فرحان دانش

زمین ڈاٹ کام نے اپنی ایپلی کیشن میں نیا فیچر متعارف کروا دیا

پاکستان کی اولین پراپرٹی ویب سائٹZameen.com نے اپنی موبائل فون ایپلیکیشن کیلئے ایک نیا فیچر متعارف کروایا ہے ۔اس فیچر کے استعمال سے صارفین اور رئیل اسٹیٹ ایجنٹس پراپرٹی کے اشتہارات موبائل فون سے ہی اپ لوڈ کر سکیں گے ۔ اس فیچر کا نا م ’’ایڈ پراپرٹی ‘‘ ہے ۔ فیچر کو استعمال کرتے ہوئے کوئی بھی رجسٹرڈ صارف اپنے سمارٹ فون سے پراپرٹی کی تفصیلات ‘معلومات اور تصاویر کو با آسانی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر سکے گا۔
استعمال کنندگان کے پاس یہ آپشن موجود ہوگی کہ وہ اشتہا ر کو فوری طور پر اپ لوڈ کر لیں یا پھر اس کو محفوظ  کر کے بعد میں اپ لوڈ کریں ۔بعد میں اپ لوڈ کرنے کی صورت میں ‘ایپلیکیشن اشتہارکی تصاویر اور معلومات کواپنے لوکل ڈیٹا بیس میں محفوظ کرے گی جو کہ بعد میں با آسانی اپ لوڈ کی جا سکیں گی ۔ اس طرح سے کام تیزی اور جلدی سے ہونگے اور انٹرنیٹ کے کنکشن پر انحصار کرنے کی ضرورت بھی نہیں رہے گی ۔ یہ فیچر صارفین کی آسانی کو دیکھتے ہوئے شامل کیا گیا ہے جو کہ استعمال میں ’یوزر فرینڈلی ‘یعنی صارف دوست ہے ،یہ فیچر ہر عام و خاص کیلئے بنایا گیاہے اور ہر کوئی اس کو با آسانی سمجھتے ہوئے استعما ل کر سکتا ہے ۔یہ ایپلیکیشن خود کار طریقے سے صارف کی جگہ کو معلوم کرتی ہے اور صارف کو اطراف کے علاقوں کی درست فہرست بھی فراہم کرتی ہے ۔اس سے صارف کیلئے اپنے اشتہار کو اپ لوڈ کرنا مزید آسان ہو جا تا ہے ۔ اس کے علاوہ گوگل میپ کی مربوط مدد سے صارف کیلئے اپنی پراپرٹی کے بالکل درست مقام کی نشاندہی بھی ممکن ہوتی ہے، گوگل میپ پر یہ نشاندہی اشتہار کیلئے بہترین ردعمل کو ممکن بناتی ہے ۔
اس موقع پر Zameen.comکے شریک سی ای او عمران علی خان نے کہا کہZameen.comموبائل کے تیزی سے بڑھتے ہوئے ترجیحی استعمال سے بخوبی واقف ہے اور اپنے موبائل فون صارفین کیلئے سمارٹ فون سے کام کو مزید آسان کر رہی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آن لائن رئیل اسٹیٹ کا کاروبار تیزی سے موبائل فون میں سما رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تھری جی اور فور جی کی سہولت کو متعارف ہوئے تقریباً ایک سال کا عرصہ ہو چکا ہے اور Zameen.comنے اس عرصے میں موبائل فون کے صارفین کیلئے بہت سے موبائل دوست فیچرز اور مصنوعات متعارف کروائی ہیں۔ یہ خدمات اس عزم کے ساتھ متعارف کروائی جاتی ہیں کہ ہمارے صارفین ہماری مصنوعات کو باآسانی استعما ل کر سکیں تا کہ اُن کے کام میں سہولت پیدا ہو اور وہ ہماری خدمات سے منسلک رہ سکیں ۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ حال ہی میں ’ایڈ پراپرٹی‘ کا فیچر بھی اسی لئے متعارف کروایا گیا ہے تاکہ مارکیٹ کی حقیقی ضروریات کو پورا کر سکے۔
Zameen.comپاکستان کا سب سے بڑااور کامیاب ترین پراپرٹی پورٹل ہے ۔اس ویب سائٹ کو ماہانہ 13لاکھ لوگ وزٹ کرتے ہیں ۔ ویب سائٹ کے ماہانہ 75لاکھ پیج دیکھے جاتے ہیں جہاں پر 11لاکھ سے زائد پراپرٹی کے اشتہارات موجود ہوتے ہیں۔ اس ویب سا ئٹ کے ساتھ ملک بھر سے 7ہزار رئیل اسٹیٹ ایجنٹس منسلک ہیں۔

ورڈپریس کی انگریزی تھیم کا ترجمہ کریں آسانی سے

اگرہمیں  ورڈپریس کی انگریزی تھیم کا اردو  یاکسی اور زبان میں کرنا ہو تو اسکے لیے  ہمیں تھیم کی تمام فائلوں میں انگریزی میں لکھے گئے الفاظوں  اور جملوں کا ترجمہ کرنا پڑتا ہے۔ اس کام کے لئے تھیم کی بیشتر فائلوں میں ترمیم کرنا پڑتی ہے جس  میں کافی وقت صرف ہوتا ہے۔
مگر  اب اس  کام کو ورڈ پریس   کے پلگ ان "کوئیک لوکلائزیشن" نے آسان بنا دیا ہے۔ "کوئیک لوکلائزیشن"  کنٹرول پینل کو چھوڑے بغیر سائٹ کے منتظمین کو ورڈپریس کی کوئی بھی تھیم اور کوئی بھی پلگ ان کا ترجمہ کرنے کی سہولت دیتا ہے۔
استعمال کا طریقہ 1.  "کوئیک لوکلائزیشن" ورڈ پریس  پلگ ان ڈاؤن لوڈ کریں 2.   زپ فائل کو ان زپ کریں۔ 3.   quick-localization فولڈر کو /wp-content/plugins/ ڈائریکٹری میں اپ لوڈ کریں۔ 4.   کوئیک لوکلائزیشن پلگ ان کو   کنڑول پینل میں'پلگ انز' مینو میں جا کر ایکٹویٹ کریں۔ 5.   اُن لفظوں اور جملوں کی نشاندہی کریں جن کا ترجمہ مطلوب ہے۔ 6.   اور کام ختم مثال: تبصرہ ارسال کرنے والےبٹن "Post Comment" کا اردو ترجمہ مطلوب ہے۔ کنڑول پینل  میں کوئیک لوکلائزیشن کے ٹیب پر کلک کریں۔ Oldکے خانے میں انگلش کاوہ  لفظ یا جملہ تحریر کریں  جس کا ترجمہ کرنا ہے۔اور Newکے خانے میں اُس لفظ یا جملے کا اردو ترجمہ تحریر کر دیں (جس طرح تصویر میں دکھایا گیا ہے)۔  پھر Saveپر کلک کر دیں۔ اب بلاگ پر جا کر پیج کو ریفریش کریں۔ آپ نے جس  انگلش کے لفظ یا جملے کا ترجمہ کیا ہو گا وہ اردو میں تبدیل ہو جائے گا۔ نوٹ: تمام انگریزی تھیمز میں کم و بیش ایک ہی طرح کے الفاظ یا جملے ہوتے ہیں۔ اگر آپ تھیم کو تبدیل  بھی کردیں گے  تو وہ خود بخود اردو میں تبدیل ہو جایا کریں گی۔ ترجمہ کردہ الفاظ کی فہرست کو Export  کے ذیلی ٹیب میں جاکر کاپی کرکے فہرست  کا  بیک اپ بھی لیا جا سکتا ہے اور بوقت ضرورت اسے واپس پیسٹ کرکےImport بھی کیا جا سکتاہے۔

نئے صوبے ۔۔مگر کیسے؟

تحریر کردہ: سلیم صافی کیا سندھ پاکستان کا حصہ نہیں اور اگر ہے تو پھر پنجاب اور خیبر پختونخوا میں لائق تحسین قرار پانے والا اقدام سندھ میں جرم کیسے قرار پاتا ہے؟۔ پیپلز پارٹی کی قیادت یا تو پنجاب اور خیبر پختونخوا کی تقسیم کے ایشوز چھیڑنے پر قوم سے معافی مانگے یا پھر سندھ کی تقسیم پر سیخ پا ہونے والوں کو بھی جواب دے۔ میاں نواز شریف یا تو بہاولپور اور ہزارہ کی حمایت پر بھی معافی مانگیں یا پھر سید غوث علی شاہ اور ماروی میمن کو سمجھادیں کہ وہ سندھ کی تقسیم کے مطالبے کا جمہوری حق استعمال کرنے والوں کو گالیاں دینے والوں کے صف سے نکل جائیں۔ تنہا میں نہیں اور بھی لاکھوں پاکستانی التجائیں کررہے تھے کہ لسانی بنیادوں پر صوبوں کی تقسیم کاپنڈورا باکس نہ کھولا جائے لیکن وقتی سیاسی مفادات کے لئے پیپلز پارٹی کی قیادت بضد تھی۔ مسلم لیگ(ن) کی قیادت بھی کم ذمہ دار نہیں ۔ سرحد اسمبلی میں جب صوبے کا نام پختونخوا رکھنے کے حق میں قرارداد پاس ہورہی تھی تو میاں نوازشریف مقتدر اور ان کی جماعت کے سردار مہتاب احمد خان عباسی قائد ایوان تھے ۔ مسلم لیگ(ن) کی قیادت نہ چاہتی تو اس وقت وہ قرارداد کبھی منظور نہیں ہوسکتی تھی لیکن تب سیاسی مصلحتوں کی خاطر اس نے قرارداد پاس ہونے دی ۔ تب پیپلز پارٹی اور جے یو آئی نے بھی اس کی حمایت کی تھی لیکن جب قرارداد کی منظوری کے بعد اس کی حمایت آئینی‘ جمہوری اور سیاسی تقاضا بن گیا تو انہی لوگوں نے مخالفت شروع کردی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے ہی ہزارہ ڈویژن میں پختونخوا کے خلاف ابتدائی فضا ہموار کی ۔ سندھ یا بلوچستان میں نئے صوبوں کی آواز اٹھتی ہے تو اے این پی کو بھی مخالفت زیب نہیں دیتی کیونکہ اس کے منشور میں سرائیکی صوبہ لکھا گیا ہے ۔ ہاں البتہ ہم جیسے سندھ کی تقسیم کی حمایت تب کریں گے جب سندھ کی منتخب اسمبلی حمایت کردے ۔ جب تک سندھ اسمبلی بل یا قرارداد منظور نہیں کرتی ‘ وال چاکنگ‘ مظاہروں‘ حتیٰ کہ قومی اسمبلی کی قراردادوں کی بھی کوئی حیثیت نہیں ۔اگر کراچی کو الگ صوبہ بنانے کے لئے پورا کراچی بھی نکل آئے تو بھی اس کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں جب تک کہ سندھ کی منتخب صوبائی اسمبلی کی اکثریت تقسیم پر آمادہ نہیں ہوتی لیکن اگر کوئی کراچی یا کسی اور علاقے کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے اس کے آئینی اور جمہوری حق سے محروم کیا جاسکتا ہے اور نہ اس کو گالی دینا مناسب ہے۔ سندھ اگر پاکستان کا حصہ ہے تو وہاں بھی اسی کلیے اور قانون کا اطلاق ہوگا جو باقی ملک میں ہوتا ہے ۔ جنوبی پنجاب کا صوبہ اگر اس بنیاد پر بنتا ہے کہ اس میں شامل علاقے صوبائی دارالحکومت سے دور ہیں تو پھر نواب شاہ‘ سکھر ‘ ژوب‘ زیارت ‘ مکران‘سبی‘ پوٹھوہار‘ بہاولپور ‘ چترال اورڈی آئی خان وغیرہ کے مکینوں کو بھی اسی بنیاد پر صوبے دینے ہوں گے ؟اگر پنجاب اور خیبر پختونخوا میں وسائل کی تقسیم غیرمنصفانہ ہے اور جو حصہ لاہور یا پشاور کو ملتا ہے ‘ وہ بہاولپور اور ایبٹ آبادجیسے دوردراز علاقوں کو نہیں ملتا تو یہی تفریق کوئٹہ اور سبی کے مابین یا پھر کراچی اورتھرپارکر کے مابین بھی پائی جاتی ہے۔ شناخت اگر سندھیوں‘ پنجابیوں‘ بلوچوں‘ پختونوں اور سرائیکیوں کا حق ہے تو اردو بولنے والوں‘ چترالیوں‘ پوٹھوہاریوں‘ بلتستانیوں اور دیگر زبانیں بولنے والوں کا بھی حق ہے ۔ دھرتی کا بیٹا ہونے اور نہ ہونے کی یہ فضول بحث اب ختم ہوجانی چاہئے ۔ جو بھی اس ملک میں رہتا ہے وہ اس دھرتی کا بیٹا ہے ۔ سب یکساں ہیں اور سب کو یکساں حقوق حاصل ہونے چاہئیں ۔ کوئی ساٹھ سال پہلے آیا ہے ‘ کوئی دو سو سال پہلے ‘ تو کوئی دو ہزار سال پہلے۔ مجھ جیسے خیبر پختونخوا کے بیشتر پختونوں کے آباء واجدادافغانستان سے ہجرت کرکے آئے ہیں۔ گیلانی صاحب کا خاندان بھی چند سو سال پہلے سرائیکی دھرتی میں آیا ہے ۔ محمد علی درانی جو اس وقت بھاولپور صوبے کی تحریک کے محرک ہیں ‘ کے آباء و اجداد بھی چند سو سال قبل قندھار سے بہاولپور آئے تھے ۔اگر یہ سب دھرتی کے بیٹے اور وارث ہیں تو پھر اردو بولنے والے کیوں نہیں؟۔ میاں نوازشریف بنیادی طور کشمیر ی ہیں اور ان کے آباء واجداد بھی ہندوستان سے لاہور منتقل ہوئے ۔ تو کیا انہیں آج بھی پنجاب کی دھرتی کا بیٹا نہیں سمجھا جائے گا۔ ایم کیوایم کا ماضی اور حال کے ارادے اپنی جگہ لیکن ایم کیوایم کی وجہ سے سب اردو بولنے والوں کو گالی دینا پاکستان کو گالی دینے کے مترادف ہے ۔ اردو بولنے والے اگر ہم سے زیادہ دھرتی کے بیٹے نہیں تو کم بھی نہیں ۔ میرے آباء واجداد تھے‘ یا دیگر زبانیں بولنے والوں کے ‘ کوئی یہاں پر حکومت کرنے آیا اور کوئی تلاش معاش میں ۔ ہمارے آباء واجداد میں سے کسی نے بھی پاکستان کی خاطر یہاں آنے اور مقیم ہوجانے کا فیصلہ نہیں کیالیکن اردو بولنے والوں کی اکثریت کے آباء واجداد نے پاکستان کی خاطر ہجرت کی ۔ یوں وہ ہم سے زیادہ پاکستانی اور دھرتی کے بیٹے ہیں ۔ یوں تو اسلام آباد پوٹھوہاریوں کی زمین پر بنا ہے لیکن یہاں کے سیاہ و سفید کے مالک کبھی اردو بولنے والے پرویز مشرف ہوتے ہیں‘ کبھی پنجابی بولنے والے میاں نوازشریف اور ان دنوں سندھی بولنے والے آصف علی زرداری مالک ہیں۔ پھر پختون اٹھ کر کہہ سکتے ہیں کہ تاریخی طور پر ان کا شہر رہنے والے کوئٹہ کی قسمت کے فیصلے کا کسی بلوچ کو اختیار نہیں دیا جاسکتا ہے یوں بھی نہ جانے ہم نئے صوبے کو نیا ملک کیوں سمجھ بیٹھے ہیں ۔ اگر نیا صوبہ بن جائے تو کیا وہاں ویزے اور پاسپورٹ کے ذریعے سفر کرنا ہوگا جو لوگ اتنا شور مچارہے ہیں ۔ اس وقت پنجاب الگ اور خیبر پختونخوا الگ صوبہ ہے لیکن مجھے پنجاب میں جانے سے کوئی روکتا ہے ‘ زمین خریدنے سے ‘ کاروبار کرنے سے اور نہ رشتہ لینے یا دینے سے ۔ بہتر یہی ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے لئے ایک قومی کمیشن بنا دیا جائے جو انتظامی بنیادوں پر پورے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے لئے فارمولا وضع کرے ۔ بہتر یہی ہوگا کہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنائے جائیں ۔ ایک فارمولا موجودہ ڈویژنوں کو صوبے قراردلوانے کا ہوسکتا ہے ۔ ایک اورتجویز انگریز کے دور کے ڈویژنوں کو صوبے قراردلوانے کی ہوسکتی ہے۔ ان کے علاوہ بھی کوئی فارمولا بنایا جاسکتا ہے جس کا اطلاق تمام صوبوں میں یکساں طور پر ہو۔ اس کمیشن میں تمام صوبوں‘ تمام قومیتوں ‘ تمام جماعتوں اور تمام طبقوں کی نمائندگی ہونی چاہئے ۔ جب تک یہ کمیشن اپنا کام مکمل نہ کرلے تب تک سیاست اور صحافت میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث ختم کی جائے۔ اس کمیشن کے ارکان کو بھی اٹھارویں آئینی ترمیم کی پارلیمانی کمیٹی کے ممبران کی طرح پابند کیا جائے کہ اپنے کام کی تکمیل تک وہ میڈیا میں اس موضوع پر بات نہیں کریں گے ۔ نہیں تو یہ جس طریقے سے صوبے بنائے جارہے ہیں اور اس کی بحث جس طرف چل نکلی ہے ‘اس کے نتیجے میں صوبے تو نہیں بن سکیں گے لیکن خاکم بدہن پاکستان روانڈا بن جائے گا۔ پھر کسی کے وسائل کام آسکیں گے ‘ تاریخ کام آسکے گی اور نہ شناخت۔ سب خوار ہوں گے اور سب کے بچے مریں گے۔ ماخذ بشکریہ جنگ کراچی

محرومی کے مزید 20سال

تحریر: خلیل احمد نینی تال والا
صوبہ سندھ میں کوٹہ سسٹم کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں رکھی گئی اور وجہ یہ بتائی گئی کہ شہری علاقے کے لوگوں کو چونکہ اچھی تعلیم کے مواقع حاصل ہیں جبکہ دیہی علاقے کے نوجوان اس سے محروم ہیں اور احساس محرومی کا شکار ہیں لہٰذا 10سال کیلئے حصول روزگار میں دیہی علاقے کے باشندوں کیلئے کوٹہ رکھا گیا جس سے شہری اور دیہی تفریق کی بنیاد رکھ دی گئی ۔ شہر کے لوگوں نے خیر سگالی کے جذبے کے تحت اس 10سال کے کوٹہ سسٹم کو قبول کر لیا مگر بعد کی آنے والی حکومتوں نے اس کوٹہ سسٹم میں مسلسل اضافہ کرنا شروع کر دیا اور اس دفعہ تو حد ہی کر دی گئی کہ ایک دن اچانک اس بل کو قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا اور آناً فاناً یہ بل منظور کر کے ایک مرتبہ پھر شہری نوجوانوں کو سرکاری دفاتر میں 20سال کیلئے نوکریوں سے محروم کر دیا گیا۔ صوبہ سندھ کی آبادی کا اگر جائزہ لیا جائے تو اس میں 45فیصد سندھی بولنے والے رہتے ہیں اور 55فیصد دیگر زبانیں بولنے والے ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق 45فیصدسندھی بولنے والے چھوٹے چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں رہتے ہیں جبکہ 45فیصد اردو بولنے والے ، جن کو اصطلاح میں مہاجر کہا جاتا ہے ، بڑے شہروں میں رہتے ہیں اور 10فیصد پاکستان کے دیگر صوبوں سے آنے والے بھی زیادہ تر شہروں میں رہتے ہیں۔ گویا اردو بولنے والوں اور سندھی بولنے والوں کی آبادی کا تناسب کم و بیش برابر ہو چکا ہے ۔ موجودہ حکومت نے اس سال مردم شماری کرائی اور نہ جانے کس مصلحت کے تحت آج تک اس کے نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے مردم شماری کا مقصد فوت ہو کر رہ گیا ہے ۔ اس کے اعداد و شمار حکومت کی توقع کے خلاف سامنے آئے ہیں جن میں ردو بدل کیا جارہا ہے۔ جہاں تک صوبہ سندھ کا تعلق ہے اصولاً اردو اور سندھی زبان بولنے والوں کو مساوی نوکریاں ملنی چاہئے تھیں ، مگر ایسا نہیں ہوا ۔ شروع ہی سے تقریبا ً 80فیصد سرکاری نوکریاں سندھی بولنے والوں کو ملتی رہیں اور 20فیصد اردو بولنے والوں کے حصے میں آئیں ۔ کوٹہ سسٹم کے رائج ہونے کے بعد صرف 10فیصد اردو بولنے والوں کو سرکاری نوکریاں مل رہیں ہیں ۔ اس کی زندہ مثال حکومت سندھ کے کسی بھی ادارہ میں چوکیدار ، چپڑاسی ، نائب قاصد یا شازو نادر کلرک ، اردو بولنے والے ملیں تو ملیں آفیسر گریڈ کا کوئی نوجوان نہیں ملے گا ۔ اب صرف چند سیکریٹری اور انتظامیہ کے چند افسران رہ گئے ہیں جو کہ ریٹائرمنٹ کے نزدیک ہیں کیونکہ بھرتی کے وقت باپ ، دادا اور پر دادا کا خانہ پر کرتے وقت یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ نوکری کا طلبگار کس طبقہ سے تعلق رکھتا ہے اور اس پر نوکریوں کے دروازے کسی نہ کسی بہانے بند کر دیئے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں اگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو یہ بات بھی کھل کر سامنے آتی ہے کہ ایسے اچھے غیر سرکاری اداروں میں جہاں ملازمت کا معیار صرف اہلیت ہوتا اور کام چوری اور سستی ایک لمحے کو بھی برداشت نہیں کی جاتی۔ سندھی بولنے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے ، اردو بولنے والے نوجوانوں سے سرکاری سطح پر روا رکھی گئی یہ نا انصافی ہی ہے جس کی وجہ سے ان میں مایوسی پھیلی اور مایوس اور بے روزگاری کے مارے یہ نوجوان منشیات ، اسلحہ اور دیگر غیر قانونی حربوں میں ملوث ہوئے ۔ سندھ کا امن و امان خطرے میں پ۔ڑگیا مفاد پرست لوگوں نے ان سے غلط کام لیئے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔ شہروں میں قانون نام کی کوئی شے باقی نہ رہی اور گروپوں کی شکل میں ایک دوسرے کے مد مقابل آکر شہروں کے سکون کوختم کر دیا۔آج تک یہ منطق سمجھ میں نہیں آسکی ہے کہ پاکستان کے چاروں صوبوں میں سے صرف سندھ ہی کو کوٹہ کیلئے کیوں مقرر کیا گیا ہے جبکہ سرحد ، بلوچستان اور پنجاب کیساتھ بھی تو دیہی آبادیاں ہیں وہاں کوٹہ سسٹم کیوں نافذ نہیں کیا گیا جبکہ اسلام آباد میں اس قسم کی تفریق کو منع کیا گیا ہے اور ہماری وفاقی شرعی عدالت اور شرعی ایپلٹ بورڈ بھی اس کو غیر شرعی اور غیر انسانی قرار دے چکے ہیں تو پھر کیا وجہ تھی کہ نواز شریف حکومت نے ایک مرتبہ پھر عجلت میں قومی اسمبلی میں اکثریت کے بل پر کراچی اور حیدر آباد کے نوجوانوں پر یہ فیصلہ مسلط کر کے ان کو سرکاری نوکریوں سے محروم کر دیا تھا ۔ میرے خیال میں عجلت میں یہ فیصلہ اس لئے کیا گیا ہو گا کہ تاکہ کالا باغ ڈیم پر دیہی علاقوں کو تنقید کو کم کیا جا سکے اور ان کو یہ باور کرایا جائے کہ ہم نے دیہی علاقے کے نوجوانوں کیلئے سرکاری روزگار کے مواقع پھر فراہم کر دیئے ہیں۔ مگر وہ اس بات کو بھول گئے کہ شہری نوجوان جنہیں تعلیم مکمل کرنے کے بعد پہلے ہی سرکاری نوکری نہیں ملتی تھی اب اس بے روزگاری سے تنگ آکر کوئی غلط قدم بھی اٹھا سکتے ہیں۔ لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ پہلے سرکاری مر دم شماری کے درست اعداد و شمار سامنے لائے اور بعد ازاں کوٹہ سسٹم کو ہمیشہ ہمیشہ ختم کر کے میرٹ کی بنیاد پر شہری اور دیہی نوجوانوں کو تعلیم و روزگا ر کے یکساں مواقع فراہم کرے اور غیر منصفانہ فیصلے کو واپس لے جس طرح مرحوم بھٹو صاحب کے دورِ حکومت میں جو تعلیمی ادارے قومیائے گئے تھے وہ واپس ہو گئے اور قومیائے گئے بنک ، انشورنس کمپنیاں نجی اداروں کو بیچ دی گئیں ۔ آج کے جدید دور میں کوٹہ سسٹم جیسا فرسودہ نظام واپس لے کر پی پی پی کی حکومت جو آج تک سندھ کے شہری علاقوں میں مقبول نہیں ہو سکی اس فعال فیصلے سے کراچی ، حیدرآباد کے شہریوں کا دل جیت سکتی ہے۔
ماخذ

"سعید اجمل کا ہتھیار "تیسرا

سعید اجمل نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے پہلے کہا ہے کہ وہ انگلینڈ کے خلاف ایک نئی ڈیلیوری متعارف کروائیں گے۔ ماہرین سعید اجمل کی نئی ڈیلیوری کو ’تیسرا‘ کہہ رہے ہیں۔ باؤلرسعید اجمل کا کہنا ہےکہ انہوں نے دوسرا کے بعد اپنی جادوئی نئی بال دورہ زمبابوے سے قبل ہی ایجاد کرلی تھی تاہم اسے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے بچا کررکھا تھا۔
آخر یہ "تیسرا" کیا بلا ہے آیئے جانتے ہیں۔
تیسرا دراصل ٹاپ اسپن گیند ہوتی ہے جس کی اچھال دوسری گیندوں سے قدرے زیادہ ہوتی ہے۔
تیسرا کرکٹ میں گیند باز کی طرف سے جانے والی ایک مخصوص ڈیلیوری کا نام ہے۔ اس ڈیلیوری کو "جلیبی" بھی کہا جاتا ہے۔ تیسرا کومعروف آف اسپنرثقلین مشتاق نےایجاد کیا ہے۔ تاہم بغور دیکھنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ بال سادہ سی آرتھوڈکس بیک اسپنر کی طرح ہے۔ جو ایک بہت عام سی ڈیلیوری ہے جس میں انگلیوں کے گھماؤ کے ذریعے گیند کی جاتی ہے۔ اور اس وقت سے استعمال ہو رہی ہے جب سے کرکٹ کھیلی جا رہی ہے۔
اس ڈیلیوری کو نیا نام "تیسرا" اُس وقت دیا گیا جب ثقلین مشتاق انڈین کرکٹ لیگ میں لاہور بادشاہ کی جانب سے کھیل رہے تھے۔ تیسرا کا سامنا کرنا والے سب سے پہلے بلے باز رسل آرنلڈ تھے۔ ثقلین مشتاق نے گیند رسل آرنلڈ کو کرائی تو گیند رسل آرنلڈ کے پیڈ پر لگی اور ان کے خلاف ایل بی ڈبلیو کی اپیل ہوئی۔ جس پر ایمپائر نے درست طور پر آرنلڈ کو ایل بی ڈبلیو قرار دیا۔ اس طرح وہ ""تیسرا" کا شکار ہونے والے پہلے بلے باز بنے۔ رسل آرنلڈ چار دفعہ تیسرا کے شکار ہوئےہیں۔
ڈیلیوری
یہ ڈیلیوری اس بنیاد پر ایجاد ہوئی کہ یہ سلائیڈر کی طرح کام کرتی ہے(جس کو لیگ اسپینر استعمال کرتے ہیں)۔ اس ڈیلیوری کو آف اسپنر اپنے معمول کے ایکشن میں پھینکتا ہے بجائے ڈیلیوری کے وقت ہاتھ کو گھمانے کے۔ گیند باز عموما صرف انگلیوں سے پیچھےکی طرف رول کرتا ہے۔ ڈیلیوری کے وقت لگتا ہے کہ گیند زیادہ ٹرن لے گی۔ لیکن یہ بالکل ٹرن نہیں لیتی۔ یہ بلے بازکو دھوکہ دینے کا بہت اچھا طریقہ ہے۔ کیونکہ بلے باز سمجھتا ہے کہ گیند ٹرن لے گی۔
نام
تیسرا نام عام طور پر ثقلین مشتاق استعمال کرتے تھے۔ اور یہ نام "دوسرا" سے ماخوذ ہے" دوسرا" ڈیلیوری بھی ثقلین مشتاق ہی نے متعارف کروائی تھی۔ "دوسرا" کے معنی اردو میں ہیں "کوئی اور" یا "نمبردو" اس لئے ثقلین مشتاق نے اس کو تیسرا کا نام دیا جسے معنی ہیں "نمبرتین"۔ جلیبی کا نام اس گیند کو کرائے جانے کے بعد سے ہی متعارف ہو گیا تھا اور بہت سے بھارتی کمنٹیٹرز نے جلیبی کا لفظ استعمال کرنا شروع کیا۔ جلیبی ایک میٹھائی کا نام ہے جو برصغیر میں بہت مشہور ہے اور عام طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ تاہم "بیک اسپنر" کا نام اگر دیکھا جائے تو یہ زیادہ مروج ہے جوکہ گیند کے اسپن کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ گیند ہوا میں سفر کرتی ہوتی ہے۔
استعمال
اگرچہ یہ ڈیلیوری سوسال سے بھی زیادہ عرصے سے زیراستعمال ہے لیکن ثقلین مشتاق نے اس کو نئی شکل دی اور اسکو انڈین کرکٹ لیگ میں استعمال کیا ہے۔ ثقلین مشتاق کا کہنا ہے کہ "تیسرا" ابھی ارتقاء کے مراحل میں ہے۔ اور وہ اسکو مزید موثر بنا رہے ہیں۔ تاکہ بلے باز زیادہ تذبذب کا شکار ہوجائیں کہ گیند کہاں اسپن ہو رہی ہے، آیا وہ اسپن ہوگی بھی یا نہیں۔سعید اجمل نے اس کو 2011 کے ورلڈ کب میں کینیڈا کہ خلاف استعمال کیا تھا جس میں وہ اپنی واحد وکٹ لینے میں کامیاب ہوئے تھے۔

مدد : وکی پیڈیا، بی بی سی، جنگ

کچھ ادبی حقائق

میر ببر علی انیس (ولادت 1802ء دہلی میں اور وفات 1874ء لکھنوء) ایک مرثیہ میں یہ دعائیہ مصرع کہہ چکے تھے۔یا رب رسول پاک ﷺ کی کھیتی ہری رہےدوسرا مصرع حسب دل موزوں نہیں ہو رہا تھا دیر سے اسی فکر میں تھے، میر ببر علی انیس کی اہلیہ اس طرف سے گزریں تو انہوں نے پوچھا کہ کس سوچ میں بیٹھے ہیں؟ موصوف نے اپنا مصرع پڑھا اور کہا کہ دوسرا مصرع سوچ رہا ہوں بیوی نے بے ساختہ کہا یہ لکھ دو
صندل سے مانگ بچوں سے گود بھری رہےمیر انیس پھڑک اٹھےفورا یہ مصرع لکھ دیا۔ مطلع مکمل ہو کر زبان کی لطافت اور محاورے کی خوبی سے ضرب المثل ہوگیا۔
یا رب رسول پاک ﷺ کی کھیتی ہری رہے
صندل سے مانگ بچوں سے گود بھری رہے
  میر انیس مرثیہ کے مستند شاعر تھے۔ ابتدا میں غزل کے بھی اچھے شاعر تھے، لیکن جوانی میں ہی میں مرثیہ گوئی کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔ چند اشعار اس دور کے تغزل میں ہیں۔دنیا بھی عجب سرائے فانی دیکھیہر چیز یہاں کی آنی جانی دیکھیجو آ کے نہ جائے وہ بڑھاپا دیکھاجو جا کے نہ آئے وہ جوانی دیکھی------------------پاکستان قائم ہونے کے وقت 1947ء میں اس کی حمایت میں مختلف شعراء نے بہت اشعار لکھے اور جلسوں کی حمایت میں پڑھے جاتے تھے ان میں ایک نظم بہت مشہور ہوئی جس کا بند ہے۔منزل کو بسر کرنا ہے مشکل سے کیا ڈرنا ہےآزادی کے شعلہ کودل میں روشن کرنا ہےپاکستان کی الفت میںاپنا جینا مرنا ہےلے کے رہیں گے پاکستانبٹ کے رہے گا ہندوستانیہ نظم کیف بنارسی کی ہے۔ کیف بنارسی کی ولادت 6 مئی 1926ء کوچنار مرزا ضلع بنارس (یوپی) وفات 5 دسمبر 2003ء کراچی----------------بڑھاپے میں جوانی کی یاد تازہ کرتے ہوئے برمحل مطلع ہے۔وقت پیری شباب کی باتیںایسی ہیں جیسے خواب کی باتیںیہ مطلع مغلیہ خاندان کے آخری دور کے مستند شاعر شیخ محمد ابراہیم ذوق کا ہے۔ ذوق کی ولادت 1788ء میں اور وفات 1854ء دہلی میں ہوئی--------------------ہم بانٹ کے روڑے ہیں اِدھر کے نہ اُدھر کےمکمل مطلع ہے۔نے بام کے ہیں زیب نہ زینت کسی در کےہم بانٹ کے روڑے ہیں اِدھر کے نہ اُدھر کےیہ مطلع ایک گمنام شاعر ذوق کا ہے جو بنارس شہر کے رہنے والے تھے1834ء میں جب تذکرہ"گلشن بے خار" نواب مرزا شیفتہ خان نےمرتب کیا تو ذوق کا انتقال ہو چکا تھا۔

ایسا کیوں؟

کراچی میں تحریک انصاف کے جلسے بعد پیدا ہونے والے سوالات
آج سے پہلے تحریک انصاف کے تمام جلسوں مختلف سیاسی لیڈروں کو برابھلا کہا جاتا رہا مگر آج کے جلسے میں عمران خان کا ایم کیو ایم اور الطاف حسین کے تذکرے سے گریز۔ کیوں
جاوید ہاشمی چند دن پہلے لاڑکانہ میں ن لیگ کے جلسے میں نواز شریف کے ساتھ بیھٹے تھے اور آج عمران خان کے ساتھ ۔ کیوں
آج سے پہلے کے تمام جلسوں امریکہ کی دل کھول کر مخالفت کی جاتی تھی مگر آج مکمل خاموشی۔ کیوں
قصور میں شرکاء کوکرسیوں پر بیٹھا گیا تھا آج شرکاء کو کھڑا رکھا گیا۔ کیوں

قادیانی یا کوالٹی

تقریبا تین یا چار ہفتے مجھے فیس بک پر اور ایک ایس ایم ایس کے ذریعے یہ پیغام ملا تھا جس کا متن یہ تھا۔ 
اگر کوئی کیو موبائل سیٹ استعمال کرتا ہے توانہیں آگاہ کریں کہ کیو موبائل قادیانیوں کی کمپنی ہے۔ اس کپمنی کے موبائل سیٹ پراگر آپ اردو یاعربی میں "محمد" کا نام مبارک لکھیں تو ٹیڑھی لائنیں آ جائیں گی اوراگر ایس ایم ایس سینڈ کریں گے تو کیو موبائل میں یہ عظیم نام نہیں آئے گا بگڑے ہوئے الفاظ بن جائیں گے۔ 
مگرآج کیوموبائل کمپنی نے اخبارات میں اشتہار شائع کیا ہے۔ جس کے مطابق کیوموبائل میں "کیو" سے مراد کوالٹی ہے قادیانی نہیں۔ اور جن صارفین کو موبائل سیٹس پراردو یا عربی لکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے وہ کیوموبائل کے کسی بھی کسٹمر سروس سینٹر پر جا کر اپنے موبائل کا سافٹ ویئربالکل مفت اپ گریڈ کروالیں۔

بہترین اردو بلاگر کا اعزاز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یار فرحان دانش! ۔

گذشتہ رات پاکستان بلاگ ایوارڈز2011ء کی تقریب تقسیم ایورڈزکا انعقاد ریجنٹ پلازہ کراچی میں کیا گیا۔ میں چند وجوہات کی بناء پراس تقریب میں شرکت نہ کر سکا۔ پاکستان بلاگ ایوارڈز2011ء میں میرا بلاگ بھی" بہترین اردو بلاگر " کی فہرست میں شامل تھا۔
نتائج کے مطابق بہترین اردو بلاگر کا ایوارڈ مجھے دیا گیا ہے۔ کاش میں ایوارڈز کی تقریب میں شرکت کر لیتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افسوس صد افسوس مگر میں ٹوئیٹر اور فیس بک کے ذریعے تقریب پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ بہرحال اس ایوارڈ کے لیے میں اپنے اردو بلاگر ،دوستوں اور قارئین کا شکریہ ادا کرتا ہوں جن کی حوصلہ افزائی و رہنمائی کی بدولت مجھے یہ ایوارڈ دیا گیا۔
میں دیگرزمروں میں کامیاب ہونے والے بلاگرز کو بھی تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
آخر میں پاکستان بلاگ ایوارڈزکی پوری ٹیم اور ووٹ دینے اور تبصرے کرنے والے تمام ساتھیوں کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میرے بلاگ کو ایوارڈ کے قابل سمجھا۔ اللہ انہیں جزائے خیر دے۔

سال 2011ء میں قومی کرکٹ ٹیم کی ٹیسٹ کرکٹ میں کارکردگی

سال2011ء میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے ٹیسٹ کرکٹ میں بھی بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا۔ 2011ء میں قومی ٹیم 5 ٹیسٹ سیریز کھیلی جس میں 4 میں کامیابی حاصل کی اور ایک سریز برابر رہی۔ پاکستان نے نیوزی لینڈ کوایک صفرسےشکست دی اوراورویسٹ انڈیز سے سریزایک ایک سے برابر رہی۔ اس کے بعد زمبابوےاورسری لنکا کوایک صفر، اوربنگلہ دیش کودوصفرسے شکست دے کرچار سیریز جیتیں۔ اس سال پاکستان نے 10ٹیسٹ میچز کھیلےجن میں سے6 میں جیتے، 1 ہارے اور3 میچ ڈرا ہوئے۔ سال 2011ء کے 3 کامیاب ترین بیٹسمینوں کی کارکردگی
توفیق عمر نے10 میچ کھیلے831رنز بنائے جن میں3سنچریاں اور3نصف سنچریاں شامل ہیں۔
مصباح الحق نے10 میچ کھیلے765رنز بنائے جن میں1سنچری اور7نصف سنچریاں شامل ہیں۔
یونس خان نے8 میچ کھیلے765رنز بنائے جن میں2سنچریاں اور4نصف سنچریاں شامل ہیں۔

 سال 2011ء کے 3 کامیاب ترین بولروں کی کارکردگی
 سیعد اجمل نے8 میچ کھیل کر50وکٹیں حاصل کیں۔
 عبدالرحمان نے8 میچ کھیل کر36وکٹیں حاصل کیں۔ 
عمرگل نے8 میچ کھیل کر34وکٹیں حاصل کیں۔


 سال 2011ء کے 3 کامیاب ترین فیلڈرزکی کارکردگی
عمراکمل نے8میچ کھیل کر33شکارکئے جن میں 29 کیچز اور4اسٹمپ شامل ہیں۔
 یونس خان نے8میچ کھیل کر14 کیچز لئے۔
یونس خان نے10میچ کھیل کر11 کیچز لئے۔

سال 2011ء میں قومی کرکٹ ٹیم کی ایک روزہ کرکٹ میں کارکردگی

سال2011ء قومی کرکٹ کیلئے کافی کامیاب سال رہا۔ 2011ء میں گرین شرٹس نے چھ ون ڈے سیریز کھیلی اور تمام میں ریکارڈ کامیابی حاصل کی۔ اس سے قبل پاکستانی ٹیم دو بار ایک سال کے دوران پانچ پانچ ون ڈے سیریز جیت چکی ہے۔ 2011ءمیں پاکستان ٹیم نے عالمی کپ کےسیمی فائنل تک بھی رسائی حاصل کی۔شاہد آفریدی کی کپتانی میں پاکستان نے نیوزی لینڈ اورویسٹ انڈیز کوتین دو سے شکست دی۔ اس کے بعد مصباح الحق کی زیر قیادت آئرلینڈ کودوصفر، زمبابوے کوتین صفر، سری لنکا کو چار ایک، اور آخر میں بنگلہ دیش کودوصفرسے شکست دے کرچھ سیریز اپنے نام کیں۔ اس سال پاکستان نے 32ایک روزہ میچ کھیلےجن میں سے24 میں فتح سمیٹی، 7 ہارے اور ایک کا فیصلہ نہ ہوسکا۔اس سال کے کامیاب ترین بیٹسمین محمدحفیظ رہے جنہوں کلینڈرائیرمیں تین سنچریاں اور پانچ نصف سنچریاں سمیت ایک ہزار75 رنز بنائے۔ محمد حفیظ نےپاکستان کی طرف سے سال کی سب بڑی اننگ 139 رنز کی کھیلی۔ دوسرے نمبر پر کپتان مصباح الحق رہے جنہوں نے 964رنزاسکورکیے۔ بولنگ میں سب سے آگے شاہد آفریدی رہے۔ آفریدی45 وکٹیں لیکر سال کے کامیاب ترین بولر رہے۔ دوسرے نمبر پر اسپنر سعید اجمل رہے، اجمل نے 34وکٹیں حاصل کیں۔ محمد حفیظ نے بھی بولنگ میں اپنا لوہا منوایا اور29 وکٹیں حاصل کیں۔ 2011ء میں سال کی بہترین بولنگ آفریدی نے کنیا کےخلاف کی اور16رنزدےکر5وکٹیں حاصل کی۔فیلڈنگ میں مصباح الحق 15 کیچز کے ساتھ پہلے نمبر پر رہے۔

تحریک انصاف کا سونامی

پاکستانی سیاست میں آئے دن نت نئے تماشے ہوتے رہتے ہیں ۔ کل قصورمیں ہونے والے تحریک انصاف کے جلسے کے اختتام پر جلسے کے شرکاءجن میں خواتین مرد اور بچے شامل تھے جلسہ گاہ میں موجود تمام کرسیاں لے کررفو چکر ہوگئے۔ عمران خان جو آئے روز سونامی کو پکار پکار کر بلا رہے تھے آخر وہ سونامی آ ہی گیا اور تمام کرسیاں بہا لے گیا۔ کرسیاں لے کرفرار ہو جانے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستانی لیڈران کی طرح قوم کو بھی کرسی کتنی پیاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق جلسہ گاہ میں 30 ہزار پلاسٹک کی "نئی" کرسیاں موجود تھیں۔ میرے اندازے کہ مطابق پلاسٹک کی ایک کرسی کی قیمت 400 روپے ہے۔ اگر واقعی 30 ہزارکرسیاں موجود تھیں تو ان کی مجموعی مالیت 12,000,000 روپے بنتی ہے۔ عمران خان نے کیا قصور کیا تھاجو قصور کہ عوام دھرنا خان کو 12,000,000 روپے کی چٹنی لگا گئے۔

آئی ٹی جینئس

ایک  جینئس سردار نے بل گیٹس کو خط لکھا۔سر مجھے کچھ سوال پوچھنے ہیں۔
کی بورڈ کے لیٹرزصیح جگہ پر نہیں ہیں۔ کی بورڈکاصیح وژن کب آئے گاَ؟
ونڈوز میں“Start”کا بٹن ہے” Stop ” کا کیوں نہیں؟
ہم “ Ms Word ”استعمال کرتے ہیں “ Mr Word ”کب ریلیزہو گا؟
کی بورڈمیں” “ AnyKeyکا بٹن نہیں توپھر کمپوٹر کیوں “ Press Any Key ”مانگتا ہے؟
آخر میں ایک ذاتی سوال آپ کا نام "گیٹس"ہے تو آپ "ونڈوز"کیوں بناتے ہیں؟

ادھورے سپنے - آخری قسط

اس پوسٹ کی دسویں قسط یہاں ملاحظہ فرمائیں
گڈو کو دفن کیا جا چکا ہےاوراب محلے کی مسجد کے امام صاحب انتہائی عجزوانکساری سے گڈوکیلئے دعا مانگ رہے ہیں۔ آسمان پر بادل اورگہرے ہوچکے ہیں۔ ننھےگڈوکی موت پرآسمان کا سینہ بھی غم سے پھٹ پڑاہےاوروہ بھی مسلسل روئےچلاجارہا ہے۔ وقفے وقفےسے بادل یوں گرجتے ہیں جیسے کوئی بوڑھیا اپنے جوان بیٹے کی موت پرنوحہ کررہی ہوں۔ گہرے کالے بادل اس قدر نیچےآچکےہیں گویا وہ پرانے قبرستان میں اپنی چھوٹی سی قبر میں پرسکون سوئے ہوئے گڈوکا آخری دیدارکرنا چاہتے ہوں۔۔۔۔۔ جیسے کہ وہ ننھے گڈو کا خوبصورت ماتھا چوم لینا چاہیتے ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت وایثار سے سرشارکسی ماں کی طرح۔۔۔۔۔۔!!

لوگ دعا کے بعدآہستہ آہستہ کچی بستی کی طرف روانہ ہوچکے ہیں اورتھوڑی دیر کےبعد قبرستان خالی ہوجاتا ہے۔ ننھے گڈو کی قبرپر کسی خدا ترس انسان نے سرخ گلاب کی پتیاں ڈال دی ہیں۔
شام کا اندھیرا، کالے بادلوں کے ساتھ مل کر دھیرے دھیرے قبرستان کو تاریک کر رہا ہے اور اب بوندوں کے ساتھ ساتھ سردہواؤں کے جھکڑ بھی چل رہے ہیں۔ شام کے اندھیرے میں تیز ہواؤں سے ننھے گڈو کی قبرسے گلاب  کی پتیاں اُڑاُڑکر اِدھر اُدھرپھییل گئی ہیں۔۔۔۔۔۔ اچانک تاریک اور ویران قبرستان ننھے گڈو کی آواز سے گونج اُٹھتا ہے ۔۔۔۔۔ یوں لگتا ہے کہ گڈو چیخ چیخ کر کہہ رہا ہو،" ماں۔۔۔۔۔ ماں۔۔۔۔۔ مجھے بھوک لگی ہے ماں ۔۔۔۔ ماں مجھے روٹی دو!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماں، آج تو نے مجھے گیند کیلئے بیس  روپےدوگی ناماں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ماں دیکھو تم نے وعدہ کیا تھا ۔۔۔۔۔۔؟  ماں مجھے روٹی دو۔۔۔۔۔ ماں مجھے گیند دو۔۔۔۔۔ ماں مجھے روٹی دو۔۔۔۔۔ ماں مجھے روٹی دو۔۔۔۔۔ماں۔۔۔۔۔۔۔۔ماںںںںںںںںںںںںں*************************



یہ تھا ۔۔۔۔۔۔اختتام۔۔۔۔۔۔۔گڈو کی دردناک کہانی کا

اسکریپ بک - بلاگر اردو ٹیمپلیٹ

آج میں نے اردو بلاگر ساتھیوں کے لیے ایک انگریزی بلاگرسانچے کو اردو میں تبدیل کیا ہے۔ اس ٹیمپلیٹ میں اردو میں تبصرہ جات لکھنے کے لیے علیحدہ اردو ایڈیٹر اور مصنف کے تبصروں کو علیحدہ انداز میں دکھانے کی سہولت موجود ہے۔میں نے ٹیمپلیٹ کی ٹیسٹنگ کے لیے ایک ٹیسٹ بلاگ بھی تشکیل دیا ہے۔ آپ لوگوں سے درخواست ہے کہ اگر اس ٹیمپلیٹ میں کوئی خرابی نظرآئے تومجھے مطلع کریں۔ انشا اللہ میں جلد مزید ٹیمپلیٹس کو اردو میں تبدیل کر کے آپ کے ساتھ شئیر کرونگا۔ امید ہے کہ آپ کو یہ سانچہ پسند آئے گا۔

سانچے / ٹیمپلیٹ کا پیش منظر دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
سانچہ / ٹیمپلیٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کریں۔

سکون واطمینان

موجودہ دورمیں انسانی زندگی میں بے پناہ ترقی ہو چکی ہے۔جس کا تصور آج سے کئی برس قبل نہیں کیا جاسکتا تھا۔ غرضیکہ انسانی زندگی میں لاتعدادآسائشوں اور سہولتوں کا اضافہ ہوگیا ہے۔ آسائشوں اور سہولتوں کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انسان پہلے سے زیادہ خوش وخرم رہتا اور زندگی کو بھرپور انجوائے کرتا لیکن ایسا نہیں ہے۔وجہ؟
 آسائشیں اور سہولتیں ہی دراصل انسانی زندگی میں عذاب بن گئی ہیں۔ان کے حصول کیلئے انسان کو پیسے کمانےکی دوڑمیں مبتلاکردیاہے اور پیسے کمانے کی اس دوڑنے جائزاور ناجائزکے فرق کوختم کردیا ہے۔ کیونکہ جن لوگو ں کوجائز طریقے سے نہیں ملتا وہ ناجائزطریقے سے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ معاشرے میں رسوت ستانی، ملاوٹ، ناجائزمنافع خوری، قتل و غارت گری ، لوٹ مار، چوری وڈاکا زنی اتنی عام ہوگئی ہیں کہ جن کے پاس بہت کچھ ہے وہ بھی خوش نہیں، جن کے پاس کم ہے وہ اس دوڑمیں پیچھےرہ جانےکی وجہ سے خوش نہیں۔
پیار ومحبت، ایثار، بھائی چارہ، مذہب غرضیکہ ہر چیز کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ ہمارا معاشرہ بے عملی کا شکار ہے۔ ہم باتیں بنانے کے ماہر ہیں‘ الزام تراشی ہماری قومی عادت بن گئی ہے۔ ہماری بدنصیبی یہ بھی ہے ہم ہر معاملے کو ”مٹی ڈالو، دفع کرو“ جیسے سکون بخش کلمات سے ٹالتے ہیں۔ زندگی سے سکون واطمینان فوت چکا ہے۔ ہرمردوعورت ہراساں اور پریشان ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مثبت قدروں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ زندگی میں محنت، سچائی، دیانتداری اور ایمانداری کو شعار بنالیا جائے ۔ ایسی صورت میں ذرا دیر تو ہو سکتی ہے لیکن ہم منزل کو پا لیں گے اور ہمیں حقیقی سکون بھی ملے گا۔ اگر ہم اسلام کے بنیادی اصولوں کو ہی اپنالیں تو زندگی سے تعصب، نفرت اور پریشانیوں سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔ سکون واطمینان کی زندگی گزارسکتے ہیں، ٹینشن اور ڈیپریشن کی کیفیت سے نکل سکتے ہیں اورجو انسان چین، سکون اور اطمینان قلب کھو چکا ہے اور پریشانیوں میں گھر گیا ہے وہ اطمینان واپس آسکتا ہے۔
الله رب العزت ہمیں زندگی کے ہر مرحلے میں سکون واطمینان نصیب فرمائے۔ آمین

ادھورے سپنے – دسویں قسط

اس پوسٹ کی نویں قسط یہاں ملاحظہ فرمائیں
ننھے گڈو کی میت ایک چھوٹے سے جلوس کی شکل میں قبرستان کی طرف جارہی ہے۔ گڈوکی ماں تقریبا پاگل ہوچکی ہے اور روتی چیختی باہر گلی میں آچکی ہے، محلے کی عورتوں نے گڈوکی ماں کو پکڑ رکھا ہے جو اپنے آپ کو چھڑانے کی دیوانہ وار کوشش کر رہی ہےتاکہ وہ دوڑ کر اُن بیدرد لوگوں کو روک لے جو اُس کے لخت جگرکواُس سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دور لے جارہے ہیں۔
گڈوکی ماں پاگلوں کی طرح رورہی ہے اور چیخ چیخ کر کہے چلی جارہی ہے "رُک جاؤ ، رُک جاؤ ،خداکے لئے رُک جاؤ !۔۔۔۔۔۔ خداکے لئےمیرے بچےکو مجھ سے دورنہ لے جاؤ۔۔۔۔۔۔ گڈو! گڈو! رُک جامیرا چاندرُک جا۔۔۔۔۔رُک جا میں تجھے اپنے ہاتھ سے روٹی کھلاؤں گی۔۔۔میں تجھے گیند بھی لے کر دُونگی۔۔۔اب تو لوٹ آمیرےبچے۔۔۔۔"گڈوکی ماں بدستور چیختی رہتی ہے اُسے اب امید نہیں ہے کہ گڈوروٹی اور گیندکا سن کرآنکھیں کھول دے گااوردوڑتا ہواآکر اُس کے سینے سے لگ جائے گا۔اور پھر وہ کبھی اُسے سینے سے جدا نہیں کریگی۔۔۔۔۔ لیکن کہ گڈوآنکھیں نہیں کھولتا، وہ تو اب ظالم دنیا سے ایسا روٹھا ہے کہ منائے نہیں منتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ تو اب بہت دور جا چکا ہےبہت ہی دور۔۔۔۔اتنا دور کہ جہاں اُس تک ماں کی چیخوں کی آواز بھی نہیں پہنچ سکتی۔۔۔۔۔۔۔وہ توایک ایسے دیس جا چکاہےکہ جہاں سے کبھی کوئی لوٹ کر نہیں آیا،کبھی بھی نہیں!اورنہ ہی گڈواب کبھی لوٹ کر واپس آئے گا۔۔۔۔۔۔!!
اس پوسٹ کی آخری قسط یہاں ملاحظہ فرمائیں

گوگل میوزک

گوگل نے آن لائن میوزک کیلئے نئی سروس "گوگل میوزک" کا اجراء کردیا ہے۔ نئی سروس کی لانچنگ کیلئے لاس اینجلس میں تقریب ہوئی جس میں گوگل انتظامیہ نے اپنی سروس میں نئے اضافے کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔ گوگل میوزک پر اینڈرائڈ استعمال کرنے والے افراد  کے لیےگانے خریدنے اور ایم پی تھری فائلز کی اسٹریمنگ کی سہولت میسر ہوگی۔ ساتھ ہی صارفین روزانہ کی بنیاد پر ایم پی تھری میں کوئی ایک گانا مفت ڈاؤن لوڈ بھی کرسکیں گے۔ گوگل کی نئی سروس نے آن لائن میوزک کے میدان میں ایپل آئی ٹیونزکیلئے مشکلات پیدا کردی ہے۔ تاہم یہ سروس تاحال صرف امریکہ تک محدود ہے۔ گوگل اپنی اس نئی سروس کو اپنےشوشل نیٹ ورک گوگل پلس کا حصہ بھی بنا رہا ہے۔

پاکستان بلاگ ایوارڈز2011

پاکستان بلاگ ایوارڈز2011 کا انعقاد ہورہا ہے اور مقابلہ جاری ہے جس میں میرا اردوبلاگ "دانش نامہ" بھی نامزد ہوا ہے آپ تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ آپ مجھے ووٹ دیں اور مجھےاس مقابلے میں کامیاب بنائیں۔
اگر آپ میرے بلاگ کو بطور بہترین اردو بلاگ کا ووٹ دینا چاہیں تو یہاں کلک کریں اور کھلنے والے صفحہ پر موجود ستاروں کے ذریعے اپنی پسندیدگی کا اظہار کریں۔



5 ستاروں کا مطلب سب سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ یعنی جتنے ستاروں پر کلک کریں گے اتنا پسندیدگی کا اظہار ہوگا۔ اگر آپ مجھےیہ ایوارڈ جتوانا چاہتے ہیں تو ووٹ کریں۔

Pages