محمد اسد

میرے بچپن کے رسالے

آج اتوار یعنی ہفتہ وار تعطیل کا دن ہے اور ہر چھٹی والے دن کی طرح آج بھی معمول سے پہلے ہی آنکھ کھل گئی۔ صبح سویرے ٹویٹر پر نظر ڈالی تو دوست بلاگر احسن سعید کا ایک سوال سامنے آیا۔ پوچھا تھا کہ بچپن اور لڑکپن میں پسندیدہ رسالہ کونسا تھا؟ بات ہو رسالوں کی اور وہ بھی بچپن کے تو پہلا نام ماہنامہ ہمدرد نونہال ہی کا ذہن میں آتا ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سے ایک یہ کہ حکیم محمد سعید کی ادارت میں کراچی سے شائع ہونے والے اس ماہنامہ نے ہمیں "چائلڈ اسٹار" بننے کا موقع بھی فراہم کیا۔ البتہ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں ہمارا نام صرف "ناقابل اشاعت تحاریر" کے صفحے پر ہی نظر آیا۔

hamdard naunehal hamdard naunehal

نوٹ: تصاویر دیکھنے کے بعد اور شیئر کرنے سے پہلے ماشاءاللہ کہنا ضروری ہے۔ شکریہ

یہ تو ٹھیک طرح یاد نہیں کہ ہمدرد نونہال کب اور کیسے پڑھنا شروع کیا لیکن ایک عرصے تک ہمارے لیے "رسالہ" کا مطلب ہمدرد نونہال ہی ہوا کرتا تھا۔ جب پڑھنے کی رفتار میں تھوڑی تیزی آئی تو رسالہ بہت جلد ختم ہونے لگا۔ کئی بار تو ایسا بھی ہوا کہ شام میں رسالہ گھر آیا اور صبح تک پورا پڑھ بھی چکے۔ ایسے میں سخت کوفت ہوتی تھی کہ ہمارے رسالے بھی امی کے رسالوں (اردو ڈائجسٹ، کرن، شعاع وغیرہ) جتنے موٹے کیوں نہیں آتے۔

اس مسئلہ کا حل یہ نکالا کہ بچوں کا "بڑا والا رسالہ" لیا جائے اور یوں لاہور سے شائع ہونے والا تعلیم و تربیت بھی خریدا جانے لگا۔ پھر ماہنامہ ساتھی اور آنکھ مچولی کا تعارف ہوا تو وہ بھی ان رسالوں میں شامل ہوگئے کہ جو ہر ماہ بچوں کے لیے گھر آیا کرتے تھے۔ لیکن پھر جون اور جولائی میں اسکول سے ملنے والی طویل چھٹیوں کے دوران یہ مسئلہ پھر سر اٹھاتا اور پہلے سے بھی زیادہ سنگین معلوم ہوتا تھا کیوں کہ دو مہینے کی چھٹیوں میں وقت بہت اور پڑھنے کو کچھ نہیں۔ اس کا حل یہ نکالا کہ سال بھر رسالے جمع کرتے اور ان دو مہینوں کی چھٹیوں میں انہیں دوبارہ پڑھنے بیٹھ جاتے۔ پھر جولائی کے آخری ہفتے میں انہیں ردی پیپر والے کو دے کر اگست سے رسالوں کی کھیپ دوبارہ جمع کرنے لگ جاتے۔

آج جس طرح ہر مہینے کی پہلی تاریخ آتے ہی ملازمت پیشہ افراد اپنی تنخواہ کا انتظار کرنے لگتے ہیں بالکل اسی طرح بچپن میں ہم نئے رسالے کے منتظر رہتے تھے۔ یہاں مہینہ شروع ہوا اور وہاں ہم نے اسلم نیوز پیپر ایجنسی، بہادرآباد کا رخ کیا۔ سال میں ایک بار شائع ہونے والا خاص نمبر ہمارے لیے ایسا ہی تھا کہ جیسے بونس ملا ہو۔

سچ تو یہ ہے کہ آج ہم چار لفظ جوڑ کر اور تھوڑے بہت صحیح غلط جملے بنا کر خود کو اردو بلاگر سمجھتے ہیں یہ دراصل انہی رسائل کی وجہ سے ممکن ہوسکا ہے۔ حقیقت میں ان رسالوں نے ایک اندیکھے استاد کا کردار ادا کیا جس نے پڑھنا سکھانے کے ساتھ لکھنے کی تحریک بھی دی۔ البتہ میں اب تک توتا / طوطا اور گنڈا / غنڈہ جیسے الفاظوں پر مدیران کی تکرار کا فیصلہ نہیں کرپایا۔ نیز یہ بھی سمجھ نہیں سکا کہ اسٹور، اسپتال اور اسکول جیسے الفاط لاہور سے شائع ہونے والے اردو رسالوں میں بغیر الف کیوں لکھے جاتے ہیں؟

خام تیل کی قیمت میں کمی لیکن پاکستانی عوام ثمرات سے محروم

گزشتہ مالی سال کے دوران عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی دیکھی گئی۔ حتی کہ فروری 2016 میں خام تیل کی قیمت 13 سال کی کم ترین شرح 25 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔ گو کہ بعد ازاں اس میں تھوڑا بہت اضافہ ہوا تاہم رواں مالی سال کے دوسرے ماہ اگست 2016 تک عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے۔ اس صورتحال سے جہاں تیل برآمد کرنے والے ممالک کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات برآمد کرنے والے ممالک کو خاطر خواہ فوائد حاصل ہورہے ہیں۔تاہم پاکستانی عوام تک اس کے ثمرات نہیں پہنچ پا رہے جس کی ایک اہم وجہ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری ٹیکس بھی ہیں۔

بے لاگ - اردو بلاگران کی منتخب تحاریر کا مجموعہ

انٹرنیٹ پر آج اردو زبان جس مقام پر آپہنچی ہے اس میں بہت سے اردو بلاگران کی انفرادی کوششیں بھی کار فرما ہیں۔ یونی کوڈ اردو کی ترویج کے لیے تیار کیے گئے پاک اردو انسٹالر ہی کی افادیت اور شہرت سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کیسے ایک بلاگر (ابوشامل) کے ذہن میں کوئی خیال آیا اور دوسرے بلاگر (ایم بلال ایم) نے اسے اپنی تکنیکی مہارت سے عملی جامہ پہنا کر انٹرنیٹ پر اردو زبان کی دن دگنی رات چگنی ترقی ممکن بنائی۔ آج نہ صرف فیس بک، ٹویٹر وغیرہ پر لکھنے والے ان خدمات سے مستفید ہورہے ہیں بلکہ آن لائن دنیا سے باہر روایتی ذرائع ابلاغ و دیگر ادارے بھی اس کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

گزشتہ چند سالوں کے دوران اردو بلاگران نے انٹرنیٹ سے باہر کی دنیا میں بلاگ سے متعلق آگہی میں اضافے کے لیے بھی کوششیں کیں۔ سال 2013 میں دو روزہ اردو بلاگرز کانفرنس، 2015 میں اردو سوشل میڈیا سمٹ اور پھر رواں سال یعنی 2016 میں منتخب اردو بلاگز کے کتابی مجموعے "بے لاگ" کا اجرا قابل ذکر ہے۔ گزشتہ ماہ بے لاگ کی تقریب رونمائی لاہور میں منعقد ہوئی جس میں اردو بلاگران کے علاوہ صحافیوں نے بھی شرکت کی۔

Baylaag Urdu Bloggers Book

بے لاگ کیا ہے؟

یہ اردو زبان میں بلاگنگ کرنے والے احباب کی تحاریر کا مجموعہ ہے۔ 208 صفحات پر مشمل اس کتاب میں تقریباً 34 مرد و خواتین بلاگران کے 55 سے زائد بلاگز موجود ہیں۔ اس کتاب کے لیے اردو بلاگز کو مرتب کرنے کی ذمہ داری خاور کھوکھر اور رمضان رفیق نے انجام دی ہے۔ اس میں آپ کو مذہب، تاریخ، طنز و مزاح، سیاست، معاشرت اور صحافت کے موضوعات پر لکھے گئے بلاگز ملیں گے۔ یوں یہ کتاب اپنے متنوع موضوعات کی وجہ سے کافی منفرد ہے۔ اس کی قیمت صرف 300 روپے رکھی گئی ہے جو میرے خیال سے بہت مناسب ہے۔

اس کتاب میں میرا کوئی بلاگ شامل نہیں ہے۔ رمضان رفیق صاحب کے بارہا اصرار پر شکر گزار ہوں لیکن مجھے اپنی کوئی تحریر کتاب کے قابل نہیں لگی۔ دیگر دو مواقعوں (کانفرنس اور سمٹ) کے برعکس بے لاگ پر اردو بلاگرز کا ردعمل بہت مثبت رہا جو خوش آئند ہے۔ اس کا سہرا بھی رمضان بھائی کے سر باندھنا چاہیے جن کی صلاحیتوں نے بلاگران کے درمیان رابطے کے فقدان کو پُر کیا اور ایک ایسی تقریب کا انعقاد ممکن ہوا جس پر اکثریت مطمئن ہے۔ اس تقریب کی آڈیو ریکارڈنگ ذیل میں موجود ہے:

بے لاگ کیسے حاصل کریں؟

اردو بلاگران کی منتحب تحاریر کا مجموعہ "بے لاگ" پاکستان کے چار مختلف شہروں میں دستیاب ہے۔ اگر آپ ان میں سے کسی بھی شہر میں رہائش پذیر ہیں تو نیچے دی گئی جگہوں سے باآسانی حاصل کرسکتے ہیں۔ بصورت دیگر پرائم کمیونی کیشنز سے فون نمبر 03336888039 پر رابطہ کر کے بھی بذریعہ ڈاک منگوا سکتے ہیں۔

لاہور: منور پبلی کیشنز، ماڈل ٹاؤن (03214291904) / پرائم کمیونی کیشنز، رائل پارک (03336888039)
کراچی: آئیڈیل پوائنٹ، بہادرآباد (02134129952)
جہلم: بک کارنر، اقبال لائبریری روڈ (0544614977)
چیچہ وطنی: اسکالرز ماڈل اسکولز، حیات آباد (03336892343) / مغل بک کارنر، اوکانولا روڈ (03136975962)

میں کراچی میں رہائش پذیر ہوں اس لیے یہاں "بے لاگ" کی مفت ترسیل میرے لیے ممکن ہے۔ جو احباب گھر بیٹھے بغیر کسی اضافی قیمت کے کتاب حاصل کرنا چاہیں وہ مجھ سے رابطہ کریں۔ پیغام بھیجتے ہوئے اپنا نام، ای میل، فون نمبر، مکمل پتہ اور کتابوں کی تعداد ضرور لکھیں۔ تصدیق کے بعد مطلوبہ تعداد میں کتابیں بذریعہ کورئیر ارسال کردی جائیں گی۔

مصطفی کمال کی بغاوت: 'بھائی' کو فرق تو پڑے گا!

گزشتہ روز کراچی کے سابق ناظم سید مصطفیٰ کمال اپنے آبائی شہر لوٹ آئے۔ کراچی آتے ہی انہوں نے جو کام کیا وہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ حتی کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے عہدیداران بھی اپنے سابق سینیٹر کی آمد اور مقاصد سے لاعلم تھی۔ سابق ناظم نے کراچی آمد کے بعد کافی طویل پریس کانفرنس کی جس کا چرچہ کل سے آج تک ذرائع ابلاغ پر جاری ہے۔

مصطفیٰ کمال نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین شرابی ہیں اور وہ نشے میں دھت ہو کر تقاریر کرتے رہے ہیں۔ نیز یہ کہ ایم کیو ایم کے بھارتی خفیہ تنظیم را سے تعلقات اور را پس پردہ متحدہ کی مالی مدد کرتی رہی ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ متحدہ قومی موومنٹ طویل عرصے تک برسر اقتدار رہی لیکن عوام کی کوئی خدمت نہیں کی۔ انہوں نے شکایت کی کہ الطاف حسین نے کارکنوں سے کمیٹی کو ذلیل کرواتے ہیں۔ انہوں یہ بھی اعتراف کیا کہ ہم نے الطاف حسین کے لیے دشمن بنائے لیکن انہیں مہاجروں کی کوئی فکر نہیں۔ مثال دیتے ہوئے انہوں نے صولت مرزا اور اجمل پہاڑی کے نام لیے جنہیں الطاف حسین نے دہشت گرد بنایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ الطاف حسین نے دو نسلوں کو ختم کردیا اور مہاجروں کی آئندہ نسلوں کو بھی تباہ کرنا چاہتے ہیں۔

یہ اور ان جیسی کئی شکایات اور الزامات انہوں نے متحدہ اور اس کے قائد الطاف حسین پر لگائے۔ میں نے ان کی پریس کانفرنس سے متعلق کافی کچھ دیکھا اور آج کے اخبارات میں پڑھا لیکن کوئی ایک بات بھی ایسی نہ تھی جسے "انکشاف" کہا جاسکتا ہو۔ انہوں نے جو کچھ کہا وہ تمام باتیں پہلے بھی منظر عام پر آچکی ہیں۔ بس فرق یہ تھا کہ پہلے متحدہ کے سیاسی مخالفین اور قانون نافذ کرنے والے ادارے یہ باتیں کہا کرتے تھے یا پھر جیلوں میں قید مجرمان کے منہ سے متحدہ کی غیر قانونی سرگومیوں میں ملوث ہونے کا علم ہوا کرتا تھا۔ تو پھر مصطفی کمال کو سنجیدہ لینے کی وجہ کیا ہے؟

وجہ یہ ہے: مصطفی کمال کسی مذہبی یا سیاسی جماعت کے رکن نہیں رہے بلکہ ان کی تربیت نائن زیرو میں 'بھائی لوگوں' کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ وہ نائن زیرو میں جھاڑو لگاتے تھے یا ٹیلی فون اٹھاتے تھے، بہرحال تھے تو ایم کیو ایم ہی کے زیر سایہ۔ پھر الطاف حسین نے انہیں متحدہ کے پیدائشی کارکنان، سیاسی رہنماؤں سمیت کئی ساتھی بھائیوں پر فوقیت دی۔ ہر موقع پر ان کی حوصلہ افزائی کی گئی اور انہیں کراچی کا ہیرو بنا کر پیش کیا گیا۔ یہ مصطفی کمال ہی ہیں کہ جنہیں دنیا کا بہترین میئر قرار دیئے جانے کا پروپگنڈا کیا گیا۔ کراچی کے لوگوں کو انہی کی کارکردگی دکھا کر بلدیاتی الیکشن جیتا گیا اور متحدہ کے سیاسی رہنما درجنوں مصطفی کمال دینے کا وعدہ کرتے رہے۔ کراچی والوں نے کبھی نہیں دیکھا کہ الطاف حسین نے سوائے مصطفی کمال کے کسی کو اتنا پیار دیا ہے:

mustafa kamaal altaf hussain mqm

اس لیے آپ مصطفی کمال کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ یہ ذوالفقار مرزا نہیں کہ جنہیں سیاسی حریف کہہ کر رد کردیا جائے۔ یہ آفاق احمد یا عامر خان نہیں جو لوگوں کے ذہن سے محو ہوجائیں گے۔ یہ صولت مرزا اور اجمل پہاڑی بھی نہیں کہ جن سے بھائی لوگ لاتعلقی کا اعلان کر سکیں۔ یہ تو حق پرست بھائیوں کے "اپنے" ہیں۔ لہٰذا آپ مانیں یا نہ مانیں! بھائی کو مصطفی کمال کی بغاوت سے فرق تو پڑے گا ہی!

بیک ٹو دا فیوچر II اور آج کی گاڑیاں

"جہاں ہم جا رہے ہیں وہاں سڑکوں کی ضرورت نہیں"۔ یہ ڈائیلاگ مشہور زمانہ فلم بیک ٹو دا فیوچر II کا ہے۔ 30 سال پہلے تین فلموں پر مشتمل اس سلسلے نے عالمگیر شہرت سمیٹی اور آج بھی دنیا بھر میں مجھ جیسے لاکھوں پرستار موجود ہیں جو اسے بار بار دیکھنا چاہتے ہیں۔ سائنسی موضوع پر بنائی گئی اس فلم کے تین حصے ہیں جن میں مرکزی کردار ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان سفر کرتے ہیں، ایک ایسی گاڑی کے ذریعے جو ٹائم مشین ہوتی ہے۔ لیکن اچانک اس فلم کا ذکر کیوں؟ اس لیے کہ اب سے دو روز قبل وہی تاریخ تھی جب بیک ٹو دا فیوچر II کے مرکزی کردار ڈاکٹر ایمٹ براؤن، عرف ڈوک، اور ہیرو مارٹی میک فلائی اپنی "ٹائم مشین" میں سفر کرتے ہیں، یعنی 21 اکتوبر 2015ء کا سفر!

پہلی فلم کے مقابلے میں سلسلے کی دوسری فلم کی گاڑیوں میں ایک جدت تھی، یہ چار پہیوں پر دوڑنے کے علاوہ ہوا میں بھی اڑ سکتی تھی۔ کہانی بیان کرکے آپ کے لیے فلم کا مزہ خراب نہیں کروں گا لیکن 2015ء کے بارے میں چند پیشن گوئیاں اور توقعات پر روشنی ڈالوں گا، جو 1989ء میں کی گئی تھیں۔

فلم میں ڈاکٹر ایمٹ براؤن نے 2015ء میں گاڑیوں میں دستیاب قابل ذکر جدتوں کا ذکر کیا تھا۔ ان میں اڑنے والی گاڑیاں، ہوور بورڈز، قدرتی فضلات کا بطور ایندھن استعمال، حادثے کی صورت میں ڈرائیور کو گاڑی سے نکالنے والا خودکار نظام وغیرہ شامل تھا۔ آج ہمارے پاس موقع ہے کہ ان پیشن گوئیوں کو دور حاضر میں پرکھ سکیں۔

back to the future day

بیک ٹو دا فیوچر II میں اڑنے والی گاڑی کا خیال گو کہ نیا نہیں تھا، اس سے قبل بھی فلموں میں ایسے اڑن کھٹولے دکھائے گئے تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ خواب آج بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکا اور مستقبل قریب میں بھی بڑے پیمانے پر اڑن گاڑیوں کے استعمال پر کوئی پیشرفت ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ یہ بات اپنی جگہ کہ کاریں بنانے والے ادارے گاڑیوں کو جدید سے جدید ترین بنانے کی کوششیں کررہے ہیں لیکن ابھی ان کی تمام دوڑ دھوپ سڑکوں پر چار پہیوں سے چلنے والی گاڑیوں تک محدود ہے۔ بہرحال، فلم میں اڑتی ہوئی گاڑیوں کے لیے ہوا میں تیرتے ہوئے روبوٹک پٹرول اسٹیشن، ٹریفک کے مختلف اشارے اور دوران پرواز حادثے کی صورت میں ڈرائیور کے خودکار انخلاء کا نظام بھی دکھایا گیا لیکن جب ایسی گاڑیاں بن ہی نہیں رہیں تو پھر ان پر کچھ لکھنے کی ضرورت بھی باقی نہیں رہتی۔

hoverboard

ہوور بورڈ کے خیال کو ہینڈو اور پھر ٹویوٹا کے ذیلی ادارے لیکسز نے حقیقت کا روپ دے دیا ہے۔ گو کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی عام نہیں ہوسکی لیکن کہا جا سکتا ہے کہ بیک ٹو دا فیوچر II میں زمین اور پانی پر چلنے والا ہوور بورڈ تیار ہوچکا ہے۔ ہینڈو کا تیار کردہ ہوور بورڈ مقناطیسی تکنیک کو استعمال کرکے بنایا گیا ہے جسے آپ عام سڑک پر استعمال نہیں کرسکتے۔ لیکسز کا پیش کردہ سلائیڈ ہوور بورڈ بھی مقناطیسی تکنیک کو استعمال کرتا ہے لیکن یہ فلم میں دکھائے گئے ہوور بورڈ کی طرح زمین اور پانی دونوں کے اوپر سے گزر سکتا ہے۔

1989ء سے 2015ء کا سفر کرنے کے لیے ڈوک کی 88 میل فی گھنٹے سے دوڑنے والی گاڑی میں کیلے کے چھلکے اور مشروبات کو بطور ایندھن استعمال کیا گیا ہے۔ یہ خیال بھی دور جدید میں حقیقت کے روپ میں ڈھل رہا ہے کیونکہ اب گاڑیوں کے چند برانڈز بایو ڈیزل (Bio Diesel) پر چلنے کے قابل ہو چکے ہیں اور بہت سے افراد کھانے پکانے میں استعمال ہونے والے تیل سے گاڑیاں چلا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہائیڈروجن گیس سے چلنے والی گاڑیاں بھی تیاری کے مراحل میں ہیں۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بیک ٹو دا فیوچر میں 2015ء کے لیے کی گئی پیشن گوئیاں کافی حد تک قابل عمل بھی ہیں بلکہ کئی ایسی ہیں جن سے ہم آج لطف اندوز بھی ہو رہے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ فلم کے لکھاری باب گیل نے گاڑیوں کے معاملے میں کچھ زيادہ ہی توقعات باندھ لی تھیں، جن پر ہم پورے نہیں اتر سکے۔

Hello world!

Welcome to WordPress. This is your first post. Edit or delete it, then start writing!

شاہراہ وقت پر کامیابی کا سفر (کتابچہ)

آپ بہت ذہین ہیں، اپنے شعبے میں ماہر ہیں اور اعلی صلاحیتوں کے مالک بھی ہیں لیکن اگر وقت پر کام مکمل نہیں کرتے تو آپ کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اور وقت پر کام مکمل کرنا صرف ایک ہی صورت میں ممکن ہے کہ آپ دن بھر میں دستیاب چوبیس گھنٹوں کا بامقصد استعمال کر کے اپنے آج کو گزرے کل سے بہتر بنائیں۔

بدقسمتی سے ہمیں اسکول، کالج یا یونیورسٹی میں تنظیم وقت یعنی Time Management کی تربیت نہیں دی جاتی۔ اسی لیے کبھی کوئی دوست کاروباری اور گھریلو مصروفیات میں عدم توازن کی شکایت کرتا نظر آتا ہے، تو کوئی عزیز سارا دن کوہلو کا بیل بنے رہنے کے باوجود کام ادھورے رہ جانے پر شکوہ کرتا ہے۔ کچھ لوگ اضافی محنت سے کسی نہ کسی طرح اہم معاملات جیسے تیسے نمٹا بھی لیتے ہیں لیکن ان غلطیوں کی طرف توجہ کرنے کا وقت ہی نہیں ملتا جن کی وجہ سے ایک آسان کام میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مجھے خود طویل عرصے تک اس حوالے سے پریشانی لاحق رہی کہ وقت ملتا نہیں اور کام بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ تقریباً سال بھر قبل محمد بشیر جمعہ صاحب کے ایک پروگرام میں شرکت کا موقع ملا جس میں انہوں نے وقت کے بہتر استعمال پر سیر حاصل گفتگو کی۔ پروگرام کے بعد ان کی کتاب 'ترقی و کامیابی بذریعہ تنظیم وقت' بطور تحفہ موصول ہوئی اور پھر ایک نجی محفل میں بھی ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔

گزشتہ روز محمد بشیر جمعہ صاحب کا ایک کتابچہ 'شاہراہ وقت پر کامیابی کا سفر' بذریعہ ای-میل موصول ہوا جس کے ساتھ مطالعے کا مشورہ اور دیگر احباب تک پہنچانے کی تاکید بھی کی گئی تھی۔ علاوہ ازیں انہوں نے تعلیمی اور رفاحی غرض سے اس کتابچے کو چھپوا کر مفت تقسیم کرنے کی اجازت بھی دی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فائدہ حاصل کرسکیں۔

اس کتابچے میں بہت مختصر اور جامع انداز میں سمجھایا گیا ہے کہ آپ تنظیم وقت سے کیا فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔ مثلاً وہ کیا طریقے ہیں جن سے ہم اپنا قیمتی وقت بچا کر اسے بامقصد استعمال کرسکتے ہیں، وہ کونسے کام ہیں جن میں ہمارا وقت غیر محسوس طریقے سے ضائع ہوتا ہے اور ہمارے روز مرہ کے کاموں سے غیر ضروری افعال کو کیسے پہچانا اور نکالا جائے۔ اس کے علاوہ زندگی کے نصب العین کا تعین، اس کے حصول کے طریقے، عملی زندگی میں پیش آنے والی مشکلات سے نمٹنے اور تیزی سے ہونے والی معاشرتی تبدیلیوں سے سیکھنے جیسے اہم امور پر ھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

اگر آپ بھی بشیر جمعہ صاحب کا یہ کتابچے حاصل کر کے تنظیم وقت سیکھنا چاہیں تو ذیل میں موجود فارم پُر کریں تاکہ آپ کو 'شاہراہ وقت پر کامیابی کا سفر' بذریعہ ای-میل ارسال کیا جاسکے۔

[contact-form-7]

یوم آزادی پر پیغام اتحاد

یوم آزادی پر سرکاری محکموں، کاروباری اداروں، ذرائع ابلاغ، سیاسی و غیر سیاسی تحریکوں اور انجمنوں کی جانب سے خصوصی نغموں کی تیاری اور ان کی اشاعت تو ماضی میں بھی آپ نے دیکھی ہی ہوگی لیکن اس بار یوم آزادی پر ایک ایسے طبقے کی جانب سے حب الوطنی کا مظاہرہ کیا گیا ہے جسے ہم 'مدارس' کے نام سے جانتے ہیں۔

پاکستان کے 68ویں یوم آزادی کی مناسبت سے بنوریہ میڈیا پروڈکشنز نے "پاک وطن - پیغام اتحاد" کے عنوان سے نغمہ جاری کیا ہے۔ مملک خداداد پاکستان کی محبت سے سرشار طالب علموں نے جس محنت اور لگن سے، بغیر کسی بیرونی تکنیکی امداد کے تحقیق سے تیاری تک کا تمام کام مدرسے کے اندر ہی انجام دیا، اس کی جتنی تعریف اور حوصلہ افزائی کی جائے کم ہے!

یہ استاد امانت علی خان کی آواز میں مشہور ہونے والے سدابہار ملی نغمے "اے وطن پیارے وطن" کا ری-میک ہے جسے معروف نعت خواں نعمان شاہ، مولانا انس یونس، حافظ ابوبکر اور جنید جمشید نے پڑھا ہے۔ اس نغمے میں موسیقی نہیں، نمود و نمائش نہیں اور فحاشی و عریانی بھی نہیں۔ اگر ہے تو صرف پاک وطن سے محبت کا اظہار اور متحد ہونے کا پیغام ہے۔

ملک میں جاری نفرتوں کی لہر ختم کرنے اور باہمی اتحاد کے فروغ کی ایک کوشش "پاک وطن" کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ جامعہ بنوریہ العالمیہ کے اس اقدام سے نہ صرف مدارس کے خلاف پھیلائے گئے زہر کا تریاق ہوگا بلکہ دینی درس گاہوں میں پڑھنے والوں کی اہلیت اور قابلیت پر اٹھنے والے سوالوں کا عملی اور مثالی جواب بھی میسر آگیا ہے۔

اس نغمے کی ایک اور منفرد بات یہ ہے کہ اس کے درمیان علماء دین کی نصیحتیں بھی شامل کیے گئے ہیں جو بلاشبہ اس یوم آزادی پر یہ سب سے بہترین پیغامات ہیں جو ہر پاکستانی تک پہنچائے جانے چاہیئں۔ لہٰذا انہی جید علماء کرام کے الفاظ اور آخر میں نغمے کی ویڈیو پر اس بلاگ کا اختتام کر رہا ہوں۔

پاکستان کو صحیح معنی میں پاکستان بنانے کی کوشش کریں۔ پاکستانی بننے کا مطلب ہی یہی ہے کہ فرقہ واریت اور باہمی خانہ جنگی سے اپنے آپ کو ہر قیمت پر بچانے کی کوشش کریں۔ سب متحد ہو کر ملک کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں۔ (مفتی تقی عثمانی)

قرآن و سنت کی طرف سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے پیغام اتحاد یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور فرقہ واریت کو کسی حال میں برداشت نہ کیا جائے۔ ہمارا نام مسلمان ہے۔ ہمارا نام دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ، سنی نہیں ہے۔ (مفتی رفیع عثمانی)

(function(d, s, id) { var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0]; if (d.getElementById(id)) return; js = d.createElement(s); js.id = id; js.src = "//connect.facebook.net/en_GB/all.js#xfbml=1"; fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs); }(document, 'script', 'facebook-jssdk'));

آن لائن پول کے نتائج تبدیل؛ ایم کیو ایم کی منفرد دھاندلی

گزشتہ دنوں امریکا کے شہر ڈیلاس میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی امریکی شاخ کا انیسواں یوم تاسیس منایا گیا۔ اس حوالے سے منعقدہ تقریب میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اپنے مخصوص روایتی انداز میں تقریر کی جس میں مظلومت کے اظہار سے دھمکیوں تک سب ہی کچھ شامل تھا۔ کچھ باتیں الطاف حسین ایسی بھی کر گئے کہ جس پر رابطہ کمیٹی کی دوڑیں لگی ہوئیں ہیں اور وہ اب تک وضاحتیں پیش کر رہی ہے۔

بہرحال، سیاسی مخالفین کی شدید تنقید اور کچھ دوستوں کے نالاں ہونے کے بعد الطاف حسین نے ایک بار پھر ایم کیو ایم کی قیادت سے مستعفی ہونے اور تحریک سے علیحدہ ہونے کی پیش کش کردی۔ چونکہ یہ کام قائد تحریک درجنوں بار پہلے بھی کرچکے ہیں اس لیے سب کو نتیجے کا علم پہلے ہی سے تھا جو کہ نہیں بھائی نہیں کے علاوہ کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ لیکن اس بار کچھ مختلف ہوا۔

mqm-poll-about-altaf-hussain

اب کی بار الطاف حسین نے رابطہ کمیٹی کے سامنے دو زانو ساتھی بھائیوں سے یہ سوال پوچھنے کے بجائے ایم کیو ایم کی ویب سائٹ پر پول کی صورت میں سوال پوچھا اور تمام حق پرستوں کو اس میں ووٹ کی دعوت دی۔ یہ پول ایم کیو ایم کی ویب سائٹ پر کل (بروز پیر) ظاہر ہوا اور آج (بروز منگل) بند کردیا گیا۔ یعنی آن لائن پولنگ میں حصہ لینے کی مدت کم و بیش 24 گھنٹے تک میسر رہی۔ پول میں پوچھا گیا سوال یہ تھا:

میں الطاف حسین حق پرست عوام سے سوال کرتاہوں کہ کیامجھے پارٹی اورقوم کوبچانے کی خاطرتحریک سے دستبرداری کرلینی چاہیے؟

جواب دینے لیے تین آپشنز موجود تھے: 1) ہاں۔ 2) ہرگز نہیں۔ 3) معلوم نہیں۔

ویب سائٹ پر آن لائن ووٹ ڈالے گئے پھر اچانک ووٹنگ بند ہوگئی۔ بات یہیں تک رہتی تو پھر بھی خیر تھی لیکن کچھ دیر قبل ایم کیو ایم کی جانب سے پول کا نتیجہ پیش کیا گیا جس میں یہ دعوی بھی شامل ہے:

ایم کیوایم ویب سائٹ پر عوامی سروے میں 72 فیصد سے زائد افراد نے جناب الطاف حسین کے سوال پر ’’نہیں ‘‘ پرووٹ دیکر ایم کیوایم کی قیادت سے ان کی دستبرداری کی رائے کو یکسر مسترد کردیا ہے ۔

یہ خبر آپ ایکسپریس ٹریبیون، پاکستان ٹوڈے، روزنامہ پاکستان، سماء نیوز کے علاوہ دیگر خبری ویب سائٹس پر بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ اس دعوے کی تصدیق کے لیے جب ویب سائٹ پر پول کے نتائج دیکھنا چاہے تو وہاں صفحہ غائب پایا کیوں کہ آن لائن پول تو ایم کیو ایم کی جانب سے بند کردیا گیا تھا۔ البتہ وہ یہ بھول گئے کہ جس ویب سائٹ سے پول بنایا گیا وہ ہر پول کے ساتھ ایک آر ایس ایس فیڈ (RSS Feed) کا صفحہ بھی بناتی ہے جو پول بند ہوجانے کے بعد بھی آن لائن رہتا ہے۔ ذیل میں اس صفحے کی نقل اور ویب سائٹ کا ربط شامل ہے جہاں ایم کیو ایم نے پول بنایا اور پھر بند کر دیا۔

ایم کیو ایم کی ویب سائٹ پر ہونے والی پولنگ کا اصلی نتیجہ

ایم کیو ایم کی ویب سائٹ پر ہونے والی پولنگ کا اصلی نتیجہ

اس پول پر ڈالے گئے ووٹس کی مجموعی تعداد 16002 رہی جس میں سے 76.08 فیصد ووٹ (12174 ووٹ) 'ہاں' کو دیے گئے۔ جبکہ 21.82 ووٹ (3492 ووٹ) 'ہرگز نہیں' کو دیے گئے اور 2.10 فیصد (336 ووٹ) لوگوں نے 'معلوم نہیں' کا انتخاب کیا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا کہ ووٹنگ میں حصہ لینے والے تین چوتھائی سے زائد افراد الطاف حسین کی قیادت سے دستبرداری اور تحریک سے علیحدگی کے حق میں ہیں۔

متحدہ قومی موونٹ کی جانب سے عام الیکشن میں دھاندلیوں سے متعلق تو کراچی سمیت ملک بھر کے تمام حلقے بخوبی جانتے ہیں لیکن اس بار ایم کیو ایم نے اپنی ہی ویب سائٹ پر ہونے والی پولنگ کا نتیجہ بالکل الٹ کر کے عوامی رجحانات کو یکسر مختلف ظاہر کرنے کی جو ناکام کوشش کی اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عملی میدان میں کتنی بڑی بے ضابطگیاں کی جاتی ہوں گی۔

نہیں بھائی نہیں!

کہتے ہیں کسی زمانے میں ایک شخص نے اپنی زندگی سے پریشان ہو کر خودکشی کا ارادہ کیا۔ اس ارادے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وہ گھر سے روانہ ہوا تو کچھ پھل اور سبزیاں وغیرہ بھی ساتھ لے لیے۔ رستے میں ایک دوست ملا اور حال چال دریافت کیا تو جواب میں اس شخص نے روتی ہوئی صورت میں سارا مدعا بیان کردیا۔ دوست نے حیرت سے پوچھا کہ بھئی مرنے جا رہے ہو تو یہ پھل اور سبزیاں کیوں ساتھ ہیں؟ اس شخص نے برا سا منہ بنا کر کہا کہ اگر گاڑی لیٹ ہو گئی تو مجھے کھانا کون دے گا؟

جب سے الطاف حسین کا مرتے دم تک بھوک ہڑتال کا فیصلہ اور اس کے لیے مقامی انتظامیہ سے اجازت طلب کرنے کے بارے میں پڑھا ہے، بار بار یہی لطیفہ ذہن میں آرہا ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ قائد تحریک اپنی نہیں بلکہ دوسروں کی زندگی سے پریشان ہیں جن میں سب سے زیادہ قابل ذکر گورے و کالے رینجرز والے ہیں۔ علاوہ ازیں برطانوی قوانین کے مطابق تادم مرگ بھوک ہڑتال نہیں کی جاسکتی اس لیے اس سفر پر روانہ ہونے سے پہلے پھل اور سبزیاں وغیرہ ساتھ رکھنا بھی ان کی مجبوری ٹھہری۔

خدشہ ہے کہ اس بار قائد تحریک کے اپنے ہی ساتھی بھائی انہیں بھوک ہڑتال کر کے ہیرو بننے کی کوشش سے بعض رکھنے کی سازش کریں گے۔ جلد ہی رابطہ کمیٹی کی طرف سے یہ بیان آئے گا کہ قائد محترم رمضان کے روزوں اور عبادات کے باعث پہلے ہی سوکھ کر کانٹا ہو رہے ہیں اس لیے انہیں اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ اور پھر اگر الطاف بھائی "ہیلووووووووووووووو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری آواز آرہی ہے؟" کے ساتھ خطاب شروع کر کے اپنے ہمدردوں سے بھوک ہڑتال کے بارے میں مشورہ طلب کریں تو مجمع "نہیں بھائی نہیں" کے فرمائشی نعروں کے ساتھ انہیں اپنا فیصلہ بادل نخواستہ واپس لینے پر مجبور کردے گا۔

البتہ ایک بات تو ماننا پڑے گی کہ الطاف حسین کی جانب سے تادم مرگ بھوک ہڑتال کرنے کا فیصلہ ان کی زندگی کا وہ دوسرا فیصلہ ہے کہ جس پر مخالفین بھی انہیں استقامت کی دعا دے رہے ہیں۔ اسی طرح کا پہلا فیصلہ پاکستان سے فرار کا تھا اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ آج اپنے دشمنوں ہی کی دعاؤں سے چوبیس سال بعد بھی خود ساختہ جلاوطنی کے فیصلے پر قائم و دائم ہیں۔

ویسے اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو الطاف حسین کا یہ فیصلہ کراچی والوں کے لیے ون-ون سچویشن (win-win situation) ہے۔ اگر اس بھوک ہڑتال کا نتیجہ الطاف بھائی کے انتقال کی صورت میں نکلا تو کراچی کا ایک بڑا مسئلہ حل ہوجائے گا اور اگر وہ کسی طرح بچ گئے تو قومی امید ہے کہ ان کا موٹاپا کم ہوجائے گا جس سے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد کی بہت سی بیماریاں بشمول دماغی مسائل بھی حل ہوسکتے ہیں۔

بلاگ کتنا طویل لکھنا چاہیے؟

دنیا کا ہر لکھاری، ادیب، شاعر اور صحافی چاہتا ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ پڑھا جائے۔ اسی طرح ہر بلاگر کی بھی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے بلاگز زیادہ سے زیادہ پڑھے جائیں، بلاگ پر زیادہ سے زیادہ تبصرے کیے جائیں، بلاگ کو سوشل نیٹ ورکس پر زیادہ سے زیادہ شیئر کیا جائے تاکہ اس سے زیادہ سے زیادہ لوگ بلاگ پر آئیں۔ لیکن اتنے سارے "زیادہ سے زیادہ" حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بلاگر ایسا مواد تخلیق کریں جس میں پڑھنے والوں کی زیادہ سے زیادہ دلچسپی ہو۔

اب بلاگ پر قارئین کی دلچسپی کو پیدا کرنے اور پھر اسے برقرار رکھنے کے لیے بہت سی چیزوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ جہاں موضوع، انداز تحریر، اردو فونٹ، بلاگ کی تھیم وغیرہ اہمیت کی حامل ہیں وہیں بلاگ کی طوالت بھی ارادی یا غیر ارادی طور پر قاری کو تحریر پڑھنے، اس پر تبصرہ کرنے اور اسے سوشل نیٹ ورکس پر شیئر کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں: اردو بلاگ اور اردو میگزین کے لیے بہتر تھیم ہیومن

بہت سے لکھنے والے سمجھتے ہیں کہ بلاگ پر ہمیشہ کم از کم الفاظ استعمال کرنے چاہیں یعنی مختصر ترین لکھنا چاہیے۔ اس کی دلیل میں یہ کہا جاتا ہے انٹرنیٹ پر بہت سا مواد موجود ہے اور لوگوں کے پاس وقت کم ہے، اس لیے اگر بلاگ زیادہ طویل لکھے جائیں تو اکثری قاری بغیر پڑھے ہی چلے جاتے ہیں۔ دوسری جانب طویل لکھنے والوں کا کہنا ہے کہ بلاگ کا موضوع اور اندازہ تحریر دلچسپ ہو تو طوالت محسوس نہیں ہوتی لہٰذا بلاگ کی لمبائی چوڑائی کے بجائے اس کے معیار پر توجہ دینی چاہیے۔

میں ذاتی طور پر چونکہ تکنیکی معاملات میں بھی دلچسپی رکھتا ہوں اس لیے جب اس پر تحقیق شروع کی کہ بلاگ کتنا طویل لکھنا چاہیے؟ تو علم ہوا کہ گوگل اور دیگر سرچ انجنز بھی زیادہ مواد کو بہتر خیال کرتے ہیں۔ لیکن کیا اردو بلاگز اور ویب سائٹس کو سرچ انجنز کے ناز نخرے اٹھانے کی ضرورت ہے؟ میرا جواب ہے: نہیں۔ اس کی وجہ مختصراً اسی بلاگ کے آخر میں بیان کردی ہے۔

بہرحال، انٹرنیٹ پر تحقیق، بلاگستان میں عمومی رویوں اور سوشل میڈیا صارفین کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے بعد جو نتائج اخذ حاصل ہوئے وہ درج ذیل ہیں۔

75 تا 400 الفاظ کا بلاگ

پڑھنے کا رجحان: تبصرے: سوشل شیئرنگ:

یہ انتہائی مختصر بلاگ ہوتے ہیں جو چند جملوں یا پیرگرام پر مشتمل ہوجاتے ہیں۔ انہیں مائیکرو بلاگ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اس طرح کی تحاریر لوگ زیادہ پڑھتے ہیں اور ان پر اظہار خیال بھی کرتے ہیں۔ تو اگر آپ کو زیادہ تبصرے حاصل کرنے ہیں تو مختصر اور پر اثر لکھیں۔ ویسے اتنے کم الفاظ کی تحاریر کو سوشل نیٹ ورکس مثلاً فیس بک اور ٹویٹر پر لکھا جائے تو زیادہ موزوں رہے گا۔ لیکن چونکہ سوشل نیٹ ورکس پر شایع ہونے والے مواد بہت جلد نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے اور مستقبل کے لیے قابل تلاش بھی نہیں رہتا، اس لیے ایسے موضوعات جو سالہا سال پڑھے جانے کے قابل ہوں انہیں ضرور بلاگ پر شایع کرنا چاہیے۔

400 تا 800 الفاظ کا بلاگ

پڑھنے کا رجحان: تبصرے: سوشل شیئرنگ:

بلاگنگ کے گرو چار سو سے آٹھ سو الفاظ تک پر مشتمل بلاگ لکھنے کا مشورہ دیتے ہیں اور خود بھی اکثر اسی پر عمل کرتے ہیں کیوں کہ اتنے الفاظ میں ایک بلاگ کے اندر بات مکمل کی جاسکتی ہے۔ اس طوالت کے بلاگ لوگ کم وقت میں مکمل پڑھ بھی لیتے ہیں اور تبصرہ نہ بھی کریں تو سوشل نیٹ ورکس مثلاً فیس بک، ٹویٹر اور گوگل پلس پر شیئر کرنے کا رجحان کافی پایا جاتا ہے۔

800 تا 1200 الفاظ کا بلاگ

پڑھنے کا رجحان: تبصرے: سوشل شیئرنگ:

الفاظ کی یہ تعداد چونکہ اخبارات میں کالم و مضامین لکھنے کے لیے استعمال ہوتی آرہی ہے اس لیے صحافت سے شدبد رکھنے والے بلاگر اسے زیادہ مناسب خیال کرتے ہیں۔ لیکن یہ بات عام طور پر دیکھی گئی ہے کہ جدت کے دلدادہ افراد بھی کتاب اور اخبارات کو کاغذی شکل ہی میں پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں اور آن لائن انسیت نہ ہونے کی وجہ سے اکثر طویل مضمون نہیں پڑھ پاتے۔ اور اگر اتنے طویل بلاگ کو لوگ دلچسپی سے پڑھ بھی لیں تو تبصرے کم ہی کرتے ہیں البتہ ایسے بلاگ مختلف اقتباسات کی صورت میں سوشل نیٹ ورکس پر شیئر کیے جاتے ہیں۔

1200 سے زائد الفاظ کا بلاگ

پڑھنے کا رجحان: تبصرے: سوشل شیئرنگ:

اتنے طویل بلاگز لوگ کم پڑھتے ہیں یوں تبصروں کا رجحان بھی نہ ہونے کے برابر رہتا ہے۔ اگر واقعی کوئی بلاگ ایسا ہو کہ جس کا احاطہ ہزار الفاظ میں نہ ہوسکے تو بہتر رہے گا کہ اسے آڈیو بلاگ یا ویڈیو بلاگ کی شکل دے دی جائے۔ آڈیو بلاگ میں سامع سننے کے ساتھ دوسرے کام بھی کرسکتا ہے اور یوں وقت کا احساس نہیں ہوتا۔ ویڈیو بلاگنگ میں چونکہ منظر دکھانے کی سہولت حاصل ہوجاتی ہے اس لیے بہت سے الفاظ کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

سرچ انجن مثلاً گوگل اور بنگ چونکہ مواد کے بھوکے ہوتے ہیں، اس لیے ان کو طویل مضامین، تحاریر اور بلاگرز بہت پسند آتے ہیں۔ سرچ انجن سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ ایسے موضوعات پر لکھیں جو لوگ سرچ بھی کرتے ہوں کیوں کہ اگر آپ ایسے موضوع پر لکھیں کہ جو کوئی تلاش ہی نہ کرتا ہو یا پڑھنا ہی نہ چاہتا ہو تو پھر آپ اپنا قیمتی وقت ضایع کر رہے ہیں۔

اردو رسم الخط میں سرچنگ کا رجحان انتہائی کم ہونے کی وجہ سے آن لائن اردو مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے سرچ انجنز زیادہ فائدہ مند نہیں رہے۔ مثلاً اردو زبان میں لفظ پاکستان تلاش کرنے والوں کی تعداد میں pakistan تلاش کرنے والوں سے کئی سو گنا کم ہے۔ اس لیے اردو کے بلاگز اور ویب سائٹس کا فی الوقت سرچ انجن آپٹیمائزیشن پر توجہ دینا زیادہ کارآمد نہیں۔

میرا پہلا روزہ

جب بھی گزرے ہوئے بچپن کے بارے میں سوچتا ہوں اور اس کا عکس ذہن میں تازہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھے ہمیشہ دھندلاہٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ معلوم نہیں کہ یہ اوروں کے ساتھ بھی ہوتا ہے یا نہیں کہ جھلکیوں کی صورت میں منظر سامنے آجاتا ہے لیکن ایسا دھندلا کہ جیسے کوئی بہت ہی پرانا نوٹ سرف سے دھو دیا گیا ہو یا روشنی زیادہ ہونے کی وجہ سے تصویر سفیدی مائل ہوگئی ہو۔ تھوڑی توجہ سے فریکوئنسی سیٹ ہونے پر تصویر واضح ہوجاتی ہے۔ پھر دل کرتا ہے کہ اس وقت کو بار بار ریوائنڈی کر کے دیکھا جائے جب ہمارے دل و دماغ پاک و صاف اور ظاہر و باطن کسی قسم کی بناوٹ سے پاک تھے۔ مسکراتے تو ایسے کھل کھلا کر سامنے والا بھی ہنس دے اور روتے تو ایسا منہ بنا کر کہ دیکھنے والا بھی روہانسا ہوجائے۔

کچھ ایسی ہی دھندلی تصاویر جنوری 1997ء کی بھی دماغ میں محفوظ ہیں کہ جب اپنی نویں سالگرہ سے چند روز قبل میں نے پہلا روزہ رکھا یا یوں کہیے کہ میری روزہ کشائی ہوئی۔ اس دن کی پہلی جھلک جو ذہن میں آتی ہے وہ سحری کی ہے۔ ٹھنڈے ٹھنڈے موسم میں گرما گرم اور مزے مزے کی چیزیں دسترخوان پر سجی ہیں۔ ابو اور امی کی آوازیں سماعتوں سے ٹکرا رہی ہیں کہ اسد پانی پی لو، بیٹا دہی کھا لو، کھانا اچھی طرح کھا لیا ناں؟ چلو اب چائے پی لو سحری کا وقت ختم ہونے والا ہے۔

روزہ رکھنے کا شوق کیسے ہوا؟ اس بارے میں کچھ زیادہ تو یاد نہیں لیکن یہ بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ دینی معاملات کی طرف راغب کرنے میں ابتدائی اسکول نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ گلشن کے علاقے میں قائم اس تعلیمی ادارے کا نام  'روضۃ الاطفال' تھا جہاں اقراء کے طرز  تعلیم پر دی جاتی تھی۔ یعنی صبح میں عصری تعلیم اور دوپہر میں قرآن پڑھایا جاتا تھا۔ اساتذہ میں سے اکثر نہ صرف اپنے شعبے میں ماہر تھے بلکہ صوم و صلاۃ کے بھی پابند تھے۔ ایسے ماحول میں رہتے ہوئے بچوں میں نماز اور روزے کا شوق پیدا ہو ہی جاتا ہے۔

بچوں کو مکمل روزہ رکھوانے سے پہلے ان کا شوق پورا کرنے کے لیے آدھے دن کا روزہ رکھوایا جاتا ہے جسے چڑی روزہ کہتے ہیں۔ ہمارے بچپن میں چڑی روزے کے ساتھ یا شاید اس سے پہلے بچوں کی ضد پر ایک داڑھ کا روزہ بھی رکھوایا جاتا تھا۔ مثلاً اگر کوئی بچہ روزہ رکھنے کی ضد کرے تو اسے کہا جاتا تھا کہ ٹھیک ہے تم آج دائیں یا بائیں داڑھ کا روزہ رکھ لو اور اب اس طرف سے کچھ کھانا نہ پینا۔ جبکہ دوسری طرف سے کھانے پینے کی اجازت ہے۔ مابدولت نے بھی اس ایک داڑھ کے روزے کے بہت مزے لیے۔

بہرحال، یہ تو یاد نہیں کہ اس دن اسکول تھا یا نہیں البتہ یہ ضرور یاد ہے کہ سحری کے بعد سو کر اٹھے تو امی نے اچھی طرح ٹھونک بجا کر روزے دار کو چیک کیا اور پوچھا کہ روزہ تو نہیں لگ رہا، پیاس تو نہیں لگ رہی؟ وغیرہ وغیرہ۔ تمام سوالوں کے جواب مسکرا کر نفی میں جواب دیے اور یوں وقت گزرنا شروع ہوا۔ ظہر کی نماز گھر کے قریب واقع غوثیہ مسجد میں ادا کی اور پھر کچھ دیر قرآن کی تلاوت کر کے واپس ہو لیے۔ ابھی کچھ دیر آرام کیا تھا کہ عصر سے پہلے ہی گھر میں بزرگوں اور کزنز کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

کزنز کے ساتھ عصر کی نماز پڑھنے نکلے تو گھر کے قریب رہنے والے دوست بھی ساتھ ہو لیے۔ سفید کرتے پائجامے پر اونی سویٹر اور اجلی ٹوپیوں والے نونہالوں کا قافلہ مزید بڑا ہوگیا۔ ہنستے کھیلتے گلیوں میں سے گزرتے تو لوگ دلچسپی سے ہمیں دیکھتے۔ غوثیہ مسجد میں نل سے وضو کرنے کے انتظام کے علاوہ حوض بھی بنا ہوا تھا۔ عصر کے لیے وہاں سے وضو کیا اور نماز سے فارغ ہو کر گھر کی راہ لی جہاں کافی مہمان جمع ہوچکے تھے۔

بچپن میں قدرے شرمیلی طبیعت کا تھا اس لیے مہمانوں کو سلام کر کے کچن میں گھس جاتا کہ امی کا ہاتھ بٹا دوں لیکن یہ کہہ کر باہر کردیا جاتا ہے کہ جاؤ اور مہمانوں سے سلام دعا کرو۔ میں چونکہ پلوٹی کا ہوں اس لیے گھر میں شہزادے کی سی اہمیت حاصل تھی۔ وقت افطار سے پہلے ہی دونوں اماؤں (دادی اور نانی) نے اپنے درمیان میں بٹھا لیا اور ہم دلہا کی طرح شرماتے ہوئے دنیا میں سب سے زیادہ محبت کرنے والی ہستیوں کے درمیان بیٹھ گئے۔ یہ وقت جب بھی یاد آتا ہے آنکھیں نم ہوجاتی ہیں اور دل سے دادی مرحومہ کے لیے جنت میں اعلی درجات اور نانی کی عمر میں برکت کی دعا نکلتی ہے۔

افطار سے کچھ دیر پہلے دسترخوان بچھایا گیا اور طرح طرح کے لوازمات سے سجا دیا گیا۔ شربت، دہی بڑے، پھل، سینڈوچ کے علاوہ ایک منفرد چیز 'لونگ چڑے' بھی موجود تھی کہ جو دہلی والوں کی افطاری کا خاص آئٹم ہے۔ آج بھی آپ لونگ چڑے کھانا چاہیں تو برنس روڈ، دہلی کالونی، اردو بازار، بہادرآباد کے قرب و جوار میں دستیاب ہوتے ہیں۔

عام دنوں میں تو ہم افطاری کی ہر کھٹی مٹھی چیز پر ہاتھ صاف کرنا فرض عین سمجھتے تھے لیکن اس دن بہت ہی مختصر افطار کیا اور جلدی سے مسجد کی راہ لی۔ سوچا کچھ مہمان رخصت ہوجائیں تو ہم شرمیلے پن کو فرج میں رکھ کر بے تکلفی سے پیٹ پوجا کریں گے لیکن واپسی پر تو مہمانوں کی تعداد اور بھی زیادہ ہوچکی تھی۔ مرتے کیا نہ کرتے، تھوڑا کھایا، تھوڑا پیا اور بہت سے تحائف وصول کیے۔ یوں روزہ کشائی کا دن خوشی خوشی تمام ہوا۔

میرا ایک کزن کہتا تھا کہ ہم خوش قسمت رہے کہ جب بچپن میں رمضان آیا تو جاڑے کا موسم تھا یوں مختصر روزوں کے ساتھ شروعات کا موقع ملا۔ جب ہم جوان ہوں گے تو روزے گرمیوں میں اور لمبے لمبے ہوں گے لیکن ہمیں ان شاء اللہ کوئی مسئلہ نہ ہوگا کیوں کہ ہم اس وقت جسمانی اور روحانی اعتبار سے زیادہ توانا ہوں گے۔ پھر جب ہم بوڑھے ہوں گے تو روزے پھر سردیوں میں آئیں گے اور یوں اللہ نے ہمارے لیے معاملہ آسان کردیا۔ یہ بہرحال میرے کزن کا فارمولا ہے جسے میں کبھی کبھی دل کو مطمئن کرنے کے لیے دہرا لیتا ہوں۔

اس تحریر کا شجر نسب:
شعیب صفدر بھائی نے روزہ کشائی پر بلاگ کا آغاز کیا اور رمضان رفیق کو دعوت دی کہ وہ اس موضوع پر لکھیں۔ پھر رمضان بھائی نے مجھ سے پہلے روزے کی روداد بیان کرنے کی خواہش ظاہر کی جو آپ کے سامنے ہے۔ اور اب میں اس سلسلے کو مزید آگے بڑھتائے ہوئے ان بلاگران سے اسی موضوع پر بلاگ لکھنے کی درخواست کر رہا ہوں۔

توبہ قبول ہو (منظوم دعا)

یا رب میں گناہگار ہوں، توبہ قبول ہو
عصیاں پہ شرمسار ہوں، توبہ قبول ہو
جاں سوز و دل فگار ہوں، توبہ قبول ہو
سر تا پا انکسار ہوں، توبہ قبول ہو

توبہ قبول ہو، میری توبہ قبول ہو

گزری تمام عمر میری لہو لعب میں
نیکی نہیں ہے کوئی عمل کی کتاب میں
صالح عمل بھی کوئی نہیں ہے حساب میں
دستِ دعا بلند ہے تیری جناب میں

توبہ قبول ہو، میری توبہ قبول ہو

عیش و نشاط ہی میں گزاری ہے زندگی
ہر زاویئے سے اپنی سنواری ہے زندگی
میرا خیال یہ تھا کہ جاری ہے زندگی
لیکن یہ حال اب ہے کہ بھاری ہے زندگی

توبہ قبول ہو، میری توبہ قبول ہو

تیرے کرم کو، تیری عطا کو بھلا دیا
اعمال کی جزا و سزا کو بھلا دیا
طاقت ملی تو کرب و بلا کو بھلا دیا
ہر ناتواں کی آہِ رساں کو بھلا دیا

توبہ قبول ہو، میری توبہ قبول ہو

میں تو سمجھ رہا تھا کہ دولت ہے جس کے پاس
اس کو نہ کوئی خوف ہے، اس کو نہ کوئی ہراس
ہوگا نہ زندگی میں کسی وقت وہ اداس
لیکن یہ میری بھول تھی، اب میں ہوں محو یاس

توبہ قبول ہو، میری توبہ قبول ہو

میں ہوں گناہگار مگر، تو تو ہے کریم
میں ہو سیاہ کار مگر، تو تو ہے رحیم
میں ہوں فنا پذیر مگر، تو تو ہے قدیم
میں ادنیٰ و حقیر سہی، تو تو ہے عظیم

توبہ قبول ہو، میری توبہ قبول ہو

یا رب تیرے کرم، تیری رحمت کا واسطہ
یا رب تیری عطا، تیری نعمت کا واسطہ
یا رب تیرے جلال و جلالت کا واسطہ
یارب رسولِ حق کی رسالت کا واسطہ

توبہ قبول ہو، میری توبہ قبول ہو

میں اعتراف کرتا ہوں اپنے قصور کا
میں ہو گیا تھا ایسے گناہوں میں مبتلا
جن کی ہے آخرت میں کڑی سے کڑی سزا
لیکن مجھے تو تیرے کرم سے ہے آسرا

توبہ قبول ہو، میری توبہ قبول ہو

اب تیری بندگی میں بسر ہوگی زندگی
موڑوں گا منہ نہ تیری عبادت سے اب کبھی
اب اتباع کروں گا میں تیرے رسول ﷺ کی
تازندگی کروں گا شریعت کی پیروی

توبہ قبول ہو، میری توبہ قبول ہو

---

(اس دعا کے شاعر اور پڑھنے والے کا نام معلوم نہیں، اگر آپ کو علم ہو تو تبصرے میں ضرور بتایئے)

شدید گرمی اور لو؛ کیا کریں اور کیا نہ کریں؟

شدید گرمی کی لہر نے پورے پاکستان کو ہی لپیٹ میں لے رکھا ہے لیکن اس بار جو حال کراچی کا ہوا ہے وہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ صرف گذشتہ چند دنوں میں سینکڑوں افراد شدید گرمی میں لو لگنے اور پانی و بجلی کی عدم دستیابی کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور ہزاروں افراد اب بھی مختلف ہسپتالوں اور طبی مراکز میں زیر علاج ہیں۔ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں محض تماش بینوں کی طرح بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کو دیکھ رہی ہیں۔ دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ہم نے بے حس، لا پرواہ، خود پسند اور خود غرض لوگوں کے ووٹ دے کر اپنے اوپر مسلط کرلیا ہے۔

بہرحال، اس تحریر کا مقصد جان لیوا 'ہیٹ اسٹروک' یعنی شدید گرمی کی لہر میں لو سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر سے متعلق شعور اجاگر کرنا ہے۔ آخر میں لو کا شکار ہوجانے کی صورت میں متاثرہ شخص کی فوری مدد سے متعلق ہدایات بھی درج ہے۔ گزارش ہے کہ اس مضمون کو زیاہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں تاکہ عوام الناس اپنی مدد آپ کے تحت اس صورتحال سے نمٹنے کی کوشش کرسکے۔

شدید گرمی میں یہ کام کریں:
  • پانی اور گھریلو مشروبات (لیمو پانی، لسی وغیرہ) زیادہ استعمال کریں۔ پیاس نہ بھی لگے تو وقفے وقفے سے پانی پیئں۔
  • زیادہ سے زیادہ وقت ہوادار جگہ یا چھاؤں/سائے میں گزاریں۔ اگر دھوپ میں کام کرنا ضروری ہو تو درمیان میں وقفے ضرور لیں۔
  • سر پر گیلا کپڑا یا تولیہ رکھیں تاکہ آپ کا سر گرم ہونے سے بچا رہے۔
  • ہلکے اور ڈھیلے ڈھالے ملبوسات پہنیں۔ کوشش کریں کہ کپڑوں کا رنگ ہلکا ہو۔
  • گھر سے باہر نکلتے وقت سر اور گردن کو ڈھانپنے کے لیے ٹوپی اور چھتری کا استعمال کریں۔
  • بچوں، بزرگوں اور پالتو جانوروں کو گھر کے اندر یا چھاؤں میں رکھیں۔
  • پڑوسیوں کا بھی خیال رکھیں، بطور مسلمان ہمارا فرض ہے کہ ان کے جان و مال کو محفوظ بنائیں۔
شدید گرمی میں یہ کام نہ کریں:
  • براہ راست دھوپ میں گھومنے پھرنے یا مشقت والا کام نہ کریں۔
  • سخت جسمانی سرگرمیاں (مثلاً ورزش وغیرہ) نہ کریں۔ ضروری ہو تو علی الصبح یا شام کے اوقات میں یہ کام کریں۔
  • بچوں کو دن کے وقت گھر سے باہر کھیلنے نہ دیں۔
  • بند گاڑی میں سفر کریں نہ ہی زیادہ دیر بیٹھیں۔
  • دکانوں پر ملنے والے ٹھنڈے مشروبات (کولڈ ڈرنگ) اور کافی نہ پیئں۔
  • مختصر، چست اور گہرے رنگ کے ملبوسات نہ پہنیں۔
  • شدید گرمی کے اوقات (بالخصوص دوپہر 12 تا 3 بجے) چولہے کا استعمال نہ کریں۔
شدید گرمی میں لو لگ جائے تو یہ کریں:
  • متاثرہ شخص کو فوراً کسی ٹھنڈی جگہ لے جائیں۔
  • جسم کو گیلے کپڑے سے صاف کریں۔
  • سر پر عام درجہ حرارت کا پانی ڈالیں جو ٹھنڈا یا گرم نہ ہو۔
  • متاثرہ شخص کو لیمو پانی یا او آر ایس (ORS) پلائیں۔
  • فوری طور پر قریبی طبی مرکز لے جائیں۔

درخت لگائیں؛ زمین کو گرمی سے بچائیں

سال کا طویل ترین دن یعنی 21 جون ہمارے ملک پاکستان کے لیے شدید ترین گرم دن بھی رہا۔ دارالحکومت اسلام آباد سمیت کراچی، لاہور، پشاور اور دیگر بڑے شہروں میں درجہ حرارت گزشتہ سالوں کی ریکارڈ سطح سے تجاوز کر گیا۔ صرف کراچی ہی میں شدید ترین گرمی کے باعث 2 دن میں درجنوں اموات ہوچکی ہیں۔ موسمی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی کا یہ سلسلہ آنے والے سالوں میں مزید بڑھ سکتا ہے اور اس کا دورانہ بھی طویل ہونے کا خدشہ ہے۔

گرمی میں شدید اضافے کی بہت سی وجوہات میں پیڑ، پودوں اور درختوں کا بڑے پیمانے پر صفایہ کیا جانا بھی شامل ہے۔ ایک طرف حکومت کی جانب سے شہروں میں موٹر ویز کی تعمیر اور شاہراہوں پر بڑے سائن بورڈز نصب کرنے کے لیے درختوں کو کاٹا جارہا ہے تو دوسری جانب غیر سرکاری کاروباری ادارے بھی فیکٹریوں اور نجی تعمیری منصوبوں کے لیے جنگلات سے درختوں کا سفایا کر رہے ہیں۔

ٹھنڈے کمروں میں کاروباری منصوبے بنانے والوں کے لیے گرمی میں اضافہ شاید اتنا اہم مسئلہ نہیں ہوگا لیکن عام افراد اس سے انتہائی متاثر ہورہے ہیں۔ اس لیے کسی کے انتظار میں وقت ضایع کیے بغیر پہلا قدم خود اٹھائیں اور اپنے گھروں، گلی اور محلوں میں درخت لگا کر اس نیک کام کا آغاز کریں۔ جو احباب فلیٹ یا چھوٹے مکانات میں رہتے ہیں وہ گملوں میں پودے لگا کر اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ اس حوالے سے مصطفی ملک کے بلاگ گھریلو باغبانی پر بہت مفید معلومات موجود ہیں۔

درخت زمین کے گرد موجود اوزون کی تہہ کے لیے انتہائی نقصاندہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے عنصر کاربن کو جذب کرتا ہے (جس سے گرمی کی شدت میں کمی ہوتی ہے) اور تازہ آکسیجن خارج کرتا ہےجو زندگی کا انتہائی اہم عنصر ہے۔ ایک اندازے کے مطابق عام درخت چار افراد پر مشتمل خاندان کے لیے ایک سال تک آکسیجن فراہم کرسکتا ہے۔ گھروں اور چھوٹی عمارات کے آس پاس درخت لگانے سے کمرے ٹھنڈے رکھنے کے نظام مثلاً اے سی (ایئر کنڈیشن) کے اخراجات بھی کم کیے جاسکتے ہیں۔

درخت لگانے کا کام بہت مہنگا یا زیادہ وقت طلب نہیں ہے۔ صرف چند بیجوں کو ایسی جگہ بوئیں جہاں ہوا، دھوپ اور مٹی موجود ہو اور آپ دن میں ایک بار پانی دے سکیں۔ کچھ پودوں کو تو روزانہ پانی دینے کی بھی ضرورت نہیں کیوں کہ انہیں ایک دو روز کے وقفے سے بھی پانی دیا جاسکتا۔ بارشوں کے موسم میں تو اس کی ضرورت بھی ختم ہوجاتی ہے۔ آپ کو اپنی محنت کا پھل چند ہفتوں میں ہی نظر آجائے گا جس سے نہ صرف آپ، بلکہ آپ کی آنے والی نسلیں اور دیگر انسان و چرند پرند بھی فائدہ اٹھائیں گے۔

اس وقت پاکستان میں ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ افراد فیس بک استعمال کرتے ہیں اگر ان میں سے ہر فرد صرف ایک درخت لگائے تو مجموعی طور پر ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ درخت ہوجائیں گے جو تقریباً چھ کروڑ آبادی کے لیے آکسیجن پیدا کریں گے۔ اس تحریک کو مزید فروغ دینے کے لیے پیدائش، سالگرہ یا دیگر مواقع پر کسی کی نسبت سے درخت لگانے کی روایت بھی شروع کی جانی چاہیے۔

iOS میں اردو نستعلیق فونٹ شامل

انٹرنیٹ پر اردو پڑھنے اور لکھنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھتے ہوئے آئی ٹی کے شعبے میں عالمی نمبر 2 ادارے ایپل نے اگلے آپریٹنگ سسٹم iOS 9.0 کے بیٹا ورژن میں اردو نستعلیق فونٹ شامل کرلیا ہے۔ مائیکروسافٹ کی جانب سے اردو ٹائپ نستعلیق اور گوگل کی طرف سے نوٹو نستعلیق کے بعد یہ بہت اہم پیش رفت اور اردو کے چاہنے والوں کے لیے بہت اچھی خبر ہے۔

فورمز، بلاگز، ٹویٹر اور فیس بک سمیت دیگر ویب سائٹس پر اردو لکھنے والوں کی جانب سے بارہا اس بات کو دہرایا جاتا رہا ہے کہ پاکستان کی بہت بڑی اکثریت قومی زبان اردو استعمال کرتی ہے لہٰذا اس میں کوئی دو رائے نہیں ہونی چاہیئں کہ جو تعلق اردو کے ذریعے قائم کیا جاسکتا ہے وہ کسی اور زبان کے استعمال یا فروغ سے ممکن نہیں۔ پاکستان میں تھری جی انٹرنیٹ کی آمد سے انٹرنیٹ چھوٹے شہروں اور گاؤں تک پہنچ چکا ہے اور سرکاری و غیر سرکاری ادارے بھی اب اردو کی اہمیت کو محسوس کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب انگریزی کے ساتھ  ساتھ اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کی باتیں کی جارہی ہیں۔

یہاں مدثر عظیمی صاحب کی کوششوں کو سراہا نہ جائے تو زیادتی ہوگی۔ انہوں نے 2010ء میں آئی فون میں اردو لکھنے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک منصوبے کا آغاز کیا جس کے تحت ایک فونٹیک کیبورڈ Urdu Writer کے نام سے بنایا گیا۔ یہ ایپل اسٹور میں دستیاب ہے اور دنیا بھر میں موجود اردو لکھنے والے اس سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔ بعد ازاں ایپل نے iOS 8 میں دیگر زبانوں کی طرح اردو کیبورڈ بھی شامل کردیا جو نسخ فونٹ کے ساتھ تھا۔ یوں اردو لکھنے کے لیے علیحدہ ایپلی کیشن انسٹال کرنے کی ضرورت ختم ہوگئی لیکن نستعلیق جیسے خوبصورت فونٹ کی کمی بہرحال محسوس ہوتی رہی۔

مدثر عظیمی نے 5 اکتوبر 2014 کو ایپل انکارپوریٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹم کوک کے نام ایک کھلا خط لکھا جس میں اردو نستعلیق فونٹس کے حوالے سے گزارشات شامل تھیں۔ صرف 8 روز بعد ہی انہیں ٹم کوک کی جوابی فون کال موصول ہوئی جس میں اردو کے حوالے سے مزید پیش رفت پر بات ہوئی۔

اور اب مدثر عظیمی ہی کے توسط سے پتہ چلا کہ iOS میں اردو نستعلیق فونٹ شامل کرلیا گیا ہے۔ اردو کیبورڈ اور نستعلیق فونٹ کی آئی فون، آئی پیڈ، اور میک بک میں خود کار شمولیت سے ان لوگوں کی شکایت دور ہوجائے گی کہ جو اردو زبان کو کم پڑھے جانے کا ذمہ دار دشوار فونٹس کو قرار دیتے رہے ہیں۔

iOS میں نستعلیق فونٹ کی شمولیت

فیس بک ایونٹس اور گوگل کلینڈر کو منسلک کریں

اگر آپ کاروباری و نجی ملاقاتوں، پروگرامات اور دیگر اہم سرگرمیوں کی تاریخ اور اوقات یاد رکھنے کے لیے گوگل کلینڈر کا استعمال کرتے ہیں اور فیس بک ایونٹس پر بھی مختلف پروگرامات کے ساتھ یہ سلسلہ رہتا ہے تو بہتر رہے گا کہ آپ دو الگ کلینڈر دیکھنے کے بجائے ایک ہی نظر میں اپنا شیڈول دیکھیں۔ اس سے آپ ایک ہی دن اور وقت میں ایک سے زائد ملاقاتیں طے کرنے جیسی غلطیوں سے بچ جائیں گے اور آپ کو ایک ہی وقت میں کئی پروگرامات میں شرکت کا وعدہ کر کے شامل نہ ہوپانے پر شرمندہ بھی نہیں ہونا پڑے گا۔

سب سے پہلے فیس بک ایونٹس میں جائیں جہاں آپ کو متعلقہ پروگرامات کی بھرمار نظر آئے گی۔ اس صفحے پر دائیں جانب موجود سائیڈ بار کے بالکل آخر میں آپ کو Upcoming Events کا ربط نظر آئے گا، اس پر ماؤس کی مدد سے دایاں (right) کلک کریں اور Copy Link Location یا Copy Link Address پر کلک کردیں۔ یہاں فیس بک پر کام مکمل ہوا۔

فیس بک ایونٹس

اب گوگل کلینڈر پر جائیں جہاں آپ کو بائیں جانب Other Calendars کی سرخی نظر آئے گی، آپ اس کے ساتھ موجود بٹن پر کلک کریں اور پھر Add by URL کا انتخاب کریں۔ اگلے لمحے جو ڈبہ آپ کے سامنے ظاہر ہو اس میں فیس بک سے کاپی کیا گیا لنک ڈال (paste) کر Add Calendarکر دیں۔اگلے صفحے پر بغیر کوئی تبدیلی کیے Save کا بٹن دبائیں۔ کچھ ہی دیر میں آپ کے فیس بک پروگرامات گوگل کلینڈر میں ظاہر ہوجائیں گے۔

گوگل کلینڈر کا خاکہ نمبر 1

گوگل کلینڈر کا خاکہ نمبر 2

ورڈپریس اردو تھیم: ہیومن

ورڈپریس اردو بلاگ اور اردو میگزین کے لیے ہیومن بہت خوبصورت تھیم ہے۔ یہ 100 فیصد ریسپانسیو اردو تھیم ہے جس سے قارئین ٹیبلیٹ اور موبائل پر بھی تحاریر باآسانی پڑھ سکتے ہیں۔ دیگر نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • خصوصی تحاریر کے لیے سلائیڈر
  • 2 مینیو بارز (پہلی عنوان سے اوپر اور دوسری بلاگ عنوان کے نیچے)
  • 2 سائیڈ بارز ہیں (جو تھیم کنٹرول پینل سے ظاہر اور غائب کیے جاسکتے ہیں)
  • معروف سوشل سائیٹس کے شیئرنگ بٹنز
  • متعلقہ پوسٹس
  • فوٹر میں (0 تا 4) وجٹس
  • سوشل میڈیا روابط
  • انتہائی آسان تھیم کنٹرول پینل
  • 6 مختلف انداز (تصویری صورتیں نیچے موجود ہیں)
hueman-urdu-1 hueman-urdu-4 hueman-urdu-3 hueman-urdu-5 hueman-urdu-2 hueman-urdu-6 ورڈپریس اردو تھیم: ہیومن سے متعلق دیگر تفصیلات:

تھیم کے خالق: ایلکس
اردو ترجمہ: ورڈپریس اردو
ڈاؤن لوڈ: ورڈپریس اردو تھیم ہیومن یہاں سے ڈاؤن کریں

تھیم میں کسی مسئلے یا اپنی مرضی کی تبدیلی کروانے کے لیے مجھے سے رابطہ کریں۔

فیس بک پر 4 چیزوں سے اجتناب کریں

فیس بک اس وقت نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں سماجی رابطوں (social networking) کے لیے سب سے بڑی ویب سائٹ مانی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسی محفل ہے جہاں آپ کو اپنے ہی جیسے دسیوں لوگ ملیں گے۔ جس طرح ہر محفل میں آمد، شمولیت، ملاقات اور برخاست وغیرہ کے آداب ہوتے ہیں اسی طرح فیس بک کے بھی ہیں۔ ذیل میں اس حوالے سے چند مشاہدات ہیں کہ جن سے اجتناب کرتے ہوئے ہم فیس بک کو اپنے اور دوسروں کے لیے بہتر بنا سکتے ہیں۔

فیس بک پر اپنی ہی پوسٹ کو لایک (like) نہ کریں

یہ بالکل ایسا ہی جیسے آپ کسی ہجوم کے درمیان اپنی ہی پیٹھ تھپتھپائیں یا آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود ہی سے تالی ماریں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ذہنی طور پر احساس کمتری کا شکار ہیں۔

fb-donts-3

فیس بک پر تصاویر کے ساتھ غیر ضروری ٹیگ (tag) نہ کریں

اپنے رشتے داروں، دوستوں، دفتر میں ساتھ کرنے والوں یا اپنے گاہکوں کو غیر متعلقہ تصاویر پر ٹیگ نہ کریں۔ اس سے وہ تنگ آ کر آپ کو اپنی فیس بک فرینڈ لسٹ سے ہمیشہ کے لیے نکال سکتے ہیں۔

fb-donts-2

فیس بک اسٹیٹیس (status) میں غلط ٹیگ نہ کریں

اپنی تحریر میں غلط فرد یا صفحہ ٹیگ کرنے کی صورت میں آپ کی محنت ضایع جاسکتی ہے۔ اسے نہ صرف یہ کہ وہ شخص پریشان ہوگا بلکہ قارئین فیس بک پر غلط شخص کے دوست بن جائیں گے یا غلط صفحے کو فالو کرنا شروع کردیں گے۔

fb-donts-4

تبصرے, لایک یا شیئر (share) کرنے پر اصرار نہ کریں

اگر آپ اپنے فیس بک دوستوں سے تبصرے، لایک یا شیئر کرنے کا کہتے ہیں تو اس سے پرہیز کریں کیوں کہ فیس بک “لایک-بیٹنگ” نامی تکنیک کے ذریعے ایسی پروفائل اور صفحات کے خلاف کاروائی کر رہا ہے۔

fb-donts-1

کیا بلاگ اور سوشل میڈیا میں فرق ہے؟

گزشتہ دنوں ایک عجیب سوال سے پالا پڑا کہ کیا بلاگ اور سوشل میڈیا میں فرق ہے؟ اس سوال پر حیرت ہوئی کہ لوگ سوشل نیٹ ورکس (فیس بک، ٹویٹر وغیرہ) کی مقبولیت کے باعث سوشل میڈیا کے حقیقی معنی بھول چکے ہیں یا خلط ملط کر چکے ہیں۔ اس حوالے سے اپنی گزارشات بیان کرنے سے قبل چاہوں گا کہ وکی پیڈیا پر موجود سوشل میڈیا کی تعریف کو دیکھ لیا جائے:

Social media is defined as “a group of Internet-based applications that build on the ideological and technological foundations of Web 2.0, and that allow the creation and exchange of user-generated content.”

(ترجمہ) سوشل میڈیا کی تعریف یوں کی جاتی ہے “انٹرنیٹ پر موجود ایپلی کیشنز کا مجموعہ جو ویب 2.0 کی نظریاتی اور تکنیکی بنیادیوں پر قائم کیا گیا ہو اور جو صارف کو مواد تخلیق کرنے اور تبادلے کی اجازت دے”۔

اس سے باآسانی سمجھا جاسکتا ہے کہ سوشل میڈیا کسی مخصوص ویب سائٹ (یا چند ویب سائٹس) کا نام نہیں ہے۔ انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا کی شروعات سے متعلق لوگوں کی ایک رائے یہ بھی ہے کہ اس کا آغاز آئی آر سی (انٹرنیٹ ریلے چیٹ) سے ہوچکا تھا۔ البتہ ماہرین اس پر متفق ہیں کہ “جدید سوشل میڈیا” کا آغاز بلاگ سے ہوا جو کہ سوشل نیٹ ورکس کی آمد سے کئی سال پہلے کی بات ہے۔ لہٰذا یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ بلاگ ہی دراصل جدید سوشل میڈیا کی اولین شکل ہے۔

وکی پیڈیا کی بیان کردہ تعریف میں ایک اور اہم بات مواد کی تخلیق اور تبادلے سے متعلق بھی ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر محض صارف کا تیار کردہ مواد ہی نہیں بلکہ دوسرے ذرایع سے حاصل ہونے والی معلومات کا بھی تبادلہ کیا جاسکتا ہے۔ بلاگ پر جو بھی مواد بصورت تحریر، تصویر یا وڈیو شایع ہوتا ہے اس پر دیگر پڑھنے والوں کو اپنے اظہار خیال کی مکمل آزادی ہوتی ہے جو اس کے “سوشل” ہونے کے لیے کافی ہے۔

اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اپنے تبصروں کے ذریعے آگاہ کریں۔

Pages