محمود الحق

گرہیں

  آئینہ کے سامنے  مخاطب دوسرے ہوتے ہیں مگر چہرہ اپناہوتا ہے۔ لفظ اپنے لئے ہوتے ہیں مگر سناتے  دوسرے کوہیں۔نصیحت انہیں کرتے ہیں  مگر سمجھاتے خود کو ہیں۔ سوچ کی مہک سے لفظوں کی مالا پہن کر عجز و انکساری میں اتنے جھک جاتے ہیں کہ نشہ میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔ پردے اُٹھانے چاہیں تو بدن تھکن سے چور ہو جائے فاصلے سمٹنے کا نام نہ لیں۔آئینہ میں عکس ہو یا زمین پر پرچھائی ،روشنی گل ہوتے ہی اوجھل ہو جاتے ہیں۔روشنیوں کے ان ہمسفروں سے اندھیروں کے خوف اچھے جو بند آنکھوں میں بھی خواب سجائے رکھتے ہیں۔قیدی پنچھی دانہ دانہ چگتے فضاؤں میں  اُڑتےآزاد پنچھیوں کو حسرت سے تکتے ہیں ، پروں کو پھڑ پھڑاتے ہیں ، یہ جانے بنا کہ  اونچی اُڑان کی طاقت پرواز ان جیسی نہیں ۔ قید جسم کی ہو یاروح کی ، سوچ کی ہویا رات کے خواب کی ۔ قید تنہائی ہے۔بیش قیمت لباس میں جسم بے چینی میں الجھنے جیسا۔ خود پسندی کی دوا سے  مرض دائم کی شفا جیسا۔ خواب یاد رہتے ہیں تعبیر بھول جاتی ہے،منزل یاد رہتی ہے سفر بھول جاتے ہیں، باتیں یاد رہتی ہیں لوگ بھول جاتے ہیں،خوشبو یاد رہتی ہے پھول بھول جاتے ہیں،مشکلیں یاد رہتی ہیں رحمتیں بھول جاتی ہیں،بیماریاں یاد رہتی ہیں  شفائیں بھول جاتی ہیں، نقصان یاد رہتے ہیں انعام و اکرام بھول جاتے ہیں حتی کہ دنیا یاد رہتی ہے آخرت بھول جاتے ہیں۔رفتار اتنی بڑھا لیتے ہیں کہ تھکاوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں یا گھبراہٹ کا۔ خوش نصیبی کے محل کے باسی ہاتھی پر سوار جلوہ افروز ہوتے ہیں اور ایک تالی سے تخلیہ پا لیتے ہیں۔ شمع پر جان نچھاور کرنے والے پروانے آگ سے اُلجھتے اُلجھتے جان سے چلے جاتے ہیں مگر اسے پانے کے لئے کوشش میں کمی نہیں آنے دیتے۔طالب کو جو مقصود ہوتا ہے وہی اس کی طلب ہوتی ہے چاہ ہوتی ہے۔ کڑواہٹ بھرےرویوں کی گرہیں اتنی مضبوطی سے لگائی جاتی ہیں کہ اخلاق و اخلاص  کے دانتوں سے بھی کھلنی مشکل ہوتی ہیں۔ خدمت کرنے والے  صداقت سےعبادت تک جا پہنچتے ہیں۔ محنت   کرنےوالے ریاضت سے شہرت تک جا پہنچتے ہیں۔ خودی کے اُس مقام تک پہنچ جائیں تو رضا بندے تک پہنچتی ہے۔ شہرت کی سیڑھی پر پاؤں جما کر نظریں بلندی کی طرف گاڈ لیتے ہیں مگر عبرت کی دلدل میں دھنس کر رہ جانے والوں کے پاس سے گزر جاتے ہیں۔ جھوٹے فرعونوں کی پیروی و تقلید میں اِتنے آگے بڑھ جاتے ہیں  کہ فرمان کی تابعداری تک بھول جاتے ہیں۔ لفظوں کو سنہری حروف میں لکھتے ہیں لیکن عمل وکردار کے لئے کالے کرتوت کے جلی حروف سے نہیں بچتے۔دستک دینے والے  سوالیوں کودروازے کھلے ملتے ہیں جہاں انہیں روٹیاں گن کر دی جاتی ہیں دعائیں ان گنت لی جاتی ہیں۔فقیر بند دروازوں اور گلیوں سے صدا دیتے گزر جاتے ہیں۔ مکینوں سے انہیں کوئی سروکار نہیں چلمن اُٹھے یا نہ اُٹھے۔
تحریر : محمودالحق           

ایک نقطہ

درد جب اندر اُترتا ہے تو دنیا باہر نکلنے کو پر تولتی ہے۔غم جب باہر نکلنے کو تڑپیں تو خواہشیں مضبوطی سے دل و دماغ کو تھام لیتی ہیں۔حالات سے صرف وہی لڑتے ہیں جو خود پہ قابو پا سکتے ہیں۔جو خود سے چھوٹ رہے ہوں وہ کسی کو کیسے تھام سکتے ہیں۔کتاب پڑھ کر زندگی کو سمجھا جا سکتا ہے لیکن محسوس کرنے کے لئے دوسرے کے درد سے گزرنا ضروری ہوتا ہے۔ مسائل فون اپلیکیشن  کےجی بی  (گیگا بائٹ)کی طرح بڑے سے بڑے  ہوں اور ذہنی استعداد  کی میموری ایم بی (میگا بائٹ)کی طرح کم سے کم کی سطح پر ہو تو انسان انہیں اُٹھانے کی بجائے دبتا چلا جائے گا حتی کہ معمولی سے معمولی خطرات و خدشات انہیں منوں مٹی کے نیچے دھکیل دیتے ہیں۔ جہاں مایوسی و محرومی  بوتل سے نکلےدیو ہیکل جِن کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ جسے بوتل میں دوبارہ پابند سلاسل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو جاتا ہے۔بڑی بلکہ بھاری سوچ کو اندر پنپنے سے پہلے  صبروبرداشت کی میموری کو کئی سو جی بی تک لانا ضروری ہوتا ہے۔فون کا ماڈل تو تمام تقاضے پورا کرتا ضروری جانا جاتا ہے مگر دنیا کو گلوبل ویلج بنانے والوں نے ذہن کو قوت برداشت کی صلاحیت کواپڈیٹ کرنے میں کوئی خاطرخواہ انتظام نہیں کیا۔ جس کے نتائج میں ذہنی دباؤ،سٹریس و ڈپریشن کی صورت میں کئی طرح سے حملہ آور ہے۔ ہائی بلڈ پریشر میں نمک اور ذیابیطس میں میٹھے سے پرہیز لازمی ہوتا ہے۔ نفی اثبات کا پانی ملنے سے تن تندرست اور من مضبوط رہتا ہے۔ کائنات میں زمین ایک نقطہ اور زمین پہ ہم ایک نقطہ۔ سفر چند دہائیوں کا انتظام  و اہتمام صدیوں کا۔آنے والے اپنے مالک خود جانے والے اپنے منصف خود۔لگن سچی ہو ،ارمان ٹوٹنے والے نہ ہوں ، ہاتھ چھوٹنے کا ڈر نہ ہو، تھامنے والے سامنے ہاتھ بڑھانے کو کھڑے ہوں تو راستے کا تعین اتنا مشکل نہیں رہ جاتا۔بھاری سلوں کے نیچے گہیوں پیسے جاتے ہیں ،جب  گندھ کر تپش سے پھول جاتے ہیں تو ہاتھ بڑھا کر تھام لئےجاتے ہیں۔ گلاس آدھا خالی دیکھنے والے خوشیوں سے بھرپور آدھی زندگی کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔بچپن سے پانچ  چھ دہائیوں تک ادوار زندگی  میں درپیش مسائل کو جھیلنے والے گلاس میں پڑے ایک گھونٹ پانی کو بھی بھرا ہوا دیکھتے ہیں۔زندگی عمر کے علم و فکر کے ارتقائی ادوار سے سیکھنے کے عمل سے گزرتی ہے۔جینا اور گزرنا ، جاگنے اور سونے جیسا ہے۔رُک کر بار بار پیچھے دیکھنے والے قافلے سے بچھڑ جاتے ہیں۔آگے بڑھنے کا نام زندگی ہے جو  ماضی کو دفن کر کے چلتی ہے اور سوچ ایک قدم آگے بڑھانے پر دو قدم پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ایک ایک قدم پیچھے جاتا وہ انسان صرف ماضی میں رہ جاتا ہے۔ آسمانوں پر جلوے آنکھوں سے اوجھل ہیں مگر تہہ زمین جگمگاتے ہیرے ٹنوں کوئلوں کے نیچے بھی صرف ہیرا ہی کہلاتا ہے۔ کوئلوں میں وہ ایک پتھر ہی رہتا ہے جب تک کہ جوہری کی نظر التفات کا شکار نہ ہو جائے۔ موقع ہاتھ سے نکل جانے پر کف افسوس ملنے والے اور پرندےکا ہاتھ سے نکل جانے پر آزاد فضاؤں میں اس کی اُڑان پر مسرت پانے والے دیکھنے میں بہت مختلف دیکھائی نہیں دیتے۔جنہیں جس کی تمنا ہوتی ہے ویسے ہی اُس کی منزل تک جانے والے قافلے کے سنگھی ساتھی ہوتے ہیں۔ فرق ظاہر میں نہیں باطن کا ہے۔ ایسے علم کا نہیں جو متکبر کرے بلکہ ایسی سوچ کا ہے جو ایک مسلسل کھینچی لائن میں  بھی نقطہ کا تسلسل دیکھتا ہے۔ کیونکہ وہی ایک نقطہ اسے پہلے زمین سے ملاتا ہے پھر کائنات سے۔
تحریر: محمودالحق             

سفرِ نا تمام

اونچائی کی مناسبت سے سیڑھی کی لمبائی کا تعین کیا جاتا ہے اگر منزلیں زیادہ ہوں تو لفٹ کی مدد درکار ہوتی ہے۔کیونکہ ٹانگیں  وجود کواوپر اُٹھانے  سے آگے بڑھانے کو ترجیح دیتی ہیں۔ دوسری طرف نظر پلک جھپکنے پر انتہائی بلندیوں تک جا پہنچتی ہے اور زمین پر قرب وجوار کے دائرے سے نکلنا  انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔ آزمائشوں کی گھٹڑی سر پر آن پڑے تو کچھ گردن جھکا لیتے ہیں اور باقی آسمان سر پر اُٹھا لیتے ہیں۔جنہیں زندگی میں آسائشیں بچوں کو سالگرہ میں ملے تحفوں کی مانند ملیں وہ ایک کے بعد دوسرے پیکٹ کو کھولنے میں بیتابی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ دو چار دن کے بعد اگلی سالگرہ کے انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں۔جو درد کی سیڑھی اور غم کی چال سے زندگی کی منازل طے کرتے ہیں وہ آزمائشوں کے باغات میں آسائشوں کے پھول کھلنے کا انتظار کرتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ  ایک پھول کے انتظار میں کئی سال  کانٹوں  سے لپٹ کرگزر جاتے ہیں۔خوشی کے بادل برس کر بکھر جاتے ہیں  تو ہوا  مٹی اور روشنی کی محبت کی بھینی بھینی خوشبو سے مہک اُٹھتی ہے۔غم کے بادل گرج کر گزر جاتے ہیں توزمین پیاسی رہ جاتی ہے اور اگلے بادلوں کے انتظار میں روشنی سے دست وگریباں ہو جاتی ہے دھول بن کر۔ بلندیوں سے انسان بہت چھوٹے دیکھائی دیتے ہیں مگر مزاج متکبر نہیں ہوتا  توبہ و استغفار میں سفر گزرتا ہے لیکن جونہی پاؤں زمین پر اُتریں تو گردن اَکڑ جاتی ہے۔ برابر دیکھائی دینے والے اتنے چھوٹے  دیکھائی دینے لگتے ہیں کہ رشتے سنبھالنے مشکل ہو جاتے ہیں۔انسان بیشک ناشکرا جو ٹھہرا۔قیدی درندے کے سامنے ببر شیر جیسے نشہ میں غوطہ زن ہوتا ہے مگر ان کی کھلی آماجگاہوں کے تصور سے رونگھٹے کھڑے کر لیتا ہے۔دیوار پر آئینے لگا دینے سے کمرے بڑے نہیں ہوا کرتے۔ منظر بدل جاتے ہیں مگر حدود وہی رہتی ہے۔ ساتھ والا کمرہ چھوٹا نہیں ہو جاتا۔زندگی ایک کتاب ہے ،حالات  اس کےابواب ہیں اور اسباب صفحات۔پطرس بخاری کے مضمون "میبل اور میں" کی طرح بغیر پڑھے تبصرہ تو کیا جا سکتا ہے مگر نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ نتائج تک پہنچنے کے لئے حقائق کی روشنی کا ہونا بہت ضروری ہے۔ جس سے سولات کے بخارات کا اُٹھنا نا گزیر ہو جاتا ہے۔ایک بار اندر اُتر جاؤ تو دلدل کی طرح سوچ کو اپنے اندر کھینچ کر دھنسا لیتی ہے۔ زندگی کی روشنی سے  سوالات کی تاریکی میں لا کھڑا کرتی ہے جہاں کسی کے ذہن میں اچھوتے خیال کی بجائے ایک سوال  سر اُبھارنے لگتا ہےاور وہ سوال کچھ اس انداز میں پوچھ لیتے ہیں۔  کہ ہم جب تنہا ہوتے ہیں ذات کو ٹٹولتے ہیں بہت اندھیرا ہے بہت زیادہ اندھیرا کچھ بھی تو سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم کون ہیں کیوں ہیں اور کیا ہیں لیکن کبھی کبھی یہ لگتا ھے کہ ہم ہی ہم ہیں اور کوئی بھی نہیں جو ہم سا ہو یہ الجھن ہے یا سوال ؟ایساسوال،پوچھنے والے کی زندگی کی کتاب کا دیباچہ کی مانند ہے جس کے لئے میرے پاس ان الفاظ سے بہتر جواب دینا زرا مشکل تھا۔ ہر انسان دنیا میں دو آنکھوں ، دو ہاتھوں ، دو پاؤں ، حتی کہ دماغ کے دو حصوں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ہمارا وجود ایک اور دو کی مناسبت سے سفر زیست طے کرتا ہے۔انسان اپنے رویے میں بھی ہاں ناں ، خیر و شر، سچ و جھوٹ، حتی کہ جنت و جہنم کے درمیان رسہ کسی میں مصروف عمل رہتا ہے۔انسان سب سے طاقتور اور مضبوط ظاہر و باطن کی کشمکش سے بر سر پیکار رہتا ہے۔ اور یہ ایک فطری عمل ہے اس میں الجھن پیدا ہونا سوچ کی نا ہمواری کی غماز ہے۔ ہر زی روح کے اندر بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کا ہونا فطری ہے۔ وہ ہمارے وجود کے لئے لازم ہیں۔اس لئے ہم اس سے لاپرواہ رہتے ہیں ۔ لیکن جب ان کا بیلنس بگڑ جائے تو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔یہی حال ہماری ذات کے اندر ہونے یا نا ہونے کی فطری کشمکش میں جاری و ساری رہتا ہے۔ہم اس کا حل جواز سے تلاش کرتے ہیں جو ہمیں سوال کے راستے پر ڈال دیتا ہے۔میں کون ہوں ، کیا ہوں، اور کیوں ہوں جیسے سوالات ایسی پنیری ہے جسے کھاد وجود سے حاصل ہوتی ہے ۔ اور وجود صبح و شام کے معمولات سے تھکن سے چور رہتا ہے۔ بچا کھچا ذہنی دباؤ سے کھچاؤ میں چلا جاتا ہے۔ تناور درخت بننے سے پہلے نو خیز پودوں کی کیاریوں سے گھاس پھونس الگ کی جا تی ہے۔ جنگلی جڑی بوٹیوں کو تلف کیا جاتا ہے تب وہ نو خیز پودا پھل دار یا خوشبو دار درخت بنتا ہے۔ انسان صرف سوچ کے بل بوتے پر تناور درخت بننے کی راہ پر گامزن رہتا ہے۔ حالانکہ ابتدائی نو خیزی میں شفافیت اور اکثیر کی طاقت حاصل کرنے کے لئے باہر سے اثر انداز ہونے والے باغی خیالات کا سدباب ضروری ہوتا ہے۔ زندگی کو کتاب کی طرح پڑھیں گے تو ابواب اور صفحات کی ترتیب ایک سے دو ، دس یا سو تک چلتی ہے۔مگر احسا س ایٹم کے زروں کی طرح وجود میں تباہی پھیلاتے ہیں۔جنہیں باہمی ربط سے ہی شانت رکھا جا سکتا ہے۔جب ضرورت پیش آئے تو استعمال میں لاؤ ورنہ خوداعتمادی کی طاقت بنا کر ذات کے کسی گوشے میں محفوظ رکھوجو بوقت ضرورت بیرونی حملہ آور سے بچاؤ کی تدبیر کرے گی۔ 
تحریر  :محمودالحق    

بندگی کا سفر

آنکھیں بدن کا ایسا حصہ ہیں جو فطرت کا عین عکاس وغماز ہیں۔جو کچھ نہیں چھپاتیں دوسروں پر اصل صورت میں عیاں ہوتی ہیں۔خوشی اور غم کے الگ الگ آنسو ہر کوئی پہچان لیتا ہے ۔ غصے اور ہمدردی کے جذبات بھی بھانپ لئے جاتے ہیں۔ مگر آنکھوں کی گہرائی میں چھپی کیفیت  جو سوچ کی غماز ہوتی ہے ہمیشہ نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔زبان الفاظ کی ادائیگی سے پیشتر انہیں کانوں سے یادداشت کی سی ڈی پر ریکارڈ کرتے ہیں پھر چاہے الف ب پ ہو یا اے بی سی، جیسے سنا گیا ہو ویسے ہی لوٹا دئیے جاتے ہیں۔ میٹھے کڑوے،  سچے جھوٹے،زہر آلود نشتر بھرے دوسروں پر اچھال دئیے جاتے ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ اس سے دل ٹوٹے یا روح زخمی ہوتی ہو۔ یہ ایک ایسا فن ہے جسے افراد کی اکثریت بروئے کار لانے میں کسی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ جی بھر کر روزانہ جھوٹ بولنے والوں کو سچ ماننے والے بھی اتنی ہی تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔جن کے لئے جھوٹ ناقابل برداشت ہو وہ تلملاتے رہتے ہیں۔ سچ ماننے والوں کو برا بھلا کہتے اور کوستے رہتے ہیں۔آنکھیں اپنا راز صرف انہی پر کھولتی ہیں جو انہیں پڑھ سکتی ہیں۔ علم نجوم، دست شناسی اور علم الاعداد کی حقیقت ماننے والوں سے اتنی ہی دور رہتی ہے جتنی مشرق سے مغرب۔پہلی نگاہ میں محبت کی کہانیاں ہر معاشرے ہر ثقافت میں عام ہیں۔جس میں نام، چہرے  اور کردار بدلتے رہتے ہیں مگرمرکزی خیال ایک ہی رہتا ہے۔ آنکھوں سے محبت کے پیغام ارسال اور وصول کرنے کا کام لیا جاتا ہے۔ حالانکہ آنکھیں حال دل سنانا چاہتی ہیں  کہ جن کے ساتھ بچپن کھیل کود میں گزرا ،جوانی جن کے سنگ بتائی  ۔کسی کو حالات نے سست کیا کسی کو سخت ۔ کوئی نیک ہوا کوئی بد۔کسی نے سچ کی چادر اوڑھ لی کسی نے جھوٹ کا کفن پہن لیا۔کوئی ایمانداری پر کاربند رہا کسی نے بے ایمانی کو اوڑھنا بچھونا بنایا۔ان کے درمیان  رہ کر اجنبیت کا احساس  بار بار زنجیروں سے چھٹکارا کے لئے زور لگاتا ہے۔ مگر  وہ نہیں جانتے کہ بہت فرق ہے کانوں سے الفاظ کی پہچان سیکھ کر اتار چڑھاؤ سے زبان سے ادائیگی کرنے والے  اور  ان آنکھوں میں جو حسن فطرت کو اپنے اندر سمیٹے ہوئی ہیں  جو کسی کتاب کسی استاد کی محتاج نہیں ہوتیں، فطرت کے حسن کو کشید کر کے جذب کرنے کی بھرپور اہلیت رکھتی ہیں۔  مگر انہیں پھر بھی یہ احساس رہتا ہے کہ ایک جیسے  دیکھائی دینے والے ایک جیسا کیوں نہیں سوچتے لیکن وہ نہیں جانتے کہ کوئلے کی کانوں میں ہی ان کے اندر بیش قیمت ہیرے موجود ہوتے ہیں۔فرق صرف اتنا ہے کہ  ہیرے کوجوہری کی نگاہ میں قدر پانے سے پہلے کوئلے پتھر میں  رہتے ہوئے الگ پہچان حاصل کرنی پڑتی ہے۔ تب اسے ڈھونڈنے والے ملین ٹریلن ٹن پتھر کوئلے کے نیچے سے نکال لیتے ہیں۔ جو اپنے ظاہر اور باطن میں توازن قائم کر لیتے ہیں، دوسرے لفظوں میں اپنے اندر کو   آلائن کر لیتے ہیں ، اتنے طاقت ور ہو جاتے ہیں کہ انہیں ہیرے کی مانند چمکتی ہوئی آنکھیں جو اپنی حیثیت سے بے خبر ارد گرد بسنے والوں کی بے اعتناعی پر غمگسار دیکھائی دیتی ہیں نظر آنے لگتی ہیں۔ بالآخروہ بھی خودشناسی کے سفر پر چل دیتی ہیں جس سے آگے چمکتی آنکھیں کہیں کسی جگہ ان کی منتظر ہوتی ہیں۔ کبھی نہ ختم ہونے والا  آنکھوں سے قلب  تک محدود تعلق  کا سفر ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ رنگ و نسل  اورعلاقائی جغرافیائی حدود سے بالا تر مثبت ،شفاف ،عشق و محبت، بندگی  کا سفر۔
 تحریر:محمودالحق     

زندگی ایک افسانہ حقیقتِ کھوج میں نہ جا


زندگی کی حقیقتوں کو فراموش کر کے باطن ِ ابدی کو تخیل ظاہری کی بنیادوں پر استوار کیا جاتا ہے۔ کم کھونے کا خوف بہت پانے کی جدوجہد میں بیچ راستے میں تھک کر سستانے لگتا ہے۔ منزل دور نہیں ہوتی ارادے کمزور پڑ جاتے ہیں۔ خواہشوں کی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی جستجو اتنی اونچائی پر لے جاتی ہے کہ زمین دیکھائی دینا بند ہو جاتی ہے۔ جو انسان منزل تک پہنچنے کے لئے وقت کا انتظار کرتا ہے وہ خواہش ہوتی ہے اور وقت جب انسان کا انتظار کرتا ہے تو وہ رضائے الہی ہوتی ہے۔بہت پانے کی آس میں کبھی کبھار بہت کچھ کھو دیا جاتا ہے۔ پہاڑوں میں گونجنے والی آواز جب متوجہ کرتی ہے تو کانوں کی مدد سے آنکھوں کو تلاش پر مامور کر دیا جاتا ہے۔یہ سمجھے بغیر کہ پکارنے والا کسی ایک کی توجہ کا مرکز ہو سکتا ہے۔ چوٹیوں پر لے جانے والے ہلکے بھاری پتھر طاقت اور وقت کی قیمت چکاتے ہیں مگر لڑھکانے پر ایک ہی وقت میں بلندی سے پستی کا سفر طے کر لیتے ہیں۔انسان جب ڈر اور خوف کے زیر اثر چلا جاتا ہے تو وہ یقین اور ارادے کی پختگی کی بھاری سلوں کے نیچے دب جاتا ہے۔ مشکلات سے گھبرانے لگتا ہے تو لمحہ بہ لمحہ ٹوٹنے لگتا ہے۔ ہاتھ بڑھا کر ساتھ چلنے پر آمادہ کرنے والوں کو بھی روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ خوف کے سائے اتنا اندھیرا کر دیتے ہیں کہ چکاچوند روشنی انہیں اندھیروں سے زیادہ تکلیف دیتی ہے۔ وقت گزر جاتا ہےزندگی رک جاتی ہے۔ جسم مر جائے تو مٹی ہو جاتا ہے۔ روح بہک جائے تو بھٹک جاتی ہے۔زندگی میں ناکامیوں اور کامیابیوں سے الگ الگ کمزوری اور قوت کی شاخیں نکلتی ہیں۔ جوں جوں خواہشات کے پتے بڑے ہوتے ہیں، یقین کی شاخیں مضبوطی اختیار کر لیتی ہیں تاکہ ان کے وزن کو سہار سکیں۔ نرم سی کونپل جو انگلی کی پور سے مسلی جا سکتی ہے، اتنی قوت کی حامل ہوتی ہے کہ سخت زمین حتی کہ پتھروں تک کو چیر کر اپنی ہمت و قوت کا برملا اظہار کرتی ہیں۔حالات کا مقابلہ دلجمعی سے کرنے والے اعصابی قوت کے حامل بن جاتے ہیں۔جن کے سر پر پریشانیوں کی گھٹڑی اور پاؤں میں مشکلات کی بیڑیاں ان کے ارادوں کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔جتنی کوئی شے چھوٹی سے چھوٹی ہوتی ہے  ان کی تعداد اربوں کھربوں میں چلی جاتی ہے اور بڑی سے بڑی  کی طوالت زندگی کا دارومدار ساخت اور وزن پر ہوتا ہے۔اچھائی اور برائی کے ترازو میں سچ اور جھوٹ کا تناسب بھی لاکھوں اور چند ایک جیسا ہے۔ کسی ایک کا سچ صدیوں بعد بھی زندہ رہتا ہے اور کروڑہا جھوٹ چند سال بعد فراموش کر دئیے جاتے ہیں۔نظام حیات کے برخلاف جھوٹ کی پیوندکاری سے ریا کاری کا پودا اُگایا جا سکتا ہے مگر نظام قدرت کے برخلاف جانے والوں کو انصاف کے بےرحم ہاتھوں کی جکڑ سے بچنے کی امید رکھنی عبث ہے۔ دو میل سے دو ہزار میل تک اختیار و اقتدار کی اس جنگ میں جو جیتا وہی سکندر کا لقب پانے کا حقدار ٹھہرتا ہے۔ جو قومیں اپنی روایت و رواج اور اخلاق و اطوار چھوڑ دیتی ہیں وہ اپنی شناخت کھو دیتی ہیں۔آپس میں دست و گریبان رہتی ہیں۔ وہاں اختیارات کے میٹھے چشمے اقتدار کے بھاری پتھروں سے بند باندھ کر روک لئے جاتے ہیں اور بے کسوں کی بستیاں اُمید کے دیپ جلائے میٹھے پانیوں کے انتظار میں سوکھ جاتی ہیں۔آسمان کی طرف نظریں اُٹھائے وہ مالک سے شکوہ کرتی ہیں کہ جسے تو نے نائب بنایا وہ مالک بن بیٹھے۔ جنہیں تو نے آزاد پیدا کیا وہ نسل در نسل حاکم کے نسل در نسل غلام بنا دئیے گئے۔ 1857 تک سوئی ہوئی قوم کو جاگنے میں 1947 تک 90 سال لگے۔1948 سے   سوئی ہوئی قوم دوبارہ جاگنے پر کب آمادہ ہوتی ہے یہ دیکھنا اب باقی ہے۔      تحریر: محمودالحق

دل دریا سمندروں ڈونگھے

سبز پسند کرنے والے کالے کے قریب نہیں جاتے، نیلا کسی کو بھلا لگے توپیلا کسی کی آنکھیں چندھیا دے۔کوئی سر پر وزن اُٹھاتا ہے تو کسی کی نظریں بارآوری سے جھک جاتی ہیں۔کوئی پاؤں کی حرکت سے چولہا جلاتا ہے تو کوئی قلم کی جنبش سے۔گردشِ خون برقرار رکھنے کے لئے دانتوں سے چبا کر حلق سے اُتارا جاتا ہےاور فاسد بدبو سے جسم چھٹکارا پا لیتا ہے۔کانوں سے دماغ کے نہاں خانوں میں  جو ہوا بن اُترے، زبان سے لفظ کبھی کڑوا تو کبھی میٹھا بن نکلے۔جو اصل  اندررہ جائے غبارِ خیال بن تہہ در تہہ وجودِ ناتواں پر سنگ بار جڑتا رہے۔ جہاں سے جو سیکھا ،اسی دور میں اسے لوٹانا ہوتا ہے۔پیدا ہوتے ہی احساس کا رشتہ پروان چڑھتا ہے پھر پہچان کا ،پھر تعلق گہرا ہوتا ہے زبان کا۔سماج سے تعلق بندھتا ہے تعلیم و تربیت سے۔ افراد سے قرب ملتا ہے اخلاق و اطوار سے۔سوچ پہاڑوں سے اُبلتے پانی کی مثل  گنگناتی شور مچاتی اپنے راستے خود بنا لیتی ہے۔ کسی کو علم ورثے میں ملتا ہے کسی کو طاقت۔کوئی سچ سے بہادری پا لیتا ہے کوئی جھوٹ سے بزدلی۔کوئی حق کے حصول کے لئے کوشش سے آگے بڑھتا ہے تو کوئی چھین کر حق جتاتا ہے۔دو صدیاں پہلے اپنی منزل پا کر سب جا چکے، پچھلی صدی میں جنہیں منزل مل گئی وہ جانے کے انتظار میں۔ بندوبست ایسا کہ شاید لوٹ کر پھر باری آئے ،جو نہ آئی اور نہ ہی آئے گی۔ایک بار آئے ہیں تو ایک بار ہی جانا ہے۔فیلنگ کی دنیا ڈیلنگ سے اتنی ہی دور ہے جتنی جلد کے نیچے شریانوں میں بہتا لہو ہوا سے ،جو جلد کو مَس کرتی گزر جاتی ہے۔نفرت تکبر کو جنم دیتی ہے تو غصہ انتقام کو۔محبت میں احساس غالب رہتا ہے تو رقابت میں حسد پروان چڑھتا ہے۔دل کو کھیل بنانے والادماغ دھیرے دھیرے سوچ کی سنگ باری سے عاجز آنے لگتا ہےاورنفرت حقارت شکوہ شکایت حسد جلن کی بھاری سلوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔ جہاں سے نکلتے نکلتے پاؤں میں لغزش اور ہاتھوں میں رعشہ طاری ہو جاتا ہےاور سر نہ نہ کی تکرار جیسا ہلنے لگتا ہے۔ کوئی نہیں پوچھتا کیا پا یا اور کیا چھوڑا۔ عجب تماشا ہے جو کھلاڑی میدان میں اپنے لئے اُترے اس کی ناقص کارکردگی اجتماعی عزت کا مسئلہ بن جاتی ہے۔حالانکہ  فائدہ بھی خالص اسی کا نقصان بھی اسی کا مگر قیمتی وقت کے ضیاع کی ذمہ داری سے بری الزمہ نہیں۔وہ نفرت حقارت کے ساتھ ساتھ بدزبانی سے بھی محفوظ نہیں رہتے۔ ملاوٹ شدہ خوراک ،جعلی ادویات ،بے ہنگم ٹریفک ،بات بات پر جھوٹ، کسی وعدہ کا وفا نہ ہونا،غریب چاہے پسینے میں نہائے یا خون بہائے،نا انصافی کے ستون سے بندھ کر مظلوم رشوت کے کوڑے کھائے، تو ایسا معاشرہ بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کی عملی تصویر نظر آتاہے۔کس سچ کو ماننے والے ہیں ،کس حق کے پیروکار ہیں ،کس کوراضی رکھنا چاہتے ہیں، کیاہے اس خواب کی تعبیر،کسے مطمئن کرنا چاہتے ہیں،کس سے تعریف و تحسین چاہتے ہیں، کون ہے جو  چند جملوں کے عوض خزانوں کے منہ کھول دے۔آخری ڈگری حصولِ رزق میں مددگار ہوتی ہے  باقی صندوقوں میں پڑی رہتی ہیں۔اللہ تبارک تعالی اپنی راہ میں خرچ کرنے والوں کو انعام و اکرام کی خوشخبری دیتا ہے۔جو رزق عطا فرماتا ہے وہ بھی اسی کے فضل سے ہے۔ایسی جنت جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں جہاں کھجور اور انگور کے باغات ہیں ۔اس زمانہ میں رائج دستور ِحیات کے مطابق رہنے سے تو پانا مشکل نظر آتا ہے۔ دنیاوی امارت ،شہرت ،امامت کے لئے فلسفہ ءجہالت پر اتنا زور کہ دم ہی نکلنے سے رہ جائے۔ جو آسائش پالیں وہ خوش نصیب جو رہ جائیں وہ ناکام و نامراد۔ مراد  بر آنے کی ایک ہی صورت ہے کہ مدد مانگو صبر اور نمازسے بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔انسان زندگی کے پہلے دس  سال میں صرف سیکھتا ہے آخری دس سال میں صرف بھولتا ہے۔ درمیانی پچاس ساٹھ سال صرف  دوڑنے میں گزر جاتے ہیں۔چاہے حصے میں جیت آئے یا ہار۔جنہوں نے آنکھوں سے لفظوں کی پہچان کو بھولتے دیکھا ہو،زبان سے لفظوں کی ادائیگی کو رکتے دیکھا ہو،ہاتھوں اور انگلیوں سے نوالہ بنانے اور پکڑنے کو بھولتے دیکھا ہو،ٹانگوں پر جسم کو بوجھ محسوس کرتے دیکھا ہو، ایک ایک اعضاء کی موت کا منظر سالہا سال دیکھا ہو،ڈگریوں کو صندوق میں اور دولت کو بینک میں کسی کام نہ آتے دیکھا ہو، وہ لاکھوں  میں چند ایک ہوں گے اور ان کے لئے زندگی کا روائتی فلسفہء حیات   درسگاہی  کتب جیسا نہیں ہو سکتا۔علم و عرفان کی آگہی جنہیں نصیب ہو وہ اپنی دنیا آباد کر لیتے ہیں جس میں مدد صرف اللہ سے صبر اور نماز سے مانگی جاتی ہے۔دل دریا سمندروں ڈونگھے کون دلاں دیاں جانے ہُووچے بیڑے وچے جھیرے وچے ونجھ مہانے ہُوچوداں طبق دلے دے اندر تنبو وانگوں تانے ہُودل دا محرم ہووے باہُو سوئی رب پچھانے ہُو
تحریر : محمودالحق       

تعلیم جمہوریت کا جھومر

ادب سے میرا رشتہ سیاستدانوں کے جمہوریت سے تعلق جیسانہیں ،  لیکن لکھنا اتنا ہی عزیز ہے جتنی انہیں سیاست ۔ اردو زبان کی ترقی و ترویج کا داعی تو نہیں مگر خیر خواہی میں کسی طور کم نہیں۔ فرق صرف اتنا سا ہے کہ  ادب دورِ حاضر میں نفع  بخش نہیں بلکہ بےقیمت ہوتا ہے ۔نئے دور میں صرف نئی سوچ  ہی انہیں قبولیت کی سند عطا کرتی ہے۔ادب ،سیاست میں نظریہ کی طرح نہیں بلکہ فکر کی صورت پروان چڑھتا ہے جو تالیوں کا محتاج نہیں ہوتا۔اخبارات و رسائل چھپنے کے اگلے روز بعد ہی پرانے ہو کر پکوڑے کچوریوں سے لپٹ کر تیل آلود ہو جاتے ہیں۔ادب  تحسین و پزیرائی کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ وقت گزرنے کے انتطار میں ہوتا ہے اولڈ از گولڈ کی مانند چمکتا ہے۔اقبالیات و غالبیات  اشرافیہ سے مراعات کے سند یافتہ نہیں بلکہ ایک سوچ و نظریہ کے غماز ہیں۔بچوں کو سکول حصول تعلیم سے زیادہ حسن تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے بھیجا جاتا ہےتاکہ وہ حسن پرستوں کے منظور نظر بن جائیں۔ معاشرے میں فردِ خاص کا مقام حاصل کر کے افرادِ عام پر قابلیت اور برتری کا سکہ جما سکیں۔نظام تعلیم ذہنی آزادی کی بجائے محرومی کے غلام پیدا کر رہا ہے۔ اردو بازار لاہور ایک ایسی "درسگاہ "ہے جہاں رٹے کے لئے پکے پکائے پکوان تیار ملتے ہیں اور گلی محلے کی بک شاپ  پر خلاصہ جات کے ساتھ گیس پیپرز کی تعداد  بھی مضامین  کی کتب سے کسی صورت کم نہیں ۔جن درسگاہوں میں  پانچ سو روپے سے پچاس ہزار تک ماہانہ فیس میں تعلیم بیچی جا رہی ہو ،ان میں قابلیت کے معیار کو جانچنے کے لئے  انگلش لب و لہجہ درجہ بندی میں اول مانا جاتا ہو۔ان حالات میں ردی کے کاغذوں پر اسائنمنٹس مکمل کرنے، مانگ کر کتابیں پڑھنے ، بسوں پر لٹک کر سفر کرنے ، سال سال بھر دوسرے جوتے کے لئے ترسنے  ، ڈرائنگ روم کے ایک کونے میں چٹائی پر پڑھنے اور  وہیں رات بھرسونے والا نوجوان چاہے جتنا بھی قابل اور اہل کیوں نہ ہو  ۔سفارش کی سیڑھی سے رشوت کی بیل تک بمشکل رسائی پا بھی لےمگر گوگل کا دو ارب سے زیادہ   سالانہ تنخواہ پانے والا چیف ایگزیکٹو نہیں بن سکے گا لیکن ایسا ہندی لہجے میں انگریزی بولنے والے سندر راجن پچائی  نے گوگل کا   سی ای او بن کرثابت کر دکھایا۔ ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں سے نکلنے میں قائد نے ہماری رہنمائی کی اقبال نے راہ دکھائی۔  سکول میں ایک لطیفہ سنا کرتے تھے کہ ایک دن جب استاد نے طالبعلم سے سکول دیر سے آنے کی وجہ پوچھی تو طالبعلم نے کہا کہ بارش کی وجہ سے کیچڑ بہت تھا دو قدم سکول کی طرف چلتا تو چار قدم پیچھے پھسل جاتا ۔ استاد نے حیران ہو کر پوچھا پھر سکول کیسے پہنچے تو طالبعلم نے جواب میں کہا کہ میں نے اپنا منہ گھر کی طرف کر لیا تھا۔ آج ہمارے نظام تعلیم کا حال بارش میں کیچڑ کے راستے جیسا ہے ، ہم آگے نہیں بڑھ پا رہے ہمیں اپنا منہ اقبال و قائد کی طرف کرنا ہو گا۔ سوچ کے نئے در کھولنے ہوں گے جہاں سچ اور حق کہنے اور ایمانداری کا علم اُٹھانے والوں کو بڑی حیرانی سے نہ دیکھا جا سکے۔پوش علاقوں میں رہنا کسی کے لئے مقامِ فخر نہ ہو۔ بیوروکریٹ اتنا گریٹ نہ ہو کہ عوام کی حیثیت کنکریٹ جیسی ہو۔ جہاں گھریلو خدمتگار کو تنخواہ کے عوض  باندی و غلام  نہ بنا کر رکھا جائے۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی شدید خواہش مقابلے کی بجائے حدود کو پھلانگنے تک چلی جاتی ہے جس کا سب سے پہلا شکار  رشتے اور تعلق ہوتے ہیں جنہیں غرض و مفاد کے ہاتھیوں کے پاؤں تلے روندا جاتا ہے۔جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے کے جنون میں کامیابی کے زینے چڑھے جاتے ہیں۔کھونے کا خوف اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ پانے کی لذت سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ برتری کے نشہ میں سرشاری کا لطف اُٹھانے کے لئے مجبوری و لاچاری پر جملہ کسنا یا ہنسنا فیشن بن جاتا ہے۔مسٹر بننے والے منسٹر کے خواب آنکھوں میں بسا لیتے ہیں جو چیف کی کرسی پر نظریں جما کر رکھتے ہیں اور چیف ،پرائم  کی حیثیت پانے میں سخت تگ و دو سے دوچار رہتے ہیں۔تاریخ شاہد ہےسکندر یونانی عالم شباب میں دنیا کی فتح کا خواب آنکھوں میں لے کر دنیا  سے  ہی چلا گیا۔قطب الدین ایبک سے ابراہیم لودھی اور بابر  سے بہادر شاہ ظفر تک عروج و زوال کی بیشمار داستانیں ہیں۔سکھوں مرہٹوں سے افغانیوں ،پرتگالیوں ،فرانسیسیوں اور انگریزوں تک اس خطے کی قسمت میں گھوڑوں کی چاپوں کی آوازیں تھیں پھر ریل گاڑیوں کی چھک چھک ۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے پہلے  مغل شاہی ادوار میں تعلیم کےسواصرف باغات،محلات،مقبرے،قلعے ہی مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کی عظیم نشانیاں ہیں۔آج تک وہی مغلائی اندازِ حکمرانی اختیار کیا گیا ہے ۔ اس قوم کے مزاج میں رتی بھر تبدیلی نہیں آئی ، اسی لئے وہ آج صدیوں بعد بھی سڑکوں پلوں کی تعمیر شاہی پر حکمران چنتے ہیں بلکہ ان کی نا اہل اولادوں کے راستوں میں بھی پلکیں بچھاتے ہیں۔تعلیم جمہوریت کا جھومر ہے بادشاہت کے لئے زہر ہے۔کون  ایسا عاقبت نا اندیش سیاستدان ہو گا جو اپنے وارثان کے لئے سیاسی غلامان کی بجائے آزاد   سوچ کے حامل بااختیارانسان سیاسی ورثے میں چھوڑےگا۔
تحریر : محمودالحق        

مہکتا گل اچھا سوکھے خار کی عمرِ بار سے

گرد آلود ہواؤں نے آسمان پر مستقل سکونت اختیار کبھی نہیں کی، ان کا بسیرا بادلوں کے زیرسایہ ہی رہااور بادلوں نے جب چاہا انہیں زمین پر دھکیل دیا۔ ہوائیں جب انہیں اپنی آغوش میں لے کر سیر کو نکلتی ہیں تو ہوائیں ہی بادلوں کو زمین کے ایک حصہ سے دوسرے تک لے کر آسمان کو اُجلا بناتی چلتی ہیں۔ستاروں کی چمک اور چاندنی نکھری زمین کو روشنیوں سے نہلاتی ہے۔زمین کے شانے پر پھیلے درخت جھوم اُٹھتے ہیں، پھول نکھر کر خوشبو پھیلاتے ہیں۔ درختوں سے روشن آلاؤ صدیوں جل کر بھی زمین و آسمان کے تعلق نہ توڑ سکے۔ زندگی بظاہر مشکل تھی میلوں کا سفر دنوں مہینوںمیں طے پاتا۔ آج چٹکیوں میں سماعت و بصارت ہزاروں میل کا سفر طے کر لیتی ہےمگر تہہ زمین لوہا، سونا، گیس اور تیل نے زندگی کی رفتار بڑھا کر قدموں کو جام کر دیا۔عجب ماجرہ ہے زمین کے اندر نے اس کے حسن کو گہنا دیا اور انسان کے باہر نے اسے سلا دیا۔نکھرنا کھلنا اور مہکنا دھوئیں سے داغدار ہو گیا۔ریشم نے جان پر کھیل کر انمول بنا دیا۔ پتوں  پھولوں اوربالوں نےبدن ڈھانپنے کا اور پتھروں نے آرائش کا کام سنبھالا۔منوں ٹنوں وزنی ایجادات گرام کلو میں انگلیوں کی پوروں پر جانچی جانے لگی۔تن آسانی نے اندر اتنے بھاری کر دئیے کہ بیماریوں کی آماجگاہ بن گئے۔حسن لباس میں رہ گیا ، علم ڈگریوں میں، جوانی کے پل بھاگ دوڑ میں اور بڑھاپا آنکھوں کی پلک میں۔شفاخانے بیماروں کے لئے مرغن غذاؤں کے ریستوران سے بڑھ کر عزیز ہوتے ہیں۔ آبشاروں سے گرتا پانی ندی نالوں سے گزرتا شور مچاتا منزل مقصود پر پہنچ کر دم سادھ لیتا ہے مگر جھیل کے ٹھہرے پانی پر پھینکا گیا ایک معمولی کنکر لہروں کو بے آرامی کی اذیت سے دوچار کر دیتا ہے۔ جنگلی بھینسہ گھاس پھوس کھا کر شیروں کے شکار کی طاقت حاصل نہیں کر سکتا۔وقت کے فرعون پتھروں میں کنندہ تو ہو سکتے ہیں مگر زمانے پر گرفت سے محروم رہتے ہیں۔ناموری کی طلب شہرت کی خواہش طاقت کی بھوک نے آنکھوں پہ جھوٹ کا کالا موتیا ایسے اتارا ہے کہ اصل منظر دھندلا گیا ہے۔آم کے پودے آنار کی پیوندکاری سے پروان نہیں چڑھ سکتے البتہ کھٹے میٹھے بنائے جا سکتے ہیں۔ جو معاشرے سچ میں جھوٹ کی پیوند کاری سے پروان چڑھیں، جہاں شخصی محبت اجارہ داری اور روا داری میں تمیز کرنا بھول جائے، وہ بے حسی کے تابوت میں آخری کیل  ٹھونکنے کے انتظار میں رہتے ہیں۔ ہمیشہ سنتے آئے ہیں کہ بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا، بلا شبہ نام انہی کا دلوں پر دستک دیتا ہے۔نسوانی چھینک پر طشتری بھری دعائیں سینکڑوں  فیس بک کےنوجوانوں کے دل سے نکلیں، ایک ایک شعر پر  داد وآہ واہ کرتے سینکڑوں منچلے، قرآن و حدیث پر عالمانہ  گفتگو کے بعدفتوی دیتے سکالر ہزاروں  کی تعداد میں لاکھوں کے حمایت یافتہ ہوں تو وہ شہد کی مکھی زیادہ باعزت دکھائی دیتی ہے جو پنتالیس دن کی زندگی میں  ہزاروں پھولوں کی کشید کاری سے ایک چوتھائی چمچ شہد بنا کر اپنا کام سر انجام دیتی ہے۔مہکتا گل اچھا سوکھے خار کی عمرِ بار سےمیرا دل ہی ہو میرے نفس کا بادِ نوفراق محبوب و عشق محبوب میں کیا جدا ہےایک میں مَیں ہے اور ایک میں صرف تُو
محمودالحق

                

اطاعت و بندگی

زندگی کی چکاچوند روشنیوں سے اندھیرے مٹانے کے لئے مستعار تیل لے کر چراغ بھرتے رہتے ہیں، زندگی کی شام ڈھلتی رہتی ہے ، اندھیرے پھیلتے رہتے ہیں ، نہ سفر تمام ہوتا ہے اور نہ ہی دل کے دئیے روشن ہوتے ہیں۔ بس ایک تماشا ہے جو آنکھوں کی پتلیوں نے دیکھا۔ کبھی کبھار سوچ ایسی جادوئی قوت سے بھرپور وار کرتی ہے کہ عمل تیز دھار تلوار کے سامنے ایک کمزور شاخ کی طرح کٹ کٹ کر گرتے جاتے ہیں۔ وجود شکست خوردہ فوج کی طرح ہتھیار پھینک کر قیدی ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات فتح غافل کر دیتی ہے اور کبھی شکست مضبوط حصار کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ ماضی کی کمزور اور کچی دیواریں آج قدآور بلند ستونوں پر محرابوں سے مزین بلند و بالا عبادت گاہیں عازم مسافران کو خالق حقیقی کے جاہ و جلال، اختیار قدرت اور انجام بے خبری کے لئے نوشتہ دیوار ہیں۔ نئے آنے والے جانے والوں کے قدموں کے نشانات کی کھوج میں رہتے ہیں۔ مگر قدموں کےنشان تو ان کے پھتر بھی محفوظ کرنے کے پابند ہوتے ہیں جو ویرانوں میں بیوی اور بچہ چھوڑ جاتے ہیں۔ اللہ تبارک تعالی انہیں مقام ابراھیم بنا کر اپنے گھر کے سامنے محفوظ کر دیتا ہے۔ اللہ جنہیں محبوب بنا لیتا ہے انہیں مشعل راہ بنا دیتا ہے۔ زمین کی تاریکیوں میں اتر کر بھی نشان راہ بن جاتے ہیں۔ تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں پر خطر راہ عشق کے امتحاں اتنے آساں بھی نہیں کہ ایک جھلک دیکھنے کے لئے رو برو ہو جائیں۔ زندگی ایک ایسا امتحان ہے جس کے جواب رٹے رٹائے ہیں مگر جو سوال لوح و قلم سے لکھے گئے ہیں ان کے جواب عمل کی سیاہی سے دستور حیات کے کاغذ پہ لکھے جاتے ہیں۔ سائل کتابیں کھول کھول دعاوں میں ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ جہاں ایک نقطہ سے مفہوم بدل جانے کا ڈر لگا رہتا ہے۔ خوبصورت منظر کشی کرنے والے رائیٹر ہو سکتے ہیں یا پینٹر۔ آرٹ کے قدیم گراں قدر نمونے ناقابل یقین قیمتوں پر فروخت ہوتے ہیں۔ مگر وہ گلاب کے پھول کی ایک پنکھڑی سے بھی بیش قیمت نہیں ہو سکتے۔ باغوں بہاروں، پہاڑوں اور نخلستانوں میں بارش کی ہر بوند کا ایک ہی رنگ و ذائقہ ہے مگر جب زمین سے نکالا جائے تو تاثیر بدل جاتی ہے۔ اللہ تبارک تعالی کا فرمان قرآن ایک ہی ہے مگر ہر جگہ کی تاثیر الگ الگ۔ سونا بنانے کا فارمولہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے لوگ زندگی بھول جاتے ہیں مگر سونا تو ڈھونڈ کر نکالا جاتا ہے ، پھر بھٹی میں پکا کر ڈھالا جاتا ہے۔ ہیرے جڑے نگینے کی قیمت اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ عشق مجازی میں ہر شے قابل خرید و فروخت ہوتی ہے۔ مگر عشق حقیقی میں دام نہیں ہوتے الفت ہوتی ہے۔ دنیاوی غرض و غایت ایک طرف اور آخروی خواہش خیر دوسری طرف کھڑی ہو تو ایک نظر میں صرف ایک ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ تفریق کرنے والے ہی راہ پانے والے ہیں۔ جو آنکھ اے بی سی کی شناخت سے کھلی ہو وہ الف ب پ کو سمجھنے سے قاصر ہو گی۔ لفظ کتابوں سے نکل کر خوشبو کی طرح ہواوں کو معطر کر دیں تو ان کی قیمت کا تعین کرنا بس میں نہیں ہو سکتا۔ لفظ حق کے داعی ہوتے ہیں۔ جو سچ جاننے والوں کو مانتے ہیں۔ مسجد نبوی کے خوشبو بھرے صحن میں بیٹھا جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو میرا ذہن زیارات مدینہ کی خوشبو بھری یادوں میں سلتا جا رہا ہے۔ کتنے عظیم لوگ تھے جنہوں نے اللہ کی بندگی اور رسول صلی اللہ علیہ والیہ وسلم کی اطاعت میں زندگیاں وقف کر دیں۔ جو قرآن کی ابتدائی آیات پر ایمان لے آئے۔ ہمارے پاس تو مکمل قرآن پاک ہے۔ اللہ تبارک تعالی ہمیں ایمان کی سلامتی دے اور حق پر رہنے اور سچ کہنے کی قوت ایمانی سے سرفراز کرے آمین محمودالحق

ذکرِالأنفال

ہم بہت آسانی سے حاصل کی گئی کامیابیوں کو دونوں ہاتھوں سے سمیٹ لیتے ہیں پھر اپنی عقل و دانش پر فخر سے سینہ تان لیتے ہیں مگر حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔حاصل وہی ہوتا ہے جو اللہ تبارک تعالی کی رضا ہو ۔ جس سے وہ راضی ہو اسے نوازنے میں دیر نہیں کرتا مگر دنیا کا وقت دن رات اور سونے جاگنے میں ایسے تقسیم رہتا ہے کہ دن ہفتے ، ہفتے مہینے اور مہینے سال بھر تک چلتے ہیں جو ہیجان و بے چینی کا سبب ہوتے ہیں۔ہمیں تواریخ تو یاد رہتی ہیں مگر موضوع و مناسب حالات کا ادراک نہیں ہو پاتا۔ انسان بنیادی طور پر جلد باز جو ٹھہرا  نتیجہ جاننے میں سال مہینے چٹکیوں میں چاہتا ہے۔ کیونکہ ماضی اس کے لئے ایک کہانی ، حال خواہش اور مستقبل سہانا خواب نظر آتا ہے۔ ماضی کو بھلانا تو چٹکیوں میں ممکن کر دکھاتا ہے مگر خوابوں کی تعبیر بھی پلک جھپکنے میں تکمیل کے مراحل طے کرتی ہوئی چاہتا ہے مگر وہ یہ نہیں جان پاتا کہ جس طرح ۱۴۳۸ سال کے بعد بھی جو قرآن مجید کے الفاظ ایک ایسی مستقل حقیقت ہے جو وقت مقررہ پر منازل کی  مسافت کا تعین رکھتے ہیں۔چاند ستاروں سے لے کر سردی گرمی خزاں بہار کے لئے ایک مخصوص وقت کی پابندی لازم قرار پا چکی ہے۔ پھولوں کا کھلنا پھلوں کا پکنا پرندوں کا انڈے سینا اور چرند کا بچوں کے پیدائش کا عمل وقت مقررہ کا مرہون منت ہے۔ مگر خواہش میں انہیں منزل مقصود بنا رکھا ہے جو دس بیس پچاس سال کے بعد نہ تو خود ہی اپنا وجود برقرار رکھ پاتے ہیں اور نہ ہی نئے انداز و تخلیق کی پائیداری کی کوئی گارنٹی دے پاتے ہیں۔گھر تبدیل کر کر کے پھر تبدیلی کے لئے کچھ نیا کرنے کی کی طرف توجہ مرکوز ہو جاتی ہے۔جن سے جو کام لینا مقصود ہوتا ہے پہلے انہیں منطقی انجام سے دوچار کیا جاتا ہے جسے کبھی آزمائش تو کبھی تقدیر میں نہ ہونے سے تعبیر کر لیا جاتا ہے۔بچہ امتحان دینے تک پرجوش اور پر اُمید ہوتا ہے مگر غیر متوقع رزلٹ کے آنے پر مایوس کے اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے ۔ آگے بڑھنے پر مشکل کا شکار اور ارادے کی کمزوری کا شکار ہونے لگتا ہے۔ جواز ایسا تلاش کرتا ہے جو مصلحت کے بغیر ہوتا ہے۔اللہ تبارک تعالی کسی جان پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ آسانی سے پانے والے مشکلات کی چکی میں پس کر خواہش کی تکمیل تک دو مختلف زاویہ سے زندگی کا مفہوم سمجھنے کی منطق کا شکار ہوتے ہیں۔ مگر نشانیاں عقل والوں کے لئے ہیں جو قرآن مجید میں طے شدہ ہیں۔ تانبے پیتل سونے کے سکے لین دین میں آج بھی ہیں مگر بدلے میں کاغذ کے چند ٹکڑوں پر راضی ہو جاتے ہیں۔مٹی گارے کی چنائی سے بنے گھر اینٹ سیمنٹ کی طاقت حاصل کر چکے مگر دوسری نسل تک پہنچتے پہنچتے بڑھاپے کے لاغر پن کی وجہ سے ناقابل اعتبار ہو جاتے ہیں۔جس گھر کی جالیاں عشق و محبت کے متوالوں کو نشہ و سرور کی کیفیت میں مبتلا کر دیں اور ایک گھر کا غلاف دیکھنے اور چومنے والوں کو سحرزدہ کر دے وہ اسے پاک پروردگار کا احسان عظیم جانے اور اس گھر کی حاضری ایک طویل دعا اور قبولیت کے فرمان کا شاخسانہ قرار دے تو عظمت کے مینار آنے والوں کو اصل حقیقت سے روشناس کرواتے ہیں۔سبز گنبد اور سیاہ غلاف عاشقوں کے لئے عید سعید کے خوشیوں کے لباس ہیں جنہیں نظروں میں سمو کر آنکھوں کے نور میں جذب کر لیتے ہیں۔ نہ جانے کتنے ہی آنسوؤں کی قربانی کے بعد قبولیت کے شرف سے فیضیاب ہونے جا رہے ہوں۔وجود اپنے احساس کو لمس سے محسوس کرتا ہے مگر روح عشق میں خوشبو کی طرح کائنات میں آخری ستارے تک رسائی پانے کے فاصلے کی خواہش سے پہلے عشقِ امتحان  وجود میں احساس کی آخری منزل تک پہنچ جاتے ہیں۔شہد کی مکھی سفر در سفر کے بعد پھول در پھول سے جو رس پاتی ہے وہ مٹھاس میں یکساں ہوتا ہے۔ اللہ تبارک تعالی اپنے گھر تک پہنچنے کے لئے آخری دنیاوی خواہش کی آزمائش کو بھی بندے پر آزماتا ہے کہ فرمان کی تکمیل تک نافرمانی کی کڑواہٹ سے پاک جذبِ احساس وجود کے نہاں خانوں میں گردش خون سے بھی اتنا خالص ہو جائے کہ دعائیں بے اثری سے محفوظ ہو جائیں اور رحمتیں ونعمتیں ظاہر و باطن کو وحدتِ ایمان میں یک دو قالب کی طرح پرو کر اظہار و افکار کےسمندر سے نکال کر عمل و کردار کے بہتے میٹھے چشموں کے پانی سے پیاسوں کو سیراب کرتا آگے بڑھتا چلا جائے۔ اللہ تبارک تعالی جب اپنے بندوں کو نمونہءعمل بناتا ہے تو راستوں کو ان کی مرضی کے تابع نہیں کرتا بلکہ ان کے دلوں کو اپنے خیال بندگی سے منور کر دیتا ہے۔ پھر تو نہ ہی امتحان ہوتا ہے نہ ہی نتیجہ اور نہ ہی منزل۔بس ایک راستہ ہے جو عین شباب آفتاب کی طرح روشن  جو پہلے قدم سے ہی اپنا رُخ متعین کر دیتا ہے۔ کسی کے دل میں عقیدتِ خیال کا طوفان برپا کر دیتا ہے تاکہ  عاشق محبوب رو برو  ہو جائیں۔ جہاں سوچ کے در بند ہو جاتے ہیں  اورچاہ کی زمین چاہت کے آسمان  ایک ہو جاتے ہیں۔ آنکھ صرف وہی دیکھتی ہے جو وجود سے باہر ہو ، اندر کہاں تک وہ اُتر پاتی ہے کسی خیال کسی احساس کی دسترس سے انتہائی باہر ہے۔اللہ تبارک تعالی کی محبت جن کا عشق ہو انہیں علم سے بے بہرہ سوکھے پتوں سے اُمید کی فصل اُگنے کی آس نہیں ہونی چاہیئے۔ آندھیاں صرف انہیں کو پھل بننے تک پہنچاتی ہیں جنہیں خوشبو اور ذائقہ دینا مقصود ہو باقی زرد پتوں کی طرح اُتر جاتے ہیں۔ زمین  سے اُٹھا کردرختوں پر لٹکانے سے اُمید بہار نہیں آ سکتی۔ کیونکہ لوٹنے کا وقت گزر چکا ، بڑھنے کا وقت ہے، پکنے کا وقت ہے، خوشبو پھیلانے کا آغازِ موسم ہے۔  مایوسیوں محرومیوں کی خزاں بہار کی آمد کا انتظار نہیں کرتی مگر اُمید ِنو اپنا سفر ادھورا نہیں چھوڑتی۔ظاہر کی قیاس میں باطن کی حقیقت پوشیدہ رہتی ہے۔ اگر لفظ سچے ہوں تو پھر خیال بھی ہمیشہ سچا ہوتا ہے۔ گو مگو میں وہی رہتے ہیں جودنیا کی  دائمی شہرت کے داعی ہوتے ہیں۔ مگر زندگی کی حقیقت عمل سے ثابت ہوتی ہے جب نفی خیال سے نکل کر وجود کو ریزہ ریزہ کر دے اورکھڑا ہو کر بھی درد کی ہائے میں نا شکری نہ ہو۔رحمتوں کی اُمید بر آنے کا یقین ہو۔ جو حق کے ساتھ رہتے ہیں مایوسیاں ان کے قریب نہیں رہتیں۔کمزور پر نفس بھاری رہتا ہے مضبوط ایمان کی رسی کو تھامنے سے قوی ہو جاتا ہے۔ جہاں الفاظ اعمال پر بھاری ہو جائیں سفارش یقین کی سیڑھی بن جائے  وہاں چلتی ٹرین کے پیچھے بھاگنے سے منزل مقصود تک نہیں پہنچا جا سکتا۔ جہاں ایک ہی پٹڑی پر مخالف سمت جانے والی ٹرین پہنچیں تو مسافر اپنی سمت کی طرف سفر کریں گے۔ یہاں تعداد کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ سیاست و تجارت میں تو ایسا ہو سکتا ہے مگر قیامت کا سفر اس سے مختلف ہے۔ جہاں اکیلا بھی جیت کر رحمتوں کی آغوش میں لپٹے گا۔نئے سال 2017 کا سورج دنیا میں اسی طرح طلوع ہو گا  نئی قیاس آرائیوں کے ساتھ مگر شائد کسی کے لئے واضح اور حقیقت پسندی کی چکا چوند روشنیوں سے بھرپور تنہایوں کا ابتدائے سفر طالب کی تلاش و جستجو کے لئے ذکرِالأنفال۔
 تحریر : محمودالحق         

اب خاموشی سے کیا کہوں

جنگل کی دنیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھو کا عالم ۔۔۔۔۔۔۔خاموش آسمان ۔۔۔۔۔۔۔ننگے پاؤں کانٹے بھرے راستے۔۔۔۔۔۔۔۔بے پرواہ ہوائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلگتے وجود پہ بوند بوند قطروں کا ٹھنڈا احساس ۔۔۔۔۔۔ زمانے کے رائج رواجوں کی چٹانوں سےبے بس لہروں کی طرح ٹکرا ٹکرا کر لوٹ جاتا ہے۔ ماں کی آغوش میں بتائے پل ،حالات کی کسی رسیوں کے بل کو کچھ پل کے لئے ڈھیلا کر دیتے ہیں۔ایک نے محبت سے بھر کر دنیا میں بھیج دیا اور ایک محبت میں ڈبو کر دنیا چھوڑ گیا ۔ غرض و مفاد کی اونچی عمارتوں تک نفرت کی آگ کے شعلے دھواں بن پہنچتے ہیں۔ جو بھٹکے وہاں پہنچیں تو دوا اُن پر بے اثر ہو جاتی ہے اور دعائیں کارگر نہیں ہوتیں۔ عجب زندگانی ہے کان میں اذان دینے سے چارپائی پر لٹا کر نماز پڑھنے تک رنگ اور سائز کا معمولی فرق بھی طبیعت پر گراں گزرتا ہے ۔
 !!!پھر 
کچھ بھی نیا پن نہیں وہی صدیوں پرانے سفید کفن کا اہتمام

لفظ کہانی سفر زندگانی

زندگی کے اوراق پلٹتے جائیں تو جدوجہد کی طویل فہرست  دکھائی دیتی ہے۔ انتھک سفر کے بعد کامیابی کا ایک پڑاؤ پھر نیا سفر لیکن منزل سے کوسوں دور، صبر کی چوٹیوں کے پار ،طغیانی بھرے دریا گنگناتی آبشاروں کے گیت کو شور میں دباتے ڈھلوانوں کی طرف گامزن پہلے ہوش اُڑاتے پھر ہوش ٹھکانے لگاتے مایوسیوں کی ناؤ بہاتے گزرتے جاتے ہیں۔انسان خودغرضی کی دولت سمیٹتا عنایات کی بھرمار سے بےنیاز حاصل کو منزل مان کر ٹھہر جاتا ہے۔جانبِ بہاؤ ناؤ کے چپُو چلانے میں نشہ کی سرشاری میں مبتلا رہتا ہے۔کہاں چل دئیے پلٹ کر کیوں نہ بلندیوں کے تھکا دینے والے سفر پر چلیں جہاں منظر دلکش ہیں وادیاں حسین ، گرم پہاڑ برف پگھلاتے جھیلیں ٹھنڈی ہیں۔جلد سے اوپر  کی ڈیلنگ کی دنیا سے دور، جلد کی نیچے کی فیلنگ کی دنیا کے قریب۔ جہاں ایک انسان کسی دوسرے ہمدرد دوست سے ملی خوشبو کو ساتھ لئے پھرتا ہے۔ احساس اظہار کا مرہون منت نہیں ہوتا۔ لاکھوں لائبریریوں میں سجی کروڑوں کتب انسانوں سے ہمکلام نہیں ہوتیں۔ احساس احساس سے شناسا رہتا ہے۔ ڈیلنگ سےکیفیت تبدیل ہوتی رہتی ہے۔کانوں کو جو بھلا لگتا ہےوہی رس گھولتا ہے۔نگاہوں کو جو خیرہ کرتا ہے وہی پینٹ ہو جاتا ہے۔ آگے بڑھنا شہرت ناموری امارت کی خواہش پر ہو تو مہنگی سستی کرنی پڑتی ہےتاکہ زیادہ تک رسائی ممکن ہو۔بیچنے کے لئے سر بازار آواز لگانی پڑتی ہےسامان قرینے سے سجایا جاتا ہے۔سچ کی طاقت جو جان لیتے ہیں، مدد سے مددگار کو پہچان لیتے ہیں۔آزمائشوں کے پودوں پر عنایات کے پھل پا لیتے ہیں تو وہ مہک کو ہر وقت اپنے ساتھ محسوس کرتے ہیں۔کوئلے کی کان میں ایک ہیرا اتنا بیش قیمت ہو سکتا ہے کہ وہ کان زرہ برابر قیمت کی رہ جائے۔دنیا  ایک ایسی دوکان ہے جہاں ضرورت کے مطابق داخل ہوا جاتا ہےاور پسند کی شے لے کر نکل جانا ہوتا ہے۔ اگر دربند ہو تو دستک سے کھلوایا نہیں جاتا بلکہ ازخود کھلنے کا انتظار کیا جاتا ہے۔ جب منزل تک پہنچنے کے راستے جدا جدا ہوں تو آسان راستوں پر رک کر پیچھے رہ جانے والوں کا انتظار نہیں کیا جاتا بلکہ سفر کو جاری رکھا جاتا ہے۔ کہیں ہاتھ دے کر بٹھا نہ دیئے جاؤ۔ قدم گن کر فاصلے طے نہیں کئے جا سکتے اور نہ ہی لہریں گن کر سمندر پہ سفر  کئے جا سکتےہیں۔ جو انا  و خودداری کی بھٹی میں صرف جلنے کا ایندھن بنے رہنے کو ترجیح دیتے ہوں وہ وقت سے پہلے سوکھ کر دھوئیں میں ڈھلنا نصیب سمجھتے ہیں۔لفظ جب شناخت بن جاتے ہیں تو لفظ کہانی ختم ہو جاتی ہے ایک سوچ زندہ ہو جاتی ہے۔ پھر آنے والے بنا دستک کے اندر داخل ہو جاتے ہیں اور باہر نکلنے والوں کے پیچھے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔
 محمودالحق        

آج کی پکا؟

زندگی میں خوبصورت پل آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔ جن جن پر گزرتے ہیں وہ یادوں کی صورت کینوس پر منتقل ہو جاتے ہیں۔ مگر عید سعید ایسا خوبصورت تہوار ہے جو ابا کے ساتھ عید گاہ جاتے ہوئے جو مزا دیتا تھا اب بچوں کے ساتھ جاتے ہوئے بھی وہی احساس طبیعت پر حاوی رہتا ہے۔ اماں کو گھر پہنچتے ہی عید مبارک کہنا اور عیدی وصول کرنا بہت بھلا لگتا تھا۔ آج عید کی نماز پڑھ کر گھر پہنچتے بچوں کی اماں سے عید مبارک سننا اور بچوں کو عیدی دینا اتنا ہی بھلا لگتا ہے۔ رمضان میں ناپ تول کر کھانے پینے کے بعد کھلی چھٹی پا کر عید کا دن دستر خوان پر انواع و اقسام کے لذیز کھانوں کی خوشبو سے معدہ کو دعوت بد پرہیزی پر آمادہ کر لیتا یے۔ عید کی خوشیاں دائمی ہیں جو کبھی ماند نہیں پڑتیں بلکہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ تازہ دم اور جوان رہتی ہیں۔ تمام اختلافات کو بھلا کر ملنے والے ہر شخص کو گلے لگایا جاتا ہے۔ جن سے سال میں 363 دن پاس سے گزر جایا جاتا ہے انہیں اس پر مسرت موقع پر ڈھونڈا جاتا ہے۔ میرے اللہ نے جس اجتماع کو ہمارے لئے خوشیوں اور رحمتوں کا وسیلہ بنا دیا وہ ہماری ہر رسم رواج و روایت سے مقدم ہیں۔ ایسی خوشی ہمیں کسی اور اجتماع سے حاصل نہیں ہوتی جو بچپن سے بڑھاپے تک دیر پا بھی ہو۔ یہ ایسا دن ہے جب تک مہمان آتے رہیں مہمان نوازی ہوتی رہے انہیں بار بار کھانے کی دعوت دی جاتی رہے۔ میزبانی سے جی نہیں بھرتا۔ وگرنہ تو سارا سال صاحب کی دفتری مصروفیت،بچوں کی ٹیوشن مغز ماری پھر امتحانات ، بیگم صاحبہ کا سر درد مہمانوں کی آمدورفت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی ہے۔ گھر میں روز کی تکرار آج کیا پکا لیں صاحب کا کہنا جو جی میں آئے تو بیگم کا کریلوں سے کڑوا پانی نچوڑنا مزاج کی گرمی ظاہر کرتا ہے۔ یہ دن بھی خوب ہے کوئی نہیں پوچھتا کیا پکائیں،کوئی نہیں بتاتا کہاں جائیں۔ بس خودکار مشین کی طرح ہر کام خود بخود مکمل ہو کر پایہ تکمیل تک پہنچ جاتا ہے۔ اللہ تبارک تعالی ہماری زندگیوں میں عید جیسی خوشیوں کی بھرمار کر دے جو یکے بعد دیگرے ہمیں خوشیوں کے پل سے جوڑ کر رکھتی رہے۔ ہم جدا ہونا بھی چاہیئں تو نہ ہو پائیں۔ جس طرح آج ایک مسلمان قوم کی حیثیت سے عید سعید کے تہوار کو مذہبی رواداری سے منایا جا رہا ہے ہمارے روزمرہ کے معمولات زندگی بھی ایسے ہی فرقہ بندی اور منافرت سے پاک خوشیوں سے بھرپور ہوں تو ہم بجا طور پر قرآن و سنت پر عمل کرنے والے ایمان والے کہلانے کے حقدار ہوں گے۔ جہاں جہاں نماز عید کے روح پرور اجتماعات ہو چکے انہیں عید مبارک۔ سب ایک دوسرے سے پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ آج کی پکا؟ہماری عید کی نماز چار گھنٹے بعد ہے تو ہم یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ کی پکا؟ کیونکہ ڈھکن اٹھانے سے مرغن غذائیں برا منائیں گی۔ صبح خوشبو کے بغیر کھانے کی پزیرائی نہیں ہو پائے گی۔
محمودالحق

کچھ باتیں ان کہی

مصروفیت نے ایسے باندھ رکھا ہے زندگانی کو جیسے بھینس بندھی  ہوکھونٹے سے۔ اگر  کہیں کہ اطمینان کے جھولے جھلاتے ،خوشیوں کے کھلونے سجاتے،ہنسی میں مسکراتے،غم میں دل جلاتے ،محفلوں میں جگمگاتے، تنہاہیوں میں ٹمٹماتے،نہ دنیا مکمل نہ ہی دین مکمل، عذاب سے ڈریں مصیبت کو ٹالیں، روزے دن میں سستائیں راتیں عبادت میں جگائیں ،جو چاہیں پہنیں جو چاہیں کھلائیں  ،سفر میں آسائش زندگی میں ستائش ،جسے چاہیں منائیں جسے چاہیں ستائیں، من بھی اپنا مرضی بھی اپنی ،پھر شکر کریں یا شکوہ۔جو صداکار تھے تصویر آنے پر فنکار ہو گئے ،کاروبار تجارت بیوپار سیاست ہو گئی ،روزگار تعلیم ہو گئی بےروزگاری جہالت رہ گئی ،وراثت معتبر ہو گئی جب وہ قائد  ہو گئی ،بچے بزرگ ہوگئے بوڑھے جی فور ہاتھ میں لئے جوان بن گئے۔ 

تنہائیوں کے دیپ


چند شاخوں سے جڑا نوخیز درخت تمازت آفتاب کو روکنے میں ناکام ہوا جا رہا ہے۔ بھلا ہو آسمان پر ٹہلتے چند بادل کی ٹکڑیوں کا جو وقفے وقفے سے سر پر دست شفقت رکھ رہے ہیں۔ ہوائیں بھی پیچھے رہنے والی کب ہیں جھیل کے ٹھہرے ٹھنڈے پانی سے ہم آغوش ہوتی بدن کو سہلاتی چند جھونکے تو دباتے ہوئے پاس سے گزر رہے ہیں۔ ایک نیا پرندہ بلبل کی طرح دکھائی دینے والا مجھے گھورے جا رہا ہے۔ کیسے بتاؤں اسے کہ میں روزے سے ہوں افطاری میں ابھی پانچ گھنٹے ہیں۔ جمعۃالوداع ادا کرنے کے بعد تنہائی کے کچھ لمحات فطرت کے حسن کی نذر کرنے آیا ہوں۔ سیر و تفریح کے لئے جم غفیر زمین پر پھیلتے اندھیروں کے انتظار میں ہوں گے۔ کسی کو تنہائیوں کی نوکیں اعصاب میں پیوست ہوتی محسوس ہوتی ہوں گی۔ مگر یہ تنہائیاں تو ایک ماں کی طرح آغوش محبت میں پیار سے تھپتھپاتی اور گالوں کو سہلاتی ہیں۔ انسانوں کے بیچ رہ کر بھی تنہائی کے کانٹے چبھ سکتے ہیں۔ کیونکہ ان کے اخلاص،خلوص،دیانت اورصداقت پر سوالیہ نشان بھی لگ سکتا ہے اور انگلی بھی اٹھائی جا سکتی ہے۔ خوبصورتی سے بھرے یہ منظر مسلسل دہکتے انگاروں پر گڑگڑانے والے بادل برسنے والی بارش کی مسیحائی رکھتے ہیں۔ بادلوں کی اوٹ میں سورج کا چھپ جانا اور ٹھنڈی مسحور کر دینے والی ہوائیں دوستی کا پیغام نہیں لے کر آئیں بلکہ دوستی کا حق ادا کرنے آئی ہیں۔ کیونکہ انہوں نے چاروں اطراف سے دھوپ کو گھیر لیا ہے۔ بدن پر گرمی کے ہر احساس کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ اب تو بارش برس کر اظہار محبت میں اپنائیت کا پیغام دے رہی ہے۔کاش جس دنیا کامیں باسی ہوں وہ زندگی میں کبھی ایک بار ہی اس احساس پر بازی لے جاتے۔
محمودالحق



احساس کا سفر

سفر چاہے کتنا ہی آرام دہ کیوں نہ ہو بدن تھکن سے چور بے آرامی کی سولی پر لٹک جاتا
ہے۔ساتھ چلنے والے ساتھ ہونے کا احساس جتاتے رہیں تو بدن احساس کے ایک لطیف جھونکے کی بدولت اذیت کے بیت ے پل سے چھٹکارا پانے کی اہلیت پا لیتا ہے۔جسم و جاں ساتھ ساتھ رہتی ہے ریل کی پٹڑی کی مثل آغاز سے انجام سفر تک ہمسفر،قریب رہتی ہے بغلگیر نہیں۔تبھی تو منزل مقصود پر پہنچ کر اپنی چاہ پا کر تھکن کی زمین پر سکون کے قالین بچھ جاتے ہیں۔ تھکن کے اُکھڑے فرش نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔
بلندی کی انتہاؤں سے منظر پھیل جاتے ہیں،ہدف سکڑ جاتے ہیں۔ساحل آڑھی ترچھی لکیریریں بن کررہ جاتی ہیں۔ موجوں کی مستی، لہروں کی اٹھکیلیاں، ساحلوں کی خاموش محبت اتنی اونچائی سے محسوس نہیں کی جا سکتیں۔ انہیں دیکھنے کے لئے انتہائی قریب سے احساس کے دیپ جلانے پڑتے ہیں۔
جوں جوں ہم کسی ہدف سے دور ہوتے ہیں چاہے فاصلے زمینی ہوں یا آسمانی،نظر پھیل جاتی ہےمنظر سکڑ جاتے ہیں۔

خوش رنگ زندگانی


پھل میں رنگ ہوتے ہیں تو خوشبو بھی ہوتی ہے ذائقہ ہوتا ہے تو توانائی سے بھرپور تاثیر بھی ہوتی ہے۔ درختوں پر لٹکے ہوں یا دوکانوں میں سجے ہوں پاس سے گزرنے والے بے اعتنائی نہیں برت سکتے۔ درخت موسم کا انتظار کرتے ہیں پھول کھلنے سے پھلوں کے پکنے تک۔ پتے خزاں میں جھڑنے لگتے ہیں نئے پتے پھول سے پھل بننے کے عمل کو مکمل کرتے ہیں۔ سالہا سال آنکھیں ان مناظر کو پلکوں سے احساسات پر گراتی ہیں جو کیفیت کو سر شاری کے نشہ میں مبتلا رکھتی ہیں۔انسان بیت ے دنوں کی یادداشتوں سے مستبقل کے سہانے خوابوں کی بستیاں کیسے آباد کر سکتا ہے۔آرزوئیں گر دم توڑ کر ماضی میں دفن ہو جائیں تو نئی خواہشیں جنم لے کر امنگوں کے پھول سے مرادوں کے پھل سے جھولی بھرنے کو بیتاب ہو جاتی ہیں۔ زندہ رہنے کے لئے جان ہی کافی ہوتی ہے مگر جینے کے لئے بعض اوقات جان جوکھوں میں بھی پڑ جاتی ہے۔ دل ایک کھلونا سمجھ کر سوچ و افکار کی چابی سے جو چلانے کی کوشش کرتے ہیں وہ تدبر اور فلسفہ میں فرق نہیں کر پاتے۔تدبر انفرادی سوچ کی عکاس ہوتی ہے جو اجتماعی حیثیت میں نافذ ہوتی ہے اور فلاسفی اجتماعی حیثیت کو سامنے رکھتے ہوئے انفرادی طور پر قابل عمل ہوتی ہے۔
محمودالحق

علم ایک سمندر

سمندر جتنا گہرا ہوتا ہیں اتنا تاریک اور پر سکون ہوتا ہے جوں جوں زمین کے برابر آتا ہے روشنی پا کر ساحلوں سے ٹکراتا ہے جہاں ذرے ذرے سے جڑی ریت  حفاظتی حصار بن کر  بپھری طلاطلمی موجوں کو مٹی تک پہنچنے کی راہ میں حائل ہوجاتی ہے تو وہ بادل کی صورت زمین کو سیراب کرتا آبشاروں ندی نالوں اور دریاوں سے گزرتا مٹی کا لمس اپنے وجود میں سمو لیتا ہے۔ویسے ہی علم ایک ایسا سمندر ہےجو جہالت کی زمین کو سیراب کرتا افکار و خیالات کا لمس اپنے اندر سمو لیتا ہے۔

پہاڑ

پہاڑ جتنے اونچے ہوتے ہیں اتنے ہی بے بس اور مجبور ہوتے ہیں۔ لڑھکنا چاہیں تو لڑھک نہیں سکتے۔ ریزہ ریزہ ہونا چاہیں تو قد و قامت اجازت نہیں دیتے۔ کبھی کبھار چشمہ کے زریعے اپنے آنسو وادیوں تک پہنچا دیتے ہیں۔ میٹھے اس لئے ہوتے ہیں کہ صبر کی چوٹی سے قطرہ قطرہ درد سمیٹ کر کھلا بہا دیتے ہیں۔ کوئی نہیں جان پاتا کہ پہاڑ بھی رو پڑتے ہیں۔

Pages