محمد اشفاق راجپوت (الیکٹرونیات)

سانحہ راولپنڈی پر میڈیا خاموش کیوں؟

اگر آپ پاکستانی ہیں اور سُنی ہیں تو آپ کی دکان یا مسجد کا جل جانا یا آپ کے بچوں کے گلے پر چھریاں پھر جانا پاکستانی یا عالمی میڈیا کے لئے کوئی خبر نہیں ہے البتہ اگر آپ ملالہ ہیں مختاراں ہیں یا قادیانی اور شیعہ ہیں تو یہی میڈیا آپ پر گھنٹوں صرف کرے گا کیونکہ اس میں ریٹنگ بھی ہے اور پیسہ بھی ۔ایسا کرنے کے لئےچاہے  ناحق کسی کو مجرم ثابت کرنا ہی کیوں نا  پڑجائے۔
موت جب راجہ بازار میں دندنا دہی تھی تب نہ تو پولیس کی طرف سے بلوائیوں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے شیل پھینکے گئے اور نہ ہی لاٹھیاں برسائی گئیں۔
جب بھی کسی امام بارگاہ پر حملہ ہو یا بسوں سے معصوم لوگوں کو شناخت کر کے مارا جائے (جس کی ہر صورت مذمت کی جانی چاہیئے) تو اسی میڈیا پر شیعہ نسل کشی کا شور مچنا شروع  ہوجاتا ہے لیکن راولپنڈی واقعہ پر اسی میڈیا کو اچانک ذمہ دارانہ صحافت یاد آگئی۔
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اہل تشیع حضرات کی جانب سے اس واقعہ کا مسلسل دفاع  کیا جارہا ہے۔ اول تو نماز جمعہ کے وقت چھری کانٹوں سے لیس جلوس کو مسجد کے پاس آنا ہی نہیں چاہیئے تھا ۔اگر آ بھی گئے تھے تو مولوی صاحب کے بیان کے جواب میں جو بلوا مچایا پھر اس کا دفاع کررہے ہیں۔ کیا اس طرح سے یہ خود اپنے ہی عمل سے لشکرِ جھنگوی والوں کی تائید نہیں کررہے؟
اس طرح کے واقعات سے بچنے کا اب ایک ہی حل ہے کہ ماتمی جلوسوں کو اُنکے مخصوص مقامات اور عبادت گاہوں تک ہی محدود کیا جانا چاہیئے کیونکہ نفرت کی اب جو آگ بھڑک چکی ہے اس میں چھریوں اور کانٹوں سے لیس جلوس اس جیسے کسی بھی واقعہ کا پھر سے پیش خیمہ بن سکتےہیں۔

http://marajput.tk/files/Saniha-Rawalpindi1.jpg

http://www.marajput.tk/files/Saniha-Rawalpindi2.JPG

 

یومِ آزادی اور ہم

http://marajput.tk/files/Jashn-Azadi-Pakistan.jpg

بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم ورحمتہ اللہ
آج میں آپ کو کچھ یاد دلانا چاہونگااور کچھ دکھانا بھی چاہونگا ایک ملی نغمہ آپ دوستوں کے ساتھ شئیر کر رہا ہوں اس کی ویڈیو میں آپ بچوں کا جوش اور جذبہ دیکھیں اور پھر اپنے بچپن میں جائیں یقیناً یہی جوش، جذبہ اور ولولہ ہوتا تھا اسی طرح سے جھنڈا پکڑ کر گلیوں میں دوڑنا اور اپنے گھر اور گلیوں کو شوق سے سجاتے تھے خوشی سے ملی نغمے گاتےلیکن اب یہ سب کچھ کہاں کھو گیا؟
کیا یہ سب اس لئے ختم ہو گیا کہ ہم بڑے ہوگئے ہم پر ذمہ داریاں بڑھ گئیں؟ اسکا یہ مطلب تو نہیں کہ جو جذبہ اور ولولہ بچپن میں تھا وہ اب ختم یہ یاد رکھیں پاکستان ہماری پہچان ہے اس کو ویسے ہی بنانا ہے جیسے اس کا ہم پر حق ہے۔
اللہ پاکستان کی حفاظت کرے اور اسے رہتی دنیا تک قائم و دائم رکھے۔آپ سب کو میری طرف سے یومِ آزادی کی ڈھیروں مبارکباد۔
اس ویڈیو کو غور سے دیکھیں:

یہ وطن تمہارا ہے ، تم ہو پاسباں اس کے
یہ چمن تمہارا ہے ، تم ہو نغمہ خواں اس کے

یہ وطن تمہارا ہے ، تم ہو پاسباں اس کے

اس چمن کے پھولوں پر، رنگ و آب تم سے ہے
اس زمیں کا ہر ذرہ ، آفتاب تم سے ہے
یہ فضا تمہاری ہے ، بحرو بر تمہارے ہیں
کہکشاں کے یہ جالے، رہگزر تمہارے ہیں

یہ وطن تمہارا ہے ، تم ہو پاسباں اس کے

اس زمیں کی مٹی میں خون ہے شہیدوں کا
ارض پاک مرکز ہے قوم کی امیدوں کا
نظم و ضبط کو اپنا میرِ کارواں جانو
وقت کے اندھیروں میں اپنا آپ پہچانو

یہ وطن تمہارا ہے ، تم ہو پاسباں اس کے

یہ زمیں مقدس ہے ماں کے پیار کی صورت
اس چمن میں تم سب ہو برگ و بار کی صورت
دیکھنا گنوانا مت دولتِ یقیں لوگوں
یہ وطن امانت ہے اور تم امیں لوگوں

یہ وطن تمہارا ہے ، تم ہو پاسباں اس کے

میر کارواں ہم تھے، روح کارواں تم ہو
ہم تو صرف عنواں تھے ، اصل داستاں تم ہو
نفرتوں کے دروازے خود پہ بند ہی رکھنا
اس وطن کے پرچم کو سربلند ہی رکھنا

یہ وطن تمہارا ہے ، تم ہو پاسباں اس کے
یہ چمن تمہارا ہے تم ہو نغمہ خواں اس کے

ڈائیوڈ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم دوستوں!

ڈائیوڈ جسے آدھا ٹرانزسٹر بھی کہا جاتا ہے دو ٹرمینل رکھنے والا ایک الیکٹرونک جُز ہے۔  کارل فرڈیننڈ براون نے 1874 میں ایجاد کیا تھا۔ ڈائیوڈ کرنٹ کو ایک سمت میں باآسانی گزرنے دیتا ہے جبکہ دوسری سمت میں کرنٹ کو مکمل طور سے بلاک کر دیتا ہے یعنی یہ ایک چیک والو کی طرح کام کرتا ہے۔اس کے علاوہ ڈائیوڈ الیکٹرونک سرکٹس میں Rectification (یعنی اے سی کرنٹ کی ڈی سی کرنٹ میں تبدیلی) کا کام بھی انجام دیتا ہے۔یہی دو بنیادی کام ہیں جس کی وجہ سے ڈائیو سرکٹ میں استعمال کیا جاتا ہے۔

ڈائیوڈ ایک P ٹائپ سیمی کنڈکٹر میٹریل اور N ٹائپ سیمی کنڈکٹر سے مل کر بنتا ہے۔ یہ دونوں میٹریل دو مختلف خصوصیت کے حامل ہوتے ہیں۔

P ٹائپ میٹریل میں الیکٹرونز کی کمی ہوتی ہے۔ جنہیں  Holes کہا جاتا ہے۔اسی لئے Holes مثبت طور سے چارجڈ ہوتے ہیں۔
N ٹائپ میٹریل میں الیکٹرونز کی اضافی مقدار ہوتی ہے اور الیکٹرونز مثبت طور سے چارجڈ ہوتے ہیں۔
اسی لئے P ٹائپ میٹریل الیکٹرونز لینے کے لئے بے چین ہوتا ہے جبکہ N ٹائپ میٹریل الیکٹرونز کی اضافی مقدار ہونے کی وجہ الیکٹرونز دینے کے لئے بے تاب ہوتا ہے۔

اب اگر ہم اوپر تصویر کے مطابق الیکٹرک وولٹیج کو اس طرح مہیا کریں کہ بیٹری کے منفی  سِرے کو N ٹائپ میٹریل کے ساتھ منسلک کیا جائے اور بیٹری کے مثبت سِرے کو P  ٹائپ میٹریل کے ساتھ جوڑدیا جائے تو بیٹری کا منفی چارج الیکٹرونز کو N  میٹریل میں سے دفع کرے گا اور بیٹری کا مثبت چارج الیکٹرونز کو P میٹریل میں سے اپنی طرف کشش کرے گا۔ یعنی یہ کرنٹ کو رواں ہونے میں مدد دے رہا ہے اور کرنٹ کے بہاؤ کے لئے مکمل سازگار حالات پیدا ہورہے ہیں۔ اس کو فارورڈ بائیسنگ کہتے ہیں۔
اگر ہم ان کنکشنز کو اُلٹ دیں یعنی بیٹری کے منفی سِرے کو P میٹریل اور مثبت سِرے کو N میٹریل کے ساتھ جوڑ دیں  تو بیٹری کا منفی چارج P میٹریل میں سے الیکٹرونز کو دفع نہیں کرسکے گا کیونکہ P میٹریل میں تو پہلے ہی الیکٹرونز کی کمی ہوتی ہے جبکہ N  میٹریل بھی بیٹری کے مثبت سِرے کے ساتھ غیروں والا سلوک کرے گا کیونکہ N میٹریل میں پہلے ہی الیکٹرونز کی اضافی مقدار ہوتی ہے ۔اس لئے ایسے ناسازگارحالات میں کرنٹ کسی صورت میں رواں نہیں ہوسکے گااس  کو ہم ریورس بائیسنگ کہتے ہیں۔


سلیکان(Si) سے بنا ہوا ڈائیوڈ اپنے اطراف 0.7V خرچ کرتا ہے۔ جبکہ جرمینیم (Ge) سے بنا ہوا ڈائیوڈ اپنے اطراف 0.3V خرچ کرتا ہے۔
اگر ہم ڈائیوڈ کا ریورس وولٹیج بڑھاتے جائیں تو ایک موقع ایسا آئے گا کہ ڈائیوڈ کا جنکشن بریک ڈاؤن ہوجائےگا یعنی ڈائیوڈ جل جائے اور شارٹ سرکٹ بن جائے گا۔اور اگر ڈائیوڈ کی کرنٹ اس کی فارورڈ کرنٹ سے بڑھ گئی تو بھی ڈائیوڈ جل جائے گا۔ اسی لئے ڈائیوڈ کی ڈیٹا شیٹ میں ڈائیوڈ کا فارورڈ کرنٹ اور ریورس وولٹیج ضرور دی گئی ہوتی ہیں۔

ان شاء اللہ آئندہ ڈائیوڈ کی اقسام پر بات ہوگی۔

اللہ حافظ

وولٹ، ایمپئیر، واٹ۔۔ اینیمیشن

السلام علیکم ورحمتہ اللہ
وولٹ، ایمپئیر اور واٹ کے درمیان تعلق کو اس اینیمیشن  کے ذریعے سمجھیں امید ہے  کہ آپ لوگوں کو ذیادہ بہتر طریقے سے سمجھ آجائے گا ۔
اس اینیمیشن کو سمجھنے سے پہلے درج ذیل لنک پر کلک کرکے برقی اکائیاں- یعنی وولٹ ایمپئیر اور واٹ کے بارے میں مختصراً پڑھ لیں تاکہ آپ کو اس اینیمیشن کو سمجھنے میں آسانی ہو۔۔
برقی اکائیاں- وولٹ، ایمپئیر، واٹ

 

اس سرکٹ میں ایک وولٹ برقی دباؤ پر ایک ایمپئیر کرنٹ فراہم کیا گیا ہے جس سے ایک واٹ کام انجام پذیر ہوا۔ یعنی اس سرکٹ پر ایک واٹ توانائی صَرف ہوئی۔

http://www.marajput.tk/files/1v1a.gif

 

 

اس سرکٹ میں پانچ وولٹ برقی دباؤ پر ایک ایمپئیر کرنٹ فراہم کیا گیا ہے جس سے  پانچ واٹ کام انجام پذیر ہوا۔ یعنی اس سرکٹ پر پانچ واٹ  توانائی صَرف ہوئی۔

http://www.marajput.tk/files/5v1a.gif

 

اس سرکٹ میں ایک وولٹ برقی دباؤ پر پانچ ایمپئیر کرنٹ فراہم کیا گیا ہے جس سے  پانچ واٹ کام انجام پذیر ہوا۔ یعنی اس سرکٹ پر پانچ واٹ توانائی صَرف ہوئی۔

http://www.marajput.tk/files/1v5a.gif

 

یہاں تک کسی بھی قسم کی الجھن ہو تو آپ بلاجھجھک پوچھ سکتے ہیں

اس کے ساتھ ہی مجھے اجازت دیجئیے۔۔ اللہ حافظ

الیکٹرونیات کے معیاری یونٹ

1- ایمپئر:۔
برقی کرنٹ کا پیمانہ اگر خلا میں دو متوازی کنڈیکٹروں میں (جن کا کراس سیکشن ایریا انتہائی کم ہو) سے جو کہ ایک دوسرے سے ایک میٹر کے فاصلہ پر ہوں، اتنی کرنٹ مسلسل گزاری جائے کہ وہ ان پر -7^10*2 نیوٹن فی میٹر لمبائی کے مساوی قوت پیدا کرے۔

2- ایمپئر آور:۔
برقی قوت کا یونٹ جو کہ 3600 کالمب کے برابر ہے۔ اگر ایک ایمپئر کرنٹ ایک گھنٹہ تک مسلسل گزرے تو اس کو ایک یونٹ ایمپئر آور کہا جاتا ہے۔

3- کولمب: ۔
برقی چارج کا یونٹ۔ برقی رو کی وہ مقدار جو کہ ایک سیکنڈ میں ایک ایمپئر شرح کرنٹ گزارتی ہے۔

4- ڈیسی بیل: ۔
آواز یا برقی پاور کی نسبت۔ اگرچہ بنیادی یونٹ بیل ہے لیکن یہ چونکہ بہت بڑا یونٹ ہے اس لیے ڈیسی بل کو ترجیح دی جاتی ہے۔

5- فیراڈ: ۔
برقی کیپے سٹی کا پیمانہ کسی کیپسٹر کی دو پلیٹوں کے درمیان اگر ایک وولٹ ظاہر ہو جبکہ ان کو ایک کالمب شرح سے چارج کیا جائے، اس کیپسٹر کی کیپے سٹی کو ایک فیراڈ کہا جاتا ہے۔ چونکہ یہ بہت بڑا پیمانہ ہے اس لیے عملی طور پر مائیکرو فیراڈ، نینو فراڈ اور پیکو فیراڈ استعمال کیے جاتے ہیں۔

6- ہنری: ۔
برقی امالہ کا یونٹ۔ اگر کسی سرکٹ میں سے ایک ایمپئر کرنٹ فی سیکنڈ تبدیل ہو رہا ہو اور اس سرکٹ میں ایک وولٹ پیدا ہو جائے تو اس کو ایک ہنری کہا جاتا ہے۔ چونکہ یہ بہت بڑا پیمانہ ہے اس لیے ملی ہنری اور مائیکروہنری پیمانے استعمال کیے جاتے ہیں۔

7- ہرٹز: ۔
فریکوینسی کا پیمانہ۔ ایک سیکنڈ میں مکمل ہونے والے چکروں کی تعداد۔

8- جول: ۔
قوت کا پیمانہ۔ جس میں کام اور حرارت شامل ہے۔ جب ایک نیوٹن قوت کسی چيز پر لگائی جائے تو وہ چيز ایک میٹر کے فاصلے تک (قوت کے رخ پر) پرے ہٹ جائے۔

امت مسلمہ کو عید الاضحی مبارک

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
میری طرف سے آپ کو اور آپ کے اہل خانہ بمعہ دوستوں کو عید مبارک ہو۔  امید ہے کہ آپ سب عید کی خوشیوں کا مزہ لے رہے ہوں گے ۔اللہ کرے کہ ہر ایک ہمیشہ خوش و خرم شاد و باد رہے۔
جو مسلمان حج کے لیے گئے ہیں، اللہ ان کے حج کو قبول فرمائے،ا ور ہمیں بھی اپنے گھر کی زیارت نصیب فرمائے۔
اور جو مسلمان سنت ابراہیمی ادا کر رہے ہیں اللہ ان کی قربانی قبول فرمائے اور ان سے ایک عرض ہے کہ آپ ان مسلمان بھائیوں کا نہ بھولیں جو کہ قربانی کی استطاعت نہیں رکھتے۔جہاں آپ دوست و رشتہ داروں میں گوشت تقسیم کریں وہیں ایک حصہ اپنے ان غریب بہن بھائیوں کے لئے بھی ضرور نکالیں تاکہ وہ بھی میری اور آپ کی طرح سے عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔
جزاکم اللہ خیرا۔

اخوکم فی اللہ
محمد اشفاق راجپوت

 

http://marajput.tk/files/Eid-Ul-Azha.jpg

الیکٹرونیات کے حروف تہجی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جس طرح کسی بھی زبان میں الفاظ اور جملے حروف تہجی سے ملکر بنتے ہیں۔ اسی طرح الیکٹرونیات میں بڑے بڑےسرکٹ چاہے وہ اینا لاگ سسٹم ہوں یا پیچیدہ ڈیجیٹل سسٹم الیکٹرونیات کے حروف تہجی سے ملکر بنتے ہیں۔
اور وہ حروف تہجی ہیں رزسٹنس (Resistance)، کیپسٹینس (Capacitance)، اور انڈکٹنس (Inductance)

 

رزسٹنس (Resistance): کرنٹ کے بہاؤ میں مزاحمت۔ اور کرنٹ الیکٹرونز کے بہاؤ کو کہتے ہیں۔ آپ ایسے تصور کرلیں جب آپ ذیادہ بھیڑ والی جگہ پر چلوگے تو ذیادہ رکاوٹ ہوگی اور کم بھیڑ والی جگہ پر کم رکاوٹ محسوس ہوگی یہی حال بے چارے الیکٹرونز کا ہے حرکت کرتے کرتے اس شے کے دیگر ایٹموں میں موجود دوسرے الیکٹرونز سے ٹکرا جاتے ہیں۔
کنڈکٹرز(Conductor) میں بہت کم رزسٹینس ہوتی ہے، اور انسولیٹر (Insulator) میں بہت ذیادہ رزسٹینس ہوتی ہے۔

جب بھی کرنٹ بہتا ہے تو اس میٹریل میں اس کرنٹ کے حساب سے مقناطیسی فیلڈ بھی پیدا ہو جاتی ہے۔

 

کیپسٹینس (Capacitance): الیکٹرک چارج کو اسٹور کرنے کی صلاحیت۔ تقریباً ہر میٹریل میں چارج اسٹور کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے کسی میں بہت بہت کم اور کسی میں بہت ذیادہ۔ جب دو میٹریل کے درمیان گیپ آجائے چاہے مائکرومیٹرز میں ہو۔ تب اس چیز میں یہ صلاحیت ابھر آتی ہے۔ کسی بھی سرکٹ میں اس حروف تہجی یعنی (Capacitance)کا استعمال عموماً سگنل کی فریکونسی کے اثرات پر کنٹرول کے لئے ہوتا ہے۔

 

انڈکٹنس(Inductance): مقناطیسی چارج (Magnetic Flux)کو اسٹور کرنے کی صلاحیت۔ تقریباً ہر میٹریل میں مقناطیسی چارج اسٹور کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے کسی میں بہت بہت کم اور کسی میں بہت ذیادہ۔ جب کوئی میٹریل موٹائی اور چوڑائی میں سکڑتا جاتا ہے جب اس میٹریل کی موٹائی اور چوڑائی چند ملی میٹرز میں ہو۔ تب اس چیز میں یہ صلاحیت ابھرآتی ہے۔ اور کسی بھی سرکٹ میں اس حروف تہجی یعنی (Inductance) کا استعمال عموماً سگنل کی فریکونسی کے اثرات پر کنٹرول کے لئے ہوتا ہے۔

عید سعید فطر مبارک

تمام عالم میں جہاں جہاں عید منائی جارہی ہے وہاں بسنے والے تمام مسلمانان کو عیدالفطر مبارک ہو۔ ساتھ ساتھ یہ دعا بھی کہ اس خوشی کے موقع پر اللہ تعالیٰ آپ سب کو ڈھیروں خوشیاں نصیب کرے اور آپ کے چہروں پر ہمیشہ خوشی کے پھول کھلائے رکھے۔  :pray: اور اگر کوئی اپنی خوشی سے عیدی دینا چاہے تو ہم حاضر ہیں  :moneyeyes: ماشاءاللہ کافی بزرگ بلاگرز بھی موجود ہیں۔ :smile:

جعل الله الريان بابكم..

والفردوس ثوابكم..

والكوثر شرابكم..

وتقبل الله صيامكم وقيامكم..

عيد سعيد وكل عام وأنتم بخير ولکم مني أجمل التحيات وأزكى التمنيات

اخوكم في الدين

محمداشفاق راجپوت

http://www.marajput.tk/files/Eid-Mubarak.jpg

رزسٹر

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الیکٹرونیات میں رزسٹر استعمال کرنے کے دو بنیادی مقصد ہوتے ہیں۔ کرنٹ کو ایک مخصوص مقدار میں محدود کرنے کے لئے یا وولٹیج میں مطلوبہ کمی فراہم کرنے کے لئے۔ رزسٹر کی ویلیو کو اوہم  (Ω) میں ناپا جاتا ہے۔رزسٹر کی درجہ بندی انکی رزسٹینس ویلیو ، Tolerance اور پاور ریٹنگ(واٹیج) کے حساب سے کی جاتی ہے۔ رزسٹر کے سائز اور اسکی  ویلیو کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہوتا یعنی یہ لازمی نہیں کہ اگر کوئی رزسٹر بڑا ہو تو وہ زیادہ اوہم (Ω) کا ہو یا کوئی رزسٹر چھوٹا ہو تو وہ کم اوہم (Ω) کا ہو۔البتہ رزسٹر کے سائز کا تعلق پاور ریٹنگ سے ہوتا ہے اگر رزسٹر بڑا ہوگا تو وہ زیادہ واٹ کا ہوگا اور اگر رزسٹر کا سائز چھوٹا ہوگا تو وہ کم واٹ کا ہوگا۔ رزسٹر منتخب کرتے وقت اس کی ویلیو کے ساتھ ساتھ اس کے واٹیج کا بھی خاص خیال رکھنا پڑتا ہے نہیں تو رزسٹر سرکٹ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
مثال کے طور پہ ایک LED میں زیادہ سے زیادہ کرنٹ 10mA اور وولٹیج 2V ہیں اب اگر سپلائی وولٹیج 9V ہوں تو پھر زیادہ سے زیادہ سرکٹ کرنٹ 10mA ہونا چاہیئے۔ تو اوہم کے فارمولے کے مطابق کس ویلیو کا رزسٹر درکار ہوگا:
R = V ÷ I = 7 ÷ 10 = 700Ω

http://www.marajput.tk/files/res.gif
رزسٹر توانائی بھی ضائع کردیتا ہے اور اس کا استعمال بھی ناگزیر ہے۔ ہر رزسٹر کی ڈیٹا شیٹ میں اس کی واٹیج بھی دی جاتی ہے واٹیج وہ ویلیو ہوتی ہے جو کہ رزسٹر آسانی سے فضا میں خارج کرسکتا ہے۔ واٹیج کی ویلیو اس لئے دی جاتی ہے کہ سرکٹ ڈیزائن کرتے وقت ہم صحیح قسم کا رزسٹر استعمال کریں وگرنہ رزسٹر میں ضائع ہونے والی توانائی اس رزسٹر کی خارج کرنے کی طاقت سے زیادہ ہے تو وہ رزسٹر گرم ہو کر جل جائے گا اور سرکٹ بھی خراب ہو جائے گا۔
مثلاً اگر رزسٹر کے سروں پر 5V ہے اور رزسٹر کی ویلیو 2ohm ہے تو پھر ضائع ہونے والی توانائی کچھ یوں ہوگی:
P = V × I = V2 ÷ R = 25 ÷ 2 = 12.5 watts
اوپر دی گئی مثال کے لئے رزسٹر منتخب کرتے وقت یہ دیکھ لیجیے گا کہ رزسٹر کی پاور ریٹنگ 12.5 واٹ سے کم نہ ہو نیچے چند ایک رزسٹر دئیے گئے ہیں:

http://www.marajput.tk/files/res12.gif
رزسٹر کی کلر کوڈنگ:
عام طور پر ایک رزسٹر چار، پانچ یا چھ کلر میں ملتے ہیں۔ چار بینڈ والے رزسٹر میں پہلے تین کلر اس رزسٹر کی ویلیو اور چوتھا کلر اس رزسٹر کی Tolerance کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح پانچ اور چھ بینڈ والے رزسٹر میں پہلے چار کلر اس رزسٹر کی ویلیو اور پانچواں کلر اس کی Tolerance کو ظاہر کرتا ہے۔ Tolerance کا کلر عموماً سلور یا گولڈ ہوتا ہے چھ بینڈ والے رزسٹر میں چھٹا کلر اس رزسٹرکے Temperature Coefficient ظاہر کرتا ہے۔

 

رزسٹر کے کلرز اور انکے نمبرز:

http://www.marajput.tk/files/res-color-code.gif 

یہ کلرز عموماً انگریزی کے اس جملے کی مدد سے یاد کرائے جاتے ہیں:

Big  Brown Rabbits Often Yield Great Big Vocal Groans When Gingerly Slapped

اس جملے میں آخر کے دو کلر ٹولیرنس کے لئے ہیں گولڈ اور سلور۔

 

اب آپ ان شاء اللہ رزسٹر کی ویلیو بغیر کسی ملٹی میٹر کے معلوم کرسکتے ہیں۔

http://www.marajput.tk/files/res-color-code2.gif

اردو حروف تہجی

السلام علیکم ورحمتہ اللہ
دوستوں چند دن پہلے ٹیلی ویژن پر ایک پروگرام دیکھا جس میں پروگرام کا میزبان سڑکوں پر گھوم کر سب سے اردو کے حروف تہجی سنانے کی فرمائش کر رہا تھا انتہائی افسوس کی بات ہے کہ صرف ایک یا دو کے علاوہ کوئی بھی حروف تہجی نہیں سنا سکا حالانکہ اس میں ایک بڑی تعداد یونیورسٹی کے طلباء کی تھی کتنے دکھ کی بات ہے کہ ہم خود اپنی زبان کو اپنے ہی ہاتھوں سے مسخ کرہے ہیں۔ ہمارے ہر شعبے ميں انگريزی چھائی ہوئی ہے۔ شاید ہم یہ حقیقت بھول چکے ہیں کہ جس قوم کی زبان نہیں رہتی وہ قوم بھی نہیں رہتی۔ اسی لئے جب تک ہم اپنی بول چال میں انگریزی کا تڑکہ نہ لگا دیں ہمیں مزہ ہی نہیں آتا۔اردو قومی زبان ہے صرف کہنے کی حد تک محدود ہے۔ انگریزی لکھنے اور بولنے میں ہم فخر محسوس کرتے ہیں۔ علم اور ضرورت کی حد تک تو انگریزی سیکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ لیکن اپنی زبان کو کم تر سمجھ کر انگریزی کو اس پر برتری دینا یہ کہاں کا قانون ہے؟
ہمیں اردو بھول کر نہیں بول کر اپنے مستقبل کو بچانا ہوگا
نہیں تو “کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا” کے مصداق کہیں ہم اپنی پہچان ہی نہ کھو دیں۔

http://www.marajput.tk/files/Urdu-Haroof.gif