محمد خلیل الرحمٰن

پاکستان اور امریکہ از محمد خلیل الرحمٰن

پاکستان اور امریکہ
محمد خلیل الرحمٰن​




پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو نقشے پر کچھ اورہے ، کتابوں میں کچھ اور، حقیقت میں کچھ اور۔جس کے رہنے والوں 

پاکستانی بہت کم اور سندھی 



بلوچی پٹھان پنجابی اور مہاجر بہت زیادہ ہیں۔ بعینہ پاک امریکہ تعلقات نقشے پر کچھ اور ہیں، اخباری بیانات میں کچھ اور 

ہیں ، پس پردہ کچھ اور۔


پاکستان کی برآمدات:


پاکستان کی برآمدات میں جہادی، کپاس، چاول اور گندم بہت نمایاں ہیں۔دوسرے درجے کی برآمدات میں غیر قانونی 

تاریکین، سوتی کپڑے کی 



مصنوعات اور چمڑا شامل ہیں۔دنیا کے بہت سے ممالک نے پاکستان کی مصنوعات پر پابندی لگارکھی ہے لیکن پاکستانی 

جہادی اور غیر قانونی تارکین کی 



اسمگلنگ ہر وقت جاری رہتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستانی دنیا کے ہر خطے میں نظر آتے ہیں۔ کہتے ہیں امریکہ کو سب 

سے زیادہ خطرہ میکسیکنز اور



 پاکستانیوں سے ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اگر امریکہ میں داخلے کے لیے پاندیاں ختم کردی جائیں تو پاکستان 

اور میکسیکو ایک گھنٹے کے اندر اندر



 خالی ہوجائیں گے۔


پاکستانی درآمدات:


مشہور پاکستانی درآمدات میں امریکن ڈالر، امریکن سنڈی ، یو ایس ایڈ ، ریمنڈ ڈیوس اور بلیک واٹر شامل ہیں



پاکستانی شہری:




پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد مسلمان ہے جن کی دلی خواہش جنت اور امریکن ویزے کا حصول ہے۔ پاکستان کا ہر شہری 

امریکہ جانے کا خواہش 



مندہے۔ ہر دوسرے شہری نے امریکن ویزے کے حصول کے لیے درخواست دے رکھی ہے۔ ہر پانچواں شہری

 امریکہ کا دورہ کرچکا ہے اور ہر 



دسویں شہری کے عزیز و اقارب امریکہ میں رہتے ہیں ۔



پاکستانی حکومت:


امریکن ویزے کا حصول ہمارے سیاسی رہنماؤں کی مجبوری ہے اور اپنی تحریروں اور تقریروں میں امریکہ کی مخالفت

 ان کی سیاسی ضرورت، جبکہ اپنے 

بچوں کو امریکن یونیورسٹیوں سے پڑھوانا ، وقت کی ضرورت ہے۔باہر کی یونیورسٹیوں سے پڑھ کر ان کے بچے غریب 

پاکستانی عوام کی مجبوریوں کو 

سمجھنے اور اپنے والد کی پارٹی میں ان کی جگہ سنبھالنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔

ہم امریکہ سے سخت نفرت کرتے ہیں لیکن امریکن پالیسیوں کی حمایت ہمارا فرضِ عین اور یو ایس ایڈ وصول کرنا فرضِ 

کفایہ ہے۔ حکمرانوں کی جانب 

سے یہ ایڈ ہڑپ کرجانے سے یہ فرض سب عوام کی جانب سے بھی ادا ہوجاتا ہے۔

پاکستان امریکن تعلقات:


دنیا کے بیشتر سامراجی ممالک میں امریکہ نے اپنی فوجیں اتاری ہیں لیکن پاکستان کے لیے اس کے ڈرون اور ‘ ڈو مور ’ 

کی دھمکیاں ہی کارگر ثابت 



ہوتی ہیں۔ ہمارے حکمران امریکی آشیر باد محسوس کرتے ہوئے حکمرانی کے جوہر دکھاتے ہیں جبکہ مخالف پارٹیاں اسی 

کے اشارے پر دھرنے ، 



دھونس اور ریلا ریلی کی پالیسی اپناتی ہیں۔ مخالف اکثر اسے خفیہ پیغامات بھیج رہے ہوتے ہیں کہ



ہر تیرگی میں تو نے اتاری ہے اپنی فوج

یاں بھی اتر کے آ ، کہ سیہ تر ہے یہ بساط​

یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے؟:


پاکستانی امریکہ سے محبت/ نفرت کرتے ہیں جبکہ امریکن پاکستان سے محبت/ نفرت کرتے ہیں۔ محبت اور نفرت کا یہ 

رشتہ ہی ان دونوں ممالک کے 



لازوال تعلق کی بنیاد اور وجہِ تسلسل ہے۔جب تک امریکن توسیع پسندی موجود ہے امریکہ ہم سے محبت کرتا رہے گا اور

 جب تک امریکن ایڈ اور 



امریکن ویزا موجود ہیں ہم امریکہ سے محبت کرتے رہیں گے۔




نوٹ: یہ تحریر مزاحیہ تحریر ہے۔

ریاضی سیکھنے کا بنیادی قاعدہ​

ریاضی سیکھنے کا بنیادی قاعدہ​​محمد خلیل الرحمٰن​​پیر و مرشد جناب یوسفی ایک جگہ رقم طراز ہیں۔​​’’ ساتویں جماعت میں جب ہمیں انگریزی میں سو میں سے ۹۱ اور حساب میں پندرہ نمبر ملے تو ہم نے گردھاری لال شرما سے رجوع کیا۔​کہنے لگاکہ چنتا نہ کرو۔ بچار کرکے کل تک کوئی اُپائے نکالوں گا۔ دوسرے دن اس نے اپنا بچن پورا کیا اور اور حساب میں ۹۱ نمبر لانے کے دو گُر بتائے۔ پہلا تو یہ کہ بھوگ بلاس سے دور رہو۔ آج سے پرتگّیا کرلو کہ امتحان تک برہمچریہ کا پالن کرو گے۔ ہٹیلی کامنائیں یا چنچل بچار ہلّہ بول دیں تو تین دفعہ ’’ اوم ! شانتی ! شانتی! شانتی!‘‘ کہنا۔ اِس سے بیاکل ساگر اور بھڑکتا جوالا مُکھی بھی شانت ہوجاتا ہے۔اوم! شانتی! شانتی! شانتی!​​’’ اور یار میاں جی! سادھارن جیون بِتانا سیکھو۔ گرم چیزوں سے ایکدم پر ہیز ۔ گوشت، گرم مصالحے ، گڑ کی گجک اور اردو گجل سے چالیس دِن الگ رہنا۔‘‘​​اب یہ شانتی کھنا اور ٹوئینکل کھنا جیسی چنچل اور رسیلی مہیلاؤں کی یاد تھی یا پھر یوم الحساب کا ڈر کہ​​اُنھیں تو نیند ہی آئی ’حساب‘ کے بدلے​​ادھر یہ امرِ واقعہ ہے کہ مسلمانوں کو حساب سے ایک گونہ چڑ سی ہی رہی ہے۔ ایک بار پھر ہم بسندِ یوسفی عرض کرتے ہیں کہ، ’’ اعمال کے حساب کتاب کا جنجال بھی ہم نے کراماً کاتبین اور متعلقہ آڈٹ منکر نکیر کوسونپ رکھا ہے۔ ‘‘​​یوں بھی اچھے ریاضی داں بننے کے لیے حساب میں دلچسپی رکھنا چنداں ضروری نہیں۔ مشہور ہے کہ عالمی شہرت یافتہ ریاضی داں آئن اسٹائن حساب میں کمزور تھا اور ہمیشہ حساب میں ہی فیل ہوتا۔ یقیناً اس کے یوں حساب میں کمزور ہوتے ہوئے کائینات کی عظیم ترین گتھی کے سلجھانے میں اسکی یہودیت کا بڑا دخل رہا ہوگا۔ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے اپنے بیٹے سے جو کسی اونچی جگہ سے چھلانگ لگانے کو کہا۔ بیٹا ڈرا تو اس نے کنگ خان کا ڈائیلاگ دہرا دیا ’’ ڈرو نہیں، میں ہوں نا!‘‘ ادھر بیٹے نے چھلانگ لگائی ، ادھر باپ راستے سے ہٹ گیا اور بیٹا اپنی ٹانگ کی ہڈی تڑوا بیٹھا۔باپ نے اسے زندگی کی اہم ترین نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ کبھی اپنے باپ پر بھی بھروسہ نہ کرو۔​​​یہی کسی پر بھی بھروسہ نہ کرنے کی عادت انھیں ہر ایک شخص، ہر ایک تصور اور ہر ایک اصول کو شک کی نگاہ سے دیکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ انھیں دو اور دو چار کرنے کی عادت سی پڑ جاتی ہے۔ ادھر مسلمان ہے کہ اللہ کے بھروسے پر ہر شخص ، ہر اصول اور ہر تصور پر بھروسہ کرلیتا ہے۔ ​​​اس کے علاوہ ایک وجہ اور بھی ہے۔ یہ تین رقمی قانون ( یعنی حساب) ہماری سمجھ سے بالاتر تو ہے ہی، ہم جو نہ تین میں تیرہ میں، اسی تین تیرہ کرنے میں ایسے الجھ جاتے ہیں کہ ہماری کیفیت وہی تین تیرہ نو اٹھارہ کی سی ہوجاتی ہے۔ اب اس تین روزہ زندگی میں کون اتنے کھڑاگ پالے۔ ویسے بھیہ تین گناہ تو اللہ بھی بخش دیتا ہے۔ ہم تو بقول شخصے طول شب ِ فراق ہی ناپتے رہ جاتے ہیں۔​​​دعویٰ بہت سنا ہے ریاضی میں آپ کا​طولِ شبِ فِراق ذراناپ دیجیے​​آج دیکھتے ہیں کہ کیا ریاضی قابلِ اعتبار ہے، یا اپنے پرکھوں کی طرح ہمیں بھی چاہئیے کہ اسے دوسروں پر چھوڑ دیں اور خود کو دیگر حوائجِ ضروریہ میں مصروفِ عمل کریں۔ انگریزی میں ایک سمبل استعمال ہوتا ہے جو کچھ یوں ہوتا ہے ’ = ‘ ، اس کا مطلب ہے کہ اس نشان کے دونوں طرف دی گئی مقداریں آپس میں برابر ہیں۔ فرض کیجیے کہ دو نامعلوم مقداریں جنہیں ہم لا اور ما کہہ لیتے ہیں آپس میں برابر ہیں​​لا = ما​​اب اگر دونوں اطراف لا سے ضرب دے دیا جائے تو کیا صورت ہوگی​​لا X لا= لا X ما​​یا ​​لا۲ = لا ما​​اطراف و جوانب سے ما ۲ منہا کردیا جائے​​لا۲ - ما۲ = لا ما - ما۲​​اب داہنی جانب الجبراء کا فارمولا لگائیے اور بائیں جانب قدر ’ما ‘ مشترک لے لیجیئے​​(لا – ما) ( لا + ما ) = ما ( لا – ما)​​نظر دوڑائیے اور دیکھئیے کہ دونوں جانب ایک قدر مشترک ہے جسے الجبراء کے فارمولے کی مدد سے ختم کیا جاسکتا ہے۔​​(لا – ما) ( لا + ما ) = ما ( لا – ما) ​​یعنی​​لا + ما = ما یا دوسرے لفظوں میں​​ما + ما = ما ( پہلی سطر ملاحظہ کیجیے لا = ما )​​یعنی​​۲ ما = ما​​یا ​​۲ = ۱​​جی کیا فرمایا؟ کیسے ممکن ہے؟ ہم نے آپ کے سامنے اسے ممکن کردکھایا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ آپ کو مزید کنفیوز ( پریشان) کرنے کی خاطر ان مقداروں کو اردو رسم الخط میں لکھ دیا ہے ۔ اب آپ اس تمام کارروائی کو انگریزی میں x اور y سے بدل دیجیے اور خود ہی جانچ لیجیے۔​یعنی پرکھوں کا عمل درست تھا جنھوں نے حساب کتاب تو ہندو بنئیوں کے سپرد کررکھا تھا اور اپنے ذمے گجل اور ترجموں کا کام تھا۔​​یا پھر دوسری صورت یہ ہے کہ ​​ہم ہی میں ہے نا کوئی بات، یاد حساب نہ رکھ سکے​​اس کا اپائے کیا ہو۔ اس کارن بھی ہمیں یوسفی صاحب ہی کی جانب دیکھنا پڑے گا، یعنی​’’ حساب میں ۹۱ نمبر لانے کے دو گر:​​پہلا تو یہ کہ بھوگ بلاس سے دور رہو۔ آج سے پرتگیّا کرلو کہ امتحان تک برہمچریہ کا پالن کرو گے۔ ہٹیلی کامنائیں یا چنچل بچار ہلّہ بول دیں تو تین دفعہ ’ اوم ! شانتی ! شانتی! شانتی!‘ کہنا، اس سے بیاکل ساگر اور بھڑکتا جوالا مُکھی بھی شانت ہوجاتا ہے۔ اوم! شانتی ! شانتی! شانتی!‘‘​خیال رہے کہ اِس بیچ کہیں شانتی کھنّا یا ٹوئینکل کھنّا نہ یاد آنے لگے۔ ’’پاس ہونا ہے تو برہمچریہ کا پالن کرنا ہوگا۔‘‘​​ورنہ بصورتِ دیگر ان صاحبزادے کا سا حال ہوگا جن کا ذکر خیر ہم اپنی گجل میں کیا ہے ، جو ہم نے یارِ محفل کی ضمین میں کہی ہے۔​​کاش یہ سال تو لکھ پڑھ کے گزارا ہوتا​امتحانوں میں ہمارے یہ سہارا ہوتا​​کارتوس ایک میسر تو ہوا تھا لیکن​اس کو کاپی پہ ذرا ٹھیک اُتارا ہوتا​​آج کِس منہ سے کچھ امید رکھیں گے ہم بھی​کبھی آموختہ ہی لب سے گزارا ہوتا​​ممتحن آج یہ پرچے بڑے دشوار سہی​سہل ہوجاتے اگر تیرا سہارا ہوتا​​گھر نتیجہ لیے آئے ہیں تو ابّا نکلے​کاش اُس روز کسی اور نے مارا ہوتا​

المانیہ او المانیہ۔ قسط نمبر چار

المانیہ او المانیہ۔جرمنی کی سیر
محمد خلیل الرحمٰن 
(قسط نمبر چار)

اسی کشمکش میں گزریں مری جرمنی کی راتیں
کبھی کچھ حسین چہرے، کبھی ان کی شوخ باتیں
خبردار ! بلکہ ایک مرتبہ پھر خبردار!۔ کہیں شاعرِ مشرق کے ساتھ ہماری اس برجستہ گستاخی سے کوئی اور مطلب نہ نکال لیجیے گا۔ ہم تو ( غالب کی روح سے معذرت کے ساتھ) صرف اس بات کے قائل ہیں کہ
نیند اس کی ہے! دماغ اس کا ہے! راتیں اس کی ہیں
تیری زلفیں جس کے خوابوں میں پریشاں ہوگئیں

جمعہ کی صبح ہمارے لیے ، خوشی و غم کے ملے جلے جذبات لے کر آئی۔آج جرمنی میں ہمارے پہلے کورس کا اختتام تھا اور اس حوالےسے جہاںہمیں اپنے پرانے دوستوں کے بچھڑنے کا غم تھا وہیں بابو کی آمد اور نئے دوستوں سے ملاقات کی خوشی اور اشتیاق تھا۔ تربیت گاہ پہنچے تو ایک عجیب منظر دیکھا۔کسی منچلے نے تختہٗ سیاہ پر جلی حروف میں ٹی۔جی۔آئی ایف لکھ دیا تھا۔ ہماری کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ اس شوخیٗ تحریر کا آخر مدعا کیا ہے۔ ہمارے کینیڈین دوست نے فوراً ہماری مشکل آسان کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ اس کا مطلب ہے، ‘‘تھینک گاڈ اِٹس فرائیڈے یعنی اللہ کا شکر ہے آج جمعہ ہے۔
تب تو ہم فوراً سمجھ گئے۔ دراصل مغرب میں ہفتے کا اختتامیہ دودن یعنی ہفتے اور اتوار پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان دو دنوں میں اہل مرکب مکمل تفریح کرتے ہیں، لہٰذا جمعے کا مبارک دن انہیں اس ڈھائی دن کی چھٹی کا مژدہ سناتا ہے۔ ہم نے وہاں برف باری کے دوران منچلے لوگوں کو اپنی فور وہیل ڈرائیو جیپ پر اپنی کھڑی سائیکلیں کسے گھر سے دور پکنک پر جاتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔
کچھ دوست جو یورپ یا جرمنی ہی کے دوسرے شہروں سے آئے تھے، صبح ہی اپنے ہوٹلوں سے چھٹکارا حاصل کرچکے تھے اور اپنا سارا سامان اپنی موٹر گاڑیوں میں ڈال لائے تھے تاکہ دوپہر کو لنچ کرتے ہی اپنے اپنے ٹھکانوں کو لوٹ جائیں۔ہم پچھلے ہفتے کھائی ہوئی دو دعوتوں کے خمار میں تھے۔ پہلی دعوت ہمارے پیارے دوست ریشارڈ شغم نے صرف ہمیں دی تھی اور دوسری دعوت ہمارے ریجن کے منتظم نے اپنے تمام مہمان طالب علموں کو دی تھی۔ ان دونوں حسین شاموں کا تذکرہ بھی اب ہمارے لیے ایک میٹھی میٹھی ، لذت انگیز ، درد بھری کسک کے ساتھ ہی ممکن ہے۔ یہ دنیا اچھے ، ملنساراور دوست لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔ انسانی فطرت ہے کہ جب بھی دو انسان کچھ دنوں کے لیے ایک دوسرے کے قریب وقت گزارتے ہیں، لازمی طور پر ایک دوسرے کے دوست بن جاتے ہیں۔ وہ لوگ ایک دن ہمیں ضرور یاد آتے ہیں اور بے طرح یاد آتے ہیں۔ ہمیں آج یہ واقعات لکھتے ہوئے نہ صرف اپنے وہ دوست یاد آرہے ہیں بلکہ اپنے سنڈک ری اسکول کے ایک استاد کا ہماری آٹو گراف بک پر لکھا ہوا یہ شعر بھی یاد آرہا ہے۔
فرصت نہ دیں گے یوں تو غمِ زیست ایک پل
کچھ دن تمہاری یاد مگر ، آئے گی ضرور
ایک دن صبح ہی ریشادڈ نے ہمیں اپنے گھر پر رات کے کھانے کے لیے دعوت دے ڈالی اور ہم نے لگے ہاتھوں، بصد شکریہ اس دعوت کو قبول بھی کرلیا۔سہ پہر پانچ بجے جب اسکول کی چھٹی ہوئی تو ہم بھی اس کے ساتھ اسکی موٹر گاڑی میں بیٹھ گئے اور وہ ہمیں لے کر کشاں کشاں حلال گوشت کی تلاش میں نکلا۔ ایک جگہ حلال گوشت مل گیا تو وہ ہمیں اپنے جلو میں لیے ہوئے اپنے فلیٹ پر پہنچا اور فوراً ہی باورچی خانے میں جاکر ایک عدد پیتزا بنانے کا اہتمام شروع کردیا۔ بز ار دقت پیتزا بن کر تیار ہوا ، اس نے دو عدد موم بتیاں روشن کیں اور انھیں میز پر سجاکرہم دونوں نے مزے لے لے کر مزیدار پیتزا کھانا شروع کیا۔ یورپ میں رات کے کھانے کے وقت موم بتیوں کا استعمال بھی خوب ہے۔ اسے کھانا کھاتےوقت ماحول کی ایک خوشگوار تبدیلی سمجھا جاتا ہے۔ آپ جیسے ہی کسی ریستوران میں اپنی میز پر پہنچتے ہیں، ایک خوبصورت سی میزبان آگے بڑھ کر آپکی میز پر رکھی ہوئی موم بتیوں کو روشن کردیتی ہے اور فورا ً آپ کا آرڈر لینے کے لیے ہمہ تن گوش ہوجاتی ہے۔ اگر کسی نے آپ کو اپنے گھر پر دعوت دی ہے تو وہاں پر بھی کھانا شروع کرنے سے پہلے کھانے کی میز پر موم بتیاں روشن کردی جاتی ہیں۔ چاہنے والوں کے لیے تو کینڈل لائٹ ڈنر ایک خوبصورت اور معنی خیز دعوت ہوتی ہے۔ 
ہم دونوں اس لذیذ پیتزا کا مزا بھی لے رہے تھے اور دنیا جہان کے موضوعات پر باتیں بھی کررہے تھے۔دورانِ گفتگو ہم نے اس سے ایک انتہائی ذاتی قسم کا سوال کرڈالا۔ ہم نے اس سے بے تکلفانہ انداز میں اس سے اس کے سنگل ہونے کا راز پوچھا۔ 
بغیرشرمائے اس نے بتایا کہ حال ہی میں اسکی اپنی گرل فرینڈسے علیحدگی ہوچکی ہے۔
ہم نے اسکے اس جواب سے ہمت پکڑی اور فوراً حملہ کردیا‘‘ اس کی وجہ؟’’
ریشارڈ نے اس بات کا بھی برا نہ منایا اور بات کو آگے بڑھاتے ہوئے یوں گویا ہوا۔
‘‘دراصل ہمارے تعلقات اس حد تک آگے بڑھ چکے تھے کہ ہم اپنی شادی کے ممکنات پر بھی غور شروع کرچکے تھے۔’’
‘‘واقعی؟ پھر کیا ہوا؟’’ ہم نے خوش ہوتے اور اس نازک صورتحال میں مزید دلچسپی لیتے ہوئے سوال کیا۔’’
‘‘ پھر یوں ہوا کہ اس نے میرے سامنے اپنے ماں باپ کی مرضی کے مطابق یہ مطالبہ رکھ دیا کہ شادی کے بعد ہم دونوں اسکے ماں باپ کے گھر پر رہیں گے۔’’
‘‘پھر کیا ہوا؟’’
‘‘ مجھے یہ بات منظور نہیں تھی۔ میں چاہتا تھا کہ شادی کے بعد ہم دونوں یہاں اس فلیٹ میں رہیں۔’’
‘‘تو کیا اس نے تمہاری تجویز سے اتفاق نہیں کیا؟’’
‘‘نہیں۔ ہم دونوں میں اس بات پر اتفاقِ رائے نہ ہوسکا اور ہم علیحدہ ہوگئے۔’’
‘‘بہت افسوس ہوا یہ سن کر۔’’ ہم نے اس کے ساتھ ہمدردی جتائی۔ آخر کو وہ ہمارا گہرا دوست تھا۔
‘‘افسوس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اب میں نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ اگلی مرتبہ اپنی کسی گرل فرینڈ سے شادی کے بارے میں سوچنے سے پہلے میں اس کے ساتھ سال چھ مہینے زندگی گزاروں گا تاکہ اسے اچھی طرح سمجھنے کے بعد ہی اس قسم کا کوئی فیصلہ کروں۔’’
‘‘ارے؟’’ ہم حیران رہ گئے۔
وہ شام یونہی اوٹ پٹانگ باتوں میں گزر گئی۔ اگلے دن دورانِ کلاس ہمارے ریجنل منتظم نے ہمیں پیغام پہنچایا کہ شام کو وہ ہمارے اعزاز میں ایک دعوت دے رہےہیں جو سنٹرم کے قریب ایک ریستوران میں ہوگی اور ہمیں چاہیے کہ ہم شام سات بجے وہاں پہنچ جائیں۔
اپنے تئیں ہم ٹھیک وقت پر گھر سے نکلے اور بس اسٹاپ پر پہنچ کر بس کا انتظار شروع کیا۔ اللہ جانے اس دن کیا ہوا کہ ہمیں وہ بس نہیں ملی اور ہم آدھ گھنٹے بعد آنے والی بس پکڑ کر ریستوران پہنچے ۔ لیٹ ہوچکے تھے اس لیے وہاں پر مہتمم صاحب اپنی بیگم صاحبہ و دیگر مہمانوں سمیت نہایت بے چینی کے ساتھ ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ سلام و تعارف اور دیگر رسمی خوشگوار جملوں کے تبادلے کے بعد ہم نے پیش کی گئی کرسی سنبھالی جو مہتمم صاحب کی بیگم صاحبہ کے برابر تھی ، اپنے حواس درست کیے اور اپنے دیر سے آنے کی وجہ بیان کرنے کی کوشش کرڈالی ۔ خیر جرمنی میں بس کے نہ آنے یا دیر سے آنے کا خیال ہی بے معنی ہے، لذٰکا ہماری ساری کوششیں یونہی ٹائیں ٹائیں فش ہو کر رہ گئیں اور بات آئی گئی ہوگئی۔
ہمارے ریجن کے جتنے بھی طالب علم اس وقت شہر میں موجود تھے، انھیں بھی مہتمم صاحب نے دعوت دی تھی، لہٰذا ہمیں ملا کر دعوت میں کل چھ اشخاص تھے۔ ہم چونکہ میزبان خاتون کے پہلو میں بیٹھے تھے، لہٰذاانھوں نے فوراً ہم سےپوچھا کہ ہم کون سا مشروب پینا پسند کریں گے؟ ہم نے اِدھر اُدھر دیکھا، ہماری میز پر ہر طرف بئیر کے گلاس نظر آرہے تھے۔ ہم نے محفوظ ترین مشروب یعنی کافی کا نام لے ڈالا۔ خاتون پریشان سی ہوگئیں اور ہم سے پوچھا کہ کیا واقعی ہم بئیر نہیں پئیں گے ؟ 
ہائے رے مجبوری۔
اول شب وہ بزم کی رونق ،شمع بھی تھی ، پروانہ بھی
یعنی موسم تو عاشقانہ تھاہی، میخانہ بھی گرم تھا، ساقی بھی ساقی گری کی لاج رکھنے کے لیے تیار تھا، ایک ہم ہی پینے والے نہ تھے۔
ہم نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی کہ ہم شراب نہیں پیتے اس پر ان خاتون کی پریشانی میں اور اضافہ ہوگیا اور انھوں نے ہمیں وائن کی پیشکش کردی۔ ہم نے دل ہی دل میں مسکراتے ہوئے ، ان سے کہا کہ اے نیک دل خاتون، وائن بھی شراب ہی ہے لہٰذا ہم الکوحل سے پاک کوئی مشروب ہی پی سکتے ہیں۔ تب اس نیک دل خاتون نے ہماری توجہ آرنج جوس کی طرف دلائی تو ہم نے فوراً حامی بھرلی۔ ان کی جان میں جان آئی کہ مہمان خوش ہوا اور انھوں نے ایک گلاس آرنج جوس کا آرڈر کردیا۔ ادھر مہمان کی بھی جان میں جان آئی کہ یہ معاملہ بحسن و خوبی حل ہوا۔ چونکہ محفل کے دیگر تمام شرکا بے چینی کے ساتھ ہمارا انتظار کررہے تھے، لہٰذا ہماری آمد آمد کے ساتھ ہی کھانے کا آرڈر دیا گیا۔ اِدھر ایک مرتبہ پھر ہمیں دخل در معقولات کرنی پڑی اور ہم نے انھیں بتایا کہ ہم مذہبی طور پر چونکہ خنزیر کے گوشت یا گائے کے بغیر حلال کیے ہوئے گوشت سے پرہیز کرتے ہیں لہٰذا ہم صرف سمندری غذا یا سبزی پرہی گزارا کریں گے۔ اب تو تمام دوستوں نے نہایت دلچسپی کے ساتھ اس کوشش میں حصہ لیا اور ہمارے لیے کھانے کی ڈش کا انتخاب کیا۔یہ مشق بھی خوب تھی اور یاروں نے اس سےخوب ہی لطف اٹھایا۔ مینو کارڈ منگوا کر ہر ہر آئیٹم کا بغور جائزہ لیا گیا ، اس کی جزئیات کو دیکھا گیااور مآلِ کار کچھ ایسی ڈشز مل ہی گئیں جو ہمارے معیارِ انتخاب پر پوری اترتی تھیں۔ڈنر کا آرڈر دیا گیا اور اس مشکل صورتحال سے بھی بخیر و خوبی نکلے تو ہم نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اپنی میزبان خاتون سے باتیں شروع کیں ، کچھ اپنی کہی اور کچھ ان کی سنی، اور اس طرح اس حسین شام کے طویل گھنٹے ہمارے لیے مختصر ہوگئے ۔ ہم نے باتوں باتوں میں ان خوبو رت جرمن خاتون سے جرمن تہذیب و تمدن اور ثقافت کو سمجھنے کی کوششیں شروع کیں اور انہیں اپنی مشرقی روایات سے آگاہ کرنا شروع کیا تو ہم خودکھوئے سےگئے۔ ہم ان باتوں میں یوں کھوئے کہ اپنا آپ بھولے اور رات گئے ہوش آیا۔ دونوں میزبانوں نے ہم چاروں مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ ادھر ہم نے بھی اپنے دونوں میزبانوں اور خاص طور پر اپنی حسین میزبان کا شکریہ ادا کیا کہ جن کی بدولت اس قدر حسین شام ہمارے حصے میں آئی اور رات بارہ بجے کی بس پکڑ کر اپنے کمرے کو سدھارے۔
خیر صاحب اس طرح جمعہ یعنی ہمارے اس کورس کا یومِ آخر بھی آگیا۔ اپنی کلاس میں پہنچ کر اسامد صاحب کے آنے تک ہم نےخوب جی بھر کر انےہ دوستوں کے ساتھ گپ شپ کی۔ دوپہر بارہ بجے تک ہم سب تجربہ گاہ کوسمیٹ کر اور اپنےاساتذہ سے اپنی اپنی اسناد لے کر فارغ ہوچکے تھے۔ ہم آخری مرتبہ اپنے تمام دوستوں سے ملے اور دل پرایک بھاری بوجھ لیے ان سب سے رخصت ہوگئے۔ 
اب ہم تھے اور ہماری تنہائی۔ اب ہمیں ڈھائی پہاڑ سے دن اس غیر ملک میں تنِ تنہا گزارنےتھے۔ اس پر طرہ یہ کہ بابو کا انتظار کرنا تھا۔ اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ اپنے وطن سے نکلے اور اس غیر ملک میں پورے تین ہفتے، اپنی مادری زبان بولے بغیر ، اپنے گھر والوں اور اپنے ہم وطنوں کو دیکھے بغیر گزار چکے تھے اور اب انگریزی بولتےبولتے اور پشتونما جرمن سنتے سنتے تھک چکے تھے۔ اِدھر ہمیں یہ مژدہ جاں فزا بھی سننے کو مل چکا تھا کہ اگلےدوہفتےیعنی اگلی کلاس میں ہمارے یارِ جانی عرف بابو بھی ہمارے ساتھ ہوں گے۔ یوں یہ دودن کا انتظار بھی کافی جان لیوا ثابت ہورہاتھا۔
وہ سہہ پہر ہم نے بازار میں گزاری اور بابو کے شایانِ شان کوئی کھانے کی شے کھوجتے رہے۔ بالآخر طے کیا کہ ایک اچھے دوست کے لیے چاکلیٹ سے بہتر اور کوئی تحفہ توہو ہی نہیں سکتا اور ایک دکان سے باؤنٹی چاکلیٹ کے پانچ عدد چھوٹے پیکٹ مول لے لیے۔بازار ہم گئے تھے، اک چوٹ مول لائے۔ہفتے کے اختتامیے کے بعد بروزِپیرجب بابو سے ملاقات ہوگی تو ہم انھیں کھانے کے یہ میٹھے اور ذائقے دار چاکلیٹ پیش کریں گےتو وہ ہماری دوستی اور خلوص سے کس قدر متاثر ہوں گے۔ہم سا دوست کوئی کہاں سے پائے گا۔ 
ہفتے کے دن ہم دیر تک سوتے رہے ۔تقریباً دوپہر کو نہایت کسلمندی کے ساتھ اٹھے، ناشتہ کیا اور پھر سوگئے۔ اُٹھے تو خیال آیا کہ پانچ چاکلیٹ بہت ہوتے ہیں اور پھر بابو اتنے چاکلیٹ بھلا کب کھاتے ہوں گے، لہٰذا ایک چاکلیٹ نکال کر حضم کرگئے۔ اسی طرح باقی وقت اور اتوار کا پورا دن بابو کا انتظار کرتے رہے اور چاکلیٹ کھاتے رہے، یہاں تک کہ انتظار کی گھڑیاں بھی کٹ گئیں اور چاکلیٹ بھی ختم ہوگئے اور ہم اگلے خوشگوار دن کا تصور اپنے ذہن میں لاتے ہوئےنیند کی وادی میں پہنچ گئے۔

المانیہ او المانیہ۔ قسط نمبر تین

المانیہ او المانیہ۔ ۔جرمنی کی سیر
ِ المانیہ او المانیہ۔ سیرِ برلن
قسط نمبر (۳)
ہماری بس چیک پوائینٹ چارلی پہنچی تو مغربی جرمنی کی سرحد پر متعین گارڈز نے ہمارے پاسپورٹ کا جائزہ لیا اور ہمیں آگے بڑھنے کا اشارہ کردیا۔ بس رینگتی ہوئی آگے بڑھی اور نو مینز لینڈ سے ہوتی ہوئی مشرقی جرمنی کی سرحد پر پہنچ گئی۔ دیوارِ برلن کو دیکھ کر جو ہیبت ہم پر طاری ہوگئی تھی وہ اور زیادہ گہری ہوگئی۔ مشرقی جرمن فوجیوں نے انتہائی سرعت کے ساتھ بس کو گھیرے میں لے لیا اور اس کی جامع تلاشی شروع کردی۔ تمام مسافروں کے پاسپورٹ چیک کرکے اپنے قبضے میں کرلیے گئے اور بس کی نچلی منزل پر واقع سامان کے کمپارٹمنٹ کو کھول کر اس کی بھی تلاشی لی گئی۔ تقریبا آدھے گھنٹے کی چیکنگ کے بعد آخر کار ہمیں آگے بڑھنے کا اشارہ کیا گیا۔ اب ہم اگلے چار گھنٹے تک اس بس چے چمٹے رہنے پر مجبور تھے اس لیے کہ ہمارے پاسپورٹ فوجیوں نے اپنے قبضے میں لے لیے تھے جو بشرط واپسی ہی ہمیں لوٹائے جانے تھے۔ ہمارے دل میں یہ احساس جاگزیں ہوچکا تھا کہ ہم ایک آزاد دنیا سے ایک قید خانے میں جارہے تھے۔ایک عجیب اداسی کی کیفیت ہمارے حواس پر طاری ہورہی تھی۔اے اداسی تجھے سلام۔ ہم جو صرف چار گھنٹے کے لیے اس دنیا میں داخل ہوا چاہتے تھے، پریشان تھے، اداس تھے، اپنی آزادی کے چھن جانے پر خوفزدہ تھے۔ ہمیں ان لوگوں کا بھی خیال تھا جو اپنی ساری زندگی اس قید خانے میں گزارنے پر مجبور تھے۔ جن کے ارد گرد ایک لوہے کا پردہ ڈال دیا گیا تھا۔ جو اس وسیع و عریض قید خانے میں ضمیر کے قیدی تھے۔ بھاری دل کے ساتھ ہم نے اس نئی دنیا میں قدم رکھا اور ہماری بس نے چیک پوایئنٹ چارلی سے مشرقی برلن ( مشرقی جرمنی) میں سفر شروع کیا۔
بہتر معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر ہمارے پیارے قارئین کو چیک پوائینٹ چارلی سے متعلق کچھ معلومات فراہم کردی جائیں۔ یہ معلومات ہم نے مندرجہ ذیل ویب سائیٹ سے لی ہیں ۔ قارئین اس ویب سائیٹ پر جاکردیوارِ برلن کی پوری تاریخ جان سکتے ہیں۔
http://www.dailysoft.com/berlinwall/history/
’’ ۱۳ اگست ۱۹۶۱ کو سرحدبند کرنے کے دس دن بعد، سیاحوں، دوسرے ممالک کے افسروں ( ڈپلو میٹس ) اور مغربی طاقتوں کے فوجیوں کو مشرقی برلن میں داخلے کے لیے صرف فریڈریش اسٹراسے پر واقع گیٹ استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔ کچھ دن بعد ، اس کے علاوہ دو اور چیک پوائینٹس کھولے گئے جن میں سے ایک مغربی جرمنی کی سرحد پر واقع تھا اور ہیلم اشٹاڈ میں تھا اور دوسرا مغربی برلن اور مشرقی جرمنی کی سرحد پر ،ڈرائی لنڈن میں تھا۔ ان تین چیک پوائینٹس کو بالترتیب چیک پوائینٹ الفا ( ڈرائی لنڈن)، چیک پوائینٹ براوو ( ہیلم اشٹاڈ) اور چیک پوائینٹ چارلی ( فریڈریش اسٹراسے) کے نام سے پکارا گیا۔‘‘ 
چیک پوائینٹ چارلی سے آگے بڑھے تو ہماری حسین گائڈ نے بس کے انٹر کام پر ہمیں خوش آمدید کہا اور ارد گرد کی عمارات سے متعلق معلومات بہم پہنچانا شروع کردیں۔ ہم ایک کشادہ سڑک پر پہنچے تو گائڈ نے بتایا کہ اس سڑک کا نام اُنٹر ڈی لنٹن یعنی ’’لیموں کے درختوں کی چھاؤں میں‘‘ ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ اس سڑک پر دورویہ لیموں کے درخت لگائے گئے تھے جسکی وجہ سے اس اسٹراسے کا نام ہی اُنٹر ڈی لنٹن پڑ گیا تھا۔ اس وسیع و عریض شاہراہ کے دونوں جانب انتہائی عالیشان عمارتیں اس شہر کے عظیم ماضی کے قصے سنا رہی تھیں۔ ایک ایک عمارت دیکھنے کے لائق تھی۔ خوبصورت، عالیشان اور فن تعمیر کا ایک اعلیٰ نمونہ۔ یکے بعد دیگرے ان عمارتوں کا ایک سلسلہ تھا جو دور تک پھیلا ہوا تھا۔ پتھر کی بنی ہوئی یہ بلند و بالا عمارتیں اس پارینہ عظمت کے گن گا رہی تھیں جو اس شہر اور اس عظیم ملک کا خاصہ تھی۔ہم دیکھتے ہی چلے گئے۔ کبھی بس کے سامنے کے شیشے سے آنے والی عمارت کو دیکھتے، کبھی دائیں دیکھتے اور کبھی بائیں۔ ادھر ہماری گائڈ ایک خوبصورت جرمن خاتون تھی جس کے گلے کی حلاوٹ پر ہم کئی کئی مرتبہ قربان ہو ہو سے گئے۔اس کا بیان پہلے جرمن اور پھر انگلش زبان میں ہوتا۔ پہلے ہم اسکے حسین چہرے کی بناوٹ کو دیکھتے ہوئے اس کے خوبصورت منہ سے جرمن زبان کی شیرینی کے مزے لوٹتے اور پھر انگلش میں اس کا مدعا جانتے۔ پہلے جرمن زبان میں وہ جب بھی شہر برلن کا تذکرہ کرتی، اسکے بیان میں لفظ ’برلن‘ ہمیں بلین سنائی دیتا ، پھر اسکے ترجمے میں وہ اسے انگلش لہجے میں بورلن ( رے کو پر کرکے) ادا کرتی۔ ہم جو اسکے الفاظ کی ادائیگی اور تلفظ پر پہلے ہی فدا ہورہے تھے، اس لفظ کو دو مختلف زبانوں میں سن کر تو جھوم جھوم اٹھتے۔اگلے تین گھنٹے کچھ اس تیزی کے ساتھ گزرے کہ ہم حیران رہ گئے ۔کاش کچھ اور وقت ملا ہوتا تاکہ ہم اس کی زبان کی شیرینی سے صحیح طور پر لطف اندوز ہو سکتے۔ کاش کچھ اور وقت ملا ہوتا اور ہم پیدل گھوم کر ان عمارتوں کو دیکھ پاتے۔ یہی سوچتے ہوئے ہم ایک ایک گزرے ہوئے لمحے کو اپنی یادداشت میں محفوظ کرتے رہے۔
ایک جگہ ، پتھر کی خوبصورت عمارت کے صحن میں ہمیں بس سے تارا گیا۔ ہم نے ٹانگیں سیدھی کیں اور گائڈ کی جانب دیکھا تو پتا چلا کہ ہمیں ایک عدد میوزیم کو دیکھنے کے لیے یہاں روکا گیا ہے۔ میوزیم بھی خاصا دلچسپ تھا۔ فارغ ہوئے تو پھر بس میں اپنی اپنی سیٹ سنبھالی اور اپنی حسین ٹوور گائڈ اورمشرقی برلن کے خوبصورت نظاروں میں کھو گئے۔
بس میں سے چلتے چلتے ہم نے ایک عدد عالیشان اور خوبصورت گیٹ کو بھی دیکھا جس کے اوپر ایک لائف سائز رتھ کو چار تنومندگھوڑے کھینچ رہے تھے۔اس ’’کواڈریگا ‘‘ یعنی رتھ کو جرمن دیومالائی کہانیوں کی فتح کی دیوی ’’ وکٹوریہ‘‘ چلارہی ہے۔ پتھر کا بنا ہوا یہ مجسمہ اتنا دل لبھانے والا تھا کہ ہم مبہوت ہوکر اسے دیکھتے رہے جب تک کہ وہ ہماری نظروں سے اوجھل نہ ہوگیا۔یہ عمارت جس کا نام برنڈن برگ گیٹ ہے، برلن کا لینڈمارک یا علامتی عمارت کہلائی جانے کی بجا طور پر مستحق ہے 
کبھی کبھی دیوار برلن کی بھی ہمیں ایک آدھ جھلک نظر آجاتی تھی لیکن دور دور سے، ا دھر ہماری گائڈ اس بارے میں خاموش تھی۔ وہ ہمیں سامنے سے گزرنے والی عمارتوں کے ماضی بعید کے بارے میں فر فر بتاتی رہی، لیکن پچھلے پچاس ساٹھ سالہ تاریخ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ 
خیر صاحب ، یہ چار گھنٹے کہاں گئے، ہمیں آج تک نہیں پتا چلا۔ ہم ایک خوابناک انداز میں اس عظیم الشان شہر کو دیکھتے رہے یہاں تک کہ بس دوبارہ چیک پوائینٹ چارلی پر پہنچ کر رک گئی۔ اب جو تلاشی شروع ہوئی ہے تو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ بس کے ہر کونے کھدرے کی تلاشی لی گئی۔سامان کے کمپارٹمنٹ کو دوبارہ کھلوا کر ایک ایک سوٹ کیس اور بیگ کو نکال کر دیکھا گیا۔دراصل مشرقی جرمنی والے یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کا کوئی بھی شہری ان کے چنگل سے آزاد ہوکر آزاد دنیا میں جاسکے اور سکھ اور چین کا سانس لے سکے۔ہمیں ہر لمحہ یہ خوف دامن گیر تھا کہ کہیں ہمیں کسی ناکردہ گناہ کی پاداش میں روک ہی نہ لیا جائے۔ خیر خدا خدا کرکے اس تکلیف دہ صورت حال کا خاتمہ ہوا اور فوجیوں نے بس کو آگے بڑھانے کا اشارہ کردیا۔ ہمیں اپنے پاسپورٹ کی بھی فکر دامن گیر تھی لیکن گائڈ کے ہاتھوں میں پاسپورٹوں کی گڈی میں جھانکتا ہوا ہرا رنگ دیکھ کر جان میں جان آئی۔ بس نے ہمیں اسی چوک میں اتار دیا جہاں سے ہم اس سفر پر روانہ ہوئے تھے۔ ہمیں یقین نہیں آرہا تھا کہ ہم مشرقی جرمنی کے شہر مشرقی برلن ہو آئے ہیں۔ہم نے اور ہمارے کینیڈین دوست نے اپنے اپنے پاسپورٹ سنبھالے اور دوسری بس کی جانب بڑھے جو مغربی برلن کی سیر کے لیے تیار تھی۔ 
اگلے آدھے گھنٹے کے اندر اندرہم مغربی برلن کی سیر کی غرض سے ایک دوسری بس میں آرام سے بیٹھے تھے، ہماری ہمسفر گائڈ ایک اور جرمن شگفتہ چہرے والی خاتون تھی اور بس اپنے سفر پر روانہ ہونے کو تھی۔ ہم نے اپنی نگاہیں گائڈ کے چاند سے چہرے پر گاڑدیں اور مغربی برلن کی بہاریں دیکھنے کے لیے تیار ہوگئے۔
بس چلی تو سب سے پہلا نظارہ قیصر ویلہلم کا گرجا تھا جو جنگ عظیم دوم میں تقریباً مکمل طور پر تباہ ہوچکا تھا، اس کا تباہ شدہ مینار اب بھی اسی حالت میں کھڑا عظمت رفتہ کی کہانی سنارہا ہے جسکے برابر ۱۹۶۳ میں ایک نئی عمارت بنا دی گئی ہے۔ بس گھومتی رہی اور ہم مغربی جرمنی کی خوبصورت اور نسبتاً نئی عمارات کو دیکھتے رہے۔ ہمارا خیال ہے کہ زیادہ تاریخی اور عالیشان عمارات شہر کے مشرقی حصے میں تھیں۔ بس نے ہمیں دیوارِ برلن کے قریب ایک عمارت میں اتارا اور ہم اس میوزیم کو دیکھتے ہوئے دیوارِ برلن کی اصل کہانی سنتے رہے۔ یہاں سے ہم دیوار کے قریب گئے اور اس پر مغربی جانب بنے ہوئے مصوری کے نمونے دیکھا کیے۔ قریب ہی کچھ قبریں بھی تھیں جو دیوار پار کرنے والوں پر مشرقی گارڈز کے ظلم کی داستان سنا رہی تھیں۔
ہم نے میوزیم کی عمارت کے چبوترے پر چڑھ کر دوسری طرف جھانکا تو قریب ہی برنڈن برگ گیٹ کی عالیشان عمارت نظر آرہی تھی۔ دیوار کی دوسری جانب ایک ہیبت ناک سناٹا چھایا ہوا تھا اور کوئی آدم یا آدم زاد نظر نہیں آتا تھا، گو یا کسی انسان کوبھی اُدھر دم مارنے کی اجازت نہ تھی، اِدھر مغربی جانب اسے ایک مصور دیوار کی حیثیت حاصل تھی جس پر ہزاروں مصوروں نے اپنے نقش و نگار چھوڑے تھے۔
بحیثیت مجموعی برلن ہمیں اچھا لگا تھا۔ آج تقریباً پچیس سال بعد ہم اس شہرکو دوبارہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ متحدہ برلن کتنا عظیم الشان شہر ہوگا۔ اس کریہہ المنظر دیوار کا کیا ہوا ہوگا۔ ٹی وی پر کئی مرتبہ اس دیوار کو گرتے ہوئے دیکھاہے، جو ہمیں بہت اچھا لگا۔ اس وقت لوگوں کے بپھرے ہوئے جذبات کا کیا عالم ہوگا جب انھوں نے ہر زنجیر کو توڑ دیا اور اس قبیح دیوار کو آخر کار گرادیا جس نے انھیں پچاس سال ایک دوسرے سے جدا رکھا تھا۔ اس دنیا میں ہم نے ایک ملک کے اتحاد کو پارہ پارہ ہوتے ہوئے تو اکثر دیکھا ہے لیکن یونیفیکیشن یعنی ایک ملک کے دوحصوں کو متحد ہوتے ہوئے پہلی بار دیکھا۔People have spoken عوام کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا۔
اپنےدن کی اس مصروفیت میں ہم دوپہر کا کھانا بھول چکے تھے، لہٰذا ان دونوں سفروں سے فارغ ہوکر ہم نے ایک ریستوران میں جاکر رات کا کھانا کھایا ، اور اسٹیشن پہنچ کر میونخ کی ٹرین پر سوار ہوگئے۔ ابھی اتوار کا دن باقی تھا جسے ہم میونخ کی سیر میں گزارنا چاہتے تھے۔ آج ساری رات سفر میں سوتے ہوئے گزار کر کل صبح سویرے ہم میونخ پہنچ جائیں گے جسے اہلِ جرمنی میونچن کہتے ہیں۔ 
رات آئی تو پھر گارڈز نے ہمارے پاسپورٹ چیک کیے اور ہمیں مشرقی جرمنی کا ٹرازٹ ویزا تھمادیا۔ یہ دونوں کاغذات اب بھی ہمارے خزانے میں موجود ہیں۔ جب کبھی ہم اپنے اس خزانے کو نکال کر دیکھنا شروع کرتے ہیں میموری لین میں پہنچ جاتے ہیں، اپنی پیاری یادوں کے درمیان، جب ہم نے یہ سفر کیے تھے۔ جب ہم نے اس انوکھی سرزمین کی سیر کی تھی۔
اس سفر سے واپسی کے بعد برلن ہمارے لیے اجنبی شہر نہ تھا۔ جب کبھی کسی ناول میں اس کا تذکرہ آتا، ہم بہت شوق سے اسے پڑھتے۔ برلن جسے ہم دیکھ چکے۔ دیوارِ برلن جو اب قصہ پارینا بن چکی ، ہم نے اسے دیکھا ہے۔ جان لی کار کا جاسوسی ناول ’’دی اسپائی ہو کیم ان فرام دی کولڈ‘‘ ہمارے پسندیدہ ناولوں میں سے ہے۔ یہ اسی دور کی کہا نی ہے جب دنیا دو حصوں میں بٹی ہوئی تھی۔ دیوار برلن کے اُس طرف اور دیوارِ برلن کے اِس طرف۔آہنی پردے کر اُس طرف اور آہنی پردے کے اِس طرف۔یہ ٹھنڈی جنگ یعنی ’کولڈ وار‘ کا قصہ ہے۔ اسی ناول میں چک پوائینٹ چارلی کا تذکرہ بھی موجود ہے جسے عبور کرتے ہوئے ایک کردار مشرقی جرمن فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بن جاتا ہے۔یہ وہی چیک پوائینٹ چارلی ہے جسے عبور کرکے ہم مشرقی برلن گئے تھے۔
اگلی صبح ہم میونچن پہنچ گئے اور سارا دن اسی طرح اس عظیم شہر کی سیر کی اور شام ڈھلے ایرلانگن کو سدھارے۔میونچن، نورمبرگ اور ایرلانگن، جرمن صوبے بویریا کا حصہ ہیں۔ بویریا کے رہنے والے بائر کہلاتے ہیں۔ ریشارڈ شرم بھی ایک بائر تھا۔ وہ اکثر کہا کرتا تھا۔ 
It’s nice to be a price but it’s higher to be a Bayar
’’پرائس ہونا اچھا ہے لیکن بائر ہونا زیادہ بہتر ہے۔‘‘
کہتے ہیں پرانے زمانے میں بویریا میں گھڑیاں الٹی چلتی تھیں۔ آج بھی بویریا کی گھڑیوں کی دکانوں پر آپ کو ایسی گھڑیاں مل جاتی ہیں جو کاؤنٹر کلاک وائز چلتی ہیں۔ ہم نے بھی میونچن سے ایک ایسی ہی دیوار گھڑی ( وال کلاک) مول لی جو الٹی چلتی تھی۔گھر لاکر اکثر ہم اپنے مہمانوں کو یہ عجیب و غریب گھڑی دِکھا کر حیران کردیا کرتے تھے۔
ہمارا ویک اینڈ ختم ہورہا تھا۔ کل سے پھر وہی ٹریننگ ہوگی اور وہی مصروفیات۔ اِس کورس میں ابھی ایک ہفتہ باقی ہے۔ اگلے ہفتے بابو بھی کراچی سے آرہے ہیں جن کے ساتھ ملکر ہم ایک دوسری ٹریننگ حاصل کریں گے، ایک دوسری جماعت کا حصہ بنیں گے۔ ہمارا کینیڈین دوست، ہمارا جرمن دوست ریشادڑ شرم اور سوین گنار اولسن سب اپنے اپنے گھروں کو سدھاریں گے، شاید پھر کبھی نہ ملنے کے لیے۔ٹرین جوں جوں ایرلانگن سے قریب ہوتی جاتی تھی، ہماری اداسی بڑھتی جاتی تھی۔ اے اداسی تجھے سلام۔

المانیہ او المانیہ: جرمنی کی سیر

المانیہ او المانیہ: جرمنی کی سیرمحمد خلیل الرحمٰنقسط نمبر ایک
ہمیں کالے پانی کی سزا ہوگئی۔ یہ وہی سزا ہے جسے منچلے پردیس کاٹنا کہتے ہیں۔ سنتے ہیں کہ قسمت والوں ہی کے مقدر میں یہ سزا ہوتی ہے۔ عرصہ ایک سال ہم نے بڑی کٹھنائیاں برداشت کیں اور یہ وقت کاٹا۔ پھر یوں ہوا کہ ہمارے لیے اس علاقے ہی کو جنت نظیر بنادیا گیا۔پھر تو پانچوں انگلیاں گھی میں تھیں اور سر کڑھائی میں۔ پھر ہمیں یہ مژدہ جاں فزاء سننے کو ملا کہ ہمیں جرمنی میں پانچ ہفتے کی تربیت یا جبری مشقت کے لیے چن لیا گیا ہے۔ ہم خوشی سے پھولے نہ سمائے۔ اپنا سفری بیگ اٹھایا اور کراچی کے لیے روانہ ہوگئے۔ گھر پہنچ کر گھر والوں کو بھی یہ خوشخبری سنائی۔ وہ بھی بہت خوش ہوئے اور جواب مضمون کے طور پر ہمیں ایک اور خوشخبری سنادی۔
’’ تمہارے چھوٹے بھائی کا تبادلہ بھی اسلام آباد کردیا گیا ہے اور اب وہ بھی تمہارے ساتھ ہی رہے گا۔‘‘
ابھی یہ بم ہمارے سر پر اچھی طرح پھٹنے بھی نہیں پایا تھا کہ بھائی نے گرینیڈ سے ایک اور حملہ کردیا۔
’’ بھائی! یہ بتائو کہ کراچی سے اسلام آباد جاتے ہوئے اسلام آباد ائر پورٹ پر کسٹم پہلے ہوتا ہے یا پھر امیگریشن؟‘‘
ہم نے خون کے گھونٹ پی کر اس حملے کو بھی برداشت کیا اور سفر کی تیاریوں میں لگ گئے۔ اگلے روز کمپنی کے صدر دفتر پہنچے تو پرِ پروانہ اور دیگر ضروری دستاویزات کے ساتھ ایک عدد لمبی چوڑی فہرستِ اشیائے ضروریہ ہمارے حوالے کی گئی جن کا بہم پہنچایا جانا ہماری ہی صحت کے لیے بہت ضروری تھا۔ 
بڑے بھائی ( مر حوم ) کو ساتھ لیا اور بھاگے بھاگے لنڈا بازار پہنچے اور وہیں سے یہ تمام اشیاء بصد شوق خریدیں جن میں ایک عدد گرم سوئٹر، گرم واٹر پرف دستانے ، ایک جوڑی لمبے جوتے، اندر پہننے کے لیے گرم پائجامےاور ایک عدد لانگ اوور کوٹ شامل تھے۔
اس اوور کوٹ کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے۔جب ہم فخر سے اسے پہن کر باہر نکلتے تو گورے اور گوریاں ہمیں حیرت سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے تھے۔ بقول جناب مختار مسعود:۔
’’ چلتے چلتے کسی نے نگاہِ غلط انداز ڈالی اور کسی نے نظر انداز کیا۔ نظر بھر کر دیکھنے والے بھی گو دوچار سہی، اس بھیڑ میں شامل تھے۔( برف کدہ۔ سفر نصیب)
واپسی پر اندازہ ہوا کہ ہم نےغلطی سے زنانہ اوور کوٹ مول لے لیا تھا۔ جس کے بٹن الٹی جانب تھے۔ ہم نے چونکہ زرِ کثیر صرف کرکے یہ قیمتی اوور کوٹ مول لیا تھا، لہٰذا اب اس کا استعمال ترک نہیں کرسکتے تھے۔ ہم نے اسے عرصہ کئی سال تک یورپ کے اکثر سفروں میں استعمال کیا یہاں تک کہ بیگم نے اسے سیلاب فنڈ میں دیدینے کا اعلان کردیا اور ہم اس قیمتی اوور کوٹ سے جبراً محروم کردئیے گئے۔
ہماری پہلی منزل فرینکفرٹ ائر پورٹ تھی، جہاں سے ہمیں جہاز تبدیل کرکے نورمبرگ کی فلائٹ لینی تھی۔ ہمیں تجربہ کار دوستوں نے اس ائر پورٹ سے متعلق پہلے ہی خبردار کردیا تھا کہ یہ ائر پورٹ بہت بڑا ہے اور کئی طویل راستے اس میں طے کرنے پڑیں گے لہٰذا دیکھ بھال کر چلنا۔مزید یہ کہ اس ائر پورٹ پر تمہیں چہرے جتنی چوڑائی والی بندکھڑکیاں بھی نظر آئیں گی ۔ یہ وہاں کا مشہور تانک جھانک شو ( پیپ شو) ہے۔ سکہ ڈالتے ہی شیشے کی کھڑکی پر سے پردا چند منٹ کے لیے سرک جائے گا۔ مزے سے نظارہ کرو۔ اور دیکھو‘‘ انھوں نے تاکیداً کہا۔’’ اس چند منٹ کے عرصے کو پلکیں جھپکانے میں نہ گزار دینا۔غور سے دیکھنا اور ایک ایک تفصیل کا دھیان رکھنا۔‘‘ گویا ہمیں واپسی پر اس تانک جھانک ہی کا تو تجزیہ لکھ کر کمپنی میں پیش کرنا تھا۔
فرینکفرٹ ائر پورٹ ٹرمنل کی عمارت واقعتاً ہمارے قیاس سے بھی بڑی تھی ، لہٰذا ہم ھیبت کے مارے بھاگتےہی چلے گئے اور نورمبرگ کی فلائٹ کی روانگی کے ہال پر جاکر ہی دم لیا اور وہاں پر اطمینان کے ساتھ بیٹھ کر گورے گورے چہروں والی حسینائوں کے سردی سے تمتمائے حسین چہروں کو تکتے رہے۔ ہمارے لیے یہی تانک جھانک بہت تھی۔
نورمبرگ ائر پورٹ سے ٹیکسی لی اور ڈرائیور کو چھپا ہو اکاغذ دکایا جس پر ہماری منزل کا پتا لکھا ہوا تھا۔ اس نے کچھ آئیں بائیں شائیں کی اور ایک نقشہ نکال کر اس پر جھک گیا۔ پھر اس نے وائر لیس ریڈیو پر کسی سے پشتو یا اس قبیل کی کچھ آوازیں نکال کر کچھ گپ شپ کی ، دو منٹ بعد اس نے گاڑی اسٹارٹ کی اور ہمیں منزل مقصود تک پہنچا کر ہی دم لیا۔
ارلانگن ہمارا مستقر دراصل ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جس کا اپنا کوئی ائر پورٹ نہیں ہے۔ نورمبرگ ائر پورٹ جو تاریخی شہر نورمبرگ اور ارلانگن کے درمیان واقع ہے، دو نوں شہروں کے لیے ائر پورٹ کاکام دیتا ہے۔ قارئین کو علم ہوگا کہ نورمبرگ جرمنی کے جنوبی صوبے بویریا کا ایک تاریخی شہر ہے ۔ ہٹلر کے زمانے میں اس شہر کے قلعے میں اس نے گسٹاپو کا عقوبت خانہ بھی بنوایا تھا۔
اس صوبے کا سب سے بڑا اور مشہور شہر میونخ ہے جسے جرمن میونچن کہتے ہیں۔
گھر پہنچے تو صرف ایک بزرگ جوڑ ہی گھر پر ملا۔ دونوں ہمیں دیکھ کر نہال ہوگئے اور مسلسل جرمن زبان میں استقبالیہ کلمات کہتے رہے جو ہمارے لیے آواز کی کرختگی کے لحاظ سے پشتو ہی تھے۔ انھوں نے گھر کے پچھواڑے ہمیں ایک کمرے تک پہنچا دیا جس کا دروازہ اور ایک کھڑکی صحن میں کھلتے تھے۔ کمرے کے اندر داخل ہوتے ہی ایک جانب ایک گوشے میںچھوٹے سے کچن کا بندو بست تھا اور دوسری جانب ایک باتھ روم تھا۔
ہم بھی ان بڑے میاں اور بڑی بی سے مل کر بہت خوش ہوئےاور اگلے پانچ ہفتوں تک مہ وشوں کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے رہے، فارسی کا یہ شعر پڑھتے رہے اور جرمن زبان کا مزہ اپنے منہ میں محسوس کرتے رہے۔زبانِ یارِ من ترکی و من ترکی نمی دانم
چہ خوش بودی اگر بودی زبانِ خوش دہانِ مناب ہم نے کھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ آرام اور حوائجِ ضروریہ سے فارغ ہونے کے بعد باہر نکلنے کا ارادہ کیا تاکہ ابھی سے بس میں جاکر تربیتی مرکز دیکھ آئیں اور اگلے روز وقتِ مقررہ پر تربیت گاہ پہنچ سکیں۔باہر سردی مزاج پوچھ رہی تھی ۔ ہم نے دستانے چڑھائے، اوور کوٹ کو اچھی طرح اپنے جسم کے ارد گرد لپیٹ لیا اور بس اسٹاپ پرآکر کھڑے ہوئے اور اِدھر اُدھر نظر دوڑائی تاکہ اس جگہ کو پہچان کر واپسی کا راستہ متعین کر سکیں۔ پہلے تو ارد گرد کے ماحول کی تفصیلات کو ذہن میں بٹھایا، پھر اس بس اسٹاپ اور اس محلے کا نام معلوم کرنے کی دھن ہمارے دل میں سماگئی۔ یہ ایک چھوٹا سا بس اسٹینڈ تھاجہاں پر بس کا انتظار کرنے کے لیے ایک لکڑی کی بنچ لگائی گئی تھی ۔اسی طرح ایک کونے میں دوتین نوٹس بھی نظر آئے، دیکھنے پر پتہ چلا کہ یہاں پر آنے والی بسوں کے روٹس اور اوقات ہیں۔ ساتھ ہی اوپر کی جانب ایک چھوٹے سے بورڈ پر ایک نام لکھا ہوا تھاجسے ہم نے ذہن میں بٹھا لیا۔اتنے میں کیا دیکھتے ہیں کہ ایک گول مٹول، خوبصورت سی ، مائل بہ فربہی، پیاری سے حسینہ ہمارے برابر آکر کھڑی ہوگئی اور سامنے لگے ہوئے نوٹس کو غور سے پڑھنے لگی۔ہم نے سوچا کہ اب ہمیں اس مظہرِ حسن کے ساتھ بات چیت کا آغاز کردینا چاہیے، تاکہ اپنی معلومات میں خاطر خواہ اضافہ کرسکیں۔ یہ سوچتے ہی پہلے تو پانچ منٹ تک اپنے حواس مجتمع کرتے رہے، پھر ہمت کرکے کھنکارے اور بھررائی ہوئی آواز میں یوں گویا ہوئے۔’’ معاف کیجیے گا؟‘‘اللہ جانے یہ سردی کا اثر تھا یا رعبِ حسن کا دبدبہ کہ ہمیں اپنی کپکپاتی ہوئی آواز کہیں دور سے آتی ہوئی معلوم ہوئی۔’’ جی فرمایئے؟‘‘ وہ حسینہ فوراً ہماری جانب متوجہ ہوگئی اور اپنی کوئل جیسی آواز میں انگریزی میں گنگنائی۔’’ کیا اس جگہ کا نام نیو مالے ہے؟‘‘ ہم نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔’’جی؟‘‘ اس نے غور سے سننے کی کوشش کی اور پھر ایک خوبصورت اندازِ پریشانی میں کندھے اچکائے۔ جرمنوں کا یوں کندھے اچکانے کا یہ انداز بھی ہمیں بہت پیارا لگا۔ جرمنوں کو جب بھی کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی، وہ اسی طرح اپنے کندھے اچکا دیتے ہیں۔ہم نے کچھ دیر سوچا، اس صورتحال کا ادراک کیا اور پھر فوراً اپنی جیب سے ٹشو پیپر نکال کر اس پر اس جگہ کا نام لکھ دیا۔ جیسے اُس بورڈ پر لکھا ہوا تھا۔’’ اوہ! نائے میوہلے۔ نائے میوہلے۔‘‘ وہ بیچاری کھل اٹھی۔پھر ہم نے اسکی آواز کی نغمگی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اپنا تعارف کروایا اور اسے بتایا کہ ہم ابھی ابھی اس کے ملک میں وارد ہوئے ہیں اور یہ ہمارا اپنے ملک سے باہر کوئی پہلا سفر ہے۔’’ میرا نام فاطمہ ہے۔ فاطمہ کیتی سی اوغلو!‘‘ اس نے بتایا۔وہ ایک ترک مسلمان لڑکی تھی اور اپنی پیدائش سے ہی یہاں رہتی تھی۔ یعنی پیدایشی طور پر جرمن تھی۔ پھر کیا تھا۔ ہم نے اس کے ساتھ گپ شپ شروع کردی۔ اسے اس جگہ کا پتہ بتلایا جہاں ہمیں جانا تھا۔ ورنافان سیمنز اسٹراسے کا نام سنتے ہی وہ دوبارہ کھل اٹھی اور اس نے بتایا کہ وہ بھی اسی جانب جائے گی، لہٰذا ہم دونوں کی بس ایک ہی ہے۔بس آئی تو ہم دونوں اس میں سوار ہوگئے اور ایک ہی سیٹ پر بیٹھ کر ایک دوسرے سے متعلق معلومات بہم پہنچاتے رہے۔ سنٹرم پہنچ کر وہ بس سے اتر گئی اور ہمیں بتلا دیا ہمیں اب سے کوئی تین چار اسٹاپ بعد میں ورنافان سیمنز اسڑاسے پر اترنا ہے اور بس ڈرائیور کو بھی اس بارے میں واضح ہدایات دیتی ہوئی وہ ہم سے رخصت ہوئی۔ ہم نے بھی اس کا بہت بہت شکریہ ادا کیا۔ایک جگہ بس ڈرائیور نے ہمیں تار دیا جہاں سے ورنافان سیمنز اسٹراسے شروع ہورہی تھی۔ سڑک کے گرد ڈھیروں برف پڑی ہوئی تھی۔ ہم نے اس برف میں چلنا شروع کردیا۔ کافی دور تک اور دوایک چوراہوں کو عبور کرنے کے بعد ہم اپنی منزلِ مقصود تک پہنچ گئے۔ ہمارا ٹریننگ سنٹر ایک چھوٹی سی عمارت تھی۔ اس عمارت کو اچھی طرح دیکھنے کے بعد ہم واپس مڑے۔ راستے میں سنٹرم پر اترے میکڈانلڈ سے فش فلے اور گرم گرم کافی کا لنچ کیا اور گھر واپس آگئے۔شام تک بوڑھے میزبانوں کے بیٹی اور داماد بھی آگئےجو ہفتے کا اختتامیہ ( ویک اینڈ) گزارنے کے لیے کہیں گئے ہوئے تھے۔ دونوں انگریزی جانتے تھے اور ہم سے بہت گرم جوشی کس ساتھ ملے۔ ان دونوں سے مل کر ہم نے کافی معلومات بہم پہنچائیں۔دراصل جرمن بزرگ حضرات انگریزی بالکل نہیں جانتے، جبکہ نوجوان نسل انگریزی سیکھتی ہے۔ جہاں تک بولنے کا معاملہ ہے، اکثر نوجوان واجبی ہی بولنا جانتے ہیں، جبکہ کچھ بہت اچھی طرح بول سکتے ہیں۔ انگریزی بولنے کا رواج بالکل نہیں ہے۔ صرف غیر ملکیوں کے ساتھ انگریزی بولی جاتی ہے۔ چونکہ مشکل سے بولتے ہیں، لہٰذا ہر لفظ صاف صاف ادا کرتے ہیں اور ہمارے لیے ان کی کہی ہوئی بات کا سمجھنا قدرے آسان ہوجاتا ہے۔جرمن لوگوں کو بات کرتے ہوئے سنیں تو وہ مزاج کے بہت اکھڑ لگتے ہیں۔ لیکن ان سے بات کیجیے تو وہ بہت خوش مزاج، مہربان اور مدد کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ ہمارے ساتھ اکثر یہ ہوا کہ جب بھی ہم کسی لائن میں لگ کر کائونٹر تک پہنچے اور کائونٹر والی خاتون کے ساتھ بات چیت شروع کی اور مشکل میں پھنسے، پیچھے کوئی لڑکی فوراً نکل کر آئی اور ہماری مشکل آسان کردی۔ اسی طرح جہاں پر کسی کو روک کر کوئی سوال پوچھا، انھوں نے بہت خوش مزاجی کے ساتھ جواب دیا اور صحیح رہنمائی کی۔سفر کی تھکن بہت زیادہ تھی اس لیے ہم سرِ شام ہی سو گئے اور اگلے دن صبح کی خبر لائے۔

How NOT to Invite and Welcome Friends to your Home




How NOTto Invite and Welcome Friends to your HomeM. Khalil ur Rahmanmailto:khalil.rahman@live.com
Thanks mainly to Facebook, LinkedIn, Twitter and other socialmedia; the world is fast turning into, quite literally, a global village. As a result of this epidemic, you end up with a lot more friends and acquaintances nowadays than you could have ever imagined in the times of Dale Carnegie, who took great pains to write How to Win Friends and Influence People.
Should these friends decide on the frightful prospect of visiting your home, what will you do?  Truly, there is a serious lack of guidance about the manners and etiquettes of welcoming such friends to your house. Hence, this thoughtful writer has decided to take on this noble task and enlighten you in this very urgent matter.
Unlike the technique adopted by our great friend Mr. Dale Carnegie, all inferences here have been deduced from great literary works of English and American fiction. If due attention and encouragement is given to this outline-work, the humble author can enhance this research to a full blown paper and enroll himself for a well deserved Ph.D.
A True and Devoted FriendBefore going into further details of the matter at hand, it is deemed best, considering the delicate nature of the subject, to first define the term 'Friend'.
A popular saying in Urdu claims that every person shaking your hand cannot be considered your ‘Friend.’. For a more perfect definition of the term we turn to Oscar Wilde:
‘Indeed I know of nothing in the world that is either nobler or rarer than a devoted friendship.’‘And what, pray, is your idea of the duties of a devoted friend?’Asked a green linnet.‘What a silly question!’ Cried the Water-rat. ‘I should expect my devoted friend to be devoted to me, of course.’‘And what would you do in return?’‘I don't understand you’, answered the Water-rat.(‘The Devoted Friend’ by Oscar Wilde)[MKuR1] 


Discouraging your friends’ approach to your ‘Home’ After consulting some literary giants, here’s a compendium of advice:
   1. To keep trespassers away, here’s an excellent example:“A notice appeared on the gate at Bag End: NO ADDMITTANCE EXCEPT ON PARTY BUSINESS. Even those who had or pretended to have Party Business were seldom allowed inside. Bilbo was busy: writing invitations, ticking off answers, packing up presents, and making some private preparations of his own.(The Lord of the Rings: The Fellowship of the Ring by J.R.R. TOLKIEN)

2. Some times people try to make your acquaintance just outside your door. In that case, we find some very handy advice in Harper Lee’s Novel.               “Hey.” “Hey yourself,” said Jim pleasantly.“I’m Charles Baker Harris, he said. “I can read”.“So what?” I said“I just thought you’d like to know I can read. You got anything needs readin’ I can do it…”“How old are you,” asked Jem, “four and a half?”“Going on seven.” “Shoot, no wonder, then,” said Jem jurking his thumb at me. “Scout yonder’s been reading ever since she was born, and she ain’t even started to school yet.”(To Kill a Mocking Bird by HARPER LEE)
3. If the above stated technique does not work, you can further discourage the pursuer by employing a slightly changed tactic as shown in the following paragraph,
“You look right puny for goin’ on seven.”“I’m little but I’m old,” he said.Jem brushed his hair back to get a better look. “Why don’t you come over Charles Baker Harris?” he said. “Lord! What a name.”“’s not any funnier’n yours. Aunt Ratchel [MSOffice2] says your name’s Jeremy Atticus Finch.”Jem scolded[MSOffice3] ,” I’m big enough to fit mine.” He said “Your name’s longer’n you are. Bet it’s a foot long.”(To Kill a Mocking Bird by HARPER LEE)


When the Intruder actually comes into the houseIt may come to pass that even after all these highly professional techniques, the intruder actually succeeds in entering the house. In this case, we have to take stern action, like the one elaborated in the following two cases
1.      As suggested by the paragraph from “Wuthering Heights”;
‘Mr. Lockwood your new tenant, sir. I do myself the honor of calling as soon as possible after my arrival, to express the hope that I have not inconvenienced you by my perseverance in soliciting the occupation of Thrushcross Grange: I heard yesterday you had had some thoughts__’Thrush cross Grange is my own, sir,’ he interrupted, wincing. ‘I should not allow anyone to inconvenience me, if I could hinder it__ walk in!’The ‘walk in ‘was uttered with closed teeth, and expressed the sentiment, ‘Go to the Deuce’: even the gate over which he leant manifested no sympathizing movement to the words; and I think that circumstance determined me to accept the invitation.’[MSOffice4] (Wuthering Heights by Emily Brontë)
2.      The same principle is further manifested in the next few lines;
When he saw my horse’s breast fairly pushing the barrier, he did pull out his hand to unchain it, and then sullenly preceded me up the causeway, calling, as we entered the court, __’Joseph, take Mr. Lockwood’s horse; and bring up some wine.’ ‘Here we have the whole establishment of domestics, I suppose,’ was the reflection, suggested by this compound order.(Wuthering Heights by Emily Brontë)
3.      Miss Brontë is not the only one to elaborate this point. We can find the same treatment in Mr. Henry James’ novel as follows;
“Have you come to look at the house?” Isabel asked.” The servant will show it to you.”“Send her away. I don’t want to buy it. I suppose you are one of the daughters?”Isabel thought she had very strange manners.“It depends upon whose daughters you mean.” “The late Mr. Archer’s___ and my poor sister’s.”“Ah”, said Isabel, slowly, “You must be our crazy Aunt Lydia!”(The Portrait of A Lady by Henry James)
When you are forced to bring your friend with you to your householdThere are circumstances when the unpleasant duty of bringing your friend to your household is bestowed (read: forced) upon your self. You can deal with this type of situation by just leaving the friend to find out on their own how welcome they are.
The young lady seemed to have a great deal of confidence, both in her self and in others; but this abrupt generosity made her blush. “I ought to tell you that I am probably your cousin.”
“Probably?” the young man exclaimed, laughing. “I supposed it was quite settled. Have you come with my mother?”
“Yes, half an hour ago.”
“And has she deposited you and departed again?”
“No, she went straight to her room; and she told me that if I should see you, I was to say to you that you must come to her there at a quarter to seven”(The Portrait of A Lady by Henry James)

When you actually are in dire need of your friendSometimes it happens that your hunger and your blood-thirsty throat is getting hold of you and at this very instance your guest arrives and you gleefully plan to suck the life blood out of him.How do you treat your friend then?
“Welcome to my house! Enter freely and of your own free will.”“Welcome to my house. Come freely. Go freely. And leave something of your happiness you bring.”“I am Dracula. And I bid you welcome, Mr. Harker, to my house. Come in; the night air is chill, and you must need to eat and rest.”(Dracula by Bram Stoker)
CONCLUSIONAfter all said and done, at times you actually are able to achieve what you had set out to do. Consider the scenario that after reading this very article, you painstakingly act upon it, word for word, and as a result you get rid of all your friends and become very un-popular. This bleak picture can be altered and made to shine through the use of not some extra judicial or supernatural faculties but PHILOSOPHY. ‘Seeing is believing’, they say, so we would like to do the same and show you the brighter side.
So long as I draw breath and have my faculties, I shall never stop practicing philosophy and exhorting and elucidating the truth for everyone that I meet… And so gentlemen… whether you acquit me or not, you know that I am not going to alter my conduct, not even if I have to die a hundred deaths.

… the philosopher had not buckled before unpopularity and the condemnation of the state. He had not retracted his thoughts because others had complained. Moreover his confidence had sprung from a more profound source that hot-headedness or bull-like courage. It had been grounded in philosophy. Philosophy had supplied Socrates with conviction in which he had been able to have rational, as opposed to hysterical, confidence when faced with disapproval.(Chapter One: The consolations of Unpopularity, fromThe Consolations of Philosophy by Alain De Bottom)
In simple English it would mean that after having faced unpopularity one must study Philosophy. If you think it is very difficult and confusing, hark, there’s guidance there too! Why not read the sugar-coated pill instead (also known as “Sophie’s World by Jostien Gaarder”)? May God have mercy on your soul.

جیون میں ایک بار آنا سنگاپور۔قسط نمبر ۔۴


ایک بار دیکھا ہے ،  دوسری بار دیکھنے کی ہوس ہے ہم سنگاپور کیا گئے ،  ہماری دیکھا دیکھی رجب علی بیگ سرور صاحب بھی ہمارے پیچھے سنگاپور ہولیے اور اس کا سارا حال اپنی کتاب فسانہ عجائب میں  لکھنئو اور  سرزمینِ ختن کے خیالی شہر، فسحت آباد کے نام سے لکھ مارا۔ لکھتے ہیں:۔’’ عجب شہرِ گلزار ہے، ہر گلی کوچہ دلچسپ باغ و بہار ہے۔ ہر شخص اپنے طور پر باوضع قطع دار ہے۔ دورویہ بازار کس انداز کا ہے ۔ ہر دکان میں سرمایہ ناز و نیاز کا ہے۔ ہر چند ہر محلے میں  جہاں کا ساز و سامان مہیا ہے پر ( ڈائی نے سٹی ہوٹل)  سے ( ویسما ایٹریا ، لکی پلازہ)  اور (سنگاپورہ  پلازہ )  تک،  کہ صراطِ مستقیم ہے ،  ( اور آرچرڈ روڈ) کہلاتی ہے کیا جلسہ ہے۔  ‘‘آگے لکھتے ہیں :۔’’ باشندے یہاں کے ذکی، فہیم، عقل کی تیز اگر دیدہ انصاف اور نظرِ غور سے اس شہر کو دیکھے تو جہان کے دید کی حسرت نہ رہے۔ آنکھ بند کرے(شعر،  سرور صاحب سے معذرت کے ساتھ)سنا!    رضواں بھی جس کا خوشہ چیں ہےوہ (سنگا  پور   ہی)  کی سر زمیں   ہےآگے ذرا برسات کا حال سنئیے:۔’’برسات کا اگر موسم ہے، شہر کا یہ عالم ہے، ادھر مینہ برسا، پانی جابجا بہہ گیا، گلی کوچہ صاف رہ گیا، ساون بھادوں میں زردوزی جوتا پہن کر پھرے ، کیچڑ تو کیا مٹی  نہ بھرے۔ فصل بہار کی صنعت،   پروردگار کی قدرت،  رضوان جن کا شائق،  دیکھنے کے لائق۔ روز عیش باغ میں تماشے کا میلہ، ہر وقت چین کا جلسہ‘‘ (فسانہ عجائب از رجب علی بیگ سرور) بھائی ! ہم باز آئے اپنی منظر کشی سے،  آئیندہ جب کبھی سنگاپور ی جلوہ حُسن کے متعلق لکھنا ہو تو کہہ دیں گے،  دیکھئے فسانہ عجائب،  صفحہ فلاں۔مزید برآں کچھ، اسی قسم کا ظلم ہمارے ساتھ جناب قمر علی عباسی صاحب نے بھی روا  رکھا۔ انھوں نے تو ہماری دیکھا دیکھی سنگاپور کا سفر نامہ تک لکھ ڈالا۔ایسا معلوم ہوتا ہے اِن دونوں شخصیات کو علم ہوچکا تھا کہ ہم سنگاپور کا ایک عجائب روزگار سفر نامہ لکھنے والے ہیں۔ہائے سنگاپور، وائے سنگاپوربھاڑ  میں   جائے  سنگاپور سنگاپور جو سرزمینِ ماوراء الہند یعنی شرق الہند میں ملائشیاء کے جنوب میں ایک جزیرہ ہے،  ۱  ڈگری ۲۰ منٹ  شمال طول البلد اور ۱۰۳ ڈگری ۵۰ منٹ عرض البلد مشرق میں واقع ہے اور خط استوا سے کوئی ۱۳۷ کلو میٹر کے فاصلے پر آبنائے ملاکا کے دہانے پر ہونے کی وجہ سے مشرق و مغرب کے درمیان ایک اہم بندرگاہ ہے۔ اس کا نام سنگاپور کیسے پڑا ، اس کے بارے میں بھی ایک لوک داستان بہت مشہور ہے۔ کہتے ہیں کہ اس علاقے کے ایک شہزادے کا دل ایک جل پری پر آگیا اور اس نے اس جل پری سے شادی رچالی اور ہنسی خوشی رہنے لگا۔  اس کے تین بیٹے ہوئے جو جوانمردی اور بہادری میں اپنی مثال آپ تھے۔ منجھلے بیٹے نیلا   اُتّم نے ایک دن سمندر پار ایک جزیرے کو دیکھا تو اس کی جستجو میں ایک بحری جہاز لے کر نکلا۔ سمندر میں طوفان آگیا اور اس کا جہاز ڈوبنے لگا ۔ شہزادے نے بڑی مشکل سے جان بچائی اور کنارے پہنچا۔ یہاں پہنچتے ہی اس نے ایک عجیب جانور دیکھا جودرحقیقت ایک شیر تھا۔ اس نےجزیرے کو اپنی مملکت میں شامل کیا اور اس  پہلےنظارے کی یاد میں اس جزیرے کا نام سنگا پورا یعنی شیر کا شہر رکھ دیا۔  اہلِ سنگاپور آج بھی اس شہزادے کو نہیں بھولے اور اس کی یاد میں  مرلائن کو سنگاپور کا قومی نشان قرار دیا جسکا سر شیر کا اور دھڑ اس جل پری کے بیٹے کی  یاد میں مچھلی کا ہے۔یہی کچھ وہ اسمال ٹاک یعنی گپ شپ تھی جسے روا رکھتے ہوئے ہم نے اس شام بحری بجرے پر قدم رنجا فرمایا اور چار گھنٹے کے اس حسین و رنگین سفر میں جاری رکھا جس کی منزل واپس سنگاپور ہاربر تھی۔ چار گھنٹے کا یہ کروز جس میں ایک عدد شاندار قسم کا ڈنر یعنی طعِام شبینہ  بھی شامل تھا، ہماری کمپنی کی جانب سے ہم مہمانانِ گرامی قدر کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔ ہم گنتی کے جوچند مسلمان اس میں شامل تھے ،ہمارے لیے علیحدہ حلال کھانے کا انتظام تھا۔  بحری بجرہ بین الاقوامی مہمانوں یعنی سیاحوں سے بھرا ہوا تھا ،  لہٰذا ہم سمندر اور اسکے قدرتی جزیروں کے خوبصورت نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ ،  ابنِ صفی کے قول کے مطابق انسانی جزیروں کی سیر سے بھی بدرجہ اتم لطف اندوز ہورہے تھے ۔ ’’ اور کیا جناب! ۔۔۔ اینٹوں اور پتھروں کے ڈھیر میں کیا رکھا ہے۔ خواہ وہ پہلی صدی عیسوی ہی سے کیوں نہ تعلق رکھتا ہو۔ یہ جھیل اور اس کے ساحل بھی لاکھوں سال پرانے ہیں۔ میں تو آپ کو وہ نایاب جزیرے دکھاؤں گا ، جو آج ہیں کل نہ ہوں گے یا اگر ہوں گے بھی تو اس قابل نہ رہ جائیں گے کہ ان کی طرف دیکھنا بھی گوارا کیا جاسکے!‘‘ ( پوائینٹ نمبر بارہ۔ عمران سیریز۔ از ابنِ صفی)۱۸۱۹ ء میں سر اسٹیمفورڈ  رئفلز یہاں پہنچے تو اس وقت جزیرے کی آبادی صرف چند نفوس پر مشتمل تھی ۔سر اسٹیمفورڈ ریفلز کے جزیرے پر قدم رکھتے ہی یہ شہر سلطان آف جوہر بھارو کی عملداری میں ہونے کے باوجود  ایسٹ انڈیا کمپنی کی تجارتی منڈی کے طور پر جانا گیا۔ چاروں طرف سے لوگ اس کی جانب امڈ پڑے اور آج ( ۱۹۸۵ء  ) اس کی آبادی  پچیس لاکھ ہے۔ہم نے چونک کر ادھر ادھر دیکھا۔ ٹوور گائڈ ہمیں اپنے پبلک ایڈریس سسٹم پر ارد گرد پھیلے ہوئے جزیروں کا جغرافیہ اور سنگاپور کی تاریخ سے آگاہی دلوا رہا تھا۔تاریخ ، جغرافیہ اور معاشرتی علوم  میں ہم ویسے ہی کچے اور کورے رہے ہیں اس لیے ہم نے اس کی ان خرافات کو ایک کان سے سنا اور دوسرے کان سے اڑا دیا۔  ان جزیروں کا حال ہم گائڈ کتابوں میں پڑھ ہی لیں گے۔ یہ وقت تو ان نظاروں سے لطف اندوز ہونے کا تھا جو اس سمے ہمارے چاروں اُور پھیلے ہوئے تھے۔ سبحان تیری قدرت۔ ہم نے اپنی یادوں کی پٹاری کھولی تو اس میں اس شام کی یاد  ان الفاظ کے ساتھ محفوظ تھی۔’’سنگاپور کی ایک شام جو بہتر انداز میں بسر ہوئی۔‘‘ اگلے دن ہمارے سب ہم جماعتوں نے استاد صاحب کے ساتھ ملکر تفریح کرنے کا پروگرام بنایا اور کلاس ختم ہوتے ہی دو ٹیکسیاں پکڑ کر سیدھے آرچرڈ روڈ پہنچ گئے۔ آرچرڈ روڈ سنگاپور کا سب سے بڑا خریداری کا علاقہ ہے۔ فرحت اللہ بیگ صاحب کی لکھی ہوئی تعریف ہم پہلے ہی پیش کرچکے ہیں۔ سمجھ لیجے کہ یہ بازار سنگاپور کا طارق روڈ یا لبرٹی ہے۔اہالیان ِکراچی اور  لاہور سمجھ گئے ہوں گے، دوسرے علاقوں کے مکین اپنے علاقائی ماحول کے مطابق کچھ اور تصور کرلیں ۔ چونکہ اس پہلے دن ہم نے ڈائی نے سٹی ہوٹل کے قریب ٹیکسی سے اتر کر پیدل آوارہ گردی کا آغاز کیا تھا، لہٰذا اس کے بعد ہمارے لیے آرچرڈ روڈ اسی نکتے سے شروع ہوتی تھی۔ پیدل ٹہلتے ہوئے چلے تو راستے میں آنے والے کئی شاپنگ سنٹر دیکھ ڈالے۔ ان دنوں لکی پلازا کا بڑا چرچا تھا ،   لہٰذا وہاں پہنچے اور زیادہ توجہ کے ساتھ دکانوں کا معائنہ شروع کیا۔ اکٹھے آٹھ لوگ کسی بھی دکان میں گھستے تو دکاندار سٹپٹا جاتے۔ ان کی سمجھ میں نہ آتا کہ کس کی طرف توجہ کریں اور کس کی نگرانی کریں۔ ایک دکاندار تو اس قدر گھبرایا کہ ہر ایک کو شبہ کی نظر سے دیکھنے لگا۔ جب کافی دیر تک ادھر ادھر اشیاء کا بغور معاینہ کرنے کے باوجود بھی ہم میں سے کسی نے کسی شے کو خریدنے کا عندیا نہ دیا تو وہ  کچھ مشتعل سا نظر آنے لگا۔ ہم چونکہ اپنی کالی رنگت کی بناء پر ویسے ہی سب کی توجہ کا مرکز تھے، اس کے غصے کا محور بھی بن گئے اور اس نے ہمیں دیکھ کر ایک نعرہ مستانہ بلند کیا’’ ہے یو؟‘‘ یعنی’’ ارے تم! کیا چاہیے تمہیں؟‘‘ ہم غریبِ شہر کیاکہتے، ٹُک اسے دیکھا کیے،  لیکن گورے استاد نے دکاندار کو تسلی دی کہ ہم سب اکٹھے ہیں اور سب ہی غیر ملکی ہیں۔ اس بات پر اسے کچھ تسلی ہوئی لیکن  پھر جب یہ دیکھا کہ سب ہی بناء خریداری کیےدکان سے باہر جارہے ہیں تو اس کاموڈ پھر بگڑ گیا۔ یہ پہلا موقعہ تھا جب ہم نے کسی سنگاپوری شہری کو اس طرح خراب موڈ میں دیکھا، ورنہ ہمیشہ سب ہی ہمیں خوش اخلاقی سے ملے ۔ جس زمانے کا یہ قصہ ہے اس دور میں سنگاپور میں بھاؤ تاؤ کرنے کا بہت زیادہ رواج تھا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق،  اگر آپ دکاندار کی بتائی ہوئی قیمت پر بھروسا کرکے خریداری کر لیتے،  تو گویا آپ لٹ چکے ہوتے۔ فارمولا یہ بتایا گیا کہ دکاندار جتنی قیمت بتائے ،  آپ اسکی آدھی قیمت سے بحث کا آٖغاز کریں۔ پھر جہاں پر بات بن جائے، وہیں بات ختم کرکے پیسے ادا کردیں۔ بھاؤ تاؤ کا طریقہ بھی مخصوص تھا۔  دکاندار جس قیمت پر آپ سے بھاؤ تاؤ شروع کرنا چاہتا، وہی قیمت کیلکولیٹر پر لکھ کر آپ کے سامنے کردیتا۔ آپ اپنی من پسند قیمت اسی کیلکولیٹر پر لکھ کر اس کے سامنے رکھ دیتے۔ اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا۔ جو قیمت آپ کے نزدیک مناسب ہوتی اس پر پہنچ کر آپ اپنے بٹوے سے پیسے نکالتے جنھیں دیکھتے ہی دکاندار رام ہوجاتا اور آپ سے پیسے پکڑ کر خریدی ہوئی شے آپ کے حوالے کردیتا۔  آرچرڈ روڈ اور خاص طور پر لکی پلازا اس قسم کی خریداری کے لیے مشہور تھے۔ سرنگون روڈ پر مصطفےٰ سنٹر میں البتہ ہر شے پر قیمت لکھی ہوئی تھی اور دھوکے کے امکانات کم تھے۔ لہٰذا ہم نے اصولی طور پر ، طے کر رکھا تھا کہ اپنی تمام خریداری مصطفےٰ سنٹر ہی سے کی جائے گی علاوہ معدودے چند اشیاء کے، جن میں کمپیوٹر سرِ فہرست تھا۔ (ایک ہفتے بعد  فونان سنٹر سے ہمارا خریدا ہوا کمپیوٹر ہمارے حوالے کردیا گیاتھا   اور ہم اسے اپنے ہوٹل کے کمرے میں تختہ مشق بنائے ہوئے تھے)۔ واپسی پر سڑک پار کرکے دوسری جانب ہوگئے اور ویسما ایٹریا سمیت اس طرف کے تمام خریداری مرکز دیکھ ڈالے اور ہوٹل واپسی کا پروگرام بنایا۔ اگلی مرتبہ جب ہم اور چودھری صاحب اکیلے دکیلے ہی آرچرڈ روڈ پہنچے تو اس مرتبہ ہم نے ڈائی نے سٹی ہوٹل سے دوسری جانب اسکاٹس روڈ پر چلنا شروع کیا اور تیسری بلڈنگ ’’ اسکاٹ سنٹر کے تہہ خانے میں بنے ہوئے ایک صاف ستھرے فوڈ سنٹر تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اور مزے لے لے کر پیلی کھچڑی کے ساتھ حلال سالن تناول کیا  اور اس کا لطف اٹھایا۔اس سے آگے چلے تو فار ایسٹ پلازا نے ہمارا راستہ روکا اور ہمیں چہل قدمی کی دعوت دی۔یہ وہ زمانہ تھا کہ ایم آر ٹی ابھی نہیں بنی تھی ۔ بعد میں جب ہم ۲۰۱۰ء میں سنگاپور پہنچے تو آرچرڈ روڈ کے اسٹیشن پر اتر کر ان سب جگہوں کو تلاش کرتے رہے جہاں کبھی ہم نے وقت گزارا تھا۔ اسکاٹ سنٹر کی یہ عمارت غائب تھی اور ساتھ ہی یہ فوڈ سنٹر بھی۔  لکی پلازا اتنا دلکش نہ لگا  جتنا کبھی لگا تھا، کیوں کہ راستے میں دونوں اطراف کئی ایک خوبصورت شاپنگ سنٹرز بن چکے تھے۔  خاص طور پر سنگاپورا پلازا جو آرچرڈ روڈ کی تقریباً دوسری جانب‘  دھوبی گھاٹ’  نامی ایم آر ٹی جنکشن کے اوپر بنایا گیا ہے بہت خوبصورت اور با رونق ہے۔ ۲۰۱۰ء میں ہم چوتھی  مرتبہ سنگاپور پہنچے تو پچھلی دفعہ سے زیادہ سنگین واردات ہمارے ساتھ ہوچکی تھی۔ اس مرتبہ خان صاحب ہمارے ہمسفر تھے۔ اس مرتبہ ہم کسی بھی تفریحی مقام کی سیر کو نہ نکل سکے،   اس لیے کہ خان صاحب کو  تربیتی مرکز سے ہوٹل واپسی کے بعد کہیں اور جانے کے لیے آمادہ کرنا کار ِ دارد تھا۔ ہم لاکھ انھیں مناتے کہ بھائی کہیں تو نکل چلو ، لیکن وہ اپنے کمرے میں،  لیپ ٹاپ کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے،  اپنی محبوبہ سے چیٹ یعنی ہوائی پینگیں بڑھایا کرتے۔ہم چونکہ اس بار چائنا ٹاؤن کے ایک ہوٹل فوراما سٹی سنٹر میں ٹھرے تھے ،  لہٰذا ہر روز رات کا کھانا کھانے کے لیے انھیں سرنگون روڈ کھینچ کر لے جاتے۔ کھانا ختم کرتے ہی،  وہ ہمیں ٹرین اسٹیشن کی جانب اور ہم انھیں شاپنگ سنٹر کی جانب کھینچتے۔ زیادہ تر  جیت ان کی ہی ہوتی کیونکہ وہ ہم سے درخوست بھی کررہے ہوتے تھے کہ ‘وہ اپنی محبوبہ دلنواز کو انتظار کرتا چھوڑآئے ہیں اور واپس پہنچ کر اسکے غصے کو برداشت کرنے اور اسے منانے کا خوشگوار کام بھی انھی کو سر انجام دینا ہے’ ۔ پاکستان واپس آکر ہم نے ہمجولیوں میں ان کی شکایت کی کہ خان صاحب کا تو سنگاپور میں ایک ہی مشن تھا۔ اپنی محبوبہ دلنواز سے باتیں۔ساتھی کہنے لگے ‘‘ بھئی!  ہم نے تو انھیں ایک بالکل ہی مختلف مشن پر بھیجاتھا۔ خدا جانے وہ اس مقصد و مدعامیں کامیاب ہوپائے یا نہیں۔ ’’ہم نے حیران ہوکر پوچھا ‘‘ وہ کیا مشن تھا؟’’جواب ملا’’ ان کا مشن اپنے  ’ٹی اے ۔ڈی اے‘  کے پیسے مکمل طور پر بچا کر ، کھانے کے لیے آپکے  ‘ٹی اے۔ ڈی اے’  پر انحصارِ کلی تھا۔‘‘ہم حیران رہ گئے۔ ہم ہنس دیے ۔ہم چپ رہے ۔کچھ اس کا سبب چپ تھا، کچھ اس کا سبب باتیں۔  خیر صاحب ولے بخیر گزشت۔ جن جگہوں کو ہم پچھلی مرتبہ دیکھ نہ پائے تھے،  وہ ان دیکھی ہی رہ گئیں اور جن مقامات کو ایک مرتبہ دیکھ چکے تھے ، انھیں دوسری بار دیکھنے کی ہوس رہ گئی۔ ان چند جگہوں میں خاص طور پر سینتوسا آئی لینڈ بھی شامل ہے۔اگلے اتوار ہم اور چودھری صاحب جلد ہی اٹھ کر تیار ہو گئے اور مفت ناشتے کے فوائد حاصل کرتے ہوئےٹیکسی پکڑ کر کوہِ فیبر پہنچ گئے۔ وہاں سے ان دنوں سینتوسا آئی لینڈ کے لیے کیبل کار روانہ ہوتی تھی۔ ہم نے فوراً ٹکٹ کٹایا اور کیبل کار میں بیٹھ کر فضائی نظارے کے مزے لیتے ہوئے سینتوسا جزیرے پر اتر گئے۔آج کل  مرینہ مال سے اس جزیرے کے لیے چھوٹی ٹرین چلتی ہےجو سمندر پر بنے ہوئے ایک پل سے گزرتی ہے۔۔سینتوسا  سنگاپور مین جزیرے کے جنوب میں واقع ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جسے سیاحوں اور سیر کے رسیا افراد کے لیے ایک مکمل تفریحی مقام میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ گویا موجودہ دنیاء کے عجائبات میں سے ایک ہے, ۲۰۱۰۔ء میں اس جزیرے میں دو دلچسپیوں کا اور اضافہ کیا گیا جن میں سے ایک  یونیورسل اسٹوڈیو کا ڈسپلئے اور فن سنٹر اور دوسرا  ایک عدد کسینو ہے۔ کسینو کی یہ خوبی بیان کی جاتی ہے کہ یہاں پر سیاحوں کے لیے داخلہ بالکل مفت اور مقامی شہریوں کے لیے سو ڈالر داخلہ فیس کے ساتھ ہے۔اگر یہ کسینو اس زمانے میں بھی موجود ہوتا تو ہمارے چودھری صاحب لازمی اس کی سیر کرتے اور ہمیں ‘مجبوراً ’  ان کا ساتھ دینا ہی پڑتا ۔سب سے پہلے ہم نے یہاں پر بنایا ہوا میوزیم دیکھا اوراس کے مظاہر میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی۔آئی لینڈ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک  مفت مونو ریل چلتی ہے۔ لہٰذا ہم دونوں اس سہولت کا خوب فائدہ  اٹھاتے رہے  اور اس ریل میں بیٹھ کر بار بار مفت سیر کا لطف اٹھایا۔ایک جگہ سمندر کے کنارے پیڈل بوٹ نظر آئی تو چودھری صاحب مچل گئے۔ہم نے مونو ریل کے قریبی اسٹیشن پر اتر کر وہاں سے دوڑ لگائی اور ایک ایک پیڈل بوٹ کرائے پر لیکر تقریباً دوگھنٹے تک پیڈل مارتے رہے۔ عجیب واہیات سواری ہے۔ اس وقت کچھ احساس نہیں ہوتا، بعد میں خوب پتا چلتا ہے۔ دو گھنٹے گزار کر اس سے اترے تو اگلے دو دن تک لنگڑاتے رہے اور اس گھڑی کو کوستے رہے جب چودھری صاحب کو پیڈل بوٹس نظر آئی تھیں۔جھٹپٹے کے وقت تک اسی طرح مختلف تفریحات میں مشغول رہے۔ اندھیرا پھیلنے لگا تو ٹکٹ لیکر میوزیکل فاؤنٹین کے چھوٹے سے اسٹیڈیم میں جابیٹھے۔درمیان میں ایک تالاب میں کئی فوارے پانی اچھال رہے تھے۔ اندھیرا چھاگیا تو شو شروع ہوا۔ مختلف رنگوں کی روشنیاں میدان میں رقص کرنے لگیں ، بہترین ساؤنڈ سسٹم پر موسیقی شروع ہوئی تو رنگ و نور کا ایک طوفان آگیا اور تمام فوارے اور رنگ برنگی روشنیاں اس موسیقی کی تال پر رقص کرتے ہوئے پانی سے کھیلتے رہے۔ہم اس اسٹیڈیم میں موجود تمام تماشائیوں کے ہمراہ دم بخود اس حسین نظارے کو دیکھتے رہے۔ کوئی ایک گھنٹے کے اس شو میں انھوں نے کئی انگریزی ، چائنیز اور ہندوستانی گانوں کی تال پر رقص کیا اور داد سمیٹی۔ آخر میں جب انڈین فلم قربانی کا مشہور یہ گاناچھیڑا  گیا‘‘ قربانی، قربانی،  قربانیاللہ کو پیاری ہے قربانی’’تو فواروں ،  رقص و موسیقی او ر روشنی کے اس طوفان میں ہم بھی جھوم اٹھے۔ گانا، موسیقی، رنگ و نور اور فواروں کا رقص اپنے عروج پر پہنچ کر یکبارگی تھم گیا، لیکن ناظرین کی تالیاں اگلے دس منٹ تک فضا ء کو گرماتی رہیں۔ واقعی یہ ایک ایسا نظارہ تھا جو ہمیں مدتوں یاد رہے گا۔اب تو سنا ہے کہ انڈر واٹر ورلڈ کے نام سے ایک اور مظہر وجود میں آچکا ہے لیکن ہماری ۲۰۱۰ء کی سیر کے پروگرام میں  خان صاحب کی محبوبہ آڑے آئیں اور ہم اس جزیرے کو دوبارہ نہیں دیکھ سکے۔ایک بار دیکھا ہے ، دوسری بار دیکھنے کی ہوس ہے ہم نے بارہا خان صاحب کو مشورہ دیا کہ وہ سنگاپور سے واپسی تک اپنی محبوبہ دلنواز کو خدا حافظ کہہ دیں کہ واپسی پر تمہارے لیے ٹافیاں لے کر آئیں گے، لیکن وہ نہ مانے ۔آخری دن ہم اپنی شاپنگ لسٹ سنبھال کر مصطفےٰ اور شمس الدین پہنچ گئے اور بشمول ایک عدد بڑے سوٹ کیس،  تمام اشیاء  وہیں سے بازار سے با رعائت خریدیں اور خوش خوش سنگاپور سے وطن واپس لوٹے۔کراچی ائر پورٹ پر کسٹم آفیسر نے ہمارا سوٹ کیس اور اس کے ساتھ کمپیوٹر اور مانیٹر کے دو  ڈبے دیکھے تو بظاہر گھبرا کر اور بباطن خوش ہوتے ہوئے سوال کیا۔‘‘ کیا کیا خرید لیا بھائی جان؟’’ہم نے سوالیہ انداز میں ان کی جانب دیکھا تو وہ اور زیادہ خوش ہوگئے۔ مرغا پھنس گیا، انھوں نے شاید یہ سوچ کر ہمارا سامان کھلوا لیا، لیکن اسے دیکھتے ہی ان کا منہ بن گیا اور انھوں نے مزید وقت ضائع کرنے کی ضرورت محسوس نہ کرتے ہوئے ہمیں جانے کا اشارہ کردیا۔ ادھر کئی کھیپیے لائن میں موجود تھے جن پر آفیسر صاحب کی نظر کرم ٹہر گئی۔  دنیاء  یہی دنیاء  ہے تو کیا یاد رہے گی۔تمت بالخیر

An online Course on Allama Iqbal: Some useful information



Course Outlines
  • Induction: abridged translation of an excerpt from Javid Nama,describing the ultimate ideal that Iqbal desires and foresees for humanity. It is a world where people live inside-out, bodies have become contained in souls rather than the other way round, there is no crime and everybody lives in material and spiritual bliss. Is this world possible? That is the question which is central to any genuine learning in Iqbal Studies, and learners will be encouraged to arrive at their own answers. آج بروز جمعرات ۲۶ مئی ہم نے اس کے تعارف میں ا اوپن ھاوس میں شرکت کی جس میں جاوید نامہ  کی ورک شیٹ اس فائل کے آخر میں ضرور دیکھیے اور جواب لکھئیے تاکہ آپ کو اس کورس سے متعلق آگاہی ہو جائے۔
  • The Conquest of Nature: This is a poem in five segments describing, respectively (a) the birth of Adam; (b) the Devil’s animosity; (c) the Temptation; (b) the sweet challenge of the worldly life; and (e) Adam’s explanation to the Almighty on the Day of Judgment. In five short scenes, the poem gives us a complete overview of the past, present and the future of humanity as Iqbal perceives it. This is the broad outlines in which learners can fill in details as they move along in life and studies, even beyond and after the completion of this course.
  • The New Garden of Mystery: Iqbal summarized his philosophy in the form of nine questions that are cross-cutting across all fields of human knowledge – i.e., each of these questions can be answered through any discipline according to the scope of that discipline. Here, the learners will be encouraged to find answers from brief synopses of Iqbal’s works. The aim of this component is to give the learners a handy introduction to all the poetic works of Iqbal and also to show them the nine basic issues that can be used for summing up the entire philosophy of Iqbal – and possibly also the entire range of human knowledge in the present age. گلشنِ راز۔ جدید
  • The Sphere of Moon: This chapter describes the beginning of Iqbal’s spiritual journey in search of immortality under the guidance of the spirit of his mentor, Maulana Rumi, in Javid Nama. On Moon, which is the first stage of the journey, they come across seven visions: (a) the Hindu sage Vishvamitra; (b) the music of Sarosh, the angel who inspires poetic visions; (c) the poetry of Sarosh; (c) the Tablet of Buddha; (d) the Tablet of Zoroaster; (e) the Tablet of Jesus; and (f) the Tablet of Prophet Muhammad (peace be upon him). These visions are brief and engaging introductions to seven cultural forces shaping the human civilization even today. Learners will be encouraged to explore the relevance of these cultural forces, and to develop personal insights about them.
  • Application: These concluding lessons facilitate the learners to make some personal action plans in the light of Iqbal’s thought.
  • کورس کا تمام  مواد علامہ کے فارسی کلام سے منتخب کیا گیا ہے۔ آپکے لیے اس کا انگریزی ترجمہ مہیا کیا گیا ہے، لہٰذا پریشان ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔
Course MaterialThe course material comprises mainly of three components: (a) the course manual; (b) videos; and (c) the blog.
  • Course Manual will consist of approximately 25 lessons (see “Course Outline” above to get an idea about the contents of these lessons). It will be provided to participants in PDF and MSWord formats. They can take printout and do the activities.
  • Videos. There will be a brief video to accompany each lesson. These videos will contain a mini-lecture to go with the lessons given in the manual. They will be uploaded on YouTube for participants to view, and links will be provided (Pakistani students will be provided the course manual as well as videos on a CD). یہ سی ڈی صرف پاکستانی شرکاء کو پیش کی جائے گی۔
  • Blog. Each lesson in the manual will lead to an open-ended question involving reflection and thinking from the participants. They will be required to post their answers as "comments" on the official blog of the course, or as posts on their own blogs if they have any. They will be able to choose whether they wish to do it on a daily basis or only once or twice a week.
  • مزے کی بات یہ ہے کہ ان کے بلا گ پر لکھنے کی بجائے جواب آپ اپنے بلاگ پر بھی لکھ سکتے ہیں اور انھیں اپنے بلاگ کا ایڈریس دے سکتے ہیں۔
  • As an option Course material will be posted free of charge at home to all participants located inside Pakistan. In any case, you can still receive all the course material through the Internet
  • Participants will be given a course manual consisting of approximately 25 lessons. They can take printouts of activities and do them on paper. These are comprehension activities. The outcome of each lesson will be a reflection, which the participants should post as comments on the official blog of the course (soon to be announced), or as posts on their own blogs, if they have any. اس فائل کے آخر میں ملاحظہ فرمائیے ہماری اوپن ھاوس کی سرگرمی  جو پہلے سبق پر مشتمل تھی۔ ہمیں جاوید نامہ کے ایک باب مرغدین سے متعلق ایک صفحے پر مشتمل مواد دیا گیا اور اس سے متعلق اپنا جواب لکھنے کو کہا گیا۔ ضرور دہرا لیں تاکہ کورس کے بارے میں ایک آئیڈیا ہوجائے۔
  • Many lessons will be accompanied with short videos that will be uploaded on YouTube and can be watched or downloaded by participants. Pakistani participants may also be given these videos on a complimentary VCD. 
  • The lessons are scheduled in such a manner that the participants can either work daily (for an hour or so), or at their own pace as long as they spend 5 to 7 hours a week on the activities and postings - some participants might be spending time on the course only on weekends, and catching up in that manner. روزآنہ کی بنیاد پر آدھے گھنٹے سے لیکر ایک گھنٹے کا کام ہوگا۔ آپ چاہیں تو ویک اینڈ پر بھی پورے ہفتے کا کام کرسکتے ہیں۔
  • Presently the course is being offered in English only. However, it is designed with special consideration for the difficulties faced by many non-native speakers – we do not want language to become a handicap. ہمیں بتایا گیا کہ اردو کی بورڈ کی سہولت میسر ہونے کی صورت میں جوابات ( جو دراصل آپ کے تاثرات یا تبصرہ  ہوں گے،  اردو میں بھی دیئے جاسکتے ہیں

1.1 InductionWhat is the ultimate ideal that Iqbal can suggest for us? One of the best answers comes from Javed Nama( 1932) the fifth book of Iqbal’s Poetry. The spirit of Maulana Roomi takes Iqbal on a heavenly journey in search of immortality. As they pass the planet Mars Roomi mentions that the Martians have discovered an inside out mode of existence. “ While our hearts are captivated and controlled by our bodies , the bodies of the Martians are contained in their Hearts .” On Roomi’s suggestion, they take a brief tour of a Marcian city, MURGHIDEEN.Given below is an abridged version of the passage from Jawaid Nama. It is perhaps the easiest way for us to see where Iqbal wants to lead us eventually – or where , in his opinion , the Humanity is going to reach anyway whether some of us know it or not.
While ReadingA.   As you read the passage, underline the things you like in Murghideen.
Welcome to MurghideenThe city of Murghideen is a magnificent place of tall buildings. Its people are beautiful, selfless and simple; they speak a language that sounds melodious to the ears. They are not after material goods; rather they are the guardians of knowledge and derive wealth from their sound judgment. The sole purpose of knowledge and skill in that world is to help improve the life. Currency is unknown, and temperaments are not to be governed by machines that blacken the sky with their smoke. The farmers are hard working and contented – there are no land lords to plunder their harvest, and the tillers of the land enjoy the entire fruit of their labor. Learning and wisdom don’t flourish on deceit and hence there is neither army nor law keepers are needed, because there is no crime in Murghideen.  The marketplace is free from noisy shouts and heartrending cries of the beggars. (In this world there is no beggar” said the Martian astronomer,” Nor anyone is poor; no slave, no master- no ruler and thus none dominated.”I said,” Being born a beggar or a destitute, to be ruled or suppressed, is all by the decree of God. He alone is the architect of destiny. Destiny cannot be improved by reasoning.”“If you suffering at the hands of destiny, “replied the Martian astronomer with a visible anger, “ It is not unfair to ask God for a new one. He has no shortage of destinies for you. Failure to understand the mystical significance of destiny has led the inhabitants of the Earth to loose their identities. Here is a hint to the secret of destiny: Change your self and your destiny will change with you. If you are dust, you shall be scattered by the wind. But if you become solid as a rock, you can break the glass. If you are a dewdrop, then you are destined to fall, but if you are an ocean, then you will remain. To you, faith means conformity to others while your imagination remains confined because you do not conform to your self. Shame on the faith that serves like an addiction to opium!”Then he paused , and added ,” a gem is a gem, as long as you think it is valuable, otherwise it is just a stone. The world will shape itself according to your perception of it. The heavens and the Earth , too, will adjust.”
After readingb. would you like that there should be a world like Murghideen? Why? Why not? Write your reflections  in comments below    

جیون میں ایک بار آنا سنگاپور۔قسط نمبر ۔۳

جیون  میں ایک بار آنا سنگاپور۔ قسط نمبر ۳چل چل چنبیلی باغ میںمحمد خلیل الرحمٰنسنگاپور میں ہماری تربیت جاری رہی اور آخر کار جمعہ کا دن بھی آگیا۔ اس روز ہم الارم بجنے سے کوئی پانچ منٹ پہلے ہی بستر سے اٹھ کھڑے ہوئے اور پطرس بخاری صاحب کی طرح غسل خانے میں دیر تک چل چل چنبیلی باغ میں گاتے رہے۔ آج جمعہ تھا یعنی اب سے کچھ ہی گھنٹے میں ہفتے کا اختتامیہ شروع ہورہا تھا۔ پاکستان میں چونکہ ہفتہ وار چھٹی کا صرف ایک ہی دن معین ہوتا ہے لہٰذا وہاں پر لوگ جمعے کی اہمیت سمجھنے سے قاصر ہیں۔ پار سال جب ہم جرمنی گئے تھے تو وہاں پر ہم نے یہ رمز جانا تھا۔ جمعہ کی صبح ہی سے وہاں پر لوگوں کی زبان پر ایک ہی جملہ ہوتا ہے۔ ٹی جی آئی ایف۔کلاس روم میں پہنچتے ہی ہم نے بورڈ پرچاک سے ٹی جی آئی ایف لکھ دیا۔ جو لوگ صاحبِ کشف تھے فوراً سمجھ گئے۔ ہمارے انسٹرکٹر صاحب بھی جو جرمن تھے اور’ گو واں نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو تھے‘ ، مسکرادیئے ۔ اور بورڈ پر اس کے سامنے پورا  جملہ لکھ مارا۔ تھینک گاڈ   اِٹس فرائیڈے یعنی اللہ کا شکر ہے آج جمعہ ہے۔خیر صاحب! آج ایک گھنٹہ پہلے چھٹی ہونی تھی۔ نہیں بتا سکتے کہ کس طرح انگاروں پر یہ وقت گزارا۔ چھٹی ہوتے ہی ، فائل وغیرہ کو بغل میں داب، ویگن میں آن بیٹھے اور آن کی آن میں ہوٹل پہنچ گئے۔ ابھی سہہ پہر کی دھوپ ڈھلنا شروع ہوئی تھی۔ کمرے میں پہنچے تو آج نوٹ کیا کہ پردے کھنچے ہوئے تھے اور شیشے میں سے سہہ پہر کی تیز روشنی کمرے میں آرہی تھی۔ہم نے کھڑکی سے نیچے جھانک کر دیکھا تو ایک عجیب منظر ہماری آنکھوں کے سامنے تھا۔ ہمارا کمرہ ہوٹل کی دسویں منزل پر تھا اور یہاں سے ہمیں چھٹی منزل پر بنا ہوا سو ئمنگ پول صاف نظر آرہا تھا۔اس وقت اس سوئمنگ پول میں دو عدد جل پریاں دو صورت حرام مردوں کے ساتھ چہلیں لگارہی تھیں۔بقول چچا غالبجنوں کی دستگیری کس سے ہو، گر ہو نہ عریانی دل تو چاہا کہ یہیں سے چھلانگ مار کر سوئمنگ پول کے اندر پہنچ جائیں، لیکن کیا کرتے، ہمارے سامان میں سوئمنگ کاسٹیوم نہیں تھا۔ کان پکڑ کر باہر نکال دیے جاتے۔ ہم نے فوراً اپنی خریداری لسٹ میں سوئمنگ کاسٹیوم کا اضافہ کیا اور طنطناتے ہوئے کمرے سے باہر نکل آئے۔ چودھری صاحب کو بتایا تو وہ ابھی اسی وقت سوئمنگ پول کی طرف جانے کے لیے تیار ہوگئے۔ بڑی مشکل سے انھیں راضی کیا کہ بھائی جان آپ تو تیرنا بھی نہیں جانتے۔ کیا آپ پول کے باہر اپنے پورے کپڑوں میں بیٹھے تماشا کرنا چاہیں گے؟    خود بھی تماشا بنیں گے اور ہمیں بھی  پول نکالا دلوائیں گے۔ طے پایا کہ آج کا باقی دن کمپیوٹر کی خریداری پر لگایا جائے اور کل بروز ہفتہ ژورونگ برڈ پارک جاکر رنگ برنگے پرندوں سے جی بہلائیں گے۔اس زمانے میں سم لم اسکوائر ابھی نہیں بنا تھا۔ الیکٹرانکس کی تمام اشیاء سم لم ٹاور سے یا پھر کمپئوٹر کی قبیل کی اشیاء نارتھ برج روڈ پر واقع فونان سنٹر سے مل سکتی ہیں۔ پہلے بس میں بیٹھ کر بوکے تیما روڈ اور سرنگوں روڈ کے سنگم پر واقع سم لم ٹاور پہنچے اور مارکیٹ کا جائزہ لیا۔ پھر فونان سنٹر پہنچ کر ایک دکاندار سے بھائو تائو شروع کیا۔پار سال جب ہم جرمنی گئے تھے تو وہاں دکان پر پہنچ کر دکاندار سے کہا تھا کہ ایک کموڈور کمپیوٹر چاہئے اور اس نے شیلف سے ایک عدد سیل بند ڈبہ نکال دیا تھا جسے لے کر خوشی خوشی ہوٹل آگئے تھے۔ یہاں پر جب ہم نے دکاندار سے کہا کہہ ہمیں ایک کمپئوٹر درکار ہے تو وہ پہلے تو حیران ہوکر ہمیں دیکھنے لگا، گویا ہم نے کوئی عجیب بات کہہ دی ہو۔ بولا’’ کس قسم کا کمپیوٹر ر چاہیے آپ کو؟‘‘ہم نے کہا ’’ جیساایک کمپیوٹر ہوتا ہے۔ ویسا  ہی چاہیے۔‘‘بولا’’ کچھ جزیات کی تفصیل ہے آپ کے پاس۔‘‘ہم نے کہا’’ کمپیوٹر  ایک ایسا آلہ ہوتا ہے جو بجلی سے چلتا ہے اور آٹو میٹک ہوتا ہے۔‘‘وہ ناہنجار اب بھی نہ سمجھا، بولا’’ وہ سب تو مجھے پتہ ہے لیکن آپ کو پروسسر کون سا چاہیے۔ ریم کون سی اور کتنی چاہیے۔  فلاپی ڈسک ڈرائیو کتنی درکار ہیں ۔  مانیٹر کون سا چاہیے۔‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ اور بھی بہت سی تفصیل تھی جو ہمیں اب یاد نہیں ہے۔ اس بار ہم اسکی بات نہیں سمجھے۔ لوگوں نے بیچ بچائو کروا دیا اور طے پایا کہ وہ جاہل شخص ہمارے لیے ایک عدد کلون آئی بی ایم پی سی ایکس ٹی بنا دے گا ، جس کی جزیات کی تفصیل اس نے ایک کاغذ پرہمیں لکھ دی تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آوے۔ ہم نے اسے پیسوں کی نقد  ادائیگی کردی اور مال کے طالب ہوئے، بولا۔’’ کمپیوٹر آپ کو ایک ہفتے بعد ملے گا۔ اس عرصے میں میں اسے آپ کے لیے اسمبل کروں گا اور پورا ہفتہ اپنی دکان پر   اسے ٹسٹ کروں گا۔‘‘ ہم نے کہا ’’ یہ عجب کہی تم نے۔ پار سال جب ہم جرمنی گئے تھے تو ہاتھ کے ہاتھ دکان سے  کمپیوٹر لے آئے تھے۔‘‘لیکن صاحب ہماری ایک نہ چلی۔ اس ناہنجار نے ہماری باتوں کو سمجھنے سے صاف انکار کردیا  اور ہم ناکام و نامراد وہاں سے واپس مڑے، اگلے ہفتے تک انتظار کی کوفت اٹھانے کے لیے۔ خیر صاحب، اس بڑے کام سے فارغ ہوئے تو پھر چائنا ٹاون سیر کی سوجھی۔ نارتھ برج روڈ سے ہوتے ہوئے چائنا ٹاون پہنچے۔ لٹل انڈیا کی طرح چائنا ٹائون کا بھی اپنا ایک نرالا انداز ہے۔ ہر طرف چھوٹی چھوٹی چائنیز دکانیں کھلی ہیں۔  کہیں چائنیز جڑی بوٹیاں بک رہی ہیں تو کہیں چائنیز کھانوں کے اسٹال ہیں۔ دکانوں میں سجاوٹ کا  چائنیز سامان بک رہا ہے، اسلئے کہ سنگاپور میں سیاحوں کو متوجہ کرنے کے لیے آئے دن کوئی نہ کوئی تہوار منایا جارہا ہوتا ہے۔  چائنیز نئے سال کے موقعے پر تو چائنا ٹائون کو خاص طور پر سجایا جاتا ہے اور یہ سجاوٹ دیدنی ہوتی ہے۔ ہم چونکہ جولائی میں سنگاپور پہنچے تھے اور اگست میں سنگاپور کا قومی دن منایا جانا طے تھا، لہٰذا آجکل اس تہوار کی خوشی میں سجاوٹ کی جارہی تھی۔ اس زمانے کا ایک مشہور گیت جو ہمیں بہت پسند آیا تھا وہ تھا ‘‘ وی آر سنگاپور’’ یعنی ہم سنگاپور ہیں۔ ہمیں یہ گیت اتنا پسند آیا کہ ہم نے اس گیت پر مشتمل ایک عدد کیسٹ خرید لیا اور وطن واپس پہنچ کر اکثر اسے سنا کرتے اور سنگاپور کی یادیں تازہ کرتے تھے۔وی آر سنگاپورسنگاپورینزسنگاپور آور ہوم لینڈاٹس ہیئر دیٹ وی بیلونگآل آف اس یونایئٹڈون پیپل مارچنگ آنان انگریزی الفاظ کے لفظی ترجمہ سے صرفِ نظر کرتے ہوئے  ، ان جذبات و احساسات کی ترجمانی کی جائے تو امجد حسین کا گایا ہوا مندرجہ ذیل  پاکستانی نغمہ بن جاتا ہے۔ہم زندہ قوم ہیں پایئندہ قوم ہیں
ہم زندہ قوم ہیں پایئندہ قوم ہیںہم سب کی ہے پہچانہم سب کا پاکستان، پاکستان، پاکستانہم سب کا پاکستانچائنا ٹاون میں رات کے وقت ایک چھوٹی چھوٹی دکانوں کا بازار سجتا ہے جو سیاحوں کی خاص دلچسپی کا باعث ہوتا ہے ۔ اس میں چھوٹی بڑی یادگاری چیزیں وغیرہ  رکھی ہوتی ہیں اور سستے داموں فروخت کے لیے پیش کی جاتی ہیں ۔ غرض رات گئے تک وہاں آوارہ گردی کرتے رہے۔ جب خوب تھک گئے تو ہوٹل کی طرف روانہ ہوئے۔ہفتے کے روز صبح سویرے ، دس بجے ہم اٹھ کھڑے ہوئے اور مفت ناشتہ کو یقینی بناتے ہوئے ساڑھے دس بجے سے پہلےہی  ریسٹورینٹ میں داخل ہوگئے۔ اگر پانچ منٹ  اور دیر سے اٹھتے تو ہمیں اس کی پاداش میں ناشتے کے لیے کچھ سنگاپوری ڈالر خرچ کرنے پڑ ہی جاتے۔ناشتے کے فوراً بعد ہم نے چودھری صاحب کی معیت میں بس پکڑی اور اپر بوکے تیما روڈ پر شمال کی جانب عازمِ سفر  ہوئے۔ سنگاپور باغوں، پارکوں اور تفریح گاہوں کا شہر ہے۔ مشہور باغوں میں زولوجیکل گارڈن، بوٹانیکل گارڈن، چائنیز اور جاپانیز گارڈن  ژورونگ برڈ پارک اور جزیرہ سینتوسا شامل ہیں۔  برڈ پارک میں رنگ برنگ کے خوشنما پرندے اپنی شان دکھا رہے ہوتے ہیں۔ سامنے ہی ایک ٹرینر اپنے سدھائے ہوئے اژدھے کو لیے ہوئے ایک عجیب شو  دکھا رہا تھا۔ وہ اپنا اژدھا اطمینان کے ساتھ سیاح کے گلے میں ڈال دیتا اور اس کی تصویریں کھینچ کر اس سے پیسے وصول کرلیتا۔  بہادر تو ہم بچپن سےہی ہیں، اس دن اپنی بہادری کو آزمانے کا خیال آیا تو خم ٹھونک کر اژدھے والے کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ اس ناہنجار نے بھی آئو دیکھا نہ تائو ، اور اپنا خوفناک اژدھا اٹھا کر ہمارے گلے میں ڈال دیا۔ یہ شاید ہماری زندگی کا بد ترین دن تھا۔ واہ میاں یہ بھی خوب رہی ۔ بلی کی بلا طویلے کر سر۔ ہمیں تو اس وقت صحیح محاورہ تک یاد نہیں آرہا تھا۔ خدا جانے کتنے گھنٹے وہ بلا ہمارے گلے سے لپٹی رہی اور وہ ناہنجار سنپیرا مختلف پوز بنا بنا کر ہماری تصویریں کھینچتا رہا۔ادھر چودھری صاحب بھی مختلف زاویوں سے ہمیں دیکھ دیکھ کر ہماری اس بے بسی سے لطف اندوز ہوتے رہے۔جل تو جلال تو، آئی بلا کو ٹال تو۔ہمیں جتنی دعائیں یاد تھیں ، ہم نے وہ سب دل ہی دل میں دہرانا شروع کردیں۔ آخر کار خدا خدا کرکے اس مصیبت سے نجات ملی اور  سپیرے نے اس خظرناک ترین اژدھے کو ہمارے گلے سے نکالا تو ہم نے یوں زندہ بچ جانے پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کیا  ،     جوں توں کرکے کانپتے ہاتھوں سے اپنا پرس نکالا اور منہ مانگے ڈالر اس موذی کی نظر کیے۔ ڈر یہ تھا کہ کہیں وہ دوبارہ اس اژدھے کو ہمارے گلے نہ منڈھ دے۔  اب چودھری صاحب کی باری تھی لیکن وہ اس مشکل صورتِ حال میں پھنسنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوئے اور بھاگ کر سپیرے کی پہنچ سے دور جاکھڑے ہوئے۔آگے بڑھے تو شہباز کے شو کا وقت ہوچلا تھا۔ ایک کھلی جگہ پر لوگ شہباز کے ٹرینر کو گھیرے کھڑے تھے۔ اس نے لوگوں کو دور ایک اونچے درخت کی سب سے اونچی ٹہنی پر بنا یا ہوا شہباز کا بسیرا دکھایا  اور اعلان کیا کہ شہباز اس کی آواز پر لپکتا ہوا اس کے پاس آئے گا اور اس کے ہاتھ سے گوشت کی بوٹی لے جائے گا۔ اور یوں ہی ہوا۔ وقتِ مقررہ پر شہباز کے گھر کا دروازہ کھولا گیا، ٹرینر نے اسے پکارا اور وہ ایک اونچی اڑان لے کر جھپٹتا ہوا آیا اور ٹرینر کے ہاتھ سے گوشت کا پارچہ  لے اڑا۔ پھر جب  وہ اس پارچے کو اطمینان سے کھا چکا تو  ایک لمبی اڑان لے کر دوبارہ  اپنے ٹرینز کے کندھے پر آبیٹھا اور داد سمیٹی۔ہم نے   ارد گرد کھڑے ہوئے لوگوں کے ساتھ مل کر خوب دل کھول کر اس  پرندے کو اور اس کے ٹرینر کو سراہا۔  ہمیں علامہ اقبال کا شعر یاد آگیا جو انھوں نے شاید ہمارے سنگاپور کے اس سفر میں شہباز کے اس مظاہرے کے لیے ہی لکھا تھا۔جھپٹنا،  پلٹنا، جھپٹ کر پلٹنالہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہخیر صاحب سنگاپور آکر نقلی رنگین پرندے تو بہت دیکھے تھے،   یہاںپر آکر  ہم نے جی بھر کے اصلی رنگین پرندے دیکھے ۔ جب یہاں سے خوب دل بھر گیا تو ہم نے روانگی کا پروگرام بنایا اور وہاں سے نکل کر سیدھے جزیرے کی دوسری جانب ، چائنا ٹاون کے قریب  دریائے سنگاپور کے کنارے پہنچے۔ نارتھ برج روڈ اور سائوتھ برج روڈ کے سنگم پر دریا کے اوپر ایک نہایت خوبصورت پل بنایا گیا ہے اور اسی پل کی مناسبت سے ان دونوں سڑکوں کا نام رکھا گیا ہے۔ وہیں سے ہم پیدل چلتے ہوئے اس جگہ پہنچے جہاں پر سر اسٹیمفورڈ ریفلز نے پہلی مرتبہ سنگاپور کی سرزمین پر قدم رکھا تھا۔ یہاں اب حکومت نے سر ریفلز کا ایک قد آدم مجسمہ کھڑا کردیا ہے جو اس واقعے کی یاد دلاتا ہے۔سینکڑوں برس قبل جب علاقے میں ملاکا کی اسلامی سلطنت کا قیام عمل میں لایا گیا  اور علاقے کی ایک قابلِ ذکر تجارتی منڈی بن گیا  ،  تو سنگاپور اس سلطنت کا ایک حصہ بنا ،  بالآخر ۱۵۱۱ ء میں ملاکا  پرتگیز وں کے ہاتھوں فتح ہوا تو سنگاپور اس کی عملداری سے نکل کر جوہور بھارو کی سلطنت کا حصہ بن گیا۔ ۱۸۱۹ء میں سر ٹامس اسٹیمفورڈ بینگلے ریفلز نے اس جزیرے کو برطانوی عملداری میں دیدیا۔جنگِ عظیم دوم کے بعد اسے ۱۹۴۹ میں محدود خود مختاری دی گئی۔ پھر جب ۱۹۶۵ ء میں برطانوی حکومت نے اس علاقے کو چھوڑا اور ملائشیا آزاد ہوا تو اسے بھی ملائشیا سے الگ کرکے ایک الگ ریاست کی شکل دیدی گئی۔ یہاں سے چلے تو مرلائن پارک پہنچے جہاں پر سنگاپور دریا کے دہانے پر مر لائن کا ایک مجسمہ نصب کیا گیا ہے جس کا سر شیر کا اور دھڑ مچھلی کا ہے۔ یہ سنگاپور کا قومی نشان ہے۔ کچھ دیر تو ہم اس مجسمے کے منھ سے ابلتے ہوئے پانی کو دیکھتے رہے اور پھر ہوٹل واپسی کا پروگرام  بنایا۔

جیون میں ایک بار آنا سنگاپور۔قسط نمبر ۔۲

سنگا پور کے شب و روزمحمد خلیل الرحمٰناگلی صبح جب ہم نہا دھوکر تیار ہوچکے تو ہوٹل کے ریسٹورینٹ میں ناشتے کے لیے پہنچے۔ چودھری صاحب بھی ابھی کچھ ہی دیر پہلے  پہنچے تھے۔ ہم دونوں نے ایک اچھی سے میز تلاش کی جہاں سے ہر طرف نظر رکھ سکتے، اور اس پر براجمان ہوکر دہن و نظر کا ناشتہ شروع کیا۔ لذتِ کام و دہن کے ساتھ ساتھ لذت ذہن و نظر کا بھی وافر مقدار میں انتظام ہو تو کیا  کہنے ۔ہوٹل دنیاء بھر کے سیاحوں سے بھرا ہوا تھا۔ پاکستان سے باہر کی حوریں اعضا ء  کی فی البدیہہ  شاعری  میں درجہء کمال کو پہنچی ہوئی  ہوتی ہیں۔ان کا اٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، ہنسنا بولنا سب شاعرانہ انداز میں ہوتا ہے۔ھائے! نہ ہوئے ہم نقاد،  ورنہ کیسے کیسے بخیے  اُدھیڑ تے۔   اِدھر چودھری صاحب نے ہمیں ایک فارمولے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ چونکہ ناشتہ ہوٹل کی جانب سے فری ہے  اور ساتھ ہی یہاں پر حلال  اشیا  ( صرف ناشتے کے لیے) وافر مقدار میں موجود ہیں لہٰذا  ہمیں چاہیے کہ ڈٹ کر ناشتہ کریں ،  خدا جانے دوپہر کے کھانے کے لیے کچھ  میسر آئے نہ آئے۔ تجویز چونکہ معقول تھی اس لیے ہم نے جلدی جلدی ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا، لیکن دو انڈوں کے آملیٹ کے ساتھ ڈبل روٹی کے صرف دو ہی سلائیس کھا سکے البتہ آرینج جوس کے ساتھ خوب دشمنی نبھائی اور کئی گلاس بغیر ڈکار لیے ہضم کرگئے۔ ادھر چودھری صاحب بات کے پکے نکلے اور انھوں نے ناشتے کے لیے موجود تمام اشیاءکے ساتھ خوب انصاف کیا۔ دورانِ ناشتہ وہ ترنگ میں آکر کچھ  اور کھُلے اور بتایا کہ کل رات انھوں نے ایک مساج سنٹر فون بھی کھڑکایا تھا اور بھاو  تاو   وغیرہ کے تمام مراحل بحسن و خوبی سر کرلیے تھے۔  ہم نے انھیں معنی خیز نظروں سے دیکھتے ہوئے  ان سے سوال کیا‘‘ ذرا بتانا تو! اپنے کمرے کا کیا نمبر تم نے انھیں لکھوایا تھا؟’’ اب تو وہ رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تھے لہٰذا شرماتے ہوئے اعتراف کیا کہ انھوں نے ہمارے کمرے کا ہی نمبر لکھوا  دیا تھا۔البتہ اس بات نے ان کی حیرت اور خوشی کو دوبالا کردیا کہ ان کی فون کال کا نتیجہ اتنی جلد نکل آیا تھا۔ اب انھوں نے راز دارانہ انداز میں  ہمیں تاکید کی کہ آئندہ  اگر فون آیا تو ہم انھیں بلا لائیں اور ان کی بات کروا دیں۔ناشتے سے فارغ ہوئے تو پتہ چلا کہ کرائے کی ایک ویگن ہمیں ٹریننگ سینٹر تک چھوڑنے کے لیے تیار کھڑی ہے۔ اور اس طرح ایک نہایت خشک قسم کی تربیت کا آغاز ہوا،  جو ہر روز صبح ساڑھے آٹھ بجے سے لے کر سہہ پہر پانچ بجے تک جاری رہتی۔ سوائے اسکے کہ یہی تربیت ہمارے سنگاپور آنے اور اس سفر نامے کے لکھنے  کا سبب بنی تھی کوئی اور قابلِ ذکر بات اس میں نہیں تھی جس کا ذکر کرکے ہم اپنے قارئین کو بور کرسکیں۔ہاں البتہ ایک واقعہ ایسا بھی گزرا جس کا ذکر کیے بغیر آگے بڑھ جانا نری زیادتی ہوگی۔ایک دن ہم اپنے ٹریننگ سنٹر میں اپنی معمول کی تربیتی سر گرمیوںمیں مصروف تھے کہ اچانک  ہماری تجربہ گاہ میں بہار آگئی۔ ایک خوبصورت سی چینی نژاد سنگاپوری حسینہ اس خشک ماحول میں چودھویں کے چاند کی مانند طلوع ہوئی۔ ہم حیران تھے کہیا الٰہی یہ کیا ماجرا ہوگیاکہ جنگل کا جنگل ہرا ہوگیاہم نے مشینوں پر خاک ڈالی اور اِس حسن کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے اُس کے گرد جمع ہوگئے۔ اس حسینہ نے اطمینان کے ساتھ اپنے ہاتھ میں تھاما ہوا چپٹا بکس میز پر رکھ دیا اور اسے کھول کر ہمارے معائنے کے لیے پیش کردیا۔ اس بکس میں قسم قسم کی خوبصورت گھڑیاں موجود تھیں۔ ہم نے گھڑیاں دیکھیں تو   میکانیکی انداز  میں پیچھے ہٹ گئے۔  یہ گھڑیاں یقیناً قیمتی ہوں گی، اور ہم انھیں خریدنے کی سکت نہ رکھتے تھے۔ چند لمحے ہمیں سنجیدگی کے ساتھ دیکھتے رہنے کے بعد وہ حسینہ ہنس پڑی۔ ہمیں اسکے یکایک ہنسنے کی وجہ تو بعد میں پتہ چلی لیکن اُس وقت اس کے ہنسنے کا یہ انداز بہت پیارا لگا۔  ہم نے بھی جواباً مسکراکے اس کو دیکھا اور منتظر رہے  کہ دیکھیں دستِ غیب سے کیا ظہور میں آتا ہے۔ پتہ چلا کہ یہ سب گھڑیاں نقلی تھیں۔ پھر کیا تھا۔ ہم سب ہم جماعت اس قیمتی  مجموعے پر ٹوٹ پڑے اور سب دوستوں  کی طرح ہم نے بھی دو گھڑیاں  مول لے لیں۔ وہاں بھاو،  تاو کیا کرتے، جو اس نے کہا مان لیا اور فوراً جیب سے پرس نکال کر مطلوبہ ڈالر اس کے ہاتھ میں تھمادیے۔دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہایاں آپڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریںیہ وہ زمانہ تھا جب نقلی گھڑیاں ابھی نئی نئی آئی تھیں، لہٰذا ایک انوکھی شے سمجھ کر ہم خریدلائے اور گھر والوں نے ہاتھوں ہاتھ لیں۔پار سال جب ہم جرمنی گئے تھے تو شو کیسوں میں سجی گھڑیوں کو گھنٹوں تکا کرتے لیکن خریدنے کی سکت اپنے اندر نہ پاتے تھے۔اب جو یہ نقلی گھڑیاں ہاتھ آئیں تو گویا  وارے نیارے ہوگئے۔ خیر صاحب یہ تھی ہماری ٹریننگ کی داستان۔ شام کو تربیتی مرکز سے نکلتے، سرکاری ویگن ہمیں سیدھے ہوٹل لیجاتی، جہاں پر ہم اپنا بیگ کمرے میں پھینکنے کے بعد فوراً ہوٹل سے باہر نکل جاتے، رات دس گیارہ بجے تک سڑکوں اور شاپنگ سنٹرز کے چکر لگاتےاور جب تھک کر چور ہوجاتے تو واپس ہوٹل کی راہ لیتے۔ ہفتے کے اختتامیے ( ویک اینڈز) ہم نے مشہور سیر گاہوں کی سیر کے لیے مخصوص کردیے تھے۔سنگا پور استوائی خطے میں واقع ہے لہٰذا اس کی آب و ہوا گرم مرطوب ہے۔بارشیں خوب ہوتی ہیں ۔ دن کا اوسط درجہ حرارت تقریباً تیس درجے سنٹی گریڈ ہوتا ہے۔ہر یا لی خوب ہے۔سال کے بارہ مہینے آپ ایک عدد ٹی شرٹ میں گزارہ کرسکتے ہیں ،  بشرطیکہ ہر روز ایک ہی ٹی شرٹ نہ ہو۔یہاں آپ کو گرم کپڑوں کی بالکل ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ہاں البتہ یہاں پر گرمی کی وجہ سے تمام دفاتر ، زیادہ تر شاپنگ سنٹر اور ہوٹل وغیرہ ائر کنڈیشنڈ ہوتے ہیں ، جسے یہاں ائر کون کہا جاتا ہے، کسی بھی بلڈنگ کے اندر آپ کو گرم سوئٹر کی ضرورت پڑ سکتی ہے لہٰذا حفظ، ماتقدم کے طور پر سنگاپور آتے ہوئے ایک عدد سوئٹر ضرور رکھ لینی چاہیے۔ سنگاپور میں کئی قومیتوں اور رنگ و نسل کے لوگ بستے ہیں۔ سب سے زیادہ چینی نژاد ہیں جو آبادی کا تقریباً پچھتر فیصد ہیں۔  باقی پچیس فیصد میں ملایئن، ہندوستانی، پاکستانی، سری لنکن عرب وغیرہ ہیں۔ بڑے مذاہب میں بدھ ازم، ہندومت، اسلام اور عیسائیت ہیں جن کے عبادت خانے بھی نظر آتے ہیں۔  حکومت کا انداز جمہوری ہے لیکن کسی بھی شخص کو دوسرے کے مذہب پر تنقید کا حق نہیں ہے۔ ملک میں سیاحت ایک انڈسٹری کی حیثیت رکھتی ہے۔ سیاحوں کی دلچسپی کی ہر شے وہاں موجود ہے اور سستی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں سیاح سنگاپور آئیں اور  زرِ مبادلہ کمایا جاسکے۔ پورا سنگاپور ایک بہترین تفریح گاہ، ایک سیاحتی مرکز اور ایک بہت بڑا اور اعلیٰ درجے کا بازار ہے۔ ابھی حال ہی میں( ۲۰۱۰) سنگاپور کے تفریحی جزیرے سینٹوسا آئی لینڈ میں بھی  ایک عدد کسینو بنایا گیا ہے جہاں پر سیاحوں کا داخلہ مفت ہے جبکہ سنگاپوری شہریوں کیلیے داخلہ فیس ہی ایک سو ڈالرہے۔سنگاپور کا جو انداز  سب سے پہلے آنکھوں کو بھاتا ہے وہ یہاں کی صفائی ستھرائی ہے۔ہمیں تو سنگاپور یورپ سے بھی زیادہ صاف و شفاف نظر آیا،  جس کی تائید ہمارے جرمن انسٹرکٹر نے بھی کی۔ صاف، شفاف، چمکتی ہوئی سڑکیں ، عمارتیں اور پارک دل کو بھاتے ہیں۔ سنگاپوری شہریوں کے بقول ان کا  ملک ہر قسم کی آلودگی سے پاک ہے، جس پر وہ بجا طور پر فخر  کرتے ہیں۔یہاں پر کوڑا کرکٹ پھیلانے پر سخت سزا اور جرمانے کا رواج ہے۔ یہ جرمانہ ۵۰ سے ۵۰۰ ڈالر تک ہوسکتا ہے۔   ہم نے اپنے معاشرے کے متعلق سوچا جہاں پر اس حدیثِ نبوی  ﷺ پر ہمارا ایمان ہے کہ  صفائی نصف ایمان ہے، لیکن اس صفائی سے مراد ہم گھر کی صفائی لیتے ہیں  اور اس کا اطلاق اپنے گھر کی دہلیز سے باہر نہیں کرتے۔ ہمارے گھر سےباہر دراصل ہماری ذمہ داری ہی نہیں ہے بلکہ حکومتِ وقت کی ذمہ داری  سمجھی جاتی ہے۔ ہم نے  پہلے دن کے اختتام پر اپنی قمیص کی کالر کی حالت دیکھنی چاہی ، وہ  بالکل صاف تھی۔ اسی طرح ان تین ہفتوں میں ہمیں اپنے جوتوں پر پالش کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ، وہ اسی طرح چمکتے ہوئے ہی ملے، جس طرح پہلے روز نظر آئے تھے۔اب جب ۲۰۱۰ میں،  اتنے سالوں بعد ہم دوبارہ سنگاپور پہنچے تو پتا چلا کہ سگریٹ اور چیونگم پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ دراصل ایم آر ٹی کے چلنے کے بعد ایک مرتبہ سنا کہ کسی نے چیونگم  کو چبا کر ٹرین کے آٹو میٹک دروازےمیں چپکا دیا تھا جو دروازہ کھلنے میں تاخیر کا سبب بنا، لہٰذا چیونگم کے خلاف یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔سگریٹ سنگاپور میں بہت مہنگی ہے ، البتہ  چنگی ائر پورٹ کے انٹر نیشنل لاونج میں سستی۔ دفتروں، شاپنگ سنٹرز اور بس اسٹاپوں، ریلوے اسٹیشن وغیرہ پر سگریٹ نوشی کی سختی سے ممانعت ہے۔  سگریٹ کے دھویں کو بھی وہ آلودگی تصور کرتے ہیں۔ لاہور سے ہمارے ایک سینئر انجینیر نے ایک صاحب کا نام اور ٹیلیفون نمبر دیا تھا کہ ان سے رابطہ قائم کرکے سلام کہہ دینا۔ ہم نے انھیں کال کیا اور اپنے لاہوری دوست کا سلام و  پیغام پہنچایا تو وہ بہت خوش ہوئے اور ہمیں لینے کے لیے ہوٹل آگئے۔ یہ صاحب پاکستانی تھے لیکن ایک سنگاپوری حور پر دل ہار بیٹھے تھے۔ اب اس سے شادی رچا کر گزشتہ سالہا سال سے سنگاپوری شہریت اختیار کرکے یہیں بس گئے تھے۔ اب تو ان کا ایک جوان بیٹا بھی تھا۔ انھوں نے ہمیں اپنے گاڑی میں بٹھایا اور ایک لمبی ڈرائیو پر نکل گئے۔ ہائی وے پر پہنچے اور ہمیں سنگاپور سے متعلق بتاتے ہوئے سنگاپور کی ہوائی سیر کروائی۔ انھوں نے بتایا کہ یہاں کے قوانین بہت سخت ہیں اور غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ان کے بیٹے نے کہیں اپنی یونیورسٹی کےکسی اخبار میں اسرائیل کے خلاف اور فلسطینیوں کی حمایت میں ایک مضمون لکھ مارا تھا۔ اس کی پاداش میں اسے مسجد کمیٹی کی اپنی رکنیت سے مستعفی ہوجانا پڑا تھا۔ صحیح یا غلط، ان کا مطمحِ نظر  یہ تھا کہ کسی کی بھی مخالفت نہیں کرنی چاہیے۔ اس ملٹی ایتھنک  ملٹی ریشیل قسم کے ملک کے لیے یہی پالیسی بہتر ہے ورنہ ہر روز کوئی نہ کوئی گروہ جذبات میں آکر  اور مشتعل ہوکر ہنگامہ آرائی پر آمادہ ہوسکتا ہے۔اس دنیا میں بہت سی باتیں غلط ہورہی ہیں ، لیکن ان کی وجہ سے ہم جوش میں آکر اپنے ہی سکون کو کیوں غارت کرلیں۔  ان صاحب نے ہمیں گھر لے جاکر چائے وغیرہ  پلوائی اور پھر ہوٹل چھوڑ دیا۔ان دنوں ہم ہوٹل سے باہر نکلتے تو زیادہ تر بس میں سفر کرتے تھے، اس لیے کہ ٹیکسی مہنگی پڑتی تھی اور ایم آر ٹی ابھی بنی نہیں تھی۔ سنگاپور میں آج تک ڈبل ڈیکر بسیں چلتی ہیں۔ ہم بس اسٹاپ پر آکر کھڑے ہوجاتے اور ڈبل ڈیکر کا انتظار کرتے اور جوں ہی ڈبل ڈیکر بس میسر آتی ، فوراً اس میں سوار ہوکر اوپر کی منزل کی جانب لپکتے۔ اوپر جاکر وہاں سے سنگاپور کا نظارہ کرتے تھے، یعنی ایک ٹکٹ میں دو مزے۔ ہمیں اپنے بچپن میں کراچی کی سڑکوں پر چلتی ہوئی ڈبل ڈیکر بسوں کابھی   ہلکا سا  دھیان ہے۔ہمیں سب ہے یاد ذرا  ذرا۔ اسی یاد کو تازہ کرنے کے لیے ہم نے سنگاپور کی ڈبل ڈیکر میں خوب سفر کیا  اور خوب مزے لے لے کر کیا۔  اس زمانے میں انڈر گراونڈ ٹرین کی تیاری اور سرنگوں کی تعمیر چپکے چپکے کی جارہی تھی، البتہ کہیں کہیں اس کے اسٹیشن ابھرتے ہوئے نظر آتے تھے۔ اس بارے میں مقامی لوگوں سے خاصا سننے کو مل جاتا تھا ۔۱۹۹۵ ء میں جب ہم تیسری بارسنگاپور پہنچے تو یہی انڈرگراونڈ ٹرین بن کر تیار ہوچکی تھی اور اس نے اپنا کام بھی شروع کردیا تھا لیکن ہمیں اسے دیکھنے اور اس میں سفر کرنے کا اتفاق ۲۰۱۰ء میں ہوا ۔  ہم نے سنگاپور پہنچتے ہی سب سے پہلا کام یہ کیا کہ کاغذ پینسل سنبھال کر بیٹھ گئے اور ایک مکمل بجٹ بنا لیا کہ ہمیں جو زرِ مبادلہ دیا گیا تھا، اس میں سے ہمارا اصل حصہ کتنا ہے اور کس قدر رقم ہمیں واپس لوٹا دینی ہے۔ پھر اپنے حصے میں سے ہم نے ہوٹل اور ٹیکسی کا حساب علیحدہ کرلیا تاکہ کھانے کے لیے اپنی ذاتی رقم کا اندازہ ہوسکے۔ ذاتی یوں کہ اسی میں سے ہم کچھ رقم پس انداز کرسکتے تھے اور اپنی ذاتی خریداری کرسکتے تھے۔ پار سال جب ہم جرمنی گئے تھے تو اسی طرح ہم نے اپنے کھانے میں سے کافی رقم پس انداز کی تھی اور ایک عدد کمپئیوٹر خریدا تھا۔ یہاں سے بھی ہم نے ایک عدد کمپئیوٹر خریدنے کا پروگرام بنا لیا ۔ سنگاپور میں یوں تو ساری دنیا کی طرح اچھے ریسٹورینٹ کافی مہنگے ہیں لیکن حکومت کی  طرف سےیہاں پر جگہ جگہ کھانے کے سستے اسٹال لگائے گئے ہیں۔ جہاں پر درمیان میں ایک مناسب بیٹھنے کی جگہ کا انتظام کیا گیا ہے اور چاروں جانب کھانے کے اسٹال ہیں جہاں سے کھانے والے اپنی مرضی کی اشیاء خرید کر کھاتے ہیں۔ یہاں پر بیرے ( ویٹرز)  نہیں ہوتے بلکہ لوگ خود اپنی مدد آپ( سیلف سروس) کے تحت اپنا کھانا خود ہی اپنی میز تک لے آتے ہیں۔ یہ بندوبست فاسٹ فوڈ ریسٹورینٹوں یعنی میکڈانلڈ  اور  کے ایف سی  سے بھی سستا ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ جگہ جگہ انڈین مسلمانوں یا ملاین مسلمانوں کے حلال کھانے کے ڈھابے بھی نظر آجاتے ہیں ۔ اسی طرح ہماری دو عدد ترکیبیں ایسی تھیں جو ہماری بچت میں سراسر اضافے کا باعث تھیں۔ پہلی ڈٹ کر ناشتہ کرنا  اور دوسری چودھری صاحب کے لائے ہوئے فوڈ کینز سے فائدہ اٹھانا۔ پہلی ترکیب پر ہم سے زیادہ چودھری صاحب عمل کر پاتے تھے اور دوسری ترکیب پرعمل پیرا ہونے میں ہم چودھری صاحب کے شانہ بشانہ شریک ہوتے تھے۔ ہماری دوسری لسٹ خریداری کی تھی ۔ اس دوسری لسٹ میں سرِ فہرست تو جیسا کہ ہم نے ابھی عرض کیا ایک عدد کلون کمپئیوٹر تھا۔ پار سال جب ہم جرمنی گئے تھے تو ایک عدد کموڈور ۶۴ کمپیوٹر مول لے آئے تھے۔ ادھر کچھ ماہ سے آئی بی ایم کلون کمپئیوٹر عام ہوگئے تھے اور سستے ہونے کی وجہ سے عام آدمی کی پہنچ میں تھے۔باقی اشیاء کا دارومدار اس بات پر تھا کہ کمپیوٹر خریدنے کے بعد ہمارے پاس کتنی رقم بچ رہتی ہے۔ اس میں ہمارے اپنے کپڑوں کے علاوہ گھر والوں کے لیے کچھ تحفے تحائف وغیرہ شامل تھے۔  روزآنہ رات کو سونے سے پہلے ہم ان دونوں لسٹوں کو بلا ناغہ اپڈیٹ کرلیتے تھے۔ تاکہ ہر وقت ہمیں اپنی جیب کی حیثیت کا احساس رہے اور ہم اپنے بجٹ سے زیادہ خرچ نہ کرسکیں۔(جاری ہے)

جیون میں ایک بار آنا سنگاپور

جیون میں ایک بار آنا سنگاپورمحمد خلیل الرحمٰنیوں تو دلشاد بیگم کا دعوت نامہ،      ‘‘ جیون میں ایک بار آنا سنگاپور’’ہمیں کافی عرصے سے دعوتِ گناہ دے رہا تھا، لیکن جس بات نے ہمارے جذبہٗ شوق پر مہمیز کا کام دیا وہ کچھ اور تھی۔ ہوا یوں کہ ہم شب و روز کی یکسانیت سے تنگ آگئے۔ ڈاکڑوں اور طبیبوں کو دکھایا ، مگر کچھ افاقہ نہ ہوا۔ جب ہمیں یقین ہوگیا کہ مرا علاج مرے چارہ گر کے پاس نہیںتو علاج کےلیے قدیمی حکما کے نسخوں کو ٹٹولا۔ کرنل شفیق الرحمٰن دور کی کوڑی لائے۔‘‘ تم اس جمود کو توڑتے کیوں نہیں۔ صبح اٹھ کر رات کا کھانا کھایا کرو، پھر قیلولہ کرو ۔ سہہ پہر کو دفتر جائو، وہاں غسل کرو اور اور سنگل روٹی کا ناشتہ۔ حجام سے شیو کروائو اور حجام کا شیو خود کرو۔۔۔۔’’یہ بھی  کردیکھا، مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔  آخر کار تنگ آکر دوہفتہ کی چھٹی کے لیے درخواست داغ دی۔ جواب آیا۔ ‘‘ آپ کی چھٹی کی درخواست نامنظور کی جاتی ہے، اس لیے کہ کمپنی اس عرصے میں آپ کو تربیت کے لیے سنگاپور بھیج رہی ہے۔۔۔’’کوئی جل گیا، کسی نے دعادی۔ زادِ سفر کا مرحلہ درپیش ہوا تو دوستوں سے مشورہ لیا۔ سیر کے لیے فلاں فلاں جگھیں ہیں۔ خرید و فروخت کے لیے فلاں فلاں، اور کھانے کے لیے فلاں فلاں ریسٹورینٹ۔ اور مساج کے لیے فلاں فلاں سنٹر۔ اور دیکھو، آرچرڈ روڈ سے کچھ مت خریدنا، اور نہ ہی اپنے ہوٹل  کےمساج سنٹر سے مساج کروانا، یہ دونوں جگہیں مہنگی ہیں۔ فلاں اسٹریٹ سے بچنا، وہاں رات گیے وہ لوگ اپنا بازار لگاتے ہیں جو ہیوں میں نہ شیوں میں۔ایک صاحب کہنے لگے، ‘‘ سنگاپور سے مساج ضرور کرواکے آنا’’  ۔‘‘ اور دیکھو! ’’ انھوں نے تاکیداً کہا،  ‘‘ واپسی پر جھوٹ نہ کہنا کہ مساج کروا آئے ہو۔ مجھے اسکے تمام لوازمات معلوم ہیں۔ ’’بھاگے بھاگے ایک اور دوست کے پاس پہنچے اور ‘‘ مساج کے لوازمات ’’ معلوم کیے، تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے۔بڑی ردّ و قدح کے بعد، جس زاد سفر کا اہتمام کیا وہ یہ تھا۔ دوستوں کے مشوروں کا سوٹ کیس وزن بیس کلو اور ساتھ سفری بیگ میں کچھ کپڑے وغیرہ۔ضروری کارروایئوں کے بعد پروانہ اور پرِ پرواز ہمیں عطا کردیے گئے۔  اور یوں ہم اسلام آباد سے سنگاپور کی طرف عازمِ سفر ہوئے۔ راستہ میں ایک کالی بلی راستہ کاٹ گئی تو   ہم نے اس نحوست کے تدارک کے لیے پہلے پشاور جانے کا فیصلہ کرلیا۔  یوں بھی خالہ خالو ہمارے قریب ترین رشتہ دار تھے۔( یہاں ہمارا مقصداسلام آباد میں رہتے ہوئے مکانی فاصلہ  کی قربت ہے)۔پشاور پہنچے تو  خالہ اور خالو ہمیں دیکھ کر کھل  اٹھے۔  یہ آج سے کوئی بیس بائیس برس اُدھر،  اُن دنوں کا ذکر ہے جب آتش بھی جوان تھا اور ہم بھی۔پہلی پہلی نوکری ملی تھی اور اس سلسلے میں ہم اسلام آباد میں ، اپنے گھر،  کراچی اوراپنے  خاندان سے دور کالے پانی کی سزا کاٹ رہے تھے۔راول جھیل کے اسی کالے پانی میں اپنی گاڑی دھونےکے لیے کبھی کبھی جایا کرتے۔ خیر صاحب خالہ خالو نے دیکھا،  حال چال دریافت کیے، تو ہم پھٹ پڑے۔ فوراً  اگل دیا کہ ہم سنگاپور جارہے ہیں۔ خالو نے حیران ہوکر ہمیں دیکھا اور پھر ہمارے زادِ سفر کی جانب نگاہ کی  ،کہنے لگے۔‘‘ اور میاں۔ تمہارا باقی سامان کہاں ہے۔’’ ہم ہنس دیے ، ہم چپ رہے، منظور تھا پردہ ہمیں۔ مشوروں کے اس سوٹ کیس کے بارے میں انھیں کیسے بتلاتے۔ اس میں کچھ پردہ نشینوں کے تو کیا، البتہ سنگاپور کی بے پردہ بیبیوں کے نام آتے تھے،   اور پھر یہ مشورے قابلِ گردن زدنی تو نہیں البتہ قابلِ گرفت ضرور تھے، اور ان پر‘‘ صرف بالغان کے لیے’’ کا ٹیگ لگانا پڑاتھا، اور اس محفل میں ان کا تذکرہ مخرّبِ اخلاق ضرور گردانا جاتا۔خیر صاحب، خالو جان ہمارے اس مختصر زادِ راہ کو دیکھ کر باغ باغ ہوگئے۔کہنے لگے، ‘‘ اور ایک ہماری بیٹی صاحبہ ہیں، کہ وہ جب دوہفتوں کے لیے آسٹریلیا گئیں تو تین سوٹ کیس ان کے ساتھ گئے اور پانچ سوٹ کیس واپس آئے۔’’کراچی پہنچے تو کراچی ائر پورٹ پر ہمارے ساتھ دو حادثے پیش آئے۔ دوستوں کے مشوروں کا سوٹ کیس اور پیمانہٗ صبر، دونوں ہی کھوئے گئے اور چودھری صاحب ہمارے ہم سفر بنا دئیے گئے۔کراچی پہنچ کر ایک دن کا آرام ملا تو کشاں کشاں گھر پہنچے اور گھر والوں کو یہ مژدہ جاں فزائ سنایا کہ ہم سنگاپور جارہے ہیں۔ گھر والوں نے دعا دی۔‘‘ شکر ہے کہ اب تمہیں سنگاپور کی نوکری ملی۔ جس طرح پیٹھ دکھاتے ہو اسی چہرہ بھی دکھائو’’۔‘‘چہرہ تو ہم تین ہفتے بعد ہی دکھا دیں گے۔ تین ہفتے کا تربیتی کورس ہے سنگاپور میں، کوئی مستقل نوکری تو نہیں۔ پار سال جب ہم جرمنی گئے تھے تو وہاں کوئی مستقل نوکری تھوڑا ہی تھی، چند ہفتے کی تربیت بھگتا کر واپس لوٹے تھے۔’’بہرحال یہ خوشخبری بھی اپنی جگہ خوب تھی۔ سنگاپور کا تین ہفتے کا سفر۔ سب خوش ہوئے اور اگلے روز خوشی خوشی ہمیں رخصت کیا۔ہمارے سنگاپور کے سفر کے لیے کمپنی کی جانب سے تھائی ائر کی فلائیٹ پہلے ہی سے بک تھی۔جہاز پر پہنچے تو اندازہ ہوا کہ اک غولِ بیابانی ہے جو ہمیں اڑائے لیے چلا ہے۔ ذکر ان پری وشوں کا اور پھر بیاں اپنا۔ کیا کیا بتایئں اور کہاں تک سنائیں۔ ہم اور چودھری صاحب اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھے ان پری وشوں کی بلائیں لیا کیے۔جانے کب جہاز اڑا اور جانے کب بنکاک ائر پورٹ پر پہنچ گیا۔ ہمیں خبر ہی نہ ہوئی۔ ائر پورٹ  پر امیگریشن کاونٹر سے فارغ ہوئے تو رات کے ڈیڑھ بج رہے تھے۔ اب اگلی دوپہر دو بجے تک کے لیے ہم فارغ تھے۔ فوراً  انفارمیشن سے رجوع کیا اور ان کے مشورے سے رات کے لیے ایک ہوٹل پسند کرلیا اور وہیں پر اگلے دن صبح ایک عدد ٹوور کا انتظام بھی کرلیا۔ٹیکسی پکڑکر ہوٹل پہنچے، اور کمرے میں جاکر اگلی صبح تک یوں انٹا غفیل ہوئے کہ   اگلی صبح ناشتے کے لیے بڑی مشکل سے آنکھ کھلی۔ فوراً تیار ہوکر لاونج میں پہنچے، ناشتے سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ ہمیں ٹوور گائڈ کی آمد کی اطلاع دی گئی۔ ٹوور گائڈ کو دیکھا تو باچھیں کھل گئیں، یہ ایک خوبصورت سی خاتون تھیں۔   ان خوبصورت خاتون کی معیت میں تو ہم کہیں بھی جانے کے لیے تیار ہوجاتے، یہ تو پھر بھی بنکاک کے مشہور بدھ عبادت گاہوں کا  ٹوور تھا۔ آج سے کم و بیش بیس سال پہلے کا بنکاک  ویسے تو یوں بھی بہت خوبصورت تھا، لیکن ان خوبصورت عبادت گاہوں نے تو اسے چار چاند لگا دیے تھے۔  ان تین گھنٹوں میں ہم نے چار عبادت گاہوں کا دورہ کیا جن میں گولڈن ٹمپل اور ٹمپل آف ریکلائیننگ بدھا بہت خوب تھے۔ بدھا کے یہ  سنہری مجسمے جو  ان عبادت گاہوں میں تھے، بہت بلند و بالا تھے لیکن  ہم ان کا موازنہ لاہور میوزیم میں رکھے ہوئے اس مجسمے سے کر رہے تھے جس میں بدھا کو درخت کے ینچے تپسیا کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ چھوٹا سا مجسمہ اپنی خوبصورتی اور صناعی کا یقیناً ایک اعلی نمونہ ہے، اور بنکاک کے ان عبادت گاہوں میں بنائے ہوئے یہ عالی شان مجسمے اس کے سامنے ہیچ تھے۔ادھر چھوٹے چھوٹے مجسموں کی شکل میں بدھا کی زندگی کے حالات بھی منقش کیے گیے تھے۔   ایک طرف تو انسانی کاری گری کے یہ اعلیٰ نمو نے تھے اور دوسری طرف انسان تھے جو اپنے ہی بنائے ہوئے ان مجسموں کی عبادت کررہے تھے۔ کتنا بڑا ظلم تھا اس انسان کے ساتھ ، جو انھیں انسانیت سکھانے اور اللہ کا پیغام پہنچانے کے لیےان کے پاس  آیا اور ان  ظالم لوگوں نے اس کی ہی پوجا شروع کردی۔ظلم کی اس داستان میں جو ظلم ہمارے ساتھ ہوا وہ  بھی ساتھ ساتھ بیان کرتے چلیں۔ جب ہم سنگاپور کا سفر ختم کرکے واپس پاکستان پہنچے اور یار دوستوں نے اس سفر کا حال دریافت کیا اورسن کر  اس پر تبصرے کیے تو ہمیں حقیقتِ حال کا ادراک ہوا۔دراصل کمپنی والے نوجوان لوگوں کی خواہشات کے عین مطابق انھیں بنکاک میں ایک دن کا حضر عطا فرمایا کرتے تھے،  تاکہ نوجوان اپنے دل کی تسلی کرلیں۔ ہم اور آگے بڑھے اور اس ہوٹل کا تذکرہ کیا جہاں پر ہم نے رات قیام کیا تھا،  تو سننے والوں نے سر پیٹ لیا۔ یہی تو وہ علاقہ تھا جہاں پر ہم  کچھ ‘دل پشوری ’کر سکتے تھے۔ خیر صاحب، ولے بخیر گزشت۔ بنکاک کی سیر سے فارغ ہوئے تو فوراً ہوٹل کا حساب بیباق کیا اور ائر پورٹ کی جانب دوڑ لگائی تاکہ سنگاپورکی جانب عازمِ سفر ہوسکیں۔ باقی سفر جو نسبتاً مختصر تھا آرام سے گزر گیا اور ہم سنگاپور ائر پورٹ پر اتر گئے۔ ائر پورٹ پر پاسپورٹ اور امیگریشن کی لائن میں لگے ہوئے نہایت انہماک سے اپنی باری کا انتظار کررہے تھے کہ اچانک ایک باوردی آفیسر نے ہمیں لائن سے علیحدہ ہونے کا اشارہ کیا اور اپنے ساتھ لے کر ایک جانب کو چل دیا۔ ہم حیران تھے کہ یا الٰہی یہ ماجرہ کیا ہے، کیوں اس آفیسر نے ہمیں ساتھ لے لیا ہے۔ ابھی ہم اس سے پوچھنے کے لیے اپنی انگریزی کو آواز دے ہی رہے تھے کہ وہ ہمیں لے کر ایک چھوٹے سے کمرے میں داخل ہوا ۔ سامنے  ایک اور آفیسر کے سامنے ایک پٹھان بھائی  بیٹھے تھے،  یہ بھائی صاحب پشتو اور ٹوٹی پھوٹی اردو کے علاوہ اور کچھ نہ جانتے تھے اور یہاں سنگاپور میں کپڑا خریدنے آئے تھے۔۔ ہم نے فوراً مترجم کے فرائض سنبھال لیے اور ان حضرت سے ان کے بارے میں پوچھ پوچھ کر آفیسر حضرات کو بتانے لگے۔  یہ مسئلہ حل ہوا تو ہم پھر اپنی لائن میں جاکر لگ گئے اور اس طرح سنگاپور کا ایک ماہ کا ویزہ لگواکر ہی دم لیا۔ ادھر چودھری صاحب ہم سے پہلے ہی فارغ ہوکر ہمارا انتظار کررہے تھے۔ ہمارے فارغ ہونے پر وہ بھی ہمارے ساتھ چل پڑے ، ہم دونوں نے اپنا سامان سنبھالا اور ٹیکسی کی لائن میں کھڑے ہوگئے۔  نہایت اعلیٰ درجے کی گاڑیوں کو ٹیکسی کے طور پر کھڑے دیکھ کر ہمارا ماتھا ٹھنکا۔ کہیں ہم وی وی آئی پی یعنی کوئی بہت ہی اعلیٰ شخصیت تو نہیں ہوگئے؟ اپنے بازو پر زور سے چٹکی لی تو درد کی شدید لہر اور ‘سی’ کی اپنی ہی آواز نے ہمیں جتلا دیا کہ ہم خواب نہیں دیکھ رہے ہیں بلکہ  سنگاپور کی ٹیکسی میں سفر کیا چاہتے  ہیں۔ ہم نے اپنی اُسی افلاطونی انگریزی کو آواز دی جس کے ذریعے ابھی ابھی ہم ایک معرکہِ عظیم طے کرکے آرہے تھے اور بھائو تائو کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔ خدا جانے یہ ٹیکسی ڈرائیور ہمارے ہوٹل کی جانب جانا چاہتا  ہو یا اس کا ارادہ کسی اور جانب کا ہے؟   کیا جانیے وہ منھ پھاڑ کر کتنے پیسے مانگے؟   کیا ہمیں کوئی سستی ٹیکسی مل سکتی ہے؟    ہم ابھی اسی ادھیڑ بُن میں تھے کہ ٹیکسی ڈرائیور نے بھائو کیا اور نہ تائو،    بلکہ یوں کہیے کہ آئو دیکھا نہ تائو اور نہایت ادب سے ہمارا سامان ڈِگی میں رکھا ، ہمیں گاڑی میں بٹھایا اور میٹر پرلگے ایک بٹن کو دبا کر چلنے کے لیے تیار ہوگیا۔اور صاحبو! یوں ہم ‘ اپر  بوکے تیما روڈ’  پر واقع ‘ نووٹیل آرکڈ   اِن’  نامی ایک نہایت عالیشان ہوٹل میں پدھارے۔بکنگ کلرک مصروف تھا۔ اس نے نہایت ادب سے ہمیں ایک میز کی جانب بلایا اور ہمیں بٹھا کر ایک سنگاپوری حور کو آواز دی، وہ حسن کی دیوی فوراً ہماری جانب لپکی اور اپنی ایک ٹانگ  لبادے سےنکال،   کاغذ پینسل سنبھال ، ہمارا آرڈر لینے کے لیے تیار ہوگئی۔ ہم نے کنکھیوں سے اس شمشیرِ برہنہ کی جانب دیکھتے ہوئے اک شانِ بے نیازی کے ساتھ آرینج جوس کا حکم صادر فرمایا۔ چودھری صاحب نے بھی کنکھیوں سے ہماری طرف دیکھتے ہوئے  ‘وہی وہی’  کی آواز نکالی۔ حسنِ بے پروا نے فوراً اپنے کاغذ پر کچھ لکھا اور اسے لپیٹتی ہوئی آگے چلدی۔ ہم  یوں چونکے گویا ابھی ابھی ہماری آنکھ کھلی ہو۔ ہم نے چونک کر چاروں جانب دیکھا۔ ہمارے اطراف  رنگ و نور کی اک عجیب دنیا پھیلی ہوئی تھی۔ تو یہ سنگاپور ہے، ہم نے ترنگ میں آکر سوچا۔ہم نے آرینج جوس کے ہلکے ہلکے گھونٹ لیتے ہوئے چیک اِن کیا اور اپنےاپنے کمرے میں جاکر ڈھیر ہوگئے۔ ایک ڈیڑھ گھنٹہ بعد جب ہوش ٹھکانے لگے اور رات کی بے آرامی کا کچھ مداوا ہوا تو دوپہر کے کھانے کا خیال دل کو ستانے لگا۔ ہوٹل کا کھانا بہت مہنگا پڑتا لہٰذا دونوں دوست ہوٹل سے نکلے اور کسی سستے ریسٹورینٹ کی تلاش شروع کی۔ دور دور تک ایسے کسی ریسٹورینٹ کا پتہ نہ چلا تو تھک ہار کر واپس ہوئے ہی تھے کہ ایک اسٹور پر نظر پڑی۔ چودھری صاحب نے مسکرا کر ہمیں معنی خیز نظروں سے  دیکھا گویا کہہ رہے ہوں، ‘‘ اب دیکھو ! میں کیا کرتا ہوں۔’’،  ایک عدد ڈبل روٹی خریدی اور ہمیں لیے ہوئے اپنے کمرے کی جانب آگئے۔ کمرے میں پہنچ کر دروازہ لاک کیا اور اپنے سوٹ کیس میں سے ایک عدد بجلی کی ہیٹنگ  راڈ  برآمد کی،  اسے  قریب ترین بجلی کے ساکٹ میں لگا کر اس کا سرا ایک پانی کے برتن میں ڈال دیا ۔ پانی گرم ہونا شروع ہوا،  اتنے میں انھوں نے اپنے سوٹ کیس سے‘ احمد’ کا کوفتوں کے سالن کا سربند کین نکالا،  اسے پانی میں رکھ کر خوب گرم کیا اور اسے کھول کر پلیٹ میں ڈال دیا۔ اس طرح ہم نے اس دوپہر اپنی بھوک مٹائی اور سیر کے لیے نکل پڑے۔  آج اتوار تھا اور ہم نے سن رکھا تھا کہ سنگاپور میں ایک جگہ ‘ لٹل انڈیا’  نامی بھی ہے جہاں ہندوستانی کھانوں کے سستے ریسٹورینٹ موجود ہیں نیز یہ کہ وہاں پر دکانیں اتوار کے دن بھی کھلی رہتی ہیں۔ بس کے ذریعے سرنگون روڈ کے اسٹاپ پر اترے تو کچھ اور ہی سماں تھا۔ ہر طرف سجی سجائی  ہندوستانی طرز کی دکانیں موجود تھیں جن میں قسم قسم کی ہندوستانی اشیائ فروخت کے لیے موجود تھیں ۔کہیں زرق برق بھڑکیلی ، بنارسی ہندوستانی ساڑھیاں اور دیگر ہندوستانی کپڑے ، کہیں سونے اور چاندی کے جڑائو زیور۔کہیں ہندوستانی موسیقی پر مبنی کیسٹ اور سی ڈیاں ۔ اور ان دکانوں کے درمیان خالص ہندوستانی کھانے سرو کرتے ریسٹورینٹ۔کہیں  روا  ڈوسا اور مسالہ ڈوسا، کہیں اڈلی  وڑہ،  کہیں تھالی ریسٹورینٹ ، جہاں پر آپکی پسند کے مطابق اسٹیل کی تھالی میں  یا کیلے کے پتے پر کھانا دیا جاتا ہے۔کہیں صرف ویجیٹیرین یعنی سبزیوں والے کھانے ، کہیں بسم اللہ بریانی ۔کہیں ہندوستانی مٹھائیاں۔چوک سے چلنا شروع کیا تو ایک جگہ ‘مصطفےٰ اینڈ شمس الدین کی دکان نظر آئی۔ یہ ان کی سب سے پرانی دکان ہے۔  نظارہ کرتے چلے تو لطف آگیا۔ یوں تو اس سڑک کا نام سرنگون روڈہے لیکن اطراف میں چونکہ ہر طرف ہندوستانی آباد ہیں اور ان ہی کی دکانیں نظر آتی ہیں ، لہٰذا   اسے  لٹل انڈیا یعنی‘ چھوٹا ہندوستان’ کہا جاتا ہے۔  یہ بازار یونہی پھیلتا ہوا اگلے چوک تک پہنچتا ہے جہاں پر اُس زمانے میں سرنگون پلازہ میں مصطفےٰ اینڈ شمس الدین کا بڑا اسٹور ہوتا تھا،  اب اس جگہ،   اس سے بھی بڑا مصطفےٰ سنٹر ہے۔مصطفےٰ سنٹر اب ایک بہت بڑا ملٹی اسٹوری ڈیپارٹمنٹل اسٹور ہے جہاں ضروریاتِ زندگی کی تقریباً ہر چیز ملتی ہے۔آجکل،  جب سے زمین دوز ٹرین ( جسے مقامی لوگ  ایم آر ٹی یعنی    ماس ریپڈ ٹرانزٹ کہتے ہیں) چلی ہے اس کے دو اسٹیشن سرنگون روڈ پر ہیں۔ ایک  بکے تیما  روڈ اور سرنگون روڈ کے  سنگم پر اور دوسرا مصطفےٰ سنٹر سے صرف چند قدم کے فاصلے پر۔سرنگون روڈ پر چلتے ہوئے    راستے میں ایک ہندو مندر اور مصطفےٰ سنٹر کے عین سامنے انگولیا مسجد واقع ہے ،بھی نظر آتے ہیں۔  اتوار کو تو یوں لگتا ہے گویا سڑک پر ایک جلوس چل رہا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان سے آنے والے زیادہ تر اسی علاقے میں پہنچ کر کھانا کھاتے ہیں اور اپنی زیادہ تر خریداری یہیں سے کرتے ہیں۔ بسم اللہ ریسٹورینٹ میں ایک بزرگ ویٹر کے طور پر کام کرتے ہیں ،  ان سے گفتگو کی تو پتہ چلا کہ ‘مصطفےٰ بھائی’ ہندوستان سے آئے تو  شروع میں ایک ٹھیلا لگاتے تھے، ایک صاحب اپنی دکان بیچ کر ہندوستان جارہے تھے۔  مصطفےٰ بھائی نے ان سے دکان خرید لی۔ اللہ نے برکت دی اور کاروبار اتنا بڑھا کہ اب ماشائ اللہ مصطفےٰ سنٹر چوبیس گھنٹے کھلا رہتا ہے اور روزآنہ ہزاروں خریدار خریداری کے لیے آتے ہیں اور لاکھوں کی خریداری کرتے ہیں۔وہیں سے کٹ مارا اور سیدھے ہاتھ کی طرف ہولیے۔ چلتے چلتے راستے میں عرب اسٹریٹ نظر آئی، دیکھ کر دل خوش ہوا ، وہیں سے نظر گھمائی تو دل پہلو میں رکتا ہوا سا محسوس ہوا۔ نظروں کے سامنے ایک انتہائی خوبصورت مسجد موجود تھی۔ تیز تیز چلتے ہوئے اس مسجد تک پہنچے۔ اس خوبصوت اورعالی شان  مسجد کا نام ‘‘ مسجد سلطان’’  ہے۔مسجد باہر سے جتنی خوبصورت نظر آتی ہے، اندر سے بھی اتنی ہی خوبصورت ہے۔  اندر جاکر دو رکعت نمازِ عصر قصر پڑھی، کچھ تصویریں اندر باہر سے کھینچیں اور پھر عرب اسٹریٹ پر نظر کی تو یہاں کئی ملائین مسلم ریسٹورینٹ دکھائی دیئے جو انڈا پراٹھا قسم کی کوئی چیز بنا رہے تھے۔ اس ڈش کا نام مرطباق ہے۔ چائے کے ساتھ مرطباق کھایا۔ بہت لذیذ تھا۔ واپس اسی راستے سے لوٹے اور سرنگون روڈ پہنچے اور دیر تک وہاں ٹہل لگاتے رہے۔  راستے میں ایک جگہ ایک ریسٹورینٹ پر‘‘ عظمی ہوٹل’’  لکھا ہوا دیکھا تو قسمت آزمانے کا خیال آیا۔ پار سال جب ہم جرمنی گئے تھے تو وہاں پر کسی بھی ریسٹورینٹ میں کھانا کھانے سے پہلے حلال وغیرہ سے متعلق پوچھ لیا کرتے تھے۔ یہاں بھی خیال آیا کہ پہلے دل کی تسلی کرلی جائے اس لیے اسی عظمی ہوٹل کے کاونٹر پر جاکر ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا یہاں حلال کھانا ملتا ہے۔ کرتا پائجامہ میں ملبوس ایک مولانا کاونٹر پر کھڑے تھے، برا مان کر بولے۔ ‘‘عظمی ہوٹل نام ہے، سب کام کرنے والے یہاں مسلمان ہیں اور یہاں پر ہر کھانا حلال ہے۔’’ دل کو تسلی ہوئی تو ہم نے رات کا کھانا وہیں سے کھایا اور بس میں بیٹھ کر ہوٹل واپس لوٹ گئے۔ دروازے سے اندر آتے ہی کئی کارڈوں پر نظر پڑی جو دروازے کے نیچے سے کمرے میں ڈالے گئے تھے۔ یہ کارڈ مختلف مساج سنٹرز سے متعلق تھے۔ انھیں ردی کی ٹوکری میں ڈالا اور کمرے میں ادھر ادھر نظر ڈالی۔ کمرے  میں موجود  ریفریجریٹر کے قریب بجلی کی کیتلی اور ساتھ ہی ایک طشت میں  دو عدد چائے اور دو عدد کافی کا انتظام تھا جو ہوٹل کی جانب سے مفت تھا۔ مزے سے چائے بنا کر پی ،    آنے والے کل کی تیاری کرکے بستر پر لیٹ گئے اور ٹیلیویژن سے دل بہلانے لگے۔ چیک اِن کے ساتھ ہی کمپنی کی جانب سے ایک خط ہمیں مل چکا تھا کہ اگلے روز ایک بس ہمیں ہوٹل کی لابی سے لیکر ٹریننگ سنٹر تک لیجائے گی، لہٰذا اس طرف سے اطمینان تھا۔ سفر کی تھکن اب تک محسوس ہورہی تھی  اس لیے لیٹے تو اگلے ہی لمحے گہری نیند نے ہمیں آدبوچا۔جانے کب تک سوتے رہے۔ اچانک ٹیلیفون کی مسلسل  گھنٹی کی آواز سے بیدار ہوئے۔ کچھ دیر تک تو سمجھ ہی میں نہ آیا کہ ہم کہاں  ہیں اور اس وقت کے بجے ہیں۔ حواس باختہ سے لیٹے رہے۔ بارے کچھ سکون ملا تو رسیور اٹھا کر ‘‘ ہیلو!’’ کہا۔ کسی خاتون کی میٹھی سی آواز سنائی دی۔وہ انگریزی میں کچھ کہہ رہی تھیں۔ آپ نے ہمیں بلایا؟ہمارے حواس دوبارہ گم ہوگئے۔ بڑی مشکل سے انھیں پھر سے مجتمع کیا اور نہایت تلخ لہجے میں جواب دیا۔ جی نہیں۔ ہم نے آپ کو کال کیا نہ بلایا۔ اور رسیور کریڈل پر پٹخ کر دوبارہ سونے کی کوشش کرنے لگے۔ پھر اٹھے، حوائج ضروریہ سے فارغ ہوکر ٹیلیویژن کو بند کیا۔ لائٹ بند کی اور کافی دیر تک دھڑکتے دل کو سنبھالنے کی کوشش کرتے رہے۔

علم الصرف ایک مبتدی کی نظر سے


علم الصرفمحمد خلیل الر حمٰن
﴿بسم اللہ الر حمٰن الر حیم﴾الحمد للہ الذی ﴿خلق الانسان و علمہ البیان ﴾ و اختیار لوحیہ لساناً عربیاً و انزل فیہ القرآن وافضل الصلاۃ وا تم السلام علی سیدنا محمد سید الانام و صاحب الجوامع الکلم و حسن البیان ، ا ما بعدابتدائے آفرینش سے لے کر آج عہد جدید تک  ہم ذہن ِ انسانی کے ارتقائ اور اس کی نشو و نمائ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ سب سے پہلا اور بنیادی عنصر جسکی ذہن انسانی کوضرورت تھی وہ ہے رابطہ اور رابطے کی زبان۔ جسکے بغیر شاید یہ عمل ممکن نہ ہوتا۔ جانوروں کے برعکس جنھیں اپنی ذہنی استعداد کے مطابق رابطے کے لئے صرف چند اشاروں اور کچھ آوازوں کی ضرورت ہوتی ہے، انسانی ذہن کو اپنا مافی الضمیر مکمل طور پر بیان کرنے کے لئے یقیناً ایک مکمل زبان کی ضرورت ہوئی۔ اسطرح گویاانسانی رابطے کے اہم تر ین طریقے یعنی زبان کا فطری ارتقائ عمل پذیر ہوا۔ جب ہم فطری اندازکی بات کرتے ہیں تو یقیناً ہمارا  واضح اشارہ امر ربی کی جانب ہے۔ اللہ رب العزت نے تخلیق انسانی کے بعد اسے بیان کی قدرت عطائ فرمائی﴿خلق الانسان۔ علمہ البیان﴾جسکی تفسیر علامہ شبیر احمد عثمانی صاحب کچھ یوں کرتے ہیں۔           ایجاد ﴿ وجود عطائ فرمانا ﴾ اللہ کی بڑی نعمت بلکہ نعمتوں کی جڑ ہے۔ اس کی دو قسمیں ہیں ۔ایجادِ ذات اور ایجادِ صفت۔ تو اللہ تعالیٰ نے آدمی کی ذات کو پیدا کیا اور اس میں علمِ بیان کی صفت بھی رکھی۔ یعنی قدرت دی کہ اپنے مافی الضمیر کو نہایت صفائی و حسن و خوبی سے ادا کر سکے۔ اور دوسروں کی بات سمجھ سکے۔اس صفت کے ذریعے سے وہ ْقرآن سیکھتا اور اور سکھاتا ہے۔ اور خیر و شر، ہدایت و ضلالت، ایمان و کفر اور دنیا و آخرت کی باتوں کو واضح طور پر سمجھتا اور سمجھاتا ہے۔                                                                    ﴿ از تفسیرِ عثمانی ﴾
تخلیقِ آدم ہوئی پھر بی بی حوا تخلیق کی گئیں پھر ان دونوں کے ملاپ سے کنبہ اور خاندان بنے  اور اس سے قبیلے اور ذاتیں وجود  میں آئیںِ۔ ْقرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے۔﴿یٰا یھا الناس انا خلقنٰکم من ذکرو انثیٰ و جعلنٰکم شعوباً وَّ قبائلَ لِتعارفو﴾۔ ترجمہ ۔اے  آدمیو! ہم نے تم کو بنایا ایک مرد اور ایک عورت سے  اور رکھیں تمہاری ذاتیں اورقبیلے  تاکہ آپس کی پہچان ہو۔آپس کی پہچان اور اپنا مافی الضمیر ادا کرنے اور دوسرے کی بات سمجھنے کے لئے انھیں زبان عطا ہوئی اور پھر جب ان کی تعداد بڑھی تو اسرائیلی روایات  اور عہد نامہ عتیق کے مطابق  وہ زمین میں پراگندہ ہو گئے اور ان کی زبان میں اختلاف ہوا۔
٭۔اور تمام زمین پر ایک ہی زبان اور ایک ہی بولی تھی۔                   عہد نامہ، عتیق۔ تکوین۔۱:۱۱٭۔آو، ہم اتریں اور وہاں ان کی زبان میں اختلاف ڈالیں تاکہ وہ ایک دوسرے کی بات نہ سمجھ سکیں ۔٭۔اور خداوند نے انھیں اس جگہ سے تمام زمین پر پراگندہ کیا اور وہ شہر کے بنانے سے رک گئے۔٭۔ اس لئے اس کا نام بابل ہوا کیونکہ وہاں خداوند نے ساری زمین کی زبان میں اختلاف ڈالا اور وہاں سے خدا نے انھیں تمام روئے زمین پر پراگندہ کیا۔عہد نامہ عتیق۔ تکوین۔۹۔۷:۱۱جب بنی نوع آدم اس زمین پر ذاتوں اور قبیلوں میں بٹے اور پھیلے اور ایک دوسرے سے جغرافیائی طور پر دور ہوئے تو انھیں اپنے اپنے ماحول کے مطابق مختلف زبانیں بارگاہِ خداوندی سے عطائ ہوئیں ۔
اس طرح گویا دنیا کی مختلف زبانوںزبانوں کی تخلیق کا عمل شروع ہوا ۔ ہمیں دنیا کی تاریخ میں کہیں بھی یہ نہیں ملتا کہ کہیں کچھ لوگ جمع ہوے ہوں اور انھوں نے کسی زبان کی ایجاد کی کوشش بھی کی ہو  ۔﴿ ۷۸۸۱ ÷ئ میں ایک پولش ڈاکٹر  ذامن ہاف نے ، اسپیرانٹو کے نام سے ایک زبان ایجاد تو ضرور کی ، لیکن  وہ زبان اپنی موت آپ مر گئی اور آج سو، سوا سو سال بعد کوئی اس کا نام تک نہیں جانتا﴾۔۔ ہاں البتہ انسان نے شعوری طور پر ان رائج زبانوں کو سمجھنے کی کوشش ضرور کی جس کے نتیجے میں لسانی قواعد و ضوابط ضابطہ، تحریر میں آئے۔ اس طرح گویا گرامر ایجاد ہوئی ، بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اس طرح گرامر دریافت ہوئی۔ بالکل اسی طرح جس  طرح سائنسی قوانین ﴿ قوانینِ فطرت ﴾ انسان نے ایجاد نہیں کئے بلکہ دریافت کیے۔ کشش ثقل اور اس کے قوانین انسانی ایجاد نہیں بلکہ انسانی دریافت ہیں ۔بعینہِ لسانیات کے ماہرین نے سر جوڑ کر مروجہ زبان کے طور طریقوں کو سمجھنے کی کوشش کی اور اس کوشش میں گرامر اور لسانیات کے قواعد دریافت کیے۔
قرآن کریم میں اللہ باری تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔﴿فِطرتَ اللہِ التی فَطَر َالناس عَلَیھَا ۔ لا تبدیل لِخلقِِِ اللہ﴾﴿سورہ روم﴾  ترجمہ:۔ وہی تراش اللہ کی جس پر تراشا لوگوں کو ۔ بدلنا نہیں اللہ کے بنائے ہوئے کو۔کیا  و جہ ہے کہ ایک دوسری سے ہزاروں کلو میٹر دور پیدا ہونے والی اور پھلنے پھولنے والی تہذیبوں میں ایک دوسری تہذیب سے کوئی تعلق نہ ہونے  اور دوسری تہذیب کے کسی طرح کے اثرات قبول نہ کر سکنے کے باوجود ہر تہذیب و تمدن میں اچھائی و برائی کے تصورات ایک جیسے ہیں ۔ اچھائی و اچھی قدریں ہر تہذیب و ہر زمانے میں اچھے تصورات و اقدار ہی ہیں۔اور برائی اور ا س سے جنم لینے والی بری اقدار و برے تصورات ہر تہذیب و ہر دور میں برے ہیں ۔ بدی ہر دور اور ہر تہذیب میں بدی ہے ، اور نیکی ہر دور اور ہر تہذیب میں نیکی ہے۔ اچھے خیالات ، نیکی، سچائی ، احسان ، ہمدردی، بڑوں کا ادب، چھوٹوں سے محبت و شفقت، کمزور کی طرف داری، غلط قدروں اور غلط تصورات کے خلاف آواز اٹھانا، اچھے کاموں کی حوصلہ افزائی اور برے کاموں ، قتل و غارت گری ، چوری ، ڈاکہ زنی وغیرہ پر سزا ہر دور اور ہر معاشرے میں اچھی اقدار کے طور پر موجود رہے ہیں جن پر بجا طور پر فخر کیا جاتا ہے۔
اسی طرح دوسری طرف برے خیالات ، بدی، جھوٹ، مکر و فریب، دغابازی، شقاوت ، سنگدلی، ظلم و جور، بد تمیزی، فحاشی و عریانی، چوری چکاری، ڈاکہ زنی، قتل و خون وغیرہ سب معاشرے کی برائیاں اور ناسور  خیال کیے جاتے ہیں۔
تاریخ ہمیں کہیں بھی یہ اشا رہ  نہیں کرتی  کہ مندرجہ بالا خیالات تصورات و اقدار کسی ایک تہذیب و تمدن سے دوسری تہذیب و تمدن میں کسی طور بھی منتقل ہوئے ہوں۔ یہ اقدار ہر تہذیب کی اپنی پیداوار سمجھی جا سکتی ہیں۔ خواہ وہ قدیم یونانی و مصری تہذیبیں ہوں، انکا و سمیری و حطیطی تہذیبیں ہوں ، چین و جاپان و ہندوستان کی تہذیبیں ہوں یا زمانہ جدید کی مشرقی و مغربی تہذیبیں ہوں۔ اچھی اقدار اچھی ہیں اور بری  اقدار بری ہی سمجھی جاتی ہیں۔ گویاع  کوئی معشوق ہے اس پردہ، زنگاری میں
اور یہ کوئی معشوق، بجا طور پرخدائے لم یزل اللہ باری، تعالیٰ کی ذات کے علاوہ اور کون سی ہستی ہوسکتی ہے۔
حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی  تفسیرِ عثمانی میں مندرجہ بالا آیت کے بارے میں رقمطراز ہیں۔          ’’اللہ تعالیٰ نے آدمی کی ساخت اور تراش شروع سے ایسی رکھی ہے کہ اگر وہ حق کو سمجھنا اور قبول کرنا چاہے تو کر  سکے ا ور بدائ فطرت سے اپنی اجمالی معرفت کی ایک چمک اس کے دل میں بطور تخمِ ھدایت کے ڈال دی ہے۔ اور اگر گرد و پیش کے احوال و ماحول کے خراب اثرات سے متاثر نہ ہو اور اصلی طبیعت پر چھوڑ دیا جائے تو یقیناً دینِ حق کو اختیار کرے اور کسی دوسری طرف متوجہ نہ ہو۔  ’’ عہدِ الست‘‘  کے قصے میں اسی کی طرف اشارہ ہے‘‘۔یعنی  عہدِ الست ہی وہ واحد موقع ہے جب ان تمام تہذیبوں کے اجزائے ترکیبی یعنی حضرتِ انسان کی تمام نوع ، تمام ارواح نے ایک مقام پر یکجا ہوکر ایک زبان اور ایک آواز کے ساتھ اللہ رب العزت کے سوال  ﴿الست بربکم ﴾ کے جواب میں  ﴿ بلیٰ ﴾ کہا تھا۔ اسی اللہ رب العزت نے قوموں کو تہذیب تمدن، اقدار و تصورات عطائ فرمائے، اور تہذیبوں کی نشوئ نمائ اور پروان و پرداخت کا مالک بنا۔اسی طرح  اللہ رب العزت نے  انسانی تہذیبوں کو مختلف زبانیں عطا ئ کیں اور ان زبانوں کی پروان و پرداخت کا مالک بنا۔ زبانوں کے ایک دوسری سے مکمل طور پر الگ ہونے کے باوجود ہمیں ان گنت الفاظ و ترکیبات و خیالات کی یکسانی پر حیرت ہوتی ہے۔۱۔ ماں، ماتا، مام، ا،م ، مادر، مدر، ممی، جیسے ملتے جلتے الفاظ ماں کیلئے، دنیائ کی مختلف زبانوں میں استعمال ہوتے ہیں۔۲۔ عزت و تکریم کے لئے جمع کا صیغہ دنیائ کی کئی زبانوں میں مستعمل ہے، یعنی انگریزی میں وی ﴿  we﴾  اردو میں ہم ، عربی میں نحن وغیرہ  کا استعمال نہ صرف اللہ رب العزت کی زبانی ہمیں قرآن کریم میں ملتا ہے،  بلکہ دنیوی دیگر بادشاہوں اور متبرک ہستیوں کی زبانی بھی ادا ہوتا ہے۔۳۔ ذیل میں ایک جدول کے ذریعے اردو، انگریزی، عربی وعبرانی کے چند الفاظ درج ہیں جو ایک جیسے ہی ہیں۔اردوانگریزیعربی
﴿ مندرجہ بالا جدول شیخ احمد دیدات کے خطبات سے لیا گیا ہے۔﴾
اب اگر مذکورہ بالا مبحث اور دلائل کی روشنی میں منصوبہ، خداوندی کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو بے جا نہ ہوگا۔
معاہدہ، ازلی سے بہت پہلے جب اللہ رب العزت نے قرآن کریم کو لوحِ محفوظ میں ودیعت  فرمایا، اسی دن گویا بارگاہِ ایزدی میں یہ فیصلہ ہوچکا تھا کہ اس قرآن کو اپنے محبوب بندے حضرتِ محمد مصطفےٰ  ﷺ پر نازل فرمانے کے لئے زبانِ عربی ہی مناسب ترین زبان ہے۔ لہٰذہ بقول ڈاکٹر محمود احمد غازی، عربی زبان رسول اللہ  ﷺ کی ولادتِ مبارکہ سے کم و بیش ساڑھے تین سو سال پہلے سے بولی جارہی تھی۔درآنحالیکہ جب نبی امی  ﷺ کو اہلِ عرب میں مبعوث فرمانے اور قرآنِ کریم کو ان پر عربی زبان میں  نازل فرمانے کا وقت آیا تو اس وقت عربی زبان نہ صرف دنیائ کی سب سے بہترین زبان کی شکل میں موجود تھی ، بلکہ اس وقت وہ اپنے عروجِ کمال کو پہنچی ہوئی تھی۔ چنانچہ اہلِ عرب اپنی زبان پر بجا طور پر فخر کرتے تھے اور اپنے آپ کو فصیح اور دیگر عالم کو عجم یعنی گونگا  سمجھتے تھے۔
مندرجہ بالا صورتحال کا ادراک و اظہار نہ صرف عربوں نے بلکہ زمانہ، قدیم و جدید کے غیر عربوں اور غیر مسلموں نے بھی برملا کیا، چنانچہ مشہور مستشرق دوبوئر اپنی کتاب تاریخِ فلسفہ، اسلام میں رقمطرا زہے۔
          ’’عربی زبان جس کے لفظوں اور ترکیبوں کی کثرت اور انصراف کی صلاحیت پر عربوں کو خاص طور پر ناز تھا، دنیا میں ایک اہم حیثیت حاصل کرنے کے لئے بہت موزوں تھی۔ اسے دوسری زبانون  خصوصاً ثقیل لاطینی اور پر مبالغہ فارسی کے مقابلے میں یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس میں مختصر اور مجرد اوزان موجود ہیں۔ یہ بات علمی اصطلاحوں کیلئے بہت مفید ثابت ہوئی۔ عربی زبان میں باریک سے باریک فرق ظاہر کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ‘‘آگے چل کر  فاضل مصنف لکھتا ہے۔          ’’  عربی جیسی فصیح ، پر معنی اور مشکل زبان نے شامیوں اور ایرانیوں کی تعلیمی زبان بن کر بہت سے نئے مسائل پیدہ کر دئیے۔ اول تو قرآن کے مطالعے، تجوید اور تفسیر کے لیے زبان پر عبور ضروری تھا، کفار کو یقین تھا کہ  وہ  کلام اللہ  میں  ز بان کی غلطیاں دکھا  سکتے ہیں ، اسلئے جاہلیت کے اشعار اور بدویوں کے روز مرہ سے مثالیں جمع کی گئیں تاکہ قرآنی عبارت کی صحت ثابت کی جائے اور اسی سلسلے میں زبان دانی کے عام اصولوں سے بھی بحث کی گئی۔‘‘﴿از تاریخِ فلسفہ ئ اسلام از  ٹ۔ ج۔ دوبو ئر۔مترجم ڈاکٹر عابد حسین﴾          
عربی زبان کی وہ انصراف کی صلاحیت اور مجرد اور مختصر اوزان کی خصوصیت کیا ہے۔ اس صلاحیت و خصوصیت کو ہم ایک جادوئی لفظ ’’ ثلاثی مجرد‘‘ سے ظاہر کریں تو بے جا نہ ہوگا۔ثلاثی مجرد سے مراد  وہ  سہ حرفی مادہ ہے جو عربی زبان کے نوے فیصد افعال ِ منصرفہ اور اسمائے مشتقہ کی بنیاد ہے۔
اب پیرایہ، خیال اور نفس ِ مضمون  کے اندر رہتے ہوے مندرجہ بالا مبحث  کا مزید جائزہ  لینے کے لیے علم الصرف کی اہم اصطلاحات کی آسان تعریف کر دی جائے  تو  بے جا نہ ہوگا۔
عربی کا مشہور مقولہ ہے  ’’  الصرف ام العلوم‘‘  یعنی علم الصرف تمام علوم کی ماں ہے۔ در اصل صیغوں کی پہچان کے علم کو علم الصرف کہتے ہیں جس سے لفظوں کو گرداننے  کا طریقہ اور ایک صیغہ سے دوسرا صیغہ بنانے کا قاعدہ معلوم ہوتا ہے۔

فعل دو قسم کا ہوتا ہے، ماضی اور مضارع۔ ماضی جس میں کام کا ہوچکنا معلوم ہوتا ہے  اور کام اگر اب تک ہوا نہیں ، بلکہ ہورہا ہے یا ہوگا تو اس صورت میں مضارع کا فعل استعمال ہوتا ہے۔
فعل میں عموماً تین حروفِ اصلیہ ہوتے ہیں، مگر بعض فعلوں میں چار بھی ہوتے ہیں۔ اسی طرح اسم میں اصلی حروف عام طور پر تین، چار یا پانچ ہوتے ہیں۔
ثلاثی: ۔ اس فعل یا اسم کو کہتے ہیں تین اصلی حروف ہوتے ہیں۔ جیسے  ضرب، نصر  وغیرہ۔
رباعی:۔ اس فعل یا اسم کو کہتے ہیں جس میں چار اصلی حروف ہوتے ہیں جیسے  بعثر، دحرج  وغیرہ۔
خماسی:۔ اس اسم کو کہتے ہیں جس میں پانچ اصلی حروف ہوتے ہیں۔
اب ان ثلاثی، رباعی اور  خماسی الفاظ میں سے ہر ایک کی دو ،  د و قسمیں ہیں،  ثلاثی مجرد  اور ثلاثی مزید فیہ،  رباعی مجرداور رباعی مزید فیہ، خماسی مجرد اور خماسی مزید فیہ۔اگر فعل کے  صیغہ  ماضی واحد مذکر غائب میں صرف تین یا چار حروفِ اصلی موجود ہوں  اور کوئی حروفِ زائدہ نہ ہو تو اسے مجرد کہتے ہیں۔ جیسے  ضرب، نصر      ثلاثی مجرد ہیں   بعثر، دحرج   وغیرہ رباعی مجرد ہیں۔لیکن اگر فعل کے صیغہ ماضی واحد مذکر غائب میں حروف اصلیہ کے ساتھ کوئی حرفِ زائد بھی ہو، تو اسے مزید فیہ کہا جاتا ہے۔جیسے  اِجتنب ، اِستنصر، ثلاثی مزید فیہ  اور تسربل ، تذندق  رباعی مزید فیہ کی مثالیں ہیں۔
لفظ کے حروفِ اصلیہ کو مادّہ  کہتے ہیں۔ گویا کم از کم صرف تین حروف پر مشتمل  ایک مختصر ترین لفظ جو حروفِ اصلیہ پر مشتمل ہوتا ہے، لفظ کا مادّہ کہلاتا ہے۔ اور پھر اسی مادے سے مصدر اور اس کے تمام مشتقات کے علاوہ افعال کی تمام حالتیں وجود میں آ جاتی ہیں۔ پھر ایک بڑا کمال یہ ہے کہ فعل کے ہر صیغے میں فاعل کی ضمیر موجود ہوتی ہے، جو ضمائر مرفوعہ متصلہ کہلاتی ہیں ۔
اب ان مختصر ترین حروفِ اصلیہ اور ان کے ساتھ متصل چند حروفِ زائدہ اور ضمائرِ مرفوعہ متصلہ کے ادغام سے عربی زبان کے وہ تمام جامع ترین الفاظ وجود میں آتے ہیں  جو کسی اسم و فعل کی تمام ضروریات کو بدرجہ اتم پورا کررہے ہوتے ہیں ۔ اور اردو زبان کی طرح فعل کے ساتھ ’ کرنا‘ کا لاحقہ لگانے کی حاجت بھی محسوس نہیں ہوتی۔ صرف ایک مختصر ترین لفظ  ضرب  کا مکمل ترجمہ اس ایک مرد نے مارا   یا   اس ایک مرد نے بیان کیا، ہوتا ہے۔ اب جب اسی ایک مختصر ترین لفظ سے حاضر، غائب اور متکلم  کے چودہ صیغے ﴿   واحد مذکر غائب، تثنیہ  مذکر غائب، جمع مذکر غائب،  واحد مونث غائب، تثنیہ مونث غائب، جمع مونث غائب،  واحد مذکر حاضر، تثنیہ مذکر حاضر، جمع مذکر حاضر، واحد مونث حاضر، تثنیہ مونث حاضر، جمع مونث حاضر، واحد مذکر و مونث متکلم ، تثنیہ و جمع مذکر و مونث متکلم﴾ وجود میں آ تے ہیں، اور وہ بھی اس طرح سے کہ اس مختصر ترین لفظ کے لئے ہر صیغے سے اثبات ماضی معروف، اثبات ماضی مجہول،  نفی ماضی معروف،  نفی ماضی مجہول،  اثبات مضارع معروف،  اثبات مضارع مجہول،  نفی مضارع معروف،  نفی مضارع مجہول،  نفی تاکید بہ لن فعل مستقبل معروف،  نفی تاکید بہ لن فعل مستقبل مجہول،  نفی جحد بہ لم  فعل مستقبل معروف،  نفی جحد بہ لم فعل مستقبل مجہول،  لام تاکید بہ نونِ ثقیلہ مستقبل معروف،  لام تاکید بہ نونِ ثقیلہ مستقبل مجہول،  لام تاکید بہ نونِ خفیفہ مستقبل معروف،  لام تاکید بہ نونِ خفیفہ مستقبل مجہول،  امر معروف، امر مجہول،  امر معروف بہ نونِ ثقیلہ،  امر مجہول بہ نونِ ثقیلہ،  امر معروف بہ نونِ خفیفہ،  امر مجہول بہ نونِ خفیفہ،  نہی معروف،  نہی مجہول،  نہی معروف بہ نونِ ثقیلہ،  نہی مجہول بہ نونِ ثقیلہ، نہی معروف بہ نونِ خفیفہ،  نہی مجہول بہ نونِ خفیفہ کے علاوہ مختلف اقسام کے اسم جن میں اسم فاعل اسم مفعول، اسم تفضیل،  اسمِ ظرف،  اسمِ آلہ،   اسم مبالغہ   اور صفتِ مشبہ جیسے تمام الفاظ وجود میں آتے ہیں۔ یہ تمام الفاظ ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً  پانچ سو الفاظ بنتے ہیں۔  گویا ایک مادے سے کم و بیش پانچ سو الفاظ وجود میں آ سکتے ہیں۔
مولٰنا مشتاق چرتھاولی نے اپنی کتاب صفوۃ المصادر میں تقریباً ایک ہزر کے لگ بھگ مصادر تحریر کیے ہیں۔ عربی میں الفاظ  خاص طور پر مختصر الفاظ کے اتنے بڑے ذخیرے کی موجودگی  میں  یہ بات خاص طور پر نوٹ کی جانی چاہیے کہ اس وسیع زبان میں ایک ایک لفظ کے کئی معانی اور ایک معنی کے کئی الفاظ کثرت سے موجود ہیں،  یعنی اس زبان میں  باریک سے باریک فرق کو ظاہر کرنے کی صلاحیت بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔
جناب طالب ہاشمی نے اپنی کتاب  ’’  اصلاحِ تلفظ اور املا  ‘‘  میں اردو کے ان الفاظ کا ذکر کیا ہے جو عربی سے اردو میں آئے ہیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے عربی کے سہ ہرفی، چار حرفی، پانچ ہرفی، چھ حرفی اور سات حرفی مصادر کے۶۵  اوزان سے تقریباً ساڑھے چھ سو الفاظ  رقم کئے ہیں،  لیکن قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ سب الفاظ اپنی  موجودہ  حالت ہی میں اردو میں وارد ہوے ہیں اور اس خاص مصدر کے باقی عربی  الفاظ  اردو کے ا لئے جنبی ہی ہیں۔  یہ بات  اردو کی کوتاہ  دامنی کی طرف اشارہ کے یا نہ کرے عربی کی وسیع دامنی کی طرف ضرور اشارہ کرتی ہے۔
امید ہے کہ میں قاری کے دل میں وہ آتشِ شوق بھڑکانے میں کامیاب ہوپایا ہوں، جو میرے اس مضمون کا مقصد و مدعا تھا۔ عربی زبان اس لیے تو محترم ہے ہی کہ یہ قرآن و سنت کی زبان ہے، بلکہ یہ اس لیے بھی قابلِ ستائش اور سیکھنے کے لائق ہے کہ یہ دنیا کی بہترین زبان ہے۔ حدیث نبوی ﷺ ہے  ’ خیرکم من تعلم القرآن و علمہ‘ تم میں سے بہتر وہ ہیں جنھوں نے قرآن سیکھا اور دوسروں کو سکھایا۔ قرآن کے سیکھنے اور سکھانے کے لیے عربی ضروری تو ہے ہی،  پھر اگراسے اسکے محاسن و خوبیوں کو پرکھتے ہوئے ، شوق سے سیکھا جائے تو سونے پر سہاگہ ہے۔
تمت بالخیر

ہیری پوٹر اِن ٹربل: ایک کھیل

بسم اللہ الرحمٰن الرحیمہیری پوٹر ان ٹربلتحریر؛ محمد خلیل الرحمٰن
نوٹ برائے ناظرین:۔  پی، سی او  اور ایمرجینسی گئے تو،لیکن اپنے پیچھے بہت سی ناخوشگوار یادیں چھوڑ گئے جو اس ڈرامے کا پس منظر بنیں ، لیکن  اس ڈرامے کی اصل کہانی کچھ یوں ہے۔
ہیری پوٹر اور لارڈ آف دی رنگ کی مقبولیت نے ساری دنیا کے نوجوانوں کی طرح ہمارے نوجوانوں کو بھی متاثر کیا ہے اور وہ سب  کچھ بھول کر ان جادوئی کہانیوں کے رسیا  اور دلدادہ بن گئے ہیں۔  اس قسم کی جادوئی کہا نیاں ہمارے اردو ادب میں اب سے کوئی دوسو سال پہلے تک لکھی جاتی رہی ہیں، جیسے، داستانِ امیر حمزہ، طلسمِ ہوشربا،  فسانہ عجائب  وغیرہ لیکن، فسانہ آزاد اور اس قسم کی اور دوسری کہانیوں نے جادو ٹونے کو اردو کہانیوں سے ہمیشہ کے لیے  باہر نکال پھینکا۔رفتہ رفتہ اردو ادب اپنی جدید شکل میں ہم تک پہنچا  جس میں اوروں کے علاوہ نوجوانوں کے لیے بھی متعدد  شہرہ   آفاق کہانیاں موجود ہیں جن میں جادو ٹونے کا دور دور تک کوئی وجود نہیں۔
ہیری پوٹر  اور لارڈ آف دی رنگ کی کی مقبولیت کی داستان جب قاضی صاحب تک پہنچی تو انھوں نے حسبِ عادت  سو مو ٹو ایکشن لے لیا۔ ان کی ملاقات طلسمِ ہوش ربا کے کرداروں  شہزادہ نور الدھر اور  مخمور جادوگرنی  سے ہوئی تو انھیں اپنے ایکشن کے صحیح ہونے میں کوئی شبہ نہ رہا۔
قاضی صاحب  پی سی او کا شکار ہوکر کہانی سے جدا ہوئے تو  فسانہ آزاد کے کردار میاں آزاد پاشا نے اس قصے کو عوام کی عدالت یعنی کھلی کچہری میں لے آنا چاہا۔ پھر کیا ہوا  یہ ییش کیے جانے والے اس ڈرامے میں ملاحظہ فرمائیے ۔  ۔
پہلا منظر۔﴿ پردہ اٹھتا ہے۔اسٹیج پر کئی افراد مختلف قسم کے بہروپ دھارے ساکت و جامد کھڑے ہیں۔تقریباً درمیان میں، دایئں جانب منہ کیے ہوئے ایک لمبے کالے چغے میں ملبوس کالی پھندنے دار ٹوپی پہنے ہیری پوٹر کھڑا ہے۔اپنے دایئں ہاتھ میں اس نے اڑنے والی جھاڑو پکڑی ہوئی ہے۔ گویا ابھی اڑان شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔دایں ہاتھ میں جادو کی چھڑی ہے جسے وہ ڈارک لارڈ والڈیمورٹ کی طرف اٹھائے ہوئے ہے۔لارڈ والڈیمورٹ کالے لبادے میں ملبوس ہیری کی طرف دونوں ہاتھ اٹھائے  ایک بھوت کی مانند کھڑا ہے۔ پچھلی جانب گینڈالف سفید پوش اپنے ہاتھ میں ایک عصا لئے کھڑا ہے۔ گیندالف سفید پوش کے سامنے حاضرین کی طرف منہ کیے ہوے  فروڈوبیگنز کھڑا ہے۔ اسٹیج پر پچھلی جانب دو عدد بورڈ نمایاں ہیں دائیں بورڈ پر    کوچہ ثقافت اور بائیں بورڈ پر قاضی القضاۃ  تحریر ہے۔
دایئں طرف سے کورس داخل ہوتا ہے اور اسٹیج پر سامنے آجاتا ہے۔ اسپاٹ لائٹ اس پر مرکوز ہوجاتی ہے۔کورس:۔  کوچہَ ثقافت میں ، جہاں ہم نے اپنا یہ منظر ترتیب دیا ہے، بہت دنوں سے دو اسکولوں یعنی ہوگورٹس اسکول آف  وچ کرافٹ اینڈ و زرڈری  اور  گینڈالف سفید پوش کی تحریک انگوٹھی، نے اہالیانِ کوچہَ ثقافت پر اپنے ظلم کی وجہ سے ان پر جینا حرام کر رکھا ہے۔ جہاں عوام کا جیتا جاگتا سرخ خون انکے ہاتھوں کو گندہ کیے رکھتا ہے۔با ادب با ملاحظہ . ہوشیار۔ نگاہ روبرو۔ جناب قاضی صاحب تشریف لاتے ہیں۔نقیب:۔ ﴿ نعرہ مارتے ہوئے﴾  آیا آیا قاضی آیا۔دم دما دم قاضی آیا۔قاضی  صاحب :۔  میرا مطلب ہے، باغی رعایا، امن کے دشمنو! سنو۔کیا تم اب بھی نہیں سدھرو گے؟  ایک دوسرے کی رگوں سے بہتا ہوا خون کیا تمہیں سکون بخشتا ہے۔ اپنی یہ جادو کی چھڑیاں اور یہ ڈنڈے زمین پر پھینک دو اور اپنی قاضی کی عدالت کا فیصلہ سن لو۔یو کیپو لیٹ شیل گو الانگ ود میاینڈ مانتیگیو! کم یو دس آفٹر نونمیرا مطلب ہے۔ ہیری پوٹر اور لارڈ والڈیمورٹ تم دونوں ابھی اور اسی وقت میرے ساتھ چلوگے۔ اور گینڈالف سفید پوش، تم اور یہ فراڈ ۔۔۔، میرا مطلب ہے، فروڈو بیگنز آج شام کو عدالت میں حاضر ہوں۔تمہارے درمیان تین خطرناک جنگوں نے، تین مرتبہ مڈل ارتھ میں اس کوچہ ادب و ثقافت کا سکون برباد کیا ہے۔ آج میں بحیثیتِ قاضی اس صورتِ حال کا سو موٹو نوٹس لیتے ہوئے۔۔۔۔۔نقیب:۔ سر. پی سی او۔ سر پی سی اوقاضی صاحب:۔ اے بی بی جی۔ ٹی پی او جی۔ پی کے آئی جی ۔ یہ کیا بکواس لگا رکھی ہے۔ اے بی سی ڈی۔ پی سی او۔ سیدھی طرح اردو میں بکو کیا بکنا ہے۔نقیب:۔ سر ایمرجینسی، سر ایمر جینسی۔ قاضی:۔ او ہو تو یوں کہو نا۔ ایمر جین۔۔۔۔ ارررھپ۔﴿ دونوں ہاتھوں سے اپنا منہ بند کرلیتا ہے﴾۔نقیب:۔﴿ لہرا کر گاتے ہوئے﴾ہم نے پہلے ہی دن تھا کہا نا سجن۔۔۔قاضی:۔ لیکن۔لیکن۔لیکن۔لیکن۔لیکن۔نقیب:۔ لیکن کیا سر؟قاضی:۔ لیکن یہ کہ ان کے خلاف ایکشن تو لینا ہی پڑے گا۔ ان ظالموں نے، شائر، گلوسسٹر شائر، اور گلن شائر کی طرز پر کوچہ ’ ثقافت کا نام بھی تبدیل کر دیا ہے۔ نقیب:۔ وہ کیسے سر؟قاضی:۔ یہ کراچی شائر، لاہور شائر، پنڈی شائر، یہ سب کیا ہے؟نقیب:۔ یہ شائر کراچی ہے۔ یہاں پر صبح کو نزلہ اور شام کو کھانسی ہے۔قاضی:۔ اوچے برج لاہور شائر  دے۔نقیب:۔تھے تو آبائ وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہو۔ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو؟قاضی:۔ خاموش بے ادب گستاخ۔ اسی لیئے تو ہم سو موٹو نوٹس  لے رہے ہیں۔﴿ اچانک ڈرامائی انداز اختیار کر تے ہوئے، جادوگروں کو مخاطب کرتا ہے﴾۔میرا مطلب ہے۔ ایک مرتبہ پھر میں تمہیں کہتا ہوں۔فوراً یہاں سے دال فے عین یعنی دفع ہو جائو۔ ورنہ موت تمہارہ مقدر ہے۔﴿ ایک مرتبہ پھر بگل بجتا ہے﴾۔نقیب:۔ با ادب با ملاحظہ ہوشیار۔ امیر حمزہ کے پوتے  شہزادہ نور الدھر اورجادو نگری کی شہزادی مخمور تشریف لاتے ہیں۔﴿ تمام جادوگر اسٹیج کی پچھلی جانب ایک قطار بنا کر  با ادب کھڑے ہوجاتے ہیں۔مخمور  اور اسکے پیچھے شہزادہ  نور الدھر  اسٹیج پر داخل ہوتے ہیں﴾۔شہزادہ نور الدھر:۔ ﴿ لہراتی ہوئی مخمور کے پیچھے فلمی گیت گاتے ہوئے داخل ہوتا ہے﴾۔آ لوٹ کے آجا میرے میت۔ تجھے میرے گیت بلاتے ہیں۔میرا سونا پڑا رے سنگیت۔ میرا سونا پڑا رے سنگیت۔تجھے میرے گیت بلاتے ہیں۔مخمور:۔ ﴿ مڑ کر نور الدھر کی طرف دیکھتے ہوئے﴾ چلو اب منہ دیکھی محبت نہ جتائو۔میں ایسے بے وفا سے بات نہیں کرتی۔شہزادہ نور الدھر:۔ اے مغرور لڑکی۔یہ مجھ غریب پر کیا ظلم ہے کہ خود ہی مجھے اپنا دیوانہ بنایا اور پھر خود ہی بھول گئیں۔مخمور:۔ کہو صاحب کیا ہے۔ کیوں میرا پیچھا کر رہے ہو۔ لو اچھا! میں ٹھہر جاتی ہوں، اب بولو کیا کہتے ہو؟نور الدھر:۔ میں تو تمہاری جدائی میں دیوانہ ہورہا ہوں۔مخمور:۔ مجھ جیسی  بد قسمت سے دل لگا نا ، محبت کرنا  اچھا نہیں ۔ جادوگر بادشاہ کے جادوئی پھندے سے میرا نکلنا مشکل ہے۔ اس وقت تو دوسرے جادوگروں کے ساتھ بہانہ کرکے ، تمہیں دیکھنے کے لیے یہاں چلی آئی تھی۔نور الدھر:۔ کیا تم بھی جادوگرنی ہو؟مخمور:۔ ہاں صاحب ہاں۔نور الدھر:۔ ﴿ فلمی انداز میں﴾  نہیں۔ نہیں نہیں۔مخمور:۔ ارے بدھو! میں ان جادوگرنیوں کی طرح نہیں ہوں جن کی عمریں دو دو سو سال کی ہوتی ہیں۔ اور ان کا حسن ان کے جادو کا کمال ہوتا ہے۔ میں تو ابھی چودہ سال کی ہوں۔ ﴿ گاتی ہے﴾آئی ایم فورٹین گویئنگ آن فیفٹینیو آر سکسٹین گویئنگ آن سیون ٹیننور الدھر:۔﴿ خوش ہوکر﴾ اچھا؟ ﴿ لیکن پھر اداس ہوتے ہوئے﴾ لیکن۔۔۔۔۔مخمور:۔ کیوں صاحب اب کیوں ہم سے ناراض ہو؟نور الدھر:۔اے خوب صورت لڑکی ۔ میں تجھ سے ناراض نہیں ہوں لیکن یہ سوچ رہا تھا کہ جب  میرے دادا  یہ سنیں گے کہ تم جادوگرنی ہو تو مجھے تمہارے ساتھ شادی کی اجازت نہیں دیں گے۔مخمور:۔  کیا خوب۔ آپ ابھی سے شادی کی فکر بھی کر نے لگے۔ ہوش کے ناخن لو۔  کہاں میں اور کہاں تم۔ کیسی شادی اور کہاں کا نکاح؟نور الدھر:۔ دیکھیئے یہ انکار اچھا نہیں ۔مخمور:۔ یہ تو میں مذاق کر رہی تھی ، لیکن اصل میں میں دل سے اسلام لانا چاہتی ہوں۔ جادوگر دنیا کی فتح کے بعد جادوگری سے توبہ کرکے اسلام لے آئوں گی۔ اس وقت تک  ٹا ٹا۔قاضی صاحب:۔ ہیئر ہیئر ۔﴿ تالی بجاتا ہے﴾نور الدھر:۔ آداب بجا لاتا ہوں جناب۔﴿ جھک کر آداب کرتا ہے﴾مخمور:۔ بندی بھی آداب بجا لاتی ہے۔﴿ جھک کر آدا ب کرتی ہے ﴾ْْقاضی صاحب:۔ یہ کیا ہورہا تھا؟نقیب:۔ عریانی اور فحاشی سر۔ ان کی تو ایف آئی آر کٹنی چاہیے۔ ان کا تو کورٹ مارشل ہونا چاہیے۔قاضی صاحب:۔ خاموش رہو۔ بے ہودہ۔ یہی تو کوچہ، ثقافت کے اصل رہنے والے ہیں۔لیکن اب ان کی عمریں چودہ پندرہ سال کی نہیں ہیں بلکہ  وہی دو دو سو سال کی ہیں۔  کیوں  بچو؟ ٹھیک ہے نا؟مخمور:۔ ﴿ گاتی ہے﴾میں چودہ برس کیتو سولہ برس کانہ ۔ نہ۔ نہ ۔نہمیں دوسو برس کیتو بھی دوسو برس کابرق عیار:۔ ﴿عورت کے بھیس میں ، گاتے ہوئے داخل ہوتا ہے﴾۔﴿زنانہ آواز میں﴾ میں دوسو برس کی﴿ مردانہ آواز میں﴾ میں دوسو برس کانقیب:۔ با ادب با ملاحظہ ، ہوشیار۰۰۰۰۰۰﴿ اچانک برق عیار کی طرف غور سے دیکھتا ہے﴾ ابے  تو ۰۰۰؟﴿ برق کے پیچھے بھاگتا ہے اور اسی طرح دونوں بھاگتے ہوئے اسٹیج کا ایک چکر لگا کرپھر اپنی جگہ پر کھڑے ہوجاتے ہیں﴾ْقاضی صاحب:۔ آرڈر، آرڈر۰۰۰۰، یہ کیا ہورہا ہے؟نقیب:۔ سر، یہ     وہ ہے۔قاضی صاحب:۔ یہ  وہ  ہے؟   وہ کیا؟نقیب:۔ ﴿ تالی بجا کر گاتے ہوئے﴾طیب علی پیار کا دشمن ہائے ہائے۔میری جان کا دشمن، پیار کا دشمن ہائے ہائے۔یہ بننے نہ دے میری سلمیٰ کو میری دلہن۔طیب علی پیار کا دشمن ہائے، ہائے۔قاضی صاحب:۔ اوہ!  تو یہ سلمیٰ ہے؟نقیب:۔ نہیں سر ۰۰۰قاضی صاحب:۔ طیب علی؟۰۰۰۰نقیب:۔ نہیں  سر۰۰۰قاضی صاحب:۔  بیگم نوازش علی؟نقیب:۔ سر یہ تیسری قوم سے ہے۔ نہ ہیوں میں، نہ شیوں میں۔قاضی ساحب:۔ اوہ۔ نان سنس۔مخمور:۔ جنابِ عالی، یہ امیر حمزہ کی فوج کا  برق عیار ہے۔عمرو عیار کا  بیٹا۔  اس کا کام بھیس بدل کر جادوگروں کو مارنا ہے۔برق عیار:۔ ﴿ نعرہ مارتا ہے﴾ جادو برحق ، کرنے والا کافر۔بندی آداب بجا لاتی ہے۔﴿ جھک کر سلام کرتاہے﴾قاضی صاحب:۔  تو یہ جادوگروں کے ساتھ ساتھ جادوگرنیون کو بھی مارتا ہے؟مخمور:۔ نہیں جناب،  وہ  تو پہلے ہی اسلامی فوج کے شہزادوں پر مرتی ہیں۔قاضی ساحب:۔ جیسے کہ۰۰۰۰مخمور:۔ جیسے کہ میں۔ میں اس شہزادے پر مرتی ہوں۔﴿ نور الدھر کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ شہزادہ نور الدھر شرما کر منہ چھپا لیتا ہے﴾۔قاضی ساحب :۔ ﴿ خوش دلی سے﴾ اچھا جائو مرو۔ لیکن خیال رہے کہ ہم نے تمہاری خاطر، اس تمام جھگڑے کا سوموٹو نوٹس لے لیا ہے۔ برق عیار:۔ ﴿ نعرہ مار کر﴾  جادو برحق ، کرنے والا کافر۔ جنابِ عالی۔ کیا ان جادو گروں کے لئے ہم  جیسے عیار  اور ان کی جادو گرنیوں کے لئے ہمارے شہزادے ہی کافی نہ ہوتے؟نقیب:۔ ﴿ اس کی طرف لپکتے ہوے، اس کا گریبان پکڑ لیتا ہے﴾ ابے تیرے لئے تو میں ہی کافی ہوں۔برق عیار:۔﴿ چیختاہے﴾۔ بچائو۰۰۰ بچائو۰۰ ارے کوئی ہے۔﴿ برق عیا ر  بھاگتا ہے  اور نقیب اس کا پیچھا کرتا ہے﴾قاضی صاحب:۔ نہیں، ٹھہرو، ٹھہر جائو۔  میرے بچو۔ اس وقت تو مغرب کا جادو سر چھڑھ  کر بول رہا ہے۔اس وقت نہ تمہارے شہزادے اور نہ ہی تمہارے عیار کچھ کر سکتے ہیں۔ اگر کچھ کر سکتے ہیں تو یہ ہمارے حاضرین ہی کچھ کر سکتے ہیں۔﴿ حاضرین کی طرف اشارہ کرتاہے﴾۔لارڈ والڈیمورٹ:۔ ﴿ سامنے آتے ہوئے اپنی جادوئی چھڑی ہلا کر چیختا ہے﴾۔ مغرب کا جادو۔ امپیریو۔﴿ اچانک  ایک دھماکہ ہوتا ہے، اسٹیج کی روشنیاں جلنا بجھنا شروع ہوجاتی ہیں۔ کچھ دیر بعد جب  روشنی ہوتی ہے تو اسٹیج  پر موجود لوگ تین ٹولیوں میں بٹ چکے ہیں۔ اسٹیج کے  دائیں جانب، ہیری پوٹر، مخمور اور برق عیار آپس میں باتیں کر رہے ہیں۔ بائیں جانب، گینڈالف سفید پوش اور فروڈو بیگنز، آپس میں باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اور اسٹیج  کے درمیان میں لارڈ والڈیمورٹ اور  قاضی  صاحب  کے اطراف نقیب اور شہزادہ  نور الدھر کھڑے ہیں﴾۔لارڈ والڈیمورٹ:۔ یور ہائی نیس! کیوں نا ہم دشمنی، تعصب اور مقابلہ کی باتین چھوڑ کر امن  وآشتی  اور محبت اور بھائی چارگی کی باتیں کریں۔قاضی صاحب:۔  بے شک، بے شک۔ ﴿ نقیب اور نور الدھر کی طرف دیکھ کر سر ہلاتا ہے۔ وہ دونوں بھی جواباً  سر ہلا کر اپنی رضا مندی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ادھر مخمور اور برق عیار ہاتھ ہلا ہلا کرقاضی صاحب اور شہزادہ نور الدھر کو خبردار کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں﴾لارڈ والڈیمورٹ:۔ اگر چہ مغرب نے اپنی طاقت، اپنی ترقی اور اپنے کلچر  کی مدد سے ہمارے اوپر مکمل کنٹرول حاصل کیا ہوا ہے، لیکن ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی امن ، محبت اور بھائی چارہ سے مغرب کے دل جیت لیں۔قاضی صاحب:۔﴿ تینوں مل کر سر ہلاتے ہوئے﴾ بے شک۔ بے شک ۔کیا خوب کہا ہے۔نور الدھر:۔      ﴿ تینوں مل کر سر ہلاتے ہوئے﴾ بے شک۔ بے شک ۔کیا خوب کہا ہے۔نقیب:۔          ﴿ تینوں مل کر سر ہلاتے ہوئے﴾ بے شک۔ بے شک ۔کیا خوب کہا ہے۔لارڈ  والڈیمورٹ:۔ ہمیں چاہئیے کہ ہم روشن خیال اعتدال پسندی کو اپنا لیں۔ کہ اسی میں ہماری نجات ہے۔قاضی صاحب:۔﴿ تینوں مل کر سر ہلاتے ہوئے﴾ بے شک۔ بے شک ۔کیا خوب کہا ہے۔نور الدھر:۔      ﴿ تینوں مل کر سر ہلاتے ہوئے﴾ بے شک۔ بے شک ۔کیا خوب کہا ہے۔نقیب:۔          ﴿ تینوں مل کر سر ہلاتے ہوئے﴾ بے شک۔ بے شک ۔کیا خوب کہا ہے۔قاضی صاحب :۔ کس قدر عمدہ خیالات ہیں۔لارڈ والڈیمورٹ؛۔ ہمارہ نعرہ امن، دوستی، محبت۔نور الدھر؛َ کتنی اچھی باتیں کرتے ہیں آپ۔نقیب:۔ حضرت! آپ کے منہ سے تو پھول جھڑتے ہیں۔لارڈ والڈیمورٹ:۔ تھینک یو!  جی بس کیا عرض کروں ۔ یہ سب آپ کے حسنِ نظر کا کمال ہے۔نقیب:۔ یا پھر آپ کی نظر بندی کا کمال ہے۔ آپ نے توحضرت ، جادو کردیا ہے۔لارڈ والڈیمورٹ:۔ ﴿ غراتے ہوئے﴾ جی کیا کہا؟نقیب:۔ میرا مطلب ہے۰۰۰۰ میرا مطلب ہے ۰۰۰۰﴿ والڈیمورٹ اپنی جادوئی چھڑی اس کی طرف اٹھاتا ہے﴾نقیب:۔ ﴿ دونوں ہاتھ اٹھا کر اسکے جادو سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے﴾ نہیں۔ نہیں۔ نہیں۔مخمور:۔﴿والڈیمورٹ  کی طرف دونوں ہاتھ اٹھا کر﴾ ایکس پیلی آرمس۔ایکس پیلی آرمس۔ایکس پیلی آرمس۔ ہیری پوٹر:۔ ﴿ والدیمورٹ کی طرف اپنی جادوئی چھڑی اٹھا کر ﴾ ایکس پیلی آرمس۔ایکس پیلی آرمس۔ایکس پیلی آرمس۔
﴿  ہلکا سا دھماکہ ہوتا ۔ ٹھس۔ گویا جادو  بیکار گیا﴾۔برق عیار:۔ ﴿ اپنا ہاتھ بڑھائے ہوئے لارڈ والڈیمورٹ کی طرف پہنچتا ہے﴾ اجی جناب۔ کبھی ہم غریبوں کو بھی لفٹ کروادیا کیجیے۔لارڈ والڈیمورٹ:۔ ﴿ مسکرا کر اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے﴾  ضرور۔ ضرور۔ آپ ملتی ہی کہاں ہیں۔برق عیار:۔ ہم تو آپ کے قدموں میں پڑے ہیں ۔ ہم نے تو اپنا دل آپ کے قدموں میں دال دیا ہے۔لارڈ والڈیمورٹ:۔ ﴿ سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے﴾ یہاں ۔ یہاں۔﴿ دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے اسٹیج سے باہر چلے جاتے ہیں۔﴿ ایک زور دار دھماکہ ہوتا ہے۔ روشنیاں جلنے بجھنے لگتی ہیں۔ اسٹیج پر موجود لوگ چونک کر ادھر ادھر بکھر جاتے ہین۔﴿ پردہ ﴾

دوسرا منظر۔
﴿ وہی جگہ ہے مگرذرا سی تبدیلی کے ساتھ۔ بائیں طرف لگا ہوا ، قاضی القضاۃ، کا بورڈ غائب ہے۔ اس وقت اسٹیج پر کوئی موجود نہیں ہے۔ البتہ پردہ اٹھنے کے تھوڑی ہی دیر بعداسٹیج کے پیچھے سے کسی کے چیخنے کی آواز آتی ہے۔، ھائے میں مر گیا، خوجی چیختے ہوئے اور ان کے پیچھے ان کی موٹی سی بیوی داخل ہوتے ہیں۔خوجی پست قد آدمی ہیں، کرتا پائجامہ، اور ترکی ٹوپی پہنے ہوئے ہیں۔ بیوی کی ایک جوتی اسکے ہاتھ میں ہے  جسے وہ بلا تکلف ان کی پیٹھ پر استعمال کر رہی ہے۔﴾بیوی:۔ لے ۔اور لے۔﴿ مارتے ہوئے﴾ لے ۔ اور لے۔خوجی:۔ ھائے بیگم اب نہیں مارو۔ بخدا اب نہیں مارو۔بیوی:۔ پھر دیکھے گا پرائی لڑکیوں کو۔﴿ نقل اتارتے ہوئے﴾ اف بیگم کتنی خوبصورت لڑکی ہے۔﴿ پھر دو جوتیاں لگاتی ہے﴾خوجی:۔ ھائے بیگم خدا کی قسم۔ تمہاری قسم بیگم۔ اب نہیں دیکھوں گا۔ چاہے کتنی ہی خوبصورت لڑکیاں کیوں نہ گزریں سامنے سے۔بیوی:۔ اچھا تو اب توبہ کر میرے سامنے۔خوجی:۔ میری توبہ۔ میرے باپ کی توبہ۔  لیکن پیاری بیگم میری ایک بات ما نو گی؟بیوی:۔ بکو جلدی سے۔خوجی:۔  وہ دراصل بات یہ ہے کہ ابھی میاں آزاد  پاشا  یہاں آنے والے ہیں۔ ان کے سامنے مجھے مت پیٹنا اور نہ ہی مجھے خوجی کہنا۔بیوی:۔ کیوں ۔ تو وہ میرا کیا کر لے گا؟خوجی:۔ در اصل وہ مجھے اپنے مذاق کا نشانہ بنایئں گے کہ اتنا بہادر نوجوان بنتا ہے، لیکن بیوی کی جوتیاں بڑے مزے سے کھاتا ہے۔بیوی:۔ ہوں ﴿ سوچ کر، جوتی دکھاتے ہوئے﴾ لیکن یاد رہے۔۔۔خوجی:۔ ھائے بیگم تم تو کمال ہو۔ تمہیں دیکھ کر تو مجھے یہ شعر یاد آگیا۔ان کو آتا ہے پیار پر غصہہم کو غصے پہ پیار آتا ہے۔بیوی:۔ ﴿ پھر جوتی سے پیٹتے ہوئے﴾  خوجی مردود۔ تو نے پھر افیم کھائی ہے۔ تو نے پھر نشہ کیا ہے۔خوجی:۔ ھائے بیگم ، تمہارے سر کی قسم آج نہیں کھائی۔بیوی:۔ پھر یہ بہکی بہکی باتیں کیوں کر رہے ہو؟خوجی:۔ ھاے بیگم ، یہ تو شاعری ہے۔ خیر جانے دو۔﴿ پیار سے﴾ آج کھانے میں کیا پکایا ہے؟بیوی:۔ ﴿ اٹھلا کر﴾ تمہارا سر۔ سارا دن نشے میں دھت رہتے ہو۔ گھر میں پکانے کو کچھ نہیں ۔ جائو ، اور جاکر مزدوری کرو اور کچھ کھانے کے لیے لے آئو۔﴿ میاں آزاد اسٹیج کی دایئں طرف سے داخل ہوتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں ایک بورڈ ہے جس پر ’’ کھلی کچہری ‘‘ لکھا ہوا ہے﴾میاں آزاد:۔ اوہو۔ آداب بیگم صاحبہ، آداب خوجی صاحب، میرا مطلب ہے، خواجہ بدیع الزماں صاحب۔خوجی:۔ آداب میاں آزاد۔ کہیے کیا ارادے ہیں؟بیوی:۔ آداب آزاد بھائی۔ کہیئے ہماری حسن آرائ بہن تو خیریت سے ہیں۔آزاد:۔ میں اور حسن آرائ تو خیریت سے ہیں۔ آپ دونوں سنائیے، کیا مزے ہیں؟بیوی:۔ اجی کیا سنائیں ۔ یہ مردود خوجی ، کام کا نہ کاج کا۔ دشمن اناج کا۔ ہر وقت افیم کے نشے میں دھت رہتا ہے۔خوجی:۔ دیکھئے اس کی نہیں ہوتی۔بیوی:۔ ٹھہر تو سہی نامراد۔ تجھے پھر سے جوتیاں نہ ماروں تو؟خوجی:۔ ﴿ دور ہٹتے ہوے﴾بس بس بیگم۔ ارے کوئی بچائو۔ ارے کوئی ہے؟بیوی:۔ میری تو قسمت ہی پھوٹ گئی۔﴿ چلی جاتی ہے﴾آزاد:۔ ﴿ مسکراتے ہوے﴾ کیوں خوجی۔ کیا معاملے ہیں۔خوجی:۔ اجی بس کیا بتائوں۔ بیگم کو ہر وقت پیار آرہا ہوتا ہے مجھ پر۔آزاد:۔ پیار یا۔۔۔۔ جوتوں بھرا پیار اور پیار بھری مار۔خوجی:۔﴿ سنی ان سنی کرتے ہوے﴾ خیر چھوڑئیے ان باتوں کو۔ سنا ہے، قاضی صاحب نے سو موٹو نوٹس  لے لیا ہے اور آج ان جادوگروں کی پیشی ہے؟آزاد:۔ اجی حضرت! کیسا نوٹس اور کہاں کی پیشی۔ خود قاضی صاھب تو پی سی او کے تحت باہر ہوگئے۔خوجی:۔ باہر ہوگئے؟آزاد:۔ بلکہ یوں کہیے کہ اندر ہوگئے۔خوجی:۔ اب کیا ہوگا۔ سنا ہے کہ لارڈ وال۔۔۔۔۔ لارڈ وال۔۔۔۔آزاد:۔ لارڈ والدیمورٹ۔خوجی:۔ وہی، وہی۔ سنا ہے کہ وہ بہت زبردست جادوگر ہے۔آزاد:۔ اجی حضرت چھوڑئے۔ ہم بھی کسی سے کم نہیں۔ اور پھر ہمارے ساتھ وہ بہادر بچہ، عالی بھی تو ہے۔خوجی:۔ اور ہماری بہادری کاتو آپ ذکر کرنا ہی بھول گئے۔ ساری دنیا میں دہشت ہے ہماری۔آزاد:۔ جی ہاں۔ جی ہاں۔جوتیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا﴿ پرانے بورڈ کی جگہ پر نیا بورڈ لگا دیتے ہیں، جو ابتک ان کے ہاتھوں میں تھا اور ناظرین اسے دیکھ سکتے تھے﴾خوجی:۔ جی بس ایک بیگم پر ہی ہماری نہیں چلتی، ورنہ تو ساری دنیا میں دھوم ہے ہماری۔ مار مار کر بھرکس نہ نکال دیں تو کہیئے آپ کے اس لارڈ وال۔۔۔ لارڈ وال۔۔۔آزاد:۔ لارڈ والڈیمورٹ۔خوجی:۔ وہی، وہی۔ وہی جس کا نام نہیں لینا چاہیئے۔آزاد:۔ ﴿ اچانک دایئں دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے﴾ لیجئے وہ آگیا  لارڈ والڈیمورٹ۔خوجی:۔ ﴿بھاگ کر آزاد کے پیچھے جا چھپتے ہیں﴾ ھائے میرے اﷲآزاد:۔ بس دم نکل گیاخوجی میاں۔ اب اگر سچ مچ آ جائے  تو ، وہ جس کا نام نہیں لینا چاہیئے، یعنی ﴿ چیخ کر﴾  لارڈ والڈیمورٹ۔﴿ اچانک ایک کڑک اور دھماکہ سنائی دیتے ہیں اور لارڈ والدیمورٹ اسٹیج پر داخل ہو تا ہے۔ خوجی ایک بار پھر آزاد کے پیچھے چھپ جاتے ہیں﴾لارڈ والڈیمورٹ:۔ آدم بو۔ آدم بو۔آزاد:۔ جادوگر بو۔ جادوگر بو۔لارڈ اولدیمورٹ:۔ یہ کس نے ہمارا نام لینے کی ہمت کی؟آزاد:۔ ﴿ کڑک کر﴾ لارڈ والڈیمورٹ۔﴿لارڈ والدیمورٹ  اپنے دونوں ہاتھ آزاد کی طرف فضائ میں بلند کرتا ہے اور پھر ایک دھماکہ سنائی دیتا ہے﴾آزاد:۔ ﴿ پھر دبنگ لہجے میں﴾ لارڈ والڈیمورٹ۔﴿ لارڈ والڈیمورٹ ایک مرتبہ پھر اپنے ہاتھ فضائ میں لہراتا ہے،  اور ایک دھماکہ کی آواز بلند ہوتی ہے﴾آزاد:۔ ﴿ ایک بار پھر کڑک کر﴾ لارڈ والڈیمورٹ۔لارڈ والڈیمورٹ:۔ ﴿ ہاتھ نیچے جھٹکتے ہوئے﴾  یو پیپل آر ہوپ لیس۔ ﴿ حاضرین کی طرف دیکھ کر کندھے اچکاتا ہے۔ اتنے مین خوجی کی بیوی داخل ہوتی ہے﴾بیوی:۔ یہ کیا ہنگامہ ہے؟ ضرور خوجی مردود افیم کے نشے میں غل غپاڑہ مچا رہا ہوگا۔خوجی:۔ ﴿ ّآزاد کے پیچھے سے جھانکتے ہوئے﴾ بیگم، بیگم۔ لارڈ وال۔۔۔۔ لارڈ وال۔۔۔۔بیوی:۔ لارڈ والڈیمورٹ؟خوجی:۔ وہی، وہی۔بیوی:۔ اس سے تو میں ابھی سمجھتی ہوں۔﴿ جوتی نکال کر اس پر پل پڑتی ہے﴾بیوی:۔ کیوں رے مردود۔ تجھے میں جوتی کی نوک پر رکھتی ہوں۔ بڑ ا آیا لارڈ کہیں کا۔ ﴿ لارڈ والڈیمورٹ کے پیچھے بھاگتے ہوئے اسے جوتیاں رسید کرتی جاتی ہے﴾لارڈ والڈیمورٹ:۔ ارے میں مرا، ارے مجھے بچائو، ارے کوئی ہے۔ بچائو، بچائو۔( دونوں بھاگتے ہوئے اسٹیج کے چکر لگاتے ہیں ۔ اچانک لارڈ والڈیمورٹ لڑ کھڑا کر اسٹیج پر ڈھیر ہوجاتا ہے۔ بیوی دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر فاتحانہ انداز میں ناظرین کو دیکھتی ہے۔﴾آزاد:۔ ہیئر ہیئر۔﴿ تالیاں بجاتا ہے﴾بیوی:۔ آزاد بھائی ۔ آپ ہی کو تو میں ڈھونڈ رہی تھی۔ حسن آرائ آپ سے ملنے کے لیئے ادھر ہی آ رہی ہیں۔آزاد:۔ اب کیا یہاں بازار میں بجلیاں گرائیں گی؟ بیوی:۔ سنا ہے آپ جنگ سے واپسی پر ابتک ان سے نہیں ملے۔ اسی لئیے وہ پریشان ہوکر آپ کو ڈھونڈتی پھر رہی ہیں۔آزاد:۔ وﷲ۔ کیا کہنے حسن آرائ بیگم کے۔نقیب؛َ ﴿ پردے کے پیچھے سے آواز لگاتاہے﴾ با ادب، با ملاحظہ ، ہوشیار۔ حسن آرائ بیگم تشریف لاتی ہیں۔حسن آرائ:۔ ﴿ غرارہ پہنے ہوئے، شرماتی ہوئی داخل ہوتی ہیں﴾ آداب۔﴿ جھک کر آداب کرتی ہے﴾آزاد:۔ کہیئے۔ حسن آرائ بیگم، کیسی رہیں؟حسن آرائ:۔ آپ بھی عجیب آدمی ہیں۔ ہمارے گھر سے نکلے اور سیدھے جنگ پر چلے گئے۔آزاد:۔ آپ ہی کی تو فرمائش تھی کہ جنگ پر جائوں اور بہادری کا میڈل لے کر آئوں۔حسن آرئ:۔ کہنے کو تو میں کہ گئی تھی۔ لیکن بعد میں جو پریشانی ہوئی، وہ کچھ میں ہی جانتی ہوں۔آزاد:۔ اسی لیئے اب بازار میں مجھ کو ڈھونڈنے نکل پڑیں۔حسن آرائ:۔ ( شرماتے ہوئے)  جی ہاں!آزاد:۔ جنگ سے فارغ ہوکر یہاں پہنچا تو یاروں سے پتہ چلا کہ اب جادوگروں سے جنگ کرنی ہے۔
حسن آرائ:۔ تو اس جادوگر کو بھی آپ ہی نے مارا ہے؟ ﴿ لارڈ والڈیمورٹ کی طرف اشارہ کرتی ہے﴾آزاد:۔ جی نہیں۔ اسے تو ہماری بہن نے اپنی جوتیاں مار مار کر مار ڈالا ہے۔﴿حسن آرائ خوجی کی بیوی کو گلے لگا لیتی ہے﴾آزاد:۔ جی تو چاہتا تھا کہ آج اس کھلی کچہری میں اس مقدمے کا فیصلہ کروالیا جائے ﴿ ناظرین کی طرف اشارہ کرتا ہے﴾  لیکن ہماری بہن نے خود ہی اسکا فیصلہ کر ڈالا اور مردود  لارڈ والڈیمورٹ کو ٹھکانے لگا دیا۔ ہماری اپنی کہانیوں کے کرداروں کو سلام۔ ہماری اپنی کہانیوں کو سلام۔﴿ سلیوٹ مارتا ہے﴾﴿ نقیب دروازے سے اسٹیج پر داخل ہوتا ہے اور ناظرین کے سامنے آجاتا ہے۔پیچھے تمام اداکار ایک ایک کرکے اسٹیج پر آنا شروع ہوجاتے ہیں﴾نقیب:۔ تو صاحبو یوں ہماری یہ کہانی ختم ہوئی۔ آج سے تقریباً سو سال پہلے جو کام آزاد، حسن آرائ اور  خواجہ بدیع الزماں خوجی وغیرہ نے شروع کیا تھا، یعنی جادو گری کی کہانیوں سے چھٹکارہ، آج ہماری کہانیاں اس سے بہت آگے بڑھ گئی ہیں۔آج سو سال کے بعد پھر مانگے تانگے کی جادوئی کہانیوں پر جانا کوئی بہت اچھی بات نہیں۔ آیئے اپنی ہی کہانیوں کو آگے بڑھایئں۔آپکی توجہ کا بہت شکریہ۔پردہ گرتا ہے۔

جاوید نامہ ۴:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیمتمہید زمینیحضرت مولانا روم کی روح ظاہر ہوتی ہے اور اسرارِ معراج کی شرح بیان کرتی ہے
عشقِ شہرِ جنوں ہے بے پروا                       شہر میں اک چراغ جلتا تھادشت و کوہ و دمن میں شعلہ تھا                 خلوتِ جاں میں خوب بھڑکا تھامحرمِ راز جب کوئی نہ ملا                         میں کنارے ندی کے جا پہنچاتھا غروب آفتاب کا منظر                           ساحلِ جوئے آب کا منظرکور ذوقوں کو بھی نظر دیدے                      شب کو رنگ اور بوئے سحر دیدےدل سے باتیں نکل نکل سی گئیں                 آرزوئیں مچل مچل سی گئیںمختصر زندگی ، نصیب مرا                        جاودانی نہیں، نصیب مرامیں بھی بے اختیار گانے لگا                       بے محابا غزل سنانے لگا

غزل
حضرت مولانا روم ترجمہ: محمد خلیل الرحمٰنلب کھول دے کہ ہے لبِ شیریں کی آرزو                 پردا اٹھا کہ ہے گلِ سیمیں کی آرزواک ہاتھ میں ہو جام تو کاندھے پہ زلفِ یار               میداں میں مستِ رقص ہوں ، یہ میری آرزوکہتے ہو ناز سے کہ نکل ، اب نہ تنگ کر                 مت چھیڑ، مجھکو ہے یہی سننے کی آرزواے عقل! شوق میں ہوئی مجنوں یہی بہت             اے عشق! تیرے نالوں کے سننے کی آرزوسیلِ رواں بھلا ہو ترا، مجھکو تو فقط                     ماہی کی مثل دریا میں جانے کی آرزوجور و ستم ملول مجھے کرگئے ترے                       فرعون! ہے مجھے یدِ بیضا, کی آرزوکل شیخ ساتھ سے مرے گزرا کہ ‘‘ اب مجھے           ہے شہرِ ناز میں کسی انساں کی آرزوبیزار ہوں میں مردہ دلوں سے کہ اب مجھے               شیرِ خدا کی، رستمِ دوراں کی آرزومیں نے کہا کہ میں بھی تو جویا ہوں اس کا یاں          کہنے لگا کہ ہے اسی انساں کی آرزو

شام ہوتے ہی سوگئیں لہریں                           اور ظلمت میں کھو گئیں لہریںشام نے پھر چرائی ایک کرن                            اک ستارہ جو شب کی تھا دلہنروحِ رومی یوں سامنے آئی                                جھلک اپنی یوں مجھکو دکھلائیچہرہ سورج کی طرح تھا روشن                         تھی جونی پہ پیری سایہ فگننورِ سرمد سےتن منور تھا                                 سرمدی نور کا وہ پیکر تھالب پہ ان کے وجود کے تھے راز                         کھولے دیتی تھی راز یہ آوازمثلِ آئینہ ان کے لفظ عیاں                                 سوزِ دل جن میں ہوگیا پنہاں(دیکھ کر ان کو میں بھی کھِل اٹھّا                    اورر پھر ان سے یہ سوال کیا)کیا ہے موجود اور نا موجود؟                            کیا ہے محمود اور نا محمود؟بولے موجود چاہتا ہے نمود                               جس کے انداز سے عیاں ہو وجودزیست مثلِ عروس سجتی ہے                            نظرِ شاہد میں خود ہی جچتی ہےحق نے محفل بھی اک سجائی تھی                   اپنے ہونے پہ داد چاہی تھی( جس کو روزِ الست کہتے ہیں                         ہم جسے اب بھی یاد کرتے ہیں)زندگی، موت و جانکنی کے لیے                         تین شاہد تلاش کر لیجےپہلا شاہد ہے خود شعور اپنا                            خود کو دیکے ہے خود ہی نور اپنا
کیا ہے معراج؟ آرزوئے حبیب                             امتحان اپنا روبروئے حبیبایسی شاہد کی جنبشِ ابرو                               جیسے ہو پھول کے لیے خوشبواس کی محفل میں کس کی تاب و مجال                       ہاں بجز اھلِ مرتبہ و کمالذرہ گر ہے، چمک کو ہاتھ میں رکھ                    بلکہ اپنی گرہ میں تھام کے رکھاس پہ کچھ اور تاب اپنی بڑھا                         سامنے مہر کے اسے چمکا

جاوید نامہ:۳۔ منظوم اردو ترجمہ حصہ اول: تمہید



نغمہ ملائکترجمہ: محمد خلیل الرحمٰن

طلعتِ مشتِ خاک سے اک دن             یہ زمیں ایسے جگمگائے گیاس کی تقدیر کے ستارے سے               کچھ نئے آسماں بنائے گیفکرِ آدم کی حد کا کیا کہنا                   نگہ کی حد سے دور جائے گیگر کھٹکتا سا آج عنواں ہے                   اس کی موزونیت بتائے گیخالقِ کائینات کی مرضی                      شانِ آدم کو یوں بڑھائے گیروح ِ خالق بھی جھوم جائے گی             اپنے شہکار کو سجائے گی

ھدیہ ِ نعت بحضورِ سرورِ کائینات صلی اللہ علیہ وسلم




ھدیہ نعت بحضور سرورِ کونین ( صلی اللہ علیہ و سلم)ازمحمد خلیل الر حمٰن

زمیں پہ نازشِ انساں محمد عربیفلک پہ نور کا ساماں محمدِ عربی

دکھی دلوں کے لیے چارہ ساز ذکرِ نبیہر ایک درد کا درماں محمدِ عربی

تمہارے دم سے ہے تصویرِ کائینات میں رنگتمہی حیات کا عنواں محمدِ عربی

مٹے ہیں فاصلے کون و مکاں کے آج کی شبہیں آج عرش پہ مہماں محمدِ عربی

ہم عاصیوں کی شفاعت خدا کی مرضی سےتمہاری شان کے شایاں محمدِ عربی

شفیعِ امّتِ مرحوم، ھادیئ برحقگواہ آپ کا قرآں محمدِ عربی

تمہارے بعد نہ ہوگا کوئی خدا کا نبیہیں آپ ختمِ رسولاں محمدِ عربی

خلیل کو بھی دکھا دیجیے رخِ انوراسے ہے بس یہی ارماں محمدِ عربی
 کالج کے زمانے کی لکھی ہوئی ایک نعت

جاوید نامہ:۲۔ منظوم اردو ترجمہ حصہ اول: تمہید


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
تمہید آسمانی
آفرینش (کائینات) کے روزِ اوّل آسمان کا زمین کو ملامت کرنا
غیب و حاضر کے سب ہوئے ساماں                           زندگی نے سجادیا یہ مکاںکرکے تارِ نفس کو خود سے جدا                                رنگِ دنیا کو پھر وجود دیاہر طرف ذوقِ خود نمائی تھا                                     نعرہ اپنی خودی کا جاری تھاچاند تاروں کو محوِ گام کیا                                      نور کو ان کے طشتِ بام کیانیلگوں آسمان پر سورج                                           سج گئی اس کی شان کی سج دھجصبحِ نو                                                              سارے عالم کو بڑھ کے گود لیاملکِ ّدم میں خاک اڑتی تھی                                   راستہ وہ کسی کا تکتی تھیکوئی دریا یہاں نہ بیچارہ                                        کوئی بادل پھرے تھا آوارہنہ ہی شاخوں پہ کوئی چڑیا تھی                               نہ ہرن کی تھی تیز رفتاریبحر و بر نور کے بنا تھے یہاں                                   چھایا ہرجا تھا ایک اٹھتا دھواںنہ ملا تھا بہار سے سبزا                                         سر چھپاکر تھا گود میں سویاآسماں نے زمیں کو طعنہ دیا                                     اسکی اس بے کسی کا ذکر کیامانگے تانگے کی روشنی ہے تری                                روشنی تیری کوئی اپنی نہیںتو بجز خاک ، ہو نہیں سکتی                                 نورِ افلاک ہو نہیں سکتییا تو شاہانہ دلبری کرجا                                          ورنہ اس کمتری سے، جا مر جاشرم سے یہ زمین پانی ہوئی                                     نا امیدی و دلگرانی ہوئیایسے تڑپی کہ ہل گیا گردوں                                   آئی آواز آسماں سے یوںتو امانت سے بے خبر ہے امین                                  دیکھ اپنے ضمیر میں بھی زمینزندگی سے ہے روشنی تیری                                     اس کے دم سے ہے دلبری تیریمہر داغی ہے صبح کے دم سے                                   تیری رونق ہے نورِ آدم سےروح کا نور یوں سفر میں ہے                                     مہر کی روشنی حضر میں ہے                                                                        نورِ آدم تری ہی خاک سے ہےعقلِ آدم جہاں کا فاتح ہے                                        عشق ہر لامکاں کا فاتح ہےفکر پہنچے بغیر رہبر کے                                          آنکھ ہے تیز تر فرشتے سےہر فرشتے سے تیز اڑتا ہے                                         آسماں اک رباط جیسا ہے                                                                        جیسے ریشم میں ہو سوئی کی چبھندھوئے گا وہ جہاں کے داغِ کہن                                نور سے اسکے آسماں روشنگرچہ تسبیح خود کرے گا کم                                  کوچوانِ جہانِ کیف و کمنورِ عین اسکا یہ جہاں ہوگا                                    کار فرما کسی کو دیکھے گاجس کا معشوق ہے خدا کی ذات                               ہیں تصّرف میں اسکے موجودات                  

جاوید نامہ: منظوم اردو ترجمہ حصہ اول: تمہید


بسم اللہ الرحمٰن الرحیممناجاترنگ کے اس جہان میں انساں                                   ہر گھڑی  آ ہ بھرتا  رہتا   ہےمحرمِ  را ز کی  ضرورت  ہے                                      نالے   اپنے  بلند  کرتا    ہےآب  و گِل   کا یہ  عالمِ ویراں                                     کیسے کہدوں کہ یہ بھی سنتا ہے۔آسمان  و  زمین  گونگے  ہیں                                    چاند  حیرانگی  سے  تکتا   ہے۔آسماں  پر  ہجوم  تاروں  کا                                       ہر  ستارہ  جہاں  پہ  تنہا  ہے۔ہر ستارہ، ہر ایک بیچارا                                          نیلگوں آسماں میں بھٹکا ہے۔کوئی ساماں سفر کا ساتھ نہیں                                  آسمانوں سے دور جانا ہے۔بھولے بسرے کوئی اسیر ہیں ہم                                  یا کسی نے شکار ہانکا ہے۔آہ بھر بھر کے اور رو رو کر                                          اپنے ہمدم کو میں نے ڈھونڈا ہے۔روشنی جس کی چارسو پھیلی                                   روزِ روشن کو ایسے دیکھا ہے۔اس کا دار و مدار سورج ہے                                      دن کے اور رات کے سوا کیا ہے۔ہے خوشا روز جس کی صبحِ مسا                                رات سے، شام سے مبّرا ہے۔ایسا دن جس میں ہم یہ کہہ سکتے                                         ہم نے آواز کو بھی دیکھا ہے۔غیب کو جو حضور میں بدلے                                  ایسا دن جو ہنر میں یکتا ہے۔اے خدا پھیر دے مرے دن کو                                  دے مجھے دن، کہ تو ہی داتا ہے۔ھاں وہ تسخیر کی تو آیت تھی                                 شانِ آدم کا کیا ہی کہنا ہے۔نام سارے  سکھا دیے  جس کو                                  جو  شرابِ  الست  پیتا ہے۔محرمِ  راز  جس  کو  ٹھرایا                                     جو  زمیں پر   ترا  خلیفا ہے۔ھاں پکارو مجھے ، کہا تھا نا                                    کس سے کہتے تھے، کون سنتا ہے۔تیرے دیدار کا جو طالب تھا                                    اب اسی سے یہ کیسا پردا ہےسو شعاعیں بکھیر دے سورج                                    اس میں سورج کا کچھ بھی جاتا ہے؟
عقل زنجیرِ پا بنی ہے آج                                            جاںِ بے تاب میری کس جا ہےزندگی مدتوں تڑپتی ہے                                                       آدمی ایک، تب ہی آتا ہے۔میں یہ کہدوں اگر برا نہ لگے۔                                  ایسی بنجر زمین کا کیا ہے۔ایک بھی دل اگر ہو یاں پیدا                                   حاصلِ زیست ہی یہ پیدا ہے۔چاند میرے ، مری زمیں پرآ                                     دل مرا، ایک تیرا شیدا ہے۔خوف بجلی کو کیا ہے گرنے سے                                آگ کاکام تو جلانا ہے۔میں جیا تیرے ہی فراق میں تھا                                 اب بتادے مجھے پرے کیا ہے۔ کھول  دے راز اب کہ یہ خاکی                                 رازداں  قدسیوں  کا  بنتا  ہےعشق کی آگ دل میں پیدا ہے                                  تیرا شاعر ترا ہی شیدا ہے۔
اپنی الفت کا عود سلگادے                                       اس کی خوشبو جہاں میں پھیلا دے۔آتشِ شوق یونہی گرمادے                                      اک نگاہِ غلط سے تڑپادےکم نگاہی پہ جستجو میری                                       آرزو ہے کہ چشمِ بینا دےیا مری جان قبض کرلے آ                                          یا مجھے دیدہ تماشا دےبے ثمر فکر کا شجر ہے مرا                                       کاٹ دے یا گلِ تمنا دے۔عقل دی ہے ، دلِ جنونی دے                                      اور اک جذبِ اندرونی دے۔علمِ حق سوچ کی نیام میں ہے                                  عشقِ ھو قلبِ لا ینام میں ہے۔علم  ہے عشق کے بنا     بے  کار                                 ہے   تماشائے  خانہ      افکارعلم بس سامری کا جادو ہے                                     روحِ جبریل ہو تو خوشبو ہے۔  مردِ دانا ہے نور کا محتاج                                         مرد ناداں ہوا یونہی تاراجہے بجز نور زندگی دکھ درد                                       دینِ مجبور اور عقلِ سردیہ جہاں ، کوہ و دشت و بحر و بر                             میں ہوں مشتاقِ دید اور یہ خبرشوقِ نظاّرہ کو نظارا دے                                          مجھ کو منزل کا اک اشارہ دےگرچہ خاکی ہوں ، پائی تابِ کلام                               پھر بھی اظہار میں رہا ناکامراہ بھٹکا مسافرت میں غریب                                  پھر دے آواز یونہی اِنّی قریبیہ شمال و جنوب اور یہ جہات                                 کردے آزاد ان سے ربِّ ثباتمہر سے،  ماہ سے ، ستاروں سے                                 کردے آزاد ان نظاروں سے
تو ہے اک نور میں ہوں ایک شرا ر                           چند سانسیں مری ہیں، وہ بھی ادھارموت تجھ کو نہیں اے مالکِ کون                             رشک کرتا ہوں تجھ پہ ، میں ہوں کونمیں   ہوں آفاق  گیر و  بے   صبرا                              ہجر  میں،   وصال میں  کروں جھگڑازیست کو میری جاودانی کر                                    میں زمینی ہوں آسمانی کرمیری گفتار میں اثر دیدے                                      میرے کردار میں گہر دیدےفکر میری نہ اس جہاں کی ہے                                   یہ کسی اور آسماں کی ہےمیں سمندر ہوں مجھ میں طوفاں ہیں                          میرے پیراک میرے جاناں ہیںایک عرصے سے ہوں میں فکروں میں                         میرے ساتھی نہیں ہیں بوڑھوں میںمیں ہوں نومید ان بزرگوں سے                                 میری امید ہے جوانوں سےان جوانوں کو میرے    تڑپا  دے                               میرے فکر و سخن کو پھیلادے                   

Pages