محمد امین قریشی

اے دلِ بے قرار جھوم : خمار بارہ بنکوی


کندن لال سہگل یا کے۔ ایل۔ سہگل جس کو انگریزی میں Saigal لکھا جاتا ہے، ہندی فلم انڈسٹری کے اولین گائیکوں میں سے تھا اور جتنا مجھے اس کے بارے میں انٹرنیٹ کے ذریعے علم ہوا ہے، اس سے یہی پتا لگتا ہے کہ ہندی فلم انڈسٹری کا پہلا سپراسٹار سہگل ہی تھا۔ فلموں میں اداکاری بھی کرتا اور اپنے اوپر فلمائے گانے خود گاتا تھا۔ 
غالب کی غزلیں بھی کافی گائی ہیں اس نے اور کچھ جدید قسم کے گیت بھی۔ گو میں نے اس کے چند ہی گیت سنے ہیں لیکن سب ہی مجھے پسند ہیں۔ بہت اچھا گلوگار تھا۔ 1946 میں بنائی گئی فلم "شاہجہاں" کے سارے ہی گیت مشہور ہیں، ان میں سے ایک "اے دلِ بے قرار جھوم" مجھے بے حد پسند ہے۔ نجانے کیوں اس گیت میں کچھ رجائیت، کچھ اپنائیت اور سکون محسوس ہوتا ہے۔ میں نے اس گیت کے بول یا lyrics انٹرنیٹ پر تلاش کیے تو معلوم ہوا کہ اس لازوال گیت کو منصۂ شہود پر لانے کا سہرا میرے محبوب شاعر حضرت خمار بارہ بنکوی کے سر ہے۔
خمار بارہ بنکوی نے فلمی شاعری کافی کی ہے، شاید اسی وجہ سے ان کی اکثر شاعری کچھ لوگوں کے بقول کلاسیکی معنیٰ آفرینی سے خالی ہے۔ کچھ بھی ہو، خمار کا قد بہت بڑا ہے، اور بہت اچھا لکھتے تھے، اس بات سے روگردانی ممکن نہیں۔
اے دلِ بے قرار جھوماے دلِ بے قرار جھوم،ابرِ بہار آگیا، دورِ خزاں چلا گیا،عشق مراد پا گیا،حسن کی مچ رہی ہے دھوم،اے دلِ بے قرار جھوم۔
چٹکی ہوئی ہے چاندی،مستی میں ہے کلی کلی،جھوم رہی ہے زندگی، تو بھی ہزار بار جھوم،اے دلِ بے قرار جھوم۔
تارے ہیں ماہتاب ہے،حسن ہے اور شباب ہے،زندگی کامیاب ہے،آرزؤوں کا ہے ہجوم،اے دلِ بے قرار جھوم۔
تیرا نشہ، تیرا خمار،اب ہے بہار ہی بہار،پی کے خوشی میں بار بار،تو بھی ہزار بار جھوم،اے دلِ بے قرار جھوم۔
خمار بارہ بنکوی۔

کتنا رنگیں تھا ہر منظر تیرے بعد۔۔۔۔ محمد امین


کتنا رنگیں تھا ہر منظر تیرے بعدمیں نے دیکھی دنیا اٹھ کر تیرے بعد
سب رستوں کی بھول بھلیاں یاد ہوئیںگھوم رہا ہوں اختر اختر تیرے بعد
جھیلوں، نہروں، دریاؤں کی بات نہیںبھاگ رہا تھا مجھ سے سمندر تیرے بعد
اچھا کیا جو زہروں سے مانوس کیامجھ کو ملنا تھا اک اژدر تیرے بعد
میخانے کی چوکھٹ پر اک تیرا گداروز پٹک کر روتا ہے سر تیرے بعد
شام گھنی جب ڈھل جائے ان زلفوں کیبند کروں گا رات کا ہر در تیرے بعد
تیرے نقشِ پا میں سمٹ کر بیٹھیں گےخاک رہے گی اپنے سر پر تیرے بعد
محمد امین قریشی​

طبلِ جنگ

اگلے مہینے پاکستان کرکٹ ٹیم انگلستان فتح کرنے جا رہی ہے۔ طبلِ جنگ کاکول میں بج چکا ہے اور پیادہ دستوں کی guerilla جنگ کے لیے تربیت جاری ہے کہ انگلستان کے نائٹ کلبوں میں شبخون مار سکیں۔ فوج کے اسکول اوف فزیکل ٹریننگ نے یہ بیڑا اٹھایا ہے۔جلد ہی براس ٹیکس Brass Tacks والے زید حامد زید مجدہ ٹیم سے آ ملیں گے اور گھوڑوں کی ننگی پیٹھ پر بیٹھ کر اسنائیپر سے گولی کو ریورس سوئینگ کرنا سکھائیں گے۔ محمد عرفان ان فٹ ہیں ورنہ ان کو داستانِ امیر حمزہ والے پہلوان لندھور کا کردار سونپا جاتا۔۔ڈے اینڈ نائٹ میچز کے لیے ٹیم کو نائٹ وژن گوگلز فراہم کیے جائیں گے تاکہ اندھیرے میں اندھے بن کر اپنے ہی اپنوں میں ریوڑیاں نہ بانٹے لگیں۔ جبکہ اسٹوارٹ بروڈ اور جورڈن کی باؤنسرز اور شورٹ پچ گیندوں سے بچاؤ کے لیے بلٹ پروف جدید ہیلمٹ اور جیکٹ فراہم کی جائیں گی کہ جوانوں کو صحیح سالم ایک ٹکڑے میں واپس لانے میں آسانی ہو۔ ایک تجویز یہ ہے کہ جمی اینڈرسن چونکہ ٹانگوں کے دشمن ہیں تو پورا آئرن مین سوٹ ہی بنوا دیا جائے۔۔فیلڈرز کو خصوصی جیٹ پیک لگوا کر اڑان بھرتے ہوئے کیچ پکڑنے اور باؤنڈریاں روکنے کی مشق کروائی جار ہی ہے تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے، کیچ تو انہوں نے پکڑنا نہیں ہے۔۔آرمی کی جانب سے تینوں فورمیٹس کی ٹیموں کے کپتانوں کو موم جاموں میں خصوصی تعویز دیے گئے ہیں کہ جب مشکل پڑے تو یا علی مشکل کشا کہتے ہوئے تعویز کھولنا اور جو اس پر لکھا ہو اس پر عمل کرنا۔ راوی کا کہنا ہے کہ تعویز کا نام تو صرف ان کی ہمت بندھانے کو دیا یے، اصل میں یہ ممکنہ "کمر توڑ" شکست کی صورت میں استعفے کا متن ہے، کہ اس وقت ہمارے کپتان یوسف رضا گیلانی کی طرح آااا اےےے وہ ہ ہ کرتے پائے جاتے ہیں۔ آخر کو بولنے اور لکھنے کی تربیت بھی تو آرمی ہی کے ذمے ہے نا۔۔۔شنید ہے کہ کھلاڑیوں کو چھاتے پہنا کر سی 130 سے دھکا بھی دیا جائے گا کہ گراؤنڈ میں بھیجنے کا بس یہی طریقہ باقی رہ گیا ہے، کہ جہاز سے دھکا دے دو۔ یوں ہم جنگِ عظیم دوم کی طرز پر چھاتہ بردار دستوں کے ساتھ حملہ آور ہوں گے اور دشمن آسمان سے آفت پڑنے کی صورت میں بدحواس ہو کر بھاگے گا اور ڈریسنگ روم میں جا کر پناہ لے گا، جہاں پہلے سے گھات لگائے پاکستانی میڈیا بچے کھچے دشمن کا قلع قمع کردیگا۔۔ اس ضمن میں مایہ ناز صحافی یحییٰ بے چینی، نسیم راج*وت اور ایک ڈاکٹر صاحب کے نام لیے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے تو حد ہی کردی ہے، سپہ سالار کو فون کر کے پوچھ رہے تھے کہ جناب بوٹی چھوٹی رکھنی ہے یا بڑی؟
https://www.facebook.com/media/set/?set=a.1197254020347928.1073741889.150056741734333&type=3

میرا مطالعہ اور غیر ملکی ادب

بچپن میں 'نونہال'، 'تعلیم و تربیت'، 'ساتھی میگزین'، ٹوٹ بٹوٹ'، جنگ اخبار کا 'بچوں کا صفحہ'، اور کتنے ہی بچوں کے رسائل و جرائد باقاعدگی سے پڑھے۔ حکیم محمد سعید رحمہ اللہ کا سفرنامۂ جاپان 'یہ جاپان ہے' بہت ذوق و شوق اور استعجاب کے ساتھ پڑھا، کہ اس میں جاپان کی ترقی کی اصلی باتصویر کہانیاں موجود ہیں۔ 7،8 سال کی عمر میں ہی پھر کتابوں سے محبت ہوگئی۔ 
9 سال کی عمر میں ایک دفعہ شدید بخار نے آ گھیرا، مجھے یاد ہے نیم بیہوشی کی کیفیت میں رہا اور کچھ کچھ ہذیانی کیفیت بھی تھی۔ جب طبیعت تھوڑی بہتر ہوئی مگر ہنوز بخار کے باعث لاغر ہوچکا تھا اور کمزوری کے باعث بستر سے ہی لگا ہوا تھا تو چاچا نے گھر سے دو گلیوں کے فاصلے پر واقع پرانی اور مشہور لائبریری، جو کہ کرائے پر کتب دیتی تھی، سے  ایک ناول 'حورِ عرب' لا دیا۔ کس نے لکھا تھا یہ یاد نہیں البتہ تھوڑا پڑھنے کے بعد واپس کروا دیا کیوں کہ رومانوی ناول تھا، نہ میری سمجھ میں آرہا تھا اور نہ ہی میں نے کبھی ایسی کتب پڑھی تھیں، تو مزاج کے بھی برخلاف تھا۔ "یہ تو بڑوں کی کتاب ہے" کہہ کر واپس کردیا۔ پھر مجھے وہاں سے اشتیاق احمد کے ناولوں کی فہرست لا کر دی گئی اور یوں وہ دیوانگی کا دور شروع ہوا کہ جو 70،80،90 کی دہائیوں میں اردو کتب پڑھنے والے پر بچے، بڑے پر گزرا ہے۔ پھر تو روز ہی اشتیاق احمد کے ناول لے لے کر پڑھنے لگا۔ اور ایک دن میں تین، تین ناول چند ہی گھنٹوں میں ختم کر کے پھر لابریری پر جا کھڑا ہوتا اور لائبریری والے "اقبال بھائی" حیرت سے مجھے تکنے لگتے۔۔۔ مگر کتابوں کا شوق بڑھتا ہی گیا۔ کبھی ایسے ادوار بھی آئے کہ کتب پڑھنا بوجوہ کم ہوا مگر ایسا نہیں کہ کتب سے بیزاری ہوگئی ہو۔
چھوٹی ہی عمر میں کرنل محمد خان، مشتاق احمد یوسفی، اقبال کا کچھ کلام، اور جو جو کتب ہاتھ لگتی گئیں پڑھتا گیا۔ یہ سب کتب اپنے ناناجان کے گھر جا کر پڑھتا تھا۔ ان کے پاس اچھی ذاتی لائبریری تھی، سیکڑوں ہزاروں کتب تھیں جو میں حسبِ استعداد پڑھتا رہتا۔ پھر ہم نئے محلے میں منتقل ہوگئے اورمظہر کلیم کے ناولوں کو بے حساب پڑھا۔ مگر آہستہ آہستہ احساس ہوا کہ یہ شخص فارمولہ کہانیاں لکھتا ہے اور عمران کو مافوق الفطرت مخلوق بنا کر رکھا دیا ہے۔ 
پرانے محلے میں "اقبال لائبریری" سے جب اشتیاق احمد کی کہانیاں لے کر پڑھا کرتا تھا تو ایک دفعہ شاید ابو کے کہنے پر 'ابنِ صفی' کا ایک آدھ ناول لے آیا تھا۔ عمر میری 9،10 سال تھی اور عادت اشتیاق احمد کے سیدھے سادے، بچوں والے مزاح سے بھرپور ناول پڑھنے کی تھی۔ ابنِ صفی کے ناول میری سمجھ سے بالاتر تھے تو پڑھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔
نئے محلے میں "حیات لائبریری" ابنِ صفی کے ناول لانا شروع کئے۔ میں اور میرا بھائی مبین، دونوں ہی تھوڑے بڑے ہوگئے تھے اور مشکل ناول سمجھ آنے لگے تھے تو مظہر کلیم کو خیر باد کہہ کر ابنِ صفی کا دیا ہوا جنون سینے سے لگا لیا۔ ابنِ صفی کے ناولوں نے اتنا دیوانہ بنا دیا تھا کہ وہی روز روز تین چار ناول پڑھنا، ایک ساتھ کئی کئی کتب لے آنا۔
مگر نہ جانے کیا بات رہی کہ کابھی انگریزی ادب مزاج کا حصہ نہ بن سکا۔ اسکول کالج میں انگریزی اسباق بھی اتنے سمجھ نہیں آتے تھے نہ پڑھنے کا شوق رہا۔ پھر چند سال قبل دوستوں کے کہنے پر ڈین براؤں کا The Da Vinci Code پڑھا۔ یہ میرا پہلا انگریزی ناول تھا جو کہ مکمل پڑھا۔ پڑھنے میں کافی وقت لگا مگر میں نے پڑھنے کے لیے جامعہ کی چھٹیوں کے دنوں کا انتخاب کیا تھا۔ صبح شام لگا کر 3،4 دن میں ناول ختم ہو ہی گیا۔ اس کے بعد جامعہ سے Matthew Reilly کا لکھا ہوا Scarecrow پڑھا۔ دونوں ہی ناول بہت پسند آئے مگر اس کے باوجود انگریزی ادب سے مزاج نہ مل سکے۔ 
PAF-KIET میں B.E کے دوران انگریزی کے چار لازمی کورسز کا مضامین پڑھنے پڑے۔ محترم اجمل خان محسود صاحب انگریزی کے ایک زبردست اور دوست قسم کے استاد ہیں۔ انہوں نے کافی ناول پڑھنے کو بتائے کہ جن سے ذہن بھی کھلے اور انگریزی بھی اچھی ہو۔ ہمارا ایک کورس فلسفے کا بھی تھا؛ انگریزی زبان میں۔ استاد فہد علی رضا بہت وسیع المطالعہ شخصیت ہیں اور ان سے گفتگو کے دوران سوچ کے نئے زاویے ملتے ہیں۔ انہوں نے بھی انگریزی اور غیر ملکی ادب کے بہترین ناولوں کی فہرست بتائی جو کہ میں انگریزی ادب کا مزاج ہونے کی وجہ سے پڑھ نہیں سکا۔ جن کتب کے نام مجھے یاد رہ گئے ہیں وہ یہ ہیں: War and Peace - Tolstoy, Moby Dick - Herman Mellvile, Les Miserables - Victor Hugo, 1984 and Animal Farm - Geroge Orwel.
پھر آہستہ آہستہ میں نے فیصلہ کیا کہ انگریزی اور غیر ملکی ادب کو اپنے مزاج کا حصہ بناؤں گا۔ جہاں کوئی کتاب سستی مل جاتی فوراً خرید لیتا، چاہے بڑھنے کا وقت ملے یا نہ ملے۔ بس فرصت کے دنوں میں پڑھنے کا سامان جمع کرنے لگا۔ نہ صرف انگریزی بلکہ اردو کتب بھی بے حساب خرید لیتا۔ 
کراچی کے ایکسپو سینٹر میں لگنے والے بین الاقوامی کتب میلے میں 2011 سے تقریباً ہر سال جاتا ہوں اور ہر دفعہ ہزاروں روپے کی کتب خریدتا ہوں خاص کر کلاسیکی انگریزی ادب۔
2015 وہ سال ہے جب میں نے انگریزی ادب کو سنجیدگی اور باقاعدگی سے پڑھنے کی کوشش کی۔ اس سال میں نے درج ذیل کتب مکمل پڑھی ہیں۔A Study in Scarlet - Arthur Conan  DoyleThe Alchemist - Paulo CoelhoThe Adventures of Hucleberry Finn - Mark Twain
اس کے علاوہ Moby Dick اور Les Miserables شروع کی ہوئی ہیں مگر مکمل نہیں ہوئیں۔ فی الحال تو پڑھنے اور سمجھنے کی رفتار میں وہ روانی اور ذہن میں وہ شفافیت نہیں ہے جو اردو پڑھنے میں ہوتی ہے۔ دیکھیے کب تک یہ دھند صاف ہوتی ہے اور انگریزی پڑھنا میرے لیے اردو پڑھنے جیسا ہوجائے۔

عظیم اخلاق کی یاد میں۔۔



کسی حادثے کی خبر ہوئی، تو فضا کی سانس اکھڑ گئی
کوئی اتفاق سے بچ گیا، تو خیال تیری طرف گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیاقت علی عاصم

پیر کی صبح میں لیب میں تھا کہ کچھ طلباء نے خبر دی 'عظیم اخلاق' بائک پر جامعہ آتے ہوئے حادثے کا شکار ہوا اور شدید زخمی حالت میں آئی سی یو میں ہے۔ مجھے یہ سن کر فطری طور پر ذہنی دھچکا لگا، جو کہ یقینا ہر ذی روح کو حادثے کی خبر سن کر لگتا ہے۔ بتانے والوں کے مطابق اس کے دماغ پر چوٹ آئی اور اندرونی بلیڈنگ کی وجہ سے دماغ کی سرجری بھی ہوئی مگر ڈاکٹر مایوس ہیں۔
دو دن تین مختلف ہسپتالوں میں رہا اور منگل بدھ کی درمیانی رات کو اس کے انتقال کی خبر نے دل کو گویا بھینچ کر رکھ دیا۔
حادثہ ہونا نئی بات نہیں، نہ ہی موت نئی بات ہے۔ جوان موت بھی کوئی نئی بات نہیں لیکن معمول سے ہٹ کر ہے اس لیے زیادہ دکھ کا باعث ہوتی ہے۔ دنیا کی پہلی موت بھی ایک افسوس ناک ترین موت تھی اور یہ حالیہ حادثہ بھی کم افسوس ناک نہیں۔ روز کراچی شہر میں بائکوں پر حادثے ہوتے رہتے ہیں، میں خود بھی 100 میں سے 99 سفر بائک پر ہی کرتا ہوں۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں، جن میں ٹریفک کے دباؤ میں بائک کا جلد منزل پر پہنچ جانا ایک اہم وجہ ہے۔
عظیم اخلاق ایک بہت شریف النفس اور حقیقی معنیٰ میں عظیم اخلاق کا حامل طالبِ علم تھا۔ نیک سیرت بھی تھا اور ایک مبہم سی معصوم مسکراہٹ ہر وقت اس کے چہرے پر خوبصورت داڑھی کے ساتھ سجی رہتی تھی۔
اس دن وہ بائک پر کسی ساتھی طالبِ علم کے ساتھ پیچھے بیٹھا جامعہ کی طرف رواں دواں تھا کہ جامعہ سے چند فرلانگ پہلے ہی حادثہ رونما ہوا اور وہ اپنے رشتے داروں، ساتھیوں اور اساتذہ کو روتا اور دکھی چھوڑ گیا۔ 
کسی حادثے میں، خاص کر بائک کے حادثے میں، اگر دماغ متاثر ہو تو بچنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔ اور اس کو تو مناسب طبی امداد ملنے میں بھی کئی گھنٹے لگ گئے، اس لیے اس کی صحت کی دعاؤں کے باوجود امیدوں کے چراغ ٹمٹماتے ہی رہے اور دو دن زندگی و موت کی کشمکش میں اللہ نے اس کی مشکل آسان کردی۔ سنا ہے حادثے میں مرنے والے بھی شہید ہوتے ہیں، اللہ اعلم، اللہ اس کی مغفرت کرے، درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبر عطا کرے۔

کچھ عرصہ قبل پولیس نے کراچی میں بائک پر ہیلمٹ پہننے کے قانون پر سختی سے عمل درآمد شروع کیا تھا اور بائک چلانے والے کے علاوہ پیچھے بیٹھنے والے کو بھی ہیلمٹ پہننا لازم قرار دیا تھا۔ اپنی تمام مشکلات کے باوجود یہ قانون عوام کی حفاظت کے لیے تھا۔ گو کہ اس قانون کے بعد لوگ یہی الزام لگاتے نظر آئے کہ پولیس نے رشوت کا بازار گرم کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا تھا مگر ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچا جائے تو شنید یہی ہے بائک کے حادثات میں اکثر میں دماغ متاثر ہونے کا قوی امکان ہوتا ہے جس کا نتیجہ اکثر اوقات موت کی صورت میں نکلتا ہے۔
تمام باتوں اور مباحث سے قطعِ نظر، بائک چلاتے ہوئے ہیلمٹ پہننا واقعی حفاظتی نقطۂ نگاہ سے اہم ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ پاکستان میں دستیاب اکثر ہیلمٹ حفاظت کے لیے ناکافی اور غیر معیاری ہوتے ہیں مگر کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہوتا ہے۔
پہلے میں بھی نادانی میں ہیلمٹ کا مذاق اڑاتا تھا مگر آہستہ آہستہ حادثات دیکھ کر اور سن کر احساس ہوا کہ یہ بہت ضروری ہے۔ حادثات دیکھ کر اور تفصیلات سن کر دل دہل سا جاتا ہے۔ کسی کو تکلیف میں دیکھ کر رواں رواں کانپ اٹھتا ہے۔
ہیلمٹ پہننے کے پہلے جو بات اہم ترین ہے وہ یہ کہ بائک چلانے میں بے احتیاطی، لا پروائی، بے سوچے سمجھے تیز رفتاری غلط چیز ہے۔ اس سے اجتناب ضروری ہے۔ میں تو اکثر خالی سڑک پر بھی تیز رفتاری سے خوف کھاتا ہوں کیوں کہ دوسرے لوگ احمق ہوتے ہیں، اگر آپ ذرا سے چوکے تو وہ احمق آپ کو کچل کر رکھ دیتے ہیں۔ کئی حادثات سے میں بھی بچا ہوں، اللہ کا کرم ہے۔ جان تو آنی جانی ہے مگر جواں مرگ اپنے پیچھے سیکڑوں کو غم دے جاتے ہیں۔ 
میری تمام بائک چلانے والوں سے گزارش ہے کہ ہیلمٹ تو پہننا لازمی ہے ہی، اس سے پہلے اپنے بائک چلانے کے انداز پر غور کریں۔ جو لوگ دوسری سواریاں چلاتے ہیں، وہ بھی اس طرح ڈرائیو کریں کہ کسی کا جوان چشم و چراغ مستقل کے سارے خوابوں کو اپنی آنکھوں میں ہی لیے قبر کی آغوش میں جا سوئے۔ آپ کی ذرا سی غلطی کسی کو عمر بھر کے غم اور پچھتاووں میں مبتلا کر سکتی ہے۔
میں ایسے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں کہ جن کو انہی حادثات کی وجہ سے گھر والے بائک نہیں چلانے دیتے، چاہے ان کو بسوں اور چنگچی میں کتنے ہی دھکے کیوں نہ کھانے پڑیں۔ صرف اس لیے کہ ہمارے شہر میں بائک کو خطرناک سواری بنا دیا ہے - بائک چلانے والوں نے اور دوسری سواریوں کے ڈرائیوروں نے۔ کیوں کہ اکثر سننے میں آتا ہے کہ بندہ خود تو ٹھیک بائک چلا رہا تھا، مگر کسی اور کی تیز رفتاری اور بے احتیاطی نے اس کی جان لے لی۔
دل بہت بوجھل ہے۔ عظیم اخلاق نے کئی بار میرے ساتھ بھی بائک پر سفر کیا ہے۔ میں اس کو پڑھا بھی چکا ہوں۔ دل بہت اداس ہے اور بے یقینی میں مبتلا ہے۔ میں ایک معمولی سا استاد ہوں مگر اپنے جوان شاگرد کو کاندھا دینے کا پہلا موقع تھا، اللہ کرے کہ آخری ہی ہو۔ یوں تھا جیسے کوئی اپنا سگا رشتے دار جا رہا ہو۔ اس کے تمام سنگی ساتھی، کچھ اساتذہ، کچھ جامعہ کے لوگ موجود تھے، سب کے چہروں سے واضح تھا کہ ان کو عظیم کی موت کا یقین نہیں آرہا۔
 کاش وہ اس دن بائک پر نہ آتا، یا کاش وہ ہیلمٹ پہنا ہوتا۔ کل رات ایس ایم ایس پر اس کے انتقال کی خبر پڑھی تو دماغ سن ہوگیا۔ اس کے جنازے کے لیے جاتے ہوئے ایک عجیب سی الجھن اور بے چینی طاری تھی۔ اس کے جنازے کو کندھا دیتے ہوئے، نمازِ جنازہ کے دوران اور پھر قبرستان میں تدفین کے وقت کئی دفعہ رونا آیا، آنسو نکلنے کو بیتاب تھے۔ میں نے اس کا آخری دیدار نہیں کیا، کیوں کہ اس کا معصوم مسکراتا چہرہ پہلے ہی میری نگاہوں میں دو دن سے گھوم رہا تھا۔
کوئی دعا رنگ نہ لائی، اسی میں بہتری ہوگی۔ خالق نے اس کے لیے اچھا اجر اور اچھی تدبیر رکھی ہوگی۔ بے شک خالقِ کل کی تدبیر لاجواب اور حرفِ آخر ہوتی ہے۔ سب سے بہتر تدبیر کرنے والے کی مرضی، اس نے اپنے بندے کو زندگی کی تکلیفوں میں مقابلے میں یقینا موت کی راحت عطا کی ہوگی۔

نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے: خمار بارہ بنکوی



نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہےدیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے 
سکوں ہی سکوں ہے، خوشی ہی خوشی ہے ترا غم سلامت، مجھے کیا کمی ہے 
وہ موجود ہیں اور ان کی کمی ہے محبت بھی تنہائی یہ دائمی ہے 

کھٹک گدگدی کا مزا دے رہی ہے جسے عشق کہتے ہیں شاید یہی ہے 
چراغوں کے بدلے مکاں جل رہے ہیں نیا ہے زمانہ، نئی روشنی ہے 
جفاؤں پہ گھُٹ گھُٹ کے چُپ رہنے والو خموشی جفاؤں کی تائید بھی ہے 
مرے راہبر! مجھ کو گمراہ کر دے سنا ہے کہ منزل قریب آ گئی ہے 
خمارِ بلا نوش! تُو اور توبہ!تجھے زاہدوں کی نظر لگ گئی ہے​ 
خمار بارہ بنکوی

جو غمِ حبیب سے دور تھے وہ خود اپنی آگ میں جل گئے


جو غمِ حبیب سے دور تھے وہ خود اپنی آگ میں جل گئے
جو غمِ حبیب کو پاگئے وہ غموں سے ہنس کے نکل گئے

جو تھکے تھکے سے تھے حوصلے وہ شباب بن کے مچل گئے
وہ نظر نظر سے گلے ملی تو بجھے چراغ بھی جل گئے

یہ شکستہ دید کی کروٹیں بھی بڑی حسین و جمیل تھیں
میں نظر جھکا کے تڑپ گیا وہ نظر بچا کے نکل گئے

نہ خزاں میں ہے کوئی تیرگی نہ بہار میں ہے کوئی روشنی
یہ نظر نظر کے چراغ ہیں کہیں بجھ گئے کہیں جل گئے

جو سنبھل سنبھل کے بہک گئے وہ فریب خوردہ راہ تھے
وہ مقامِ عشق کو پاگئے جو بہک بہک کے سنبھل گئے
شاعر لکھنوی

انا الحق

مری خامشی ہے قسم سے انا الحق،سزا وارِ دار و رسن ہے، انا الحق،نہ بولوں تو منصور، بولوں تو مجرم،بہر حال مجرم، برائے انا الحق..
محمد امین

حب الوطنی

ہممم ۔۔۔ کہاں سے بات شروع کروں۔ ۔۔۔ حب الوطنی۔۔۔بے ترتیبی میرا طرۂ امتیاز ہے۔ سو یہ تحریر بے ترتیب اور بے ربط ہی سہی۔ ربط (رطب؟؟) تلاش کرنا قاری کے ذمے، دروغ برگردنِ راوی ہی سہی۔ملک کیا ہے؟ وطن کیا ہے؟ قوم کیا ہے؟ ملت کیا ہے؟ گھر کیا ہے؟ خاندان کیا ہے؟ میں کیا ہوں؟کئی برس بیت گئے مجھے یومِ آزادی منائے ہوئے۔ جس گھر کی خاطر اجداد نے گردنیں کٹوادیں اس گھر کی تشکیل کا جشن اور خوشیاں منائے ہوئے۔۔۔مگر۔۔۔ترانے اب بھی میری روح میں سرشاری گھول دیتے ہیں۔۔۔مگر۔۔۔اب بھی میری ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ جاتی ہے، جب میں وطن کی محبت سے بھرپور نغمات، منظومات اور تقاریر سنتا ہوں۔۔کچھ ہے۔۔۔ جو خون میں شامل ہے۔۔ کچھ ہے جو خون میں گرمی کا باعث ہے۔۔کچھ۔۔۔ ہے۔۔جس کی وجہ سے جذبات کا پرسکون سمندر ٹھاٹھیں مارنے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔۔۔کیا یہی حب الوطنی ہے؟کیا مجھے وطن سے محبت ہے؟کیا وطن سے محبت کرنا جائز ہے؟کیا قوم پرستی ایک صحیح الدماغ شخص کا کام ہے؟جغرافیہ۔۔۔ کیا ہوتا ہے؟ جغرافیے کا قوم پرستی سے کیا تعلق ہے؟پاکستان کا نقشہ میرے لیے مقدس کیوں ہے؟کچھ لوگوں کی طرف سے میرے اوپر مسلط کردہ جھنڈا مقدس کیوں ہے؟اگر یہ جھنڈا لال ہوتا تو کیا ہوتا؟؟ ہرا ہے تو کیا ہوگیا؟ اگر یہ لال ہوتا تو کیا مجھے اس جھنڈے سے پیار نہ ہوتا؟قومی ترانہ حفیظ نے لکھ ڈالا تو کیا ہوا؟؟ مجھے تو حفیظ کے قومی ترانے سے زیادہ "ہندو" جگن ناتھ آزاد کا لکھا ہوا:"اے سرزمینِ پاک،ذرے ترے ہیں آج، ستاروں سے تابناک،روشن ہے کہکشاں سے کہیں آج تیری خاک،اے سرزمینِ پاک"زیادہ سلیس، رواں، فصیح لگتا ہے اور دل کو لبھاتا ہے۔۔۔اگر جگن ناتھ کا لکھا ہوا ترانہ قومی ترانہ قرار پاتا تو کیا ہوتا؟؟؟ کیا قوم کو اس سے محبت نہ ہوتی۔۔۔ بجائے ایک عدد مفرس (بلکہ فارسی) ترانے کے۔۔۔اگر پاکستان کے نقشے میں افغانستان بھی شامل ہوتا، ایرانی بلوچستان بھی شامل ہوتا تو کیا ہوتا؟؟؟کیا ملک "الہامی" بھی ہوتے ہیں؟؟؟ اگر الہامی ہوتے ہیں تو بنگلہ دیش کہاں گیا؟؟ کشمیر کہاں گیا؟ جونا گڑھ کہاں گیا؟ بلوچستان کہاں جا رہا ہے؟اگر۔۔۔ پاکستان اللہ کی عطا ہے تو پہلا وزیرِ خارجہ اس جماعت کا کیوں تھا کہ جو متفقہ طور پر خارج از اسلام ہے۔اگر۔۔۔ اگر۔۔۔ اگر۔۔ اگر۔۔۔ اگر۔۔۔ اگر۔۔۔ اگر۔۔۔مگر۔۔۔ مجھے اپنی مٹی سے محبت ہے۔۔۔ میری مٹی پر اگر آج بھی انگریز کی حکومت ہوتی۔۔۔ تو بھی مجھے اس سے محبت ہوتی۔۔۔کہ۔۔چلچلاتی دھوپ میں سر پہ اک چادر تو ہےلاکھ دیواریں شکستہ ہوں پر اپنا گھر تو ہےپاکستان کا نام پاکستان کے بجائے کچھ اور ہوتا تو؟؟خیبر پختونخواہ کا نام جب این ڈبلیو ایف پی تھا۔۔تو کیا اس کے لوگوں کو اس سے محبت نہیں تھی؟؟ اب خیبر پی کے ہوگیا ہے تو کیا زیادہ محبت ہوگئی ہے؟؟ افغانیہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ صرف خیبر ہوتا تو؟؟ مگر خیبر تو غالباً عرب میں ایک قلعے کا نام تھا نا؟؟ تو مستعار لیے گئے نام سے جغرافیے کے طور پر محبت؟؟؟سب کچھ منتشر ہے۔۔۔ سب کچھ بکھرا ہے۔۔۔ میں خود کو مجتمع نہیں کر پاتا۔۔۔ میں خود کو سمیٹ نہیں پاتا۔۔۔قوم پرستی۔۔۔ حب الوطنی۔۔۔ مجھے جڑنے نہیں دیتی۔۔۔میں یہ سب کیوں لکھ رہا ہوں۔۔۔غالباً ۔۔۔ نہیں بلکہ یقیناً خارجی عوامل نے مجھے یہ منتشر الفاظ قرطاس پر مزید منتشر کرنے کے لیے مجبور کیا ہے۔۔۔میں بہت کچھ کہنا لکھنا چاہتا ہوں ۔۔ مگر پھر۔۔۔ چھوڑ دیتا ہوں۔۔۔ خوف سے۔۔۔ کہ کہیں لوگ مجھے برا نہ کہیں، برا نہ سمجھیں۔۔۔ لوگ مجھ سے بدگمان نہ ہوجائیں۔۔۔ لوگ مجھے طعن و تشنیع سے نہ نوازیں۔۔کہ کہیں۔۔لوگ مجھے "کافر" نہ قرار دے دیں۔۔کہ کہیں۔۔لوگ مجھے "غدار" نہ قرار دے دیں۔۔۔انڈیا کا ایجنٹ نہ قرار دے دیں۔۔استعمار کا puppet نہ قرار دے دیں۔۔۔میں ڈرتا ہوں۔۔۔میں نے دیکھا۔۔ ایک جگہ لکھا ہوا تھا۔۔۔ کہ پاکستان "مدینۂ ثانی" ہے۔۔۔میں نے اللہ کی بارگاہ میں استغفار کی۔۔۔میں نے عرض کی اے اللہ انہیں معاف کردے، یہ نا سمجھ ہیں۔۔جاہلوں، جھوٹوں، کم تولنے والوں، دھوکہ دینے والوں کے دیس کو۔۔۔ نبی کے دیس سے ملا رہے ہیں۔۔اللہ فرماتا ہے: "لا اقسم بہٰذا البلد۔۔۔ و انت حل بہٰذا البلد"۔۔۔اللہ کسی شہر کی قسم اس وجہ سے فرما رہا ہے کہ اس کا حبیب اس شہر میں مقیم ہے۔۔ اور اجہل (ابو جہل نہیں) قسم کے لوگ ایک غیر ملک کو نبی کے دیس سے ملا رہے ہیں۔۔ایک جگہ لکھا دیکھا کہ "پاکستان" کا عربی میں ترجمہ "مدینہ طیبہ" ہے۔۔۔میرے منہ سے مغلظات کا طوفان امڈ پڑا۔۔۔ (اللہ میری مغفرت فرمائے۔۔۔ )میرے محبوب نبی کے شہر کو اس ملک سے ملا رہے ہیں۔۔۔ جس کی کوئی کل سیدھی نہیں۔۔۔یہ کس قسم کے لوگ ہیں؟؟حب الوطنی کو قرآنی تقدس کا درجہ کیوں دے دیتے ہیں؟؟کیا ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو ہندوستان سے محبت نہیں؟؟کیا ہندوستان مسلمانوں کا ملک ہے؟ نہیں نا۔۔کیا پاکستان مسلمانوں کا ملک ہے؟؟؟مجھے نہیں سمجھ آرہا میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں۔۔۔ میں نے بغیر کوشش کے اس تحریر کی بے ترتیبی اور بے ربطی برقرار رکھی ہے۔۔شاید اس قسم کی تحریر کسی ربط (اور رطب و یابس) کی محتاج نہیں۔۔"پاکستان اسی دن بن گیا تھا جس دن سندھ کی زمین پر محمد بن قاسم کے پیر لگے تھے"۔۔۔ہاہاہاہاہاہااہ۔۔۔ ۔پاکستان دوسرے ممالک سے زیادہ فوقیت رکھتا ہے کیا؟؟Proud To Be Pakistaniاللہ فرماتا ہے (مفہوم): "ہم نے تمہیں قوموں اور قبیلوں میں بانٹ دیا تاکہ تم پہچانے جاؤ" (اگر غلط ہوں تو میری اصلاح کیجیے)۔۔اور۔۔نبی نے فرمایا: "کسی کو کسی پر فوقیت نہیں سوائے تقویٰ کے۔۔"تو پاکستانی ہونا تفاخر کی بات کیسے ہوگیا؟؟؟تو۔۔۔کیا باقی اقوام اللہ کی مخلوق نہیں ہیں؟؟کیا باقی ممالک اللہ کے بنائے ہوئے نہیں ہیں؟؟کیا پاکستان سے زیادہ خوبصورت ملک دنیا میں کوئی نہیں؟؟یعنی باقی دنیا سے اللہ ناراض تھا کہ جو اس نے باقی دنیا کو پاکستان سے کم حسن دیا؟؟میں کیا لکھوں۔۔۔ میں بھول گیا میں کیا کیا لکھنا چاہ رہا تھا۔۔۔

آپ بہت عجیب ہیں: ڈوکٹر پیرزادہ قاسم

غم سے بہل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیںدرد میں ڈھل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں
سایۂ وصل کب سے ہے آپ کا منتظر مگرہجر میں جل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں
اپنے خلاف فیصلہ خود ہی لکھا ہے آپ نےہاتھ بھی مَل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں
وقت نے، آرزو کی لَو، دیر ہوئی، بجھا بھی دیاب بھی پگھل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں
زحمتِ ضربتِ دِگر دوست کو دیجئے نہیںگر کے سنبھل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں
دائرہ وار ہی تو ہیں عشق کے راستے تمامراہ بدل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں
دشت کی ساری رونقیں، خیر سے گھر میں ہیں، تو کیوںگھر سے نکل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں
اپنی تلاش کا سفر ختم بھی کیجیے کبھیخواب میں چل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں
ڈوکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی

حالتِ حال کے سبب، حالتِ حال ہی گئی : جون ایلیا


حالتِ حال کے سبب، حالتِ حال ہی گئیشوق میں کچھ نہیں گیا، شوق کی زندگی گئی
ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تکبات نہیں کہی گئی ، بات نہیں سنی گئی
بعد بھی تیرے جانِ جاں ، دل میں رہا عجب سماںیاد رہی تیری یہاں، پھر تیری یاد بھی گئی
اس کی امیدِ ناز کا ہم سے یہ مان تھا کہ آپعمر گزار دیجئے، عمر گزار دی گئی
اس کے وصال کے لئے، اپنے کمال کے لئےحالتِ دل، کہ تھی خراب ،اور خراب کی گئی
تیرا فراق جانِ جاں! عیش تھا کیا میرے لئےیعنی تیرے فراق میں خوب شراب پی گئی
اس کی گلی سے اٹھ کے میں آن پڑا تھا اپنے گھرایک گلی کی بات تھی اور گلی گلی گئی

جون ایلیاء
بشکریہ: پاکستانیکا

ابھی تو میں جوان ہوں: حفیظ جالندھری


حفیظ جالندھری صاحب کی مقبولِ عام نظم "ابھی تو میں جوان ہوں۔۔" جو کہ میرے اس بلوگ کی تھیم بھی ہے :)۔ کافی دنوں سے پوسٹ کرنے کا ارادہ تھا، جسے آج عملی جامہ پہنا ہی دیا۔۔۔۔
بشکریہ صریرِ خامۂ وارث از محمد وارث بھائی۔

ابھی تو میں جوان ہوں۔۔۔
ہوا بھی خوش گوار ہےگلوں پہ بھی نکھار ہےترنّمِ ہزار ہےبہارِ پُر بہار ہےکہاں چلا ہے ساقیااِدھر تو لوٹ، اِدھر تو آیہ مجھ کو دیکھتا ہے کیااٹھا سبُو، سبُو اٹھاسبُو اٹھا، پیالہ بھرپیالہ بھر کے دے اِدھرچمن کی سمت کر نظرسماں تو دیکھ بے خبروہ کالی کالی بدلیاںافق پہ ہو گئیں عیاںوہ اک ہجومِ مے کشاںہے سوئے مے کدہ رواںیہ کیا گماں ہے بد گماںسمجھ نہ مجھ کو ناتواں
خیالِ زہد ابھی کہاںابھی تو میں جوان ہوں
عبادتوں کا ذکر ہےنجات کی بھی فکر ہےجنون ہے ثواب کاخیال ہے عذاب کامگر سنو تو شیخ جیعجیب شے ہیں آپ بھیبھلا شباب و عاشقیالگ ہوئے بھی ہیں کبھیحسین جلوہ ریز ہوںادائیں فتنہ خیز ہوںہوائیں عطر بیز ہوںتو شوق کیوں نہ تیز ہوںنگار ہائے فتنہ گرکوئی اِدھر کوئی اُدھرابھارتے ہوں عیش پرتو کیا کرے کوئی بشرچلو جی قصّہ مختصرتمھارا نقطۂ نظر
درست ہے تو ہو مگرابھی تو میں جوان ہوں
نہ غم کشود و بست کابلند کا نہ پست کانہ بود کا نہ ہست کانہ وعدۂ الست کاامید اور یاس گمحواس گم، قیاس گمنظر کے آس پاس گمہمہ بجز گلاس گمنہ مے میں کچھ کمی رہےقدح سے ہمدمی رہےنشست یہ جمی رہےیہی ہما ہمی رہےوہ راگ چھیڑ مطرباطرَب فزا، الَم رُبااثر صدائے ساز کاجگر میں آگ دے لگاہر ایک لب پہ ہو صدانہ ہاتھ روک ساقیا
پلائے جا پلائے جاابھی تو میں جوان ہوں
یہ گشت کوہسار کییہ سیر جوئبار کییہ بلبلوں کے چہچہےیہ گل رخوں کے قہقہےکسی سے میل ہو گیاتو رنج و فکر کھو گیاکبھی جو بخت سو گیایہ ہنس گیا وہ رو گیایہ عشق کی کہانیاںیہ رس بھری جوانیاںاِدھر سے مہربانیاںاُدھر سے لن ترانیاںیہ آسمان یہ زمیںنظارہ ہائے دل نشیںانھیں حیات آفریںبھلا میں چھوڑ دوں یہیںہے موت اس قدر قریںمجھے نہ آئے گا یقیں
نہیں نہیں ابھی نہیںابھی تو میں جوان ہوں——–

بچپن: یادِ ماضی 2۔۔





پچھلی پوسٹ کی یہ اگلی قسط آنے میں بہت دیر ہو گئی۔ کچھ طبیعت لکھنے پر مائل بھی نہ تھی (رہی بھی کب ہے) اور کچھ گوں نا گوں مصروفیات۔ بہر حال، ہمارے بلوگ پر آنے والے ہیں بھی گنتی کے چند ہی افراد، تو ہم لکھیں بھی تو کس کے لیے؟؟
پچھلی یاد داشت تحریر کرنے کا محرک ہمارا اپنے آبائی علاقے میں عرصے بعد تمام گھر والوں کے ساتھ جا کر اپنے گھر کا معائنہ کرنا تھا۔ جس جگہ پر انسان کا بچپن گزرا ہو وہ جگہ ہمیشہ دل کے پاس رہتی ہے۔ اور اکثر خواب بھی انسان اسی ماحول میں دیکھتا ہے۔ مطالعہ کے ساتھ ساتھ جو تصور اشیاء کے بارے میں قائم ہوتے ہیں، وہ بھی اسی جگہ کے ساتھ مختص ہو جاتے ہیں۔ کم سے کم ہمارے ساتھ تو ایسا ہی ہوا ہے۔ کوئی کہانی یا نوول پڑھتے ہوئے واقعات اور مقامات کے تصور کے ساتھ وہی جگہیں ابھرتی ہیں کہ جہاں ہم نے اپنے سنہرے دن گزارے تھے۔ اسی وجہ سے غالباَ بچپن اور وہ جگہیں زیادہ لبھاتی ہیں۔ مگر اب سب کچھ پہلے سا تو نہیں رہا نا!!! ہر شخص یہی کہتا ہے۔۔۔کہ حالات اور دن رات پہلے سے نہیں رہے۔۔۔ شاعر کہتا ہے: "کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں، جاناں!"۔۔ مگر شاعر صاحب، زمانہ، ماحول، زندگی، دنیا، سب کچھ تو بدل جاتا ہے۔۔۔ زمین، آسمان، خوشبو، دیوار و در، رشتے ناتے، ہماری سوچیں، یہ سب بھی بدل جاتے ہیں، اور ہم انسانوں کے بدلنے کی وجہ بھی غالباً یہی ہے۔ یا پھر ان چیزوں کے بدلنے کی وجہ انسان کا بدل جانا ہے؟؟ اس بات کا فیصلہ واقعی مشکل ہے کہ کون کس پر دار و مدار کر رہا ہے۔ مگر ایسا کیوں ہوتا ہے۔ "ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں" ۔۔۔ ایسا کیوں۔۔۔ "تبدیلی انسان کا خمیر ہے" ۔۔۔ایسا کیوں؟؟ اقبال عظیم مرحوم کا ایک شعر:
"اب تو چہرے کے خد و خال بھی پہلے سے نہیں،کس کو معلوم تھا تم اتنے بدل جاؤ گے"
ہمیں بچپن کی شدت سے یاد فقط اس لیے ہی نہیں آتی کہ وہ بے فکری کے دن تھے اور کھیل کود اپنا شیوہ۔ بلکہ ہمیں مشتاق احمد یوسفی والے "نوسٹیلجیا" نے مارا ہوا ہے۔ اور یہ نوسٹیلجیا غالباً کم عمری میں ہی یوسفی صاحب کی کتب پڑھنے کے بعد مزاج میں در آیا ہوگا۔ یا پھر یہ ہمارا طبع زاد نوسٹیلجیا ہے، اس بارے میں بھی حتمی طور پر ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ خیر، ان یادوں کے بارے میں ہمیں یوں لگتا ہے جیسے آپکا ماضی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شاندار اس وجہ سے لگنے لگتا ہے کہ آپ کے تجربات آپ کو ماضی کے جھروکوں میں سے سنہری پل ہی دکھاتے ہیں، تلخیوں اور خامیوں کو ایسے چھان دیتے ہیں جیسے کسی پردے سے چھن کر آنے والی سورج کی روشنی! نہ نگاہوں کو خیرہ کرے، نہ آپ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارا کریں۔ ٹھنڈی، خوشگوار، سنہری دھوپ۔ جس کی کرنوں میں حدت بھی گوارا بلکہ مطلوبہ حد تک موجود۔ اور جب یہ دھوپ ختم ہوجائے تو اس کی تمنا اور تشنگی باقی۔ جیسے صحرا کے بھٹکے ہوئے پیاسے کو دو گھونٹ پانی۔ کیا ہم سب کو اپنا بچپن اور ماضی ایسے دو گھونٹوں جیسا ہی نہیں لگتا؟ کہ جیسے ابھی آیا تھا اور ابھی گزر گیا۔ ابھی تو بہت سے کام باقی تھے۔ ابھی تو اسے کھل کر جینا تھا۔ ابھی تو اس کی لذت سے قلب و جگر کو معمور بھی نہیں کیا تھا!! یا پھر یہ ایسا ہے کہ اس بچے نے ہوس میں مشروبِ زندگی سے اپنے شکم کو اس قدر لبالب بھر لیا کہ اس کی لذت ہونٹوں پر، دہن میں، زباں پر موجود و باقی اور حلق کو اس کی حلاوت سے تر کیے ہوئے ہے۔ اور آنے والے لمحوں میں اس لذت کی یاد دل کو تڑپاتی ہے، مچلاتی ہے کہ کاش! بچپن لوٹ آئے اور یہ جام دوبارہ ہونٹوں سے لگانا نصیب ہوں۔
بچپن میں ہر چیز اپنے سے بڑی معلوم ہوا کرتی ہے، دیو کی طرح، اونچی، وسیع و عریض۔ جیسے جیسے زندگی اور زمین کے طول و عرض میں ہماری آنکھیں پھیلتی ہیں، ہمیں اشیاء کے درست قد و قامت کا اندازہ ہوتا جاتا ہے۔ یہی حال شخصیت پرستی کا بھی ہے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم جو قحط الرجال کا رونا مچاتے رہتے ہیں، اس کی وجہ بھی یہی آنکھوں کی خیرگی کم ہوتے جانا ہے۔ جبھی شاید یہ بھی کہا جاتا ہے کہ "حسن تو دیکھنے والی آنکھ میں ہوتا ہے"۔ کیوں کہ ہم کسی شخص کو کسی وجہ سے بڑا اور عظیم مان لیتے ہیں، مگر اکثر اوقات ہمارا ہی تجربہ ہمارے اس اخذ کردہ نتیجے کو غلط ثابت کر دیتا ہے تو اس شخص کی شان ہماری نظروں میں گھٹ جاتی ہے۔ بات تو فقط اتنی ہے کہ پہلے ہمارا تجربہ کم وسیع اور نظر زیادہ سخی تھی۔ جیسے جیسے تجربہ بڑھا، نظر کوتاہ ہوتی گئی۔ حتیٰ کہ یہ کوتاہ نظری انسان کو خود پسندی اور تکبر میں بھی لے جا گراتی ہے۔ خیر یہ تو جملۂ معترضہ بلکہ سارا پیراگراف ہی معترضہ ہوگیا۔ جب ہم اپنے اس گھر میں ٹہل رہے تھے تو سوچ رہے تھے کوئی بارہ پندرہ برس قبل تو یہ دیواریں ہمیں دیو قامت دکھائی دیتی تھیں، گھر ایک محل سرا لگتا تھا، گلیاں کوچے اور سامنے والا پارک ایسے لگتا تھا جیسے سب کچھ بہت بڑا اور عظیم الشان ہو۔ اور چشمِ تصور نے بھی ایسا ہی کچھ خیال باندھا ہوا ہے۔ مگر یہ تو سب چیزیں معمول سے بھی چھوٹی اور پھیکی دکھائی دیتی ہیں۔ تو وہ بچپن کی شان کدھر گئی، وہ چمک دمک، وہ قامت و زیبائی کدھر گئی۔ کیا وہ صرف خواب و خیال تھا؟ اور گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ تخیل پر "چیری بلوسم پولش" پھرتی گئی؟ اور آج یہ شاندار قلعے زمین بوس ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ جون ایلیاء کے اشعار ملاحظہ ہوں:
ہم رہے پر نہیں رہے آباد،یاد کے گھر نہیں رہے آباد،
شہرِ دل میں عجب محلے تھے،ان میں اکثر نہیں رہے آباد۔

مگر وہ خوشبو تو ہم محسوس کر سکتےہیں۔ کیوں کہ اس خوشبو کے لیے ہم قوتِ شامہ کے محتاج نہیں۔ تخیل کی پرواز جہانِ دگر میں پہنچا دیتی ہے، یہ تو پھر ہمارا دیکھا بھالا بچپن کا جہان ہے۔ "جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لیا"۔۔
یہ خوشبو سانسوں میں بسی رہنے کے لیے ہی موجود تھی شاید۔ زندگی بھی کیا خوبصورت چیز ہے۔ انسان اسے جیسا محسوس کرے یہ اسی روپ میں سامنے آتی ہے۔ ہم شاید ماضی کو ماضیٔ تمنائی سمجھتے ہیں، جبھی وہ ہمیں اتنا خوبصورت اور شاندار لگتا ہے۔ تمنا مر جائے تو زندگی کی خوبصورتی اور شان بھی کہاں برقرار رہتی ہے۔ ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا۔۔۔۔۔ کی جگہ "تمنا کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا" ، ہونا چاہیے تھا J  ۔۔۔ ہم اپنے تخیل کو بھی تمنا کے تابع کر سکتے ہیں اور یہی تمنا ماضی کو بھی آپ کی مرضی کے مطابق ڈھال کر آپ کے سامنے لا کھڑا کر سکتی ہے!!

بچپن: یادِ ماضی!!!۔







انسانی زندگی کی مثال ایسی ہے جیسے شہر کی سڑک۔ لہراتی بل کھاتی اپنی منزل کی طرف رواں دواں۔ مگر اس سڑک کی موجودہ شکل کے نیچے، کہیں نیچے اس کا ماضی دفن ہوتا ہے۔ مختلف وقتوں کولتار ڈال  ڈال کر اسے پختہ بنایا جاتا رہتا ہے۔ کہیں ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کرنے کے لیے یا کبھی کسی تشریف لانے والے صدر یا وزیرِ اعظم کے استقبال کے لیے۔ تہہ در تہہ کولتار بچھ بچھ کر اس سڑک کی وہ شکل ہوجاتی ہے جو آپ ہم دیکھتے ہیں۔ اور ضروری نہیں وہ شکل اچھی بھی ہو!!

زندگی کی اس سڑک پر کتنے ہی مقام آتے ہیں۔۔ کتنی ہی تہیں چڑھ جاتی ہیں، کتنے ہی روپ ہم بدل لیتے ہیں اور ۔۔ کتنے راستے بدلتے ہیں۔۔  مگر آپ نے دیکھا ہوگا۔ جب سڑک کھودی جاتی ہے تو اس کی نچلی پرتیں نظر آنے لگتی ہیں۔ لیکن ہر پرت واضح نہیں ہوتی۔ اپنا الگ تشخص وہی پرت رکھتی کہ جس کا مال مسالہ مضبوط اور جاندار ہو۔انہی جاندار پرتوں میں سے ایک انسان کا بچپن ہوتا ہے۔
آپ کتنے ہی خول چڑھا جائیں۔ کتنی ہی تہوں کے اوپر بالانشین ہوں۔ آپکا حال، آپکا چہرہ کتنا ہی جاذب و خوبصورت کیوں نہ ہو، زندگی کی  سب سے خوبصورت تہہ  میں کنویں کی سی گہرائی والا بچپن ہوتا ہے۔ ایسا کنواں کہ جس میں آپ نہ بھی پکاریں تو ماضی کی بازگشت یہ آپکو خود بخود سناتا رہے گا۔ آپ اسے جتنی بھی کوشش کر کے بھلانا چاہیں، یہ آپ کو رہ رہ کر یاد آتا ہے۔ کبھی خلوت میں آپکو رلا دیگا، تو کبھی جلوت میں قہقہے لگوا دیگا۔۔۔ یا کبھی کسی سوچ میں گم آپ یکایک بچپن کی کوئی بات یاد آنے  پر بے اختیار مسکرا اٹھیں گے۔۔
پچھلے دنوں ہم کراچی کے ایک پسماندہ سے علاقے لانڈھی میں اپنے آبائی گھر گئے تھے۔ ہم نے اسی گھر میں آنکھ کھولی، وہی پلے بڑھے، وہیں کھیلے کودے اور وہیں شعور کی ابتدائی منازل طے کیں۔  ہماری سنہری یادیں اسی گھر اور اسی محلے سے وابستہ ہیں۔ بچپن کے دن ایسے لگتے ہیں جیسے وقت ٹھہر گیا ہو اور ہر شئے پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہی ہو۔۔
وہ گھر ہمارے دادا کو حکومت کی طرف سے ملا تھا۔ ایک چھوٹا سا کوارٹر تھا جو قیامِ پاکستان کے کچھ سالوں بعد بسائی جانے والی لانڈھی کولونی کا حصہ تھا۔ کوارٹر ملنے کے بعد وقتاً فوقتاً ابو نے آپ پاس کی خالی زمین حکومت سے لیز کرالی تھی۔ یوں ایک کمرے کا کوارٹر کئی کمروں پر مشتمل بڑے سے گھر میں تبدیل ہوگیا تھا۔ اس گھر کی خاص بات یہ تھی کہ ہمارےابونے جب بھی "منّے مستری" سے اس گھر میں کام کروایا، ساتھ میں خود بھی لگ جاتے تھے۔ یوں اس گھر کی بنیادوں میں ہمارے والدِ محترم کا خون پسینہ محاورتاً ہی نہیں، حقیقتاً بھی شامل رہا۔ اس گھر کی ایک ایک دیوار اور ہر ہر چھت میں ابو کی محنت شامل تھی۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ کچھ تو ان  کو ہمیشہ سے سخت محنت کی عادت اور شوق رہا، دوسرے انہوں نے میٹرک کے بعد کچھ عرصے تک سول ڈرافٹنگ کی تربیت حاصل کی تھی۔ کبھی وہ ہتھوڑی چھینی لے کر دیوار میں آرچ بنا رہے ہوتے تو کبھی سمینٹ کی بھاری بھرکم سلیبیں لکڑی کی سیڑھی سے چڑھتے ہوئے "منّے مستری" کو تھما رہے ہوتے۔ اورہمیں اس بات پر ہمیشہ فخر رہا کہ ہم اپنے ابو کے ہاتھ کے بنے ہوئے خوبصورت گھر میں رہے۔
اس گھر کے ساتھ ابو نے ایک چھوٹا سا مگر بہت ہی خوبصورت پائیں باغ بنا رکھا تھا جس میں دنیا جہاں کے پودے اور پھول موجود تھے۔ زندگی میں ہم نے جب بھی کسی کتاب میں "باغ" کا لفظ پڑھا، ہمیشہ ہمارے دماغ میں اسی پائیں باغ کا تصور آیا۔ اور یہ تصور آج تک قائم ہے۔ اللہ ہماری گستاخی کو معاف فرمائے مگر جنت کے باغوں کے تصور سے بھی وہی باغ ذہن میں آجاتا ہے (بلا مثال و تمثیل)۔  جب بھی اس باغ کا تصور ہمارے ذہن میں آتا ہے، اسکی خوشبوئیں آج تک ہمارے مشامِ جاں کو معطر کر دیتی ہیں۔ ایک تو اس وقت آلودگی برائے نام تھی، دھوپ میں تازگی تھی، شام میں سرشاری تھی اور راتیں فرحت بخش ہوا کرتی تھیں۔ اس وقت کا تصور ہی ہمارے لیے کتنا جانفزا ہے ہمارے احباب شاید اندازہ بھی نہ کر سکیں۔۔ سنا ہے، اور سفید و سیاہ تصاویر میں دیکھا بھی ہے، وہ باغ ہمارے دنیا میں وارد ہونے سے پہلے اپنے جوبن پر تھا اور خواب و خیال کا باغ تھا۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب کراچی میں جناح بین الاقوامی ہوائی اڈہ اپنی تعمیرِ نو کے دور سے گزرا تھا اور ہمارے گھر سے میلوں کے فاصلے پر ہونے کے باوجود ہمارے گھر کی بالائی ٹنکی سے اس کی روشنیاں اور خدوخال صاف نظر آتے تھے۔ اب کی آلودگی اور بجلی کی قلت کے دور میں تو نہ ہوائی اڈے پر وہ روشنیاں رہیں اور نہ اتنے فاصلے کی چیز صاف نظر آتی ہے۔ ضعفِ نظر  بھی غالباً ایک وجہ ہوسکتا ہے۔
(باقی اگلی قسط میں)



زاہد سو رہا ہے۔۔۔

کئی دن ہوگئے کچھ تحریر کیے ہوئے۔ 
اپنے اس جملے سے ہمیں دلاور فگار صاحب کا مشہورِ زمانہ مصرعہ یاد آگیا:
ع           حالاتِ حاضرہ کو کئی سال ہوگئے۔۔۔
واقعی اب تو ہمیں لگنے لگا ہے ہمارے حالاتِ حاضرہ مستقلہ مستمرہ ہوگئے ہیں۔ جمود ہے کہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ زنگ ہے کہ لگتا چلا جا رہا ہے۔ کچھ ایام قبل ہم نے کتب پر جو ہلہ بولا تھا، اب وہ جوش بھی کچھ ٹھنڈا دکھائی دیتا ہے۔ کافی ساری کتب ان پڑھی موجود ہیں اور جنہیں جلد ختم کرنا ہے کیوں کہ اس مہینے میں کراچی کا عالمی کتب میلہ آرہا ہے۔ اور ہم اس دفعہ وہاں سے ٹھیک ٹھاک خریداری کرنے کا ارادہ کیے بیٹھے ہیں۔
کتب میلے سے یاد آیا، پچھلے سال کراچی بین الاقوامی کتب میلے میں ہمیں فرہنگِ آصفیہ، جس کی عرصے سے خواہش تھی، سستے داموں مل رہی تھی، مگر نہ جانے کیوں ہم نے وہ چھوڑ دی۔ اب ویلکم بک پورٹ پر قیمت معلوم کی تو دل مسوس کر رہ گیا۔۔
خیر دوستو!
بات ہورہی تھی حالاتِ حاضرہ کی۔ ہماری مراد سیاست کے پیچ و خم سے نہیں، بلکہ ہمارے اپنے حالاتِ حاضرہ سے ہے۔ انسان جو کچھ سوچتا ہے وہ ہوتا نہیں۔ اسلیے ہم اب یہ سوچتے ہیں کہ اب جو بھی کام کریں گے سوچے بغیر بس عمل کر ڈالیں گے۔ تاکہ زندگی کی گاڑی کچھ تو آگے بڑھے۔ 

غزل: نالہ کیا کیجے، فغاں کیا کیجے



بحرِ رمل میں میری ایک غزل۔ کافی اغلاط ہیں اس میں کوئی صاحب اصلاح فرمانا چاہیں تو ممنون ہونگا۔

 نالہ کیا کیجے، فغاں کیا کیجے،دل نہیں لگتا یہاں، کیا کیجے،

دل تو اظہارِ تمنّا چاہے،وہ نہیں سنتے، بیاں کیا کیجے،

شوخیٔ گل کا خدا حافظ ہو،بلبلیں گریہ کناں،کیا کیجے،

جام سب خالی پڑے ہیں دل کے،چل دیا پیرِ مغاں، کیا کیجے،

کب ملے ہیں حسینوں کے خطوط؟چند تصویرِ بُتاں کیا کیجے،

چھوڑ کر بیٹھ گیا جو ہم کو،اس کے بن جائیں کہاں، کیا کیجے،

شب سی تاریکی سرِ شام ہے کیوں,دل مرا ڈوب گیا، کیا کیجے

محمد امین قریشی۔

ابھی مکمل اصلاح نہیں ہوپائی ہے اس غزل کی۔مگر کافی حد تک اصلاح کے لیے ممنون ہوں:
محمد وارث بھائیاعجاز عبید انکلاور سعود ابنِ سعید کا۔

پاکستان کی بندوقیں۔۔۔


میں نے کچھ عرصہ قبل سرفراز شاہ قتل کیس کے سلسلے میں ایک مضمون انگریزی میں فیس بک پر لکھا تھا۔ جوں کا توں یہاں پیش کر رہا ہوں۔ بشرطِ موڈ اسے اردو میں ترجمہ کرکے بھی پیش کردوں گا۔ امید ہے معلومات افزاء ہوگا۔

After 2 days of discussion and regrets about the 9th June incident of Clifton, I recognized a fact that besides the inhuman behaviour of security personnel out there, certain facts need to be analysed carefully and sensibly. First of all, individuals from law-enforcing forces should always act with their nerves held. This job is not like guarding a bank or vault, where you suspect every coming person to be the robber. Besides, there are other interesting facts that my friends and readers might not be knowing quite well.
I decided to write this note as a technical critique on counter-terrorism, becuase this has been my lifetime passion, and in fact I have some knowledge about the stuff.
The Ranger fired two shots at the youngster from a distance of approximately 6 feet, which he received on his forearm and on thigh. Reports claim he died of excessive bleeding. And fact is he was shot with a very high power battle rifle, that is used by militaries in warfare. The rifle was G3, which is considered to be a severly damaging rifle.
Currently, almost all of the armed forces of Pakistan, paramilitary forces and Police forces have got high caliber guns as their main weapon, that include G3 (Made in Pakistan) and AK47 (Made in China). G3 is a battle rifle that is one of the most powerful rifles using high power cartridge of 7.62x51 mm (the bullet u may say) and an infantry weapon used in battles and sometimes mounted. While AK47 is an assault rifle that uses and intermediate cartridge that is 7.62x39mm, but still this caliber is considered to be a killing caliber. Only one bullet from these two rifles can destroy a concrete block. These are two of the most powerful and highest caliber rifles carried by the forces around the world. And are meant to engage the targets on long ranges and to penetrate the prtecting kevlars of enemy. Bullets fired from these two rifles(G3 and AK47) have capability to go through the human body making a large wound, thus more bleeding.
High power rifles have a trade off in length and weight too, and are quite ineffective in close-quarter combats and urban areas. One point I am missing here is 7.62x51mm cartridge is widely used in sniper rifles too, which certainly means it is made to KILL!
Now, there has been a debate on it in the civilized societies to use such powerful killer weapons in the combats and in the city law-enforcment. Some 40 years ago US announced the usage of smaller caliber 5.56x45mm cartridge for the service rifles. As for the civilian law-enforcement, they wanted to capture the culprits and terrorists alive, thus they have moved towards thesmaller caliber and less powerful rifles and SMGs. The most popular of which are M16 and M4 carbines and MP5 SMGs that were developed for this very reason. These are not only accurate and precise but also avoid the possibility of collateral damage in case of friendly fire. Also this helped in capturing the terrorists wounded yet alive and resulting in better investigations.
M4 and M16 carbines use 5.56x45mm cartridge while MP5 uses a pistol caliber 9x19mm cartridge. Now a days, civil law-enforcing agencies and special counter terrorism forces are  essentially using such weapons. That not only enhance their capabilities to use weapons effectively in close-quarter combats but also these weapons mostly injure the culprits engaging them unless they are not shot at vital spots. Allied forces in Iraq and Afghanistan mostly use these light weapons.
Paramilitary forces (Pakistan Ranger) deployed in Karachi and Sindh Police both use G3 and AK47 as their main weapon. This means there is less probablity that they would capture the culprits and terrorists alive. And imagine of a person shot two bullets from a distance of less than 10 feet, while these rifles are capable of firing upto 500m (yeah this is a freaking half of a kilometer). Thats why you saw that much blood in a few seconds of him getting shot.
Incident like that was happened in Kharotabad too. Frontier Corps (FC) jawans used G3 and AK47 rifles too. But that was an exception because they fired hundreds of shots. Which would eventually kill even an elephant if they had used .22LR cartridge (the smallest of all, used for bird hunting and shooting competitions). So that is the case of sensiblity and nerve control. This shows the bewilderment amongst our soldiers and forces personnel and this has, of course, certain reasons.
I think its about time Pakistani authorities change their minds and priorities about the selection of rifle calibers. This is a country that has got the world's renowned Army and the larget illegal arms market. We have got a sense of war and arms. We must realize the fact that using such high caliber weapons in streets and urban areas has been disastrous for us. The terrorists and culprits we shoot get killed and the rest flee. And we are left with a trail of the snake which we keep beating about the bush (I have mixed up the urdu and english idioms eh).
In the picture shown here, The third from left is the .308 Win or 7.62x51mm (G3) , third from right is the 7.62x39mm (AK47) and the 2nd from right is 5.56x45mm (M4 & M16 Carbines) cartridge.
Muhammad Ameen QureshiComparison of rifle cartridges. The third from left if the .308 Win or 7.62x51mm (G3) , third from right is the 7.62x39mm (AK47) and the 2nd from right is 5.56x45mm (M4 & M16 Carbines) cartridge.
Photo courtesy Wikipedia.

کوّا چلا ہنس کی چال۔۔۔

کوا چلا ہنس کی چال۔۔۔۔(ہماری اردو کی حالتِ زار)محمد امینؔ  قریشیقوموں کی ثقافت، تہذیب اور ترقی میں انکی زبان کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔ زبان صرف رابطے ہی کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ تخلیق و ایجاد اور معاشرے کی روحانی آسودگی (spiritual peace) میں بھی مدد کرتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آدمی کی سوچ اور خواب اسکی مادری زبان میں ہی ہوتے ہیں، چاہے وہ خواب نیند کے دوران دیکھے جائیں یا جاگتے ہوئے۔ اور یہ بھی کہ تخلیق اور ایجاد (Invention and innovation) ہماری سوچ اور خواب کا ہی نتیجہ ہوتے ہیں۔ تو ہم بلاشبہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ تخلیق کے لیے انسان کو اپنی زبان کا مکمل علم ہونا چاہیے۔
ہماری زبان اردو جس نے دہلی کے بازاروں، لکھنؤ کے مشاعروں اور حیدرآباد دکن کے دربار میں پرورش پائی اور جس کی بازگشت(Echo) لاہور اور کراچی کے ادبی حلقوں (Literary circles) میں اب تک گونجتی ہے، آج دنیا کے ایک بہت بڑے خطے، جنوبی ایشیاء میں کروڑوں لوگوں کی روزمرہ کی زبان ہے۔ اردو جو کہ "نستعلیق" رسم الخط (script) میں لکھی جاتی ہے، عربی، فارسی، سنسکرت اور ترکی زبانوں سے مل کر بنی ہے۔ مگر اردو آج ویسی زبان نہیں رہی جیسی آج سے کچھ سالوں پہلے ہوتی تھی۔ اردو زبان کی ترویج و ترقی (development & promotion) میں اردو شاعری اور ادب کا بہت گہرا ہاتھ رہا ہے۔ یہ صرف  پچھلی صدی کا ہی ذکر نہیں بلکہ دو ڈھائی سو سال پہلے جب اردو تشکیل پا رہی تھی اس وقت بھی شاعری نے ہی اسے سہارادیا تھا۔ یہی وجہ ہے  کہ جنوبی ایشیاء میں  آج تک جتنے بھی فلمی گیت اور غزلیں لکھی گئی ہیں ان میں سے اکثر اردو میں ہی رہی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ نہ صرف اردو شاعری میں بلکہ عام بول چال میں بھی بھاری بھرکم الفاظ متروک (dead) ہوتے گئے۔ خیر الفاظ کا آنا جانا تو زبانوں میں لگا ہی رہتا ہے، مگر جو کچھ پچھلے چند سالوں میں اردو زبان کے ساتھ ہوا ہے اس نے ہماری تہذیب اور ثقافت پر بہت شدید ضربیں لگائی ہیں۔
جس طرح انگریزی کے پیچھے بھاگ بھاگ کر ہم نے اپنی ثقافت کو گہنا  دیا ہے(distort) وہ سب کے سامنے ہے۔ تخلیق کا جو عنصر اردو کے شروع کے دور میں اور حتیٰ کہ پچھلی صدی کے شعر و ادب (literature) میں کھل کر نظر آیا وہ اب ہماری قوم سے مفقود(disappear) ہوتا جا رہا ہے۔ہماری قوم ایجادات کے معاملے میں بھی دوسری قوموں پر انحصار کرتی ہے کیوں کہ ہم نے اپنی اس تخلیقی صلاحیت  (creativity)پر بھروسہ کرنا نہیں سیکھا جو انسان کی سوچ میں اس کی اپنی مادری زبان کی صورت میں بھری ہوتی ہے۔ ہماری قوم نے خود کو آدھا تیتر جیسا بھی رنگ لیا اور آدھا بٹیر جیسا بھی اسی لیے ہم ویسے خالص نہیں ہیں جیسا انسان اپنی روایات اور ثقافت سے جڑ کر رہتا ہے۔ یہ بات کہنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انگریزی سیکھنا یا بولنا کوئی غلط بات ہے، بلکہ دوسری زبان  کو اپنی زبان میں اس حد تک شامل کر لینا کہ اپنی زبان کا حال حلیہ ہی بگڑ کر رہ جائے، یہ کسی بھی قوم کے مردہ ہونے کی نشانی ہے۔ کسی اور  ثقافت کو وقت کے تقاضے (need of the hour) کے نام پر اپنی ثقافت پر حاوی کرلینا ترقی یافتہ قوموں کی نشانی نہیں ہے۔ ہم نے شروع میں لکھا کہ تخلیق اور ایجاد کے لیے  اپنی زبان پر مکمل عبور اور معاشرے میں اس حوالے سے یکسانیت (harmony) بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔  جتنی بھی قومیں اب تک ترقی یافتہ ہیں وہ سب اپنی زبان میں ہی کمالِ فن (excellence) حاصل کر کے ہی دنیا میں سر اٹھا کر جینے کے لائق ہوئی ہیں۔
ہم یہ بات دعوے کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ انٹرنیٹ اور "جادوئی ڈبیا" یعنی موبائل فون کے اس انگریزی دور میں کتنے ہی لوگ ایسے ہونگے جنہوں نے بہت عرصے سے اپنا اور اپنے دوستوں کا نام اردو میں لکھا نہیں دیکھا ہوگا، حالانکہ کچھ موبائل فون میں اردو میں لکھنے کا بھی اختیار ہوتا ہے۔ مگر بہت سے لوگوں کو تو اردو درست پڑھنی بھی نہیں آتی۔  اور جہاں تک جدید ایجادات کا تعلق ہے تو ہمیں ان کے لیےاردو میں بھی اسی زبان کے الفاظ شامل کرنے پڑتے ہیں کہ جس سے اس ایجاد کا تعلق ہوتا ہے۔ اور اردو زبان کا حسن یہی ہے کہ وہ  دوسری زبانوں کو اپنے اندر جذب بھی کرلیتی ہے۔ مخصوص اصطلاحات(terms) کی حد تک تو یہ بات قابلِ قبول ہے لیکن جس چیز کے لیے اردو میں پہلے ہی سے کوئی مناسب لفظ موجود ہو اسے بھی انگریز کا کلمہ پڑھا دینا اردو کے لیے زہرِ قاتل ہے۔اسی طرح گفتگو کے دوران  ایک جملہ انگریزی میں بولنا پھر آدھا اردومیں پھر اگلا جملہ انگریزی میں بولنا ، یہ ملغوبہ (mixture) ہماری نسل کو اردو زبان سے دور کر رہا ہے۔نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ہم نے دنیا میں اپنی شناخت کھو رہے ہیں کیوں کہ ہم نے اپنی زبان کی ثقافت اور روایات کو پروان نہیں چڑھایا، بلکہ دنیا کے ساتھ چلنے کی دھن میں جدیدیت کے دیوتا کی بھنیٹ چڑھا دیا۔
سیانے کہتے ہیں کہ اگر آپ نے آج اپنے مستقبل کے بارے میں نہیں سوچا تو آپکی قسمت کے فیصلے دوسرے لوگ کر رہے ہونگے۔ ایک قوم کے طور پر یہ بات ہم پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ تہذیب و ثقافت سے لے کر علم اور تاریخ تک ہم نے کسی بھی چیز کے بارے میں خود فیصلہ کرنا مناسب نہیں سمجھا اور اپنی ترجیحات (priorities) کا تعین نہیں کر سکے۔ ہم نے اپنی ثقافت کو بوجھ اور جدید دور سے متصادم (conflicting) سمجھ کر اپنے معاشرے سے نکال باہر کیا، اسی وجہ سے آج ہم دوسروں کی ثقافت پر پل رہے ہیں۔ ہم نے اپنی تاریخ سے کوئی واسطہ نہیں رکھا، کہیں ایسا نہ ہوکہ  جو ہمارا آج ہے اسکی لکھی جانے والی تاریخ کسی اور کی مرہونِ منت ہو۔ نابینا مگر دانا شاعر اقبالؔ عظیم  نے خوب لکھا ہے:
اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤگے،خواب ہوجاؤگے افسانوں میں ڈھل جاؤگے،
اپنے پرچم کا کہیں رنگ بھلا مت دینا،سرخ شعلوں سے جو کھیلوگے تو جل جاؤگے،
اپنی مٹی ہی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو،سنگِ مرمر پہ چلوگے تو پھسل جاؤگے۔۔

منتشر خیالات




(۲۷ اکتوبر ۲۰۱۱ کو رات ڈیڑھ بجے نیند نہ آنے کے سبب کچھ لکھنے کی ٹھانی۔۔اور منتشر سے الفاظ اور خیالات ہیں، امید ہےاحباب اغلاط سے صرفِ نظر کریں گے)

آج طبیعت ٹھیک نہیں تھی سارا دن۔ پچھلے دو دنوں سے انگلی کا کنارا اندرونی طور پر پک رہا ہے اور شدید دھوپ میں بائک کا سفر۔ آج صدرِ مملکت یا وزیرِ اعظم کے قافلے کی وجہ سے شاہراہِ فیصل کچھ دیر کو بند تھی اور اتفاق سے ہمیں بھی وہیں سے گزرنا تھا سڑی بسی دوپہر میں۔

اس تکلیف اور دھوپ کی شدت نے گھر آنے کے بعد بھی بے چین کیے رکھا۔ آدھی رات کے وقت 3 گھنٹے سے سونے کی کوشش کرتے ہوئے خیال آیا کہ منتشر خیالات کو جمع ہی کرلیا جائے۔
آگ کے شعلے برساتا سورج سر پر، اور آتش فشاں کے لاوے جیسا پگھلتا ہوا کولتار پیروں تلے۔ اس جگہ ٹریفک کھلنے کے انتظار میں کھڑے کھڑے اگر غلطی سے بائک کی ٹنکی پر یا ہیلمٹ پر ہاتھ لگ جاتا تو افسوس ہوتا کہ ہاتھوں کو ایک جگہ قرار کیوں نہیں۔۔

مزید یہ کہ گاڑیوں کے انجنوں کی گرمی منظر کو بھی پگھلا پگھلا دیتی ہے۔ جیسے صحرا میں دور کا منظر ہلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔۔

اس انتظار میں ذہن ناشائستگی کی حدوں کو پھلانگ چکا تھا۔ ساتھ کھڑا بائک سوار تو وہ کچھ فرما رہا تھا جو کہ صرف سنا ہی جا سکتا ہے۔ پیچھے دو ایمبولینسز کے بجتے ہوئے سائرن ،گویا فریاد کر رہے تھے، ہمیں اکسا رہے تھے کہ گذرنے والے قافلے سے پہلے ان چیلے چانٹوں اور شاہ کے وفاداروں کو سول نافرمانی تحریک کا مزا چکھا دیں۔ وہ شاہ کے وفادار جو کہ شاہراہِ فیصل کے ہر داخلی و خارجی رستے پر بند باندھے کھڑے تھے۔

شہرِ کراچی کا ٹریفک چل رہا ہو تو وبال اور رک جائے تو عذاب۔ جہاں بے ہنگم ہوجائے تو جھنجھلاہٹ خیز اور باسلیقہ چل رہا ہو تو انسانوں کو برداشت نہیں۔ 

چاروں سمتوں میں تا حدِ نگاہ اور تاحدِّ امکاں پھیلے ہوئے شہر میں "ویسٹ وہارف" سے "شمالی کراچی" تک کا سفر ایسا ہے جیسے کسی عاصی کا پلِ صراط کا سفر (الامان ۔۔ اللہ ہمیں معاف فرمائے)۔۔ یہ سطریں ہم اس لیے نہیں لکھ رہے کہ آج پہلی مرتبہ ان دو مقامات کے درمیان سڑکیں ناپیں۔ ہم کالج کے زمانے میں جناح برج (المعروف بہ نیٹی جیٹی) گھومنے جاتے تھے؛ سندھ مدرسۃ الاسلام سے پیدل!! اور واپسی گھر تک بس میں ہوتی تھی۔ بہرحال یہ سطریں اس بڑھتے ہوئے دباؤ کی بناء پر ہیں جو غبارے کو دھماکے کی آخری حد پر لا کھڑا کرتا ہے۔

کراچی شہر پاکستان کی آبادی کا کم از کم 10 فی صد ہے۔ اور روز بروز یہ عدد اضافہ پذیر ہے۔ گاڑیاں گو کہ لوس اینجلس کی طرح 1:1 کے تناسب سے نہیں ہیں مگر سڑکیں اور ٹریفک کا شعور اس تناسب سے نہیں ہے جو کہ اس حجم اور اس اہمیت کے شہر کا خاصہ ہونا چاہیے۔

ان سطروں کا مقصد گو کہ ذاتی اور داخلی کیفیات کا احاطہ کرنا تھا مگر ہمیں اس مقام پر ایسا لگ رہا ہے کہ ہمیں ٹریفک سے سیاست، معاشرت اور بین الاقوامی تعلقات پر آنے میں دیر نہیں لگے گی، تو واپس آتے ہیں اصل بات کی طرف۔

انگلی کے جس درد نے اس وقت ہمیں پریشان کیے رکھا ہے وہ ہے تو ہلکا سا ہی مگر کافی دنوں کے بعد کوئی تکلیف ہوئی ہے۔ تو اس نے ذات کے نہاں خانوں میں چھپے درد اور اسکے ما بعد کو جگا دیا ہے۔ 

آپ غلط اندازے نہ لگائیے، یہ کلّی طور پر ذاتی اور انفرادی معاملہ ہے، وہ روگ نہیں جو عموماً تارے بھی گننے پر مجبور کردیتا ہے۔ ہمارا درد ہماری ذاتی خواہشات، زندگی کے مقاصد اور بہت سے ادھورے سفر ہیں۔ 

انسان جب بہت زیادہ سوچنے لگے تو اس کے ہاتھ پیر زنگ آلود ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے سوچ اور عمل میں توازن ہونا چاہیے۔ جب نظر سفر کے بجائے فقط منزل پر مرکوز رہے اور زہد کے بجائے خیالِ زہد ہی پیشِ نظر رہے تو آدمی طریق در طریق، سفر در سفر بھول بھلیوں میں گم ہوتا چلا جاتا ہے۔ راہِ طریقت میں بھی یہی معاملہ ہے۔ لوگ شیخِ طریقت کو ہی "طریق" جان لیتے ہیں حالانکہ وہ تو ایسا سنگِ راہ ہے جو راستے بھر ساتھ ساتھ چلتا ہے۔

سوچتے ہیں زندگی سے کیا کیا کچھ لے کر اسے کیا کیا لوٹایا-
کہیں سے خواب لیے، کہیں سے ارادے لیے۔ کہیں سے ولولہ اور کہیں سے فقط جھڑکیاں۔

ابھی ہم چھوٹے ہی تھے کہ جہازوں کی آواز اور فضاؤں پر حکمرانی بھانے لگی، تو سوچا پائلٹ ہی بننا ہے۔جہازوں کو "ٹاٹا" کیا کرتے تھے۔پھر سوچتے تھے جب ہم مانندِ عقاب فضاؤں کا سینہ چیرتے ہوئے جب شہروں اور دیہاتوں پر سے گذریں گے تو کئی "امینوں" کے ہاتھ ہمارے لیے بھی فضا میں بلند ہوجائیں گے۔

بچپن سے لڑکپن اور پھر نوجوانی تک آتے آتے ادراک ہوا کہ "کچھ شہر کے لوگ بھی ظالم ہیں۔۔۔کچھ ہمیں بھی مرنے کا شوق ہے"۔۔۔۔ اپنے شوق کو مار کر بھلا کون زندہ رہ سکتا ہے۔ اور ہم نے ایک شوق ہی کا قتل نہیں کیا بلکہ ہماری زندگی یکے بعد دیگرےشوق پالنے اور پھر اسکا قتل کرنے میں ہی گذری ہے۔۔

نوجوانی آتے آتے کمانڈو بننے کی دھن سمائی مگر جسامت اور نظر دونوں کمزور (اور کسی حد تک دل بھی)۔۔۔

کرکٹ سے بچپن ہی سے جنون کی حد تک محبت۔ ایسا جنون جو حقیقی معنیٰ میں رگوں میں دوڑتے خون کی مانند ہو۔ جس کی روانی جسم و جاں کو تروتازہ کردے اور مشامِ جاں کو معطر۔ مگر روزانہ 30 کلومیٹر کا سفر کرکے جامعہ جانا اور پھر واپس آنا اس قابل نہیں چھوڑتا تھا کہ اس جنون سے اپنی خرد کو جلا بخش سکتے۔ اس کے باوجود 2 سال قبل نیٹ پریکٹس کے لیے جاتے تھے اور وہ چند دن ہماری زندگی میں ہمیشہ لکھے رہیں گے، مدھم پڑجانے والے سنہری حروف کی طرح۔ے).

زمانۂ طالبعلمی کے شدید دباؤ کے باوجود ہم نے بھی Randy Pausch کی طرح اپنے خوابوں کی تعبیروں کی طرف دھیان دیا۔ اور اب اس دباؤ سے نکل کر ہمیں یوں لگتا ہے کہ فی الحال اعضاء اور اعصاب منتشر ہیں مگر دھن موجود اور سالم۔
(Randy Pausch کے بارے میں جاننے کے لیے یوٹیوب پر Really Achieving Your Childhood Dreams لکھ کر تلاش کیجیے).


زندگی ایک مسلسل خواب کی طرح گذاری۔ اب وقت ہے اسکی تعبیر میں روح پھونکنے کا۔ خوابوں کے یک رنگی کینوس میں قوسِ قزح کے رنگ بھرنے کا۔ 

ہم جب بہت تکلیف میں ہوتے ہیں تو تکلیف کو اور بھی زیادہ محسوس کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح ہماری سوچ کا زاویہ وسیع ہوجاتا ہے اور ہم وہ کچھ لکھنے اور کہنے کے قابل ہوجاتے ہیں جو عام حالات میں ذہن کے اندر گرد کی دبیز تہہ تلے پڑا رہتا ہے۔ آج انگلی کی تکلیف اور سفر کی تھکان نے ہمارے ذہنی گھوڑوں کو دوڑا کر کچھ لکھوا ہی ڈالا۔۔

Pages