجھے یہ طریقہ آسان لگتا ہے۔ یہ طریقہ استعمال  کرنے لئے ضروری ہے کہ آپ کے پاس انٹرنیٹ ڈاون لوڈ مینیجر(آئی ڈی ایم) یا کوئی دوسرا ڈاؤن لوڈ مینیجر انسٹال ہو۔ یہ طریقہ چھوٹے حجم کی ویڈیوز کے لئے زیادہ کارآمد ہے۔
سب سے پہلے آپ کو جو ویڈیو ڈاؤن لوڈ کرنی ہے اس کا لنک کاپی کرلیں۔ آپ کا پاس لنک نہیں ہے تو گلوگل پر سرچ کر لیں۔ سرچ کے نتائج میں مطلوبہ ویڈیو کا لنک کاپی کر لیں ۔ 

( تصویر کو بڑے سائز میں دیکھنے کے لئے تصویر پر کلک کریں )
۔  پر جائیں http://us.onlinevideoconverter.com/


  ویب سائٹ پرویڈیو کو آڈیو ، ویڈیو دونوں میں کنورٹ کرنے کی سہولت موجود ہے۔

کاپی  شدہ لنک پیسٹ کریں۔


اپنا مطلوبہ  فارمیٹ چنیں۔

ویڈیو کنورٹ ہونا شروع ہو جائے گی۔



ویڈیو کنورٹ ہونے کے بعد جب آپ ویڈیو پلے کریں گے تو آپ کا ڈاؤن لوڈ مینیجر ڈاؤن لوڈنگ کا آپشن دکھائے گا۔ چاہیں تو ویڈیو دیکھیں چاہیں تو ڈاؤن لوڈ کریں۔


جیئے جانے کے قابل زندگی


ابن العصرایک لڑکا تھا جب اس نے اپنے والد کی ایک درویش کے ساتھ گفتگو سنی۔

"اپنا کام دھیان سے کرو۔" درویش نے کہا" سوچو اگلی نسلیں تمہارے بارے میں کیا کہیں گی”

 ''مجھے کیا "ابن العصر کے والد نے کہا" میرے مرنے کے ساتھ ہی سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ دوسرے کیا کہیں گے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا"

ابن العصر نے  یہ گفتگو ہمیشہ  یاد رکھی۔

پوری زندگی ابن العصر نے کوشش کی کہ وہ  اچھے کام کرے، لوگوں کےکام آئے۔ وہ لوگوں میں اپنی اس خدا ترسی کی وجہ سے مشہور ہو گیا۔ اپنی موت کے وقت اس نے بہت سی ایسی چیزیں  چھوڑی جس سے لوگوں کی زندگی میں بہتری  آئی۔


اپنے کتبے پہ اس نے یہ الفاظ تحریر کروائے  " وہ زندگی جو موت کے ساتھ ہی ختم ہو جائے، جیئے جانے کے قابل نہیں۔"

اصل تحریر یہاں دیکھیں۔

ہم غُصَّے میں چیختے کیوں ہیں؟




'ہم غصّے میں چلاتے کیوں ہیں؟"
 استاد نے شاگردوں سے پوچھا۔"لوگ جب پریشان ہوتےہیں تو ایک دوسرے پر کیوں چیختے ہیں؟"
 شاگردوں نے کچھ دیر سوچا، پھر ان میں سے ایک نے کہا "کیوں کہ ہم اپنا سکون کھو دیتے ہیں ،اس لیئے چیختے ہیں"
" لیکن جب دوسرا آدمی ہمارے قریب بیٹھا ہوتا پھر چیخنے کا کیا تک ہے؟ کیا ہم اس سے ہلکی آواز  میں بات نہیں کر سکتے؟ چیخنے چلاتے کیوں ہیں؟"
  شاگردوں نے کچھ جواب دیئے لیکن کوئی بھی استاد کو مطمئن نہ کر سکا۔
 آخرکار استاد نے کہا: "جب لوگ ایک دوسرے سے ناراض ہوتے ہیں، غصہ کرتے ہیں، تب ان کے دل دور ہوجاتے ہیں۔ اس فاصلے کو عبور کرنے کے لئے لوگوں کو چیخنا پڑتا ہے تا کہ وہ ایک دوسرے کی آواز سن سکیں۔   وہ جتنا زیادہ غصہ ہوں  گے انہیں اتنا ہی چیخنا ہوگا تا کہ ان  کے دلو ں کے درمیان کا فاصلہ دور ہو سکے۔"
 پھر استاد نے کہا" کیا ہوتا ہے جب لوگ ایک دو لوگ محبت کرتے ہیں؟ وہ ایک دوسرے پر چلاتے نہیں ہیں بلکہ آہستہ گفتگو کرتے ہیں، کیوں؟ اس لیئے کہ ان کے دل قریب ہوتے ہیں۔  ان کے دلوں کے درمیان بہت کم فاصلہ ہوتا ہے۔
 کیا ہوتا ہے جب لوگ ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں؟ وہ بولتے نہیں ہیں،ٖصرف سرگوشی کرتے ہیں جس  سے وہ  ایک دوسرے کے مزید قریب آجاتے ہیں۔
 آخر میں انہیں سرگوشی کرنے کی ضرورت بھی نہیں رہتی۔ وہ صرف ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں ۔ اور یہی ان کے لیئے کافی ہوتا  ہے۔  لوگ ایک دوسرے کا اتنے قریب ہوجاتے ہیں، جب وہ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔"

یہ تحریر ترجمہ ہے ۔ اصل تحریر پائولو کوئیلو کی ہے جسے آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔

جہانِ معلوم

کتاب : جہانِ معلوم
شاعر : افتخار عارف
 کتاب کا انتساب افتخار عارف نے اپنی بیٹی گیتی،داماد کامران اور ان کے بچوّں اظہر اور زینب کے نام کیا ہے۔

اگلےصفحےپرحضرت علی  کا یہ قول درج ہے۔

"ہر شخص کی قیمت  وہ  ہنر  ہے  جو اس  شخص  میں   ہے"

کتاب میں ۷۴ غرلیں،نظمیں شامل ہیں۔آخر میں پروفیسر ڈاکٹر سید ابو الخیر کشفی کے دو اظہاریے، کچھ غزل اور افتخار عارف کے بارے میں' اور 'افتخار عارف کی نعت، شامل ہیں۔

فلیپ پر نیّر مسود، اختر الایمان،مشفق خواجہ اور جون ایلیاء کی رائے شامل ہے۔

جون ایلیاء لکھتے ہیں

 "یہ سالہاسال پہلے کی بات ہے کہ  میرے گردوپیش  ایک پرْخیا ل وقوعہ ظہورپذیر میں آیا۔ وہ میری بچھڑی ہوئ تہذیب کا وقوعہ تھا، وہ میری بچھڑی ہوئ تہذیب کاخْرسند ترین وقوعہ۔ اس کا نام تھا  افتخار عارف۔ افتخار عارف ایک شگفت آور شخص ہے۔ اس نے زندگی کو سمجھا اور جو زندگی کو نہیں سمجھتا  وہ مارا جاتا ہے۔اس کا سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ وہ اس ۔۔۔۔۔زندگی کو خودکشی نہیں بنانا چاہتا۔ وہ برصغیر کی سب سے خیال انگیز،خیال آمیزاور ماجراخیز شائستگی کا مظہر ہے۔۔۔۔ ۔ میں تو کوئ بڑا شاعر نہیں ہوں۔ میرا بنیادی تعلق  تو فلسفے سے ہےلیکن اگر مجھے اپنی پیڑھی کا کوئ قابلِ ذکر شاعر سمجھا جائے تو میں یہ کہوں گا کہ میری پیڑھی کے بعد سب سے نامدار شاعر افتخار عارف ہے۔ مجھ عاجز کا حاصلِ کلام یہ ہے کہ افتخار عارف اس دور کا نادر ترین شاعر ہے۔ اب رہے اور شاعر تو وہ تاریخ ِ فن کا وقت ضائع کرتے ہیں اور کرتے رہے ہیں۔"

کتاب سے ایک شعر،نظم اور غزل۔۔۔
٭٭٭٭

سمندر کے کنارے ایک بستی رو رہی ہے

میں اتنی دورہوں اور مجھ کو وحشت ہو رہی ہے

٭٭٭٭

کْوچ

جس روز ہمارا کْوچ ہو گا

پْھولوں کی دکانیں بند ہوں گی

شیریں  سخنوں کے حرف دشنام

بے مِہرزبانیں بند ہو گی

پلکوں پہ نمی کا ذکر ہی کیا

یادوں کا سراغ تک نہ ہو گا

ہمواریِ ہر نفس سلامت

دل پر کوئ داغ تک  نہ ہو گا

پامالیِ خواب کی کہانی

کہنے کو چراغ تک نہ ہو گا

معبود اس آخری سفر میں

تنہائ کو سرخرو ہی رکھنا

جْز تیرے، نہیں کوئ نگہدار

اْس دن بھی خیال تو ہی رکھنا

جس آنکھ نے عمر بھر رْلایا

اْس آنکھ کو بے وضو ہی رکھنا

جس روز ہمارا کْوچ ہو گا

پْھولوں کی دْکانیں بند ہوں گی

٭٭٭٭

غیروں سے دادِ جوروجفا لی گئ تو کیا

گھر کو جَلا کے خاک اڑا دی گئ تو کیا

غارت گریِ شہر میں شامل  ہے کون کون

یہ بات  اہلِ شہر پہ کْھل بھی گئ  تو  کیا

اِک خواب ہی  تو تھا جو فراموش ہو گیا

اِک یاد ہی تو تھی جو بھلا دی گئ تو کیا

میثاقِ اعتبار میں تھی اِک وَفا کی شرط

اِک شرط ہی تو تھی جو اٹھا دی گئ تو کیا

قانونِ باغبانیِ صحرا کی  سرنوشت

لکھی گئ تو کیا جو نہ لکھی گئ تو کیا

اس قحط  انہدامِ روایت کے عہد میں

تالیفِ نسخہ ہائے وفا کی گئ تو کیا

جب میؔر و میرزؔا کےسخن رائیگاں گئے

اِک بے ہنر کی بات نہ سمجھی گئ تو کیا

 ٭٭٭٭

میری بیاض سے-01

سن 2005ء میں نے ایک اچھی سی نوٹ بک خریدی اور اسے بہ طور ڈائری استعمال کرنا شروع کیا۔زیادہ تر پسندیدہ شعر و شاعری لکھیخیال آیا ہےکہ کیوں نہ ریٹائرڈ ڈائری کو آن لائن کر دیا جاۓ۔تو اسی خیال کو عمل کا جامہ پہناتے ہوئے پہلی قسط میں حارث خلیق کی خوبصورت نظم حاضر ہے۔

ہاں مگر کیا واقعی بے آسرا ہوتے ہیں وہ؟قلب میں جن کے ہوں آزادی کے خواب!شہر کے یہ پا پیادہ لشکریان کے خوابوں اور عمل نے کتنی ہی صدیوں بعدپھر سے دھارا ہے ابابیلوکا روپمیں نے دیکھی ہے افق پر دور جو لمبی قطارآ گ میں پکی ہوئ مٹی کی چھوٹی گولیاںاپنی منقاروں میں تھامے آ رہی ہیں بے شمارابرہا اور اس کے ساتھییہ مہاوت اور سارے لشکری، اصحابِ فیلآگ برساتی ابابیلوں کے آگے خاک ہوں گےشہر کے یہ پا پیادہ لشکری بے باگ ہوں گےابرہا اور اس کے ساتھیسب خس و خاشاک ہوں گے۔
                                                     (حارث خلیق)
 

میری پہلی پوسٹ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یہ میری پہلی پوسٹ ہے۔ اردو سے تعارف کیمپوٹر پر اردو لکھنے کے لئے ان پیج موجود تو تھا لیکن مجھے یہ سافٹ ویئر مشکل لگتا ہے۔ پھر گلوبل سائنس پر پاک اردو انسٹالر کے بارے میں مضمون پڑھا۔ اور فورا ڈاون لوڈ بھی کرلیا۔ یہ ایک بہترین پیکج ہے جس کے ڈاؤن لوڈ کرنےکا آپ کو اردولکھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی گی۔
بلاگ سے تعارفاردو بلاگنگ سے میرا تعارف اردو محفل اور اردو سیارہ سے ہوا۔ اردو سیارہ میں تو میلا لگا ہوا تھا بلاگرز کا۔ کچھ بلاگرز کو پڑھنا شروع کیا ۔ بلاگنگ کی تھوڑی سمجھ آئی تو اپنا بلاگ بنانے کا شوق چرایا۔میرا بلاگ - عمرانیات بلاگر پر بلاگ بنانا بہت آسان ہے۔پانچ منٹ میں بن جاتا ہے۔ لیکن میرے لیئے اصل مسئلہ اردو سانچے کا تھا۔ ارور ویب پر کچھ سانچے موجود ہیں لیکن اس ضمن میں محمد یاسرعلی نے بہترین کام کیا۔ ان کے بلاگ پر کافی اردو سانچے موجود تھے۔ ان کا بلاگ ڈیلیٹ ہو گیا تھا۔ ساتھ سانچے بھی۔ اب انہوں نے دوبارہ سانچے اپ لوڈ کرنا شروع کر دیئے ہیں۔

 اس بلاگ پر کس قسم کی پوسٹ ہوں گی؟  میری دلچسپیوں میں مذہب، ادب،فلسفہ، سائنس آف سیکسِس، آئی ٹی اور وغیرہ وغیرہ شامل ہیں تو پوسٹس بھی انہی کے متعلق ہوں گی۔ شکریہ اس بلاگ کے لیئے میں ایم بلال ایم (پاک اردو انسٹالر)، محمد یاسر علی (اردو سانچے) اور جہانزیب اشرف(سانچوں کا ترجمہ) کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
اس بلاگ پر شیئر کی گئی مخولیات کی آدھی ذمہ داری میری اور باقی آدھی مندرجہ بالا صاحبان کے سر ہے۔