محمد احمد (رعنائیِ خیال)

کھلونے


کھلونوں کی دکانوں میں کھلونے ہی کھلونے ہیں
ہزاروں رنگ ہیں انکے ، ہزاروں روپ ہیں انکے
کبھی ہنستے، کبھی روتے، کبھی نغمے سناتے ہیں
چمکتی موٹروں میں آنے والے خوش لباس و خوش نما بچے
جدھر دیکھیں جہاں پر ہاتھ رکھ دیں ، ان کھلونوں کے
وہی مالک، وہی قابض، وہی آقا ٹھرتے ہیں
وہ چاہیں تو کسی لمحے
جسے چاہیں اٹھائیں اور چکنا چور کر ڈالیں

کھلونوں کی دکانوں میں وہ گڈّے اور گڑیاں اب نہیں  ملتے
کے جو پھٹتے لحافوں سے روئی کے گچھوں
پرانی دھجیوں سے مل کے بنتے تھے
محلے بھر کے بچے جن کی شادی میں باراتی بن کے آتے تھے
تو ایسی ہی مسرت سے بھری دنیا کی بانہوں میں
جواں ہوتے تھے وہ لاکھوں، کروڑوں خوش نظر بچے
کے جو اپنے انہی خود ساختہ ، بھدے نہایت ان گھڑے
سستے کھلونوں کو متاعِ جاں سمجھتے تھے
انہیں اپنے شکستہ گھر کے طاقوں ، کھڑکیوں، الماریوں
میں یوں سجاتے تھے
کے جیسے ان سے بہتر چیز دنیا میں کہاں ہوگی
یہی بچے جو اب حسرت بھری دزدیدہ نظروں سے
کھلونوں کی دکانوں میں کبھی جو جھانکنا چاہیں
تو انکو ایسا کرنے کی اجازت ہی نہیں ملتی
کے شیلفوں میں سجا اک بھی کھلونا انکے وارے میں نہیں ہوتا
یہ دنیا ایسی منڈی ہے
بلا قیمت جہاں انسان بیچے جا تو سکتے ہیں
کھلونوں کا مگر سودا خسارے میں نہیں ہوتا
زمانے بھر کے بچوں کا یہ مشترکہ وتیرہ ہے
کھلونے جب ملیں انکو تو وہ خوش ہو کے ہنستے ہیں
مگر جب ان کھلونوں سے بھری اونچی دکانوں سے
پلٹتے پھول سے بچے ، تہی دامان آتے ہیں
نم آنکھوں میں ، بھرے آنسو، بہ صد مشکل چھپاتے ہیں
تو لگتا ہے
کہ بچے اب نہیں ہنستے
کھلونے ان پہ ہنستے ہیں

امجد اسلام امجد
ٰImage Courtesy

چاند میں تو کئی داغ ہیں


2013ء میں جب پاکستان میں الیکشن کا انعقاد ہوا تو اُس وقت عمران خان کی تحریکِ انصاف ایک بڑی قوت بن کر اُبھری اور گمان تھا کہ یہ میدان بھی مار جائے لیکن نتائج کچھ مختلف رہے۔

اس وقت عمران خان کے حامیوں کا دعویٰ یہ تھا کہ عمران خان جیسے بھی ہیں لیکن دوسرے دستیاب آپشنز سے بہرکیف بہتر ہیں۔ یعنی بُروں میں سب سے اچھے عمران خان ہیں۔ یا یوں کہیے کہ بہت سے برے آپشنز میں سے وہ نسبتاً بہتر ہیں۔ اگر بات الیکشن تک رہتی تو شاید تحریک انصاف کامیاب بھی ہو جاتی لیکن سیلیکشن کے مرحلے میں آکر انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور وزیرِ اعظم بننے کی حسرت دل میں ہی رہ گئی۔ الغرض دلہن وہی بنی جو پیا من بھائی ! اور عمران خان دلہن نہ بن پائے تو ولن بن گئے اور آنے والی حکومت کے پیچھے پڑ گئے۔

عمران خان نے اپنے مخالفین کو کافی شدید زک پہنچائی اور اُن کی بے انتہا کردار کشی کی ۔ اور اسی وجہ سے اور کچھ اُن کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے اُن کا اپنا کردار بھی نظریاتی لوگوں کی نظر میں تاراج ہو گیا، اور عمران خان 2013ء کی طرح لوگوں کے ذہن میں نجات دہندہ رہبر نہیں رہے بلکہ بہت سے آپشنز میں سے ایک آپشن بن گئے۔

انہوں نے بہت تیزی کے ساتھ اپنی جماعت میں الیکٹیبلز کے نام پر لوٹے بھرتی کیے اور پرانے نظریاتی کارکنوں کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ اُن کے نظریات ہمیشہ افراط و تفریط کا شکار رہے اور وہ کبھی یکسو ہو کر کوئی مثبت کام نہیں کر پائے۔ خیبر پختونخواہ میں اُن کی صوبائی حکومت کی شہرت گو کہ باقی تمام صوبوں سے بہتر ہے تاہم وہ خیبر پختونخواہ کو وہ نمونہ نہیں بنا سکے کہ جسے دیکھ آئندہ انتخابات میں اُنہیں ووٹ دیے جا سکیں۔ 


وہ ابھی بہت سے بدترین لوگوں سے بہت بہتر ہیں لیکن درحقیقت صاحبِ کردار لوگ ایسے لوگوں سے اپنے تقابلی جائزے ہی کو اپنے لئے باعثِ شرم جانتے ہیں۔ بہرکیف شنید ہے کہ اس بار پیا کے من میں بھی تبدیلی کی جوت جگی ہے اور وہ نئی دلہن کی طرف راغب ہیں۔ تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان ایک بار پھر ایک نظریاتی جماعت سے محروم ہو گیا ہے۔

سائے میں پڑی لاشیں


سندھی زبان کا ایک مشہور مقولہ ہے کہ حق بات اپنی جگہ لیکن ساتھ بھائی کا دیں گے۔ اس سے آپ یہ ہر گز نہ سمجھیے گا کہ تعصب پر سندھی بولنے والوں کی ہی اجارہ داری ہے بلکہ یہ بیماری تو ہمارے ہاں موجود ہر قوم میں کسی نہ کسی شکل میں پھیلی ہوئی ہے۔

تعصب عدل کو معزول کر دیتا ہے ۔ یوں تو عدل اور تعصب دونوں ہی اندھے ہوتے ہیں لیکن عدل سب کے لئے کورچشم ہوتا ہے تاہم تعصب اندھا ہوتے ہوئے بھی اتنا ضرور دیکھ لیتا ہےکہ کون اپنا ہے اور کون پرایا اور کسے ریوڑھیاں بانٹنی ہے اور کسے نہیں۔

ہم بڑے عجیب لوگ ہیں، ہم اپنی معاملے میں عدل چاہتے ہیں لیکن دوسروں کے معاملے میں تعصب سے کام لیتے ہیں۔ جب مصیبت ہم پر آ پڑتی ہے تو ہم انصاف انصاف کی دُہائی دیتے نظر آتے ہیں ۔ لیکن جب بات کسی اور کی ہو تو ہم سوچتے ہیں کہ صاحبِ معاملہ کون ہے۔ کہاں کا رہنے والا ہے؟ کون سی زبان بولتا ہے؟ کس رنگ و نسل کا ہے؟ حتیٰ کہ ہمارے علاقے کا ہے یا کہیں اور کا۔ ہمارے صوبے کا ہے یا کہیں اور کا؟ ہمارے شہر کا ہے یا کہیں اور کا؟

پھر اگر کوئی آپ کا اپنا معاملے کا فریق بن جائے تو پھر آپ عدل سے آنکھیں چرا کر اپنے پرائے کو ہی حق و باطل کا معیار بنا لیتے ہیں۔ آپ کا اپنا ؟ آپ کا اپنا کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ آپ کا بھائی، آپ کا رشتہ دار، آپ کے محلے پڑوس کا کوئی شخص ، آپ کا کوئی ہم زبان، ہم رنگ و نسل۔ پھر آپ بھول جاتے ہیں کہ دنیا میں عدل و انصاف نام کی بھی کوئی شے ہے۔ بس جو اپنا ہے وہ ٹھیک ہے اور دوسرا وہ شخص جو آپ سے کوئی نسبت نہیں رکھتا حق پر ہوتے ہوئے بھی ، غلط ہے ۔ ظالم ہے۔

ہم لوگ اکثر روتے ہیں کہ ہمارے ہاں ظلم بڑھ گیا ہے۔ ہمارے ہاں عدل و انصاف نام کی کوئی چیز باقی ہی نہیں رہی ہے۔ لیکن کیا ہم واقعی عدل کو پسند کرتے ہیں۔ عدل جو اندھا ہوتا ہے، جسے اپنے پرائے کی کوئی تمیز نہیں ہوتی۔ جو کبھی ذات پات، رنگ ونسل، علاقہ و لسان کسی چیز سے علاقہ نہیں رکھتا۔

ہم کہتے ہیں ہمارے ہاں عدل کا حصول ممکن نہیں ہے۔ یہاں تو بس جان پہچان چلتی ہے، یہاں تو سیاسی وابستگی کام آتی ہے یہاں ہمارے لئے عدل کا حصول ممکن نہیں۔ یہ بات بھی ٹھیک ہے۔ لیکن کیا ہم اپنے معاملے میں تعصب کو برا سمجھتے ہیں۔

یا ہم نے سارے معیار صرف اس لئے وضع کیے ہیں کہ اُن سے دوسروں کی پیمائش کی جاتی رہے اور ہماری باری پر ہمیں استثنیٰ مل جائے۔

*****بہرکیف اگر آپ کسی سے تعصب برتتے بھی ہیں تو اس سے مجھے کوئی غرض نہیں ہے کہ روزِ حشر اس کے جواب دہ آپ خود ہوں گے تاہم آپ کا یہ تعصب آپ کے دشمنوں کے لئے ہی نقصان دہ نہیں ہے بلکہ یہ آپ کے اپنے لئے بھی زہرِ قاتل ہے۔

وہ کیسے؟ وہ ایسے کہ آپ کے سیاست دان آپ کی تعصب کی بیماری سے بہت زیادہ فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ آپ کو رنگ و نسل اور زبان و علاقے کی بنیاد پر تقسیم کرتے ہیں اور اِسی برتے پر آپ کا قیمتی ووٹ لے اُڑتے ہیں۔ اور آپ؟

آپ اتنے سیدھے سادھے ہیں کہ آپ اس سے پوچھتے تک نہیں کہ ٹھیک ہے تم میری قوم سے ہو لیکن پچھلے پانچ سال تمہاری کیا کارکردگی رہی؟ اگلے پانچ سال کے لئے تمہار ا کیا منشور ہے؟ جس منصب پر پہنچنے کے لئے تم میرا ووٹ طلب کر رہے ہو کیا تم اُس کے اہل بھی ہو ۔ یا تمہاری اہلیت صرف یہ ہے کہ تم میری قوم سے ہو، یا میری زبان بولتے ہو۔

کہتے ہیں کہ اپنا تو مار کر بھی سائے میں ڈالتا ہے تو پھر سمجھ لیجے کہ آپ پاکستانیوں کا جو حال ہے وہ سائے میں پڑی لاشوں سے بہتر نہیں ہے جنہیں اُن کے 'اپنوں'نے مار کر بہت محبت سے سائے میں ڈالا ہے۔

یقین کیجے آپ کی آنکھیں بہت اچھا دیکھ سکتی ہے، بس ایک بار تعصب کی ہری نیلی پیلی عینکیں اُتار کر دیکھنے کی ہمت کیجے۔ تب آپ کو اپنوں میں غیر اور غیروں میں موجود اپنے نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔

قتیل شفائی کی سدا بہار غزل

غزل
جب بھی چاہیں اِک نئی صورت بنا لیتے ہیں لوگ
ایک چہرے پر کئی چہرے سجا لیتے ہیں لوگ
مل بھی لیتے ہیں گلے سے اپنے مطلب کیلئے
آ پڑے مشکل تو نظر یں بھی چُرا لیتے ہیں لوگ
خود فریبی کی انھیں عادت سی شاید پڑ گئی
ہر نئے رہزن کو سینے سے لگا لیتے ہیں لوگ
ہے بجا اِن کی شکایت لیکن اس کا کیا علاج
بجلیاں خود اپنے گلشن پر گرا لیتے ہیں لوگ
ہو خوشی بھی ان کو حاصل یہ ضروری تو نہیں
غم چھپانے کیلئے بھی مسکرا لیتے ہیں لوگ
اس قدر نفرت ہے ان کو تیرگی کے نام سے
روزِ روشن میں بھی اب شمعیں جلا لیتے ہیں لوگ
یہ بھی دیکھا ہے کہ جب آجائے غیرت کا مقام
اپنی سولی اپنے کاندھے پر اُٹھا لیتے ہیں لوگ
روشنی ہے اُن کا ایماں روک مت اُن کو قتیلدل جلاتے ہیں یہ اپنا ،تیرا کیا لیتے ہیں لوگ
قتیل شفائی

غزل ۔ ہے کون کون اہلِ وفا دیکھتے رہو​ ۔ امجد علی راجاؔ


امجد علی راجا بہت اچھے شاعر ہیں۔ گو کہ ان کی شہرت ان کا ظریفانہ کلام ہے تاہم سنجیدہ شاعری میں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ امجد علی راجا صاحب کی ایک غزل آپ کی نذر:
غزل

ہے کون کون اہلِ وفا دیکھتے رہو​دیتا ہے کون کون دغا دیکھتے رہو​​پوچھا جو زندگی سے کہ کتنے ستم ہیں اور​بس مسکرا کر اس نے کہا، دیکھتے رہو​​رکھا کسی نے بام پہ ٹوٹا ہوا چراغ​اور ہے غضب کی تیز ہوا، دیکھتے رہو​​اٹکی ہوئی ہے جان مرے لب پہ چارہ گر​شاید وہ آہی جائے ذرا دیکھتے رہو​​انجام ہے تباہی تکبر ہو یا غرور​ہر شخص بن گیا ہے خدا، دیکھتے رہو​​عریاں ہوا ہے حسن نمائش کے شوق میں​نایاب ہو گئی ہے حیا، دیکھتے رہو​​کرتے ہو حق کی بات ستمگر کے روبرو​راجا تمہیں ملے گی سزا دیکھتے رہو​
امجد علی راجاؔ​

شاعر: امجد علی راجا

دماغ آفریدی خلل آفریدم


حضرتِ اقبال کی خوبصورت نظم کا بہت ہی خوب بیڑہ غرق کیا ہے جناب رشید عبد السمیع جلیل صاحب نے؛ آپ کی خدمت میں پیش ہے۔ ملاحظہ فرمائیے۔ 
دماغ آفریدی خلل آفریدمکروں جلد شادی یہ حل آفریدم
'جہاں را زِ یک آب و گل آفریدی'اسی آب و گل سے محل آفریدم
'تو از خاک فولادِ ناب آفریدی'میں دھونے دھلانے کو نل آفریدم
تو دنیا میں لاکھوں حسیں آفریدیمیں دل میں ہزاروں کنول آفریدم
تو فردوس و خلدِ بریں آفریدیزمیں پر میں نعم البدل آفریدم
تری حکمتیں بے نہایت الٰہیمیں از روئے حکمت کھرل آفریدم
مجھے رات دن چاہیے بے خودی سیاسی واسطے الکحل آفریدم
رشید عبدالسمیع جلیل

وہ جھانسہ دے کے غائب ہے سرِ بازار می رقصم

نمکین غزل
وہ جھانسہ دے کے غائب ہے سرِ بازار می رقصمبھروسہ کرکے دھوکہ باز پر بے کار می رقصم
سناتا ہوں میں ہر محفل میں اکلوتی غزل اپنینہیں ملتی اگر کچھ داد تو سو بار می رقصم
کیا کرتے تھے اوور ٹیک جاو پر حسینوں کوہوئی آٹو کی وہ ٹکر کہ آخر کار می رقصم

وہ رکشے پر گزرتی ہے میں پیدل ٹاپ لیتا ہوںخیالوں میں پکڑ کر دامنِ دلدار می رقصم
نشہ اُترا تو بتلایا مجھے لوگوں نے آ آ کربہت اچھلم، بہت کودم برہنہ وار می رقصم
جہاں بجتی ہے شہنائی جلیل اکثر یہ دیکھا ہےادھر پتلون می رقصم ادھر شلوار می رقصم 
رشید عبدالسمیع جلیل 

جادو کا کھلونا ۔۔۔ از ۔۔۔ محمد احمدؔ


آج تو میں اِس دنیا کو انفرینڈ کر ہی دوں گا۔

میں نے آج پھر تلملاتے ہوئے کہا۔ ویسے ہی جیسے ہر بار زخم کھا کر ہاتھ ڈریسنگ باکس میں رکھے مرہم و نشتر کی طرف بڑھتا ہے کہ اب کچھ علاج ہونا ہی چاہیے۔ لیکن بقول راشد:

زہرِ غم کی نگہِ دوست بھی تریاق نہیں
جا ترے درد کا درماں دلِ صد چاک نہیں
ن ۔م راشد

خیر ! نہ جانے کس جھونک میں اُڑتا ہوا میں اُس کی پروفائل تک پہنچ گیا۔ کیا حسین پروفائل تھی، میں ہمیشہ کی طرح مبہوت ہو کر رہ گیا۔ لیکن پھر قاصر کی نصیحت یاد آئی۔

حسین سانپ کے نقش و نگار خوب سہی
نگاہ زہر پہ رکھ، خوشنما بدن پہ نہ جا

وہی پھولوں سا بدن، اور وہی ڈستی خوشبو! میں نے گھبرا کر نظریں چاروں طرف دوڑائیں۔

کہاں ہے؟ ان فرینڈ کا بٹن کہاں ہے؟ کوئی نیلا، کوئی سُرخ بٹن! کہ جسے پوری قوت سے ضرب لگا کر ہی دل کو کچھ تسکین ملے۔ کہ جس پر کلک کرتے ہوئے انگشت تلوار بن جائے اور دل اس زور سے دھڑکے کہ گرج آسمان میں سنائی دے۔

لیکن نہیں یہاں تو کوئی بٹن ہے ہی نہیں! کیسے انفرینڈ کروں؟ کیسے جان چھڑاؤں؟ آخر کیسے؟

کہاں ہیں جون ایلیا، جو کہتے تھے کہ

ترکِ تعلقات کوئی مسئلہ نہیں
یہ تو وہ راستہ ہے کہ بس چل پڑے کوئی

پھر تو، پھر تو لیاقت علی عاصم ہی اچھے رہے:

عاجز تھا بے عجز نبھائی، رسمِ جُدائی میں نے بھی
اُس نے مجھ سے ہاتھ چُھڑایا، جان چھڑائی میں نے بھی

۔۔۔۔
مگر نہیں ! یہاں تو کوئی انفرینڈ کا بٹن ہی نہیں ہے۔ ہاں ایک بٹن ہے اور کہتا ہے کہ دوستی کی درخواست بھیجو! یا حیرت!

ہم سے نہیں رشتہ بھی، ہم سے نہیں ملتا بھی
ہے پاس وہ بیٹھا بھی، دھوکہ ہو تو ایسا ہو
ابن انشاء

لیجے ایک نئی کشمکش! ہم تو ترکِ دوستی کو تُلے بیٹھے تھے، لیکن کون سا دوست؟ کہاں کا دوست؟ یہاں کوئی دوست ہے ہی نہیں کہ جس سے ترک دوستی کی جائے۔ کہ جس پر تین حرف بھیجے جا سکیں۔ صد حیف کہ دل کے تپتے صحرا کو اوس کے تین قطرے بھی نصیب نہیں!

دیکھیں اب کہ امتحان میں سُرخ رو ہوتا ہے کون
وہ بھی کچھ سوچے ہوئے ہیں، ہم بھی کچھ ٹھانے ہوئے
کلیم عاجز

ماؤس کرسر ایک وحشت لئے اسکرین پر اِدھر سے اُدھر غزالِ دشت کی مانند بھٹک رہا ہے۔ کسی کل چین نہیں پڑتا ۔ ایک بٹن واپسی کا بھی ہے لیکن وہ شاید ڈس ایبل ہے یا کرسر وہاں پہنچنا ہی نہیں جانتا۔

کسی کے ہاتھ کا نکلا ہوا وہ تیر ہوں میں
حدف کو چھو نہ سکا اور کمان سے بھی گیا
شاہد کبیر

اک کشمکش ہے۔ کہیں اندر سے صدا آتی ہے کہ اب جا۔ دفع ہو جا۔ آیا تھا ترکِ دوستی کرنے۔ جو تیرا دوست کبھی تھا ہی نہیں اُس سے کیا ترک راہ و رسم کرے گا۔ ہے کوئی عقل تجھے۔ لیکن ماؤس کرسر، ماؤس کرسر ہے کہ دیوانوں کی طرح ایک نیلے بٹن کا طواف کر رہا ہے اور نیلا بٹن اُسے اپنے مرکز کی سمت کھینچ رہا ہے۔

دائرے اِنکار کے، اِقرار کی سرگوشیاں
یہ اگر ٹوٹیں کبھی تو فاصلہ رہ جائے گا
افتخار امام صدیقی

ارے ! ارے یہ کیا! ماؤس کا تیر نیلے بٹن کے بیچوں بیچ پہنچ گیا ہے، وہی نیلا بٹن جو کہتا ہے کہ دوستی کی درخواست بھیجو۔ دوستی کی درخواست! اس ناہنجار دنیا کو۔ جو کسی اور کا ہونے دے، نہ اپنا رکھے۔ نہیں! میں تو ترکِ دنیا کا ارادہ کرکے یہاں پہنچا تھا۔ پھر میں دوستی کی درخواست کیونکر بھیجنے لگا۔ آخر کیوں!

نہ جانےیہ کیسی کشش تھی جو میری نحیف انگلی کو خود رفتہ کر گئی۔ میں! میں دوستی کی درخواست بھیج چکا تھا۔ اُسی دنیا کو کہ جس سے جان چھڑانے آیا تھا۔ وہی دنیا جس پر تین حروف بھیجنے تھے۔ آنسوؤں کے دو تین تپتے قطرے میرے صحرا ایسے سینے پر گرے اور صحرا یکایک بادِ صر صر کی زد میں آکر آگ بگولہ ہو گیا۔ وائے حسرت!!!

دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے
مل جائے تو مٹی ہے، کھو جائے تو سونا ہے
ندا فاضلی



نظم : آزادی ۔۔۔ از ۔۔۔۔ حفیظ جالندھری

آزادیحفیظ جالندھری
شیروں کو آزادی ہے آزادی کے پابند رہیں‌جس کو چاہیں چیریں پھاڑیں کھائیں‌ پییں آنند رہیں‌
شاہیں کو آزادی ہے آزادی سے پرواز کرےننھی منی چڑیوں پر جب چاہے مشق ناز کرے
سانپوں کو آزادی ہے ہر بستے گھر میں بسنے کیان کے سر میں زہر بھی ہے اور عادت بھی ہے ڈسنے کی
پانی میں آزادی ہے گھڑیالوں اور نہنگوں کوجیسے چاہیں پالیں پوسیں اپنی تند امنگوں کو
انسان نے بھی شوخی سیکھی وحشت کے ان رنگوں سےشیروں ،سانپوں، شاہینوں‌،گھڑیالوں اور نہنگوں سے
انسان بھی کچھ شیر ہیں باقی بھڑوں‌کی آبادی ہےبھیڑیں سب پابند ہیں لیکن شیروں کو آزادی ہے
شیر کے آگے بھیڑیں کیا ،اک من بھاتا کھاجاہےباقی ساری دنیا پرجا، شیر اکیلا راجا ہے
بھیڑیں‌ لا تعداد ‌ہیں لیکن سب کو جان کے لالے ہیںان کو یہ تعلیم ملی ہے بھیڑیے طاقت والے ہیں
ماس بھی کھائیں‌ کھال بھی نوچیں ہر دم لا گو جانوں کےبھیڑیں کاٹیں دورِ غلامی بل پر گلّہ بانوں کے
بھیڑ وں‌ سےگویا قائم امن ہے اس آبادی کابھیڑیں جب تک شیر نہ بن لیں نام نہ لیں‌آزادی کا
حفیظ جالندھری

احمد فراز کی سدا بہار غزل

احمد فراز میرے پسندیدہ شاعر ہیں۔ خیر یہ بات تو نہ جانے کتنے لوگ کہتے ہیں ہم نے کہہ دیا تو کیا کہا۔ فراز شاعر ہی ایسے تھے کہ اُنہیں پسند کرنے والے بہت ہیں، خاص طور پر عوام میں سے۔ خواص میں سے کچھ لوگ شاید ایسے ہوں جو احمد فراز سے کچھ خائف نظر آتے ہیں تاہم اُن کے اپنے تحفظات ہیں اور اُن کے کہنے سے احمد فراز کی ہر دلعزیزی پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
احمد فراز کی یہ غزل ہمیشہ سے میری پسندیدہ رہی ہے اور جب بھی پڑھوں اچھی لگتی ہے۔ قارئینِ بلاگ کی نذر:

غزل
کیا ایسے کم سُخن سے کوئی گفتگو کرےجو مُستقل سُکوت سے دِل کو لہو کرے
اب تو ہمیں بھی ترک مراسم کا دُکھ نہیںپر دل یہ چاہتا ہے کہ آغاز تُو کرے
تیرے بغیر بھی تو غنیمت ہے زندگیخود کو گنوا کے کون تری جُستجو کرے
اب تو یہ آرزو ہے کہ وہ زخم کھائیےتا زندگی یہ دل نہ کوئی آرزو کرے
تجھ کو بھلا کے دل ہے وہ شرمندۂ نظراب کوئی حادثہ ہی ترے روبرو کرے
چپ چاپ اپنی آگ میں جلتے رہو فرازؔدنیا تو عرض حال سے بے آبرو کرے
احمد فرازؔ



عقل ہے محوِ تماشا

عقل ہے محوِ تماشامحمد احمدؔ​
رحیم چاچا اچھے خاصے گدھے تھے اور میں اُن کا بھی گدھا تھا۔

یوں تو گدھا ہونے میں کوئی خاص برائی نہیں ہے لیکن جب انسانوں میں گدھے کے نام سے سے منسوب خصوصیات والے لوگ دیکھتا ہوں تو مجھے کافی شرمندگی ہوتی ہے۔ ان میں سے بھی کچھ لوگ تو نرے گدھے ہی ہوتے ہیں۔ نہ جانے نرے گدھے سے انسانوں کا کیا مطلب ہوتا ہے لیکن میری ذاتی رائے تو یہ ہے کہ ایسے لوگ گدھے کہلائے جانے کے لائق بھی نہیں ہوتے۔

ع ۔ پیشے میں عیب نہیں، رکھیے نہ فرہاد کو نام
خیر تو میں ذکر کر رہا تھا رحیم چاچا کا۔ پیشے کے اعتبار سے چاچا نمک کے سپلائر تھے لیکن اُن کی لوجسٹک فلیٹ میں میرے علاوہ باربرداری کا کوئی خاطر خواہ بندوبست نہیں تھا۔ خود چاچا بھی اچھے خاصے گدھے ہونے کے باوجود وزن اُٹھانے سے جی چراتے تھے اور نمک کی بوریاں میری کمر پر لاکر یوں پٹختے کہ جیسے سامان رکھنے کے بجائے دشمن پر حملہ کر رہے ہوں۔ خیر مجھے کیا، میں تو ہوں ہی گدھا۔


نمک کی دو بوریاں تقریباً پون پون بھری ہوئی وہ میری کمر کے دونوں طرف لٹکاتے اور اپنے اکلوتے کسٹمر نمکدان خان کی طرف لے جاتے۔ اس طرح دو بوری صبح اور دو بوری شام وہ نمکدان کو سپلائی کرتے اور راستے میں اُسی میں سے چلر والوں کو بھی نمٹاتے جاتے۔ اگر یہ چکر جلدی پورے ہو جاتے تو پھر وہ کچھ نمک لے کر نکلتے اور قریبی گلی محلوں میں خود سے بیچا کرتے۔ تاہم حرام ہے کہ میں نے یہ نمک کبھی چکھا ہو، سو چاچا چاہ کر بھی مجھے نمک حرامی کا طعنہ نہیں دے سکے۔

چاچا بتاتے ہیں (مجھے نہیں بلکہ لوگوں کو)کہ نمکدان خان جب پیدا ہوا تو ان کے والد کی پہلی نظر اس پر پڑنے کے بعد نمکدان پر پڑی، سو اُس کا نام نمک دان خان رکھ دیا گیا۔ اب یہ پتہ نہیں کہ اُس نے اپنی نام کی نسبت سے نمک کا کام شروع کیا یا اُسے پیدا ہی اس لئے کیا گیا تھا۔ نمکدان خان بہت سیدھا سادھا پٹھان ہے جو اپنے آپ کو بہت تیز سمجھتا ہے لیکن سمجھنے سے کیا ہوتا ہے وہ تو ہمارے سیاست دان بھی خود کو صادق اور امین سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ عوام بھی ایسا ہی سمجھتے ہوں گے۔ لیکن میں بحیثیت ایک گدھا اُن کی اس بات کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہوں۔ ہاں نرے گدھوں کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی کہ وہ ہم گدھوں میں سے نہیں ہوتے۔

میرا سپلائی روٹ یوں تو تمام کا تمام خشکی کے راستہ پر ہی مبنی تھا تاہم ایک جگہ مجھے ایک ندی پار کرنی پڑتی تھی جس میں میرے گھٹنوں سے کچھ نیچے تک پانی ہوا کرتا تھا سو میں وہ ندی با آسانی پار کر لیا کرتا تھا۔ چاچا کبھی کبھی ندی پر رُک کر منہ دھویا کرتے تھے لیکن مجھے اُن کا یہ عمل سراسر بے مصرف معلوم ہوتا تھا کہ چاچا کے چہرے پر تو کوئی فرق پڑتا نہیں تھا البتہ میں کھڑا کھڑا وزن سے دُہرا ہوتا رہتا تھا۔

ایک دن یا تو وزن زیادہ تھا یا مجھ پر تھکن غالب تھی کہ مجھے نمک کی بوریاں اُٹھانے میں کافی دقت کا سامنا تھا۔ اچانک ندی کے بیچوں بیچ چاچا کو اپنا منہ دھونے کا خیال آ گیا۔ جب چاچا پوری شد و مد سے منہ دھو نے لگے اور یہ بھی بھول گئے کہ میں ندی کے درمیان وزن اُٹھائے کھڑا ہوں تو مارے تھکن کے میں ندی میں ہی بیٹھ گیا اور با مشکل اپنا منہ سانس لینے کے لئے اوپر کیے رکھا۔ چاچا منہ دھونے کے بعد ہوش میں آئے تو اُنہوں نے مجھے ندی میں بیٹھا ہوا پایا۔ نہ جانے ا ُنہیں کیا ہوا کہ سارے ادب آداب بھول گئے اور ڈنڈا اُٹھا کر میرے ڈینٹ نکالنا شروع کردیے۔ اذیت کے مارے میں اُنہیں ٹویوٹا کرولا اور کھوتا کرولا کا فرق بھی نہیں سمجھا سکا۔ خیر مار کھانے کے بعد میں خود کو اچھا خاصا ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ گدھوں کا کتھارسس مکالمے سے نہیں بلکہ پھینیٹی لگانے سے ہی ہوا کرتا ہے۔ (زیادہ مسکرانے کی ضرورت نہیں، یہاں پٹواریوں یا انصافیوں کا ذکر ہرگز مطلوب نہیں ہے)۔

خیر جب نمکدان خان کے ہاں پہنچے تو اُس نے بتایا کہ آج نمک کا وزن آدھا رہ گیا ہے اور آدھا نمک غالباً پانی میں گھل گیا۔ آدھے پیسے وصول کرکے چاچا کو غصہ تو کافی آیا لیکن وہ اپنا غصہ پہلے ہی اُتار چکے تھے سو مجھے اب کچھ نہیں کہا گیا۔

سیانے کہتے ہیں کہ جو ہوتا ہے اچھے کے لئے ہوتا ہے سو میں بھی کُٹائی کھا کر ایک گُر کی بات سیکھ گیا۔ اب جب کبھی مجھے وزن زیادہ لگتا تو میں ندی میں کچھ دیر کے لئے بیٹھ جاتا۔ اس واقعے کے بعد چاچا تو منہ دھونا ہی بھول گئے تھے اور صبح بھی چاچی کے خونخوار اصرار پر ہی منہ دھونے کی ہمت کرتے۔ شروع شروع میں چاچا نے میرے اس طرح ندی میں بیٹھ جانے کو اتفاقی سمجھا اور جلد سے جلد مجھے اُٹھا کر اپنی راہ لی۔ لیکن جب یہ معاملہ پیٹرول کی قیمتوں کی بڑھوتری کی طرح جلد جلد واقع ہونے لگا تو چاچا کو فکر لاحق ہو گئی۔

ایک روز چاچا نے میری شکایت نمکدان خان کو کی کہ میں ندی میں بیٹھ جایا کرتا ہوں اور اس طرح کافی نمک ضائع ہو جاتا ہے۔ نمکدان خان کچھ سوچنے لگا اور پھر اُس کے چہرے پر ازلی حماقت برسنے لگی۔ اُس نے چاچا کو کان قریب لانے کا کہا اور آداب ِ محفل بھولتے ہوئے اُن کے کان میں کُھسر پھسر کرنے لگا۔ مجھے بہت غصہ آیا اور دل چاہا کہ اس نمکدان کو بھی ندی میں غوطہ دے کر اس کا وزن آدھا کر دیا جائے لیکن پھر میں نے پہلی غلطی سمجھ کر معاف کر دیا۔

اگلے روز چاچا کو نہ جانے کیا ہوا کہ بجائے نمک کے بوریوں میں روئی بھرنے لگا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہم گدھے تو بس یونہی بدنام ہیں اور انسان صرف اپنے نام کی وجہ سے ہی انسان کہلاتا ہے۔ خیر مجھے کیا۔ دونوں بوریوں میں روئی لادنے کے بعد ہم اپنے مخصوص راستے پر چل پڑے۔ آج تو مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے میں چاچا کے ساتھ گھومنے نکلا ہوں۔ جب ندی آئی تو بھی میں اُسی انداز میں چلتا رہا۔

جب ندی تقریباً پار ہونے والی تھی تو چاچا کو پتہ نہیں کیا ہوا کہ مجھے روک کر میرے کمر پر زور دینے لگے۔ جب میں ٹس سے مس نہ ہو ا تو چاچا تقریباً مجھ پر چڑھ ہی گئے۔ لیکن وہ گدھا ہی کیا جو اڑیل نہ ہو میں ندی میں چٹان کی طرح کھڑا رہا۔ چاچا نے اپنے دونوں ہاتھ آپس میں ملا کر نہ جانے مجھے کیا اشارہ کیا اور پھر مجھے لے کر آگے چل پڑے۔

نمکدان خان کے پاس پہنچنے پر چاچا کافی غصہ میں معلوم ہوتے تھے اور نہ جانے نمکدان خان کو کیا کیا کہہ رہے تھے ۔ بالآخر نمکدان خان نے چاچا سے کہا کہ چاچا تم فکر نہ کرو۔ ہمارا مشورہ تو بالکل ٹھیک تھا لیکن تمہارا گدھا تو بالکل ہی گدھا ہے۔ ہم ایسا کرتا ہے کہ تم سے روئی خرید لیتا ہے کہ ہمارا گھر والی ویسے بھی نئے لحاف اور گدے تیار کرنے کا کہتی رہتی ہے۔

اُس دن نمکدان خان کے ہاں تین چکر لگانے پڑے ایک روئی لے کر اور باقی دو نمک لے کر۔ شام تک چاچا تھکن سے ہلکان ہو رہا تھا، لیکن مجھے آج بہت لطف آیا۔ اگر چاچا ایسے ہی مجھے کبھی کبھی گھمانے لے جائیں تو اُن کا کیا جائے۔

ویسے میں سوچتا ہوں کہ چاچا اگر یہ سمجھ رہے تھے کہ اُس روز میں روئی لے کر ندی میں بیٹھ جاؤں گا تو عرض کروں گا کہ اب میں اتنا بھی گدھا نہیں ہوں۔ دراصل سوال میری ذات پر نہیں چاچا کی ذات پر اُٹھایا جانا چاہیے کہ ایک تو اُنہیں مشورہ کرنے کے لئے نمکدان خان کے علاوہ کوئی ملا نہیں دوسرے یہ کہ وہ اُس مشورے پر عمل بھی کر بیٹھے۔

پھر بھی گدھے ہم ہیں۔

--------------
مرکزی خیال ماخوذ برائے تفہیم نو

غزل ۔ یہ مرے ہی شہر کے لوگ تھے مرے گھر سے گھر ہے ملا ہوا

غزل
مجھے اپنے ضبط پہ ناز تھا، سرِ بزم رات یہ کیا ہوامری آنکھ کیسے چھلک گئی، مجھے رنج ہے یہ برا ہوا
مری زندگی کے چراغ کا یہ مزاج کوئی نیا نہیںابھی روشنی ابھی تیرگی، نہ جلا ہوا نہ بجھا ہوا
مجھے جو بھی دشمنِ جاں ملا وہی پختہ کارِ جفا ملانہ کسی کی ضرب غلط پڑی، نہ کسی کا تیر خطا ہوا
مجھے آپ کیوں نہ سمجھ سکے یہ خود اپنے دل ہی سے پوچھیےمری داستانِ حیات کا تو ورق ورق ہے کھلا ہوا
جو نظر بچا کے گزر گئے مرے سامنے سے ابھی ابھییہ مرے ہی شہر کے لوگ تھے مرے گھر سے گھر ہے ملا ہوا
ہمیں اس کا کوئی بھی حق نہیں کہ شریکِ بزمِ خلوص ہوںنہ ہمارے پاس نقاب ہے نہ کچھ آستیں میں چھپا ہوا
مرے ایک گوشۂ فکر میں، میری زندگی سے عزیز ترمرا ایک ایسا بھی دوست ہے جو کبھی ملا نہ جدا ہوا
مجھے ایک گلی میں پڑا ہوا کسی بدنصیب کا خط ملاکہیں خونِ دل سے لکھا ہوا، کہیں آنسوؤں سے مٹاہوا

مجھے ہم سفر بھی ملا کوئی تو شکستہ حال مری طرحکئی منزلوں کا تھکا ہوا، کہیں راستے میں لٹا ہوا
ہمیں اپنے گھر سے چلے ہوئے سرِ راہ عمر گزر گئیکوئی جستجو کا صلہ ملا، نہ سفر کا حق ہی ادا ہوا
اقبال عظیم

کہنے کو تو گلشن میں ہیں رنگ رنگیلے پھول

غزل
کہنے کو تو گلشن میں ہیں رنگ رنگیلے پھولروشن آنکھیں عنقا ہوں تو سارے رنگ فضول
خوشیاں اپنی الم غلم، غم بھی اول جلولشکر کہ پھر بھی دامن میں ہیں کچھ کانٹے کچھ پھول
دل میں کچھ اور منہ پر کچھ تو سب باتیں بے کارہو ناپید اخلاص کی خوشبو تو سب پھو ل ببول
کیا تم کو معلوم ہے تم نے کیوں کر مجھ کو ماراآج کہیں یہ پوچھ رہا تھا قاتل سے مقتول
یارو! اس سے اخذ کروں میں آخر کیا مفہوماُس نے خط کے ساتھ پرویا اک کانٹا، ایک پھول
پوچھو تو یہ لوگ کوئی بھی کام نہیں ہیں کرتےدیکھنے میں جو لگتے ہیں ہر دم، ہر پل مشغول
سُندر لب جب پیار سے زرّیں لاکٹ چومتے ہیںمہر و وفا کے جذبے کتنے لگتے ہیں مجہول
کاش ہمیں بھی آوارہ گردی کی مہلت ملتیقریہ قریہ خاک اُڑاتے بستی بستی دھول
اس نے کسی سے کہا نہیں وہ شعر بھی کہتا ہےاِسی لئے تو لوگ سمجھتے ہیں اُس کو معقول
تم کو احمدؔ شعر و سخن کی کیسے چاٹ لگیشہر میں تو کچھ اور بھی ہوں گے تنہا اور ملول
محمد احمدؔ

احسان دانش کی دو خوبصورت غزلیں

احسان دانش کی دو خوبصورت غزلیں
وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لئےوہ ہنس پڑے مجھے مشکل میں ڈالنے کے لئے
بندھا ہوا ہے بہاروں کا اب وہیں تانتاجہاں رکا تھا میں کانٹے نکالنے کے لئے
کوئی نسیم کا نغمہ کوئی شمیم کا راگفضا کو امن کے قالب میں ڈھالنے کے لئے
خدا نہ کردہ زمیں پاؤں سے اگر کھسکیبڑھیں گے تند بگولے سنبھالنے کے لئے
اتر پڑے ہیں کدھر سے یہ آندھیوں کے جلوسسمندروں سے جزیرے نکالنے کے لئے
ترے سلیقۂ ترتیب نو کا کیا کہناہمیں تھے قریۂ دل سے نکالنے کے لئے
کبھی ہماری ضرورت پڑے گی دنیا کودلوں کی برف کو شعلوں میں ڈھالنے کے لئے
یہ شعبدے ہی سہی کچھ فسوں گردوں کو بلاؤنئی فضا میں ستارے اچھالنے کے لئے
ہے صرف ہم کو ترے خال و خد کا اندازہیہ آئنے تو ہیں حیرت میں ڈالنے کے لئے
نہ جانے کتنی مسافت سے آئے گا سورجنگار شب کا جنازہ نکالنے کے لئے
میں پیش رو ہوں اسی خاک سے اگیں گے چراغنگاہ و دل کے افق کو اجالنے کے لئے
فصیل شب سے کوئی ہاتھ بڑھنے والا ہےفضا کی جیب سے سورج نکالنے کے لئے
کنوئیں میں پھینک کے پچھتا رہا ہوں اے دانشؔکمند تھی جو مناروں پر ڈالنے کے لئے
****
پُرسشِ غم کا شکریہ، کیا تجھے آگہی نہیںتیرے بغیر زندگی، درد ہے زندگی نہیں
دور تھا اک گزر گیا، نشہ تھا اک اُتَر گیااب وہ مقام ہے جہاں شکوہٴ بے رُخی نہیں
تیرے سوا کروں پسند، کیا تیری کائنات میںدونوں جہاں کی نعمتیں، قیمتِ بندگی نہیں
لاکھ زمانہ ظلم ڈھائے، وقت نہ وہ خدا دکھائےجب مجھے ہو یقیں کہ تُو، حاصلِ زندگی نہیں
دل کی شگفتگی کے ساتھ، راحتِ مےکدہ گئیفرصتِ مہ کشی تو ہے، حسرتِ مہ کشی نہیں
زخم پہ زخم کھا کے جی، اپنے لہو کے گھونٹ پیآہ نہ کر، لبوں کو سی، عشق ہے دل لگی نہیں
دیکھ کے خشک و زرد پھول، دل ہے کچھ اس طرح ملولجیسے تری خزاں کے بعد، دورِ بہار ہی نہیں
احسان دانش

مجھے یہ جستجو کیوں ہو کہ کیا ہوں اور کیا تھا میں ۔ انور شعور

غزل
مجھے یہ جستجو کیوں ہو کہ کیا ہوں اور کیا تھا میںکوئی اپنے سوا ہوں  میں، کوئی اپنے سوا تھا میں
نہ جانے کون سا آتش فشاں تھا میرے سینے میںکہ خالی تھا بہت  پھر بھی دھمک کر پھٹ پڑا تھا میں
تو کیا میں نے نشے میں واقعی یہ گفتگو کی تھیمجھے خود بھی نہیں معلوم تھا جو سوچتا تھا میں
خود اپنے خول میں گُھٹ کر نہ رہ جاتا تو کیا کرتایہاں اک بھیڑ تھی جس بھیڑ میں گم ہو گیا تھا میں
نہ لُٹنا میری قسمت  ہی میں  تھا لکھا ہوا ورنہاندھیری رات تھی اور بیچ رستے میں کھڑا تھا میں
گزرنے کو تو مجھ پر بھی عجب اک حادثہ گزرامگر اُس وقت جب صدموں کا عادی ہوچکا تھا میں
میں کہتا تھا سُنو سچائی تو خود ہے صلہ اپنایہ نکتہ اکتسابی تھا مگر سچ بولتا تھا میں
تجھے تو دوسروں سے بھی اُلجھنے میں تکلّف تھامجھے تو دیکھ، اپنے آپ سے اُلجھا ہوا تھا میں
خلوص و التفات و مہر، جو ہے، اب اُسی سے ہےجسے پہلے نہ جانے کس نظر سے دیکھتا تھا میں
جو اَب یوں میرے گردا گرد ہیں، کچھ روز پہلے تکاِنہی لوگوں کے حق میں کس قدر صبر آزما تھا میں
بہت خوش خلق تھا میں بھی مگر یہ بات جب کی ہےنہ اوروں ہی سے واقف تھا، نہ خود کو جانتا تھا میں
انور شعورؔ


نشست بند ، اردو اور چالان


ہماری اردو میں انگریزی اس بُری طرح گُھسی ہوئی ہے کہ چاہیں بھی تو اُسے نکالا نہیں جا سکتا۔ لیکن بات یہ ہے کہ دراصل حکم (زبان) تو اُسی کا چلتا ہے کہ جو بالا دست ہو۔ انگریز نے جو ترقی کی اُسے ہم بڑی خوشی سے اپناتے گئے ساتھ ساتھ اُس ترقی کے ساتھ در آنے والی نئی اصطلاحات بھی ہمارے روز مرہ میں شامل ہوتی گئیں۔

بہت سی نئی چیزیں ہم تک انگریزوں سے براہِ راست اور کچھ انگریزوں کی وساطت سے پہنچی ۔ سو اُن کے نام اور اُن سے متعلقہ اصطلاحات انگریزی میں ہی ہمارے ہاں رواج پا گئیں۔ اسی لئے ہمارے پاس فریج، کُولر، ہیٹر، واشنگ مشین ، جوسر، بلینڈرز اور اسی قسم کی بے تحاشہ اشیا کے لئے کوئی اردو نام نہیں ہیں۔

اب بات یہاں تک آگئی کہ ہمارے ہاں بھی کوئی نئی چیز ایجاد ہو تو اُس کا نام انگریزی میں ہی رکھا جاتا ہے۔(یہ الگ بات کہ ایسی نوبت ہی شاذ ہی کبھی آتی ہے)۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ انگریزی نام سے بین الاقوامی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے اور دوسری بات یہ ہے کہ اردو نام والی چیزوں کو ہمارے اپنے معاشرے میں ہی قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔

اردو وکی پیڈیا والوں نے کافی کوشش کی انگریزی اصطلات کی اردو کاری کی جائے اور اُنہوں نے اس سلسلے میں شبانہ روز مشقت کرکے کئی بھانت بھانت کی اصطلاحات بھی متعارف کروائیں ۔ لیکن یہ تراکیب زیادہ تر عربی سے اخذ کردہ تھیں سو اردو دان طبقے کے لئیے بہت اجنبی اور مشکل ثابت ہوئیں اور اہلِ اردو میں اُنہیں کوئی خاص قبولِ عام نہیں ملا۔ یوں بھی جس کا نام بچپن میں پپو یا مُنّا پڑ جائے ۔ آپ لاکھ چاہیں لیکن لوگ اُسے صلاح الدین کہنے پر راضی نہیں ہوتے۔ تاہم ہم اردو وکی پیڈیا والوں کے کام کے معترف ہیں کہ جس نوعیت کا کام ان لوگوں نے کیا وہ بہت عرق ریزی اور پتہ مارنے والا کام ہے اور اس کی جتنی ستائش کی جائے کم ہے۔

خیر ہم بات کیا کرنا چاہ رہے تھے اور بات کہاں نکل گئی۔ ہم تو بات کرنا چاہ رہے تھے گاڑی کی سیٹ بیلٹ کی، کہ جس کے لئے ہم نے عنوان میں نشست بند کی اصطلاح شامل کی ہے۔ سیٹ بیلٹ کو اردو میں بھی سیٹ بیلٹ ہی کہا جاتا ہے اور نشست بند کے نام سے کوئی اسے نہیں پہچانتا۔ اگر آپ کو زیادہ ہی اردو بولنے کا خبط ہے تو آپ اسے سیٹ پٹّہ کہہ سکتے ہیں ، شاید کہ لوگوں کے ذہن میں اُتر جائے آپ کی بات۔

بہرکیف تو ہم یہ بتا رہے تھے کہ ہمارے پاس ایک عدد گاڑی ہے کہ جس کے ہونے سے ہمارے روایت پسند ہونے کے ایسے ٹھوس ثبوت ملتے ہیں کہ جدّت کو پانی بھرنے کا موقع تک نہیں ملتا۔ کُہنہ روایت کی علمبردار ہماری اس گاڑی میں سیٹ بیلٹ کچھ اس قسم کے واقع ہوئے تھے کہ جیسے اڑیل گائے ہوتی ہے یعنی رسی پکڑ کر کھینچتے رہیے اور وہ ایک انچ نہیں ہلتی ۔ تاہم ہم یہ نہیں جانتے تھے۔ یعنی نہ تو ہمیں اس بات کا اندازہ تھا کہ ہماری گاڑی کی سیٹ بیلٹ ہمارے شانہ و شکم کے اطراف حمائل ہونے میں دلچسپی نہیں رکھتی اور نہ خود ہمیں کبھی اس افعی ِ سُوت و آہن کو خود پر سوار کرنے کا خیال آیا۔

لیکن پھر ایک روز لب سڑک ایک سفید پوش شخص سے ملاقات ہوئی جس نے ہمارے سیٹ بیلٹ کے بارے میں خیالات تبدیل کرنے کا ڈول ڈالا۔ اور ٹھیک اُسی وقت ہم نے سفید پوشوں کے بارے میں اپنے خیالات تبدیل کرنے کی داغ بیل ڈالی۔ موصوف نے ہمارے ہاتھ میں ایک پرچہ تھماتے ہوئے ہمارا پروانہء ڈرائیونگ (شکر ہے کہ ہم شاعری نہیں کررہے کہ شاعری میں تو عربی اور ہندی الفاظ کے مابین اضافت بھی ناقدوں کو نہیں بھاتی چہ جائیکہ انگریزی اور اردو کا بے جوڑ رشتہ بنایا جائے۔ ) ضبط کر لیا۔ خیر ہمیں یاد آیا کہ اس قسم کے پرچوں کے لئے لوگ باگ چالان کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور یہ بھی یاد آیا کہ پروانہء ڈرائیونگ کی بحالی کے لئے دامے درمے سُخنے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ خیر یہ تو تھی سفید پوشوں سے پہلی ملاقات لیکن نوشتہء دیوار یہ نہیں بتاتا تھا کہ:

ع-      ابھی آغازِ محبت ہے گیا کچھ بھی نہیں
خیر چالان ہونے کے بعد ہمیں یہ خیال آیا کہ سیٹ بیلٹس سے ربط و ضبط استوار کرنے میں آخر حرج ہی کیا ہے۔ تب جا کر ہمیں پتہ چلا کہ سیٹ بیلٹ تو قلتِ استعمال سے اتنی تنہائی پسند ہو گئی ہیں کہ اپنے خول سے باہر آنے کو ہی تیار نہیں ہیں۔ پھر ہم نے ٹیڑھی انگلی سے سیٹ بیلٹ نکالنے کی کوشش کی تو انگلی شانوں تک ٹیڑھی ہو گئی لیکن گھی یعنی سیٹ بیلٹ باہر نہیں نکلا۔ پھر جب ہم نے اس کام کے لئے چاروں ہاتھوں پیروں کی  طاقت آزمائی تو سیٹ بیلٹ طوعاً و کرہاً اپنے خول سے برامد ہو گئی۔ ہم ابھی خوش ہونے کا ارادہ ہی کر رہے تھے کہ ہمیں اندازہ ہوا کہ سیٹ بیلٹ جو کھینچنے پر باہر آ گئی ہے اب واپس اپنے خول میں جانے کا ارادہ نہیں رکھتی بلکہ ارادہ کیا اہلیت تک نہیں رکھتی۔ جب ہم نے یہ سیٹ بیلٹس مکینک کو دکھائی تو اُس نے ہاتھ جوڑ لیے اور ہم سے وعدہ کیا کہ نہ جانے کو ن سے بازار جب اُس کا جانا ہوگا تو وہ ہمارے لئے سیٹ بیلٹ کا جوڑا لے آئے گا۔ بات آئی گئی ہوئی اور ہم پھر سے اپنی دنیا میں کھو گئے۔
اگلی بار جب سفید پوشوں سے واسطہ پڑا تو ہم نے بڑے فخر سے کہا کہ بھائی سیٹ بیلٹ خراب ہے کیسے لگائیں۔ جواب ملا کہ سیٹ بیلٹ تو بنوانی چاہیے آپ کو سب کام چھوڑ کر ، کیو ں نہیں بنوائی! ہم نے اپنے چہرے میں مسکینیت کے سارے رنگ بھر کر بڑی لجاجت سے سفید پوش ہرکارے کے طرف دیکھا تو اُسے ترس آ گیا۔ کہنے لگا۔ " ابھی تو خیر چالان ہو گا لیکن یہ لٹکی ہوئی سیٹ بیلٹ اُٹھا کر شانے اور سینے پر سجا لیا کرو"۔ ہم نے کہا "لیکن اس طرح تو سیفٹی کا اصل مقصد پورا نہیں ہو سکے گا"۔ اس پر سفید پوش نے ہمیں کچھ اس طرح گھورا کہ جیسے عزرائیل اپنے کلائنٹ کو گھورا کرتے ہیں۔ کہنے لگے "سیفٹی کو کون پوچھتا ہے!!!"۔

خیر اُن کے پڑھائے ہوئے سبق کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج تک سیٹ بیلٹس نہیں بن سکیں اور ہم ٹریفک سارجنٹس کو دیکھ کر اپنے سیٹ بیلٹ اس طرح اپنے سینے پر پھیلاتے ہیں کہ جس طرح پہلے زمانے کی بہوئیں سُسر کو دیکھ کر بہ عجلت تمام گھونگٹ نکال لیا کرتی تھیں۔
ع -      مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں

نظم ۔ راہ مسدود ہے ۔ محمد احمد

راہ مسدود ہے 
ہر طرف کتنی چھوٹی بڑی گاڑیاںآڑی ٹیڑھی پھنسی بیچ چوراہے پرڈرائیور* پان کی پیک منہ میں لئےگالیاں دے رہے ہیں ہوا میں کسی دوسرے ڈرائیور کا تصوّر کیے
پان کی پیک، بس کا دھواں ڈرائیور کے غلاظت بھرے منہ سے اُگلی ہوئی گالیاںجُز تعفّن نہیں کچھ، نہیں کچھ یہاں
نظم مفقود ہےراہ مسدود ہے
اُس کو جانے کی جلدی تھی اُس نے غلط راہ لیاُس کی جلدی کا عفریت کتنے ہی لوگوں کے معمول کو کھا گیااب سبھی گاڑیاں  راستے میں پھنسی ہیں کئی ہاتھ ہارن سے چمٹے ہوئے ہیںمگر کوئی بڑھ کر کہاں دیکھتا ہےکہ سُلجھاؤ کا  راستہ ہے کہاں
سوچ مفقو د ہےراہ مسدود ہے
محمد احمدؔ
نوٹ: انگریزی لفظ ڈرائیور کو فاعلن کے وزن پر باندھا گیا ہے  جو اپنے اصل تلفظ سے زیادہ قریب ہے۔ 

غزل ۔ دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میں ۔ سیماب اکبر آبادی

غزل
دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میںاک آئینہ تھا ٹوٹ گیا دیکھ بھال میں
دنیا کرے تلاش نیا جام جم کوئیاس کی جگہ نہیں مرے جام سفال میں
آزردہ اس قدر ہوں سراب خیال سےجی چاہتا ہے تم بھی نہ آؤ خیال میں
دنیا ہے خواب حاصل دنیا خیال ہےانسان خواب دیکھ رہا ہے خیال میں
اہل چمن ہمیں نہ اسیروں کا طعن دیںوہ خوش ہیں اپنے حال میں ہم اپنی چال میں
سیمابؔ اجتہاد ہے حسن طلب مراترمیم چاہتا ہوں مذاق جمال میں
سیمابؔ اکبر آبادی

نئے چراغ جلاؤ کہ روشنی کم ہے ۔۔۔ شاہد صدیقی

غزل
یہ کیا ستم ہے کہ ، احساسِ درد بھی کم ہےشبِ فراق ستاروں میں روشنی کم ہے
اک ایسی موجِ کرم تھی نگاہِ ساقی میںکہ اس کے بعد سے طوفانِ تشنگی کم ہے
قریب و دور سے آتی ہے آپ کی آوازکبھی بہت ہے، غمِ جستجو ، کبھی کم ہے
عروجِ ماہ کو انساں سمجھ گیا لیکنہنوز عظمتِ انساں سے آگہی کم ہے
تمام عمر ترا انتظار کرلیں گےمگر یہ رنج رہے گا کہ زندگی کم ہے
نہ ساتھ دیں گی یہ دم توڑتی ہوئی شمعیںنئے چراغ جلاؤ کہ روشنی کم ہے
شاہد صدیقیحیدر آباد۔ ہندوستان 1911 ~ 1962ء
بشکریہ صابر علی سیوانی




ارے! خواب تو دیکھ

غزل
دن بھلے جیسا کٹے، سانجھ سمے خواب تو دیکھچھوڑ تعبیر کے خدشوں کو، ارے! خواب تو دیکھ
جھونپڑی میں ہی بنا اپنے خیالوں کا محلگو پُرانا ہے بچھونا !تُو نئے خواب تو دیکھ
تیرا ہر خواب مسّرت کی بشارت لائےسچ ترے خواب ہوں اللہ کرے، خواب تو دیکھ
دل شکستہ میں ہوا، جب بھی مِرا دل ٹوٹاحوصلے آگے بڑھے، کہنے لگے، خواب تو دیکھ
تجھے وہ بات بھی آئے گی سمجھ یار مرےجو ہے ادراک کی سرحد سے پرے، خواب تو دیکھ
گتھیاں ساری سُلجھ جائیں کہ ہوں اور سِواتو ذرا ہاتھ بڑھا، تھام سِرے، خواب تو دیکھ
نیند کے خواب ترے خوف کے گھر ہیں بھی تو کیانیند کو چھوڑ تو جب صبح اُٹھے خواب تو دیکھ
محمد احمدؔ


Pages