غلام عباس

کوانٹم مکینکس

کوانٹم مکینکساس موضوع سے جڑے پچیدہ ریاضیاتی پس منظر اور دقیق مساواتوں سے قطع نظر کچھ سادہ مثالوں سے “کوانٹم مکینکس” کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اس سے بھی پہلے کچھ باتیں کلاسیکل مکینکس بارے۔
سترھویں صدی میں کلاسیکل مکینکس کی باقاعدہ ابتدا مشہور انگریز سائنسدان سر آئزک نیوٹن نے کی تھی، اسی حوالے سے اسے نیوٹن کی مکینکس بھی کہا جاتا ہے۔ طبعیات میں کلاسیکل مکینکس قوت اور اس کے تحت اجسام میں پیدا شدہ حرکات کا علم ہے، مثلاً کلاسیکل مکینکس کے فارمولوں سے ہم اجسام کی حرکت، رفتار، مقام، گردش، حرکت کے راستے وغیرہ کا ٹھیک ٹھیک حساب لگا سکتے ہیں۔ ہم حساب لگا سکتے ہیں کہ اگر بلئیرڈ کی حرکت کرتی ہوئی گیند دوسری گیند سے ٹکرائے گی تو کیا ہو گا؟ اور ٹکرانے کے بعد گیندیں کس سمت اور کتنے فاصلے تک جایں گی۔ ہم حساب لگا سکتے ہیں کہ توپ سے نکلنے والا گولا کس طرح کا راستہ بنائے گا اور کتنی دور جا کر گرے گا۔ ہم سیاروں کی گردش اور مداروں کا حساب لگا سکتے ہیں۔ اب بڑے اجسام تک تو ٹھیک ہے مگر مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ہمارا واسطہ ایٹم اور اس سے بھی چھوٹے اور انتہائی تیز رفتار ذرات سے پڑتا ہے، تب کلائسیکل مکینکس کے تمام کلئیے کام نہیں کرتے اور ان ایٹمی ذرات پر ان کا اطلاق نہیں ہو پاتا۔  تب ہمیں کلاسیکل مکینکس کی بجائے کوانٹم مکینکس سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ چلیں! اسے یوں سمجھتے ہیں۔
اگر آپ مجھ سے دریافت کریں کہ میں اس وقت کہاں ہوں؟ اور میرا جواب ہو، “میں 20 فیصد تو لاہور میں ہوں جبکہ 80 فیصد گجرات میں اور اس کے بیچوں بیچ بھی میرے ہونے کے امکانات موجود ہیں”، تو میرے اس جواب پر آپ کیا کہیں گے؟۔
اگر میں آپ کو بتاؤں کہ کل رات میں نے اپنی گاڑی گیراج میں کھڑی کر کے آہنی دروازہ بند کر دیا تھا مگر صبح دیکھا تو گاڑی گیراج کی موٹی دیواروں کے اندر سے رس کر باہر گلی میں آ گئی جیسے کوئی بھوت، تو میری اس رودار پر آپ کاردعمل کیا ہو گا؟۔
اگر میں کہتا ہوں کہ آج جب میں مسجد میں نماز پڑھنے گیا تو مین ہال کے چار داخلی دروازوں میں سے کسی ایک سے گزرنے کی بجائے چاروں دروازوں سے بیک وقت گزر کر اندر داخل ہوا، تو آپ میرے بارے میں کیا سوچیں گے؟۔
اگر میں بتاتا ہوں کہ میرے گھر میں تین کمرے ہیں جن میں بستر لگے ہوئے ہیں اور میں رات کو تھوڑا تھوڑا چاروں بستروں پر موجود ہوتا ہوں، تو اس پر آپ کا تبصرہ کیا ہو گا؟۔
اگر میں آپ کو بتاؤں کہ ہمارے اردگرد جو چیزیں ہیں یہ اصل میں لہریں ہیں لیکن جب ہم ان پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ ٹھوس شکل اختیار کر لیتی ہیں اس لیے ہمارا یقین بن گیا ہے کہ یہ ٹھوس ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے تو میری اس بات پر آپ کیا کہیں گے؟۔
یقیناً آپ مجھے جھوٹا، خبطی، پاگل، کھسکا ہوا، چھوڑو یا کچھ ایسا خطاب دے کر آگے بڑھ جایں گے۔ اصل میں آپ نے ٹھیک ہی اندازا لگایا کیونکہ ہماری ساری زندگی میں کبھی بھی ایسا کوئی واقع رونما نہیں ہوا ہوتا، لیکن سائنسدانوں نے پایا کہ ایٹمی ذرات کی سطح پر ایسے عجیب واقعات معمول کی بات ہے مثلاً الیکڑان ایک ہی وقت میں کئی جگہوں پر موجود ہو سکتا ہے، ایک ہی وقت میں برقی مقناطیسی لہر بھی ہے اور ذرہ بھی، ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتے ہوئے اس کا کوئی واضع رستہ نہیں ہوتا وغیرہ۔  کلاسیکل مکینکس سے ایسی باتوں کا حساب لگانا ممکن نہیں، لہٰذا اس کے لیے کوانٹم مکینکس بنانا پڑی جس میں کچھ ایسے کلئیے اور مساواتیں ہوتیں جن سے ایٹمی ذرات کے مذکورہ عجیب و غریب رویوں کا حساب لگانا بڑی حد تک ممکن ہو جاتا ہے۔

ایٹم کی کہانی

atom

ہائی سکول میں پڑھائی گئی سائنس میں ہمیں ایٹم اور اس کی ساخت بارے جو کچھ بھی پڑھایا جاتا ہے اور جو بھی تفصیلات بتائی جاتی ہیں وہ اگر ہمیں نہ بھی یاد ہوں تو کم از کم دو چیزیں ضرور ذہن میں رہ جاتی ہیں، اوّل لفظ “ایٹم” اور دوسرا اس سے جڑا یہ تصور کہ یہ بہت ہی چھوٹا ہوتا ہے۔ چلیں! ہم اپنی کہانی کا آغاز بھی انہی دو باتوں سے کرتے ہیں۔
لفظ ایٹم قدیم یونانیوں نے استعمال کیا تھا جس کا مطلب ہے ناقابل تقسیم، یعنی “وہ” جس سے چھوٹا کچھ نہ ہو۔ ہم سکول میں بھی یہ ہی پڑھتے ہیں کہ ایٹم مادے کا چھوٹے سے چھوٹا ذرہ ہوتا ہے جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ ہم ایٹم کو مادے کی اکائی تو کہہ سکتے ہیں مگر یہ ناقابل تقسیم یا مادے کا چھوٹے سے چھوٹا ذرہ نہیں ہوتا۔ ایٹم بھی کئی چھوٹے معلوم اور نامعملوم ذرات پر مشتمل ہوتا ہے اور اب تک ایٹم کے اندر دسیوں ذرے دریافت ہو چکے ہیں جبکہ مزید کی تلاش جاری ہے۔ پرانے خیال کے برعکس ایٹم کو توڑا اور تباہ بھی کیا جاسکتا ہے۔
اگر ایٹم کے حجم یا سائز کی بات کی جائے تو یہ واقعی بہت چھوٹا ہوتا ہے ایٹم کا اوسط حجم لگ بھگ 100 پیکو میٹر ہوتا ہے۔ یہ اتنا چھوٹا حجم ہے کہ اگر دس ارب ایٹموں کو اوپر نیچے یعنی ایک کے اوپر دوسرا جوڑا جائے تو صرف ایک میٹر انچائی ہی بن پائے گی جبکہ دس ارب اتنا بڑا عدد ہے کہ اگر ایک روپے کے دس ارب سکے اوپر نیچے رکھے جایں تو ان کی انچائی پندرہ ہزار کلومیٹر بن جاتی ہے یعنی “کے ٹو” پہاڑ سے پانچ سو گنا ذیادہ۔ ایٹم اسقدر چھوٹا ہوتا ہے کہ اسے دیکھنا ممکن ہی نہیں اور ایسی کوئی بصری خوردبین نہیں بن سکتی جس سے آنکھ لگا کر ہم ایٹم کو دیکھ سکیں۔ حالانکہ الیکٹران خوردبین سے کچھ ایسی تصویریں بنائی گئی ہیں جس میں ایٹموں کی قطاریں نظر آتی ہیں مگر یہ طریقہ آنکھ سے دیکھنے جیسا نہیں ہے بلکہ یہ یوں ہے کہ جیسے کسی چیز کو گھپ اندھیرے مین ٹٹولا جائے اور پھر اسی حساب اور احساس کے بل بوتے پر تصویر بنا لی جائے۔ ایٹم کے اسقدر چھوٹا ہونے کے باوجود ہم نے ایٹم کے بارے میں بہت کچھ جان لیا ہے۔ مثلاُ ہم مختلف ایٹموں کو الگ الگ پہچان سکتے ہیں، ان کے مرکزوں میں موجود ذرات گن سکتے ہیں۔ مرکزوں کے گرد گردش کرتے الیکٹران گن سکتے، ایٹم کے مرکزے میں موجود پروٹان اور نیوٹران پھر یہ ذرات جن بنیادی ذرات کے ملنے سے بنے ہیں کا حساب لگا سکتے۔ ہم ایٹم اور اس کے اندر موجود ذرات کا وزن(کمیت) معلوم کر سکتے، ہم ان ذرات پر موجود چارج کی مقدار معلوم کر سکتے ہیں،ہم ان کے گھومنے کی سمت جان سکتے ہیں۔ ہم جان چکے ہیں کہ ایٹم کا سارے کا سارا وزن اس کے انتہائی چھوٹے مرکزے میں ہوتا ہے اور ایٹم کے اندر باقی بہت سی جگہ بالکل خالی ہوتی ہے۔ اگر زمین پر رہنے والے تمام انسانوں کے جسموں میں موجود ایٹموں کے اندر سے تمام خالی جگہ نکال دی جائے تو تمام کے تمام انسان اپنے تمام تر وزن کے ساتھ ایک ماچس کی ڈبی میں سما جایں گے۔
اب یہاں سوال یہ ہے، کہ ایک نہ نظر آنے والے انتہائی چھوٹے ذرے سے متعلق سائنس نے یہ سب کچھ کیسے معلوم کر لیا؟ اس سوال کے جواب کے لیے ہمیں قدیم یونانی فلسفی “دی مقراطیس” (Democritus) سے شروع کرنا پڑے گا۔

آج سے تقریباً پچیس سو سال پہلے لگ بھگ ارسطو کے دور میں ایک یونانی فلسفی “دی مقراطیس” نے سوچا کہ اگر کسی بھی چیز کو کاٹ کر دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے اور پھر ان میں سے ایک حصہ لے کر اسے ایک بار پھر دو حصوں میں کاٹ دیا جائے اور تقسیم در تقسیم کا یہ سلسلہ جاری رکھا جائے تو ہم ایک ایسے انتہائی چھوٹے ذرے تک پہنچ جایں گے جسے مزید تقسیم کرنا ممکن نہ ہوگا، دی مقراطیس وہ شخص تھا جس نے پہلی دفعہ ایسے ناقابل تقسیم ذرے کے لیے “ایٹم” کا لفظ استعمال کیا۔ دی مقراطیس نے کہا کہ کائنات میں موجود تمام مادہ ایٹم نامی چھوٹے ذرات سے مل کر بنتا ہے بالکل اسی طرح جس طرح اینٹوں سے مل کر مکان بنتے ہیں۔ “دی مقراطیس” نے مختلف چیزوں کے ایٹموں کے شکل اور ساخت میں مختلف ہونے کی بات کی۔ “دی مقراطیس” کا خیال تھا کہ چیزوں کا ذائقہ ان کے ایٹموں کی شکلوں پر منحصر ہوتا ہے۔ ایٹم کے بارے میں “دی مقراطیس” کا نظریہ تجربات اور سائنسی شہادتوں پر مبنی نہیں تھا، اس نے کوئی عملی تجربہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ محض غور فکر کی بات تھی۔ “دی مقراطیس” کے خیال کو ہم ایک سائنسی نظریہ نہ بھی مانیں پھر بھی وہ ایک سائنسی نظریے کی ابتدا ضرور تھا۔ ایٹم سے متعلق “دی مقراطیس” کا ایٹمی ماڈلزیہ نظریہ لگ بھگ بائیس سو سالوں تک کسی تبدیلی یا بہتری کے بغیر جوں کا توں قائم رہا۔
“دی مقراطیس” کے بعد انیسویں صدی کے شروع میں انگریز سکول ماسٹر اور سائنسدان “جان ڈالٹن” (John Dalton) وہ پہلا شخص تھا جس نے ایٹمی نظریے کو آگے بڑھایا۔ یہ انیسویں صدی کے شروع کی بات ہے جب بھاپ سے چلنے والا انجن دن بدن اہمیت اختیار کر رہا تھا، انہی دنوں میں “جان ڈالٹن” نے بھاپ اور دوسری گیسوں پر درجہ حرارت کے اثرات بارے کئی تجربات کئے، مختلف گیسوں کے بلکا یا بھاری ہونے کی جانچ کی اور اپنے مشاہدے اور تجربات سے حاصل دیٹا کی بنیاد پر1808 میں پہلا باقاعدہ ایٹمی ماڈل پیش کیا۔ “جان ڈالٹن” کے ایٹمی ماڈل کے بنیادی نکات کچھ اس طرح سے تھے۔
1۔ مادہ انتہائی چھوٹے ذرات پر مشتمل ہوتا ہے جہیں ایٹم کہتے ہیں۔
2۔ ایٹم کو تقسیم، تباہ یا پیدا نہیں کیا جا سکتا۔
3۔ ایک عنصر(مثلاً لوہا) میں پائے جانے والے تمام ایٹم ہم شکل، ہم وزن ہوتے ہیں اور ایک جیسی خصوصیات رکھتے ہیں۔
4۔ جب دو عناصر مل کر مرکب بناتے ہیں تو ان میں سادہ نسبت ہوتی ہے مثلاً دو ایک، تین چار وغیرہ، یہ نہیں کہ ڈھائی، ساڑھے چار وغیرہ۔
5۔ مرکبات بننے کے عمل میں نئے ایٹم نہیں بنتے بلکہ ایٹم نئی ترتیب پا جاتے ہیں مثلاُ جب ہم کاسٹک سوڈا اور نمک کے تیزاب کو ملاتے ہیں تو پانی اور نمک بن جاتا ہے اب پانی اور نمک میں موجود ایٹم وہی ہیں جو کاسٹک سوڈا اور نمک کے تیزاب میں تھے صرف وہ نئی ترتیب پا گئے ہیں۔
“جان ڈالٹن” کے اس ایٹمی ماڈل کو جدید ایٹمی نظریے کی بنیاد مانا جاتا ہے۔ اس ماڈل میں کچھ باتیں تو وہی “دی مقراطیس” والی ہیں جیسے ایٹم کا انتہائی چھوٹا اور ناقابل تقسیم ہونا اور ایک عنصر کے ایٹموں کا ہم شکل ہونا وغیرہ جبکہ ایٹم کے وزن اور مرکبات بننے کے عمل کی ایٹمی وضاحت نیا اضافہ تھا۔ بہرحال “جان ڈالٹن” نہیں جانتا تھا کہ ایٹم کی ساخت کیا ہے؟ اور دو مختلف عناصر کے ایٹموں میں ساخت کے اعتبار سے کیا فرق ہوتا ہے؟، یا ایٹم کا حجم کتنا ہے۔ اس کے نذدیک ایٹم ایسا ناقابل تقسیم ٹھوس ذرہ تھا جو کئی شکلوں اور اوزان جے جے تھامسنمیں پایا جاسکتا ہے۔
انیسویں صدی کی آخری دہائی میں جب بجلی اور بلب ایجاد ہو چکے تھے تب انگریز سائنسدان “جے جے تھامسن” (J. J. Thomson) نے شیشے کی نلی میں کم پریشر پر بھری گیسوں سے بجلی گزارنے بارے مسلسل تجربات کئے۔ جے جے تھامسن کے تجربات “کیتھوڈ ریز ٹیوب” پر مشتمل تھے۔ اگر ہم روشنی کے لیے استعمال ہونے والے انرجی سیور یا ٹیوب لائیٹ راڈ کو ذہن میں لائیں تو جے جے تھامسن کی کیتھوڈ ریز ٹیوب کو بہت آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ ٹیوب لائیٹ راڈ صاف شیشے کی نلی سی ہوتی ہے جس کے دونوں سروں پر بجلی سے جوڑنے کے لیے تاریں لگی ہوتی ہیں جنہیں الیکٹروڈ کہا جاتا ہے۔ نلی میں ہلکے پریشر پر گيس بھر دی جاتی ہے اور نلی کے اندر کی طرف سفید رنگ کا پاوڈر چپکا دیا جاتا ہے جو بجلی گزارے جانے سے پیدا ہونے والی شعاعوں کے ٹکرانے سے چمکتا ہے اور ٹیوب روشن معلوم ہوتی ہے۔ “جے جے تھامسن” کی ٹیوب بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ “تھامسن” نے کہا کہ جب ٹیوب کے الیکٹروڈز کو ہائی وولٹ کی بجلی سے جوڑا جاتا ہے تو منفی سرے سے مخصوص شعاعیں خارج ہونے لگتی ہیں جو نظر نہیں آتیں مگر جب یہ ٹیوب میں بھری گیس یا ٹیوب کے اندر لگائے گئے مخصوص مادے سے ٹکرتی ہیں تو وہ چمکنے لگتا ہے۔ چونکہ یہ شعاعیں منفی سرے سے خارج ہو رہی تھیں اور منفی سرے کو کیتھوڈ کہتے ہیں لہٰذا انہیں کیتھوڈ ریز کا نام دیا گیا۔ “تھامسن” نے جب ان شعاعوں کو مقناطیسی میدان اور چارج برادار پلیٹوں کے درمیان سے گزارا تو وہ مثبت چارج والی پلیٹ کی طرف جُھک گئيں جس سے واضع ہو گیا کہ وہ منفی چارج کی حامل ہیں، مزید دیکھا گیا کہ وہ مقناطیسی میدان سے بھی مڑتی ہیں۔ “تھامسن” نے نتیجہ نکالا کہ یہ شعاعیں اصل میں منفی چارج رکھنے والے تیز رفتار ذرات ہیں جو کہ وزن بھی رکھتے ہیں۔ انہی ذرات کو الیکڑان کا نام دیا گیا۔ یہ ایٹم کے اندر پائے جانے والے پہلے ذرے کی دریافت تھی۔ جے جے تھامسن نے مزید تجربات کئے اور ان ذرات پر موجود چارج اور ان کی کمیت کی نسبت معلوم کی یعنی تھامسن نے حساب لگایا کہ اگر ایک گرام الیکٹران ہوں تو ان پر اتنا چارج ہو گا۔ تھامسن کا یہ کام سائنس کے لیے بہت بڑی پیش رفت تھی جس کے اعتراف میں اسے 1906 میں نوبیل انعام دیا گيا۔ “تھامسن” نے اپنی اس دریافت سے ایٹم کے اندر کی عجیب و غریب دنیا کا دروازہ کھول دیا تھا۔
“جے جے تھامسن” کے تجربات سے چند سال پہلے جرمن سائںسدان “گولڈ سٹین” (Goldstein) یہ جان چکا تھا کہ گيس ڈسچارج ٹیوب میں جہاں منفی سرے سے شعاعیں خارج ہوتی ہیں وہاں مثبت شعاعیں بھی موجود ہیں جنہیں گولڈ سٹین نے “کینال ریز” کا نام دیا۔ اب جہاں “جے جے تھامسن” نے دریافت کیا کہ کیتھوڈ ریز منفی چارج رکھنے والے تیز رفتار ذرات(الیکٹران) ہیں وہاں مثبت شعاعوں کی دریافت اس بات کی دلیل تھی کہ ایٹم کے اندر مثبت چارج بھی موجود ہے۔
ایٹم سے متعلق اس ساری معلومات کے تحت “جے جے تھامسن” نے ایٹم کا جو خاکہ بنایا وہ کچھ یوں تھا، “ایٹم مادے کا چھوٹے سے چھوٹا ذرہ ہے جس کے اندر یکساں طور پر پھیلے ہوئے مثبت چارج میں منفی چارج رکھنے والے الیکٹران یوں پھنسے ہوتے ہیں جیسے فروٹ کیک کے اندر خشک میوے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے پھنسے ہوتے ہیں، یوں الیکٹرانوں کا منفی چارج اردگرد پھیلے مثبت چارج سے متوازن ہو جاتا ہے”۔ اس اعتبار سے “جے جے تھامسن” کے اس ایٹمی ماڈل کو “پلم پڈنگ ماڈل” ( plum pudding model) کہا گيا۔ پلم پڈنگ فروٹ کیک کی طرح کا ایک میٹھا ہے جو انگلستان میں کرسمس کے تہوار پر بنایا جاتا ہے۔
رادرفورڈیہاں تک بننے والے ایٹم کے خاکے میں انتہائی اہم اضافہ نیوزی لینڈ میں پیدا ہونے والے انگریز سائنسدان “رادر فورڈ” (Ernest Rutherford) نے کیا۔ “رادر فورڈ” وہ سائنسدان ہے جسے نیوکلیائی طبعیات کا باپ کہا جاتا ہے۔ “رادر فورڈ” کو (Michael Faraday)”ما‏ئیکل فراڈے” کے بعد سب سے بڑا سائنسی تجربہ کار مانا جاتا ہے۔ “رادرفورڈ” کو تابکاری کے متعلق کام پر 1908 میں کیمسٹری کا نوبیل انعام دیا گیا۔
“رادر فورڈ” کی ایٹمی تحقیق اور ایٹمی ماڈل پر بات کرنے سے پہلے چند باتیں تابکاری کے بارے میں۔ قدرت میں کچھ عناصر(مثلاً ریڈیم، یورینیم، پلوٹونیم وغیرہ) ایسے پائے جاتے ہیں جن سے مسلسل نہ نظر آنے والی شعاعیں خارج ہوتی رہتی ہیں۔ آپ نے ایسی گھڑی تو ضرور دیکھی ہو گی جس کا ڈائیل اندھیرے میں چمکتا ہے، یا گھریلو بجلی کے ایسے سوئچ جو ہلکی روشنی خارج کرتے ہیں اور اندھیرے میں بخوبی نظر آ جاتے ہیں۔ اصل میں ایسی گھڑیوں یا بجلی کے سوئچوں میں تابکار عنصر “ریڈیم” (radium) ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ شعاعوں کے ٹکرانے پر روشنی خارج کرنے والا مادے(fluorescent material) بھی شامل کر دیا جاتا ہے، ہوتا یہ ہے کہ ریڈیم سے نکلنے والی شعاعیں اس کے ساتھ ملے چمکنے والے مادے سے ٹکراتی ہیں تو وہ ہلکی روشنی دینے لگتا ہے۔
“رادرفورڈ” نے تابکار شعاعوں کی دھار کو جب مقناطیسی میدان سے گزارا تو وہ تین قسموں میں تقسیم ہو گئیں جنہیں ایلفا، بیٹا، اور گیما شعاوں کا نام دیا گیا، ان میں الفا شعاعیں مثبت چارج والے نسبتاً بھاری ذرات تھے۔ الفا شعاعوں کو لے کر “رادرفورڈ” (اور اس کے ساتھیوں) نے 1913 میں”گولڈ فوائل تجربہ” (Gold foil Experiment) کیا(اصل میں یہ تجربات کا سلسلہ تھا)۔ اس تجربے میں “رادر فورڈ” نے الفا شعاعوں کی دھار بنائی اور اُس کے سامنے سونے کا ایک باریک ورق رکھ دیا، “رادرفورڈ” دیکھنا چاہتا تھا کہ سونے کے ورق سے ٹکرانے کے بعد شعاعیں کیا ردعمل دیتی ہیں۔ ورق سے ٹکرانے کے بعد شعاعیں کس طرف کو جاتی ہیں یہ جاننے کے لیے رادرفورڈ نے ورق کے اردگرد فوٹوگرافک پلیٹ یا فلم رکھ دی جس پر شعاعوں کے ٹکرانے سے دھبے پڑ جاتے ہیں اور اس سے پتہ چل جاتا ہے کہ وہ (شعاعیں) کہاں کہاں اور کس مقدار میں ٹکرائیں تھیں۔ کئی مرتبہ تجربہ دہرانے کے بعد “رادرفورڈ” نے پایا کہ ذیادہ تر الفا ذرات بغیر کسی رکاوٹ کے سونے کے ورق کے پار بالکل سیدھا گزر جاتے ہیں حالانکہ ورق میں کوئی سوراخ یا مسام نہیں تھے۔ جبکہ کچھ ذرات بہت بڑے زاویوں پر مڑ جاتے ہیں اور کچھ ورق سے ٹکرا کر واپس پلٹ جاتے ہیں۔ سونے کے ورق سے ذیادہ تر الفا ذرات کا سیدھا گزر جانا اس باتی کی دلیل تھا کہ ایٹم کے اندر بہت سی جگہ بالکل خالی ہے جبکہ کچھ ذرات کے بڑے زاویوں پر مڑنے سے پتہ چلا کہ ایٹم کے اندر مرکز میں نسبتاً چھوٹی مگر انتہائی ٹھوس چیز موجود ہے، “رادرفورڈ” نے اسے نیوکلئيس(مرکزہ) کا نام دیا۔ سونے کے ورق والے تجربے کے بعد “رادرفورڈ” نے ایٹم کا جو خاکہ بنایا وہ کچھ یوں تھا:-
ایٹم میں بہت سی جگہ خالی ہے۔
اور اس کے مرکز میں ایک ٹھوس نیوکلئيس موجود ہوتا ہے۔
ایٹم کے نیوکلئيس میں مثبت چارج پایا جاتا ہے۔جب کہ منفی چارج والے الیکٹران نیوکلئيس کے گرد گردش کرتے ہیں۔
ایٹم کا اصل وزن (کمیت) اس کے نیوکلئیس میں ہوتا ہے۔
الیکٹرانوں اور مرکز میں موجود مثبت چارج کے درمیان برقی کشش ہوتی ہے لہٰذا یہ مرکز کے گرد اسی طرح چکر لگاتے ہیں جیسے زمین سورج کے گرد کشش ثقل کی وجہ سے چکر لگاتی ہے۔
“ردرفورڈ” کے اس ایٹمی ماڈل سے “جے جے تھامسن” کے پلم پڈنگ ماڈل کا رد ہو گیا جس میں مثبت اور منفی چارج باہم ایک ساتھ ملا ہوا بتایا گیا تھا۔ لیکن “رادر فورڈ” کے اس ماڈل کے ساتھ بھی کچھ مسائل تھے مثلاً ایک اہم مسئلہ یہ تھا کہ ایک گردش کرتا ہوا چارج بردار ذرہ (الیکٹران) لازمی توانائی خارج کرے گا لہٰذا اس کی رفتار جلد کم ہو جائے گی اور وہ ایٹم کے مرکز سے ٹکرا جائے گا اس طرح ایٹم تباہ ہو جائے گا جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ “رادر فورڈ” کے ماڈل کے اس مسئلے کا حل ڈینمارک کے سائسندان “نیلز بوہر”(Niels Bohr) نے پیش کیا۔
بیسیوں صدی کے شروع میں جب بلب ایجاد ہو چکا تھا تب مشہور جرمن سائنسدان “میکس پلانک” (Max Planck) نے بلب کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے “بلیک باڈی ریڈی ایشن” کے سلسلہ وار تجربات شروع کئے۔ پلانک معلوم کرنا چاہتا تھا کہ بلب فلامنٹ کے درجہ حرارت اور اس سے خارج ہونے والی روشنی کی نوعیت، ان دو چیزوں کا ریاضیاتی تعلق کیا ہے۔ میکس پلانک کے تجربات سے حاصل ہونے والی معلومات کچھ ایسی تھی کہ جس کی وضاحت “رادرفورڈ” کے ایٹمی ماڈل کی روشنی میں نہیں ہو سکتی تھی۔ پھر اس کی وضاحت ” بوہر” نے پیش کی۔
“بوہر” نے بتایا کہ ایٹم کا مثبت چارج اس کے مرکز میں ہوتا ہے جبکہ منفی چارج والے الیکٹران اس مرکز کے گرد مخصوص مداروں یا چھلوں میں گردش کرتے ہیں، بالکل اسی طرح جس طرح سورج کے گرد زمین اور دیگر سیارے گردش کرتے ہیں، فرق بس یہ ہے کہ سیاروں کی گردش کشش ثقل کے باعث جبکہ الیکٹران کی گردش برقی قوت کے باعث ہوتی ہے۔ لیکن جب ایٹم کو(حرارت وغیرہ کی شکل میں) توانائی دی جاتی ہے جیسا کہ بلب کے فلامنٹ کا معاملہ ہے تو اس کے الیکٹران توانائی جذب کر کے نیچے والے مداروں سے اوپر والے مداروں میں چلے جاتے ہیں، پھر جب یہ الیکٹران دوبارہ نیچے اپنے مدار میں لوٹتے ہیں تو روشنی کی شکل میں وہ ہی توانائی خارج کر دیتے ہیں جو جذب کی تھی۔ “نیلز بوہر” نے ایک عجیب بات بتائی کہ الیکٹران گردش کرتے ہوئے مخصوص مدار میں ہی رہتا ہے جبکہ دو مداروں کے درمیان موجود جگہ میں کبھی کسی صورت نہیں پایا جاتا، مطلب ایک مدار سے دوسرے مدار میں چھلانگ لگاتے ہوئے الیکٹران درمیانی راستے میں کبھی بھی موجود نہیں ہوتا یعنی ایک مدار سے غائب ہو کر دوسرے مدار میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ اصل میں یہ کونٹم فزکس کی ابتدا تھی۔ “رادرفوڈ” اور “بوہر” جانتے تھے کہ ایٹم کے اندر الیکٹران اور پروٹان کے علاوہ بھی کوئی ذرہ موجود ہے جو ایٹم کے وزن میں بڑا حصہ رکھتا ہے۔ 1922 میں “بوہر” کو فزکس کا نوبیل انعام دیا گیا۔
نیوٹران1932 میں انگریز سائنسدان “جیمز چیڈوک” (James Chadwick) نے پلونیم سے پیدا کی گئی الفا شعاعوں کو بریلیم دھات سے گزارا تو بغیر چارج رکھنے والی شعاعیں خارج کرنے لگی جو کہ اصل میں نیوٹران تھے۔ جب “چیڈوک” نے ان نیوٹرل شعاعوں کو موم سے گزارا تو یہ موم سے مثبت چارج والی شعاعیں یعنی پروٹان خارج کرنے کا باعث بن گئيں۔ اس تجربے سے “چیڈوک” نے نتیجہ نکالا کہ ایٹم کے مرکزہ میں مثبت چارج والے پروٹان کے ساتھ بغیر چارج والا نیوٹران ذرہ بھی موجود ہے جو وزن میں پروٹان ہی کا ہم پلہ ہے تبھی تو وہ موم سے مثبت شعاعوں یعنی پروٹان کو نکال سکا۔ “چیڈوک کی اس دریافت پر 1935 میں اسے نوبیل انعام دیا گیا۔
یہاں تک بننے والا ایٹم کا تصور کچھ یوں تھا کہ ایٹم مادے کی اکائی ہے۔
ایٹم کے مرکز میں پرٹان اور نیوٹران پائے جاتے ہیں۔ جبکہ مرکز کے گرد لیکٹران مخصوص مداروں مین گردش کرتے ہیں۔
ایٹم میں الیکٹران اور پروٹان کی تعداد ایک جیسی ہوتی ہے۔ یعنی جتنے الیکٹران اتنے ہی پروٹان۔
ایٹم کا اصل وزن پروٹان اور نیوٹران پر مشتمل ہوتا ہے۔
تقریباً اسی دور میں نوبیل انعام یافتہ جرمن سائنسدان ” ہائزن برگ” اور نوبیل انعام یافتہ آسٹرین سائنسدان “شروڈنگر” نے پتہ چلایا کہ ایٹمی سطح پر انتہائی چھوٹے ذرات کے مقام اور حرکت بارے ٹھیک سے کچھ نہیں بتایا جا سکتا اور صرف امکان بتایا جا سکتا ہے کہ فلاں ذرے کے فلاں جگہ ہونے کے اتنے امکانات ہیں۔ “شروڈنگر” نے جو مساوات دی اس سے ہم ایٹم کے مرکزہ کے گرد گردش کرنے والے الیکٹرانوں کے موجود ہونے کے امکان کا نقشہ بنا سکتے ہیں۔ مثلاُ یوں کہا جا سکتا ہے کہ الیکٹران مرکز کے گرد کسی سیارے کی طرح گردش کرنے کی بجائے شہد کی مکھیوں کی طرح بہت تیزی سے بھنبھناتے رہتے ہیں اور ایک بادل سا بنا لیتے ہیں۔ اب ہم امکانات کے اس بادل کا نقشہ تو بنا سکتے ہیں مگر الیکٹرانوں کی حرکت اور مقام بارے ٹھیک سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔
پروٹانایٹم اور اس کے اندر موجود ذروں کی ساخت اور حقیقت بارے جاننے کے لیے سائنسدانوں نے سوچا کہ کیوں نہ ایٹم اور اس کے اندر موجود ذروں کو توڑا جائے اور دیکھا جائے کہ اندر سے کیا برآمد ہوتا ہے۔ اس کام کے لیے “پارٹیکل ایکسلریٹرز” کی مدد لی جاتی ہے۔ پارٹیکل ایکسلریٹرر ایس مشین ہوتی ہے جو کس بھی چارج بردار ذرے کو کمپیوٹر سے کنٹرول کئیے گئیے برقی مقناطیسوں کی مدد سے بہت ہی تیز حرکت دے سکتی ہے۔ پھر ان تیز رفتار ذروں کو آپس میں ٹکرایا جاتا ہے اور انتہائی حساس الات کی مدد سے برآمد ہونے والے مادے اور توانائی کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ کچھ اسی طرح کے تجربات کی بنا پر آج ہم ایٹم کے اندر کئی درجن قسم کے   ذرات کا پتہ چلا چکے ہیں۔ مثلاً آج ہم جاتنے ہیں کہ ایٹم کے مرکزہ میں پایا جانے والا مثبت ذرہ پروٹان تین کوارک اور تین گلوآن پر مشتمل ہوتا ہے۔
lhcفرانس اور سوٹزرلینڈ کے بارڈر پردنیا کا سب سے بڑا پارٹیکل ایکسلریٹر چند سال پہلے ہی مکمل کیا گیا ہے جس کا نام “لارج ہیڈران کولائیڈر” (Large Hadron Collider) ہے۔ یہ تقریباً 27 کلومیٹر لمبی دائرے کی شکل کی سرنگ میں واقع ہے جو کہ لگ بھگ 600 فٹ کی گہرائی میں زمین کے اندر بنائی گئی ہے۔ 2013 اسی ایکسلریٹر میں دو ذرات کو روشنی کی قریبی رفتار سے ٹکرایا گیا اور “ہگس بوسون” (Higgs boson) نامی ایک نئے ذرے کی تصدیق ہو گئی جو کہ پہلے سے متوقع تھا۔
ہیگس بوسون کی طرح ہو سکتا ہے کسی دن یہ خبر آ جائے کہ ایٹم کے اندر موجود کشش ثقل کے ذمہ دار تصوراتی ذرے گریویٹان (Graviton) کی تصدیق ہوگئی ہے۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یہ سائنس کی دنیا میں بہت اہم دن ہو گا۔
آج سائنسدان اس بات کی کھوج کرنے میں جٹے ہیں کہ ایٹم میں موجود بنیادی ذرات کی حقیقت کیا ہے؟ ایک نظریہ یہ ہے ان ذرات کے پیچھے توانائی کی تھرتھراتی تاریں ہیں جو ان ذرات کو وجود بخشتی ہیں۔ توانائی کی ان تھرتھراتی تاروں کا یہ جدید نظریہ سٹرنگ تھیوری (string theory) کہلاتا ہے۔ بہرحال مادے کی حقیقت جانے کی یہ کھوج شاید کبھی ختم نہ ہو گی کہ جہاں کائنات میں بے حساب مادہ ہے کیا پتہ وہاں ایک ذرے میں پوری کائنات پوشدہ ہو۔

تلاش

بابا جی :- (جذبے کے ساتھ) “اُس کا ہر کام کرم، اُس کا ہر فعل عدل، دکھ بھی اُس کے، سکھ بھی اُس کے، میں بھی اُس کا تم بھی اُس کے”۔
میں:- “بابا جی! آپ زندگی کے ہر پہلو ہر معاملے کو خدا تعالٰی سے منسوب کرتے ہیں- آپ کی تعلیم ہمیشہ یہ ہی ہوتی ہے کہ خوشی، غم، صحت بیماری، امیری غریبی، عزت ذلت، زندگی موت سب اُسی کی طرف سے ہے۔ لیکن بابا جی! آپ اُن لوگوں کی زندگی بارے کیا کہیں گے جو اللہ تعالٰی کو سرے سے مانتے ہی نہی!”
بابا جی:- (مسکرا کر) “بیٹا! انسان تو انسان اس کائنات میں کوئی ایسی چیز کوئی ایسا ذی روح نہیں ہے جو خدا کا انکار کر سکے”۔
میں:- “مگر بابا جی دنیا میں ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں جو ڈنکے کی چوٹ پر ناصرف خدا کا انکار کرتے ہیں بلکہ مذہب کو انسانی عقل کی اختراع بتاتے ہیں، ان کے نذدیک خدا کا تصور ایک وہم سے ذیادہ اور کچھ بھی نہیں”۔
بابا جی :- “بیٹا! وہ خدا کا انکار نہیں کرتے، خدا کا انکار تو ممکن ہی نہیں”۔
میں:- “بابا جی! کیسے ممکن نہیں؟”
باباجی:- “بیٹا! اگر میں کہوں جہاں ہم بیٹھے ہیں اس جگہ دنیا کا سب سے بڑا خزانہ دفن ہے تو کیا آپ میری بات مان لو گے؟ بھلے آپ میری بات سے اتفاق نہ کرو، بھلے آپ لاکھ دلیلیں دو کہ یہاں خزانہ ہونے کے امکانات انتہای کم ہیں لیکن بیٹا ٹھوس انکار آپ بہرحال نہیں کرسکو گے، کیا پتہ خزانہ موجود ہی ہو۔ بیٹا جی! اقرار نہ کرنے کا مطلب ہمیشہ انکار نہیں ہوتا۔
میں:- “بابا جی! اگر وہ خدا کا انکار نہیں کر سکتے تو پھر وہ کس چیز کا انکار کرتے ہیں؟”
بابا جی:- “بیٹا! وہ تو خدا کے اُس تصور کا انکار کرتے ہیں جو ہم نے اپنے ذہنوں میں بنا رکھا ہوتا ہے۔ یاد رکھو! خدا کا تصور جس قدر مجسم ہو گا، جس قدر انسانی شخصیت سے مشابہ ہو گا، اس کا انکار اسی قدر آسان ہو جائے گا۔ بیٹا جی! ایک بات کا خیال رہے، جس طرح لفظ “خدا” خدا نہیں ہوتا، اسی طرح خدا کا تصور بھی خدا نہیں ہوتا”۔
میں:- “بابا جی! تو پھر خدا کا تصور کیسا ہونا چاہیے؟”
بابا جی:- “بیٹا جی! یہ ہی تو خدا کی تلاش ہے”۔

وائلن

x15867660
یہ اندازاً کوئی دس بارہ سال پرانا قصہ ہو گا جب میرے ایک بھتیجے کو یکا یک موسیقی کا شوق لاحق ہو گیا۔ فنون لطیفہ کی راہ پکڑنے کا یہ الہامی جذبہ اسقدر شدید تھا کہ اس نے نِری خواہش سے ایک قدم آگے بڑھنے کی ٹھانی اور موسیقی کے معاملے میں عملی منازل طے کرنے کا مصمم اردہ کر بیٹھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب(کسی دوست کی وساطت سے) ہم ایک عدد باجا خرید چکے تھے اور گھر والوں سے چوری شہر کے ایک انتہائی غیر معروف استاد کے زیر سايہ ہارمونیم کی بنیادی مشقیں باہم پہنچا رہے تھے۔ بھتیجا جو کہ موسیقی سے متعلق ہماری خفیہ پیش رفت سے باخوبی واقف تھا ایک دن بڑے رازدارانہ انداز میں ہم سے ملنے آیا۔ اپنی مخفی خواہش کے اظہار کے بعد اُس نے مذکورہ معاملے میں ہم سے مفید مشورے اور مدد کی اپیل کی۔ بھتیجے کا ہمارے علم و تجربے سے فیضیابی کا ارادہ دیکھ کر جہاں ہم اس کی مردم شناسی کے قائل ہوئے وہاں اپنے سینئر ہونے کا خوشگوار احساس بھی دل میں لہرانے گیا۔ بس اسی جذباتی کیفیت میں اسے دل کی گہرائی سے موسیقی پر لمبا چوڑا لیکچر سنایا اور فی الفور ایک عدد ہارمونیم خریدنے کو کہا، تاکہ نومولود ولولے کو شروع سے ہی کارگر راہ پر ڈالا جا سکے ۔ اب ظاہر ہے ہارمونیم خریدنے کی ذمہ داری ہمیں کو نبھانی تھی ،لیکن مشکل یہ تھی کہ اس بارے ہمارا علم شرمناک حد تک محدود تھا بلکہ ہمیں تو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ الاتِ موسیقی کی دکانیں کہاں پائی جاتی ہیں۔ خیر اس سلسلے میں اپنے ایک دوست سے بات ہوئی اور پھر ان کے ایک قریبی دوست شاہ صاحب سے ملاقات ہوئی جو کلاسیکی موسیقی کے اچھے بھلے ماہر تھے۔ ملاقات بہت خوشگوار رہی، شاہ صاحب نے کشور کمار کے دو تین گانے سنائے اور پھر راگ مالکونس میں خیال سنایا، شاہ صاحب کے آکار اور تانوں پر ہم نے یوں پھڑک کر واہ واہ کی جیسے ہمیں سب سمجھ آئی ہو۔ اس ملاقات میں لاہور جانے کا دن طے ہو گیا اور شاہ صاحب نے ہارمونیم خریدنے میں ہمارے مدد کرنے کی حامی بھر لی۔
طے شدہ دن جب ہم لاہور جا رہے تھے تو دوران سفر ہونے والی گفتگو میں ہم پر انکشاف ہوا کہ الات موسیقی کی دکانیں بدنام بازار ہیرا منڈی میں ہوتی ہیں۔ خیر ہمیں اس سے کیا، ویسے دل میں ایک خفیف سی خوشی بھی پیدا ہوئی کہ چلو اسی بہانے یہ بازار اور شاید اس سے وابسطہ مخصوص “نظارے” بھی دیکھنے کو مل جایں، مگر افسوس ایسا کچھ نہ ہوا۔ پوچھتے پچھاتے جب ہم وہاں پہنچے تو دن کے بارہ بج رہے تھے۔ تقریباً سبھی دکانیں کھل چکی تھیں، ہم نے ایک ایک کر کے دکانوں کا دورہ کرنا شروع کیا۔ سب سے پہلے ایک بڑی دکان پر گئے، ہارمونیم خریدنے، اس کی جانچ کرنے اور پسند کرنے کی ذمہ داری چونکہ شاہ صاحب نے اٹھا لی تھی لہٰذا ہم اس معاملے سے بے نیاز ادھر ادھرے رنگ برنگے ساز دیکھنے لگے۔ طبلے طنبورے، ڈھولک بانسری، ستار سرمنڈل اور سرنگی جیسے مشرقی سازوں سے لے کر گٹار، وائلن، سیلو، ڈرم، وائیولا، کلارنٹ، ہارن، ٹرمپیٹ الغرض ہر طرح کے ساز شوکیسوں میں دھرے ہوئے تھے۔ وائلن سیکھنے اور بجانے کی ہماری ازلی اور رومانوی خواہش کی وجہ سے شوکیس میں پڑا ایک اٹالین وائلن دیکھ ہم رہ نا سکے اور سیلز مین سے ساز دیکھانے کو کہا۔ سیلز مین نے وائلن شوکیس سے نکالا اور ہولے سے ہمارے آگے رکھ دیا، ساتھ ہی ساتھ اس نے رٹی رٹائی پیشہ ورانہ گفتگو بھی چالو کر دی، ” جناب یہ بہت عمدہ اٹالین وائلن ہے، بڑے بڑے ماہر اسی کمپنی کا ساز استعمال کرتے ہیں آپ آنکھیں بند کر کے لے جایں یہ اپنا میعار خود ثابت کرے گا قیمت بھی چائنا کے وائلن سے بہت ذیادہ نہیں” وغیرہ وغیرہ۔۔ ہمارے لیے سچ مچ کے وائلن کو ذاتی ہاتھوں میں پکڑ کر دیکھنے کا یہ پہلا موقع تھا لہذا سیلز مین کی باتیں ہمیں بالکل بھی سنائی نہیں دے رہی تھیں ، ہم تو شوق کے مارے کسی بچے کی طرح اسے یوں ہی الٹ پلٹ کر دیکھنے اور ٹٹولنے میں مصررف تھے۔ ہمیں اسقدرمحو دیکھ کر سیلز مین کسی دوسرے گاہک کی طرف متوجہ ہو گیا اور اسی دوران جب ہم نے وائلن کا تسلی بخش مشاہدہ کر لیا تو اسے کاندھے پر رکھ کر بجانے کی سوچی۔ بڑے انداز سے اس کی گردن پکڑی انگلیاں تاروں پر دھریں اور چِن “ریسٹ” پر تھوڑی جما کر کمان(بو) تاروں پر پھیرنی شروع کی( جیسا کہ فلموں میں دیکھ رکھا تھا)۔ حیرت اس بات پر ہوئی کہ کمان تاروں پر پھیرنے سے کوئی آواز برآمد نہ ہو سکی۔ تیزی سے، دبا کر، زور سے ، جھٹکے کے ساتھ حتٰی کہ ہر طرح سے کمان چلائی مگر آواز ندارد۔ اتنے میں سیلز مین ادھر آ گیا، ہم نے کسی قدر شرمندگی کے ساتھ پوچھا کہ بھائی یہ بجتا کیوں نہیں؟ سیلز مین جسے ہمارے اناڑی ہونے پر ذرہ برابر بھی شک نہیں رہا تھا مسکرایا اور بولا جناب کمان کو ابھی بروزہ ہی نہیں لگا تو آواز کہاں سے آئے۔ ہم نے کھسسیانی سی ہنسی کے ساتھ وائلن سیلز مین کے حوالے کر دیا، اسی دوران شاہ صاحب نے کئی ہارمونیم ٹرائی کر لیئے تھے اور ہمیں اگلی دکان پر جانے کے لیے بلا رہے تھے۔
اگلی دوکان پر پہنچ کر شاہ صاحب پھر ہارمونیم دیکھنے میں مشغول ہو گئے اور ہماری نظریں وائلن تلاش کرنے لگیں۔ ہم نے پچھلی دکان سے حاصل تجربے کو کام میں لاتے ہوئے ریک میں پڑے وائلن کی طرف اشارہ کیا اور بڑے اعتماد سے کہا ” وہ والا اٹالین وائلن دکھاؤ”۔ دکاندار ہماری وائلن شناسی سے تھوڑا متاثر ہوا اور جھٹ سے وائلن اور کمان ہمارے ہاتھ میں تھما دی۔ وائلن ہاتھ میں پکڑتے ہی ہم نے اسے بڑے ماہرانہ انداز میں تھوڑی کے نیچے رکھ لیا اور دکاندار کی طرف کمان سے اشارہ کرے کے بڑے سنجیدہ لہجے میں پوچھا کیا بروزہ لگا ہوا ہے ؟ دکاندار نے عاجزی سے کہا جی سر چیک کرنے کے لیے تھوڑا سا لگا رکھا ہے۔ ہم نے کندھے اچکا کر اور مسکرا کر اوکے کہا۔ ہماری ان باتوں سے دکاندار ہمیں وائلن کا ماہر سمجھ بیٹھا تھا اور بہت متوجہ ہو گیا تھا۔ ہم نے ہلکے سے کمان تاروں پر پھیری جس سے چی ی آں ں ں۔۔ کی آواز آئی۔ دوکاندار جو کہ دل چھو قسم کی موسیقی کی امید میں بڑے انہماک سے ہمیں گھور رہا تھا سمجھا کہ شاید ہم نے ساز کی سیٹنگ چیک کر نے کو یہ آواز نکالی ہے اور ابھی ہم آنکھیں بند کر کے من موہ لینے والے سر بکھیرنے والے ہیں ۔ ہم نے دوبارہ کمان چلائی، چاں ں ں چاں چاں ں چیں ں ں چاں چک۔ یہ سنتے ہی دکاندار نے ہمیں عجیب سی نظروں سے دیکھا اور شاہ صاحب کی طرف چلا گیا جو ہارمیونیم پر راگ بھیرویں کے پلٹے بجانے میں مصروف تھے۔

ہمدردی

شام ڈھل چکی تھی اور رات کا سرمگیں تسلط جمنے لگا تھا۔ پرندے گھروں کو لوٹ چکے تھے۔ ہوا ٹھہر گئی تھی، درخت خاموش تھے اور ندی کا پانی شانت۔
ندی سے ذرا ہٹ کر چراگاہ کے اس پار پیڑوں کے ایک چھوٹے سے جھنڈ میں جنگلی انجیر کے درخت کی ایک جھکی سی شاخ پر ایک بلبل سہما بیٹھا تھا۔ ارد گرد پھیلتی رات کی سیاہی تھی، خاموشی اور چھوٹے بڑے درختوں کے ہیولے۔
پاس سے اک جگنو گزرا۔ وہ ساتھ کے کھیت سے آیا تھا جہاں اس کے کئی ساتھی آندھی سے گرے کیکر کے ایک سوکھے درخت کی ٹہنیوں میں ٹمٹما رہے تھے۔ جگنو اپنی روانی میں بتی جلاتا ہوا بلبل کے پاس سے گزرا، سرسری سا بلبل کی طرف دیکھا اور آگے بڑھ گیا، پھر اچانک رکا، پلٹا اور آہستہ سے اڑتا ہوا اسی ٹہنی پر جا بیٹھا جس پر بلبل بیٹھا ہوا تھا۔
خیریت تو ہے، اس وقت یہاں؟ جگنو نے تعجب اور کسی قدر رعب سے پوچھا۔
ہاں خیرت ہے، وہ ذرا دیر ہو گئی ہے۔ بلبل نے ڈرا سا جواب دیا۔
اچھا اندھیرے سے گھبرا رہے ہو، ہوں! جگنو مسئلہ بھانپ کر بولا۔
ہاں جی وہ مجھے گھر جانا تھا اور رات ہو گئ ہے۔
تو اس میں منہ لٹکانے والی کون سی بات ہے؟ اُڑو اور گھر چلے جاؤ۔ جگنو نے چھیڑنے کے انداز میں کہا۔
جی چلا تو جاؤں لیکن اندھیرا بہت ہے اور مجھے کچھ دیکھائی نہیں دے رہا۔
ہوں!! تو تمہیں پہلے نہیں پتہ تھا کہ رات کو اندھیرا ہو جائے گا اور گھر جانے میں مشکل ہو گی۔ جگنو کو اپنے سے کہیں بڑے پرندے پر شکنجہ کسنے کا موقع ملا۔
جی! بس یوں ہی اڑتے چگتے دن گزر گیا۔ بلبل کسی قدر شرمندگی سے بولا۔
اس طرح تو ہوتا ہے نا اس طرح کے کاموں میں، لاپرواہی کا نتیجہ یوں ہی نکلا کرتا ہے، جو بوؤ گے کاٹنا تو پڑے گا، اب جو چنتا سے کملائے جا رہے ہو اگر شام سے پہلے ہی احساس کر لیا ہوتا تو اس وقت تم اپنے گھونسلے میں ہوتے۔ جگنو نے وعظ کا مزہ لیتے ہوئے لمبی سنائی۔
جی بجا فرماتے ہیں آپ مگر۔۔۔ بلبل کچھ کہتے کہتے رک گیا۔
اب اگر مگر سے کیا ہو گا! سمجھدار پرندے صبح سویرے طے کر کے گھر سے نکلتے ہیں کہ دن کو کیا کچھ کرنا ہے، کدھر جانا ہے کدھر نہیں جانا، کب واپسی کا سفر شروع کر دینا ہے، اب بے اعتدالی اور لاپرواہی کا نتیجہ تو یہ ہی کچھ ہوتا ہے نا۔ جگنو نے عالمانہ انداز میں نصیحت کی۔
جی بالکل! اب میں کبھی لاپرواہی نہیں کروں گا۔
جب تک ٹھوکر نہ لگے عقل آتی کب ہے!! جگنو نے ڈانٹ کر کہا اور جانے کے لیے اڑا۔
وہ اگر آپ گھر جانے میں میری تھوڑی سی مدد کر دیتے اللہ نے آپ کو روشنی دی ہے۔ بلبل نے نرمی سے التجا کی۔
جگنو نے بلبل کی طرف دیکھا اور زہریلی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، آج اگر میں تمہاری مدد کر بھی دوں تو مجھے یقین ہے کل پھر تمہارے ساتھ یہ ہی کچھ ہو گا لحاظہ بہتر یہ ہی ہے کہ تم آج رات اسی شاخ پر گزارو اور عبرت پکڑو۔ جگنو نے کہا اور آگے بڑھ گيا۔
اتنے میں بلبل پر پانی کی ایک بوند گری، بلبل اسے بارش کی بوند سمجھا، لیکن وہ بارش کا قطرہ نہیں تھا، وہ تو آنسو تھا جو ایک بوڑھے جگنو کی روح کی آنکھ سے ٹپکا تھا۔

 

چشمے پر چشمہ

بابا جی :- کیا چاہتے ہو بیٹا؟ کوئی حسرت، کوئی خواہش، کوئی مقصد حیات۔
میں:- کچھ نہیں بس وہ۔۔۔
بابا جی :- ہاں ہاں بیٹا کہو شرماؤ نہیں۔
میں :- بس بابا جی کچھ ضرورتیں ہیں، کچھ ضروری کام ہیں کرنے کے۔
بابا جی :- بولو بیٹا بولو۔
میں :- بس بابا جی ایک گھر چاہیے تھا اچھا سا کسی بڑی سوسائٹی میں مل جائے تو، ذیادہ نہیں کوئی سات آٹھ کنال بس، بڑا سا درآمدی پودوں والا لان، ووڈ ورک اور امریکن کچن، سوئمنگ پول تو خیر ہوتا ہی ہے۔ ہاں بجلی کا مستقل متبادل بھی۔
بابا جی:- بس سمجھو ہو گیا، اور کیا چاہتے ہو بیٹا؟
میں:- کچھ نہیں دو تین گاڑیاں ہو جایں۔ ایک جیگوار سپورٹس کار گھومنے پھرنے کے لیے، ایک ہمر ایچ ٹو ایڈوینچر واسطے، اور ایک لگژری بی ایم ڈیبلیو فیملی کے ساتھ جانے آنے کے لیے۔ اور ہاں ایک سوزوکی کی ہیوی بائیک، مجھے سوزوکی پسند ہے۔
بابا جی :- کوئی بات نہیں بیٹا جو چاہتے ہو جتنا چاہتے ہو آرام سے سوچ سمجھ کر بتاؤ۔
میں :- بس بابا جی کچھ سمجھ نہیں آ رہا ویسے بھی میں فطرتا” کچھ قناعت پسند واقع ہوا ہوں بہرحال رہائش کے قریب ہی کوئی کمرشل پراپرٹی مل جائے جس کی آمدن اتنی ہو کہ گھر باہر کے سارے اخراجات پورے کر کے کوئی ستر فیصدی پیسے بچ جایا کریں، میں وہ بینک میں رکھتا جاؤں گا، اس کے علاوہ ایک انٹرنیشنل پاسپورٹ بھی تاکہ کہیں جانے آنے میں دقت نہ ہو۔ اور کسی باہر کے بینک میں کچھ رقم مشکل وقت کے لیے رکھوا دیں، ذیادہ نہیں کوئی پچیس تیس ملین ڈالر سے گزارا چل جائے گا۔
بابا جی :- کوئی اور بات ہو، شہرت حکمرانی وغیرہ تو بیٹا بلا جھجک کہہ لو۔
میں :- شکریہ بابا جی، باقی دو ایک چیزیں اور بھی مطلوب ہیں مجھے کہتے ہوئے شرم آتی ہے، چلیں ان کا بندوبست میں خود ہی کر لوں گا۔
بابا جی :- ٹھیک ہے یہ سب کچھ آج سے ٹھیک بیس دن بعد تمہارے پاس ہو گا۔ لیکن بیٹا ایک بات تو بتاؤ
میں :- جی بابا جی حکم کیجیئے۔
بابا جی :- آج سے بیس دن بعد تمہاری زندگی کا مقصد کیا ہو گا؟
میں :- جی!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا جی :- بیٹا! جب تک دنیاوی خواہشوں کا گہرا رنگین چشمہ نہیں اتارو گے تمہیں اصل مقصد حیات کی نفیس روشنی کیسے نظر آئے گی؟ تم تو ایک چشمے پر ایک اور چشمہ اور پھر اس پر بھی ایک اور چشمہ لگانا چاہتے ہو۔

 

کشش ثقل

کشش ثقلکشش ثقل یا گریوٹی(Gravity)،کائنات کے بڑے رازوں میں سے ایک۔ ایک ایسی قوت جو نہ صرف ہمیں زمین پر ٹکائے ہوئے ہے بلکہ سیاروں ستاروں کہکشاؤں کو بھی آپس میں اسی نے باندھ رکھا ہے۔ یہ کشش ثقل ہی ہے جس کی بدولت زمین سورج کے گرد محو گردش ہے اور چاند زمین کے چکر کاٹ رہا ہے۔ ہمارے تمام مصنوعی سیارے جن میں مواصلاتی سیارے، جی پی ایس کے سیٹلائیٹ، کئی تحقیقاتی سیارے، حبل دوربین اور متعدد خلائی سٹیشن یہ سب کشش ثقل ہی کے سہارے خلا میں معلق رہتے ہیں۔ یہ کشش ثقل ہی ہے جس نے ہمیں اس قابل بنایا کہ ہم ڈیم بنا کر پانی سے بجلی پیدا کریں، اسی قوت کے سبب بارش کے قطرے زمین کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں اور یہ ہی وہ قوت ہے جو ہمارے اردگرد موجود تمام چیزوں کو زمین پر جمائے رکھتی ہے۔ یہ ہی وہ طاقت ہے جو گرم گیسوں سے بنے سورج کو بکھرنے نہیں دیتی اور اسی نے سیاروں کو اپنے مداروں کا پابند بنا رکھا ہے۔ یہ قوت ہمیں ہر وقت محسوس ہوتی رہتی ہے۔ ‎سیڑھیاں چڑھتے اور اترتے ہوئے، کوئی وزن اٹھاتے اور نیچے رکھتے ہوئے، تالاب میں کنکر پھینکتے اور چھلانگ لگاتے ہوئے ہر جگہ ہر وقت یہ ہمارے ساتھ ساتھ ہے۔ یہ ہمارے جسم اور اندرونی عضا پر مسلسل اثر انداز ہوتی رہتی ہے۔ لیکن اس پراسرار قوت کی حقیقت کیا ہے؟ اس بے مثال طاقت کے سوتے کہاں سے پھوٹتے ہیں؟ اخر اس ثقلی کھچا‎ؤ(Gravitational pull) کا مرکز کہاں ہے؟
زمان و مکاں
نیوٹن اور کشش ثقل

اس موضوع پر گفتگو کا آغاز ساڑھے تین صدیاں پہلے انگریز سائنسدان سر آئزک نیوٹن کے سیب گرنے والے گھسے پٹے واقعہ سے ہی کرنا پڑے گا۔ نیوٹن وہ سائنسدان تھا جسے نہ صرف کشش ثقل کے تصور بلکہ جدید طبعیات کا باپ مانا جاتا ہے۔ جب نیوٹن نے گرتے ہوئے سیب کو دیکھا تو سوچا، آخر ایسا کیا ہے جس نے سیب کو زمین کی طرف کھینچا؟ نیوٹن ایک ذہین شخص تھا لہذا اس کی سوچ یہاں تک محدود نہ رہی بلکہ اس نے مزید سوچا کہ اگر سیب گرتا ہے تو چاند کو بھی گرنا چاہیے اور زمین سے ٹکرا جانا چاہیے، لیکن ایسا کیوں نہیں ہوتا؟ انہی سوالوں کو لے کر نیوٹن نے مزید غوروحوض کیا اور کشش ثقل کا قانون پیش کیا۔ نیوٹن نے کہا کہ کائنات میں موجود ہر مادی چیز دوسری مادی چیز کو ایک خاص قوت سے اپنی طرف کھینچتی ہے جسے کشش ثقل کہتے ہیں۔ کھچا‎ؤ کی اس قوت کا انحصار دونوں مادی اجسام میں موجود مادے کی مقداروں اور ان کے درمیانی فاصلہ پر ہوتا ہے۔ اجسام میں مادے کی مقدار جتنی ذیادہ ہو گی ان کے درمیان پائی جانے والی کشش بھی اتنی ذیادہ ہو گی، اجسام کا درمیانی فاصلہ جس قدر بڑھتا جائے گا کشش بھی اسی حساب سے کم ہوتی جائے گی۔ نیوٹن نے چاند کی گردش کا حساب لگایا اور کہا کہ چاند کشش ثقل کے زیر اثر مسلسل زمین پر گر رہا ہے، مگر وہ اپنی گردشی رفتار کی وجہ سے کبھی بھی زمین سے نہیں ٹکراتا۔ یعنی چاند ایک مخصوص رفتار سے اپنے مدار میں گھوم رہا ہے اور اگر اس کی رفتار کو کسی طریقے سے کم کردیا جائے یا روک دیا جائے تو وہ کچھ ہی وقت میں زمین سے ٹکرا جائے گا۔ یہاں مزے کی بات یہ ہے کہ نیوٹن نے کشش ثقل کے اس قانون کی جو مساوات دی وہ آج بھی رائج ہے اور بالکل ٹھیک کام کرتی ہے۔ چاند پر بھیجے گئے اپولو مشن سمیت آج بھی خلا میں بھیجے جانے والے راکٹوں، مصنوعی سیاروں اور ان کے مداروں کا حساب لگانے کے لیے نیوٹن کی مساواتوں کا کامیابی کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ بہرحال عجیب بات یہ ہے کہ نیوٹن جس نے دنیا کو کشش ثقل کے تصور سے روشناس کرایا اور اتنی اہم مساواتیں دیں کشش ثقل کی حقیقت بارے کچھ نہیں جانتا تھا کہ یہ کیا ہے، کہاں سے آتی ہے اور کیسے کام کرتی ہے۔
نیوٹن نے کشش ثقل کی جو وضاحت پیش کی وہ کچھ یوں ہے کہ کشش ثقل بغیر کسی واسطے کے اثرانداز ہونے والی قوت ہے اور یہ بالکل اسی طرح کام کرتی ہے جیسے کسی چیز کو رسی سے باندھ کر کھینچا جائے۔ کشش ثقل کے کھچا‎ؤ کا رخ اجسام کے مرکزوں کی طرف ہوتا ہے اور اس قوت کو اثر انداز ہونے کے لیے وقت اور واسطہ درکار نہیں ہوتا۔ اگر دو جسموں کے درمیان بہت طویل خلا ہے تب بھی یہ قوت وقت لیے بغیر یکساں طور پر اثر انداز ہوتی رہے گی۔
آئین سٹائین اور کشش ثقل
نیوٹن سے ڈھائی صدیاں بعد یعنی آج سے لگ بھگ سو سال پہلے سویزرلینڈ کے شہر برن میں کام کرنے والا ایک معمولی سا کلرک بہت غیر معمولی کام کرنے والا تھا۔ اس کا ذیادہ تر وقت سوچ بچار اور ذہنی تجربات میں گزرتا۔ وہ ایک بہت بڑے سائنسی نظریے کی بنیاد رکھ رہا تھا جس سے کشش ثقل کے تصور کو ایک نئی وضاحت ملنے والی تھی۔ یہ معمولی کلرک اور غیر معمولی ذہانت کا مالک البرٹ آئین سٹائين تھا۔
آئین سٹائين روشنی پر کام کرتے ہوئے جب اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ کائنات میں کوئی بھی چیز روشنی کی رفتار سے تیز سفر نہیں کرسکتی تب اس نے ایک ذہنی تجربہ کیا۔ آئین سٹائین نے سوچا کہ اگر سورج ایک دم مکمل طور پر ختم ہو جائے تو کیا ہوگا؟ نیوٹن کے مطابق سورج کے ختم ہوتے ہی سورج کی کشش بھی ختم ہو جائے گی اور سورج کے گرد گردش کرنے والے تمام سیارے فورا اپنے مداروں سے نکل کر خط مستقیم پر سفر کرنے لگیں گے۔ اب یہاں نیوٹن کی وضاحت کے ساتھ ایک مسئلہ پیدا ہو گیا۔ مسئلہ یہ تھا کہ روشنی کو سورج سے زمین تک پہنچنے میں آٹھ منٹ لگتے ہیں، اب اگر سورج ایک دم ختم ہو جاتا ہے تو زمین اپنا مدار چھوڑنے کے بعد بھی آٹھ منٹ تک روشن ہی رہے گی۔ آئین سٹائين نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کیوں کہ کوئی بھی چیز حتی کہ کشش ثقل بھی روشنی سے تیز نہیں ہو سکتی لہذا سورج کے ختم ہو جانے کے بعد بھی آٹھ منٹ تک زمین اپنے مدار میں قائم ہی رہے گی۔ اب سوال یہ تھا کہ سورج کی کشش تو سورج کی وجہ سے ہے جب سورج ہی ختم ہو گیا تو ایسا کیا ہے جو زمین کو آٹھ منٹ تک مدار میں قائم رکھے گا؟ تب آئین سٹائین اس نتیجے پر پہنچا کہ کشش ثقل یا ثقلی کھچاؤ نامی کوئی چیز سرے سے موجود ہی نہیں ہے اصل میں ہو گا یہ کہ جب سورج غائب ہو گا تو سپیس ٹائم(Space time)میں ایک ثقلی لہر پیدا ہو گی جو روشنی کی رفتار سے سفر کرتی ہوئی زمین کے مدار تک پہنچے گی جس کے ساتھ ہی زمین اپنے مدار سے نکل جائے گی۔ آئین سٹائین کے مطابق نیوٹن کی یہ وضاحت غلط تھی کہ کشش ثقل ایک نہ نظر آنے والی رسی کی طرح چیزوں کو زمین کے مرکز کی طرف کھینچتی ہے۔
آئین سٹائین کے مطابق کشش ثقل مادی چیزوں کے اندر سے نکلنے والی کھچاؤ کی کوئی پراسرار قوت نہیں بلکہ چیزوں کے گرد موجود سپیس ٹائم کی خمیدگی ہے۔ دوسرے لفظوں میں زمین چیزوں کو اپنی طرف نہیں کھینچتی بلکہ زمین کے گرد سپیس ٹائم میں پڑنے والا خم چیزوں کو زمین کی طرف دھکیلتا ہے۔ نیوٹن کے مقابلے آئین سٹائین کی یہ وضاحت تھوڑی پیچ دار اور مبہم سی ہے، چلیں! آئین سٹائین کے اس تصور کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سب سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ سپیس ٹائم(Space time) یا زمان و مکاں کیا ہے؟فرض کریں ہمارے اردگرد موجود تمام چیزیں غائب ہو جاتی ہیں، تمام چیزیں یعنی عمارتیں، لوگ، درخت، پہاڑ، ہوا، پانی، پوری کی پوری زمین، پھر ستارے سیارے کہکشائیں حتی کہ انتہائی چھوٹے ذرات، سب کچھ غائب ہو جاتا ہے تو پیچھے کیا بچے گا؟ ہم کہیں گے کچھ بھی نہیں! اصل میں یہ ہی “کچھ نہیں” سپیس ہے۔ سپیس وہ گنجائش ہے جس میں تمام مادی اجسام موجود ہیں اور آگے پیچھے، دائیں بائیں اور اوپر نیچے حرکت کر سکتے ہیں۔ نیوٹن کا ماننا تھا کہ سپیس ایک سٹیج کی طرح ہے اور اسی سٹیج پر کائنات کے تمام عوامل رونما ہوتے ہیں لیکن یہ غیر متغیر اور غیر عامل ہوتی ہے۔ نیوٹن کے برعکس آئین سٹائین نے بتایا کہ کہ سپیس غیرمتغیر نہیں ہوتی بلکہ یہ بھی کائنات میں رونما ہونے والے عوامل میں حصہ لیتی ہے، یہ پھیلتی اور سکڑتی ہے، بل کھاتی اور لچک لیتی ہے۔ آئین سٹائین نے کہا کہ وقت بھی سپیس کی طرح مستقل اور غیر متغیر نہیں ہوتا بلکہ یہ بھی پھیلتا اور سکڑتا ہے یعنی مختلف جگہوں پر وقت کی رفتار مختلف ہو سکتی ہے۔ آئین سٹائین نے وقت اور سپیس کے لیے ایک مشترکہ اصطلاح “سپیس ٹائم” استعمال کی۔ آئین سٹائین کے مطابق تمام مادی اجسام سپیس ٹائم پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اس میں خم پیدا کر دیتے ہیں۔ مادی جسم جس قدر بڑا ہو گا اسی قدر ذیادہ خم ڈالے گا اور جتنا ہلکا ہو گا سپیس ٹائم کا خم بھی اسی حساب سے کم ہو گا۔ آپ یوں سمجھ لیں کہ مادی اجسام اپنے مادے کی مقدار کے حساب سے سپیس ٹائم میں ایک گڑھا بنا دیتے ہیں اور اردگر کے دوسرے چھوٹے مادی اجسام سپیس ٹائم کے اس گڑھے میں گرنے لگتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ بڑا جسم چھوٹے اجسام کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے حالانکہ بڑے جسم کے اردگرد سپیس ٹائم میں پڑنے والا خم انہیں بڑے جسم کی طرف دھکیل رہا ہوتا ہے۔ یعنی سیب درخت سے ٹوٹ کر اس لیے نہیں گرتا کہ زمین اسے اپنی طرف کھینچتی ہے بلکہ زمین کے گرد موجود سپیس ٹائم اسے زمین کی طرف دھکیلتا ہے۔ آئین سٹائین نے ایسی مساواتیں دیں جن سے ہم حساب لگا سکتے ہیں کہ کتنا بڑا جسم سپیس ٹائم میں کتنا بڑا اور کیسا گڑھا ڈالے گا۔
کشش ثقل بارے آئین سٹائین کی اس وضاحت کی جانچ کے لیے 1976 میں گریوٹی پروب اے اور پھر 2004 میں گریوٹی پروب بی کا تجربہ کیا گیا اور پایا گیا کہ کشش ثقل بارے آئین سٹائین کے فارمولے اور وضاحت بالکل درست ہے۔ گریوٹی پروب اے میں دو آئٹمی گھڑیوں میں سے ایک کو زمین پر رکھا گیا اور ایک کو زمین سے دور خلا میں بھیج دیا گیا پھر کچھ وقت گزرنے کے بعد جب زمین والی گھڑی اور خلا میں موجود گھڑی کے وقت کا موازنہ کیا گیا تو پتہ چلا زمین کے نذدیک موجود گھڑی کا وقت خلا میں بھیجی گئی گھڑی کی نسبت سست تھا۔ گریوٹی پروب بی میں ایک مصنوعی سیارہ خلا میں بھیجا گیا اور اس میں موجود آلات کے ذریعے کچھ پیمائشیں کی گئیں جن سے ثابت ہو گیا کہ زمین اپنے گرد موجود سپیس ٹائم میں خم ڈال رہی تھی۔ ان دونوں مذکورہ تجربات سے حاصل شدہ اعداد و شمار آئین سٹائین کی مساواتوں سے حاصل شدہ نتائج سے سو فیصد ہم آہنگ تھے۔ بہرحال آئین سٹائين نہیں جانتا تھا کہ مادی چیزوں کے اندر ایسا کیا ہے جو سپیس ٹائم کو موڑ دیتا ہے۔
کشش ثقل دیگر قوتوں(جیسے برقی مقناطیسی قوت) کی نسبت ایک کمزور قوت ہے مثلا” ایک چھوٹے سے مقناطیس کی کشش عام مشاہدے میں آ جاتی ہے مگر دو چھوٹے مادی اجسام کے درمیان پائی جانے والی کشش ثقل اس قدر کمزور ہوتی ہے کہ عام مشاہدے میں نہیں آتی۔ یعنی ایک بہت بڑا پتھر یا پورے کا پورا پہاڑ بھی اتنی کشش ثقل نہیں رکھتا کہ ہتھیلی میں سما جانے والے ایک چھوٹے سے کنکر کو اپنی طرف کھینچ سکے۔ لیکن کائنات میں ایک جگہ ایسی بھی ہے جہاں مادہ اپنے انتہائی چھوٹے حجم اور کشش ثقل اپنے عروج پر ہوتی ہے، وہ جگہ ہے “بلیک ہول”۔ بلیک ہول یا سیاہ گڑھا ایک مردہ ستار ہوتا ہے جو اپنی ہی کشش کی وجہ سے ایک نقطہ پر سکڑ جاتا ہے، اس کی کشش اس قدر طاقت ور ہو جاتی ہے کہ یہ سپیس ٹائم اور روشنی کو بھی اپنے اندر گھسیٹ لیتا ہے۔ جو چیز بھی بلیک ہول کے نذدیک جاتی ہے وہ اسی میں دفن ہو جاتی ہے۔ بلیک ہول کی بے پناہ کشش اور انتہائی کم حجم کی وجہ سے اس کے اندر آئین سٹائین کا سارے کا سارا نظریہ اور تمام مساواتیں فیل ہو جاتی ہین۔
موجودہ دور کے سائنسدان اس کوشش میں ہیں کہ کشش ثقل کی کوئی ایسی وضاحت سامنے آ سکے جس کا اطلاق بلیک ہول کے اندر اور آئٹم سے چھوٹے ذروں پر بھی کامیابی سے کیا جا سکے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ائٹم سے بہت چھوٹا گریویٹان(Graviton) نامی کوئی ذرہ ہے جو کشش ثقل کا اصل ذمہ دار ہے لیکن ابھی تک وہ سائنس کی نظروں سے اوجھل ہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہمیں گریویٹان کا سراغ مل جاتا ہے تو شاید ہم کشش ثقل کے بارے اس بات کو انجام تک پہنچا سکیں جو نیوٹن نے شروع کی اور آئین سٹائین نے اسے
آگے بڑھایا۔ بہرحال یوں لگتا ہے جسے گریویٹان کے مل جانے پر بھی کشش ثقل کی “اصل” تک پہنچنے کا سفر ختم نہیں ہو گا۔

روشنی

روشنیکئی دنوں سے اس موضوع پرکچھ لکھنا چاہ رہا تھا مگر مصروفیت کچھ ایسی بے ترتیب اور غیر متوقع سی رہی کہ ناکام رہا۔ آپ میری اس وضاحت کو سستی کا جواز سمجھ لیجیے۔ کبھی کبھی تو صورت حال کچھ ایسی رہی کہ بقول خالد مسعود “اکی سکنٹ دی ویہل وی کوئی نہی تے بہورا جنا کم وی کوئی نہی”(ایک سیکنڈ کی فرصت بھی نہیں ہے اور تھوڑا سا کام بھی نہیں ہے)۔ بہرحال آج ارادہ کیا ہے کہ کچھ نہ کچھ ضرور لکھ کر ہی رہوں گا۔
روشنی ، جسے سائنس کی ‍زبان میں دیکھائی دینے والی روشنی کہا جاتا ہے ہماری کائنات کا انتہائی اہم جز ہے۔ میرے جیسے ایک عام آدمی کے لیے روشنی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہی ہے کہ یہ ہمیں دیکھنے کے قابل بناتی ہے، یعنی جب یہ چیزوں سے ٹکرا کر ہماری آنکھ کے اندر پہنچتی ہے تو ہی ہم دیکھ سکتے ہیں۔قدیم لوگ بشمول ارسطو روشنی کو ایک پراسرار اور غیر مرئی چیز سمجھتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ روشنی ایک جگہ سے دوسری جگہ وقت لیے بغیر اور سفر کئے بغیر ہی پہنچ جاتی ہے۔ ارسطو کا ماننا تھا کہ روشنی کا کوئی وجود تو ضرور ہے مگر اس کی رفتار لامتناہی ہے۔ بہرحال تب بھی کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ روشنی کی رفتار لامتناہی نہیں ہوتی۔ پھر جوں جوں سائنسی فکر نے ترقی کی تو انسان نے جان لیا کہ روشنی کو بھی فاصلہ طے کرنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے اور یہ بھی مخصوص رفتار رکھتی ہے۔ آج ہمیں روشنی کی ٹھیک ٹھیک رفتار معلوم ہے اور اس کی فطرت اور ماہیت سے متعلق بھی ہم نے بہت کچھ جان لیا ہے، مگر شاید اس کی پراسراریت آج بھی کم نہیں ہوئی۔
آج سے تقریبا ایک ہزار سال پہلے مسلم سائنسدان البیرونی اور ابن الہیشم یہ بات جانتے تھے کہ روشنی لامتناہی رفتار نہیں رکھتی اور روشنی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔ سترھویں صدی میں گلیلیو اور اس کے ہم عصر سائنسدانوں نے روشنی کی رفتار ناپنے کے لیے تجربات کا آغازکر دیا تھا اور یہ سلسلہ شاید آج بھی جاری ہے۔ بیسویں صدی کے درمیان میں ہم روشنی کی رفتار بہترین درستگی کے ساتھ جان چکے تھے جو کہ خلا میں سفر کرتے ہوئے 299,792,458 میٹر فی سیکنڈ ہے۔ یہاں ایک بات بتاتا چلوں کہ روشنی کی رفتار کثیف واسطوں میں سست ہو جاتی ہے مثلا پانی کے اندر چلتے ہوئے روشنی کی رفتار225,563,010 میٹر فی سیکنڈ رہ جاتی ہے جبکہ شفاف شیشے میں یہ اور بھی سست ہو جاتی ہے اسی طرح ہیرے کے اندر اس کی رفتار خلا کی نسبت آدھے سے بھی کم رہ جاتی ہے۔
کچھ عرصہ قبل امریکہ کی ہاورڈ یونیورسٹی میں کئی تجربات کئے گئے جن میں روشنی کو مخصوص واسطوں سے گزار کر اسقدر سست کر دیا گیا کہ ایک وقت کے لیے وہ بالکل ساکن ہو گی۔ یہاں مزے کی بات یہ ہے کہ جب بھی روشنی کثیف واسطے سے نکل کر دوبارہ خلا میں داخل ہوتی ہے تو پھر سے اپنی اصل رفتار پر چلنے لگتی ہے ، لیکن روشنی کی رفتارسے جڑا اس سے بھی عجیب اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کائنات میں کوئی چیز روشنی کی رفتار سے تیز سفر نہیں کر سکتی اور خلا میں روشنی کی رفتار اصل میں کائناتی حد رفتار ہے۔ یعنی ہم کچھ بھی کر لیں، روشنی کی رفتار کو شکست نہیں دے سکتے، یہ بات آئین سٹائین نے ایک صدی پہلے بتا دی تھی۔
ستمبر 2011 میں سو‎ئزرلینڈ فرانس کے بارڈر پر بنائے گے دنیا کے سب سے بڑے پارٹیکل کولائیڈر(Large Hadron Collider) میں ایک تجربہ کیا گیا اور پایا گیا کہ کچھ ایٹمی ذرات(Neutrino) روشنی کی رفتار سے تیز سفر کر سکتےہیں۔ اس غیر معمولی نتیجے نے ایک نئی بحث کو جنم دیا کہ آئین سٹائین غلط تھا اور روشنی کی رفتار سے تیز سفر ممکن ہے مگر تھوڑے ہی عرصے بعد سائنسدانوں نے اپنی غلطی تسلیم کر لی کہ آئین سٹائین کی بات آج بھی درست ہے اور روشنی کی رفتار کو شکست نہیں دی جاسکتی۔
چلیں! ایک ذہنی تجربہ کرتے ہیں اور روشنی کی رفتار کو شکست دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرض کرتے ہیں کہ ایک ریل گاڑی ایسی ہے جو روشنی کی آدھی رفتار سے کچھ تیز یعنی 2لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے چل رہی ہے۔ اب مزید فرض کرتے ہیں کہ ایک منچلا نوجوان اسی گاڑی کی چھت پر 2 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے اسی سمت میں دوڑ رہا ہے جس سمت میں گاڑی چل رہی ہے۔ اب اگر ایک آدمی جو کہ پلیٹ فارم پر کھڑا ہے جب گاڑی کی چھت پر دوڑنے والے نوجوان کی رفتار ناپے گا تو کیا وہ 4 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ نہیں ہو جائے گی؟ جو کہ روشنی کی رفتار سے ذیادہ ہے۔آئین سٹائين نے حساب کتاب سے ثابت کیا ہم ایسا کبھی نہیں کر سکیں گے، اس کے مطابق دو کی بجائے ہم لاکھوں رفتاروں کو جمع کر کے بھی روشنی کی رفتار سے آگے نہیں نکل سکتے۔ مثلا” اگر ریل گاڑی کی چھت پر بھی ایک ریل گاڑی چلے اور پھر اس کی چھت پر ایک ریل گاڑی چلے اور یہ سلسلہ لامتناہی ہو تب بھی ہم روشنی کی رفتار کی رکاوٹ کو نہیں توڑ سکتے اور ہم ہمیشہ روشنی سے پیچھے ہی رہیں گے۔
روشنی کی رفتار سے متعلق ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ روشنی کے منبع کی حرکت اور رفتار ناپنے والے کی حرکت سے روشنی کی رفتار پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور یہ ہمیشہ مستقل ہی رہتی ہے۔ مثلا” اگر روشنی کی ایک کرن تیز حرکت کرتے ہو‎‎ئے راکٹ سے آ رہی ہو اور راکٹ کی نسبت حالت سکون میں کھڑا مشاہد اس کرن کی رفتار ناپے، تو اس بات سے رفتار پر کوئی اثر نہیں پڑتا کہ راکٹ مشاہد کی طرف آ رہا ہے یا اس سے دور ہٹ رہا ہے دونوں صورتوں میں مشاہد ایک ہی رفتار نوٹ کرے گا۔انہی خوبیوں کی بنا پر روشنی کی رفتار کو کائناتی مستقل بھی کہا جاتا ہے۔
برقی مصناطیسی طیف
اب ہم روشنی کی ماہیت پر بات کرتے ہیں ۔ روشنی توانائی کے ذرات یعنی فوٹونز پر مشتمل برقی مقناطیسی لہر ہے اور یہ برقی مقناطیسی طیف کا حصہ ہے۔ پانی میں پیدا ہونے والی موجیں ہمارے لیے عام مشاہدے کی بات ہے، جو کہ ساکن پانی میں پتھر پھینکنے پر دائروں کی شکل میں بننے لگتی ہیں، روشنی بھی کچھ اسی طرح کی موج ہے۔ روشنی کی موج کو سمجھنے کے لیے پہلے ہمیں برقی اور مقناطیسی میدان کی بات کرنی ہو گی۔ ہم جانتے ہیں کہ اگر مقناطیس کے نذدیک کوئی لوہے کا ٹکڑا لایا جائے تو یہ اسے دور سے ہی اپنی طرف کھینچنے لگتا ہے اصل میں ایسا اس کے اردگرد موجود مقناطیسی میدان کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جوں جوں ہم مقناطیس سے دور ہٹتے جائیں میدان کی طاقت کم اور نذدیک آنے پر ذیادہ ہو جاتی ہے۔ جس طرح مقناطیس کے گرد مقناطیسی میدان موجود ہوتا ہے اسی طرف کسی چارج بردار ذرے یا چیز کے گرد برقی میدان پایا جاتا ہے۔ جب برقی یا مقناطیسی میدان کو تیزی سے جھولایا(کم ذیادہ کیا) جاتا ہےتو اس سے برقی مقناطیسی موج پیدا ہو جاتی ہے۔ یعنی آپ یوں سمجھ لیں کہ برقی مقناطیسی لہریں اصل میں تھرتھراتا ہوا برقی اور مقناطیسی میدان ہے۔
برقی مقناطیسی موجریڈیو اور ٹی وی کی لہریں، جی پی ایس کی لہریں، موبائل فون کی لہریں،وائی فائی کی لہریں، ایکس ریز، مائیکروویو اون کی لہریں یہ سب برقی مقناطیسی لہریں ہیں اور روشنی بھی انہی کی طرح برقی مقناطیسی موج ہے اور انہی کے گروہ کا حصہ ہے۔ یہ سب لہریں بھی روشنی کی رفتار سے چلتی ہیں۔ ان لہریوں کو عموما” طول موج کے فرق سے پہچانا جاتا ہے۔ طول موج(Wave length) کسی موج کے دو” اتار” یا دو “چڑھاؤ” کے درمیانی فاصلے کو کہتے ہیں۔ روشنی کا طول موج 500 نینو میٹر سے لے کر 800 نینومیٹر تک ہے۔ ایک نینو میٹر ایک میٹر کا ایک اربواں حصہ ہوتا ہے۔ روشنی کے مقابلے میں ریڈیو کی لہروں کا طول موج بہت بڑا یعنی کئی میٹر ہو سکتا ہے۔
روشنی سے متعلق ایک بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ روشنی کی فطرت دوہری ہے یعنی یہ بیک وقت ذراتی بھی ہے اور موجی بھی۔ جیسا کہ اوپر بات ہوئی کہ نظر آنے والی روشنی کا طول موج 500 سے 800 نینو میٹر کے درمیان ہوتا ہے تو یہاں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم ایسی چیزوں کو کبھی نہیں دیکھ سکتے جو روشنی کے طول موج سے بھی چھوٹی ہوں مثلا” ہم ایسی خوربین کبھی نہیں بنا سکتے جس کے ذریعے ہم 100 نینو میٹر کے ذرے کو دیکھ سکیں۔ اس سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ ہم کمپاونڈ خوردبین سے یک خلوی جراثیم کو دیکھ سکتے ہیں مگر ایٹم کو کبھی نہیں۔
سفید روشنی کو اگر منشور سے گزارا جائے تو یہ سات رنگوں میں تقسیم ہو جاتی ہے اصل میں یہ سات رنگ مختلف طول موج کی سات لہریں ہیں اور ہماری آنکھ صرف انہی سات طول موج کو دیکھ سکتی ہے۔ مثلا” بالائے بنفشی (ultraviolet) لہریں جن کا طول موج 800 نینومیٹر سے ذیادہ ہوتا ہے اور زیریں سرخ (infrared) جن کا طول موج 500 نینو میٹر سے کم ہوتا ہے ہیں ہمیں نظر نہیں آتیں۔ آپ نے ٹی وی کے ریموٹ کے اگلے حصے میں لگی انفراریڈ لائیٹ تو دیکھی ہو گی جب ہم ریموٹ کا کوئی بھی بٹن دباتے ہیں تو یہ لائٹ جلنے لگتی ہے مگر ہمیں اس کی روشنی نظر نہیں آتی اب اگر آپ اپنے موبائل کا کیمرہ آن کریں اور ریمورٹ کا منہ کیمرے کی طرف کرکے بٹن دبايں، آپ دیکھیں گے کہ آپ کے موبائل کی سکرین پر ریمورٹ کی لائٹ جلتی ہوئی نظر آئے گی جبکہ آپ اسے آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے۔
روشنی کی دوہری فطرت اور کئی دوسری باتیں جیسے لیزر، روشنی کے انعطاف اور انعکاس وغیرہ پر بھی بات کرنا چاہتا تھا مگر سوچ رہا ہوں پہلے ہی پوسٹ جس قدر طویل اور غیر دلچسپ ہو چکی ہے وہ ہی کافی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ جو تھوڑے بہت مہربان میرے بلاگ پر آ ہی جاتے ہیں آئیندہ ان کرم فرماؤں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھوں۔

افسردگی کا سایہ

جاتے ہوئے ساون کی ایک نیم ابر آلود خاموش سی شام، ٹھہری ٹھہری نیم خنک۔گلی کوچے ویرانوں سے آئے سرمئی جھٹپٹے سے لبالب بھر گئے ہیں۔ شام کا دھندلکابستی کو ڈبوتا ہوا آسمان تک پہنچ گیا ہے اور اس  کی سطح پر  بنفشی کناروں والے  پرندوں کے پروں جیسے بادل تیر  رہے ہیں۔شفق کی لہریں افق کی بجائے سارے آسمان پر ادھر ادھر بکھری ہوئی ہیں۔ میں آبادی سے ذرا ہٹ کر کھیتوں کے کنارے جامن کے چھوٹے سے درخت کے  پہلو میں گھاس زدہ پگڈنڈی پر بیٹھا ہوا ہوں۔فضا میں نمی ہے، شام کا دھندلکااور جھینگر کی آواز۔اسقدر سحر انگیز ماحول نے مجھے مبہوت سا کردیا۔ میں بہت محو ہو گیا ہوں ۔میرا دل خواب آلود ہو گیا ہے۔میرے سامنے بیت ے ماضی کی پرتیں کھلنے لگی ہیں۔ بھولے بسرے لمحوں کے نقوش، کھوئی ہوئی ساعتوں کی  آہٹ۔میں انمول یادوں کی تصوریرں کو سرمئی فضا میں گھلتا ہوا دیکھ رہاہوں،پرانی پتیں، پیارے دوست، بچپن کے اجلے دن، یاروں کے سنگ گزری شامیں، لڑکپن کے بے فکرے شب و روز،  برساتیں، جھاڑے، سنگتیں، شرارتیں،  قہقہے، خوبصورتیاں۔کتنا خوشگوار ہے یہ احساس، پھر ناجانے کیوں دل بھاری سا ہونے لگتا ہے اور میں سوچتاہوں، سہانی یادوں کے قافلوں پر افسردگی کا سایہ کیوں ہوتا ہے؟

کیلکولیٹر

کیلکولیٹر حساب کتاب کے لیے استعمال ہونے والا ایک ہر دل عزیز اور مشہور زمانہ برقی آلہ ہے۔ہم سب اس آلے سے ناصرف خوب مانوس ہیں بلکہ کسی قدر اس کے محتاج بھی بن چکے ہیں۔ہر دوکان، ہر دفتر، ہر سٹور، ہر گھر ، بلکہ ہر کمپیوٹر اور ہر موبائل میں اس کی موجودگی لازمی ہے۔ ظاہر ہے کہ کیلکولیٹر کی اس مقبولیت کے پیچھے وہ سہولت اور درستگی ہے جو بڑی بڑی رقموں کے حساب میں یہ ہمیں عطا کرتا ہے۔ مختصر یہ کہ ناصرف کیلکولیٹر ایک انتہائی مفید آلہ ہے بلکہ باطرز پطرس بخاری یہ بات ثابت کرنے کے لیے دلائل و براہین کی چنداں ضرورت نہیں ۔ میری تمہیدی سطور پڑھ کر شاید آپ سوچ رے ہوں کہ میں اس تحریر میں کیلکولیٹر کی ایجاد کا کوئی تاریخی پس منظر پیش کرنے لگا ہوں جسے تحریر کے آخر پر میں سینکڑوں سال پہلے گزرے مسلمان سائنسدانوں کے کام سے جوڑ کر اپنے، اور آپ کے دل میں فخر کی ایک بے نام سی لہر پیدا کرنے کی کوشش کروں گا۔ یا پھر آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ مجھے کیلکولیٹر کی ساخت اور اس کے اندر چلنے والے تمام برقی عوامل کی خوب سمجھ آ گئی ہے اورمیں اس متعلق کچھ غیر دلچسپ اور بیزارکن قسم کی سائنسی اور فنی تفصیلات پیش کرکے خود کو بڑا باریک بیں ثابت کرنا چاہوں گا تو جناب !بے فکر ریہیے، کہ ایسا کچھ نہیں۔ اصل میں میرا موضوع کیلکولیٹر نہیں ہے بلکہ مجھے اس کے علامتی یا شاید تمثیلی پہلو سے مطلب ہے۔
زندگی میں جہاں کہیں بھی ہمیں حساب کتاب کی ضرورت پیش آتی ہے وہاں کیلکولیٹر ہماری درست معاونت کرتا ہے ۔جب بھی ہم دو میں دو جمع کرتے ہیں تو یہ ہمیشہ چار جواب دیتا ہے، یا جب بھی ہم اسے تقسیم کے لیے استعمال کرتے ہیں تو یہ دی گئی رقم کے ٹھیک ٹھیک حصے کر دیتا ہے۔کیلکولیٹر کا حساب چونکہ ہمیشہ درست ہوتا ہے اس لیے اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا، اس کے علاوہ کیلکولیٹر کبھی کسی کی طرف داری نہیں کرتا اور یہ ہمیشہ غیرجابندار ہی رہتا ہے۔ان سب باتوں کے ہوتے ہوئے بھی میں کہتا ہوں کہ بھلے ہی کیلکولیٹر کا کام ہمیشہ درست ہوتا ہو، مگر اس کا استعمال ہمیشہ درست نہیں ہوتا۔
انسان کو معاشرتی جانور کہا جاتا ہے۔ ہم دوسرے انسانوں سے کٹ کر صرف بے جان چیزوں کے سہارے زندہ نہیں رہ سکتے، چاہے ان کی کیسی ہی بہتات اور فراوانی کیوں نہ ہو۔ ہمیں خوشحال زندگی کے لیے رشتے ناتوں کی ضرورت ہے، دوست احباب کی ضرورت ہے، پیار محبت کی ضرورت ہے۔اور وہ جو خوشی میں ہمارے ساتھ مل کر ہنستے ہیں اور غم و تکلیف میں ہمارا آسرا بنتے ہیں، وہ جو ہمارا بوجھ اٹھا لیتے ہیں اور اپنی ضرورتیں ہماری ضرورتوں پر قربان کر سکتے ہیں، وہ جو ہماری شکست کو اپنی شکست سمجھتے ہیں، اور ہماری کامیابی کو اپنی کامیابی، وہ جو ہمیں اپنا مانتے ہیں تو ایسے لوگوں کے معاملے میں مشینی کیلکولیٹر ہمیشہ سود مند ثابت نہیں ہوتا۔ وہاں دو جمع دو کا مطلب چار کی بجائے چھ بھی ہو سکتا ہے، سو کو پانچ پر تقسیم کریں تو جواب پچاس بھی نکالا جا سکتا ہے، ایک میں ایک جمع کریں تو وہ گیارہ بھی بن سکتا ہے۔
کیلکولیٹر جذبات سے عاری ایک مشین ہے لیکن انسان مشین نہیں ہے۔یہ حساب میں کوتاہی تو نہیں کرتا لیکن ہر جگہ اس کا استعمال رشتوں کو مشینی اور خشک بنا دیتا ہے۔ ہمیں کیلکولیٹر کا استعمال ضرور کرنا چاہیے لیکن ہر وقت اور ہر جگہ نہیں۔

فطرت

مکھیآئیں! آج کچھ فضول سا کام کرتے ہیں۔ کچھ بچگانہ سا، کچھ پاگلوں جیسا۔آئیں! کچھ دیر کے لیے دنیاوی جھمیلوں اور نفع نقصان کو بھول جاتے ہیں۔آئیں! کچھ وقت کے لیے عقل و خرد اور عمر کی پاپندیوں کو توڑ دیتے ہیں۔آئیں! آج روپے پیسے، کاروبار نوکری، سیاست حکومت، بجلی گیس، لین دین، مسئلے مسائل سب چھوڑ کر کچھ اور بات کرتے ہیں۔آئیں! میرے ساتھ میں آپ کو دیکھاؤں کہ کھیتوں کے بیچوں بیچ لیٹی لمبی پگڈنڈی کے کناروں پر اگی گھاس کے نیچے نیچے چیونٹیاں کیسے چلتی ہیں۔چلیں! آبادیوں سے دور پہاڑوں سے اتر کر آئی برساتی نالے کی ایک شاخ کے پاس چلیں، جس کے دونوں کناروں پر اگےسرکنڈے کے گنے جھنڈوں میں سے بعض یوں جھک گئے ہیں کہ ان کے سروں پر موجود سفید مخملی شگوفے ساکن پانی کو چھو رہے ہیں۔آئیں! ایک دیہاتی کچے رستے سے تھوڑی دور، ہری ہری گندم کے وسیع کھیت کے اس پار کھڑے شہتوت کے اکیلے درخت کی پتلی شاخوں میں چھپے فاختہ کے گھونسلے کے اندر جھانکیں۔چلیں! دریا کے پار، بیلے میں پھیلی دراز قد خشک گھاس کے درمیان، مٹی کے ننھے سے ٹیلے کی اوٹ میں جنگلی خرگوشوں کا بل دیکھیں۔ آئیں! کسی پرانی عمارت کے کھنڈر کی دراڑ سے نکلے پیپل کے نوخیز پودے کا مشاہدہ کریں۔چلیں! آج برگد کے بوڑھے درخت پر رہنے والی گلہریوں کے گھر کا سراغ لگاتے ہیں۔آئیں! آج کسی بیابان میں خودرو پھول ڈھونڈتے ہیں۔ چلیں! آج کسی ایسی جگہ چلیں جہاں ہواکی سرسراہٹ سنائی دے۔آئیں! مصنوعی روشنیوں اور کنکریٹ کی دیواروں سے دور، کسی ایسے متروک کچے رستے پر پیدل چلتے ہیں جو گھاس سے اٹ گیا ہو۔ چلیں آئيں! دو شاخہ دریا کے درمیان پھیلی چمکیلی ریت پر دوڑتے لمبی ٹانگوں والے چیونٹے کی چال دیکھیں۔چلیں آج دیکھتے ہیں، کہ بجڑا اپنا گھونسلا کیسے بنتا ہے۔ آئیں! آج کسی چشمے کے کنارے بیٹھ کر پانی کی گنگناہٹ سنیں اور شفاف پانی میں تیرتی بچہ مچھلیوں کی چمک دیکھیں۔چلیں آج دیکھیں، کہ ڈھلتی شام شفق کے شوخ رنگوں سے افق کے کینوس پر کیسی خوبصورت تصویریں بناتی ہے۔ آئیں! آج گھاس پر لیٹ کر نیلے آسمان میں تیرتے سفید بادلوں میں چیزوں کے ہیولے تلاش کرتے ہیں۔
جی کیا کہا؟۔۔۔۔۔۔۔نہیں!؟
کیا آپ کے پاس فطرت کے لیے تھوڑا سا وقت بھی نہیں؟
کیا آپ آسودہ ہیں؟
کیاآپ مطمئن ہیں؟
کیا آپ زندہ ہیں؟

CNG بحران اور ممکنہ متبادل

1-MDI-MiniFlowAIRCNG “کمپریسڈ نیچرل گیس” کا مخفف ہے۔ یعنی دباؤ کے تحت بھری گئی قدرتی گیس۔ قدرتی گیس (Methane) کو گاڑیوں میں بطور ایندھن استعمال کرنے کے لیے ہائی پریشر کے ساتھ گاڑی میں لگے مضبوط سیلنڈر میں بھرا جاتا ہے۔ گیس کا دباؤ 200 سے 220 بار تک ہوتا ہے(ایک بار دباؤ کا مطلب ہے کہ ایک کلوگرام وزن فی مربع سینٹی میٹر)۔ اس قدر ہائی پریشر اس لیے رکھا جاتا ہے تاکہ گیس کی ذیادہ سے ذیادہ مقدار سیلنڈر میں محفوظ کی جا سکے۔ چونکہ CNG پیٹرول اور ڈیزل کے مقابلے ایک سستا ایندھن ہے اس لیے پچھلے کچھ سالوں میں اس کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آيا ہے۔2011 کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں 28 لاکھ سے ذیادہ CNG گاڑیاں تھیں اور اس لحاظ سے دنیا میں ہمارا دوسرا نمبر تھا۔ CNG گاڑیوں کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے CNG فلنگ سٹیشنز کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا۔ اوگرا(OGRA) کے مطابق اس وقت ملک میں چالو CNG سٹیشنز کی تعداد 3330 ہے۔ CNG کی بڑھتی ہوئی طلب ملک میں قدرتی گیس کے شارٹ فال کی ایک بڑی وجہ ہے۔ وزارت پیٹرولیم اور قدرتی وسائل کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اس وقت قدرتی گیس کی طلب 5777 ملین مکعب فٹ فی دن ہے جبکہ فراہمی 1605 ملین مکعب فٹ فی دن کے شارٹ فال کے ساتھ 4172 ملین مکعب فٹ فی دن ہے۔ جہاں قدرتی گیس کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے وہاں پیداوار میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ اگر شارٹ فال اسی رفتار سے بڑھتا رہا تو 2020 میں یہ بڑھ کر 5247 تک پہنچ جائے گا۔ ان عدادو شمار کو دیکھتے ہوئے ہم واضع طور پر کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں CNG ایندھن اور اس سے جڑے کاروبار کا مستقبل بالکل بھی اچھا نہیں۔cobey-cng-filling-station-diagram
قدرتی گیس کے شارٹ فال کو جہاں ہم نئے ذخائر کی تلاش اور ایران گیس پائپ لائن کے ذریعے گیس کی درآمد ممکن بنا کر کم کر سکتے ہیں وہاں ہمیں توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ ابھی ہم گاڑیوں میں ایندھن کے ایک ایسے ہی ممکنہ متبادل پر بات کریں گے۔

سب سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ AIR CAR یا ہوا سے چلنے والی گاڑی کیا ہے اور کس طرح یہ CNG گاڑیوں کا متبادل ہو سکتی ہے۔ ہوا سے چلنے والی کار میں CNG پر چلنے والی گاڑیوں کی طرح سیلنڈرز نصب ہوتے ہیں مگر ان میں قدرتی گیس کی بجائے عام ہوا بھری جاتی ہے، وہ ہی عام ہوا جس میں ہم سانس لیے رہے ہیں۔ اس کار میں ایسا انجن نصب ہوتا ہے جو دبا‎ؤ کے تحت بھری گئی ہوا سے چلتا ہے۔ یعنی اس میں روائتی انجن کی طرح اندرونی طور پر کوئی ایندھن نہیں جلایا جاتا بلکہ طاقت ور دباؤ والی ہوا انجن کے پسٹن کو دبا کر اس میں حرکت پیدا کرتی ہے۔ یہ انجن روڈ پر کوئی آلودگی پیدا نہیں کرتا اور اس کے ایگزاسٹ سے دھوئیں کی بجائے صاف اور ٹھنڈی ہوا خارج ہوتی ہے۔
MDI یعنی Motor Development International ایک فرانسیسی کمپنی ہے جس کی بنیاد ایک مکینیکل انجینئیر Guy NEGRE نے رکھی جو کہ 1997 سے ہوا سے چلنے والے انجن پر کام کر رہے ہیں۔ اس کمپنی نے دباؤ کے تحت بھری گئی ہوا سے چلنے والی گاڑیوں کے کئی ایک ماڈلز(Prototype) بنائے ہیں. آپ یہاں کلک کر کے یہ ماڈلز ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ MiniFlowAIR نامی گاڑی انہی ماڈلز میں سے ایک ہے۔ اس گاڑی میں کاربن فائبر کے سیلنڈرز لگائے گئے ہیں جن میں 300 بار پریشر کے ساتھ ہوا بھری جاتی ہے۔ یہ گاڑی ناصرف 110 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ یہ ایک دفعہ ہوا بھر کر 180 کلومیٹرز تک کا فاصلہ بھی طے کر سکتی ہے۔ سٹیشن پر گاڑی کی ریفلنگ میں صرف تین سے پانچ منٹ لگتے ہیں، جبکہ گھر پر چار سے پانچ گھنٹوں میں ایک مخصوص مشین کے ذریعے گاڑی کی ریفلنگ کی جا سکتی ہے۔ اس گاڑی میں لگے انجن کی ایک اور خوبی یہ بھی ہے کہ اس سے خارج ہونے والی ہوا پھیلاؤ کی وجہ سے منفی 15 ڈگری سینٹی گریڈ تک ٹھنڈی ہو جاتی ہے اور اسے سخت گرمی میں انجن پر بغیر کسی اضافی بوجھ کے گاڑی کی ائیر کنڈشنگ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس گاڑی کی لبریکیشن کا خرچ بھی روائتی ایندھن پر چلنے والی گاڑیوں کی نسبت بہت کم ہے۔ مختصر انجن، فائبر گلاس اور ایلومینیم سے بنی ہلکی باڈی ہونے کی وجہ سے قدرے کم قیمت میں ایسی گاڑیاں بنائی جا سکتی ہیں۔
اب بات کرتے ہیں کہ پاکستان میں ہوا سے چلنے والی گاڑی کس طرح CNG گاڑیوں کا متبادل ہو سکتی ہے۔ اگر پاکستان میں ہوا سے چلنے والی گاڑیاں متعارف کروائی جایں اور ہمارے ملک میں پہلے سے موجود CNG سٹیشنوں سے قدرتی گیس بھرنے کی بجائے ہوا بھرنے کا کام لیا جائے تو بات بن سکتی ہے۔ اس طرح سٹیشن بغیر کسی رکاوٹ کے 24 گھنٹے ہوا بھرنے کا کام کر سکیں گے۔ انہیں کسی قسم کے گیس کنکشن کی کوئی ضرورت نہیں رہے گی اور اس طرح نہ انہیں قدرتی گیس کے بھاری بل دینے پڑیں گے اور نہ لوڈشیڈنگ سے کاروباری نقصان کا ڈر رہے گا۔ کسی بھی شہر میں ابتدائی طور پر کچھ گاڑیاں امپورٹ کر کے اور ایک دو سی این جی سٹیشنوں کو ہوا بھرنے کے لیے تیار کر کے ابتدائی تجربہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ کامیاب رہے تو اسے مزید دوسرے علاقوں تک پھیلایا جا سکتا ہے۔ ہوا والی گاڑی اگر لمبے راستوں کے لیے موزوں نہ بھی ہو تو اندرون شہر بخوبی کام دے سکتی ہے۔ اس طرح شہروں میں بڑھتی ہوئی آلودگی میں بھی قابل ذکر کمی آئے گی۔
ہماری ملک میں لگے CNG سٹیشنوں میں جو مشینری استعمال ہوتی ہے وہ عام طور پر 250 بار تک پریشر بھرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ MDI کی بنائی گئی ہوا سے چلنے والی گاڑیوں میں 300 بار پریشر درکار ہوتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے 250 بار پریشر پر چلنے والی گاڑیاں ڈیزائن کروائی جا سکتی ہیں یا پھر سٹیشنوں میں لگی مشینری کو 300 بار پریشر کے لیے اپگریڈ بھی کیا جا سکتا ہے۔
ہوا سے چلنے والی گاڑی کے ایسے ماڈل بھی بنائے گئے ہیں جو ایک دفعہ کی فلنگ سے 200 کلومیٹر فاصلہ طے کر سکتے ہیں۔ جبکہ عام طور پر CNG سے چلنے والی گاڑی ایک فلنگ میں اتنا “مایلیج” نہیں دے سکتی۔اس کے علاوہ ہوا بھرنے کا خرچ CNG کے مقابلے بہت کم ہو جائے گا یعنی جہاں CNG کار کی ایک فلنگ 600 روپے کے لگ بھگ ہوتی ہے وہاں ہوا والی گاڑی کی ایک فلنگ صرف ڈیڑھ سو روپے میں ہو سکے گی۔
میں اس بارے میں مزید تکنیکی تفصیل اور اعداد و شمار دینا چاہتا تھا مگر پوسٹ لمبی ہو جائے گی اور ویسے بھی ایسی غیر دلچسپ تحریر کم ہی لوگ پڑھتے ہیں۔ آخر پر امید کرتا ہوں کہ شاید میری یہ تحریر ارباب اختیار اور تکنیکی لوگوں کی توجہ حاصل کر سکے۔ جاتے جاتے بتاتا چلوں کہ بھارتی موٹر ساز کمپنی ٹاٹا موٹرز نے 2009 میں MDI سے ٹیکنالوجی کے اشتراک کامعاہدہ کیا تھا اور اب ٹاٹا موٹرز ہوا سے چلنے والی گاڑی مارکیٹ میں لانے کے بالکل قریب ہے۔ جہاں پاکستان ہتھیاروں کی دوڑ میں بھارت سے کسی صورت پیچھے نہیں رہنا چاہتا کیا وہاں ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی برابری کے لیے ویسے ہی جذبے کی ضرورت نہیں؟

اردو بلاگر کانفرنس

پہلی بین الاقوامی اردو بلاگر کانفرنسپہلی بین الاقوامی اردو بلاگر کانفرنس۔ ۔ ۔ سازش ہے جناب۔ ۔ ۔ ہوش کریں ایسی کوئی بات نہیں۔ ۔ ۔ بلاگروں کو تشہیر کا لالچ دے کر ہائی جیک کیا جا رہا ہے۔ ۔ ۔ انہیں ہائی جیک کوئی کیونکر کرے گا میرے بھائی۔ ۔ ۔انجان نہ بنیں، اردو بلاگر ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہیں۔ ۔ ۔ ضرور ہوں گے لیکن پہلے انہیں ابھر تو لینے دیجیے، فصل پکی نہیں اور آپ چرند پرند اڑانے کے لیے ابھی سے ڈھول پیٹنے لگے۔ ۔ ۔ فلاں فلاں بلاگروں کا ذکر کیوں نہ ہوا کانفرنس میں۔ ۔ ۔ جن کا کیا ہے وہ آپ کو نظر نہیں آتا؟ اور سب کا ہو بھی نہیں سکتا۔ ۔ ۔ کچھ لوگ اردو بلاگنگ کے مامے چاچے بننا چاہ رہے ہیں۔ ۔ ۔ ہمیں افسوس ہے آپ کی حق تلفی کا، لیکن کیا کریں مجبوری ہے۔ ۔ چند مقامی اور غیر معروف سے بندے اور نام دیا ہے “بین الاقوامی”، ہونہہ!۔ ۔ ۔ ساری دنیا کے بلاگروں کو شرکت کی دعوت تھی اس طرح بین الاقوامی ہوئی کہ نہ؟ بلکہ مبارک ہو! کانفرنس کامیاب رہی۔ ۔ جی یہ کیوں نہیں کہتے کہ “کوئی” کامیاب رہا۔ اور ذرا یہ بتائیے کہ اس کانفرنس سے اردو بلاگنگ کو کیا ملا؟۔ ۔ ۔ جو ملا وہ بھی غنیمت نہیں کیا؟۔ ۔ ۔ کانفرنس والی دال میں کچھ کالا ہے۔ ۔ ۔کالا تو آپ کو نظر آتا ہے لیکن آپ کو دال نظر نہیں آتی۔ ۔ کوئی خوامخواہ میں پیسے تو نہیں لگاتا نا، درپردہ عزائم کو سمجھو بھولے بادشاہو!۔ ۔ اچھا اگر گوگل جیسی کمپنی سپانسر کرے تو ظاہر ہے وہ محض اللہ کے نام پر پیسہ لگائے گی اور منفعت کا خیال اگلے جہاں پر رکھ چھوڑے گی ہے نا جی!۔ ۔ ۔ ۔ ہمیں بھیک میں تشہیر نہیں چاہیے، ہم اگر اچھا لکھیں تو آج نہیں تو کل خود ہی سب لوگ جان جایں گے۔ ۔ ۔بھیک کون مانگ رہا ہے جناب! دوسرا کانفرنس میں ایسی کوئی بات نہیں ہوئی جو اچھا لکھنے پر قدغن تصور ہو۔
اردو بلاگر کانفرنس کے حوالے سے کچھ ایسی ہی باتیں ہیں جو کئی دنوں سے اردو بلاگر حلقوں میں گونج رہی ہیں۔ پتہ نہیں یہ میری کم علمی ہے یا کند ذہنی کہ مجھے یہ تمام باتیں غیر دلچسپ اور غیر اہم سی لگتی ہیں۔ جہاں تک اردو بلاگر کانفرنس کی بات ہے تو میرے نزدیک یہ بہت اچھا قدم تھا اور ہمیں محسن عباس صاحب کا شکر گزار ہونا چاہیے، کہ انہوں نے ہم اردو بلاگروں کو اپنی اہمیت کے محض احساس سے آگے بڑھ کر عملی طور پر سامنے آنے کی ترغیب دلائی۔دوسرا میں نہیں سمجھتا کہ اردو بلاگران کا “آگو” بننے میں انہیں کوئی خاص دلچسپی ہو گی۔ ہم چاہیں تو اگلی دفعہ اپنی مدد آپ کے تحت خود کانفرنس آرگنائز کر سکتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ تب بھی ہم محسن عباس صاحب کو تعاون کے لیے تیار پائیں گے۔

وقت

“میرے پاس وقت نہیں ہے؟”، “مجھے افسوس ہے میں وقت پر نہ پہنچ سکا”، ” وقت کی قدر کرنی چاہیے”، گیا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا”، “وقت پیسہ ہے”۔ ہم ایسے کئی فقرے روز بولتے ہیں جن میں وقت کا ذکر ہوتا ہے۔ ہم اس لفظ سے بہت مانوس ہیں۔ہم جانتے ہیں لفظ” وقت” سے کیا مراد ہے ہم جاتنے ہیں ہماری زندگیوں میں اس کی اہمیت کیا ہے ، لیکن کیا ہم وقت کی حقیقت کو بھی سمجھتے ہیں ؟۔
وقت کے متعلق سوچتے ہی ہمیں گھڑی کا خیال آتا ہے۔ ٹک ٹک کرتی گھڑی کی سوئی، یا وال کلاک کا جھولتا ہوا پینڈولم، یا ہر سیکنڈ کے بعد جلتے بجھتے ڈیجیٹل کلاک کے نکتے۔لیکن گھڑیاں تو وقت ناپنے کے لیے ہوتی ہیں جیسے ہم فیتے سے فاصلے ناپتے ہیں ۔مگر فاصلہ تو ہمارے سامنے ہوتا ہے لیکن یہ وقت کہاں رہتا ہے؟۔ دنیا میں جتنی بھی گھڑیاں ہیں پرانی شمسی اور ریت والی گھڑی سے لے کر آج کی جدید مکینیکل ،ڈیجیٹل یا ایٹمی گھڑیوں سمیت، وہ سب ہمیں صرف وقت بتاتی ہیں مگر وقت کی حقیقت کے متعلق کچھ بھی نہیں بتا سکتیں۔
ہم سب جاتنے ہیں کہ وقت موجود ہے ۔ لیکن ہم اسے چھو نہیں سکتے، چکھ نہیں سکتے ، سن نہیں سکتے، دیکھ نہیں سکتے، ہم اس سے باہر نہیں نکل سکتے، ہم اسے روک نہیں سکتے،۔ہم اس کے پابند ہیں، ہم اس کے غلام ہیں، یہ ہمیں گزرتا ہوا محسوس ہوتا ہے ، ہمیں لگتا ہے جیسے یہ آگے کو جا رہا ہے۔ لیکن اصل میں یہ ہے کیا ؟
ارسطو نے کہا تھا وقت حرکت کی پیمائش کا نام ہے۔اس کے مطابق کائنات میں مٹی، ہوا،پانی اور آگ کے علاوہ ایک چیز ایتھر ہے جو کائنات میں یکساں رفتار سےگھومتی رہتی ہے اور اسی کی حرکت اصل میں وقت ہے۔ ارسطو کے اسی نظریے کو کوپر نیکس اور گلیلیو نے آگے بڑھایا ۔ ارسطو کے نظریے میں خاص بات یہ تھی کہ وقت پوری کائنات میں ایک ساتھ یکساں وقفوں میں آگے بڑھتا ہے۔
سترھویں صدی کے مشہور سائنسدان سر آئزک نیوٹن کے مطابق وقت پوری کائنات میں کسی دریا کی طرح مسلسل اور یکساں رفتار کے ساتھ آگے کو بہتا رہتا ہے۔یہ تمام بیرونی قوتوں اور اثرات سے بے نیاز ہوتا ہے۔اورہم اس حقیقی وقت کے حوالے سے اپنا روزمرہ کا وقت ناپتے ہیں۔وقت سے متعلق نیوٹن کا یہ تصور تقریبا” عام آدمی جیسا ہی تھا۔
لیکن بیسویں صدی میں آئین سٹائین نے وقت کی ایک نئی تشریح پیش کی۔ آئین سٹائین کے مطابق وقت کا تجربہ انفرادی ہوتا ہے ، یہ اضافی ہوتا ہے۔یعنی دنیا میں ہر چیز اپنا ذاتی وقت رکھتی ہے ۔مثلا” ایک تیز رفتار جہاز میں بیٹھے آدمی کا وقت زمین پر کھڑے آدمی کے وقت کی نسبت سست ہوگا یعنی ہو سکتا ہے جہاز میں بیٹھے آدمی کا ایک سیکنڈ زمین پر کھڑے آدمی کے ایک دن کے برابر ہو اور یہ فرق جہاز کی رفتار پر منحصر ہے، رفتار جتنی ذیادہ ہو گی، فرق بھی اتنا ہی ذیادہ ہو گا۔ اسی طرح کشش ثقل بھی وقت پر اثر انداز ہوتی ہے مثلا” کسی بڑی عمارت کی پہلی منزل پر رہنے والوں کا وقت عمارت کی پچاسویں منزل پر رہنے والوں کی نسبت سست ہو گا، اس لیے کہ پہلی منزل والوں پر کشش کا اثر پچاسویں منزل والوں کی نسبت ذیادہ ہوتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے آئین سٹائین کا یہ نظریہ تجربات پر پورا اترتا ہے اور آج بھی درست مانا جاتا ہے۔لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ اپنی روز مرہ زندگی میں ہمیں وقت کے اس عجیب و غریب برتاؤ کا عملی تجربہ کیوں نہیں ہوتا؟۔اصل میں عام طور پر وقت میں آنے والا یہ فرق اس قدر چھوٹا ہوتا ہے کہ ہم محسوس نہیں کر سکتے ۔ مثلا” ایک گھڑی زمین پر اور دوسری ایک ہزار فٹ بلند پہاڑی پر رکھی جائے تو زمین کی کشش کے فرق کی وجہ سے گھڑیوں کےوقت میں جو فرق آئے گا وہ اس قدر تھوڑا ہو گا کہ تیس لاکھ سال بعد پہاڑی پر رکھی گئی گھڑی صرف ایک سیکنڈ آگے چلی جائے گی۔لیکن اگر ایک گھڑی زمین پر ہو اور ایک سورج پر رکھ دی جائے۔ تو چونکہ زمین اور سورج کی کشش میں بہت بڑا فرق ہے اس لیے دونوں گھڑیوں کے وقت میں ایک سیکنڈ کا فرق آنے میں صرف ایک سو پندرہ دن لگیں گے۔لیکن اگر ہم بلیک ہول کے انتہائی قریب چلیں جایں تو بلیک ہول کی انتہائی طاقتور کشش کی وجہ سے زمین کی نسبت وقت کا فرق اسقدر ذیادہ ہو جائے گا وہاں گزرا ایک منٹ زمین کے لاکھوں سالوں کے برابر ہو سکتا ہے۔ یہ ہی حال حرکت کرتے اجسام میں پیدا وقت کی سست روی کا ہے۔ یعنی عام طور پر ہم جن رفتاروں سے سفر کرتے ہیں ہمیں وقت کا فرق محسوس نہیں ہوتا لیکن اگر ہم روشنی کی رفتار(تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ) سے آدھی رفتار کے ساتھ سفر کریں تو وقت کا فرق بہت ذیادہ اور واضع ہو جائے گا۔ آئین سٹائین کے مطابق وقت اور سپیس(فضا) دونوں ایک دوسرے میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
امریکن سائنسدان اور تھیوریٹیکل فیزسٹ ”برائن گرین” (Brian Greene)جو کہ کولمبیا یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں وقت کو ایک دھوکے سے تعبیر کرتے ہیں ان کے مطابق حال ، ماضی اور مستقبل ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ مگر ہمیں یہ دھوکہ ہوتا ہے کہ ماضی گزر چکا ہے ، حال جاری ہے اورمستقبل آنے والا ہے۔ان کے مطابق فزکس کے قوانین میں اس بات کی کوئی پابندی موجود نہیں ہے کہ وقت صرف آگے کو ہی چلتا ہے۔
سٹی یونیورسٹی نیویارک کے پروفیسر اور تھیوریٹیکل فیزسٹ میچیو (Michio Kaku) کہتے ہیں کہ” میں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ وقت کے مطالعہ میں گزارا ہے۔اور میں جانتا ہوں یہ فطرت کے بڑے رازوں میں سے ایک ہے”۔ ان کے مطابق وقت مکینیکل ہوتا ہے، یہ ذاتی نہیں بلکہ پوری کائنات میں چلتا ہے لیکن ہم اسے اپنے اپنے طریقہ سے محسوس کرتے اور ناپتے ہیں ، یہ ہمیں سست محسوس ہو سکتا ہے، یہ ہمیں تیز لگ سکتا ہے ۔ یہ ہمیں خبر دینے والا ہے، اور اصل میں یہ ہمارے اندر موجود ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہمارے دماغ کے اندر عصبی خلیوں کا ایک ایسا سرکٹ موجود ہوتا ہے جو ہمیں وقت کا احساس دلاتا رہتا ہے یعنی وقت کا احساس ہمارے ساتھ ساتھ ہے۔ بہرحال شاید ہم مستقبل میں وقت سے متعلق مزید بہت کچھ جان لیں۔ لیکن یوں لگتا ہے کہ یہ راز اتنی آسانی سے فاش نہیں ہونے والا۔ باقی اس امید کے ساتھ یہیں ختم کرتا ہوں کہ شاید یہ تحریر اس قابل ہو کہ آپ وقت کو نئے اور مختلف زاویے سے دیکھنے پر مائل ہو جایں۔

سرمایہ

دوپہر دہک دہک کر تھک گئی ہے۔گاؤں کی گلیوں میں سناٹا کسی پژمردہ سانپ کی طرح رینگ رہاہے۔میرے گھر کے کچے درودیوار پرڈھلتی دوپہرکی زرد روشنی نے اداسی کا دبیز لیپ کر دیا ہے۔خاموشی کا حبس دم گھونٹ رہا ہے۔ایک بے نام سی گھٹن میرے دل کو نچوڑ رہی ہے۔تنہائی اور دکھ کے بوجھل احساس سے میری زبان گنگ ہو گئی ہے۔ میرا وجود سنسار کی بے رنگ فضا میں تحلیل ہو رہا ہے۔ میری حسرتیں،مری امیدیں، میری امنگیں، میرے خواب، سب موم کی طرح قطر ہ قطرہ پگل رہے ہیں۔ میری رگوں میں مایوسی کا زہر پھیل چکا ہے۔ آہ !میری آس مر چلی ہے۔
لیکن شکستگی کے اس عالم میں بھی، میری روح کے کسی گم گشتہ کونے کے اندر، ڈوبتے دل کے کسی نہاں خانے میں، امید کی ہلکی سی جھلملاہٹ اب بھی موجود ہے۔ جب میں نظریں جما کر اسے دیکھتا ہوں تو یہ پھیلنے لگتی ہے۔مشرق سے ابھرتے سورج کی شعاوں کی طرح۔رنگ برنگی روشنی کے ہیولوں جیسی۔پھر اندر ہی اندر احساس کی رت بدلنے لگتی ہے۔ جسے جلتے ہوئے موسم میں بادلوں سے لدی ٹھنڈی ہوائیں بیزار چہروں کا تبسم بن جاتی ہیں۔جیسے بارش کی بوندوں سے مہکتی مٹی کی باس روح کو شاد کر دیتی ہے۔جیسے سرمئی گھٹاوں کے سمندر میں اڑتے سفید بگلوں کی قطاریں آنکھوں کو خواب زدہ کر دیتی ہیں۔جیسے سر شام کسی بوڑھے پیڑر پر چڑیوں کا شور دل کا نعمہ بن جاتا ہے۔جیسے صبح صادق کی رم جھم ذہن پر جادو سا کر دیتی ہے۔ جیسے نیلے آسمان پر قوس قزاح کے رنگ آنکھوں میں نقش ہو جاتے ہیں۔تب میں سوچتا ہوں، یہ امید ہی میری زندگی ہے، اور یہ ہی میرا سب سے بڑا سرمایہ۔
(غلام عباس مرزا)

“افسوس کہ تم گا نہیں سکتے”

سانپ اور چنڈولعنوان کی یہ سطر “خلیل جبران” کے افسانے”The Scholar and the Poet” سے لی گئی ہے۔ جو کہ ایک سانپ (Serpent) اورگانے والی چڑیا چنڈول(Lark) کے درمیان معنی خیز مکالمہ ہے۔اس پر مزید بات کرتے ہیں پہلے آپ افسانہ پڑھ لیں۔انگریزی متن دیکھنے کے لیے افسانے کے انگریزی نام پر کلک کریں۔


شاعر اور عالمایک سانپ نے ایک چنڈول سے کہا “تم اڑتے تو ہو، لیکن تم زمین کے ان گوشوں کو نہیں دیکھ سکتے جہاں زندگی کا رس مکمل خاموشی میں حرکت کرتا ہے”.
چنڈول نے جواب دیا۔”بے شک تم بہت سی باتیں جانتے ہو۔ نہیں، تم تمام عقلمندوں سے ذیادہ عقلمند ہو، لیکن افسوس کہ تم اڑ نہیں سکتے”۔
سانپ نے جیسے اسے سنا ہی نہیں اور کہنے لگا “تم سمندر کے اسرار تک نہیں پہنچ سکتے۔ نہ ان دیکھی مملکت کے خزانوں میں گھوم سکتے ہو، ابھی کل کی بات ہے کہ میں ہیروں بھری غار میں لیٹا ہوا تھا۔ وہ پکے ہوئے انار کے دانوں کی طرح سرخ تھے، اور روشنی کی ایک چھوٹی سی کرن انہیں آتشیں گلاب میں بدل دیتی تھی۔ میرے سواان ہیروں کو کون دیکھ سکتا ہے؟”۔
چنڈول نے کہا “کوئی نہیں۔ واقعی تمہارے سوا کوئی ہستی ازمنہ قدیم کے بلوریں یادگاروں میں لیٹ نہیں سکتی پر افسوس کہ تم گا نہیں سکتے “۔
سانپ نے کہا”مجھے ایک ایسے پودے کا علم ہے جس کی جڑیں زمین میں پاتال تک جاتی ہیں اور جو اس جڑ کو کھائے، وہ عشتروت دیوی سے بھی ذیادہ حسین بن جاتا ہے۔
چنڈول نے کہا “کوئی نہیں واقعی کوئی دوسرا جاندار تمہارے سوا زمین کے طلسمی خیال کو بے نقاب نہیں کر سکتا، پر افسوس کہ تم اڑ نہیں سکتے”۔
سانپ نے کہا “جامنی رنگ کی ایک ندی ہے جو پہاڑ کی تہ میں بہتی ہے اور جو کوئی اس کا پانی پی لے وہ لافانی بن جائے، یقینا کوئی پرندہ یا حیوان اس جامنی ندی کو پا نہیں سکتا”۔
چنڈول نے جواب دیا۔”ہاں اگر تم چاہو تو دیوتاؤں کی طرح لافانی بن سکتے ہو، لیکن افسوس تم گا نہیں سکتے”۔
سانپ نے کہا “مجھے ایک مدفون مندر کا علم ہے جہاں میں کبھی کبھار جاتا ہوں۔ اسے جنوں کی ایک معدوم نسل نے تعمیر کیا تھا اور اس کی دیواروں پرزمان ومکان کے اسرار لکھے ہوئے ہیں اور جو کوئی اسے پڑھ لے وہ تمام رازوں کو سمجھ لے گا۔
چنڈول نے کہا “سچ مچ اگر تم چاہو تو زمان ومکاں کا سارا علم تمہارے لچکیلے جسم کی لپیٹ میں آ سکتاہے، پر اس کا کیا ہو، کہ تم اڑ نہیں سکتے”۔
اس پر سانپ کو بہت غصہ آیا جب وہ مڑا اور سوراخ میں داخل ہوا تو اس نے بڑبڑا کر کہا۔ “خالی الذہن گانے والا پرندہ”۔ اور چنڈول یہ نعمہ سرائی کرتا ہوا محو پرواز ہو گیا۔ “افسوس افسوس میرے عقلمند دوست تم اڑ نہیں سکتے”۔
اس افسانے میں “خلیل جبران” نے شاعر کے لیے چنڈول اور عالم کے لیے سانپ کا استعارہ استعمال کیا ہے۔چنڈول ایک زندہ دل گانے والا پرندہ ہے، جبکہ سانپ ایک چالاک جانور ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عالم کے پاس علم ہوتا ہے،معلومات ہوتی ہے، وہ حساب کتاب کر سکتا ہے،وہ تاریخ بتا سکتا ہے، وہ کئی راز جانتا ہے، وہ جانتا ہے کہ کون سی چیز نقصان دہ ہے اور کون سی فائدہ مند، وہ جانتا ہے کہ جھوٹ کیا ہے اور سچ کیا، وہ قانون جانتا ہے، وہ مسائل کا حل جانتا ہے، وہ سود و زیاں سب جانتا ہے۔لیکن ان ساری خوبیوں کے باوجود اس کے خیالات خشک اور جامد ہیں، اس کی فکر میں جدت اور خیالات میں پراواز نہیں ہے۔ اس کے دل میں شاعر کی طرح خواب نہیں اگتے،وہ خوشی کے نغمے نہیں گا سکتا، وہ فطرت سے ہمکلام نہیں ہو سکتا،اس کے دل میں امنگوں کا جوش نہیں ہے،وہ امید کا دیا روشن نہیں کر سکتا،وہ جذبات کی رو میں نہیں بہہ سکتا، وہ زندگی کی رنگینیوں کو محسوس کر کے جھوم نہیں سکتا، وہ زندگی کی تلخیوں پر ماتم نہیں کر سکتا، وہ اپنے اور دوسروں کے دلوں میں نہیں جھانک سکتا ، مگر شاعر یہ سب کچھ کر سکتا ہے۔اسی لیے چنڈول نےسانپ سے کہا‎ “تم تمام عقلمندوں سے ذیادہ ےعقلمند ہو، لیکن افسوس کہ تم گا نہیں سکتے، تم اڑ نہیں سکتے”۔

اقبال کا فلسفہ خودی اور بے خودی

علامہ اقبال کا نام لیتے ہی جو پہلا خیال ہمارے ذہن میں آتا ہے وہ یہی ہے کہ وہ ایک بہت بڑے شاعر تھے۔ لیکن یہ خیال تب تک نامکمل ہی رہتا ہے جب تک ہم یہ نہیں سوچ لیتے کہ اقبال صرف ایک بڑے شاعر ہی نہیں تھے، بلکہ وہ ایک بہت بڑے مفکر بھی تھے۔ شاعر حساس لوگ ہوتے ہیں۔ جو وہ محسوس کرتے ہیں اسے شاعرانہ فنکاری کے ساتھ بیان کر دیتے ہیں۔ لیکن اقبال جس گہرائی کے ساتھ محسوس کرتے تھے اس سے کہیں گہرائی کے ساتھ سوچ بھی سکتے تھے۔ ان کا کلام پڑھ کر بعض اوقات یوں لگتا ہے جیسے اقبال کے افکار ان کی شاعرانہ فنکاری سے کہیں اہم ہیں۔

ایک مفکر کی حیثیت سے اقبال نے زندگی کا جو فلسفہ پیش کیا ہے اس میں انسان کی انفرادی اور اجتماعی دونوں حیثیتوں کی تکمیل کا خیال رکھا گیا ہے۔ اس طرح اقبال کے فلسفہ حیات میں ایک توازن پایا جاتا ہے، ورنہ کچھ لوگ فرد کو اہم مانتے ہیں اور کچھ  جماعت کو۔فلسفہ حیات کا یہ توازن اور تناسب ہی شاید فکر اقبال کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ اقبال نے اپنے ان نظریات و خیالات کے اظہار کے لیے دو اصطلاحات استعمال کی ہیں اوّل “خودی” اور دوئم “بے خودی”۔

خودی:۔

عام طور پر خودی سے تکبر اور غرور مراد لی جاتی ہے، لیکن اقبال نے لفظ خودی کو اصطلاحی معنوں میں استعمال کیا ہے۔ اور اپنی فارسی کتاب “اسرار خودی” اور اردو نظم “ساقی نامہ” اور دیگر شاعری میں اس پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ ماہرین نے اقبال کی اس اصطلاح کی تشریح میں بہت لمبے چوڑے تجزیے کئے ہیں۔ بہرحال ہم کہہ سکتے ہیں کہ اقبال نے خودی سے خود شناسی اور خود آگاہی مراد لی ہے۔ یعنی اپنی ذات اور اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کی پہچان کرنا۔ اپنی اہمیت کا احساس پیدا کرنا زندگی کے معاملات میں غیرت اور خوداری کا مظاہرہ کرنا۔ اقبال کے نزدیک خدا کی پہچان کے لیے خود کو پہچاننا ضروری ہے۔ ضرب کلیم کی نظم افرنگ زدہ میں دہریت کی طرف مائل نوجوانوں کو مخاطب کر کے کہتے ہیں

تری نگاہ میں ثابت نہیں خدا کا وجود
مری نگاہ میں ثابت نہیں وجود ترا
وجود کیا ہے؟ فقط جوہر خودی کی نمود
کر انپی فکر کہ جوہر ہے بے نمود ترا

خود کو پہچاننے سے مراد یہ نہیں ہے کہ کوئی شخص یہ جان لے کہ اس کا نام و نسب کیا ہے، وہ کس نسل سے ہے، اس کے آباو اجداد کہاں کے رہنے والے تھے۔ بلکہ اس سے مراد یہ ہے آدمی اپنی اہمیت کو سمجھے وہ یہ جاننے کی کوشش کرے کہ وہ کس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے، اسے کون کون سی قابلیتیں عطا ہوئی ہیں اور وہ ان سے کیا کام لے سکتا ہے۔ اقبال کے نزدیک اپنی صلاحیتوں کی پہچان اور ان کا اظہار(عمل) ہی زندگی ہے۔ اور ذوق نمود کے بغیر زندگی کچھ نہیں بلکہ موت ہے۔

ہر چیز ہے محو خود نمائی
ہر ذرہ شہید کبریائی
بے ذوق نمود زندگی موت
تعمیر خودی میں ہے خدائی

اپنے وجود کا احساس تو ہر شخص کو ہوتا ہے لیکن جب آدمی کے دل میں بلند مقصد کے حصول کی آرزو پیدا ہو جاتی ہے تو اس کی خودی بیدار ہو جاتی ہے۔ اقبال کے نزدیک تب اس شخص کو اپنی خودی کی تعمیرو تربیت کرنی چاہیے یعنی ان چیزوں سے بچنا چاہیے جن سے خودی کمزور ہوتی ہے۔ جیسے سوال کرنے سے، دوسروں سے مانگنے اور محتاجی سے خودی کمزور ہوتی ہے۔ جبکہ عشق سے خودی مضبوط ہوتی ہے۔ عشق سے مراد مرد اور عورت کی محبت نہیں بلکہ بلند مقصد کے حصول کی شدید آرزو ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اقبال کی تمام شاعری لفظ خودی کے گرد گھومتی ہے تو میرے خیال سے بے جا نہ ہو گا۔

بے خودی
بے خودی کے لفظی معنی تو مدہوشی یا بے خبری کے ہیں لیکن “خودی” کی طرح اقبال کے ہاں “بے خودی” کا بھی خاص مفہوم ہے۔ جب کوئی فرد اپنی خودی کی تعمیر و تکمیل کر لیتا ہے تو اسے چاہیے کہ اپنی صلاحیتوں کو اپنی جماعت کے لیے استعمال کرے۔ جب فرد اپنی جماعت سے اپنا رابطہ استوار کر لیتا ہے تو وہ خودی سے بے خودی کی منزل میں داخل ہو جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں فرد اور ملت(قوم) کے درمیان رابطے کے کچھ اصول اور قوانین ہوتے ہیں ان رابطوں، اصولوں اور قوانین کو اقبال نے بے خودی سے تعبیر کیا ہے۔ علامہ اقبال نے فرد کو شاخ اور جماعت کو درخت سے تشبیہ دی ہے شاخیں اگر درخت سے علیحدہ ہو جایں تو ان پر پھل پھول نہیں آ سکتے۔

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں

اقبال کے نزدیک جس قدر فرد کی اہمیت ہے اسی قدر اس کی جماعت اور جماعت سے فرد کے رشتے کی اہمیت ہے۔ اقبال نے اپنی کتاب “رموز بے خودی” میں قوم کی اجتماعی زندگی کے مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔آج ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر جس طرح زوال کا شکار ہیں ہمیں اقبال کے افکار سے علمی استفادہ حاصل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

ایجاد و دریافت کا بند دروازہ

جس طرح ریاضی کو سائنس کی ماں کہا جاتا ہے اسی طرح فلسفے کو علوم کا باپ مانا جاتا ہے۔یعنی سائنس اور ریاضی بھی فلسفے کی ہی اولادیں ہیں۔ تاحال فلسفے کی کوئی مناسب تعریف تو ممکن نہیں ہو سکی ، البتہ اس کی خصوصیات کے بیان سے اس کے کام، اہمیت اور افادیت کو ضرور واضع کیا جا سکتا ہے۔ فلسفے کی دو خصوصیات بہت اہم ہیں۔ پہلی:-انسانی فکر کو بامقصد بنانا اور اس کی جانچ کرنا ۔ دوسری :-کارآمد اور بامقصدسوال اٹھانا۔یہاں ایک بات عرض کرتا چلوں کے میری اس تحریر کا مقصد فلسفے کی اہمیت او ر افادیت پر بحث کر نا نہیں ہے۔

جیسا کہ   میں نے اوپر ذکر  کیا  ہے کہ فلسفے کو علوم کا باپ کہا جاتا ہے، تو میرے خیال سے فلسفے کو یہ مقام اس کی سوال اٹھانے والی خوبی کی وجہ سے عطا ہوا  ہے۔ اور اگر  آپ سائنس کی موجودہ ترقی کو دیکھیں  تو اس کے پیچھےآپ کو فلسفے کی اس سوال اٹھانے والی خوبی کا بہت بڑا ہاتھ نظر آئے گا۔مثلا” ہوا میں اڑنے کی انسانی خواہش تو شاید بہت پرانی ہو ، لیکن یہ خواہش تب ہی پوری ہو سکی جب انسانی ذہن میں یہ سنجیدہ سوال پیدا ہوا کہ “انسان کیسے اڑ سکتا ہے؟”۔ کشش ثقل کے قوانین تب ہی بنے جب گرتے سیب کو دیکھ کر “نیوٹن ” کے ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ “چیزیں ہمیشہ نیچے کو ہی کیوں گرتی ہیں ؟”۔ پینسیلین تب ہی ایجاد ہوئی جب “الیگزینڈر فلیمنگ ” نے پیٹری ڈش میں مرے ہوئے چراثیم دیکھے اور اس کے ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ “یہ کیسے مر گئے؟”۔ اور اسی طرح کی لاتعداد مثالیں دی جا سکتی ہیں اور یہ بات ثابت کرنا چنداں مشکل نہیں کہ بامقصد سوالات ہی سائنسی پیش رفت کی بنیاد ہیں۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ بامقصد سوال کب پیدا ہوتا ہے؟ جب تک ہمارا مشاہدہ گہرا نہیں ہو گا اور ہمیں معاملے کی سمجھ نہیں ہو گی ہم اس معاملے سے متعلق بامقصد سوال نہیں اٹھا سکیں گے۔ مثلا” سیب کا گرنا تو کوئی خاص بات نہیں مگر نیوٹن کو اس کے گہرے مشاہدے اور معاملے پر غوروفکر نے ہی ایک کارآمد سوال اٹھانے کے قابل بنایا اور اس کا یہ ہی سوال ایک بہت بڑی دریافت کا باعث بن گیا۔

ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں ہم مغربی اقوام سے کس قدر پیچھے رہ گئے ہیں۔ہماری اس پسماندگی کی جہاں کئی وجوہات ہوں گی وہاں ایک اہم وجہ ہمارے طالب علم اور تعلیمی اداروں میں پائی جانے والی غلط مقصدیت ہے۔ یعنی ہمارے طالب علم کا مقصد ڈگری اور اچھا گریڈ ہوتا ہےاس لیے تعلیمی ادارہ بھی اسی مقصد کو اپنا لیتا ہے۔اس غلط مقصد کے حصول کے لیے طالب علم کئی جتن کرتا ہے، وہ امتحان پاس کرنے کے طریقے سیکھتا ہے، رٹے لگاتا ہے، کسی کو پیسے دے کر یا نقل کر کے پروجیکٹ تیار کرتا ہے ، خانہ پری کی اسائنمنٹ اور پریکٹیکلز کرتا ہے اور ہر وہ کام کرتا جو اسے امتحان میں کامیابی اور اچھا گریڈ دلا سکے ۔ لیکن اس ساری کشمکش کے نتیجے میں ڈگری اور اچھا گریڈ تو حاصل ہو جاتا ہے، علم حاصل نہیں ہو سکتا۔ اور جب تک علم نہیں ہو گا، معاملے کی سمجھ نہیں ہو گی۔اور جب تک معاملے کی سمجھ نہیں ہو گی، طالب علم بامقصد سوال نہیں اٹھا سکے گا اور ایسی تعلیم کے نتیجے میں سائنسی پیش رفت کبھی نہیں ہو سکے گی۔
آپ کو ضرور یاد ہو گا جب ہائی سکول میں آپ نے ایٹم کی ساخت کے متعلق سوال یاد کیا تھا۔تب آپ نے پڑھا کہ ایٹم مادے کا بہت ہی چھوٹا ذرہ ہے جسے دیکھا نہیں جا سکتا ۔ پھر بتایا گیا کہ اس کے اندر مثبت چارج والے پروٹان اور بغیر چارج کے نیوٹران ہوتے ہیں اور مرکز کے گرد گردش کرنے والے الیکٹران ۔ کیا تب آپ کےذہن میں سوال اٹھا کہ” جو ذرہ دیکھا نہیں جا سکتا اس کےاندر کے ذرات کا کیسے پتہ چلا یا جا سکتا ہے؟”جب آپ کو بتایا گیا کہ سورج زمین سے اتنے کلومیٹر دور ہے تو کیا آپ کے اندر یہ بات جاننے کی خواہش پیدا ہوئی؟ کہ سائنس دانوں نے زمین پر رہ کر سورج تک کا فاصلہ کیسے ناپ لیا؟ جب ہم نے کتاب میں پڑھا کہ زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔تو کیا تب ہمارے ذہن میں اس بات کا ثبوت جاننے کے لیے سوالات پیدا ہوئے؟سچ پوچھیں تو ہم میں سے ذیادہ تر کے ذہنوں میں ایسے سوالات کبھی نہیں آئے ہوں گے۔وجہ یہ ہے کہ ہمیں علم سکھایا ہی نہیں جاتا ، ہمیں تو بس امتحان پاس کرنے اور اچھے گریڈ دلانے کا بندوبست کیا جاتا ہے۔
جب ہمارا طالب علم اور تعلیمی ادارے اپنا مقصد درست کر لیں گے، علم کی اہمیت کو جان لیں گے، استاد امتحان پاس کرنے کے طریقوں کی بجائے علم سکھانا شروع کر دیں گے، تب ذہنوں میں بامقصد سوالا ت اٹھنے لگیں گے ۔ او ر پھر ایجاد و دریافت کا بند دروازہ ضرور کھل جائے گا۔انشاءاللہ

آغا وقار کی ایجاد یا فراڈ؟

آغا صاحب کی ایجاد کے جھوٹ سچ سے پہلے ان کے “انقلابی کام” کا تھوڑا سا تعارف۔ آغا وقار کا تعلق سندھ کے کسی گاؤں سے ہے اور غالبا” الیکٹریکل میں ڈپلومہ ہولڈر ہیں۔ گزشتہ دنوں مین سٹریم میڈیا میں ان کی ایجاد کا خوب چرچہ ہوا ہے۔ میڈیا کے مطابق انہوں نے ایک ایسی کٹ بنائی ہے جسے کسی بھی گاڑی میں لگا کر اسے صاف پانی پر چلایا جا سکتا ہے یعنی جس گاڑی میں یہ کٹ نصب ہو گی اسے پیٹرول، ڈیزل، سی این جی یا کسی دوسرے ایندھن کی کوئی ضرورت نہیں صرف صاف پانی ڈالتے جایں اور گاڑی چلتی جائے گی اس کے علاوہ آغا وقار نے بتایا کہ اس ایجاد کے ذریعے بجلی کے جینریٹرز بھی پانی پر چلائے جا سکتے ہیں اور ملک میں جاری توانائی کا موجودہ بحران بہت جلد ختم ہو سکتا ہے۔
آغا وقار کی تیار کی گئی کٹ جو کہ حامد میر کے پروگرام میں دکھائی گئی وہ دو حصوں پر مشتمل ہے ایک حصے میں پانی کی برق پاشیدگی کی جاتی ہے اور دوسرے میں اس سے پیدا شدہ ہائیڈروجن اور آکسیجن گیسوں کو فلٹر کیا گیا ہے۔ برق پاشیدگی والا حصہ عام گھروں میں استعمال ہونے والے واٹر فلٹر میں بجلی کے الیکٹروڈ لگا کر بنایا گیا ہے جبکہ کہ گیسوں کی فلٹرنگ کے لیے ایک بوتل استعمال کی گئی ہے جس میں گیسوں کو کسی مائع غالبا” پانی سے گزارا گیا ہے تاکہ پانی کو توڑنے کے دوران بنی بھاپ الگ ہو جائے۔ پھر آکسیجن اور ہائیڈروجن کے آمیزے کو انجن میں جلنے کے لیے دیا جاتا ہے جس سے انجن چلتا ہے۔ اور اس طرح آغا وقار نے اپنی بنائی گئی کٹ لگا کر محض پانی پر گاڑی چلا کر دکھائی بلکہ حامد میر نے خود گاڑی ڈرائیو کی۔
اب سوال ہے کیا سائنسی لیحاظ سے ایسا ممکن ہے کہ گاڑی مکمل طور پر پانی سے چلائی جاسکے؟ تو جواب ہے نہیں!۔ وہ اس طرح کہ تھرموڈائنامکس کے اصولوں کے مطابق اور توانائی کی بقا کے قانون کے تحت ایسا ممکن نہیں۔ اس بات کی وضاحت یہ ہے کہ پانی کو توڑنے کے لیے بیٹری سے برقی توانائی لی گئی اب اس سے گیس بن گئی جب اس گیس کو انجن میں جلایا گیا تو حرات پیدا ہوئی اور اس حرارت کی توانائی کو انجن نے حرکی توانائی میں تبدیل کر دیا اور انجن گھومنے لگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا انجن کی پیدا شدہ حرکی توانائی اس برقی توانائی سے ذیادہ ہے جو بیٹری سے لی گئی تھی؟ یقینا” نہیں۔ کیونکہ بہت سی توانائی حرارت اور رگڑ کی صورت میں ضائع ہو جاتی ہے۔
پانی کی برق پاشیدگی کے دوران مندرجہ ذیل عمل ہوتا ہے۔
2H2O…Electrolysis…2H2+O2
جب گیسوں کے آمیزے کو انجن میں جلایا جاتا ہے تو کچھ ایسا عمل ہوتا ہے
2H2+O2….Combustion….2H2O
یعنی پہلے پانی برق پاشیدگی سے ٹوٹا اور پھر انجن میں گیسوں کے جلنے سے دوبارہ پانی بن گیا اب یہ کیسے ممکن ہے کہ پانی تو وہیں کا وہیں رہا اور ہمیں مفت میں توانائی عنائت کر گیا۔ یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے ہم منگلہ ڈیم کے پانی کے اخراج پر بڑے بڑے ٹیوب ویل لگا دیں اور وہ ٹربائنوں سے آنے والا پانی دوبارہ ڈیم میں چڑھا دیں اور ان ٹیوب ویلوں کو انہی ٹربائنوں کی بجلی سے چلایا جائے۔ اس طرح ڈیم بھی بھرا رہے گا اور بجلی بھی بنتی رہے گی۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایسا ممکن ہے؟ اگر نہیں! تو پھر سمجھ لیں کہ آغا صاحب کی واٹر کار بھی ممکن نہیں۔
اب کچھ لوگ سوال کریں گے کہ آغا صاحب نے تو سب کے سامنے گاڑی چلا کر دکھائی اگر وہ سائنسی اعتبار سے ممکن نہیں تھا تو گاڑی کیسے چل گئی!۔ تو عرض ہے کہ گاڑی کے چلنے کے پیچھے کئی ایک باتیں ہو سکتی ہیں مثلا” گاڑی کی بیٹری پہلے سے چارج تھی اور اس سے برق پاشیدگی کا عمل جاری ہو گیا لیکن جوں جوں گاڑی چلتی جائے گی بیٹری بھی ڈسچارج ہوتی جائے گی اور ایک وقت بیٹری کے ختم ہونے سے برق پاشیدگی کا عمل رک جائے گا اور نتیجے کے طور پر گاڑی بند ہو جائے گی۔ اب آغا صاحب کا کہنا ہے کہ بیٹری ساتھ ساتھ انجن سے چارج ہو جاتی ہے۔ ان کی اس بات کا جواب یہ ہے کہ جب بیٹری کا ڈسچارج ریٹ اس کے چارجنگ ریٹ سے ذیادہ ہو گا تو بیٹری مسلسل چارجنگ ملنے کے باوجود بھی ختم ہو جائے گی۔ اس بات کی جانچ کے لیے آغا صاحب کی گاڑی کی بیٹری کی ڈسچارج کرنٹ اور انجن سے آنے والی چارجنگ کرنٹ کا موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ دوسری بات کہ ہو سکتا ہے آغا صاحب نے کوئی خفیہ ایندھن استعمال کیا ہو جو ہائیڈروجن کے ساتھ چلتا ہو اس بات کی جانچ کے لیے گاڑی کے آیگزاسٹ پر آلہ لگا کر دیکھا جا سکتا ہے کہ اگر تو وہاں خالص پانی آ رہا ہے تو پھر تو گاڑی میں ہیڈروجن کے علاوہ کوئی اضافی ایندھن استعمال نہیں ہو رہا اور اگر کاربن ڈائی آکسائیڈ یا کاربن کے دوسرے مرکبات آ رہے ہیں تو ثابت ہو جائے گا کہ کوئی خفیہ ایندھن استعمال ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ اگر ایگزاسٹ سے مکمل پانی آ رہا ہے تو اسے جمع کیا جائے اور اس پانی کی مقدار کا کٹ میں ڈالے گئے پانی کی مقدار سے موازنہ کیا جائے تو بات واضع ہو جائے گی کہ ہائیڈروجن کا کوئی خفیہ سورس استعمال کیا گیا ہے کہ نہیں۔
اب ہم فر‍ض کرتے ہیں کہ آغا وقار نے کچھ ایسا کر دکھایا ہے کہ جس سے سائنس کے بنیادی اصول بدل گئے ہیں جیسے کوانٹم میکینکس کے آنے سے نیوٹن کی فزکس غلط ہو گئی تھی اگر ایسا ہو گیا ہے تو پھر سیٹ بیلٹ باندھ لیجیے کیونکہ سائنس کی دنیا میں بھوچال آنے والا ہے اور ہماری زندگیاں سر سے پا بدلنے والی ہیں۔ اگر آغا صاحب فراڈ نہیں ہیں تو دنیا سے توانائی کے تمام مسائل ختم ہو جایں گے، اب ہمیں ڈیم بنا کر بجلی بنانے کی کوئی ضرورت نہیں، سولر انرجی کی اہمیت ماضی کا حصہ بننے لگی ہے۔ اب ہمیں اپنے موبائل اور لیپ ٹاپ چارج نہیں کرنے پڑیں گے۔ بجلی کی ترسیل کے لیے بڑی بڑی ٹرانسمیشن لائنیں ڈالنے کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ فوسل فیول سے چلنے والے انجنوں سے پیدا شدہ آلودگی کا خطرہ نہیں رہے گا، بیٹری سیل ختم ہو جایں گے، سیٹلائٹس پر سولر پینلز لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی، ایٹمی توانائی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ماضی کا حصہ بن جائے گی، اپنی کہکشاں سے نکل کر دوسری کہکشاؤں کا سفر ممکن ہو جائے گا وغیرہ وغیرہ۔،
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آغا صاحب اتنی بڑی تبدیلیوں کا موجب بن سکتے ہیں؟؟ ہگس بوزان تک پہنچ جانے والی سائنس جو آج سے دو سو سال پہلے جانتی تھی کہ پانی کو گیسوں میں توڑا جا سکتا ہے اور انجن میں جلایا جا سکتا ہے وہ آج تک اس سادی سی بات سے کیسے بے خبر رہی جو دنیا کو یکسر بدل سکتی ہے؟؟
سازش!! واقعی بہت بڑی سازش!!۔
مجھے تو ڈاکٹر عبدالقدیر خاں اور ڈاکٹر شوکت پرویز کی باتوں پر حیرت ہے جو انہوں نے حامد میر کے پروگرام میں کیں۔ بہرحال ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو بہتر بنانا ہو گا تاکہ وہ اصلی موجد پیدا کر سکے اور ایسا تبھی ہو گا جب ہم یہ مان لیں گے کہ ہماری مٹی نم نہیں ہے ہمیں اسے نم کرنا ہے ہمیں اپنے تعلیمی نظام کی خرابیوں اور کمییوں کی نشاندہی کر کے ان کا حل تلاش کرنا ہے۔ تاکہ ہمارے موجد خارجی دنیا میں ہمارے لیے شرمندگی کی بجائے فخر کا موجب بن سکیں۔