عمران اقبال

امی کے بعد ۔۔۔ایک  ماہ

آج 19 اکتوبر۔۔۔ آج ہی کے دن پچھلے مہینے 19 ستمبر  صبح ساڑھے آٹھ بجے ۔۔۔ امی اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی۔۔۔

ایک ماہ گزر بھی گیا۔۔۔

پہلے دو ہفتے تو کُھل کر رو بھی نہیں پایا۔۔۔

کیسے روتا۔۔۔ سب کے سامنے روتا تو سب ٹوٹ جاتے۔۔۔ سب بکھر جاتے۔۔۔ ہم سب بہن بھائی ایک دوسرے کے سامنے اداکاری ہی کرتے رہے۔۔۔ کہ اگر روئے تو دوسرا پریشان  ہوجائے گا۔۔۔  ابو کے سامنے تو ہرگز نہیں۔۔۔ بہت ہمت والے ہیں ابو۔۔۔ بہت حوصلے والے۔۔۔ ہمیں یہی کہتے رہے کہ میری فکر مت کرو۔۔۔ میں تم سب سے زیادہ حوصلے والا ہوں۔۔۔ ایک طرح سے تو ان کو دیکھ کر ہی ہم صبر شکر کرتے رہے۔۔۔

گھر بنجر سا ہو گیا ہے۔۔۔ اگر کوئی ہنس کھیل بھی لے۔۔۔ تو ایسا لگتا ہے کہ یہ کھنکھناہٹ بھی مصنوعی ہے۔۔۔  بچوں کی وجہ سے رونق تو ہو جاتی ہے۔۔۔ سب بہل جاتے ہیں۔۔۔ لیکن مسکراہٹوں میں چھپی اداسی سب کو نظر آتی ہے۔۔۔  گھر تو ہے۔۔۔ لیکن کیسا گھر۔۔۔ کہ چھت نظر ہی نہیں آتی۔۔۔  دیواریں بھی کھوکھلی سی لگتی ہیں۔۔۔  ویرانی سی ویرانی ہے۔۔۔  دل بھی ویران۔۔۔ گھر بھی ویران۔۔۔ سب خاموش۔۔۔ اداس۔۔۔ سب ایک دوسرے کو بہلاتے ہوئے۔۔۔

گھر سے آفس تک کے طویل سفر کا صرف فائدہ یہی ہوا کہ کھل کر رو لیتا ہوں اب۔۔۔ کسر صرف یہی باقی رہتی ہے کہ امی امی چیخوں۔۔۔ بین کروں  اور سینہ چاک کر لوں۔۔۔

امی نے ہمارے گھر کو اپنے دھاگے سے باندھ رکھا تھا۔۔۔ خاندان کا ہر شخص امی کے اردگرد ہی گھومتا تھا۔۔۔ یہ ان کی سب کے لیے چاہت تھی یا ان کی مقناطیسی شخصیت۔۔۔ کوئی بھی شخص ان کے سحر سے نا نکلنے کی دعا کرتاتھا۔۔۔  بچہ یا بڑا۔۔۔ امی نا صرف بھانجوں بھتیجوں کی پسندیدہ تھی بلکہ ان  سب کے لیے ہدایت اور مشوروں کا محور بھی تھی۔۔۔

ان کی دعائیں صرف اپنی اولاد کے لیے ہی نہیں۔۔۔ بلکہ ہر اس شخص کے لیے تھی جس سے وہ ملتی تھیں۔۔۔ چاہےتنور والا ہو یا دھوبی ہو۔۔۔ تنور والے کو جب معلوم ہوا کہ اماں فوت ہو گئی تو ہاتھ میں تھامی روٹیاں زمین پر گر گئی۔۔۔ آنکھوں میں آنسو۔۔۔ کچھ دیر بعد بولا۔۔۔ “اماں بہت خیال رکھتی تھی ہمارا۔۔۔ جب بھی روٹی دینے گھر جاتا تھا تو جوس یا پانی ضرور دیتی تھی کہ دھوپ میں آئے ہو پیاس لگی ہوگی۔۔۔ بیوی بچوں کے بارے میں پوچھتی تھی۔۔۔ کھانے کو بھی سالن دیتی تھی” ۔۔۔ یہی حال دھوبی کا تھا۔۔۔

ابو کے ساتھ ان کا تعلق محبت  و عقیدت سے بھرپور لیکن  سردی گرمی کا  تھا۔۔۔ کبھی  ابو سےخفگی ہو بھی تو   ابو کی صحت، ان کے کھانے، کپڑوں اور جوتوں کا ایسا خیال کرتی کہ ہم حیران ہوتے۔۔۔ ہم اکثر مذاق میں امی سے کہتے کہ امی آپ کے لاڈ پیار نے ابو کو بگاڑ رکھا ہے۔۔۔  ابو  پیار سے امی کو “مائی” کہتے تھے۔۔۔  امی کو ان کا “دِلو ” یا “مائی ” کہنا بہت پسند تھا۔۔۔   امی کے بعد تو ابو اور خاموش ہو گئے ہیں۔۔۔ اور ان کی یہی خاموشی ہمیں کاٹتی ہے۔۔۔

ہم اولاد کی زندگی بنانے سنوارنے میں امی کی انتھک محنت تھی۔۔۔ جو وہ آخری سانس تک کرتی رہی۔۔۔ ہمیں اچھی بری چیز کی تمیز۔۔۔ ہمارے فیصلوں اور ارادوں میں ہماری ہمت افزائی۔۔۔  ہماری غلطیوں پر ہماری سرزنش اور مشورے۔۔۔ اب کون کرے گا۔۔۔

میں امی کا لاڈلا بیٹا۔۔۔ میری علیزہ امی کی سب سے پیاری بیٹی۔۔۔ ہم دونوں نے ماں ہی نا کھوئی۔۔۔ اپنی واحد رازداں۔۔۔ سچی محبت۔۔۔۔  اپنا حقیقی عشق۔۔۔ سب سے اچھی دوست بھی کھو دی۔۔۔

 ضمیر ہر وقت لعن طعن کرتا ہے کہ میں ان کے لیے کچھ نا کر پایا۔۔۔ انہیں بہت ستایا۔۔۔ ان سے بہت جھگڑا۔۔۔   لیکن ان کو منانا تو بہت آسان تھا۔۔۔ منا لیتا تھا ہر بار۔۔۔ معافی مانگ لیتا تھا ان سے۔۔۔  سب بتاتے ہیں کہ امی کو مجھ سے کوئی گلہ نہیں تھا۔۔۔ معلوم نہیں میری دل جوئی کے لیے کہتے ہیں یا واقعی امی مجھ سے خوش تھی۔۔۔  ہاں۔۔۔ سٹروک سے کچھ دن پہلے تو انہوں نے مجھے  کہا تھا کہ “اب مجھے کسی سے بھی بھی کوئی گلہ شکوہ نہیں رہا۔۔۔ اب میں سکون میں ہوں۔۔۔ “

میں رونا چاہتا ہوں۔۔۔ بہت رونا چاہتا ہوں۔۔۔ امی کی قبر پر جا کر ان کے ساتھ لیٹنا چاہتا ہوں۔۔۔ ان کے بازو پر سر رکھ کر سونا چاہتا ہوں۔۔۔  میں ان کے ہاتھ اپنے سر پر محسوس کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ میں ان کو خود سے دور بھیجنا نہیں چاہتا۔۔۔ ان کو اپنے سینے سے لگا کر کبھی نہیں چھوڑنا چاہتا۔۔۔  میں اپنی بچیوں کے لیے ان کا مجھ کو ڈانٹتا دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔

امی۔۔۔ آپ اپنے اس کمزور  حوصلے والے بیٹے کو کس آسرے پر چھوڑ گئی۔۔۔ سب جتنا بھی چاہ لیں۔۔۔ لیکن مجھے تو آپ کی محبت کی عادت ہے۔۔۔ آپ جیسی محبت مجھ سے کون کرے گا۔۔۔  میری ہر ناکامی پر میرا ہاتھ کون تھامے گا۔۔۔ کون میری ہر خوشی پر مجھ سے زیادہ خوش ہو گا۔۔۔

امی۔۔۔ میں  نے آپ کو بہت ستایا۔۔۔ آپ کے لیے کچھ نہیں کر پایا۔۔۔ میں خود کو کیسے معاف کروں گا۔۔۔ میں کبھی سکون کیسے پاوں گا۔۔۔

آپ کیا گئی۔۔۔ زندگی کی سب رونقیں ساتھ لے گئی۔۔۔

اللہ میری ماں کی مغفرت فرمائے۔۔۔ ان پر اپنا خصوصی رحم و کرم فرمائے۔۔۔ ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔۔۔ ان کی قبر کو جنت کا حصہ بنا دے۔۔۔ یا اللہ۔۔۔ میری ماں کا خیال رکھنا۔۔۔

 

میری ماں

 

مائیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔۔۔  سب سے پیاری۔۔۔سب کی پیاری۔۔۔  سب کو پیار کرنے والی۔۔۔ سب سے پیار پانے والی۔۔۔ لیکن کچھ مائیں اولاد پر سب کچھ وار کر بھی تہی دامن ہی رہتی ہیں۔۔۔ ایسی ہی کہانی میری ماں کی ہے۔۔۔

میری ماں۔۔۔  آج ہسپتال کے بستر پر ایک زندہ لاش کی طرح پڑی ہیں۔۔۔

میری عادت تھی کہ روز آفس جاتے ہوئے رستے میں امی کو فون کرتا۔۔۔ ایک گھنٹے کی مسافت میں بیس پچیس منٹ ان سے بات ہوتی۔۔۔ ہر گفتگو کا اختتام ان کی اس دعا سے ہوتا۔۔۔ کہ اللہ تمہاری منتیں مرادیں پوری کرے۔۔۔ تمہیں ہر تکلیف سے بچائے۔۔۔ زندگی میں ہر کامیابی تمہیں ملے۔۔۔  میرا ایمان ہے کہ میری ہر کامیابی ان ہی کی دعاووں کا نتیجہ تھی۔۔۔

جمعرات کی شب میں علیزہ اور عنایہ کو لے کر ان سے ملنے آیا۔۔۔ تو وہ خوش تھیں۔۔۔ علیزہ کی تیراکی کی مشق کی ویڈیو دیکھی تھی۔۔۔ کہنے لگی۔۔۔ علیزہ پر محنت کرو۔۔۔ سادہ ہے لیکن ذہین ہے۔۔۔ اسے ڈانٹا مت کرو۔۔۔

“اچھا سنو۔۔۔ کباب کا سالن بنانا مجھے بھی آتا ہے۔۔۔ آج بنایا ہے۔۔۔ کھا کر جانا۔۔۔”

میں نے کھاتے کھاتے ایسے ہی کہا کہ امی نمک زیادہ ہے۔۔۔ تو کہنے لگی۔۔۔ نمک نہیں۔۔۔ شاید ٹماٹر کی وجہ سے تمہیں زیادہ نمکین لگ رہا ہے۔۔۔  میرا ایک کام کرو۔۔۔ فارمیسی پر جاو۔۔۔ اور مجھے گیس کی کوئی دوا لا دو۔۔۔ اور تمہارے ابو پر بہت بوجھ ہے، روز کی میری انسولین کا انجیکشن لگ جاتا ہے۔۔۔ اب سے تم اور کامران مجھے مہینے کا ایک ایک ڈبہ لا کر دیا کرو۔۔۔

میں اٹھا اور جا کر ادویات لے آیا۔۔۔  گھر آیا تو وہ اپنے بستر پر لیٹی ہوئی تھیں۔۔۔ علیزہ عنایہ انہی کے بستر پر بیٹھی کھیل رہی تھیں۔۔۔ میں نے ماتھا چوما۔۔۔ تو کہنے لگی۔۔۔ اب تم گھر جاو۔۔۔ مجھے سونا ہے۔۔۔

بس وہ میرا آخری بوسہ تھا جو میں نے انہیں ان کے ہوش میں دیا۔۔۔ اور یہ آخری بات تھی جو مجھ سے انہوں نے کہی۔۔۔

جمعہ کے روز مجھے صبح صبح آفس جانا پڑا۔۔۔ حسبِ عادت امی کوفون کیا۔۔۔ تو ان کا فون بند ملا۔۔۔ میں نے ابو کے موبائل پر فون کیا تو ابو نے بتایا کہ وہ تو واش روم میں ہیں۔۔۔

گیارہ بجے مجھے ابو کا فون آیا۔۔۔ اور انہوں نے یہ قیامت مجھ پرتوڑی۔۔۔

چار دن پہلے ہنستی کھیلتی، لاڈ اٹھاتی۔۔۔ پھر اچانک باورچی خانے میں گر گئی۔۔۔ کچھ نا معلوم ہوا کہ کیوں گری۔۔۔ بس جب دیکھا تو بے حال، بےہوش، نڈھال۔۔۔ بے آسرا گری ہوئی۔۔۔ ایمبولینس بلائی اور ہسپتال پہنچے۔۔۔ وہاں جا کر علم ہوا کہ برین سٹروک ہوا ہے۔۔۔ جسم کا دایاں حصہ پوری طرح سے مفلوج۔۔۔ اور میری ماں بے ہوش۔۔۔

میں آفس سے سیدھا ہسپتال پہنچا۔۔۔ تو بہن بھائی سب  پہلے ہی پہنچ چکے تھے۔۔۔ سی ٹی سکین بھی ہو چکا تھا۔۔۔ ڈاکٹر نے فوری طور پر آئی سی یو میں داخل کر لیا۔۔۔

اڑتالیس گھنٹوں بعد دوسرا سی ٹی سکین ہوا۔۔۔ تو علم ہوا کہ دماغ کا دو تہائی حصہ سٹروک کی وجہ سے انفیکٹ ہو گیا ہے۔۔۔ اور آہستہ آہستہ انفیکشن پورے دماغ میں پھیل رہا ہے۔۔۔  ان انفیکشن کی وجہ سے جسم کے تقریبا سارے اعضاء طبی طور پر مر چکے ہیں۔۔۔ امی کوما میں جا چکی ہیں۔۔۔ چار دن سے وینٹی لیٹر پر ہیں۔۔۔ ادویات بھی ناک کی ذریعے دی جا رہی ہیں۔۔۔

کل ڈاکٹر نے صاف کہہ دیا کہ اب بچنے کی کوئی امید نہیں۔۔۔ سوائے کسی معجزے کے۔۔۔ جوں ہی وینٹی لیٹر اتارا تو امی اللہ کو پیاری ہو جائیں گی۔۔۔

میری ماں۔۔۔ میں ان کا سب سے بڑا مجرم۔۔۔ ایسا مجرم۔۔۔ جس کو انہوں نے سب سے زیادہ پیار کیا۔۔۔ جس کی ہر کامیابی  ، ہر خوشی اور ہر غم ان کی ذات سے وابستہ تھا۔۔۔ کہہ لیجیے کہ میری سب سے اچھی دوست بھی میری ماں ہی تھی۔۔۔ میری کوئی بات ان سے چھپی نا تھی۔۔۔ میں نے انہیں بہت تنگ کیا۔۔۔ بہت رلایا۔۔۔ لیکن میں ان کے لیے سب سے اچھا ہی تھا۔۔۔ سب بہن بھائی کہتے کہ امی صرف عمران کی سنتی ہیں۔۔۔ عمران کی ہی فکر کرتی ہیں۔۔۔  اور میں یہ جانتا مانتا بھی تھا۔۔۔

آج میری ماں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہیں۔۔۔ میں ان کے کمرے میں ان کے بستر کے سامنے بیٹھا یہ کہانی لکھ رہا ہوں۔۔۔ میری آنکھیں آنسووں سے بھری ہیں۔۔۔ مجھے بستر پر بیٹھی اپنی ماں اب بھی نظر آ رہی ہیں۔۔۔ میرا دل بوجھل ہے کہ شاید اب میں کبھی اپنی ماں سے بات نا کر پاوں۔۔۔ کبھی ان کی گود میں سر نا رکھ پاوں۔۔۔ کبھی ان کو تنگ نا کر سکوں۔۔۔ شاید اب میں کبھی ان کی دعائیں نا لے سکوں۔۔۔

میری ماں۔۔۔ کاش میری ماں مجھے واپس مل جائے۔۔۔ کاش۔۔۔  میں اپنا سب کچھ دے کر اپنی ماں کو واپس اس دنیا میں ہنستا کھیلتا لے آوں۔۔۔ کاش۔۔۔  میری چھت میرے سر پر ہمیشہ رہے۔۔۔ کاش میں صحیح معنوں میں یتیم نا ہو جاوں۔۔۔

سب دوستوں اور قارئین سے ان کی صحت کے لیے دعا کی درخواست ہے۔۔۔ کہ اللہ کوئی معجزہ دکھائے اور وہ بھلی چنگی ہو جائیں۔۔ جو بقول ڈاکٹروں کے اب ناممکن ہے۔۔۔ا

ایسی دنیا ہے تو یا رب یہ دنیا کیوں ہے

ایسی دنیا ہے تو یا رب یہ دنیا کیوں ہے۔۔۔

جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے۔۔۔ یہ حسرت کی جاہ ہے تماشہ نہیں ہے۔۔۔

دنیا میں تم آئے ہو تو جینا ہی پڑے گا۔۔۔

یا رب۔۔۔

میں تیری اس دنیا سے گھبرا گیا ہوں۔۔۔ کیوں مجھے اس دنیا سے کچھ بھی نہیں بھاتا۔۔۔ میں اکتا گیا ہوں میرے مالک۔۔۔ زندہ لاش کی طرح۔۔۔ ایسی مشکل دنیا۔۔۔ کیوں یا رب۔۔۔ یہ دنیا اتنی مشکل کیوں بنائی۔۔۔

اے میرے مولا۔۔۔ میرا جینا محال ہوچکا ہے۔۔۔ اتنی بےحسی کے دور میں بےحس بن کر رہنا میرے لیے بہت مشکل ہو چکا ہے۔۔۔ یا ربِ تعالیٰ کچھ آسانیاں پیدا فرما۔۔۔ یوں تو تُو آہستہ آہستہ ہر اچھی شے اس دنیا سے اُٹھاتا جا رہا ہے۔۔۔ ہر وہ شے جو مجھے بھاتی تھی۔۔۔ میری نظر سے اوجھل ہوچکی ہے۔۔۔ کیا میری روح کی بینائی بھی تُو نے واپس چھین لی۔۔۔!!!

اے میرے رب۔۔۔ یہ کیسی سزا تو دے رہا ہے مجھے۔۔۔ نا دنیا عزیز نا آخرت کی فکر۔۔۔ نا زندگی میں لطف۔۔۔ نا موت کے آرام کی فکر۔۔۔ یہ کیسی سزا ہے میرے مالک۔۔۔

میں نے تو خبریں پڑھنا بھی بند کر دیا ہے۔۔۔ جس میں بچوں کی تذلیل اور ان کے ساتھ تشدد کی اخبار ہوتی ہیں۔۔۔ میں تو وہ ویڈیو بھی نہیں دیکھتا جس میں معصوم لوگوں کے اجتماعی قتل کی عکس بندی ہوتی ہے۔۔۔ میں توان بوڑھوں کے احوال بھی نہیں سنتا جن کی سننے والا اب کوئی نہیں۔۔۔ سوائے تیرے میرے مولا۔۔۔ سوائے تیرے۔۔۔ پھر کیوں۔۔۔!!!

یہ کیا دنیا ہے میرے مالک۔۔۔ جن کو تو نے اس دنیا میں بھیجا۔۔۔ ان کو واپس تیری طرف بھیجنے والے کیوں پیدا کیے۔۔۔ کیوں ان کے دل پتھر کے بنائے۔۔۔ کیوں ان کے دل میں رحم نا ڈالا۔۔۔

اے میرے اللہ۔۔۔ دین کے نام پر تشددوقتل کی اجازت تو نے کب دی۔۔۔ میں تو سمجھتا تھا کہ تو نے دین کو امن بنایا سب کے لیے۔۔۔ لیکن یہاں تو اس دین اور تیرے نام پر تیرے بندے متشدد اور قاتل بنے پھرتے ہیں۔۔۔ یہ کیسی دنیا ہے مالک۔۔۔!!! یہ کیسے لوگ ہیں مالک۔۔۔!!!

اے میرے رب۔۔۔ مجھے نہیں رہنا ایسی دنیا میں۔۔۔ جہاں مجھ جیسے کو بھی اپنی سانسں کا مقصد سمجھ نہیں آ رہا۔۔۔ جہاں میں ہر سو استحصال دیکھتا ہوں۔۔۔ جہاں محبت کے نام دھوکہ دہی ہے۔۔۔ جہاں صرف نفسا نفسی ہے۔۔۔ پیسہ خدا ہے تو تُو کون ہے میرے رب۔۔۔ تو نے کیسے اجازت دے دی ہمیں پیسے کو پوجنے کی۔۔۔ پیسے کے نام پر رشتے خراب کرنے کی۔۔۔ کیوں اجازت دی تو نے۔۔۔!!! جواب دے مالک۔۔۔!!! کیا یہی دنیا تھی جو تو نے اشرف المخلوقات کے لیے چنی تھی۔۔۔ نہیں ہرگز نہیں۔۔۔ تو پھر دنیا کو ایسا بننے کیوں دیا۔۔۔!!! کب تک تو طرح طرح سے ہمارا امتحان لیتا رہے گا۔۔۔!!! ہم ہار گئے مولا۔۔۔ ہم تجھ سے ہار گئے۔۔۔ بس کر۔۔۔ بس کردے۔۔۔ ہم تیرے امتحان کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں۔۔۔

میں تھک گیا ہوں یہ سب دیکھتے دیکھتے یا رب۔۔۔ میرا دل ہر لمحہ کٹتا ہے۔۔۔ ہر لمحہ خون کے آنسو روتا ہے۔۔۔ کسی اور کے لیے نہیں۔۔۔ خود کے لیے۔۔۔ خود کی حالت پر۔۔۔

یہ دنیا ہم سے واپس لے لے مولا۔۔۔ ہم اس کا سامنا کرنے کے قابل نہیں۔۔۔

بیٹی

5  اپریل کو  علیزہ اور عنایہ کی بہن ارھاءعمران  اس دنیا میں آئی۔۔۔ علیزہ اور عنایہ کی دوسری بہن۔۔۔ اور میری تیسری بیٹی۔۔۔

سچ بات تو یہ ہے کہ ہر عام انسان کی طرح اس مرتبہ  بھی میں نے بیٹے کے لیے بہت دعائیں کی۔۔۔ لیکن۔۔۔ ایک دعا یہ بھی کی کہ” یا اللہ مجھے اپنی رضا میں راضی رکھ۔۔۔”

اور اللہ نے میری “رضا میں راضی رکھنے” والی دعا قبول فرمائی۔۔۔ جیسے ہی ہسپتال میں مجھے معلوم ہوا کہ اللہ نے اس بار بھی اپنی رحمت عطا فرمائی ہے۔۔۔ تو میں راضی ہو گیا۔۔۔ الحمدللہ۔۔۔ اپنے اللہ کی رضا میں۔۔۔  صبر کا کڑوا گھونٹ بھر کر نہیں۔۔۔ بلکل نہیں۔۔۔ دل مطمئن ہو گیا۔۔۔ اضطراب ختم ہو گیا۔۔۔  بس پہلا خیال یہ آیا کہ چلو کسی بھی طرح تو اپنے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی سنت پر عمل ہوا۔۔۔  الحمدللہ۔۔۔

اگلا مرحلہ قدرے مشکل تھا۔۔۔ لوگوں کا سامنا ۔۔۔ دراصل لوگوں کا نہیں۔۔۔ ان کی ہمدردی کا سامنا۔۔۔   میرے دل میں شاید چور تھا یا اس بار میں میں لوگوں کے لہجوں بارے زیادہ حساس ہو گیا تھا۔۔۔ معلوم نہیں۔۔۔ لیکن ہمدردی کا سامنا ایک بار نہیں۔۔۔ کئی بار کرنا پڑا۔۔۔  کئی بار خود پر رحم کرنے کی بجائے ہمدردی کرنے والوں پر رحم آیا۔۔۔ ان کی سوچ پر رحم آیا۔۔۔

والدین اور بہن بھائی کی جانب سے تو الحمدللہ کوئی مشکل نہیں آئی۔۔۔ بلکہ میرے والدین نے تو پہلے سے بھی زیادہ خوشی منائی۔۔۔  اور ویسے بھی امی ابو بیٹیوں کی بیٹوں کی نسبت زیادہ محبت کرتے ہیں۔۔۔

ایک حضرت جو رشتے دار بھی ہیں۔۔۔ پڑھے لکھے  اور  پابندہ صوم و الصلوۃ بھی ہیں۔۔۔ ان کا فون آیا۔۔۔ اب تک یہ نہیں سمجھ آیا۔۔۔ کہ انہوں نے مبار ک دی یا افسوس کیا۔۔۔  گفتگو کا آغاز انہوں نے اپنے خاندان کے بارے میں بتاتے کیا۔۔۔ کہ ان کی پہلے چار یا پانچ بہنیں تھیں۔۔۔ پھر یہ دو بھائی پیدا ہوئے۔۔۔  تو میں “ہمت نا ہاروں ” وغیرہ وغیرہ۔۔۔ بیٹیاں بہت اچھی ہوتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔ بلکہ ان کا لہجہ واقعی سرد اور افسوس کرنے جیسا تھا۔۔۔   عمر اور رشتے میں مجھ سے بڑے ہیں۔۔۔ اس لیے احترام ملحوظ خاطر رکھنا پڑا۔۔۔ خاموشی سے ان سے اپنے اور اپنی بیٹیوں کے اچھے نصیب کے لیے دعا کی درخواست کی۔۔۔

اور اسی طرح  کچھ اور حضرات بھی۔۔۔  مجھے ان سے ہمدردی ہوتی ہے۔۔۔ جو بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں۔۔۔ بیٹی کیسا رشتہ ہے۔۔۔ !!! کیا لوگ نہیں جانتے۔۔۔؟ کیا ان کی دی ہوئی محبت لوگوں کے دل نرم نہیں کرتی۔۔۔۔

جناب۔۔۔ ہم دو بھائی اور دو بہنیں ہیں۔۔۔ میرا بھائی  اپنی شادی کے چند ماہ بعد ہی بوجہ نوکری  والدین سے الگ  ہو گیا۔۔۔ میں بھی شادی کے سات سال بعد کچھ مسائل کی وجہ سے الگ ہو گیا۔۔۔ میرا ضمیر مجھے شدید لعن طعن و ملامت کرتا ہے کہ میں کسی طرح بھی اپنے والدین کی خدمت کا حق نہیں ادا کر پا رہا۔۔۔  میں اور میرا بھائی۔۔۔ “بیٹے ہیں”۔۔۔ لیکن میرے والدین کسی بھی طرح ہم سے مطمئن نہیں۔۔۔ جبکہ میری بہنیں۔۔۔ ہم وقت، ہر دم والدین کا خیال رکھتی ہیں۔۔۔ والدہ کی طبیعت خراب ہوئی تو بڑی بہن ہسپتال لے گئی۔۔۔ چھوٹی کتنے کتنے  دن امی کے ساتھ ہسپتال رہی۔۔۔ لیکن میں اور میرا بھائی۔۔۔ اپنی نوکریوں اور روزانہ کے طویل سفر کی وجہ سے چند ہی لمحات ہسپتال میں گزار پاتے۔۔۔ہفتے میں ایک بار ان سے ملنے جاتے ہیں۔۔۔

اس ساری رام کہانی کا مقصد یہ۔۔۔ کہ خدمت بیٹیاں ہی کرتی ہیں۔۔۔ خدمت گزار بیٹے بھی ہوتے ہیں۔۔۔ لیکن جو سکون بیٹی انسان کو پہنچاتی ہے۔۔۔ وہ  شاید بیٹوں کےنصیب میں نہیں۔۔۔  رحمت بے شک اللہ نے بیٹیوں میں ہی رکھی ہے۔۔۔ پیار کرتی ہیں۔۔۔ لاڈ کرتی ہیں۔۔۔ لاڈ اٹھواتی ہیں۔۔۔ آپ کے درد میں سب سے زیادہ تکلیف آپ کی بیٹی کو ہوتی ہے۔۔۔

جنابِ عالی۔۔۔ میں ٹھرا ایک جاہل انسان۔۔۔ کمزور ایمان اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نا رکھنے والا شخص۔۔۔ جب  سارے دن کے بعد تھکا ہارا گھر آتا ہوں۔۔۔ تو میری بیٹیاں بھاگتی میری طرف لپکتی ہیں۔۔۔  مجھے گلے لگا کر چومتی ہیں۔۔۔  میں بیمار ہوں تو میری پاس بیٹھی مجھے دباتی ہیں۔۔۔ دوا لینا یاد کراتی ہیں۔۔۔  تو میرا جیسا سخت دل انسان بھی پسیج جاتا ہے۔۔۔ تو کیوں نا پیار کروں انہیں۔۔۔ کیوں نا شکر ادا کروں اللہ کی ذات کا کہ اس نے اتنے حسین تحفے دیے۔۔۔

بیٹیاں بہت پیاری ہوتی ہیں۔۔۔ ان کی قدر کریں۔۔۔ انہیں پڑھائیں لکھائیں۔۔۔ اچھی تربیت کریں۔۔۔ اور اللہ سے یہ دعا کریں کہ اللہ ہمیں یہ توفیق عطا فرمائے کہ ہم ان کی اچھی تربیت کر سکیں۔۔۔  اور جنت کے حقدار بنیں۔۔۔ یاد نہیں  رسول اللہﷺ کی حدیثِ مبارکہ۔۔۔  کہ جس کی تین بیٹیاں یا تین  بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو اس کے لیے جنت ہے۔۔۔

الحمدللہ۔۔۔

جنت میں ایلسا اور اینا۔۔۔؟

میں:  بیٹے۔۔۔ محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ نے بھیجا تاکہ وہ ہمیں اچھی باتیں بتا سکیں۔۔۔ ہمیں اچھے کام سکھا سکیں۔۔۔ مثلا جھوٹ نہیں بولنا۔۔۔ ہمیشہ سچ بولنا ہے۔۔۔ ہمیشہ صاف ستھرا رہنا ہے۔۔۔ ماما کے کاموں میں مدد کرنی ہے۔۔۔ عنایہ کا خیال رکھنا ہے۔۔۔ یو نو۔۔۔ محمد رسول اللہ ﷺ اس دنیا کے سب سے اچھے انسان ہیں۔۔۔ وہ ہم سے بہت محبت کرتے تھے۔۔۔ اور اللہ نے آپ کو سب کچھ دیا ہے، وہ ہی آپ کی ہر دعا اور ریکوئسٹ بھی پوری کرتا ہے تو ہمیں ہر وقت صرف اللہ سے مانگنا چاہیے۔۔۔ اور اللہ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔۔۔ 

علیزہ:  بابا۔۔۔ ہم اچھے کام کریں گے تو کیا ہوگا۔۔۔؟

میں: بیٹا۔۔۔ جب ہم محمد رسول اللہ ﷺ کی بتائے ہوئے سارے اچھے کام کریں گے تو اللہ خوش ہوگا۔۔۔ آپ کو شاباشی دے گا۔۔۔

علیزہ:  تو بابا۔۔۔ اللہ میاں پھر ہمیں فائر میں نہیں ڈالے گا؟

میں:  نہیں بیٹا۔۔۔ پھر اللہ میاں ہمیں ایک گارڈن دے گا۔۔۔ جس میں ہمارا اپنا گھر ہو گا۔۔۔ بہت گرینری ہوگی۔۔۔ جھولے ہوں گے۔۔۔ بہت سے برڈز ہوں گے۔۔۔ اور جو آپ جو چاہو گی وہ ملے گا۔۔۔

علیزہ:  بابا۔۔۔ وہ کونسا گارڈن ہے۔۔۔؟

میں:  بیٹا اس گارڈن کا نام جنت ہے۔۔۔

علیزہ (میری بات کاٹتے ہوئے):  بابا۔۔۔ اس گارڈن میں فروزن کی ایلسا اور اینا بھی ہوں گی۔۔۔؟ صوفیہ اور ڈوری مون بھی ہوں گے؟ ہمین وہاں گلیکسی چاکلیٹ ملے گی؟ میرا بہت دل  چاہتا ہے کہ میں بہت سی چاکلیٹ کھاوں لیکن ماما نہیں کھانے دیتی تو جنت گارڈن میں، میں جتنی چاہے چاکلیٹ کھا سکتی ہوں؟ اور کیا میں جنت گارڈن میں  ایلسا والا ڈریس پہن سکتی ہوں؟ اور ہاں میں ایلسا والے ڈریس کے نیچے شوز بھی ایلسا والے پہنوں گی۔۔۔ اور کراون بھی لگاوں گی۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔!!!

میں: جی بیٹا۔۔۔ آپ کو جو بھی چیز پسند ہے، وہ اللہ میاں آپ کو اس جنت گارڈن میں دیں گے۔۔۔

اس سارے مکالمے کے بعد ناجانے کیوں میرا دل ڈوب سا گیا۔۔۔

متفرقات

یوں تو لکھنا ہے  سیاست بارے۔۔۔ پاکستان بارے۔۔۔ لیکن پھر یہ سوچ کر رک جاتا ہوں کہ اہل قلم لکھ ہی رہے ہیں۔۔۔ اور ہم۔۔۔ کیا پدی۔۔۔ کیا پدی کا شوربہ۔۔۔ ہماری آہ و بکا کون سنے۔۔۔ کاہے کو سنے۔۔۔ ہم کیا کہیں۔۔۔ کیا بکیں۔۔۔ احباب کو کیا۔۔۔ سب کو اپنے اپنے پاکستان کی فکر ہے۔۔۔ جی اب مذہب کے بعد ملک بھی تو اپنا اپنا ہو چکا۔۔۔ پہلے تو سنتے تھے کہ سنی ہوتے ہیں، شیعہ ہوتے ہیں، وہابی اور اہل حدیث ہوتے ہیں۔۔۔ لیکن اب تو انصافیوں، پٹواریوں ، جیالوں اور مہاجروں کے بھی اپنے اپنے نئے، بےنظیر  اور روشن پاکستان ہونے لگے۔۔۔

اسلام کہاں سے چلااور کہاں آ پہنچا۔۔۔ اور  پاکستان۔۔۔!!!  کہیں پہنچنے سے پہلے ہی دھر لیا گیا۔۔۔ ترقی تو کیا خاک ہوتی۔۔۔ ہم  نے تو اسے ایسا لولا لنگڑا بنایا کہ  دو قدم بھی بنا کسی آسرے کا ناچل سکے۔۔۔ محتاج ہی رہے ۔۔۔ اور ہم۔۔۔ ہم جو ایسی بدقسمت ،بدطنیت اور جاہل قوم واقع ہوے کہ پہلے ہم نے اسلام برباد کیا اور ملک۔۔۔ ملک  تو چھوٹی بات ہے۔۔۔ ملک کا کیا۔۔۔ اور بن جائیں گے۔۔۔

بندر کے ہاتھ استرا۔۔۔ ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کوئی ہم سے سیکھے۔۔۔ ہم نے فیس بک پر جھنڈے گاڑے۔۔۔ انسٹاگرام پر ایمان خراب کیے۔۔۔ اور ٹویٹر پر اپنی اور دوسروں کی زباں۔۔۔ کیا کہیے ہماری عقل کے۔۔۔ بھارت سیلیکون ویلی پر راج کرنے کی سوچے اور ہم ۔۔۔ ہم ٹویٹر پر بیٹھے ایک دوسرے کو کافر، غدار، جاہل، پٹواری اور یوتھیا بنانے میں مصروف۔۔۔ واہ۔۔۔

 ہم ہیں وہ قوم۔۔۔ جس کے بارے میں ہمیں نصاب میں پڑھایا گیا کہ ہم غیور، محنتی، ایمان دار اور دریاوں میں گھوڑے دوڑانے والی قوم ہیں۔۔۔ بس ایک چکر لگا لیں ٹویٹر کا۔۔۔ کچھ سیلیبریٹیز کو فالو کر لیں۔۔۔ غیرت، محنت اور ایمانداری کا جنازہ تو بس ان کے اقوال پڑھ کر ہی نکل جائے گا۔۔۔

ہمارے بارے میں کچھ یہ کہ بہت مصروف ہیں۔۔۔ الحمدللہ۔۔۔ پھر بھی گاہے بگاہے جھنڈے گاڑنے، ایمان اور زبانیں خراب کرنے کے مشاہدے اور تجربے کرتے رہتے ہیں۔۔۔  ہر پڑھے لکھے جاہل کی طرح۔۔۔

خوش رہیں۔۔۔

میاں صاحب کی ڈائری

shrek 8 جون 2015 آج کا دن بھی سستی اور کاہلی میں گزرا۔۔۔ روز مرہ کی یہی روٹین بن چکی ہے۔۔۔ اماوس کی رات ڈھلتی نظر نہیں آتی۔۔۔ اور ڈھلے بھی کیسے، عوام کو یہ ثابت کر کے دکھانا ضروری ہے کہ ان کی کرتوتوں کا کرم انہیں صرف آخرت میں ہی نہیں۔۔۔ بلکہ ہماری حکومت میں بھی ملے گا۔۔۔ لیکن عوام  بھی میری طرح “باس٭٭ڈ” ہی نکلی، وہ بھی سبق نہیں سیکھتی۔۔۔ آج حسب ِ معمول صبح سو کر اٹھا، شرٹ اتارنے ہی لگا تھا کہ سوچا، چلو رہنے دو۔۔۔ یہ جسم کسی کو دکھانے لائق تھوڑا ہے۔۔۔ دوڑ تو دور کی بات، میرے لیے تو اب دو قدم چلنا بھی مشکل ہو چکا ہے۔۔۔ یاد  آیا کہ اعوان روڈ کی ایک گلی میں بنی نئی نالی کے افتتاح کے لیے مدعو ہوں۔۔۔ عوامی خدمت ہو اور میری تصاویر اخباروں میں شائع نا ہوں، یہ ہو نہیں سکتا۔۔۔  تو بادل ناخواستہ  اپاونٹمنٹ لینے کیمرہ مین کے کوارٹر کی طرف جانا پڑا۔۔۔ سانس تک پھول گئی، پسینے سے شرابور۔۔۔ افف گرمی۔۔۔  کوارٹر تک پہنچا ہی تھا کہ اندر سے عطااللہ عیسی خیلوی کے گانے کی آواز آئی۔۔۔ “جب آئے گا عمران۔۔۔ سب کی شان۔۔۔ بنے گا نیا پاکستان”۔۔۔ یہ سنتے ہیں میرے پسینے مزید چھوٹ گئے۔۔۔ غصے سے حالت پتلی ہو گئی۔۔۔ دروازہ کھٹکھٹایا تو کیمرہ مین کا بیٹا لال اور سبز شرٹ میں ملبوس باہر نکلا۔۔۔ اس کا گریبان پکڑ کر اس سے اس کے باپ کا پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ حضرت تو گلگت بلتستان چلے گئے ، کسی “ارجنٹ” کام سے۔۔۔ بوجھل قدموں سے واپس پہنچا تو کلثوم اور مریم ناشتے کے میز پر میرا انتظار کر رہی تھیں۔۔۔ میری نظر مریم کے پہلو میں صفدر کو ڈھونڈتی رہی۔۔۔ پھر خود ہی خاموش رہا کہ اب بیٹی کے سامنے کیا گالیاں دوں داماد کو۔۔۔ جب بیٹی راضی تو کیا کرے گا ابا جی۔۔۔ ٹی وی آن کیا تو  80 انچ کے ایل ای ڈی پر مریم اپنے پسندیدہ کارٹون “Shrek” دیکھ رہی تھی۔۔۔ پہلے تو مجھے سمجھ نہیں آیا کہ Shrek اچانک سبز سے دودھیا سفید کیسا ہو گیا۔۔۔ اور  کیا فیونا پر چھایا سحر ٹوٹ گیا ۔۔۔ اچانک مریم گویا ہوئی کہ پاپا آپ کی شادی پر تو آپ بہت ہینڈسم لگ رہے تھے۔۔۔ احساس ہوا کہ کارٹون shrek نہیں۔۔۔ میں خود ہوں۔۔۔ خود میں ہی شرمندہ ہوکر رہ گیا۔۔۔ کچھ ہی دیر میں چھوٹا بھی اپنے ننھے کے ساتھ ناشتہ کرنے پہنچ گیا۔۔۔  جانے کیوں چھوٹے کی اینڈکس انگلی بھی ہمیشہ کھڑی اور ہلتی ہی رہتی ہے۔۔۔  بے چارہ غریب چاہ کر بھی اپنی انگلی کنٹرول میں نہیں رکھ پاتا۔۔۔ خیر،  کلثوم نے ننھے کو بِب باندھی اور نہاری  اس کے آگے رکھ دی۔۔۔ چھوٹا جو کُن اکھیوں سے نہاری کو دیکھ رہا تھا اس نے اچک کر نہاری کا ڈونگا ننھے کے سامنے سے اٹھا لیا اور اپنا منہ شریف پورے کا پورا ڈونگے میں ڈال دیا۔۔۔ افف، کب سلجھیں گے یہ لوگ۔۔۔ پیسہ آ گیا لیکن رہے لوہار کے لوہار۔۔۔ اندر سے ایک آواز آئی کہ میں خود بھی تو لوہار ہوں۔۔۔ اور میں پھر سے خود میں ہی شرمندہ ہو کر رہ گیا۔۔۔ ابھی ناشتے سے فارغ ہو کر بیٹھے ہی تھے، سوچا کہ آج کلثوم سے رومانس کیا جائے گا۔۔۔ ویسے بھی نہ کوئی کام ہے کرنے کو اور اگر ہو بھی تو کہاں کچھ کرنے کا جی چاہتا ہے۔۔۔ خیر۔۔۔ بات ہو رہی تھی کلثوم کی۔۔۔ اہ سوری۔۔۔ رومانس کی۔۔۔ تو رومانس سے یاد آیا کہ طاہرہ سید بھی کیا غضب کا گایا کرتی تھی۔۔۔ اوہ سوری۔۔۔ بات ہو رہی تھی رومانس کی۔۔۔ تو کلثوم کے ساتھ کچھ وقت تنہا گزارنا چاہتاتھا ۔۔۔ کچھ اپنی کہنا چاہتا تھا ۔۔۔ کچھ اس کی سننا چاہتا تھا۔۔۔ کلثوم تو رہی سدا کی اللہ لوک۔۔۔ جو کہنا تھا مجھے ہی کہنا تھا۔۔۔ اللہ بھلا کرے مینا ناز کا، جس کے کتابیں پڑھ کر کچھ رومانٹک باتوں کی پرچی بنا لی تھی۔۔۔  جیب میں ہاتھ ڈالا کہ پرچی نکال سکوں اور کلثوم سے بات کر سکوں۔۔۔ تو یاد آیا کہ پرچی تو کل کی پہنی شلوار کی جیب میں تھی۔۔۔ اور شلوار، لانڈری میں۔۔۔  اب کیا کریں۔۔۔ خاموشی پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔۔۔ لمبی خاموشی۔۔۔ نہ اللہ لوک کچھ بولی۔۔۔ اور میرے پاس تو کچھ کہنے کو تھا ہی نہیں۔۔۔ اسی اثنا میں عطاالحق قاسمی صاب کا فون آ گیا۔۔۔ وہ جنگ کے دفتر سے بول رہے تھے۔۔۔ ان کی ڈیمانڈ تھی کہ بول جلد از جلد بند کیا جائے۔۔۔ میں نے چھوٹے سے مشورہ کیا۔۔۔ کہ کیا کریں۔۔۔ چھوٹا بولا۔۔۔ بھائی جان، شرط یہ رکھیں کہ جنگ والے سب مل کر کپتان کو گندا کریں۔۔۔ تو ہم بھی بول کو بند کرنے کا سوچیں گے۔۔۔  عطاءالحق قاسمی صاب ٹھرے “شریف” آدمی۔۔۔ ان کو پٹانا کیا مشکل۔۔۔ بس ایک بنک ٹرانسفر۔۔۔ اور پھر ہم جو چاہیں گے قاسمی صاب وہی کریں گے۔۔۔ دیکھا۔۔۔ ہمارے جیسا ہوتا ہے لیڈر۔۔۔ اور ایسا ہوتا ہے ہمارا ویژن۔۔۔ گلگت بلتستان اور منڈی بہاوالدین میں پولنگ شروع ہو چکی ہے۔۔۔ ہمارے آدمی جیت کا  سب بندوبست کر چکے ہیں۔۔۔ بس ہمیں انتظار ہے عرفان صدیقی کا ۔۔۔ کہ کب وہ آئے اور ہماری وکٹری سپیچ لکھے۔۔۔ عجیب ہی خلقت ہیں عرفان صاب بھی۔۔۔ انہوں نے آتے آتے بھی بارہ بجا دیے۔۔۔ اور یہاں انتظا ر کی کوفت سے ہم “ہلکے” ہو جا رہے تھے۔۔۔ یہ بھی کیا بات ہوئی کہ وزیر اعظم پاکستان، ایک سپیچ رائٹر کا انتظار کریں۔۔۔ کاش ابا جی نے بچپن میں ہی میری پٹائی کی ہوتی تو میں کچھ لکھ پڑھ جاتا۔۔۔ اور بولنے سے پہلے نوٹس کا انتظار تو نا کرنا پڑتا۔۔۔ اس کے بعد قیلولہ کیا ۔۔۔  اور شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر خدمت ، محنت اور گڈ گورننس پر تقریر کی خوب مشق کی۔۔۔ یہ تقریر میں نے آج اعوان ٹاون میں کرنی تھی۔۔۔ مشق کے بعد چھوٹے سے پوچھا کہ کہ کیسی لگی تقریر۔۔۔ تو چھوٹے نے کہا کہ میں تو اپنی انگلی قابو کرنے کے مصروف تھا۔۔۔ اب ایک ہی بات کتنی بار سنوں۔۔۔ میں آپ کا بھائی ہوں، پٹواری غلام نہیں کہ جو آپ کہیں اس کو پکڑ کر منہ متھا کھول دوں سب کا۔۔۔ چھوٹے کی صاف گوئی مجھے پانی پانی کر گئی لیکن پھر ننھے کو اپنی طرف گھورتا دیکھ کر خاموش  رہنا ہی بہتر سمجھا۔۔۔ افتتاحِ نالی و گٹر ، اعوان ٹاون ۔۔۔ روانہ ہوا تو راستے سے ایک نیا کیمرہ مین پکڑ لیا۔۔۔ اور اسے ہدایت دی کہ کیمرہ صرف میرے اور چھوٹے پر فوکس ہونا چاہیے۔۔۔ چھوٹا تا اتنا جذباتی ثابت ہوا ہے کہ لانگ شوز بھی ساتھ لےآیا۔۔۔ ارادہ تھا کہ لانگ شوز پہن کر گٹر میں اتر کر تصویر کھینچوائے گا جو کل کے اخبار میں لگے گی۔۔۔ اب چھوٹے کے سامنے میری کہاں چلتی ہے۔۔۔ جوچاہے کرے۔۔۔ میرا ٹویٹر اور فیس بک سے کیا لینا دینا۔۔۔ مریم نے سوشل میڈیا غلاموں کی ایک بھاری فوج بنا رکھی ہے۔۔۔ جو سارا دن میرے لیے مخالفین کو ذلیل کرتے ہیں۔۔۔ مریم کی سب سے اچھی خوبی ہے کہ “مین مینجمنٹ” میں اس کا کوئی ثانی نہیں۔۔۔ اس نے بتایا تھا مجھے کہ ہر بندے کو ٹیم میں بھرتی کرنے سے پہلے اس کی نفسیاتی ٹریننگ کی جاتی ہے، جس میں انہیں یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ ان سے اچھا کوئی نہیں سوائے ہمارے۔۔ ان سے  زیادہ پڑھا لکھا اور کوئی نہیں سوائے ہمارے۔۔۔ ان سے اچھی اردو کوئی اور نہیں بول سکتا سوائے ہمارے۔۔۔ غرض یہ کہ ان میں ایک خاص قسم کی احساسِ برتری کوٹ کوٹ کر بھری جاتی ہے۔۔۔ اور جب یہ بندے ٹویٹر پر بیٹھ کر میرا دفا ع کرتے ہیں۔۔۔ تو مجھے  فخر ہوتا ہے کہ مریم نے کیا ہجڑوں کی فوج بنائی ہے جو ہمارے لیے اپنے ماں باپ کی عزت بھی بھول جاتے ہیں۔۔۔ واہ مریم واہ۔۔۔ تمہارے پاپا کو تم پر فخر ہے۔۔۔

 

_nSEWA2E (1) اتنی مصروفیت کے بعد تھکاوٹ ہو گئی۔۔۔ تو سوچا آج جلدی سو جاوں۔۔۔ سونے کے لیے لیٹا تو خیال آیا کہ کافی عرصہ ہو گیاڈائری لکھے۔۔۔ لکھنے بیٹھا تو کچھ نا لکھ پایا۔۔۔ مجبورا عرفان صدیقی صاحب کو بلا کر ڈائری مکمل کی۔۔۔  آج کا دن بھی سستی اور کاہلی میں گزرا۔۔۔ روز مرہ کی یہی روٹین بن چکی ہے۔۔۔ اماوس کی رات ڈھلتی نظر نہیں آتی۔۔۔ اور ڈھلے بھی کیسے، عوام کو یہ ثابت کر کے دکھانا ضروری ہے کہ ان کی کرتوتوں کا کرم انہیں صرف آخرت میں ہی نہیں۔۔۔ بلکہ ہماری حکومت میں بھی ملے گا۔۔۔ شب بخیر۔

کوئی شرم حیا ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے – حصہ دوم

مصنف: ZAF / مانوبلی

پہلاحصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

کافی دن سے چند موضوعات سوچوں کا محور بنے ہوئے تھے۔ وقت اور دھیان نہ ہونے کے سبب انہیں تحریری شکل نہیں دے پا رہی تھی۔ ان موضوعات میں سرِ فہرست بینظیر کے خلاف قومی اسمبلی میں لائی گئی تحریکِ عدم اعتماد کی سازش جو ‘آپریشن مڈنائٹ جیکال’ کے نام سے مشہور ہوئی اور سیاست میں ‘چھانگا مانگا سیاست’ جیسی اصطلاحات جس کے موجد شریف برادران ہیں، کی تفصیلات تھیں لیکن آج تحریکِ انصاف کے ایک رکن اسمبلی رائے حسن نواز کو اثاثے چھپانے کی پاداش میں تاحیات پابندی کی سزا سنائی گئی تو انصاف کے اس ننگے کھیل نے مجھے میرا موضوع بدلنے پر مجبور کردیا۔ 

گورنمنٹ کالج لاہور سے تھرڈ ڈویژن میں گریجویشن کرنے کے بعد اور کئی پیشوں میں ناکامی کے بعد جب نواز شریف قبلہ سن ۸۱ میں ضیاالحق کی مہربانی اور ابا جی کی ڈپلومیسی کے بل بوتے پر پنجاب کے وزیرِ خزانہ بنے تو پاکستان کا وہ آئین معطل تھا جس کی دہائیاں دے دے یہ اور ان کے حواری خود کو جمہوری ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔ 

وزیرِ خزانہ کے خاندان کے اس وقت کے اثاثہ جات اور آمدنی محض چند لاکھ روپے تھے اور یہ ایک رولنگ مل کے مالک تھے۔ یہاں سے انکی ترقی کا سفر شروع ہوتا ہے۔ نواز شریف کی ڈوریاں انکے شاطر دماغ ابا جی ہی ہلاتے تھے۔

اقتدار کے ایوانوں تک انکی رسائی ہوتے ہی اتفاق فاؤنڈری اتفاق گروپ آف کمپنیز بنتی چلی گئی اور یہ نام نہاد جدّی پشتی رئیس ملکی خزانے کو لوٹنے کی تاریخ رقم کرتے گئے۔ ۸۵ کے ڈھونگی انتخابات میں نواز شریف جیسے کئی سیاسی یتیم لوگ اسمبلیوں میں پہنچے تھے۔ نواز شریف کیونکہ فوجیوں کے نہایت تابعدار تھے اسلئے قرعہ فال انکے نام نکلا اور یہ اس وفاداری کے عوض وزیرِاعلی پنجاب لگا دیا گیا۔ انکے اثاثے کب کب رجسٹر ہوئے یہ سب ریکارڈ پر ہے۔

1982 میں اتفاق شوگر مل، 1983 میں برادرز سٹیل، 1985 میں فاروق برکت پرائیویٹ لمیٹڈ، 1986 میں برادرز ٹیکسٹائل اور برادرز شوگر مل،1987 میں  اتفاق ٹیکسٹائل یونٹس اور رمضان بخش ٹیکسٹائلز، 1988 میں خالد سراج ٹیکسٹائل وغیرہ۔ 

یہ تمام اثاثے حکومت سے قرضے حاصل کرکے بنائے گئے جنہیں بعد میں ضیاالحق سے معاف کروا لیا گیا۔

بینظیر کے پہلے دور میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے جب معاف کیئے گئے قرضوں کی تفصیلات کھنگالیں تو گجرات کے چوہدری بائیس  اور نواز شریف کا خاندان کا اکیس بلین روپے کا دہندہ تھا جسے ضیاالحق معاف کر چکا تھا۔ اس بات کی تصدیق کیلئے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا ۱۹۸۹ کا ریکارڈ دیکھا جا سکتا ہے۔ 

ضیاالحق کے مرنے تک شریفوں کی کل سالانہ آمدنی تین ملین ڈالر ہو چکی تھی لیکن ٹیکس دینے کا کہیں کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ 

اسی کی دہائی کے اختتام تک یہ آمدنی چھ بلین روپے سے زائد ہو چکی تھی۔ انکے اپنے بیان کے حساب سے بھی یہ آمدنی ۳۵۰ ملین ڈالر تھی اور ٹیکس زیرو۔ 

یہ اثاثے اور آمدنی صرف وزیرِ اعلی بننے تک کے ہیں ۔ قومی خزانے میں  جو ڈاکے نواز شریف نے وزیرِاعظم بننے کے بعد مارے انکی کوئی مثال نہیں ملتی۔ مسلم کمرشل بینک کی پرائیویٹائزیشن اور میاں منشا کے ساتھ مل کر لوٹ مار صرف ایک ایسا کیس ہے جسے سن کر ہر پاکستانی کا سر شرم سے جھک جانا چاہیئے۔ 

دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیرِاعظم بننے کے بعد یہ ملکی اور کسٹم قوانین کو اپنی سہولت کے حساب سےجب جی چاہتا بدل دیتے. 

مثال کے طور پر اپنی کرپشن اور احتساب سے بچنے کیلئے احتساب ایکٹ میں ترمیم کرکے اسے 1985 کی بجائے 1990 سے نافذالعمل کیا تاکہ پنجاب میں کرپشن کا جو بازار انہوں نے گرم کیا اس پر کوئی سوال نہ اٹھ سکے۔ 

یہ سب documented facts ہیں اور کوئی بھی چیز میری ذہنی اختراع نہیں ہے۔ وزارتِ عظمی کی کرپشن اگلی دفعہ لکھوں گی لیکن پڑھنے والے خود فیصلہ کریں کہ تاحیات پابندی اگر رائے نواز پر اثاثے ظاہر نہ کرنے پر لگائی گئی ہے تو ملک لوٹنے والوں کے پاس اسکا اخلاقی اور قانونی جواز ہے؟ انصاف سب کیلئے مساوی کیوں نہیں ہے؟

 برادری ووٹ پر پلنے والی ان جونکوں سے پاکستان کو نجات تب ملے گی جب ہم ان سے سوالات کرنا شروع کرینگے ورنہ ہم انکے اور ہماری اولاد انکی اولادوں کی غلامی ہی کرتے مر جائینگے اور خاکمِ بدہن نجانے یہ ملک بھی بچے گا یا نہیں۔ 

کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے

مصنف: ZAF / مانوبلی کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے…   مجھے لکھنا نہیں آتا، نہ ہی میٹھے میٹھے الفاظ میں لپیٹ کر بغض نکالنا آتا ہے۔ بلاگز لکھنے کا ہرگز کوئی شوق یا ارادہ نہیں لیکن مجھے تاریخ پڑھنے کا جنون ہے۔ پاکستانی سیاست کی رولر کوسٹر تاریخ پر ہر طرح کی کتابیں اور تجزیئے زیرِ مطالعہ رہی ہیں۔ کس چیز کے تانے بانے کہاں جا کر ملتے ہیں اور اسکے محرکات کیا ہیں، سمجھنا اتنا مشکل نہیں ہوتا بشرطیکہ آپ کو تاریخ کا صحیح علم ہو۔  پسندیدہ تاریخ پڑھنا اور اسی کو دلائل کیلئے استعمال کرنا ہمارے ملک میں درباری کلچر کو فروغ دینے میں خاصہ مددگار ثابت ہوا ہے۔ میں سیاسی غیر جانبداری کا دعوی تو نہیں کرتی لیکن اتنا دعوی ضرور کرتی ہوں کہ جو تاریخی حقائق بیان کرونگی من و عن کرونگی اور اس سے میری کسی سیاسی وابستگی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔  مسلم لیگ قیامِ پاکستان کے بعد ایک واحد مرکزی سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئی جس کے سربراہ قائداعظم محمد علی جناح تھے۔ قائداعظم کی وفات اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد مسلم لیگ مفاد پرستوں کے ہاتھوں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی۔ پہلا مارشل لا لگنے کے بعد مسلم لیگ کو کالعدم قرار دے دیا گیا اور 1962 میں  جنرل ایوب خان کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ کے نام سے سیاسی منظر نامے پر ابھرنے کے بعد یہ کنگز پارٹی بن گئی اور اس نے ہر جائز و ناجائز کام میں فوجی ڈکٹیٹروں کا ساتھ دے کر ملک کی سیاسی تاریخ کو شرمناک حد تک آلودہ کیا۔ مارشل لا کی کیاریوں میں پروان چڑھنے والے یہ پودے اب جمہوریت کی مالا جپتے نہیں تھکتے۔ اس جمہوری لبادے نے ہی تو انکو فرش سے عرش پر بٹھایا اور آج یہ اور انکی آل پاکستان کو اپنی سلطنت سمجھتی ہے لیکن اس بدقسمت ملک کے عوام کو جمہوریت کا مطلب تو دور کی بات اس لفظ سے ہی شناسائی نہیں ہے۔  ایوب خان کی پاکستان مسلم لیگ کے قیام کے بعد قائداعظم کا نام اور پاکستان مسلم لیگ ایک فرینچائز بن گئی۔ اسٹیبلشمنٹ اس فرینچائز کو استعمال کرتے ہوئے ہر نااہل ترین شخص کو سیاسی لیڈر بناتی چلی گئی۔ اس دوران پاکستان مسلم لیگ کے کئی دھڑے بنتے ٹوٹتے رہے۔ پہلا دھڑا عوامی مسلم لیگ کی صورت میں ڈھاکہ میں عمل میں آیا اور اسکے بعد مسلم لیگ اور قائداعظم کے نام پر مفاد حاصل کرنے کی ایک لمبی تاریخ ہے جو میرا آج کا موضوع نہیں ہے۔  نواز شریف ایک اوسط درجے کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ انکے والد صاحب کی ایک چھوٹی سی فاؤنڈری تھی جو بھٹو کے زمانے میں قومیائی گئی اور ضیاالحق نے واپس دی۔ اس کی تفصیلات اگلے مضمون میں لکھوں گی۔ اس وقت کے گورنر پنجاب جنرل جیلانی کے توسط سے نواز شریف جیسا ناعاقبت اندیش شخص جی ایچ کیو تک رسائی میں کامیاب ہوا اور تاریخ کے بدترین فرعون صفت ڈکٹیٹر جنرل ضیاالحق کا منظورِ نظر بنا۔ آج ضیا کی قبر پر کتے بچے دے رہے ہیں لیکن نواز شریف اپنے محسن کی قبر تو دور کی بات نام لینے سے بھی گھبراتے ہیں۔ ضیا کی وفات کے بعد میاں صاحب نے آن ریکارڈ ‘شہید’ کا مشن پورا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ وہ مشن کیا تھا؟ پاکستان میں فرقہ وارا نہ دہشتگردی کو فروغ اور عوام خاص طور پر پنجاب میں انتہاپسندی کا جو بیج ضیا نے بویا اسکی آبیاری کے علاوہ تو مجھے ‘شہید’ کا کوئی اور مشن سمجھ میں نہیں آتا کیونکہ یہی ایک کام میاں صاحب نے بخوبی کیا۔ آج بھی دہشتگرد تنظیموں کو پیغام بھیجے جاتے ہیں کہ پنجاب کو چھوڑ کر کہیں بھی دہشتگردی پر انہیں کوئی اعتراض نہ ہوگا۔   بینظیر کی حکومت گرانے کیلئے اسامہ بن لادن سے پیسے لینے والے میاں صاحب آج ضربِ عضب کا تمغہ بھی اپنی شیروانی پر سجانا چاہتے ہیں۔  شریف برادران کے مرحوم والد المعروف ابا جی ہی بنیادی طور پر اپنے صاحبزادوں کو کامیاب سیاسی بزنسمین بننے کے گر سکھاتے رہے۔ پاکستانی سیاست  میں ہارس ٹریڈنگ جیسے گھناؤنے کھیل کو متعارف کروانے کا سہرا بھی ان دو بھائیوں کے سر جاتا ہے۔  نواز شریف کی سیاست میں لائے جانے اور کرپشن کی داستان اگلی قسط میں لکھوں گی۔ آج پاکستان مسلم لیگ سے پی ایم ایل این تک کر سفر کی داستان سنیئے۔  جب ضیاالحق نے غیر جماعتی الیکشن کروا کر ایک نام نہاد منتخب حکومت بنا کر پاکستان مسلم لیگ جونیجو گروپ بنوائی تو تاریخ بھی شرما گئی ہوگی۔ ان ربر اسٹیمپ اسمبلیوں میں شریف برادران، جاوید ہاشمی، یوسف رضا گیلانی، عابدہ حسین وغیرہ سمیت تقریباً وہ تمام سیاستدان اقتدار کے مزے لوٹتے رہے جو آج جمہوری بن کر اقتدار پر قابض ہیں۔ یہی لوگ ہر حکومت میں پائے جاتے ہیں چاہے وہ سیاسی ہو یا کسی آمر کی مرضی سے آئی ہو۔ آئین کی جمہوری دھجیاں اڑانے والی ہر ترمیم میں یہ لوگ ضیاالحق کے ساتھ کھڑے رہے۔  ضیا کیونکہ صدر کیساتھ ساتھ چیف آف آرمی سٹاف بھی تھا لہٰزا اسکی طاقت کا پلڑا بھاری تھا۔ جلد ہی وزیراعظم محمد خان جونیجو سے اسکے اختلافات شروع ہوگئے اور اس نے اٹھاون بی کا استعمال کرتے ہوئے جونیجو کی حکومت ختم کردی۔ جونیجو نے اس معزولی کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ جونیجو تاحال مسلم لیگ کے صدر تھے۔ یاد رہے کہ اس دوران نواز شریف کی پنجاب حکومت کو معزول نہیں کیا گیا۔   جونیجو کو سبق سکھانے کیلئے کنگز پارٹی کے اندر ہی ضیا کی ایما پر جونیجو کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لا کر مسلم لیگ کی صدارت سے ہٹا کر فدا محمد خان کو مسلم لیگ کا صدر بنا دیا۔ جونیجو کے حامی اراکین نے مسلم لیگ جونیجو گروپ بنا لیا۔ راولپنڈی کے پی سی ہوٹل میں ہونیوالی اس میٹنگ میں گالم گلوچ کیساتھ ایک دوسرے پر کرسیاں بھی چلائی گئیں۔ یہ غالباً ۸۸ کا واقعہ ہے۔ ہر سینئیر صحافی اس واقعہ کے بارے میں جانتا ہو گا اور اخبارات میں بھی ذکر ہوگا۔  اس مقصد کیلئے ضیا نے اپنے سب سے وفادار نوکر نواز شریف کا انتخاب کیا جو اس وقت وزیرِ اعلی پنجاب تھا۔ یہاں سے صحیح معنوں میں نواز شریف کی شرمناک سیاسی زندگی کا آغاز ہوا۔  ۸۸ کے عام انتخابات کا اعلان ہو چکا تھا اور اسی دوران جونیجو عدالت سے اپنی معزولی کے خلاف مقدمہ بھی جیت چکا تھا لیکن اس وقت تک انتخابی عمل اتنا آگے بڑھ چکا تھا کہ عدالت نے بدنام زمانہ نظریہ ضرورت کو استعمال کرتے ہوئے انتخابات کروانے کو ہی بہتر آپشن سمجھا۔  اس دوران ضیاالحق فضائی حادثے میں ہلاک ہوگیااور نواز شریف کی لاٹری کھل گئی۔  جنرل حمید گل جو اس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ تھے، کسی بھی صورت بینظیر بھٹو کی inevitable لینڈ سلائڈ وکٹری کو روکنا چاہتے تھے۔ بھٹوز اور اسٹیبلشمنٹ کی دشمنی کی بھی ایک لمبی علیحدہ داستان ہے۔  ایک گرینڈ اتحاد اسلامی جمہوری اتحاد (IJI) کے نام سے جی ایچ کیو میں تشکیل پایا جس میں تمام چھوٹی بڑی پارٹیاں اور سیاسی یتیم شامل تھے۔ اس اتحاد کا سربراہ نواز شریف تھا۔ بینظیر اور انکی والدہ کو بدنام کرنے کیلئے نواز شریف نے ضیاالحق کے ایک اور چھوٹے حسین حقانی کے توسط سے اورئینٹ ایڈورٹائزنگ سے ان خواتین کی برہنہ تصاویر بنوائیں اور اسٹیبلشمنٹ کے مہیا کردہ ہیلی کاپٹرز نے پنجاب میں وہ تصاویر گرائیں۔ انتہاپسندی کا جو بیج ضیاالحق پنجاب میں بو رہا تھا انکے لیئے یہ تصاویر ناقابلِ قبول تھیں۔ “جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گیا داغ” والا تعصب بھی نواز شریف کی مہربانی سے متعارف ہوا۔  انتخابات ہوئے، آئی ایس آئی کے دفتر میں نقشے پھیلا کر مارک کیا گیا کہ IJI کو کتنی سیٹیں دینی ہیں۔ بینظیر کو سادہ سی اکثریت سے وفاق دے دیا گیا۔ پنجاب پلان کے مطابق نواز شریف کے حصے میں آیا۔ بینظیر کے بیس ماہ کے دورِ اقتدار کے دوران آپریشن مڈنائٹ جیکال اور چھانگا مانگا نے جنم لیا اور نواز شریف نے ہارس ٹریڈنگ کی سیاہ تاریخ رقم کی جو ریکارڈ پر ہے۔   بینظیر کو اسحق خان نے اٹھاون بی کے ذریعے معزول کردیا۔ نواز شریف کو اگلے انتخابات میں بھاری اکثریت کیساتھ وزیرِ اعظم کے منصب پر بٹھا دیا گیا۔ اس وقت تک دونوں شریف بھائی بےتحاشہ مال بنا چکے تھے اور وفاداریاں خریدنے کے سارے رموز سے واقف ہوچکے تھے۔  نواز شریف اس وقت تک اٹھاون بی کا حمایتی تھا جب تک یہ ۹۳ میں اسکے خلاف نہیں استعمال ہوا۔ اسحق خان سے اختلافات ہوئے، معزول کردیا گیا۔ حامد ناصر چٹھہ، وٹو، سردار آصف وغیرہ IJI سے علیحدہ ہوگئے اور مسلم لیگ میں چٹھہ گروپ اور نواز گروپ بن گئے۔ نواز گروپ کے پاس بےتحاشہ پیسے کی طاقت تھی لیکن الیکشن ہار گئے کیونکہ اس مرتبہ اسٹیبلشمنٹ نے ساتھ نہیں دیا تھا۔ آگے چل کر وہی کہانی دہرائی گئی۔ بینظیر معزول ہوئی اور نواز شریف پھر اسٹیبلشمنٹ کا بلیو آئیڈ بوائے بن کر وہاں سے بھی لینڈ سلائڈ وکٹری لے گیا جہاں لوگ اسکا نام بھی نہیں جانتے تھے۔  لالچ، پیسے اور اقربا پروری کے مصالحے سے تیار پاکستان مسلم لیگ (ن) کی یہ مختصر سی تاریخ ہے۔ ترانوے سے پہلے ان کا وجود صرف اتحادوں اور سازشوں میں پایا جاتا تھا۔ آج یہ جمہوریت کے سب سے بڑے چیمپئین بنے ہوئے ہیں اور انکے حواری جب انکا دفاع کرتے ہیں تو میرے ذہن میں صرف ایک جملہ آتا ہے۔۔۔۔ کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے، کوئی گریس ہوتی ہے۔  نوٹ: سیاسی ہے اس لئے خشک ہے لیکن حقائق پر مبنی ہے۔ اگر کسی دوست کو اختلاف ہو یا ذہن میں کوئی سوال آئے تو میں جواب دینے کیلئے حاضر ہوں۔ اگر میں نے کہیں کوئی واقعہ مسخ کرکے لکھا ہو تو نشاندہی ضرور کیجیئے گا۔  عمران بہت اچھے دوست ہیں۔ انکی مشکور ہوں کہ انہوں نے اپنے بلاگ پر اس تحریر کو پبلش کرنے کی اجازت دی۔  

فیصلے

زندگی کے کچھ ایسے فیصلے ہوتے ہیں، جو آپ کو ہر ہر لمحے تکلیف پہنچاتے ہیں۔۔۔ جن سے واپسی کا یوٹرن بھی ممکن نہیں ہوتا۔۔۔ اور جن کے زخم اپنے سائے ساتھ رکھنے بھی ہوتے ہیں۔۔۔ جن سے رہائی ممکن بھی نہیں ہوتی۔۔۔ اور جن کے بغیر گزارہ بھی نہیں ہوتا۔۔۔ ان بارے سوچ کر آہ بھی بھری جاتی ہے۔۔۔ اور ان کے بارے سوچنے سے گریز بھی کیا جاتا ہے۔۔۔

یہ وہ تکلیف ہوتی ہے، جو آہستہ آہستہ آپ کو اذیت پسند بنا دیتی ہے۔۔۔ آپ سے چھٹکارا بھی پانا چاہتے ہیں۔۔۔ لیکن اس کی شدت بغیر آپ کو نیند بھی نہیں آتی۔۔۔

اکثر یہ فیصلے آپ کے اپنے نہیں ہوتے۔۔۔ بلکہ آپ کے لیے، لیے گئے ہوتے ہیں۔۔۔ آپ پر مسلط کیے جاتے ہیں۔۔۔ اور آپ خود میں جلتے رہتے ہیں۔۔۔ خود میں گھٹتے رہتے ہیں۔۔۔ اپنی خاموشی کی زبان میں چیختے چلاتے ہیں۔۔۔ اور یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ کا سکوت بھرا شور کوئی نہیں سن سکتا۔۔۔ آپ کے فیصلے کی طرح یہ خاموشی بھی آپ کی دشمن ہوتی ہے۔۔۔

فیصلوں کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ ان سے بھاگا نہیں جا سکتا۔۔۔ مجبورا انہیں اپنا ہی پڑتا ہے عمر بھرکے لیے۔۔۔ اپنے سینے کے ساتھ لگا کر ہی سفر کرنا پڑتا ہے۔۔۔ کبھی سوچیں، اپنے کسی ایسے فیصلے کے بارے میں۔۔۔ ایسے فیصلے کے بارے میں، جن کی وجہ سے آپ اپنی زندگی میں “پچھتاوے” جیسے بوجھ بھی خود پر لادے چل رہے ہیں۔۔۔ اگر آپ کا کوئی ایسا فیصلہ ہے۔۔۔ تو آپ کو میری باتیں سمجھ آ ہی جائیں گی۔۔۔

اللہ آپ کو غلط فیصلے کے دکھ سے بچائے۔۔۔ آمین۔۔۔

ناشکرا

دوست۔۔۔ اور دوست بھی کیا۔۔۔

شریکِ حیات کہتی ہیں کہ تم ہی کسی کے ساتھ بنا کر نہیں رکھ سکتے۔۔۔ درست کہتی ہیں۔۔۔ کہ دوست ہیں کہاں۔۔۔ جو تھے وہ دور چلے گئے اپنی اپنی مجبوریوں کے باعث۔۔۔ اور جو ہیں۔۔۔ وہ دوست بنتے ہی نہیں۔۔۔

زندگی۔۔۔ اور زندگی بھی کیا۔۔۔

شریکِ حیات کہتی ہیں۔۔۔ کہ تم نے اپنی زندگی خود اجیرن بنا رکھی ہے۔۔۔ درست کہتی ہیں۔۔۔ کہ زندگی ہے کہاں۔۔۔ جو تھی وہ چلی گئی کچھ میری غلطیوں اور کچھ اپنی مجبوریوں کے باعث۔۔۔ اور اب جو ہے۔۔۔ وہ زندگی نہیں۔۔۔

رشتے۔۔۔ اور رشتے بھی کیا۔۔۔

شریکِ حیات کہتی ہیں کہ تمہیں ہی رشتے نبھانے نہیں آتے۔۔۔ درست کہتی ہیں۔۔۔ کہ رشتے ہیں کہاں۔۔۔ جو ہیں۔۔۔ وہ نبھانے مشکل ہیں۔۔۔ اور جو نہیں ہیں۔۔۔  وہ رشتے ہی تو نہیں ہیں۔۔۔

خوشی۔۔۔ اور خوشی بھی کیا۔۔۔

شریکِ حیات کہتی ہیں کہ تم کسی حال میں خوش نہیں رہ سکتے۔۔۔ درست کہتی ہیں۔۔۔ کہ خوشی ہے کہاں۔۔۔ جو محسوس نا ہو سکے۔۔۔ جو بانٹی نا جا سکے۔۔۔ جس کا جشن نا منایا جا سکے۔۔۔ جس میں کھلکھلا کر ہنسا نا جا سکے۔۔۔ اور جو ہے۔۔۔ وہ خوشی تو ہرگز نہیں۔۔۔

غم۔۔۔ اور غم بھی کیا۔۔۔

شریکِ حیات کہتی ہے کہ کیا ہر دم غمگین بیٹھے رہتے ہو۔۔۔ درست کہتی ہے۔۔۔ کہ غم فطرت میں شامل ہو چکا ہے۔۔۔ بغیر کسی وجہ یا ایسی کئی وجوہات کے کہ جن کے بارے میں کہنا تو کجا لکھنا بھی دشوار ہے۔۔۔۔ غم، اداسی اور سنجیدگی۔۔۔ وہ غم ہی کیا کہ چیخیں مار کر رو بھی نا سکو۔۔۔ وہ غم ہی کیا کہ گریباں چاک نا کرو۔۔۔ وہ غم ہی کیا کہ اپنے سینے میں سمیٹےسمیٹے آخری سانس کا انتظار کرو۔۔۔

غم۔۔۔ اداسی۔۔۔ سنجیدگی۔۔۔

بنا کسی دوست، زندگی، رشتے اور خوشی کے۔۔۔ انسان ایک “غم” ہی تو ہے۔۔۔ میں بھی “غم” ہوں۔۔۔ اور اپنے ساتھ سب کو غمگین بنا رہا ہوں۔۔۔ بنا کسی وجہ کے۔۔۔ بنا کسی مقصد کے۔۔۔

ناشکرا ہی تو ہوں۔۔۔ کہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی احساس اور شکر کی نعمت سے تہی دامن ہوں۔۔۔

لکهو

کبھی اگر کچھ کہنے کادل چاہے تو لکھ لینا کہ لکھنا دل میں رکھنے سے بہتر ہے۔۔۔

ضروری نہیں کہ ہمیں سننے والا بھی کوئی موجود ہو۔۔۔ اور کوئی ہو بھی تو کیا یہ ضروری ہے کہ وہ آپ کی سن کر سمجھ بھی سکے۔۔۔!!! اس لیے بہتر ہے کہ لکھ لیا جائے۔۔۔ دل کا بوجھ اتر جائے گا اور ایک ہم راز بھی مل جائے گا۔۔۔

ہمراز۔۔۔ جو ہم سب کی ضرورت ہے۔۔۔ مجبوری بھی ہے اور طاقت بھی۔۔۔

اگر لکھ لیا تو چھپا دو کہ جو لکھ سکتے ہو وہ کسی دوسرے کے سامنے بول نہیں سکتے۔۔۔

جو راز صفحہ چھپا سکتا ہے، انسان نہیں چھپا سکتا۔۔۔

اور جو راز صفحے میں سما سکتا ہے۔۔۔ وہ دل میں نہیں سما سکتا۔۔۔

ہزاردوں دکھ لکھ لو۔۔۔ ہزاروں سکھ لکھو لو کہ تاریخ بن جائے۔۔۔ تاریخ محفوظ ہو جائے۔۔۔

جو کل بھول جاو، وہ آج لکھ لو ۔۔۔ تاکہ ذہن کے کسی کونے میں یہ خوش فہمی تو پنپ سکے کہ کوئی ہمراز ہے جو تمہارے ہزاروں قصوں کو محفوظ رکھے چُھپا بیٹھا ہے۔۔۔

اپنی محبتیں لکھ دو۔۔۔ اپنی نفرتیں لکھ لو۔۔۔

اپنے تجربے لکھ دو۔۔۔ اپنی ناکامیاں لکھ دو۔۔۔

اور اگر سمجھو تو مرنے سے پہلے اپنی تحاریر کسی کو سونپ جانا۔۔۔ کہ دنیا محسوس صرف دوری کے بعد کرتی ہے۔۔۔  قدر صرف جدائی اور محرومی کے بعد کرتی ہے۔۔۔

سونپ دینا اپنا اثاثہ۔۔۔

نفرتوں میں گهرا انسان

اپنے اردگرد پهیلی نفرتوں سے اکتا گیا ہوں… چاہ کر بهی اپنی محبتیں سب میں پهیلا نہیں پایا… یہ خواہش کہ سب ایک دوسرے سے محبت کریں… میرے لیے… اپنے لیے… دوسروں کے لیے… اللہ کے لیے…

محبت اتنا بهی مشکل کام نہیں، جتنا سب نے بنا لیا ہے…

مجه سے نا سہی… میری خاطر ہی سہی…. ایک دوجے سے محبت کر لو… میری خاطر بهی نا سہی… اللہ واسطے ہی اپنی بدگمانیاں، تلخیاں اور نفرتیں مٹا دو…

 کیا لے جائیں گے اس دنیا سے … نفرت…!!! تلخی…!!! بدگمانی…!!!

 نفرت کرو گے… تو نفرت پاو گے…
محبت کا بدلہ محبت اور عزت کے بدلے عزت پاو گے…

گر بانٹ سکتے ہو تو محبت بانٹ دو… نفرت کسی کام نا آئے گی… محبت دعا کی صورت حساب آسان کر دے گی… اور نفرت دنیا کو بهی عذاب بنا دے گی…

ایک دوسرے کو معاف کر دو… دل سے… معاف کر کے… معافیاں مانگ کر… خود کو صاف کر لو… دل کے داغ مٹا دو… اپنے لیے نا سہی… تو میرے لیے… اللہ کے لیے ہی سہی…

میں اپنے اردگرد پهیلی نفرتوں سے اکتا گیا ہوں… چاہ کر بهی اپنی محبتیں سب میں پهیلا نہیں پایا…

لانگ مارچ کیوں۔۔۔؟

سوال: جب حکومت خان صاحب کے مطالبات مان رہی ہے تو خان صاحب لانگ مارچ کیوں کررہے ہیں۔۔۔

جواب: خان صاحب پچھلے ڈیڑھ سال سے حکومت سے مطالبات کر رہے ہیں کہ حلقے کھولے جائیں۔۔۔ دھاندلی کی تحقیقات کی جائیں۔۔۔ یہاں تک کہ خان صاحب جب سپریم کورٹ گئے تو افتخار چوہدری صاحب نے کیس سننے سے انکار کر دیا کہ وہ بہت مصروف ہیں۔۔۔اور ان کی اعلیٰ عدالت میں بیس ہزار سے کیس اپنی “پینڈنگ” ہیں۔۔۔ ( یہ الگ بات ہے کہ چیف جسٹس ایویں کے “سوموٹو” لینے کے لیے مشہور ہیں اور یہ بھی الگ بات ہے کہ ان “سوموٹو کیسز” کا نتیجہ شاید ہی کبھی نکلا ہوا)۔۔۔

اب جب ہر دروازہ کھٹکھٹا کر کہیں شنوائی نہیں ہوئی تو آخری حل یہی تھا کہ حکومت کو ٹف ٹائم دیا جائے۔۔۔ جب حکومت کو نظر آیا کہ اب مشکل سے ہی جان چھوٹے گی تو خان صاحب کی منتیں ترلے شروع کر دئیے کہ اب ہم آپ کی بات مانیں گے، مذاکرات کر لیں۔۔۔ لیکن اب کی خان صاحب نے ان کی درخواستیں سننے سے انکار کیا اور عوام سے جو وعدہ کیا تھا اسے پوراکرنے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔۔۔

 

download

 

قابل ِ غور بات یہ ہے کہ خان صاحب بھی جانتے ہیں کہ “چار حلقوں کی تحقیقات ہو بھی جائیں اور نتائج ان کے حق میں نکل بھی آئیں تب بھی وہ پنجاب یا وفاق میں حکومت نہیں بنا سکتے۔۔۔ ان کا مقصد بہت سادہ اور عام فہم ہے کہ ایسے قدم اٹھائے جائیں کہ اگلی بار ایسی دھاندلی نا ہو۔۔۔ ان لوگوں کو بے نقاب کیا جائے جو ایسی تاریخی دھاندلی میں ملوث تھے۔۔۔

پاکستانی عوام اس بات کی بھی گواہ ہے کہ خان صاحب نے ہمیشہ جمہوریت کی مضبوطی کو اہم قرار دیا ہے۔۔۔ لیکن ڈیڑھ سال تک ان کے ہر درخواست، ہر مطالبے کا مذاق اُڑایا گیا۔۔۔ یہاں تک کے آپریشن ضرب عضب کے لیے بھی اُن سے مشاورت نہیں کی گئی۔۔۔جبکہ سب جانتے تھے کہ آپریشن کے بعد آئی ڈی پیز کا رُخ خیبر پختونواہ ہو گا۔۔۔ اور کے پی کے کی حکومت کو انہیں سنبھالنا ہو گا۔۔۔ پھر پنجاب اور سندھ نے تو اِ ن متاثرین کے لیے اپنے دروازے بند کر دئیے۔۔۔ یہاں تک کہ صرف پچاس کروڑ کی مدد کے اعلان کے باوجود رقم کے پی کے حکومت کے حوالے نہیں کی گئی۔۔۔ بلکہ وفاق کی طرف سے جن فنڈز کا وعدہ کے پی کے سے کیا گیا تھا ۔۔۔ انہیں بھی روک لیا گیا۔۔۔ اس سب کے بعد بھی پٹواری حضرت پوچھتے ہیں کہ عمران خان نے کے پی کے میں کیا کر لیا۔۔۔ تو میری درخواست اُ ن سب سے یہی ہے کہ براہ کرم، ہم سے مت پوچھیں۔۔۔ کے پی کے کا چکر لگا لیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔۔۔ کہ محدود وسائل کے باوجود، سسٹم میں بہترین تبدیلی کی جا رہی ہے۔۔۔ اور ہماری بات پر یقین نا آئے تو کسی خیبر پختونخواہ کے عقلمند سے پوچھ لیں۔۔۔ انشاءاللہ پٹواریوں کو اچھا جواب ملے گا۔۔۔

سیدھی بات ہے کہ اس وقت پاکستان میں جمہوریت نہیں، بادشاہت ہے۔۔۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت گلو بٹ اورپومی بٹ کلچر ہے، جس کے مائی بات یہی شریف خاندان ہے۔۔۔ جو اپنی فرعونیت میں اتنے آگے بڑھ چکے ہیں کہ انہیں عوام سوائے کیڑے مکوڑوں کے کچھ نظر نہیں آتے۔۔۔ اتفاق فاونڈریز کے کاروبار کو چار چاند لگانے کے لیے حکومت نے ایسے منصوبے شروع کیے ، جس سے عنقریب تو عوام کو کوئی ریلیف ملتا نظر نہیں آتا۔۔۔

‘ مزید یہ کہ عمران خان اور اس کی حکومت خیبر پختونخواہ میں دودھ کی نہریں بھی بہا دیں۔۔۔ اگر یہی سسٹم جاری رہا۔۔۔ جو آج ہے۔۔۔ تو وہ کبھی بھی وفاق میں حکومت نہیں بنا سکتا۔۔۔ کیونکہ دھاندلی ایسے ہی چلتی رہے گی۔۔۔ اور ہم پر زرداری اور شریف جیسے بدمعاش / کرپٹ مجرم مسلط رہیں گے۔۔۔

چلیں یہ بھی مان لیں۔۔۔ کہ عمران خان اپنی “ہڈ دھرمی” کے باعث جمہوری حکومت کو نقصان پہنچا رہا ہے ۔۔۔ اوہ اور اس کی جماعت کسی “تیسری قوت” کے ہاتھوں کھیل رہے ہیں۔۔۔ توکیا عوام بھی بے وقوف ہے ، جو اس کے ساتھ لمبا سفر طے کرتے لانگ مارچ میں شامل ہیں اور کیا وہ سب “ہزاروں / لاکھوں” لوگ بھی بے وقوف ہیں، جو پاکستان میں ایک اچھی تبدیلی کے لیے تکالیف برداشت کر رہے ہیں۔۔۔

باقی فیصلہ آپ کے ہاتھ۔۔۔

بیٹیاں اور محبت

بیان صادق کی ماں: بیان وہ دیکھو، اگلی گاڑی بڑے ماموں کی ہے، میں انہیں ڈِپر مارتی ہوں۔۔۔
بیان صادق: ماما، خبردار آپ نے میرے بڑے ماموں کو کچھ مارا۔۔۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

علیزہ: بیان، میرے بابا بہت گندے ہیں۔۔۔
بیان: علیزہ خبردار میرے ماموں کو گندا کہا۔۔۔ میرے بڑے ماموں سب سے اچھے ہیں۔۔۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

علیزہ: باباانا میاں مجھےبہت پیار کرتے ہیں۔۔۔
میں: علیزہ انا میاں نہیں ہوتا۔۔۔ اللہ میاں ہوتا ہے۔۔۔ اللہ میاں آپ سے بہت پیار کرتے ہیں۔۔۔
علیزہ: بابا، ابھی میں چھوٹی ہوں، ابھی انا میاں کہوں گی، جب بڑی ہو جاوں گی تو پیارے اللہ میاں کہا کروں گی۔۔۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

امام صادق: بیان، میرے چھوٹے ماموں اچھے ہیں۔۔۔
بیان صادق اپنے بھائی کے بال کھینچتے ہوئے: اب دوبارہ کہہ کر دکھاو۔۔۔
امام صادق: ہاں ہاں، بڑے ماموں اچھے ہیں۔۔۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

میں: علیزہ، عنایۃ بہت پیاری ہے نا۔۔۔۔
علیزہ: بابا عنایۃ تو “ماں ستے جائے”، لاڈو بیٹی ہے۔۔۔ بیوٹی فل اور کیوٹ ہے، بلکل میری طرح۔۔۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

آج سے چار سال پہلے، ہمارے گھر دو پریاں پیدا ہوئیں۔۔۔ علیزہ عمران اور بیان صادق۔۔۔ میری جان۔۔۔ میری شہزادیاں۔۔۔ میری آنکھوں کی ٹھنڈک۔۔۔ میرے دل کا سکون۔۔۔ ماشاءاللہ۔۔۔
آج ان کی چوتھی سالگرہ ہے۔۔۔ اللہ تبارک تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ میری اور سب کی بیٹیوں کو نیک سیرت، لائق، عقلمند اور مومنات بنائے۔۔۔ اور سب بیٹیوں کے نصیب اچھے فرمائے۔۔۔
آمین۔۔۔

 

اسی سلسلے کی تحریر: اللہ کی نعمت۔۔۔ میری بیٹیاں

گفتگو

میں:       حاضر ہوں جی۔

بابا:          تجھے سکون نہیں۔۔۔!!!

میں:       سکون ہوتا تو آپ کے پاس کیوں آتا۔۔۔

بابا:         سچ بتا، کیا چاہیے تجھے۔۔۔؟

میں:       سکون۔۔۔

بابا:         کیسا سکون چاہتا ہے۔۔۔؟

میں:       معلوم نہیں۔۔۔ بس سکون چاہیے۔۔۔

بابا:         تو پھر میں تیری مدد کیسے کروں؟

میں:       معلوم نہیں۔۔۔ بس سکون چاہیے۔۔۔

بابا:         سب کچھ تو ہے تیرے پاس۔۔۔ پھر کیا بے چینی ہے تیری۔۔۔؟

میں:       معلوم نہیں۔۔۔ بس سکون چاہیے۔۔۔

بابا:         جا۔۔۔ تیری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔۔۔

میں:       کیوں۔۔۔؟ میں نے تو سنا ہے کہ آپ کے بس میں بہت کچھ ہے۔۔۔

بابا:         تجھے کس نے کہا۔۔۔؟

میں:        پڑھا تھا،  کہ آپ چاہو تو  جنت۔۔۔ آپ چاہو تو جہنم۔۔۔

بابا:         پڑھ تو لیا۔۔۔ اب یقین بھی کر۔۔۔

میں:       میری مدد تو کرو۔۔۔ میں تو یہ بھی نہیں جانتا ہے کہ مجھے بے چینی کیا ہے۔۔۔

بابا:         سن ، تو اپنے آپ سے خوش نہیں ہے۔۔۔  تیرے پاس سب کچھ ہے لیکن تو اس  سے بھی خوش نہیں ہے۔۔۔ اس کا صرف ایک ہی مطلب ہے۔۔۔

میں:       وہ کیا۔۔۔؟

بابا:         کہ تیرا کوئی اپنا تیرے سے خوش نہیں ہے۔۔۔ جا اسے خوش کر۔۔۔

میں:       یہ کیا بات ہوئی۔۔۔ میری خوشی سے کسی کا کیا تعلق۔۔۔؟

بابا:         یہ ہوئی نا بات۔۔۔ جب تیری خوشی صرف “میری خوشی “سے نکل کر “سب کی خوشی” بن جائے گی تو مل جائے گا سکون۔۔۔

میں:       ایسا کرنے کا حل تو بتائیے۔۔۔

بابا:         حل بڑا آسان ہے۔۔۔ اب سے تو جو اپنے لیے کرتا ہے، جو اپنے لیے سوچتا ہے، وہ سب کے لیے کرنا اور سوچنا شروع کر دے۔۔۔ تو خود کو اچھا سمجھتا ہے تو دوسروں کو بھی اچھا سمجھنا شروع کر دے۔۔۔ اپنی کوتاہیوں کو چھپانا چاہتا ہے تو دوسروں کی کوتاہیوں کو بھی نظر انداز کرنا شروع کر دے۔۔۔  تو چاہتا ہے نا کہ تیرا رب تجھے معاف کر دے۔۔۔ تو ، تُو بھی سب کو معاف کر دے۔۔۔

میں:       یار، یہ کرنا اتنا آسان ہر گز نہیں۔۔۔ کیسے کر دوں سب کو معاف۔۔۔

بابا:         ویسے ہی، جیسے اللہ نے تجھے طاقت  اور ہمت دی ہے معاف کرنے کی۔۔۔

میں:       اچھا۔۔۔تو پھر کیا سکون مل جائے گا۔۔۔؟

بابا:       گرنٹیڈ۔۔۔ پکا۔۔۔ آزما کر دیکھ لے۔۔۔

بابے کی باتیں سمجھ کر گاڑی کا دروزہ کھولا، بیک سیٹ سے اپنا بیگ نکالا اور ایک گھنٹے کے “تنہا سفر” کے بعد گھر کے دروازے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔

روزہ دار کی ڈائیری

دوستوں کے ساتھ سگریٹ اور شیشے کی محفل میں مذہب، سیاسیات اور اقتصادیات پر زیر حاصل بحث  کے  بعد رات دو بجے تھکا ہارا گھر پہنچا ۔۔۔  ارادہ تو یہ تھا کہ کچھ قرآن پڑھوں گا  اور اللہ کو یاد کروں گا۔۔۔ لیکن ٹھنڈے کمرے میں داخل ہوتے ہی آرام دہ بستر کی گرمائش نے یاد اللہ کا ارادہ بدل دیا۔۔۔ دل نے کہا۔۔۔ “ابھی تو آیا ہے، تھوڑا آرام کر لے۔۔۔ ساری رات باقی ہے۔۔۔” اور نا چاہتے ہوئے بھی سونا پڑا۔۔۔

صبح ساڑھے تین بجے بیگم نے اٹھایا کہ سحری کی جائے۔۔۔ کون کمبخت اتنی پیاری نیند چھوڑنا چاہتا تھا۔۔۔ لیکن خالی پیٹ روزہ رکھنا بھی مشکل تھا۔۔۔ بادل ناخواستہ اٹھنا پڑا۔۔۔

فجر کی نماز جیسے تیسے پڑھ کر نیند جیسی نعمت عطا کرنے کے لیے اللہ کا ڈھیروں شکر ادا کیا اور خوابِ خرگوش کے مزے لینے لگا۔۔۔

ابھی سوئے ہوئے کچھ ہی گھنٹے ہوئے تھے کہ بیگم نے پھر اٹھایا کہ جمعہ کی نماز کا وقت ہوگیا ہے۔۔۔  آنکھیں مسلتے پھر اٹھا اور نہا دھو کر مسجد چلا گیا۔۔۔ مسجد تک کے سفر، پھر نماز اور پھر واپسی کے سفر میں اللہ تعالیٰ کو بہت یاد کیا۔۔۔ خاص طور پر نیند ، ای سی اور گاڑی جیسی نعمتوں کے لیے بارہا شکر ادا کیا۔۔۔

گھر پہنچ کر بیگم کو سختی سے منع کیا کہ اب کے مت اٹھانا، عصر کے لیے خود ہی اٹھ جاوں گا۔۔۔ اے سی فل  سپیڈ پر آن کر کے کمبل اوڑھا اور پھر سو گیا۔۔۔

عصر کی آزان کانوں میں پڑی۔۔۔ ارادہ کیا کہ اٹھوں اور نماز کے لیے جاوں۔۔۔ لیکن۔۔۔ اب کی بار تہیہ تھا کہ  نیند پوری کرنی ضروری ہے۔۔۔ چاہے کچھ بھی ہو۔۔۔ دل میں سوچا کہ تھوڑی دیر بعد اٹھ کر پڑھتا ہوں۔۔۔ تھوڑی تھوڑی دیر کرتے چھ بج گئے۔۔۔ اٹھتے ہی بیگم کو ڈانٹا کہ عصر کے لیے کیوں نہیں اٹھایا۔۔۔  گھر پر ہی نمازِ عصر ادا کی۔۔۔ اور لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ گیا۔۔۔ خبریں پڑھتے ، ای میلز دیکھتے،  جوں جوں افطار کا وقت قریب آ رہا تھا، انتظار کی گھڑیاں لمبی ہوتی جارہی تھیں۔۔۔   روزہ اپنی آب و تاب سے “لگنا” شروع ہو چکا تھا۔۔۔  اللہ کو یاد کرنے کا فیصلہ کیا۔۔۔ اور دعا میں اللہ سے ایمان، صبر و استقامت  اور نماز روزے سے محبت مانگی۔۔۔

افطار کو دعوتِ ولیمہ سمجھ کر اس پر ٹوٹنے  اور پھر تراویح میں بڑی مشکل سے اللہ کے سامنے کھڑے ہونے پر اللہ کا  روزہ اچھی  طرح گزارنے پر شکر اور قبول فرمانے کی دعا کرتے اگلے روزے کی تیاریاں شروع کر دیں۔۔۔

 

 

اللہ کی نعمت ۔۔۔ میری بیٹیاں

یہ سال 2010 کے اوائل کی بات ہے۔۔۔ میرے ایک عزیز دوست نے مجھے دعا دی کہ اللہ تجھے بیٹی عطا فرمائے۔۔۔  میں نے مصنوعی   مسکراہٹ کے ساتھ اس دوست کا شکریہ ادا کیا۔۔۔ لیکن دل میں ایک بے چینی ہو گئی۔۔۔  کہ “بیٹی۔۔۔!!!”

کون سنبھالے گا اسے۔۔۔  میرا بازو کیسے بنے گی۔۔۔ اور اسی طرح کی کئی خرافات۔۔۔

موڈ سخت خراب ہو گیا۔۔۔  “یار دعا ہی دینی تھی تو بیٹے کی دیتے۔۔۔”

اسی طرح  جلتے کڑھتے سو گیا۔۔۔ رات کے گیارہ ، ساڑھے گیارہ کے قریب آنکھ کھلی۔۔۔  تو پہلا خیال یہ آیا۔۔۔ کہ ۔۔۔” بےشرم انسان۔۔۔ جس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امتی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔۔۔ ان کی چار بیٹیاں ۔۔۔ اور ان بیٹیوں کے لیے بھی رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا بے انتہا پیار۔۔۔ اور تو ہے کہ بیٹی کی خواہش نہیں رکھتا۔۔۔ افسوس ہے تیری ذات پر۔۔۔۔”

صبح اٹھا۔۔۔ تو دل میں یہ خواہش بیٹھ چکی تھی کہ اب اللہ بیٹی ہی دے۔۔۔ دعا ئیں بھی بیٹی کے لیے شروع کر دیں۔۔۔

11 جون 2010 کو اللہ تبارک تعالیٰ نے مجھے بیٹی کے روپ میں ایک انتہائی خوبصورت تحفہ عطا فرمایا۔۔۔ الحمدللہ۔۔۔

پہلی دفعہ علیزہ کو اپنی  گود میں اٹھایا اور اس کے کانوں میں آذان پڑھی۔۔۔  اور پھر یوں ہوا کہ گود میں اٹھائے علیزہ کو دیکھتا رہتا۔۔۔  یہ سوچتا کہ واللہ اعلم کوئی نیک کام کبھی کیا ہوگا کہ جس کا صلہ اللہ نے مجھے میری بیٹی کے روپ میں دیا ہے۔۔۔

11 جون 2010 کو  میری ہمیشرہ کے ہاں بھی بیٹی نے جنم لیا۔۔۔  جس کا نام “بیان” رکھا گیا۔۔۔  اور اللہ نے مجھے ایک ساتھ دو بیٹیوں سے نوازا۔۔۔  

آج علیزہ اور بیان ماشاءاللہ  تین سال کی ہو گئی ہیں۔۔۔ بیان علیزہ کے لیے اُستاد ہے۔۔۔ اس کو ایسے سنبھالتی ہے جیسے علیزہ اس سے بہت چھوٹی ہو۔۔۔ باہر جاتے ہوئے علیزہ کو جوتے پہنانا، اس کے کپڑے تیار کروانا۔۔۔  اس کو “میک اپ” کرنا۔۔۔ اور اس کے لیے میں سب سے اچھا ماموں۔۔۔ :biggrin:

   ان تین سالوں میں، میں نے اپنی بیٹی میں دوست  اور کسی حد تک ماں کا بھی روپ دیکھ لیا۔۔۔  آفس سے گھر پہنچتا ہوں تو بھاگتی ہوئی میری طرف لپکتی ہے اور لپٹ جاتی ہے۔۔۔  “بابا پانی لاوں۔۔۔؟”  پھر اونچی آواز میں ماں کو کہنا۔۔۔ “بابا کھانا دو۔۔۔  :cheerful:

اکثر رات کو سوتے سوتے میرے سینے پر چڑھ جانا اور نیند میں بھی میرے گالوں کو بوسے دے دینا۔۔۔۔  کبھی میرے بازو پر سر رکھ کہنا۔۔۔ “بابا کہانی سناو”۔۔۔ ایک دن جو کہانی مجھ سے سننی ۔۔۔ اگلے دن اپنی دادی  کی گود میں بیٹھ کر انہیں اپنی توتلی زبان میں سنانا۔۔۔  :sleeping:

دادا ، دادی، چاچو، پھپھو کی لاڈلی۔۔۔ جس کے لاڈ اٹھاتے کوئی نہیں تھکتا۔۔۔ جس کی ایک فرمائش پر سب واری جاتےہیں۔۔۔۔  کبھی کہوں کہ بیٹا سر میں درد ہو رہی ہے۔۔۔ تو سر پر اپنے ننھے منے ہاتھ رکھ کر ہاتھوں کی بجائے خود ایسے ہلنا جیسے سر دبا رہی ہے۔۔۔ پھر اپنی ماں سے کہنا کہ بابا کو  “ہائی” (درد) ہو رہا ہے انہیں “دآئی”  (دوائی) دو۔۔۔

اب کچھ دن سے امی نے علیزہ کو ایک نئی دعا یاد کروائی ہے۔۔۔ جو وہ اپنی توتلی زبان میں یوں کہتی ہے۔۔۔ “انا میاں، ایجا کو بھائی دو۔۔۔ آمین۔۔۔” (اللہ میاں، علیزہ کو بھائی دو۔۔۔ آمین۔۔۔  :cheerful:   :cheerful:   :cheerful:

حرم مکہ، میں طواف کے دوران میرے کاندھوں پر بیٹھی ۔۔۔ بار بار یہی دعا دوہراتی رہی۔۔۔ شاید اس کو کسی نے بتا دیا کہ اللہ میاں کے گھر میں دعا مانگو۔۔۔ تو اب جب کبھی گزرتے گزرتے کوئی مسجد نظر آ جائے تو بے اختیار۔۔۔ “انا میاں، ایجا کو بھائی دو۔۔۔ آمین۔۔۔”

مدینہ منورہ کے صحن میں بیٹھے تھے۔۔۔ ماں ساتھ نماز پڑھ رہی تھی۔۔۔ اس کی نقل اتارتے ہوئے، سجدے میں گر کر بولی۔۔۔ “اللہ بَت۔۔۔ ایتھے رکھ۔۔۔ :shocked:   “ 

میں اسے کلمہ طیبہ سکھا رہا ۔۔۔۔ جو میں کہتا وہ دوہراتی رہی۔۔۔ پھر میں کہا کہ چلو اب آپ سناو۔۔۔ تو ایسے شروع ہوئی۔۔۔” رِنگا رِنگا روزز۔۔۔ پاپا گیندا اوزز۔۔۔ ڈی شو۔۔۔ ڈی شو۔۔۔  :kissing:

کوئی بھی فرمائش ہو، علیزہ صرف مجھ سے کرتی ہے۔۔۔ شاید اس یہ مان ہے کہ اس کی خواہش صرف اس کا باپ ہی پوری کر سکتا ہے۔۔۔ کسی سے کبھی کچھ نہیں مانگتی۔۔۔ ہاں میرے ساتھ کہیں باہر چلی جائے تو بس فرمائشیں اور شاپنگ ہی شاپنگ۔۔۔  اور جو کھلونے وغیرہ لیے وہ پیسوں کی ادائیگی تک اپنے ہاتھ میں رکھنا۔۔۔ کہ باپ کہیں واپس نا رکھ دے۔۔۔  اور پھر ادائیگی کے وقت بھی نظریں مستقل  کھلونوں پر جمے رکھنا۔۔۔  

واللہ۔۔۔ بیٹیاں اللہ کی بڑی نعمتیں ہیں۔۔۔ باپ کے لیے سکون ، چاہت اور خوشی کا ذریعہ۔۔۔  اُن  کی پہلی محبت اُن کا باپ ہوتا ہے۔۔۔  اُن کے لیے اُن کے باپ سے اچھا  دنیا میں کوئی اور ہوتا ہی نہیں۔۔۔ 

اللہ میری علیزہ اور سب کی بیٹیوں کے نصیب اچھے کرے۔۔۔  اور انہیں ماں باپ کے لیے ذریعہِ فخر اور مومنات بنائے۔۔۔ آمین۔۔۔

مقسوم

زندگی ہاتھوں سے لمحہ بہ لمحہ پھسلتی جا رہی ہے۔۔۔ ہر وقت کا دھڑکا ہے کہ اب چلے ، تو اب چلے۔۔۔ تبلیغی جماعت والوں کی طرز پر کہوں تو یہ ڈر ہے کہ “تیاری” کیا ہے اگلی منزل کی۔۔۔ ہوش سنبھالا اور خود سے لڑائی شروع ہوئی۔۔۔ اچھائی اور برائی کے درمیاں خود کو “کنفیوز” ہی پایا۔۔۔ جو کرنے کا جی چاہا ۔۔۔ وہ منع ہے، گناہ ہے۔۔۔ اور جس سے جان چھڑانے کی کوشش کی۔۔۔ تو معلوم ہوا کہ اس کا صلہ تو اگلے جہاں ہی ملے گا۔۔۔

زندگی لمحہ بہ لمحہ گزرتی جا رہی ہے۔۔۔ کچھ یقین نہیں کہ اگلی سانس بھی لے سکوں۔۔۔ اور مر کے بھی چین نا پایا تو کہاں جاوں گا۔۔۔ قبر کی تاریکی ، جہاں روشنی کی کوئی پھوار نہیں۔۔۔ آواز سننے کو ترسنا۔۔۔ اور کیڑے مکوڑوں کی غذا بننا۔۔۔ کیا یہی منزل ہے ۔۔۔؟

موت کے بعد کا حال تو کوئی کیا ہی جانے۔۔۔ جو پڑھا، سنا۔۔۔ بڑا ہی ہولناک ہے۔۔۔ ہم تو زندگی کے حُسن میں ایسے کھوئے رہے کہ موت کی بدصورتی بھول ہی گئے۔۔۔ اگلی منزل تاریک تو ہوگی ہی ۔۔۔ کیا کشادہ ہو پائے گی۔۔۔ یا مزید سکڑتی سکڑتی ہماری رہی سہی پسلیاں بھی توڑ دے گی۔۔۔ وہ کون جانے۔۔۔

اگلی منزل کا ایمان تو لازم و ملزوم ٹھرا۔۔۔ اس کے تیاری کتنی مشکل ہے۔۔۔ یہ تیاری کرنے والا ہی جانے۔۔۔ بڑے سے بڑے حوصلے والا بندہ بھی صرف ایک چیز سے مجبور ہے۔۔۔ “نفس”۔۔۔ پھلتا پھولتا۔۔۔ تھپکیاں دے کر سلاتا۔۔۔ منزل سے غافل کرتا یہ نفس۔۔۔ ہر ایک کو مار دیتا ہے۔۔۔ ہر ایک کو پچھاڑ دیتا ہے۔۔۔ ہمارا سینہ نا چاک ہوا۔۔۔ ہمارا ہمزاد تابع ناہوا۔۔۔ تو آسانی کیسی۔۔۔ ہر عمل کر لیا۔۔۔ نیک بھی اور بد بھی۔۔۔ توبہ بھی کر لی۔۔۔ معافیاں بھی مانگ لیں۔۔۔ چھوڑ دیے گناہ۔۔۔ لیکن یہ نفس۔۔۔ پھر بھی سکون سے نا بیٹھا۔۔۔ اور نا بیٹھنے دیا۔۔۔ پھر بھی ہار نا مانا۔۔۔ پھر بھی تابع کرنے کو کوشش کرتا رہا۔۔۔ اور ہمیں شکست دیتا رہا۔۔۔

سانس کے آنے سے سانس کے جانے تک کی یہ جنگ۔۔۔ انسان ہمیشہ درمیاں میں پھنسا رہا۔۔۔ الجھن میں رہا۔۔۔ کیا کروں کہ میں سکون پاوں۔۔۔؟ کیا کروں کہ والدین، اہل و عیال، دوست احباب اور انسانیت ہمارے زریعے اطمینان پائیں۔۔۔ مزید کیا کروں کہ رب خوش ہو جائے۔۔۔ اور میری منزل آسان ہو جائے۔۔۔ میرا آخری گھر ہی پرسکون ہو جائے۔۔۔ یہی سوچ سوچ کر پھنستا گیا۔۔۔ پھنستا گیا۔۔۔ نفس نے نا اسے خوش ہونے دیا۔۔۔ اور نا رب کو۔۔۔ کہیں سکون نا لینے دیا۔۔۔ ساری زندگی ٹھوکریں کھاتا کھاتا جب آنکھیں بند کیں۔۔۔ تو نیا اور مزید تلخ حساب انتظار میں بیٹھا ہے۔۔۔

زندگی لمحہ بہ لمحہ ہاتھوں سے پھسلتی جا رہی ہے اور تیاری ہے کہ ہوتے نہیں ہوتی۔۔۔ نا اِدھر کے رہے ، نا اُدھر کے صنم…

وہ ایک آنسو

مورخہ 14 اپریل۔۔۔
مقام: مسجدِ نبوی ﷺ

بابِ جبرائیل اور بابِ البقیع کے درمیان ایک باریش نوجوان ہاتھ باندھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اقدس کے سامنے با ادب کھڑا تھا۔۔۔۔ میں  نے اس کے پاس سے گزرتے ہوئے اسے دیکھ کر اپنے چلنے کی رفتار کم کر لی۔۔۔  شاید اس کے معصوم چہرے پر ندامت تھی۔۔۔  میں نے چلتے چلتے بس اس کی آنکھوں سے ایک قطرہ آنسو گرتے دیکھا۔۔۔

وہ ایک آنسو مجھے شرمندگی کی اتاہ گہرائیوں میں پہنچا گیا۔۔۔   کہ میری آنکھیں اب بھی خشک تھیں۔۔۔

Pages