محمد احمد (رعنائیِ خیال)

غزل ۔ دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میں ۔ سیماب اکبر آبادی

غزل
دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میںاک آئینہ تھا ٹوٹ گیا دیکھ بھال میں
دنیا کرے تلاش نیا جام جم کوئیاس کی جگہ نہیں مرے جام سفال میں
آزردہ اس قدر ہوں سراب خیال سےجی چاہتا ہے تم بھی نہ آؤ خیال میں
دنیا ہے خواب حاصل دنیا خیال ہےانسان خواب دیکھ رہا ہے خیال میں
اہل چمن ہمیں نہ اسیروں کا طعن دیںوہ خوش ہیں اپنے حال میں ہم اپنی چال میں
سیمابؔ اجتہاد ہے حسن طلب مراترمیم چاہتا ہوں مذاق جمال میں
سیمابؔ اکبر آبادی

نئے چراغ جلاؤ کہ روشنی کم ہے ۔۔۔ شاہد صدیقی

غزل
یہ کیا ستم ہے کہ ، احساسِ درد بھی کم ہےشبِ فراق ستاروں میں روشنی کم ہے
اک ایسی موجِ کرم تھی نگاہِ ساقی میںکہ اس کے بعد سے طوفانِ تشنگی کم ہے
قریب و دور سے آتی ہے آپ کی آوازکبھی بہت ہے، غمِ جستجو ، کبھی کم ہے
عروجِ ماہ کو انساں سمجھ گیا لیکنہنوز عظمتِ انساں سے آگہی کم ہے
تمام عمر ترا انتظار کرلیں گےمگر یہ رنج رہے گا کہ زندگی کم ہے
نہ ساتھ دیں گی یہ دم توڑتی ہوئی شمعیںنئے چراغ جلاؤ کہ روشنی کم ہے
شاہد صدیقیحیدر آباد۔ ہندوستان 1911 ~ 1962ء
بشکریہ صابر علی سیوانی




ارے! خواب تو دیکھ

غزل
دن بھلے جیسا کٹے، سانجھ سمے خواب تو دیکھچھوڑ تعبیر کے خدشوں کو، ارے! خواب تو دیکھ
جھونپڑی میں ہی بنا اپنے خیالوں کا محلگو پُرانا ہے بچھونا !تُو نئے خواب تو دیکھ
تیرا ہر خواب مسّرت کی بشارت لائےسچ ترے خواب ہوں اللہ کرے، خواب تو دیکھ
دل شکستہ میں ہوا، جب بھی مِرا دل ٹوٹاحوصلے آگے بڑھے، کہنے لگے، خواب تو دیکھ
تجھے وہ بات بھی آئے گی سمجھ یار مرےجو ہے ادراک کی سرحد سے پرے، خواب تو دیکھ
گتھیاں ساری سُلجھ جائیں کہ ہوں اور سِواتو ذرا ہاتھ بڑھا، تھام سِرے، خواب تو دیکھ
نیند کے خواب ترے خوف کے گھر ہیں بھی تو کیانیند کو چھوڑ تو جب صبح اُٹھے خواب تو دیکھ
محمد احمدؔ


انتخابِ نثر ۔۔۔ گر تو می خواہی کہ باشی خوش نویس​

گر تو می خواہی کہ باشی خوش نویس​

ایک فارسی شعر ہے
گر تو می خواہی کہ باشی خوش نویس
می نویس و می نویس و می نویس
(اگر تو چاہتا ہے کہ اچھا لکھنے والا بن جائے تو لکھتا رہ، لکھتا رہ لکھتا رہ)​

یہ شعر اگرچہ خطاطی کی مشق کے زمرے میں نقل کیا جاتا ہے مگر آج میں اس کے ایک اور پہلو پر لکھنے کی جسارت کروں گا۔میں اس شعر میں خوش نویس کو خطاط کے معنوں میں نہیں بلکہ مصنف کے معنوں میں لیتا ہوں اور اسی نسبت سے چند گزارشات پیش کروں گا۔

آج کے انٹرنیٹ کے دور میں آپ کوئی بھی کام کرنا چاہتے ہیں تو گوگل پر جائیں اور اپنا مطلوبہ کام لکھیں۔اس کے لیے آپ کو مواد مطالعہ، ٹیٹوریل اور یہاں تک کہ قدم بہ قدم رہنمائی کی دستاویزات کی ایک لمبی فہرست مل جائے گی۔ اور اگر آپ لگن اور محنت کا حوصلہ رکھتے ہیں تو آپ چاہے اس کام میں مہارت حاصل نہ بھی کر سکیں بہت حد تک آپ اس کے بنیادی اصولوں سے شناسائی حاصل کر لیں گے۔کبھی آپ نے سوچا ہے یہ کیونکر ممکن ہوا۔اکثر لوگ اس کی وجہ انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی قرار دیں گے۔مگر انٹرنیٹ نے تو صرف اس کی فراہمی آسان بنائی ہے۔ اس کا اصل سبب لکھنے کی عادت ہے۔

ہمارے ہاں بڑے بڑے حکیم گزرے ہیں جن کی حکمت کی داستانیں جی ہاں داستانیں نہ کہ واقعات سن کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔حکمت کے یہ کمالات اور مجرب نسخے وہ اپنے ساتھ لے گئے۔اور ان میں سے چند ایک نسخے جب انگریز کے ہاتھ لگے تو اس نے ان کو میڈیکل سائنس بنا دیا اور ایلو پیتھی کی بنیاد رکھی۔آج ہم اس علم کے لیے ان کے دست نگر ہیں۔

آج ہم یہ سنتے ہیں کہ ہمارے موسیقار گھرانے دم توڑ رہے ہیں اور میڈیا بھی آئے دن ایسے ہی کسی گھرانے کی کسمپرسی کا رونا رو رہا ہوتا ہے۔مگر کبھی ان موسیقاروں نے اپنے گھرانے سے آگے بھی سوچا ہے۔ کبھی انہوں نے اپنے اس علم کو لکھ کر محفوظ کیا ہے۔ یہی علم جب انگریز کے ہاتھ لگا تو اس نے موسیقی پر کتابیں لکھیں، موسیقی سکھانے کے ادارے بنا ڈالے اور آج کسی غیر ملک سے حاصل کردہ ڈگری ہمارے میڈیا میں موسیقار ہونے کے لیے شرط اول ہے۔

آپ کسی بھی ممکنہ علم کا نام لکھ کر گوگل پر سرچ کریں اور جو فہرست ملتی ہے اس کا جائزہ لیں۔99 فیصد نتائج آپ کو انگریز کی کاوش نظر آئے گی کیونکہ وہ کوئی بھی کام کرتا ہے اس کو لکھ لیتا ہے۔لکھنے کے لیے اس کا عالم یا بہت پڑھا لکھا ہونا بھی ضروری نہیں۔انگریزی میں ایک اصطلاح (DIY(Do it yourself استعمال ہوتی ہے۔تجربے کے طور پر آپ گوگل میں یہ اصطلاح لکھ کر سرچ کریں۔دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا کام ہو جو اس زمرے میں شامل نہ ملے۔اس زمرے میں لکھنے والے کوئی ماہر کاریگر نہیں بلکہ عام لوگ ہیں جو اگر کسی کام کو خود سے مکمل کرتے ہیں تو "آپ خود کریں" کے زمرے میں اس کو لکھ دیتے ہیں۔اور اگر آپ اس کو پڑھیں تو معلوم ہو گا اس میں سے بیشتر چیزیں آپ خود کرتے ہیں مگر کبھی آپ کو لکھنے کا خیال نہیں آیا۔

یہ لکھنے کی عادت کا ہی ثمر ہے کہ آج معمولی سے معمولی کام کے لیے ہم انگریز مصنف کے محتاج ہیں۔ اس لیے میری آپ سب سے درخواست ہے کہ چاہے غلط سلط، ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں لکھیں مگر لکھیں ضرور۔کیونکہ اگر آپ اچھا لکھاری بننا چاہتے ہیں تو:
می نویس و می نویس ومی نویس​

واصف حسین
اصل تحریر کا ربط

نہ جب دکھلائے کچھ بھی آنکھ پیارے

غزل
نہ جب دکھلائے کچھ بھی آنکھ پیارےتَو پھرتُو اپنے اندر جھانک پیارے
طلاطم خیز ہے جو دل کا دریاسفالِ دشتِ وحشت پھانک پیارے
اگر مَہتاب دل کا بجھ گیا ہےسرِ مژگاں ستارے ٹانک پیارے
ہے اُلفت سے دگر اظہارِ اُلفتنہ اک لاٹھی سے سب کو ہانک پیارے
محمد احمدؔ

نظم ۔۔۔ تنگدستی اگر نہ ہو ۔۔۔ اختر شمارؔ

تنگدستی اگر نہ ہو

اپنے گھر کے باغیچے میں پھول نہیں تھے
بابا یہ کہتے تھے بچو!
میرے پھول تو تم ہو!
اور تمہارے کارن اس باغیچے میں
دھنیا مرچیں، اور پودینہ سبزی مائل
روکھی روٹی کو کافی ہے
بھوک میں روکھی روٹی اور چٹنی کی خوشبو
پھولوں سے بہتر ہوتی ہے۔۔۔

اختر شمار

نظم: حیرت ۔ از ۔ محمد احمد

حیرت
ایک بستی تماش بینوں کی،اک ہجوماژدھام لوگوں کادیکھ میرے تنِ برہنہ کوہنستا ہےقہقہے لگاتا ہےاور میں ششدر ہوںدیکھ کر اُن کوسب کے سب لوگ ہیں برہنہ تن ۔
محمد احمدؔ

چندا رے !چندا رے! کبھی تو زمیں پر آ۔۔۔۔! جاوید اختر


کچھ گیت اتنے خوبصورت ہوتے ہیں کہ اُنہیں محض فلمی گیت سمجھ کر نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایسے گیت ہزار بارے سُنے جائیں تو ایک ہزار ایکویں بار سُننے کا دل چاہتا ہے۔ گو ہم باوجوہ اب موسیقی نہیں سُنا کرتے ۔ تاہم کچھ چیزوں کو استثنیٰ دیے بغیر بات نہیں بنتی۔

جاوید اخترصاحب کا یہ گیت بھی ایسا ہی ہے۔ اِس میں ترنگ ہے، تڑپ ہے، معصومیت ہے، تحیّر ہے، ان پوچھے سوالوں کا ایک جہان ہے اورنئی دنیاؤں میں جھانکنے کی ایک لگن ہے۔ اگر سرشاری و جذب (Ecstasy) نام کی کوئی چیز اِس دنیا میں ہے تو اُسے اِس گیت میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ گو کہ کسی بھی اچھے گیت کو لازوال بنانے کے لئے اُس کی موسیقی اور پسِ پردہ آوازوں کا بڑا کمال ہوتا ہے تاہم پھر بھی اصل تو شاعری ہی ہے اور اچھی شاعری کا سحر ایسا ہے کہ اچھے بھلےانسان کو ازخود رفتہ کر سکتا ہے۔ یقین نہیں آتا تو یہ گیت ملاحظہ فرمائیے۔

چندا رے !چندا رے! کبھی تو زمیں پر آ بیٹھیں گے باتیں کریں گے
تجھ کو آتے اِدھر لاج آئے اگر، اوڑھ کے آ جا تو بادل گھنے

گلشن گلشن، وادی وادی، بہتی ہے ریشم جیسی ہوا
جنگل جنگل، پربت پربت، ہیں نیند میں سب اِک میرے سوا
چندا۔۔۔! چندا۔۔۔۔!!!
آ جا سپنوں کی نیلی ندیا میں نہائیں
آ جا یہ تارے چُن کر ہم ہار بنائیں

اِن دُھندلی دُھندلی راہوں میں آ دونوں ہی کھو جائیں

چندا رے !چندا رے! کبھی تو زمیں پر آ بیٹھیں گے باتیں کریں گے
تجھ کو آتے اِدھر لاج آئے اگر، اوڑھ کے آ جا تو بادل گھنے

چندا سے پوچھیں گے ہم سارے سوال نِرالے
جَھرنے کیوں گاتے ہیں پنچھی کیوں مَتوالے
ہو ! کیو ں ہے ساون مہینہ گھٹاؤں کا
چندا سے پوچھیں گے ہم سارے سوال نِرالے
چندا۔۔۔! چندا۔۔۔۔!!!
تتلی کے پر کیوں اتنے رنگیں ہوتے ہیں
جگنو راتوں میں جاگیں تو کب سوتے ہیں

اِن دُھندلی دُھندلی راہوں میں آ دونوں ہی کھو جائیں

چندا رے !چندا رے! کبھی تو زمیں پر آ بیٹھیں گے باتیں کریں گے
تجھ کو آتے اِدھر لاج آئے اگر، اوڑھ کے آ جا تو بادل گھنے


جاوید اختر




کیا آپ حالات کے پروردہ ہیں؟


اسٹیفن کوی کہتے ہیں :
I am not a product of my circumstances. I am a product of my decisions.
–Stephen Coveyاسٹیفن کوی معروف امریکی مصنف ہیں جنہوں نے مشہورِ زمانہ کتاب "The 7 Habits of Highly Effective People " تحریر کی ہے۔

بظاہر دیکھنے پر اسٹیفن کا یہ قول ایک شیخی کی طرح کا لگتا ہے تاہم اس کے پیچھے ایک پورا فلسفہ چھپا ہوا ہے۔

اگر ہم اپنے ارد گرد نظر ڈالیں تو ہمیں بیشتر لوگ ایسے نظر آئیں گے کہ جنہیں حالات جس طرف ہانک کر لے لئے گئے ،وہ وہیں کے ہو گئے۔ جنہیں جیسا ماحول ملا وہ ویسے ہی ڈھل گئے۔ یعنی اُن کی شخصیت سازی اُنہوں نے خود نہیں کی بلکہ مخصوص و حالات و واقعات جس طرح اُن کی پرورش و پراداخت کرتے رہے وہ ویسے ہی ہو رہے اور اُن کے اپنے ارادے کا اُس میں کوئی خاص دخل نہیں رہا۔اسٹیفن نے دراصل اسی سوچ پر ضرب لگائی ہے کہ انسان خود کو بالکل ہی حالات کے دھارے پر نہ چھوڑ دے بلکہ وہ خود اپنے بارے میں سوچے کہ وہ کیا کر رہا ہے اور وہ کیا کر سکتا ہے اور اُسے کیا کرنا چاہیے۔ پھر اپنے کچھ اہداف طے کرے اور اُن کے حصول کے لئے منصوبہ بندی اور عملی اقدامات کرے۔

"کسی راستے پر آپ کو اُمید کی ذرا سی بھی کرن نظر آئے تو فوراً تدبر اور مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ اُس راستے پر چلنے کی عملی کوشش کریں۔"میں یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ حالات و واقعات کو بالکل ہی نظر انداز کر دیا جائے یا جو فیصلے تقدیر کرے اُن کی طرف سے آنکھ بند کر لی جائے بلکہ صرف یہ کہ انسان اپنے راستے میں در آنے والی ان دیواروں سے کمر ٹِکا کر نہ بیٹھ جائے بلکہ ان دیواروں میں در تلاش کرتا رہے ۔ بعید نہیں کہ اس سعی کے طفیل وہ اس صورتحال سے نکلنے میں کامیاب ہو جائے۔

دیکھ یوں وقت کی دہلیز سے ٹکرا کے نہ گرراستے بند نہیں سوچنے والوں کے لئے
سو اگر آپ سوچتے ہیں کہ آپ کسی صورتِ حال میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے تو اسٹیفن آپ سے ہی مخاطب ہے۔ آپ اپنے حالات سے جزوی سمجھوتہ بھلے سے کر لیں لیکن اس کے آگے ہتھیار نہیں ڈالیں۔ بلکہ اس بارے میں سوچتے رہیں کہ کیا ہو سکتا ہے اور کیسے ہو سکتا ہے۔ اور اگر کسی راستے پر آپ کو اُمید کی ذرا سی بھی کرن نظر آئے تو فوراً تدبر اور مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ اُس راستے پر چلنے کی عملی کوشش کریں۔ انسان کی سب سے اچھی رفیق اُمید اور کوشش ہی ہوا کرتی ہے۔ اگر آپ کامیاب نہیں بھی ہوتے تب بھی کم از کم آپ کو یہ اطمینان تو ضرور ہو گا کہ آپ نے وقت سے ہار نہیں مانی اور اپنے طور پر معاملات سے نبرد آزما رہے یہ احساس آپ کو وقت سے ہارے ہوئے لوگوں میں شامل ہونے سے بچا رکھے گا۔

اسٹیفن کی اسی بات کو ایک شاعر نے اس طرح سے کہا ہے:

ہم خود تراشتے ہیں منازل کے راہ و سنگہم وہ نہیں ہیں جن کو زمانہ بنا گیا
سو اُمید کو مشعلِ راہ بنائیں اور کوشش کو کشتی بنا لیں، آپ کا رب ان شاءاللہ آپ کی کشتی کو پار لگا دے گا۔

غزل ۔ بات جو کہنی نہیں تھی کہہ گئے ۔ محمد تابش صدیقی

محمد تابش صدیقی کی خوبصورت غزل
غزل
بات جو کہنی نہیں تھی کہہ گئےاشک جو بہنے نہیں تھے بہہ گئے
راہِ حق ہر گام ہے دشوار ترکامراں ہیں وہ جو ہنس کر سہہ گئے
زندگی میں زندگی باقی نہیںجستجو اور شوق پیچھے رہ گئے
سعیِ پیہم جس نے کی، وہ سرخروہم فقط باتیں ہی کرتے رہ گئے
اے خدا! دل کی زمیں زرخیز کرابرِ رحمت تو برس کر بہہ گئے
شاد رہنا ہے جو تابشؔ، شاد رکھبات یہ آبا ہمارے کہہ گئے
محمد تابش صدیقی​

اپنے سب چہرے چھپا رکھے ہیں آئینے میں ۔ قمر جمیل

غزل
اپنے سب چہرے چھپا رکھے ہیں آئینے میںمیں نے کچھ پھول کھلا رکھے ہیں آئینے میں
تم بھی دنیا کو سناتے ہو کہانی جھوٹیمیں نے بھی پردے گرا رکھے ہیں آئینے میں
پھر نکل آئے گی سورج کی سنہری زنجیرایسے موسم بھی اُٹھا رکھے ہیں آئینے میں
میں نے کچھ لوگوں کی تصویر اتاری ہے جمیلاور کچھ لوگ چھپارکھے ہیں آئینے میں
قمر جمیلؔ

قمر جمیل کی دو خوبصورت غزلیں


قمر جمیل پاکستان کے معروف نقاد، ادیب، شاعر اور اردو ادب میں جدید رجحانات کے بانی کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ ان کے دو شعری مجموعے "خواب نما" اور "چہار خواب" شائع ہوئے ۔ دو جلدوں پر مشتمل تنقیدی مضامین کا مجموعہ "جدید ادب" کی سرحدیں ان کی وفات سے کچھ عرصے قبل شائع ہوا ۔ انہوں نے "دریافت" کے نام سے ایک ادبی جریدہ بھی جاری کیا تھا۔ وہ ایک طویل عرصہ ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے۔ انہوں نے کراچی سے نثری نظم کی تحریک کا آغاز کیا اور ادیبوں اور شاعروں کی ایک پوری نسل کو تخلیق کا نیا رجحان دیا۔
قارئینِ بلاگ کے ذوق کے لئے قمر جمیل کی دو غزلیں پیشِ خدمت ہے۔
ایک پتھر کہ دست یار میں ہےپھول بننے کے انتظار میں ہے
اپنی ناکامیوں پہ آخر کارمسکرانا تو اختیار میں ہے
ہم ستاروں کی طرح ڈوب گئےدن قیامت کے انتظار میں ہے
اپنی تصویر کھینچتا ہوں میںاور آئینہ انتظار میں ہے
کچھ ستارے ہیں اور ہم ہیں جمیلؔروشنی جن سے رہ گزار میں ہے
✿✿✿✿✿✿✿
خواب میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں اس کا دکھانا مشکل ہےآئینے میں پھول کھلا ہے ہاتھ لگانا مشکل ہے
اس کے قدم سے پھول کھلے ہیں میں نے سنا ہے چار طرفویسے اس ویران سرا میں پھول کھلانا مشکل ہے
تنہائی میں دل کا سہارا ایک ہوا کا جھونکا تھاوہ بھی گیا ہے سوئے بیاباں اس کا آنا مشکل ہے
شیشہ گروں کے گھر میں سنا ہے ایک پری کل آئی تھیویسے خیال و خواب ہیں پریاں ان کا آنا مشکل ہے
قمر جمیل

اپنا گھر چھوڑ کے ہم لوگ وہاں تک پہنچے ۔ اقبال عظیم

غزل
اپنا گھر چھوڑ کے ہم لوگ وہاں تک پہنچےصبحِ فردا کی کِرن بھی نہ جہاں تک پہنچے
میں نے آنکھوں میں چھپا رکھے ہیں کچھ اور چراغروشنی صبح کی شاید نہ یہاں تک پہنچے
بے کہے بات سمجھ لو تو مناسب ہوگااس سے پہلے کہ یہی بات زبان تک پہنچے
تم نے ہم جیسے مسافر بھی نہ دیکھے ہوں گےجو بہاروں سے چلے اور خزاں تک پہنچے
آج پندارِ تمنّا کا فسُوں ٹُوٹ گیاچند کم ظرف گِلے نوکِ زبان تک پہنچے
اقبال عظیم
بشکریہ تابش صدیقی بھائی

پاپ کورن کی خوشبو


ابھی میں مغرب پڑھ کر مسجد سے نکلا ہی تھا کہ چند قدم چلنے کے بعد پاپ کورن کی بھینی بھینی خوشبو آنے لگی۔ پاپ کورن چاہے آپ کو کھانے میں اتنے اچھے نہ لگیں لیکن اس کی خوشبو ایسی ہوتی ہے کہ یہ دور سے ہی آپ کو اپنی طرف کھینچتی ہے یا شاید ہر اچھی خوشبو کا یہی حال ہوتا ہے۔

میں کچھ کھانے پینے کے موڈ میں تو نہیں تھا لیکن پھر بھی بے اختیار پاپ کورن والے کے پاس پہنچ گیا۔ میں نے دس روپے نکال کر اُس کی طرف بڑھائے تو مجھے خیال آیا کہ شاید یہ پاپ کارن والا کہے کہ بھائی کم از کم بیس روپے کے لو۔ لیکن اُس نے ایسا کچھ نہیں کہا اور ایک کاغذ کا لفافہ نکال کر اُس میں پاپ کورن ڈالنے لگا۔ لفافہ زیادہ چھوٹا نہیں تھا بلکہ دس روپے کے اعتبار سے کافی مناسب ہی تھا۔ اُس نے دو تین بار لفافے میں پاپ کورن ٹُھونسنے کی کوشش کی اور اُوپر تک بھرنے لگا۔


مجھے حیرت ہوئی کہ آج کل تو لوگ کوشش کرتے ہیں کہ بس پیسے لے لیں اور چیز ہی نہ دیں یا دیں بھی تو کہیں نہ کہیں ڈنڈی مار دیں۔ پھل والے اور سبزی والے اس زور سے تھیلی ترازو میں پھینکتے ہیں کہ ترازو کا پلڑ ا جھکنے کے بعد اُٹھنے کی ہمت ہی نہیں کر پاتا اور اکثر دوکاندار ترازو کے قرار میں آنے سے پہلے ہی تھیلی اُٹھا کر آپ کے ہاتھ میں پکڑ ا دیتے ہیں۔ حد تو یہ کہ کچھ بے ایمان لوگ تو ترازو میں ہی کچھ نہ کچھ ایسی ترتیب کرتے ہیں کہ وزن میں کمی کی جا سکے۔ پھر چیز کے معیار میں بھی ہیر پھیر کرتے ہیں آگے والی ڈھیری میں تر و تازہ پھل لگا دیتے ہیں اور پیچھے سے گلے سڑے اُٹھا کر تولنا شروع کر دیتے ہیں۔ یعنی اگر آپ خریداری کرتے ہوئے ہوشیار نہیں ہیں تو زیادہ تر یہی ہوتا ہے کہ آپ خراب چیزیں اُٹھا کر گھر لے آتے ہیں۔

بہرکیف میں نے پاپ کورن والے سے کہا کہ "بھائی ! زیادہ مت بھرو مجھے اکیلے ہی کھانا ہے" تو وہ کہنے لگا کہ " اللہ کا فرمان ہے کہ پورا تولو!" اور پھراُس نے لفافہ اوپر تک بھر کر مجھے تھما دیا۔ مجھے بڑی خوش گوار حیرت ہوئی۔ آج کل کہاں ملتے ہیں ایسے لوگ۔

مجھے لگا کہ جیسے پاپ کورن کی خوشبو کے ساتھ اُس کے اخلاص کی خوشبو بھی فضا میں پھیلی ہوئی تھی جو لوگوں کو ہاتھ پکڑ کر اُس تک کھینچ لاتی تھی۔

انور شعور کا شعر یاد آگیا:

براہِ راست اثر ڈالتے ہیں سچے لوگکسی دلیل سے منوانے تھوڑی ہوتے ہیں


از محمد احمدؔ

دُکھ وہ سرسوں کہ ہتھیلی پہ جمائی نہ گئی ۔ راحیل فاروق

ہمارے بہت ہی عزیز دوست راحیل فاروق کی لاجواب غزلوں میں سے ایک شاہکار! قارئینِ رعنائیِ خیال کی نذر:

غزل
سات پردوں سے تری جلوہ‌نمائی نہ گئیدیکھ لی ہم نے وہ صورت جو دکھائی نہ گئی
داستاں ہجر کی کچھ یوں بھی ہوئی طولانیسنی ان سے نہ گئی ہم سے سنائی نہ گئی
کیا ہوا دل کے سمندر کا تلاطم جانےایک مدت سے تری یاد نہ آئی نہ گئی
ذکر اچانک ہی چھڑا اور قیامت کا چھڑامسکرایا نہ گیا بات بنائی نہ گئی
درد مندی نے کیے فاصلے آفاق کے طےآہ پہنچی ہے جہاں آبلہ پائی نہ گئی
فرقتوں کی یہی دیوار بلا ہے یا ربکل اٹھائے نہ اٹھی آج گرائی نہ گئی
دل وہ بھنورا ہے کہ نچلا نہیں بیٹھا دم بھردکھ وہ سرسوں کہ ہتھیلی پہ جمائی نہ گئی
دل سلگتا ہی رہا آنکھ برستی ہی رہیایک چنگاری ہی ساون سے بجھائی نہ گئی
عشق میں حسن ہے یا حسن میں ہے عشق نہاںوہ نظر مجھ سے پلٹ کر سوئے آئینہ گئی
دل کے آنے ہی میں چیں بول گئے راحیلؔ آپاتنی تکلیف بھی حضرت سے اٹھائی نہ گئی
راحیل فاروق


غزل۔ اپنے خونِ وفا میں نہائے ہوئے زخم اپنے بدن پر سجائے ہوئے ۔ اعجاز رحمانی

غزل
اپنے خونِ وفا میں نہائے ہوئے زخم اپنے بدن پر سجائے ہوئےقاتلوں سے کہو اب نہ زحمت کریں ہم صلیب اپنی خود ہیں اُٹھائے ہوئے
ہر زباں بے سُخن، ہر جبیں پر شکن وحشتِ رقص میں انجمن انجمناتنا غمناک ماحول ہے شہر کا اک زمانہ ہوا مُسکرائے ہوئے
معتبر کیا ہے اور کیا ہے نا معتبر، اپنا اپنا خیال اپنی اپنی نظرلوگ کانٹوں سے بچتے ہیں گلزار میں، ہم گلوں سے ہیں دامن بچائے ہوئے
ایک کیا سو نشیمن ہوں میرے اگر، وہ بھی قربان گلزار کے نام پرآشیاں کا مجھے غم نہیں ، غم یہ ہے، پھول شعلوں کی زد میں ہیں آئے ہوئے
سطحِ دریا ہے چشمِ تماشائی میں، جھانکتا کون ہے دل کی گہرائی میںاشک آنکھوں میں اس طرح محفوظ ہیں، جیسے موتی صدف ہو چھپائے ہوئے
رہگزاروں کے سب نقش معدوم ہیں، پیڑ ہیں بھی تو سائے سے محروم ہیںجن کو آتا ہے شیشہ گری کا ہنر، سنگ ہاتھوں میں ہیں وہ اُٹھائے ہوئے
ساغرِ شب کو لبریز کر دیں گے ہم، صبح کو رنگ آمیز کر دیں گے ہمضد پہ قائم ہیں اپنی ہوائیں اگر، مشعلِ جاں ہیں ہم بھی جلائے ہوئے
ہے اسی شہر کا نام شہرِ طرب، لوگ بھی ہیں عجب، شہر بھی ہے عجبپیار ہونٹؤں پہ ہے، پھول ہاتھوں میں ہے، آستیں میں ہیں خنجر چھپائے ہوئے
دل کی باتوں میں ہرگز نہ آئیں گے ہم، اب فریبِ تبسم نہ کھائیں گے ہمزندگی بھر کا اعجازؔ ہے تجربہ ، دوست دشمن ہیں سب آزمائے ہوئے
اعجاز رحمانی

بشکریہ : فلک شیر بھائی

کاپی پیسٹ اسپیشل

کرنل محمد خان کی ایک شاہکار تحریر
رضیہ ہماری توقع سے بھی زیادہ حسین نکلی اور حسین ہی نہیں کیا فتنہ گر قد و گیسو تھی۔

پہلی نگاہ پر ہی محسوس ہوا کہ initiative ہمارے ہاتھ سے نکل کر فریقِ مخالف کے پاس چلا گیا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ پہلا سوال بھی ادھر سے ہی آیا:

"تو آپ ہیں ہمارے نئے نویلے ٹیوٹر؟"

اب اس شوخ سوال کا جواب تو یہ تھا کہ "تو آپ ہیں ہماری نئی نویلی شاگرد؟"

لیکن سچی بات یہ ہے کہ حسن کی سرکار میں ہماری شوخی ایک لمحے کے لیئے ماند پڑ گئی اور ہمارے منہ سے ایک بے جان سا جواب نکلا:

" جی ہاں، نیا تو ہوں ٹیوٹر نہیں ہوں۔ مولوی صاحب کی جگہ آیا ہوں"

"اس سے آپ کی ٹیوٹری میں کیا فرق پڑتا ہے؟"

"یہی کہ عارضی ہوں"

"تو عارضی ٹیوٹر صاحب۔ ہمیں ذرا اس مصیبت سے نجات دلا دیں"

رضیہ کا اشارہ دیوانِ غالب کی طرف تھا۔ میں نے قدرے متعجب ہو کر پوچھا:

"آپ دیون غالب کو مصیبت کہتی ہیں؟"

"جی ہاں! اور خود غالب کو بھی،"

"میں پوچھ سکتا ہوں کہ غالب پر یہ عتاب کیوں؟:

"آپ ذرا آسان اردو بولیئے۔ عتاب کسے کہتے ہیں؟"

"عتاب غصے کو کہتے ہیں۔"

"غصہ؟ ہاں غصہ اس لئے کہ غالب صاحب کا لکھا تو شاید وہ خود بھی نہیں سمجھ سکتے۔ پھر خدا جانے پورا دیوان کیوں لکھ مارا؟:

"اس لئے کہ لوگ پڑھ کر لذت اور سرور حاصل کریں"

"نہیں جناب۔ اس لئے کہ ہر سال سینکڑوں لڑکیاں اردو میں فیل ہوں"

"محترمہ۔ میری دلچسپی فقط ایک لڑکی میں ہے، فرمایئے آپ کا سبق کس غزل پر ہے؟"

جواب میں رضیہ نے ایک غزل کے پہلے مصرع پر انگلی رکھ دی لیکن منہ سے کچھ نہ بولی۔ میں نے دیکھا تو غالب کی مشہور غزل تھی۔

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا

میں نے کہا:

"یہ تو بڑی لا جواب غزل ہے ذرا پڑھیئے تو۔"

"میرا خیال ہے آپ ہی پڑھیں ۔ میرے پڑھنے سے اس کی لا جوابی پر کوئی ناگوار اثر نہ پڑے"

مجھے محسوس ہوا کہ ولایت کی پڑھی ہوئی رضیہ صاحبہ باتونی بھی ہیں اور ذہین بھی لیکن اردو پڑھنے میں غالباً اناڑی ہی ہیں۔ میں نے کہا:

"میرے پڑھنے سے آپ کا بھلا نہ ہوگا۔ آپ ہی پڑھیں کہ تلفظ بھی ٹھیک ہو جائے گا"

رضیہ نے پڑھنا شروع کیا اور سچ مچ جیسے پہلی جماعت کا بچہ پڑھتا ہے۔

" یہ نہ تھی ہماری قس مت کہ وصل۔۔۔ ۔۔۔ ۔"

میں نے ٹوک کر کہا:

"یہ وصل نہیں وصال ہے، وصل تو سیٹی کو کہتے ہیں۔"

رضیہ نے ہمیں سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ ہم ذرا مسکرائے اور ہمارا اعتماد بحال ہونے لگا۔

رضیہ بولی:
"اچھا۔ وصال سہی۔ وصال کے معنی کیا ہوتے ہیں؟"

"وصال کے معنی ہوتے ہیں ملاقات، محبوب سے ملاقات۔ آپ پر مصرع پڑھیں۔"

رضیہ نے دوبارہ مصرع پڑھا۔ پہلے سے ذرا بہتر تھا لیکن وصال اور یار کو اضافت کے بغیر الگ الگ پڑھا۔ اس پر ہم نے ٹوکا۔

"وصال یار نہیں وصالِ یار ہے۔ درمیان میں اضافت ہے۔"

"اضافت کیا ہوتی ہے؟ کہاں ہوتی ہے؟"

"یہ جو چھوٹی سی زیر نظر آرہی ہے نا آپ کو، اسی کو اضافت کہتے ہیں۔"

"تو سیدھا سادا وصالے یار کیوں نہیں لکھ دیتے؟"

"اس لئے کہ وہ علما کے نزدیک غلط ہے۔"۔۔۔ ۔۔۔ یہ ہم نے کسی قدر رعب سے کہا۔

علما کا وصال سے کیا تعلق ہے؟"

" علما کا تعلق وصال سے نہیں زیر سے ہے۔"

"اچھا جانے دیں علما کو۔ مطلب کیا ہوا؟"

"شاعر کہتا ہے کہ یہ میری قسمت ہی میں نہ تھا کہ یار سے وصال ہوتا۔"

"قسمت کو تو غالب صاحب درمیان میں یونہی گھسیٹ لائے، مطلب یہ کہ بے چارے کو وصال نصیب نہ ہوا"

"جی ہاں کچھ ایسی ہی بات تھی۔"

"کیا وجہ؟"

"میں کیا کہہ سکتا ہوں؟"

"کیوں نہیں کہہ سکتے ۔ آپ ٹیوٹر جو ہیں۔"

"شاعر خود خاموش ہے۔"

"تو شاعر نے وجہ نہیں بتائی مگر یہ خوش خبری سنادی کہ وصال میں فیل ہوگئے؟"

" جی ہاں فی الحال تو یہی ہے۔ آگے پڑھیں۔"

رضیہ نے اگلا مصرع پڑھا۔ ذرا اٹک اٹک کر مگر ٹھیک پڑھا:

اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

میں نے رضیہ کی دلجوئی کے لئے ذرا سرپرستانہ انداز میں کہا:

"شاباش، آپ نے بہت اچھا پڑھا ہے۔"

"اس شاباش کو تو میں ذرا بعد میں فریم کراؤں گی۔ اس وقت ذرا شعر کے پورے معنی بتادیں۔"

ہم نے رضیہ کا طنز برداشت کرتے ہوئے کہا:

"مطلب صاف ہے، غالب کہتا ہے قسمت میں محبوبہ سے وصال لکھا ہی نہ تھا۔ چنانچہ اب موت قریب ہے مگر جیتا بھی رہتا تو وصال کے انتظار میں عمر کٹ جاتی۔"

" توبہ اللہ، اتنا Lack of confidence یہ غالب اتنے ہی گئے گزرے تھےِ؟"

گئے گزرے؟ نہیں تو۔۔۔ غالب ایک عظیم شاعر تھے۔"

"شاعر تو جیسے تھے، سو تھے لیکن محبت کے معاملے میں گھسیارے ہی نکلے"

بشکریہ

شکرقندی کا المیہ

شکرقندی کا المیہمرتضیٰ برلاس سے معذرت کے ساتھ
سبزیوں کے حلقے میں، ہم وہ کج مقدر ہیں
گاجروں میں مولی ہیں، مولیوں میں گاجر ہیں



سرگوشی: شعر جو تختہء مشق بنا :)

دوستوں کے حلقے میں ہم و کج مقدر ہیں
افسروں میں شاعر ہیں، شاعروں میں افسر ہیںمرتضیٰ برلاس

احوالِ ملاقات . فیض صاحب سے معذرت کے ساتھ​ (تضمین)

احوالِ ملاقاتفیض صاحب سے معذرت کے ساتھ​
وہ تو کچھ چُپ چُپ رہی پر اُس کے پیارے بھائی نے‎چار چھ مکے بھی مارے، آٹھ دس لاتوں کے بعد‎اُس نے اپنے بھائی سے پوچھا یہ حضرت کون تھے؟"ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد"​
تضمین از محمد احمدؔ​

جوش ملیح آبادی اور فیس بک ۔۔۔ تحریف در غزلِ جوش

جوش ملیح آبادی کی ایک خوبصورت غزل کسی شوخ ساعت میں  ہماری مشقِ ستم کا شکار ہو گئی تھی۔ غزل کی اس تازہ شکل میں جوش صاحب قتیلِ فیس بک ہو کر رہ گئے ہیں اور اسی بات کی دہائی جناب اس غزل میں دے رہے ہیں۔

ملاحظہ فرمائیے۔


فیس بک دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیاجا تجھے کشمکشِ دہر سے آزاد کیا
وہ کریں بھی تو کن الفاظ میں مینشن تجھ کوجن کو تیری نگہِ لطف نے برباد کیا
نوٹیفائیر نے کبھی چین سے رہنے نہ دیاجب میں لاگ آف ہوا، تو نے مجھے یاد کیا
اے میں سو جان سے اس طرزِ تکلّم کے نثارآپ نے ٹیگ کیا اور کچھ ارشاد کیا
اس کا رونا نہیں ان فرینڈ کیا تم نے مجھےاس کا غم ہے کہ بہت دیر سے آزاد کیا
اتنا مانوس ہوں 'فطرت' سے، کہ لی جب چُٹکیجھک کے میں نے یہ کہا، مجھ سے کچھ ارشاد کیا
مجھ کو تو ہوش نہیں، میں تو وہاں ٹیگ نہ تھالوگ کہتے ہیں کہ تم نے مجھے برباد کیا​
پس نوشت:
اِس دھماچوکڑی میں فرینڈ کی "ر" کہیں گر گرا گئی ہے، تاہم یہ انگریزی ہے اور اردو کے برخلاف کہ جس میں صرف الف کا ہی وصال ہوا کرتا ہے، انگریزی میں وصال اتنی عنقا شے نہیں ہے سو ہم اس اجازت کا فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ :)
ویسے انگریزی میں کہیں کہیں "ر" کی ادائیگی آدھی یا چوتھائی بھی رہ جاتی ہے اور چھوٹے موٹے حروف جگجیت سنگھ کی طرح کھا جانا عیب نہیں سمجھا جاتا۔ 

Pages