عمیر ملک (پانچواں درویش)

مضمون: میری بھینس

اتنی سی بات تھی بس، ذرا سی غلطی کیا ہو گئی ممتحن سے، لوگوں نے بات کا بتنگڑ بنا دیا۔ ایک "سین" اضافی ڈال دیا ایگزامنر نے۔ بھینس پہ مضمون لکھنا تھا۔ کہا بھی تھا کہ جا کر کمرہ امتحان میں کہہ دے کہ "غلطی سے مسٹیک ہو گئی، بھین کی جگہ بھینس پہ مضمون لکھ دو ۔ پورے پندرہ بٹّا پندرہ نمبر آئیں گے۔"

قدرت، معاشرہ اور جنسی تفریق

عورت اور مرد میں جنس کی بنیاد پہ تفریق قدیم ترین انسانی معاشرے کی جڑ ہے۔ معاشرے کی بنیاد دونوں اجناس کے سوسائٹی میں رول ڈیفائن کرنے سے ہی شروع […]

منزل

دنیا کی اس بھیڑ میں ملنے والا ہر شخص ایک چلتی پھرتی داستان ہوتا ہے۔ بندہ نکلتا مغرب کیلئے ہے اور قدرت اسے مشرق میں پہنچا دیتی ہے۔ بعض اوقات […]

مریخ کے پانی کی کہانی

نظام شمسی کا چوتھا سیارہ مریخ، زمانہ قدیم سے ہی انسانوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ قدیم مصری تہذیب سے یونانی اور پھر رومی تہذیب میں بھی مریخ داستانوں […]

آئی ڈونٹ بائے اٹ

اپنے وطن سے محبت یا اپنی افواج کی قربانیوں کی قدر اور اپنے شہداء سے اظہار عقیدت اس بات سے ہی کیوں مشروط ہے کہ ہم اس ورژن سے ہٹ کر نہیں سوچ سکتے جو ہمیں ساری زندگی کتابوں میں پڑھایا گیا ہے؟ کہنے والے کہتے ہیں کہ تاریخ ہمیشہ فاتح کا ساتھ دیتی ہے، بالکل درست۔ لیکن فاتح کون ہے یہ آپ اسی تاریخ سے اخذ نہیں کر سکتے جو اس نے خود لکھی ہو۔ اگر آج کے اس جدید اور انٹرنیٹ کے دور میں بھی آپ وہی چند سکول کی کتابوں والے جملے دہرا کر ایک نئی جنگ بیچنے کی کوشش کررہے ہیں تو بہت معذرت کے ساتھ ”آئی ڈونٹ بائے اِٹ!“۔

سانسوں کی مالا پہ

موسیقی کا شائق کبھی نہ کبھی ضرور استاد نصرت فتح علی خان کو تنہائی میں سن کر سوچوں کی وادی میں کھو جاتا ہے جہاں بیک گراؤنڈ میں سُر اور تال کے ساتھ ایک مصرع اس طرح محسوس ہوتا ہے جیسے گرم لوہے پہ چوٹ پڑتی رہے اور ساتھ ساتھ اس کو ٹھنڈا کرنے کیلئے پانی میں غوطے لگائے جائیں لیکن پھر وہی چوٹ کا سلسلہ اصل شکل کو گُم نہ ہونے دے بلکہ مزید پُختہ کرتا جائے۔

سوال کیجئے!۔

جب میں چھوٹا تھا تو ٹی وی پہ نیلام گھر لگا کرتا تھا، سب گھر والے بیٹھ کر دیکھا کرتے تھے۔ طارق عزیز صاحب مہمانوں سے مختلف سوالات کیا کرتے تھے اور انعامات دیا کرتےتھے۔   ہال مہمانوں سے بھرا ہوتا تھا اور سوالات ہر طرح کے ہوتے تھے۔ مذہبی بھی، سائنسی بھی، تاریخی بھی، […]

مادری زبان کا عالمی دن

آج ”مادری زبان کا عالمی دن“ ہے۔ سنہ 1952ء میں آج ہی کے دن موجودہ بنگلہ دیش (اس وقت کے صوبہ مشرقی بنگال، پاکستان) کے شہر ڈھاکہ میں یونیورسٹی طلباء نے بنگالی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کےحق میں مظاہرہ کیا۔ مظاہرے کے دوران پولیس نے بے قابو مظاہرین پہ گولیاں چلا دیں، […]

نیا جرمنی

پچیس سال پہلے آج ہی کے دن، مشرقی جرمنی کے شہر لائپزگ میں شہر کے مرکز میں واقع نکولائی گرجا گھر کے سامنے ایک احتجاج کیا گیا، جسے ’منڈے ڈیمونسٹریشن‘ ‌(Monday Demonstrاtion or Montagsdemonstration) یعنی ”احتجاجِ سوموار“ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ پہلا احتجاج تھا جس نے بعد کے آنے والے دنوں میں مشرقی اور […]

فیسبک نامہ

میرے فیسبک پہ کوئی ساڑھے کو تین سو ”دوست“ ہیں۔ صبح سے شام تک میری ’وال‘ پہ ہزاروں کی تعداد میں مواد چپکایا جاتا ہے۔ ظاہر ہے یہ سب کچھ دانستہ نہیں چپکایا جاتا بلکہ ایک خود کار ڈھنڈورا سسٹم کے تحت دنیا میں موجود لاکھوں افراد کی پوسٹیں کروڑوں افراد تک پہنچا دی جاتی […]

لالہ لینڈ Lala-land

مجھے اصلی والا رشک محسوس ہوتا ہے ان لوگوں پہ جب کو یہ معلوم ہو کہ وہ باڑھ کے کونسی طرف کھڑے ہیں! ہمیں (ہمیں= میں اور م، ق، س، ن، ع، ر، ت، ی، ہ، و، ج، ک وغیرہ) … ← پڑھنا جاری رکھیں

زبان غیر میں (1)

شاید آپ لوگوں نے کہیں پڑھا ہوگا کہ انسان نے جب معاشرے کی بنیاد رکھی تو اسنے آپس میں میل جول، اور احساسات کے تبادلے کیلئے آواز کا سہارا لیا۔ زمانہ قبل تاریخ میں یہ آوازیں مختلف جانداروں کی آوازوں … ← پڑھنا جاری رکھیں

چاؤ! (اردو بلاگ نگاروں کی پہلی سمندر پار کانفرنس)

سمندر پار اردو بلاگران کی پہلی کانفرنس 25 اپریل تا 27 اپریل، اٹلی کے شہرِ رومان وینس اور اسکے گرد و نواح میں منعقد کی گئی۔ کانفرنس کی میزبانی جناب محترم عالی قدر، تقریبا پروفیسر، ڈاکٹر راجہ افتخار احمد خان … ← پڑھنا جاری رکھیں

بلاگی صورت حال

آجکل عجیب سی صورت حال سے گزر رہا ہوں میں، جب بھی بلاگ پہ کچھ لکھنے کیلئے بیٹھتا ہوں تو ایک بیزاری سی چھا جاتی ہے اور ایسے لگتا ہے جیسے الفاظ ذہن سے باہر نکلنا ہی نہیں چاہ رہے۔ … ← پڑھنا جاری رکھیں

باربر شاپ

بازار کے کونے پہ ایک چھوٹی سی مسجد ہے۔ مسجد کا ایک دروازہ دوسری جانب جی ٹی روڈ کی طرف فٹ پاتھ کے ساتھ کھلتا ہے۔ گیٹ کے بالکل ساتھ دیوار پہ ایک آئینہ لٹک رہا ہے، سامنے ایک پرانی، … ← پڑھنا جاری رکھیں

آلو میتھی [پنجابی نظم]

ایک دوست کی فرمائش پہ ایک تازہ تازہ پنجابی نظم، جسکا عنوان ہے ”آلو میتھی“ منڈا سی اک پنڈ دا میرے نال سکولے جاندا سی نال ای کھیڈ دے ہسدے سی نال ہی سکولوں نسدے سی بیہ کے سٹے لاندے … ← پڑھنا جاری رکھیں

مس حمیرا

مس حمیرا، یہ نام انہیں میرے ایک دوست نے دیا تھا۔ اصل نام تو ان کا عجیب سا ہے، جیسے کہ تمام جرمن نام ہوتے ہیں جو منہ ٹیڑھا کئے بغیر پکارے نہیں جا سکتے۔ ان کے نام میں بھی … ← پڑھنا جاری رکھیں

کھڑکی

[میری یہ تحریر ڈان اردو کی ویبسائٹ پہ آج یعنی 11 فروری،2013 کو شائع ہوئی۔ ڈان اردو کی ویب سائٹ پہ تحریر کا لنک۔] بچپن میں جب ہم کہانیاں سنتے ہیں تو ہمیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ جب ہم … ← پڑھنا جاری رکھیں

بلا عنوان

لُوپ اَنٹل اِنفینیٹی رات کے پونے دو بجے ہیں اور میں اپنے سامنے امتحان کی تیاری کا سارا سامان کھولے بیٹھا ہوں۔ چیپس کا پیکٹ، بھاپ اڑاتا مگ، چاکلیٹس، ٹک ٹک کرتی گھڑی، لیپٹاپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوہ ہاں! کتاب، نوٹس، قلم دوات … ← پڑھنا جاری رکھیں

Pages