عامر منیر

چھپ جاؤ تاریو

ایک متحرک قوت تخیل کا مطلب صرف یہ نہیں کہ آپ جب چاہیں، آنکھیں بند کر کے پھولوں اور تتلیوں کی دنیا میں داخل ہو سکتے ہیں، اس کے کچھ ناخوشگوار اور غیرمتوقع مضمرات بھی ہیں۔ نسیم بیگم کے گیت "چھپ جاؤ تاریو ۔۔۔۔" سے جن کی سماعت آشنا ہے، وہ جانتے ہیں کہ اس گیت کے بولوں اور موسیقی میں کیسا غم اور اندوہ رچا ہوا ہے، پنجاب کی روایتی کہاوتوں میں گندھا ہوا یہ دلگداز گیت ایک ایسے دل کی ترجمانی کرتا ہے جو اگلے دن کی صبح دیکھنے کی امید کھو چکا ہے اور زندگی سے آخری مکالمہ کر رہا ہے۔ بہت سے دیگر گیتوں کی مانند یہ گیت بھی پہلے پہل ریڈیو پاکستان پر ہی سننے کا اتفاق ہوا تھا، اچھا لگا، دلگداز تھا، لیکن اس میں ایسی کوئی خاص بات نہ محسوس ہوئی کہ ذہن سے چپک جاتا یا یادداشت پر کوئی گہرا نقش چھوڑتا۔ پھر پچھلے موسم سرما کی بات ہے، جاڑوں کی ایک رات سائبرورلڈ میں ٹہلتے ٹہلتے روزنامہ دنیا کے اسپیشل فیچرز میں جا نکلا، جہاں ایک فیچر پھانسی کی سزا پانے والے قیدیوں کی عجیب وغریب آخری خواہشات پر مشتمل تھا۔ ایک واقعہ اس میں ایسا نظر سے گزرا جس نے اس گانے کے اندوہناک بولوں کو ذہن میں پھر سے متحرک کر دیا۔ واقعہ پڑھیے۔مکمل تحریر کے لئے یہاں کلک کریں »

سیف الملوک

 دو ہزار سات کے جون کا آخری دن تھا یا جولائی کا پہلا دن ! گزشتہ دن بارش اور بادلوں کی ہمراہی میں گزرا ۔ناران سے جھیل لولو سر تک سفر کے دوران بارش ایک لمحے کے لئے بھی نہیں رکی تھی۔ جیپ کی ونڈ سکرین کے وائپرز مسلسل متحرک اور ٹھنڈ سے کپکپاتے مسافر ایک دوسرے سے جڑ کر بیٹھے رہے تھے۔ بیسل کے مقام پردوپہر کا کھانا یوں کھایا کہ اندر بریانی کے دیگچے میں کفگیر کھڑکتا تھا، باہر چوٹیوں پر موسلا دھار پانی برستا تھا۔ البتہ اتنی مہربانی بادلوں نے کی کہ ہم لولوسر پہنچے تو نہ صرف برسنا بند کر دیا بلکہ کچھ دیر ادھر ادھر ہو کر سورج کی کرنیں بھی ہم پر اترنے دیں کہ مسافروں کی تفریح کا حق ادا ہو جائے۔ لولو سر سے واپس پلٹے تو آسمان پر بادلوں کے جتھے ایک بار پھر سے صف بندی کر رہے تھے ۔  ***
مکمل تحریر کے لئے یہاں کلک کریں »

برسات کی ایک صبح

صبح ایک خوفناک، دل دہلا دینے والی کڑک کی آواز نے بیدارکیا۔ کسی مترنم اور مدھر "اٹھیے" کی آواز پر بیدار ہونے کی حسرت گزرتے وقت کے ساتھ خاک ہو چکی ہے لیکن اتنی پرانی نہیں ہوئی کہ ایسی خوفناک آواز کی ایسی معصوم حسرت پر یوں طعنہ زنی گوارا ہو۔ اس کڑک کے مصدر کو کڑی سزا دینے کا ارادہ کرتے ہوئے موبائل پر وقت دیکھا تو چھ بج چکے تھے۔ اصولا اس وقت صبح کی پہلی کرنوں کو ہمارے کمرے میں رقصاں ہونا چاہئے تھا لیکن کمرے میں نصف شب کے سنسان سٹیج کا ساسماں تھا۔ کڑک کے مصدر کی دریافت اور اسے سزا دینے کا ارادہ بھول کر باہر جھانکا کہ ملکہ سحر شبنم پا کی خیریت دریافت کریں ، پوچھیں کہ اے رخ تابندہ، تیری مسکراہٹ آج کیا ہوئی، رخ روشن کے عشاق سے ایسی بے رخی؟ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ رخ روشن ہنوز نقاب کی اوٹ میں ہے۔ گہرے سیاہ بادل کہ کڑکتے  آتے ہیں، گرجتے جاتے ہیں،  سوئے ہوؤں کو جگا تے ہیں اور بیداروں کے دل دہلاتے ہیں، یوں آسمان کو ڈھکے ہوئے ہیں گویا آج صبح نہ ہونے دیں گے۔ بارش موسلا دھار برس رہی ہے، لگا تار برس رہی ہے، بے شمار برس رہی ہے، دیوانہ وار برس رہی ہے۔ کوئی قطعہ زمیں نشیبی ایسا نہیں کہ دامن اس کا آب باراں سے لبریز جام نہ بن چکا ہو۔ کوئی قطعہ زمیں فراز کا حامل ایسا نہیں کہ اس کے دامن میں ننھی منی ندیاں نہ بہتی دکھائی دیں۔
مکمل تحریر کے لئے یہاں کلک کریں »

دو یادیں

فیس بک پر مرشدی علامہ اقبال کی نظم " ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام" سے کچھ اشعار شیئر کئے ۔کچھ دیر بعد مرشدی سے ہی دل لگی کرتے ہوئے ان کی ایک رباعی پر تضمین کی، اس شیئرنگ اور تضمین کا زمانی قرب محض ایک اتفاق تھا لیکن اسی اتفاق سے اپنے پرائمری کے ٹیچر سر سعید یاد آگئے۔ بہت اچھے اور شفیق ٹیچر تھے، سبق کا رٹا نہیں لگواتے تھے بلکہ مثالوں اور حکایات کے ذریعے سمجھایا کرتے تھے۔ علامہ اقبال سے خصوصی عقیدت رکھتے تھے۔(1)ایک دن میں اپنی کاپی میں علامہ اقبال کی نظم "بلبل اور جگنو" کی پیروڈی کسی رسالے سے کاپی کر لایا، غالباً اندرون سندھ ڈاکو راج پر کسی نے کہی تھی۔
سیٹ پر کسی پجیرو کی تنہاڈاکو تھا کوئی اداس بیٹھاکہتا تھا کہ رات سر پر آئیلوٹنے مارنے میں دن گزاراپہنچوں کس طرح آشیاں تکہر موڑ پر لگا ہوا ہے ناکہسن کے ڈاکو کی آو و زاریایس پی کوئی پاس ہی سے بولاحاضر ہوں مدد کو جال و دل سےپولیس والا ہوں گرچہ میں ذرا ساکیا غم ہے جو راہ میں ہیں ناکےمیں تیرے ساتھ بیٹھ کر چلوں گارشوت سے مجھے ملی ہے وردیپرچی نے مجھے ایس پی بنایاہیں لوگ وہی جہاں میں اچھےکھاتے ہیں جو مال دوسروں کےکسی حاسد نے سر سے شکایت کر دی کہ عامر علامہ اقبال کا مذاق اڑا رہا ہے، ان کی نظم کو الٹ پلٹ کر کے لکھ لایا ہے اور اب دوستوں کو سنا رہا ہے۔ انہوں نے موقعے پر آن پکڑا، کاپی ملاحظہ کی اور کھڑا ہونے کا حکم دیا۔ آپ خود ستائی نہ سمجھیں تو عرض کروں کہ کلاس کا لائق ترین طالبعلم شمار ہوتا تھا اور سزا کی نوبت کبھی کبھار ہی آتی تھی، وہ بھی ہلکی پھلکی ایک دو چھڑی، لیکن اس دن ٹھیک ٹھاک نالائق طالبعلموں کی مانند پے در پے چھڑیا ں پڑیں، ہتھیلیاں لال سرخ ہو گئیں اور آنسوؤں تک نوبت پہنچی تو تھوڑا نرم پڑے۔ کہنے لگے "تم نہیں جانتے کہ علامہ اقبال کے پاکستانی قوم پر کتنے احسانات ہیں، اپنے محسن کا یوں مذاق اڑایا جاتا ہے؟" ہتھیلیاں سرخ کروانے اور ایک گھنٹہ کلاس روم سے باہر کھڑے رہنے کے بعد دوبارہ کبھی اقبال کا مذاق نہ اڑانے کے وعدے پر معافی ملی۔ مذکورہ بالا تضمین پوسٹ کرنے کے بعد سر سعید یاد آئے تو سوچ میں پڑ گیا کہ سر اگر اس تضمین کو دیکھتے تو کیا کہتے؟ دل کو یہ کہہ کر تسلی دے لی کہ دل لگی تضحیک میں شمار نہیں ہوتی، اگر غالب خوباں سے چھیڑ روا رکھتے ہیں تو ہم بزرگاں سے تھوڑی بہت چھیڑ کیوں نہیں رکھ سکتے، لیکن کیا سر سعید اس دلیل سے قائل ہو جاتے؟
(2)
مرشدی اقبال کی نظم "ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام" پہلے مرتبہ جب پڑھی تو جماعت ششم کا طالبعلم تھا۔ اشعار کی روانی اور غنائیت بہت پسند آئی لیکن سمجھ اتنی ہی آئی جتنی جماعت ششم کے ایک طالبعلم کو آ سکتی ہے، یعنی صفر بٹا صفر! پہلے ہی شعر میں "زناری برگساں" کی نامانوس اور عجیب و غریب ترکیب ذہن میں یوں اٹکی کہ سوچ و بچار کا سارا پہیہ جام کر دیا۔ سوچ سوچ کر سر دکھنے لگا، لاچار ہو کر کتاب یا رسالہ جو بھی تھا، اگلے دن بستے میں رکھ کر سکول لے گیا اور چھٹی کے بعد سر سعید کو ان کے دفتر میں جا پکڑا کہ اس کا مطلب سمجھائیے۔ سر بانگ درا کی نظموں کی تشریح بڑے دلنشیں انداز میں کیا کرتے تھے لیکن ضرب کلیم سے ان کی اتنی شناسائی نہ تھی، پھر بھی انہوں نے اپنی لاعلمی پر ڈانٹ پھٹکار یا کسی لا یعنی تشریح کا پردہ ڈالنے کی کوشش نہیں کی، سادہ دلی سے اعتراف کیا کہ اس کا مطلب انہیں بھی معلوم نہیں، پھر بولے "چلو، ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔" پہلے انہوں نے الماری سے فیروز اللغات کا ایک بھاری بھرکم نسخہ نکالا جو اتنا بھاری تھا کہ کسی لڑائی جھگڑے میں بطور ہتھیار استعمال کیا جا سکتا تھا، ورق الٹے پلٹے تو "زناری" ایک جگہ مل گیا، یک لفظی مطلب لکھا تھا،"کافر"۔ اس دریافت نے ترکیب کو جتنا آسان کیا، اتنا ہی الجھا دیا۔ "زناری برگساں"، یعنی "برگساں کا کافر"؟ یہ برگساں کیا ہوا؟ کامن سینس کہتی تھی کہ برگساں کسی علاقے کا نام ہونا چاہئے، جیسے اقبال نے خود کو ایک جگہ "کافر ہندی" کے لقب سے پکارا ہے، اسی طرح فلسفہ زدہ سید زادے کو برگساں کا کافر کہا ہوگا، لیکن برگساں کے کافروں میں ایسی کیا بات ہو گی کہ اقبال نے فلسفہ زدہ سید زادے کو ان سے تشبیہہ دے ڈالی؟ غالباً ان کا کفر بھی فلسفے سے آلودہ ہو گا، یا یوں کہہ لیجئے کہ ان کا فلسفہ کفر سے آلودہ ہو گا۔ لغت کے اوراق مزید الٹے پلٹے، برگساں کو نہ ملنا تھا، نہ ملا۔ سر نے فیروز اللغات واپس الماری میں رکھی اور چند نسبتاً مختصر الوجود کتابیں نکال کر ان کی ورق گردانی کی۔ اس وقت کے تاثرات ابھی بھی یادوں پر بڑے واضح انداز میں مرتسم ہیں، ان کا ایک کتاب رکھ کر دوسری نکالنا، ورق الٹنا پلٹنا اور میرا خاموشی، تجسس اور احترام کے ساتھ بیٹھنا، گویا کسی معبد میں کوئی بہت ہی اہم اور مقدس رسم ادا کی جا رہی ہے۔ یہ الگ بات کہ برگساں کا کوئی پتا نشان ان کتابوں میں بھی نہ ملا اور ہماری پندرہ بیس منٹ کی یہ کھوج اسی مفروضے پر منتج ہوئی کہ برگساں کسی علاقے کا ہی نام ہوگا۔ جہد کا حاصل ایک موہوم سا مفروضہ ٹھہرا، لیکن ان کی شفقت تا عمر یاد رہے گی۔ اپنی چھوٹی بہنا کے سکول سے واپسی پر جو گلے شکوے سنتا ہوں کہ بھائی، ٹیچر سے فلاں سوال پوچھا تھا مگر انہوں نے ڈانٹ کر بٹھا دیا تو وہ منظر آنکھوں میں گھوم جاتا ہے۔ نصاب سے ہٹ کر سوال، جواب نامعلوم اورچھٹی کے بعد کا وقت، اگر وہ چاہتے تو ایک خشونت آمیز نگاہ سے طالبعلم کا سارا جوش وہیں ٹھنڈا کر سکتے تھے۔
ہنری برگساں سے تعارف بہت بعد میں ہوا، "زنار" کی مناسبت سے زناری اور برگساں کا تعلق بہت، بہت بعد میں سمجھ آیا اور یوں پہلے شعر سے بات آگے بڑھی۔ اب دوسرے شعر پر اٹکی ہوئی ہے کہ ہیگل کے فلسفے سے کما حقہ شناسائی ہو تو جان پائیں کہ مرشد نے اس کے طلسم کو خیالی اور صدف کو گہر سے خالی کیوں کہا۔ یوں کہئے کہ پندرہ سالوں میں ابھی دو اشعار سے آگے بات نہیں بڑھی، ایسے میں کسی کو کلام خداوندی کی ۔کل تشریح کا اجارہ دار بنے دیکھتے ہیں تو ان کے حوصلے پر بھی حیرت ہوتی ہے اور فہم کی حدود پر بھی۔

مجھے فیس بک کے لکھاریوں سے بچاؤ


یادش بخیر،جب ہم فیس بک پر وارد ہوئے اس وقت سٹیٹس اپ ڈیٹ چار سو بیس کیریکٹرز سے زیادہ طویل نہیں ہو سکتا تھا۔ آپ نے گھر میں ہونے والے کسی جھگڑے پر دل کی بھڑاس نکالنی ہویا سیاست پر تبصرہ کرنا ہو، فرینڈ لسٹ میں کسی کو بالواسطہ مخاطب کرنا ہو یا کسی قسم کی چار سو بیسی کرنا ہو، ان سب پر چار سو بیس کیریکٹرز کی حد عائد تھی، جو کہنا ہے،اسی حد میں رہ کر کہنا ہے۔ زیادہ طویل بات کہنی ہے تو فیس بک نوٹس حاضر ہیں، نوٹ لکھئے اور کھل کر لکھئے۔ کمنٹس کے معاملے میں کچھ نرمی برتی جاتی تھی لیکن ان میں بھی خطبہ جمعہ جتنے طویل وعظ کرنے اور انکل مشرف کی آخری تقریر جتنے لمبے خطاب جھاڑنے کی گنجائش نہیں تھی۔ نیوزفیڈ ان دنوں بھی دوستوں کے اعمال و افعال کی اطلاعات سے بھر پور ہوتی تھی، کس نے کس کے سٹیٹس کو لائک کیا، کس کی تصویر پر کمنٹ کیا،کس کو دوست بنایا، کس پیج کا کون فین بنا وغیرہ وغیرہ، لیکن یہ اطلاعات زمانی ترتیب میں ہوا کرتی تھیں اور آپ کو نیوز فیڈ کی سیٹنگ کے لئے دکھاوے کے نہیں بلکہ سچ مچ کے کچھ آپشن میسر ہوا کرتے تھے۔ ان دنوں ابھی دانشور ، مفکر اور لکھاری فیس بک پر حملہ آور نہ ہوئے تھے، اس لئے فرینڈ لسٹ میں دوست ہوا کرتے تھے، مجازی دنیا کے کلف لگے اشرا ف نہیں! جنہیں لکھنے کا چسکا تھا ، وہ بلاگ بنایا کرتے تھے اورپھر اپنے بلاگ کی فیس بک پر تشہیر کیا کرتے تھے۔ کانٹے کے مقابلے اور دھواں دھار مباحثے بلاگز پر بھی ہوا کرتے تھے اور ان مباحث کا دھوا ں پھیلتے پھیلتے فیس بک کی فضا پر بھی چھا جایا کرتا تھا، لیکن مجموعی طور پر یہ مقابلے او ر مباحثے بلاگستان کی الگ دنیا سے تعلق رکھتے تھے۔ فیس بک کی فضا اور تھی، بلاگستان کی فضا اور۔
مکمل تحریر کے لئے یہاں کلک کریں »

شیر دریا

کافی عرصہ پہلے کی بات ہے ، ایک رات خواب میں دیکھا کہ سمندر کنارے ایک بس کھڑی ہے۔ سرخ، نیلے، پیلے، جامنی، نارنجی اورسبز پھول پتیوں سے مزین، سرتاپا رنگ برنگ نقوش سے آراستہ، جیسی روایتی پاکستانی بسیں ہوا کرتی ہیں۔ کنڈکٹر بس کے دروازے کے پاس اطمینان سے کھڑا ہے، اسے نہ ہی بس کو بھرنے کی جلدی ہے، نہ آوازیں لگا کر مسافروں کو بلانے میں کوئی دلچسپی ہے۔ آگے بڑھ کر اس سے پوچھا کہ یہ بس کہاں جارہی ہے۔ اس نے بڑے اطمینان سے بتلایا کہ یہ بس دریائے سندھ کے کنارے کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی کراچی سے جھیل مانسرور تک جاتی ہے۔ جھیل مانسرور ، یعنی تبت کی کٹھن بلندیوں میںکیلاش پربت کے دامن میں آرام سے لیٹی وہ جھیل جو دریائے سندھ کا منبع ہے۔ خواب میں ہی جنوبی ایشیا کا جغرافیہ، وادی سندھ کی قدیم تہذیب ، ممتاز مفتی کا رپورتاژ ” شاہراہ ریشم “ اور مستنصر حسین تارڑ کا سفرنامہ ”ہنزہ داستان“ آپس میں گڈمڈ ہونے لگے۔ سندھ، پنجاب، سرحد، بلتستان، لداخ اور تبت، کون کافر ہو گا جو ایسے سفر کا سنتے ہی اس کے لئے کمر کسنے پر آمادہ نہ ہو جائے۔ آہا ہا، اباسین، مہران اور سندھ کے نام سے پہچانے جانے والے عظیم الشان دریا کی ٹھنڈی سطح کو چھو کر آتی ہوا رخساروں سے ٹکرا رہی ہو، ایک کے بعد ایک منظر بدلتے جا رہے ہوں۔ ڈیلٹا کا دلدلی علاقہ، سندھ اور پنجاب کے ہرے بھرے میدان، چٹیل پہاڑوں کے درمیان شاہراہ قراقرم اور سندھو دریا دو پتلی پتلی لکیروں کی شکل میں رواں، گلگت ، بلتستان اور کشمیر کی خوش جمال وادیاں اور آخر میں تبت کے برف زار !وہ بھی کیا سفر ہو گا کہ ایک سرے سے مسافر صافہ پانی میں بھگو کر سر پر رکھتے اور ٹھنڈے یخ مشروبات سے گرمی کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے چلے اور منزل پر پہنچ کر ٹھٹھرتے ہاتھوں سے اپنے سفری بیگ سے کوٹ ، سویٹر وغیرہ نکالتے ہوئے، بجتے دانتوں کے ساتھ ، کپکپاتی آواز میں کنڈیکٹر سے پوچھ رہا ہو کہ گرما گرم چائے کہاں سے ملے گی۔
مکمل تحریر کے لئے یہاں کلک کریں »

حفیظ صاحب!

گہری سانولی رنگت، ہونٹ اور دانت ہر وقت پان چباتے رہنے کے سبب لا ل سرخ، رخساروں کی ہڈیاں اندر کو دھنسی ہوئیں، یہ تھے حفیظ صاحب!کبھی ان سے عمر پوچھنے کا اتفاق نہیں ہوا، لیکن ان کی داستان حیات سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب پہلی بار ان سے سامنا ہوا، اس وقت بھی ساٹھ سے اوپر کے تھے۔ اب تو خیر شاہراہ حیات کا طے شدہ سفر پون صدی کے لگ بھگ فاصلے پر محیط ہو گا ! قدرے ڈرامائی انداز میں ٹھہر ٹھہر کر بات کرنے اور ہر دوسرے فقرے میں لفظ ’’بھیڑیا‘‘ کا ٹانکہ لگا دینے کے عادی! واضح رہے یہ ’’بھیڑیا‘‘ فارسی والے گرگ یا انگریزی والے وولف کے مفہوم میں نہیں بلکہ پنجابی لفظ ’’بھیڑا‘‘ بمعنی برا کا صیغہ تخاطب ہے۔ بزرگوں کی زبان سے شفقت بھرے یا دوستوں کے منہ سے شکایت بھرے انداز میں ’’بھیڑیا‘‘ کا خطاب سماعت کو جس مٹھاس سے روشناس کرواتا ہے، وہ اردو میں نہیں سمجھائی جا سکتی، صرف پنجابی میں سمجھی جا سکتی ہے۔
مکمل تحریر کے لئے یہاں کلک کریں »

قصہ اخبار بیں درویش کا

قصہ اخبار بین درویش کا راویان خوش بیان کچھ یوں چھیڑتے ہیں کہ بادشاہ آزاد بخت ایک دن بھیس بدلے شہر میں پھرتے تھے۔ایک جگہ کیا دیکھتے ہیں کہ مجمع لگا ہوا ہے اور شو ر وغل مچا ہواہے، لڑکے بالے بھاگے بھاگے تماشا دیکھنے جاتے ہیں اور ہاؤہو کی آوازیں مجمع کے بیچ سے رہ رہ کر اٹھتی ہیں۔ ازراہ تجسس شاہ بڑھ کر مجمع میں شامل ہوئے کہ دیکھیں کیا تماشا ہے اور کیسا شور ہے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک درویش دونوں ہاتھوں میں اخبار کے اوراق تھامے ایک ٹانگ پر کھڑا ناچتا ہے اور با آواز بلند اول فول بولے جا رہا ہے۔ارد گرد تماشائیوں کا ٹھٹھ لگا ہوا ہے، چہ مگوئیوں اور سرگوشیوں کا دور دورہ ہے۔ بولوں پر دھیان دیا تو کچھ ایسے الفاظ سنائی دئیے۔"دریائے معرفت ۔۔۔ بحر علم ۔۔۔ ٹیکس ٹو جی ڈی پی ۔۔۔ حوروں کے جھر مٹ ۔۔۔ ثقافت کا فروغ ۔۔۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے ۔۔۔ خود کش حملے ۔۔۔ بے گنا ہ ظالم ۔۔۔ علی باباکا چراغ ۔۔۔ الہ دین اور چالیس چور ۔۔۔ قوم کا در د ۔۔۔ سلیمانی پھکی !!" دفعتاً اس نے چچا غالب کی شاعری بہت
ہی بے سرے ترنم کے ساتھ پڑھنا شروع کر دی۔
مکمل تحریر کے لئے یہاں کلک کریں »

جمہوریت بیگم کا المیہ ۔ ٢


’’ ہمارے بھائیو، بزرگو اور دوستو !‘‘ بادشاہ سلامت نے خطاب شروع کیا۔ ’’کسی کو حق نہیں کہ کسی فرد کے گھر پر حملہ آور ہو، اسے دھمکیاں دے اور اس کی سب سے عزیز متاع کی جانب بری نظر سے دیکھے۔ ہر فرد کو حق پہنچتا ہے کہ اپنے گھر بار اور اہل و عیال کا دفاع کرے۔ اس وقت ہماری چہیتی اور عزیز ملکہ جمہوریت بیگم پر طرح طرح کی تہمتیں لگائی جا رہی ہیں۔ حریص لوگ ان کے پاکیزہ نام پر کیچڑ اچھال رہے ہیں۔اقتدار کے بھوکے لوگ اخلاقیات کی ساری حدود پار کر چکے ہیں۔ بخدا ہمارا لہو کھول کر لاوا بننے لگتا ہے جب ہم لالچ اور حرص کی ماری زبانوں سے ملکہ کا نام سنتے ہیں، کوئی غیرتمند فرد یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اس کے گھر کی عزت یوں سڑکوں پر اچھالی جائے۔ آپ خود فیصلہ کریں، کیا زور آور خان کی تہمتوں نے ہماری اخلاقی اور معاشرتی اقدار کو پامال نہیں کیا؟‘‘
مکمل تحریر کے لئے یہاں کلک کریں »

جمہوریت بیگم کا المیہ ۔ ۱

بادشاہ سلامت کے چہرے پر تفکر کی پر چھائیاں لہر ا رہی تھیں، پیشانی پر کئی بل تھے اور آنکھوں میں تشویش رقصاں تھی۔ ملکہ شاہی وقار اور تمکنت کے ساتھ ان کے سامنے والی نشست پر بیٹھی تھیں۔ ’’ظل الٰہی، آپ اتنے پریشان کیوں ہوتے ہیں!‘‘ ملکہ نے کہا۔ ’’آپ ہمارے مشورے کے مطابق چلیں، انشاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘’’ ہمیں آپ کی ذہانت اور دانش پر کبھی شک نہیں رہا، جمہوریت بیگم !‘‘ بادشاہ نے اسی پر تفکر انداز میں کہا ۔ ’’ لیکن یہ مسئلہ اتنا گھمبیر ہے کہ ہمارے اعصاب شل کئے دے رہا ہے۔ یہ محض تخت و تاج کا نہیں، ہماری عزت و آبرو کا مسئلہ بھی ہے۔آپ ہمیں کچھ دیر تخلیہ فراہم کریں تا کہ ہم اس مسئلے اور آپ کے دئیے ہو ئے مشورے پر مزید غور کر سکیں۔‘‘ملکہ اسی با وقار انداز میں اٹھیں اور کمرے سے باہر چلی گئیں۔ ان کے جاتے ہی کئی مشیر کمرے میں گھس آئے اور ادھر ادھر نشستیں سنبھال لیں۔ بادشاہ سلامت نے اپنے سب سے معتمد مشیر کی جانب دیکھا ۔اس نے اشارہ پاتے ہی بولنا شروع کر دیا۔ 
’’ عالی جاہ، حریف اپنے ہمراہیوں کے ساتھ دارالحکومت میں داخل ہو چکا ہے اور کچھ ہی دیر میں شاہی محل کے سامنے پہنچنے والا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں سپاہی انہیں روکنے کے لئے تیار کھڑے ہیں۔ لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
مکمل تحریر کے لئے یہاں کلک کریں »

قصہ بیمار پڑنے کا۔ ۱

’’آپ کو سوزش جگر لا حق ہے۔‘‘ ڈاکٹر صاحب نے ارشاد فرمایا۔ 
پہلے تو مریض کو گمان گزرا کہ انہوں نے ’’سوز جگر ‘‘ کہا ہے، لمحہ بھر کو ان کی مسیحائی پر عش عش کرنے کو جی بھی چاہا۔ ابن سینا کا سنتے آئے ہیں کہ انہوں نے ایک بیمار شہزادے میں مرض عشق کی تشخیص کی تھی اور تشخیص بھی ایسی کہ نبض کے ذریعے ہی اس کی محبوبہ کے محلے اور گلی تک جا پہنچے تھے ، لیکن کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ عصر حاضر میں بھی ایسے مسیحا موجود ہیں جو بلڈ ٹیسٹ کی رپورٹ دیکھ کر اس مرض کی تشخیص کر سکتے ہیں۔ اگلا گمان یہی گزرا کہ ابھی ڈاکٹر صاحب گوگل میپس کھولیں گے اور ابن سینا کی روایات تازہ کریں گے، لیکن انہوں نے دوبار ہ ’’سوزش‘‘ کا لفظ استعمال کیا تو تمام خوش گمانیاں کرچی کرچی ہو گئیں۔ 
’’ معمولی سوزش ہے۔‘‘ ڈاکٹر صاحب کہہ رہے تھے۔ ’’ گھبرانے کی قطعاً ضرورت نہیں، دوا کے با قاعدہ استعمال اور غذا میں احتیاط برتنے سے بہت جلد ٹھیک ہو جائے گی۔‘‘ 
مکمل تحریر کے لئے یہاں کلک کریں »

روہتاس کی ایک شام

دینہ سے کوئی میل بھر پہلے ایک تنگ سی سڑک جی ٹی روڈ سے شیر شاہ سوری کے قلعہ روہتاس کی جانب مڑتی ہے۔ بہت سی چڑھائیوں، اترائیوں اور موڑوں پر مشتمل یہ سڑک کئی چھوٹی چھوٹی آبادیوں کے بیچ میں سے گزرتی اور نالہ کیہان کو پھلانگتی ہوئی اس قلعے تک پہنچتی ہے جسے اس جگہ کھڑے لگ بھگ پانچ صدیاں ہونے کو آئیں مگر ابھی بھی قلعے کی سیاہ دیواریں آس پاس کو یوں حیرت اور اجنبیت سے تکتی محسوس ہوتی ہیں جیسے کوئی مسافر کارواں سرائے کے دروازے پر کھڑا اپنی نئی منزل کو تک رہا ہو۔  مگر روہتاس اس ماحول میں اکیلا اجنبی نہیں، حالیہ برسوں میں اس کے جوار میں ایک اور اجنبی کا اضافہ ہو چکا ہے۔ یہ اجنبی اپنے حساب کتاب میں گم اس سود خور کی مانند ہے جو ٹرین کے ڈبے میں داخل ہوتا ہے تو وہاں پہلے سے موجود تنہا مسافر کی تنہائی کم نہیں ہوتی بلکہ کچھ اور بڑھ جاتی ہے۔ اس کی آمد سے روہتاس کے اکلاپے میں کمی نہیں ہوئی بلکہ کچھ اضافہ ہی ہوا ہے۔ یہ اجنبی ایک فلور مل کی کئی منزلہ بلند، سیدھی ، سپاٹ اور ہونق سی عمارت ہے ۔ صدیوں کا قصہ کہتے اس تاریخی ماحول میں نالہ کیہان کے عین کنارے، شیر شاہ سوری پل کے کندھے پر قدم رکھے کھڑی  یہ عمارت اتنی انوکھی اور اجنبی لگتی ہے جیسے کوئی ایلین ابھی ابھی اڑن طشتری سے اترا ہو ۔کیپٹلزم انسان کی جمالیاتی حس کے معاملے میں خاصا بے درد واقع ہوا  ہے، اس تاریخی مقام پر یہ مل ایک بھونڈے مذاق سے کم نہیں لگتی مگر حقیقت ہے۔ فلور مل کے دامن میں ایک چھپر ہوٹل مل سے یوں چپکا کھڑا ہے جیسے کوئی خوفزدہ بچہ ماں کی پنڈلی سے لپٹا کھڑا ہو۔ دو کچے کمروں پر مشتمل اس ہوٹل کا کل اثاثہ کچھ چارپائیوں، چند برتنوں اور دہکتے کوئلوں پر دھرے چند دیگچوں سے زیادہ نہیں۔ ایک چھوٹی سی کیتلی میں چائے کا پانی ہر وقت ابلتا رہتا ہے جو تھکے ہارے مزدوروں، اکتائے ہوئے ڈرائیوروں اور جماہیاں لیتے کلینروں کے لئے انسٹنٹ انرجی ڈرنک کی حیثیت بھی رکھتی ہے اور ایک افورڈیبل عیاشی کی بھی!یہ چھپر ہوٹل اپنی بقا کے لئے خالصتاً فلور مل کا محتاج ہے ۔ قلعہ دیکھنےکے لئے بے تاب سیاحوں کے پاس آتے ہوئے رکنے کا ویسے ہی کوئی نہیں ہوتا جبکہ جاتے ہوئے انہیں یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ دن ڈھلنے سے پہلے اس خاموش اور سنسان راستے سے جان چھڑا کر جی ٹی روڈ پر پہنچ جائیں۔ شاید ہی کسی سیاح کو یہ دیکھنے کا موقع ملا ہو کہ جب شام کے سائے روہتاس اور اس کے گرد و نواح پر اترتے ہیں تو ٹیلوں اور گھاٹیوں پر ایک آسیبی سناٹا پر پھیلا لیتا ہے، روہتاس کی عالیشان فصیل کے عین قدموں میں پڑی صدیوں سے خشک ندی پرنال خاص کی گزرگاہ اپنی گمشدہ زندگی کا ماتم کرنے لگتی ہے ،نالہ کیہان کاخاموش پانی اس کے بین سے سہم کر اور بھی زیادہ سمٹ جاتا ہے اور قلعے کے ایک دور دراز اور ویران گوشے میں اذان کے لئے ترستی شاہی مسجد کے اندر سے چمگادڑیں غول در غول نکل کر فضا میں منڈلانے لگتی ہیں۔ اپنی دراڑوں کو افسردہ نگاہوں سے تکتی قلعے کی سیاہ دیواریں اس ماحول کو اتنا دہشتناک بنا دیتی ہیں جیسے کوئی بد دعا سی قلعے اور اس کے گرد و نواح پر چھائی ہو ، جیسے پھانسی گھاٹ پر آخری سانس لینے والے بد نصیبوں کی روحیں قہر آلود نگاہوں سے ہر چیز کو گھور رہی ہیں۔ لیکن چاندنی راتوں کی شام ہو تو یہ ماحول زیادہ دیر برقرار نہیں رہ پاتا، جیسے ہی چاند کی نقرئی کرنیں گھاٹیوں اور ٹیلوں پر اترتی ہیں ، اندھیرے میں گم سبزے کے ہیولے نظر آنے لگتے ہیں، پرنال خاص کی خشک گزرگاہ قید خانے کی کھڑکی سے چاند کو تکتے قیدی کی مانند گم صم سی ہوجاتی ہے ، چاندنی کیہان کے ارد گرد اٹھلاتی پھرتی ہے ، خاموش پانی میں چاند کا عکس اترتا ہے تو شاعرانہ اشکال لہروں میں تھرتھرانے لگتی ہیں اور ماحول ایک طلسمی سی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ جیسے روہتاس کی نوزائیدہ بنیادوں نے اپنے ارد گرد جو منظر دیکھا تھا ، اسے تاریخ نے مٹھی میں بند کر رکھا ہو ۔ جیسے پانچ سو سال پہلے کا وہ ماحول پلٹ آیا ہو جب شیر شاہ سوری کے حکم پر اس قلعے کی بنیادیں رکھی جا رہی تھیں، جب سرکش اور ہٹیلے گکھڑوں کے خوف سے مقامی آبادی قلعے کی تعمیر میں کسی قسم کا کردار ادا کرنے پر آمادہ نہ ہوتی تھی اور شیر شاہ سوری کے وزیر کو ایک پتھر لانے والے کا معاوضہ ایک اشرفی ادا کرنا پڑا تھا۔ تب بھی چاندنی راتیں ایسا ہی نقرئی طلسم لے کر ان ٹیلوں اورگھاٹیوں پر اترتی ہو ں گی اور گکھڑوں کے کسی بھی متوقع شب خوں سے نپٹنے کے لئے پہرہ دیتے طلایہ گرد چاندنی کو پرنال خاص کی لہروں سے آنکھ مچولی کھیلتے دیکھتے ہوں گے۔ اپنے گھر بار سے دور، بہت دور سپاہی ان نقرئی کرنوں میں کسی کی مسکراہٹ کا عکس دیکھتے ہوں گے، کسی آنکھ کی چمک، کسی لونگ کا لشکارا انہیں ندی کی لہروں پر ہلکورے لیتا نظر آتا ہو گا اور ان کی سوچوں میں بھی کوئی چاند طلوع ہو کر کرنیں بکھیرنے لگتا ہو گا، رات کے سنجیدہ اور گھمبیر چہرے پر ایک تاروں بھری مسکراہٹ پھیلتی چلی جاتی ہو گی۔ وہ دور کبھی کا تمام ہوا، وہ راتیں کبھی کی خواب ہوئیں، وہ ندی کب کی سوکھ چکی اور اس کے کنارے یادوں کی جوت جگانے والے خود ایک بھولی بسری یاد!تاریخ کے لئے وہ فقط شیر شاہ سوری کا ایک دستہ ہیں ، ان کی راتوں کے چاند، ان کے خوابوں کی کرنیں وقت کی گرد تلے دب کر یوں اپنا وجود کھو چکی ہیں جیسے کبھی تھیں ہی نہیں، اور ہر رات چاندنی رات بھی نہیں ہوا کرتی ۔ مگر آپ یہ باتیں آتے اور جاتے ہوئے زناٹے سے گزر جانے والی گاڑیوں میں بیٹھ کر نہیں جان سکتے ، نہ ہی اس سنسان راستے کی وحشت سے جان چھڑانے کی عجلت میں انہیں جاننا ممکن ہے۔ہاں، کچھ ایسی بنے کہ قلعے کی شوکت، ہیبت اور سطوت سے مسحور ہو کر آپ اس میں یوں گم ہو جائیں کہ واپسی کا راستہ ملنے تک دینہ جانے والی آخری ویگن بھی نکل چکی ہو اور آپ کو جوڑ جوڑ میں رچی بسی تھکن بھلا کر جی ٹی روڈ کی طرف پیدل مارچ کرنا پڑے، شیرشاہ پل تک جا کر آپ بے دم سے ہو کر اس چھپر ہوٹل کی کسی چارپائی پر گر پڑیں، کھانے کا آرڈر دیں اور کھانا آنے تک خالی ذہن اور خالی نظروں کے ساتھ اس خاموش اور گھمبیر ماحول کو تکتے رہیں۔ تھکے ہوئے مزدوروں او ر بیزار بیٹھے ڈرائیوروں کی گفتگو آپ کی سماعت تک یوں پہنچ رہی ہو جیسے سینکڑوں میل دور کسی ریڈیو سٹیشن سے نشر ہوتی آواز ، پھر دھیرے دھیرے چاند نکل آئے، تاریکی میں ڈوبا ماحول انگڑائیاں لیتا ہوا جاگ اٹھے ، تب کہیں تاریخ کی بند مٹھی لمحہ بھر کے لئے کھلتی ہے اور ایسے لمحات اپنی جھلک دکھلاتے ہیں۔  یہ کسی چاندنی رات کا قصہ نہیں، اس داستان پر نقرئی کرنوں کی کشیدہ کاری بھی نہیں، یہ ایک جھلستے ہوئے دن کے بعد ایک اداس، سنجیدہ اور گھمبیر شام کی بات ہے ، جب روہتاس اور اس کے نواحات اندھیرے کی چادر اوڑھ چکے تھے، مل کی روشنیوں اور نیچے گاؤں میں یہاں وہاں ٹمٹماتے نقطوں کے سوا رات کے دامن میں کچھ نہ تھا۔ چھپر ہوٹل کے اپنے دامن میں روشنی کے نام پر واحد متاع ایک سو واٹ کا بلب تھا جس کی پیلی زرد روشنی میں بیٹھے افراد کے چہرے بھی پیلے زرد نظر آرہے تھے۔ انہی میں وہ لڑکا بھی تھا، الجھے ہوئے بالوں اور ستے ہوئے چہرے کے ساتھ گردن جھکائے بیٹھا کسی گہری سوچ میں گم،اس کے دائیں طرف چار پانچ مزدوروں کی ایک منڈلی تاش کی محفل سجائے بیٹھی تھی، فقرہ بازی اورفحش گوئی کے ساتھ قہقہے پر قہقہہ لگ رہا تھامگر وہ یوں ساکت و صامت بیٹھا تھا جیسے اس کی حسیات اپنے ارد گرد کے ماحول سے ٹیون ہی نہ ہوں، جیسے اس کا ریڈیو کسی ایسی فریکوئنسی پر منجمد ہو گیا ہو جس کی رینج پیچھے، بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ شاید بودھ گیا کے برگد تلے دھیان جمائے بیٹھے، دنیا کے مصائب پر غور کرتے گوتم بدھ کی کیفیت بھی نروان ملنے سے پہلے ایسی ہی رہی ہو، ان کا چہرہ بھی ایسا ہی ستا ہوا نظر آتا ہو۔ مگر ہر شخص کپل وستو کا شہزادہ سدھا رتھ تو نہیں ہوتا ، ہر شخص دنیا کے مصائب پر غور و فکر میں مبتلا بھی نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ محض ایک ٹرک کے کلینر بھی ہوا کرتے ہیں اور جن مصائب پر وہ غور کر رہے ہوں وہ ان کے اپنے ، ذاتی ، بڑے ہی معمولی اور عام سے ہوا کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ والا ڈرائیور یا کلینروں کی اصطلاح میں ’’استاد‘‘ بائیں طرف کی چارپائی پر بیٹھا کسی اور ڈرائیور سے محو گفتگو تھا۔سفر کے قصے، چالانوں کی داستانیں، مرمت کے خرچے ، کس نے کونسی گاڑی خریدی اور کس نے کونسی گاڑی بیچی، دوسرے ڈرائیوروں کی چغلیاں، اناڑی ڈرائیوروں کے ہتھے چڑھ کر برباد ہو جانے والی گاڑیوں کا ماتم،ایک ڈرائیور کی بیشتر زندگی انہی موضوعات پر باتیں کرتے گزر جاتی ہے۔ ان موضوعات پر گفتگو کے لئے ہر ڈرائیور کے پاس لا محدود مواد ہوتا ہے مگر گفتگو کے دوران ایک موڑ ایسا آتا ہے جب ایک قصہ یا موضوع زیر بحث تما م ہو چکتا ہے اور کچھ دیر کے لئے خاموشی چھا جاتی ہے۔ ایک ایسی ہی خاموشی کے وقفے میں ڈرائیور نے مڑ کر تاسف سے کلینر کو دیکھا ۔ ’’ شہزادے، کچھ کھا پی لے، کب تک یوں ہی غم کرتا رہے گا؟‘‘  لڑکے کے وجود میں کوئی جنبش نہ ہوئی، وہ یوں ہی چپ سادھے گم صم بیٹھا رہا۔   ’’چل چائے ہی پی لے، کیک رس منگوا دوں ساتھ؟‘‘ استادنے آواز کچھ مزید نرم کرتے ہوئے کہا ، مگر لڑکے کی طرف کوئی رد عمل نہ آیا۔ ’’ اسے کیا ہوا ہے؟‘‘دوسرے ڈرائیور نے دھیمی آواز میں پوچھا۔  استاد نے اس کی جانب چہرہ بڑھا کر دھیمی آواز میں کچھ کہا جو میرے کانوں تک نہ پہنچ سکی ۔ دفعتاً ، میرے اندر کا کہانی کار چھلانگ مار کر اٹھ بیٹھا۔ ہم ادیب لوگ انسان دوستی اور حساسیت کا ڈھونگ رچانے میں بڑے ماہر ہوتے ہیں، مصیبت کے مارے لوگوں سے ہمدردی جتانے کا ناٹک ہمیں خوب آتا ہے مگر سچی بات یہ ہے کہ ہمارے اندر کا پروفیشنل کہانی کار بڑا ہی بے حس اور خود غرض ہوتا ہے، کسی پر کیسی ہی آفت کیوں نہ ٹوٹ پڑی ہو ، کوئی کیسے ہی المیے کا شکا ر کیوں نہ ہو، اسے بس کہانی جاننے سے غرض ہوتی ہے ، کلائمیکس اور اینٹی کلائمیکس میں دلچسپی ہوتی ہے، کرداروں اور مکالمات سے سرو کار ہو تا ہے۔استاد کی یکدم دھیمی ہو جانے والی آواز نے کہانی کار کو چونکا دیا، اس نے اپنا پورا دھیان اور پوری توجہ اس طرف مرکوز کر دی۔  ’’ اچھا ؟ کتنے سالوں سے چکر چل رہا تھا؟‘‘ دوسرے ڈرائیور نے دھیمی آواز میں پوچھا۔  ’’یہ مت پوچھ، خالہ زاد تھی، ایک ہی گلی میں گھر تھا، سمجھو بچپن ہی سے چل رہا تھا۔‘‘استاد نے کہا۔  ’’ اس سے چھوٹی کوئی نہیں؟‘‘ دوسرا ڈرائیور آنکھ مار کر دھیرے سے ہنسا۔  استاد نے ملامت آمیز انداز میں اسے گھورا۔ ’’ شرم کر!‘‘ ’’ کتنے دن ہو گئے؟‘‘ پہلے نے فوراً پسپائی اختیار کر کے اپنا لہجہ ہمدردانہ کر لیا۔  کہانی کار اس مبہم گفتگو سے کہانی کے تار و پود واخذ کرنے میں مشغول تھا۔ تو دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہو ں گے ،یہ تو طے تھا مگر اسے ہوا کیا؟ بے وفائی کر گئی؟ کسی اور سے شادی ہو گئی؟ ظالم سماج بیچ میں آگیا ؟ یا کوئی رقیب رو سیاہ بیچ میں کود پڑا ؟ ’’ آج تو اس کے چالیسویں کو بھی پندرہ دن ہو گئے!‘‘ استاد نے کہا۔  کہانی کار کی دلچسپی یکدم کم ہونے لگی، ایسی کہانیاں عام طور پر بور ہوا کرتی ہیں جن میں عاشق یا معشوق میں سے کوئی مر جائے۔موت کے ساتھ سب سے زیادہ غیر شاعرانہ مسئلہ یہ ہے کہ مرنے والوں پر صبر آ جاتا ہے، کہانی ایک دم سے ختم ہو جاتی ہے۔ زندہ رہ کر بچھڑ جانے والوں پر صبر نہیں آتا، بے قراری باقی رہتی ہے اور ادب ہو یا شاعری ، اسی بے قراری پر پلتے ہیں۔ لوگ انگاروں پر لوٹنے والوں، محبوب سے ملنے کی آس لئے آنکھوں میں رات کاٹ دینے والوں، یار کی گلیوں میں پھرنے والوں کے قصے دلچسپی سے پڑھتے ہیں اور ان کی کیفیات میں اپنی نا تمام حسرتوں کی جھلک دیکھ کر اپنائیت اور انسیت محسوس کرتے ہیں، دنیا بھر کی شاعری میں اور کیا رکھا ہے؟ اقبال جیسا بے مثل شاعر دنیا بھر کی حکمت اور فلسفے کو اپنی شاعری میں سمو دینے کے بعد بھی یہی کہتا ہے فلسفہ و شعر کی اور حقیقت ہے کیاحرف تمنا جسے کہہ نہ سکیں روبرو ’’ لو بتاؤ، منگنی ہی ہوئی تھی نا! اور ہو جائے گی ۔‘‘ دوسرے ڈرائیور نے جیسے لڑکے کی نا سمجھی پر ماتم کرتے ہوئے کہا۔ ’’اس میں جان کو روگ لگانے والی کیا بات ہے؟‘‘  کہانی کار کی دلچسپی اور بھی کم ہو گئی۔ منگیتر وں کے قصے کچھ زیادہ رومانوی نہیں ہوا کرتے کیونکہ روایتی طور پر ان کا انجام پہلے سے طے ہوتا ہے یعنی شادی، ان میں ٹوئسٹ کی گنجائش بہت تھوڑی ہو ا کرتی ہے۔  ’’ بس، جھلا ہوا پھرتا ہے ۔ کہتا ہے ایکسیڈنٹ سے چند دن پہلے اس سے لڑائی ہوئی تھی، بھلا کس بات پر ؟ کہ شادی والے دن کونسا جوڑا پہنے گی؟وہ کہتی تھی میں سبز جوڑا پہنوں گی، یہ کہتا تھا سرخ جوڑا نہ پہنا تو میں تجھے بیاہنے نہیں آؤں گا۔ مذاق ہی مذاق میں لڑائی ہو گئی ، دونوں نے ایک دوسرے سے بول چال بند کر دی۔ جس دن ایکسیڈنٹ ہوا ، اسی دن اس کو منانے کے لئے بازار سے پرفیوم لایا تھا ، ابھی بھی جیب میں ڈالے پھرتا ہے۔ کہتا ہے استاد جی بس یہ دکھ نہیں سہا جاتا کہ آخری سانس لیتے وقت وہ مجھ سے ناراض ہو گی، اسے یہ پتا نہیں ہو گا کہ میں اسے منانے کے لئے پرفیوم لایا ہوں۔ ‘‘  ’’ یہ عمر ہی ایسی ہوا کرتی ہے، منڈے ایسی باتوں کو دل سے لگا لیتے ہیں۔‘‘ دوسرے ڈرائیور نے فلسفیانہ انداز میں کہااور پھر خاموشی چھا گئی، گفتگو کا وہ موڑ جب ایک موضوع پر بات ختم ہو چکی ہوتی ہے اور کوئی دوسرا موضوع اس کی جگہ لینے کی تیاری کر رہا ہوتا ہے۔  کہانی کار سر جھکائے خاموشی سے کابلی چنوں کے ساتھ روٹی کے نوالے نگلتا رہا، کہانی بڑے پھیکے، سیدھے سادے اور سپاٹ انداز میں ختم ہو چکی تھی۔بنا کسی  خاص بات، کسی سنسنی خیز موڑ، کسی دلچسپ اتار چڑھاؤ کے بڑے ہی بے ڈھنگے انداز میں یکدم اپنے اختتام کو پہنچ گئی تھی۔ نیچے گہرائی میں نالہ کیہان کا پانی خاموشی سے بہہ رہا تھا، چاندنی راتوں میں پرنال خاص کے کنارے گشت کرتے پہرے داروں کی کہانیاں یقیناًاس پھیکی اور بے رنگ کہانی سے زیادہ دلچسپ ہوں گی، انہوں نے اپنے آقا کی سلطنت کو توسیع دینے کے لئے بہت سے معرکے سر کئے ہوں گے، ان کی تلواروں نے کتنے ہی اپنے جیسوں کا لہو پیا ہو گا، ندی کے پانی میں جھلملاتے چاند کو دیکھتے ہوئے وہ بہت کچھ یا د کرتے ہوں گے۔ شاید ان میں سے کوئی گنگا کنارے بیٹھ کر دوستوں کے ساتھ قہقہے لگاتا رہا ہو، شاید کوئی ایسا ہو جس نے جمنا کنارے رات کی تاریکی میں کسی کے ساتھ بیٹھ کر سرگوشیاں کی ہوں، شاید کوئی اپنے گھوڑے پر بیٹھے بیٹھے پنجاب کے پانچوں دریا عبور کر چکا ہو، کسی کی تلوار نے کسی فیصلہ کن معرکے میں کسی بڑے جرنیل یا راجا کا خون بہا کر تاریخ کا پانسہ پلٹ دیا ہو ، وہ ندی کے پانی میں کیا دیکھتے ہو ں گے؟ بہت سے ایسے ہوں گے جنہیں چاند کے عکس میں کسی چاند چہرے کی جھلک نظر آتی ہو گی، کوئی اپنی ڈھال کو تکیہ بنائے چاندنی میں کہیں لیٹا کسی کی نقرئی مسکراہٹ کا تصور کرتا ہو گا، شاید ان میں سے کوئی اپنی بولی میں با آواز بلند کوئی گیت بھی گاتا رہا ہو گااور اس کی آواز سناٹے میں دور دور تک گونجتی ہو گی۔ پھر کہانی کار کے دل میں ایک سوال ابھرا، کیا ان میں بھی کوئی ایسا ہو گا جو کسی کو ناراض چھوڑآیا ہو اور اسے جا کر منانے کے خواب بنتا ہو گا؟ کوئی ایسا ہو گا جو سوچتا ہو گا کہ گھر واپسی پر سوغات کس شہر  سے لے کر جائے گا ؟ کیا ان میں سے کوئی یہی آرزو لئے کسی معرکے میں کھیت رہا ہو گا اور آسمان کی جانب پرواز کرتے ہوئے بھی اس کی روح کو یہی فکر لاحق ہو گی کہ ایک کام ادھورا رہ گیا ، اس کی ادھ کھلی آنکھوں میں اس وقت بھی کسی ماتھے کی چتون جھلک رہی ہو گی؟
 اور پھر کہانی کار جیسے ایک جھرجھری لے کر حقیقت کی دنیا میں واپس پلٹ آیا ،ندی کا پانی کبھی کا خشک ہو چکا ہے اور وہ لوگ کبھی کے خواب و خیال ہوئے، روئے زمین کا شاید ہی کوئی گوشہ ایسا ہو جو کسی نا تمام حسرت کا شاہد نہ ہو، تاریکی بڑھتی جارہی ہے اور شیر شاہ سوری کی جرنیلی سڑک ابھی دور، چلو میاں اٹھ کھڑے ہو، ابھی بہت سفر باقی ہے ۔

منڈی موڑ - ٣


دینہ سے آگے انجن کے زور بازو کی آزمائش شروع ہو جاتی ہے، گاڑی کی رفتار دھیمی ہونے لگتی ہے، انجن کی چمنی سے نکلتا دھواں زیادہ کثیف اور سیاہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ انجن زیادہ خستہ حال ہو تو کسی کسی ڈھلوان پر گاڑی کی رفتار اتنی کم ہو جاتی ہے کہ آپ با آسانی ایک ڈبے سے اتر کر کسی بھی دوسرے ڈبے میں سوار ہو سکتے ہیں۔یہاں جا بجا موڑ ہیں، گاڑی بار بار یوں خم کھاتی ہے کہ پہلے ڈبے کے دروازے میں کھڑے مسافر آخری ڈبے کے مسافروں کو دیکھ کر ہاتھ ہلا سکتے ہیں۔ جوئے کہستاں کی مانند لچکتی، سرکتی، سنبھلتی اور بڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئی ہماری ریل گاڑی ترکی کے خم تک پہنچتی ہے جو اس راہ کاسب سے بڑا خم ہے، گھوڑے کے نعل کی شکل کا یہ خم پوری وادی کے گرد گھومتا ہوا ترکی ریلوے سٹیشن پر جا کر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ اس خم پر گاڑی کا پہیہ جو پڑتا ہے تو پھر گاڑی کی کمرسٹیشن سے پہلے سیدھی نہیں ہو پاتی۔
مکمل تحریر کے لئے یہاں کلک کریں »

منڈی موڑ - ٢


گوجرانوالہ سے وزیر آباد تک یہی نظارہ ہے، بیچ میں چھوٹی چھوٹی آبادیاں آتی ہیں ۔ راہوالی شوگر ملز کی اجاڑ عمارت بھی آتی ہے جو اتنی ویران، سنسان اور ناگ پھنی کے پودوں سے یوں اٹی پڑی ہے کہ مسافر اگر بھوت ہوتا تو رہنے کے لئے اسی عمارت کو پسند کرتا ۔ اگر بھوت نام کی کوئی مخلوق وجود رکھتی ہے تو پھر راہوالی شوگر ملز کی عمارت میں یقیناًبھوت رہتے ہوں گے، آسیبی زاویہ نگاہ سے اس عمارت کو با آسانی بھوتوں کا ڈیفنس یا گلبرگ کہا جا سکتا ہے۔ راہ میں کئی چھوٹی چھوٹی پلیاں بھی آتی ہیں، قیاس ہے کہ ڈیڑھ صدی پہلے جب ریلوے لائن بن رہی تھی اس وقت ان کے نیچے سے کوئی نہ کوئی ندی نالا گزرتا ہو گاجس پر سے گاڑی کے پھلانگنے کے لئے پلیا تعمیر کرنی پڑی ۔ مگر اب ان پلیوں کے نیچے سے قریبی دیہات کے مسافر اپنی سائیکلیں اور موٹر سائیکلیں لے کر گزرتے ہیں۔مکمل تحریر کے لئے یہاں کلک کریں »

منڈی موڑ ۔ ١

مسا فر کے بہت سے سفر چھٹی کے دن ریلوے سٹیشن پر جا کر چائے پینے کی عادت کے مرہون منت ہیں۔چائے کی چسکیاں بھرتے ہوئے قلیوں کی گفتگو یا مسافروں کے باہمی تبادلہ معلومات سے پتا چلتا ہے کہ عوامی ایکسپریس لاہور سٹیشن پر کھڑی ہے، یا جعفر ایکسپریس لاہور سٹیشن سے نکل چکی ہے، یا تیز گام شاہدرہ جنکشن پر کسی دوسری ٹرین کو راستہ دینے کے لئے رکی ہوئی ہے یا ریل کار کامونکی سے آگے نکل آئی ہے اور بس کوئی دم میں سٹیشن پہنچنے کو ہے۔ادھر ریلوے کا ٹائم ٹیبل اتنا لچکدار ہے کہ صبح چھ بجے آنے والی ٹرین کا شیڈول جھکتا جھکتا دس بجے والی سے ٹرین سے جا ٹکراتا ہے۔ کبھی پانچ پانچ گھنٹے ریلوے لائن ویران پڑی کسی ٹرین کی راہ تکتی رہتی ہے ، تو کبھی آدھ گھنٹے کے فرق سے دو، دو ریل گاڑیاں شور مچاتی آگے پیچھے ایک ہی منزل کی طرف لپکی چلی جا رہی ہیں۔ یہ لچک جب ٹرین کی آمد کا نقارہ بن کر مسافر کی سماعت سے ٹکراتی ہے تو ذوق سفر انگڑائیاں لیتے ہوئے اٹھ بیٹھتا ہے اور ایک جماہی لے کر کہتا ہے۔ ’’جا بچہ، بھاگ کر ایک ٹکٹ لے آ!‘‘ یہ سفر کسی منزل کی نیت سے نہیں ہوتے، منزل ہوتی ضرور ہے مگر صرف اس لئے کہ سفر میں دل لگا رہے۔ایسے سفر سے لذت سفر کے سوا کچھ مقصود رکھناکفرہے اورمنزل کی طلب تو عین بت پرستی ہے ۔ منزل کی خاطر کئے جانے والے سفر اور طرح کے ہوا کرتے ہیں۔
مکمل تحریر کے لئے یہاں کلک کریں »

خارزار خیالستان - 2


 (۱)ہماری شخصیت کے مربوط اور مضبوط ہونے کا انحصاراس میں دوڑنے والے مثبت جذبات کی مقدار پر ہے، منفی جذبات کی کثرت شخصیت کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ محبت، معنویت، امید اور کام ایسے عناصر ہیں جو مثبت جذبات کو تحریک دیتے ہیں ! ڈپریشن بنیادی طور پر منفی جذبات کی زیادتی یا مثبت جذبات کی عدم موجودگی سے پیدا ہونے والے ایک خلا کا نام ہے۔(۲) سیلف ہیلپ تحریک کے تمام گرو، خواہ وہ روحانیت کے نام پر سر گرم عمل ہوں یا لائف کوچنگ کے نام پر، بنیادی طور پر مثبت جذبات کو تحریک دینے والے الفاظ اور تصورات کے تاجر ہیں۔ اگر اس انڈسٹری کے ساختہ نظریات یونہی بکتے رہے تو ایک دن ترقی یافتہ معاشرے بھول جائیں گے کہ کبھی یہ مثبت جذبات انسان کو بنا پیسہ خرچ کئے ملا کرتے تھے۔مکمل تحریر کے لئے یہاں کلک کریں »

خارزار خیالستان

 یہ نوشتہ شدید ڈپریشن کے ایک دور کی پیداوار اور اس ڈپریشن سے چھٹکارا پانے کی کوششوں کا حصہ رہا ہے۔ الحمد للہ کہ وہ دور تمام ہوا اور کانٹوں میں الجھے دل و دماغ کو خدا نے سکون اوراطمینان کی نعمت سے نوازا۔ یہ نوشتہ پہلے بہت سی پرچیوں کی شکل میں دراز میں بکھرا رہا، پھر چند ماہ پہلے ایک ان پیج فائل میں ان سب پرچیوں کو اکٹھا کیا ۔ یہ ان پیج فائل بھی کافی دن میری یو ایس بی ڈرائیو میں پڑی رہی کہ وقتاً فوقتاً اس سے رجوع کرنے کی ضرورت پیش آ جاتی تھی۔ کل  اس فائل کو یو ایس بی ڈرائیو سے اپنے آرکائیوفولڈر میں منتقل کرنے کا ارادہ کیا تو خیال آیا کہ کیوں نہ اس کے چیدہ چیدہ  حصے نذر بلاگ کر دئیے جائیں کہ کچھ بلاگ کی رونق میں اضافہ ہو، کچھ خارزار خیالستان کے دیگر کوچہ گردوں سے ہم  نوائی کا موقع ملے۔ارادہ یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی شکل میں، دیگر پوسٹوں کے درمیان اس تحریر کے کچھ حصے شائع ہوتے رہیں۔یہ پہلا ٹکڑا ہے۔  پیشگی اطلاع ہے کہ تحریر طویل بھی ہے اور ثقیل بھی، بے ربط بھی کافی ہے۔ 
   *******************************
منگل بروز ۱۱ مارچ ۲۰۱۴ : اس تحریر کے مندرجات میں چار برسوں کا اضطراب، آنسو،الجھنیں اور سوچ بچار جذب ہیں۔ یہ مجموعہ ہے ان بہت سی تحاریر اور خو دکلامیوں کا جنہیں مختلف اوقات میں، مختلف کیفیات کے دوران میں نے کاغذ کے پرزوں پر لکھا اور پھر بعد میں کمپیوٹر پر نقل کر لیا۔بہت کچھ ایسا ہے جو نہیں لکھا جا سکا ۔ بہت کچھ ایسا ہے جو ٹائپ کرنے کی بجائے میں نے سکین کر کے محفوظ کرنا مناسب جانا ، بہت کچھ ایسا ہے جسے میں یہاں نقل کرنا چاہتا تھا مگر نہ کر سکا اور یونہی پھاڑ کر پھینک دیا ۔ اگر وہ سب لکھا جاتا تو اس وقت چالیس صفحات پر مشتمل یہ مسودہ شاید چار ہزار صفحات میں بھی نہ سما تا۔اس مسودے کے زیادہ تر مندرجات پختہ سوچوں پر مشتمل ہیں، یہ اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کہ ان لفظوں میں ڈھلنے سے پہلے یہ سوچیں کتنے مراحل سے گزری ہوں گی۔ کئی سطور ایسی ہیں جو حتمی الفاظ کا جامہ پہننے سے پہلے درجنوں صفحات پر خود کلامی ، خام سوچیں، ادھوری تفہیم ،کچے تصورات اور الجھے حروف بن کر بکھری رہیں۔ پختگی سے مراد یہ نہیں کہ یہ سوچیں مطلق سچائی پر مشتمل ہیں۔ پختگی سے مراد یہ ہے کہ یہ سوچیں اپنے مقام پر مستحکم ہیں، حسیاتی اطلاعات اور جذبات کی لہروں کو منضبط کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، حسیات کا کوئی سیلاب یا جذبات کا کوئی طوفان انہیں آسانی سے متزلزل نہیں کر سکتا۔ 
میں یہ سب کچھ اس لئے تحریر کر رہا ہوں کہ میں چار سے زائد برس کے عرصے پر محیط اس ڈپریشن سے نکلنا چاہتا ہوں جو مجھے دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ میں اس خوفزدہ رویے سے چھٹکارا چاہتا ہوں۔ اس رو یےّ نے مجھے ایک طویل عرصہ تک اپنے مسائل کے حل کی خاطر کوئی قدم نہیں اٹھانے دیا ، یہ خوف اس ڈپریشن کی طوالت کا اصل سبب ہے ۔ میں اپنے دن رات سوچوں میں الجھے، خیالی پلاؤ پکاتے نہیں گزارنا چاہتا بلکہ عملی طور پر کچھ کرنا چاہتا ہوں۔ مگر سب سے بڑھ کر یہ کہ میں محبت  کے بارے میں کسی نتیجے پر پہنچنا چاہتا ہوں۔ یہ طے ہے کہ میں نہ تو کسی تھراپسٹ کو اپنے ذہن کی ری پروگرامنگ کی اجازت دے سکتا ہوں، نہ میں فلسفیانہ تناقضات میں الجھی مغربی روحانیت کا قائل ہوں، نہ میں کوئی تارک الدنیا قسم کا صوفی بننا چاہتا ہوں، نہ میں پاکستان کی محبت اور  اپنی زندگی کی معنویت  ترک کرنے پر تیار ہوں جنہوں نے میری شخصیت کو تشکیل دیا ۔ اس سب کے بعد ، گزشتہ چار برس کے واقعات کے تناظر میں، میرے زاویہ نگاہ سے ، موجودہ حالات کی روشنی میں مجھے کیا امید رکھنی چاہئے اور کیابھول جانا چاہئے؟ 
یہ الجھی ہوئی، بکھری ہوئی سوچوں کا انبار گزشتہ چار برس کے واقعات سے بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر متعلق سوالات کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش میں اکٹھا ہوا۔ یہ سوچیں الجھی اور بکھری ہوئی اس لئے ہیں کہ میں خود الجھا اور بکھرا ہوا تھا۔محبت کی خواہش ، تکمیل ذات کے تقاضے، شہوانی انگیخت، ستائش کی طلب، سہارے کی تلاش، فرار کی آرزو اور ایک بہتر زندگی کا خواب مجھے ایک طرف کھینچتے تھے تو زندگی کی معنویت، سچائی کی پکار اورحقائق کی آواز یکسر مخالف سمت سے ندا دیتی تھی۔یہ سب میرے وجود کا حصہ تھے ، میری ذات کے اجزاء تھے جو مخالف سمتوں میں کھنچے جا رہے تھے اور میری ذات کا شیرازہ منتشر ہوا جا رہا تھا۔ یہ سوچیں وہ ہیں جو میری زندگی کی معنویت سے مطابقت رکھتی ہیں ، میرے انفرادی زاویہ نگاہ کی ترجمانی کرتی ہیں اور آفاقی سچائی کے میرے تصور سے ہم آہنگ ہیں۔ 
میرا تصور یہ ہے کہ خدائے واحد مطلق سچائی ہے، وہ اس کائنات کی واحد حقیقت اور واحد سچائی ہے جو قائم بالذات ہے، جو اپنی سچائی کے لئے کسی دلیل ، کسی سبب پر انحصار نہیں رکھتی۔ دیگر تمام سچائیاں اس کی محتاج ہیں ، کوئی بھی سچائی اس لئے سچائی ہے کہ خدا نے اس کو تقویت دینے کے لئے دلائل پیدا کئے ہیں اور کوئی بھی جھوٹ؍فریب نظر اس لئے باطل ہے کہ خدا نے اس کے لئے دلیل پیدا نہیں کی۔ اس دنیا کی ہر سچائی اس لئے سچائی ہے کہ اسے ذات حق نے سچائی ٹھہرایا ہے ، وہ چاہے تو اس کو بالکل پلٹ کر رکھ دے، اس کی پاک ذات اس امر پر مکمل قدرت رکھتی ہے۔
ادھرانسانی دماغ جو حسیاتی اطلاعات کو منظم کرنے اور تصور تخلیق کرنے والی مشین ہے ، حسیاتی اطلاعات کو گڈ مڈ کر کے برخلاف حقیقت تصور تخلیق کرنے کی اہلیت بھی رکھتا ہے۔ اہمیت ہمارے تصورات کی نہیں بلکہ سچائی کے ساتھ ان کی ہم آہنگی کی ہے اور سچائی کے ساتھ ہم آہنگی کا پیمانہ دلیل ہے جو حسیاتی اطلاعات سے وجود پاتی ہے ۔ مگر حسیاتی اطلاعات ادھوری بھی ہو سکتی ہیں اور دماغ اکثر اوقات انہیں گڈ مڈ کر تا رہتا ہے، اس وجہ سے دلیل بطور سچائی کے پیمانہ شکوک و شبہات سے پاک نہیں۔ اس کا ازالہ سچائی کے ادراک کی ایک فطری صلاحیت کرتی ہے جو ہر انسان کو ودیعت کی گئی ہے، یہ صلاحیت جو شاید بطور انسان ہمارے اشرف المخلوقات ہونے کا جو ہر ہے، دلائل ، اسباب اور تصورات کے گورکھ دھندے میں سے سچائی کی جھلک دیکھنے، اسے کھوج نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔یہ دونوں پیمانے، دلیل کی گواہی اور دل کی گواہی مل کر سچائی کی طرف راہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں ۔سچائی کی تلاش میں سر گرداں ہر فرد کا پالا اس حقیقت سے پڑتا ہے کہ کوئی بھی سچائی قائم بالذات نہیں، جو خدا کو پہچان لیتا ہے وہ سچائیوں کو بھی پہچان لیتا ہے، جو خدا کی ذات سے منکر ہو وہ عمر بھر سچائی کی تلاش میں بھٹکتا رہتا ہے اور تھک ہار کر اس کے وجود سے ہی منکر ہو بیٹھتا ہے۔ 
نوجوانی کے دور میں ہر فرد اپنی شناخت، زندگی کے سٹیج پر اپنے کردار اور اس الجھی ہوئی دنیا سے اپنے تعلق کی ماہیت کے بارے میں کنفیوز ہوتا ہے۔ وہ نوجوان بھی جو سونے چاندی کے لقموں پر پل کر جوان ہوئے اور وہ بھی جن کا بچپن فاقوں میں گزرا، وہ بھی جنہیں اظہار ذات کی مکمل آزادی حاصل رہی اور وہ بھی جنہیں تابعداری کے سوا کچھ نہیں سکھایا گیا، سب کی کنفیوژن ایک جیسی ہوتی ہے۔ اس کنفیوژن کی بھٹی سے پک کر نکلنے والی ہر شخصیت اپنے انداز میں یکتا اور منفرد ہوتی ہے، فطری رحجانات، بچپن کی تربیت، تعلیم ، جوانی کے حوادث اور ثقافتی اثرات اپنے اپنے طور پر کم یا زیادہ اثر اندازی کے ساتھ اس شخصیت کے نقوش و نگار ڈھالنے میں حصہ لیتے ہیں، لیکن شخصیت سازی کا عمل ہر فرد کے لئے یکساں رہتا ہے۔ توانائی سے بھر پور نیا نکور بدن، ڈیٹا پراسیسنگ کی نئی صلاحیتیں اور جنسی صلاحیتوں کی بیداری مل کر انفرادیت کا احساس پیدا کرتے ہیں۔ اس انفرادیت کے تسلیم کئے جانے کی خواہش ، کیرئیر اور تعلیم کے لئے معاشرے کا دباؤ، زندگی کی معنویت کی تلاش نوجوان کو آگے دھکیلتی ہے مگر دماغ کی نیم پختہ فکری صلاحیتیں ، حقائق زندگی سے نا آشنائی اور دنیا سے نا واقفیت قدم بہ قدم آڑے آتے ہیں۔جا بجا ان سے ٹھوکریں کھاتا شباب مسلسل کنفیوژن ، الجھنوں، افراتفری ، جھنجھلاہٹ اور غصے میں گھرا رہتا ہے۔ 
فرنٹل لوبز کی پختگی کے بعد شعوری پختگی کا مرحلہ شروع ہوتا ہے ۔ خواہشات اور حالات کے ٹکراؤ سے اکٹھا ہونے والا ڈیٹا انفرادی احساس اور زندگی سے متعلقہ چند بنیادی تصورات کے گرد اکٹھا ہونے لگتا ہے۔ نیورل کنکشن مضبوط ہوتے چلے جاتے ہیں، نسبتاً کمزور کنکشن مدہم پڑتے چلے جاتے ہیں۔ نیوران کا ایک مضبوط اور متحرک نیٹ ورک وجود میں آ جاتا ہے ، شعور کے لئے کام کرنے والے حصے فوری تسکین اور وقتی لذت سے ہٹ کر طویل مدتی مسائل اور چیلنجز پر فوکس کرنے لگتے ہیں، عموماً اس وقت تک فرد پر ذمہ داریوں کا بوجھ پڑ چکا ہوتا ہے اور اسے صبح سے شام تک بے شمار فیصلے کرنا ہوتے ہیں۔ایک مضبوط نیورل نیٹ ورک کی موجودگی فیصلہ سازی کو مستحکم اور موثر بناتی ہے ، جذبات کی توانائی کو ادھر ادھر بہہ کر ضائع ہونے سے بچاتی ہے اور دستیاب وسائل کے موثر اور بر وقت استعمال کو یقینی بناتی ہے۔ یہ اس یقین کو تشکیل دیتی ہے جو ایک موثر عملی زندگی کے لئے از حد ضروری ہے۔ اس عمل میں کمزور کنکشنوں کا خاتمہ ضروری اور نا گزیر ہے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ یہ بنیادی طور پر ایک شعوری عمل ہے، جس اطلاع کو ہم شعوری طور پر  درست سمجھیں وہی باقی رہ پاتی ہے، دوسری اطلاعات کے کنکشن دماغ چھانٹ دیتا ہے۔ 
یہ سب کچھ جو میں لکھ رہا ہوں، بنیادی طور پر اسی پراسیس کی تحریری شکل ہے۔ میرے ارد گرد بہت سے مہیج بکھرے ہوئے ہیں ، کچھ معاشرتی زندگی کا باقاعدہ اور منظم حصہ ہیں، کچھ حالات کی پیدا وار ہیں، کچھ میرے رشتے داروں، دوستوں اور ہمکاروں کی شخصیات کے اجزا ہیں۔کچھ مہیج ایسے ہیں جنہیں میں ایک با قاعدہ منصوبے کا حصہ گردانتا ہوں۔ یہ سب مہیج میرے اندر مختلف سوچوں کو جنم دیتے ہیں ، آرزوؤں کو مرتعش کرتے ہیں اور جذبات کی لہریں پیدا کرتے ہیں ۔ آرزوئیں اپنی تکمیل کا تقا ضا کرتی ہیں،ان سے جذبات کی توانائی اٹھتی ہے۔ دماغ تکمیل کے ذرائع ڈھونڈنے کے لئے اپنی سوچوں کے ڈیٹا سے رجوع کرتا ہے، جذبات کی لہریں اٹھ اٹھ کر ان سوچوں میں دوڑتی ہیں اور یہ سوچیں متحرک ہو کر آپس میں ٹکرانے لگتی ہیں، مجھے مختلف سمتوں میں دھکیلتی ہیں۔ جذبات کی بیشتر توانائی اسی تصادم میں ضائع ہو جاتی ہے اور زندگی کے تقاضے تشنہ تکمیل رہتے ہیں  ۔ 
میں جذبات کی توانائی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے، عملی استعمال میں لانے کے لئے سوچوں کے مربوط اور مضبوط کنکشن تشکیل دینا چاہتا ہو ں اور غیر ضروری سوچوں کا خاتمہ کر نا چاہتا  ہوں۔ یہ ایک فطری عمل ہے جو از خود وقوع پذیر ہوتا ہے مگر میرے کیس میں حالات کے دباؤ ا نے اس عمل کو ایک طویل عرصے تک التوا میں ڈالے رکھا۔ میں ابھی تک ایک کنفیوزڈ ٹین ایجر کی مانند اپنے اور دنیا کے بارے میں بہت سی بے یقینی میں مبتلا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ یہ پراسیس رفتہ رفتہ مجھے اس بے یقینی سے مکمل طور پر باہر لے آئے گا۔ 
یہ مسودہ اپنی جگہ کوئی فائنل تحریر نہیں، آج سے ایک عشرے بعد یقیناًمیری سوچوں میں بہت سا تغیر آ چکا ہو گا۔ اور اس مسودے میں شامل کئی باتیں اس وقت مجھے غلط، بچگانہ یا سادہ لوحی پر مبنیٰ معلوم ہونے لگیں گی۔ لیکن اس کی وجہ یہ نہیں ہو گی کہ یہ باتیں غلط ہیں، اس کی وجہ یہ ہو گی کہ یہ تصورات عمر کے ایک مرحلے، میری ذہنی کیفیات اور حالات کی پیداوار ہیں، ان چیزوں کو سمجھنے کی ایک کاوش ہیں اور ان تصورات کی سچائی اس مرحلے، ان کیفیات اور حالات میں یوں گندھی ہوئی ہے کہ اسے الگ سے پہچاننا ممکن نہیں۔ ایک دہائی میں شاید اتنا کچھ بدل چکا ہو کہ یہی کیفیات اور تصورات خود مجھے اجنبی لگنے لگیں۔ مگر حالات اور کیفیات کے بدل جانے سے ان کی تہہ میں کارفرما بنیادی سچائیاں نہیں بدلتیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ ان تصورات میں سچائی کا جتنا بھی عنصر ہے، وہ ایک دہائی بعد بھی روپ بدل کر میری سوچوں کے ہمراہ رہے گا۔ میں اسے پہچان پاؤں یا نہ پہچان پاؤں، وہ الگ بات ہے۔
                      

راہنمائے کالم خوانی ۔ ۱


خبر، اشتہا ر اور کالم وہ تین بنیادی رنگ ہیں جن کی کمی بیشی اور اشتراک سے اخباری صنعت کے تمام رنگ تشکیل پاتے ہیں۔ سنا ہے کسی دو ر میں صحافت کے کینوس پر رنگ بکھیرنے والے اساتذہ ان رنگوں کے باہمی تناسب کا بڑا خیال رکھا کرتے تھے، بھڑکیلے پن کے لئے رنگوں کا بے ڈھنگا استعمال نہیں کرتے تھے ۔ وہ دو ر کب اپنے انجام کو پہنچا، مصوران کوچہ صحافت نے حقیقت پسندی کا چوغہ اتار کر تاثر پسندی کا جامہ کب پہنا ، دھیمے رنگوں اور سلجھے خطوط کی جگہ چیختے رنگوں اور نوکیلے زاویوں نے کب لی، یہ مورخین جانیں۔ ہم اتنا جانتے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر ہر اخبار میں ایسی خبریں مل جائیں گی جن پر اشتہار کا گمان ہوتا ہے، ایسے اشتہار مل جائیں گے جنہیں خبر ہونا چاہئے تھا اور کالم ؟ کالم تو ہے ہی کالم نگار کی ذاتی ملکیت، چاہے تو کسی سیاسی لیڈر کا اشتہار بنا دے، چاہے تو اپنے بھتیجے کی شادی کی خبر، قارئین کا لحاظ کرتے ہوئے تھوڑی بہت کا لمیت بھی 
ڈال دے تو اسے غنیمت جانئے۔
بچپن، یعنی بہت ہی بچپن کی بات ہے کہ ہم دو ہی اخباروں کے نام جانتے تھے،روزنامہ جنگ اور نوائے وقت ۔بالکل اسی طرح جیسے دو ہی ٹیلیویژن چینل ہوا کرتے تھے، پی ٹی وی اور ایس ٹی این جو پہلے این ٹی ایم ہوا کرتا تھا یا پتا نہیں پہلے ایس ٹی این ہوا کرتا تھا پھر این ٹی ایم ہو گیا۔
جب لاہور میں تھے تو اس کے علاو ہ روزنامہ خبریں اور پاکستان کبھی کبھار نظر آیا کرتے تھے مگر اس وقت ہمیں اخباروں میں صرف بچوں کے صفحے سے دلچسپی ہوا کرتی تھی۔ پھر جب کراچی منتقل ہوئے تو روزنامہ امت اور شام کے ایک اخبار روزنامہ عوام سے تعارف ہوا۔ جب خبروں اور کالموں میں باقاعدہ دلچسپی لینی شرو ع کی، ٹھہرئیے، پہلے یہ بتاتے چلیں کہ دلچسپی کیوں لینی شروع کی۔سر شبیر نے ہمیں تاریخ کا چسکا تو لگا دیا مگر ان کی ذاتی لائبریری ، جس سے انہوں نے ’’تہذیب کی کہانی‘‘ ہمیں پڑھنے کو دی،زیادہ تاریخی کتابوں پر مشتمل نہ تھی۔ ابو ہر جمعے ہمیں کوئی نہ کوئی کتاب یا رسالہ پڑھنے کو لا دیتے تھے مگر اس میں سے ایک جمعہ ماہنامہ نونہال اور ایک جمعہ کسی نہ کسی کہانیوں کی کتاب کا نکال لیں تو باقی دو ہی جمعے بچتے تھے۔ ادھر ہم فرمائش کرتے تھے تاریخی کتاب کی اور وہ لے آتے تھے معلومات عامہ کی کتاب تو ہماری تاب گفتار کی نہایت محدود استطاعت شکایت کی اجازت ہر گز نہ دیتی تھی۔ ایسے میں کسی رسالے میں یہ قول نظر سے گزرا کہ تاریخ گزرے ہوئے زمانے کی خبرہے اور خبر زمانہ حال کی تاریخ تو اسے سچ جان کر ہم نے اخبار کو یہی سمجھ کر پڑھنا شروع کر دیا کہ تاریخ پڑھ رہے ہیں۔ خبریں پڑھنے کی عادت بد لگی تو کالم پڑھنے کاعارضہ بھی رفتہ رفتہ لاحق ہوتا چلا گیا۔ ابتدا ہم نے روزنامہ امت کے کالموں سے کی جو روزانہ ہمارے گھر آتا تھا، نیا نیا شوق ہونے کے باعث کالم پڑھنے کا لطف آتا رہا، مدیر امت رفیق افغان کا بکرا عید پر لکھا گیا ایک کالم ابھی تک ذہن کے گوشوں میں موجود ہے جس میں انہوں نے الطاف بھائی کی لند ن میں عید قربان کا نقشہ بڑے پر لطف انداز میں کھینچا تھا۔ مگر سچی بات یہ ہے کہ کالم پڑھنے کا حقیقی لطف اس وقت بھی جنگ یا نوائے وقت کے ادارتی صفحے پر ہی آتا تھاجو کبھی کبھار ہی پڑھنے کو ملتے تھے۔کوئی نام لیں تو بد دیانتی ہوگی کیو نکہ کوئی نام یاد ہی نہیں،بس ایک دھندلا سا تاثر یادوں میں باقی ہے جو بیان کر دیا۔ انہی دنوں روزنامہ ایکسپریس کا آغاز ہو ا ، چند دن تک اخبار والا اصرار کر کے یہ اخبار دے جاتا رہا مگر جہاں تک یاد پڑتا ہے، اس کا ادارتی صفحہ بھی ان دنوں کچھ ایسا پر کشش نہ تھا۔ ادھر نائن الیون تک اخبار کا اور ہمارا تعلق کچھ ایسا ہی رہا کہ مل گیا تو شوق سے پڑھ لیا، نہ ملا تو ملال کیا سوچ تک نہیں! نائن الیون نے بہت کچھ زیر و زبر کیا، صرف امریکہ کے جڑواں ٹاور اور افغانستان کے نشیب و فراز ہی اس تباہی کی زد میں نہیں آئے ۔وہ نظریاتی بنیادیں جن پر اس خاکسار اور اس جیسے بہت سے نوجوانوں کی ایک پوری نسل کا ذ ہنی ڈھانچہ تعمیر ہورہا تھا، حالات کے سیلاب میں یوں بہہ گئیں کہ ہمار ے لئے نہ کوئی سمت رہی ، نہ کوئی جائے اماں، کوئی نقشہ بھی نہ بچا جو نئی بنیادیں رکھنے کے لئے راہنمائی فراہم کرتا ،بس تب سے ہم ہیں اور ایک حیرت کے دشت میں آبلہ پائی۔غرض کہنے سے یہ ہے کہ بعد از نائن الیون اخبار پڑھنے سے اصل دلچسپی پیدا ہوئی ، کالموں اور کالم نگاروں سے صحیح معنوں میں واسطہ بھی تب ہی پڑا۔ان دنوں رسائی صرف روزنامہ نوائے وقت تک تھی جو جائے ملازمت پر آتا تھا یا روزنامہ خبریں تک جو جائے ملازمت کے عین سامنے واقع ٹی سٹال پر آیا کرتا تھا، نوائے وقت کا ادارتی صفحہ ان دنوں بھی خاصا جاندار ہوا کرتا تھا، سر راہے کی شگفتگی ہنوز ماند نہ پڑی تھی اور بہت سے پرندے جو آج کل ادھر ادھر کی شاخوں پر چہچہا رہے ہیں، نوائے وقت کی شاخوں پر ہی پائے جاتے تھے۔ روزنامہ جنگ اتنی باقاعدگی سے ہاتھ نہ لگتا تھا مگر جب لگتا تھا تو پڑھے بغیر ہر گز نہ چھوڑتے تھے۔پھر دفتری دنیا میں داخلہ ہوا تو بڑی آسانی اور روانی سے اخبار جزو زندگی بنتا چلا گیا۔ اندر ورکشاپ میں کیا ہورہا ہے، اس کی خبر ہو نہ ہو، یہ پتا لگنا چاہئے کہ وینزویلا میں کیا ہورہا ہے، ٹمبکٹو والے کیا کررہے ہیں، افغانستان کا موسم کیسا ہے، ہندوستان میں سبزیوں کے کیا بھاؤ ہیں اور ہمارے پسندید ہ کالم نگاروں کے کیا تاؤ ہیں۔ معروف اخباروں سے لے کر چھوٹے چھوٹے لوکل اخباروں تک بھانت بھانت کے اخبار نظر سے گزرنے لگے، وہ نام نہاد اخبار بھی سامنے آئے جنہیں کوئی نہیں خریدتا بلکہ چھاپنے والے خود ہی ادھر ادھر تقسیم کر تے پھرتے ہیں ۔ کوئی آٹھ، دس برس ہونے کو آتے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر کم از کم آٹھ، دس کالم پڑھتے ہیں اور پھر سارا دن دانت پیستے، ہنستے یا سوچوں میں غرق رہتے ہیں۔ ان دس برسوں میں ہم بھی کافی بدلے ہیں اور کالم نویسی کا ڈھنگ بھی کافی بدلا ہے۔ ایک تو نیوز چینلز کی بھرمار کے سبب اخباروں کی روایتی قدر پہلے جیسی نہیں رہی ۔ ٹیلی ویژن کی لمحہ بہ لمحہ کوریج اخبار سے وہ تجسس کا عنصر لے اڑی ہے جو ہر خاص و عام کو اخبار پڑھنے پر مجبور کیا کرتا تھا، ایسے میں اخباردوسروں سے منفرد نظر آنے کے لئے ادارتی صفحے پر زیادہ انحصار کرنے لگے ہیں اور کالم نگاروں کی اہمیت میں اتنا اضافہ ہو گیا ہے کہ آئی پی ایل کے کھلاڑی بھی ان پر رشک کریں۔ لیکن نیوز چینلز کی بھرمار کے سبب ہی ا لمیہ یہ ہوا ہے کہ اینکر لوگ کالم نگاروں کا بیشتر ’’سکوپ‘‘ لے اڑے ہیں۔کوئی واقعہ رونما ہوتے ہی ٹیلیویژن اس واقعے اور متعلقین کے پس منظر سے لے کر ممکنہ مستقبل تک تمام پہلو کھدیڑنے بیٹھ جاتے ہیں اور اکثر و بیشتر نیا دن طلوع ہونے تک خبر بمعہ اپنی ضمنیوں کے باسی ہو چکی ہوتی ہے۔ یوں کہیں کہ کالم نویسی کی دکان جتنی اونچی ہوئی ہے، اس کے پکوان اتنے ہی پھیکے ہوتے چلے گئے ہیں۔ باعث تحریر اس پوسٹ کا یہ بنا کہ کالم خوانی کی شروعات میں ایک عرصہ تک یہ ناچیز چچا غالب کے اس شعرکی عملی تفسیر بنا رہا۔ چلتا ہوں تھوڑی دیر ہر اک تیز رو کے ساتھ                            پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں                                    ہر کالم نگار اپنی جگہ افلاطون زمانہ، سقراط عصر اور ارسطوئے وقت بنا پھرتا ہے۔ ایک مبتدی کے لئے یہ فلسفیانہ چھلکے اتار کر ان کے نیچے سے پاپی پیٹ کی پکار، اپنی انا کی پھنکار یا سیاست کے بالا خانے پر کسی گھنگھرو کی جھنکار سے مسحور اصل کالم نگار دریافت کرنا بہت ہی مشکل کام ہے ۔ جب حکومت بدلتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مرغان باد نما کی سمتیں بدلتی ہیں تو کئی ایسے مرغان باد نما کی اصلیت کا پول بھی کھلتا ہے جنہیں آپ برسوں تک علمی اور فکری فضاؤں کے شاہین سمجھتے رہے۔ کبھی کبھی تو جی چاہتا ہے کہ ان لوگوں پر مقدمہ کر دیا جائے اور ان کے کالم پڑھنے پر جتنا وقت ضائع کیا، اس کا معاوضہ بمع ہرجانہ وصول کیا جائے۔ جرنلزم کی ایک کتاب میں کالم نویسی پر ایک باب نظر سے گزرا تو خیال آیا کہ راہنمائے کالم نویسی قسم کی ہدایات تو عام ہیں مگر آج تک کسی نے راہنمائے کالم خوانی لکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ کالم کیونکر پڑھا جائے ؟ یہ کیسے جانا جائے کہ کالم نگار کہاں ختم ہوتا ہے اور کالم کہاں سے شروع ہوتا ہے؟ کالم نگار کی افلاطونیت کو اپنے اعصا ب پر سوار ہونے سے کیسے روکا جائے ؟کالم نگار کے اونچے تعلقات کی تعلیوں سے کام کی بات کیسے علیحدہ کی جائے ؟ پیسہ حلال کرنے کے لئے تخلیق کئے گئے دلائل کو اصلی اور جنیوئن دلائل سے کس طرح الگ کیا جائے ؟ٹھہرئیے، خود کو یہ غلط فہمی لاحق ہونے سے روکئے کہ ہم ان سوالوں کے جواب دینے کی کوشش کریں گے۔ ہمارا کام سوال اٹھا دیناہے، جواب وہ ڈھونڈیں جو سوال کے جال میں پھنس جائیں۔ تو دوستو، عنوان اس پوسٹ کا واقعی راہنمائے کالم خوانی ہے مگر آپ ان سوالوں میں سے کسی کے بھی جواب اس پوسٹ میں ڈھونڈ پائیں تو یقین مانئے یہ سو فیصد آپ کی اپنی ذہانت کا ثبوت ہے (کچھ تمسخر اس میں نہیں، واللہ نہیں ہے) ہم نے تین یا چار حصوں پر مشتمل اس پوسٹ کے پہلے حصے میں یہی کچھ کہنا تھا جو کہہ ڈالا ہے۔ دوسرے حصے میں اخبار بیں درویش کا قصہ بیان ہو گا جو میر امن اٹھارہویں صدی میں پیدا ہو جانے کے سبب بیان نہ کر پائے۔ تیسرے اور ممکنہ طور پر چوتھے حصے میں ان تمام کالم نگاروں کا تذکرہ اور ان کے فن پر تبصرہ ہو گا جنہیں ہم شوق سے پڑھتے ہیں، یا جنہیں پڑھنے کی غلطی کبھی کیا کرتے تھے۔ 

کراچی کا جو نام لیا تو نے اے ہمنشیں


آج کراچی بہت یاد آ رہا ہے، یا یوں کہہ لیں کہ سکول کا زمانہ یاد آرہا ہے، میری یادوں میں دونوں یوں ایک دوسرے میں گتھے ہوئے ہیں کہ ایک کو دوسرے سے جدا کرنا ممکن ہی نہیں۔ منگھو پیر کے وہ صحرائی نشیب و فراز یاد آتے ہیں جہاں ہم چھپن چھپائی کھیلتے رہے۔ اعوان کالونی اور نصرت بھٹو کالونی کے مابین حائل وہ چھوٹی سی پہاڑی یاد آتی ہے جسے عبور کر کے ہر جمعے کو میں اور میرا دوست طاہر علی کہانیوں کی کتابیں خریدنے جایا کرتے تھے۔ ایک دیو ہیکل کرین روزانہ اس پہاڑی کے دامن سے چپکی مٹی کاٹتی اور ٹرالیوں میں لادتی نظر آتی تھی اور ہم حساب لگایا کرتے تھے کہ کتنے سالوں میں یہ کرین اس پہاڑی کو مکمل طور پر نگل جائے گی۔ اس کرین نے پہاڑی کو کاٹ کاٹ کر اس کے دامن میں ایک اچھا خاصا وسیع اور ہموار میدان بنا دیا تھا جہاں محلے کے لڑکے کرکٹ اور گلی ڈنڈا کھیلا کرتے تھے اور سندھی مانڑو مرغے لڑایا کرتے تھے۔  پہاڑی کی بلندی پر افغان پناہ گزینوں کے کچی مٹی سے بنے گھر یاد آتے ہیں جن کے باہر بیٹھے چھوٹے چھوٹے افغان بچے ہمیں اور ہم ان کو عجیب عجیب نظروں سے گھورا کرتے تھے۔ کیکر کے وہ بڑے بڑے کانٹے دار درخت یاد آتے ہیں جن کی ہر طرف بہتات تھی اور وہ چھوٹی چھوٹی بے ضرر جھاڑیاں یاد آتی ہیں جن کا سہارا مشکل ڈھلانوں پر چڑھتے وقت اور اترتے وقت ساتھ دیاکرتا
تھا۔
ایک تالاب کنارے واقع مجاہد سیکنڈری سکول کی چھوٹی سی اور پر سکون عمارت یاد آتی ہے جہاں نہ صرف بچپن بلکہ اب تک کی زندگی کے بہترین دن گزارے۔ اپنے مشفق استاد سر سعید یاد آتے ہیں جو سبق رٹاتے نہیں بلکہ سمجھاتے تھے، غیر نصابی مثالوں اور حکایتوں کی مدد سے، جن کی خدمت میں طالبعلم کو زندگی کی پہلی تخلیقی تحریر پیش کرنے کا شرف ملا۔ اردو کی کتاب میں ایک مضمون ہوا کرتا تھا   ’’درختوں نے کہا‘‘، اس کے آخر میں ایک سوال تھا کہ اسی طرح خود ایک مضمون لکھئےجس کا عنوان ہو ’’مشینوں نے کہا‘‘۔ سر نے جب ہوم ورک دیا تو یہ سوال اس میں شامل نہیں تھا مگر جب ہوم ورک کرتے کرتے سامنے آیا تو آگہی کا ایک جھماکا سا ذہن میں لپکا ’’میں، یہ سوال بھی حل کر سکتا ہوں۔‘‘ قلم اپنے آپ چلتا گیا اور جب رکا تو دیکھا کہ دو صفحات پر مشتمل ایک مضمون تحریر ہو چکا ہے۔ بعد کی عمر میں بشمول اس بلاگ کے جو کچھ لکھا اور جتنا بھی لکھا، اسی شاباش کی عنایت ہے جو یہ پہلا مضمون لکھنے پر سر سعید اور سر شبیر سے ملی تھی۔ سر شبیر جونئیر کلاسز کو پڑھاتے تھے اور میں پنجم کے بعد ان کا براہ راست شاگرد نہیں رہا تھا مگر میری تخلیقی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی اور فکری پرورش میں ان کا حصہ سر سعید سے کہیں بڑھ کر ہے۔ سرما کی ایک سہ پہر میں گھر سے نکلا، گلی محلے کا کوئی دوست ساتھ کھیلنے کو نہ ملا تو ٹہلتا ٹہلتا خود ہی سکول کی جانب جا نکلا۔ ان دنوں ابھی سکول کھلے میدان میں واقع تھا مگر اس کے ارد گرد مکانوں کی تعمیر شروع ہوچکی تھی، اب تو شاید سکول گلیوں کے جال میں روپوش ہو چکا ہو۔ ایک زیر تعمیر مکان کے باہر گیلی مٹی کا ڈھیر لگا ہوا تھا، میں نے بیٹھ کر مٹی کے بیل اور چڑیاں بنانی شروع کر دیں جو میرا ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی ہمجولیوں کا پسندیدہ مشغلہ ہوا کرتا تھا۔ بیل بنانا آسان ہوتا تھا ، ایک بڑا سا مٹی کا گولا بنایا، اسی گولے کو دبا دبا کر اور کھینچ تان کر کے نیچے موٹی موٹی چار ٹانگیں بنائیں اور اوپر اسی طرح کی کھینچا تانی سے منہ بنا دیا، زیادہ فنکارانہ باریکیوں جیسے تھوتھنی اور آنکھوں وغیرہ کی ضرورت نہیں پڑتی تھی مگر چڑیا بنانا، ان فنکارانہ باریکیوں کے بغیر بھی بہت مشکل فن ہوا کرتا تھا۔ دم اور چونچ بنانے کے لئے تو کاریگرانہ مہارت کی ضرورت پڑتی ہی تھی، دم کا اور باقی جسم کا تناسب برقرار رکھنے کے لئے بھی کافی جان  لڑانا پڑتی تھی ورنہ ہماری چڑیا توازن برقرار نہیں رکھ سکتی تھی اور دھڑام سے دم کے یا منہ کے بل جا گرتی ۔ سولہ سال پہلے کی باتیں اب ٹھیک سے کہاں یاد آئیں، یہ نہیں کہہ سکتا کہ کتنی دیر مٹی سے کھیلتا رہا ۔ ہاں، اتنا یاد ہے کہ  ایک مہربان اور شفیق آواز نے میرے انہماک کو توڑا۔ ’’عامر، یہ کیا کر رہے ہو؟‘‘  سر اٹھایا تو سر شبیر کو کھڑے پایا ۔  ’’سر جی، کھیل رہا ہوں۔‘‘ میں نے گڑبڑا کر کہا۔ اور کچھ کہنے کو نہ سوجھا، سر شبیر بہت صفائی پسند تھے اور اکثر صفائی کی اہمیت پر زور دیا کرتے تھے۔ ادھر یہ حال کہ ہاتھ، پاوں مٹی میں لتھڑے ہوئے، سفید شرٹ کے کف مٹی کی رنگت میں گم اور پوری شرٹ پر جگہ جگہ مٹی کے داغ۔  میں نے نہ صرف اس سال سکول میں ٹاپ کیا تھا بلکہ کئی ماہ سے ماہانہ ٹیسٹوں میں سر فہرست چلے آنے کی وجہ مجھے ’’پری فیکٹ‘‘ کا بیج بھی ملا ہوا تھا جسے میں بڑے فخر سے یونیفارم پر لگا کر گھوما کرتا تھا۔ اصول یہ ہے کہ جسے شاباش زیادہ ملے، وہ اگر غلطی کرے تو اسے ڈانٹ بھی اسی حساب سے پڑتی ہے اور اس وجہ سے میری گھبراہٹ ضرورت سے کچھ زیادہ ہی تھی  تھی۔ مگر سر نے ڈانٹا نہیں، پیار سے بولے ’’دیکھو، تم ہمارے سکول کے سب سے ذہین طالبعلم ہو۔ تمہیں دوسرے طالبعلموں کے لئے ایک مثال بننا چاہئے، کیا یہ ایک اچھے طالبعلم کا حلیہ ہے ؟‘‘ میں نے ندامت سے سر جھکا لیا اور کچھ نہ کہا۔ سر نے سکول کے نلکے پر میرے ہاتھ پاوں دھلائے، پھر اپنی کتابوں کی الماری سے ایک کتاب نکالی اور بولے ۔ ’’اگر بالکل فارغ ہو ، کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے تو کوئی اچھی سی کتاب پڑھ لیا کرو۔ آئندہ میں تمہیں مٹی میں کھیلتے نہ دیکھوں۔‘‘ جو کتاب انہوں نے مجھے دی اس کا حلیہ اب بھی مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ کتاب کا نام تھا ’’تہذیب کی کہانی‘‘ نارنجی سرورق والی یہ کتاب 1954 میں لندن کی کسی کمپنی کی شائع کردہ تھی ، کسی انگریزی کتاب کا اردو ترجمہ تھی اور یونیورسٹی کے نصاب کی کتاب تھی۔ عشروں پرانی ہونے کے با وجود یہ کتاب مکمل طور پر صحیح سلامت تھی ۔ ایک کہانی کے سے انداز میں لکھی گئی یہ کتاب ان تمام کہانیوں اور ناولوں سے کہیں زیادہ دلچسپ تھی جو میں نے اس وقت تک پڑھے تھے۔ گو متن مکمل طور پر سمجھ نہیں آیا مگر صنعتی انقلاب کے زمانے اور پہلی جنگ عظیم سے متعلقہ تصاویر اور ڈرائنگز نے میرے ذہن پر بہت گہرا اثر چھوڑا، یہ میرے لئے پریوں کی دنیا جیسی ایک دنیا تھی جہاں سائنسدان نت نئی ایجادات کر رہے تھے ، فوجیں سینکڑوں ہزاروں میل پر مشتمل میدانوں میں لڑ رہی تھیں اور دنیا کے نقشے پر نئے نئے ملک ڈوب اور ابھر رہے تھے ۔ اس کتاب نے دنیا میں برپا ہنگاموں کو جاننے اور ان کے پیچھے کارفرما عوامل کو سمجھنے کی جستجو پیدا کی اور علم کی وہ پیاس جگائی جو تب سے اب تک میرے فرصت کے اوقات کی ہمدم اور راہنما چلی آ رہی ہے۔ سر شبیر اور سر سعید کی شفقت اور توجہ کا میں ہمیشہ مقروض رہوں گا، شاید میں کبھی یہ قرض نہ چکا پاوں مگر اتنا تو کر سکتا ہوں کہ جہاں کہیں مجاہد سیکنڈری سکول کا، ان محترم اساتذہ کا یا ان کے آبائی گاوں اوڈی گرام، سوات کا ذکر آئے وہاں احترام سے نظریں جھکا لوں۔ اور ہاں، اوڈی گرام سے یاد آیا۔ میرے ہم سبقوں میں عبدالمالک محسود اور محمد خان وزیر بھی تو شامل تھے۔ دونوں میرے بے تکلف دوست بھی تھے اور اپنی اپنی جگہ قبائلی عصبیت کے پکے مبلغ بھی، عبدالمالک مجھے کسی محسود کے قصے سنایا کرتا تھا جو بقول اس کے اپنے چچا زاد بھائیوں کی کلاشنکوفوں سے نکلنے والی درجنوں گولیوں کا نشانہ بننے کے بعد بھی اپنی جگہ کھڑا ہنستا اور اور ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتا رہا۔ محمد خان جب وزیر قبائل کی بہادری کے قصے سنانے پر آتا تو اسے چپ کرانا مشکل ہو جاتا تھا۔ علامہ اقبال کا شعر
 ’’ نام عزیز ہیں انہیں وزیری و محسود
   ابھی یہ خلعت افغانیت سے ہیں عاری‘‘
 میں نے بہت بعد میں پڑھا مگر جب بھی یہ شعر پڑھتا ہوں تو عبدالمالک محسود اور محمد خان وزیر کو یاد کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اور ہاں، انہی میں افغانستان سے آنے والا گلہ خان (بروزن رس گلہ والا گلہ) بھی ہوا کرتا تھا جو اپنے گاوں کی باتیں کرتا نہیں تھکتا تھا مگر یہ بھی کہتا تھا کہ وہ افغانستان واپس نہیں جائے گا اور تعلیم مکمل کر کے کراچی میں ہی ملازمت ڈھونڈ لے گا۔
ابھی منگھو پیر کی یادیں ہی تمام نہیں ہوئیں، اورنگی ٹاون کے جو قصے باقی ہیں ان کے تذکرے کی گنجائش کوئی کہاں سے نکالے۔ بنارس چوک ، خیبر پل، سائٹ ، نیٹی جیٹی اور کلفٹن کا تو خیر ذکر ہی کیا، مگر پوسٹ طویل ہوئی جاتی ہے صاحبو، باقی پھر سہی! بلاگ زندہ ، پوسٹ باقی

اکتوبر کی آخری شب

(۱)                
خزاں کا سرخ چہرہ زرد پڑ چکا ہے
کسی راہرو شب کے پیروںتلے
سوکھے پتوں کے ٹوٹنے کا شور
الجھتا ہے رات کے سناٹے سے
جیسے الجھتے ہیں ٹوٹے ہوئے خواب
ہارے ہوئے دل کی خامشی سے
شاخیں ویران ہیں، درخت اداس ہیں
جھانکتا ہے چاندخالی شاخوں کے عقب سے
جیسے قیدی پرندہ، سلاخوں کے عقب سے
ستارے بکھرے پڑے ہیں یوں آسمان پر
جیسے کسی جال میں ، دانے شکار کے منتظر
منجمد ہے جھیل کے آئینے میں
عکس ان ساکت اور خاموش شاخوں کا
جن پر سبز پتے رقصاں رہے
خوش گلو پرندے جن پر نغمہ کناں رہے
اس آئینے میں جھک کر دیکھتی ہیں
اپنی اجاڑ بانہوں کو ، وہ اجڑی ہوئی شاخیں
جنہیں بہاروں نے دھنک کے کنگن پہنائے
جنہیں پیار سے سہلاتی رہی چمکیلی صبح کی شبنم

(۲)                
دور تک راج ہے سناٹے کا
اور اس سناٹے میں تمہارا اداس شاعر
تمہیں یاد کرتا ہے، تمہارا منتظر
منتظر مٹیالے وعدوں میں لپٹی ان بہاروں کا
جن کے رنگ کب سے محو دعا ہیں
اس لا متناہی خزاں کا اختتام مانگنے میں
نظریں جمائے چاند پر، یہ سوچتا ہوا
کہ کہیں نہ کہیں، کسی نگر میں
اسی چاند کی کرنیں، تمہارے چہرے کو چھو رہی ہو ں گی
اور تمہاری آنکھوں میں چمکتا ہو گایہی چاند
جس کا عکس میری آنکھوں میں چمک رہا ہے
ایک عجیب رشتے میں جوڑتا ہے ہمیں خزاں کا چاند
جیسا سورج کی خوابیدہ روشنی کا رشتہ
چاندنی رات میںساحل پر سر پٹختی لہروں سے
یہ رشتہ کہ اس کا کوئی نام تک نہیں
یہ خاموش رابطہ کہ جس کی نزاکت
کسی پیغام کا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتی
کلیوں سے کھیلنے والی اس باد نسیم کی مانند
جس کا دامن شبنم کا بوجھ تک سنبھال نہیں سکتا
چاند کی ایک کرن سے بندھا یہ تعلق
کہ دنیا کی کسی لغت میں کوئی لفظ نہیں اس کے لئے
مجھے عزیز ہے، عزیز تر ہے
ہر اس چیز سے جسے انسان نے اکٹھا کیا
قرنوں کے سفر میں، صدیوں کی راہگزر سے
کہ تمہارا نام پھولوں کا وہ انمول ذخیرہ ہے
جس کی خوشبو میرے خیالوں کو معطر رکھتی ہے
کہ بخشتی ہے رعنائی تمہارے خیال کی
میرے لفظوں کو حسن، میرے جملوں کو آب
میری زندگی کو آس، میری آنکھوں کو خواب
اگر تقدیر تمام دنیا کی دولت ایک طرف رکھ دے
اور دوسری طرف فقط تمہارا ساتھ
تو میں ایک لمحہ بھی توقف نہ کروں
تمہار ا ساتھ مانگ لینے میں
اگر تقدیر سو برس کی زندگی ایک طرف رکھ دے
اور کہے یہ زندگی تم لے لو اس کے کے بغیر
اور دوسری طرف رکھ دے ایک دن
صرف ایک دن کی زندگی تمہارے ساتھ
تو میں ایک لمحہ بھی توقف نہ کروں
تمہارا ساتھ مانگ لینے میں
(۳)                 
خزاں کی اس زرد رات میں، سرد رات میں
امیدوں کی شال اوڑھے بیٹھا تمہارا شاعر
تکتا ہوا قیدی چاند کو، اداس جھیل کو ، خاموش رات کو
بندھا ہوا ایک چاندنی کی کرن سے
جو کسی کھڑکی سے گزر کر تمہارا طواف کرتی ہے
التجا کرتا ہے ان سرد ہواوں سے، جو محو سفر ہیں
خزاں کا پیغا م لئے ، نا معلوم منزلوں کی سمت
کہ ایک پیغام کب سے دبا پڑا ہے
میرے دل کی دراز میں، روز مرہ کی فکروں تلے
وہ کاغذ پیلا پڑ چکا ہے کسی خزاں رسیدہ پتے کی طرح
جس پر یہ پیغام لکھا گیا تھا
اس کی سطریں پھیکی پڑتی جا رہی ہیں
سوکھے پتوں کی مردہ سفید رگوں کی مانند
لے چلو میرا یہ پیغام اس چاند کی کرن کے ساتھ
اس سے پہلے کہ وقت کی دیمک چاٹ لے اسے
کہنا کہ رات کی جھیل کنارے
سوچوں کی شال میں لپٹا ایک شخص
بیٹھا چرمرائے پتوں کے فرش پر
تمہاری راہ ابھی تک دیکھ رہا ہے
کہنا کہ جب بہار لوٹتی ہے وادیوں میں
نئی زندگی، نئے رنگ، نئے نغمے لئے ہوئے
تو بہت سے درخت نذر ہو چکے ہوتے ہیں
اس آگ کی جو کسی آتشداں میں جلتی رہی
بہت سے پودے کچلے جا چکے ہوتے ہیں
بے رحم طوفانوں کے قدموں تلے
ان پتوں کے انتظار میں جنہیں پھوٹنا تھا ابھی
ان پھولوں کے انتظار میں جنہیں کھلنا تھا ابھی
ان وعدوں کے انتظار میں جو کبھی ایفا نہ ہوں گے
ان نغموں کے انتظار میں جو کبھی چھڑ نہ سکیں گے
سنو، کہیں اتنی دیر نہ کر دینا کہ جب بہار آئے
تو تمہارے اس شاعر کو کہیں نہ پائے
اور خزاں کے چاند کا یہ عجیب رشتہ
سوکھے پتوں کا کفن اوڑھے ابدی نیند سو رہا ہو۔ 

Pages