محمد وارث

کہتے ہیں اِک فریبِ مُسلسل ہے زندگی ۔ اصغر گونڈوی

 آلامِ روزگار کو آساں بنا دیا
جو غم ہوا اُسے غمِ جاناں بنا دیا

میں کامیابِ دید بھی، محرومِ دید بھی
جلووں کے اژدہام نے حیراں بنا دیا

یوں مسکرائے جان سی کلیوں میں پڑ گئی
یوں لب کشا ہوئے کہ گُلِستاں بنا دیا

کچھ شورشوں کی نذر ہوا خونِ عاشقاں
کچھ جم کے رہ گیا اسے حرماں بنا دیا

اے شیخ، وہ بسیط حقیقت ہے کفر کی
کچھ قیدِ رسم نے جسے ایماں بنا دیا

کچھ آگ دی ہوس میں تو تعمیر عشق کی
جب خاک کر دیا اسے عِرفاں بنا دیا

کیا کیا قُیود دہرمیں ہیں، اہلِ ہوش کے
ایسی فضائے صاف کو زنداں بنا دیا

اک برق تھی ضمیر میں فِطرت کے موجزن
آج اس کو حُسن و عشق کا ساماں بنا دیا

مجبوریِ حیات میں رازِ حیات ہے
زنداں کو میں نے روزنِ زنداں بنا دیا

وہ شورشیں، نظامِ جہاں جن کے دم سے ہے
جب مختصر کِیا انہیں انساں بنا دیا
Urdu Poetry, Classical Urdu Poetry, Urooz, Arooz, Taqtee, Urdu Metersہم اس نِگاہِ ناز کو سمجھے تھے نیشتر
تم نے تو مسکرا کے رگِ جاں بنا دیا

بلبل بہ آہ و نالہ و گُل مستِ رنگ و بُو
مجھ کو شہیدِ رسمِ گُلِستاں بنا دیا

کہتے ہیں اِک فریبِ مُسلسل ہے زندگی
اس کو بھی وقفِ حسرت و حرماں بنا دیا

عالَم سے بے خبربھی ہوں، عالَم میں بھی ہوں میں
ساقی نے اِس مقام کو آساں بنا دیا

اس حُسنِ کاروبار کو مستوں سے پوچھیئے
جس کو فریبِ ہوش نے عصیاں بنا دیا

اصغر گونڈوی
-------
قافیہ - آں یعنی الف نون غنہ ساکن اور الف سے پہلے زبر کی حرکت جیسے آساں میں ساں، جاناں میں ناں، گلستان میں تاں، حرماں میں ماں وغیرہ۔

ردیف - بنا دیا

بحر - بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف

 افاعیل: مَفعُولُ فاعِلاتُ مَفاعِیلُ فاعِلُن
آخری رکن میں‌ فاعلن کی جگہ فاعلان بھی آسکتا ہے۔

علامتی نظام - 122 / 1212 / 1221 / 212
ہندسوں کو اردو کی طرز پر دائیں سے بائیں پڑھیے۔ یعنی 122 پہلے ہے اور اس میں بھی 22 پہلے ہے۔
(آخری رکن میں‌ 212 کی جگہ 1212 بھی آ سکتا ہے)

 تقطیع -

آلامِ روزگار کو آساں بنا دیاجو غم ہوا اُسے غمِ جاناں بنا دیا
آلام - مفعول - 122
روزگار - فاعلات - 1212
کُ آسا بَ - مفاعیل - 1221
نا دیا - فاعلن - 212

جو غم ہُ - مفعول - 122
وا اُسے غَ - فاعلات - 1212
مِ جانا بَ - مفاعیل - 1221
نا دیا - فاعلن - 212
------

لغت "معین الادب معروف بہ معین الشعراء" از منشی غلام حسین آفاق بنارسی

ایک دوسری جگہ اس لغت کا تذکرہ آیا ہے تو میں نے یہی بہتر سمجھا کہ اپنے بلاگ پر بھی اس لغت کا تعارف لکھ دوں کہ دیگر دوست بھی اس سے استفادہ کر سکیں۔
 نام ۔ معین الادب معروف بہ معین الشعراء
مصنف۔ منشی غلام حسین آفاق بنارسی
ناشر: سنگ میل، لاہور
سن اشاعت - 2003ء (طبعِ جدید)۔
قیمت - 600 روپے

 الفاظ کی تذکیر و تانیث جاننا اردو زبان کا ایک اہم حصہ ہے اور متنازع فیہ بھی اور وہ اس لیے کہ اہلِ زبان یعنی دہلی اور لکھنو کے اساتذہ ایک ہی لفظ کو مذکر اور مونث دونوں طرح سے استعمال کرتے رہے ہیں اور شاعر حضرات کے لیے اس کو جاننا اور بھی زیادہ ضروری ہے کیونکہ شعر میں اگر کسی لفظ کی جنس غلط باندھ دی جائے تو اس پر اعتراض ضرور وارد ہوتا ہے۔

 اردو قواعد میں تذکیر و تانیث پر باقاعدہ بحث کی جاتی ہے اور الفاظ کی جنس کے اصول بھی بتائے جاتے ہیں۔ لغات میں بھی عام طور پر کسی لفظ کی جنس واضح طور پر لکھی جاتی ہے لیکن جس لغت کا تعارف پیش کیا جا رہا ہے اس کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں ہر لفظ کی جنس کی سند میں اساتذہ کے اشعار بیان کیے گئے ہیں اور یہی اس لغت کا سب سے بڑا امتیاز ہے۔

 کتاب کے مصنف، منشی غلام حسین آفاق بنارسی مشہور شاعر جلیل مانک پوری کے شاگرد تھے۔ جلیل مانک پوری نے خود بھی الفاظ کی تذکر و تانیث پر ایک رسالہ لکھا تھا اور ممکن ہے کہ آفاق بنارسی کو اس لغت کا خیال وہیں سے ملا ہو۔

 لغت کی ترتیب کچھ اس طرح سے ہے کہ پہلے لفظ ہے، اُس کے بعد ایک کالم میں اس کی زبان (یعنی کس زبان کا لفظ ہے)، اُس کے بعد اسی لفظ کے اعداد ملفوظی بیان کیے گئے ہیں۔ اور یہ بھی اس لغت کا ایک اہم پہلو ہے کیونکہ الفاظ کے اعداد بھی تاریخ گوئی میں استعمال ہوتے ہیں سو شعرا کے لیے یہ معلومات بھی ایک نعمت ہیں۔ اُس کے بعد اس لفظ کے عام استعمال ہونے والی معنی پھر یہ ذکر کہ یہ لفظ مذکر ہے یا مونث اور اس کے بعد مذکر یا مونث ہونے کی سند میں کسی استاد کا شعر۔ سند کے اشعار، دہلی اور لکھنو دونوں مکاتیب فکر کے شعرا کے ہیں سو اس بات سے اس لغت کی اہمیت میں اور بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ کسی متنازعہ لفظ کی صورت میں اس کی وضاحت حواشی میں کی گئی ہے۔

 دوسری طرف، اس لغت میں الفاظ کی تعداد، عام لغات کے مقابلے میں کم ہے۔ معنی انتہائی محدود اور جو عام استعال میں آتے ہیں بس وہی ہیں اور محاورات وغیرہ بھی نہیں ہیں، بہرحال اس کمی کی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ یہ لغت بنیادی طور تذکیر و تانیث کا احاطہ کرتی ہے۔ بیسیویں صدی کے شروع میں یہ لغت مرتب ہوئی تھی اور سنگِ میل لاہور نے 2003ء میں طبع جدید کے ساتھ اسے شائع کیا تھا۔  کتاب کے کچھ عکس پیش خدمت ہیں۔





سودا کی اپنی ہی غزل پر تضمین

مرزا رفیع سودا کی یہ غزل بہت مشہور ہے اور یقیناً سودا کو بھی بہت پسند ہوگی اسی لیے اِس پر مخمس کی شکل میں تضمین بھی کہی ہے۔ ملاحظہ کیجیے۔

کرے جو ظلم و ستم کرنے دو، ہوا سو ہوا
جفا و ظلم ستی مت ڈرو، ہوا سو ہوا
یہ میرے غم کی نہ شہرت کرو، ہوا سو ہوا
"جو گزری مجھ پہ مت اُس سے کہو، ہوا سو ہوا
بلاکشانِ محبت پہ جو، ہوا سو ہوا"

اگرچہ روزِ ازل سے تھی میری یہ تقدیر
کہ دامِ عشق میں اپنے کرے مجھے تو اسیر
کرے جو ذبح تو مجھ کو پچھاڑ جوں نخچیر
"مبادا ہو کوئی ظالم ترا گریباں گیر
مرے لہو کو تو دامن سے دھو، ہوا سو ہوا"

وہ کون دن تھا کہ ہم بھی ہوئے تھے یار ترے
کسی طرح سے ترا دل بھی اس جفا سے پھرے
اگر کہے تو یہ آ کر ترے قدم پہ گرے
"خدا کے واسطے آ، درگزر گنہ سے مرے
نہ ہوگا پھر کبھو اے تُند خو، ہوا سو ہوا"

مرزا، رفیع، سودا، مرزا رفیع سودا، اردو شاعری، کلاسیکی اردو شاعری، mirza, rafi, sauda, mirza rafi sauda, classical urdy poetry, urdu poetry
کیے ہیں جن نے دوانے کئی مَلَک یارو
دکھا کے چہرے کی اپنے ٹک اک جھلک یارو
ہوا ہے میرا بھی قاتل وہ یک بیک یارو
"پہنچ چکا ہے سرِ زخم دل تلک یارو
کوئی سیو، کوئی مرہم کرو، ہوا سو ہوا"

دیا ہے آپ سے تم نے جو دل کو اپنے کبھو
تو چاہیے کہ رہو ہاتھ اُس سے بھی تم دھو
عبث ہے یہ کہ جو باتیں کرو ہو تم رو رو
"یہ کون حال ہے احوالِ دل پہ اے آنکھو
نہ پھوٹ پھوٹ کے اتنا بہو، ہوا سو ہوا"

دلوں کے قتل کے تئیں الامان ہے سودا
جنوں کی فوج کا یارو نشان ہے سودا
کِیا جب اُن نے قلندر، ندان ہے سودا
"دیا اُسے دل و دیں اب یہ جان ہے سودا
پھر آگے دیکھیے جو ہو سو ہو، ہوا سو ہوا"

(کلیاتِ سودا، جلد اول)

اوّل شب وہ بزم کی رونق شمع بھی تھی پروانہ بھی - آرزو لکھنوی

اوّل شب وہ بزم کی رونق شمع بھی تھی پروانہ بھی
رات کے آخر ہوتے ہوتے ختم تھا یہ افسانہ بھی

قید کو توڑ کے نکلا جب میں اُٹھ کے بگولے ساتھ ہوئے
دشتِ عدم تک جنگل جنگل بھاگ چلا ویرانہ بھی

ہاتھ سے کس نے ساغر پٹکا موسم کی بے کیفی پر
اتنا برسا ٹوٹ کے بادل ڈوب چلا مے خانہ بھی

ایک لگی کے دو ہیں اثر اور دونوں حسبِ مراتب ہیں
لو جو لگائے شمع کھڑی ہے ، رقص میں ہے پروانہ بھی

حسن و عشق کی لاگ میں اکثر چھیڑ ادھر سے ہوتی ہے
شمع کا شعلہ جب لہرایا اُڑ کے چلا پروانہ بھی

دونوں جولاں گاہ جنوں ہیں ، بستی کیا ویرانہ کیا
اٹھ کے چلا جب کوئی بگولا دوڑ پڑا ویرانہ بھی

دورِ مسرّت آرزو اپنا کیسا زلزلہ آگیں تھا
ہاتھ سے منہ تک آتے آتے چھُوٹ پڑا پیمانہ بھی

(آرزو لکھنوی)

غزلِ نظیری نیشاپوری مع اردو ترجمہ - سبزہٴ عیش ز بوم و برِ ہجراں مَطَلب

نظیری نیشاپوری کی ایک غزل کے کچھ اشعار

سبزہٴ عیش ز بوم و برِ ہجراں مَطَلب
نیشکر حاصلِ مصر است ز کنعاں مَطَلب

سبزہٴ عیش ہجر کی ویران اور بنجر زمین سے نہ چاہ، نیشکر مصر کا حاصل ہے اسے کعنان سے طلب نہ کر۔

رَسَنِ زُلف پئے حیلہ ور آویختہ اند
جُز دِلِ تشنہ ازاں چاہِ زَنَخداں مَطَلب

زُلف کی رسی دھوکے اور حیلے سے لٹکائی ہوئی، چاہِ زنخداں (ذقن) سے تشنہ دل کے سوا کچھ نہ طلب کر۔

فرض و سُنّت بتماشائے تو از یادم رفت
پردہ بر رُوئے فگن یا ز من ایماں مَطَلب

تیری دیدار کی وجہ سے میں فرض و سنت سب بھول گیا، یا تو اپنے چہرے پر پردہ ڈال دے یا پھر مجھ سے ایمان طلب نہ کر۔
persian poetry with urdu translation, farsi poetry with urdu translation,naziri nishapuri   ، نظیری نیشاپوری، فارسی شاعری مع اردو ترجمہ
لختِ دل قَوت کُن و شکّرِ احباب مخواہ
دُودِ دل سُرمہ کُن و کُحلِ صفاہاں مَطَلب

اپنے دل کے ٹکڑوں کو ہی اپنی خوارک بنا اور دوسروں کی شکر نہ چاہ، اپنے دل کے دھویں کو سرمہ بنا لے اور اصفاہانی سرمے کی خواہش نہ رکھ۔

آبِ حیواں ز کفِ دُرد کشاں می جوشد
گو خضَر دشت مَپیما و بیاباں مَطَلب

آبِ حیات تو دُرد کشوں کے کف سے اُبلتا ہے، خصر سے کہو کہ دشت پیمائی نہ کر اور بیاباں طلب نہ کر۔

جلوہ از حوصلہ بیش است نظیری، ہُشدار
کشتیِ نوح نشد ساختہ، طوفاں مَطَلب

اے نظیری، جلوہ حوصلے سے کہیں زیادہ ہے، ہوش کر، کشتیِ نوح تو بنائی ہی نہیں سو طوفان طلب نہ کر۔
----

قافیہ - آں یعنی الف، نون  اور ان سے پہلے زبر کی آواز جیسے ہجراں میں راں، کنعاں میں عاں، ایماں میں ماں وغیرہ وغیرہ ۔
ردیف - مَطَلب
بحر - بحرِ رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع

افاعیل - فاعِلاتُن فَعِلاتُن فَعِلاتُن فَعلُن
(پہلے رکن فاعلاتن کی جگہ مخبون رکن فعلاتن بھی آسکتا ہے، آخری رکن فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلن اور فَعِلان بھی آسکتا ہے یوں آٹھ وزن اکھٹے ہو سکتے ہیں)۔

علامتی نظام - 2212 / 2211 / 2211 / 22
ہندسوں کو اردو کی طرز پر دائیں سے بائیں پڑھیے۔ یعنی 2212 پہلے ہے اور اس میں بھی 12 پہلے ہے۔
(پہلے 2212 کی جگہ 2211 اور آخری 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتا ہے)

تقطیع -
سبزہٴ عیش ز بوم و برِ ہجراں مَطَلب
نیشکر حاصلِ مصر است ز کنعاں مَطَلب

سبزَ اے عے - فاعلاتن - 2212ش ز بومو - فعلاتن - 2211بَ رِ ہجرا - فعلاتن - 2211مَ طَلب - فَعِلن - 211
نیشکر حا - فاعلاتن - 2212صَلِ مصرس - فعلاتن - 2211ت ز کنعا - فعلاتن - 2211مَ طَلب - فَعِلن - 211----

صائب تبریزی کی ایک غزل مع اردو ترجمہ- آبِ خضر و مئے شبانہ یکیست

صائب تبریزی کی ایک خوبصورت غزل

آبِ خضر و مئے شبانہ یکیست
مستی و عمرِ جاودانہ یکیست

آبِ حیات اور رات کی شراب ایک ہی چیز ہیں، مستی اور عمرِ جاودانہ ایک ہی چیز ہیں۔

بر دلِ ماست چشم خوباں را
صد کماندار را نشانہ یکیست

ہمارے ہی دل پر خوباؤں کی نظر ہے، سینکڑوں کمانداروں کیلیے نشانہ ایک ہی ہے۔

پیشِ آں چشمہائے خواب آلود
نالہٴ عاشق و فسانہ یکیست

اُن خواب آلود آنکھوں کے سامنے، عاشق کا نالہ و فریاد اور افسانہ ایک ہی چیز ہیں۔

کثرتِ خلق، عین توحید است
خوشہ چندیں ہزار و دانہ یکیست

مخلوق کی کثرت عین توحید ہے کہ خوشے چاہے ہزاروں ہوں دانہ تو ایک ہی ہے۔
persian poetry with urdu translation, farsi poetry with urdu translation,Saib Tabrizi,   ، صائب تبریزی، فارسی شاعری مع اردو ترجمہ،یادگار صائب تبریزی، ایرانپلہٴ دین و کفر چوں میزان
دو نماید، ولے زبانہ یکیست

دین اور کفر کے پلڑے ترازو کی طرح دو ہیں لیکن ان کی سوئی تو ایک ہی ہے۔

عاشقے را کہ غیرتے دارد
چینِ ابرو و تازیانہ یکیست

غیرت مند عاشق کیلیے، محبوب کی چینِ ابرو اور تازیانہ ایک ہی چیز ہیں۔

پیشِ مرغِ شکستہ پر صائب
قفس و باغ و آشیانہ یکیست

صائب، پر شکستہ پرندے کیلیے، قفس اور باغ اور آشیانہ ایک ہی چیز ہیں
----

قافیہ - آنہ یعنی نہ اور اُس سے پہلے الف کی آواز یا حرکت جیسے شبانہ میں بانہ، جاودانہ میں دانہ، نشانہ میں شانہ وغیرہ۔

ردیف -یکیست۔

 بحر - بحر خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع

افاعیل - فاعِلاتُن مُفاعِلُن فَعلُن
(پہلے رکن فاعلاتن کی جگہ مخبون رکن فعلاتن بھی آسکتا ہے، آخری رکن فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلن اور فَعِلان بھی آسکتا ہے یوں آٹھ وزن اکھٹے ہو سکتے ہیں)۔ تفصیل کیلیئے میرا مقالہ “ایک خوبصورت بحر - بحر خفیف” دیکھیئے)

علامتی  نظام - 2212 / 2121 / 22
ہندسوں کو اردو رسم الخط کے مطابق پڑھیے یعنی دائیں سے بائیں یعنی 2212 پہلے پڑھیے۔ اور اس میں بھی 12 پہلے ہے۔
(پہلے 2212 کی جگہ 2211 اور آخری 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتا ہے)

تقطیع -
آبِ خضر و مئے شبانہ یکیست
مستی و عمرِ جاودانہ یکیست

آبِ خضرو - فاعلاتن - 2212
واضح رہے کہ خضر کا تلفظ حرفِ دوم کی حرکت اور سکون دونوں طرح مستعمل ہے۔
مئے شبا - مفاعلن - 2121
نَ یکیس - فَعِلان - 1211

مستِ یو عم - فاعلاتن - 2212
رِ جاودا - مفاعلن - 2121
نَ یکیس - فَعِلان - 1211

باپ کا ہے جبھی پسر وارِث - خواجہ الطاف حُسین حالی

باپ کا  ہے جبھی پسر وارِث
ہو ہنر کا بھی اُس کے گر وارِث

گھر ہنر ور کا ناخلف نے لیا
تیرا ہے کون اے ہنر وارث

فاتحہ ہو کہاں سے میّت کی
لے گئے ڈھو کے سیم و زر وارث

ہوں اگر ذوقِ کسب سے آگاہ
کریں میراث سے حذر وارث

خاک و کرمانِ گور و خویش و تبار
ایک میّت اور اس قدَر وارث

واعظو دین کا خدا حافظ
انبیا کے ہو تم اگر وارث

قوم بے پر ہے، دین بے کس ہے
گئے اسلام کے کدھر وارث
Altaf، Hussain، Hali, Altaf Hussain Hali, urdu poetry, poetry, classical urdu poetry, ghazal, خواجہ، الطاف، حسین، حالی، خواجہ الطاف حسین حالی، اردو شاعری، کلاسیکی اردو شاعری، شاعری، غزل, Ilm-e-Arooz, Ilm-e-Urooz, Behr, Taqtee, علم عروض، تقطیع، بھرAltaf Hussain Hali, خواجہ الطاف حسین حالی
تصویر بشکریہ کرناٹک اردو اکاڈمی، بنگلور
ہم پہ بیٹھے ہیں ہاتھ دھوئے حریف
جیسے مردہ کے مال پر وارث

ترکہ چھوڑا ہے کچھ اگر حالی
کیوں ہیں میّت پہ نوحہ گر وارث

خواجہ الطاف حسین حالی
-----


قافیہ - اَر یعنی رے ساکن اور اُس سے پہلے زبر کی حرکت جیسے پسر میں سَر، گر، ہنر میں نَر، زر، اگر میں گر، وغیرہ۔

ردیف -وارث۔

 بحر - بحر خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع

افاعیل - فاعِلاتُن مُفاعِلُن فَعلُن
(پہلے رکن فاعلاتن کی جگہ مخبون رکن فعلاتن بھی آسکتا ہے، آخری رکن فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلن اور فَعِلان بھی آسکتا ہے یوں آٹھ وزن اکھٹے ہو سکتے ہیں)۔ تفصیل کیلیئے میرا مقالہ “ایک خوبصورت بحر - بحر خفیف” دیکھیئے)

علامتی  نظام - 2212 / 2121 / 22
ہندسوں کو اردو رسم الخط کے مطابق پڑھیے یعنی دائیں سے بائیں یعنی 2212 پہلے پڑھیے۔ اور اس میں بھی 12 پہلے ہے۔
(پہلے 2212 کی جگہ 2211 اور آخری 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتا ہے)

تقطیع -

باپ کا ہے جبھی پسر وارث
ہو ہنر کا بھی اُس کے گر وارث

باپ کا ہے - فاعلاتن - 2212
جَبی پسر - مفاعلن - 2121
وارث - فعلن - 22

ہو ہنر کا - فاعلاتن - 2212
بِ اُس کِ گر - مفاعلن - 2121
وارث - فعلن - 22
-----

عکسِ جاناں ہم، شہیدِ جلوہٴ جانانہ ہم - احسان دانش

عکسِ جاناں ہم، شہیدِ جلوہٴ جانانہ ہم
آشنا سے آشنا، بیگانہ سے بیگانہ ہم

تجھ کو کیا معلوم گزری کس طرح فرقت کی رات
کہہ پھرے اک اک ستارے سے ترا افسانہ ہم

بند ہیں شیشوں میں لاکھوں بجلیاں پگھلی ہوئیں
کب ہیں محتاجِ شرابِ مجلسِ میخانہ ہم

ہے دمِ آخر، سرھانے لوریاں دیتی ہے موت
سنتے سنتے کاش سو جائیں ترا افسانہ ہم

پڑ گئی کس مہرِ سیما کی نگاہِ برق پاش
دیکھتے ہیں دل میں دنیا بے تجلّی خانہ ہم
Ehsan Danish, احسان دانش، Urdu Poetry, Urdu Shairi, Urdu Ghazal, Ilm-e-Arooz, Ilm-e-Urooz, Taqtee, Behr, اردو شاعری، اردو غزل، علم عروض، تقطیع، بحرEhsan Danish, احسان دانش
تیرے ہر ذرّے پہ تا روزِ قیامت سجدہ ریز
ہم رہیں گے، اے زمینِ کوچہٴ جانانہ، ہم

منزلِ اُلفت میں ہیں احسان دونوں سدّ ِ راہ
کھائیں کیوں آخر فریبِ کعبہ و بتخانہ ہم

احسان دانش
------

قافیہ - نانہ یعنی الف، نون، ہ اور الف سے پہلے زبر کی آواز یا حرکت جیسے جانانہ میں نانہ،۔ بیگانہ میں گانہ، افسانہ میں سانہ، میخانہ میں خانہ، خانہ، وغیرہ۔

ردیف - ہم۔

بحر - بحر رمل مثمن محذوف

 افاعیل: فاعلاتُن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
آخری رکن فاعلن میں مسبغ رکن فاعلان بھی آ سکتا ہے جیسے دوسرے شعر کے پہلے مصرعے کے الفاظ "فرقت کی رات" میں ٹکڑے "قت کی رات" کی تقطیع فاعلان ہوگی، وغیرہ۔

علامتی نظام - 2212 / 2212 / 2212 / 212
ہندسوں کو اردو طرز پر پڑھیے یعنی دائیں سے بائیں یعنی 2212 پہلے ہے اور اس میں بھی 2 پہلے اور 1 بعد میں ہے۔ آخری 212 کی جگہ 1212 بھی آ سکتا ہے۔

تقطیع -

عکسِ جاناں ہم، شہیدِ جلوہٴ جانانہ ہم
آشنا سے آشنا، بیگانہ سے بیگانہ ہم

عکس جانا - فاعلاتن - 2212ہم شہیدے - فاعلاتن - 2212جلوَ اے جا - فاعلاتن - 2212نانہ ہم - فاعلن - 212
آشنا سے - فاعلاتن - 2212آشنا بے - فاعلاتن - 2212گانہ سے بے - فاعلاتن - 2212گانہ ہم - فاعلن - 212-----

سرِ حیات اک الزام دھر گئے ہم بھی - خالد احمد

سرِ حیات اک الزام دھر گئے ہم بھی
کلام بھی نہ جیا اور مر گئے ہم بھی

یہ عہد ایک مسیحا نفَس میں زندہ تھا
رہا نہ وہ بھی سلامت، بکھر گئے ہم بھی

چمک اُٹھا تھا وہ چہرہ، دھڑک اُٹھا تھا یہ دل
نہ اُس نے راستہ بدلا، نہ گھر گئے ہم بھی

بتوں کی طرح کھڑے تھے ہم اک دوراہے پر
رُخ اُس نے پھیر لیا، چشمِ تر گئے ہم بھی

کچھ ایسے زور سے کڑکا فراق کا بادل
لرز اُٹھا کوئی پہلو میں، ڈر گئے ہم بھی
Ilm-e-Arooz, Ilm-e-Urooz, Taqtee, Behr, Urdu Poetry, Urdu Shairi, اردو شاعری، علم عروض، تقطیع، بحر، بحر مجتث, خالد احمد، Khalid AhmadKhalid Ahmad, خالد احمد
جدائی میں بھی ہم اک دوسرے کے ساتھ رہے
کڈھب رہا نہ وہ، خالد سنور گئے ہم بھی

خالد احمد
-----

قافیہ - اَر یعنی رے ساکن اور اس سے پہلے زبر کی آواز جیسے دھر، مر، بکھر، گھر وغیرہ۔

ردیف - گئے ہم بھی۔

بحر - بحرِ مجتث مثمن مخبون محذوف مقطوع

افاعیل: مَفاعِلُن فَعِلاتُن مَفاعِلُن فَعلُن
آخری رکن فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلُن اور فَعِلان بھی آ سکتے ہیں۔

علامتی نظام - 2121 / 2211 / 2121 / 22
ہندسوں کو اردو کی طرز پر یعنی دائیں سے بائیں پڑھیے یعنی 2121 پہلے ہے اور اس میں بھی 1 پہلے ہے۔
(آخری رکن میں 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتے ہیں)

تقطیع -
سرِ حیات اک الزام دھر گئے ہم بھی
کلام بھی نہ جیا اور مر گئے ہم بھی
سرے حیا - مفاعلن - 2121ت اِ کل زا - فعلاتن - 2211 اک اور الزام میں الف کا وصال ہوا ہے۔م در گئے - مفاعلن - 2121ہم بی -فعلن - 22
کلام بی - مفاعلن - 2121نَ جیا او - فعلاتن - 2211ر مر گئے - مفاعلن - 2121ہم بی -فعلن - 22-----

اک معمّہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا - فانی بدایونی

خلق کہتی ہے جسے دل ترے دیوانے کا
ایک گوشہ ہے یہ دنیا اسی ویرانے کا

اک معمّہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا

حُسن ہے ذات مری، عشق صفَت ہے میری
ہوں تو میں شمع مگر بھیس ہے پروانے کا

کعبہ کو دل کی زیارت کے لیے جاتا ہوں
آستانہ ہے حرم میرے صنم خانے کا

مختصر قصّہٴ غم یہ ہے کہ دل رکھتا ہوں
رازِ کونین خلاصہ ہے اس افسانے کا

زندگی بھی تو پشیماں ہے یہاں لا کے مجھے
ڈھونڈتی ہے کوئی حیلہ مرے مر جانے کا
urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, ilm-e-urooz, behr, taqtee, Fani Badayuni, فانی بدایونی، اردو شاعری، اردو غزل، تقطیع، بحر، علم عروضFani Badayuni, فانی بدایونی
تصویر بشکریہ کرناٹک اردو اکاڈمی، بنگلورتم نے دیکھا ہے کبھی گھر کو بدلتے ہوئے رنگ
آؤ دیکھو نہ تماشا مرے غم خانے کا

اب اسے دار پہ لے جا کے سُلا دے ساقی
یوں بہکنا نہیں اچھّا ترے مستانے کا

دل سے پہنچی تو ہیں آنکھوں میں لہو کی بوندیں
سلسلہ شیشے سے ملنا تو ہے پیمانے کا

ہڈّیاں ہیں کئی لپٹی ہوئی زنجیروں میں
لیے جاتے ہیں جنازہ ترے دیوانے کا

وحدتِ حُسن کے جلووں کی یہ کثرت اے عشق
دل کے ہر ذرّے میں عالم ہے پری خانے کا

چشمِ ساقی اثرِ مے سے نہیں ہے گل رنگ
دل مرے خون سے لبریز ہے پیمانے کا

لوح دل کو، غمِ الفت کو قلم کہتے ہیں
کُن ہے اندازِ رقم حُسن کے افسانے کا

ہر نفَس عمرِ گزشتہ کی ہے میّت فانی
زندگی نام ہے مر مر کے جیے جانے کا

فانی بدایونی

-----

قافیہ - آنے یعنی الف، نون  اور رے اور الف سے پہلے زبر کی آواز جیسے دیوانے میں وانے، ویرانے میں رانے، پیمانے میں مانے، صنم خانے میں خانے، سمجھانے میں جھانے وغیرہ وغیرہ ۔
ردیف - کا
بحر - بحرِ رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع

افاعیل - فاعِلاتُن فَعِلاتُن فَعِلاتُن فَعلُن
(پہلے رکن فاعلاتن کی جگہ مخبون رکن فعلاتن بھی آسکتا ہے، آخری رکن فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلن اور فَعِلان بھی آسکتا ہے یوں آٹھ وزن اکھٹے ہو سکتے ہیں)۔ جیسے ساتویں شعر کے پہلے مصرعے کا آخری ٹکڑا "ہوئے رنگ" فَعِلان پر تقطیع ہوگا۔ اسی طرح دسویں شعر کے دوسرے مصرعے کا پہلا ٹکڑا "لیے جاتے" فَعِلاتن پر تقطیع ہوگا۔ بارہویں شعر کے پہلے مصرعے کا آخری ٹکڑا "گل رنگ" فعلان پر تقطیع ہوگا۔ وغیرہ وغیرہ

علامتی نظام - 2212 / 2211 / 2211 / 22
ہندسوں کو اردو کی طرز پر دائیں سے بائیں پڑھیے۔ یعنی 2212 پہلے ہے اور اس میں بھی 12 پہلے ہے۔
(پہلے 2212 کی جگہ 2211 اور آخری 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتا ہے)

تقطیع -
خلق کہتی ہے جسے دل ترے دیوانے کا
ایک گوشہ ہے یہ دنیا اسی ویرانے کا
خلق کہتی - فاعلاتن - 2212ہِ جسے دل - فعلاتن - 2211ترِ دیوا - فعلاتن - 2211نے کا - فعلن - 22
ایک گوشہ - فاعلاتن - 2212ہِ یِ دنیا - فعلاتن - 2211اسِ ویرا - فعلاتن - 2211نے کا - فعلن - 22---

متفرق فارسی اشعار - 9

حافظ شیرازی کی ایک غزل کے تین اشعار

نیکیِ پیرِ مُغاں بیں کہ چو ما بَدمستاں
ہر چہ کردیم، بچشمِ کَرَمش زیبا بُود

پیرِ مغاں کی نیکی تو دیکھ کہ ہم جیسے بد مستوں نے جو کچھ بھی کیا وہ اسکی نگاہِ کرم میں اچھا (مناسب) تھا۔

مُطرب از دردِ مَحبّت غزلے می پرداخت
کہ حکیمانِ جہاں را مژہ خوں پالا بود

مطرب محبت کے درد سے ایسی غزل گا رہا تھا کہ دنیا کے حکیموں (عقل مندوں) کی پلکیں خون سے آلودہ تھیں۔

قلبِ اندودۂ حافظ برِ او خرج نَشُد
کہ معامل بہمہ عیبِ نہاں بینا بود

حافظ کے دل کا کھوٹا سکہ اُسکے سامنے نہ چلا (چل سکا)، اس لئے کہ معاملہ کرنیوالا تمام پوشیدہ عیبوں کا دیکھنے والا تھا۔
----------

خمارِ ما و درِ توبہ و دلِ ساقی
بیک تبسّمِ مینا، شکست و بست و کُشاد

(مخلص خان عالمگیری)

ہمارا خمار، توبہ کا دروازہ اور ساقی کا دل، مینا کے ایک تبسم سے، ٹوٹ گیا (خمار) اور بند ہو گیا (توبہ کا دروازہ) اور کِھل اٹھا (دلِ ساقی)۔----
تُو اے پیماں شکن امشب بما باش
کہ ما باشیم فردا یا نہ باشیم

(ابوالفیض فیضی)

اے پیماں شکن آج کی رات ہمارے ساتھ رہ، کہ کل ہم ہوں یا نہ ہوں۔-----

ما ز آغاز و ز انجامِ جہاں بے خبریم
اوّل و آخرِ ایں کہنہ کتاب افتادہ است

ابو طالب کلیم کاشانی (ملک الشعرائے شاہجہانی)۔

ہم اس جہان کے آغاز اور انجام سے بے خبر ہیں کہ یہ ایک ایسی پرانی (بوسیدہ) کتاب ہے کہ جس کے شروع اور آخر کے ورق گر گئے ہیں۔
-----
اگرچہ وعدۂ خوباں وفا نمی دانَد
خوش آں حیات کہ در انتظار می گذرَد

(صائب تبریزی)

اگرچہ خوباں کا وعدہ، وفا ہونا نہیں جانتا (وفا نہیں ہوتا، لیکن) وہ زندگی بہت خوب ہے جو انتظار میں گزرتی ہے۔
-----
اہلِ ہمّت را نباشد تکیہ بر بازوئے کس
خیمۂ افلاک بے چوب و طناب استادہ است

(ناصر علی سرہندی)

ہمت والے لوگ کسی دوسرے کے زورِ بازو پر تکیہ نہیں کرتے، (دیکھو تو) آسمانوں کا خیمہ چوب اور طنابوں کے بغیر ہی کھڑا ہے۔
----Persian poetry with urdu translation, farsi poetry with urdu translation, فارسی شاعری مع اردو ترجمہ، فارسی شاعری بمع اردو ترجمہ، فارسی شاعری اردو ترجمے کے ساتھ
دل خاکِ سرِ کوئے وفا شُد، چہ بجا شُد
سر در رہِ تیغِ تو فدا شُد، چہ بجا شُد

(عبدالقادر بیدل)

ہمارا دل، کوئے وفا کی خاک ہوگیا، کیا ہی خوب ہوا، اور سر تیری تلوار کی راہ میں فدا ہوگیا، کیا ہی اچھا ہوا۔
---

ما و خاکِ رہگذر بر فرقِ عریاں ریختن
گُل کسے جوید کہ او را گوشۂ دستار ہست

(غالب )

ہم ہیں اور اپنے ننگے سر (فرقِ عریاں) پر رہگزر کی خاک ڈالنا، پُھول تو وہ تلاش کرے کہ جس کے پاس دستار ہو۔----
حق اگر سوزی ندَارَد حکمت است
شعر میگردَد چو سوز از دل گرفت

(اقبال)

سچائی میں اگر سوز نہیں ہے تو وہ (فقط عقل و) حکمت ہے، لیکن وہی سچائی جب دل سے سوز حاصل کر لیتی ہے تو شعر بن جاتی ہے۔
----
گماں مبر کہ ستم کردی و وفا نہ کُنَم
بیا بیا کہ ہماں شوق و آرزو باقی است

یہ گمان نہ کر کہ تُو نے مجھ پر ستم کیئے ہیں تو میں وفا نہیں کرونگا، آجا، آجا کہ (اب بھی میرا) وہی شوق اور وہی آرزو باقی ہیں۔

فدائے صُورَتِ زیبا رُخے کہ فانی نیست
نثارِ حُسنِ حسینے کہ حُسنِ اُو باقی است

میں اس خوبصورت چہرے والی صورت پر فدا ہوں کہ (جسکی خوبصورتی) فانی نہیں ہے، میں اس حسین کے حسن پر قربان ہوں کہ جسکا حسن باقی (رہنے والا) ہے۔

(اکبر الٰہ آبادی - دیوان)
-----

قطعہ شیخ سعدی شیرازی مع ترجمہ

شیخ سعدی شیرازی  کا ایک خوبصورت قطعہ

گِلے خوش بوئے در حمّام روزےرسید از دستِ مخدومے بہ دستم
ایک دن حمام میں، ایک مہربان کے ہاتھ سے مجھ تک ایک خوشبودار مٹی پہنچی۔
بدو گفتم کہ مشکی یا عبیری
کہ از بوئے دل آویزِ تو مستم

میں نے اس سے کہا کہ تو مشکی ہے یا عبیری (دونوں اعلیٰ خوشبو کی قسمیں ہیں) کہ تیری دل آویز خوشبو سے میں مَیں مست ہوا جاتا ہوں۔

بگفتا من گِلے ناچیز بُودم
و لیکن مدّتے با گُل نشستم

اس نے کہا میں تو ناچیز مٹی تھی لیکن ایک مدت تک گُل کے ساتھ نشست رہی ہے۔
Saadi Shirazi, Mazar Saadi Shirazi, Persian poetry with urdu translation, farsi poetry with urdu translation, فارسی شاعری مع اردو ترجمہ، فارسی شاعری بمع اردو ترجمہ، فارسی شاعری اردو ترجمے کے ساتھ، مزار شیخ سعدی شیرازیMazar Saadi Shirazi, مزار شیخ سعدی شیرازیجمالِ ہمنشیں در من اثَر کرد
وگرنہ من ہمہ خاکم کہ ہستم

اور ہمنشیں کے جمال نے مجھ پر بھی اثر کر دیا ہے وگرنہ میری ہستی تو محض خاک ہے۔

شیخ سعدی شیرازی علیہ الرحمہ
-----

شیخ غلام قادر گرامی کی نعتیہ رباعیات مع اردو ترجمہ

پچھلی صدی کے مشہور فارسی شاعری شیخ غلام قادر گرامی کی کچھ نعتیہ رباعیات

آں ختمِ رُسل شاہِ عرب ماہِ عجم
آں موجِ نخست است ز دریائے قِدم
در تابشِ آفتابِ محشر چہ غم است
دستِ من و دامنِ رسولِ اکرم

وہ ختمِ رُسل کے جو شاہِ عرب اور ماہِ عجم ہیں۔ وہ جو قدامت کے دریا کی پہلی موج ہیں۔ ہمیں محشر کے آفتاب کی گرمی کا کیا غم کہ محشر میں ہم نے اپنے ہاتھ سے دامنِ رسولِ اکرم ص تھاما ہوگا۔
---
گویم ز مسیحا و محمد سخنے
ثانی دگرست نقسِ اوّل دگرست
نسبت در ماہ و مہر من میدانم
کامل دگرست فردِ کامل دگرست

میں مسیح ع اور محمد ص سے کچھ عرض کرنے کی جسارت کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ دوسرا یعنی مسیح ع کچھ اور ہیں اور اس کائنات کے پہلے نقش یعنی حضورِ اکرم ص کچھ اور ہیں۔ میں چاند، جو محدود روشنی کا حامل ہوتا ہے، اور سورج کہ جسکی ضیا پاشیوں سے سارا جہاں چمکتا ہے، کی نسبت اور فرق کو بخوبی جانتا ہوں کہ کامل ہونا یعنی بتدریج مکمل ہونا کچھ اور چیز ہے اور سراسر اور مکمل ترین اور ہر طرح سے اکمل ہونا کچھ اور ہے۔
----
خاور چکد از شبم بایں تیرہ شبی
کوثر چکد از لبم بایں تشنہ لبی
اے دوست ادب کہ در حریمِ دلِ ماست
شاہنشہِ انبیا رسولِ عربی

میری راتوں میں اس تمام تیرگی کے باوجود سورج چمکتے ہیں۔ میری اس تشنہ لبی کے باوجود میرے ہونٹوں سے کوثر کے قطرے ٹپکتے ہیں۔ اے دوست ادب کہ ہمارے دل کے حریم میں شاہنشاہِ انبیا رسولِ عربی ص بستے ہیں۔
----

پیغمبرِ ما کہ انبیا راست امام
جبریل آوردش از خداوند پیام
بودش برحِکمِ فطرت انجام آغاز
در دائرہِ نبوّت آغاز انجام

ہمارے پیغمر ص کہ جو تمام انبیا کے امام ہیں اور جبریلِ امین انکے پاس خدا کا پیغام لائے۔ آپ ص کا انجام اور آغاز دونوں فطرت کی حکمتوں پر مبنی تھے، گویا آپ دائرہ نبوت کا ایک ایسا مقام ہیں کہ جہاں سے آغاز بھی ہوتا ہے اور اختتام بھی۔
----
Rubaiyat, Rubai, persian poetry with urdu translation, farsi poetry with urdu translation, Sheikh Ghulam Qadir Grami, ،رباعیات شیخ غلام قادر گرامی  مع اردو ترجمہ،  فارسی شاعری مع اردو ترجمہ، رباعی، نعتشیخ غلام قادر گرامی, Sheikh Ghulam Qadir Grami
فاراں دگرست کوہِ سینا دگرست
موسیٰ دگر و مثیلِ موسیٰ دگرست
در موسیٰ و مصطفیٰ چہ رمزیست غریب
ساحل دگرست، عینِ دریا دگرست

کوہِ فاران کچھ اور چیز ہے اور کوہِ سینا کچھ اور، مُوسیٰ ع کچھ اور ہیں اور مثیلِ مُوسیٰ ص کچھ اور۔ مُوسیٰ ع اور مصطفیٰ ص کے درمیان کیا ہی منفرد رمز ہے کہ ساحل کچھ اور چیز ہے یعنی مُوسیٰ اور عین دریا کچھ اور یعنی حضورِ اکرم ص۔
----

اے ختمِ رُسل جانِ جہاں فارقلیط
خوانند ترا بر آسماں فارقلیط
می گفت مسیح در بشاراتِ جلیل
من میروم آید بجہاں فارقلیط

اے آخری رسول ص، زمانے کی جان فارقلیط۔ آپ ص کو آسمانوں پر فارقلیط کہا جاتا ہے۔ مسیح ع نے اپنی عظیم و جلیل بشارات میں کہا کہ میں جا رہا ہوں اور اب دنیا میں فارقلیط ص آتے ہیں۔
----

ما را در سینہ داغِ ماہِ عرب ست
بر ما نظرش بے سببی ہا سبب ست
رمزیست نگفتنی بگویم اے دوست
میم است کہ پردہ دارِ عینِ عرب ست

ہمارے سینے میں ماہِ عرب یعنی رسولِ اکرم ص کا ہی عشق اور سوز ہے۔ ہمارے حال پر انکی نظر ہے سو تمام بے سر و سامانی کے باوجود یہی انکی نظرِ کرم ہی سارے سبب ہیں۔ اے دوست میں تجھ سے ایک ناگفتنی رمز کہتا ہوں کہ میم عرب کے عین کی پردہ دار ہے۔ آخری مصرعے میں وحدت الوجودی صوفیا کا عقیدہ بیان ہوا ہے۔
----

کُوچہٴ دلبر میں مَیں، بُلبُل چمن میں مست ہے - غزلِ آتش

کُوچہٴ دلبر میں مَیں، بُلبُل چمن میں مست ہے
ہر کوئی یاں اپنے اپنے پیرہن میں مست ہے

نشّہٴ دولت سے منعم پیرہن میں مست ہے
مردِ مفلس حالتِ رنج و محن میں مست ہے

دورِ گردوں ہے خداوندا کہ یہ دورِ شراب
دیکھتا ہوں جس کو میں اس انجمن میں مست ہے

آج تک دیکھا نہیں یاں آنکھوں نے روئے خمار
کون مجھ سا گنبدِ چرخِ کہن میں مست ہے

گردشِ چشمِ غزالاں، گردشِ ساغر ہے یاں
خوش رہیں اہلِ وطن، دیوانہ بن میں مست ہے

Khwaja Haider Ali Aatish, خواجہ حیدر علی آتش، Urdu Poetry, Urdu Shairi, Urdu Ghazal, Ilm-e-Arooz, Ilm-e-Urooz, Taqtee, Behr, اردو شاعری، اردو غزل، علم عروض، تقطیع، بحرKhwaja Haider Ali Aatish, خواجہ حیدر علی آتش
ہے جو حیرانِ صفائے رُخ حلب میں آئنہ
بوئے زلفِ یار سے آہو ختن میں مست ہے

غافل و ہشیار ہیں اُس چشمِ میگوں کے خراب
زندہ زیرِ پیرہن، مردہ کفن میں مست ہے

ایک ساغر دو جہاں کے غم کو کرتا ہے غلط
اے خوشا طالع جو شیخ و برہمن میں مست ہے

وحشتِ مجنوں و آتش میں ہے بس اتنا ہی فرق
کوئی بن میں مست ہے کوئی وطن میں مست ہے

خواجہ حیدر علی آتش
-------

قافیہ - مَن یعنی نون ساکن اور اس سے پہلے زبر کی آواز جیسے چمن میں من، پیرہن میں ہن محن میں حن، انجمن میں من، بن وغیرہ۔

ردیف - میں مست ہے۔

بحر - بحر رمل مثمن محذوف

 افاعیل: فاعلاتُن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
آخری رکن فاعلن میں مسبغ رکن فاعلان بھی آ سکتا ہے جیسے تیسرے شعر کے پہلے مصرعے کے الفاظ "دورِ شراب" میں ٹکڑے "رے شراب" کی تقطیع فاعلان ہوگی، وغیرہ۔

علامتی نظام - 2212 2212 2212 212
ہندسوں کو اردو طرز پر پڑھیے یعنی دائیں سے بائیں یعنی 2212 پہلے ہے اور اس میں بھی 2 پہلے اور 1 بعد میں ہے۔ آخری 212 کی جگہ 1212 بھی آ سکتا ہے۔

تقطیع -

کُوچہٴ دلبر میں مَیں، بُلبُل چمن میں مست ہے
ہر کوئی یاں اپنے اپنے پیرہن میں مست ہے

کُوچہ اے دل - فاعلاتن - 2212
بر مِ مےبُل - فاعلاتن - 2212
بُل چمن مے - فاعلاتن - 2212
مست ہے - فاعلن - 212

ہر کُ ئی یا - فاعلاتن - 2212
اپ نِ اپنے - فاعلاتن - 2212
پیرہن مے - فاعلاتن - 2212
مست ہے - فاعلن - 212
-----

جو دلوں کو فتح کر لے، وہی فاتحِ زمانہ - جگر مرادآبادی

یہ فلک یہ ماہ و انجم، یہ زمین یہ زمانہ
ترے حُسن کی حکایت، مرے عشق کا فسانہ

یہ ہے عشق کی کرامت، یہ کمالِ شاعرانہابھی مُنہ سے بات نکلی، ابھی ہو گئی فسانہ
یہ علیل سی فضائیں، یہ مریض سا زمانہتری پاک تر جوانی، ترا حُسنِ معجزانہ
یہ مرا پیام کہنا تُو صبا مؤدّبانہکہ گزر گیا ہے پیارے، تجھے دیکھے اِک زمانہ
مجھے چاکِ جیب و دامن سے نہیں مناسبت کچھیہ جُنوں ہی کو مبارک، رہ و رسمِ عامیانہ
تجھے حادثاتِ پیہم سے بھی کیا ملے گا ناداں؟ترا دل اگر ہو زندہ، تو نفَس بھی تازیانہ
تری اِک نمود سے ہے، ترے اِک حجاب تک ہےمری فکرِ عرش پیما، مرا نازِ شاعرانہ
وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہجو دلوں کو فتح کر لے، وہی فاتحِ زمانہJigar Muradabadi, جگر مُرادآبادی، Urdu Poetry, Urdu Shairi, Urdu Ghazal, Ilm-e-Arooz, Ilm-e-Urooz, Taqtee, Behr, اردو شاعری، اردو غزل، علم عروض، تقطیع، بحرJigar Muradabadi, جگر مُرادآبادی
یہ ترا جمالِ کامل، یہ شباب کا زمانہدلِ دشمناں سلامت، دلِ دوستاں نشانہ
کبھی حُسن کی طبیعت نہ بدل سکا زمانہوہی نازِ بے نیازی، وہی شانِ خسروانہ
مجھے عشق کی صداقت پہ بھی شک سا ہو چلا ہےمرے دل سے کہہ گئی کیا، وہ نگاہِ ناقدانہ
تجھے اے جگر ہوا کیا کہ بہت دنوں سے پیارےنہ بیانِ عشق و مستی، نہ حدیثِ دلبرانہ-----
قافیہ - آنہ یعنی ا ن ہ اور اس سے پہلے زبر کی آواز جیسے زمانہ میں مانہ، فسانہ میں سانہ، معجزانہ میں زانہ، عامیانہ میں یانہ وغیرہ۔

ردیف - اس غزل کی کوئی ردیف نہیں یعنی یہ غزل غیر مردف ہے۔

بحر - بحر رمل مثمن مشکول

 افاعیل: فَعِلاتُ فاعلاتُن / فَعِلاتُ فاعلاتُن
یہ ایک مقطع بحر ہے یعنی ہر مصرع دو مساوی ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا ہے اور ہر ٹکڑا بھی ایک مصرعے کے حکم میں آ سکتا ہے یعنی اس میں عملِ تسبیغ کیا جا سکتا ہے یعنی ہر فاعلاتن کو فاعلاتان بنایا جا سکتا ہے۔

علامتی نظام -  1211 2212 / 1211 2212
ہندسوں کو اردو طرز پر پڑھیے یعنی دائیں سے بائیں یعنی 1211 کا ٹکڑا پہلا ہے اور اس میں بھی 11 پہلے ہے۔ ہر 2212 کو 12212 بنایا جا سکتا ہے۔

تقطیع -

یہ فلک یہ ماہ و انجم، یہ زمین یہ زمانہ
ترے حُسن کی حکایت، مرے عشق کا فسانہ
ی فلک ی - فعلات - 1211ماہ انجم - فاعلاتن - 2212ی زمین - فعلات - 1211یہ زمانہ - فاعلاتن - 2212
ترِ حُسن - فعلات - 1211کی حکایت - فاعلاتن - 2212مرِ عشق - فعلات - 1211کا فسانہ - فاعلاتن - 2212----

اے دل، مدام بندۂ آں شہر یار باش - غزلِ سیّد نصیر الدین نصیر مع ترجمہ

اے دل، مدام بندۂ آں شہر یار باش
بے غم ز گردشِ فلکِ کج مدار باش

اے دل ہمیشہ کیلیے اس شہریار (سردار) کا غلام بن جا، اور کج مدار فلک کی گردش کے غم (غمِ دنیا) سے چھٹکارا حاصل کر لے۔

ہرگز مبیچ گردنِ تسلیم ز امرِ دوست
چوں کوہ در طریقِ رضا استوار باش

دوست کے حکم کے سامنے گردنِ تسلیم کبھی مت اُٹھا، اور پہاڑوں کی طرح رضا و تسلیم کے طریق میں ثابت قدم ہو جا۔

بے سوزِ عشق ، زیست بُوَد شمعِ بے فروغ
پروانہ وار مردِ محبّت شعار باش

سوز عشق کے بغیر زندگی ایک بے فروغ شمع ہے، پروانہ وار محبت شعار مردوں کی طرح بن جا۔

لوحِ جبینِ خویش بہ خاکِ درش بِسائے
با روزگار ہمدم و با بخت یار باش

اپنی پیشانی کے خط کو اسکے در کی خاک سے سجائے رکھ اور روزگار کا ہمدم بن جا اور قسمت کا دھنی ہو جا۔

دل را بہ دامِ گیسوئے جاناں اسیر کن
وز بندِ راہ و رسمِ جہاں رستگار باش

دل کو گیسوئے جاناں کا قیدی بنا لے اور دنیا کے رسم و رواج کی قید سے آزاد ہو جا۔

از عشقِ دوست قطع مکن رشتۂ اُمید
آسودہ از ہجومِ غمِ روزگار باش

دوست کے عشق سے امید کا رشتہ منقطع مت کر، اور غمِ روزگار کے ہجوام سے آسودہ ہو جا۔

اے دل، کنوں کہ بارِ امانت گرفتہ ای
محنت بہ جانِ خویش کَش و بُردبار باش

اے دل اب جب کہ تُو نے امانت کا بوجھ اٹھا ہی لیا ہے تو اپنی جان پر محنت اٹھا اور بردبار بن جا۔
Persian poetry with Urdu Translation, Farsi poetry with Urdu Translation, Ilm-e-Arooz, Ilm-e-Urooz, Taqtee, Pir Syyed Naseer-ud-Din Naseer, علم عروض، تقطیع، پیر سید نصیر الدین نصیر شاہ، فارسی شاعری مع اردو ترجمہNaseer-Ud-Din Naseer, سید نصیر الدین نصیر
سر در رَہَش فدا کن و دل بر رُخَش نثار
خون از جگر چکان و بچشم اشکبار باش

اسکی راہ میں سر فدا کر دے، اور اسکے رخ پر دل نثار،جگر سے خون ٹپکانے اور آنکھوں سے آنسو بہانے والا بن جا۔

تا دُرد نوش ساقیِ کوثر شدی نصیر
سرشارِ بادۂ کرمِ کردگار باش

نصیر چونکہ ساقیِ کوثر (ص) کا دُرد نوش (تہہِ جام و تلچھٹ پینے والا) ہے لہذا کردگار کے بادۂ کرم سے سرشار ہے۔
----

قافیہ - آر یعنی الف اور رے ساکن اور ان سے پہلے زبر کی آواز جیسے شہریار میں یار، کج مدار میں دار، استوار میں وار، شعار میں عار وغیرہ۔

ردیف - باش

بحر - بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف

 افاعیل: مَفعُولُ فاعِلاتُ مَفاعِیلُ فاعِلُن
آخری رکن میں‌ فاعلن کی جگہ فاعلان بھی آسکتا ہے، جیسا کہ اس غزل کے مطلع اور ہر شعر کے دوسرے مصرعے میں ہے۔

علامتی نظام - 122 / 1212 / 1221 / 212
ہندسوں کو اردو کی طرز پر دائیں سے بائیں پڑھیے۔ یعنی 122 پہلے ہے اور اس میں بھی 22 پہلے ہے۔
(آخری رکن میں‌ 212 کی جگہ 1212 بھی آ سکتا ہے)

 تقطیع -

اے دل، مدام بندۂ آں شہر یار باش
بے غم ز گردشِ فلکِ کج مدار باش

اے دل مُ - مفعول - 122دام بندَ - فاعلات - 1212ء آ شہر - مفاعیل - 1221یار باش - فاعلان - 1212
بے غم ز - مفعول - 122گردشے فَ - فاعلات - 1212لَکے کج مَ - مفاعیل - 1221دار باش - فاعلان - 1212----

رباعیاتِ سرمد شہید مع اردو ترجمہ - 6

(36)

چوں پیر شدم گناہ گردید جواں
بشگفت گُلِ داغ بہنگامِ خزاں
ایں لالہ رخاں، طفل مزاجم کردند
گہ متّقیَم، گاہ سراپا عصیاں

جب میں بوڑھا ہوا تو میرے گناہ جوان ہو گئے۔ گویا عین خزاں میں گلِ داغ کھل اٹھا۔ ان لالہ رخوں نے میرا مزاج بچوں جیسا کر دیا ہے کہ کبھی تو میں متقی ہوں اور کبھی سراپا گنہگار۔
------

(37)

گہ شہر و دیار، گہ بصحرا رفتی
در راہِ ہوس بصد تمنّا رفتی
ایں قافلہ نزدیک سرِ منزل شد
اتمامِ سفر گشت، کجا ہا رفتی

کبھی تو شہروں شہروں گھومتا رہا اور کبھی صحرا میں۔ ہوس کی راہ میں تُو سینکڑوں تمناؤں کے ساتھ چلتا رہا۔ یہ (زندگی کا)ا قافلہ منزل کے نزدیک آ پہنچا اور سفر تمام ہونے کو آیا، (خود ہی سوچ کہ) تُو کہاں کہاں (بے فائدہ ہی) گھومتا رہا۔
-----

(38)

بنگر کہ عزیزاں ہمہ در خاک شدند
در صید گہِ فنا بفتراک شدند
آخر ہمہ را خاک نشیں باید شد
گیرم کہ برفعت ہمہ افلاک شدند

دیکھو کہ سب عزیز و اقارب خاک میں چلے گئے۔ فنا کی شکار گاہ میں فتراک میں چلے گئے۔ آخر سبھی کو خاک نشیں ہی ہونا ہے، چاہے وہ رفعتوں میں افلاک ہی کیوں نہ ہو جائیں، میں نے جان لیا۔
------
Rubaiyat-e-Sarmad Shaheed, mazar Sufi sarmad shaheed, persian poetry with urdu translation, farsi poetry with urdu translation, rubai, ، رباعیات سرمد شہید مع اردو ترجمہ،  مزار صوفی سرمد شہید، فارسی شاعری مع اردو ترجمہ، رباعیMazar Sufi Sarmad Shaheed, مزار صوفی سرمد شہید
(39)

ہر کس بہوس باغِ جہاں دید و گذشت
خار و گُلِ پژمردہ بہم چید و گذشت
ایں صورتِ ہستی کہ تمامش معنیست
افسوس بر آں کس کہ نہ فہمید و گذشت

ہر کسی نے اس باغِ جہاں کو ہوس اور چاہ سے دیکھا اور چلا گیا، کانٹوں اور مرجھائے ہوئے ہھولوں کے سوا کچھ بھی نہ چنا اور چلا گیا۔ یہ زندگی کہ تمام کی تمام (سمجھ میں آ جانے والی اور کھلی کھلی نشانیوں کے ساتھ) معنی ہے، افسوس اُس پر کہ جس نے اسے نہ سمجھا اور چلا گیا۔
-----

(40)

از کارِ جہاں عقدہ کشودم ہمہ را
در محنت و اندوہ ربودم ہمہ را
حق دانی و انصاف نہ دیدم ز کسے
دیدم ہمہ را و آزمودم ہمہ را

اس کارِ جہاں میں میں نے سب کے عقدے وا کیے، اور سب کسی کے محن و رنج و غم دُور کیے لیکن میں نے کسی میں بھی حق شناسی اور انصاف نہ دیکھا گو میں نے سب کو دیکھا اور سب کو آزمایا۔
-----

میرے سنگِ مزار پر فرہاد - غزلِ میر تقی میر

میرے سنگِ مزار پر فرہاد
رکھ کے تیشہ کہے ہے یا اُستاد

ہم سے بن مرگ کیا جدا ہو ملال
جان کے ساتھ ہے دلِ ناشاد

آنکھیں موند اور سفر عدم کا کر
بس بہت دیکھا عالمِ ایجاد

فکرِ تعمیر میں نہ رہ منعم
زندگانی کی کچھ بھی ہے بنیاد؟

خاک بھی سر پہ ڈالنے کو نہیں
کس خرابہ میں ہم ہوئے آباد

سنتے ہو، ٹک سنو کہ پھر مجھ بعد
نہ سنو گے یہ نالہ و فریاد

لگتی ہے کچھ سموم سی تو نسیم
خاک کس دل جلے کی کی برباد

بھُولا جا ہے غمِ بُتاں میں جی
غرض آتا ہے پھر خدا ہی یاد
Mir Taqi Mir, میر تقی میر, Urdu Poetry, Urdu Shairi, Urdu Ghazal, Classical Urdu Poetry, Ilm-e-Arooz, Ilm-e-Urooz, Taqtee, Behr, Meer Taqi Meer, اردو شاعری، اردو غزل، کلاسیکی ارو شاعری، علم عروض، تقطیع، بحرMir Taqi Mir, میر تقی میر
تیرے قیدِ قفس کا کیا شکوہ
نالہ اپنے سے، اپنے سے فریاد

ہرطرف ہیں اسیر ہم آواز
باغ ہے گھر ترا تو اے صیّاد

ہم کو مرنا یہ ہے کہ کب ہوں گے
اپنی قیدِ حیات سے آزاد

ایسا ہرزہ ہے وہ کہ اٹھتے صبح
سو جگہ جانا اس کی ہے معتاد

نقش صورت پذیر نہیں اس کا
یوں ہی تصدیع کھینچے ہے بہزاد

خوب ہے خاک سے بزرگاں کی
چاہنا تو مرے تئیں امداد

پر مروّت کہاں اسے اے میر
تو ہی مجھ دل جلے کو کر ناشاد

نامرادی ہو جس پہ پروانہ
وہ جلاتا پھرے چراغِ مراد

میر تقی میر
-----

قافیہ - آد یعن ساکن الف دال اور ان سے پہلے زبر کی آواز جیسے استاد میں تاد، فرہاد میں ہاد، ناشاد میں شاد، ایجاد میں جاد وغیرہ۔

ردیف - اس غزل کی کوئی ردیف نہیں یعنی یہ غیر مردف ہے۔

 بحر - بحر خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع

افاعیل - فاعِلاتُن مُفاعِلُن فَعلُن
(پہلے رکن فاعلاتن کی جگہ مخبون رکن فعلاتن بھی آسکتا ہے، آخری رکن فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلن اور فَعِلان بھی آسکتا ہے یوں آٹھ وزن اکھٹے ہو سکتے ہیں)۔ تفصیل کیلیئے میرا مقالہ “ایک خوبصورت بحر - بحر خفیف” دیکھیئے)

علامتی  نظام - 2212 2121 22
ہندسوں کو اردو رسم الخط کے مطابق پڑھیے یعنی دائیں سے بائیں یعنی 2212 پہلے پڑھیے۔ اور اس میں بھی 12 پہلے ہے۔
(پہلے 2212 کی جگہ 2211 اور آخری 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتا ہے)

تقطیع -

میرے سنگِ مزار پر فرہاد
رکھ کے تیشہ کہے ہے یا استاد

میرِ سنگے - فاعلاتن - 2212
مزار پر - مفاعلن - 2121
فرہاد - فعلان - 122

رک کِ تیشہ - فاعلاتن - 2212
کہے ہِ یا - مفاعلن - 2121
استاد - فعلان - 122
----

ایں قدَر مَستم کہ از چشمَم شراب آید بروں - غزل مولانا جامی مع اردو ترجمہ

ایں قدَر مَستم کہ از چشمَم شراب آید بروں
وَز دلِ پُر حسرتم دُودِ کباب آید بروں

میں اس قدر مست ہوں کہ میری آنکھوں سے (آنسوؤں کی جگہ) شراب باہر آ رہی ہے اور میرے دلِ پُر حسرت سے اس طرح دھواں اٹھ رہا ہے کہ جیسے کباب سے دھواں اٹھتا ہے۔

ماہِ من در نیم شب چوں بے نقاب آید بروں
زاہدِ صد سالہ از مسجد خراب آید بروں

میرا چاند آدھی رات کو اگر بے نقاب باہر نکلے تو سو سالہ زاہد بھی مسجد سے خراب اور اسکا دیوانہ ہو کر باہر نکل آئے۔

صُبح دم چوں رُخ نمودی شُد نمازِ من قضا
سجدہ کے باشد روا چوں آفتاب آید بروں

صبح کے وقت جب تیرا چہرا دیکھا تو میری نماز قضا ہو گئی کیونکہ سجدہ کیسے روا ہو سکتا ہے جب کہ سوج نکل آئے۔

ایں قدَر رندَم کہ وقتِ قتل زیرِ تیغِ اُو
جائے خوں از چشمِ من موجِ شراب آید بروں

میں اس قدر رند ہوں کہ وقتِ قتل اسکی تلوار کے نیچے، خون کی بجائے میری آنکھوں سے موجِ شراب ابل ابل کر باہر آ رہی ہے۔

یارِ من در مکتب و من در سرِ رہ منتظر
منتظر بودم کہ یارم با کتاب آید بروں

میرا یار مکتب میں ہے اور میں راہ میں کھڑا منتظر ہوں کہ وہ کتاب کے ساتھ کب باہر آتا ہے۔
Persian poetry with urdu translation, farsi poetry with urdu translation, فارسی شاعری مع اردو ترجمہ، فارسی شاعری بمع اردو ترجمہ، فارسی شاعری اردو ترجمے کے ساتھمولانا نور الدین عبدالرحمٰن جامی، ھرات، افغانستان، ن، Maulana Abdur Rahman Jamiمزار مولانا نور الدین عبدالرحمٰن جامی، ھرات، افغانستان
قطرہٴ دردِ دلِ جامی بہ دریا اُوفتد
سینہ سوزاں، دل کتاں، ماہی ز آب آید بروں

جامی کے دردِ دل کا ایک قطرہ دریا میں گر پڑے تو جلتے ہوئے سینے اور پارہ پارہ دل کے ساتھ مچھلی بھی پانی سے باہر آ جائے۔

(مولانا نُور الدین عبدالرحمٰن جامی)

----

قافیہ - آب یعنی ساکن اب اور اس سے پہلے زبر کی آواز جیسے شراب میں راب، کباب میں باب، نقاب میں قاب، خراب میں راب وغیرہ۔

ردیف - آید بروں

 بحر - بحر رمل مثمن محذوف

افاعیل - فاعِلاتُن فاعِلاتُن فاعِلاتُن فاعِلُن
آخری رکن فاعلن کی جگہ مسبغ رکن فاعلان بھی آسکتا ہے۔

علامتی  نظام - 2212 / 2212 / 2212 / 212
ہندسوں کو اردو رسم الخط کے مطابق پڑھیے یعنی دائیں سے بائیں یعنی 2212 پہلے پڑھیے۔ اور اس میں بھی 12 پہلے ہے۔
(آخری 212 کی جگہ 1212 بھی آ سکتا ہے)

تقطیع -

ایں قدَر مَستم کہ از چشمَم شراب آید بروں
وَز دلِ پُر حسرتم دُودِ کباب آید بروں
ای قدر مس - فاعلاتن - 2212تم ک از چش - فاعلاتن - 2212مم شرابا - فاعلاتن - 2212 - یہاں الف کا وصال ہوا ہے اور تمام قافیہ ردیف میں یہی صورتحال ہے۔ید برو - فاعلن - 212
وز دلے پُر - فاعلاتن - 2212حسرتم دُو - فاعلاتن - 2212دے کبابا - فاعلاتن - 2212ید برو - فاعلن - 212------

شامِ غم کی سحر نہیں ہوتی - ابنِ انشا

شامِ غم کی سحر نہیں ہوتی
یا ہمیں کوخبر نہیں ہوتی

ہم نے سب دُکھ جہاں کے دیکھے ہیں
بے کلی اِس قدر نہیں ہوتی

نالہ یوں نا رسا نہیں رہتا
آہ یوں بے اثر نہیں ہوتی

چاند ہے، کہکشاں ہے، تارے ہیں
کوئی شے نامہ بر نہیں ہوتی

ایک جاں سوز و نامراد خلش
اِس طرف ہے اُدھر نہیں ہوتی

دوستو، عشق ہے خطا لیکن
کیا خطا درگزر نہیں ہوتی؟

رات آ کر گزر بھی جاتی ہے
اک ہماری سحر نہیں ہوتی
Urdu Poetry, Urdu Ghazal, Ilm-e-Arooz, Ilm-e-Urooz, Taqtee, اردو شاعری، اردو غزل، علم عروض، تقطیع, Ibn-e-Insha, behr, بحر خفیف، ابن انشاIbn-e-Insha, ابنِ انشا
بے قراری سہی نہیں جاتی
زندگی مختصر نہیں ہوتی

ایک دن دیکھنے کو آجاتے
یہ ہوس عمر بھر نہیں ہوتی

حُسن سب کو، خدا نہیں دیتا
ہر کسی کی نظر نہیں ہوتی

دل پیالہ نہیں گدائی کا
عاشقی در بہ در نہیں ہوتی

ابنِ انشا
----

قافیہ - اَر یعنی رے ساکن اور اس سے پہلے زبر کی آواز جیسے سحر میں حر، خبر میں بر، قدر میں در، اثر میں ثر، بر وغیرہ۔

ردیف - نہیں ہوتی

 بحر - بحر خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع

افاعیل - فاعِلاتُن مُفاعِلُن فَعلُن
(پہلے رکن فاعلاتن کی جگہ مخبون رکن فعلاتن بھی آسکتا ہے، آخری رکن فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلن اور فَعِلان بھی آسکتا ہے یوں آٹھ وزن اکھٹے ہو سکتے ہیں)۔ تفصیل کیلیئے میرا مقالہ “ایک خوبصورت بحر - بحر خفیف” دیکھیئے)

علامتی  نظام - 2212 2121 22
ہندسوں کو اردو رسم الخط کے مطابق پڑھیے یعنی دائیں سے بائیں یعنی 2212 پہلے پڑھیے۔ اور اس میں بھی 12 پہلے ہے۔
(پہلے 2212 کی جگہ 2211 اور آخری 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتا ہے)

تقطیع -

شامِ غم کی سحر نہیں ہوتی
یا ہمیں کوخبر نہیں ہوتی

شام غم کی - فاعلاتن - 2212سحر نہی - مفاعلن - 2121ہوتی - فعلن - 22
یا ہمی کو - فاعلاتن - 2212خبر نہی - مفاعلن - 2121ہوتی - فعلن - 22-----

Pages