محمد احمد (رعنائیِ خیال)

بھرتی کا لفظ


بھرتی کا لفظمحمد احمد
اُستاد ِ محترم نے کاغذ پر لکھے اکلوتے شعر پر نظر ڈالی اور عینک (جوبا مشکل ناک پر ٹکی ہوئی تھی) کے اوپر سےہمیں عجیب طرح سے دیکھا۔ ہم ابھی سٹپٹانے یا نہ سٹپٹانے کا فیصلہ کر ہی رہے تھے کہ یکایک اُن کے چہرے پر مُسکراہٹ نمودار ہوگئی۔ کہنے لگے۔ برخوردار شعر تو بہت اچھا ہے لیکن یہ ایک لفظ بھرتی کا ہے۔ اُستادِ محترم کی اُنگلی تلے دبا ہوا بھرتی کا لفظ ناقدانہ جبر و استبداد کی تاب نہ لاتے ہوئے، بہ صد ندامت ہم سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا۔ ایک لمحے کو خیال آیا کہ اُستادِ محترم کی انگشت مبارک کو زحمتِ شاقہ دے کر نادم لفظ سے آنکھیں چار کر لی جائیں لیکن پھر پاسِ ادب مانع ہوااور ہم نے دل ہی دل میں شعر کو دُہرا کر اُس بھرتی کے لفظ کو مجازاً ہی سہی گُدّی سے پکڑ لیا۔

بات استادِ محترم کی دل کو لگی۔ واقعی اگر وہ لفظ نہ بھی ہوتا تو بھی شعر کا مفہوم مکمل تھا۔ لیکن ہائے وہ شعر کا سانچہ کہ جو ایک حرف کے کم یا زیادہ ہونے پر بھی بانکا ہو جاتا ہےاور سجیلا ہونے سے انکار کر دیتا ہے۔ جبکہ یہاں تو معاملہ حرف کا نہیں بلکہ پورے لفظ کا تھا۔

آپ نے شاید بھرتی کے لفظ کے بارے میں سنا ہو۔ نہیں سُنا تو ہم بتا دیتے ہیں۔ شعری اصطلاح میں شعر میں محض وزن پورا کرنے کی خاطر ایسے لفظ شامل کرنا کہ جن کے نہ ہونے پر بھی شعر کے مفہوم پر کوئی فرق نہ پڑے وہ بھرتی کے لفظ یا حشو کہلاتے ہیں۔ اور جن کی عدم موجودگی کے باعث مصرع کی بندش چست قرار دی جاتی ہے۔

شاید آپ کو حیرت ہو لیکن امر واقع یہ ہے کہ بھرتی کے لفظ شاعری کے علاوہ نثر میں بھی کافی استعمال ہوتے ہیں ۔ یہ بات الگ ہے کہ نثر میں ان لفظوں کو کان سے پکڑ کر نکالنے والے ناقد میسر نہیں آتے۔ اور میسر آ بھی جائیں تو عموماً ناقد کو ہی کان سے پکڑ کر نکال دیا جاتا ہے۔

نثر میں بھرتی کے الفاظ کی مثالوں میں سب سے پہلے وہ لفظ ہیں جو بے چارے شوہر اپنی بیویوں کے نام کے ساتھ لگاتے ہیں۔ جیسے جان ، جانِ من وغیرہ۔ یا جب بیگمات اپنے شوہر سے کہتی ہیں کہ رات کو جلدی آئیے گا مجھے تھوڑی شاپنگ کرنی ہے تو اس قسم کے جملوں میں لفظ "تھوڑی" عموماً بھرتی کا ہوا کرتا ہے۔

ایسے ہی آپ نے اُن پیروں فقیروں، گدی نشینوں کے بڑے بڑے نام سُنے ہوں گے کہ جو شرو ع ہوجائیں تو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔ ایسے ناموں میں ایک آدھ لفظ واقعی نام کی ادائیگی کے لئے ناگزیر ہوتا ہے لیکن باقی ماندہ زیادہ تر لفظ بھرتی کے ہوتے ہیں اور عموماً مُریدوں کی عقیدت مندی کا شاخسانہ ہوتے ہیں یا پھر نئے عقیدت مند گھیرنے کی پروموشن۔ یعنی حضرت علامہ، مولانا سے لے کر، پیرِطریقت، رہبرِ شریعت تک اور آخر میں لیاری شریف والے یا کیو ٹی وی والے سب کے سب کو آپ ہاتھ پاؤں بچا کر بھرتی کےلفظوں میں شمار کر سکتے ہیں۔

یوں تونثر میں بھرتی کے لفظوں کی کئی ایک مثالیں مزید دی جا سکتی ہیں۔ لیکن ہم مزید مثالیں آپ کی صوابدید پر چھوڑتے ہیں کہ بہ شرطِ دلچسپی اپنے ارد گرد بکھرے بھرتی کے الفاظ  آپ خود تلاش کر سکتے ہیں۔ 

رہا قصہ مذکورہ شعر اور اُس میں موجود بھرتی کے لفظ کا۔ تو جناب اُستادِ محترم سے اجازت لے کر جب ہم گھر کو چلے تو راستے میں ہی کئی ایک الفاظ اس سانچے میں بٹھانے کی سعی کرتے رہے، تاہم سانچے میں پورے بیٹھنے والے سب لفظ اُستادِ محترم کے بتائے گئے اصول کے مطابق بھرتی کے ہی لگے۔ گھر پہنچ کر بھی کچھ دیر یہی اُدھیڑ بُن رہی لیکن پھر ہمیں ایک خیال سُوجھا اور ہم سکون کی سانس لے کر سوگئے۔

اگلے روز جب ہم نے استادِ محترم کے سامنے ترمیم شدہ شعر رکھا تو اُستادِ محترم نے ہمیں ایک دم سے گھور کر دیکھا اور پھر مُسکراتے ہوئے بولے۔ تم بہت فنکار ہو گئے ہو۔ بھرتی کے لفظ کی جگہ تخلص ڈال دیا۔ اُستادِ محترم کی جانب سے اپنے 'فن' کے اعتراف پر ہم پھولے نہیں سمائے اور مسکراتے ہوئے سوچنے لگے۔ چلو مقطع تو ہو ہی گیا اب کبھی نہ کبھی غزل بھی ہو ہی جائے گی۔

غزل ۔ مجھی سے کرتا نہ تھا کوئی مشورہ مِرا دل ۔ محمد احمدؔ

خاکسار کی ایک پرانی غزل قارئینِ بلاگ کی نظر:

غزل
مجھی سے کرتا نہ تھا کوئی مشورہ مِرا دلسراب و خواب کے صحرا میں جل بجھا مِرا دل
نہ دیکھے طَور طریقے، نہ عادتیں دیکھیںکسی کی شکل پہ اِک روز مر مِٹا مرا دل
وفا تو خیر ہوئی اس جہان میں عنقاجو وہ ملے تو یہ پُوچھوں کہ کیا ہوا مرا دل؟
مآلِ دیدہ وری پُوچھتے ہو، دیکھ لو خودبُجھی ہوئی مِری آنکھیں، بُجھا ہوا مرا دل
خلوص، مہر و مروّت بجز خسارہ نہیںکہ دیکھتا ہی نہیں میرا فائدہ مرا دل
میں صاف دل ہوں، ہر اِک بات صاف کہتا ہوںمیں آئنہ ہوں تو ہے مثلِ آئنہ مرا دل
یہ اس کو دیکھ دھڑکنا ہی بُھول ہی جاتا ہےغنیمِ جاں ہے،اُسی کا ہے، بے وفا! مرا دل
بچھڑ گئے، تھا بچھڑنا نوشتۂِ قسمتہے واقعہ جو بناتا ہے سانحہ مرا دل
نہیں تو کوئی نہیں، کوئی مسئلہ ہی نہیںذرا سی بات پہ ٹوٹے گا کون سا مرا دل؟
کسی کی یاد میں کھوئی سی ہیں مری آنکھیںکسی کا دیکھتا رہتا ہے راستا مرا دل
سنا ہے قلب ہے سب تیری انگلیوں کے بیچتو اپنی سمت پلٹ لے مرے خدا مرا دل
میں آ گیا ہوں یہاں پر وہاں نہ جاؤں گاپر اس کا پوچھ رہا ہے اتا پتا مرا دل
گرا دیا ہے قدر نا شناس ہاتھوں نےارے سنبھلنا! ذرا بچنا! دیکھنا! مِرا دل
میں اس گلی سے گزرتا ہوں سر جھکائے ہوئےبنا ہوا ہے عجب موجۂِ صبا مرا دل
میں احمدؔ اپنی ہی دنیا میں شاد رہتا ہوںیہ میرے خواب ہیں، یہ میں ہوں، یہ رہا مرا دل!
محمداحمدؔ

خواب مرتے نہیں ۔ احمد فراز

خواب مرتے نہیں

خواب مرتے نہیں
خواب دل ہیں نہ آنکھیں نہ سانسیں کہ جو
ریزہ ریزہ ہوئے تو بکھر جائیں گے
جسم کی موت سے یہ بھی مر جائیں گے
خواب مرتے نہیں

خواب تو روشنی ہیں
نوا ہیں
ہوا ہیں
جو کالے پہاڑوں سے رکتے نہیں
ظُلم کے دوزخوں سے بھی پُھکتے نہیں
روشنی اور نوا اور ہوا کے علم
مقتلوں میں پہنچ کر بھی جُھکتے نہیں

خواب تو حرف ہیں
خواب تو نُور ہیں
خواب سُقراط ہیں
خواب منصور ہیں

احمد فراز


شکریہ اردو محفل


اگر انٹرنیٹ پر اردو کی ترویج کا ذکر کیا جائے تو پہلا خیال اردو محفل کا ہی آتا ہے۔ اردو محفل بلاشبہ انٹرنیٹ پر یونیکوڈ اردو کو باقاعدہ متعارف کروانے والا پہلا فورم ہے۔ ہماری خوش نصیبی کہ ہم ایک عرصے اس فورم کے ساتھ منسلک رہے۔ ہم اسے اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ ہم اردو محفل کی اردو اور اردو دان طبقہ کے لئے جو خدمات ہیں اُن کا کھلے دل سے اعتراف کریں اور ایک بار پھر شکریہ ادا کریں۔


اردو یونیکوڈ کی ترویج

ایک زمانہ تھا کہ انٹرنیٹ پر اردو زبان نظر ہی نہیں آتی تھی۔ پھر آہستہ آہستہ جب انٹرنیٹ پر اردو نظر آنا شروع ہوئی تو وہ تصویری شکل میں تھی۔ یعنی لوگ باگ ان پیچ پر اردو مواد کمپوز کرتے اور اُس کی تصاویر بنا کر مختلف سائٹس پر چسپاں کر دیتے تھے۔ یہ اردو محفل ہی کے لوگ تھے کہ جنہوں نے اردو دان طبقے کو یہ احساس دلایا کہ تصویری اردو ، اردو کی ترویج میں معاون ثابت نہیں ہوتی کہ نہ تو اسے سرچ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی یہ عبارت کسی اور کام آنے ولی ہے ۔ اور یہ کہ یونیکوڈ اردو ہی اردو کا مستقبل ہے۔ ان لوگوں کی یہ محنت رنگ لائی اور آہستہ آہستہ لوگ اردو رسم الخط میں لکھی تحاریر براہِ راست انٹرنیٹ پرشامل کرنے لگےاور رفتہ رفتہ تصویری اردو سے جان چھوٹ گئی۔ اس اہم کام پر ہم اردو محفل کے شکر گزار ہیں۔

اردو کمپیوٹنگ

انٹرنیٹ کے دنیا میں اردو کی ترویج اردو محفل انتظامیہ اور اراکین کی خاص ترجیح رہی ۔ انہوں نے اردو کمپیوٹنگ کو باسہولت بنانے کے لئے شبانہ روز محنت کی۔ اردو لوکلائزیشن، سوفٹ وئیر ڈیولپمنٹ، ٹائپو گرافی وغیرہ میں بہت کام ہوا جو کہ اردو دان طبقے کے لئے بہت مفید ثابت ہوا۔ مزید براں اردو محفل پر بہت سے ٹیوٹوریلز بھی گاہے بگاہے شامل ہوتے رہے جو نوواردان کے لئے مشعلِ راہ ثابت ہوئے۔

اردو بلاگنگ کی ترویج بھی اردو محفل کا خاصہ رہی ہے اور شروع کے دور میں بننے والے بیش تر بلاگ محفلین کے ہی تھے۔ خود ہمیں بھی بلاگ لکھنے کی ترغیب اردو محفل سے ہی ملی۔ یعنی اگر اردو محفل نہ ہوتی تو شاید آج رعنائیِ خیال بھی نہ ہوتا۔ ہماری جانب سے شکریہ !

اردو ویب لائبریری

اردو ادب کی ترویج کے لئے اردو محفل کے زیرِ اہتمام بہت سی کتابوں کو ڈجیٹائز کرنے کا کام شروع کیا گیا اور شروع کے ادوار میں اس سلسلے میں خاطر خواہ کام ہوا۔ آج بھی ہمیں جو بہت سی اردو ای بک یونیکوڈ فارم میں مل جاتی ہیں، اُن میں کہیں نہ کہیں محفل یا محفلین کا ہاتھ نظر آتا ہے۔ شکریہ!

ادب پرور ماحول

یہ اردو محفل اور محفلین کی خوش قسمتی رہی ہے کہ یہاں اردو ادب سے علاقہ رکھنے والے اساتذہ ہر دور میں موجود رہے اور مبتدی اراکین کی داد رسی اور اصلاح کاکام ان احباب نے ہر دور میں بے غرض ہو کر کیا ۔ یہ ایک ایسی بیش بہا نعمت ہے کہ جوبہت سے دیگر فورمز پر مفقود رہی۔خود خاکسار کے لئے ان احباب سے سیکھنے کے مواقع ہر دور میں حاضر رہے اور خاکسار نے حسبِ حیثیت آپ احباب سے بہت کچھ سیکھا۔ میں بطورِ خصوصی جناب اعجاز عبید صاحب، جناب وارث صاحب اور جناب یعقوب آسی صاحب کی خدمات کا شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

گفتگو کا پلیٹ فارم

انٹرنیٹ کی دنیا میں یوں تو گفتگو کے بہت سے پلیٹ فارم موجود تھے لیکن بیش تر یا تو انگریزی زبان کے تھے یا پھر رومن اردو تک محدود تھے۔ اردو محفل کو یہ امتیاز حاصل تھا کہ یہاں گفتگو کا ایک ایسا فورم موجود تھا جہاں صرف اردو جاننے والے اپنے جذبات و احساسات کا اظہار اپنی زبان میں کر سکتے تھے۔ اور یہ احساس بہت خوبصورت تھا۔ خاکسار نے اپنی ایک نظم میں اردو محفل کی اس خصوصیت کا شکریہ ادا کیا ہے جسے آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمیں اردو محفل کے توسط سے ایسے اچھے دوست ملے کہ جن کی بابت ہم شکریہ بھی ادا کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے۔ یہ اردو محفل کا پلیٹ فارم ہی تھا کہ جس کی وساطت سے ہم ایسے دوستوں سے متعارف ہوئے کہ جو جغرافیائی لحاظ سے تو ہم سے قریب نہیں تھے لیکن دل کے بہت قریب نکلے۔ اِن احباب کی دوستی آج بھی ہمارا اثاثہ ہے۔

آخری شکریہ

اور آخری شکریہ یہ کہ اردو محفل نے ہمیں یہ سکھایا کہ انسان کو کسی بھی چیز کا اتنا عادی نہیں ہونا چاہیے کہ اُسے چھوڑنے کا خیال ہی اُسے لرزا دے۔ ایسی باتیں مشکل سے ہی سمجھ آتی ہیں لیکن سکھانے والے اچھے ہوں تو آ ہی جاتی ہیں۔ سو کسی حد تک ہم بھی سیکھ ہی گئے۔

نہ جاننے والوں کے لئے بتا دیتے ہیں کہ محفل آج سے ڈیڑھ دو ماہ قبل کچھ طبقاتی کشیدگی کا شکار رہی۔ چونکہ ہم بھی اپنی سو چ رکھتے ہیں سوہمارا جھکاؤ بھی دو میں سے ایک طبقے کی طرف رہا اور اس کا اظہار بھی ہم نے گاہے گاہے کیا کہ اگر گفتگو کے ایسے اچھے پلیٹ فارم پر بھی انسان اپنے خیالات کا اظہار نہیں کرے گا تو کہاں کرے گا۔ بہرکیف اس دوران محفل انتظامیہ اپنی مصروفیات کے باوجود ان معاملات سے نمٹنے کی کما حقہ کوشش کرتی رہی اور اپنے تئیں کچھ اقدامات کرکے معاملات بہتر بھی کر لیے۔

اب جب کہ صورتحال بہت بہتر تھی اور محفل پر محفل کی سالگرہ کی تقریبات عروج پر تھیں تو نہ جانے انتظامیہ کس کی کس بات سے مشتعل ہوئی اور انتظامی تبدیلیوں کے نام پر پھر جانبدارانہ اقدامات کرتی نظر آئی۔ ہم محفل پر آن لائن ہی تھے کہ اچانک ہمیں اپنی تین پوسٹس اور ایک کیفیت نامے کے حذف ہونے کی اطلاع ملی اور اُس کے بعد ہمارا اکاؤنٹ جزوقتی طور پر معطل ہوگیا۔

حذف ہونے والی تین پوسٹس میں سے ایک تو ایسی تھی کہ جس میں ہم نے محفل میں کشیدگی کے دوران افتخار عارف کے کچھ اشعار جمع کیے تھے کہ جو محفل کی صورتحال سے کچھ نہ کچھ مماثلت رکھتے تھے یا اُن کی بابت ایسا سمجھا جا سکتا تھا۔ یہ ہماری واحد "شر انگیزی" تھی حالانکہ اس پوسٹ میں بھی اشعار کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔

ہمیں حیرت اس بات پر ہوئی کہ نبیل بھیا نے یا اتنظامیہ کے کسی اور رُکن نے پسندیدہ کلام میں لگائی جانے والی افتخار عارف کی دو مزید غزلیات بھی حذف کر دیں۔ شاید اس سراسیمگی کی کیفیت میں اُنہیں رسی بھی سانپ نظر آ رہی ہے۔ اسی طرح ہمارےایک کیفیت نامے کا شعر جو کہ ہم نے نہ جانے کس خیال میں کیفیت نامے میں ارسال کر دیا۔ اُسے بھی حذف کر دیا گیا۔ حالانکہ اس کا تعلق محفل اور محفل انتظامیہ سے ہرگز نہیں تھا۔ شعر یہ تھا:


میں خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خرابمیرے خلاف زہر اُگلتا پھر ےکوئی
ہم جون ایلیا کے لہجے کی تاثیر کے معترف تو ہیں ہی لیکن ہمیں یہ نہیں معلوم تھا کہ تیر پر اُڑ کر نشانے از خود بھی لگ سکتے ہیں۔ :)

بہرکیف اس کیفیت نامے کا محفل یا انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی افتخار عارف کی آخری دو غزلوں کا کوئی واسطہ اس سب معاملے سے تھا۔ سُنتے ہیں کہ انتظامیہ نے ہم سمیت کچھ لوگوں کے کچھ اختیارات کو محدود کیا ہے۔ بہت اچھی بات ہے وہ کر سکتے ہیں کہ اُن کو اختیار ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ اگر محفل انتظامیہ شروع سے ہی ایسی حساسیت والی ہوتی تو ہم تو پسندیدہ اشعار کے انتخاب کے باعث 2007 میں ہی انتظامیہ کو پیارے ہو جاتے۔ :)

سب سے آخری بات یہ ہے کہ ہمیں محفل انتظامیہ سے کوئی گلہ شکوہ نہیں ہے اور درج بالا مندرجات اس سلسلے میں ہماری سوچ کی عکاسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ محفل انتظامیہ صاحبِ اختیار ہے اُن کا حق ہے کہ وہ اپنے فورم کو جیسے چاہیں چلائیں۔ یہ تحریر اپنے بلاگ پر اس لئے لگائی ہے کہ اگر کوئی دوست اسے پڑھنا چاہے تو یہ پڑھنے والوں کے لئے دستیاب رہے۔

اس آخری شکریے سے ماقبل محفل کی خدمات کے حوالے سے ہم نے جو اعترافات کیے ہیں وہ تمام تر تہہ دل سے کیے ہیں اور ہم واقعتاً ان شاندار کارناموں پر محفل انتظامیہ کے ممنون ہیں۔ بالخصوص ہم نبیل بھائی، ذکریا بھائی، سعود بھائی اور دیگر ابتدائی دور کے اراکین کے شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے اردو محفل کو اردو محفل بنایا۔

کسی کے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اللہ نے چاہا تو محفل ایسے ہی آباد رہے گی۔

ہمارا ایک پرانا کیفیت نامہ، جسے شاید ہم نے کچھ پہلے لکھ دیا تھا:

دائم آباد رہے گی 'محفل'ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا

غزل ۔ اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر کے ہم ہیں ۔ ندا فاضلی

غزل
اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر کے ہم ہیںرُخ ہواؤں کا جِدھر کا ہے اُدھر کے ہم ہیں
پہلے ہر چیز تھی اَپنی مگر اب لگتا ہےاپنے ہی گھر میں کِسی دُوسرے گھر کے ہم ہیں
وقت کے ساتھ ہے مٹی کا سفر صدیوں سےکِس کو معلوم کہاں کے ہیں کدھر کے ہم ہیں
چلتے رہتے ہیں کہ چلنا ہے مُسافر کا نصیبسوچتے رہتے ہیں کِس راہ گزر کے ہم ہیں
ہم وہاں ہیں جہاں کچھ بھی نہیں رستہ نہ دیاراپنے ہی کھوئے ہوئے شام و سحر کے ہم ہیں
گنتیوں میں ہی گنے جاتے ہیں ہر دور میں ہمہر قلم کار کی بے نام خبر کے ہم ہیں
ندا فاضلی

تُو اس طرح سے مِری زندگی میں شامل ہے۔ ندا فاضلی

ندا فاضلی ہندوستان کے مشہور معروف شاعرگزرے ہیں۔ اُنہوں نے عمومی غزلیات کے علاوہ فلمی گیت بھی بہت خوب لکھے اور سننے والوں سے خوب خوب داد پائی۔ اُن کی تصنیفات میں "لفظوں کے پھول"، "مور ناچ"، "آنکھ اور خواب کے درمیان میں"، " سفر میں دھوپ تو ہوگی" اور "کھویا ہوا سا کچھ" شامل ہیں۔آج ندا فاضلی کا ایک انتہائی خوبصورت گیت بلاگ پر شامل کر رہا ہوں۔ یہ گیت اپنے بطورِ گیت تو ہر طرح سے لاجواب ہے ہی لیکن اس کی شاعری اس کا اصل گوہر ہے۔

گیت
تُو اس طرح سے مِری زندگی میں شامل ہےجہاں بھی جاؤں یہ لگتا ہے تیری محفل ہے
یہ آسمان، یہ بادل، یہ راستے، یہ ہواہر ایک چیز ہے اپنی جگہ ٹھکانے سےکئی دنوں سے شکایت نہیں زمانے سےیہ زندگی ہے سفر، تُو سفر کی منزل ہےجہاں بھی جاؤں یہ لگتا ہے تیری محفل ہےتُو اس طرح سے مِری زندگی میں شامل ہے
تیرے بغیر جہاں میں کوئی کمی سی تھیبھٹک رہی تھی جوانی اندھیری راہوں میںسکون دل کو ملا آ کے تیری بانہوں میںمیں ایک کھوئی ہوئی موج ہوں تُو ساحل ہےجہاں بھی جاؤں یہ لگتا ہے تیری محفل ہےتُو اس طرح سے مِری زندگی میں شامل ہے
تیرے جمال سے روشن ہے کائنات مِریمیری تلاش تیری دل کشی رہے باقیخدا کرے کہ یہ دیوانگی رہے باقیتیری وفا ہی میری ہر خوشی کا حاصل ہےجہاں بھی جاؤں یہ لگتا ہے تیری محفل ہےتُو اس طرح سے مِری زندگی میں شامل ہے
ہر ایک شے ہے محبت کے نور سے روشنیہ روشنی جو نہ ہو زندگی ادھوری ہےرہِ وفا میں کوئی ہمسفر ضروری ہےیہ راستہ کہیں تنہا کٹے تو مشکل ہےجہاں بھی جاؤں یہ لگتا ہے تیری محفل ہےتو اس طرح سے مِری زندگی میں شامل ہیں
ندا فاضلی
nida FazliNida Fazli

پُرانی موٹر ۔۔۔ از ۔۔۔ سید ضمیر جعفری

سید ضمیر جعفری  ظریفانہ شاعری میں ایک ایسی تابندہ مثال ہیں کہ جس کی نظیر اردو شاعری میں نہیں ملتی۔ اُن کا بیشتر مزاحیہ کلام ایسا ہے کہ اسے جب بھی پڑھا جائے اپنا الگ ہی لطف دیتا ہے۔ اُن کی ایک مشہورِ زمانہ نظم پرانی موٹر قارئینِ بلاگ کی نذر!

پرانی موٹر
عجب اک بار سا مردار پہیوں نے اٹھایا ہےاسے انساں کی بد بختی نے جانے کب بنایا ہےنہ ماڈل ہے نہ باڈی ہے نہ پایہ ہے نہ سایہ ہےپرندہ ہے جسے کوئی شکاری مار لایا ہے
کوئی شے ہے کہ بینِ جسم و جاں معلوم ہوتی ہےکسی مرحوم موٹر کا دھواں معلوم ہوتی ہے
طبعیت مستقل رہتی ہے ناساز و علیل اس کیاٹی رہتی ہے نہر اس کی ٬ پھٹی رہتی ہے جھیل اس کیتوانائی قلیل اس کی تو بینائی بخیل اس کیکہ اس کو مدتوں سے کھا چکی عمر طویل اس کی
گریباں چاک انجن یوں پڑا ہے اپنے چھپر میںکہ جیسے کوئی کالا مرغ ہو گھی کے کنستر میں
ولایت سے کسی سرجارج ایلن بی کے ساتھ آئیجوانی لٹ گئی تو سندھ میں یہ خوش صفات آئیوہاں جب عین اس کے سر پہ تاریخِ وفات آئینہ جانے کیسے ہاتھ آئی مگر پھر اپنے ہات آئی
ہمارے ملک میں انگریز کے اقبال کی موٹرسن اڑتالیس میں پورے اٹھتر سال کی موٹر


یہ چلتی ہے تو دوطرفہ ندامت ساتھ چلتی ہےبھرے بازار کی پوری ملامت ساتھ چلتی ہےبہن کی التجا٬ماں کی محبت ساتھ چلتی ہےوفائے دوستاں بہرِ مشقت ساتھ چلتی ہے
بہت کم اس خرابے کو خراب انجن چلاتا ہےعموما زورِ دستِ دوستاں ہی کام آتا ہے
کبھی بیلوں کے پیچھے جوت کر چلوائی جاتی ہےکبھی خالی خدا کے نام پر کھچوائی جاتی ہےپکڑ کر بھیجی جاتی ہے٬ جکڑ کر لائی جاتی ہےوہ کہتے ہیں کہ اس میں پھر بھی موٹر پائی جاتی ہے
اذیت کو بھی اک نعمت سمجھ کر شادماں ہوناتعالی ﷲ یوں انساں کا مغلوبِ گماں ہونابہ طرزِ عاشقانہ دوڑ کر٬ بے ہوش ہو جانابہ رنگِ دلبرانہ جھانک کر٬ روپوش ہوجانا
بزرگوں کی طرح کچھ کھانس کر خاموش ہوجانامسلمانوں کی صورت دفعتا پر جوش ہوجانا
قدم رکھنے سے پہلے لغزشِ مستانہ رکھتی ہےکہ ہر فرلانگ پر اپنا مسافر خانہ رکھتی ہےدمِ رفتار دنیا کا عجب نقشا دکھائی دےسڑک بیٹھی ہوئی اور آدمی اڑتا دکھائی دے
نظام زندگی یکسر تہہ و بالا دکھائی دےیہ عالم ہو تو اس عالم میں آخر کیا دکھائی دے
روانی اس کی اک طوفانِ وجد و حال ہے گویاکہ جو پرزہ ہے اک بپھرا ہوا قوّال ہے گویا
شکستہ ساز میں بھی ٬ محشر نغمات رکھتی ہےتوانائی نہیں رکھتی مگر جذبات رکھتی ہےپرانے ماڈلوں میں کوئی اونچی ذات رکھتی ہےابھی پچھلی صدی کے بعض پرزہ جات رکھتی ہے
غمِ دوراں سے اب تو یہ بھی نوبت آگئی٬ اکثرکسی مرغی سے ٹکرائی تو خود چکرا گئی، اکثر
ہزاروں حادثے دیکھے٬ زمانی بھی مکانی بھیبہت سے روگ پالے ہیں زراہِ قدر دانی بھیخجل اس سخت جانی پر ہے مرگِ ناگہانی بھیخداوندا نہ کوئی چیز ہو٬ اتنی پرانی بھی
کبھی وقتِ خرام آیا تو ٹائر کا سلام آیاتھم اے رہرو کہ شاید پھر کوئی مشکل مقام آیا
سید ضمیر جعفری

غزل ۔ تیرے جلوے اب مجھے ہر سو نظر آنے لگے ۔ صباؔ افغانی

غزل
تیرے جلوے اب مجھے ہر سو نظر آنے لگےکاش یہ بھی ہو کہ مجھ میں تُو نظر آنے لگے
اِبتدا یہ تھی کہ دیکھی تھی خوشی کی اک جھلکانتہا یہ ہے کہ غم ہر سُو نظر آنے لگے
بے قراری بڑھتے بڑھتے دل کی فطرت بن گئیشاید اَب تَسٗکین کا پہلو نظر آنے لگے
ختم کردے اے صباؔ اب شامِ غم کی داستاںدیکھ اُن آنکھوں میں بھی آنسو نظر آنے لگے
صباؔ افغانی
تصویر پر کلک کیجے۔

افتخار عارف کی دو خوبصورت غزلیں

افتخار عارف کی دو خوبصورت غزلیں
قِصّہ ٴاہلِ جنُوں کوئی نہیں لِکّھے گاجیسے ہم لِکھتے ہیں، یُوں کوئی نہیں لِکّھے گا
وَحشتِ قلبِ تپاں کیسے لکھی جائے گی!حالتِ سُوزِ دَرُوں، کوئی نہیں لِکّھے گا
کیسے ڈھہ جاتا ہے دل، بُجھتی ہیں آنکھیں کیسے؟؟سَر نوِشتِ رگِ خُوں، کوئی نہیں لِکّھے گا
کوئی لِکّھے گا نہیں ، کیوں بڑھی، کیسے بڑھی بات؟؟کیوں ہُوا درد فزُوں؟ کوئی نہیں لِکّھے گا
خلقتِ شہر سَر آنکھوں پہ بِٹھاتی تھی جنہیں کیوں ہُوئے خوار و زبُوں؟ کوئی نہیں لِکّھے گا
عرضیاں ساری نظر میں ہیں رَجَز خوانوں کیسب خبر ہے ہمیں، کیُوں کوئی نہیں لِکّھے گا
شہر آشُوب کے لکھنے کو جگر چاہیے ہےمَیں ہی لِکُّھوں تو لکُھوں، کوئی نہیں لِکّھے گا! 
بے اثر ہوتے ہُوئے حرف کے اِس موسِم میں کیا کہُوں،کس سے کہُوں، کوئی نہیں لِکّھے گا
✿✿✿✿✿✿✿
دل کو دِیوار کریں، صبر سے وحشت کریں ہمخاک ہو جائیں جو رُسوائی کو شُہرت کریں ہم
اِک قیامت کہ تُلی بیٹھی ہے پامالی پریہ گُزرلےتوبیانِ قد وقامت کریں ہم
حرف ِ تردید سے پڑ سکتے ہیں سَو طرح کے پیچایسے سادہ بھی نہیں ہیں کہ وضاحت کریں ہم
دل کے ہمراہ گزارے گئے سب عُمرکے دِنشام آئی ہے تو کیا ترکِ محُبت کریں ہم
اک ہماری بھی امانت ہے تہ ِ خاک یہاںکیسے ممکن ہے کہ اس شہر سے ہِجرت کریں ہم
دن نکلنے کو ہے چہروں پہ سجا لیں دُنیاصُبح سے پہلے ہر اِک خواب کو رُخصت کریں
شوق ِآرائش ِ گل کایہ صلہ ہے کہ صباکہتی پھرتی ہے کہ اب اور نہ زحمت کریں ہم
عُمر بھر دل میں سجائے پھرے اوروں کی شبیہکبھی ایسا ہو کہ اپنی بھی زیارت کریں ہم


افتخار عارف
ٰImage Credit : Urdu Mehfil

منہ دھو رکھیے [فیس واش کی فسوں کاریاں]

منہ دھو رکھیےفیس واش کی فسوں کاریاں​

از ۔۔۔ محمد احمدؔ​
منہ دھو رکھنے کا مشورہ زندگی میں کبھی نہ کبھی آپ کو بھی ضرور ملا ہوگا۔ یہ الگ بات ہے کہ آپ نے اسے مشورہ سمجھا ہی نہ ہو۔ اگر سمجھا ہوتا تو طبیعت کے ساتھ ساتھ چہرے کی جلد بھی صاف ہو جاتی۔ لگے ہاتھ چہرے کا نکھار ، طعنے کی پھٹکار کو کچھ مندمل بھی کر دیتا۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ سمجھ بڑی چیز ہے اور سمجھداری اُس سے بھی زیادہ ۔کم از کم تعداد ِ حروف کی بنیاد پر۔

ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اکثر لوگ بغیر مشورے کےہی منہ دھو رکھتے ہیں اور کچھ لوگ اس کے لئے بڑے جتن بھی کرتے ہیں۔ جتن کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ کاسمیٹکس والے یہ بات لوگوں کے ذہنوں میں بٹھا چکے ہیں کہ خوبصورت لگنا آپ کا حق ہے۔ خوبصورت ہونے کو آپ کا حق کہنے سے اُنہوں نے بھی گریز کیا کہ یہ آسمان سے دشمنی مول لینے والی بات ہے۔

پہلے زمانے میں خوبصورتی کے معیار اور تھے۔ پہلے زیادہ تر وہی لوگ خوبصورت نظر آتے تھے جو خوبصورت ہوتے بھی تھے اور اُنہیں اس کے لئے بہت زیادہ جتن بھی نہیں کرنے پڑتے تھے۔ لیکن اب اور سے اور ہوئے 'حُسن' کے عنواں 'پیارے'!


پہلے زمانے میں منہ دھونے کا کام زیادہ تر خواتین ہی کیا کرتی تھیں اور مرد حضرات یہ کہہ کر کہ 'شیروں کے بھی کبھی منہ دُھلتے ہیں'، اپنی کاہلی پر بہادری کا پردہ ڈال دیا کرتے تھے۔ خواتین بھی منہ دھونے کا کام کپڑے دھونے کے صابن سے ہی لے لیا کرتی تھیں ۔ یعنی کپڑے دھونے کے بعد اُسی صابن سے منہ بھی دھو لیا کرتیں۔ سیدھے سادھے صابن میل کو اُتار پھینکتے اور اُن کی رنگ کاٹنے کی صلاحیت خواتین کی فئیر نیس کو جلا بخشتی۔ اللہ اللہ خیر صلا۔

تاہم جیسے جیسے آسماں رنگ بدلتا ہے زمین والے بھی رنگ ڈھنگ بدلتے رہتے ہیں۔ صابن کی جگہ فیس واش نے لے لی اور رنگ کاٹ کی جگہ فئیرنیس کریم نے ۔ یعنی اب جس صابن سے ہاتھ دھوئے جائیں اُسی سے منہ بھی دھو لینا نری جہالت سمجھا جانے لگا۔ اب آپ سر پر شیمپو لگائیں گے منہ پر فیس واش، ہاتھوں پر ہینڈ واش اور یوں آپ کے اور سرمایہ داروں کے بیچ مالی عدم توازن کاتوازن برقرار رہنے کی سبیل ہو سکےگی۔

رواں سال جب ہماری عمر رواں کو دائمی اسیری سے روشناس کرانے کی تقریبات درپیش تھیں تو ہمیں بھی یہ مشورہ دیا گیا کہ اپنا خیال رکھیے اور خود کو تھوڑا خوش وضع بنانے کی کوشش کریں۔ اگر ہمارے ساتھ یہ مسئلہ درپیش نہ ہوتا تو شاید ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ لوگ ایک مدتِ طویل و بسیط سے ہمیں خوش وضع سمجھنے سے عاری ہیں اور اب بھی جس مَرے دل سے یہ مشورے دیے جا رہے ہیں تو اس سے گمان ہوتا کہ انہیں اپنی اُمیدوں کے بر آنے کی کوئی خاص اُمید بھی نہیں ہے۔

اُمید تو ہمیں بھی کوئی خاص نہیں تھی لیکن اس خیال سے کہ کہیں سیاہ و سفید کے مطلق تضاد سے لوگوں کی طبیعت ہی مکدر نہ ہو جائے، ہم نے خود کو کسی نہ کسی طرح راضی کیا کہ روز کے چار چھ دقیقے فروگزاشت ہونے سے بچا لیں اور اس سلسلے میں صرف کر دیے جائیں تاکہ اپنے چہرے کو چہرہ انور میں ڈھال کر سزاوارِ نمائش بنایا جا سکے۔ سزاوار کی سزا کو ہر دومعنی میں پڑھا جا سکتا ہے۔

سچ پوچھیں تو فیس واش سے یہ ہمارا پہلا تعارف نہیں تھا۔ اول اول جب ہم اس جہانِ حسن افروز سے روشناس ہوئے تو جو پہلا فیس واش ہم نے استعمال کیا وہ ایسا تھا کہ گویا ہم نے چہرے پر موبل آئل مل لیا ہو اور اُس کی چکنائی کو دھونے کے لئے نئے بونس کی ضرورت محسوس ہوتی تھی۔ کافی دیر چہرہ رگڑنے کے بعد احساس ہوتا کہ یہ تو کولھو کے بیل کی طرح چلتے رہنے جیسا معاملہ ہے یعنی اگر ساری زندگی چہرہ رگڑتے رہیں تو بھی ضرورت تمام نہیں ہوگی۔ تاہم اُن دنوں چونکہ معاملہ اتنا گھمبیر نہیں تھا سو ہماری کاہلی اور غیر مستقل مزاجی نے آڑے آ کر فیس واش کے مذموم عزائم خاک میں ملا دیے اور یوں ہمارا چہرہ چکنا گھڑا بنتے بنتے رہ گیا۔

تاہم اس بار ہم نسبتاً سنجیدہ تھے سو بھول چوک کے عفریت کو ہردوسرے تیسرے روز قابو کر ہی لیتے اور ناممکن کو ممکن بنانے کی سعی میں لگ جاتے۔

اس بار ہم نے کچھ دوسرے برانڈز آزمانے کا فیصلہ کیا۔ تاہم اندازہ ہوا کہ :


ع۔ جو ذرہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے
اور


ع۔ ملے نہیں ہیں جو 'برانڈ' اُن کی مہربانی ہے۔
خیر ! سیاہ کو سفید کرنے کی اس نئی مہم میں جو پہلا فیس واش ہم نے استعمال کیا وہ اپنی طبعیت میں بڑا سفاک ثابت ہوا۔ اسے لگا کر یوں گمان ہوتا کہ جیسے اس میں ریت کی کنکریاں سی ملائی ہوئیں ہیں جو جلد میں جا بجا چھوٹے چھوٹے گڑھوں کی تخلیق کا کام کرتی ہیں اور ہمارے چہرے کے سیاہ خلیوں کو میل سمجھ کر نسبتاً کم سیاہ خلیوں سے الگ کرنے کا کام کرتی ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ اگر اس فیس واش کی خدمات میسر ہوں تو ریشمی کپڑے سے اسکاچ برائٹ بھی بنایا جا سکتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی سی کنکریوں سے چہرے کو چھلنی کر دینے والے اس فیس واش کا کام اتنا ہی تھا کہ بے تحاشہ روزن ہمارے چہرے کی جلد میں بنادے اور ہمارا باطنی نور اِن روزنوں سےجھانک جھانک کر چہرے کو تابناک بنا دے۔ اُن دنوں یہ خیال بھی آیا کہ جن کا اندروں تاریک تر ہوتا ہوگا اُن کے چہرے کے روشن ہونے کی کیا سبیل بنتی ہوگی۔ یقنیاً حلق میں چائنا کی چھوٹی والی ٹارچ رکھ کر گھومنے کے علاوہ تو کوئی حل نہیں ہوگا۔

اگلا فیس واش سفاک نہیں تھا بلکہ کافی حد تک عیب پوشی کرنے والا تھا ۔ یوں گماں ہوتا تھا کہ جیسے کسی نے ٹالکم پاؤڈر کو پانی میں گھول کر پیش کر دیا ہو۔ یعنی چہرے کی جلد جیسی بھی ہو اُوپر اُوپر سفیدی کا لیپ کر دیا جائے۔ اِسے آپ طنزاً کاسمیٹک تبدیلی بھی نہیں کہہ سکتے کہ یہ فی الواقعہ کاسمیٹک تبدیلی ہی تھی۔

کافی بعد میں ہمیں یہ عقل آئی کہ یہ دونوں فیس واش ایک ساتھ بھی تو استعمال کیے جا سکتے ہیں۔یعنی اول الذکر چہرے میں گڑھے کھودنے کے لئے اور ثانی الذکر اُن گڑھوں کو سفیدےسےبھرنے کےلئے۔ لیکن ناتجربے کاری کے باعث شروع شروع میں ہم نے یوں کیا کہ دوسرا فیس واش دھونے میں کچھ زیادہ محنت کرلی ۔ جس سے ہوا یوں کہ اوپر اوپر سے سفیدی دُھل گئی اور صرف پہلے فیس واش کے تیار کردہ گڑھوں میں باقی رہ گئی۔ اب چہرہ کچھ ایسا ہوگیا کہ جیسے کسی جلے ہوئے بیکری والے بن پر جا بجا سفید تل چپکے نظر آ رہےہوں۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ پتہ نہیں اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی ہمارے منہ پر کچھ رونق آئی بھی یا نہیں ۔ تو ہم کہیں گے کہ ہم کچھ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اتنے تجربات کرکے ہم تو کافی شش و پنج بلکہ کسی حد تک ہشت و ہفت کا شکار ہوگئے تھے۔ رہے وہ لوگ جن سے ہم نے اپنی اس مشقت اور اُس کے حاصل حصول کے بارے میں رائے لی تو اُن میں دو طرح کے لوگ ملے ایک وہ جو منہ دیکھے کی تعریف کرنے لگے اور دوسرے وہ جو محض ہمارا منہ دیکھ کر چپ ہو گئے۔بہرکیف ہمیں ہر دو طرح کے احباب سے ہمدردی ہے اور سوچتے ہیں کہ آئندہ کبھی انہیں ایسے کڑے امتحان میں نہ ڈالا جائے۔

دیکھ کر ہر در و دیوار کو حیراں ہونا ۔ عزیز لکھنوی

غزل​
دیکھ کر ہر در و دیوار کو حیراں ہونا 
وہ مرا پہلے پہل داخلِ زِنداں ہونا

قابلِ دید ہے اس گھر کا بھی ویراں ہونا
جس کے ہر گوشہ میں مخفی تھا بیاباں ہونا

جی نہ اٹھوں گا ہے بے کار پشیماں ہونا
جاؤ اب ہو چکا جو کچھ تھا مری جاں ہونا

واہمہ مجھ کو دکھا تا ہے جُنوں کے سامان 
نظر آتا ہے مجھے گھر کا بیاباں ہونا

اُف مرے اجڑے ہوئے گھر کی تباہی دیکھو
جس کے ہر ذرّہ پہ چھایا ہے بیاباں ہونا

حادثے دونوں یہ عالم میں اہم گزرے ہیں 
میرا مرنا تِرِی زُلفوں کا پریشاں ہونا

الحذر! گورِ غریباں کی ڈراؤنی راتیں
اور وہ ان کے گھنے بال پریشاں ہونا

رات بھر سوزِ محبت نے جلایا مجھ کو
تھا مقدر میں چراغِ شبِ ہجراں ہونا

کیوں نہ وحشت میں بھی پابندِ محبت رہتا 
تھا بیاباں میں مجھے قیدیِ زنداں ہونا

ہوگا اِک وقت میں یہ واقعۂ تاریخی
یاد رکھنا مرے کاشانہ کا ویراں ہونا

کچھ نہ پوچھو شبِ وعدہ مرے گھر کی رونق
اللہ اللہ وہ سامان سے ساماں ہونا

جوش میں لے کے اک انگڑائی کسی کا کہنا 
تم کو آتا ہی نہیں چاکِ گریباں ہونا

عالمِ عشق کی فطرت میں خلل آتا ہے
مان لوں حضرتِ انساں کا گر انساں ہونا

سرخ ڈورے تری آنکھوں کے الٰہی توبہ 
چاہئے تھا انھیں پیوست رگِ جاں ہونا

ان سے کرتا ہے دمِ نزع وصیّت یہ عزیزؔ 
خلق روئے گی مگر تم نہ پریشاں ہونا

عزیز لکھنوی​

آنکھوں سے مِری کون مرے خواب لے گیا

غزل​

آنکھوں سے مِری کون مرے خواب لے گیا
چشمِ صدف سے گوہرِ نایاب لے گیا

اِس شہرِ خوش جمال کو کِس کی لگی ہے آہ
کِس دل زدہ کا گریہ خونناب لے گیا

کُچھ نا خدا کے فیض سے ساحل بھی دُور تھا
کُچھ قسمتوں کے پھیر میں گرداب لے گیا

واں شہر ڈُوبتے ہیں یہاں بحث کہ اُنہیں
خُم لے گیا ہے یا خمِ محراب لے گیا

کچھ کھوئی کھوئی آنکھیں بھی موجوں کے ساتھ تھیں
شاید اُنہیں بہا کے کوئی خواب لے گیا

طوفان اَبر و باد میں سب گیت کھو گئے
جھونکا ہَوا کا ہاتھ سے مِضراب لے گیا

غیروں کی دشمنی نے نہ مارا،مگر ہمیں
اپنوں کے التفات کا زہر اب لے گیا

اے آنکھ!اب تو خواب کی دُنیا سے لوٹ آ
"مژگاں تو کھول!شہر کو سیلاب لے گیا!"

پروین شاکر​

قہوہ خانے میں دھواں بن کے سمائے ہوئے لوگ

غزل

قہوہ خانے میں دھواں بن کے سمائے ہوئے لوگ
جانے کس دھن میں سلگتے ہیں بجھائے ہوئے لوگ

تو بھی چاہے تو نہ چھوڑیں گے حکومت دل کی
ہم ہیں مسند پہ ترے غم کو بٹھائے ہوئے لوگ

اپنا مقسوم ہے گلیوں کی ہوا ہو جانا
یار ہم ہیں کسی محفل سے اٹھائے ہوئے لوگ

شکل تو شکل مجھے نام بھی اب یاد نہیں
ہائے وہ لوگ وہ اعصاب پہ چھائے ہوئے لوگ

آنکھ نے بور اُٹھایا ہے درختوں کی طرح
یاد آتے ہیں اِسی رُت میں بُھلائے ہوئے لوگ

حاکمِ  شہر کو معلوم ہوا ہے تابش
جمع ہوتے ہیں کہیں چند ستائے ہوئے لوگ

عباس تابش

روٹھ گئیں گلشن سے بہاریں، کس سے بات کریں

غزل 
روٹھ گئیں گلشن سے بہاریں، کس سے بات کریںکیسے منائیں، کس کو پکاریں، کس سے بات کریں
ہم نے خود ہی پیدا کی ہے ایک نئی تہذیبہاتھ میں گُل، دل میں تلواریں کس سے بات کریں
محفل پھیکی، ساقی بہکا، زہریلا ہر جامہم کیسے اب شام گزاریں، کس سے بات کریں
قاتل وقت ہوا ہے ہم سے کیوں اتنا ناراض خود کو اور کہاں تک ماریں، کس سے بات کریں
آگ لگانا ہے تو دل میں، پیار کی آگ لگاتو ہی بتا جلتی دیواریں کس سے بات کریں
شاعر: نامعلوم

ظالم سماجی میڈیا

ظالم سماجی میڈیا محمد احمد​
ہم ازل سے سُنتے آ رہے ہیں کہ سماج ہمیشہ ظالم ہوتا ہے اور سماج کے رسم و رواج زیادہ نہیں تو کم از کم دو محبت کرنے والوں کو جکڑ لیا کرتے ہیں۔ شکر ہے کہ ہم اکیلے ان کی مطلوبہ تعداد کو کبھی نہیں پہنچے سو حضرتِ سماج جکڑالوی سے بچے رہے ۔ تاہم جانے انجانے میں ہم سماجی میڈیا کے شکنجے میں کَس لئے گئے اور :


اتنے ہوئے قریب کہ ہم دور ہوگئے​
عموماً سوشل میڈیا کا بھیڑیا اُن بکری نما انسانوں پر حملہ کرتا ہے کہ جو اپنے ریوڑ سے الگ ہٹ کر ادھر اُدھر گھاس چر رہے ہوتے ہیں یا واقعی گھاس کھا گئے ہوتے ہیں۔ یعنی آپ کی سوشل لائف ناپید یا محدود ہے تو آپ سوشل میڈیا کے لئے تر نوالہ ہیں بلکہ مائونیز اور مکھن میں ڈوبے حیواناتی یا نباتاتی پارچہ جات میں سے ایک ہیں۔ ہم بھی اپنی مصروفیات ، کاہلی اور کم آمیزی کے باعث اس بھیڑیے کے خونی اور جنونی جبڑوں میں پھنس گئے۔ جبڑوں میں پھنسنے کا ایک فائدہ ہمیں اور ایک بھیڑیے کو ہوا۔ ہمیں تو یہ فائدہ پہنچا کہ بھیڑیا ہمیں نگل نہیں سکا اور بھیڑیا اسی پر خوش رہا کہ ہم بھاگ کر کہیں نہیں جا سکتے۔ یعنی اس سماجی بھیڑیے کے جبڑوں میں پھنسے ہم کہہ سکتے ہیں کہ :


شامل ہیں اِک ادائے کنارہ کشی سے ہم ​
لیکن نہ تو کنارہ چلتا ہے اور نہ ناؤ۔ اور لگتا کہ ہےکہ بات چل چلاؤ تک پہنچ کر ہی دم لے گی۔اور ہم نہیں چاہتےکہ بات چل نکلے اور کہیں اور پہنچنے ،پہنچانے کی سعی کرے۔ 


سوشل میڈیا کے سب سے زیادہ قتیل ہمیں فیس بک پر چہرے پر چہرہ چڑھائے نظر آتے ہیں۔ چہرے پر چہرہ چڑھانے سے مراد یہ بھی لی جا سکتی ہے کہ لوگ کتاب چہرے کے چہرے پر اپنا چہرہ چڑھا کر اپنے احباب کو سوشل میڈیا تک محدود رہنے کی دھمکی دیا کرتے ہیں۔یا پھر وہی بات کہ جو سوشل میڈیا سے پہلے بھی گاہے گاہے نظر آتی رہی ہے۔ یعنی: 


ایک چہرے پر کئی چہرے سجا لیتے ہیں لوگ​
ڈی پیاں یعنی نمائشی تصاویر بدلنے کا اور بدلتے رہنے کا چلن فیس بک پر بہت عام ہے ۔ سو لوگ اس فکر میں رہتے ہیں کہ کب اُن کی کوئی تصویر اچھی آ جائے یا کوئی بیوٹیفائیر قسم کی ایپ اُن کے چہرے کو رُخِ روشن بنا دے تو وہ اُسے اپنی پروفائل پر ٹانک دیں۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی تصاویر لاکھ جتن کرنے کے باجود رقیبِ رو سیاہ کے چہرہء انور کا مقابلہ کر رہی ہوتی ہیں سو وہ اپنے کسی دوست سے خوش خطی میں اپنا نام لکھوا کر اُسے تصویر کے خالی چوکھٹے میں ثبت کر دیتے ہیں ۔ اگر آپ عقل کے دوستوں میں سے نہیں ہیں اور اشارے کنائے آپ کے لئے ناکافی رہتے ہیں تو پھر ہم کہیں گے کہ یہ ہمارا ذکر نہیں ہے۔ 

اگر بات کی جائے صنفِ نازک کی پروفائل پر آویزاں ڈی پیز کی تو ان میں سے اکثر اپنے اصل چہرے سے کوسوں دور حُسن افروز مصنوعات یعنی غازے اور فیس بک غازیوں کے خونِ ناحق سے چپڑے نقاب کو ہی اپنا چہرہ سمجھتی اور سمجھاتی نظر آتی ہیں۔ 

اگر کبھی آپ کو لگے کہ فیس بک ویران ہوتی جا رہی ہے تو فوراً سے پیشتر کسی نازنین کی پروفائل پر پہنچ جائیے۔ عام سی بات پر تبصروں کی ریل پیل اور مہرِ پسندیدگی کی کھٹاکٹ دیکھ سُن کر آپ کی سٹی گم ہو جائے گی۔ یعنی فیس بک کی رنگا رنگی بھی بقول اقبال تصویرِ کائنات کی طرز پر ہی ہے اور اس تصویر میں رنگ بھرنے کےلئے بھی اقبال کا ہی آزمودہ فارمولا لاگو ہوتا ہے۔ 

خیر یہ تو تھی وہ سخن گسترانہ بات کہ جو کبھی مقطع میں آپڑتی ہے تو کبھی مطلع میں اور مطلع اکثر ابر آلود ہو جاتا ہے۔ بات ہو رہی تھی فیس بک کی ۔ہمارے لئے فیس بُک کا معاملہ بڑ ا عجیب ہے کہ جہاں ہر شخص اپنے ناشتے پانی سے لے کر پانی پت تک کی خبریں اور یادداشتیں شامل کرتا رہتا ہے اور ہم تبصرے کرکر کے ادھ موئے ہو جاتے ہیں۔تاہم جب کبھی بھولے سے ہم اپنی غزل لگا دیں تو لوگ لائک کی ناب دبانے پر ہی اکتفا کرتے ہیں یا اگر زیادہ فرصت ہو تو ہم سے ہمارے ہی اشعار کے مطلب پوچھنے لگتے ہیں ۔


کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا​
سو ہم کچھ نہیں بتاتے اور آئیں بائیں شائیں کرکے ادھر اُدھر ہو جاتے ہیں۔

فیس بک کے بعد ٹوئٹر کی باری آتی ہے (فیس بک ٹوئیٹر کی یہ تقدیم و تاخیر دانستہ نہیں ہے بلکہ دیدہ و دانستہ ہے سو اُمید ہے کہ احباب اس بات پر گرفت یا ستائش نہیں فرمائیں گے) ۔ عمومی خیال کیا جاتا ہے کہ ٹوئٹر پر نسبتاً پڑھے لکھے لوگ ہوا کرتے ہیں ۔ تاہم یہ خیال وہ لوگ کرتے ہیں جو خود ٹوئیٹر پر نہیں ہوتے یا ہوتے بھی ہیں تو ٹاپ ٹرینڈز کے ہیش ٹیگز کو کلک نہیں کیا کرتے۔ٹوئٹر پر ٹرینڈز کی رینکنگ بھی اُسی طرح سے ہوتی ہے جس طرح ہمارے ٹی وی چینلز خود کو درجہء اُولیٰ پر فائز کیا کرتے ہیں۔ یعنی پیسہ بولتا ہے اور لکھتا بھی ہے۔ ہمارے میڈیا چینلز کی نمبر ون کی دوڑ بھی عجیب ہے کہ پاکستان میں ہوتے ہوئے بھی کبھی نمبر دو کی زیارت نصیب نہیں ہوتی۔ 

ٹوئٹر والوں کی ایک اچھی بات یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے مخالفین کی ٹوئٹس بھی ری ٹوئٹ کرتے ہیں تاکہ اپنے پیروکاروں کو بتا سکیں کہ وہ کس بات کے جواب میں مغلظات بک رہے ہیں۔ 

ٹوئٹر اپنے لکھنے والوں کو ایک سو چالیس حروف تک محدود کرتا ہے اگر یہ ٹوئٹس کی یومیہ تعداد کو بھی محدود کرپاتا تو باتونی لوگوں سے بچنے کا اس سے بہتر ذریعہ اور کوئی نہیں ہوتا۔ ٹوئٹر سے پہلے ہمیں مختصر نویسی کی اثر انگیزی کا اتنا اندازہ نہیں تھا ۔ تاہم اب اس میں شبہ نہیں ہے کہ ایک سو چالیس حروف بھی دشنموں کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے کافی ہوتے ہیں اور اگر ٹوئیٹس کو جوڑ جاڑ کر تھریڈ کی شکل دے دی جائے تو اینٹوں کا جواب پتھر سے بلکہ منجنیق سے دینا بھی مشکل نہیں رہتا۔ 

مزے کی بات یہ ہے کہ ہم ٹوئیٹر پر بھی ناکام و نا مراد ہیں کہ ہمیں کبھی سال دو سال میں کوئی دانائی کی بات سوجھتی بھی ہے تو اُسے مصروفیت، کام چوری اور انکساری کی چھلنیوں سے گزر کر ٹوئیٹر پر پہنچنا ہی دشوار ہو جاتا ہے۔ اور جب کبھی ہمارا دانش پارہ جو حجم میں نمک پارے سے تھوڑا سا ہی بڑا ہوتا ہے ٹوئیٹر پر پہنچ بھی جاتا ہے تو ہمارے پیروکاروں کے نزدیک ( جن کی آدھی اکثریت تو ہماری زبان سے ہی ناواقف ہے) نقار خانے میں ٹٹیری کی آواز سے زیادہ اہم نہیں سمجھا جاتا۔ 

ٹوئیٹر پر بڑے بڑے جغادری موجود ہیں کہ جن کے منہ سے چوبیس گھنٹے فلسفہ اُبلتا رہتا ہے اور کراچی کے مین ہولز کی طرح یہاں بھی نکاسی کا معقول بندوبست نہیں ہے سو اکثر عقیدت مندوں کی ٹائم لائنز کی حالت ناگفتہ بہ نظر آتی ہے۔ شاید یہاں کے کرتا دھرتا بھی کراچی کے ناظمِ نا کمال کی طرح بے اختیار ہیں۔ 

سوشل میڈیائی دنیا میں شہرت کی بلندیوں کو چھونے والی ایک شے انسٹا گرام ہے۔ شنید ہے کہ اس پر لوگ زیادہ تر تصاویر دیکھنے دکھانے کا کام کیا کرتے ہیں ۔ہم نے اس کا تجربہ جز وقتی طور پر کیا تھا لیکن جن افراد کی پیروکاری ہم نے کی تو زیادہ تر وہی مواد دیکھنے کو ملا جو فیس بک وغیرہ پر ہوتا ہے سو ایک رنگ کے مضمون کو دور رنگ سے باندھتے باندھتے بے زار ہو گئے اور دو رنگی چھوڑ کر یک رنگی اختیار کی۔ کیا خبر کہ کل اسی یک رنگی سے نیرنگی پھوٹتی نظر آئے۔

غزل ۔ بے حس و کج فہم و لاپروا کہے ۔ مرتضی برلاس

غزل
بے حس و کج فہم و لاپروا کہےکل مورّخ جانے ہم کو کیا کہے
اس طرح رہتے ہیں اس گھر کے مکیںجس طرح بہرہ سُنے، گونگا کہے
راز ہائے ضبطِ غم کیا چھپ سکیںہونٹ جب خاموش ہوں چہرہ کہے
اس لئے ہر شخص کو دیکھا کیاکاش کوئی تو مجھے اپنا کہے
ہے تکلّم آئینہ احساس کاجس کی جیسی سوچ ہو ، ویسا کہے
پڑھ چکے دریا قصیدہ ابر کاکیا زبانِ خشک سے صحرا کہے
بدگمانی صرف میری ذات سےمیں تو وہ کہتا ہوں جو دنیا کہے
مرتضیٰ برلاس

اقوالِ سعید - حکیم محمد سعید کے سہنرے اقوال . ٢

اقوالِ سعید حکیم محمد سعید کے اقوالانسان ٹھوکریں کھاتا ہے مگر کچھ سبق حاصل نہیں کرتا۔ تاریخ بے چاری ہے کہ اپنا سبق دُہرائے جارہی ہے۔ناقدریِ وقت سے غلامی کی زنجیریں پیروں میں پڑ جایا کرتی ہیں۔اپنی شناخت اور اپنے سرمایہء ثقافت کو نظر انداز کرکے ہم علم کے نام پر جو کچھ بھی حاصل کریں گے، اس کے مثبت نتائج کبھی برامد نہیں ہو سکتے۔ ایک غلط کام کرکے انسان بہ ظاہر کتنا ہی خوش ہو ، اُس کا ضمیر اندرونی طور پر اُس کو متنبہ ضرور کرتا ہے۔ جب یہ کیفیت ملامت کی صورت اختیار کرلیتی ہے تو اس سے نظامِ جسم ضرور متاثّر ہوتا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جو قوم فسادِ اخلاق میں مبتلا ہو گئی وہ صفحہء ہستی سے مٹ گئی۔جس طرح ایک مسلمان کے دل میں طمع اور تقویٰ ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے اسی طرح علم و حکمت اور دولت ساتھ نہیں رہ سکتے۔آزادیِ صحافت کے ہرگز یہ معنی نہیں ہو سکتے کہ تعمیرِ وطن نظروں سے اوجھل ہو جائے اور سر بلندیِ ملک اور سرفرازیِ ملّت نظر انداز کر دی جائے۔

حکیم محمد سعید

اقوالِ سعید - حکیم محمد سعید کے سہنرے اقوال

اقوالِ سعید حکیم محمد سعید کے اقوال
اہلیانِ پاکستان کے لئے حکیم محمد سعید صاحب کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ حکیم محمد سعید صاحب نہ صرف  ایک مایہ ناز حکیم تھے بلکہ مملکتِ پاکستان کے باسیوں کے لئے ایک عظیم مصلح بھی تھے۔ آپ نے مذہب ، طب و حکمت پر بے شمار کتب تصنیف و تالیف کیں۔ آپ کا قائم کردہ ادارہ ہمدرد پاکستان آج بھی اپنی ساکھ کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ 

حکیم محمد سعید  نے ہی بچوں کے معروف رسالے  ہمدرد نونہال کا اجراء کیا جو  اطفالِ وطن کی  تعلیم و تربیت میں  مشعلِ راہ کا کام کرتا رہا ہے۔



یہاں ہم حکیم محمد سعید صاحب کے مختصر کتابچے اقوالِ سعید سے کچھ اقوال رقم کریں گے جو نا صرف نونہالانِ پاکستان بلکہ پاکستان کے ہر شہری کے لئے بہت اہم ہیں۔

جس طرح سورج ہر انسان کو بلا امتیا ز اپنی روشنی سے منوّر کرتا ہے اسی طرح ایک انسان کو دوسرے انسان کو روشنی دینا چاہیے۔روشن ضمیری صرف ایک انسا ن کو نہیں بلکہ پوری انسانیت کو روشنی میں رکھتی ہے۔انسان جب اپنی ذات کے لئے اضافی آرام و آسائش حاصل کرنے کا خواہاں ہو گا، اُسے خودی اور خود داری کو قربان کرنا پڑے گا۔قومیں اور افراد چراغِ حُرّیت اپنے خون سے روشن رکھتے ہیں۔دولت کی بے پناہ محبّت خباثت کی دلیل ہے اس لئے کہ یہ ہمیشہ بُرائی کی طرف لے جاتی ہے۔مسلمان کی حیاتِ مستعار کا ہر لمحہ قرانِ حکیم کی تعلیمات کی روشنی میں بسر ہونا چاہیے اور اُس کی ہر آن اتّباعِ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عبارت ہونا چاہیے۔ تعلیم ایک ارتقائی عمل ہے جس کے ذریعے اقوام و اُمم اپنے مقصدِ حیات سے آگاہ ہو کر اس کے حاصل کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کرتی ہیں۔
حکیم محمد سعید

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ شکریہ

شکریہ
ہفتہٴ غزل کے اختتام پر ہم اپنے احباب کے شکر گزار ہیں کہ جن سے ہمیں بہت حوصلہ افزائی ملی۔

بالخصوص ہم راحیل فاروق بھائی کے شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے ناصرف ہفتہٴ غزل کے انعقاد پر ہماری حوصلہ افزائی فرمائی بلکہ اپنے گہر بار قلم سے ایک عدد مضمون بھی اس سلسلے میں رقم کیا۔ اس کے بعد ہم محمد تابش صدیقی بھائی کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں کہ اُنہوں نے پورے ہفتہ کم و بیش ہر پوسٹ پر ہماری حوصلہ افزائی فرمائی اور انتخاب پر اپنے رائے سے بھی نوازا۔


ہمارے عزیز برادران ذوالقرنین سرور المعروف نیرنگِ خیال بھائی اور بلال اعظم بھیا نے بھی ہفتہٴ غزل کے آغاز پرا پنے تبصروں سے اس موقع پر ہماری ہمت بندھائی۔ عزیزی فلک شیر بھائی سے بھی ہمیں گاہے گاہے کچھ نہ کچھ کر گزرنے کی ہمت ملتی رہتی ہے اور اس سلسلے میں بھی اُنہوں نے اپنے احباب کی توجہ ہفتہٴ غزل کی طرف مبذول فرما کر ہمیں حوصلہ بخشا۔

ہمیں اعتراف ہے کہ ہمارے مذکورہ اور غیر مذکورہ احباب کی حوصلہ افزائی نہ ہوتی تو ہمارا ہفتہٴ غزل بُری طرح فلاپ ہو جاتا جو اب اللہ کا شکر ہے کہ اچھی طرح فلاپ ہوا ہے۔ ☺☺☺

ہم اپنے بلاگ کے قارئین کے بھی شکر گزار ہیں کہ جو گاہے گاہے بلاگ پر آتے رہتے ہیں اور اُن کے تبصروں اور کبھی محض نقشِ قدم سے اُن کی آمد کے نشاں ملتے رہتے ہیں۔

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ یہ آرزو تھی تجھے گُل کے رُوبرُو کرتے ۔ خواجہ حیدر علی آتش

آج کی معروف غزل
یہ آرزو تھی تجھے گُل کے رُوبرُو کرتےہم اور بلبل ِبے تاب گفتگو کرتے
پیام بر نہ میّسر ہوا تو خوب ہوازبانِ غیر سے کیا شرحِ آرزو کرتے
مری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہکسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے
ہمیشہ رنگ زمانہ بدلتا رہتا ہےسفید رنگ ہیں آخر سیاہ مُو کرتے
لٹاتے دولتِ دنیا کو میکدے میں ہمطلائی ساغر مئے نقرئی سبُو کرتے
ہمیشہ میں نے گریباں کو چاک چاک کیاتمام عمر رفو گر رہے رفو کرتے
جو دیکھتے تری زنجیر زلف کا عالماسیر ہونے کی آزاد آرزو کرتے
بیاضِ گردنِ جاناں کو صبح کہتے جو ہمستارہء سحری تکمہء گلُو کرتے
یہ کعبہ سے نہیں بے وجہ نسبتِ رخ ِیاریہ بے سبب نہیں مردے کو قبلہ رُو کرتے
سکھاتے نالہء شب گیر کو در اندازیغمِ فراق کا اس چرخ کو عدو کرتے
وہ جانِ جاں نہیں آتا تو موت ہی آتیدل و جگر کو کہاں تک بھلا لہو کرتے
نہ پوچھ عالمِ برگشتہ طالعی آتشبرستی آگ، جو باراں کی آرزو کرتے
خواجہ حیدر علی آتش

Pages