محمد احمد (رعنائیِ خیال)

سوشل میدیا اسٹیٹس یا دُکھوں کے اشتہار

سوشل میدیا اسٹیٹس یا دُکھوں کے اشتہاراز : محمد احمدؔ
پہلے دنیا میں عمومی طور پر دو طرح کے لوگ ہوتے تھے۔ یعنی لوگ دوطرح کے رویّے رکھتے تھے۔ کچھ لوگ ایکسٹروورٹ (باہر کی دُنیا میں جینے والے) ہوتے تھے اور چاہتے تھے کہ جو کچھ اُن پر بیت رہی ہے وہ گا گا کر سب کو بتا دیں ۔ وہ ایک ایک کو پکڑتے اور اپنا غم خوشی اُس کے گوش و گزار کر دیتے اور اس طرح اُنہیں صبر آ جاتا تھا۔

دوسری قسم کے لوگ وہ ہوتے جو انٹروورٹ (اپنے دل کی دنیا میں بسنے والے) ہوتے اور جو اپنے دل کی بات اپنے دل میں ہی رکھتے تھے ۔ کسی کو نہ بتاتے کہ اُن پر کیا بیت رہی ہے یا وہ کیا سوچ رہے ہیں۔ دوست احباب اُن کی اُداسی کا سبب پوچھ پوچھ کر مر جاتے لیکن وہ کچھ نہ بتاتے۔ کبھی موسم کا بہانہ کر دیتے تو کبھی طبیعت کا۔

لیکن جب سے ہماری زندگیوں میں سوشل میڈیا کی آمد ہوئی ہے ۔ ہم میں سے انٹروورٹ لوگ بہت کم ہی رہ گئے ہیں ۔ جو اپنے دوستوں اور اقرباء سے کچھ نہیں کہہ پاتے وہ بھی سوشل میڈیا پر اپنے غموں کے اشتہار سجا دیتے ہیں۔ اور ایسی ایسی باتیں ادھر اُدھر سے اُٹھا کر چپکا دیتے ہیں کہ اگر وہ بات کوئی اور اپنی طرف سے اُن سے کہے تو اُنہیں معیوب محسوس ہو۔

سچی بات تو یہ ہے کہ پہلے دنیا بہت خوبصورت ہوا کرتی تھی۔ پہلے لوگوں کے دُکھ اُن کے دلوں میں ہوتے تھے یا قریبی دوستوں کے سینوں میں۔ لیکن اب ہر شخص کے دُکھ سوشل میڈیا / اسٹیٹس پر جا بجا بکھرے نظر آتے ہیں۔ اور لوگ خوشی کو ضرب دینے اور دُکھوں کو مختصر کرنے کی حکایت بھول چُکے ہیں۔

آپ کو ایک دوست کی طرف سے کوئی غلط فہمی ہو گئی ۔ آپ نے سوشل میڈیا سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر 19 جلی کٹی تصاویر اور اقوال اپنے فیس بک یا واٹس ایپ اسٹیٹس پر لگا دیے۔ جنہیں 34 لوگوں نے دیکھا اور نہ جانے کیا کیا سوچا۔

کچھ نے یہ سوچا کہ نہ جانے آپ کو کیا مسئلہ درپیش ہے اور کچھ نے یہ سوچا کہ یہ دنیا اور اُس کے لوگ اور لوگوں کے رویّے کس قدر بدصورت ہیں اور کچھ نے آپ کے مظلومیت کے فریم میں اپنی تصویر جڑ دی۔ اور نتیجتاً یہ دُنیا مزید ناقابلِ برداشت ہو گئی۔ اور آپ دُکھوں کی ترویج کرنے والے بن گئے۔ اور آپ نے جانے انجانے میں نہ جانے کتنے چہروں سے مُسکراہٹیں چھین لیں۔

شام تک آپ کی اپنے دوست کے ساتھ ہو جانے والی غلط فہمی دور ہو گئی اور آپ کے درمیان مُسکراہٹوں کے تبادلے شروع ہو گئے۔ لوگ اب بھی اسٹیٹس دیکھ کر آپ کو زود رنج کہہ رہے ہیں یا دُنیا کو کوس رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ہم اتنے بے صبرے کیوں ہو گئے کہ معمولی معمولی باتوں پر ہمارےصبر کا پیمانہ چھلک جاتا ہے اور ہمار ے اسٹیٹس رشتے ناطوں اور احباب کے خلاف زہر میں بجھے تیر بن جاتے ہیں اور اُس سے جانے انجانے میں نہ جانے کون کون زخمی ہو جاتا ہے۔سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے رویّوں میں اعتدال کی شدید ضرورت ہے۔

سو اسٹیٹس لکھنے یا منتخب کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچیے کہ جن پچیس تیس لوگوں نے یہ اسٹیٹس دیکھنا ہے کیا یہ بات میں اُن سب کے سامنے بھی اسی طرح کہہ سکوں گا اگر ہاں تو ضرور لکھیے لیکن اگر آپ کو لگے کہ اُن میں سے ایک بھی شخص سے میں یہ بات منہ در منہ نہیں کہہ سکوں گا تو پھر آپ کو یقیناً سوچنے کی ضرورت ہے کہ اس قسم کے اسٹیٹس بظاہر آپ کو اوجھل رکھتے ہیں لیکن دراصل آپ اپنے جملہ خیالات(اور وقتی جذبات و اشتعالات سمیت) سب کے سامنے عیاں ہو جاتے ہیں۔

اسٹیٹس ضرور لگائیے اور جتنے دل چاہے لگائیے مگر زیادہ تر کوشش یہی ہونی چاہیے کہ آپ کے اسٹیٹس دیکھنے والے آپ کے بارے میں اچھی رائے قائم کریں اور آپ کا اسٹیٹس اُن کے من میں مسکراہٹوں کے پھول کھلائے۔ مزید یہ کہ اگر کسی سے شکوہ گلہ بھی کرنا ہے تو مہذب ترین لہجے میں۔ بالکل ایسے ہی جیسے کہ آپ ایک اچھی محفل کے ایک اچھے شریک کی حیثیت سے کیا کرتے ہیں۔


چراغ حسن حسرت کی دو خوبصورت غزلیں


اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے چراغ حسن حسرت کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ حسرت طرح دار شاعر و ادیب تھے، آپ کا بنیادی شعبہ صحافت تھا اور مزاح نگاری میں بھی کمال انداز رکھتے تھے۔

ایک بار حسرت سے مشاعرے میں ماہیا سنانے کی فرمائش کی گئی تو انہوں نے یہ ماہیا سُنایا۔

باغوں میں پڑے جھولے
تم بھول گئے ہم کو
ہم تم کو نہیں بھولے

بقول راوی مشاعرے میں داد و تحسین سے چھت کا اُڑ جانا کیا ہوتا ہے وہ ہم نے آج دیکھا۔

ہم نے چراغ حسن حسرت کی  دو خوبصورت غزلیں آپ کے لئے منتخب کی ہیں ملاحظہ فرمائیے:


یارب غم ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتا
جو ہاتھ جگر پر ہے وہ دست دعا ہوتا

اک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت
یا غم نہ دیا ہوتا یا دل نہ دیا ہوتا

ناکام تمنا دل اس سوچ میں رہتا ہے
یوں ہوتا تو کیا ہوتا یوں ہوتا تو کیا ہوتا

امید تو بندھ جاتی تسکین تو ہو جاتی
وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا

غیروں سے کہا تم نے غیروں سے سنا تم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا

****


یہ مایوسی کہیں وجہ سکون دل نہ بن جائے
غم بے حاصلی ہی عشق کا حاصل نہ بن جائے

مدد اے جذب دل راہ محبت سخت مشکل ہے
خیال دورئ منزل کہیں منزل نہ بن جائے

نہیں ہے دل تو کیا پہلو میں ہلکی سی خلش تو ہے
یہ ہلکی سی خلش ہی رفتہ رفتہ دل نہ بن جائے

ہجوم شوق اور راہ محبت کی بلا خیزی
کہیں پہلا قدم ہی آخری منزل نہ بن جائے

چراغ حسن حسرت

ہمسفر بن کے ہم ساتھ ہیں آج بھی ۔۔۔

 
رعنائیِ خیال پر   گنتی کے دو چار گیت ہی موجود ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رعنائیِ خیال کا مزاج  ایسا ہے کہ اس میں عامیانہ گیتوں کی شاعری  جچتی نہیں ہے ۔ سو بس کچھ گیت جو اپنی شاعری کی وجہ سے انتہائی ممتاز ہیں اور خاکسار کو خاص طور پر پسند ہیں وہ میں  بلاگ میں شامل کیے دیتا ہوں۔ 


آج جو گیت میں بلاگ پر شامل کر رہا ہوں یہ  بھی مجھے بے حد پسند ہے۔ گیت کی شاعری مدن پال کی ہے اور اسے جگجیت سنگھ نے بہت خوب گایا ہے۔ آئیے آپ بھی اس گیت کی شاعری سے لطف اندوز ہوں

ہمسفر بن کے ہم ساتھ ہیں آج بھی، پھر بھی ہے یہ سفر اجنبی اجنبی​
راہ بھی اجنبی، موڑ بھی اجنبی، جائیں گے ہم کدھر اجنبی اجنبی​

زندگی ہو گئی ہے سلگتا سفر، دور تک آ رہا ہے دھواں سا نظر​
جانے کس موڑ پر کھو گئی ہر خوشی، دے کے دردِ جگر اجنبی اجنبی​

ہم نے چن چن کے تنکے بنایا تھا جو، آشیاں حسرتوں سے سجایا تھا جو​
ہے چمن میں وہی آشیاں آج بھی، لگ رہا ہے مگر اجنبی اجنبی​

کس کو معلوم تھا دن یہ بھی آئیں گے، موسموں کی طرح دل بدل جائیں گے​
دن ہوا اجنبی، رات بھی اجنبی، ہر گھڑی، ہر پہر اجنبی اجنبی​
​شاعر : مدن لال

جون ایلیا کی دو خوبصورت غزلیں

غزل
زخمِ امید بھر گیا کب کا
قیس تو اپنے گھر گیا کب کا

آپ اک اور نیند لے لیجئے
قافلہ کُوچ کر گیا کب کا

دکھ کا لمحہ ازل ابد لمحہ
وقت کے پار اتر گیا کب کا

اپنا منہ اب تو مت دکھاؤ مجھے
ناصحو، میں سُدھر گیا کب کا

نشہ ہونے کا بےطرح تھا کبھی
پر وہ ظالم اتر گیا کب کا

آپ اب پوچھنے کو آئے ہیں؟
دل میری جاں، مر گیا کب کا

*****
اے صبح! میں اب کہاں رہا ہوں
خوابوں ہی میں صرف ہو چکا ہوں

کیا ہے جو بدل گئی ہے دنیا
میں بھی تو بہت بدل گیا ہوں

میں جُرم کا اعتراف کر کے
کچھ اور ہے جو چھُپا گیا ہوں

میں اور فقط اسی کی تلاش
اخلاق میں جھوٹ بولتا ہوں

رویا ہوں تو اپنے دوستوں میں
پر تجھ سے تو ہنس کے ہی ملا ہوں

اے شخص! میں تیری جستجو میں
بےزار نہیں ہوں، تھک گیا ہوں
 جون ایلیا

اپنے روز مرہ کاموں کی فہرست بنائیں

فہرستِ امورِ ضروریاپنے روز مرہ کاموں کی فہرست بنائیں
اگر آپ اپنے روز مرہ کے کاموں کی فہرست مرتب نہیں کرتے اور اُس کے باوجود آپ کے سب کام ٹھیک ٹھاک اور اپنے وقت پر ہو جاتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے لئے نہیں ہیں۔ آپ بالکل ٹھیک جا رہے ہیں آپ اپنے کام پر توجہ رکھیے اور دوسروں کو بھی یہ گُر سکھائیے۔

لیکن اگر آپ کے کام بروقت نہیں ہو پاتے اور بہت سے کام آپ کے ذہن سے نکل جاتے ہیں تو آپ کو چاہیے کہ روزانہ یا کم از کم ہفتے میں دو تین بار کاموں کی فہرست مرتب کریں اور گاہے گاہے اُس کو دیکھتے رہیے تاکہ آپ کو یاد رہے کہ کون سا کام ہو چکا ہے اور کون سا کام ابھی باقی ہے۔

فہرست امورِ ضروری مرتب کرتے ہوئے درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
کام کی حیثیت:کام چھوٹا ہو یا بڑا اُسے آپ کی فہرست میں جگہ ضرور ملنی چاہیے۔ اکثر ہم چھوٹے کاموں کو فہرست میں جگہ نہیں دیتے کہ اسے کیا لکھنا ۔لیکن دراصل چھوٹے چھوٹے کام نہ ہو تو اُن کی وجہ سے بہت سے بڑے بڑے معاملات رُکے رہتے ہیں۔ اس لئے یا تو چھوٹے چھوٹے کاموں کو فوراً کر لیا جائے یا پھر فہرست میں لکھ لیا جائے۔

کام اگر بڑا ہو تو ہمیں چاہیے کہ اُسے چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر لیں اس سے ہمیں کام کو نمٹانے میں آسانی ہوگی۔ کسی دانش مند نے کہا ہے کہ اگر آپ پہاڑ کو سرکانا چاہتے ہیں تو ذروں کو سرکانے کا فن سیکھیے۔

مثلاً اگر آپ گھر میں ہونے والی ایک تقریب کے انتظامات کو اپنی کاموں کی فہرست میں جگہ دینا چاہتے ہیں تو ایک دم سے تقریب کا نام لکھ دینے سے بات نہیں بنے گی۔ بلکہ آپ کو چاہیے کہ انتظامات کو مختلف حصو ں میں تقسیم کر لیں۔ مثال کے طور پر ، دعوت ناموں کی تقسیم یا فون کالز، بازار سے منگوانے کے لئے سامان کی فہرست، گھر کی صفائی ستھرائی اور سجاوٹ کا کام وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح ان کاموں کو مزید ٹکڑوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔
ترجیحات:
ہماری فہرست میں کاموں کی ترجیح بہت اہم چیز ہے ۔ یعنی ہمیں یہ پتہ ہونا چاہیے کہ کون سا کام زیادہ اہم اور ہے کون سا کم اہم ہے ۔ یا وقت کے حساب سے کون سا کام پہلے کرنا ضروری ہے اور کون سا کام ایساہے جسے بعد میں بھی کیا جا سکتا ہے۔

سو ہر کام کے سامنے اُس کے ترجیح ضرور لکھیں مبادا ہم کم اہمیت کے کاموں میں سارا وقت کھپا دیں اور اہم کام رہ جائیں۔ سو جو کام سب سے زیادہ اہم ہو اُس کے سامنے ترجیح ایک (1) لکھ لیں اور جو اُس سے کم اہمیت کا ہو اُس کے سامنےدو (2) لکھ لیا جائے اور اسی طرح ایک سے پانچ تک سب کاموں کی ترجیحات متعین کر لی جائیں۔
معیاد اور دورانیہ
کچھ کام ایسے ہوتے ہیں کہ جو ہمیں ایک خاص وقت تک مکمل کرنے ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ طالب علموں کے اسائنمنٹ وغیرہ ۔ لیکن عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ مقررہ وقت یا تاریخ ہمیں مہمیز کرنے کے بجائے سست کرد یتی ہے اور ہم میں سے اکثر یہ سوچتے ہیں کہ ابھی وقت ہے اور کر لیں گے آرام سے۔ لیکن یہی سوچتے سوچتے بہت وقت گزر جاتا ہے اور اچانک ہمیں خیال آتا ہے کہ مقرررہ وقت پورا ہونے میں بس ذرا سی کسر رہ گئی ہے۔ پھر ہم جلدی جلدی میں اُلٹا سیدھا کام کرتے ہیں اور جیسے تیسے جان چھڑا لیتے ہیں ۔

پارکنسن کے مطابق:

Work expands to fill the time available for its completion

یعنی کام عموماً تمام تر میسر وقت میں پھیل جاتا ہے اور وقت کا ایک بڑا حصہ ایک ایسے کام میں کھپ جاتا ہے کہ جو دراصل بہت کم وقت چاہتا ہے۔

اس بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کام کو لکھتے ہوئے ہمیں اُس کی ڈیڈ لائن کے ساتھ ساتھ اُس کے لئے درکار وقت کا تعین کرنا بھی ضروری ہے ۔ فرض کیجے کہ ایک اسائنمنٹ مکمل کرنے کے لئے آپ کو تین سے پانچ گھنٹے درکار ہیں اور اُس کی ڈیڈ لائن ایک مہینے بعد کی ہے۔ اگر آپ کام کے ساتھ صرف ڈیڈ لائن لکھیں گے تو زیادہ تر اُمید یہی ہے کہ یہ تین سے پانچ گھنٹے کا اسائنمنٹ پورے مہینے پر پھیل جائے اور آخر میں کام بھی معیار ی نہ ہو۔ سو ہمیں چاہیے کہ کام کے ساتھ کام کی ڈیڈ لائن اور اندازاً درکار وقت بھی ضرور لکھیں۔
کب اور کہاں
بہت سے کام صرف اس لئے پورے نہیں ہوتے کہ وہ شروع نہیں ہو پاتےاور وہ روز بروز ٹلتے رہتے ہیں اور مہینے بیت جاتے ہیں ۔ سو ایسے کاموں کو لکھتے وقت دو باتیں اور طے کر لیجے اور وہ دو باتیں ہیں کب اور کہاں؟

فرض کیجے کوئی کام کئی ہفتوں سے ٹل رہا ہے اور آپ سوچتے ہیں کہ اسے بھی کرنا ہے تو پھر آپ سب سے پہلے یہ فیصلہ کریں کہ آیا آپ یہ کام کرنا بھی چاہتے ہیں یا نہیں۔ اگر نہیں کرنا چاہتے تو اپنی فہرست میں اس کام پر خطِ تنسیخ پھیر دیجے تاکہ آپ کے ذہن کا بوجھ ہلکا ہو سکے ۔ یا اگر آپ اس کام کو واقعتاً کرنا چاہتے ہیں تو پھر اس کے کرنے کے لئے وقت ، دن، تاریخ کا تعین کر لیں اور اگر کسی جگہ کا تعین بھی ضروری ہو تو وہ بھی کر لیجے۔ ایسا کرنے سے وہ کام ضرور ہو جائے گا۔
کیسے
ضروری امور کی فہرست کیسے بنائیں ؟ یوں تو یہ فہرست بنانے کے لئے کاغذ کا ایک تراشہ اور قلم یا پنسل ہی کافی ہیں لیکن آپ یہ کام کرنے کے لئے کوئی ڈائری بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کسی ایک جگہ ٹک کر نہیں بیٹھتے تو بہتر ہو گا کہ آپ ایک پاکٹ ڈائری میں یہ فہرست بنائیں۔

اگر آپ اینڈرائڈ فون استعمال کر تے ہیں تو کچھ ایپس آپ کو اس قسم کی لسٹ بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔ آپ چاہیں تو کلر نوٹ یا اسی انواع کی دیگر ایپس استعمال کر سکتے ہیں۔ یا ونڈوز پر اسٹکی نوٹس بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

آخر میں سب سے اہم بات، اور وہ یہ ہے کہ اگر آپ اس ڈائری کو بار بار دیکھ کر اپنی کارکردگی کا جائزہ نہیں لیتے اور اسے ہاتھ ہاتھ کے ہاتھ اپڈیٹ یعنی تازہ نہیں کرتے تو پھر یہ سب مشقت بے کار جائے گی۔ یاد رکھیے کہ پودا لگانا صرف ایک دن کا کام ہے لیکن اسے پانی روز دینا پڑتا ہے۔

واجدہ تبسم کی دو خوبصورت غزلیں


واجدہ تبسم کا نام شاید آپ نے بطورِ افسانہ نگار سنا ہو لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے شعر بھی کہےہیں ۔ تاہم ان کی شاعری انٹرنیٹ پر نظر نہیں آتی۔ واجدہ تبسم اپنے زمانے کی بہت معروف افسانہ نگار رہی ہیں اور انہوں نے کئی ایک معروف افسانے رقم کیے ہیں اور وہ افسانہ نگاروں میں ایک مخصوص مزاج کے حوالے سے پہچانی جاتی ہیں۔ اُن کی کتابوں میں اترن، بند دروازے ، پھول کھلنے دو، جیسے دریا، ساتواں پھیر، اور شہر ممنوع شامل ہیں۔ ذیل میں اُن کی دو غزلیں قارئین کے ذوق کے لئے پیش کی جا رہی ہیں۔


کیسے کیسے حادثے سہتے رہےپھر بھی ہم جیتے رہے ہنستے رہے
اس کے آ جانے کی امیدیں لیےراستہ مڑ مڑ کے ہم تکتے رہے
وقت تو گزرا مگر کچھ اس طرحہم چراغوں کی طرح جلتے رہے
کتنے چہرے تھے ہمارے آس پاستم ہی تم دل میں مگر بستے رہے
****
یا تو مٹ جائیے یا مٹا دیجیےکیجیے جب بھی سودا کھرا کیجیے
اب جفا کیجیے یا وفا کیجیےآخری وقت ہے بس دعا کیجیے
اپنے چہرے سے زلفیں ہٹا دیجیےاور پھر چاند کا سامنا کیجیے
ہر طرف پھول ہی پھول کھل جائیں گےآپ ایسے ہی ہنستے رہا کیجیے
آپ کی یہ ہنسی جیسے گھنگھرو بجیںاور قیامت ہے کیا یہ بتا دیجیے
واجدہ تبسم

زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا

غزل

زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا

ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے
اک خواب ہیں جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا

اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں
شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا

دل کی خلش تو ساتھ رہے گی تمام عمر
دریائے غم کے پار اتر جائیں ہم تو کیا

منیر نیازی

ایک شاعر کے دو متضاد اشعار

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت عجیب و غریب بنایا ہے ۔ یہ بہ یک وقت متضاد خیالات میں گھرا رہتا ہے ۔ اس میں نیکی اور بدی ایک ساتھ قیام پذیر رہتی ہے اور یہ اکثر اُمید و نا اُمیدی کے مابین کہیں بہتا نظر آتا ہے۔ مجھے آج جناب پیرزادہ قاسم کے دو اشعار ایک ساتھ یاد آئے جو دیکھا جائے تو ایک دوسرے کے بالکل متضاد ہیں۔ لیکن انسانی زندگی اسی مد و جزر کا نام ہے۔

اشعار یہ ہیں۔

اسیر کب یہ قفس ساتھ لے کے اُڑتے ہیں
رہے جو طاقتِ پرواز پر میں رہنے دو


عجب نہ تھا کہ قفس ساتھ لے کے اُڑ جاتے
تڑپنا چاہیے تھا، پھڑپھڑانا چاہیے تھا
 
اب میں یہ سو چ رہا ہوں کہ شاعر نے ان میں سے پہلے کون سا شعر کہا ہوگا۔ اور کیا شاعر کو خود بھی اس بات کا احساس ہوگا کہ اس کے یہ دو اشعار بالکل ایک دوسرے کے متضاد ہیں؟

کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے

کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہےنظم
گریباں پسینے میں تر ہو رہا ہے
کمر بند گردن کے سر ہو رہا ہے
سفینہ جو زیر و زبر ہو رہا ہے
اُدھر کا مسافر اِدھر ہو رہا ہے

جو دیوار تھی اس میں در ہو رہا ہے
کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے

کوئی پہلواں سیٹ میں دھم گیا ہے
بہت بھی گیا تو بہت کم گیا ہے
کوئی ہاتھ پتلون میں جم گیا ہے
کوئی ناک دیوار پہ تھم گیا ہے

کوئی سرو قد مختصر ہو رہا ہے
کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے

جواں کچھ سرِ پائے داں اور بھی ہیں
دریچوں میں سروِ رواں اور بھی ہیں
قطاروں میں بیوی میاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

ہجوم اور بھی معتبر ہو رہا ہے
کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے

وہ اک پیل تن یوں سمٹ کر کھڑا ہے
کہ پیٹ اس کا دھڑ سے الگ جا پڑا ہے
کسی کی گھڑی پر کسی کا گھڑا ہے
مقدر کو دیکھو کہاں جا لڑا ہے

تماشا سرِ رہگزر ہو رہا ہے
کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے

جو خوش پوش گیسو سنوارے ہوئے تھا
بہت مال چہرے پہ مارے ہوئے تھا
بڑا قیمتی سوٹ دھارے ہوئے تھا
گھڑی بھر میں سب کچھ اتارے ہوئے تھا

بے چارے کا حلیہ دگر ہو رہا ہے
کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے

کوئی بے خبر گُل فشاں ہو گئی ہے
تو لاری کی لاری جواں ہو گئی ہے
طبیعت اچانک رواں ہو گئی ہے
ملاقات اُن سے کہاں ہو گئی ہے

نظر سے طوافِ نظر ہو رہا ہے
کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے

کبھی پیش سے گھٹ کے پس ہو گئی ہے
کسی پیچ میں پیچ کس ہو گئی ہے
چلی ہے تو بانگِ جرس ہو گئی ہے
رکی ہے تو ٹھَس ہو کے بَس ہو گئی ہے

نہیں ہو رہا ہے مگر ہو رہا ہے
کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے

جو کالر تھا گردن میں، 'لر' رہ گیا ہے
ٹماٹر کے تھیلے میں 'ٹر' رہ گیا ہے
خدا جانے مرغا کدھر رہ گیا ہے
بغل میں تو بس ایک پر رہ گیا ہے

کوئی کام ہم سے اگر ہو رہا ہے
کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے
 سید ضمیر جعفری

ہم نے پہلے دیکھ رکھے ہیں یہ تیرے سبز باغ

غزل

عادتاً دیکھو تو دیکھو ہر سویرے سبز باغ
بقعہء اُمید میں ڈالیں نہ ڈیرے سبز باغ

اے مرے ہمدم اُلجھتا کیوں ہے تو مجھ سے بھلا
مختلف ہیں بس ذرا سے تیرے میرے سبز باغ

ہاتھ نیچے کرفسوں گر، مت ہمیں پاگل بنا
ہم نے پہلے دیکھ رکھے ہیں یہ تیرے سبز باغ

میں بھی ہوں محوِ تغافل، تو بھی ہے غفلت گزیں
میرے خوابوں سے کہاں بہتر ہیں تیرے سبز باغ

رات اک شب خون میں گزری مگر شاباش ہے
دیکھنے والوں نے دیکھے منہ اندھیرے سبز باغ

ساحر ِ شب تیرے فن کا معترف ہوں، واقعی
دلکش و رنگیں بہت ہیں سب یہ تیرے سبز باغ

اے خدا میرے چمن کو خیر خواہوں سے بچا
ایک نخلِ زرد اور اتنے لُٹیرے سبز باغ

ہم نے سینچا خود سرابوں سے انہیں احمدؔ، سو اب
دشت دل میں اٹ گئے دسیوں گھنیرے سبز باغ
محمد احمدؔ

شادیٔ مرگ ِ شاعری

شادیٔ مرگ ِ شاعری (شادی اور شاعری)
کہتے ہیں شاعر کو شادی ضرور کرنی چاہیے، کہ اگر بیوی اچھی مل جائے تو زندگی اچھی ہو جائے گی ورنہ شاعری اچھی ہو جائے گی۔ موخر الذکر صورت تو اللہ نہ کرے کسی کے ساتھ پیش آئے لیکن اول الذکر صورت میں بھی آنے والی آپ کو محرومِ محض نہیں کرتی بلکہ اُس کی کوشش ہوتی ہے کہ شاعری کا بھی دال دلیہ چلتا رہے۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ دال دلیا پر صبر شکر کریں یا کوئی اور نیا طوطا پال لیں۔ یہ البتہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ طوطا دال دلیے سے الرجک ہوتا ہے اور ہری مرچیں چبانے کو ہی اپنے لئے باعث صد افتخار گردانتا ہے۔ طوطا پالنے کی نسبت بکری پالنا ذرا آسان ہے اور تحریک کے لئے مشہور مثل بھی موجود ہے کہ "غم نداری بُز بجُز " یعنی اگر آپ کو کوئی غم نہیں ہے تو بکری پال لیجے ۔ تاہم بکری سے ملنے والے غموں کے خام مال سے آپ عاشقانہ اور درد بھری شاعری کرنے کے قابل ہو جائیں تو ہم سفارش کریں گے کہ اس صدی کا سب سے بڑا مبالغہ آرائی اور مغالطہ فرمائی کا ایوارڈ آپ کو ہی دیا جائے۔


جیسا کہ ہم نے بتایا کہ شادی کی صورت میں آپ غم و آلام سے محرومِ محض ہو کر نہیں رہ جاتے بلکہ کچھ نہ کچھ راشن آپ کو ملتا ہی رہتا ہے ۔ اور اسی پر اکتفا کرکے ہمارے ہاں مزاحیہ شاعر اپنے غموں پہ روتے ہیں لے کر "کسی" کا نام۔ یعنی بیگم کا نام۔ مزاحیہ شاعروں سے اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ آپ کی شاعری صرف بیگم صاحبہ کے ارد گرد ہی کیوں گھومتی ہے تو وہ مسکرا کر کہتے ہیں کہ زندگی کا لطف انہی کھٹی میٹھی باتوں میں ہے۔ اور دل میں کہتے ہیں کہ :

یہ درد کے ٹکڑے ہیں، اشعار نہیں ساغر
ہم کانچ کے دھاگوں میں زخموں کو پروتے ہیں

ہمارا خیال ہے کہ اکثر سنجیدہ شاعر ،شادی کے بعد مزاحیہ شاعری صرف اس لئے کرنے لگتے ہیں کہ اُن کے خیالات پر گرفت ہونے لگے تو وہ کھسیا کر کہیں کہ بھئی یہ تو مزاحیہ شاعری ہے اور مزاحیہ شاعری ایسی ہی ہوتی ہے۔ یعنی بزبانِ حال کہتے نظر آتے ہیں کہ :

اشعار کے پردے میں ہم "کِن" سے مخاطب ہیں
اللہ کرے ہرگز وہ جان نہیں پائیں

کچھ لوگ البتہ شادی کے بعد بھی سنجیدہ شاعری ہی کرتے ہیں لیکن حالات کی ستم ظریفی کے سبب سامعین اُن کی شاعری پر ہنسنے لگتے ہیں اور وہ بے چارے تلملاتے ہوئے مسکراتے ہیں اور مسکرا کر کہتے ہیں کہ یہ مزاحیہ کلام ہی تھا۔

یوں تو ہماری قوم کے لوگ اتنے سفاک اور ظالم نہیں ہیں کہ دوسروں کے غموں پر ہنسنا شروع کر دیں لیکن کیا کیا جائے کہ شادی شدہ لوگوں کے دُکھ کنواروں کو سمجھ نہیں آتے سو وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے مسکرا دیتے ہیں اور شادی شُدہ لوگ چونکہ خود بُھگت کر بیٹھے ہوتے ہیں سو اُن کی ہنسی خودبخود نکل جاتی ہے۔

شادی شدہ شاعروں کو ہمارا مشورہ یہ ہے کہ وہ اپنی بیاض بیگموں سے چھپا کر رکھیں کہ اگر وہ غریب ملی نغمہ بھی لکھیں گے تو اُس پر بھی اُن کی گرفت ہو سکتی ہے کہ ملی نغمہ تو چلو ٹھیک ہے لیکن اس میں فضا، کہکشاں، خوشبو اور چاندنی وغیرہ کا اس قدر ذکر کیوں ہے۔ اب اُنہیں کوئی کیا سمجھائے کہ ہمارے ہاں ایسے تمام الفاظ جو لطافت اور خوبصورتی کے استعارے ہوتے ہیں اُنہیں لڑکیوں کے ناموں کے لئے چُن لیا جاتا ہے یہاں تک بھی ٹھیک ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ یہی لڑکیاں آگے جا کر بیویاں بن جاتی ہیں اور تمام تر جمالیاتی احساسات اور لطافتوں سے عاری و بھاری ہو جاتی ہیں۔

اگر آپ ایک خاتون ہیں او ر ابھی تک یہ تحریر پڑھ رہی ہیں تو ہم اس بات کا اعتراف ضرور کریں گے کہ خواتین میں جمالیاتی حس ختم ہر گز نہیں ہوتی بلکہ اُن بے چاریوں کا مقصد صرف شوہروں کی "آؤٹ آف دی باکس" جمالیاتی حسیات کا قلعہ قمہ کر نا ہوتا ہے، جو کچھ ایسا غلط بھی نہیں ہوتا۔

یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ ہر شادی شدہ شاعر ملی نغمے ہی لکھ رہا ہو ۔ سو شاعروں کی بیویوں کو بھی اُن پر ظاہر ہونے والے جنوں کے آثار پر نظر رکھنی چاہیے اور یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اُن کے شوہرِ نامدار کو کون دیوانہ بنا رہا ہے۔ اس کی اشد ضرورت اسلئے بھی ہے کہ اس قسم کے دیوانے "بکار خیر "کافی ہشیار ہوتے ہیں۔

کچھ عاشقانہ شاعری کرنے والے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن کی شاعری پر شادی سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ۔ تاہم اس بارے میں ہم کچھ وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ ایسے حضرات قفس کو ہی آشیاں سمجھ بیٹھتے ہیں یا قفس کی تیلیوں کو دریچہ کور (window blinds) اور دریچہ کور کو پردہء سیمیں سمجھتے ہوئے اپنے تصورات کی دنیا کو مجسم کر لیتے ہیں۔ اور غالباً بڑے غرّے سے یہ کہتے ہوں گے کہ:

اے پردہ نشین تم کو یہ پردہ مبارک ہو
ہم اپنے تصور میں تصویر بنا لیں گے

اور یہ بھی کہ :

ہم پہ تو وقت کے پہرے ہیں "فلاں" کیوں چپ ہے

بہرکیف ،تمام گفتگو کو سمیٹتے ہوئے ہم بہ استفادہء شکیب تمام شادی زدہ شعراء کو مشورہ دیں گے کہ:

شاعری کیجے کہ یہ فطرتِ شاعر ہیں شکیب
جالے لگ جاتے ہیں جب بند مکاں ہوتا ہے

گفتگو کی اجازت تو ویسے بھی آپ کو خال خال ہی ملتی ہوگی۔

اُس راہ پہ جانے سے پہلے اسباب سنبھال کے رکھ لینا

غزل

اُس راہ پہ جانے سے پہلے اسباب سنبھال کے رکھ لینا
کچھ اشک فراق سے لے لینا، کچھ پُھول وصال کے رکھ لینا

اک عُمر کی محرومی اپنے سِینے میں چُھپانا مشکل ہے
جب حدِّ وضاحت آ جائے یہ تِیر نکال کے رکھ لینا

اک حیرت دل میں جھانکے گی آنکھوں میں ستارے ٹانکے گی
جو آنسو تم پر بھاری ہوں دامن میں اُچھال کے رکھ لینا

اک ایسی چُپ طاری کرنا جیسے گویائی سے عاری ہو
خاموشی کے گہوارے میں آوازیں پال کے رکھ لینا

چہرے سے خوشی ثابت کرنا جیسے ہر دُکھ سے غافل ہو
ہاں بابِ تخاطب آئے تو الفاظ ملال کے رکھ لینا

وہ شام بہت جلد آئے گی جو تم کو تم سے ملائے گی
اُس شام تم اپنی آہوں سے کچھ نغمے ڈھال کے رکھ لینا

اس کارِ جہاں کی وحشت پر جب کوئی دستاویز لکھو
سب سے آخر میں کچھ صفحے اپنے احوال کے رکھ لینا

تائید کے سنّاٹے سے اُٹھو، تردید کے شور میں آ جاؤ
اک تلخ جواب سے بہتر ہے الزام سوال کے رکھ لینا

یہ خوابوں، زخموں، داغوں کی ترتیب مناسب ہے لیکن
اس زادِ سفر میں عزمؔ کہیں کچھ صدمے حال کے رکھ لینا

عزم بہزادؔ

تو مِرا انتخاب ہے شاید


ایک شخص نے کسی بزرگ سے پوچھا کہ اگر سب کچھ تقدیر میں ہی لکھا ہے تو پھر انسان کا اختیار کیا معنی رکھتا ہے۔ بزرگ نے اُس شخص سے کہا کہ تم اپنا ایک پیر اوپر اُٹھاؤ۔ تو اُس نے پیر اوپر اُٹھا لیا، پھر بزرگوار نے فرمایا کہ اب دوسرا پیر بھی اُٹھا لو تو وہ شخص ہڑبڑا گیا اور کہنے لگا دوسرا پیر کیسے اُٹھاؤں۔ بزرگ نے کہا بس یہی تیرا اختیار ہے یعنی ایک پیر تو اپنی مرضی سے اُٹھا سکتا ہے اور تجھ سے اس ایک قدم کی بابت ہی پرسش ہونی ہے۔

میں سوچتا ہوں کہ یہ نصف اختیار تو اُس مالک نے دیا ہے کہ جو اپنے بندے پر مہربان ہے۔ لیکن ہمارے ظالم اور جابر سیاسی اور نام نہاد جمہوری نظام نے لوگوں کو اتنا اختیار بھی نہیں دیا۔ ہر پانچ سال بعد انتخابات ہوتے ہیں اور عوام کو یہ باور کروایا جاتا ہے کہ اُنہوں نے اگلے پانچ سال کے لئے اپنے نمائندوں کا انتخاب کرنا ہے۔ عوام کی ایک بڑی تعداد پولنگ اسٹیشن پر جاتی بھی ہے اور اُن میں سے کچھ اپنی مرضی کے نمائندوں کو ووٹ ڈالنے میں کامیاب بھی ہو جاتی ہے۔ تاہم یہ اُن کی خام خیالی ہی ہوتی ہے کہ اُن کے ووٹ سے آئندہ سیٹ اپ میں کوئی خاص فرق پڑے گا۔

ہمارے سیاسی و انتخابی نظام میں بہت سی خامیاں ہیں۔ اور اکثر خامیاں ایسی ہیں کہ جن کی وجہ سے انتخابات کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔

جمہور کا انتخابی شعور

جمہوریت گنتی جانتی ہے یعنی جمہوریت کی نظر میں دس ہاتھی اور دس لگڑ بگے ایک برابر ہیں ۔ جہاں عدد ہی سب کچھ ہے اور عددی برتری چیونٹیوں کو چیتوں پر حکمران ٹھہرا سکتی ہے وہاں کیا حکومت بنے گی اور کیسے چلے گی سب سمجھ سکتے ہیں۔ ایسے میں جس ملک کی شرحِ خواندگی شرمناک حد تک کم ہو وہاں ووٹ دینے والے کی اپنی قابلیت پر ہی سوال اُٹھتا ہے کہ وہ کسے منتخب کرے گا اور انتخاب کرتے وقت اُس کی ترجیحات کیا ہوں گی۔

اگر آپ کو اس بات کی حقانیت پر یقین نہ ہو تو ذرا پاکستانیوں کا ٹریک ریکارڈ دیکھ لیجے جہاں بیشتر ووٹ تعصب کی بنیاد پر پڑتے ہیں۔ جہاں کہیں ہماری برادری کا آدمی، ہماری زبان بولنے والا یا ہمارے شہر کا بندہ کھڑا ہو تو پھر ووٹ اُسی کا ہے۔ اُس شخص کی قابلیت کیا ہے ، کردار کیسا ہے اور اُس کی اگلی پچھلی کارکردگی کیسی ہے سب باتیں پسِ پشت ڈال دی جاتی ہیں۔ پھر تعصب تو رہا ایک طرف یہاں تو ایک پلیٹ بریانی ہی ووٹ کا فیصلہ کرنے میں قاطع بُرہان ثابت ہوتی ہے۔

سیاسی جماعتوں میں طاقت کے استعمال کا رجحان

ہمارے ہاں کم و بیش ہر سیاسی جماعت کے پاس اپنا کرمنل ونگ ہوتا ہے۔ ہر سیاسی جماعت نے اپنے غنڈے، اپنے لٹھیت رکھے ہوئے ہوتے ہیں ۔ جو ہر تنازعہ کا فیصلہ اسلحہ اور زورِ بازو پر کرنے کا ہنر جانتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کی طرف سے آنکھ بند کیے رکھنے کو ہی اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ نتیجتاً کوئی شریف آدمی انتخابات لڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ بافرض محال اگر کوئی شخص ان زور آور جماعتوں کی مخالفت میں کمر بستہ ہو ہی جائے تو پھر اُسے ان سیاسی جماعتوں کے بد فطرت غنڈے نشانِ عبرت بنا دیتے ہیں ۔ آپ خود بتائیے کہ ایسی سیاسی جماعتیں انتخابات جیت کر کون سا کارنامہ سر انجام دیتی ہیں۔ 

انتخابی مہمات میں دھن دولت کا بے تحاشا استعمال

ہمارے ہاں انتخابی مہم چلانے کے لئے تمام تر جماعتیں لاکھوں نہیں کروڑوں، اربوں روپے خرچ کرتی ہیں ۔ ایک ایک جلسے پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ پوسٹرز ، بینرز، جلسے کے انتظامات، ٹرانسپورٹ، بریانی کی دیگیں اور لفافے۔ یہی سب کچھ ریلیوں اور دھرنوں میں ہوتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا کہ آخر اتنا پیسہ ان جماعتوں کے پاس سے آتا کہاں سے ہے کہ ان لوگوں کےٹیکس گوشوارے تو اُنہیں سفید پوش ثابت کرنے میں بھی ناکام ہو جاتے ہیں۔

پھر دوسری بات یہ ہے کہ پانی کی طرح پیسہ بہا کر اقتدار میں آنے والوں کا مطمحِ نظر آخر ہوتا کیا ہے۔ کیا یہ سب اتنے ہی سیدھے ہیں کہ عوام کی خدمت کے لئے مرے جا رہےہیں یا پھر اقتدار ان کی "سرمایہ کاری" کا پھل کھانے کا نام ہے۔

اب آپ بتائیے کیا کوئی غریب آدمی اپنی پارٹی بنانے یا انتخابات لڑنے کا سوچ بھی سکتا ہے ۔ یقینا ً نہیں۔ جب تک یہی نظام ہے اُسے سوچنا بھی نہیں چاہیے۔

غیر شفاف انتخابی عمل

پاکستان وہ ملک ہے کہ جہاں ووٹر کے ہاتھ سے بیلٹ پرچی لے کر اُسے کہا جاتا ہے کہ آپ آرام سے گھر جائیے آپ کا ووٹ ڈل جائے گا۔ چلیے یہ ایک انتہائی مثال ہے لیکن افسانوی ہر گز نہیں ہے۔ پاکستان میں حلقہ بندی سے لے کر انتخابی فہرستوں تک ہر ہر موڑ پر بے ایمانی ہوتی ہے ۔ ایک طرف ایک شخص اپنا جائز ووٹ ڈالنے کے لئے بھی سارا دن خوار ہوتا رہتا ہے تو دوسری طرف انتخابی جماعتوں کے ہرکارے اُن لوگوں کے ووٹ بھی اپنے نام کر لیتے ہیں کہ جنہیں مرے ہوئے کئی کئی سال ہو جاتے ہیں۔

عمران خان نے انتخابات میں دھاندلی کے خلاف بہت طویل مہم چلائی اور بایو میٹرک سسٹم نافذ کرنے پر زور دیا ۔ لیکن عمران خان کی دھاندلی کے خلاف مہم بھی صرف سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہی ثابت ہوئی اور اُنہوں نے بائیو میٹرک نظام کے نفاظ کے لئے کوئی ایماندارانہ کوشش کی ہی نہیں۔ باقی جماعتیں تو خیر چاہتی ہی نہیں ہیں کہ انتخابات میں شفافیت کے امکانات فزوں تر ہوں۔

غیر سیاسی عناصر کی مداخلت

ہمارےہاں سیاست میں غیر سیاسی عناصر کی مداخلت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ برسوں سے یہ لوگ سیاسی معاملات میں کبھی بلواسطہ اور کبھی بلاواسطہ دخل اندازی کرتے رہے ہیں ۔ اور پہلے جو بات ڈھکی چھپی ہوتی تھی وہ اب ویسی ڈھکی چھپی بھی نہیں رہی۔ غیر سیاسی عناصر کی بے جا مداخلت، مختلف سیاسی تنظیموں کا قیام اور اُن کی دانستہ ترقی و ترویج ہی وہ عمل ہے کہ جس کے باعث پاکستان میں فطری سیاسی نظام پنپ ہی نہیں سکا اور ہر آنے والی سیاسی جماعت کو اسی بے ساکھی کا سہارا لینا پڑا ۔ بے ساکھی کے سہارے آنے والے کسی اور کا کیا سہارا بنیں گے اس بات کا اندازہ کوئی بھی لگا سکتا ہے۔

ان سب باتوں کے باوجود جب ہمارے منتخب حکمران ہمیں آکر کہتے ہیں کہ ہم ووٹ کی طاقت سے اقتدار میں آئے ہیں تو مجھے بہت ہنسی آتی ہے ۔ اور میں سوچتا ہوں کہ اگر موجودہ سیاسی نظام میں مجھے پوری طرح ایک پیر اُٹھانے کا اختیار حاصل ہوتا تو میرا یہی پیر میرے ممدوح کے حق میں فلائنگ کک ثابت ہوتا۔ لیکن:


ع ۔ حسرت اُن غنچوں پہ ہے

کھلونے


کھلونوں کی دکانوں میں کھلونے ہی کھلونے ہیں
ہزاروں رنگ ہیں انکے ، ہزاروں روپ ہیں انکے
کبھی ہنستے، کبھی روتے، کبھی نغمے سناتے ہیں
چمکتی موٹروں میں آنے والے خوش لباس و خوش نما بچے
جدھر دیکھیں جہاں پر ہاتھ رکھ دیں ، ان کھلونوں کے
وہی مالک، وہی قابض، وہی آقا ٹھرتے ہیں
وہ چاہیں تو کسی لمحے
جسے چاہیں اٹھائیں اور چکنا چور کر ڈالیں

کھلونوں کی دکانوں میں وہ گڈّے اور گڑیاں اب نہیں  ملتے
کے جو پھٹتے لحافوں سے روئی کے گچھوں
پرانی دھجیوں سے مل کے بنتے تھے
محلے بھر کے بچے جن کی شادی میں باراتی بن کے آتے تھے
تو ایسی ہی مسرت سے بھری دنیا کی بانہوں میں
جواں ہوتے تھے وہ لاکھوں، کروڑوں خوش نظر بچے
کے جو اپنے انہی خود ساختہ ، بھدے نہایت ان گھڑے
سستے کھلونوں کو متاعِ جاں سمجھتے تھے
انہیں اپنے شکستہ گھر کے طاقوں ، کھڑکیوں، الماریوں
میں یوں سجاتے تھے
کے جیسے ان سے بہتر چیز دنیا میں کہاں ہوگی
یہی بچے جو اب حسرت بھری دزدیدہ نظروں سے
کھلونوں کی دکانوں میں کبھی جو جھانکنا چاہیں
تو انکو ایسا کرنے کی اجازت ہی نہیں ملتی
کے شیلفوں میں سجا اک بھی کھلونا انکے وارے میں نہیں ہوتا
یہ دنیا ایسی منڈی ہے
بلا قیمت جہاں انسان بیچے جا تو سکتے ہیں
کھلونوں کا مگر سودا خسارے میں نہیں ہوتا
زمانے بھر کے بچوں کا یہ مشترکہ وتیرہ ہے
کھلونے جب ملیں انکو تو وہ خوش ہو کے ہنستے ہیں
مگر جب ان کھلونوں سے بھری اونچی دکانوں سے
پلٹتے پھول سے بچے ، تہی دامان آتے ہیں
نم آنکھوں میں ، بھرے آنسو، بہ صد مشکل چھپاتے ہیں
تو لگتا ہے
کہ بچے اب نہیں ہنستے
کھلونے ان پہ ہنستے ہیں

امجد اسلام امجد
ٰImage Courtesy

چاند میں تو کئی داغ ہیں


2013ء میں جب پاکستان میں الیکشن کا انعقاد ہوا تو اُس وقت عمران خان کی تحریکِ انصاف ایک بڑی قوت بن کر اُبھری اور گمان تھا کہ یہ میدان بھی مار جائے لیکن نتائج کچھ مختلف رہے۔

اس وقت عمران خان کے حامیوں کا دعویٰ یہ تھا کہ عمران خان جیسے بھی ہیں لیکن دوسرے دستیاب آپشنز سے بہرکیف بہتر ہیں۔ یعنی بُروں میں سب سے اچھے عمران خان ہیں۔ یا یوں کہیے کہ بہت سے برے آپشنز میں سے وہ نسبتاً بہتر ہیں۔ اگر بات الیکشن تک رہتی تو شاید تحریک انصاف کامیاب بھی ہو جاتی لیکن سیلیکشن کے مرحلے میں آکر انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور وزیرِ اعظم بننے کی حسرت دل میں ہی رہ گئی۔ الغرض دلہن وہی بنی جو پیا من بھائی ! اور عمران خان دلہن نہ بن پائے تو ولن بن گئے اور آنے والی حکومت کے پیچھے پڑ گئے۔

عمران خان نے اپنے مخالفین کو کافی شدید زک پہنچائی اور اُن کی بے انتہا کردار کشی کی ۔ اور اسی وجہ سے اور کچھ اُن کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے اُن کا اپنا کردار بھی نظریاتی لوگوں کی نظر میں تاراج ہو گیا، اور عمران خان 2013ء کی طرح لوگوں کے ذہن میں نجات دہندہ رہبر نہیں رہے بلکہ بہت سے آپشنز میں سے ایک آپشن بن گئے۔

انہوں نے بہت تیزی کے ساتھ اپنی جماعت میں الیکٹیبلز کے نام پر لوٹے بھرتی کیے اور پرانے نظریاتی کارکنوں کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ اُن کے نظریات ہمیشہ افراط و تفریط کا شکار رہے اور وہ کبھی یکسو ہو کر کوئی مثبت کام نہیں کر پائے۔ خیبر پختونخواہ میں اُن کی صوبائی حکومت کی شہرت گو کہ باقی تمام صوبوں سے بہتر ہے تاہم وہ خیبر پختونخواہ کو وہ نمونہ نہیں بنا سکے کہ جسے دیکھ آئندہ انتخابات میں اُنہیں ووٹ دیے جا سکیں۔ 


وہ ابھی بہت سے بدترین لوگوں سے بہت بہتر ہیں لیکن درحقیقت صاحبِ کردار لوگ ایسے لوگوں سے اپنے تقابلی جائزے ہی کو اپنے لئے باعثِ شرم جانتے ہیں۔ بہرکیف شنید ہے کہ اس بار پیا کے من میں بھی تبدیلی کی جوت جگی ہے اور وہ نئی دلہن کی طرف راغب ہیں۔ تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان ایک بار پھر ایک نظریاتی جماعت سے محروم ہو گیا ہے۔

سائے میں پڑی لاشیں


سندھی زبان کا ایک مشہور مقولہ ہے کہ حق بات اپنی جگہ لیکن ساتھ بھائی کا دیں گے۔ اس سے آپ یہ ہر گز نہ سمجھیے گا کہ تعصب پر سندھی بولنے والوں کی ہی اجارہ داری ہے بلکہ یہ بیماری تو ہمارے ہاں موجود ہر قوم میں کسی نہ کسی شکل میں پھیلی ہوئی ہے۔

تعصب عدل کو معزول کر دیتا ہے ۔ یوں تو عدل اور تعصب دونوں ہی اندھے ہوتے ہیں لیکن عدل سب کے لئے کورچشم ہوتا ہے تاہم تعصب اندھا ہوتے ہوئے بھی اتنا ضرور دیکھ لیتا ہےکہ کون اپنا ہے اور کون پرایا اور کسے ریوڑھیاں بانٹنی ہے اور کسے نہیں۔

ہم بڑے عجیب لوگ ہیں، ہم اپنی معاملے میں عدل چاہتے ہیں لیکن دوسروں کے معاملے میں تعصب سے کام لیتے ہیں۔ جب مصیبت ہم پر آ پڑتی ہے تو ہم انصاف انصاف کی دُہائی دیتے نظر آتے ہیں ۔ لیکن جب بات کسی اور کی ہو تو ہم سوچتے ہیں کہ صاحبِ معاملہ کون ہے۔ کہاں کا رہنے والا ہے؟ کون سی زبان بولتا ہے؟ کس رنگ و نسل کا ہے؟ حتیٰ کہ ہمارے علاقے کا ہے یا کہیں اور کا۔ ہمارے صوبے کا ہے یا کہیں اور کا؟ ہمارے شہر کا ہے یا کہیں اور کا؟

پھر اگر کوئی آپ کا اپنا معاملے کا فریق بن جائے تو پھر آپ عدل سے آنکھیں چرا کر اپنے پرائے کو ہی حق و باطل کا معیار بنا لیتے ہیں۔ آپ کا اپنا ؟ آپ کا اپنا کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ آپ کا بھائی، آپ کا رشتہ دار، آپ کے محلے پڑوس کا کوئی شخص ، آپ کا کوئی ہم زبان، ہم رنگ و نسل۔ پھر آپ بھول جاتے ہیں کہ دنیا میں عدل و انصاف نام کی بھی کوئی شے ہے۔ بس جو اپنا ہے وہ ٹھیک ہے اور دوسرا وہ شخص جو آپ سے کوئی نسبت نہیں رکھتا حق پر ہوتے ہوئے بھی ، غلط ہے ۔ ظالم ہے۔

ہم لوگ اکثر روتے ہیں کہ ہمارے ہاں ظلم بڑھ گیا ہے۔ ہمارے ہاں عدل و انصاف نام کی کوئی چیز باقی ہی نہیں رہی ہے۔ لیکن کیا ہم واقعی عدل کو پسند کرتے ہیں۔ عدل جو اندھا ہوتا ہے، جسے اپنے پرائے کی کوئی تمیز نہیں ہوتی۔ جو کبھی ذات پات، رنگ ونسل، علاقہ و لسان کسی چیز سے علاقہ نہیں رکھتا۔

ہم کہتے ہیں ہمارے ہاں عدل کا حصول ممکن نہیں ہے۔ یہاں تو بس جان پہچان چلتی ہے، یہاں تو سیاسی وابستگی کام آتی ہے یہاں ہمارے لئے عدل کا حصول ممکن نہیں۔ یہ بات بھی ٹھیک ہے۔ لیکن کیا ہم اپنے معاملے میں تعصب کو برا سمجھتے ہیں۔

یا ہم نے سارے معیار صرف اس لئے وضع کیے ہیں کہ اُن سے دوسروں کی پیمائش کی جاتی رہے اور ہماری باری پر ہمیں استثنیٰ مل جائے۔

*****بہرکیف اگر آپ کسی سے تعصب برتتے بھی ہیں تو اس سے مجھے کوئی غرض نہیں ہے کہ روزِ حشر اس کے جواب دہ آپ خود ہوں گے تاہم آپ کا یہ تعصب آپ کے دشمنوں کے لئے ہی نقصان دہ نہیں ہے بلکہ یہ آپ کے اپنے لئے بھی زہرِ قاتل ہے۔

وہ کیسے؟ وہ ایسے کہ آپ کے سیاست دان آپ کی تعصب کی بیماری سے بہت زیادہ فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ آپ کو رنگ و نسل اور زبان و علاقے کی بنیاد پر تقسیم کرتے ہیں اور اِسی برتے پر آپ کا قیمتی ووٹ لے اُڑتے ہیں۔ اور آپ؟

آپ اتنے سیدھے سادھے ہیں کہ آپ اس سے پوچھتے تک نہیں کہ ٹھیک ہے تم میری قوم سے ہو لیکن پچھلے پانچ سال تمہاری کیا کارکردگی رہی؟ اگلے پانچ سال کے لئے تمہار ا کیا منشور ہے؟ جس منصب پر پہنچنے کے لئے تم میرا ووٹ طلب کر رہے ہو کیا تم اُس کے اہل بھی ہو ۔ یا تمہاری اہلیت صرف یہ ہے کہ تم میری قوم سے ہو، یا میری زبان بولتے ہو۔

کہتے ہیں کہ اپنا تو مار کر بھی سائے میں ڈالتا ہے تو پھر سمجھ لیجے کہ آپ پاکستانیوں کا جو حال ہے وہ سائے میں پڑی لاشوں سے بہتر نہیں ہے جنہیں اُن کے 'اپنوں'نے مار کر بہت محبت سے سائے میں ڈالا ہے۔

یقین کیجے آپ کی آنکھیں بہت اچھا دیکھ سکتی ہے، بس ایک بار تعصب کی ہری نیلی پیلی عینکیں اُتار کر دیکھنے کی ہمت کیجے۔ تب آپ کو اپنوں میں غیر اور غیروں میں موجود اپنے نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔

قتیل شفائی کی سدا بہار غزل

غزل
جب بھی چاہیں اِک نئی صورت بنا لیتے ہیں لوگ
ایک چہرے پر کئی چہرے سجا لیتے ہیں لوگ
مل بھی لیتے ہیں گلے سے اپنے مطلب کیلئے
آ پڑے مشکل تو نظر یں بھی چُرا لیتے ہیں لوگ
خود فریبی کی انھیں عادت سی شاید پڑ گئی
ہر نئے رہزن کو سینے سے لگا لیتے ہیں لوگ
ہے بجا اِن کی شکایت لیکن اس کا کیا علاج
بجلیاں خود اپنے گلشن پر گرا لیتے ہیں لوگ
ہو خوشی بھی ان کو حاصل یہ ضروری تو نہیں
غم چھپانے کیلئے بھی مسکرا لیتے ہیں لوگ
اس قدر نفرت ہے ان کو تیرگی کے نام سے
روزِ روشن میں بھی اب شمعیں جلا لیتے ہیں لوگ
یہ بھی دیکھا ہے کہ جب آجائے غیرت کا مقام
اپنی سولی اپنے کاندھے پر اُٹھا لیتے ہیں لوگ
روشنی ہے اُن کا ایماں روک مت اُن کو قتیلدل جلاتے ہیں یہ اپنا ،تیرا کیا لیتے ہیں لوگ
قتیل شفائی

غزل ۔ ہے کون کون اہلِ وفا دیکھتے رہو​ ۔ امجد علی راجاؔ


امجد علی راجا بہت اچھے شاعر ہیں۔ گو کہ ان کی شہرت ان کا ظریفانہ کلام ہے تاہم سنجیدہ شاعری میں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ امجد علی راجا صاحب کی ایک غزل آپ کی نذر:
غزل

ہے کون کون اہلِ وفا دیکھتے رہو​دیتا ہے کون کون دغا دیکھتے رہو​​پوچھا جو زندگی سے کہ کتنے ستم ہیں اور​بس مسکرا کر اس نے کہا، دیکھتے رہو​​رکھا کسی نے بام پہ ٹوٹا ہوا چراغ​اور ہے غضب کی تیز ہوا، دیکھتے رہو​​اٹکی ہوئی ہے جان مرے لب پہ چارہ گر​شاید وہ آہی جائے ذرا دیکھتے رہو​​انجام ہے تباہی تکبر ہو یا غرور​ہر شخص بن گیا ہے خدا، دیکھتے رہو​​عریاں ہوا ہے حسن نمائش کے شوق میں​نایاب ہو گئی ہے حیا، دیکھتے رہو​​کرتے ہو حق کی بات ستمگر کے روبرو​راجا تمہیں ملے گی سزا دیکھتے رہو​
امجد علی راجاؔ​

شاعر: امجد علی راجا

دماغ آفریدی خلل آفریدم


حضرتِ اقبال کی خوبصورت نظم کا بہت ہی خوب بیڑہ غرق کیا ہے جناب رشید عبد السمیع جلیل صاحب نے؛ آپ کی خدمت میں پیش ہے۔ ملاحظہ فرمائیے۔ 
دماغ آفریدی خلل آفریدمکروں جلد شادی یہ حل آفریدم
'جہاں را زِ یک آب و گل آفریدی'اسی آب و گل سے محل آفریدم
'تو از خاک فولادِ ناب آفریدی'میں دھونے دھلانے کو نل آفریدم
تو دنیا میں لاکھوں حسیں آفریدیمیں دل میں ہزاروں کنول آفریدم
تو فردوس و خلدِ بریں آفریدیزمیں پر میں نعم البدل آفریدم
تری حکمتیں بے نہایت الٰہیمیں از روئے حکمت کھرل آفریدم
مجھے رات دن چاہیے بے خودی سیاسی واسطے الکحل آفریدم
رشید عبدالسمیع جلیل

وہ جھانسہ دے کے غائب ہے سرِ بازار می رقصم

نمکین غزل
وہ جھانسہ دے کے غائب ہے سرِ بازار می رقصمبھروسہ کرکے دھوکہ باز پر بے کار می رقصم
سناتا ہوں میں ہر محفل میں اکلوتی غزل اپنینہیں ملتی اگر کچھ داد تو سو بار می رقصم
کیا کرتے تھے اوور ٹیک جاو پر حسینوں کوہوئی آٹو کی وہ ٹکر کہ آخر کار می رقصم

وہ رکشے پر گزرتی ہے میں پیدل ٹاپ لیتا ہوںخیالوں میں پکڑ کر دامنِ دلدار می رقصم
نشہ اُترا تو بتلایا مجھے لوگوں نے آ آ کربہت اچھلم، بہت کودم برہنہ وار می رقصم
جہاں بجتی ہے شہنائی جلیل اکثر یہ دیکھا ہےادھر پتلون می رقصم ادھر شلوار می رقصم 
رشید عبدالسمیع جلیل 

Pages