لبنیٰ مرزا

ہماری سینڈوچ جنریشن

pinterestlinkedinmail

lubna mirzaصبح جیسے ہی سیل فون میں‌ الارم بجا تو میں‌ ایک گہرے خواب سے جاگ گئی۔ عجیب خواب تھا وہ بھی ادھورا۔ ایک ادھورا خواب ایک آدھی پڑھی ہوئی کہانی کی طرح‌ ہوتا ہے جس کے اختتام کے لئے تجسس رہ جاتا ہے۔ ایک بڑا سا ہال ہے جس میں‌ کسی ٹاپک پر لیکچر ہورہا ہے اور میں‌ توجہ سے اسے سن رہی تھی۔ باہر بارش ہورہی تھی اور موسم خراب تھا۔ جب لیکچر ختم ہوگیا تو سب لوگ اٹھ کر ادھر ادھر جانے لگے۔ میں‌ نے مڑ کر دیکھا تو امی کھڑکی کے باہر کھڑی بارش میں‌ بھیگ رہی تھیں۔ وہ میری امی تھیں‌ یا نذیر کی یا دونوں‌ ایک ہی خاتون کے اندر تھیں اس بارے میں‌ یقین سے نہیں‌ کہہ سکتی۔ میں‌ لپک کر کھڑکی کے پاس گئی تو دیکھا کہ وہ بھیگ رہی ہیں، اور مٹی بھی لگی ہوئی ہے۔ ان کو دیکھ کر میرا دل افسوس سے بھر گیا۔ میں‌ نے ان سے کہا آپ اندر کیوں‌ نہیں‌ آگئیں؟ تو انہوں‌ نےدروازے کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ وہ بند ہو گیا تھا اور اندر کوئی آواز بھی نہیں‌ سن سکتا تھا اس لئے وہ کھڑکی کے باہر کھڑی انتظار کرتی رہیں‌ کہ میں‌ مڑ کر انہیں‌ دیکھوں‌ گی۔

میری نانی کو چھاتی کا سرطان ہو گیا تھا اور جو لوگ ان کے ساتھ کمرے میں‌ موجود تھے ان کی زبانی معلوم ہوا کہ انہوں‌ نے تکلیف میں‌ تڑپ تڑپ کر جان دی تھی۔ ڈاکٹر اور سرجن تو دور کی بات، ان کو نہ ہاسپٹل کی سہولت تھی نہ درد کی دواؤں کی۔ وہ سارا وقت گھر میں‌ رہتی تھیں، چھ بچوں‌ اور اپنے شوہر کے لئے کھانا پکانے اور گھر صاف کرنے کے علاوہ ان کی اور کوئی مصروفیت نہیں‌ تھی۔ بچے بھی سارے گھر میں‌ ہی پیدا کئے اور اپنی صحت کا کبھی خیال نہیں‌ کیا۔ پردے کی  سخت پابند۔ لوگ کہتے ہیں‌ کہ جب کہیں‌ جانا ہو تو پالکی میں‌ اپنے ساتھ دو اینٹیں‌ بھی رکھ لیتی تھیں‌ کہ اٹھانے والوں‌ کو معلوم نہ ہو کہ ان کا وزن کتنا ہے۔ مجھے ان کی زندگی اور موت کا افسوس ہے۔ ان کے مرنے کے بعد بچے چھوٹے رہ گئے، میاں‌ نے دوسری شادی کرلی اور وہ سب لوگ ساری زندگی کے لئے ٹوٹے ہوئے انسان بن گئے۔

کتنا بھی میں‌ چاہوں‌ تو وہ منظر میرے ذہن میں‌ سے نہیں‌ نکل سکتا جب ہمارے سکھر والے گھر میں‌ آدھا شہر جمع تھا اور میری امی زور زور سے رو رہی تھیں۔ میری خالہ اس وقت نوجوان تھیں وہ ان سے کہہ رہی تھیں آپی آپ چپ ہوجائیں، آپی آپ مت روئیں۔ ان کو چار بچوں‌ کے ساتھ 24 سال کی عمر میں‌ ان کے شوہر چھوڑ کر چل بسے تھے۔ کیا نانا نے یہ کبھی سوچا ہوگا کہ سولہ سال کی بچی کو رخصت کررہے ہیں‌ تو وہ آٹھ سال بعد چار بچوں‌ کے ساتھ واپس آجائیں‌ گی؟ کام کم ہونے کے بجائے اور زیادہ ہوگیا۔ ہم اپنی بیٹیوں‌ کو تعلیم کے بغیر دوسرے لوگوں‌ کی ذمہ داری نہیں‌ بنا سکتے ہیں۔

جو خواتین یہ بلاگ پڑھ رہی ہیں‌ ان سے گذارش ہے کہ باقاعدگی سے اپنی عمر کے مطابق مناسب کینسر اسکریننگ کراتی رہیں۔ اگر آپ کی bhutto 2000عمر 50 سال سے زیادہ ہے تو چھاتی کے کینسر کو وقت پر تلاش کرسکنے کے لئے سال میں‌ ایک مرتبہ میموگرام کرائیں۔

دنیا خود ایک اسکول ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کے لئے اور سمجھ حاصل کرنے کے لئے ضروری نہیں‌ کہ بڑی یونیورسٹی سے ہی ملے گی۔ زندگی ہر کسی کو سبق سکھاتی ہے کچھ لوگ سیکھ جاتے ہیں‌ اور کچھ نہیں‌ سیکھتے۔

لاڑکانہ کے بارے میں‌ تصویروں‌ کے ساتھ ایک کتاب میں‌ یہ تصویر دیکھی جس میں‌ ذوالفقار علی بھٹو شیخ زید کے ساتھ خواتین کے ہسپتال کا 1974 میں‌ افتتاح‌ کررہے ہیں۔ اس تصویر میں‌ کیا غلطی ہے؟ غلطی یہ کہ عمارت کھڑی کرلینے سے کچھ زیادہ فائدہ نہیں ہو گا اگر وہاں کام کرنے والوں‌ کی ٹریننگ نہ ہو اور ان کے لئے کام کرنے کا ماحول نہ ہو۔ اس تصویر میں‌ سے خواتین غائب ہیں اور یہی اس تصویر کی سب سے بڑی غلطی ہے ۔ میڈیکل کالج میں‌ او بی کی روٹیشن میں‌ لاڑکانہ کے شیخ زید ہسپتال میں‌ کام کرنے کا موقع ملا۔ ہسپتال کے حالات اچھے نہیں‌ تھے اور اس میں آنے والی مریضاؤں‌ کی کہانیوں‌ نے مجھے مزید پی ٹی ایس ڈی یعنی پوسٹ ٹراؤمیٹک اسٹریس ڈس آرڈر دیا۔

بجلی نہ ہونے کی وجہ سے لیبر روم میں‌ دیوار پر موم بتی لگائی ہوئی تھی جس سے دیوار کالی پڑ گئی تھی اور وہ کسی ڈراؤنی مووی کا منظر لگتا تھا۔ کم عمر لڑکیوں‌ کو حمل میں‌ زیادہ پیچیدگیاں‌ ہوتی ہیں جن میں‌ ایکلیمپسیا شامل ہے جس میں‌ ان مریضاؤں‌ کے مرنے کا چانس 14 فیصد تک ہوتا ہے۔ ایک سترہ سال کی حاملہ بے ہوش لڑکی کو ٹیبل پر کلائیوں‌ سے باندھا ہوا تھا کیونکہ اس کا جسم سر سے پیر تک سوج گیا تھا اور وہ ہر تھوڑی دیر بعد دوروں‌ کی شدت سے جھٹکے کھانے لگتی تھی۔ پیروں‌ کے پاس اس کی ماں‌ سر پکڑ کر بیٹھی تھی۔ انہوں‌ نے ہنسی خوشی اس کو پچھلے سال رخصت کرتے وقت اس لمحے کے بارے میں‌ نہیں سوچا تھا۔ ایک لڑکی آئی اور اس نے بہت پیارا بچہ ڈیلیور کیا جس کا معصوم چہرہ فرشتے کی طرح‌ لگتا تھا۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ گھر چھوڑ کر بھاگ گئی تھی اور اس کے گھر والے ان لوگوں‌ کو ڈھونڈ رہے تھے۔ وہ ان لوگوں‌ کو جان سے مار دینا چاہتے تھے۔ ایک اور بالکل نوجوان گاؤں کی لڑکی کو لے کر آئے جس کو اس کے والدین نے اس کے شوہر کو اس دن بیچ دیا تھا اور اس کے اندام نہانی سے مستقل خون بہہ رہا تھا اور وہ بری طرح‌ ہاتھ پیر مار رہی تھی۔ میری کلاس فیلوز اس کے ہاتھ پیر پکڑ کر بے ہوشی کا ٹیکہ لگانے کی کوشش کررہی تھیں تو میں‌ نے اس کی آنکھوں‌ میں دیکھا اور اس سے نرمی سے بات کرنا شروع کی۔ معلوم نہیں‌ وہ اردو سمجھتی تھی کہ نہیں‌ لیکن میں‌ نے اس کو یہی کہا کہ ہم سب تمہاری مدد کرنا چاہ رہے ہیں اور ہاتھ پیر ڈھیلے چھوڑ دو۔ اس نے ویسا ہی کیا، پھر بے ہوشی کی دوا دینے کے بعد اس کو ایمرجنسی میں‌ او آر بھیجا گیا تاکہ جو خون کی نالیاں‌ پھٹ گئی ہیں‌ ان کو بند کیا جاسکے۔ جو پاکستانی خواتین ٹائم پر ہسپتال نہیں‌ پہنچتی ہیں‌ وہ گھر پر ہی مر جاتی ہیں۔

میں‌ یہ تصویر دیکھ کر سوچ رہی تھی کہ 1974 میں‌ شیخ زید یا بھٹو صاحب اپنی قوم کے لئے اچھا ہی سوچ رہے تھے اور اچھا کام بھی bhutto 330v3qکررہے تھے پھر کیا ہوا کہ پچھلے چالیس سالوں‌ میں‌ ہماری قوم کی حالت میں‌ کوئی بہتری نہیں‌ آئی اور وہ دائرے میں‌ سفر کررہی ہے۔ اس کا جواب مجھے یہی سمجھ آتا ہے کہ لوگوں‌ کو مچھلیاں‌ روزانہ دے کر ہمیشہ کے لئے ان کے حالات بہتر نہیں‌ کرسکتے۔ باپوں‌ نے اپنے سر پر وہ ذمہ داریاں‌ لیں‌ جن کو نبھانے کی ان کی نیت شائد ٹھیک ہو لیکن ان میں ان ذمہ داریوں‌ کو پورا کرنے کی تعلیم، شعور یا صلاحیت نہیں‌ تھی۔ ہم اپنے آپ کو اور اپنی بیٹیوں‌ کو اس نظام کے حوالے نہیں کرسکتے کیونکہ وہ ناکام ہوچکا ہے۔

جب ہم لوگ گلوکومیٹر استعمال کرنا سیکھ رہے تھے تو اپنی امی کی شوگر چیک کی تو وہ 300 ملی گرام فی ڈیسی لٹر سے زیادہ آئی جس کے بارے میں‌ انہیں‌ معلوم نہیں تھا۔ میری امی کی جنریشن کی خواتین کا وزن زیادہ ہے اور ان میں کھیل کود یا ورزش کا رجحان کم ہے۔ اسی لئے نہ صرف ان کو بہت ساری بیماریاں‌ ہیں‌ بلکہ ان کی طبعی عمر بھی نسبتاََ کم ہے۔

ہماری جنریشن ایک سینڈوچ جنریشن ہے جس کو نہ صرف پیچھے مڑ کر ہم سے پہلی نسل کی مدد کرنی ہے بلکہ آگے آنے والے لوگوں‌ کے بارے میں‌ بھی سوچنا ہے۔ ہم گذرے ہوئے لوگوں‌ کی غلطیاں‌ دہرانے کی غلطی نہیں‌ کرسکتے۔

ایک مرتبہ دیسی لوگ آئے تو ان کے شوہر نے کہا کہ میری بیوی کو فلاں‌ تکلیف ہے لیکن وہ آپ کو بتاتے ہوئے شرمندہ محسوس کررہی ہیں۔ حالانکہ یہ کوئی ایسی شرمندہ ہونے والی بات بھی نہیں‌ تھی۔ اس طرح‌ کے مشاہدات سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ ضرورت سے زیادہ پردہ پوشی اور معاشرے سے الگ تھلگ کٹ کر رہنے سے کس طرح‌ ان خواتین میں‌ دنیا کے بارے میں‌ معلومات، خود اعتمادی اور ہمت میں‌ کمی ہوتی چلی جاتی ہے۔ ایک سٹڈی سے معلوم ہوا کہ دو ہفتے چھٹی لینے سے آئی کیو 14 پوائنٹ کم ہوجاتا ہے۔ جس طرح‌ فریکچر پر پلستر چڑھانے کے بعد اس بازو کو استعمال نہ کریں‌ تو چار چھ ہفتوں‌ میں‌ ہی وہ کتنا پتلا سا ہوجاتا ہے بالکل ویسے ہی انسان کا دماغ‌ اور صلاحیت بھی ہے۔

ہر انسان کا اپنے پیروں پر کھڑا ہونا آج کی پیچیدہ دنیا میں‌ نہایت اہم ہے۔ خواتین ڈاکٹرز، نرسز، سائکالوجسٹ اور فارماسسٹ ضروری ہیں۔ وہ کہیں‌ آسمان سے نہیں‌ آئیں‌ گی۔ یہی ہیں‌ ہماری بیٹیاں‌ جن کو ان شعبوں‌ میں‌ اور ان کی پسند اور شوق کے دوسرے شعبوں‌ میں‌ آگے بڑھنے میں‌ مدد کرنی ہوگی۔ اپنی بیٹی کا نام میں نے اپنی نانی کے نام پر رکھا۔ میں‌ چاہتی ہوں‌ کہ وہ میری نانی سے ایک بہتر زندگی گذارے۔ وہ زندگی جس کی وہ حقدار تھیں‌ لیکن وہ ان کو نہیں‌ ملی۔

نوید، نانی کی ذیابیطس اور جال میں پھنسی چڑیا

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شہر میں ایک لڑکا رہتا تھا جس کا نام تھا نوید۔ نوید کی ایک چھوٹی بہن تھی اور وہ اپنے امی ابو کے ساتھ رہتے تھے۔

نوید کی نانی کو زیابیطس ہوگئی تھی اور وہ روزانہ اپنی دوا باقاعدگی سے لیتی تھیں۔ نوید نے دیکھا کہ وہ ہر صبح‌ ایک انجیکشن لگاتی تھیں‌ جس کا نام تھا وکٹوزا اور رات میں‌ ایک گولی کھاتی تھیں جس کا نام تھا گلوکوفاج۔

دوا لینے سے نانی کی شوگر نارمل رہتی۔ نوید کے ابو کا خیال تھا کہ جب نانی کی شوگر ٹھیک ہوتی ہے تو ان کا موڈ بھی اچھا ہوتا ہے۔ ایک دفعہ کیا ہوا کہ نانی خواہ مخواہ ناراض ہوگئیں، ان کو شدید غصہ آیا ہوا تھا اور پسینے بہہ رہے تھے۔ ان لوگوں‌ نے نانی کی بلڈ شوگر چیک کی تو وہ صرف 55 ملی گرام فی ڈیسی لٹر آئی۔ یہ دیکھ کر ابو نے نانی کو ایک کپ اورنج جوس پلایا اور ان سے کہا کہ آپ لنچ کرلیں۔ لنچ کرنے کے بعد نانی بالکل خوش خوش نظر آنے لگیں‌ اور بولیں‌ بیٹا امیتابھ بچن کی مووی تو لگا دو۔

نوید کو معلوم تھا کہ نانی کی دواؤں‌ سے دور رہنا چاہئیے کیونکہ اگر چھوٹے بچے یہ دوائیں‌ کھالیں‌ تو ان کی طبعیت بگڑ سکتی ہے۔ نانی کو زیابیطس ہونے کی وجہ سے سب کو معلوم تھا کہ ان کے خاندان میں‌ یہ بیماری ہے اور سب لوگ اس کے خطرے میں‌ ہیں۔ اس لئیے نوید اپنی امی کے ساتھ روزانہ گھر کے سامنے والی جھیل کے گرد 3 یا 4 چکر لگاتا تھا۔ وہ کبھی آہستہ آہستہ چلتے اور کبھی ریس بھی لگاتے۔ پہلے امی جیت جاتی تھیں‌ کیونکہ نوید چھوٹا تھا لیکن جب وہ تھوڑا بڑا ہوگیا اور اپنی naveedامی سے اس کا قد زیادہ ہوگیا تو پھر اس نے اپنی امی کو ریس میں‌ ہرانا شروع کیا۔ لیکن اس کی امی کو برا نہیں‌ لگتا تھا وہ ہنسنے لگتیں‌ کہ نوید نے ان کو ہرا دیا۔

نوید نے جب دیکھا کہ امی کا قد تو اس سے چھوٹا رہ گیا ہے تو ایک دن اس کو شرارت سوجھی، اس نے ایک بازو گردن کے پیچھے اور ایک گھٹنوں‌ کے پیچھے رکھا اور امی کو گود میں‌ اٹھا لیا جیسے وہ اس کو اٹھاتی تھیں۔ امی چلانے لگیں‌، نوید مجھے نیچے رکھ دو میں‌ گر جاؤں‌ گی۔ نوید نے امی کو دو تین مرتبہ گھمایا اور زمین پر کھڑا کر دیا اور ہنستے ہوئے بھاگ گیا اس سے پہلے کہ امی اس کو پکڑ لیتیں۔

نوید اپنی صحت پر دھیان دیتا تھا، وہ صرف پانی پیتا تھا اور زیادہ میٹھی چیزیں کھانے سے احتیاط کرتا تھا۔ اس کے پاس وزن کرنے والی مشین تھی اور وہ باقاعدگی سے اپنا وزن چیک کرتا تھا۔ اس کو معلوم تھا کہ بچپن سے ہی اچھی عادتیں‌ اختیار کرنے سے آگے چل کر وہ اپنی نانی کی طرح‌ زیابیطس ہونے سے خود کو بچا سکے گا۔ نوید اپنے دوستوں‌ کے ساتھ باسکٹ بال کھیلتا تھا اور اپنی چھوٹی بہن اور ابو کے ساتھ ہفتے میں‌ تین بار باکسنگ کرنے بھی جاتا تھا۔

ایک دن کیا ہوا کہ نوید اور اس کی امی جھیل کے گرد چکر لگا رہے تھے۔ وہاں‌ کچھ کچھوئے کنارے پر دھوپ کھا رہے تھے اور جیسے ہی ان کو آتے دیکھتے تو پانی میں‌ ڈبکی مار دیتے۔ نوید نے دیکھا کہ کنارے پر ایک چڑیا مچھلی پکڑنے والے جال میں‌ پھنسی ہوئی پھڑپھڑا رہی ہے۔ نوید اور اس کی امی نے دیکھا کہ اس پر چونٹیاں‌ بھی چڑھنا شروع ہوگئی ہیں۔ انہوں‌ نے چڑیا پر سے چونٹیوں‌ کو ہٹایا اور اس کو جال میں‌ سے نکالنے کی کوشش کی لیکن وہ دونوں‌ پنجوں‌ اور پروں‌ کے درمیان بری sparrow034176طرح‌ جکڑ گیا تھا۔ نوید کی امی نے کہا کہ بیٹا گھر سے قینچی لے آؤ۔ نوید بھاگا بھاگا گیا اور گھر میں‌ سے پتلی قینچی لے آیا۔ پھر اس نے ایک پتے میں‌ جھیل میں‌ سے پانی لیکر چڑیا کو تھوڑا سا پلایا۔ چڑیا کو نوید کی امی نے ہتھیلی میں‌ لیا ۔ چڑیا نے ہلنا جلنا بند کردیا تھا جیسے وہ سمجھ گئی ہو کہ میری مدد کی جارہی ہے۔ نوید نے احتیاط سے چڑیا کے پروں‌ کو بچاتے ہوئے مچھلی پکڑنے والے جالے کو کاٹنا شروع کیا۔ انہوں‌ نے جال کو چڑیا سے الگ کرکے پلاسٹک ری سائکل کوڑے میں‌ پھینک دیا۔

نوید کو احساس تھا کہ پلاسٹک کا کوڑا دنیا میں‌ تیزی سے بڑھ رہا ہے جس سے دنیا میں‌ رہنے والے زمینی، ہوائی اور آبی جانوروں‌ کی زندگی پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ اس لئیے انسانوں‌ پر ایک بڑی زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ماحولیات پر توجہ دیں۔ اسی لئیے وہ سب پلاسٹک کی چیزیں جیسا کہ شیمپو کی خالی بوتلیں‌ یا پانی کی خالی بوتلیں ری سائکل والے ڈبے میں‌ ڈالتا تھا تاکہ ان کو پگھلا کر دوبارہ استعمال کیا جاسکے اور وہ سمندروں‌ تک نہ پہنچیں جہاں‌ مچھلیاں‌ یہ پلاسٹک کا کوڑا کھا رہی ہیں۔ اس کو معلوم تھا کہ پھر یہی مچھلیاں‌ ہماری پلیٹ میں‌ پہنچ جاتی ہیں۔

پھر انہوں نے چڑیا کو واپس زمین پر رکھ دیا۔ چڑیا پہلے دو تین بار پھدکی جیسے اپنے پروں‌ کی طاقت چیک کر رہی ہو پھر اس نے ہوا میں‌ غوطہ لگایا اور سامنے والے مکان پر سے اڑ کر وسیع نیلے آسمان میں‌ غائب ہوگئی۔

امیگرینٹ خواتین میں‌ گھریلو تشدد

امیگرینٹ خواتین میں‌ گھریلو تشدد مقامی خواتین کے مقابلے میں‌ ایک زیادہ مشکل صورت حال ہے کیونکہ ان کو کئی تہزیبی اور قانونی بندشوں‌ کا سامنا ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں‌ کے رسم ورواج اور اعتقاد گھریلو تشدد کا جواز پیش کرکے اس کو جائز قرار دیتے ہیں اور کچھ ان کی موجودگی سے منکر ہوتے ہیں‌۔ ایک عام آدمی ایسا کچھ کہے تو آپ سوچیں‌ گے کہ چلو ان کی معلومات کم ہیں لیکن مجھے خود دیسی ڈاکٹرز نے کہا کہ انہوں‌ نے اپنی تمام زندگی میں‌ کبھی گھریلو تشدد نہیں‌ دیکھا۔ اس بات سے میں‌ سوچ میں‌ پڑ گئی کہ وہ کس دنیا میں‌رہ رہے ہیں۔ اور مجھے یہ اندازہ ہوا کہ اس موضوع پر لوگوں‌کی معلومات کتنی کم ہیں۔

اگر آپ امریکہ میں باہر کے کسی ملک سے آئی ہیں اور آپ کے خلاف گھریلو تشدد کیا گیا ہے تو یہاں پر آپ کی مدد کے لئیے کچھ ہدایات دی گئی ہیں۔

پہلی بات تو یہ کہ آپ مدد حاصل کرنے کی حقدار ہیں  اور آپ کے حقوق اور ان لوگوں کے حقوق میں کوئی فرق نہیں جو امریکہ میں پیدا ہوئے۔ آپ پولیس کو کال کرنے میں یا خواتین کے شیلٹر استعمال کرنے میں کوئی شرم یا جھجھک محسوس نہ کریں۔ آپ کو ان لوگوں کو اپنا امیگریشن اسٹیٹس دکھانے یا بتانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی کیونکہ ان کی جاب ہی یہی ہے کہ وہ مشکل میں گرفتار انسانوں کی مدد کریں۔ ایسا ماضی میں ہو چکا ہے کہ کچھ لوگوں کو اس طرح ملک سے نکال دیا گیا تھا لیکن اب یہ خدمات انجام دینے والی ایجنسیاں لوگوں کے امیگریشن اسٹیٹس  کی بنیاد پر مدد فراہم نہیں کرتیں ۔ جرم کے خلاف ہر انسان کی مدد کی جاتی ہے۔

امریکی قانون میں‌ “وایولینس اگینسٹ ومن ایکٹ” میں‌ کی گئی 1994 اور 2000 کی ترامیم نے امیگرینٹ خواتین  کے لئیے عوام میں‌ شعور بڑھانے اور ان کی مدد کرنے کے لئیے ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں۔ ان قوانین نے متشدد افراد کے لئیے سزائیں‌ مقرر کی ہیں اور اس بات کو یقینی بنانے پر کام کیا ہے کہ ان امیگرینٹ والدین کے بچے گھریلو تشدد سے آزاد زندگی گذار سکیں۔

دوسری بات یہ کہ اگر آپ کو یہ کہہ کر ہراساں کیا جارہا ہے کہ بدسلوکی برداشت کرو ورنہ امیگریشن والوں سے شکایت کر کے ملک سے نکلوا دیا جائے گا تو یہ یاد رہے کہ ایسا ہونا ناممکن کے قریب ہے کیونکہ امیگریشن سروس لوگوں کی ذاتی کالز کی بنیاد پر کسی کا پیچھا کرنے نہیں آتیں۔ ان کے پاس اتنے وسائل ہی نہیں  کہ لاکھوں امیگرینٹس کے پیچھے  ایک کے پیچھے ایک کی بنیاد پر بھاگ سکیں۔  یہ بھی یاد رہے کہ ایسا کرنے سے بدسلوکی کرنے والا خود کو بھی ایک خطرے میں ڈالے گا اس لئیے آپ اس بات کو سمجھیں کہ یہ ایک خالی دھمکی ہے۔  جہاں‌ طاقت کا توازن بگڑا ہوا ہو توکچھ لوگ اس طاقت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ ایک کافی عام بات ہے کہ اگر کوئی متشدد صاحب خود امریکی شہری ہیں‌ اور دوسرے ملک سے شادی کرکے بیوی لائے ہیں‌ جن کو قانونی حیثیت حاصل کرنے کے لئیے مدد کی ضرورت ہے تو وہ اس مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں‌ اور ڈراتے دھمکاتے ہیں‌ کہ وہ یہ پیپر ورک فائل نہیں‌ کریں‌گے۔  اگر آپ اپنے شوہر پر منحصر ہیں کہ وہ گرین کارڈ کے لئیے فائل کرے گا اور اگر آپ نے اسے چھوڑا تو  اس پروسس میں مشکل پیش آئے گی تو یہ معلوم رہے کہ  امریکی قانون کے تحت  گھریلو تشدد کی شکار خواتین کو حق حاصل ہے کہ وہ یہ رشتہ چھوڑ کر اپنے بل بوتے پر خود یہ قانونی کاغذات حاصل کرسکیں۔ خواتین کے شیلٹر میں کام کرنے والے لوگ آپ کی اس سلسلے میں مدد کرسکتے ہیں۔ اگر آپ خوفزدہ ہیں تو کسی  دوست سے کہیں کہ وہ آپ کی طرف سے قانونی اہل کاروں سے رابطہ کریں ۔  یہ ہوسکتا ہے کہ آپ کے دوست انتہائی کم ہوں کیونکہ  ایسے افراد جو گھریلو تشدد کرتے ہیں وہ اپنے شکار کو تنہا کرتے ہیں۔ ان کو انگریزی سیکھنے، گاڑی چلانے، نوکری کرنے یا باہر کسی سے بات کرنے سے روکتے ہیں تاکہ ان کے جرم پر پردہ پڑا رہے۔

“وی اے ڈبلیو اے” کے قانون کے مطابق اگر کسی متشدد شوہر نے خود سے ویزا ایکسپائر ہونے دیا اور پھر اپنی غیر قانونی طور پر رہائش پذیر بیوی کی شکایت لگا دی کہ اس کو ملک سے نکال دیا جائے تو اس قانون کے تحت یہ خواتین اس بے دخلی سے ریلیف حاصل کرسکتی ہیں۔ جج یہ دیکھے گا کہ آپ کا کردار کس قسم کا ہے جس سے مراد یہ کہ کیا آپ کسی جرائم میں‌ ملوث ہیں‌؟ کیا چیز جرم ہے اور کیا نہیں‌ وہ تمام ملکوں‌ میں‌ مختلف ہیں اور جتنا ہوسکے ان کے بارے میں‌ جاننا ضروری ہے۔ آپ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ آپ پچھلے تین سال سے امریکہ میں‌رہی ہیں، اوریہ کہ آپ کے بچوں‌ کو واپس اپنے ملک جا کر نہایت مشکلات کا سامنا ہوگا۔ یہ سب دیکھنے کے بعد آپ کو قانونی شہری کا درجہ دے دیا جائے گا۔

کئی متشدد افراد دوسرے ملکوں‌میں‌ جاکر غریب یا مڈل کلاس لڑکیوں‌ سے شادی کرکے ان کو امریکہ لے آتے ہیں۔ ان میں‌ سے کئی خواتین نہ انگریزی جانتی ہیں‌، نہ گاڑی چلانا اور نہ ہی ان کو امریکی قانون اور اپنے حقوق کا کچھ علم ہوتا ہے۔ یہ قصہ صرف جنوبی ایشیائی افراد کا ہی نہیں، میں‌ ایسے کئی افراد کو جانتی ہوں‌ جو کئی مختلف ملکوں‌ کے ہیں۔ میری اپنی بہت پرانی اچھی دوست ساؤتھ امریکہ سے ہے۔ اس کا پہلا گورا شوہر اس کو شادی کرکے لے آیا اور گھر میں‌ قیدی بنا لیا۔ وہ بہت زہین لڑکی تھی، اس نے اپنے شوہر کی نجی کمپنی پر ہفتے میں‌ سات دن کام کرکے اس کو ترقی دی اور خود ہی سسیم اسٹریٹ دیکھ دیکھ کر اتنی انگریزی سیکھ لی کہ باہر کسی سے بات کرسکے۔ وہ اپنے شوہر سے کم عمر بھی تھی اور خوبصورت بھی۔ کہنے لگی وہ مجھ پر مستقل نظر رکھتا تھا۔ ایک دفعہ وہ لوگ کہیں‌ شاپنگ پر گئے تو وہ ایک قطار میں‌ لگے کپڑے دیکھ رہی تھی۔ اس کے شوہر نے اس کا ہاتھ مروڑا اور ساتھ میں‌ گاڑی میں‌ لے گیا اور بولا وہ کالا آدمی جو وہاں‌ کھڑا تھا وہ تمھیں‌ پسند ہے جو تم اس کے پاس کھڑی تھیں۔ وہ حیران ہوگئی کہ کون کالا آدمی، اردگرد کون لوگ کھڑے ہیں‌ اس نے اس بات پر دھیان نہیں‌ دیا تھا۔ کئی بار اس کو تشدد کی وجہ سے گھر سے نکل کر شیلٹر میں‌ پناہ لینی پڑی۔ اس نے آخر کار اپنے شوہر سے طلاق لی اور اپنے بل بوتے پر گرین کارڈ کے لئیے اپلائی کیا۔ اس آدمی نے کافی روڑے اٹکانے کی کوشش کی اور امیگریشن والوں‌سے یہ تک کہہ دیا کہ اس لڑکی نے مجھ سے گرین کارڈ کے لئیے نقلی شادی کی ہے۔ لیکن ان افسروں‌ نے اس کی نہیں‌ سنی۔ اتفاق کی بات تھی کہ ان میں‌ ایک افسر کی اپنی بیٹی کے گھر میں‌ تشدد چل رہا تھا اور وہ اس کی مدد کررہے تھے تو اس طرح‌ انہوں‌ نے اپنے دل میں‌ ہمدردی محسوس کی اور اس کی سچوئیشن کو سمجھا۔ اب اس نے پی ایچ ڈی مکمل کرلی اور کالج میں‌ پروفیسر لگ گئی۔ اس کا دوسرا شوہر بھی گورا ہے۔ وہ ایک پڑھا لکھا اور اچھا آدمی ہے۔ دونوں‌ ساتھ میں‌خوشی خوشی رہتے ہیں۔

“جینڈر بیسڈ اسائلم” کے قانون کے تحت اگر آپ کی جان کو واپس اپنے ملک جانے سے خطرہ ہے تو آپ اس ویزا کے لئیے درخواست دے سکتی ہیں۔ میری ایک اچھی دوست سائکولوجسٹ ہے۔ اس نے جب اپنے شوہر سے طلاق لی تو اس کے سسرال سے دھمکیاں‌ ملیں‌ کہ تم لاہور واپس آکر دیکھو، ہم تمھیں‌ جان سے مار دیں‌ گے تو اس طرح‌ کی صورت حال میں‌ آپ یہ ویزا حاصل کر سکتی ہیں۔ سر نہ ڈھانکنا ایران میں‌ غیر قانونی ہے، امریکہ میں‌ نہیں، ہم جنس پرست ہونا انڈیا میں‌ غیر قانونی ہے کینیڈا میں نہیں، گائے کا گوشت کھانا انڈیا میں‌ غیر قانونی ہے ویت نام میں‌ نہیں، شراب پینا سعودی عرب میں‌ غیر قانونی ہے انڈیا میں‌ نہیں۔ جس ملک میں‌ بھی رہیں‌ وہاں‌ کے قوانین سمجھیں۔
آپ جہاں‌ سے بھی امریکہ آئی ہیں، خود کو ایک دیسی دائرے میں‌ بند مت کریں۔ دوسرے ملکوں‌ کے لوگو‌ں سے اور اپنے امریکی پڑوسیوں‌ سے ملتی جلتی رہیں۔ چاہے میکڈونلڈ میں‌ برگر فلپ کرنے کی جاب ہی کیوں نہ ہو، ہر انسان کو گھر سے نکل کر کچھ نہ کچھ کرنا چاہئیے وہ صرف پیسوں‌ کے لئیے نہیں‌ ہوتا بلکہ اس سے اپنے اردگرد کی دنیا سمجھ میں‌ آتی ہے۔ ہر شہر میں‌ مہاجرین ایک نیٹ ورک سا بن جاتا ہے جیسے ویت نامی لوگوں‌ کا، چینی لوگوں کا اور فلپائنیوں‌ کا وغیرہ وغیرہ۔ وہ اچھا ہے کہ اپنے جیسے لوگوں‌ سے آپ گھل مل سکتے ہیں لیکن اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ گاسپ اور سوشل اسٹیٹس کم ہوجانے کے خوف سے لوگ ایک دوسرے سے باتیں‌ چھپاتے ہیں کیونکہ منہ سے نکلی اور سارے جہاں‌ میں‌ خبر پٹ گئی۔ اس طرح‌ آپ کو کون مشورہ دے گا؟ مشورہ دینے والے خود بھی ڈرتے ہیں۔ اس لئیے اس سرکل سے باہر کے لوگ آپ کو بہتر مشورہ بھی دے سکیں‌ گے اور آپ کی مدد بھی کر پائیں‌ گے۔
اس کے علاوہ جو مختلف ملکوں‌ کے مہاجرین نے اپنے حلقے بنائے ہیں‌ وہ یہی سمجھتے ہیں‌ کہ باقی امریکیوں‌ سے ہم بہتر ہیں۔ ایسا کئی بار ہوا کہ خود ان کمیونٹیز کے لوگو‌ں نے ان خواتین کو طلاق لینے سے روکا اور وقتی صلح صفائی کرادی۔ پھر جب گھروں‌میں‌ رات کے بیچ میں‌ مار کٹائی چل رہی ہوتی ہے تو یہ لوگ آپ کی مدد کو نہیں‌ آتے۔ جب بھی آپ خود کو یا اپنے بچوں‌کو خطرے میں‌ گھرا محسوس کریں‌ تو 911 کو ضرور کال کریں‌ اور شیلٹر بھی جائیں۔ ان چیزوں سے ریکارڈ بنتا ہے جس کو آپ وقت پڑنے پر اپنے کیس کے دفاع کے لئیے استعمال کرسکتی ہیں۔

ہر کسی کو ایسا ہی لگتا ہے کہ جیسے بری خبریں دور دراز کہیں انجانے لوگو ں کو ہی پیش آتی ہیں جو اخبار یا ٹی وی میں رہتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کہانیاں ہمارے اپنے گھروں کی ہیں اور ہمارے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہیں اور ان کا شکار کوئی بھی کسی بھی وقت بن سکتا ہے۔ آپ اپنے بچوں کو بھی تعلیم یافتہ کریں خاص کر لڑکیوں کو اور ان کو ان کے امریکی
حقوق اور قوانین سے آگاہ کریں تاکہ وہ اپنی اور اپنی اولاد کی حفاظت کرنے کے لائق بن سکیں۔

 

ایک فیملی انڈیا سے ایک لڑکی بیاہ کر لے آئی اپنے بیٹے کے لئیے۔ بیٹا امریکہ میں‌ پلا بڑھا تھا لڑکی ساری زندگی گاؤں‌ سے نہیں‌ نکلی تھی، وہ بہت مختلف تھے ان کی آپس میں‌ نہیں‌ بنی۔ اس کا ایک بچہ بھی ہوا۔ اس لڑکی کو ان لوگوں‌ نے بہلا پھسلا کر جہاز میں‌ سوار کراکے واپس انڈیا بھیج دیا۔ بچہ بھی رکھ لیا۔ اب وہ وہاں‌ گاؤں‌میں‌بیٹھی روتی رہتی ہے جہاں‌چار لوگ اسے بتاتے ہیں‌ کہ وہ کتنی بری بیوی تھی۔ ایسے ظالم لوگ ہیں‌دنیا میں‌ جو صرف اپنے بارے میں‌ سوچتے ہیں۔ بغیر تعلیم اور پیسے کے وہ وہاں‌ سے کیا کرسکتی ہے؟

 

امریکی ہپا قانون کے تحت ہم اپنے ایک مریض کی انفارمیشن دوسرے مریض یا کسی بھی اور بندے سے شئر نہیں کرسکتے ۔ اس سے ڈاکٹر کو ڈھائی لاکھ ڈالر تک کا جرمانہ ہوسکتا ہے۔ اس لئیے آپ اپنے ڈاکٹر سے پرسنل اشوز کو اس ڈر کے بغیر ڈسکس کرسکتی ہیں کہ وہ آپ کے گھر کے کسی اور  شخص کو آپ کی اجازت کے بغیر کچھ بتائیں گے۔
اگر آپ نائن ون ون کو فون کریں اور وہ آپ کی بات یا زبان نہ سمجھ سکیں تو آپ ان سے کہیں کہ مترجم کا انتظام کریں۔ دنیا کے زیادہ تر ملکوں کی زبان جاننے والے  پولیس  کی مدد کرنے کے لئیے  موجود ہوتے ہیں اور وہ آپ کی زبان سمجھنے والے لوگوں سے آپ کی بات کروا سکتے ہیں۔ آپ مدد حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہیں  لیکن سب سے بڑی مدد تو انسان خود اپنی ہی کرسکتا ہے۔ لوگ صرف مشورہ دے سکتے ہیں۔
لبنیٰ مرزا-ایم ڈی

us pharmacy viagra

امی کو زندہ اور صحت مند رکھو

پچھلے سال جب ہم سارے بہن بھائی انڈیا جارہے تھے تو یہی پلان بنایا کہ ہمیں‌ سب کو الگ الگ جانا چاہئیے۔ اگر جہاز کریش ہوگیا اور پانچوں‌اکھٹے مر گئے تو امی اکیلی ہوجائیں‌گی۔ ان کو بہت غصہ آئے گا کہ پہلے ابا چھوٹے بچے چھوڑ کر چل بسے پھر یہ بچے اتنی مشکل سے بڑے کئیے تو وہ بھی سارے اکھٹے چلے گئے۔ یہ باتیں‌ کرتے ہوئے ہم لوگوں‌ کے قہقہے نکل گئے۔ جب آپ نے زندگی کی شروعات میں‌موت دیکھی ہو تو ایسے ہی موربڈ خیالات کا بن جانا آسان بات ہے اور ان پر ہنسنا بھی سیکھنا پڑتا ہے۔ امی کو زندہ اور صحت مند رکھو! یہ ہمارا فیملی ماٹو ہے۔
پچھلے ہفتے ایلک پرائمری کئر ڈاکٹر کا ٹیکسٹ آیا کہ میرے ایک مریض‌کو آپ کو فورا” دکھانے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کا زیابیطس کا کنٹرول بہت بگڑا ہوا ہے۔ عموما” سب پیپر ریفرل بھیجتے ہیں اور ان کو تین مہینے بعد کی اپوانٹمنٹ ملتی ہے کیونکہ ہمارے آفس میں‌ایک لمبی ویٹنگ لسٹ ہے۔ اس کیس کو میں‌نے ارجنٹ کے طور پر دیکھنے کی حامی بھری۔ جب یہ صاحب آئے تو میں‌ نے ان سے پوچھا کہ کیا انہوں‌نے ذیابیطس کی کلاس لی ہے کیونکہ زیابیطس کی کلاس لینا تمام مریضوں‌ کے لئیے زیابیطس کا علاج کرنے کا نہایت اہم حصہ ہے۔ انہوں‌نے کہا کہ ‌زیابیطس کی کلاس تو نہیں‌لی لیکن آپ کی کتاب پڑھی تھی۔ یہ سن کر میں‌نے ایک لمحے کو خوشی محسوس کی لیکن وہ دوسرے لمحے میں‌ہی کافور ہو گئی کیونکہ ان کی زیابیطس کا کنٹرول واقعی بگڑا ہوا تھا۔ میں‌نے سوچا کہ شائد کتاب اچھی نہیں‌لکھی اس لئیے اس کو پڑھنے سے لوگوں کا فائدہ نہیں‌ہو رہا۔
میں ایک اینڈوکرنالوجسٹ ہوں ۔ یہ فیلڈ ابھی زیادہ عام نہیں ہوئی ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ خیال ہےکہ اس شعبے کی کوئی خاص ضروورت یا اہمیت نہیں ہے۔ امید ہے کہ قارئین اپنے خیالات پر نظر ثانی کریں گے۔ ایندوکرینالوجی ہارمون سے سے متعلق بیماریوں کی تعلیم کو کہتے ہیں۔ ہارمون ایسے کیمیائی اجزاء ہیں‌جو جسم کے ایک حصے سے نکل کر دوسرے حصوں‌پر اپنا اثر ڈالتے ہیں۔ ذیابیطس چونکہ انسولین کے نظام میں‌ خرابی کے باعث ہو جاتی ہے اور دنیا میں‌ اس کے لاکھوں‌مریض موجود ہیں‌ یہ ہماری پریکٹس کا بڑا حصہ ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے اندازے کے مطابق دنیا میں‌ 350 ملین افراد کو زیابیطس کا مرض لاحق ہے۔ جنوبی ایشیاء میں‌ ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جن کو یہ بیماری ہے اور وہ اس سے لاعلم ہیں۔ ذیابیطس کی بیماری کئی پیچیدگیوں کا سبب ہونے کی وجہ سے نہ صرف لوگوں کی صحت اور خوشگوار زندگی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے بلکہ ملک کی معیشت پر بھی منفی اثر ڈاتی ہے۔
شروع کی سطوحات میں‌زیابیطس کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ ہم نے بچپن میں‌ یہی دیکھا کہ جب کوئی شدید بیمار ہوجائے تبھی ڈاکٹر کو دکھانے جاتے تھے۔ ہر سال چیک اپ اور روٹین لیب کرانے کا اتنا زیادہ رجحان نہیں‌ پایا جاتا۔
ایک مرتبہ ہمارے ایک کزن سے بات ہورہی تھی انہوں‌ نےکہا کہ ہر مہینے مجھے فارمیسی والے کال کرتے ہیں کہ آکر اپنی دوا گلوکوفاج لے جائیں‌ مگر میں‌ نہیں‌ جاتا ہوں۔ دوائی لینا شروع کی تو بیماری بڑھتی جائے گی۔ میں‌ نے ان کو سمجھایا کہ آپ ایسا مت کریں۔ اپنی شوگر کو نارمل لیول میں‌رکھیں‌تاکہ اپنے آپ کو زیابیطس کی پیچیدگیوں‌سے بچا سکیں۔
ذیابیطس کے بارے میں اردو میں کتاب لکھنے کا خیال میرے ذہن میں اسی لیے آیا کیونکہ ہماری فیملی میں کئی لوگوں کو ذیابیطس ہو گئی اور ان سے بات چیت کے دوران میں‌نے یہ محسوس کیا کہ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اکثر لوگ ذیابیطس کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں رکھتے اور یہ بھی کہ ان کے ذہن میں اس بیماری کے متعلق کچھ غلط تصورات بیٹھے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے علاج میں‌ رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔

زیابیطس کے بارے میں‌ معلومات پچھلی دہائیوں‌میں‌ کافی تیزی سے بڑھی ہے اور اس کی کافی ساری نئی دوائیں‌ نکل آئی ہیں۔ اپنی معلومات میں‌ اضافہ کرنے کے علاوہ میں‌نے یہ بھی سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ ان معلومات کو آسان کرکے مریضوں‌ تک کیسے پہنچایا جائے۔ ویسے تو ہر مریض کے لیے اس کی بیماری کو مجھنا ضروری ہے لیکن یہ بات ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اور بھی اہم اس لیے ہے کیونکہ ذیابیطس کے علاج کی کامیابی ایک ٹیم ورک کے زریعے ہی ممکن ہے جس کا سب سے اہم ممبر مریض خود ہے۔

امریکہ میں جنوبی ایشائی افراد کی ایک بڑی تعداد موجود ہے لیکن چونکہ وہ آبادی کا صرف ایک فیصد ہیں‌ اس لئیے ان کی زیابیطس کے مختلف ہونے کے بارے میں‌ زیادہ تر ڈاکٹرز نہیں‌جانتے ہیں۔ کتابیں انگریزی میں ہیں اور خاص طور سے ان لوگوں‌کو ذہن میں رکھ کر نہیں لکھی گئی ہیں۔ انڈیا، پاکستان، انگلینڈ اور امریکہ جہاں‌ بھی ہمارے اپنے رشتہ دار بستے ہیں‌ ان کو زاتی طور پر دیکھ کر میں‌ کہہ سکتی ہوں‌ کہ کچھ ذیابیطس کی وجہ سے کم عمری میں انتقال کرگئے اور کچھ کواس کی پیچیدگیاں لاحق ہو گئی ہیں۔

ہماری امی بھی زیادہ تر لوگوں‌کی امیوں‌کی طرح وزن میں‌ زیادہ ہیں۔ ان کی جنیریشن میں‌ جاب کرنے کا، بچے محدود کرنے اور اپنی صحت کا خیال کرنے کا زیادہ رجحان نہیں‌ تھا۔ جب میں‌ فیلوشپ کر رہی تھی تو ہم لوگ گلوکومیٹر استعمال کرنا سیکھ رہے تھے۔ میرے پاس بیگ میں‌ ایک گلوکومیٹر تھا۔ میری ایک چھوٹی بہن سائکاٹرسٹ ہے اور دوسری نرس ہے۔ ہم سب اس کے گھر میں‌ تھے تو سب کی بلڈ شوگر چیک کی۔ امی کی بلڈ شوگر 325 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر آئی۔ میں‌ نے ان سے کہا کہ اپنی دوا کا ڈبا دکھائیں۔ اس میں‌ تین دوائیں‌تھیں ایک بلڈ پریشر کی، دوسری ایسپرن اور تیسری اب مجھے یاد نہیں۔ بہرحال ان میں‌شوگر کی کوئی دوا نہیں‌تھی۔ آپ کے ڈاکٹر کیا کہتے ہیں‌آپ کی شوگر کے بارے میں ہم لوگوں‌نے ان سے پوچھا تو وہ بولیں‌کہ مجھے کہا تھا کہ آپ کی شوگر کچھ زیادہ ہے اور کھانے پینے میں‌ احتیاط کریں۔ میں‌نے ان کو دوائیں‌ لکھ دیں‌ اور یہی کہا کہ اپنے ڈاکٹر کو دکھاتی
رہیں۔
اگر آپ خود ڈاکٹر ہوں‌ تو اپنی فیملی کی میڈیکل پرابلمز پر نظر رکھنا تو ٹھیک ہے لیکن ان کا ڈاکٹر بننے کی کوشش نہیں‌ کرنی چاہئیے کیونکہ اگر ان کو کینسر یا کچھ سنجیدہ بیماری ہوگی تو ہو سکتا ہے کہ آپ کو دکھائی نہ دے کیونکہ ایک ڈاکٹر مشین یا روبوٹ نہیں‌ہوتا ہے بلکہ ایک انسان ہوتا ہے اور کوئی بھی نہیں چاہتا کہ اس کے پیاروں‌کو کوئی بیماری یا مسئلہ ہو۔ جو چیز ہم دیکھنا نہیں‌ چاہتے ہوں‌وہ سامنے ہوتے ہوئے بھی دکھائی نہیں دیتی اور جس چیز کو ہمارا دماغ نہیں‌ جانتا ہو اس کو ہماری آنکھیں‌نہیں‌دیکھ سکتی ہیں۔
مجھے سال میں‌ تین ہفتہ چھٹی ملتی ہے۔ جمعے کو کلینک ختم کرکے میں‌ اپنے بچوں‌کے ساتھ مال گئی۔ ہم لوگ وہاں‌گھوم پھر کر شاپنگ کررہے تھے تو میری ایک کولیگ کا فون آیا۔ اس نے کہا کہ اس غلط وقت ڈسٹرب کرنے کی معزرت لیکن میری امی یہاں‌ کچھ دنوں‌کے لئیے میرے گھر آئی ہوئی ہیں ان کو ایک دم اچانک گردن میں‌ تکلیف ہو گئی ہے اور تھائرائڈ پھول گیا ہے۔ میں‌ سن کر سمجھ گئی کہ ان کو سسٹ بن گیا ہے جس کو ڈرین کرنا پڑے گا۔ ایسے دو تین لوگ میں‌پہلے بھی دیکھ چکی ہوں۔ اگر لوگ خون پتلا کرنے والی دوا لے رہے ہوں‌ یا ان کو الٹیاں‌لگی ہوں‌تو کبھی کبھار تھائرائڈ کی چھوٹی خون کی نالیاں‌پھٹ جاتی ہیں‌ اور خون کا ایک غبارہ سا بن جاتا ہے۔ اگر چھوٹا سا ہو تو پرابلم نہیں‌ہوتی لیکن اگر بڑا ہو تو تکلیف بھی ہوسکتی ہے اور نگلنے اور سانس لینے میں‌ مشکل بھی۔ کل اور پرسوں‌تو چھٹی ہے اور اگلے ہفتے ہم لوگ شہر سے باہر ہوں‌گے۔ اپنی امی کو لے آؤ۔ رات ہو چکی تھی اور سارا سینٹر بند ہوگیا تھا لیکن میرے پاس بلڈنگ کی چابی ہے، اندر گئے، الٹراساؤنڈ مشین سے تھائرائڈ چیک گیا، دستانے چڑھا کر گردن سن کرکے سوئی اور سرنج سے سسٹ ڈرین کردیا۔ ویک اینڈ پر ان کا درد بالکل ٹھیک ہوگیا۔ اس کہانی سے ثابت ہوتا ہے کہ امی کو صحت مند اور زندہ رکھنا تقریبا” تمام بچوں‌کا ایجنڈا ہوتا ہے بلکل ویسے ہی جیسے بچوں‌کو زندہ اور صحت مند رکھنا امیوں‌کا۔ اس واقعے کا زکر اس لئیے کیا کہ امیوں‌کو اپنے سب بچوں‌میں‌انویسٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ بچوں‌کو برابر کے مواقع فراہم ہونے چاہئیں‌ اور وہ ان کی لیاقت کی بنیاد پر ہونے چاہئیں نہ کہ جنس کی بنیاد پر۔ کیا ضرورت پڑی ہے کہ بیٹی کو بیٹے کی ماسی بنا دیں۔ وہ تمام زندگی ماسی ہی بنی رہے گی اور بیٹا معمولی کاموں‌کے لئیے دوسروں‌ پر بوجھ ۔ اگر آپ ان کو تعلیم یافتہ اور طاقت ور بنائیں‌ گی تو کل آپ کا اپنا بھی فائدہ ہونے والا ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے کوئی درخت لگاتا ہے اور پھر اس کی چھاؤں‌میں‌بیٹھ سکتا ہے۔
اگر اس مضمون کو کوئی اور امریکی ڈاکٹر پڑھ رہے ہوں‌تو ان کو معلوم ہو گا کہ ہر چیز ایک نظام کے ساتھ ہوتی ہے۔ مریض پہلے اپوائنٹمنٹ بناتے ہیں، پھر ان کا پیپر ورک ہوتا ہے اور میڈیکل چارٹ بنتا ہے جس میں‌ ہر بات ریکارڈ کی جاتی ہے اور یہ ایک لیگل ڈاکومینٹ ہوتی ہے۔ یہ کولیگ خود بھی ڈاکٹر تھیں اور انہوں‌ نے اپنے اثر و رسوخ اور معلومات سے کام لے کر اپنی فیملی کی مدد کی۔ ان کی جگہ اور کوئی ہوتا تو یا تو گھر میں‌ بیٹھے ہی تکلیف برداشت کرنی ہوتی یا پھر ایمرجنسی روم جاتے جہاں‌ سے ہزاروں‌ڈالر کا بل بن جاتا۔

‌ہم لوگ جب امریکہ شفٹ ہوئے تو اس زمانے میں‌ یہ سارے سیل فون، نیویگیشن سسٹم، انٹرنیٹ اور انٹرنیشنل ٹی وی وغیرہ نہیں‌ہوتے تھے۔ اس وقت ملک سے نکلتے ہی آپ واقعی ملک سے نکل جاتے تھے۔ جب میں‌ نے ایک کاپی اور پینسل اٹھائی اور اردو میں‌ لکھنا شروع کیا تو میں‌ دو جملے تک نہیں لکھ پارہی تھی۔ 20 سال اوکلاہوما میں‌ رہ کر ہم اپنی مادری زبان ہی بھول جائیں‌گے ایسا کبھی نہیں‌ سوچا تھا۔ پھر میں‌ نے بی بی سی کی اردو خبریں روز پڑھ کر اردو دوبارہ سیکھی۔ کتاب لکھنے کے دوران نزیر نے بہت مدد کی۔ لکھتے لکھتے میں‌ سر اٹھا کر کہتی اس لفظ کو اردو میں‌ کیا کہتے ہیں‌ تو وہ بتا دیتے تھے۔ ایک اکیلا اور دو گیارہ ہوتے ہیں۔ جب کتاب لکھی تو اس کو امی کو، ماموں‌کو، اپنے ساتھ فیلوشپ کرتے ہوئے ڈاکٹر خان کو اور ڈاکٹر فردوس کو پڑھنے کے لئیے دی۔ ڈاکٹر فردوس سے اوکلاہوما سٹی کے وی اے ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں‌ملاقات ہوئی۔ یہ وہ ڈاکٹر فردوس ہیں‌ جن کی چھوٹی کتاب سارے میڈیکل اسٹوڈنٹس امتحان سے پہلے پڑھ رہے ہوتے تھے۔ ان سب نے اچھے مشورے دئیے جن کی مدد سے میں‌نے اس کتاب کو بہتر بنایا۔ اگر ارادہ پکا ہو تو آپ مشکل سے مشکل کام بھی کرسکتے ہیں۔ اس لئیےارادہ کریں‌ کہ بیمار پڑنے کا انتظار کرنے سے پہلے، ٹانگ، آنکھیں‌ اور گردے گنوانے اور دل کا دورہ پڑنے سے پہلے اپنا چیک اپ کرائیں۔
امی کو تقریبا” سات سال پہلے شوگر اور کولیسٹرول کی دوائیوں‌ پر اسٹارٹ کیا تھا۔ چونکہ ہمارے کلینک میں‌ گلوکومیٹر، ٹیسٹ اسٹرپ اور مختلف دوائیوں‌ کے فری سیمپل ہوتے ہیں‌ اس لئیے جو بھی دوا اگر انشورنس نے کور نہیں‌کی تو ہم ڈرگ ریپ سے وہ سیمپل لے کر امی کو بھیج دیتے تھے۔ اس دوران جب بھی ملتے تو میں‌ پوچھ لیتی کہ آپ نے شوگر چیک کی یا نہیں‌ اور دوا لے لی یا نہیں۔ ان کو یہی مشورہ دیا کہ اپنے ڈاکٹر کو دکھاتی رہیں۔ حال ہی میں‌ بلڈ پریشر، اے ون سی، کولیسٹرول سب اتنا پرفیکٹ تھا کہ میں‌ دیکھ کر خوش ہوگئی۔ ابھی تک ان کو کوئی پیچیدگیاں‌نہیں‌ہوئیں۔
لبنیٰ مرزا ایم ڈی

ڈاکٹر لبنیٰ‌ مرزا نے سینٹ میریز اسکول سکھر سے ہائی اسکول کیا، گورنمنٹ کالج سکھر سے پری میڈ اور چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ سے ایم بی بی ایس کیا۔ انہوں‌ نے سارے یو ایس ایم ایل ای پاس کرنے کے بعد، یونیورسٹی آف پٹسبرگ مرسی ہسپتال سے انٹرنل میڈیسن میں‌ ریزیڈنسی کی اور اس کے بعد یونیورسٹی آف اوکلاہوما سے اینڈوکرینالوجی میں‌فیلو شپ کی۔ ڈاکٹر لبنیٰ مرزا انٹرنل میڈیسن اور اینڈوکرینالوجی میں‌ امریکن بورڈ سرٹیفائڈ ہیں۔ انہوں‌ نے شوکت خانم میموریل ہسپتال میں‌ ایک سال انٹرنیٹ پر پڑھایا، ہارورڈ سے ایک سال کا انٹرنیشنل ریسرچ کورس کیا اور آج کل وہ نارمن ریجنل ہسپتال میں‌ اینڈوکرینالوجسٹ ہیں۔ وہ کومانچی مموریل ہسپتال میں‌ فیملی میڈیسن ریزیڈنٹس کو پڑھاتی ہیں‌ اور میڈیکل ریسرچ کے میدان میں‌ بھی کام کررہی ہیں۔ ڈاکٹر لبنیٰ مرزا نے زیابیطس پر اردو میں کتاب بھی لکھی ہے جس کا نام ہے “وہ سب کچھ جو آپ کو زیابیطس کے بارے میں‌ جاننے کی ضرورت ہے۔” اور ان کے آرٹیکل کئی میڈیکل جرنلز میں‌ چھپ چکے ہیں۔ وہ بلاگ بھی لکھتی ہیں۔ ڈاکٹر لبنیٰ مرزا اپنے شوہر ڈاکٹر نزیر بلوچ اور اپنے دو بچوں‌ عائشہ اور نوید کے ساتھ نارمن اوکلاہوما میں‌ رہائش پزیر ہیں۔

مائے ڈاگ شاٹ می

امریکہ میں‌ تین طرح‌کے ڈاکٹر پائے جاتے ہیں۔ ایم ڈی، ڈی او اور فارن میڈیکل گریجوئیٹس۔ ہمارے جیسے ڈاکٹر جو دوسرے ملکوں‌سے یہاں‌ہجرت کر کے آتے ہیں‌ ان میں‌ سے اکثر کو سڑکوں‌ پر استعمال ہونے والی زبان کا نہیں‌ پتا ہوتا کیونکہ انگریزی کتابوں‌سے سیکھی ہوتی ہے۔ ایک ہمارے ساتھ ریزیڈنسی کررہے تھے تو ایمر جنسی میں‌ گھیٹو محلے کا کالا مریض آیا جس کو گولی لگ گئی تھی۔ وہ بولا “مائے ڈاگ شاٹ می!” یہ سن کر فارن ڈاکٹر نے ظاہر ہے کہ لفظی مطلب نکالا کہ اس آدمی کو کتے نے گولی مار دی۔ وہ سمجھے کہ یہ آدمی شائد پاگل ہے۔ انہوں‌ نے سائکائٹری کانسلٹ ڈال دیا۔ انہیں‌ بعد میں‌ بتایا گیا کہ ڈی اے ڈبیو جی ڈاگ ایک سلینگ لفظ ہے جو قریبی یار کے لئیے استعمال ہوتا ہے۔

حیض کی تاریخی متھالوجی

حیض کی تاریخی متھالوجی
جہاں‌تک لکھی گئی انسانی تاریخ‌ کا تعلق ہے اس میں‌ حیض سے متعلق قدیم انسانوں‌کے جادوانہ خیالات کا تزکرہ ملتا ہے۔ ان تحاریر میں‌ گائے سے دودھ حاصل کرنے ،اور دیگر جانوروں‌ اور فصلوں‌کے بارے میں‌ توہمات اور اعتقادات کا بھی زکر ہے۔ تقریبا” تمام دنیا میں‌لوگ یہی سمجھتے تھے کہ ایک خاتون جن کو حیض آئے ہوں‌ ان پر شیطان کا قبضہ ہو گیا ہے۔

پلائنی جو 23 صدی بعد مسیح ‌میں‌پیدا ہوئے انہوں‌نے ڈاکٹروں‌کی لکھی ہوئی تقریبا” 2000 کتابوں‌ سے رجوع کیا اور اپنی کتاب ہسٹوریا نیچرالس لکھی۔ پلائنی کی لکھی ہوئی کتاب یورپی تاریخ‌کے سیاہ باب میں‌ کافی مشہور تھی اور اس موضوع سے متعلق معلومات کے لئیے بہت لوگ اس کو پڑھتے تھے۔ اس کتاب کی اب بھی 100 سے زیادہ کاپیاں‌ تمام 37 والیوم کے ساتھ موجود ہیں‌۔ پلائنی جو کہ تنقیدی سوچ سے نابلد تھے ان کی کتابوں‌ میں‌ لکھی گئی باتوں‌پر اکثر لوگ یقین کرتے تھے اور ان کو اپنی زندگی اور کتابوں‌ میں دہراتے بھی تھے۔ تو اس طرح‌ایک عالمی سوچ بنتی چلی گئی۔

پلائنی نے اپنی کتابوں‌میں‌ حیض کے بارے میں‌لکھتے ہوئے کہا، “اگر اس یعنی کہ خون سے چھو بھی جائے تو نئی شراب کھٹی ہوجائے، فصلیں ‌چھو لیں‌ تو بنجر ہو جائیں، درخت مر جائیں، باغوں‌ کے بیج سوکھ جائیں، درختوں‌کے بیج گر پڑیں‌، فولاد کی دھار کندن ہو جائے اور ہاتھی کے دانتوں‌کی چمک دھندلی پڑ جائے، شہد کی مکھیوں‌کے چھتے مر جائیں، یہاں‌تک کے سونے اور کانسی ایک لمحے میں‌زنک کا شکار ہو جائیں، ایک نہایت خوفناک بدبو ہوا میں‌بھر جائے، اگر اس کو چکھ لیں‌تو کتے پاگل ہو جائیں‌ اور ان کے لعاب میں جان لیوا‌ زہر بھر جائے۔ اگر ایک حیض زدہ خاتون اپنے کپڑے اتار کر برہنہ ایک گندم کے کھیت میں‌سے گزر جائے تو کیڑے مکوڑے، تتلی کے انڈے سب مر کھپ جائیں‌ اور مکئی کے کانوں‌ سے کیڑے گر پڑیں اور سارے پودے زرد پڑ جائیں‌۔ شہد کی مکھیاں‌اگر اس کو چھولیں‌تو اپنا چھتہ چھوڑ کر بھاگ جائیں کیونکہ ان کو چور اور حیض زدہ خاتون سے کراہیت ہے جس کی ایک نظر سے تمام مکھیاں‌ موت کے گھاٹ اتر جاتی ہیں”۔

 ارسطو نہایت عقل مند شخص کا خیال تھا کہ ایک حیض زدہ خاتون اگر ایک آئینہ دیکھ لیں‌تو وہ دھندلا پڑ جائے اور اس کے بعد جو بھی اپنے آپ کو اس آئینے میں‌دیکھے تو جادہ زدہ ہوجائے۔

کافی ساری گھڑی ہوئی گھریلو کہانیاں‌بھی مشہور تھیں‌ کہ جیسے کسی خاتون کو حیض‌ آیا تو خود بخود چیزیں ٹوٹ گئیں‌، سوئیاں‌ ٹوٹ گئیں، شیشے کرچی کرچی ہو کر بکھر گئے اور گھڑیاں‌ ٹھہر گئیں۔ اسی لئیے اس تاریخ‌کو پڑھ کر قطعا” حیرت کی ضرورت نہیں‌کہ ماہواری اور اس کے خون کے نارمل انسانی نظام کو عجیب و غریب طریقے سے دیکھا گیا اور اس سے جو بھی چیز چھو جائے اس کو گندہ یا ناپاک تصور کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین کو اکیلے اور اپنے خاندان سے الگ رکھنے کے رواج نے پرورش پائی۔ تقریبا” تمام دنیا میں‌ یہ خیالات پائے جاتے ہیں‌ کہ حیض زدہ خاتون ناپاک ہیں‌ اور ان کو حیض کے دوران برتن چھونے، مزہبی عمارات یا کتابیں‌چھونے ، پوجا پاٹ میں‌ حصہ لینے یا کھانا پکانے وغیرہ سے دور رکھا جاتا ہے۔

آج کل کے ماڈرن زمانے میں‌بھی کئی ملکوں‌میں‌عجیب و غریب روئیے ملتے ہیں‌جیسا کہ نیپال میں‌ جب بچیوں‌ کو حیض ہوں‌تو ان کو گھر سے باہر ایک جھونپڑی میں‌ بھیج دیتے ہیں‌ جہاں‌اکثر جنگلی جانور ان پر حملہ کرتے ہیں۔ اس بارے میں‌ نیشنل پبلک ریڈیو نارتھ امریکہ کا پیپر نیچے دیا گیا ہے جس کو دلچسپی رکھنے والے لوگ پڑھ سکتے ہیں۔ اب کھیت میں‌سے برہنہ گزر جائیں گی تو فصل کو تو کچھ نہیں‌ہونا ہے لیکن ان غریب خواتین کی بپتا سچی ہے جن کے گھروں‌میں‌ باتھ روم نہیں‌ ہوتے اور وہ کھیتوں‌میں‌جاتی ہیں‌جہاں‌کئی کے ریپ ہوچکے ہیں۔ یہ لوگوں‌کے سوچنے کی بات ہے کہ کیا خیالی ہے اور کیا اصلی مسائل ہیں۔ کچھ لوگ  یہ تک سمجھتے ہیں‌کہ اس ناپاکی کی وجہ سے چونکہ خواتین ثواب کمانے میں‌ پیچھے رہ جاتی ہیں، اسی لئیے ان کے جہنم میں‌جانے کے چانسز بھی زیادہ ہیں۔ کوئی یقین کرے یا نہیں‌لیکن کافی سارے لوگ ہیں آج بھی اس دنیا میں‌ ان دقیانوسی اور غلط باتوں‌پر یقین رکھتے ہیں۔

آج کل کے زمانے میں‌ کچھ تعلیم اور شعور کی بیداری سے خیالات میں‌تبدیلی آئی ہے لیکن پھر بھی ایک ناپسندیدگی موجود ہے۔ ناپسندیدگی سے کیا فرق پڑتا ہے؟ فرق پڑتا ہے۔ ایسی تہزیب ، روایات اور تاریخ‌کی وجہ سے حیض پر کی جانے والی سائنسی اور سماجی تحقیق پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
اس بات کی ایک مثال جو ہم سب کے سامنے ہے وہ یہ ہے کہ جب دل کی بیماریوں‌پر ریسرچ شروع ہوئی تو زیادہ تر ریسرچر خود بھی بندے تھے اور ان کی ریسرچ میں‌شامل سب مریض بھی تو اس لئیے جب ہم لوگ اسٹوڈنٹس تھے تو یہی سمجھا جاتا تھا کہ دل کے دورے خواتین کو نہیں‌پڑتے۔ یہ کافی ساری خواتین کے مرنے کے بعد سمجھا گیا کہ مینو پاز کے بعد ایسٹروجن لیول کے گرنے سے خواتین میں‌ہی دل کے دورے پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اب فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن جب کسی دوا پر کی گئی ریسرچ کو دیکھتی ہے تو وہ اس بات پر خصوصی دھیان دیتے ہیں‌کہ جن افراد پر یہ دوا آزمائی گئ کیا وہ ساری عوام کے نمائندے ہیں‌۔ اس کا مطلب ہے کہ دوا کے ٹیسٹ جن افراد پر کئیے گئے کیا ان میں ہر نسل، عمر اور جنس کے افراد شامل ہیں‌یا نہیں۔ کیونکہ جس ریسرچ میں‌ آپ کے جیسے لوگ نہ ہوں‌اس کے نتائج آپ پر لاگو نہیں‌کیے جا سکتے۔

یہ سوال اکثر مریض پوچھتے ہیں‌کہ ماہواری کے دوران ملنا ٹھیک ہے یا نہیں۔ تو اس کا جواب ہے کہ ماہواری کے دوران چونکہ خواتین میں‌ انفکشن کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں‌ تو ان کو صفائی کا دھیان رکھنا چاہئیے اس کے علاوہ دونوں‌ پارٹنرز کو خیالی مسائل شائد ہو سکتے ہوں لیکن اصلی فزیکل کوئی پرابلم نہیں‌ ہوتا۔

تمام انسان خواہ وہ کوئی بھی ہوں‌ ان کے زہنوں‌میں‌حیض سے متعلق عجیب و غریب خیالات ثبت ہیں۔ اگر اس موضوع پر کھل کر بات ہوسکے گی تو پھر ان سے متعلق پروڈکٹس میں‌بھی اضافہ ہو گا، حیض سے متعلق بہتر دوائیاں‌بن سکیں‌گی۔ اور خواتین کے دل و دماغ میں‌جو ہزاروں‌سالوں‌ سے جو اچھوت اور کمتر ہونے کے خیالات بٹھائے گئے ہیں‌ان سے باہر نکل کر وہ زیادہ اعتماد کے ساتھ کسی بھی جاب کے لئیے برابری سے مقابلہ کرسکیں گی۔ اب جسمانی طاقت کا تو زمانہ ہے نہیں۔ یہ وقت آج ان لوگوں‌کے فائدے میں‌کام کرے گا جو عقل کے میدان میں‌ترقی کریں۔

آخر میں‌ اس پیپر کے نقطے کو اس طرح‌کہا جائے گا کہ بہہ گیا تو حیض کہلایا اور ٹھہر گیا تو ہم سب اس سے بن گئے۔

ڈاکٹر لبنیٰ‌مرزا ایم ڈی

http://www.npr.org/sections/goatsandsoda/2015/10/17/449176709/horrible-things-happen-to-nepali-girls-when-they-menstruate-15girls

چائلڈ ابیوز یا بچوں‌کا استحصال کیا ہے؟

کل فیس بک پر اقبال لطیف صاحب نے ایک وڈیو شئر کی ہوئی تھی جس میں‌ ایک آدمی ایک بوڑھی خاتون اور صاحب کو مار رہا تھا اور یہ واقعہ ریکارڈ ہو گیا۔ معلوم نہیں‌وہ کون لوگ تھے اور سارا قصہ کیا تھا لیکن وہ نہایت افسوس ناک منظر تھا جس کو دیکھ کر میں‌ اپنا فزیکل ری ایکشن محسوس کرسکتی تھی۔ دل کی دھڑکن تیز ہو گئی اور سانس تیز تیز چلنے لگا۔ یعنی “فائٹ یا فلائٹ” قسم کا اڈرینالین رسپانس پیدا ہوا۔ میری بیٹی کچھ پوچھ رہی تھی تو مجھے سنائی ہی نہیں‌دیا۔ اس نے پھر سے مجھ سے بات کی تو میں‌نے اس کو کہا کہ پلیز مجھ سے اس وقت بات مت کرو میں‌بہت اپ سیٹنگ وڈیو دیکھ رہی ہوں۔

ان سبھی لوگوں‌ کا کافی ملتا جلتا رد عمل تھا جنہوں‌نے اس پر تبصرے لکھے ہوئے تھے۔ کچھ نے گالی گلوچ لکھی تھی اور کچھ نے اس بندے کو پولیس کے حوالے کرنے کو کہا جہاں‌اس کو اس حرکت کی قرار واقعی سزا دی جائے۔ اب آپ سوچ کر بتائیں‌کہ سزا کیا دی جائے گی؟ مزید مار کٹائی؟ یعنی مارپیٹ کی سزا بھی مارپیٹ؟ آخر لوگ ایک دوسرے کو کس چیز کی سزا دے رہے ہیں؟ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ 100 فیصد بچے مار پیٹ کھا کر بڑے ہوتے ہیں۔ کئی جرنلوں‌میں‌چھپنے والی ریسرچ کے مطابق 80 سے 90 فیصد گھروں‌میں‌تشدد بتایا گیا ہے۔

آخر پرابلم کہاں‌سے شروع ہوئی؟ بچے جس ماحول میں‌ پلتے بڑھتے ہیں‌ وہ ہی ان کا ڈی فالٹ بن جاتا ہے یعنی کہ جب سب ٹھیک ٹھیک چل رہا ہو تو ٹھیک ہی رہتا ہے لیکن اگر کسی بھی قسم کی پریشانی کھڑی ہو تو وہ ویسے ہی رد عمل دکھاتے ہیں‌جیسے ان کے ماں‌باپ کرتے تھے۔ ابیوز کا سائکل نسل در نسل سے چلتا آرہا ہے۔ ہر طاقت ور اپنے سے کم طاقت رکھنے والے کو دباتا نظر آتا ہے۔ اس سائکل کا پہیہ کیسے رکے گا اور اس کو روکنا کس کی زمہ داری ہے؟

جنوبی ایشیا دنیا کے غریب علاقوں‌میں‌سے ہے، گرمی بھی شدید پڑتی ہے، لوگوں‌کی بنیادی ضروریات پوری نہیں‌ ہوتیں پھر بیماریاں‌اور طبعی عمر کا کم ہونا بھی ان عوامل میں‌ شامل ہیں‌جن سے خاندانوں‌پر اسٹریس کا لیول بڑھ جاتا ہے۔ آپ کتنے لوگوں‌کو اپنے ارد گرد جانتے ہوں‌گے جو اس دنیا سے اس وقت چل بسے جب کہ ان کے بچے ابھی چھوٹے تھے جن کو اپنے والدین کے جزباتی اور معاشی سہارے کی ضرورت تھی۔ یہ تمام عوامل حقیقی ہیں‌ اور زندگی کا حصہ ہیں۔ کسی نے کہا ہے کہ زندگی 10 فیصد وہ ہے جو ہمارے ساتھ ہو اور 90 فیصد ویسی جیسے ہم نے رد عمل کیا۔ کلاس میں‌ بیٹھا ہوا ہر بچہ اپنے گھر میں‌ کن حالات سے گذر رہا ہے، ہمارے پڑوسی، دوست اور رشتہ دار اپنی اپنی زندگی میں‌ کیا فیس کررہے ہیں کیا آپ یہ بات جانتے ہیں؟

ہمارے کرائے دار ایک بینک مینیجر تھے جن کے گھر میں‌ ایک چھوٹا بچہ ملازم تھا جس کو وہ اپنے گاؤں سے لے آئے تھے۔ وہ ان کے دونوں‌بچوں‌ کا خیال رکھتا تھا۔ ایک بار ہم ان کے گھر مہمان تھے تو یہ انکل ایک طرف ہمارے ساتھ اچھی طرح‌بات کررہے ہیں‌ اور پھر وہ مڑے اور اس بچے کو موٹی سی گالی دی۔ ہم لوگ دم بخود ہوگئے لیکن ان کو اس بات کا کچھ احساس نہیں‌تھا کہ ایک بچے کو گھر میں‌ نوکر رکھنا، اس کو اسکول نہ بھیجنا اور اس کو گالیاں‌دینا سب نہایت غلط حرکتیں‌ہیں۔

دنیا میں‌دو طرح کے معاشرے ہیں۔ ایک کھلے معاشرے اور ایک بند معاشرے۔ بیماریاں اور مسائل ہر جگہ ہیں۔ ایک کھلے معاشرے میں‌ لوگ ان مسائل پر گفتگو کرتے ہیں‌اور ان کے حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یونیورسٹی لیول پر اس بات کو کافی سپورٹ کیا جاتا ہے کہ اسٹوڈنٹس مسائل کی نشاندہی کریں‌اور ان کو بہتر بنانے پر اپنی تھیسس لکھیں‌اور ان میدانوں‌ میں‌ کام بھی کریں‌اور شعور بھی بڑھائیں۔ اسی طرح ایک نسل کے بعد اگلی نسل آگے بڑھتی ہے۔ ایک بند معاشرے میں‌ لوگ اپنی خامیاں‌ اور کمزوریاں‌چھپاتے ہیں‌اور اپنے آپ کو باہر سے پرفیکٹ دکھانے میں‌جتے رہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے اور اپنے مسائل نہیں سمجھتے۔ پھر کچھ ہو جائے تو ان کو اس کا حل صرف چولہا پھاڑنے میں‌یا پچھواڑے میں‌ قبر بنانے میں‌ہی دکھائی دیتا ہے۔ یہ باتیں‌بھی نسل در نسل چل رہی ہیں۔ پھر کوئی اگر کسی مسئلے کی نشاندہی کرے تو لٹھ لے کر اسی کے پیچھے پڑ جاتے ہیں‌ کہ ہمیں بدنام کیا۔ “ڈونٹ آسک ڈونٹ ٹیل” نہ پوچھو اور نہ بتاؤ کا رواج ہے۔

یہ ان دنوں‌کی بات ہے جب ہم لوگ سکھر میں‌ رہتے تھے۔ میں‌ اور میرا بھائی پبلک اسکول میں‌پڑھتے تھے۔ ہم لوگ کے جی اور پہلی میں‌تھے۔ اسکول گھر سے دور تھا اور بس میں‌جانا ہوتا تھا۔ ایک دن ہم لیٹ ہوگئے اور بس نکل گئی۔ امی نے معلوم نہیں‌کس کے ہاتھ ہمیں‌ اسکول بھیجا۔ وہاں پر پرنسپل صاحب نے ایک لائن بنائی ہوئی تھی دیر سے آنے والے بچوں‌کی اور باری باری ان کو ہاتھ میں‌ ایک ڈنڈے سے مار رہے تھے۔ میرے پیچھے لائن میں‌ ایک بڑا لڑکا کھڑا تھا، اس نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کردیا۔ پہلے اس کو ایک ڈنڈا لگا اس کے بعد میری باری آئی، پرنسپل صاحب تو مجھے زاتی طور پر جانتے بھی تھے، وہ اور میرے ابو آپس میں‌ اچھے دوست تھے۔ لیکن انہوں‌نے رعایت نہیں‌ کی، میں‌نے ہاتھ پھیلایا اور انہوں‌نے اتنی ہی طاقت سے اس میں‌ڈنڈا مارا۔ میرا چھوٹا سا ہاتھ سردی میں‌بیچ میں سے پیلا پڑ گا اور میں کافی دیر تک اس کو ہلا نہیں سکتی تھی۔ معلوم نہیں‌ اس وقت میں روئی ہوں‌گی یا نہیں‌لیکن یہ بات یاد کرکے مجھے آج بھی تکلیف محسوس ہوتی ہے ان سب بچوں‌کے لئیے جو آج بھی اس تشدد سے گذر رہے ہیں۔

جب میں‌ میڈیکل کالج میں‌ تھی, ایک دفعہ میں‌بینک گئی ایک اکاؤنٹ بند کرانے تو ہمیں‌ تو مینیجر صاحب نے تمیز سے بٹھایا ہوا تھا، چائے بھی پلائی لیکن اپنے نیچے کام کرنے والوں‌کو ہمارے سامنے لعن طعن کررہے تھے۔ یعنی کہ بینک ایک تعلیم یافتہ ادارہ ہوتا ہے یہ بھی نہیں‌کہ چورن کی دکان ہو۔ اور وہاں پر یہ بدتمیزی چل رہی تھی۔ ہر اسکول میں‌ بچوں‌کی آج بھی پٹائی ہورہی ہے۔ اگر یہ بلاگ پوسٹ پڑھنے والوں‌میں‌کوئی ٹیچر ہے تو میں‌ آپ سے یہ سوال پوچھنا چاہتی ہوں‌کہ اگر آپ کے اسٹوڈنٹ کو آٹزم ہے یا ڈپریشن ہے یا ان کو دماغی غیر حاضری کی بیماری ہے تو کیا آپ کے مار لگانے سے ان کی بیماری سدھر جائے گی؟ کیا اگر آپ کے شاگرد کو ڈس لیکسیا ہے تو کیا وہ انگلیوں‌میں‌ فٹے مارنے سے ٹھیک ہوجائے گا؟  اب آپ کی اپنی پٹائی لگنی چاہئیے تو نہیں‌کہہ سکتی ہوں‌ لیکن آپ کے ٹیچر بننے کے لئیے مزید تعلیم کی ضرورت کی نشاندہی ضرور کر سکتی ہوں۔ امید ہے کہ آپ اپنی کلاس کے بچوں‌کو مرغا بنانے، ان کو ہاتھ سر سے اوپر کھڑے کر کے ہاتھوں‌میں‌آکسیجن کم کرکے ان کو جسمانی تکلیف پہنچانے سے پہلے ان الفاظ پر غور کریں‌گے۔

یہ سخت الفاظ سن کر آپ کو تکلیف ہوئی؟ اگر ہاں‌تو اس سے یہ ثابت ہوتا کہ کسی اور انسان کو برا محسوس کرانے کے لئیے صرف ایک نظر یا جملہ ہی کافی ہے۔ تشدد پر اترنے کی کیا ضرورت ہے؟

سکھر میں ایک جیل ہوتی تھی۔ اس کے ارد گرد رہنے والے لوگ تنگ تھے کیونکہ وہاں‌سے انتہائی خوفناک چیخ پکار اور آوازیں‌ آتی تھیں۔ پولیس والے قیدیوں‌کے اوپر شدید تشدد کرتے تھے جس کی وجہ سے وہاں‌رہنے والے لوگ سو نہیں‌‌ سکتے تھے۔ اب معلوم نہیں‌ ان غریبوں‌کو کس جرم میں‌ پکڑا گیا ہوگا؟ جن لوگوں‌کو دھرنا چاہئیے وہ تو سارے باہر گھوم رہے ہیں۔

چائلڈ ابیوز یا بچوں‌کا استحصال کیا ہے؟ چائلڈ ابیوز اس کو کہا جاتا ہے کہ جب والدین یا بچوں‌کا دھیان رکھنے کے زمہ دار افراد ان کو جسمانی تکلیف ، موت ، شدید اعصابی یا جسمانی نقصان پہنچائیں۔ چائلڈ ابیوز کی کئی اقسام ہیں‌جن میں‌ لاپرواہی، جسمانی اور جنسی استحصال شامل ہیں۔

اگر ہم چاہتے ہیں‌ کہ معاشرے میں‌سے تشدد ختم ہوجائے تو اس کو چائلڈ ابیوز ختم کردینے سے ہی حاصل کیا جاسکے گا۔
لبنیٰ مرزا- ایم ڈی

زیابیطس ایک طویل عرصے کی بیماری ہے اور دنیا میں‌تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ دنیا کی مختلف نسلوں‌میں زیابیطس کا خطرہ ساؤتھ ایشین افراد میں‌ نسبتا” زیادہ پایا جاتا ہے جس کی وجوہات میں‌ جینیاتی ڈھانچے، لائف اسٹائل اور ماحولیاتی اثرات شامل ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کو ذیابیطس کے اضافے کا سامنا ہے ہے اور ہرگیارہ بالغ افراد میں سے ایک اس مرض کا شکار ہے۔
سنہ 1980 میں ذیابیطس کے شکار لوگوں کی تعداد دس کروڑ 80 لاکھ تھی جبکہ سنہ 2014 میں یہ تعداد تقریباً چار گنا بڑھ کر 42 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ چکی تھی۔ اس تعداد میں‌دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

عالمی اداہ صحت کی رپورٹ کے مطابق آج خون میں شوگر کی زیادتی ایک مہلک بیماری بن چکی ہے اور ہر سال دنیا بھر میں 37 لاکھ اموات ایسی ہو رہی ہیں جن میں شوگر کی زیادتی کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ اس لئیے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ زیابیطس سے متعلق معلومات کو آسان الفاظ میں عام افراد تک پہنچایا جائے اور اس سے بچاؤ کی تدابیر اختیار کی جائیں۔

اگر زیابیطس کے میدان میں‌ کام نہ کیا گیا تو ان اموات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ زیابیطس دو طرح‌کی ہوتی ہے۔ ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو جیسا کہ اس بلاگ میں‌اور جگہوں‌پر بیان کیا گیا ہے۔ ٹائپ ٹو خاص طور پر زیادہ بڑھ رہی ہے۔

 ٹائپ ٹُو شوگر کا تعلق غیر صحت مندانہ طرز زندگی سے ہے۔ آج دنیا میں ہر تین میں سے ایک شخص موٹاپے کا شکار ہے اور جوں جوں لوگوں میں‌مٹاپے کی شرح‌بڑھ رہی ہے ، اسی قدر شوگر کے مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمارے دیسی معاشرے میں کھیل کود اور ایکسرسائز کا کچھ زیادہ رواج بھی نہیں‌ہے۔ خاص طور پر خواتین میں۔ لوگ اپنے لائف اسٹائل میں‌تبدیلی لا کر ذیابیطس میں اس اضافے کو روک سکتے ہیں‌ جس کی اشد ضرورت ہے کیونکہ لوگوں کی صحت، ان کے گھر والوں اور معاشرے پر اس مرض کے اثرات بہت زیادہ ہیں۔

تمام دنیا میں‌زیابیطس میں‌ اضافے کی ایک وجہ تو عمر رسیدہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہے لیکن زیادہ بڑا مسئلہ مضرِصحت خوراک اور ورزش نہ کرنا ہے۔ جب خواتین میں‌مٹاپے کی شرح زیادہ ہو اور ان کا لائف اسٹائل غیر صحت مند ہو تو نہ صرف ان کی اپنی صحت اثر انداز ہوتی ہے بلکہ ان کے بچوں‌میں‌بھی مٹاپے اور زیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

بے روزگاری کا کتنا چرچا ہے۔ کمیونٹی کے لوگ خود بھی اور حکومت بھی ایسے سینٹر باآسانی کھول سکتے ہیں‌جہاں‌ زیابیطس کی تعلیم دی جائے، لوگوں کو سکھایا جائے کہ شوگر کیسے چیک کرنی ہے، ریکارڈ کیسے رکھنا ہے، انسولین کے ٹیکے کیسے لگاتے ہیں۔ حمل کے دوران زیابیطس کی کافی پیچیدگیاں‌ہیں۔ پاکستان میں‌تمام دنیا کے مقابل زچگی کے دوران ماں‌اور بچوں‌میں‌موت کی شرح‌ سب سے زیادہ ہے۔ اگر بلڈ شوگر نارمل دائرے میں‌رکھی جائیں‌تو ان سے بچت ہوسکتی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کے حل کا تقاضا ہے کہ تمام معاشرہ مل کر کام کرے۔ ہم سب کے لیے بہترین حل یہی ہے کہ ہم سب ورزش کیا کریں، صحت مندانہ خوراک کھائیں اور وزن میں اضافہ نہیں ہونے دیں۔ خوراک میں چربی اور شکر کی مقدار پر قابو پائیں۔ اشیائے خورد ونوش بنانے والی کپمنیوں پر بھی زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ لوگوں کے کھانوں میں چربی اور شکر کی مقدار میں کمی کو یقینی بنائیں۔

مجھے زاتی طور پر اس بات کی فکر ہے کہ زیابیطس کے بارے میں‌شعور کی کمی ہے۔ زیابیطس کی فیلڈ میں‌ تعلیم اور تربیت بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔

لبنیٰ‌مرزا ایم ڈی

دنیا ایک حیرت کدہ

دنیا ایک حیرت کدہ ہے۔ ہم سب انسان انفرادی طور پر دنیا کو صرف اپنی آنکھوں‌سے ہی دیکھ سکتے ہیں۔ ایک انسان دوسرے انسان کے احساسات، جذبات اور مسائل کو آسانی سے نہیں‌سمجھ سکتا ہے۔ پھر اگر یہ انسان کسی اور وقتوں کے ہوں‌یا ہمارے ماحول سے کہیں‌ دور رہتے ہوں تو پھر ہمیں‌ ان کو سمجھنا اور بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ زبان سیکھنے سے، لکھنے اور پڑھنے سے اور کہانیاں‌، موسیقی اور گیتوں سے انسان ایک دوسرے کے حال کو جاننے لگے، پھر آج کے دور کی ایجاد انٹرنیٹ کے زرئعیے دنیا بھر کے انسان ایک دوسرے سے بات چیت کرنے کے لائق بنے جس کی وجہ سے ایمپتھی یعنی دوسرے انسانوں‌ پر بیتی کو سمجھنے میں‌ مدد ملی۔
میں‌ ایک اینڈوکرنالوجسٹ ہوں۔ اینڈوکرنالوجی ہارمون سے متعلق بیماریوں‌ کے علم کو کہتے ہیں۔ زیابیطس چونکہ انسولین کی کمی یا اس کے درست طریقے سے کام نہ کرنے کی وجہ سے ہو جاتی ہے، اور انسولین ایک ہارمون ہے، یہ ہماری پریکٹس کا بڑا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ ہم لوگ تھائرائڈ اور دیگر ہارمون کی بیماریوں کا علاج کرتے ہیں۔ اینڈوکرنالوجی ایک پیچیدہ مضمون ہے جس میں‌ جسم کے مختلف ہارمون ایک دوسرے کے ساتھ ایک توازن میں موجود ہوتے ہیں۔ میں‌ نے 2008 سے 2010 کے درمیان یونیورسٹی آف اوکلاہوما سے اینڈوکرنالوجی میں‌فیلوشپ کی۔ پاکستان میں‌اس وقت ابھی اس فیلڈ میں‌فیلوشپ شروع نہیں‌ہوئی تھی اور میں‌ چانڈکا میڈیکل کالج کی پہلی ایسی ڈاکٹر بن گئی جو ایک اینڈوکرنالوجسٹ ہو۔ بہرحال یہ صرف ایک پس منظر ہے اور آج کا پیپر میرے بارے میں‌نہیں‌ بلکہ اینڈوکرنالوجی کے ایک نازک موضوع پر ہے۔
میں نے اپنی فیلوشپ کے دوران وی اے ہسپتال میں‌کام کیا جہاں‌ ہم لوگ ہفتے میں‌ دو کلینک کرتے تھے ایک زیابیطس کا اور دوسرا جنرل اینڈوکرنالوجی کا۔ ایک دن میں‌ مریض دیکھ رہی تھی اور ایک خاتون آئیں۔ وہ بوڑھی تھیں، نہایت شائستہ، اچھے سے کپڑے پہنے ہوئے تھے، بال سلیقے سے بنے ہوئے اور بغل میں‌پرس دبایا ہوا تھا۔ جب میں‌ نے ان کا چارٹ کمپیوٹر میں‌ کھول کر دیکھا تو مجھے یہ پڑھ کر ایک جھٹکا سا لگا کہ وہ ہمیشہ سے ایک خاتون نہیں‌تھیں‌ بلکہ انہوں‌ نے بہت سالوں پہلے 18 سال کی عمر میں‌ اپنی جنس مرد سے خاتون کروالی تھی اور اپنی تمام زندگی ایک خاتون کی طرح گذاری۔ اگر میں‌ نے ان کو سڑک پر دیکھا ہوتا تو میں‌ان کے بارے میں‌ یہ بات ہرگز نہیں‌ جان پاتی۔ میں نے اپنی حیرت کو ان پر ظاہر ہونے نہیں‌دیا اور پروفیشنل طریقے سے ہی ان کی ہسٹری لی، ایگزام کیا اور دوا کا ری فل ان کو دیا۔ یہ پہلا واقعہ تھا جب میں‌ ایسے کسی انسان کو کتابوں سے باہر دیکھا ہو۔
آج تک میں‌ نے جتنے بھی مریض‌ دیکھے اور جتنی بھی حیرت انگیز بیماریوں‌ کے بارے میں‌ سیکھا ان میں‌سے سب سے زیادہ مشکل، پیچیدہ اور نہ سمجھ آنے والا موضوع ہے ٹرانس جینڈر کے علاج کا۔ یعنی کہ نہ تو کوئی خون کا ٹیسٹ ہے جس سے اس بیماری کو ثابت کیا جاسکے اور نہ ہی کوئی ایسا ماحولیاتی اثر ابھی تک ڈھونڈا گیا ہے جس کو لے کر ہم یہ کہہ سکیں‌ کہ اس وجہ سے ان مریضوں کو یہ پرابلم ہے۔
مجھے بچپن سے ہی کہانیاں پڑھنے کا جنون تھا اور میں‌ نے پچھل پیری کی کہانیوں‌ کے علاوہ عمران سیریز، انسپکٹر جمشید، ابن صفی کی سسپنس میں‌سیریز دیوتا، لمبے ناول جیسے کہ آدھا چہرہ اور ناگ عنبر ماریا اور کیٹی کی 300 سے زیادہ قسطیں میڈیکل کالچ جانے سے کافی پہلے ہی پڑھ لی تھیں۔ مجھے ایسی کہانیاں پڑھنا آج بھی یاد ہے جن میں‌ ٹرانس جینڈر افراد کا زکر تھا۔ ایک کہانی میں‌ فیملی پلان بناتی ہے کہ لڑکی کا ریپ کروائیں تو وہ خود کو لڑکی سمجھنے لگے گی۔ یہ سننے میں‌ پاگل پن لگ رہا ہو گا لیکن میں‌ نے یہ بات ایک ڈاکیومینٹری میں‌ بھی سنی تو معلوم ہوا کہ لوگ اس طرح‌ کے فضول اور بے فائدہ خیالات اور عقائد رکھتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے شعور بڑھنے کی ضرورت بھی ہے۔
اچھا اب کچھ لوگ کہیں گے کہ ایسی پاگل پنے کی بیماریاں‌ محض مغربی ہیں۔ حالانکہ میرے اپنے کئی مریض‌ ہیں‌ جو دوسرے ملکوں‌ کے ہیں‌، ایرانی، برازیلی، امریکی، انگریز، کالے گورے، ہسپانوی سب۔ یعنی یہ مسئلہ ایک انٹرنیشنل مسئلہ ہے صرف مغربی نہیں۔ یہ کہہ سکتے ہیں‌ کہ مغرب میں‌ لوگوں‌ کو اپنی زندگی اپنی مرضی سے سچی گزارنے کی آزادی ہے اور ہر ملک میں‌ایسا نہیں‌ہے۔ مجھے ایک مریض سے پتا چلا کہ برازیل میں‌ ٹرانس جینڈر افراد کو قتل کردینے کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔
دو سال کی فیلوشپ کے دوران صرف دو ایسے مریض دیکھے۔ ایک دن ایک ینگ نرس آئی جس کے تھائرائڈ میں‌ پرابلم تھی۔ جب میں‌ نے اس کو بلایا تو اس کی شکل دیکھنے کے لائق تھی۔ وہ اپنی ہنسی روک نہیں‌ پارہی تھی۔ وہ ویٹنگ ایریا میں‌ ایک ایسے صاحب کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی جو ٹرانس جینڈر تھے۔ کہنے لگی کہ مجھے اس سے زیادہ تہذیب یافتہ ہونا چاہئیے لیکن میں‌ اس لمبے چوڑے آدمی کو خواتین کے کپڑے پہنے دیکھ کر اپنی ہنسی نہیں روک پا رہی ہوں۔ ان صاحب کو کلینک میں‌ سبھی جانتے تھے، انہوں‌ نے جنگیں‌ لڑی تھیں، کئی ناکام شادیاں‌بھی کیں، بچے بھی پیدا کئیے، ہر وہ کام کیا جس سے وہ اپنے آپ کو نارمل محسوس کرسکیں لیکن ادھیڑ عمر ہونے کے بعد ، کئی طلاقوں اور خود کشی کی کوشش کے بعد انہوں‌ نے اس بات کو زہنی اور معاشرتی طور پر مکمل طور پر قبول کرلیا تھا کہ وہ اصل میں‌ایک خاتون ہیں۔ اور وہ اب ایسے ہی رہتے تھے۔ اس تجربے نے مجھے کافی سوچنے پر مجبور کیا۔ سوچنے کی بات ہے کہ ہم سب دنیا کے زیادہ تر لوگ جہاں‌بھی جائیں یہی چاہتے ہیں‌ کہ ہماری طرف کسی کی توجہ نہ ہو، ہم جتنا ہوسکے کسی بھی ماحول میں‌رہیں‌تو ویسے ہی نارمل دکھائی دیں۔ ہر کوئی فٹ ہونا چاہتا ہے۔ میں‌ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ آخر ان ٹرانس جینڈر لوگوں‌کی کیا پرابلم ہے؟ سارا جسم نارمل ہے پھر دماغ میں‌کیا خلل ہے؟
کیا یہ لوگ ہم جنس پرست ہیں؟ لیکن نہیں‌۔ ایک ہوتی ہے جینڈر یعنی کہ کوئی انسان مرد ہے یا خاتون۔ اور جنسیت دوسری چیز ہے۔ یہ لوگ ہمیشہ سے انسانی معاشرے کا حصہ ہیں۔ انیسویں صدی میں ٹرانس جینڈر افراد اور ان کے مسائل کے بارے میں‌ شعور بیدار ہونا شروع ہوا۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ دوائیں ایجاد ہو گئیں۔ اب ان مریضوں کی سرجری کے علاوہ ہارمون سے علاج بھی ممکن ہوگیا ہے۔
اوکلاہوما میں‌ بوڑھے اینڈوکرنالوجسٹ ریٹائر ہونا شروع ہوئے تو ایسے مریض جو ان کو کافی سالوں سے دیکھ رہے تھے نئے ڈاکٹر تلاش کرنے لگے۔ جب ہمارے آفس میں‌ کالیں آنا شروع ہوئیں تو ہم لوگوں نے میٹنگ بلائی کہ اب کیا کیا جائے۔ مسئلہ یہ تھا کہ دو مریض دیکھ کر کوئی بھی ڈاکٹر کسی شعبے میں‌ماہر نہیں‌کہا جاسکتا۔ میرا اپنا تجربہ زیادہ نہیں تھا اور میرے پارٹنر کا بھی نہیں۔ لیکن ہم سیکھنے میں‌ دلچسپی رکھتے تھے۔ کافی سوچ بچار کے بعد ہم نے ان مریضوں کا علاج کرنے کی حامی بھری۔ مجھے آج بھی شروع کے دن یاد ہیں‌ جب میں‌ اینڈو سوسائٹی کی گائیڈلائن کھول کر ایک ایک لائن دیکھ کر ان مریضوں کا علاج سیکھ رہی تھی۔
اب اس بات کو پانچ سال ہو چکے ہیں۔ اوکلاہوما کی ساری اسٹیٹ میں‌ سب سے زیادہ ٹرانس جینڈر مریض ہمارے کلینک میں ہیں۔ کچھ اینڈوکرنالوجسٹ ریٹائر ہوگئے، کچھ نے صاف انکار کردیا کہ ہمیں‌ ان مریضوں‌کو دیکھنا ہی نہیں‌ہے اور ویسے بھی ہارمون کے ڈاکٹرز کی شدید کمی ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ اپنے منفرد تجربے کے بارے میں‌ نہ صرف دیگر ڈاکٹروں‌ کو بتانا ضروری ہے بلکہ عام افراد میں‌بھی شعور بڑھنے کی ضرورت ہے۔
ریسرچ سے پتا چلتا ہے کہ جینڈر ڈسفوریا کے مریضوں میں‌ جنس تبدیل کروالینے کے بعد خود کشی کی شرح کم ہوجاتی ہے۔ آج تک میں‌ نے جتنے بھی ٹرانس جینڈر مریض دیکھے ہیں‌ ان میں‌ سے کسی نے بھی آگے چل کر یہ افسوس ظاہر نہیں‌ کیا کہ ان کا جنس تبدیل کرلینے کا فیصلہ غلط تھا۔
پہلے زمانے میں‌ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ خود کو غلط جسم میں‌ سمجھنا یا ہم جنس پرست ہونا دماغی مسائل ہیں‌۔ پرانے سائکاٹرسٹ کوشش کرتے تھے کہ لوگوں‌کو اس بات پر رضامند کرلیں کہ وہ بھی دنیا کی اکثریت کی طرح‌ نارمل بن جائیں۔ لیکن تجربے سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ایسا کرنے سے محض تمام لوگوں کا وقت برباد ہوتا ہے۔ یہ دماغی بیماریاں ہیں‌ہی نہیں بلکہ اقلیتی نارمل روئیے ہیں اور ان کو ایسے ہی دیکھنا اور سمجھنا ضروری ہے۔ تمام انسان برابر ہیں۔ اگر ہم دوسرے انسانوں کے مسائل سمجھ نہیں‌ سکتے ہیں‌ تو کوئی بات نہیں‌لیکن ان کے مسائل میں‌ اضافہ ہرگز نہیں‌ کرنا چاہئیے۔ کیا ضرورت ہے کہ بلاوجہ ان ٹرانس جینڈر افراد پر آپ ہنسیں، ان پر تشدد کریں، بلاوجہ ان کو ستائیں۔ اگر کسی کا بچہ آکر بولے کہ میں‌ غلط جسم میں‌ہوں‌تو ان کے دماغ کا علاج کرنے کے بجائے اس مسئلے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو دہری اور نقلی زندگی گذارنے پر مجبور کرنا غلط ہے۔ ناخوش لوگ مل کر ایک خوش معاشرہ کبھی بھی نہیں‌ بنا سکتے ہیں۔
لبنیٰ مرزا- ایم ڈی

زندگی سے اکتائے ہوئے لوگ

 

اسپتال سے پیدل گهر جاتے ہوئے میرے برابر سے ایک سراپا تیزی سے گزرا. بدن سے پیوست سیاہ ٹائٹس، شوخ گلابی رنگ کی واٹر پروف جیکٹ اس کے ہم رنگ جوگرز، کلائی پر اسپورٹس گھڑی باندهے یہ الزبتھ تهیں جنہیں لزی کہا جاتا ہے. تہتر سالہ لزی اپنے اٹھہتر سالہ شوہر جم کے ساتھ ہم سے تیسرے مکان میں رہتی ہیں.عام طور پر جم بھی لزی کے ساتھ دوڑتے نظر آتے ہیں لیکن کیونکہ پچھلے ہفتے ہی ان کے گهٹنے کی تبدیلی کا آپریشن ہوا ہے اس لئے وہ ہمراہ موجود نہیں.

کارڈی اک( دل کے) آپریشن تھیٹر میں بهی یہی دیکھا کہ بائی پاس یا دل کے تنگ والو کی تبدیلی کے لئے آنے والے مریضوں کی اکثریت پچھتر سے اوپر کی ہوتی ہے اور ہلکے پھلکے بلڈ پریشر یا کولیسٹرول کے علاوہ انہیں کوئی عارضہ لاحق نہیں ہوتا. اوور ایج(بوڑھے) کی تعریف بدلتی جارہی ہے. حکومت ریٹائرمینٹ کی عمر بڑها رہی ہے.

دوسری طرف ہم پاکستان میں دیکھتے ہیں کہ ادهر زندگی کے گجر نے شام کے چھ بجائے اور ادهر لوگوں میں بڑهاپے کے آثار پیدا ہونے لگے. کبر سنی کے امراض یعنی بلڈ پریشر،کولیسٹرول اور زیابیطس نے سر اٹھایا. جوڑوں کے درد سے اٹهنا بیٹهنا محال ہوا. آپ ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق ادویات کے استعمال، غذائی احتیاط، ورزش اور ضرورت پڑنے پر آپریشن کا مشورہ دیں تو رٹا رٹایا جواب کہ اب جینے کی اتنی خواہش بهی نہیں رہ گئی، بس یہی تمنا ہے کہ چهوٹی بیٹی کی شادی ہوجائے، بڑے بیٹے کی اولاد دیکھ لوں، حج، زیارتیں ہو جائے. باقی دنیا تو فانی ہے. دوائیوں اور آپریشن سے مقدر کا لکھا تو ٹل نہیں سکتا مزید پیچیدگیاں نہ ہوجائیں، خواہ مخواہ پیسے ضائع ہوں گے. بچی کهچی زندگی یاد الہی میں گزر جائے تو عاقبت سنور جائے گی.

سوچنے کا یہ انداز کہ اس عالمِ ہست و بود میں ہمارے اختیار میں کچھ بهی نہیں بلکہ ہماری بساط محض بے جان کھلونوں سے زیادہ کچھ نہیں فلسفے کی زبان میں “جبریت” ( Fatalism) کہلاتا ہے. میر کا ایک مشہور شعر اس اندازِ فکر کی بہت عمدہ عکاسی کرتا ہے ع

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
جو چاہے سو آپ کریں اور ہم کو عبث بدنام کیا

فلسفہ میں اس کی ضد آزادیء عمل (Free Will) کہلاتی ہے.

جبریت انسانی رویوں پر بری طرح اثر انداز ہوتی ہے. کیونکہ اس طرزِ فکر کے حامل مستقبل کے فیصلوں، مالی منصوبہ بندی، بچت، پیشوں کے انتخاب، جسمانی تندرستی کے معاملات، بیماریوں کی قبل از وقت تشخیص اور قدرتی آفات سے نمٹنے وغیرہ وغیرہ میں ایک وقتی اور محدود بلکہ منفی اور خلافِ عقل انداز اپناتے ہیں.

مسلمان معاشروں میں جبریت کی سوچ کے عام ہونے کے اسباب میں جاگیردارانہ اور قبائلی اقدار، پسماندہ معیشت، جابرانہ اور آمرانہ طرزِ سیاست اور ریاستوں کا خود اپنے باشندوں پر ماورائے قانون تشدد شامل ہیں. صحت کی عدم دستیابی اور ناقابلِ دسترس سہولیات سے مسلسل بڑهتی اموات کا بهی اس میں کردار ہے. پچھلے چند برسوں میں کئی مسلم ریاستوں کے پارہ پارہ ہونے اور ان کی کهاتی پیتی آبادیوں کے بے گهر اور کوڑی کوڑی کو محتاج ہونے کے عمل نے بهی جبریت کو فروغ دیا ہے. بنیاد پرست تنظیموں نے لاچارگی کے اس احساس سے خوب خوب فائدہ اٹھایا کیونکہ ایک طرف انہوں نے ہر پسماندہ اقدار کو تقدیر قرار دے کر اس کے خلاف جدوجہد غیر ضروری اور بے فائدہ قرار دی اور دوسری طرف انسانی خود مختاری اور آزادیء عمل پر دلائل دینے والوں پر تشدد کی حوصلہ افزائی کرکے جبریت اور مایوسی کو مزید عام کیا.

ڈاکٹر خرم نیازی

سارے سوالوں کے سارے جواب

دنیا کی کوئی بھی کتاب یا اسکول آپ کو زندگی میں‌پیش آنے والے سارے سوالوں کے سارے جواب نہیں دے سکتے ہیں۔ کتابیں اور اسکول صرف سوچنا اور مسائل کا حل نکالنا ہی سکھا سکتے ہیں اور ان کو ایسے ہی دیکھنا بھی چاہئیے۔

میڈیسن کی پوری فیلڈ اتنی وسیع ہے کہ ایک انسان کو ساری میڈیسن نہیں‌آسکتی پھر جس طرح انفارمیشن تیزی سے پھیل رہی ہے کئی مختلف مضامین پر قابو ہونا مشکل ہے۔ اسی لئیے میں‌ہمیشہ سے اسپیشلٹی میں‌جانا چاہتی تھی۔ اس وقت مجھے اندازہ نہیں‌تھا کہ کون سا مضمون چنا جائے ۔ وہ آہستہ آہستہ بعد میں‌واضح ہوا۔

اس بات کی ایک مثال سمجھانے کے لئیے آج آپ کو ایک مریضہ کا قصہ بتاتی ہوں۔ مریضہ کی شناخت چھپانے کے لئیے کچھ انفارمیشن حزف اور کچھ تبدیل کردی گئی ہے کیونکہ مریضوں کی معلومات غیر متعلق لوگوں سے شئر کرنا اخلاقی اور قانونی لحاظ سے غیر مناسب ہے۔

کچھ سال پہلے ایک خاتون کو ہائی ٹرائی گلسرائڈ ہونے کی وجہ سے اینڈوکرائن کلینک میں‌ بھیجا گیا۔ ان کی عمر 50 سال فرض کرتے ہیں۔ جب ہمارے پاس مریض ریفر کئیے جاتے ہیں تو ہم لوگ صرف ان مریضوں کو دیکھنے کی زمہ داری لیتے ہیں‌جو ہماری اسپیشلٹی کے دائرے میں‌آتے ہوں۔ باقی مریضوں کے کاغز واپس ان کے پرائمری کئر کے پاس بھیجتے ہیں تکہ وہ ان جگہوں‌پر ریفر کریں‌جہاں‌ان کا بہتر مناسب علاج ہوسکے۔

جب میں‌نے ان کو دیکھا اور پوچھا کہ آپ نے کولیسٹرول کا علاج کروانے کے لئیے پہلے کون کون سی دوا لی ہے تو وہ بولیں کہ نہیں‌میں‌تو آپ کو زبان میں جلن کی شکایت کے لئیے دیکھنے آئی ہوں۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ کا ریفرل ہائی ٹرائی گلسرائڈ کے لئیے قبول کیا گیا تھا۔ زبان میں‌جلن کے لئیے شائد آپ کا نیورالوجسٹ کو دیکھنا زیادہ مناسب ہوتا۔ یہ سنتے ہی ان کی آنکھوں‌میں‌آنسو نکل آئے اور وہ بولیں‌کہ مجھے دو سال سے یہ تکلیف ہے اور اس اپوائنٹمنٹ کا میں‌نے تین مہینے انتظار کیا ہے۔ یہ سن کر میں‌پریشان ہوگئی کہ اب ان کی کس طرح‌مدد کروں۔ اصل میں‌ میڈیکل اسکول اور جنرل میڈیسن کئیے اتنے سال ہوگئے ہیں‌کہ مجھے اب بہت ساری اپنی فیلڈ سے باہر کی چیزیں اب اتنی یاد بھی نہیں رہی ہیں۔ اینڈوکرائن کا فوکس زیابیطس، کولیسٹرول، اوسٹیوپوروسس، تھائرائڈ ، پیراتھائرائڈ اور دیگر ہارمون کی بیماریوں پر زیادہ ہوتا ہے۔ ان کے بعد کے دو مریض بھی اپنی باری کا انتظار کررہے تھے۔

میں‌نے سوچنا شروع کیا کہ کن کن وجوہات سے زبان میں‌جلن ہوسکتی ہے۔ ان کے پرانے ریکارڈ بھی پڑھے تو یہی دیکھا کہ زیادہ تر عام چیزیں‌جو ہوسکتی ہیں‌جیسے کہ فولاد کی کمی، زنک کی کمی اور وٹامن بی 12 کی کمی تو وہ سب ان کے گزشتہ ڈاکٹر چیک کرچکے ہیں اور سب لیب نارمل ہیں۔

پھر میں‌نے ان سے مزید سوالات پوچھنا شروع کئیے کہ یہ تکلیف آپ کو کب سے ہے اور اس سے پہلے کیا ہوا تھا۔ کہنے لگیں‌دو سال پہلے ایک سرجری کروائی تھی۔ سرجری کی نوعیت کی معلومات رہنے دیتے ہیں صرف یہ سمجھئیے کہ منہ سے کافی دور تھی اور اس کے بعد ان کے ٹھیک ہونے میں‌کچھ ٹائم لگا۔ اس کے بعد منہ کے گرد چھالے سے ہوگئے اور تب سے یہ تکلیف نہیں‌گئی۔ یہ ہسٹری سن کر میں‌نے سوچا کہ ہوسکتا ہے سرجری کے بعد امیون سسٹم ٹھیک سے کام نہیں‌کررہا ہو، اس سے ہو سکتا ہے کہ شنگلز کے چھالے ہو گئے ہوں‌جو کہ چکن پاکس کے وائرس سے ہو جاتی ہے۔ پھر یہ ہو سکتا ہے کہ وائرس کے نرو میں‌بیٹھ جانے سے ان کو پوسٹ ہرپیٹک نیورالجیا ہو گیا ہو۔ بظاہر دیکھنے میں‌ کوئی علامت موجود نہیں تھی۔

اب یہ ساری قیاس آرائی کے بعد میں نے سوچا کہ ان کو کیا دوا دی جائے۔ تو میرے جو بھی زیابیطس کے نیوراپیتھی کے مریض ہیں ان کو زیادہ تر گابا پینٹن، لائریکا ، سمبالٹا یا پھر میٹانیکس دیتی ہوں۔ گاباپینٹن سب سے زیادہ سستی ہے تو میں‌نے ان کو وہ لکھ دی۔ اور ہائی ٹرائی گلسرائڈ کے لئیے فینوفائبریٹ۔ پھر وہ چلی گئیں۔

دو مہینے کے بعد ایک دن وہ پھر واپس آگئیں فالو اپ کے لئیے۔ ان کا نام شیڈول پر دیکھ کر میں‌ پریشان ہوئی کہ یہ پھر سے واپس آگئی ہیں۔ جب میں نے ان کو دیکھا تو وہ بولیں کہ جو آپ نے دوا لکھ دی تھی اس سے 80% درد ختم ہوگیا ہے اور آپ اس دوا کو دن میں دو دفعہ لکھ دیں‌کیونکہ جب اثر ختم ہونے لگتا ہے تو درد واپس آنے لگتا ہے۔ یہ سن کر مجھے یقین ہی نہیں‌آیا۔ اور ٹرائی گلسرائڈ کا لیول دیکھا تو وہ بھی ٹھیک ہو گیا تھا۔

اس تجربے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کتابوں اور اسکولوں کو سوچ کا آلہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ان جگہوں‌پر جواب تلاش کئیے جاسکیں‌جہاں کوئی نشانی تک نہ ہو۔

لبنیٰ مرزا ایم ڈی

شفا

ہمارے خاندان میں‌ پہلے تو کوئی ڈاکٹر تھا ہی نہیں۔ ایک مجیب ماموں تھے ویٹ جن کو مزاق میں‌لوگ ڈنگر ڈاکٹر کہتے تھے ان کے پیچھے کیونکہ وہ فوج میں‌میجر تھے اور غصے کے تیز تھے۔ جانوروں‌کے ڈاکٹر کی اہمیت کوئی سمجھتا ہی نہیں تھا۔ جہاں‌ انسانوں‌کے مسائل سمجھے اور حل نہیں‌کئیے جارہے ہوں‌وہاں‌ جانوروں‌ کے لئیے کون کھڑا ہو؟ مڈل کلاس کے تھوڑے بہت پڑھے لکھے لوگ بھی ٹونے ٹوٹکے، حکیمی اور رنگ و روشنی سے علاج کراتے تھے۔ فارمیسی کی دواؤں سے وہ گھبراتے تھے۔ بچپن سے ہی میں‌سنتی تھی فلاں ڈاکٹر کے پاس جائیں‌، ان کے ہاتھ میں‌شفا ہے۔ تو شفا کا تصور ایسے ہی تھا میرے زہن میں جیسے کہ کوئی جادوئی سفید روحانی چیز آسمان سے زمین پر نازل ہورہی ہے۔ پھر ظاہر ہے کہ آہستہ آہستہ کتابیں پڑھیں، مریض دیکھے، دنیا دیکھی۔ اس سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ اگر آپ کے دماغ میں‌انفارمیشن ہے اور دل میں‌اپنے مریضوں‌کے لئیے انسانی ہمدردی تو ہاتھ میں‌شفا خود بہ خود ہی آجائے گی۔ ل م

Taj Mahal and my father

How the Taj Mahal brought me closer to my father

How the Taj Mahal brought me closer to my father

The writer’s late father, architect Mirza Shujat Baig at the Taj

I don’t remember my father’s face or his voice but he always guided me through the tough times

By Lubna Mirza

Going to India was something I dreamed of since I was a little child. Growing up, visiting the Taj Mahal, one of the Seven Wonders of the World, was on my bucket list.

What does the Taj Mahal stand for? It wouldn’t be so popular if it didn’t hold the idea of love. Love is the most powerful universal message that resonates with human hearts beyond limitations of time and space. For me it also has a deeply personal symbolism.

I finally did make trip to India and of course visited the Taj Mahal. When I shared photos on my Facebook page. I got some interesting responses:

“I am amazed that highly educated and forward-thinking person like you believes in symbolism. I hope you do understand what symbolism means.”

“Yes, one of the seven wonders of the world. Its beauty is incomparable when seen in moonlight. Tagore described it as a teardrop on the cheek of time – ‘boond jo ban gaya moti’ (a drop that became a pearl)”.

“Built at tremendous human cost of blood, sweat and tears especially of the poor laborers! The same story with the Egyptian pyramids!”

image-(2)

“How can love triumph on the blood of poor souls? It is not love. It is a monument to Egotistical Tyranny!”

Despite all this, for me, the Taj Mahal represents love. Here’s why. Sitting across from the Taj Mahal, soaking in the splendid view of this majestic work of art, the thought that came to my mind was: “My dad was here!”

I tried to imagine what he might have thought and felt since he was an architect himself.

Growing up, I only had his photo, taken as he sat in front of the Taj Mahal. In those days before color photography, someone had hand-painted it, giving the illusion of some fictitious otherworldly place.

The eldest of five siblings, I was six years old, playing with the others one evening in a small house made of sofa cushions when the phone rang.

“Your husband has been in an accident!” someone informed my mother.

She left the other children at home – the youngest just four months old – with the housekeeper and took me with her in a rickshaw to the Civil Hospital in Sukkur, Sindh.

I remember seeing my father in the general ward hooked up to lots of tubes. He died a few weeks later after several failed surgeries.

I don’t remember his face or his voice.

One of the most beautiful buildings in the world, the Taj Mahal has intrigued visitors for hundreds of years. It is not a mosque or a resort. The emperor Shah Jehan built it as a monument to his beloved wife Mumtaz Mahal. They were married for 20 years, until she died giving birth to their 14th child. Shah Jehan is buried next to his wife.

So I see it as a resting place over the graves of two people who loved each other. Plus, a monument honoring a wife is unprecedented in Islamic history.

The Taj Mahal attracts thousands of local and international visitors a year, which drives the economy of the small city of Agra. The monument provides a livelihood to many tour guides, security service providers, hoteliers and gardeners. Descendants of the craftsmen who built Taj still live in Agra and work using the same techniques. They make exquisite marble tables, statues, small replicas of Taj Mahal sold in government run shops. They take great pride in their heritage.

 a symbol of love

Their ancestors worked in other palaces too, employing the same stone carving techniques, including the Umaid Bhawan Palace, the last of great palaces in India located in Jodhpur, Rajasthan.

This man-made structure with pros and cons in its history, its past and its present, is just like anything else. When we see it, we actually see a reflection of what’s important to us.

Even when I was supposedly grown up and in medical college, I missed my father. Lessons from his short life lit my way. He supported me even in his absence. I found my father and his journey intriguing. He was a man who came from far away and became greatly successful and then left quickly.

Whenever I was anxious or afraid to face a test or task, I would remind myself of him, that he was within me. If he could come to Pakistan as an orphaned eleven-year-old orphan from India and become a successful architect, I too could do great things in my own life.

My paternal grandfather Mirza Inayat Baig had nine children. My father Mirza Shujat Baig was the youngest. He was only six years old when both his parents passed away. In 1947 the country split in two. Two brothers and two sisters chose to move to Pakistan. The rest of the family stayed back in India.

We lost all contact with my father’s side of the family after he died. They lived too far away and we were too young. We moved to the U.S in 1993.

My brother Ali Mirza, a marine and the world traveler found our relatives when he visited India for a vacation. Amazingly, when I met them, they had my baby pictures. One of our cousins is an architect like my father – unlike any of my father’s own children. Both of my sisters are in medicine and brothers in business.

Being born in Pakistan, getting a visa for India turned out to be a very difficult matter for all of us. The two countries unfortunately don’t get along so well. They have nukes aimed at each other!

I had to drive about six hours all the way from Oklahoma to Houston twice to apply. We went through the required hoops, filled out extensive paperwork and waited patiently. The visas finally came through for all five siblings – but at different times so we couldn’t go together. But we still went and had a wonderful time.

During our visits, our Indian relatives were wonderful; some came from out of town to meet us. Others gave up their beds. They gave us gifts and cooked delicious meals for us.

The best gift I got was a small marble replica of the Taj Mahal that now sits elegantly in the china cabinet in our home.

The monument may have different meanings for people depending on their background, perceptions, reading of history, knowledge, or personal situation. For me personally, it is about family. Above all it is about love.

Fast Facts

  • Year of Construction: 1631
  • Completed In: 1653 (22 years)
  • Built by: Shah Jahan
  • Dedicated to: Mumtaz Mahal (Arjumand Bano Begum)
  • Location: Agra (Uttar Pradesh), India
  • Building type: Islamic tomb
  • Architectural style: Mughal — combination of Persian, Islamic and Indian Number of workers: 20,000
  • Highlights: One of the Seven Wonders of the World; a UNESCO World Heritage Site
  • Timings: Sunrise to sunset (Friday closed)
  • Entry fee (2015): Rs 750 – Foreign Tourists; Rs 510 – SAARC citizens and BIMSTEC countries; Rs 20 – domestic Indian tourists; no entry fee for children below 15 years of age, domestic or foreigner.

Interesting Facts
* Before his accession to the throne, Shah Jahan was known as Prince Khurram.
* More than 1,000 elephants were used to transport the construction materials
* As many as 28 different varieties of semi-precious and precious stones were for the exquisite inlay work.
* Depending on the time of day or night – and whether or not there is a moon – Taj Mahal appears to be of different color every time. Some even believe that this changing pattern of colors depict different moods of a woman.
* Passages from Quran have been used as decorative elements throughout the complex.
* The 99 names of Allah are calligraphically inscribed on the sides of Mumtaz Mahal’s tomb.
* The Taj Mahal was built in stages, with the plinth and the tomb taking about 15 years. The minarets, mosque, jawab, and gateway took an additional five years to complete.
* Different types of marbles used in construction of Taj Mahal were brought over from various regions and countries: Rajasthan, Punjab, China, Tibet, Afghanistan, Sri Lanka, and Arabia.
* During the Indian rebellion of 1857, the British ripped off many precious stones and Lapis Lazuli (a semi-precious stone) from its walls.
* Taj Mahal attracts 2-4 million visitors annually, including over 200,000 from overseas.

Facts sourced from the website Taj Mahal

The writer is a medical doctor based in Oklahoma, USA. This is an edited version of her post originally shared on the Aman ki Asha Facebook wall.

us pharmacy viagra

Check out my article about visit to India on Aman ki Asha webpage. :)

http://amankiasha.com/?p=5710

ایک دن کا قصہ

آج میں نے دو خواتین مریض دیکھیں، ایک کالی اور ایک ہسپانوی۔ دونوں خواتین کی عمر کچھ اتنی زیادہ نہیں تھی لیکن ان میں کچھ باتیں مشترک تھیں اور کچھ ایسی جن سے میں خود تعلق محسوس کرسکتی تھی۔ دونوں امریکہ میں اقلیتی ہیں میری طرح۔ ایک ساؤتھ امریکہ سے ہجرت کر کے آئی ہوئی تھیں جیسے ہم نے بھی کی۔ دونوں خواتین کی صحت ٹھیک نہیں تھی۔ کچھ تو قدرتی بیماریاں تھیں جن میں انسانی ہاتھ نہیں ہوتا اور کچھ اپنی پیدا کردہ بھی۔ دونوں اپنے اپنے بیٹوں کے ساتھ آئی ہوئی تھیں سہارے کے لئیے تاکہ وہ ان کو ایگزام ٹیبل پر اٹھائیں بٹھائیں، ان کے لئیے انگریزی میں بات کرسکیں اور ان کو گاڑی چلا کر ادھر ادھر لے جاسکیں۔ یہاں آنے کے بعد وہ لوگ فارمیسی جائیں گے دوا لینے۔ میں نے سوچا کہ ان ساری چیزوں میں سارا دن نکل جائے گا۔ ان لڑکوں کی عمر کے باقی بچے اسکول گئے ہوئے ہیں، انہوں نے جو سیکھا ہوگا وہ انہوں نے مس کیا۔ اب یہ ایک دن کا قصہ تھوڑا ہی ہے۔
اب اس نظام کے بارے میں سوچئیے جہاں ایک سسٹم کے مطابق خود سے خواتین کو پیچھے رکھا جائے، جہاں وہ اپنا خیال ہی کرنے کے قابل نہ ہوں تو ان کی وجہ سے ان کی نسلوں پر کیا اثر پڑتا ہے؟ اب اس بات کو پس منظر میں رکھ کر اپنے اردگرد نظر دوڑائیے تو کافی باتوں کی وجوہات آپ کو سمجھ میں خود ہی آجائیں گی۔ جہیز کے چندے کے اشتہار دیکھ کر مجھے خاص طور پر چڑ ہوتی ہے۔ کیا لگتا ہے ان لوگوں کو کہ یہ کم عمر لڑکے لڑکیاں پلاسٹک کے گڈے گڑیا ہیں جن کو آپ عروسی لباس میں شو کیس میں سجا دیں گے اور وہ وہاں ہمیشہ مسکراتے رہیں گے؟ کتنی ریسرچ سے ثابت ہے کہ غریب اور کم عمر ماؤں کے بچے بھی بڑے ہوکر غریب اور کم تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔ غریب لڑکیوں کو زندگی گزارنے کے لئیے کسی کی تیسری بیوی ہونے کی نہیں بلکہ تعلیم اور نوکری کی ضرورت ہے۔ ان کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔ جب تک وہ اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہوں گی ،آپ خود بھی نہیں ہوسکتے۔
لبنیٰ مرزا- ایم ڈی

خزانہ تو دماغ میں‌ ہوتا ہے

ہم لوگ سکھر میں‌ڈسٹرکٹ کونسل روڈ پر رہتے تھے۔ میرے والد علی گڑھ انڈیا سے 11 سال کی عمر میں‌حیدرآباد آگئے تھے جہاں‌انہوں‌نے ہمارے پھوپھا سے نقشے بنانا سیکھا اور سکھر آکر اپنی آئیڈیل کنسٹرکشن کمپنی اسٹارٹ کی۔ جب انہوں‌نے آفس کھولا تو اس وقت ان کے پاس پیسے بالکل نہیں‌تھے لیکن فرنیچر والے صاحب نے کہا کہ فرنیچر لے جاؤ اور جب پیسے ہوں‌تو دے دینا۔ سنا ہے کہ تین دن تک انہوں‌نے چنے کھائے۔ پھر تیسرے دن کسی نے ان کو نقشہ بنانے کے لئیے کہا۔ آہستہ آہستہ وہ سکھر میں‌بہت کامیاب ہوگئے تھے اور انہوں‌نے وہاں‌کافی ساری عمارتیں‌بنائیں جن میں‌مہک کا گھر، غنی ہاؤس، پیرزادہ ہاؤس، پبلک اسکول کا بورڈ روم، ڈاکٹر میمن کا کشتی والا گھر انور پراچہ ہسپتال شامل ہیں۔ میرے نانا پولیس میں‌دیوان جی ہوتے تھے۔ جب پاکستان بنا تو انہوں‌نے اپنا تبادلہ یوپی سے سکھر کرالیا۔ مجیب ماموں‌اور میرے والد ایک ہی کلاس میں‌تھے اس طرح میرے والدین کی ارینجڈ شادی ہوئی۔ شادی کے وقت میری امی صرف 16 سال کی تھیں۔ یعنی کہ وہ مجھ سے صرف 17 سال بڑی ہیں۔ پھر ایک کے بعد، پانچ بچوں‌کے بعد ابو کا انتقال ہو گیا۔
ہم لوگ ایسے ہی ایک رات صوفے کی گدیوں کے گھر بنا کر کھیل رہے تھے تو فون کی گھنٹی بجی۔ کیپٹن یوسف کا فون تھا۔ انہوں‌نے کہا کہ آپ کے شوہر کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے۔ ابو پبلک اسکول میں‌ان کے گھر سے شکار پور روڈ سے گھر واپس آرہے تھے جب یہ حادثہ ہوا۔ پھر امی نے ہماری ماسی سے کہا کہ چھوٹے بچے دیکھو، پھر وہ اور میں‌رکشہ میں‌بیٹھ کر سول ہسپتال گئے وہاں‌میں‌نے اپنے والد کو بہت ساری نلکیوں اور پٹیوں میں‌لپیٹا دیکھا۔ وہ بات کرسکتے تھے۔ آُپریشن ہوا سکھر میں‌لیکن کامیاب نہیں ہوا۔ پھر میرے ماموں‌آئے کراچی سے اور ان کو وہاں مڈایسٹ ہسپتال میں‌لے گئے۔ لیکن وہ نہیں‌بچے۔ ایکسیڈنٹ کے ایک مہینے کے بعد 1980 میں‌ انتقال کرگئے۔ میں‌6 سال کی تھی اور سب سے چھوٹی بہن 4 مہینے کی۔ ہمارے رشتہ دار، اڑوس پڑوس کے لوگ اور دوست وغیرہ سب نے آہستہ آہستہ دوری اختیار کی۔ وہ سب یہی کہتے تھے کہ اب شوہر نہیں‌رہے تو جہیز کہاں‌سے آئے گا؟ اگر کوئی پوچھتا تھا کہ آپ نے کیا کیا جمع کرلیا ہے تو میری امی کہتی تھیں، میں اپنی بیٹیوں کو کالج بھیجوں‌گی۔ خود ان کی تعلیم صرف 11 جماعت تک تھی لیکن انہوں‌نے اپنے بھائیوں‌ کی مثال ہمارے سامنے رکھی جو اپنی اپنی زندگی میں‌اعلیٰ تعلیم یافتہ اور کامیاب تھے۔
جب میں‌میڈیکل کالج میں‌گئی تو لوگ میری امی سے کہتے تھے کہ ہاسٹل میں‌تو بہت بری لڑکیاں رہتی ہیں، آپ کیسے اپنی بیٹی کو وہاں‌بھیج رہی ہیں؟ کچھ کہتے کیا بیٹیوں سے نوکری کرواؤ گی؟ جتنے منہ اتنے سوال۔ ایک دفعہ میرا ایک کزن کراچی سے آیا ہوا تھا۔ وہ میری امی کا بہت لاڈلا تھا۔ گود میں‌سر رکھ کر کہا کہ آپ گڑیا کا کراچی میں‌داخلہ کرا دیں‌تو میں‌اس پر نظر رکھوں‌گا۔ میری امی کو غصہ آیا، انہوں‌نے گود میں‌سے اس کا سر نکالا اور گرم ہوکر بولیں‌، اگر مجھے اپنی بیٹی پر اعتماد ہوگا تو میں‌اس کو بھیجوں گی، اگر نہیں‌ہوگا تو نہیں، تم کون ہوتے ہو اس پر نظر رکھنے والے؟ یہ سن کر وہ آنسوؤں‌سے رونے لگا۔ ہماری عمر برابر ہے۔ بہت سارا وقت گذر گیا۔ ایک وہ بھی دن آگیا کہ اس کو میرے دروازے پر آنا پڑا مدد کے لئیے۔ میں‌نے کچھ نہیں کہا اسے اور اس کی مدد کی۔ مستقبل کا، زندگی کا کچھ پتا نہیں ہوتا۔ وہاں‌پر لوگ ہزاروں‌لاکھوں‌روپیہ خرچ کرکے شادیاں کرتے تھے اور ہمیں جتاتے بھی تھے کہ آپ لوگ بھی ایسا کریں۔ میں‌نے حساب لگایا کہ مہنگی شادی کرنے میں‌اور سارے یو ایس ایم ایل ای امتحان دینے میں‌برابر پیسے خرچ ہوں‌گے اور میں‌نے اپنے لئیے امتحانوں‌پر پیسہ خرچ کرنے کو فوقیت دی۔ پھر نذیر نے یا انکی فیملی نے مانگا ہی نہیں جہیز۔ اب ہم جہاں‌پر آگئے ہیں اس کیا کیا ڈھول بجانا لیکن آج میرے پاس اس سے کہیں‌زیادہ پیسے ہیں۔ پیسوں کا کیا ہے۔ خزانہ تو دماغ میں‌ ہوتا ہے جس کی وجہ سے روز ایک نئی جگہ سےای میل آتی ہے کہ آپ ہمارے ہاں‌نوکری کرلیں۔ وہ اس نوکری سے زیادہ آفر کرتے ہیں۔ لیکن پیسے سب کچھ نہیں‌ہوتے۔ میں‌اس بات کی بہت بڑی حامی ہوں‌کہ لڑکیوں‌کی تعلیم پر زیادہ انوسٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ سامان وہ اپنے لئیے بعد میں‌خود بھی لے سکتی ہیں۔ ل م

انسانیت کا رشتہ

وقت کے ساتھ ساتھ انسان بچپن سے جوانی ، جوانی سے اڈھیڑ عمر اور ادھیڑ عمر سے بڑھاپے میں قدم رکھتے ہیں۔ وقت پلک جھپکتے ہی گذر جاتا ہے۔ چاہے چہرہ جھریوں سے بھر جائے یا کم جھک گئی ہو لیکن اپنے اندر سے ہر انسان ایک بچہ ہی رہتا ہے۔ کہتے ہیں کہ جب وقت چلا جاتا ہے تو انسان ان باتوں پر زیادہ افسوس نہیں کرتے جو انہوں نے کیں، افسوس ان باتوں کا زیادہ ہوتا ہے جونہیں کیں، ان کہانیوں پر جو ادھوری رہ گئی ہوں۔
میرے تو بہت سارے مریض ہیں جو ہر عمر کے ہیں۔ ایک مرتبہ ایک بوڑھی خاتون فرنٹ میں چیک ان کررہی تھیں، ان کے ساتھ ایک اور صاحب بھی تھے۔ ان دونوں کو ساتھ میں دیکھ کر میں نے سوچا اوہ یہ ایک دوسرے کو جانتے ہیں، کیونکہ وہ صاحب بھی میرے مریض ہیں لیکن ہمیشہ ان کو الگ الگ آتے دیکھا تھا۔ اس دن ان خاتون کی طبعیت بالکل ٹھیک نہیں تھی، ان کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے ، کہنے لگیں میں نے تمام زندگی اپنے بھروسے پر گذاری کبھی بھی مجھے کوئی بیماریاں نہیں ہوئیں لیکن جب سے ایکسیڈنٹ ہوا تو میں اپنا خیال نہیں رکھ سک رہی ہوں اور اس کا مجھے بہت افسوس ہے۔ پھر ایک دم ان کی آنکھیں چمک گئیں اور انہوں نے کہا ایک سیکرٹ تمھیں بتاتی ہوں، جب میری صحت بہت خراب پڑ گئی تو میرے سابقہ شوہر نے میرا بہت خیال رکھنا شروع کیا۔ آج بھی ڈرائیو کرکے یہاں لائے ہیں کیونکہ میں اس وقت گاڑی نہیں چلا سکتی ہوں۔
ان لوگوں کو دیکھ کر میں نے یہی سوچا کہ دنیا میں بنائے ہوئے رشتے انسانوں کے درمیان رہیں یا نہ رہیں لیکن انسانیت کا رشتہ انسانوں کے بیچ ہمیشہ رہنا چاہئیے۔ ل م

بچے ہمارے عہد کے

میری بیٹی کو کومان میں گرمیوں کی چھٹیوں میں پڑھانے کی جاب مل رہی ہے۔ اور میرے بیٹے کو بھی اپنے ماموں سے   انٹرنیٹ  پر سیلز میں جاب مل رہی ہے۔ وہ ہسپتال میں ٹین ہیرو والنٹیر بھی ہوگا۔ وہ دونوں 14 اور 15 سال کے ہیں۔ ایک طرف میں خوش ہوں کہ ان کو کچھ تجربہ ہوگا کہ کیسے کام کرکے پیسے کمائے جاتے ہیں اس سے ان میں احساس ذمہ داری بڑھے گی۔ بیٹے کو اچھی طرح گاڑی چلانی بھی سکھا دی ہے۔ اب بیٹی کو سکھا رہی ہوں۔ کل اس نے چلائی سیدھی روڈ پر اور بالکل ٹھیک پارک بھی کردی۔ دوسری طرف مجھے تھوڑی سی فکر بھی ہوتی ہے۔ امریکی بہت سے بچے جب جاب کرنے لگتے ہیں تو انہیں پتہ چلتا ہے کہ ان پیسوں سے آپ ایک اپارٹمنٹ کا کرایہ بھی دے سکتے ہیں اور ایک چھوٹی موٹی گاڑی بھی لے سکتے ہیں۔ ایسے کئی بچے پڑھائی سے بھاگ جاتے ہیں کیونکہ کالج تو جان جوکھوں کا کام ہے۔میں غلطی سے  یونیورسٹی کی لائبریری میں  کمپیوٹر کا چارجر بھول آئی تھی۔ پھر میں نے دونوں بچوں سے کہا کہ آپ لوگ میرے ساتھ چلو تو چارجر واپس لاتے ہیں۔  یونیورسٹی بہت خوبصورت ہے۔ بہت پرانی اور اونچی عمارت ہے لائبریری کی ، یونیورسٹی کے چھوٹے سے اپنے شہر کے اندر، جس کی دیواروں کو پودوں کی بیلوں نے لپیٹا ہوا ہے۔ اس کے باہر  فوارے بنے ہوئے ہیں جہاں پانی گرنے کی آواز بھلی لگتی ہیں۔یہ شہر میرا جانا پہچانا ہے۔ سارے راستے ناپے ہوئے ہیں وقت خرچ کرکے۔  ان راستوں سے بہت سارے ڈاکٹر، سائنسدان  اور مفکر گذرے ہیں۔ ڈاکٹر ٹرنر  جنہوں نے ٹرنر سنڈروم  دریافت کیا تھا اور ڈاکٹر کیم  جو میرے  مینٹور تھے۔ انہوں نے  پرائمری الڈاسٹیرون  کو تشخیص کرنے کے لئیے کیپٹوپرل  ٹیسٹ ایجاد کیا جو آج ساری دنیا میں  گولڈ اسٹینڈرڈ سمجھا جاتا ہے۔ لائبریری میں ہم لوگ  اوکلاہوما کے ریڈ انڈین  مجسموں اور ان کے پرانے  علاج کرنے کے طریقوں کی  تصویروں کے پاس سے گذرے، دیواروں پر  گذری ہوئی صدیوں میں  پہننے والے  ڈاکٹر ز کے ملبوسات،  پرانے زمانے کے آلات اور دیواروں پر ان لوگوں کی تصویریں لٹکی ہوئی تھیں جنہوں نے یونیورسٹی بنانے کے لئیے پیسے اور اپنی  جائداد دی تھی۔ یہ عظیم لوگ اب دنیا سے جا چکے ہیں سوائے ڈاکٹر کیم کے ، وہ ابھی حیات ہیں۔  جب ہم واپس آنے لگے تو میری بیٹی کہتی ہے ، کتنی پریٹی  یونیورسٹی ہے یہ ، ہم بھی یہاں پڑھنے آئیں گے۔  یہ سن کر میرا دل خوش ہوگیا لیکن ظاہر ہے کہ وہ میں نے بالکل ظاہر نہیں کیا۔ اگر آپ کے ٹین ایج بچے ہیں تو آپ کو پتا ہی ہوگا کہ وہ ہر اس چیز کا الٹا کریں گے جو آپ ان سے کہیں۔صرف  یہ کہا کہ جب باہر برف گری ہو تو آپ لوگ اس بلڈنگ سے لائبریری  میں  انڈر گراؤنڈ راستے سے جاسکتے ہیں کیونکہ ان کے بیچ میں زمین کے نیچے سے راستہ ہے۔

http://www.oumedicine.com/?gclid=CJ6o-8f3nMUCFQqGaQodZhAAEg

 

(ل م – ایم ڈی)

وقت ہمیشہ ایک سا نہیں‌رہتا

کبھی کبھار آپ کسی سے ایسی بات سنتے ہیں‌جو سالوں تک یاد رہ جاتی ہے۔ ایک مرتبہ وی اے ہسپتال میں‌جب میں‌ اینڈوکرائن میں فیلوشپ کررہی تھی تو ایک خاتون کو دیکھا، وہ تھائرائڈ کے ٹیومر کی بایوپسی کروانے آئی تھیں۔ کہنے لگیں‌کہ جیسے جیسے انسان کی عمر زیادہ ہوتی جاتی ہے تو زندگی ہمیں‌ چیزیں‌دینا کم کرتی جاتی ہے اور چیزیں واپس لینا شروع کرتی ہے۔ یہ انسانی المیہ ہے اور اس سے نبٹنے کے لئیے دنیا کے مختلف لوگوں‌نے مختلف جوابات تصور کئیے ہوئے ہیں۔
وقت ہمیشہ ایک سا نہیں‌رہتا۔ کل واپس نہیں‌آسکتا۔ ہم کل کو آج نہیں‌جی سکتے ہیں۔ ہر دن ایک نیا دن ہوتا ہے جو نئے سوال لاتا ہے اور ان سوالوں‌کے لئیے نئے جواب ڈھونڈنے ہوتے ہیں۔ ایک مریضہ کو دیکھا وہ بولیں‌مجھے 25 سال پہلے میرے ڈاکٹر نے کہا تھا کہ نیچرل تھائرائڈ لیتے رہنا اور کوئی کتنا کہے کبھی بھی جنیرک فیکٹری کی بنی ہوئی دوائی مت کھانا۔ اب ان 25 سالوں کے دوران کافی بڑی ریسرچ ہو چکی ہیں۔ اب ہمیں‌ڈیٹا کے ساتھ اچھی طرح‌معلوم ہوچکا ہے کہ جانوروں میں‌سے نکالے ہوئے تھائرائڈ کی گولیاں‌ کھانا صحت کے لئیے نقصان دہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ 25 سال پہلے ان ڈاکٹر صاحب نے خلوص سے آپ کو مشورہ دیا ہو لیکن وہ اس وقت کی معلومات کے مطابق درست تھا۔
وہ آج غلط ہے۔ لیکن ایک مرتبہ لوگوں‌کے زہن میں‌ ایک نقطہ بیٹھ جائے جو اس کو نکالنا نہایت مشکل ہوتا ہے۔ تبدیلی ایک آسان کام نہیں ہے۔ جمود آسان ہوتا ہے۔ پھر اس ڈاکٹر کا کہا ہوا اس کے لئیے ایک لحاظ سے ایک بزرگانہ سی نصیحت بن گیا جس کی یاد اس کے ماضی کا حصہ بن گئی جس سے وہ تعلق نہیں‌توڑ سکتی تھی۔ اسی لئیے کہا جاتا ہے کہ بوڑھے پروفیسر تبدیل نہیں‌ہوتے بوڑھے پروفیسر مر جاتے ہیں۔ اگر 10 افراد سے کہا جائے کہ آپ بدل جائیں ورنہ آپ کو جان سے مار دیا جائے گا تو ان میں‌سے صرف ایک انسان بدلے گا۔ تبدیلی لانا اس قدر مشکل کام ہے۔
ایک بار مجھے ہسپتال میں‌ایک مریضہ کے لئیے کانسلٹ کیا گیا۔ وہ اب مر چکی ہیں‌لیکن جب میں‌ان کو دیکھنے گئی تو وہ کمپیوٹر پر کلاس لے رہی تھیں۔ کہنے لگیں‌کہ پچھلے کئی سال سے میں‌سخت بیمار ہوں‌اور جاب نہیں‌کرسکتی ہوں۔ میری تعلیم ادھوری رہ گئی تھی اور میری بڑی خواہش تھی کہ کالج کی ڈگری مکمل کرسکوں‌تو اب میں اپنے فارغ وقت میں‌ یہ آن لائن کلاسیں‌لیتی ہوں۔ مجھے یہ لگتا ہے کہ اس کا خود کو اپنے آپ کو اسی طرح‌ زہنی طور پر مصروف رکھنا ہی تھا جس کی وجہ سے وہ اتنا عرصہ زندہ رہی۔ اگر ہاتھ پیر چھوڑ دئیے ہوتے تو کئی سال پہلے ہی دنیا سے گزر گئی ہوتی۔ اس کا چھوٹا بیٹا 18 سال کا ہے۔ ٹین ایج ہر بچے کی زندگی میں‌ایک مشکل وقت ہوتا ہے اور اچھا ہوا کہ وہ اس وقت میں‌ جتنا ہوسکا اس کے لئیے دنیا میں موجود رہی۔
آج ایک چھوٹے سے بالوں‌والی دبلی سی 19 سال کی لڑکی کو دیکھا جو اپنی ماں‌کے ساتھ آئی تھی۔ وہ بولی کہ میں‌ایک لڑکا ہوں اور وہ مجھے بچپن سے معلوم ہے۔ میں‌ایک جھوٹ کے ساتھ زندگی نہیں‌گزار سکتا ہوں۔ مجھے اس چہرے اور جسم سے نفرت ہے جو میرے زہن سے متضاد ہے۔ وہ اپنی جنس تبدیل کروا رہی ہے۔ میں‌نے اس کی ماں‌سے پوچھا کہ آپ کا اس بارے میں‌کیا خیال ہے تو وہ بولیں‌ میں‌اور اس کے والد ،ہم اس بات کو نہیں‌سمجھ سکتے ہیں‌ لیکن جس میں‌ہماری اولاد کی خوشی اور بہتری ہو ہم اس میں‌اس کو سپورٹ کریں‌گے۔
لبنیٰ مرزا ایم ڈی

 

 

 

 

 

لڈو کی کہانی سب عمروں کے بچوں کے لئیے

بہت دن پرانی بات ہے کہ ایک شہر میں ایک لڑکا رہتا تھا جس کا نام تھا نوید۔ نوید کی ایک بہن تھی اور وہ اپنے امی ابو اور دادی کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کی دادی شہر سے باہر گئی ہوئیں تھیں۔ ایک دن کیا ہوا کہ نوید چھٹی کے دن  اپنے ایک دوست کے ساتھ باہر سائکل چلارہاتھا تو انہوں نے ایک ننا منا سا خرگوش دیکھا جو لان  کی گھانس کاٹنے والی مشین  کے حادثے سے چوٹ کھا کر ایک کونے میں سکڑا بیٹھا تھا۔ اس کو دیکھ کر نوید کا دل پسیج گیا۔ اس نے دونوں ہاتھوں میں اس کو اٹھایا اور اپنے گھر لے آیا۔ گھر آکر اس نے اپنی امی سے التجا کی کہ ہم اس بے بی خرگوش کو رکھ لیں۔ اس کی امی نے خرگوش کو دیکھا تو انہوں نے یہ نوٹ کیا کہ بیچارے خرگوش کے سر پر سے کھال اتری ہوئی ہے اور وہ نیم بیہوش ہے۔ وہ بولیں بیٹا  ہمارے گھر میں بلی ہے جو اس کو کھا لے گی اس لئیے آپ اس کو اس وقت تک رکھ لو جب تک اس کی صحت بہتر ہوجائے اور اس کے بعد اس کو باہر چھوڑنا ہوگا۔ نوید نے یہ بات مان لی۔ انہوں نے خرگوش کے بچے کا نام لڈو رکھا۔وہ اتوار کا دن تھا   اور پھر نوید کی امی نے اینٹی بایوٹک کے آئی ڈراپ لڈو کے سر پر ٹپکائے ، انہوں نے کارڈ بورڈ کا ایک ڈبہ لیکر اس میں نرم سا کپڑا بچھا دیا اور اس پر دو چھوٹے سے پیالوں میں پانی اور تھوڑا سا فروٹ کاٹ کر رکھ دیا۔ پھر نوید اور اس کی امی نے اس ڈبے پر ایک جیکٹ ڈال کر اس کو کونے والے کمرے میں چھپا دیا۔نوید کی امی کو زیادہ امید نہیں تھی کہ لڈو زندہ بچے گا  کیونکہ اس کی حالت ٹھیک نہیں تھی اور وہ بالکل ہل جل نہیں رہاتھا۔ نوید ہر کچھ گھنٹوں کے بعد جاکر لڈو کو چیک کرتا اور اس کو پانی پلانے کی کوشش کرتا مگر لڈو ایک کونے میں سکڑ کر بیٹھا رہا۔ کچھ پتا نہیں چل رہا تھا کہ وہ زندہ  بھی ہے کہ نہیں۔ اگلے دن پیر تھا ، نوید اسکول چلا گیا۔ واپس آیا تو اس نے پھر سے لڈو کو دیکھا۔ اس نے نوٹ کیا کہ فروٹ تھوڑا سا کم ہے اور لڈو دوسری سمت میں بیٹھا ہے۔ وہ اب بھی نہیں ہل رہا تھا لیکن یہ ظاہر ہوتا تھا کہ وہ سب کے جانے کے بعد تھوڑا بہت ہلا ہے اور اس نے کچھ کھایا بھی ہے۔ یہ دیکھ کر نوید خوش ہوا اور اس نے اپنی امی کو بتایا۔ اپنی خوشی میں اس کو یہ خیال ہی نہیں رہا کہ ڈبے پر جیکٹ واپس ڈال دے۔ منگل کے دن جب امی کام سے واپس آئیں تو انہوں نے جاکر لڈو کو چیک کیا تو یہ دیکھ کر ان کا دل دھک سے رہ گیا کہ لڈو ڈبے میں سے غائب ہے۔ اب نوید ، اس کی بہن اور اس کی امی سارے گھر میں لڈو کو تلاش کرنے لگے۔ان کو یہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ سارے گھر میں ایک ننھے منے خرگوش کو کیسے تلاش کیا جائے۔ وہ کہاں چھپا ہوا ہو گا۔

ابو کام سے واپس آئے تو کہنے لگے کہ ٹی وی کے پیچھے کچھ ہے کیونکہ بلی بار بار وہاں جانے کی کوشش کررہی ہے۔ نوید کی امی نے نوٹ کیا کہ ایک سیکنڈ کے لئیے انہیں لڈو کی ناک باہر جھانکتی دکھائی دی۔ ان کو یقین نہیں تھا کہ لڈو ٹی وی کے پیچھے ہے لیکن پھر بھی انہوں نے سونے سے پہلے ایک پیالے میں خربوزے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کاٹ کر ٹی وی کے پاس رکھ دئیے اور پانی بھی رکھ دیا۔ بدھ کے دن انہوں نے دیکھا کہ سارا خربوزہ غائب ہے۔ اب ان کو یقین ہوگیا کہ جب سب لوگ سو جاتے ہیں اور بلی بھی باہر نہیں ہوتی تو لڈو باہر آتا ہے اور کھا پی کر پھر سے چھپ جاتا ہے۔ اور پھر وہ سارا دن ٹی وی کے پیچھے چھپا رہتا ہے۔یہ بات متاثر کن تھی کہ جب سارے گھر میں کوئی نہیں تھا تو ایک چھوٹے سے خرگوش نے خود کو بلی سے کیسے بچایا۔ بلی بھی بہت پیاری تھی لیکن آخر بلی تھی اور بلی ایک قدرتی شکاری ہے۔  بدھ کی رات کو انہوں نے سیب کے ٹکڑے کاٹ کر لڈو کے لئیے ٹی وی کے پاس رکھ دئیے ۔  جمعرات کی صبح سارا سیب بھی غائب تھا ۔جمعرات کی رات کو نوید کی امی نے ٹماٹر کاٹ کر لڈو کے لئیے باہر رکھا۔ اب ویک اینڈ دوبارہ آیا تو نوید ، اس کی بہن اور امی ابو نے مل کر ٹی وی ہٹایا تاکہ لڈو کو باہر نکالا جاسکے۔ انہوں نے پہلے بلی کو دوسرے کمرے میں بند کردیا تھا۔ جیسے ہی ٹی وی ہٹا تو لڈو پیچھے سے نکل کر بھاگا۔  وہ دادی کے کمرے میں گھس گیا۔ نوید کی بہن نے لنچ باکس اس کے پاس پھینکا ، لڈو نے اس میں جمپ مار کر چھپنے کی کوشش کی تو نوید کی بہن نے جلدی سے اس کا ڈھکن بند کردیا۔ اس طرح لڈو پھنس گیا۔ پھر وہ لنچ باکس باہر لے کر گئے اور اس کا ڈھکن کھول دیا۔ لڈو نے باکس میں باہر کود ماری پھر اس نے اپنی ناک اٹھا کر ماحول کا جائزہ لیا پھر ایک سمت میں دنیا کواپنے بل بوتے پر دریافت کرنے نکل پڑا۔ لڈو صرف ایک ہفتے  میں کافی بڑا لگنے لگا تھا۔ لگتا تھا کہ رنگ برنگے فروٹ کھانے سے اس کی صحت  پر خوشگوار اثر پڑا ہے۔ اتوار کے دن نوید کی امی  برتن صاف کررہی تھیں اور نوید کے ابو ان کو ڈش واشر میں لگا رہے تھے تو نوید کے ابو بولے ، پتا نہیں لڈو باہر کیسا ہوگا۔ یہ سن کر نوید کی امی مسکرائیں اور بولیں ،  وہ بالکل ٹھیک  ہو گا کیونکہ لڈو ایک سروائور ہے۔

لبنیٰ مرزا- ایم ڈی

دل کے بہلانے کو

“ایک مرتبہ ایک خاتون واپس آئیں تو میں نے پوچھا آپ نے دوا لینا شروع کی اور وہ کیسی چل رہی ہے؟ تو انہوں‌نے کہا نہیں میں‌نے وہ دوا نہیں‌لی بلکہ یہ والی لے رہی ہوں۔ انہوں‌نے دو بوتلیں اپنے بڑے سے بیگ میں‌سے نکال کر دکھائیں۔ ان پر چائنیز میں‌کچھ لکھا ہوا تھا۔ میں‌نے پوچھا کہ ان بوتلوں میں‌کیا دوائی ہےِ؟ وہ کیسے کام کرتی ہے؟ اور اس کو لینے والے مریضوں کا کچھ ڈیٹا موجود ہے جس سے ہمیں‌پتا چلے کہ یہ وہ کام کر بھی رہی ہے کہ نہیں‌جس کے لئیے ہم اسے لے رہے ہیں؟ تو انہوں‌نے کہا نہیں‌مجھے کچھ آئیڈیا نہیں‌ہے کہ اس میں‌کیا ہے لیکن مجھے اپنے چینی ڈاکٹر پر بہت بھروسہ ہے، اس کی بیوی بھی یہ دوا لے رہی ہے تو یقینا” یہ اچھی دوا ہوگی۔ اس تجربے سے مجھے یہ بات سمجھ آئی کہ دنیا کو دیکھنے کے دو مختلف طریقے ہیں‌ایک وہ ہمارا یونیورسٹی والا جس میں‌ہم لوگ ایک دوسرے کو چارٹ اور گراف اور ڈیٹا سے بتا رہے ہوتے ہیں‌کہ دوا کا کیمیکل اسٹرکچر کیا ہے، وہ کس طرح کام کرتی ہے، اس کو لینے والے مریضوں‌میں‌دوا لینے سے کیا فرق پڑا اور اس کے ممکن سائڈ افیکٹ کیا ہیں‌ اور ایک دوسرا نقطہء نظر ہوتا ہے جو زیادہ معلومات سے گھبراتا ہے اور اپنی آنکھوں‌پر پٹی باندھ کر خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے۔ دنیا میں‌ہم سب ایک ایسا پی ایچ ڈی والا آرام سے تلاش کرسکتے ہیں‌جو وہی بولے جو ہم سننا چاہتے ہیں۔ ” ل م

Pages