محمد اسد

اچھا لکھاری بننے کے 7 گُر

بلاعنوان اردو بلاگ کے مستقل قارئین اور فیس بک، ٹویٹر وغیرہ سے جڑے دوست بخوبی جانتے ہوں گے کہ میں کوئی اعلی پائے کا لکھاری یا مشہور بلاگر نہیں۔ بس چند الفاظ جوڑ کر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی کوشش کرتا ہوں جس میں کبھی کامیابی ملتی ہے تو کبھی نصیحت ہے۔ بہرحال، لکھنے کا سلسلہ گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے اور اب چونکہ روزگار بھی اسی سے وابستہ ہے تو کوشش رہتی ہے کہ اس صلاحیت کو بہتر سے بہتر بنایا جاسکے۔ اس ضمن میں چند ایک باتوں پر باقاعدگی سے عمل کرنے کی سعی کو کافی مفید پایا ہے اور آج اپنے ہی جیسے طفل مکتب ساتھیوں کے لیے انہیں یہاں پیش کر رہا ہوں۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میرے بلاگ کو پڑھنے والوں میں چند انتہائی قابل اردو لکھاری بھی شامل ہیں اور ان ہی کے لیے آخری نکتہ میں ایک گزارش ہے، امید ہے کہ وہ اسے نظر انداز نہیں کریں گے۔

آگے بڑھنے سے پہلے ایک بات تو یہ ذہن میں بٹھالیں کہ لکھنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ آپ جو ہیں، جیسے ہیں، جہاں ہیں۔۔۔ لکھنا چاہیں تو لکھ سکتے ہیں۔ اپنے خیالات کو لفظوں میں ڈھالنے کے لیے آپ کو کسی ڈگری کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے لیے صرف اور صرف خواہش چاہیے۔ لکھنے میں مہارت وقت کے ساتھ حاصل ہوتی چلی جائے گی۔

1: پڑھیں، پڑھیں اور پڑھتے رہیں

یہ سب سے پہلا اور اہم ترین نکتہ ہے۔ آپ کسی بھی اچھے لکھاری کے اہم معمولات جانیں تو ان میں مطالعہ ضرور شامل ہوگا۔ ضروری نہیں کہ آپ پڑھنے کے لیے کسی موٹی کتاب ہی کا انتخاب کریں بلکہ چھوٹے کتابچے، اخباری کالم یا پھر بلاگز پڑھ کر بھی مطالعے کی عادت ڈال سکتے ہیں۔ اس ضمن میں اپنے ذوق کو بھی ملحوظ خاطر رکھیں اور ایسی چیزیں پڑھیں جن میں آپ کی دلچسپی برقرار رہے۔ البتہ ایک بات کا ضرور خیال رکھیں کہ پڑھنے کے لیے ہمیشہ معیاری چیز کا ہی انتخاب کریں ورنہ فائدے کے بجائے نقصان بھی ہوسکتا ہے۔

2: روزانہ کچھ نہ کچھ ضرور لکھیں

مطالعے کے ساتھ ساتھ لکھنے کی مشق بھی کریں۔ روزانہ کچھ نہ کچھ ضرور لکھیں اور بلاوجہ لکھنے کا ناغہ مت کریں۔ دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے آپ لکھنے کا دورانیہ اور موضوع وغیرہ میں رد و بدل کرسکتے ہیں۔ کسی دن ایک صفحے کا مضمون لکھنے کی کوشش کریں، کسی دن مختصر مگر جامع بات لکھیں تو کبھی بلاگ کی صورت میں اظہار خیال کریں۔ انگریزی مقولہ "پریکٹس میکس مین پرفیکٹ" کے مصداق لکھنے کی مشق آپ کو بہترین لکھاری بنا دے گی۔ اس سے آپ کے اندر لکھ کر اظہار خیال کی جھجھک ختم ہوگی اور آپ خود اعتمادی کے ساتھ اپنی بات دوسروں تک پہنچا سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: بلاگ کتنا طویل لکھنا چاہیے؟

3: درست املا اور نئے الفاظ استعمال کریں

لکھتے ہوئے جس بات کا سب سے زیادہ خیال رکھا جانا چاہیے وہ درست املا ہے۔ جس طرح ایک مصور رنگوں سے کھیلتا ہے اور بدنما رنگوں کے استعمال سے تصویر کی کشش کھو جاتی ہے ویسے ہی ایک مصنف لفظوں سے کھیلتا ہے اور غلط املا یا گرامر اس کی تصنیف سے دلچسپی خارج کردیتے ہیں۔ اس لیے الفاظ کو ٹھیک ٹھیک لکھنے کا خاص خیال رکھیں۔ اگر ایک بار کوئی لفظ غلط لکھ بھی دیا تو پریشانی کی بات نہیں، لیکن غلطی کی نشاندہی اور اصلاح کے بعد بھی بارہا غلط لفظ لکھا جاتا رہے تو یہ بہت منفی تاثر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ نئے الفاظ کا استعمال بھی ایک زبردست ہنر ہے جو آپ کی تحریر میں جان ڈال سکتا ہے۔ یہ ہنر آپ کو مطالعے سے آئے گا۔ درست املا اور نئے الفاظ سیکھنے میں لغت بھی اہمیت کی حامل ہے۔

4: اردو "ٹائپ" کرنا سیکھیں

قلم سے لکھنے کی روایت اب صرف تعلیمی اداروں تک محدود ہوچکی ہے اور پیشہ وارانہ امور میں کمپیوٹر پر انحصار بڑھتا جارہا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آپ خوشخطی کے ساتھ کمپیوٹر پر اردو ٹائپنگ بھی سیکھیں۔ اپنا مضمون آن لائن ویب سائٹ پر شائع کروانا مقصود ہو یا پھر کسی اخباری کالم کی صورت میں، دونوں ہی آپ سے انپیج یا پھر یونیکوڈ فائل مانگیں گے۔ کچھ لوگ انگریزی ٹائپنگ میں مہارت رکھنے کے باوجود کیبورڈ سے اردو لکھنے کو بہت مشکل خیال کرتے ہیں حالانکہ پاک اردو انسٹالر میں شامل فونٹک کیبورڈ نے اردو ٹائپنگ کو آسان ترین بنا دیا ہے۔ بس ضرورت ہے تو تھوڑی سی مشق کی اور پھر دیکھیں کہ آپ کی انگلیاں اردو بھی اتنی ہی رفتار سے ٹائپ کرسکیں گی کہ جتنی تیزی سے آپ انگریزی لکھتے ہیں۔

5: ہم مشغلہ دوستوں سے جڑیں

ان لوگوں سے ملیں جلیں جو آپ ہی کی طرح پڑھنے اور لکھنے کا شوق رکھتے ہیں۔ اس سے نہ صرف آپ کو بہت کچھ نیا سیکھنے کا موقع ملے گا بلکہ لکھنے کی ترغیب اور توانائی بھی حاصل ہوگی۔ اپنے دوستوں میں لکھنے سے متعلق مسائل اور مشکلات پر گفتگو کر کے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر آپ کسی خاص موضوع جیسا کہ ٹیکنالوجی یا پھر کسی کھیل وغیرہ پر لکھنا چاہتے ہیں، تو ان موضوعات پر لکھنے والوں کو بھی اپنے دوستوں میں ضرور شامل کریں۔ اس ضمن میں فیس بک پر اردو بلاگر گروپ کے نام سے موجود اجتماع گاہ میں شرکت بھی مفید ہے (جہاں دنیا بھر کے اردو بلاگران ایک دوسرے کو "سبق سکھانے" پر تلے رہتے ہیں)۔ آپ بھی اس فیس بک گروپ میں شامل ہوسکتے ہیں۔

6: قارئین کے تبصروں سے سیکھیں

کسی بھی لکھاری کے لیے اس کے مضمون پر آنے والے تبصرے بہت اہم ہوتے ہیں۔ یہ چاہے تعریفی ہوں یا تنقیدی، ایک اچھا لکھاری ان سے بہت کچھ حاصل کرسکتا ہے۔ اخباری کالم کی نسبت آن لائن شائع ہونے والے مضامین اور بلاگز پر قارئین کا ردعمل جلد اور بڑی تعداد میں موصول ہوتا ہے۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آیا مضمون میں بیان کردہ مدعہ قاری کی سمجھ میں آیا یا پھر اگر کوئی آپ کے خیال سے اختلاف کر رہا ہے تو اس کی کیا وجوہات ہیں۔ اس سے آپ کو لکھنے کی صلاحیت ہی نہیں بلکہ اپنی سوچ میں نکھار لانے کا بھی موقع ملے گا۔ علاوہ ازیں آپ قارئین کی آرا سے اپنے آئندہ مضمون کا موضوع بھی تلاش کرسکتے ہیں جس پر آپ بہتر طور پر اظہار خیال کرسکیں اور قارئین بھی اسے دلچسپی سے پڑھیں۔

7: آخری بات، آپ شامل کریں

اگر آپ بھی لکھنے کے پیشے سے وابستہ ہیں تو مجھ جیسے طالب علموں کے لیے ایک گُر آپ بتائیں۔ آپ باقاعدہ صحافی ہوں یا پھر فیس بک لکھاری، آپ کو تجربے سے وہ کچھ حاصل ہوا ہوگا جو اچھا لکھاری بننے کی خواہش رکھنے والوں کو درکار ہے۔ یہ درخواست ان دوستوں سے بھی ہے جو اس شعبے سے وابستہ ہیں اور اپنے کام میں مہارت رکھتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ تبصروں کے ذریعے آپ کی شمولیت قارئین کے لیے مفید ثابت ہوگی۔

The post اچھا لکھاری بننے کے 7 گُر appeared first on اردو بلاگ.

اچھا لکھاری بننے کے 7 گُر

بلاعنوان اردو بلاگ کے مستقل قارئین اور فیس بک، ٹویٹر وغیرہ سے جڑے دوست بخوبی جانتے ہوں گے کہ میں کوئی اعلی پائے کا لکھاری یا مشہور بلاگر نہیں۔ بس چند الفاظ جوڑ کر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی کوشش کرتا ہوں جس میں کبھی کامیابی ملتی ہے تو کبھی نصیحت ہے۔ بہرحال، لکھنے کا سلسلہ گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے اور اب چونکہ روزگار بھی اسی سے وابستہ ہے تو کوشش رہتی ہے کہ اس صلاحیت کو بہتر سے بہتر بنایا جاسکے۔ اس ضمن میں چند ایک باتوں پر باقاعدگی سے عمل کرنے کی سعی کو کافی مفید پایا ہے اور آج اپنے ہی جیسے طفل مکتب ساتھیوں کے لیے انہیں یہاں پیش کر رہا ہوں۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میرے بلاگ کو پڑھنے والوں میں چند انتہائی قابل اردو لکھاری بھی شامل ہیں اور ان ہی کے لیے آخری نکتہ میں ایک گزارش ہے، امید ہے کہ وہ اسے نظر انداز نہیں کریں گے۔

آگے بڑھنے سے پہلے ایک بات تو یہ ذہن میں بٹھالیں کہ لکھنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ آپ جو ہیں، جیسے ہیں، جہاں ہیں۔۔۔ لکھنا چاہیں تو لکھ سکتے ہیں۔ اپنے خیالات کو لفظوں میں ڈھالنے کے لیے آپ کو کسی ڈگری کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے لیے صرف اور صرف خواہش چاہیے۔ لکھنے میں مہارت وقت کے ساتھ حاصل ہوتی چلی جائے گی۔

1: پڑھیں، پڑھیں اور پڑھتے رہیں

یہ سب سے پہلا اور اہم ترین نکتہ ہے۔ آپ کسی بھی اچھے لکھاری کے اہم معمولات جانیں تو ان میں مطالعہ ضرور شامل ہوگا۔ ضروری نہیں کہ آپ پڑھنے کے لیے کسی موٹی کتاب ہی کا انتخاب کریں بلکہ چھوٹے کتابچے، اخباری کالم یا پھر بلاگز پڑھ کر بھی مطالعے کی عادت ڈال سکتے ہیں۔ اس ضمن میں اپنے ذوق کو بھی ملحوظ خاطر رکھیں اور ایسی چیزیں پڑھیں جن میں آپ کی دلچسپی برقرار رہے۔ البتہ ایک بات کا ضرور خیال رکھیں کہ پڑھنے کے لیے ہمیشہ معیاری چیز کا ہی انتخاب کریں ورنہ فائدے کے بجائے نقصان بھی ہوسکتا ہے۔

2: روزانہ کچھ نہ کچھ ضرور لکھیں

مطالعے کے ساتھ ساتھ لکھنے کی مشق بھی کریں۔ روزانہ کچھ نہ کچھ ضرور لکھیں اور بلاوجہ لکھنے کا ناغہ مت کریں۔ دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے آپ لکھنے کا دورانیہ اور موضوع وغیرہ میں رد و بدل کرسکتے ہیں۔ کسی دن ایک صفحے کا مضمون لکھنے کی کوشش کریں، کسی دن مختصر مگر جامع بات لکھیں تو کبھی بلاگ کی صورت میں اظہار خیال کریں۔ انگریزی مقولہ "پریکٹس میکس مین پرفیکٹ" کے مصداق لکھنے کی مشق آپ کو بہترین لکھاری بنا دے گی۔ اس سے آپ کے اندر لکھ کر اظہار خیال کی جھجھک ختم ہوگی اور آپ خود اعتمادی کے ساتھ اپنی بات دوسروں تک پہنچا سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: بلاگ کتنا طویل لکھنا چاہیے؟

3: درست املا اور نئے الفاظ استعمال کریں

لکھتے ہوئے جس بات کا سب سے زیادہ خیال رکھا جانا چاہیے وہ درست املا ہے۔ جس طرح ایک مصور رنگوں سے کھیلتا ہے اور بدنما رنگوں کے استعمال سے تصویر کی کشش کھو جاتی ہے ویسے ہی ایک مصنف لفظوں سے کھیلتا ہے اور غلط املا یا گرامر اس کی تصنیف سے دلچسپی خارج کردیتے ہیں۔ اس لیے الفاظ کو ٹھیک ٹھیک لکھنے کا خاص خیال رکھیں۔ اگر ایک بار کوئی لفظ غلط لکھ بھی دیا تو پریشانی کی بات نہیں، لیکن غلطی کی نشاندہی اور اصلاح کے بعد بھی بارہا غلط لفظ لکھا جاتا رہے تو یہ بہت منفی تاثر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ نئے الفاظ کا استعمال بھی ایک زبردست ہنر ہے جو آپ کی تحریر میں جان ڈال سکتا ہے۔ یہ ہنر آپ کو مطالعے سے آئے گا۔ درست املا اور نئے الفاظ سیکھنے میں لغت بھی اہمیت کی حامل ہے۔

4: اردو "ٹائپ" کرنا سیکھیں

قلم سے لکھنے کی روایت اب صرف تعلیمی اداروں تک محدود ہوچکی ہے اور پیشہ وارانہ امور میں کمپیوٹر پر انحصار بڑھتا جارہا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آپ خوشخطی کے ساتھ کمپیوٹر پر اردو ٹائپنگ بھی سیکھیں۔ اپنا مضمون آن لائن ویب سائٹ پر شائع کروانا مقصود ہو یا پھر کسی اخباری کالم کی صورت میں، دونوں ہی آپ سے انپیج یا پھر یونیکوڈ فائل مانگیں گے۔ کچھ لوگ انگریزی ٹائپنگ میں مہارت رکھنے کے باوجود کیبورڈ سے اردو لکھنے کو بہت مشکل خیال کرتے ہیں حالانکہ پاک اردو انسٹالر میں شامل فونٹک کیبورڈ نے اردو ٹائپنگ کو آسان ترین بنا دیا ہے۔ بس ضرورت ہے تو تھوڑی سی مشق کی اور پھر دیکھیں کہ آپ کی انگلیاں اردو بھی اتنی ہی رفتار سے ٹائپ کرسکیں گی کہ جتنی تیزی سے آپ انگریزی لکھتے ہیں۔

5: ہم مشغلہ دوستوں سے جڑیں

ان لوگوں سے ملیں جلیں جو آپ ہی کی طرح پڑھنے اور لکھنے کا شوق رکھتے ہیں۔ اس سے نہ صرف آپ کو بہت کچھ نیا سیکھنے کا موقع ملے گا بلکہ لکھنے کی ترغیب اور توانائی بھی حاصل ہوگی۔ اپنے دوستوں میں لکھنے سے متعلق مسائل اور مشکلات پر گفتگو کر کے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر آپ کسی خاص موضوع جیسا کہ ٹیکنالوجی یا پھر کسی کھیل وغیرہ پر لکھنا چاہتے ہیں، تو ان موضوعات پر لکھنے والوں کو بھی اپنے دوستوں میں ضرور شامل کریں۔ اس ضمن میں فیس بک پر اردو بلاگر گروپ کے نام سے موجود اجتماع گاہ میں شرکت بھی مفید ہے (جہاں دنیا بھر کے اردو بلاگران ایک دوسرے کو "سبق سکھانے" پر تلے رہتے ہیں)۔ آپ بھی اس فیس بک گروپ میں شامل ہوسکتے ہیں۔

6: قارئین کے تبصروں سے سیکھیں

کسی بھی لکھاری کے لیے اس کے مضمون پر آنے والے تبصرے بہت اہم ہوتے ہیں۔ یہ چاہے تعریفی ہوں یا تنقیدی، ایک اچھا لکھاری ان سے بہت کچھ حاصل کرسکتا ہے۔ اخباری کالم کی نسبت آن لائن شائع ہونے والے مضامین اور بلاگز پر قارئین کا ردعمل جلد اور بڑی تعداد میں موصول ہوتا ہے۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آیا مضمون میں بیان کردہ مدعہ قاری کی سمجھ میں آیا یا پھر اگر کوئی آپ کے خیال سے اختلاف کر رہا ہے تو اس کی کیا وجوہات ہیں۔ اس سے آپ کو لکھنے کی صلاحیت ہی نہیں بلکہ اپنی سوچ میں نکھار لانے کا بھی موقع ملے گا۔ علاوہ ازیں آپ قارئین کی آرا سے اپنے آئندہ مضمون کا موضوع بھی تلاش کرسکتے ہیں جس پر آپ بہتر طور پر اظہار خیال کرسکیں اور قارئین بھی اسے دلچسپی سے پڑھیں۔

7: آخری بات، آپ شامل کریں

اگر آپ بھی لکھنے کے پیشے سے وابستہ ہیں تو مجھ جیسے طالب علموں کے لیے ایک گُر آپ بتائیں۔ آپ باقاعدہ صحافی ہوں یا پھر فیس بک لکھاری، آپ کو تجربے سے وہ کچھ حاصل ہوا ہوگا جو اچھا لکھاری بننے کی خواہش رکھنے والوں کو درکار ہے۔ یہ درخواست ان دوستوں سے بھی ہے جو اس شعبے سے وابستہ ہیں اور اپنے کام میں مہارت رکھتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ تبصروں کے ذریعے آپ کی شمولیت قارئین کے لیے مفید ثابت ہوگی۔

شومی نے "ریڈمی فور ایکس" متعارف کرادیا

دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی شومی نے پاکستان میں "ریڈمی فور ایکس" اسمارٹ فون پیش کردیا ہے۔ ڈسٹری بیوشن پارٹنر اسمارٹ لنک ٹیکنالوجی کے ذریعے پیش کردہ اس فون کی تعارفی تقریب فلیٹیز ہوٹل، لاہور میں منعقد ہوئی جس میں لاہوریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کی میزبانی معروف فنکار اور موسیقار تیمور صلاح الدین المعروف مورو نے انجام دی جبکہ نیس کیفے بیسمنٹ کے موسیقاروں اور نوری نے بھی اپنے فن کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

ریڈمی فور ایکس مکمل میٹل باڈی پر مشتمل اسمارٹ فون ہے۔ اس فون کی سب سے خاص بات انتہائی سلم ڈیزائن ہے۔ ریڈمی فور ایکس کی موٹائی صرف 8.65 ملی میٹر جبکہ اس کا وزن صرف 150 گرام، ریم 3 جی بی اور اسٹوریج 32 جی بی ہے۔ یہ اسمارٹ فون 4100 ایم اے ایچ بیٹری کا حامل ہے جس کی مدد سے یہ 18 دن سے زائد کا متاثر کن اسٹینڈ بائی ٹائم فراہم کرسکتا ہے۔ یوں ریڈمی فور ایکس کے صارف بیک وقت کئی کام انتہائی تسلی بخش انداز میں سر انجام دے سکتا ہے۔ ریڈمی فور ایکس کی قیمت 18,900 روپے رکھی گئی ہے جو اس طرز کے اسمارٹ فون کے لیے انتہائی مناسب بلکہ پرکشش قیمت ہے۔ یہ خوبصورت فون mistore.pk کی آفیشل ویب سائٹ کے علاوہ Daraz.pk اور Yayvo.com پر بھی آن لائن آرڈر کر کے خریدا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں یہ اسمارٹ فون یکم مئی 2017ء سے اسمارٹ لنک ٹیکنالوجی کے آن لائن پلیٹ فارم پر بھی دستیاب ہے۔

تعارفی تقریب کے موقع پر اسمارٹ لنک ٹیکنالوجیز کے مارکیٹنگ ڈائریکٹر احمد بٹ نے کہا کہ پاکستانی صارفین کی اکثریت اپنے بجٹ میں رہتے ہوئے بہترین اسمارٹ فون کی خریداری کو فوقیت دے رہی ہے اور یہی امر مارکیٹ کے تمام برانڈز کے لیے اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریڈمی فور ایکس کی قیمت اسمارٹ فون صارفین کی قوت خرید کے مطابق ہے اور یہ اسمارٹ فون مارکیٹ میں زبردست مقابلے کی فضاء پیدا کرے گا۔

موبائل فون کی مارکیٹ میں ہلچل مچاتے ہوئے شومی نے تین انتہائی معیاری اسمارٹ فون می میکس، ریڈمی فور اے اور ریڈمی نوٹ فور رواں سال فروری میں متعارف کروائے ہیں۔ پاکستان میں اسمارٹ لنک ٹیکنالوجیز کی مدد سے شومی صارفین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ شومی نے اپنی "سب سے پہلے صارف" کی پالیسی پر حسب وعدہ عمل کرتے ہوئے پاکستان میں اپنے قدم مضبوط کیے ہیں۔ اسمارٹ لنک ٹیکنالوجیز پاکستان کے نمایاں شہروں میں ایم آئی کسٹمر کئیر سینٹر کی ضرورت کو پورا کررہی ہے۔

شومی (Xiaomi)

شومی 2010ء میں "انوویشن فار ایوری ون" کے فلسفے کے تحت پہلی مرتبہ منظر عام پر آئی۔ یہ کمپنی انتہائی اعلیٰ معیار کی مصنوعات کو مناسب قیمت میں ہر ایک کی پہنچ تک لائے جانے پر یقین رکھتی ہے۔ شومی نے اپنے ایم آئی فینز کی مدد کے لیے شاندار ہارڈویئر، سافٹ ویئر اور انٹرنیٹ سروس پیش کیں۔ انہوں نے صارفین کی آراء سے اپنی مصنوعات کو بہتر بنایا ہے جو اس وقت ایم آئی اور ریڈمی اسمارٹ فون میں نظر آئیں گی۔ شومی کی گوناں گو خصوصیات اور پیشہ ورانہ مہارت نے آج اسے ایک مقبول عالمی برانڈ کی حیثیت دے دی ہے۔

اسمارٹ لنک ٹیکنالوجیز

اسمارٹ لنک ٹیکنالوجیز نے 2016ء میں پیشہ ورانہ مہارت کے حامل افراد کے ساتھ مارکیٹ میں قدم رکھا۔ اپنے وسیع نقطہ نظر اور شومی کے اشتراک سے یہ ادارہ مارکیٹ میں قدم جما چکا ہے۔ اسمارٹ لنک ٹیکنالوجیز کم قیمت میں معیاری اسمارٹ فون صارفین تک پہنچانے کا عزم رکھتا ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے کہ جو نئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ جدید اور اختراعی فروخت کی تکنیک کو یکجا کر کے مارکیٹ پر چھا جانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

ریڈمی فور ایکس کی تعارفی تقریب کی جھلکیاں

The post شومی نے "ریڈمی فور ایکس" متعارف کرادیا appeared first on اردو بلاگ.

شومی نے "ریڈمی فور ایکس" متعارف کرادیا

دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی شومی نے پاکستان میں "ریڈمی فور ایکس" اسمارٹ فون پیش کردیا ہے۔ ڈسٹری بیوشن پارٹنر اسمارٹ لنک ٹیکنالوجی کے ذریعے پیش کردہ اس فون کی تعارفی تقریب فلیٹیز ہوٹل، لاہور میں منعقد ہوئی جس میں لاہوریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کی میزبانی معروف فنکار اور موسیقار تیمور صلاح الدین المعروف مورو نے انجام دی جبکہ نیس کیفے بیسمنٹ کے موسیقاروں اور نوری نے بھی اپنے فن کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

ریڈمی فور ایکس مکمل میٹل باڈی پر مشتمل اسمارٹ فون ہے۔ اس فون کی سب سے خاص بات انتہائی سلم ڈیزائن ہے۔ ریڈمی فور ایکس کی موٹائی صرف 8.65 ملی میٹر جبکہ اس کا وزن صرف 150 گرام، ریم 3 جی بی اور اسٹوریج 32 جی بی ہے۔ یہ اسمارٹ فون 4100 ایم اے ایچ بیٹری کا حامل ہے جس کی مدد سے یہ 18 دن سے زائد کا متاثر کن اسٹینڈ بائی ٹائم فراہم کرسکتا ہے۔ یوں ریڈمی فور ایکس کے صارف بیک وقت کئی کام انتہائی تسلی بخش انداز میں سر انجام دے سکتا ہے۔ ریڈمی فور ایکس کی قیمت 18,900 روپے رکھی گئی ہے جو اس طرز کے اسمارٹ فون کے لیے انتہائی مناسب بلکہ پرکشش قیمت ہے۔ یہ خوبصورت فون mistore.pk کی آفیشل ویب سائٹ کے علاوہ Daraz.pk اور Yayvo.com پر بھی آن لائن آرڈر کر کے خریدا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں یہ اسمارٹ فون یکم مئی 2017ء سے اسمارٹ لنک ٹیکنالوجی کے آن لائن پلیٹ فارم پر بھی دستیاب ہے۔

تعارفی تقریب کے موقع پر اسمارٹ لنک ٹیکنالوجیز کے مارکیٹنگ ڈائریکٹر احمد بٹ نے کہا کہ پاکستانی صارفین کی اکثریت اپنے بجٹ میں رہتے ہوئے بہترین اسمارٹ فون کی خریداری کو فوقیت دے رہی ہے اور یہی امر مارکیٹ کے تمام برانڈز کے لیے اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریڈمی فور ایکس کی قیمت اسمارٹ فون صارفین کی قوت خرید کے مطابق ہے اور یہ اسمارٹ فون مارکیٹ میں زبردست مقابلے کی فضاء پیدا کرے گا۔

موبائل فون کی مارکیٹ میں ہلچل مچاتے ہوئے شومی نے تین انتہائی معیاری اسمارٹ فون می میکس، ریڈمی فور اے اور ریڈمی نوٹ فور رواں سال فروری میں متعارف کروائے ہیں۔ پاکستان میں اسمارٹ لنک ٹیکنالوجیز کی مدد سے شومی صارفین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ شومی نے اپنی "سب سے پہلے صارف" کی پالیسی پر حسب وعدہ عمل کرتے ہوئے پاکستان میں اپنے قدم مضبوط کیے ہیں۔ اسمارٹ لنک ٹیکنالوجیز پاکستان کے نمایاں شہروں میں ایم آئی کسٹمر کئیر سینٹر کی ضرورت کو پورا کررہی ہے۔

شومی (Xiaomi)

شومی 2010ء میں "انوویشن فار ایوری ون" کے فلسفے کے تحت پہلی مرتبہ منظر عام پر آئی۔ یہ کمپنی انتہائی اعلیٰ معیار کی مصنوعات کو مناسب قیمت میں ہر ایک کی پہنچ تک لائے جانے پر یقین رکھتی ہے۔ شومی نے اپنے ایم آئی فینز کی مدد کے لیے شاندار ہارڈویئر، سافٹ ویئر اور انٹرنیٹ سروس پیش کیں۔ انہوں نے صارفین کی آراء سے اپنی مصنوعات کو بہتر بنایا ہے جو اس وقت ایم آئی اور ریڈمی اسمارٹ فون میں نظر آئیں گی۔ شومی کی گوناں گو خصوصیات اور پیشہ ورانہ مہارت نے آج اسے ایک مقبول عالمی برانڈ کی حیثیت دے دی ہے۔

اسمارٹ لنک ٹیکنالوجیز

اسمارٹ لنک ٹیکنالوجیز نے 2016ء میں پیشہ ورانہ مہارت کے حامل افراد کے ساتھ مارکیٹ میں قدم رکھا۔ اپنے وسیع نقطہ نظر اور شومی کے اشتراک سے یہ ادارہ مارکیٹ میں قدم جما چکا ہے۔ اسمارٹ لنک ٹیکنالوجیز کم قیمت میں معیاری اسمارٹ فون صارفین تک پہنچانے کا عزم رکھتا ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے کہ جو نئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ جدید اور اختراعی فروخت کی تکنیک کو یکجا کر کے مارکیٹ پر چھا جانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

ریڈمی فور ایکس کی تعارفی تقریب کی جھلکیاں

میرے بچپن کے رسالے

آج اتوار یعنی ہفتہ وار تعطیل کا دن ہے اور ہر چھٹی والے دن کی طرح آج بھی معمول سے پہلے ہی آنکھ کھل گئی۔ صبح سویرے ٹویٹر پر نظر ڈالی تو دوست بلاگر احسن سعید کا ایک سوال سامنے آیا۔ پوچھا تھا کہ بچپن اور لڑکپن میں پسندیدہ رسالہ کونسا تھا؟ بات ہو رسالوں کی اور وہ بھی بچپن کے تو پہلا نام ماہنامہ ہمدرد نونہال ہی کا ذہن میں آتا ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سے ایک یہ کہ حکیم محمد سعید کی ادارت میں کراچی سے شائع ہونے والے اس ماہنامہ نے ہمیں "چائلڈ اسٹار" بننے کا موقع بھی فراہم کیا۔ البتہ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں ہمارا نام صرف "ناقابل اشاعت تحاریر" کے صفحے پر ہی نظر آیا۔

hamdard naunehal hamdard naunehal

نوٹ: تصاویر دیکھنے کے بعد اور شیئر کرنے سے پہلے ماشاءاللہ کہنا ضروری ہے۔ شکریہ

یہ تو ٹھیک طرح یاد نہیں کہ ہمدرد نونہال کب اور کیسے پڑھنا شروع کیا لیکن ایک عرصے تک ہمارے لیے "رسالہ" کا مطلب ہمدرد نونہال ہی ہوا کرتا تھا۔ جب پڑھنے کی رفتار میں تھوڑی تیزی آئی تو رسالہ بہت جلد ختم ہونے لگا۔ کئی بار تو ایسا بھی ہوا کہ شام میں رسالہ گھر آیا اور صبح تک پورا پڑھ بھی چکے۔ ایسے میں سخت کوفت ہوتی تھی کہ ہمارے رسالے بھی امی کے رسالوں (اردو ڈائجسٹ، کرن، شعاع وغیرہ) جتنے موٹے کیوں نہیں آتے۔

اس مسئلہ کا حل یہ نکالا کہ بچوں کا "بڑا والا رسالہ" لیا جائے اور یوں لاہور سے شائع ہونے والا تعلیم و تربیت بھی خریدا جانے لگا۔ پھر ماہنامہ ساتھی اور آنکھ مچولی کا تعارف ہوا تو وہ بھی ان رسالوں میں شامل ہوگئے کہ جو ہر ماہ بچوں کے لیے گھر آیا کرتے تھے۔ لیکن پھر جون اور جولائی میں اسکول سے ملنے والی طویل چھٹیوں کے دوران یہ مسئلہ پھر سر اٹھاتا اور پہلے سے بھی زیادہ سنگین معلوم ہوتا تھا کیوں کہ دو مہینے کی چھٹیوں میں وقت بہت اور پڑھنے کو کچھ نہیں۔ اس کا حل یہ نکالا کہ سال بھر رسالے جمع کرتے اور ان دو مہینوں کی چھٹیوں میں انہیں دوبارہ پڑھنے بیٹھ جاتے۔ پھر جولائی کے آخری ہفتے میں انہیں ردی پیپر والے کو دے کر اگست سے رسالوں کی کھیپ دوبارہ جمع کرنے لگ جاتے۔

آج جس طرح ہر مہینے کی پہلی تاریخ آتے ہی ملازمت پیشہ افراد اپنی تنخواہ کا انتظار کرنے لگتے ہیں بالکل اسی طرح بچپن میں ہم نئے رسالے کے منتظر رہتے تھے۔ یہاں مہینہ شروع ہوا اور وہاں ہم نے اسلم نیوز پیپر ایجنسی، بہادرآباد کا رخ کیا۔ سال میں ایک بار شائع ہونے والا خاص نمبر ہمارے لیے ایسا ہی تھا کہ جیسے بونس ملا ہو۔

سچ تو یہ ہے کہ آج ہم چار لفظ جوڑ کر اور تھوڑے بہت صحیح غلط جملے بنا کر خود کو اردو بلاگر سمجھتے ہیں یہ دراصل انہی رسائل کی وجہ سے ممکن ہوسکا ہے۔ حقیقت میں ان رسالوں نے ایک اندیکھے استاد کا کردار ادا کیا جس نے پڑھنا سکھانے کے ساتھ لکھنے کی تحریک بھی دی۔ البتہ میں اب تک توتا / طوطا اور گنڈا / غنڈہ جیسے الفاظوں پر مدیران کی تکرار کا فیصلہ نہیں کرپایا۔ نیز یہ بھی سمجھ نہیں سکا کہ اسٹور، اسپتال اور اسکول جیسے الفاط لاہور سے شائع ہونے والے اردو رسالوں میں بغیر الف کیوں لکھے جاتے ہیں؟

The post میرے بچپن کے رسالے appeared first on اردو بلاگ.

میرے بچپن کے رسالے

آج اتوار یعنی ہفتہ وار تعطیل کا دن ہے اور ہر چھٹی والے دن کی طرح آج بھی معمول سے پہلے ہی آنکھ کھل گئی۔ صبح سویرے ٹویٹر پر نظر ڈالی تو دوست بلاگر احسن سعید کا ایک سوال سامنے آیا۔ پوچھا تھا کہ بچپن اور لڑکپن میں پسندیدہ رسالہ کونسا تھا؟ بات ہو رسالوں کی اور وہ بھی بچپن کے تو پہلا نام ماہنامہ ہمدرد نونہال ہی کا ذہن میں آتا ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سے ایک یہ کہ حکیم محمد سعید کی ادارت میں کراچی سے شائع ہونے والے اس ماہنامہ نے ہمیں "چائلڈ اسٹار" بننے کا موقع بھی فراہم کیا۔ البتہ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں ہمارا نام صرف "ناقابل اشاعت تحاریر" کے صفحے پر ہی نظر آیا۔

hamdard naunehal hamdard naunehal

نوٹ: تصاویر دیکھنے کے بعد اور شیئر کرنے سے پہلے ماشاءاللہ کہنا ضروری ہے۔ شکریہ

یہ تو ٹھیک طرح یاد نہیں کہ ہمدرد نونہال کب اور کیسے پڑھنا شروع کیا لیکن ایک عرصے تک ہمارے لیے "رسالہ" کا مطلب ہمدرد نونہال ہی ہوا کرتا تھا۔ جب پڑھنے کی رفتار میں تھوڑی تیزی آئی تو رسالہ بہت جلد ختم ہونے لگا۔ کئی بار تو ایسا بھی ہوا کہ شام میں رسالہ گھر آیا اور صبح تک پورا پڑھ بھی چکے۔ ایسے میں سخت کوفت ہوتی تھی کہ ہمارے رسالے بھی امی کے رسالوں (اردو ڈائجسٹ، کرن، شعاع وغیرہ) جتنے موٹے کیوں نہیں آتے۔

اس مسئلہ کا حل یہ نکالا کہ بچوں کا "بڑا والا رسالہ" لیا جائے اور یوں لاہور سے شائع ہونے والا تعلیم و تربیت بھی خریدا جانے لگا۔ پھر ماہنامہ ساتھی اور آنکھ مچولی کا تعارف ہوا تو وہ بھی ان رسالوں میں شامل ہوگئے کہ جو ہر ماہ بچوں کے لیے گھر آیا کرتے تھے۔ لیکن پھر جون اور جولائی میں اسکول سے ملنے والی طویل چھٹیوں کے دوران یہ مسئلہ پھر سر اٹھاتا اور پہلے سے بھی زیادہ سنگین معلوم ہوتا تھا کیوں کہ دو مہینے کی چھٹیوں میں وقت بہت اور پڑھنے کو کچھ نہیں۔ اس کا حل یہ نکالا کہ سال بھر رسالے جمع کرتے اور ان دو مہینوں کی چھٹیوں میں انہیں دوبارہ پڑھنے بیٹھ جاتے۔ پھر جولائی کے آخری ہفتے میں انہیں ردی پیپر والے کو دے کر اگست سے رسالوں کی کھیپ دوبارہ جمع کرنے لگ جاتے۔

آج جس طرح ہر مہینے کی پہلی تاریخ آتے ہی ملازمت پیشہ افراد اپنی تنخواہ کا انتظار کرنے لگتے ہیں بالکل اسی طرح بچپن میں ہم نئے رسالے کے منتظر رہتے تھے۔ یہاں مہینہ شروع ہوا اور وہاں ہم نے اسلم نیوز پیپر ایجنسی، بہادرآباد کا رخ کیا۔ سال میں ایک بار شائع ہونے والا خاص نمبر ہمارے لیے ایسا ہی تھا کہ جیسے بونس ملا ہو۔

سچ تو یہ ہے کہ آج ہم چار لفظ جوڑ کر اور تھوڑے بہت صحیح غلط جملے بنا کر خود کو اردو بلاگر سمجھتے ہیں یہ دراصل انہی رسائل کی وجہ سے ممکن ہوسکا ہے۔ حقیقت میں ان رسالوں نے ایک اندیکھے استاد کا کردار ادا کیا جس نے پڑھنا سکھانے کے ساتھ لکھنے کی تحریک بھی دی۔ البتہ میں اب تک توتا / طوطا اور گنڈا / غنڈہ جیسے الفاظوں پر مدیران کی تکرار کا فیصلہ نہیں کرپایا۔ نیز یہ بھی سمجھ نہیں سکا کہ اسٹور، اسپتال اور اسکول جیسے الفاط لاہور سے شائع ہونے والے اردو رسالوں میں بغیر الف کیوں لکھے جاتے ہیں؟

خام تیل کی قیمت میں کمی لیکن پاکستانی عوام ثمرات سے محروم

گزشتہ مالی سال کے دوران عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی دیکھی گئی۔ حتی کہ فروری 2016 میں خام تیل کی قیمت 13 سال کی کم ترین شرح 25 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔ گو کہ بعد ازاں اس میں تھوڑا بہت اضافہ ہوا تاہم رواں مالی سال کے دوسرے ماہ اگست 2016 تک عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے۔ اس صورتحال سے جہاں تیل برآمد کرنے والے ممالک کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات برآمد کرنے والے ممالک کو خاطر خواہ فوائد حاصل ہورہے ہیں۔تاہم پاکستانی عوام تک اس کے ثمرات نہیں پہنچ پا رہے جس کی ایک اہم وجہ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری ٹیکس بھی ہیں۔

بے لاگ - اردو بلاگران کی منتخب تحاریر کا مجموعہ

انٹرنیٹ پر آج اردو زبان جس مقام پر آپہنچی ہے اس میں بہت سے اردو بلاگران کی انفرادی کوششیں بھی کار فرما ہیں۔ یونی کوڈ اردو کی ترویج کے لیے تیار کیے گئے پاک اردو انسٹالر ہی کی افادیت اور شہرت سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کیسے ایک بلاگر (ابوشامل) کے ذہن میں کوئی خیال آیا اور دوسرے بلاگر (ایم بلال ایم) نے اسے اپنی تکنیکی مہارت سے عملی جامہ پہنا کر انٹرنیٹ پر اردو زبان کی دن دگنی رات چگنی ترقی ممکن بنائی۔ آج نہ صرف فیس بک، ٹویٹر وغیرہ پر لکھنے والے ان خدمات سے مستفید ہورہے ہیں بلکہ آن لائن دنیا سے باہر روایتی ذرائع ابلاغ و دیگر ادارے بھی اس کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

گزشتہ چند سالوں کے دوران اردو بلاگران نے انٹرنیٹ سے باہر کی دنیا میں بلاگ سے متعلق آگہی میں اضافے کے لیے بھی کوششیں کیں۔ سال 2013 میں دو روزہ اردو بلاگرز کانفرنس، 2015 میں اردو سوشل میڈیا سمٹ اور پھر رواں سال یعنی 2016 میں منتخب اردو بلاگز کے کتابی مجموعے "بے لاگ" کا اجرا قابل ذکر ہے۔ گزشتہ ماہ بے لاگ کی تقریب رونمائی لاہور میں منعقد ہوئی جس میں اردو بلاگران کے علاوہ صحافیوں نے بھی شرکت کی۔

Baylaag Urdu Bloggers Book بے لاگ کیا ہے؟

یہ اردو زبان میں بلاگنگ کرنے والے احباب کی تحاریر کا مجموعہ ہے۔ 208 صفحات پر مشمل اس کتاب میں تقریباً 34 مرد و خواتین بلاگران کے 55 سے زائد بلاگز موجود ہیں۔ اس کتاب کے لیے اردو بلاگز کو مرتب کرنے کی ذمہ داری خاور کھوکھر اور رمضان رفیق نے انجام دی ہے۔ اس میں آپ کو مذہب، تاریخ، طنز و مزاح، سیاست، معاشرت اور صحافت کے موضوعات پر لکھے گئے بلاگز ملیں گے۔ یوں یہ کتاب اپنے متنوع موضوعات کی وجہ سے کافی منفرد ہے۔ اس کی قیمت صرف 300 روپے رکھی گئی ہے جو میرے خیال سے بہت مناسب ہے۔

اس کتاب میں میرا کوئی بلاگ شامل نہیں ہے۔ رمضان رفیق صاحب کے بارہا اصرار پر شکر گزار ہوں لیکن مجھے اپنی کوئی تحریر کتاب کے قابل نہیں لگی۔ دیگر دو مواقعوں (کانفرنس اور سمٹ) کے برعکس بے لاگ پر اردو بلاگرز کا ردعمل بہت مثبت رہا جو خوش آئند ہے۔ اس کا سہرا بھی رمضان بھائی کے سر باندھنا چاہیے جن کی صلاحیتوں نے بلاگران کے درمیان رابطے کے فقدان کو پُر کیا اور ایک ایسی تقریب کا انعقاد ممکن ہوا جس پر اکثریت مطمئن ہے۔ اس تقریب کی آڈیو ریکارڈنگ ذیل میں موجود ہے:

بے لاگ کیسے حاصل کریں؟

اردو بلاگران کی منتحب تحاریر کا مجموعہ "بے لاگ" پاکستان کے چار مختلف شہروں میں دستیاب ہے۔ اگر آپ ان میں سے کسی بھی شہر میں رہائش پذیر ہیں تو نیچے دی گئی جگہوں سے باآسانی حاصل کرسکتے ہیں۔ بصورت دیگر پرائم کمیونی کیشنز سے فون نمبر 03336888039 پر رابطہ کر کے بھی بذریعہ ڈاک منگوا سکتے ہیں۔

لاہور: منور پبلی کیشنز، ماڈل ٹاؤن (03214291904) / پرائم کمیونی کیشنز، رائل پارک (03336888039)
کراچی: آئیڈیل پوائنٹ، بہادرآباد (02134129952)
جہلم: بک کارنر، اقبال لائبریری روڈ (0544614977)
چیچہ وطنی: اسکالرز ماڈل اسکولز، حیات آباد (03336892343) / مغل بک کارنر، اوکانولا روڈ (03136975962)

میں کراچی میں رہائش پذیر ہوں اس لیے یہاں "بے لاگ" کی مفت ترسیل میرے لیے ممکن ہے۔ جو احباب گھر بیٹھے بغیر کسی اضافی قیمت کے کتاب حاصل کرنا چاہیں وہ مجھ سے رابطہ کریں۔ پیغام بھیجتے ہوئے اپنا نام، ای میل، فون نمبر، مکمل پتہ اور کتابوں کی تعداد ضرور لکھیں۔ تصدیق کے بعد مطلوبہ تعداد میں کتابیں بذریعہ کورئیر ارسال کردی جائیں گی۔

The post بے لاگ - اردو بلاگران کی منتخب تحاریر کا مجموعہ appeared first on اردو بلاگ.

بے لاگ - اردو بلاگران کی منتخب تحاریر کا مجموعہ

انٹرنیٹ پر آج اردو زبان جس مقام پر آپہنچی ہے اس میں بہت سے اردو بلاگران کی انفرادی کوششیں بھی کار فرما ہیں۔ یونی کوڈ اردو کی ترویج کے لیے تیار کیے گئے پاک اردو انسٹالر ہی کی افادیت اور شہرت سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کیسے ایک بلاگر (ابوشامل) کے ذہن میں کوئی خیال آیا اور دوسرے بلاگر (ایم بلال ایم) نے اسے اپنی تکنیکی مہارت سے عملی جامہ پہنا کر انٹرنیٹ پر اردو زبان کی دن دگنی رات چگنی ترقی ممکن بنائی۔ آج نہ صرف فیس بک، ٹویٹر وغیرہ پر لکھنے والے ان خدمات سے مستفید ہورہے ہیں بلکہ آن لائن دنیا سے باہر روایتی ذرائع ابلاغ و دیگر ادارے بھی اس کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

گزشتہ چند سالوں کے دوران اردو بلاگران نے انٹرنیٹ سے باہر کی دنیا میں بلاگ سے متعلق آگہی میں اضافے کے لیے بھی کوششیں کیں۔ سال 2013 میں دو روزہ اردو بلاگرز کانفرنس، 2015 میں اردو سوشل میڈیا سمٹ اور پھر رواں سال یعنی 2016 میں منتخب اردو بلاگز کے کتابی مجموعے "بے لاگ" کا اجرا قابل ذکر ہے۔ گزشتہ ماہ بے لاگ کی تقریب رونمائی لاہور میں منعقد ہوئی جس میں اردو بلاگران کے علاوہ صحافیوں نے بھی شرکت کی۔

Baylaag Urdu Bloggers Book

بے لاگ کیا ہے؟

یہ اردو زبان میں بلاگنگ کرنے والے احباب کی تحاریر کا مجموعہ ہے۔ 208 صفحات پر مشمل اس کتاب میں تقریباً 34 مرد و خواتین بلاگران کے 55 سے زائد بلاگز موجود ہیں۔ اس کتاب کے لیے اردو بلاگز کو مرتب کرنے کی ذمہ داری خاور کھوکھر اور رمضان رفیق نے انجام دی ہے۔ اس میں آپ کو مذہب، تاریخ، طنز و مزاح، سیاست، معاشرت اور صحافت کے موضوعات پر لکھے گئے بلاگز ملیں گے۔ یوں یہ کتاب اپنے متنوع موضوعات کی وجہ سے کافی منفرد ہے۔ اس کی قیمت صرف 300 روپے رکھی گئی ہے جو میرے خیال سے بہت مناسب ہے۔

اس کتاب میں میرا کوئی بلاگ شامل نہیں ہے۔ رمضان رفیق صاحب کے بارہا اصرار پر شکر گزار ہوں لیکن مجھے اپنی کوئی تحریر کتاب کے قابل نہیں لگی۔ دیگر دو مواقعوں (کانفرنس اور سمٹ) کے برعکس بے لاگ پر اردو بلاگرز کا ردعمل بہت مثبت رہا جو خوش آئند ہے۔ اس کا سہرا بھی رمضان بھائی کے سر باندھنا چاہیے جن کی صلاحیتوں نے بلاگران کے درمیان رابطے کے فقدان کو پُر کیا اور ایک ایسی تقریب کا انعقاد ممکن ہوا جس پر اکثریت مطمئن ہے۔ اس تقریب کی آڈیو ریکارڈنگ ذیل میں موجود ہے:

بے لاگ کیسے حاصل کریں؟

اردو بلاگران کی منتحب تحاریر کا مجموعہ "بے لاگ" پاکستان کے چار مختلف شہروں میں دستیاب ہے۔ اگر آپ ان میں سے کسی بھی شہر میں رہائش پذیر ہیں تو نیچے دی گئی جگہوں سے باآسانی حاصل کرسکتے ہیں۔ بصورت دیگر پرائم کمیونی کیشنز سے فون نمبر 03336888039 پر رابطہ کر کے بھی بذریعہ ڈاک منگوا سکتے ہیں۔

لاہور: منور پبلی کیشنز، ماڈل ٹاؤن (03214291904) / پرائم کمیونی کیشنز، رائل پارک (03336888039)
کراچی: آئیڈیل پوائنٹ، بہادرآباد (02134129952)
جہلم: بک کارنر، اقبال لائبریری روڈ (0544614977)
چیچہ وطنی: اسکالرز ماڈل اسکولز، حیات آباد (03336892343) / مغل بک کارنر، اوکانولا روڈ (03136975962)

میں کراچی میں رہائش پذیر ہوں اس لیے یہاں "بے لاگ" کی مفت ترسیل میرے لیے ممکن ہے۔ جو احباب گھر بیٹھے بغیر کسی اضافی قیمت کے کتاب حاصل کرنا چاہیں وہ مجھ سے رابطہ کریں۔ پیغام بھیجتے ہوئے اپنا نام، ای میل، فون نمبر، مکمل پتہ اور کتابوں کی تعداد ضرور لکھیں۔ تصدیق کے بعد مطلوبہ تعداد میں کتابیں بذریعہ کورئیر ارسال کردی جائیں گی۔

مصطفی کمال کی بغاوت: 'بھائی' کو فرق تو پڑے گا!

گزشتہ روز کراچی کے سابق ناظم سید مصطفیٰ کمال اپنے آبائی شہر لوٹ آئے۔ کراچی آتے ہی انہوں نے جو کام کیا وہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ حتی کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے عہدیداران بھی اپنے سابق سینیٹر کی آمد اور مقاصد سے لاعلم تھے۔ سابق ناظم نے کراچی آمد کے بعد کافی طویل پریس کانفرنس کی جس کا چرچہ اب تک ذرائع ابلاغ پر جاری ہے۔

مصطفیٰ کمال نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین شرابی ہیں اور وہ نشے میں دھت ہو کر تقاریر کرتے رہے ہیں۔ نیز یہ کہ ایم کیو ایم کے بھارتی خفیہ تنظیم را سے تعلقات اور را پس پردہ متحدہ کی مالی مدد کرتی رہی ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ متحدہ قومی موومنٹ طویل عرصے تک برسر اقتدار رہی لیکن عوام کی کوئی خدمت نہیں کی۔ انہوں نے شکایت کی کہ الطاف حسین نے کارکنوں سے رابطہ کمیٹی کو ذلیل کروایا۔ انہوں یہ بھی اعتراف کیا کہ ہم نے الطاف حسین کے لیے دشمن بنائے لیکن انہیں مہاجروں کی کوئی فکر نہیں۔ مثال دیتے ہوئے انہوں نے صولت مرزا اور اجمل پہاڑی کے نام لیے جنہیں الطاف حسین نے دہشت گرد بنایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ الطاف حسین نے دو نسلوں کو ختم کردیا اور مہاجروں کی آئندہ نسلوں کو بھی تباہ کرنا چاہتے ہیں۔

یہ اور ان جیسی کئی شکایات اور الزامات انہوں نے متحدہ اور اس کے قائد الطاف حسین پر لگائے۔ میں نے ان کی پریس کانفرنس سے متعلق کافی کچھ دیکھا اور آج کے اخبارات میں پڑھا لیکن کوئی ایک بات بھی ایسی نہ تھی جسے "انکشاف" کہا جاسکتا ہو۔ انہوں نے جو کچھ کہا وہ تمام باتیں پہلے بھی منظر عام پر آچکی ہیں۔ بس فرق یہ تھا کہ پہلے متحدہ کے سیاسی مخالفین اور قانون نافذ کرنے والے ادارے یہ باتیں کہا کرتے تھے یا پھر جیلوں میں قید مجرمان کے منہ سے متحدہ کی غیر قانونی سرگومیوں میں ملوث ہونے کا علم ہوا کرتا تھا۔ تو پھر مصطفی کمال کو سنجیدہ لینے کی وجہ کیا ہے؟

وجہ یہ ہے: مصطفی کمال کسی مذہبی یا سیاسی جماعت کے رکن نہیں رہے بلکہ ان کی تربیت نائن زیرو میں 'بھائی لوگوں' کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ وہ نائن زیرو میں جھاڑو لگاتے تھے یا ٹیلی فون اٹھاتے تھے، بہرحال تھے تو ایم کیو ایم ہی کے زیر سایہ۔ پھر الطاف حسین نے انہیں متحدہ کے پیدائشی کارکنان، سیاسی رہنماؤں سمیت کئی ساتھی بھائیوں پر فوقیت دی۔ ہر موقع پر ان کی حوصلہ افزائی کی گئی اور انہیں کراچی کا ہیرو بنا کر پیش کیا گیا۔ یہ مصطفی کمال ہی ہیں کہ جنہیں دنیا کا بہترین میئر قرار دیئے جانے کا پروپگنڈا کیا گیا۔ کراچی کے لوگوں کو انہی کی کارکردگی دکھا کر بلدیاتی الیکشن جیتا گیا اور متحدہ کے سیاسی رہنما درجنوں مصطفی کمال دینے کا وعدہ کرتے رہے۔ کراچی والوں نے کبھی نہیں دیکھا کہ الطاف حسین نے سوائے مصطفی کمال کے کسی کو اتنا پیار دیا ہے:

mustafa kamaal altaf hussain mqm

اس لیے آپ مصطفی کمال کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ یہ ذوالفقار مرزا نہیں کہ جنہیں سیاسی حریف کہہ کر رد کردیا جائے۔ یہ آفاق احمد یا عامر خان نہیں جو لوگوں کے ذہن سے محو ہوجائیں گے۔ یہ صولت مرزا اور اجمل پہاڑی بھی نہیں کہ جن سے بھائی لوگ لاتعلقی کا اعلان کر سکیں۔ یہ تو حق پرست بھائیوں کے "اپنے" ہیں۔ لہٰذا آپ مانیں یا نہ مانیں! بھائی کو مصطفی کمال کی بغاوت سے فرق تو پڑے گا...

The post مصطفی کمال کی بغاوت: 'بھائی' کو فرق تو پڑے گا! appeared first on اردو بلاگ.

مصطفی کمال کی بغاوت: 'بھائی' کو فرق تو پڑے گا!

گزشتہ روز کراچی کے سابق ناظم سید مصطفیٰ کمال اپنے آبائی شہر لوٹ آئے۔ کراچی آتے ہی انہوں نے جو کام کیا وہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ حتی کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے عہدیداران بھی اپنے سابق سینیٹر کی آمد اور مقاصد سے لاعلم تھی۔ سابق ناظم نے کراچی آمد کے بعد کافی طویل پریس کانفرنس کی جس کا چرچہ کل سے آج تک ذرائع ابلاغ پر جاری ہے۔

مصطفیٰ کمال نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین شرابی ہیں اور وہ نشے میں دھت ہو کر تقاریر کرتے رہے ہیں۔ نیز یہ کہ ایم کیو ایم کے بھارتی خفیہ تنظیم را سے تعلقات اور را پس پردہ متحدہ کی مالی مدد کرتی رہی ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ متحدہ قومی موومنٹ طویل عرصے تک برسر اقتدار رہی لیکن عوام کی کوئی خدمت نہیں کی۔ انہوں نے شکایت کی کہ الطاف حسین نے کارکنوں سے کمیٹی کو ذلیل کرواتے ہیں۔ انہوں یہ بھی اعتراف کیا کہ ہم نے الطاف حسین کے لیے دشمن بنائے لیکن انہیں مہاجروں کی کوئی فکر نہیں۔ مثال دیتے ہوئے انہوں نے صولت مرزا اور اجمل پہاڑی کے نام لیے جنہیں الطاف حسین نے دہشت گرد بنایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ الطاف حسین نے دو نسلوں کو ختم کردیا اور مہاجروں کی آئندہ نسلوں کو بھی تباہ کرنا چاہتے ہیں۔

یہ اور ان جیسی کئی شکایات اور الزامات انہوں نے متحدہ اور اس کے قائد الطاف حسین پر لگائے۔ میں نے ان کی پریس کانفرنس سے متعلق کافی کچھ دیکھا اور آج کے اخبارات میں پڑھا لیکن کوئی ایک بات بھی ایسی نہ تھی جسے "انکشاف" کہا جاسکتا ہو۔ انہوں نے جو کچھ کہا وہ تمام باتیں پہلے بھی منظر عام پر آچکی ہیں۔ بس فرق یہ تھا کہ پہلے متحدہ کے سیاسی مخالفین اور قانون نافذ کرنے والے ادارے یہ باتیں کہا کرتے تھے یا پھر جیلوں میں قید مجرمان کے منہ سے متحدہ کی غیر قانونی سرگومیوں میں ملوث ہونے کا علم ہوا کرتا تھا۔ تو پھر مصطفی کمال کو سنجیدہ لینے کی وجہ کیا ہے؟

وجہ یہ ہے: مصطفی کمال کسی مذہبی یا سیاسی جماعت کے رکن نہیں رہے بلکہ ان کی تربیت نائن زیرو میں 'بھائی لوگوں' کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ وہ نائن زیرو میں جھاڑو لگاتے تھے یا ٹیلی فون اٹھاتے تھے، بہرحال تھے تو ایم کیو ایم ہی کے زیر سایہ۔ پھر الطاف حسین نے انہیں متحدہ کے پیدائشی کارکنان، سیاسی رہنماؤں سمیت کئی ساتھی بھائیوں پر فوقیت دی۔ ہر موقع پر ان کی حوصلہ افزائی کی گئی اور انہیں کراچی کا ہیرو بنا کر پیش کیا گیا۔ یہ مصطفی کمال ہی ہیں کہ جنہیں دنیا کا بہترین میئر قرار دیئے جانے کا پروپگنڈا کیا گیا۔ کراچی کے لوگوں کو انہی کی کارکردگی دکھا کر بلدیاتی الیکشن جیتا گیا اور متحدہ کے سیاسی رہنما درجنوں مصطفی کمال دینے کا وعدہ کرتے رہے۔ کراچی والوں نے کبھی نہیں دیکھا کہ الطاف حسین نے سوائے مصطفی کمال کے کسی کو اتنا پیار دیا ہے:

mustafa kamaal altaf hussain mqm

اس لیے آپ مصطفی کمال کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ یہ ذوالفقار مرزا نہیں کہ جنہیں سیاسی حریف کہہ کر رد کردیا جائے۔ یہ آفاق احمد یا عامر خان نہیں جو لوگوں کے ذہن سے محو ہوجائیں گے۔ یہ صولت مرزا اور اجمل پہاڑی بھی نہیں کہ جن سے بھائی لوگ لاتعلقی کا اعلان کر سکیں۔ یہ تو حق پرست بھائیوں کے "اپنے" ہیں۔ لہٰذا آپ مانیں یا نہ مانیں! بھائی کو مصطفی کمال کی بغاوت سے فرق تو پڑے گا ہی!

بیک ٹو دا فیوچر II اور آج کی گاڑیاں

"جہاں ہم جا رہے ہیں وہاں سڑکوں کی ضرورت نہیں"۔ یہ ڈائیلاگ مشہور زمانہ فلم بیک ٹو دا فیوچر II کا ہے۔ 30 سال پہلے تین فلموں پر مشتمل اس سلسلے نے عالمگیر شہرت سمیٹی اور آج بھی دنیا بھر میں مجھ جیسے لاکھوں پرستار موجود ہیں جو اسے بار بار دیکھنا چاہتے ہیں۔ سائنسی موضوع پر بنائی گئی اس فلم کے تین حصے ہیں جن میں مرکزی کردار ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان سفر کرتے ہیں، ایک ایسی گاڑی کے ذریعے جو ٹائم مشین ہوتی ہے۔ لیکن اچانک اس فلم کا ذکر کیوں؟ اس لیے کہ اب سے دو روز قبل وہی تاریخ تھی جب بیک ٹو دا فیوچر II کے مرکزی کردار ڈاکٹر ایمٹ براؤن، عرف ڈوک، اور ہیرو مارٹی میک فلائی اپنی "ٹائم مشین" میں سفر کرتے ہیں، یعنی 21 اکتوبر 2015ء کا سفر!

پہلی فلم کے مقابلے میں سلسلے کی دوسری فلم کی گاڑیوں میں ایک جدت تھی، یہ چار پہیوں پر دوڑنے کے علاوہ ہوا میں بھی اڑ سکتی تھی۔ کہانی بیان کرکے آپ کے لیے فلم کا مزہ خراب نہیں کروں گا لیکن 2015ء کے بارے میں چند پیشن گوئیاں اور توقعات پر روشنی ڈالوں گا، جو 1989ء میں کی گئی تھیں۔

فلم میں ڈاکٹر ایمٹ براؤن نے 2015ء میں گاڑیوں میں دستیاب قابل ذکر جدتوں کا ذکر کیا تھا۔ ان میں اڑنے والی گاڑیاں، ہوور بورڈز، قدرتی فضلات کا بطور ایندھن استعمال، حادثے کی صورت میں ڈرائیور کو گاڑی سے نکالنے والا خودکار نظام وغیرہ شامل تھا۔ آج ہمارے پاس موقع ہے کہ ان پیشن گوئیوں کو دور حاضر میں پرکھ سکیں۔

back to the future day

بیک ٹو دا فیوچر II میں اڑنے والی گاڑی کا خیال گو کہ نیا نہیں تھا، اس سے قبل بھی فلموں میں ایسے اڑن کھٹولے دکھائے گئے تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ خواب آج بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکا اور مستقبل قریب میں بھی بڑے پیمانے پر اڑن گاڑیوں کے استعمال پر کوئی پیشرفت ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ یہ بات اپنی جگہ کہ کاریں بنانے والے ادارے گاڑیوں کو جدید سے جدید ترین بنانے کی کوششیں کررہے ہیں لیکن ابھی ان کی تمام دوڑ دھوپ سڑکوں پر چار پہیوں سے چلنے والی گاڑیوں تک محدود ہے۔ بہرحال، فلم میں اڑتی ہوئی گاڑیوں کے لیے ہوا میں تیرتے ہوئے روبوٹک پٹرول اسٹیشن، ٹریفک کے مختلف اشارے اور دوران پرواز حادثے کی صورت میں ڈرائیور کے خودکار انخلاء کا نظام بھی دکھایا گیا لیکن جب ایسی گاڑیاں بن ہی نہیں رہیں تو پھر ان پر کچھ لکھنے کی ضرورت بھی باقی نہیں رہتی۔

hoverboard

ہوور بورڈ کے خیال کو ہینڈو اور پھر ٹویوٹا کے ذیلی ادارے لیکسز نے حقیقت کا روپ دے دیا ہے۔ گو کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی عام نہیں ہوسکی لیکن کہا جا سکتا ہے کہ بیک ٹو دا فیوچر II میں زمین اور پانی پر چلنے والا ہوور بورڈ تیار ہوچکا ہے۔ ہینڈو کا تیار کردہ ہوور بورڈ مقناطیسی تکنیک کو استعمال کرکے بنایا گیا ہے جسے آپ عام سڑک پر استعمال نہیں کرسکتے۔ لیکسز کا پیش کردہ سلائیڈ ہوور بورڈ بھی مقناطیسی تکنیک کو استعمال کرتا ہے لیکن یہ فلم میں دکھائے گئے ہوور بورڈ کی طرح زمین اور پانی دونوں کے اوپر سے گزر سکتا ہے۔

1989ء سے 2015ء کا سفر کرنے کے لیے ڈوک کی 88 میل فی گھنٹے سے دوڑنے والی گاڑی میں کیلے کے چھلکے اور مشروبات کو بطور ایندھن استعمال کیا گیا ہے۔ یہ خیال بھی دور جدید میں حقیقت کے روپ میں ڈھل رہا ہے کیونکہ اب گاڑیوں کے چند برانڈز بایو ڈیزل (Bio Diesel) پر چلنے کے قابل ہو چکے ہیں اور بہت سے افراد کھانے پکانے میں استعمال ہونے والے تیل سے گاڑیاں چلا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہائیڈروجن گیس سے چلنے والی گاڑیاں بھی تیاری کے مراحل میں ہیں۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بیک ٹو دا فیوچر میں 2015ء کے لیے کی گئی پیشن گوئیاں کافی حد تک قابل عمل بھی ہیں بلکہ کئی ایسی ہیں جن سے ہم آج لطف اندوز بھی ہو رہے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ فلم کے لکھاری باب گیل نے گاڑیوں کے معاملے میں کچھ زيادہ ہی توقعات باندھ لی تھیں، جن پر ہم پورے نہیں اتر سکے۔

The post بیک ٹو دا فیوچر II اور آج کی گاڑیاں appeared first on اردو بلاگ.

بیک ٹو دا فیوچر II اور آج کی گاڑیاں

"جہاں ہم جا رہے ہیں وہاں سڑکوں کی ضرورت نہیں"۔ یہ ڈائیلاگ مشہور زمانہ فلم بیک ٹو دا فیوچر II کا ہے۔ 30 سال پہلے تین فلموں پر مشتمل اس سلسلے نے عالمگیر شہرت سمیٹی اور آج بھی دنیا بھر میں مجھ جیسے لاکھوں پرستار موجود ہیں جو اسے بار بار دیکھنا چاہتے ہیں۔ سائنسی موضوع پر بنائی گئی اس فلم کے تین حصے ہیں جن میں مرکزی کردار ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان سفر کرتے ہیں، ایک ایسی گاڑی کے ذریعے جو ٹائم مشین ہوتی ہے۔ لیکن اچانک اس فلم کا ذکر کیوں؟ اس لیے کہ اب سے دو روز قبل وہی تاریخ تھی جب بیک ٹو دا فیوچر II کے مرکزی کردار ڈاکٹر ایمٹ براؤن، عرف ڈوک، اور ہیرو مارٹی میک فلائی اپنی "ٹائم مشین" میں سفر کرتے ہیں، یعنی 21 اکتوبر 2015ء کا سفر!

پہلی فلم کے مقابلے میں سلسلے کی دوسری فلم کی گاڑیوں میں ایک جدت تھی، یہ چار پہیوں پر دوڑنے کے علاوہ ہوا میں بھی اڑ سکتی تھی۔ کہانی بیان کرکے آپ کے لیے فلم کا مزہ خراب نہیں کروں گا لیکن 2015ء کے بارے میں چند پیشن گوئیاں اور توقعات پر روشنی ڈالوں گا، جو 1989ء میں کی گئی تھیں۔

فلم میں ڈاکٹر ایمٹ براؤن نے 2015ء میں گاڑیوں میں دستیاب قابل ذکر جدتوں کا ذکر کیا تھا۔ ان میں اڑنے والی گاڑیاں، ہوور بورڈز، قدرتی فضلات کا بطور ایندھن استعمال، حادثے کی صورت میں ڈرائیور کو گاڑی سے نکالنے والا خودکار نظام وغیرہ شامل تھا۔ آج ہمارے پاس موقع ہے کہ ان پیشن گوئیوں کو دور حاضر میں پرکھ سکیں۔

back to the future day

بیک ٹو دا فیوچر II میں اڑنے والی گاڑی کا خیال گو کہ نیا نہیں تھا، اس سے قبل بھی فلموں میں ایسے اڑن کھٹولے دکھائے گئے تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ خواب آج بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکا اور مستقبل قریب میں بھی بڑے پیمانے پر اڑن گاڑیوں کے استعمال پر کوئی پیشرفت ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ یہ بات اپنی جگہ کہ کاریں بنانے والے ادارے گاڑیوں کو جدید سے جدید ترین بنانے کی کوششیں کررہے ہیں لیکن ابھی ان کی تمام دوڑ دھوپ سڑکوں پر چار پہیوں سے چلنے والی گاڑیوں تک محدود ہے۔ بہرحال، فلم میں اڑتی ہوئی گاڑیوں کے لیے ہوا میں تیرتے ہوئے روبوٹک پٹرول اسٹیشن، ٹریفک کے مختلف اشارے اور دوران پرواز حادثے کی صورت میں ڈرائیور کے خودکار انخلاء کا نظام بھی دکھایا گیا لیکن جب ایسی گاڑیاں بن ہی نہیں رہیں تو پھر ان پر کچھ لکھنے کی ضرورت بھی باقی نہیں رہتی۔

hoverboard

ہوور بورڈ کے خیال کو ہینڈو اور پھر ٹویوٹا کے ذیلی ادارے لیکسز نے حقیقت کا روپ دے دیا ہے۔ گو کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی عام نہیں ہوسکی لیکن کہا جا سکتا ہے کہ بیک ٹو دا فیوچر II میں زمین اور پانی پر چلنے والا ہوور بورڈ تیار ہوچکا ہے۔ ہینڈو کا تیار کردہ ہوور بورڈ مقناطیسی تکنیک کو استعمال کرکے بنایا گیا ہے جسے آپ عام سڑک پر استعمال نہیں کرسکتے۔ لیکسز کا پیش کردہ سلائیڈ ہوور بورڈ بھی مقناطیسی تکنیک کو استعمال کرتا ہے لیکن یہ فلم میں دکھائے گئے ہوور بورڈ کی طرح زمین اور پانی دونوں کے اوپر سے گزر سکتا ہے۔

1989ء سے 2015ء کا سفر کرنے کے لیے ڈوک کی 88 میل فی گھنٹے سے دوڑنے والی گاڑی میں کیلے کے چھلکے اور مشروبات کو بطور ایندھن استعمال کیا گیا ہے۔ یہ خیال بھی دور جدید میں حقیقت کے روپ میں ڈھل رہا ہے کیونکہ اب گاڑیوں کے چند برانڈز بایو ڈیزل (Bio Diesel) پر چلنے کے قابل ہو چکے ہیں اور بہت سے افراد کھانے پکانے میں استعمال ہونے والے تیل سے گاڑیاں چلا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہائیڈروجن گیس سے چلنے والی گاڑیاں بھی تیاری کے مراحل میں ہیں۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بیک ٹو دا فیوچر میں 2015ء کے لیے کی گئی پیشن گوئیاں کافی حد تک قابل عمل بھی ہیں بلکہ کئی ایسی ہیں جن سے ہم آج لطف اندوز بھی ہو رہے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ فلم کے لکھاری باب گیل نے گاڑیوں کے معاملے میں کچھ زيادہ ہی توقعات باندھ لی تھیں، جن پر ہم پورے نہیں اتر سکے۔

Hello world!

Welcome to WordPress. This is your first post. Edit or delete it, then start writing!

شاہراہ وقت پر کامیابی کا سفر (کتابچہ)

آپ بہت ذہین ہیں، اپنے شعبے میں ماہر ہیں اور اعلی صلاحیتوں کے مالک بھی ہیں لیکن اگر وقت پر کام مکمل نہیں کرتے تو آپ کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اور وقت پر کام مکمل کرنا صرف ایک ہی صورت میں ممکن ہے کہ آپ دن بھر میں دستیاب چوبیس گھنٹوں کا بامقصد استعمال کر کے اپنے آج کو گزرے کل سے بہتر بنائیں۔

بدقسمتی سے ہمیں اسکول، کالج یا یونیورسٹی میں تنظیم وقت یعنی Time Management کی تربیت نہیں دی جاتی۔ اسی لیے کبھی کوئی دوست کاروباری اور گھریلو مصروفیات میں عدم توازن کی شکایت کرتا نظر آتا ہے، تو کوئی عزیز سارا دن کوہلو کا بیل بنے رہنے کے باوجود کام ادھورے رہ جانے پر شکوہ کرتا ہے۔ کچھ لوگ اضافی محنت سے کسی نہ کسی طرح اہم معاملات جیسے تیسے نمٹا بھی لیتے ہیں لیکن ان غلطیوں کی طرف توجہ کرنے کا وقت ہی نہیں ملتا جن کی وجہ سے ایک آسان کام میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مجھے خود طویل عرصے تک اس حوالے سے پریشانی لاحق رہی کہ وقت ملتا نہیں اور کام بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ تقریباً سال بھر قبل محمد بشیر جمعہ صاحب کے ایک پروگرام میں شرکت کا موقع ملا جس میں انہوں نے وقت کے بہتر استعمال پر سیر حاصل گفتگو کی۔ پروگرام کے بعد ان کی کتاب 'ترقی و کامیابی بذریعہ تنظیم وقت' بطور تحفہ موصول ہوئی اور پھر ایک نجی محفل میں بھی ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔

گزشتہ روز محمد بشیر جمعہ صاحب کا ایک کتابچہ 'شاہراہ وقت پر کامیابی کا سفر' بذریعہ ای-میل موصول ہوا جس کے ساتھ مطالعے کا مشورہ اور دیگر احباب تک پہنچانے کی تاکید بھی کی گئی تھی۔ علاوہ ازیں انہوں نے تعلیمی اور رفاحی غرض سے اس کتابچے کو چھپوا کر مفت تقسیم کرنے کی اجازت بھی دی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فائدہ حاصل کرسکیں۔

اس کتابچے میں بہت مختصر اور جامع انداز میں سمجھایا گیا ہے کہ آپ تنظیم وقت سے کیا فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔ مثلاً وہ کیا طریقے ہیں جن سے ہم اپنا قیمتی وقت بچا کر اسے بامقصد استعمال کرسکتے ہیں، وہ کونسے کام ہیں جن میں ہمارا وقت غیر محسوس طریقے سے ضائع ہوتا ہے اور ہمارے روز مرہ کے کاموں سے غیر ضروری افعال کو کیسے پہچانا اور نکالا جائے۔ اس کے علاوہ زندگی کے نصب العین کا تعین، اس کے حصول کے طریقے، عملی زندگی میں پیش آنے والی مشکلات سے نمٹنے اور تیزی سے ہونے والی معاشرتی تبدیلیوں سے سیکھنے جیسے اہم امور پر ھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

اگر آپ بھی بشیر جمعہ صاحب کا یہ کتابچے حاصل کر کے تنظیم وقت سیکھنا چاہیں تو ذیل میں موجود فارم پُر کریں تاکہ آپ کو 'شاہراہ وقت پر کامیابی کا سفر' بذریعہ ای-میل ارسال کیا جاسکے۔

[contact-form-7]

The post شاہراہ وقت پر کامیابی کا سفر (کتابچہ) appeared first on اردو بلاگ.

شاہراہ وقت پر کامیابی کا سفر (کتابچہ)

آپ بہت ذہین ہیں، اپنے شعبے میں ماہر ہیں اور اعلی صلاحیتوں کے مالک بھی ہیں لیکن اگر وقت پر کام مکمل نہیں کرتے تو آپ کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اور وقت پر کام مکمل کرنا صرف ایک ہی صورت میں ممکن ہے کہ آپ دن بھر میں دستیاب چوبیس گھنٹوں کا بامقصد استعمال کر کے اپنے آج کو گزرے کل سے بہتر بنائیں۔

بدقسمتی سے ہمیں اسکول، کالج یا یونیورسٹی میں تنظیم وقت یعنی Time Management کی تربیت نہیں دی جاتی۔ اسی لیے کبھی کوئی دوست کاروباری اور گھریلو مصروفیات میں عدم توازن کی شکایت کرتا نظر آتا ہے، تو کوئی عزیز سارا دن کوہلو کا بیل بنے رہنے کے باوجود کام ادھورے رہ جانے پر شکوہ کرتا ہے۔ کچھ لوگ اضافی محنت سے کسی نہ کسی طرح اہم معاملات جیسے تیسے نمٹا بھی لیتے ہیں لیکن ان غلطیوں کی طرف توجہ کرنے کا وقت ہی نہیں ملتا جن کی وجہ سے ایک آسان کام میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مجھے خود طویل عرصے تک اس حوالے سے پریشانی لاحق رہی کہ وقت ملتا نہیں اور کام بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ تقریباً سال بھر قبل محمد بشیر جمعہ صاحب کے ایک پروگرام میں شرکت کا موقع ملا جس میں انہوں نے وقت کے بہتر استعمال پر سیر حاصل گفتگو کی۔ پروگرام کے بعد ان کی کتاب 'ترقی و کامیابی بذریعہ تنظیم وقت' بطور تحفہ موصول ہوئی اور پھر ایک نجی محفل میں بھی ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔

گزشتہ روز محمد بشیر جمعہ صاحب کا ایک کتابچہ 'شاہراہ وقت پر کامیابی کا سفر' بذریعہ ای-میل موصول ہوا جس کے ساتھ مطالعے کا مشورہ اور دیگر احباب تک پہنچانے کی تاکید بھی کی گئی تھی۔ علاوہ ازیں انہوں نے تعلیمی اور رفاحی غرض سے اس کتابچے کو چھپوا کر مفت تقسیم کرنے کی اجازت بھی دی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فائدہ حاصل کرسکیں۔

اس کتابچے میں بہت مختصر اور جامع انداز میں سمجھایا گیا ہے کہ آپ تنظیم وقت سے کیا فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔ مثلاً وہ کیا طریقے ہیں جن سے ہم اپنا قیمتی وقت بچا کر اسے بامقصد استعمال کرسکتے ہیں، وہ کونسے کام ہیں جن میں ہمارا وقت غیر محسوس طریقے سے ضائع ہوتا ہے اور ہمارے روز مرہ کے کاموں سے غیر ضروری افعال کو کیسے پہچانا اور نکالا جائے۔ اس کے علاوہ زندگی کے نصب العین کا تعین، اس کے حصول کے طریقے، عملی زندگی میں پیش آنے والی مشکلات سے نمٹنے اور تیزی سے ہونے والی معاشرتی تبدیلیوں سے سیکھنے جیسے اہم امور پر ھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

اگر آپ بھی بشیر جمعہ صاحب کا یہ کتابچے حاصل کر کے تنظیم وقت سیکھنا چاہیں تو ذیل میں موجود فارم پُر کریں تاکہ آپ کو 'شاہراہ وقت پر کامیابی کا سفر' بذریعہ ای-میل ارسال کیا جاسکے۔

[contact-form-7]

یوم آزادی پر پیغام اتحاد

یوم آزادی پر سرکاری محکموں، کاروباری اداروں، ذرائع ابلاغ، سیاسی و غیر سیاسی تحریکوں اور انجمنوں کی جانب سے خصوصی نغموں کی تیاری اور ان کی اشاعت تو ماضی میں بھی آپ نے دیکھی ہی ہوگی لیکن اس بار یوم آزادی پر ایک ایسے طبقے کی جانب سے حب الوطنی کا مظاہرہ کیا گیا ہے جسے ہم 'مدارس' کے نام سے جانتے ہیں۔

اس سال پاکستان کے یوم آزادی کی مناسبت سے بنوریہ میڈیا پروڈکشنز نے "پاک وطن - پیغام اتحاد" کے عنوان سے نغمہ جاری کیا ہے۔ مملک خداداد پاکستان کی محبت سے سرشار طالب علموں نے جس محنت اور لگن سے، بغیر کسی بیرونی تکنیکی امداد کے تحقیق سے تیاری تک کا تمام کام مدرسے کے اندر ہی انجام دیا، اس کی جتنی تعریف اور حوصلہ افزائی کی جائے کم ہے!

یہ استاد امانت علی خان کی آواز میں مشہور سدابہار ملی نغمے "اے وطن پیارے وطن" کا ری-میک ہے جسے معروف نعت خواں نعمان شاہ، مولانا انس یونس، حافظ ابوبکر اور جنید جمشید نے پڑھا ہے۔ اس نغمے میں موسیقی نہیں، نمود و نمائش نہیں اور فحاشی و عریانی بھی نہیں۔ اگر ہے تو صرف پاک وطن سے محبت کا اظہار اور متحد ہونے کا پیغام ہے۔

ملک میں جاری نفرتوں کی لہر ختم کرنے اور باہمی اتحاد کے فروغ کی ایک کوشش "پاک وطن" کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ جامعہ بنوریہ العالمیہ کے اس اقدام سے نہ صرف مدارس کے خلاف پھیلائے گئے زہر کا تریاق ہوگا بلکہ دینی درس گاہوں میں پڑھنے والوں کی اہلیت اور قابلیت پر اٹھنے والے سوالوں کا عملی اور مثالی جواب بھی میسر آگیا ہے۔

اس نغمے کی ایک اور منفرد بات یہ ہے کہ اس کے درمیان علماء دین کی نصیحتیں بھی شامل کیے گئے ہیں جو بلاشبہ اس یوم آزادی پر یہ سب سے بہترین پیغامات ہیں جو ہر پاکستانی تک پہنچائے جانے چاہیئں۔ لہٰذا انہی جید علماء کرام کے الفاظ اور آخر میں نغمے کی ویڈیو پر اس بلاگ کا اختتام کر رہا ہوں۔

پاکستان کو صحیح معنی میں پاکستان بنانے کی کوشش کریں۔ پاکستانی بننے کا مطلب ہی یہی ہے کہ فرقہ واریت اور باہمی خانہ جنگی سے اپنے آپ کو ہر قیمت پر بچانے کی کوشش کریں۔ سب متحد ہو کر ملک کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں۔ (مفتی تقی عثمانی)

قرآن و سنت کی طرف سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے پیغام اتحاد یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور فرقہ واریت کو کسی حال میں برداشت نہ کیا جائے۔ ہمارا نام مسلمان ہے۔ ہمارا نام دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ، سنی نہیں ہے۔ (مفتی رفیع عثمانی)

(function(d, s, id) { var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0]; if (d.getElementById(id)) return; js = d.createElement(s); js.id = id; js.src = "//connect.facebook.net/en_GB/all.js#xfbml=1"; fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs); }(document, 'script', 'facebook-jssdk'));

The post یوم آزادی پر پیغام اتحاد appeared first on اردو بلاگ.

یوم آزادی پر پیغام اتحاد

یوم آزادی پر سرکاری محکموں، کاروباری اداروں، ذرائع ابلاغ، سیاسی و غیر سیاسی تحریکوں اور انجمنوں کی جانب سے خصوصی نغموں کی تیاری اور ان کی اشاعت تو ماضی میں بھی آپ نے دیکھی ہی ہوگی لیکن اس بار یوم آزادی پر ایک ایسے طبقے کی جانب سے حب الوطنی کا مظاہرہ کیا گیا ہے جسے ہم 'مدارس' کے نام سے جانتے ہیں۔

پاکستان کے 68ویں یوم آزادی کی مناسبت سے بنوریہ میڈیا پروڈکشنز نے "پاک وطن - پیغام اتحاد" کے عنوان سے نغمہ جاری کیا ہے۔ مملک خداداد پاکستان کی محبت سے سرشار طالب علموں نے جس محنت اور لگن سے، بغیر کسی بیرونی تکنیکی امداد کے تحقیق سے تیاری تک کا تمام کام مدرسے کے اندر ہی انجام دیا، اس کی جتنی تعریف اور حوصلہ افزائی کی جائے کم ہے!

یہ استاد امانت علی خان کی آواز میں مشہور ہونے والے سدابہار ملی نغمے "اے وطن پیارے وطن" کا ری-میک ہے جسے معروف نعت خواں نعمان شاہ، مولانا انس یونس، حافظ ابوبکر اور جنید جمشید نے پڑھا ہے۔ اس نغمے میں موسیقی نہیں، نمود و نمائش نہیں اور فحاشی و عریانی بھی نہیں۔ اگر ہے تو صرف پاک وطن سے محبت کا اظہار اور متحد ہونے کا پیغام ہے۔

ملک میں جاری نفرتوں کی لہر ختم کرنے اور باہمی اتحاد کے فروغ کی ایک کوشش "پاک وطن" کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ جامعہ بنوریہ العالمیہ کے اس اقدام سے نہ صرف مدارس کے خلاف پھیلائے گئے زہر کا تریاق ہوگا بلکہ دینی درس گاہوں میں پڑھنے والوں کی اہلیت اور قابلیت پر اٹھنے والے سوالوں کا عملی اور مثالی جواب بھی میسر آگیا ہے۔

اس نغمے کی ایک اور منفرد بات یہ ہے کہ اس کے درمیان علماء دین کی نصیحتیں بھی شامل کیے گئے ہیں جو بلاشبہ اس یوم آزادی پر یہ سب سے بہترین پیغامات ہیں جو ہر پاکستانی تک پہنچائے جانے چاہیئں۔ لہٰذا انہی جید علماء کرام کے الفاظ اور آخر میں نغمے کی ویڈیو پر اس بلاگ کا اختتام کر رہا ہوں۔

پاکستان کو صحیح معنی میں پاکستان بنانے کی کوشش کریں۔ پاکستانی بننے کا مطلب ہی یہی ہے کہ فرقہ واریت اور باہمی خانہ جنگی سے اپنے آپ کو ہر قیمت پر بچانے کی کوشش کریں۔ سب متحد ہو کر ملک کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں۔ (مفتی تقی عثمانی)

قرآن و سنت کی طرف سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے پیغام اتحاد یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور فرقہ واریت کو کسی حال میں برداشت نہ کیا جائے۔ ہمارا نام مسلمان ہے۔ ہمارا نام دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ، سنی نہیں ہے۔ (مفتی رفیع عثمانی)

(function(d, s, id) { var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0]; if (d.getElementById(id)) return; js = d.createElement(s); js.id = id; js.src = "//connect.facebook.net/en_GB/all.js#xfbml=1"; fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs); }(document, 'script', 'facebook-jssdk'));

آن لائن پول کے نتائج تبدیل؛ ایم کیو ایم کی منفرد دھاندلی

گزشتہ دنوں امریکا کے شہر ڈیلاس میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی امریکی شاخ کا انیسواں یوم تاسیس منایا گیا۔ اس حوالے سے منعقدہ تقریب میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اپنے مخصوص روایتی انداز میں تقریر کی جس میں مظلومت کے اظہار سے دھمکیوں تک سب ہی کچھ شامل تھا۔ کچھ باتیں الطاف حسین ایسی بھی کر گئے کہ جس پر رابطہ کمیٹی کی دوڑیں لگی ہوئیں ہیں اور وہ اب تک وضاحتیں پیش کر رہی ہے۔

بہرحال، سیاسی مخالفین کی شدید تنقید اور کچھ دوستوں کے نالاں ہونے کے بعد الطاف حسین نے ایک بار پھر ایم کیو ایم کی قیادت سے مستعفی ہونے اور تحریک سے علیحدہ ہونے کی پیش کش کردی۔ چونکہ یہ کام قائد تحریک درجنوں بار پہلے بھی کرچکے ہیں اس لیے سب کو نتیجے کا علم پہلے ہی سے تھا جو کہ نہیں بھائی نہیں کے علاوہ کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ لیکن اس بار کچھ مختلف ہوا۔

mqm-poll-about-altaf-hussain

اب کی بار الطاف حسین نے رابطہ کمیٹی کے سامنے دو زانو ساتھی بھائیوں سے یہ سوال پوچھنے کے بجائے ایم کیو ایم کی ویب سائٹ پر پول کی صورت میں سوال پوچھا اور تمام حق پرستوں کو اس میں ووٹ کی دعوت دی۔ یہ پول ایم کیو ایم کی ویب سائٹ پر کل (بروز پیر) ظاہر ہوا اور آج (بروز منگل) بند کردیا گیا۔ یعنی آن لائن پولنگ میں حصہ لینے کی مدت کم و بیش 24 گھنٹے تک میسر رہی۔ پول میں پوچھا گیا سوال یہ تھا:

میں الطاف حسین حق پرست عوام سے سوال کرتاہوں کہ کیامجھے پارٹی اورقوم کوبچانے کی خاطرتحریک سے دستبرداری کرلینی چاہیے؟

جواب دینے لیے تین آپشنز موجود تھے: 1) ہاں۔ 2) ہرگز نہیں۔ 3) معلوم نہیں۔

ویب سائٹ پر آن لائن ووٹ ڈالے گئے پھر اچانک ووٹنگ بند ہوگئی۔ بات یہیں تک رہتی تو پھر بھی خیر تھی لیکن کچھ دیر قبل ایم کیو ایم کی جانب سے پول کا نتیجہ پیش کیا گیا جس میں یہ دعوی بھی شامل ہے:

ایم کیوایم ویب سائٹ پر عوامی سروے میں 72 فیصد سے زائد افراد نے جناب الطاف حسین کے سوال پر ’’نہیں ‘‘ پرووٹ دیکر ایم کیوایم کی قیادت سے ان کی دستبرداری کی رائے کو یکسر مسترد کردیا ہے ۔

یہ خبر آپ ایکسپریس ٹریبیون، پاکستان ٹوڈے، روزنامہ پاکستان، سماء نیوز کے علاوہ دیگر خبری ویب سائٹس پر بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ اس دعوے کی تصدیق کے لیے جب ویب سائٹ پر پول کے نتائج دیکھنا چاہے تو وہاں صفحہ غائب پایا کیوں کہ آن لائن پول تو ایم کیو ایم کی جانب سے بند کردیا گیا تھا۔ البتہ وہ یہ بھول گئے کہ جس ویب سائٹ سے پول بنایا گیا وہ ہر پول کے ساتھ ایک آر ایس ایس فیڈ (RSS Feed) کا صفحہ بھی بناتی ہے جو پول بند ہوجانے کے بعد بھی آن لائن رہتا ہے۔ ذیل میں اس صفحے کی نقل اور ویب سائٹ کا ربط شامل ہے جہاں ایم کیو ایم نے پول بنایا اور پھر بند کر دیا۔

ایم کیو ایم کی ویب سائٹ پر ہونے والی پولنگ کا اصلی نتیجہ

ایم کیو ایم کی ویب سائٹ پر ہونے والی پولنگ کا اصلی نتیجہ

اس پول پر ڈالے گئے ووٹس کی مجموعی تعداد 16002 رہی جس میں سے 76.08 فیصد ووٹ (12174 ووٹ) 'ہاں' کو دیے گئے۔ جبکہ 21.82 ووٹ (3492 ووٹ) 'ہرگز نہیں' کو دیے گئے اور 2.10 فیصد (336 ووٹ) لوگوں نے 'معلوم نہیں' کا انتخاب کیا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا کہ ووٹنگ میں حصہ لینے والے تین چوتھائی سے زائد افراد الطاف حسین کی قیادت سے دستبرداری اور تحریک سے علیحدگی کے حق میں ہیں۔

متحدہ قومی موونٹ کی جانب سے عام الیکشن میں دھاندلیوں سے متعلق تو کراچی سمیت ملک بھر کے تمام حلقے بخوبی جانتے ہیں لیکن اس بار ایم کیو ایم نے اپنی ہی ویب سائٹ پر ہونے والی پولنگ کا نتیجہ بالکل الٹ کر کے عوامی رجحانات کو یکسر مختلف ظاہر کرنے کی جو ناکام کوشش کی اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عملی میدان میں کتنی بڑی بے ضابطگیاں کی جاتی ہوں گی۔

The post آن لائن پول کے نتائج تبدیل؛ ایم کیو ایم کی منفرد دھاندلی appeared first on اردو بلاگ.

آن لائن پول کے نتائج تبدیل؛ ایم کیو ایم کی منفرد دھاندلی

گزشتہ دنوں امریکا کے شہر ڈیلاس میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی امریکی شاخ کا انیسواں یوم تاسیس منایا گیا۔ اس حوالے سے منعقدہ تقریب میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اپنے مخصوص روایتی انداز میں تقریر کی جس میں مظلومت کے اظہار سے دھمکیوں تک سب ہی کچھ شامل تھا۔ کچھ باتیں الطاف حسین ایسی بھی کر گئے کہ جس پر رابطہ کمیٹی کی دوڑیں لگی ہوئیں ہیں اور وہ اب تک وضاحتیں پیش کر رہی ہے۔

بہرحال، سیاسی مخالفین کی شدید تنقید اور کچھ دوستوں کے نالاں ہونے کے بعد الطاف حسین نے ایک بار پھر ایم کیو ایم کی قیادت سے مستعفی ہونے اور تحریک سے علیحدہ ہونے کی پیش کش کردی۔ چونکہ یہ کام قائد تحریک درجنوں بار پہلے بھی کرچکے ہیں اس لیے سب کو نتیجے کا علم پہلے ہی سے تھا جو کہ نہیں بھائی نہیں کے علاوہ کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ لیکن اس بار کچھ مختلف ہوا۔

mqm-poll-about-altaf-hussain

اب کی بار الطاف حسین نے رابطہ کمیٹی کے سامنے دو زانو ساتھی بھائیوں سے یہ سوال پوچھنے کے بجائے ایم کیو ایم کی ویب سائٹ پر پول کی صورت میں سوال پوچھا اور تمام حق پرستوں کو اس میں ووٹ کی دعوت دی۔ یہ پول ایم کیو ایم کی ویب سائٹ پر کل (بروز پیر) ظاہر ہوا اور آج (بروز منگل) بند کردیا گیا۔ یعنی آن لائن پولنگ میں حصہ لینے کی مدت کم و بیش 24 گھنٹے تک میسر رہی۔ پول میں پوچھا گیا سوال یہ تھا:

میں الطاف حسین حق پرست عوام سے سوال کرتاہوں کہ کیامجھے پارٹی اورقوم کوبچانے کی خاطرتحریک سے دستبرداری کرلینی چاہیے؟

جواب دینے لیے تین آپشنز موجود تھے: 1) ہاں۔ 2) ہرگز نہیں۔ 3) معلوم نہیں۔

ویب سائٹ پر آن لائن ووٹ ڈالے گئے پھر اچانک ووٹنگ بند ہوگئی۔ بات یہیں تک رہتی تو پھر بھی خیر تھی لیکن کچھ دیر قبل ایم کیو ایم کی جانب سے پول کا نتیجہ پیش کیا گیا جس میں یہ دعوی بھی شامل ہے:

ایم کیوایم ویب سائٹ پر عوامی سروے میں 72 فیصد سے زائد افراد نے جناب الطاف حسین کے سوال پر ’’نہیں ‘‘ پرووٹ دیکر ایم کیوایم کی قیادت سے ان کی دستبرداری کی رائے کو یکسر مسترد کردیا ہے ۔

یہ خبر آپ ایکسپریس ٹریبیون، پاکستان ٹوڈے، روزنامہ پاکستان، سماء نیوز کے علاوہ دیگر خبری ویب سائٹس پر بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ اس دعوے کی تصدیق کے لیے جب ویب سائٹ پر پول کے نتائج دیکھنا چاہے تو وہاں صفحہ غائب پایا کیوں کہ آن لائن پول تو ایم کیو ایم کی جانب سے بند کردیا گیا تھا۔ البتہ وہ یہ بھول گئے کہ جس ویب سائٹ سے پول بنایا گیا وہ ہر پول کے ساتھ ایک آر ایس ایس فیڈ (RSS Feed) کا صفحہ بھی بناتی ہے جو پول بند ہوجانے کے بعد بھی آن لائن رہتا ہے۔ ذیل میں اس صفحے کی نقل اور ویب سائٹ کا ربط شامل ہے جہاں ایم کیو ایم نے پول بنایا اور پھر بند کر دیا۔

ایم کیو ایم کی ویب سائٹ پر ہونے والی پولنگ کا اصلی نتیجہ

ایم کیو ایم کی ویب سائٹ پر ہونے والی پولنگ کا اصلی نتیجہ

اس پول پر ڈالے گئے ووٹس کی مجموعی تعداد 16002 رہی جس میں سے 76.08 فیصد ووٹ (12174 ووٹ) 'ہاں' کو دیے گئے۔ جبکہ 21.82 ووٹ (3492 ووٹ) 'ہرگز نہیں' کو دیے گئے اور 2.10 فیصد (336 ووٹ) لوگوں نے 'معلوم نہیں' کا انتخاب کیا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا کہ ووٹنگ میں حصہ لینے والے تین چوتھائی سے زائد افراد الطاف حسین کی قیادت سے دستبرداری اور تحریک سے علیحدگی کے حق میں ہیں۔

متحدہ قومی موونٹ کی جانب سے عام الیکشن میں دھاندلیوں سے متعلق تو کراچی سمیت ملک بھر کے تمام حلقے بخوبی جانتے ہیں لیکن اس بار ایم کیو ایم نے اپنی ہی ویب سائٹ پر ہونے والی پولنگ کا نتیجہ بالکل الٹ کر کے عوامی رجحانات کو یکسر مختلف ظاہر کرنے کی جو ناکام کوشش کی اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عملی میدان میں کتنی بڑی بے ضابطگیاں کی جاتی ہوں گی۔

Pages