محمد احمد (رعنائیِ خیال)

اپنا گھر چھوڑ کے ہم لوگ وہاں تک پہنچے ۔ اقبال عظیم

غزل
اپنا گھر چھوڑ کے ہم لوگ وہاں تک پہنچےصبحِ فردا کی کِرن بھی نہ جہاں تک پہنچے
میں نے آنکھوں میں چھپا رکھے ہیں کچھ اور چراغروشنی صبح کی شاید نہ یہاں تک پہنچے
بے کہے بات سمجھ لو تو مناسب ہوگااس سے پہلے کہ یہی بات زبان تک پہنچے
تم نے ہم جیسے مسافر بھی نہ دیکھے ہوں گےجو بہاروں سے چلے اور خزاں تک پہنچے
آج پندارِ تمنّا کا فسُوں ٹُوٹ گیاچند کم ظرف گِلے نوکِ زبان تک پہنچے
اقبال عظیم
بشکریہ تابش صدیقی بھائی

پاپ کورن کی خوشبو


ابھی میں مغرب پڑھ کر مسجد سے نکلا ہی تھا کہ چند قدم چلنے کے بعد پاپ کورن کی بھینی بھینی خوشبو آنے لگی۔ پاپ کورن چاہے آپ کو کھانے میں اتنے اچھے نہ لگیں لیکن اس کی خوشبو ایسی ہوتی ہے کہ یہ دور سے ہی آپ کو اپنی طرف کھینچتی ہے یا شاید ہر اچھی خوشبو کا یہی حال ہوتا ہے۔

میں کچھ کھانے پینے کے موڈ میں تو نہیں تھا لیکن پھر بھی بے اختیار پاپ کورن والے کے پاس پہنچ گیا۔ میں نے دس روپے نکال کر اُس کی طرف بڑھائے تو مجھے خیال آیا کہ شاید یہ پاپ کارن والا کہے کہ بھائی کم از کم بیس روپے کے لو۔ لیکن اُس نے ایسا کچھ نہیں کہا اور ایک کاغذ کا لفافہ نکال کر اُس میں پاپ کورن ڈالنے لگا۔ لفافہ زیادہ چھوٹا نہیں تھا بلکہ دس روپے کے اعتبار سے کافی مناسب ہی تھا۔ اُس نے دو تین بار لفافے میں پاپ کورن ٹُھونسنے کی کوشش کی اور اُوپر تک بھرنے لگا۔


مجھے حیرت ہوئی کہ آج کل تو لوگ کوشش کرتے ہیں کہ بس پیسے لے لیں اور چیز ہی نہ دیں یا دیں بھی تو کہیں نہ کہیں ڈنڈی مار دیں۔ پھل والے اور سبزی والے اس زور سے تھیلی ترازو میں پھینکتے ہیں کہ ترازو کا پلڑ ا جھکنے کے بعد اُٹھنے کی ہمت ہی نہیں کر پاتا اور اکثر دوکاندار ترازو کے قرار میں آنے سے پہلے ہی تھیلی اُٹھا کر آپ کے ہاتھ میں پکڑ ا دیتے ہیں۔ حد تو یہ کہ کچھ بے ایمان لوگ تو ترازو میں ہی کچھ نہ کچھ ایسی ترتیب کرتے ہیں کہ وزن میں کمی کی جا سکے۔ پھر چیز کے معیار میں بھی ہیر پھیر کرتے ہیں آگے والی ڈھیری میں تر و تازہ پھل لگا دیتے ہیں اور پیچھے سے گلے سڑے اُٹھا کر تولنا شروع کر دیتے ہیں۔ یعنی اگر آپ خریداری کرتے ہوئے ہوشیار نہیں ہیں تو زیادہ تر یہی ہوتا ہے کہ آپ خراب چیزیں اُٹھا کر گھر لے آتے ہیں۔

بہرکیف میں نے پاپ کورن والے سے کہا کہ "بھائی ! زیادہ مت بھرو مجھے اکیلے ہی کھانا ہے" تو وہ کہنے لگا کہ " اللہ کا فرمان ہے کہ پورا تولو!" اور پھراُس نے لفافہ اوپر تک بھر کر مجھے تھما دیا۔ مجھے بڑی خوش گوار حیرت ہوئی۔ آج کل کہاں ملتے ہیں ایسے لوگ۔

مجھے لگا کہ جیسے پاپ کورن کی خوشبو کے ساتھ اُس کے اخلاص کی خوشبو بھی فضا میں پھیلی ہوئی تھی جو لوگوں کو ہاتھ پکڑ کر اُس تک کھینچ لاتی تھی۔

انور شعور کا شعر یاد آگیا:

براہِ راست اثر ڈالتے ہیں سچے لوگکسی دلیل سے منوانے تھوڑی ہوتے ہیں


از محمد احمدؔ

دُکھ وہ سرسوں کہ ہتھیلی پہ جمائی نہ گئی ۔ راحیل فاروق

ہمارے بہت ہی عزیز دوست راحیل فاروق کی لاجواب غزلوں میں سے ایک شاہکار! قارئینِ رعنائیِ خیال کی نذر:

غزل
سات پردوں سے تری جلوہ‌نمائی نہ گئیدیکھ لی ہم نے وہ صورت جو دکھائی نہ گئی
داستاں ہجر کی کچھ یوں بھی ہوئی طولانیسنی ان سے نہ گئی ہم سے سنائی نہ گئی
کیا ہوا دل کے سمندر کا تلاطم جانےایک مدت سے تری یاد نہ آئی نہ گئی
ذکر اچانک ہی چھڑا اور قیامت کا چھڑامسکرایا نہ گیا بات بنائی نہ گئی
درد مندی نے کیے فاصلے آفاق کے طےآہ پہنچی ہے جہاں آبلہ پائی نہ گئی
فرقتوں کی یہی دیوار بلا ہے یا ربکل اٹھائے نہ اٹھی آج گرائی نہ گئی
دل وہ بھنورا ہے کہ نچلا نہیں بیٹھا دم بھردکھ وہ سرسوں کہ ہتھیلی پہ جمائی نہ گئی
دل سلگتا ہی رہا آنکھ برستی ہی رہیایک چنگاری ہی ساون سے بجھائی نہ گئی
عشق میں حسن ہے یا حسن میں ہے عشق نہاںوہ نظر مجھ سے پلٹ کر سوئے آئینہ گئی
دل کے آنے ہی میں چیں بول گئے راحیلؔ آپاتنی تکلیف بھی حضرت سے اٹھائی نہ گئی
راحیل فاروق


غزل۔ اپنے خونِ وفا میں نہائے ہوئے زخم اپنے بدن پر سجائے ہوئے ۔ اعجاز رحمانی

غزل
اپنے خونِ وفا میں نہائے ہوئے زخم اپنے بدن پر سجائے ہوئےقاتلوں سے کہو اب نہ زحمت کریں ہم صلیب اپنی خود ہیں اُٹھائے ہوئے
ہر زباں بے سُخن، ہر جبیں پر شکن وحشتِ رقص میں انجمن انجمناتنا غمناک ماحول ہے شہر کا اک زمانہ ہوا مُسکرائے ہوئے
معتبر کیا ہے اور کیا ہے نا معتبر، اپنا اپنا خیال اپنی اپنی نظرلوگ کانٹوں سے بچتے ہیں گلزار میں، ہم گلوں سے ہیں دامن بچائے ہوئے
ایک کیا سو نشیمن ہوں میرے اگر، وہ بھی قربان گلزار کے نام پرآشیاں کا مجھے غم نہیں ، غم یہ ہے، پھول شعلوں کی زد میں ہیں آئے ہوئے
سطحِ دریا ہے چشمِ تماشائی میں، جھانکتا کون ہے دل کی گہرائی میںاشک آنکھوں میں اس طرح محفوظ ہیں، جیسے موتی صدف ہو چھپائے ہوئے
رہگزاروں کے سب نقش معدوم ہیں، پیڑ ہیں بھی تو سائے سے محروم ہیںجن کو آتا ہے شیشہ گری کا ہنر، سنگ ہاتھوں میں ہیں وہ اُٹھائے ہوئے
ساغرِ شب کو لبریز کر دیں گے ہم، صبح کو رنگ آمیز کر دیں گے ہمضد پہ قائم ہیں اپنی ہوائیں اگر، مشعلِ جاں ہیں ہم بھی جلائے ہوئے
ہے اسی شہر کا نام شہرِ طرب، لوگ بھی ہیں عجب، شہر بھی ہے عجبپیار ہونٹؤں پہ ہے، پھول ہاتھوں میں ہے، آستیں میں ہیں خنجر چھپائے ہوئے
دل کی باتوں میں ہرگز نہ آئیں گے ہم، اب فریبِ تبسم نہ کھائیں گے ہمزندگی بھر کا اعجازؔ ہے تجربہ ، دوست دشمن ہیں سب آزمائے ہوئے
اعجاز رحمانی

بشکریہ : فلک شیر بھائی

کاپی پیسٹ اسپیشل

کرنل محمد خان کی ایک شاہکار تحریر
رضیہ ہماری توقع سے بھی زیادہ حسین نکلی اور حسین ہی نہیں کیا فتنہ گر قد و گیسو تھی۔

پہلی نگاہ پر ہی محسوس ہوا کہ initiative ہمارے ہاتھ سے نکل کر فریقِ مخالف کے پاس چلا گیا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ پہلا سوال بھی ادھر سے ہی آیا:

"تو آپ ہیں ہمارے نئے نویلے ٹیوٹر؟"

اب اس شوخ سوال کا جواب تو یہ تھا کہ "تو آپ ہیں ہماری نئی نویلی شاگرد؟"

لیکن سچی بات یہ ہے کہ حسن کی سرکار میں ہماری شوخی ایک لمحے کے لیئے ماند پڑ گئی اور ہمارے منہ سے ایک بے جان سا جواب نکلا:

" جی ہاں، نیا تو ہوں ٹیوٹر نہیں ہوں۔ مولوی صاحب کی جگہ آیا ہوں"

"اس سے آپ کی ٹیوٹری میں کیا فرق پڑتا ہے؟"

"یہی کہ عارضی ہوں"

"تو عارضی ٹیوٹر صاحب۔ ہمیں ذرا اس مصیبت سے نجات دلا دیں"

رضیہ کا اشارہ دیوانِ غالب کی طرف تھا۔ میں نے قدرے متعجب ہو کر پوچھا:

"آپ دیون غالب کو مصیبت کہتی ہیں؟"

"جی ہاں! اور خود غالب کو بھی،"

"میں پوچھ سکتا ہوں کہ غالب پر یہ عتاب کیوں؟:

"آپ ذرا آسان اردو بولیئے۔ عتاب کسے کہتے ہیں؟"

"عتاب غصے کو کہتے ہیں۔"

"غصہ؟ ہاں غصہ اس لئے کہ غالب صاحب کا لکھا تو شاید وہ خود بھی نہیں سمجھ سکتے۔ پھر خدا جانے پورا دیوان کیوں لکھ مارا؟:

"اس لئے کہ لوگ پڑھ کر لذت اور سرور حاصل کریں"

"نہیں جناب۔ اس لئے کہ ہر سال سینکڑوں لڑکیاں اردو میں فیل ہوں"

"محترمہ۔ میری دلچسپی فقط ایک لڑکی میں ہے، فرمایئے آپ کا سبق کس غزل پر ہے؟"

جواب میں رضیہ نے ایک غزل کے پہلے مصرع پر انگلی رکھ دی لیکن منہ سے کچھ نہ بولی۔ میں نے دیکھا تو غالب کی مشہور غزل تھی۔

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا

میں نے کہا:

"یہ تو بڑی لا جواب غزل ہے ذرا پڑھیئے تو۔"

"میرا خیال ہے آپ ہی پڑھیں ۔ میرے پڑھنے سے اس کی لا جوابی پر کوئی ناگوار اثر نہ پڑے"

مجھے محسوس ہوا کہ ولایت کی پڑھی ہوئی رضیہ صاحبہ باتونی بھی ہیں اور ذہین بھی لیکن اردو پڑھنے میں غالباً اناڑی ہی ہیں۔ میں نے کہا:

"میرے پڑھنے سے آپ کا بھلا نہ ہوگا۔ آپ ہی پڑھیں کہ تلفظ بھی ٹھیک ہو جائے گا"

رضیہ نے پڑھنا شروع کیا اور سچ مچ جیسے پہلی جماعت کا بچہ پڑھتا ہے۔

" یہ نہ تھی ہماری قس مت کہ وصل۔۔۔ ۔۔۔ ۔"

میں نے ٹوک کر کہا:

"یہ وصل نہیں وصال ہے، وصل تو سیٹی کو کہتے ہیں۔"

رضیہ نے ہمیں سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ ہم ذرا مسکرائے اور ہمارا اعتماد بحال ہونے لگا۔

رضیہ بولی:
"اچھا۔ وصال سہی۔ وصال کے معنی کیا ہوتے ہیں؟"

"وصال کے معنی ہوتے ہیں ملاقات، محبوب سے ملاقات۔ آپ پر مصرع پڑھیں۔"

رضیہ نے دوبارہ مصرع پڑھا۔ پہلے سے ذرا بہتر تھا لیکن وصال اور یار کو اضافت کے بغیر الگ الگ پڑھا۔ اس پر ہم نے ٹوکا۔

"وصال یار نہیں وصالِ یار ہے۔ درمیان میں اضافت ہے۔"

"اضافت کیا ہوتی ہے؟ کہاں ہوتی ہے؟"

"یہ جو چھوٹی سی زیر نظر آرہی ہے نا آپ کو، اسی کو اضافت کہتے ہیں۔"

"تو سیدھا سادا وصالے یار کیوں نہیں لکھ دیتے؟"

"اس لئے کہ وہ علما کے نزدیک غلط ہے۔"۔۔۔ ۔۔۔ یہ ہم نے کسی قدر رعب سے کہا۔

علما کا وصال سے کیا تعلق ہے؟"

" علما کا تعلق وصال سے نہیں زیر سے ہے۔"

"اچھا جانے دیں علما کو۔ مطلب کیا ہوا؟"

"شاعر کہتا ہے کہ یہ میری قسمت ہی میں نہ تھا کہ یار سے وصال ہوتا۔"

"قسمت کو تو غالب صاحب درمیان میں یونہی گھسیٹ لائے، مطلب یہ کہ بے چارے کو وصال نصیب نہ ہوا"

"جی ہاں کچھ ایسی ہی بات تھی۔"

"کیا وجہ؟"

"میں کیا کہہ سکتا ہوں؟"

"کیوں نہیں کہہ سکتے ۔ آپ ٹیوٹر جو ہیں۔"

"شاعر خود خاموش ہے۔"

"تو شاعر نے وجہ نہیں بتائی مگر یہ خوش خبری سنادی کہ وصال میں فیل ہوگئے؟"

" جی ہاں فی الحال تو یہی ہے۔ آگے پڑھیں۔"

رضیہ نے اگلا مصرع پڑھا۔ ذرا اٹک اٹک کر مگر ٹھیک پڑھا:

اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

میں نے رضیہ کی دلجوئی کے لئے ذرا سرپرستانہ انداز میں کہا:

"شاباش، آپ نے بہت اچھا پڑھا ہے۔"

"اس شاباش کو تو میں ذرا بعد میں فریم کراؤں گی۔ اس وقت ذرا شعر کے پورے معنی بتادیں۔"

ہم نے رضیہ کا طنز برداشت کرتے ہوئے کہا:

"مطلب صاف ہے، غالب کہتا ہے قسمت میں محبوبہ سے وصال لکھا ہی نہ تھا۔ چنانچہ اب موت قریب ہے مگر جیتا بھی رہتا تو وصال کے انتظار میں عمر کٹ جاتی۔"

" توبہ اللہ، اتنا Lack of confidence یہ غالب اتنے ہی گئے گزرے تھےِ؟"

گئے گزرے؟ نہیں تو۔۔۔ غالب ایک عظیم شاعر تھے۔"

"شاعر تو جیسے تھے، سو تھے لیکن محبت کے معاملے میں گھسیارے ہی نکلے"

بشکریہ

شکرقندی کا المیہ

شکرقندی کا المیہمرتضیٰ برلاس سے معذرت کے ساتھ
سبزیوں کے حلقے میں، ہم وہ کج مقدر ہیں
گاجروں میں مولی ہیں، مولیوں میں گاجر ہیں



سرگوشی: شعر جو تختہء مشق بنا :)

دوستوں کے حلقے میں ہم و کج مقدر ہیں
افسروں میں شاعر ہیں، شاعروں میں افسر ہیںمرتضیٰ برلاس

احوالِ ملاقات . فیض صاحب سے معذرت کے ساتھ​ (تضمین)

احوالِ ملاقاتفیض صاحب سے معذرت کے ساتھ​
وہ تو کچھ چُپ چُپ رہی پر اُس کے پیارے بھائی نے‎چار چھ مکے بھی مارے، آٹھ دس لاتوں کے بعد‎اُس نے اپنے بھائی سے پوچھا یہ حضرت کون تھے؟"ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد"​
تضمین از محمد احمدؔ​

جوش ملیح آبادی اور فیس بک ۔۔۔ تحریف در غزلِ جوش

جوش ملیح آبادی کی ایک خوبصورت غزل کسی شوخ ساعت میں  ہماری مشقِ ستم کا شکار ہو گئی تھی۔ غزل کی اس تازہ شکل میں جوش صاحب قتیلِ فیس بک ہو کر رہ گئے ہیں اور اسی بات کی دہائی جناب اس غزل میں دے رہے ہیں۔

ملاحظہ فرمائیے۔


فیس بک دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیاجا تجھے کشمکشِ دہر سے آزاد کیا
وہ کریں بھی تو کن الفاظ میں مینشن تجھ کوجن کو تیری نگہِ لطف نے برباد کیا
نوٹیفائیر نے کبھی چین سے رہنے نہ دیاجب میں لاگ آف ہوا، تو نے مجھے یاد کیا
اے میں سو جان سے اس طرزِ تکلّم کے نثارآپ نے ٹیگ کیا اور کچھ ارشاد کیا
اس کا رونا نہیں ان فرینڈ کیا تم نے مجھےاس کا غم ہے کہ بہت دیر سے آزاد کیا
اتنا مانوس ہوں 'فطرت' سے، کہ لی جب چُٹکیجھک کے میں نے یہ کہا، مجھ سے کچھ ارشاد کیا
مجھ کو تو ہوش نہیں، میں تو وہاں ٹیگ نہ تھالوگ کہتے ہیں کہ تم نے مجھے برباد کیا​
پس نوشت:
اِس دھماچوکڑی میں فرینڈ کی "ر" کہیں گر گرا گئی ہے، تاہم یہ انگریزی ہے اور اردو کے برخلاف کہ جس میں صرف الف کا ہی وصال ہوا کرتا ہے، انگریزی میں وصال اتنی عنقا شے نہیں ہے سو ہم اس اجازت کا فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ :)
ویسے انگریزی میں کہیں کہیں "ر" کی ادائیگی آدھی یا چوتھائی بھی رہ جاتی ہے اور چھوٹے موٹے حروف جگجیت سنگھ کی طرح کھا جانا عیب نہیں سمجھا جاتا۔ 

غزل ۔ سوزِ غم دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیا ۔ جوش ملیح آبادی

غزل
سوزِ غم دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیاجا تجھے کشمکشِ دہر سے آزاد کیا
وہ کریں بھی تو کن الفاظ میں تیرا شکوہجن کو تیری نگہِ لطف نے برباد کیا
دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیاجب چلی سرد ہوا، میں نے تجھے یاد کیا
اے میں سو جان سے اس طرزِ تکلم کے نثارپھر تو فرمائیے، کیا آپ نے ارشاد کیا
اس کا رونا نہیں کیوں تم نے کیا دل برباداس کا غم ہے کہ بہت دیر میں برباد کیا
اتنا مانوس ہوں فطرت سے، کلی جب چٹکیجھک کے میں نے یہ کہا، مجھ سے کچھ ارشاد کیا
مجھ کو تو ہوش نہیں تم کو خبر ہو شایدلوگ کہتے ہیں کہ تم نے مجھے برباد کیا
جوش ملیح آبادی

تم ہوتے ہو جہاں حماقت ہوتی ہے



جاوید اختر ہمارے پسندیدہ شاعر ہیں۔ اُن کی ایک غزل جو ہمیں  بہت پسند ہے ایک دن بیٹھے بیٹھے دماغ میں اُلٹ پُلٹ ہوگئی۔ یہ نیا ورژن قارئینِ بلاگ کے لئے پیش ہے۔
تم ہوتے ہو جہاں حماقت ہوتی ہےمیں ہوتا ہوں، میری ہمت ہوتی ہے
اکثر وہ کہتے ہیں تکلف مت کرنااکثر کیوں کہتے ہیں حیرت ہوتی ہے
چاروں اور سے دیکھتے ہیں اُس شوخ کو ہمڈبے پر ہر شے کی قیمت ہوتی ہے
ماں کے ہاتھ میں چپل بھی ہے دھیا ن رہےیہ مانا پیروں میں جنت ہوتی ہے
عادی ہوں میں دنیا بھر کی باتوں کاجانتا ہوں میں اُن کو عادت ہوتی ہے
بسمہ اللہ پڑھ کر وہ پانی ڈالتا ہےدودھ میں اچھی خاصی برکت ہوتی ہے​

غزل ۔ غم ہوتے ہیں جہاں ذہانت ہوتی ہے​۔ جاوید اختر

غزل​​غم ہوتے ہیں جہاں ذہانت ہوتی ہے​دنیا میں ہر شے کی قیمت ہوتی ہے​​اکثر وہ کہتے ہیں وہ بس ہیں میرے​اکثر کیوں کہتے ہیں حیرت ہوتی ہے​​تب ہم دونوں وقت چُرا کر لاتے تھے​اب ملتے ہیں جب بھی فرصت ہوتی ہے​​اپنی محبوبہ میں اپنی ماں دیکھیں​بِن ماں کے بچوں کی فِطرت ہوتی ہے​​اک کشتی میں ایک قدم ہی رکھتے ہیں​کچھ لوگوں کی ایسی عادت ہوتی ہے​​جاوید اختر​

شبنم افسانی

شبنم افشانی
اے غریبِ شہر تیری رب نگہبانی کرےلوڈ شیڈنگ کے ستائے، تجھ پہ آسانی کرےگر نہیں تجھ کو میسر گرمی دانوں کا سفوف٭آسماں تیری کمر پر شبنم افشانی کرے
محمد احمدؔ​
* prickly heat powder​

میرا دل بدل دے

جنید جمشید کا پڑھا ہوا یہ کلام مجھے بہت اچھا لگا۔ یہ دعائیہ کلام ہے اور اس کی شاعری بھی بہت خوب ہے۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ شاعری جنید جمشید صاحب کی ہی ہے یا کسی اور کی ہے۔ تاہم یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اسلام میں دعا کو منظوم کرنا پسند نہیں کیا جاتا۔
میرا دل بدل دے
میرا غفلت میں ڈوبا دل بدل دے​ہوا و حرص والا دل بدل دے​​الٰہی فضل فرما ،دل بدل دے​بدل دے دل کی دنیا ،دل بدل دے​​گناہ گاری میں کب تک عمر کاٹوں؟؟​بدل دے میرا رستہ، دل بدل دے​​ہٹا لوں آنکھ اپنی ماسواسے​جیوں میں تیری خاطر، دل بدل دے​​کروں قربان اپنی ساری خوشیاں​تو اپنا غم عطا کر، دل بدل دے​​سہل فرما مسلسل یاد اپنی​الٰہی رحم فرما،دل بدل دے​​پڑا ہوں تیرے در پر دل شکستہ​رہوں کیوںدل شکستہ، دل بدل دے​​تیرا ہو جاؤں اتنی آرزو ہے​بس اتنی ہے تمنا ،دل بدل دے​​میری فریاد سن لے میرے مولا​بنا لے اپنا بندہ ،دل بدل دے​​دلِ مغموم کو مسرور کر دے​دلِ بے نور کو پر نور کر دے​​میرا ظاہر سنور جائے الٰہی​میرے باطن کی ظلمت دور کر دے​

میرا دل بدل دے ۔۔۔ جنید جمشید کی آواز میں

تحریف در غزلِ شکیب جلالی :)

شکیب جلالی کی معروف غزل "یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں" اور ہماری مشقِ ستم، آپ احباب کے ذوقِ سلیم کی نذر: 

یہ جو دیوانے سے چھ آٹھ نظر آتے ہیںان میں کچھ صاحبِ بمباٹ1 نظر آتے ہیں
تیری محفل کا بھرم رکھتے ہیں سو جاتے ہیںورنہ یہ لوگ تو فِٹ فاٹ نظر آتے ہیں
دور تک کوئی ستارہ ہے نہ کوئی جگنوان دنوں آپ بھی کچھ شارٹ2 نظر آتے ہیں
ان سموسوں میں حراروں کے سوا کچھ بھی نہیںآپ کھا کھا کے بھی اسمارٹ3 نظر آتے ہیں
جب سے اسپاٹ کی فکسکنگ کا سنا ہے شہرہاب تو ہرمیچ میں اسپاٹ4 نظر آتے ہیں
ہو گئے وہ بھی سگِ عاملِ تطہیرِ لباساب کبھی گھر تو کبھی گھاٹ نظر آتے ہیں
کچے دھاگے سے کھنچے آتے ہیں اب بھی لیکنکچے دھاگے میں کئی ناٹ5 نظر آتے ہیں
اُن سے کہتا تھا کہ مت اتنی مٹھائی کھائیںدیکھیے اب وہ شوگر پاٹ6 نظر آتے ہیں
محمد احمد


فرہنگ1۔ بمباٹ : ایک قسم کی دیسی شراب 2- short3- smart4- spot5- knot6- sugar pot

باقی صدیقی کی سدا بہار غزل

غزل
داغ دل ہم کو یاد آنے لگے لوگ اپنے دیئے جلانے لگے 
کچھ نہ پا کر بھی مطمئن ہیں ہم عشق میں ہاتھ کیا خزانے لگے 
یہی رستہ ہے اب یہی منزل اب یہیں دل کسی بہانے لگے 
خود فریبی سی خود فریبی ہے پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے 
اب تو ہوتا ہے ہر قدم پہ گماں ہم یہ کیسا قدم اٹھانے لگے 
اس بدلتے ہوئے زمانے میں تیرے قصے بھی کچھ پرانے لگے 
رخ بدلنے لگا فسانے کا لوگ محفل سے اٹھ کے جانے لگے 
ایک پل میں وہاں سے ہم اٹھے بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے 
اپنی قسمت سے ہے مفر کس کو تیر پر اڑ کے بھی نشانے لگے 
ہم تک آئے نہ آئے موسم گل کچھ پرندے تو چہچہانے لگے 
شام کا وقت ہو گیا باقیؔ بستیوں سے شرار آنے لگے 
باقیؔ صدیقی

لوگ جیسے بھی ہوں رکھیے حسنِ ظن، حُسنِ سُلُوک

غزل
زندگانی کا بنا لیجے چلن حُسنِ سُلُوکلوگ جیسے بھی ہوں رکھیے حسنِ ظن، حُسنِ سُلُوک
سعیِ پیہم ہو کہ ہر دن زندگی کا خوب ہوہر عمل حسنِ عمل ہو ہر جتن حُسنِ سُلُوک
رہبرو! فتنہ گرو! غارت گرانِ دیں سُنوالحذر! اب چاہتا ہے یہ وطن، حُسنِ سُلُوک
دھوپ ہے تو کیسا شکوہ، آپ خود سایہ بنیں بے غرض کرتے ہیں سب سرو و سمن حُسنِ سُلُوک
مسکرائیں، رنج بانٹیں، اور شجر کاری کریںچاہتے ہیں آپ سے کوہ و دمن حُسنِ سُلُوک
ہم بُرائی کو بُرائی سے بدل سکتے نہیںراہرو ہو یا ہو کوئی راہزن حُسنِ سُلوک
آپ بھی احمدؔ فقط ناصح نہ بنیے، کیجے کچھ!ہر ادا حُسنِ ادا ہو، ہر سخن حُسنِ سُلُوک
محمد احمدؔ



بھرتی کا لفظ


بھرتی کا لفظمحمد احمد
اُستاد ِ محترم نے کاغذ پر لکھے اکلوتے شعر پر نظر ڈالی اور عینک (جوبا مشکل ناک پر ٹکی ہوئی تھی) کے اوپر سےہمیں عجیب طرح سے دیکھا۔ ہم ابھی سٹپٹانے یا نہ سٹپٹانے کا فیصلہ کر ہی رہے تھے کہ یکایک اُن کے چہرے پر مُسکراہٹ نمودار ہوگئی۔ کہنے لگے۔ برخوردار شعر تو بہت اچھا ہے لیکن یہ ایک لفظ بھرتی کا ہے۔ اُستادِ محترم کی اُنگلی تلے دبا ہوا بھرتی کا لفظ ناقدانہ جبر و استبداد کی تاب نہ لاتے ہوئے، بہ صد ندامت ہم سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا۔ ایک لمحے کو خیال آیا کہ اُستادِ محترم کی انگشت مبارک کو زحمتِ شاقہ دے کر نادم لفظ سے آنکھیں چار کر لی جائیں لیکن پھر پاسِ ادب مانع ہوااور ہم نے دل ہی دل میں شعر کو دُہرا کر اُس بھرتی کے لفظ کو مجازاً ہی سہی گُدّی سے پکڑ لیا۔

بات استادِ محترم کی دل کو لگی۔ واقعی اگر وہ لفظ نہ بھی ہوتا تو بھی شعر کا مفہوم مکمل تھا۔ لیکن ہائے وہ شعر کا سانچہ کہ جو ایک حرف کے کم یا زیادہ ہونے پر بھی بانکا ہو جاتا ہےاور سجیلا ہونے سے انکار کر دیتا ہے۔ جبکہ یہاں تو معاملہ حرف کا نہیں بلکہ پورے لفظ کا تھا۔

آپ نے شاید بھرتی کے لفظ کے بارے میں سنا ہو۔ نہیں سُنا تو ہم بتا دیتے ہیں۔ شعری اصطلاح میں شعر میں محض وزن پورا کرنے کی خاطر ایسے لفظ شامل کرنا کہ جن کے نہ ہونے پر بھی شعر کے مفہوم پر کوئی فرق نہ پڑے وہ بھرتی کے لفظ یا حشو کہلاتے ہیں۔ اور جن کی عدم موجودگی کے باعث مصرع کی بندش چست قرار دی جاتی ہے۔

شاید آپ کو حیرت ہو لیکن امر واقع یہ ہے کہ بھرتی کے لفظ شاعری کے علاوہ نثر میں بھی کافی استعمال ہوتے ہیں ۔ یہ بات الگ ہے کہ نثر میں ان لفظوں کو کان سے پکڑ کر نکالنے والے ناقد میسر نہیں آتے۔ اور میسر آ بھی جائیں تو عموماً ناقد کو ہی کان سے پکڑ کر نکال دیا جاتا ہے۔

نثر میں بھرتی کے الفاظ کی مثالوں میں سب سے پہلے وہ لفظ ہیں جو بے چارے شوہر اپنی بیویوں کے نام کے ساتھ لگاتے ہیں۔ جیسے جان ، جانِ من وغیرہ۔ یا جب بیگمات اپنے شوہر سے کہتی ہیں کہ رات کو جلدی آئیے گا مجھے تھوڑی شاپنگ کرنی ہے تو اس قسم کے جملوں میں لفظ "تھوڑی" عموماً بھرتی کا ہوا کرتا ہے۔

ایسے ہی آپ نے اُن پیروں فقیروں، گدی نشینوں کے بڑے بڑے نام سُنے ہوں گے کہ جو شرو ع ہوجائیں تو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔ ایسے ناموں میں ایک آدھ لفظ واقعی نام کی ادائیگی کے لئے ناگزیر ہوتا ہے لیکن باقی ماندہ زیادہ تر لفظ بھرتی کے ہوتے ہیں اور عموماً مُریدوں کی عقیدت مندی کا شاخسانہ ہوتے ہیں یا پھر نئے عقیدت مند گھیرنے کی پروموشن۔ یعنی حضرت علامہ، مولانا سے لے کر، پیرِطریقت، رہبرِ شریعت تک اور آخر میں لیاری شریف والے یا کیو ٹی وی والے سب کے سب کو آپ ہاتھ پاؤں بچا کر بھرتی کےلفظوں میں شمار کر سکتے ہیں۔

یوں تونثر میں بھرتی کے لفظوں کی کئی ایک مثالیں مزید دی جا سکتی ہیں۔ لیکن ہم مزید مثالیں آپ کی صوابدید پر چھوڑتے ہیں کہ بہ شرطِ دلچسپی اپنے ارد گرد بکھرے بھرتی کے الفاظ  آپ خود تلاش کر سکتے ہیں۔ 

رہا قصہ مذکورہ شعر اور اُس میں موجود بھرتی کے لفظ کا۔ تو جناب اُستادِ محترم سے اجازت لے کر جب ہم گھر کو چلے تو راستے میں ہی کئی ایک الفاظ اس سانچے میں بٹھانے کی سعی کرتے رہے، تاہم سانچے میں پورے بیٹھنے والے سب لفظ اُستادِ محترم کے بتائے گئے اصول کے مطابق بھرتی کے ہی لگے۔ گھر پہنچ کر بھی کچھ دیر یہی اُدھیڑ بُن رہی لیکن پھر ہمیں ایک خیال سُوجھا اور ہم سکون کی سانس لے کر سوگئے۔

اگلے روز جب ہم نے استادِ محترم کے سامنے ترمیم شدہ شعر رکھا تو اُستادِ محترم نے ہمیں ایک دم سے گھور کر دیکھا اور پھر مُسکراتے ہوئے بولے۔ تم بہت فنکار ہو گئے ہو۔ بھرتی کے لفظ کی جگہ تخلص ڈال دیا۔ اُستادِ محترم کی جانب سے اپنے 'فن' کے اعتراف پر ہم پھولے نہیں سمائے اور مسکراتے ہوئے سوچنے لگے۔ چلو مقطع تو ہو ہی گیا اب کبھی نہ کبھی غزل بھی ہو ہی جائے گی۔

غزل ۔ مجھی سے کرتا نہ تھا کوئی مشورہ مِرا دل ۔ محمد احمدؔ

خاکسار کی ایک پرانی غزل قارئینِ بلاگ کی نظر:

غزل
مجھی سے کرتا نہ تھا کوئی مشورہ مِرا دلسراب و خواب کے صحرا میں جل بجھا مِرا دل
نہ دیکھے طَور طریقے، نہ عادتیں دیکھیںکسی کی شکل پہ اِک روز مر مِٹا مرا دل
وفا تو خیر ہوئی اس جہان میں عنقاجو وہ ملے تو یہ پُوچھوں کہ کیا ہوا مرا دل؟
مآلِ دیدہ وری پُوچھتے ہو، دیکھ لو خودبُجھی ہوئی مِری آنکھیں، بُجھا ہوا مرا دل
خلوص، مہر و مروّت بجز خسارہ نہیںکہ دیکھتا ہی نہیں میرا فائدہ مرا دل
میں صاف دل ہوں، ہر اِک بات صاف کہتا ہوںمیں آئنہ ہوں تو ہے مثلِ آئنہ مرا دل
یہ اس کو دیکھ دھڑکنا ہی بُھول ہی جاتا ہےغنیمِ جاں ہے،اُسی کا ہے، بے وفا! مرا دل
بچھڑ گئے، تھا بچھڑنا نوشتۂِ قسمتہے واقعہ جو بناتا ہے سانحہ مرا دل
نہیں تو کوئی نہیں، کوئی مسئلہ ہی نہیںذرا سی بات پہ ٹوٹے گا کون سا مرا دل؟
کسی کی یاد میں کھوئی سی ہیں مری آنکھیںکسی کا دیکھتا رہتا ہے راستا مرا دل
سنا ہے قلب ہے سب تیری انگلیوں کے بیچتو اپنی سمت پلٹ لے مرے خدا مرا دل
میں آ گیا ہوں یہاں پر وہاں نہ جاؤں گاپر اس کا پوچھ رہا ہے اتا پتا مرا دل
گرا دیا ہے قدر نا شناس ہاتھوں نےارے سنبھلنا! ذرا بچنا! دیکھنا! مِرا دل
میں اس گلی سے گزرتا ہوں سر جھکائے ہوئےبنا ہوا ہے عجب موجۂِ صبا مرا دل
میں احمدؔ اپنی ہی دنیا میں شاد رہتا ہوںیہ میرے خواب ہیں، یہ میں ہوں، یہ رہا مرا دل!
محمداحمدؔ

خواب مرتے نہیں ۔ احمد فراز

خواب مرتے نہیں

خواب مرتے نہیں
خواب دل ہیں نہ آنکھیں نہ سانسیں کہ جو
ریزہ ریزہ ہوئے تو بکھر جائیں گے
جسم کی موت سے یہ بھی مر جائیں گے
خواب مرتے نہیں

خواب تو روشنی ہیں
نوا ہیں
ہوا ہیں
جو کالے پہاڑوں سے رکتے نہیں
ظُلم کے دوزخوں سے بھی پُھکتے نہیں
روشنی اور نوا اور ہوا کے علم
مقتلوں میں پہنچ کر بھی جُھکتے نہیں

خواب تو حرف ہیں
خواب تو نُور ہیں
خواب سُقراط ہیں
خواب منصور ہیں

احمد فراز


شکریہ اردو محفل


اگر انٹرنیٹ پر اردو کی ترویج کا ذکر کیا جائے تو پہلا خیال اردو محفل کا ہی آتا ہے۔ اردو محفل بلاشبہ انٹرنیٹ پر یونیکوڈ اردو کو باقاعدہ متعارف کروانے والا پہلا فورم ہے۔ ہماری خوش نصیبی کہ ہم ایک عرصے اس فورم کے ساتھ منسلک رہے۔ ہم اسے اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ ہم اردو محفل کی اردو اور اردو دان طبقہ کے لئے جو خدمات ہیں اُن کا کھلے دل سے اعتراف کریں اور ایک بار پھر شکریہ ادا کریں۔


اردو یونیکوڈ کی ترویج

ایک زمانہ تھا کہ انٹرنیٹ پر اردو زبان نظر ہی نہیں آتی تھی۔ پھر آہستہ آہستہ جب انٹرنیٹ پر اردو نظر آنا شروع ہوئی تو وہ تصویری شکل میں تھی۔ یعنی لوگ باگ ان پیچ پر اردو مواد کمپوز کرتے اور اُس کی تصاویر بنا کر مختلف سائٹس پر چسپاں کر دیتے تھے۔ یہ اردو محفل ہی کے لوگ تھے کہ جنہوں نے اردو دان طبقے کو یہ احساس دلایا کہ تصویری اردو ، اردو کی ترویج میں معاون ثابت نہیں ہوتی کہ نہ تو اسے سرچ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی یہ عبارت کسی اور کام آنے ولی ہے ۔ اور یہ کہ یونیکوڈ اردو ہی اردو کا مستقبل ہے۔ ان لوگوں کی یہ محنت رنگ لائی اور آہستہ آہستہ لوگ اردو رسم الخط میں لکھی تحاریر براہِ راست انٹرنیٹ پرشامل کرنے لگےاور رفتہ رفتہ تصویری اردو سے جان چھوٹ گئی۔ اس اہم کام پر ہم اردو محفل کے شکر گزار ہیں۔

اردو کمپیوٹنگ

انٹرنیٹ کے دنیا میں اردو کی ترویج اردو محفل انتظامیہ اور اراکین کی خاص ترجیح رہی ۔ انہوں نے اردو کمپیوٹنگ کو باسہولت بنانے کے لئے شبانہ روز محنت کی۔ اردو لوکلائزیشن، سوفٹ وئیر ڈیولپمنٹ، ٹائپو گرافی وغیرہ میں بہت کام ہوا جو کہ اردو دان طبقے کے لئے بہت مفید ثابت ہوا۔ مزید براں اردو محفل پر بہت سے ٹیوٹوریلز بھی گاہے بگاہے شامل ہوتے رہے جو نوواردان کے لئے مشعلِ راہ ثابت ہوئے۔

اردو بلاگنگ کی ترویج بھی اردو محفل کا خاصہ رہی ہے اور شروع کے دور میں بننے والے بیش تر بلاگ محفلین کے ہی تھے۔ خود ہمیں بھی بلاگ لکھنے کی ترغیب اردو محفل سے ہی ملی۔ یعنی اگر اردو محفل نہ ہوتی تو شاید آج رعنائیِ خیال بھی نہ ہوتا۔ ہماری جانب سے شکریہ !

اردو ویب لائبریری

اردو ادب کی ترویج کے لئے اردو محفل کے زیرِ اہتمام بہت سی کتابوں کو ڈجیٹائز کرنے کا کام شروع کیا گیا اور شروع کے ادوار میں اس سلسلے میں خاطر خواہ کام ہوا۔ آج بھی ہمیں جو بہت سی اردو ای بک یونیکوڈ فارم میں مل جاتی ہیں، اُن میں کہیں نہ کہیں محفل یا محفلین کا ہاتھ نظر آتا ہے۔ شکریہ!

ادب پرور ماحول

یہ اردو محفل اور محفلین کی خوش قسمتی رہی ہے کہ یہاں اردو ادب سے علاقہ رکھنے والے اساتذہ ہر دور میں موجود رہے اور مبتدی اراکین کی داد رسی اور اصلاح کاکام ان احباب نے ہر دور میں بے غرض ہو کر کیا ۔ یہ ایک ایسی بیش بہا نعمت ہے کہ جوبہت سے دیگر فورمز پر مفقود رہی۔خود خاکسار کے لئے ان احباب سے سیکھنے کے مواقع ہر دور میں حاضر رہے اور خاکسار نے حسبِ حیثیت آپ احباب سے بہت کچھ سیکھا۔ میں بطورِ خصوصی جناب اعجاز عبید صاحب، جناب وارث صاحب اور جناب یعقوب آسی صاحب کی خدمات کا شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

گفتگو کا پلیٹ فارم

انٹرنیٹ کی دنیا میں یوں تو گفتگو کے بہت سے پلیٹ فارم موجود تھے لیکن بیش تر یا تو انگریزی زبان کے تھے یا پھر رومن اردو تک محدود تھے۔ اردو محفل کو یہ امتیاز حاصل تھا کہ یہاں گفتگو کا ایک ایسا فورم موجود تھا جہاں صرف اردو جاننے والے اپنے جذبات و احساسات کا اظہار اپنی زبان میں کر سکتے تھے۔ اور یہ احساس بہت خوبصورت تھا۔ خاکسار نے اپنی ایک نظم میں اردو محفل کی اس خصوصیت کا شکریہ ادا کیا ہے جسے آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمیں اردو محفل کے توسط سے ایسے اچھے دوست ملے کہ جن کی بابت ہم شکریہ بھی ادا کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے۔ یہ اردو محفل کا پلیٹ فارم ہی تھا کہ جس کی وساطت سے ہم ایسے دوستوں سے متعارف ہوئے کہ جو جغرافیائی لحاظ سے تو ہم سے قریب نہیں تھے لیکن دل کے بہت قریب نکلے۔ اِن احباب کی دوستی آج بھی ہمارا اثاثہ ہے۔

آخری شکریہ

اور آخری شکریہ یہ کہ اردو محفل نے ہمیں یہ سکھایا کہ انسان کو کسی بھی چیز کا اتنا عادی نہیں ہونا چاہیے کہ اُسے چھوڑنے کا خیال ہی اُسے لرزا دے۔ ایسی باتیں مشکل سے ہی سمجھ آتی ہیں لیکن سکھانے والے اچھے ہوں تو آ ہی جاتی ہیں۔ سو کسی حد تک ہم بھی سیکھ ہی گئے۔

نہ جاننے والوں کے لئے بتا دیتے ہیں کہ محفل آج سے ڈیڑھ دو ماہ قبل کچھ طبقاتی کشیدگی کا شکار رہی۔ چونکہ ہم بھی اپنی سو چ رکھتے ہیں سوہمارا جھکاؤ بھی دو میں سے ایک طبقے کی طرف رہا اور اس کا اظہار بھی ہم نے گاہے گاہے کیا کہ اگر گفتگو کے ایسے اچھے پلیٹ فارم پر بھی انسان اپنے خیالات کا اظہار نہیں کرے گا تو کہاں کرے گا۔ بہرکیف اس دوران محفل انتظامیہ اپنی مصروفیات کے باوجود ان معاملات سے نمٹنے کی کما حقہ کوشش کرتی رہی اور اپنے تئیں کچھ اقدامات کرکے معاملات بہتر بھی کر لیے۔

اب جب کہ صورتحال بہت بہتر تھی اور محفل پر محفل کی سالگرہ کی تقریبات عروج پر تھیں تو نہ جانے انتظامیہ کس کی کس بات سے مشتعل ہوئی اور انتظامی تبدیلیوں کے نام پر پھر جانبدارانہ اقدامات کرتی نظر آئی۔ ہم محفل پر آن لائن ہی تھے کہ اچانک ہمیں اپنی تین پوسٹس اور ایک کیفیت نامے کے حذف ہونے کی اطلاع ملی اور اُس کے بعد ہمارا اکاؤنٹ جزوقتی طور پر معطل ہوگیا۔

حذف ہونے والی تین پوسٹس میں سے ایک تو ایسی تھی کہ جس میں ہم نے محفل میں کشیدگی کے دوران افتخار عارف کے کچھ اشعار جمع کیے تھے کہ جو محفل کی صورتحال سے کچھ نہ کچھ مماثلت رکھتے تھے یا اُن کی بابت ایسا سمجھا جا سکتا تھا۔ یہ ہماری واحد "شر انگیزی" تھی حالانکہ اس پوسٹ میں بھی اشعار کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔

ہمیں حیرت اس بات پر ہوئی کہ نبیل بھیا نے یا اتنظامیہ کے کسی اور رُکن نے پسندیدہ کلام میں لگائی جانے والی افتخار عارف کی دو مزید غزلیات بھی حذف کر دیں۔ شاید اس سراسیمگی کی کیفیت میں اُنہیں رسی بھی سانپ نظر آ رہی ہے۔ اسی طرح ہمارےایک کیفیت نامے کا شعر جو کہ ہم نے نہ جانے کس خیال میں کیفیت نامے میں ارسال کر دیا۔ اُسے بھی حذف کر دیا گیا۔ حالانکہ اس کا تعلق محفل اور محفل انتظامیہ سے ہرگز نہیں تھا۔ شعر یہ تھا:


میں خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خرابمیرے خلاف زہر اُگلتا پھر ےکوئی
ہم جون ایلیا کے لہجے کی تاثیر کے معترف تو ہیں ہی لیکن ہمیں یہ نہیں معلوم تھا کہ تیر پر اُڑ کر نشانے از خود بھی لگ سکتے ہیں۔ :)

بہرکیف اس کیفیت نامے کا محفل یا انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی افتخار عارف کی آخری دو غزلوں کا کوئی واسطہ اس سب معاملے سے تھا۔ سُنتے ہیں کہ انتظامیہ نے ہم سمیت کچھ لوگوں کے کچھ اختیارات کو محدود کیا ہے۔ بہت اچھی بات ہے وہ کر سکتے ہیں کہ اُن کو اختیار ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ اگر محفل انتظامیہ شروع سے ہی ایسی حساسیت والی ہوتی تو ہم تو پسندیدہ اشعار کے انتخاب کے باعث 2007 میں ہی انتظامیہ کو پیارے ہو جاتے۔ :)

سب سے آخری بات یہ ہے کہ ہمیں محفل انتظامیہ سے کوئی گلہ شکوہ نہیں ہے اور درج بالا مندرجات اس سلسلے میں ہماری سوچ کی عکاسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ محفل انتظامیہ صاحبِ اختیار ہے اُن کا حق ہے کہ وہ اپنے فورم کو جیسے چاہیں چلائیں۔ یہ تحریر اپنے بلاگ پر اس لئے لگائی ہے کہ اگر کوئی دوست اسے پڑھنا چاہے تو یہ پڑھنے والوں کے لئے دستیاب رہے۔

اس آخری شکریے سے ماقبل محفل کی خدمات کے حوالے سے ہم نے جو اعترافات کیے ہیں وہ تمام تر تہہ دل سے کیے ہیں اور ہم واقعتاً ان شاندار کارناموں پر محفل انتظامیہ کے ممنون ہیں۔ بالخصوص ہم نبیل بھائی، ذکریا بھائی، سعود بھائی اور دیگر ابتدائی دور کے اراکین کے شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے اردو محفل کو اردو محفل بنایا۔

کسی کے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اللہ نے چاہا تو محفل ایسے ہی آباد رہے گی۔

ہمارا ایک پرانا کیفیت نامہ، جسے شاید ہم نے کچھ پہلے لکھ دیا تھا:

دائم آباد رہے گی 'محفل'ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا

Pages