ڈفرستان

یا بے شرمی تیرا ہی آسرا

آج تو حد نی ہو گئی۔ دفتر پہنچا، پارکنگ کر کے جیسے ہی گاڑی سے باہر نکلا تو فورا ہی آ کے میرے ساتھ چپک گئی۔ میں تو ایک دم سے بوکھلا گیا۔ یہ آج کہاں سے آ گئی؟ اور سویرے سویرے ایسی حرکت؟ وہ بھی بغیر کسی الٹی میٹم کے؟ وہ بھی بغیر کسی جان پہچان کے؟ وہ بھی عین دفتری پارکنگ کے بیچوں بیچ؟ اور اگر کسی نے دیکھ لیا تو؟ :O ...

میں نے کہا تھا نا!

شادیوں کے معاملے میں چمکیلی اور بیویوں کے معاملے میں سنہری قسمت کے مالک گھس بیٹھیے کی میری معلومات کے مطابق دوسری لیکن سکھ یاتری کی یاداشت کے مطابق تیسری شادی کی بارات کے ساتھ لڑکی والوں کی طرف سے لالو کھیت کے ایک پارک میں دی گئی ریسپشن میں سکھ یاتری اور میں ایک دوسرے کے ساتھ نشست اور کندھے سے کندھا جوڑے مہمانوں پہ زنانہ کمنٹ بازی میں مصروف تھے کہ ۔۔۔

ایک اور لوو سٹوری

یار میں جب یونیورسٹی میں تھا نا تو مجھے ایک لڑکی بڑی اچھی لگتی تھی کیا خاص بات تھی اس میں؟ کچھ خاص نہیں یار، بس اسے دیکھ کر ”کچھ کچھ“ ہونے لگتا تھا

خطوطِ ڈفریہ ۔ قسط اوّل

شام کو سو کر اٹھا تو گھر سائیں سائیں کر رہا تھا، اور اس سنسناہٹ میں اوپر والوں کی کاکی کی آواز کسی زومبی کی چڑچڑاہٹ کا پتہ دے رہی تھی جسکو اسکی پھپھی کی بار بار کی تنبیہہ ”میں تیریاں لتاں لا دینیاں نے“ بھی روکنے میں ناکام ہو رہی تھی، میرا خیال ہے […]

جیرا بلیڈ

چونکہ ہم سارے ”تخلیقی“ دماغوں اور جمعدار فطرت کے مالک تھے اور صفائی ہمارے لئے قطعا اہم اور مشکل نہیں تھی اس لئے ہم نے اسکو ”کوڈ تھری“ لگا کر پینڈنگ میں ڈال دیا اور دو ٹیمیں بنا کر این ٹی ایم کے ایک گیم شو کی طرز پر کھیلنا شروع ہو گئے۔ میں اور پوڈری ، ٹلا اور جیرا بلیڈ۔ ایک بندے کو کچھ بتایا جاتا۔۔۔

گندا بچہ

اکتوبر میں کوکنگ رینج کی صفائی کے تین سال مکمل ہونے پر اسکی بھی صفائی ڈیو ہو جائے گی۔ نومبر، دسمبر، جنوری میں تو دن ویسے ہی چھوٹے ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہر مہینے نہانا لازمی ہے۔ اگر سب کچھ شیڈول کے مطابق چلتا رہا تو ہر چھ مہینے بعد پورے گھر میں لال بیگ اور مچھرمار سپرے بھی کرنا ہے، ایک جوڑا تین ہفتے سے زیادہ نہیں پہننا، جرابوں اور بنیانوں کی زیادہ سے زیادہ ایک استعمال کی معیاد بیس دن ہو گی، بیڈشیٹ ہر بینک ہالیڈے اور جینز ہر نیشنل ہالیڈے پر دھونی ہے، عید کی چھٹیوں میں باتھ روم اور کچن کی صفائی کی جائے گی۔۔۔

ایک بوتل کی آپ بیتی

ابھی کل ہی کی بات ہے آدھی رات کو ڈفر نے مجھے اچانک آ کر دبوچ لیا، میرے سینے کو اس زور سے بھینچ لیا اور میری گردن پہ ایسی زور آزمائی کرنے لگا کہ پوچھو واللہ میں تو مرنے سے پہلے مر گئی۔ نیم شب اور ایک چھڑے چھانٹ کا مجھ سے یہ سلوک، خاندانی شرافت اتنی کہ بدنامی کے ڈر سے چاہوں بھی تو چیخ نہ سکوں۔ زبردستی کی ساری[...]

ہائے میری لاتیں

معلوم چلا کہ مقابلہ ساڑھے نو بجے ہونا قرار پایا ہے۔ ویسے تو ساری سائیکلیں ورلڈ کلاس تھیں لیکن ہم نے اپنی پاکستانیت کا بھرم رکھنے کے لئے پھر بھی چھانٹ کر ایک عدد ”اچھی“ سائیکل مَل لی اور پریکٹسنا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد سعید صاحب فرمانے لگے ”ابھی تھک جائیں گے یار!۔۔۔

سوشل میڈیائی چھوکرے چھوکریاں

تو بھائیوں اور انکی پیاری پیاری بہنو! السلام علیکم ایک مرتبہ پھر بسلسلہ ناکام آنلائین بندہ شناسی مہم آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ آج ہم آپ کو ٹویٹریوں اور فیس بکیوں کی مختلف اقسام سے آگاہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس سلسلے کی پہلی کڑی میں آپ نے دوسروں پر دھیان دینے کی بجائے صرف اپنے آپ کو شناسنا ہے۔ تو آئیے شروع

پی ایچ ڈی کی ڈگریاں یا ریوڑیاں !

مہمان لکھاری زویا پی ایچ ڈی کی ڈگریاں اور ریوڑیاں ہر دو طرح سے مختلف چیزیں ہیں۔ اگر ان میں کوئی چیز مماثلت رکھتی بھی ہے تو وہ ان کا خالص زنانہ پن ہے۔ لیکن ان دونوں چیزوں کی کنڈلیاں ملانے میں اگر کسی کو ملکہ حاصل ہے تو وہ ہے ہمارا پاکستانی نظام!!! ہم [...]

ہمارے فیس بکی شاعر

جناب میڈم ، آنٹیان گرام، میری پیاری پیاری سہیلیو اور ان کے بھائیو! . السلام علیکم . آج یوم پیدائش ڈفر ڈالؔ کے سلسلے میں منعقدہ اس پروقار تقریری مقابلے کے لئے میں نے جو موضوع چنا ہے وہ ہے ”ڈاکٹر، میرا مطلب ہے کمپوڈر لامہ ڈفر ڈؔ بحیثیت ہمارے فیس بکی شاعر“۔ ڈفر ڈالؔ ہمارے فیس بکی شاعر، دریں چہ شک۔ لیکن بات صرف اتنا کہنے سے ہی نہیں بن جاتی۔ ہم فیس بکی اور ٹویٹری تبصروں سے ثابت کر سکتے ہیں کہ ڈفرؔ ہمارے فیس بکی شاعر ہیں اور ایسا ۔۔۔

اے ٹریبیوٹ ٹو سیلف

ہزاروں سال نرگس پنجابی گانوں میں روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتی ہے سٹیج پہ دیدار پیدا جناب صدر، قارئین کرام اور میرے عزیز بلاگرو! السلام علیکم میری آج کی تقریر کا موضوع ہے ”ڈفرِاعظم“ اردو کے جس ڈفرستان میں آج ہم سانس لے رہے ہیں یہ ڈفر کا وہ عظیم کارنامہ ہے جو ہمیشہ [...]

ایک بات

مہمان لکھاری زویا سوچ کاعمل کسی فکر کا عکاس ہوتا ہے۔ اور  یہ فکر کسی بات کے پہلو سے سرکتی ہوئی نکلتی ہے۔سو  ملبہ گرتا ہے سارا بات پر ، بات نکلے تو پھر دووووووووور تلک جاتی ہے۔ اب یہ بات کسی کی بھی ہو سکتی ہے۔ چاہے تو اوباما کی، چاہے تو اسامہ کی! [...]

بیویاں، حوریں اور بیچارے شوہر

دوست : اوئے ڈفر دیکھ کیا پیس جا رہا ہے۔ اچھا چل رہنے دے تجھے گوریاں پسند ہی نہیں ہیں۔ ڈفر : کیوں نہیں پسند؟ گوریوں میں زنانہ خصوصیات نہیں ہوتیں کیا؟ اور جتنا میں تھڑا ہوا ہوں مجھے تو ہر کوئی اچھی لگے گی۔ دوست : یار بندہ بڑی ب چ چیز ہے، زنانی ہو یا موبائل اسکا ہر چیز سے بڑی جلدی دل بھر جاتا ہے۔ شادی کے بعد مجھے احساس ہوتا ہے کہ اللہ نے جو ستر ستر حوروں والی بات کہی ہے وہ بالکل صحیح ہے۔ ہماری سوسائٹی میں تو اب یہ حالات۔۔۔

گندی ذہنیت

احمد (ایک عربی) ، جلال (ایک ملو انڈین) اور میں (ایک پاکستانی ڈفر) جلال انڈین اداکاراؤں کی تصاویر دیکھ رہا ہے اور میں اور احمد اس کی پشت پر کھڑے احمد کے نئے ایس فور کو ڈسکس کر رہے ہیں کہ اچانک بات کا رخ مڑتا ہے احمد: ڈفر تمہیں کونسی ایکٹریس پسند ہے؟۔۔۔

بندر، جنگل اور ہلدی

اپنے باسوں کو تو شوگر اور بلڈ پریشر کا مریض بنا دینا اب ہماری عادت بن ہی چکا ہے لیکن بچپن میں اپنے استادوں کو بھی دل کے دورے پڑوانے میں ہم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ سکول میں ہماری ریپوٹیشن بڑی ٹپ ٹاپ قسم کی تھی۔ گنتی میں تھوڑی سی زیادہ ”بائی دا وے“ قسم کی اتفاقی کامیابیوں کی وجہ سے چند ایسے جھنڈے گڑ گئے تھے کہ۔۔۔

پروٹیکشن

شیرازی صاحب اکاؤنٹنگ پڑھاتے تھے اور وہ بھی انتہائی مشکل ٹھیٹھ پنجابی اور زور لگانے پر انتہائی گہری گلابی اردو میں، جو انکی غیر موجودگی میں کافی ساری سخن آرائیوں کی مستقل وجہ بن گئی تھی۔ رحم دل اتنے کہ میں نے کہا ”سر سی آئے تو مجھے فیل کر دیجئے گا ورنہ میرے جی پی اے کی ایسی تیسی ہو جائے گی“، توانہوں نے سی پلس دے کر سارے سکور کی امی باجی سنگل کر دی۔ رعب داب ایسا کہ۔۔۔

چھوٹا بندہ چھوٹی بات

ہاں بھئی چائے کا کوئی انتظام ہے آج؟ جی صاب کیٹل رکھا اے آج نیا کدھر سے آیا یہ کیٹل؟ وہ لڑکی لوگ اے نا، ان سے لے کر آیا ہے

کَروَٹ

خدا پاکستان کو کروٹ کروٹ ترقی عطا کرے۔ ہاں صاحبو، ہمیں بھی محاورے کی اصل ہییت کا علم ہے۔۔۔ لیکن وہ کیا ہے نا کہ جب ہر چیز میں ملاوٹ جائز ہے تو محاوروں ک حوالے سے بھی اسے محال نہیں سمجھنا چاہیے۔

مزید رنڈی رونا

نام تھا عمران خان، عمر 18 سے 20 سال تک یا حد 22 سال۔ یقینا شناختی کارڈ عمر سے پہلے ہی بنوا کر کمائی کرنے کے لئے ایکسپورٹ کر دیا گیا تھا۔آنکھیں ماشااللہ اتنی چمکدار کہ اسکی ذہانت کی گواہی اور اگلے کی نااہلی کے طعنے دیتی معلوم ہوتی تھیں لیکن طبیعت میں عاجزی، بے [...]

Pages