محمود الحق

زندگی ایک افسانہ حقیقتِ کھوج میں نہ جا


زندگی کی حقیقتوں کو فراموش کر کے باطن ِ ابدی کو تخیل ظاہری کی بنیادوں پر استوار کیا جاتا ہے۔ کم کھونے کا خوف بہت پانے کی جدوجہد میں بیچ راستے میں تھک کر سستانے لگتا ہے۔ منزل دور نہیں ہوتی ارادے کمزور پڑ جاتے ہیں۔ خواہشوں کی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی جستجو اتنی اونچائی پر لے جاتی ہے کہ زمین دیکھائی دینا بند ہو جاتی ہے۔ جو انسان منزل تک پہنچنے کے لئے وقت کا انتظار کرتا ہے وہ خواہش ہوتی ہے اور وقت جب انسان کا انتظار کرتا ہے تو وہ رضائے الہی ہوتی ہے۔بہت پانے کی آس میں کبھی کبھار بہت کچھ کھو دیا جاتا ہے۔ پہاڑوں میں گونجنے والی آواز جب متوجہ کرتی ہے تو کانوں کی مدد سے آنکھوں کو تلاش پر مامور کر دیا جاتا ہے۔یہ سمجھے بغیر کہ پکارنے والا کسی ایک کی توجہ کا مرکز ہو سکتا ہے۔ چوٹیوں پر لے جانے والے ہلکے بھاری پتھر طاقت اور وقت کی قیمت چکاتے ہیں مگر لڑھکانے پر ایک ہی وقت میں بلندی سے پستی کا سفر طے کر لیتے ہیں۔انسان جب ڈر اور خوف کے زیر اثر چلا جاتا ہے تو وہ یقین اور ارادے کی پختگی کی بھاری سلوں کے نیچے دب جاتا ہے۔ مشکلات سے گھبرانے لگتا ہے تو لمحہ بہ لمحہ ٹوٹنے لگتا ہے۔ ہاتھ بڑھا کر ساتھ چلنے پر آمادہ کرنے والوں کو بھی روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ خوف کے سائے اتنا اندھیرا کر دیتے ہیں کہ چکاچوند روشنی انہیں اندھیروں سے زیادہ تکلیف دیتی ہے۔ وقت گزر جاتا ہےزندگی رک جاتی ہے۔ جسم مر جائے تو مٹی ہو جاتا ہے۔ روح بہک جائے تو بھٹک جاتی ہے۔زندگی میں ناکامیوں اور کامیابیوں سے الگ الگ کمزوری اور قوت کی شاخیں نکلتی ہیں۔ جوں جوں خواہشات کے پتے بڑے ہوتے ہیں، یقین کی شاخیں مضبوطی اختیار کر لیتی ہیں تاکہ ان کے وزن کو سہار سکیں۔ نرم سی کونپل جو انگلی کی پور سے مسلی جا سکتی ہے، اتنی قوت کی حامل ہوتی ہے کہ سخت زمین حتی کہ پتھروں تک کو چیر کر اپنی ہمت و قوت کا برملا اظہار کرتی ہیں۔حالات کا مقابلہ دلجمعی سے کرنے والے اعصابی قوت کے حامل بن جاتے ہیں۔جن کے سر پر پریشانیوں کی گھٹڑی اور پاؤں میں مشکلات کی بیڑیاں ان کے ارادوں کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔جتنی کوئی شے چھوٹی سے چھوٹی ہوتی ہے  ان کی تعداد اربوں کھربوں میں چلی جاتی ہے اور بڑی سے بڑی  کی طوالت زندگی کا دارومدار ساخت اور وزن پر ہوتا ہے۔اچھائی اور برائی کے ترازو میں سچ اور جھوٹ کا تناسب بھی لاکھوں اور چند ایک جیسا ہے۔ کسی ایک کا سچ صدیوں بعد بھی زندہ رہتا ہے اور کروڑہا جھوٹ چند سال بعد فراموش کر دئیے جاتے ہیں۔نظام حیات کے برخلاف جھوٹ کی پیوندکاری سے ریا کاری کا پودا اُگایا جا سکتا ہے مگر نظام قدرت کے برخلاف جانے والوں کو انصاف کے بےرحم ہاتھوں کی جکڑ سے بچنے کی امید رکھنی عبث ہے۔ دو میل سے دو ہزار میل تک اختیار و اقتدار کی اس جنگ میں جو جیتا وہی سکندر کا لقب پانے کا حقدار ٹھہرتا ہے۔ جو قومیں اپنی روایت و رواج اور اخلاق و اطوار چھوڑ دیتی ہیں وہ اپنی شناخت کھو دیتی ہیں۔آپس میں دست و گریبان رہتی ہیں۔ وہاں اختیارات کے میٹھے چشمے اقتدار کے بھاری پتھروں سے بند باندھ کر روک لئے جاتے ہیں اور بے کسوں کی بستیاں اُمید کے دیپ جلائے میٹھے پانیوں کے انتظار میں سوکھ جاتی ہیں۔آسمان کی طرف نظریں اُٹھائے وہ مالک سے شکوہ کرتی ہیں کہ جسے تو نے نائب بنایا وہ مالک بن بیٹھے۔ جنہیں تو نے آزاد پیدا کیا وہ نسل در نسل حاکم کے نسل در نسل غلام بنا دئیے گئے۔ 1857 تک سوئی ہوئی قوم کو جاگنے میں 1947 تک 90 سال لگے۔1948 سے   سوئی ہوئی قوم دوبارہ جاگنے پر کب آمادہ ہوتی ہے یہ دیکھنا اب باقی ہے۔      تحریر: محمودالحق

دل دریا سمندروں ڈونگھے

سبز پسند کرنے والے کالے کے قریب نہیں جاتے، نیلا کسی کو بھلا لگے توپیلا کسی کی آنکھیں چندھیا دے۔کوئی سر پر وزن اُٹھاتا ہے تو کسی کی نظریں بارآوری سے جھک جاتی ہیں۔کوئی پاؤں کی حرکت سے چولہا جلاتا ہے تو کوئی قلم کی جنبش سے۔گردشِ خون برقرار رکھنے کے لئے دانتوں سے چبا کر حلق سے اُتارا جاتا ہےاور فاسد بدبو سے جسم چھٹکارا پا لیتا ہے۔کانوں سے دماغ کے نہاں خانوں میں  جو ہوا بن اُترے، زبان سے لفظ کبھی کڑوا تو کبھی میٹھا بن نکلے۔جو اصل  اندررہ جائے غبارِ خیال بن تہہ در تہہ وجودِ ناتواں پر سنگ بار جڑتا رہے۔ جہاں سے جو سیکھا ،اسی دور میں اسے لوٹانا ہوتا ہے۔پیدا ہوتے ہی احساس کا رشتہ پروان چڑھتا ہے پھر پہچان کا ،پھر تعلق گہرا ہوتا ہے زبان کا۔سماج سے تعلق بندھتا ہے تعلیم و تربیت سے۔ افراد سے قرب ملتا ہے اخلاق و اطوار سے۔سوچ پہاڑوں سے اُبلتے پانی کی مثل  گنگناتی شور مچاتی اپنے راستے خود بنا لیتی ہے۔ کسی کو علم ورثے میں ملتا ہے کسی کو طاقت۔کوئی سچ سے بہادری پا لیتا ہے کوئی جھوٹ سے بزدلی۔کوئی حق کے حصول کے لئے کوشش سے آگے بڑھتا ہے تو کوئی چھین کر حق جتاتا ہے۔دو صدیاں پہلے اپنی منزل پا کر سب جا چکے، پچھلی صدی میں جنہیں منزل مل گئی وہ جانے کے انتظار میں۔ بندوبست ایسا کہ شاید لوٹ کر پھر باری آئے ،جو نہ آئی اور نہ ہی آئے گی۔ایک بار آئے ہیں تو ایک بار ہی جانا ہے۔فیلنگ کی دنیا ڈیلنگ سے اتنی ہی دور ہے جتنی جلد کے نیچے شریانوں میں بہتا لہو ہوا سے ،جو جلد کو مَس کرتی گزر جاتی ہے۔نفرت تکبر کو جنم دیتی ہے تو غصہ انتقام کو۔محبت میں احساس غالب رہتا ہے تو رقابت میں حسد پروان چڑھتا ہے۔دل کو کھیل بنانے والادماغ دھیرے دھیرے سوچ کی سنگ باری سے عاجز آنے لگتا ہےاورنفرت حقارت شکوہ شکایت حسد جلن کی بھاری سلوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔ جہاں سے نکلتے نکلتے پاؤں میں لغزش اور ہاتھوں میں رعشہ طاری ہو جاتا ہےاور سر نہ نہ کی تکرار جیسا ہلنے لگتا ہے۔ کوئی نہیں پوچھتا کیا پا یا اور کیا چھوڑا۔ عجب تماشا ہے جو کھلاڑی میدان میں اپنے لئے اُترے اس کی ناقص کارکردگی اجتماعی عزت کا مسئلہ بن جاتی ہے۔حالانکہ  فائدہ بھی خالص اسی کا نقصان بھی اسی کا مگر قیمتی وقت کے ضیاع کی ذمہ داری سے بری الزمہ نہیں۔وہ نفرت حقارت کے ساتھ ساتھ بدزبانی سے بھی محفوظ نہیں رہتے۔ ملاوٹ شدہ خوراک ،جعلی ادویات ،بے ہنگم ٹریفک ،بات بات پر جھوٹ، کسی وعدہ کا وفا نہ ہونا،غریب چاہے پسینے میں نہائے یا خون بہائے،نا انصافی کے ستون سے بندھ کر مظلوم رشوت کے کوڑے کھائے، تو ایسا معاشرہ بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کی عملی تصویر نظر آتاہے۔کس سچ کو ماننے والے ہیں ،کس حق کے پیروکار ہیں ،کس کوراضی رکھنا چاہتے ہیں، کیاہے اس خواب کی تعبیر،کسے مطمئن کرنا چاہتے ہیں،کس سے تعریف و تحسین چاہتے ہیں، کون ہے جو  چند جملوں کے عوض خزانوں کے منہ کھول دے۔آخری ڈگری حصولِ رزق میں مددگار ہوتی ہے  باقی صندوقوں میں پڑی رہتی ہیں۔اللہ تبارک تعالی اپنی راہ میں خرچ کرنے والوں کو انعام و اکرام کی خوشخبری دیتا ہے۔جو رزق عطا فرماتا ہے وہ بھی اسی کے فضل سے ہے۔ایسی جنت جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں جہاں کھجور اور انگور کے باغات ہیں ۔اس زمانہ میں رائج دستور ِحیات کے مطابق رہنے سے تو پانا مشکل نظر آتا ہے۔ دنیاوی امارت ،شہرت ،امامت کے لئے فلسفہ ءجہالت پر اتنا زور کہ دم ہی نکلنے سے رہ جائے۔ جو آسائش پالیں وہ خوش نصیب جو رہ جائیں وہ ناکام و نامراد۔ مراد  بر آنے کی ایک ہی صورت ہے کہ مدد مانگو صبر اور نمازسے بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔انسان زندگی کے پہلے دس  سال میں صرف سیکھتا ہے آخری دس سال میں صرف بھولتا ہے۔ درمیانی پچاس ساٹھ سال صرف  دوڑنے میں گزر جاتے ہیں۔چاہے حصے میں جیت آئے یا ہار۔جنہوں نے آنکھوں سے لفظوں کی پہچان کو بھولتے دیکھا ہو،زبان سے لفظوں کی ادائیگی کو رکتے دیکھا ہو،ہاتھوں اور انگلیوں سے نوالہ بنانے اور پکڑنے کو بھولتے دیکھا ہو،ٹانگوں پر جسم کو بوجھ محسوس کرتے دیکھا ہو، ایک ایک اعضاء کی موت کا منظر سالہا سال دیکھا ہو،ڈگریوں کو صندوق میں اور دولت کو بینک میں کسی کام نہ آتے دیکھا ہو، وہ لاکھوں  میں چند ایک ہوں گے اور ان کے لئے زندگی کا روائتی فلسفہء حیات   درسگاہی  کتب جیسا نہیں ہو سکتا۔علم و عرفان کی آگہی جنہیں نصیب ہو وہ اپنی دنیا آباد کر لیتے ہیں جس میں مدد صرف اللہ سے صبر اور نماز سے مانگی جاتی ہے۔دل دریا سمندروں ڈونگھے کون دلاں دیاں جانے ہُووچے بیڑے وچے جھیرے وچے ونجھ مہانے ہُوچوداں طبق دلے دے اندر تنبو وانگوں تانے ہُودل دا محرم ہووے باہُو سوئی رب پچھانے ہُو
تحریر : محمودالحق       

تعلیم جمہوریت کا جھومر

ادب سے میرا رشتہ سیاستدانوں کے جمہوریت سے تعلق جیسانہیں ،  لیکن لکھنا اتنا ہی عزیز ہے جتنی انہیں سیاست ۔ اردو زبان کی ترقی و ترویج کا داعی تو نہیں مگر خیر خواہی میں کسی طور کم نہیں۔ فرق صرف اتنا سا ہے کہ  ادب دورِ حاضر میں نفع  بخش نہیں بلکہ بےقیمت ہوتا ہے ۔نئے دور میں صرف نئی سوچ  ہی انہیں قبولیت کی سند عطا کرتی ہے۔ادب ،سیاست میں نظریہ کی طرح نہیں بلکہ فکر کی صورت پروان چڑھتا ہے جو تالیوں کا محتاج نہیں ہوتا۔اخبارات و رسائل چھپنے کے اگلے روز بعد ہی پرانے ہو کر پکوڑے کچوریوں سے لپٹ کر تیل آلود ہو جاتے ہیں۔ادب  تحسین و پزیرائی کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ وقت گزرنے کے انتطار میں ہوتا ہے اولڈ از گولڈ کی مانند چمکتا ہے۔اقبالیات و غالبیات  اشرافیہ سے مراعات کے سند یافتہ نہیں بلکہ ایک سوچ و نظریہ کے غماز ہیں۔بچوں کو سکول حصول تعلیم سے زیادہ حسن تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے بھیجا جاتا ہےتاکہ وہ حسن پرستوں کے منظور نظر بن جائیں۔ معاشرے میں فردِ خاص کا مقام حاصل کر کے افرادِ عام پر قابلیت اور برتری کا سکہ جما سکیں۔نظام تعلیم ذہنی آزادی کی بجائے محرومی کے غلام پیدا کر رہا ہے۔ اردو بازار لاہور ایک ایسی "درسگاہ "ہے جہاں رٹے کے لئے پکے پکائے پکوان تیار ملتے ہیں اور گلی محلے کی بک شاپ  پر خلاصہ جات کے ساتھ گیس پیپرز کی تعداد  بھی مضامین  کی کتب سے کسی صورت کم نہیں ۔جن درسگاہوں میں  پانچ سو روپے سے پچاس ہزار تک ماہانہ فیس میں تعلیم بیچی جا رہی ہو ،ان میں قابلیت کے معیار کو جانچنے کے لئے  انگلش لب و لہجہ درجہ بندی میں اول مانا جاتا ہو۔ان حالات میں ردی کے کاغذوں پر اسائنمنٹس مکمل کرنے، مانگ کر کتابیں پڑھنے ، بسوں پر لٹک کر سفر کرنے ، سال سال بھر دوسرے جوتے کے لئے ترسنے  ، ڈرائنگ روم کے ایک کونے میں چٹائی پر پڑھنے اور  وہیں رات بھرسونے والا نوجوان چاہے جتنا بھی قابل اور اہل کیوں نہ ہو  ۔سفارش کی سیڑھی سے رشوت کی بیل تک بمشکل رسائی پا بھی لےمگر گوگل کا دو ارب سے زیادہ   سالانہ تنخواہ پانے والا چیف ایگزیکٹو نہیں بن سکے گا لیکن ایسا ہندی لہجے میں انگریزی بولنے والے سندر راجن پچائی  نے گوگل کا   سی ای او بن کرثابت کر دکھایا۔ ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں سے نکلنے میں قائد نے ہماری رہنمائی کی اقبال نے راہ دکھائی۔  سکول میں ایک لطیفہ سنا کرتے تھے کہ ایک دن جب استاد نے طالبعلم سے سکول دیر سے آنے کی وجہ پوچھی تو طالبعلم نے کہا کہ بارش کی وجہ سے کیچڑ بہت تھا دو قدم سکول کی طرف چلتا تو چار قدم پیچھے پھسل جاتا ۔ استاد نے حیران ہو کر پوچھا پھر سکول کیسے پہنچے تو طالبعلم نے جواب میں کہا کہ میں نے اپنا منہ گھر کی طرف کر لیا تھا۔ آج ہمارے نظام تعلیم کا حال بارش میں کیچڑ کے راستے جیسا ہے ، ہم آگے نہیں بڑھ پا رہے ہمیں اپنا منہ اقبال و قائد کی طرف کرنا ہو گا۔ سوچ کے نئے در کھولنے ہوں گے جہاں سچ اور حق کہنے اور ایمانداری کا علم اُٹھانے والوں کو بڑی حیرانی سے نہ دیکھا جا سکے۔پوش علاقوں میں رہنا کسی کے لئے مقامِ فخر نہ ہو۔ بیوروکریٹ اتنا گریٹ نہ ہو کہ عوام کی حیثیت کنکریٹ جیسی ہو۔ جہاں گھریلو خدمتگار کو تنخواہ کے عوض  باندی و غلام  نہ بنا کر رکھا جائے۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی شدید خواہش مقابلے کی بجائے حدود کو پھلانگنے تک چلی جاتی ہے جس کا سب سے پہلا شکار  رشتے اور تعلق ہوتے ہیں جنہیں غرض و مفاد کے ہاتھیوں کے پاؤں تلے روندا جاتا ہے۔جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے کے جنون میں کامیابی کے زینے چڑھے جاتے ہیں۔کھونے کا خوف اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ پانے کی لذت سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ برتری کے نشہ میں سرشاری کا لطف اُٹھانے کے لئے مجبوری و لاچاری پر جملہ کسنا یا ہنسنا فیشن بن جاتا ہے۔مسٹر بننے والے منسٹر کے خواب آنکھوں میں بسا لیتے ہیں جو چیف کی کرسی پر نظریں جما کر رکھتے ہیں اور چیف ،پرائم  کی حیثیت پانے میں سخت تگ و دو سے دوچار رہتے ہیں۔تاریخ شاہد ہےسکندر یونانی عالم شباب میں دنیا کی فتح کا خواب آنکھوں میں لے کر دنیا  سے  ہی چلا گیا۔قطب الدین ایبک سے ابراہیم لودھی اور بابر  سے بہادر شاہ ظفر تک عروج و زوال کی بیشمار داستانیں ہیں۔سکھوں مرہٹوں سے افغانیوں ،پرتگالیوں ،فرانسیسیوں اور انگریزوں تک اس خطے کی قسمت میں گھوڑوں کی چاپوں کی آوازیں تھیں پھر ریل گاڑیوں کی چھک چھک ۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے پہلے  مغل شاہی ادوار میں تعلیم کےسواصرف باغات،محلات،مقبرے،قلعے ہی مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کی عظیم نشانیاں ہیں۔آج تک وہی مغلائی اندازِ حکمرانی اختیار کیا گیا ہے ۔ اس قوم کے مزاج میں رتی بھر تبدیلی نہیں آئی ، اسی لئے وہ آج صدیوں بعد بھی سڑکوں پلوں کی تعمیر شاہی پر حکمران چنتے ہیں بلکہ ان کی نا اہل اولادوں کے راستوں میں بھی پلکیں بچھاتے ہیں۔تعلیم جمہوریت کا جھومر ہے بادشاہت کے لئے زہر ہے۔کون  ایسا عاقبت نا اندیش سیاستدان ہو گا جو اپنے وارثان کے لئے سیاسی غلامان کی بجائے آزاد   سوچ کے حامل بااختیارانسان سیاسی ورثے میں چھوڑےگا۔
تحریر : محمودالحق        

مہکتا گل اچھا سوکھے خار کی عمرِ بار سے

گرد آلود ہواؤں نے آسمان پر مستقل سکونت اختیار کبھی نہیں کی، ان کا بسیرا بادلوں کے زیرسایہ ہی رہااور بادلوں نے جب چاہا انہیں زمین پر دھکیل دیا۔ ہوائیں جب انہیں اپنی آغوش میں لے کر سیر کو نکلتی ہیں تو ہوائیں ہی بادلوں کو زمین کے ایک حصہ سے دوسرے تک لے کر آسمان کو اُجلا بناتی چلتی ہیں۔ستاروں کی چمک اور چاندنی نکھری زمین کو روشنیوں سے نہلاتی ہے۔زمین کے شانے پر پھیلے درخت جھوم اُٹھتے ہیں، پھول نکھر کر خوشبو پھیلاتے ہیں۔ درختوں سے روشن آلاؤ صدیوں جل کر بھی زمین و آسمان کے تعلق نہ توڑ سکے۔ زندگی بظاہر مشکل تھی میلوں کا سفر دنوں مہینوںمیں طے پاتا۔ آج چٹکیوں میں سماعت و بصارت ہزاروں میل کا سفر طے کر لیتی ہےمگر تہہ زمین لوہا، سونا، گیس اور تیل نے زندگی کی رفتار بڑھا کر قدموں کو جام کر دیا۔عجب ماجرہ ہے زمین کے اندر نے اس کے حسن کو گہنا دیا اور انسان کے باہر نے اسے سلا دیا۔نکھرنا کھلنا اور مہکنا دھوئیں سے داغدار ہو گیا۔ریشم نے جان پر کھیل کر انمول بنا دیا۔ پتوں  پھولوں اوربالوں نےبدن ڈھانپنے کا اور پتھروں نے آرائش کا کام سنبھالا۔منوں ٹنوں وزنی ایجادات گرام کلو میں انگلیوں کی پوروں پر جانچی جانے لگی۔تن آسانی نے اندر اتنے بھاری کر دئیے کہ بیماریوں کی آماجگاہ بن گئے۔حسن لباس میں رہ گیا ، علم ڈگریوں میں، جوانی کے پل بھاگ دوڑ میں اور بڑھاپا آنکھوں کی پلک میں۔شفاخانے بیماروں کے لئے مرغن غذاؤں کے ریستوران سے بڑھ کر عزیز ہوتے ہیں۔ آبشاروں سے گرتا پانی ندی نالوں سے گزرتا شور مچاتا منزل مقصود پر پہنچ کر دم سادھ لیتا ہے مگر جھیل کے ٹھہرے پانی پر پھینکا گیا ایک معمولی کنکر لہروں کو بے آرامی کی اذیت سے دوچار کر دیتا ہے۔ جنگلی بھینسہ گھاس پھوس کھا کر شیروں کے شکار کی طاقت حاصل نہیں کر سکتا۔وقت کے فرعون پتھروں میں کنندہ تو ہو سکتے ہیں مگر زمانے پر گرفت سے محروم رہتے ہیں۔ناموری کی طلب شہرت کی خواہش طاقت کی بھوک نے آنکھوں پہ جھوٹ کا کالا موتیا ایسے اتارا ہے کہ اصل منظر دھندلا گیا ہے۔آم کے پودے آنار کی پیوندکاری سے پروان نہیں چڑھ سکتے البتہ کھٹے میٹھے بنائے جا سکتے ہیں۔ جو معاشرے سچ میں جھوٹ کی پیوند کاری سے پروان چڑھیں، جہاں شخصی محبت اجارہ داری اور روا داری میں تمیز کرنا بھول جائے، وہ بے حسی کے تابوت میں آخری کیل  ٹھونکنے کے انتظار میں رہتے ہیں۔ ہمیشہ سنتے آئے ہیں کہ بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا، بلا شبہ نام انہی کا دلوں پر دستک دیتا ہے۔نسوانی چھینک پر طشتری بھری دعائیں سینکڑوں  فیس بک کےنوجوانوں کے دل سے نکلیں، ایک ایک شعر پر  داد وآہ واہ کرتے سینکڑوں منچلے، قرآن و حدیث پر عالمانہ  گفتگو کے بعدفتوی دیتے سکالر ہزاروں  کی تعداد میں لاکھوں کے حمایت یافتہ ہوں تو وہ شہد کی مکھی زیادہ باعزت دکھائی دیتی ہے جو پنتالیس دن کی زندگی میں  ہزاروں پھولوں کی کشید کاری سے ایک چوتھائی چمچ شہد بنا کر اپنا کام سر انجام دیتی ہے۔مہکتا گل اچھا سوکھے خار کی عمرِ بار سےمیرا دل ہی ہو میرے نفس کا بادِ نوفراق محبوب و عشق محبوب میں کیا جدا ہےایک میں مَیں ہے اور ایک میں صرف تُو
محمودالحق

                

اطاعت و بندگی

زندگی کی چکاچوند روشنیوں سے اندھیرے مٹانے کے لئے مستعار تیل لے کر چراغ بھرتے رہتے ہیں، زندگی کی شام ڈھلتی رہتی ہے ، اندھیرے پھیلتے رہتے ہیں ، نہ سفر تمام ہوتا ہے اور نہ ہی دل کے دئیے روشن ہوتے ہیں۔ بس ایک تماشا ہے جو آنکھوں کی پتلیوں نے دیکھا۔ کبھی کبھار سوچ ایسی جادوئی قوت سے بھرپور وار کرتی ہے کہ عمل تیز دھار تلوار کے سامنے ایک کمزور شاخ کی طرح کٹ کٹ کر گرتے جاتے ہیں۔ وجود شکست خوردہ فوج کی طرح ہتھیار پھینک کر قیدی ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات فتح غافل کر دیتی ہے اور کبھی شکست مضبوط حصار کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ ماضی کی کمزور اور کچی دیواریں آج قدآور بلند ستونوں پر محرابوں سے مزین بلند و بالا عبادت گاہیں عازم مسافران کو خالق حقیقی کے جاہ و جلال، اختیار قدرت اور انجام بے خبری کے لئے نوشتہ دیوار ہیں۔ نئے آنے والے جانے والوں کے قدموں کے نشانات کی کھوج میں رہتے ہیں۔ مگر قدموں کےنشان تو ان کے پھتر بھی محفوظ کرنے کے پابند ہوتے ہیں جو ویرانوں میں بیوی اور بچہ چھوڑ جاتے ہیں۔ اللہ تبارک تعالی انہیں مقام ابراھیم بنا کر اپنے گھر کے سامنے محفوظ کر دیتا ہے۔ اللہ جنہیں محبوب بنا لیتا ہے انہیں مشعل راہ بنا دیتا ہے۔ زمین کی تاریکیوں میں اتر کر بھی نشان راہ بن جاتے ہیں۔ تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں پر خطر راہ عشق کے امتحاں اتنے آساں بھی نہیں کہ ایک جھلک دیکھنے کے لئے رو برو ہو جائیں۔ زندگی ایک ایسا امتحان ہے جس کے جواب رٹے رٹائے ہیں مگر جو سوال لوح و قلم سے لکھے گئے ہیں ان کے جواب عمل کی سیاہی سے دستور حیات کے کاغذ پہ لکھے جاتے ہیں۔ سائل کتابیں کھول کھول دعاوں میں ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ جہاں ایک نقطہ سے مفہوم بدل جانے کا ڈر لگا رہتا ہے۔ خوبصورت منظر کشی کرنے والے رائیٹر ہو سکتے ہیں یا پینٹر۔ آرٹ کے قدیم گراں قدر نمونے ناقابل یقین قیمتوں پر فروخت ہوتے ہیں۔ مگر وہ گلاب کے پھول کی ایک پنکھڑی سے بھی بیش قیمت نہیں ہو سکتے۔ باغوں بہاروں، پہاڑوں اور نخلستانوں میں بارش کی ہر بوند کا ایک ہی رنگ و ذائقہ ہے مگر جب زمین سے نکالا جائے تو تاثیر بدل جاتی ہے۔ اللہ تبارک تعالی کا فرمان قرآن ایک ہی ہے مگر ہر جگہ کی تاثیر الگ الگ۔ سونا بنانے کا فارمولہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے لوگ زندگی بھول جاتے ہیں مگر سونا تو ڈھونڈ کر نکالا جاتا ہے ، پھر بھٹی میں پکا کر ڈھالا جاتا ہے۔ ہیرے جڑے نگینے کی قیمت اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ عشق مجازی میں ہر شے قابل خرید و فروخت ہوتی ہے۔ مگر عشق حقیقی میں دام نہیں ہوتے الفت ہوتی ہے۔ دنیاوی غرض و غایت ایک طرف اور آخروی خواہش خیر دوسری طرف کھڑی ہو تو ایک نظر میں صرف ایک ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ تفریق کرنے والے ہی راہ پانے والے ہیں۔ جو آنکھ اے بی سی کی شناخت سے کھلی ہو وہ الف ب پ کو سمجھنے سے قاصر ہو گی۔ لفظ کتابوں سے نکل کر خوشبو کی طرح ہواوں کو معطر کر دیں تو ان کی قیمت کا تعین کرنا بس میں نہیں ہو سکتا۔ لفظ حق کے داعی ہوتے ہیں۔ جو سچ جاننے والوں کو مانتے ہیں۔ مسجد نبوی کے خوشبو بھرے صحن میں بیٹھا جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو میرا ذہن زیارات مدینہ کی خوشبو بھری یادوں میں سلتا جا رہا ہے۔ کتنے عظیم لوگ تھے جنہوں نے اللہ کی بندگی اور رسول صلی اللہ علیہ والیہ وسلم کی اطاعت میں زندگیاں وقف کر دیں۔ جو قرآن کی ابتدائی آیات پر ایمان لے آئے۔ ہمارے پاس تو مکمل قرآن پاک ہے۔ اللہ تبارک تعالی ہمیں ایمان کی سلامتی دے اور حق پر رہنے اور سچ کہنے کی قوت ایمانی سے سرفراز کرے آمین محمودالحق

ذکرِالأنفال

ہم بہت آسانی سے حاصل کی گئی کامیابیوں کو دونوں ہاتھوں سے سمیٹ لیتے ہیں پھر اپنی عقل و دانش پر فخر سے سینہ تان لیتے ہیں مگر حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔حاصل وہی ہوتا ہے جو اللہ تبارک تعالی کی رضا ہو ۔ جس سے وہ راضی ہو اسے نوازنے میں دیر نہیں کرتا مگر دنیا کا وقت دن رات اور سونے جاگنے میں ایسے تقسیم رہتا ہے کہ دن ہفتے ، ہفتے مہینے اور مہینے سال بھر تک چلتے ہیں جو ہیجان و بے چینی کا سبب ہوتے ہیں۔ہمیں تواریخ تو یاد رہتی ہیں مگر موضوع و مناسب حالات کا ادراک نہیں ہو پاتا۔ انسان بنیادی طور پر جلد باز جو ٹھہرا  نتیجہ جاننے میں سال مہینے چٹکیوں میں چاہتا ہے۔ کیونکہ ماضی اس کے لئے ایک کہانی ، حال خواہش اور مستقبل سہانا خواب نظر آتا ہے۔ ماضی کو بھلانا تو چٹکیوں میں ممکن کر دکھاتا ہے مگر خوابوں کی تعبیر بھی پلک جھپکنے میں تکمیل کے مراحل طے کرتی ہوئی چاہتا ہے مگر وہ یہ نہیں جان پاتا کہ جس طرح ۱۴۳۸ سال کے بعد بھی جو قرآن مجید کے الفاظ ایک ایسی مستقل حقیقت ہے جو وقت مقررہ پر منازل کی  مسافت کا تعین رکھتے ہیں۔چاند ستاروں سے لے کر سردی گرمی خزاں بہار کے لئے ایک مخصوص وقت کی پابندی لازم قرار پا چکی ہے۔ پھولوں کا کھلنا پھلوں کا پکنا پرندوں کا انڈے سینا اور چرند کا بچوں کے پیدائش کا عمل وقت مقررہ کا مرہون منت ہے۔ مگر خواہش میں انہیں منزل مقصود بنا رکھا ہے جو دس بیس پچاس سال کے بعد نہ تو خود ہی اپنا وجود برقرار رکھ پاتے ہیں اور نہ ہی نئے انداز و تخلیق کی پائیداری کی کوئی گارنٹی دے پاتے ہیں۔گھر تبدیل کر کر کے پھر تبدیلی کے لئے کچھ نیا کرنے کی کی طرف توجہ مرکوز ہو جاتی ہے۔جن سے جو کام لینا مقصود ہوتا ہے پہلے انہیں منطقی انجام سے دوچار کیا جاتا ہے جسے کبھی آزمائش تو کبھی تقدیر میں نہ ہونے سے تعبیر کر لیا جاتا ہے۔بچہ امتحان دینے تک پرجوش اور پر اُمید ہوتا ہے مگر غیر متوقع رزلٹ کے آنے پر مایوس کے اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے ۔ آگے بڑھنے پر مشکل کا شکار اور ارادے کی کمزوری کا شکار ہونے لگتا ہے۔ جواز ایسا تلاش کرتا ہے جو مصلحت کے بغیر ہوتا ہے۔اللہ تبارک تعالی کسی جان پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ آسانی سے پانے والے مشکلات کی چکی میں پس کر خواہش کی تکمیل تک دو مختلف زاویہ سے زندگی کا مفہوم سمجھنے کی منطق کا شکار ہوتے ہیں۔ مگر نشانیاں عقل والوں کے لئے ہیں جو قرآن مجید میں طے شدہ ہیں۔ تانبے پیتل سونے کے سکے لین دین میں آج بھی ہیں مگر بدلے میں کاغذ کے چند ٹکڑوں پر راضی ہو جاتے ہیں۔مٹی گارے کی چنائی سے بنے گھر اینٹ سیمنٹ کی طاقت حاصل کر چکے مگر دوسری نسل تک پہنچتے پہنچتے بڑھاپے کے لاغر پن کی وجہ سے ناقابل اعتبار ہو جاتے ہیں۔جس گھر کی جالیاں عشق و محبت کے متوالوں کو نشہ و سرور کی کیفیت میں مبتلا کر دیں اور ایک گھر کا غلاف دیکھنے اور چومنے والوں کو سحرزدہ کر دے وہ اسے پاک پروردگار کا احسان عظیم جانے اور اس گھر کی حاضری ایک طویل دعا اور قبولیت کے فرمان کا شاخسانہ قرار دے تو عظمت کے مینار آنے والوں کو اصل حقیقت سے روشناس کرواتے ہیں۔سبز گنبد اور سیاہ غلاف عاشقوں کے لئے عید سعید کے خوشیوں کے لباس ہیں جنہیں نظروں میں سمو کر آنکھوں کے نور میں جذب کر لیتے ہیں۔ نہ جانے کتنے ہی آنسوؤں کی قربانی کے بعد قبولیت کے شرف سے فیضیاب ہونے جا رہے ہوں۔وجود اپنے احساس کو لمس سے محسوس کرتا ہے مگر روح عشق میں خوشبو کی طرح کائنات میں آخری ستارے تک رسائی پانے کے فاصلے کی خواہش سے پہلے عشقِ امتحان  وجود میں احساس کی آخری منزل تک پہنچ جاتے ہیں۔شہد کی مکھی سفر در سفر کے بعد پھول در پھول سے جو رس پاتی ہے وہ مٹھاس میں یکساں ہوتا ہے۔ اللہ تبارک تعالی اپنے گھر تک پہنچنے کے لئے آخری دنیاوی خواہش کی آزمائش کو بھی بندے پر آزماتا ہے کہ فرمان کی تکمیل تک نافرمانی کی کڑواہٹ سے پاک جذبِ احساس وجود کے نہاں خانوں میں گردش خون سے بھی اتنا خالص ہو جائے کہ دعائیں بے اثری سے محفوظ ہو جائیں اور رحمتیں ونعمتیں ظاہر و باطن کو وحدتِ ایمان میں یک دو قالب کی طرح پرو کر اظہار و افکار کےسمندر سے نکال کر عمل و کردار کے بہتے میٹھے چشموں کے پانی سے پیاسوں کو سیراب کرتا آگے بڑھتا چلا جائے۔ اللہ تبارک تعالی جب اپنے بندوں کو نمونہءعمل بناتا ہے تو راستوں کو ان کی مرضی کے تابع نہیں کرتا بلکہ ان کے دلوں کو اپنے خیال بندگی سے منور کر دیتا ہے۔ پھر تو نہ ہی امتحان ہوتا ہے نہ ہی نتیجہ اور نہ ہی منزل۔بس ایک راستہ ہے جو عین شباب آفتاب کی طرح روشن  جو پہلے قدم سے ہی اپنا رُخ متعین کر دیتا ہے۔ کسی کے دل میں عقیدتِ خیال کا طوفان برپا کر دیتا ہے تاکہ  عاشق محبوب رو برو  ہو جائیں۔ جہاں سوچ کے در بند ہو جاتے ہیں  اورچاہ کی زمین چاہت کے آسمان  ایک ہو جاتے ہیں۔ آنکھ صرف وہی دیکھتی ہے جو وجود سے باہر ہو ، اندر کہاں تک وہ اُتر پاتی ہے کسی خیال کسی احساس کی دسترس سے انتہائی باہر ہے۔اللہ تبارک تعالی کی محبت جن کا عشق ہو انہیں علم سے بے بہرہ سوکھے پتوں سے اُمید کی فصل اُگنے کی آس نہیں ہونی چاہیئے۔ آندھیاں صرف انہیں کو پھل بننے تک پہنچاتی ہیں جنہیں خوشبو اور ذائقہ دینا مقصود ہو باقی زرد پتوں کی طرح اُتر جاتے ہیں۔ زمین  سے اُٹھا کردرختوں پر لٹکانے سے اُمید بہار نہیں آ سکتی۔ کیونکہ لوٹنے کا وقت گزر چکا ، بڑھنے کا وقت ہے، پکنے کا وقت ہے، خوشبو پھیلانے کا آغازِ موسم ہے۔  مایوسیوں محرومیوں کی خزاں بہار کی آمد کا انتظار نہیں کرتی مگر اُمید ِنو اپنا سفر ادھورا نہیں چھوڑتی۔ظاہر کی قیاس میں باطن کی حقیقت پوشیدہ رہتی ہے۔ اگر لفظ سچے ہوں تو پھر خیال بھی ہمیشہ سچا ہوتا ہے۔ گو مگو میں وہی رہتے ہیں جودنیا کی  دائمی شہرت کے داعی ہوتے ہیں۔ مگر زندگی کی حقیقت عمل سے ثابت ہوتی ہے جب نفی خیال سے نکل کر وجود کو ریزہ ریزہ کر دے اورکھڑا ہو کر بھی درد کی ہائے میں نا شکری نہ ہو۔رحمتوں کی اُمید بر آنے کا یقین ہو۔ جو حق کے ساتھ رہتے ہیں مایوسیاں ان کے قریب نہیں رہتیں۔کمزور پر نفس بھاری رہتا ہے مضبوط ایمان کی رسی کو تھامنے سے قوی ہو جاتا ہے۔ جہاں الفاظ اعمال پر بھاری ہو جائیں سفارش یقین کی سیڑھی بن جائے  وہاں چلتی ٹرین کے پیچھے بھاگنے سے منزل مقصود تک نہیں پہنچا جا سکتا۔ جہاں ایک ہی پٹڑی پر مخالف سمت جانے والی ٹرین پہنچیں تو مسافر اپنی سمت کی طرف سفر کریں گے۔ یہاں تعداد کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ سیاست و تجارت میں تو ایسا ہو سکتا ہے مگر قیامت کا سفر اس سے مختلف ہے۔ جہاں اکیلا بھی جیت کر رحمتوں کی آغوش میں لپٹے گا۔نئے سال 2017 کا سورج دنیا میں اسی طرح طلوع ہو گا  نئی قیاس آرائیوں کے ساتھ مگر شائد کسی کے لئے واضح اور حقیقت پسندی کی چکا چوند روشنیوں سے بھرپور تنہایوں کا ابتدائے سفر طالب کی تلاش و جستجو کے لئے ذکرِالأنفال۔
 تحریر : محمودالحق         

اب خاموشی سے کیا کہوں

جنگل کی دنیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھو کا عالم ۔۔۔۔۔۔۔خاموش آسمان ۔۔۔۔۔۔۔ننگے پاؤں کانٹے بھرے راستے۔۔۔۔۔۔۔۔بے پرواہ ہوائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلگتے وجود پہ بوند بوند قطروں کا ٹھنڈا احساس ۔۔۔۔۔۔ زمانے کے رائج رواجوں کی چٹانوں سےبے بس لہروں کی طرح ٹکرا ٹکرا کر لوٹ جاتا ہے۔ ماں کی آغوش میں بتائے پل ،حالات کی کسی رسیوں کے بل کو کچھ پل کے لئے ڈھیلا کر دیتے ہیں۔ایک نے محبت سے بھر کر دنیا میں بھیج دیا اور ایک محبت میں ڈبو کر دنیا چھوڑ گیا ۔ غرض و مفاد کی اونچی عمارتوں تک نفرت کی آگ کے شعلے دھواں بن پہنچتے ہیں۔ جو بھٹکے وہاں پہنچیں تو دوا اُن پر بے اثر ہو جاتی ہے اور دعائیں کارگر نہیں ہوتیں۔ عجب زندگانی ہے کان میں اذان دینے سے چارپائی پر لٹا کر نماز پڑھنے تک رنگ اور سائز کا معمولی فرق بھی طبیعت پر گراں گزرتا ہے ۔
 !!!پھر 
کچھ بھی نیا پن نہیں وہی صدیوں پرانے سفید کفن کا اہتمام

لفظ کہانی سفر زندگانی

زندگی کے اوراق پلٹتے جائیں تو جدوجہد کی طویل فہرست  دکھائی دیتی ہے۔ انتھک سفر کے بعد کامیابی کا ایک پڑاؤ پھر نیا سفر لیکن منزل سے کوسوں دور، صبر کی چوٹیوں کے پار ،طغیانی بھرے دریا گنگناتی آبشاروں کے گیت کو شور میں دباتے ڈھلوانوں کی طرف گامزن پہلے ہوش اُڑاتے پھر ہوش ٹھکانے لگاتے مایوسیوں کی ناؤ بہاتے گزرتے جاتے ہیں۔انسان خودغرضی کی دولت سمیٹتا عنایات کی بھرمار سے بےنیاز حاصل کو منزل مان کر ٹھہر جاتا ہے۔جانبِ بہاؤ ناؤ کے چپُو چلانے میں نشہ کی سرشاری میں مبتلا رہتا ہے۔کہاں چل دئیے پلٹ کر کیوں نہ بلندیوں کے تھکا دینے والے سفر پر چلیں جہاں منظر دلکش ہیں وادیاں حسین ، گرم پہاڑ برف پگھلاتے جھیلیں ٹھنڈی ہیں۔جلد سے اوپر  کی ڈیلنگ کی دنیا سے دور، جلد کی نیچے کی فیلنگ کی دنیا کے قریب۔ جہاں ایک انسان کسی دوسرے ہمدرد دوست سے ملی خوشبو کو ساتھ لئے پھرتا ہے۔ احساس اظہار کا مرہون منت نہیں ہوتا۔ لاکھوں لائبریریوں میں سجی کروڑوں کتب انسانوں سے ہمکلام نہیں ہوتیں۔ احساس احساس سے شناسا رہتا ہے۔ ڈیلنگ سےکیفیت تبدیل ہوتی رہتی ہے۔کانوں کو جو بھلا لگتا ہےوہی رس گھولتا ہے۔نگاہوں کو جو خیرہ کرتا ہے وہی پینٹ ہو جاتا ہے۔ آگے بڑھنا شہرت ناموری امارت کی خواہش پر ہو تو مہنگی سستی کرنی پڑتی ہےتاکہ زیادہ تک رسائی ممکن ہو۔بیچنے کے لئے سر بازار آواز لگانی پڑتی ہےسامان قرینے سے سجایا جاتا ہے۔سچ کی طاقت جو جان لیتے ہیں، مدد سے مددگار کو پہچان لیتے ہیں۔آزمائشوں کے پودوں پر عنایات کے پھل پا لیتے ہیں تو وہ مہک کو ہر وقت اپنے ساتھ محسوس کرتے ہیں۔کوئلے کی کان میں ایک ہیرا اتنا بیش قیمت ہو سکتا ہے کہ وہ کان زرہ برابر قیمت کی رہ جائے۔دنیا  ایک ایسی دوکان ہے جہاں ضرورت کے مطابق داخل ہوا جاتا ہےاور پسند کی شے لے کر نکل جانا ہوتا ہے۔ اگر دربند ہو تو دستک سے کھلوایا نہیں جاتا بلکہ ازخود کھلنے کا انتظار کیا جاتا ہے۔ جب منزل تک پہنچنے کے راستے جدا جدا ہوں تو آسان راستوں پر رک کر پیچھے رہ جانے والوں کا انتظار نہیں کیا جاتا بلکہ سفر کو جاری رکھا جاتا ہے۔ کہیں ہاتھ دے کر بٹھا نہ دیئے جاؤ۔ قدم گن کر فاصلے طے نہیں کئے جا سکتے اور نہ ہی لہریں گن کر سمندر پہ سفر  کئے جا سکتےہیں۔ جو انا  و خودداری کی بھٹی میں صرف جلنے کا ایندھن بنے رہنے کو ترجیح دیتے ہوں وہ وقت سے پہلے سوکھ کر دھوئیں میں ڈھلنا نصیب سمجھتے ہیں۔لفظ جب شناخت بن جاتے ہیں تو لفظ کہانی ختم ہو جاتی ہے ایک سوچ زندہ ہو جاتی ہے۔ پھر آنے والے بنا دستک کے اندر داخل ہو جاتے ہیں اور باہر نکلنے والوں کے پیچھے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔
 محمودالحق        

آج کی پکا؟

زندگی میں خوبصورت پل آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔ جن جن پر گزرتے ہیں وہ یادوں کی صورت کینوس پر منتقل ہو جاتے ہیں۔ مگر عید سعید ایسا خوبصورت تہوار ہے جو ابا کے ساتھ عید گاہ جاتے ہوئے جو مزا دیتا تھا اب بچوں کے ساتھ جاتے ہوئے بھی وہی احساس طبیعت پر حاوی رہتا ہے۔ اماں کو گھر پہنچتے ہی عید مبارک کہنا اور عیدی وصول کرنا بہت بھلا لگتا تھا۔ آج عید کی نماز پڑھ کر گھر پہنچتے بچوں کی اماں سے عید مبارک سننا اور بچوں کو عیدی دینا اتنا ہی بھلا لگتا ہے۔ رمضان میں ناپ تول کر کھانے پینے کے بعد کھلی چھٹی پا کر عید کا دن دستر خوان پر انواع و اقسام کے لذیز کھانوں کی خوشبو سے معدہ کو دعوت بد پرہیزی پر آمادہ کر لیتا یے۔ عید کی خوشیاں دائمی ہیں جو کبھی ماند نہیں پڑتیں بلکہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ تازہ دم اور جوان رہتی ہیں۔ تمام اختلافات کو بھلا کر ملنے والے ہر شخص کو گلے لگایا جاتا ہے۔ جن سے سال میں 363 دن پاس سے گزر جایا جاتا ہے انہیں اس پر مسرت موقع پر ڈھونڈا جاتا ہے۔ میرے اللہ نے جس اجتماع کو ہمارے لئے خوشیوں اور رحمتوں کا وسیلہ بنا دیا وہ ہماری ہر رسم رواج و روایت سے مقدم ہیں۔ ایسی خوشی ہمیں کسی اور اجتماع سے حاصل نہیں ہوتی جو بچپن سے بڑھاپے تک دیر پا بھی ہو۔ یہ ایسا دن ہے جب تک مہمان آتے رہیں مہمان نوازی ہوتی رہے انہیں بار بار کھانے کی دعوت دی جاتی رہے۔ میزبانی سے جی نہیں بھرتا۔ وگرنہ تو سارا سال صاحب کی دفتری مصروفیت،بچوں کی ٹیوشن مغز ماری پھر امتحانات ، بیگم صاحبہ کا سر درد مہمانوں کی آمدورفت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی ہے۔ گھر میں روز کی تکرار آج کیا پکا لیں صاحب کا کہنا جو جی میں آئے تو بیگم کا کریلوں سے کڑوا پانی نچوڑنا مزاج کی گرمی ظاہر کرتا ہے۔ یہ دن بھی خوب ہے کوئی نہیں پوچھتا کیا پکائیں،کوئی نہیں بتاتا کہاں جائیں۔ بس خودکار مشین کی طرح ہر کام خود بخود مکمل ہو کر پایہ تکمیل تک پہنچ جاتا ہے۔ اللہ تبارک تعالی ہماری زندگیوں میں عید جیسی خوشیوں کی بھرمار کر دے جو یکے بعد دیگرے ہمیں خوشیوں کے پل سے جوڑ کر رکھتی رہے۔ ہم جدا ہونا بھی چاہیئں تو نہ ہو پائیں۔ جس طرح آج ایک مسلمان قوم کی حیثیت سے عید سعید کے تہوار کو مذہبی رواداری سے منایا جا رہا ہے ہمارے روزمرہ کے معمولات زندگی بھی ایسے ہی فرقہ بندی اور منافرت سے پاک خوشیوں سے بھرپور ہوں تو ہم بجا طور پر قرآن و سنت پر عمل کرنے والے ایمان والے کہلانے کے حقدار ہوں گے۔ جہاں جہاں نماز عید کے روح پرور اجتماعات ہو چکے انہیں عید مبارک۔ سب ایک دوسرے سے پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ آج کی پکا؟ہماری عید کی نماز چار گھنٹے بعد ہے تو ہم یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ کی پکا؟ کیونکہ ڈھکن اٹھانے سے مرغن غذائیں برا منائیں گی۔ صبح خوشبو کے بغیر کھانے کی پزیرائی نہیں ہو پائے گی۔
محمودالحق

کچھ باتیں ان کہی

مصروفیت نے ایسے باندھ رکھا ہے زندگانی کو جیسے بھینس بندھی  ہوکھونٹے سے۔ اگر  کہیں کہ اطمینان کے جھولے جھلاتے ،خوشیوں کے کھلونے سجاتے،ہنسی میں مسکراتے،غم میں دل جلاتے ،محفلوں میں جگمگاتے، تنہاہیوں میں ٹمٹماتے،نہ دنیا مکمل نہ ہی دین مکمل، عذاب سے ڈریں مصیبت کو ٹالیں، روزے دن میں سستائیں راتیں عبادت میں جگائیں ،جو چاہیں پہنیں جو چاہیں کھلائیں  ،سفر میں آسائش زندگی میں ستائش ،جسے چاہیں منائیں جسے چاہیں ستائیں، من بھی اپنا مرضی بھی اپنی ،پھر شکر کریں یا شکوہ۔جو صداکار تھے تصویر آنے پر فنکار ہو گئے ،کاروبار تجارت بیوپار سیاست ہو گئی ،روزگار تعلیم ہو گئی بےروزگاری جہالت رہ گئی ،وراثت معتبر ہو گئی جب وہ قائد  ہو گئی ،بچے بزرگ ہوگئے بوڑھے جی فور ہاتھ میں لئے جوان بن گئے۔ 

تنہائیوں کے دیپ


چند شاخوں سے جڑا نوخیز درخت تمازت آفتاب کو روکنے میں ناکام ہوا جا رہا ہے۔ بھلا ہو آسمان پر ٹہلتے چند بادل کی ٹکڑیوں کا جو وقفے وقفے سے سر پر دست شفقت رکھ رہے ہیں۔ ہوائیں بھی پیچھے رہنے والی کب ہیں جھیل کے ٹھہرے ٹھنڈے پانی سے ہم آغوش ہوتی بدن کو سہلاتی چند جھونکے تو دباتے ہوئے پاس سے گزر رہے ہیں۔ ایک نیا پرندہ بلبل کی طرح دکھائی دینے والا مجھے گھورے جا رہا ہے۔ کیسے بتاؤں اسے کہ میں روزے سے ہوں افطاری میں ابھی پانچ گھنٹے ہیں۔ جمعۃالوداع ادا کرنے کے بعد تنہائی کے کچھ لمحات فطرت کے حسن کی نذر کرنے آیا ہوں۔ سیر و تفریح کے لئے جم غفیر زمین پر پھیلتے اندھیروں کے انتظار میں ہوں گے۔ کسی کو تنہائیوں کی نوکیں اعصاب میں پیوست ہوتی محسوس ہوتی ہوں گی۔ مگر یہ تنہائیاں تو ایک ماں کی طرح آغوش محبت میں پیار سے تھپتھپاتی اور گالوں کو سہلاتی ہیں۔ انسانوں کے بیچ رہ کر بھی تنہائی کے کانٹے چبھ سکتے ہیں۔ کیونکہ ان کے اخلاص،خلوص،دیانت اورصداقت پر سوالیہ نشان بھی لگ سکتا ہے اور انگلی بھی اٹھائی جا سکتی ہے۔ خوبصورتی سے بھرے یہ منظر مسلسل دہکتے انگاروں پر گڑگڑانے والے بادل برسنے والی بارش کی مسیحائی رکھتے ہیں۔ بادلوں کی اوٹ میں سورج کا چھپ جانا اور ٹھنڈی مسحور کر دینے والی ہوائیں دوستی کا پیغام نہیں لے کر آئیں بلکہ دوستی کا حق ادا کرنے آئی ہیں۔ کیونکہ انہوں نے چاروں اطراف سے دھوپ کو گھیر لیا ہے۔ بدن پر گرمی کے ہر احساس کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ اب تو بارش برس کر اظہار محبت میں اپنائیت کا پیغام دے رہی ہے۔کاش جس دنیا کامیں باسی ہوں وہ زندگی میں کبھی ایک بار ہی اس احساس پر بازی لے جاتے۔
محمودالحق



احساس کا سفر

سفر چاہے کتنا ہی آرام دہ کیوں نہ ہو بدن تھکن سے چور بے آرامی کی سولی پر لٹک جاتا
ہے۔ساتھ چلنے والے ساتھ ہونے کا احساس جتاتے رہیں تو بدن احساس کے ایک لطیف جھونکے کی بدولت اذیت کے بیت ے پل سے چھٹکارا پانے کی اہلیت پا لیتا ہے۔جسم و جاں ساتھ ساتھ رہتی ہے ریل کی پٹڑی کی مثل آغاز سے انجام سفر تک ہمسفر،قریب رہتی ہے بغلگیر نہیں۔تبھی تو منزل مقصود پر پہنچ کر اپنی چاہ پا کر تھکن کی زمین پر سکون کے قالین بچھ جاتے ہیں۔ تھکن کے اُکھڑے فرش نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔
بلندی کی انتہاؤں سے منظر پھیل جاتے ہیں،ہدف سکڑ جاتے ہیں۔ساحل آڑھی ترچھی لکیریریں بن کررہ جاتی ہیں۔ موجوں کی مستی، لہروں کی اٹھکیلیاں، ساحلوں کی خاموش محبت اتنی اونچائی سے محسوس نہیں کی جا سکتیں۔ انہیں دیکھنے کے لئے انتہائی قریب سے احساس کے دیپ جلانے پڑتے ہیں۔
جوں جوں ہم کسی ہدف سے دور ہوتے ہیں چاہے فاصلے زمینی ہوں یا آسمانی،نظر پھیل جاتی ہےمنظر سکڑ جاتے ہیں۔

خوش رنگ زندگانی


پھل میں رنگ ہوتے ہیں تو خوشبو بھی ہوتی ہے ذائقہ ہوتا ہے تو توانائی سے بھرپور تاثیر بھی ہوتی ہے۔ درختوں پر لٹکے ہوں یا دوکانوں میں سجے ہوں پاس سے گزرنے والے بے اعتنائی نہیں برت سکتے۔ درخت موسم کا انتظار کرتے ہیں پھول کھلنے سے پھلوں کے پکنے تک۔ پتے خزاں میں جھڑنے لگتے ہیں نئے پتے پھول سے پھل بننے کے عمل کو مکمل کرتے ہیں۔ سالہا سال آنکھیں ان مناظر کو پلکوں سے احساسات پر گراتی ہیں جو کیفیت کو سر شاری کے نشہ میں مبتلا رکھتی ہیں۔انسان بیت ے دنوں کی یادداشتوں سے مستبقل کے سہانے خوابوں کی بستیاں کیسے آباد کر سکتا ہے۔آرزوئیں گر دم توڑ کر ماضی میں دفن ہو جائیں تو نئی خواہشیں جنم لے کر امنگوں کے پھول سے مرادوں کے پھل سے جھولی بھرنے کو بیتاب ہو جاتی ہیں۔ زندہ رہنے کے لئے جان ہی کافی ہوتی ہے مگر جینے کے لئے بعض اوقات جان جوکھوں میں بھی پڑ جاتی ہے۔ دل ایک کھلونا سمجھ کر سوچ و افکار کی چابی سے جو چلانے کی کوشش کرتے ہیں وہ تدبر اور فلسفہ میں فرق نہیں کر پاتے۔تدبر انفرادی سوچ کی عکاس ہوتی ہے جو اجتماعی حیثیت میں نافذ ہوتی ہے اور فلاسفی اجتماعی حیثیت کو سامنے رکھتے ہوئے انفرادی طور پر قابل عمل ہوتی ہے۔
محمودالحق

علم ایک سمندر

سمندر جتنا گہرا ہوتا ہیں اتنا تاریک اور پر سکون ہوتا ہے جوں جوں زمین کے برابر آتا ہے روشنی پا کر ساحلوں سے ٹکراتا ہے جہاں ذرے ذرے سے جڑی ریت  حفاظتی حصار بن کر  بپھری طلاطلمی موجوں کو مٹی تک پہنچنے کی راہ میں حائل ہوجاتی ہے تو وہ بادل کی صورت زمین کو سیراب کرتا آبشاروں ندی نالوں اور دریاوں سے گزرتا مٹی کا لمس اپنے وجود میں سمو لیتا ہے۔ویسے ہی علم ایک ایسا سمندر ہےجو جہالت کی زمین کو سیراب کرتا افکار و خیالات کا لمس اپنے اندر سمو لیتا ہے۔

پہاڑ

پہاڑ جتنے اونچے ہوتے ہیں اتنے ہی بے بس اور مجبور ہوتے ہیں۔ لڑھکنا چاہیں تو لڑھک نہیں سکتے۔ ریزہ ریزہ ہونا چاہیں تو قد و قامت اجازت نہیں دیتے۔ کبھی کبھار چشمہ کے زریعے اپنے آنسو وادیوں تک پہنچا دیتے ہیں۔ میٹھے اس لئے ہوتے ہیں کہ صبر کی چوٹی سے قطرہ قطرہ درد سمیٹ کر کھلا بہا دیتے ہیں۔ کوئی نہیں جان پاتا کہ پہاڑ بھی رو پڑتے ہیں۔

عشقِ بیکراں

اللہ کی محبت کا دم بھریں تو دو گھونٹ پانی حلق سے نیچے نہ اترے۔ قلب سنبھالے نہ سنبھلے۔سجدہ میں سر اترے تو عرش سے رحمتوں کی سوغات برسے۔ دروازے  وکھڑکی پہ متوالے دستک سے  محبت پانے کو محفل میں جھکتے عشقِ ہوا بن کر بے خود ہو جائیں۔دستکِ ہاتھ کا وہ جنون کبھی دستکِ ہوا  کی ہمسری نہیں کر سکا۔نظروں کے سامنے رہنے والوں میں وہ احساس اتنا کمزور تھا کہ دروازے سے نکلنے والی  ایک دھمک طوفانِ انتظار کی عکاس تھی۔ انہونی باتوں کے لئے انجانی کہانیاں نادانی کی تصویر دکھائی دیتی ہیں۔جس کو ہاتھ چھو سکیں اسی کا دم بھرتے ہیں۔زندگی کے راستے جنوں کے طلبگار نہیں ہوتے۔بہتے پانی اور ہوا کے رخ چلنا آسان بھی ہوتا ہے اور فائدہ مند بھی۔ تقلید اور پیروی سب سے آسان راستہ ہوتا ہے جہاں راستوں کی نشاندہی پچھلی رو سے آگے والے کر چکے ہوتے ہیں۔صرف قدموں کی جگہ پر قدم رکھنے ہوتے ہیں جو ان کی حفاظت کے ضامن ہوتے ہیں۔ نئے راستوں کی تلاش و جستجو ان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔وہ آسان راستہ اختیار کرتے ہیں جس کی نشاندہی پہلے ان راستوں پر جانے والے کر چکے ہوتے ہیں۔پہاڑوں کے ایک طرف رہنے والے دوسری طرف بسنے والوں سے بے خبر رہتے ہیں مگر بلندیوں پر بسنے والے نیچے وادیوں میں ہر حرکت کرتی شے سے با خبر رہتے ہیں۔زمین پر رینگنے اور چلنے سے زندہ رہنے والوں سے عقل و شعور سے بسنے والے محترم اور معزز  ہو کر اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز ہیں۔ جنگلوں میں شکار ہونے والے لاکھوں چند شکار کرنے والوں کی دھاک سے کبھی شمال کی طرف بھاگتے ہیں تو کبھی جنوب کی طرف۔جو بچھڑ جاتے ہیں وہ خوف سے بے حال ہو جاتے ہیں۔ریوڑ میں واپس پہنچنے سے ان کی سانس میں   سانس واپس آتی ہے۔ چند ایک ٹولیوں میں رہنے والوں کے لئے ایسے بھولے بھٹکے مالِ غنیمت سے کم نہیں ہوتے۔ نہ ہی وہ خشکی پر محفوظ ہوتے ہیں اور نہ ہی پانی میں۔ خطرہ چاروں طرف سے انہیں گھیرے رکھتا ہے۔ زمین سے پیدا ہونے والی  ہریالی جب خون بن کر رگوں میں دوڑنے لگتی ہے تو خون پینے والے پنجوں سے انگڑائیاں لے کر  دانتوں سے حملہ آور ہونے سے پہلے آنکھوں سے گردوپیش کے حالات سے موافقت پیدا کر لیتے ہیں۔ ریوڑ میں رہنے والے چاہے کروڑوں کی تعداد میں ہوں وہ تنکے تنکے سے بوند بوند خون بناتے ہیں۔اور ٹولیوں میں رہنے والے چند ایک ان کا خون چوس کر ہڈیوں تک پہنچ جاتے ہیں جہاں ان سے کم طاقتور اپنا اپنا حصہ پانے کے لئے قریب ہی جھاڑیوں پہاڑیوں پر بچے کھچے پر نظریں گاڑیں براجمان ہوتے ہیں۔حقیقت اور فریب میں وہی امتیاز ہے جو سیراب اور سراب میں ہے۔ بیرونی دنیا سے ملک میں ، شہر سے محلے میں،وہاں سے گھر میں داخل ہوں تو یہ جاننا اتنا مشکل نہیں ہوتا کہ وجود کی حدود کیا ہیں۔چلنے سے لے کر اونگھنے تک کھانے سے لے کر ہضم کرنے تک بچے سے بوڑھے تک اپنی حدود پہچانتے ہیں۔ اجسام انسانی میں سٹوریج کی گنجائش نہیں ہوتی۔ایک ہاتھ دو ایک ہاتھ لو کے فارمولہ پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ وجود کا ایک حصہ دوسرے کو قرض حسنہ عطا کرتا ہے۔ قانون کی لاٹھی سے ہانکے جانے والے رنگ و نسل، زبان و بیان  سے قدر مشترک نہ  رکھ کر بھی  وحدت میں پروئے رہتے ہیں۔ مگر قانون فطرت پر عمل پیرا رہنے والے ہم نسل و نسب ہونے کے باوجود کروڑوں کی بھیڑ میں چکاچوند روشنیوں میں رہنے والوں سے الگ اپنے جلتے دیئے سے حاصل روشنی کو زندگی کے منور ہونے کے لئے کافی سمجھتے ہیں۔ ایک ہی سائز رکھنے والے کروڑوں افراد رنگ و ڈیزائین میں الگ الگ پسند رکھتے ہیں مگر ماپ یعنی سائز انہیں اپنے گروپ سے الگ ہونے کی تحریک پیدا نہیں ہونے دیتے۔ ایک ملک کے باسی لکڑی کے گھروں میں رہنے سے قاصر ہیں تو کسی دوسرے ملک  کے لوگ اینٹوں سے بنے گھر میں رہائش اختیار کرنے سے۔ جو جہاں جس نظام اور قانون کی پاسداری کا پابند ہے وہ وہیں ویسی ہی زندگی گزارنے کا اختیار رکھتا ہے۔ جس میں تبدیلی اس کے اختیار سے باہر ہوتی ہے۔ جس سفر کے طے کرنے میں گھنٹے درکار ہوں وہ منٹوں میں نہیں ہو سکتا، جو کام منٹوں میں ہو سکتا ہو وہ سیکنڈز میں ممکن نہیں اور جو سوچ سیکنڈ تک محدود ہو وہ ملی سیکنڈز میں خیالات کو گرفت نہیں کر سکتی۔ چولہے پر ہانڈی چڑھانا  اورتندور پر روٹی لگانا،پانی میں اترنا اور پہاڑ پر چڑھنا ہر دو صورت فن کی محتاجی رکھتا ہے۔ لیکن زندگی کی چکی میں گہیوں پیسنے سے جو آٹا حاصل ہوتا ہے وہ بہت خالص اور مقوی ہوتا ہے۔اربوں روپوں کی لاگت سے بنائی گئی شوگر ملز میں تیار کی گئی چینی ،ایک شہد کی مکھی کی پنتالیس دن کی زندگی میں  چائے کے چمچ کےبارہویں حصہ کے برابر بنائے گئے شہد جیسا ذائقہ ،لذت اور شفاء نہیں رکھتی۔ شہد کی مکھیوں کی ایک کالونی کا بیس لاکھ پھولوں سے کشید کیے گئے رس سےبنایا گیاصرف ایک پاؤنڈ شہد دنیا کی تمام شوگر ملز سے زیادہ افادیت اور تاثیر رکھتا ہے۔خیالات کی کشید کاری سے لفظوں کا شہد بنانے والے انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں اور الفاظ کے سمندر میں ناؤ  بہانے والے شوگر ملز میں تیار کی جانی والی چینی کی مانند ہزاروں لاکھوں اپنے اپنے لیبل سے پہچان رکھتے ہیں ۔مولانا جلال الدین بلخی رومی،اسداللہ خاں غالب اور علامہ  ڈاکٹرمحمد اقبال  جیسے لوگوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔تحریر : محمودالحق          

برقی پیغامات

رات کے پچھلے پہر جب انسان دنیا و مافیا سے بے نیاز خواب خرگوش کے مزے لے رہا ہوتا ہےتو بعض اوقات شدید پیاس کا احساس بند آنکھ کھول کر پانی تک رسائی کا راستہ دکھاتا ہے۔ ہاتھ لمبا کر کے گلاس اُٹھایا جاتا ہے  اور ہونٹوں سے لگا کر غٹا غت حلق سے نیچے اُتار لیا جاتا ہے۔ مشن مکمل ہونے پر آنکھیں پھر سے بند ہونے کے لئے تیار ہو جاتی ہیں۔اسی طرح کے کئی مواقع سے ہمیں روز انہ صبح سے شام تک گزرنا ہوتا ہے۔ ہمارے لئے یہ معمولات زندگی ہوتے ہیں سائنس اس کی کئی توجیحات پیش کرتی ہے۔ ہمارے ایکشن اور رویوں میں برین کا موٹر فنکشن شامل ہوتا ہے۔
پانی کا سادہ گلاس اُٹھانے کے لئے کن پٹھوں کو  استعمال میں لایا جائے کافی نہیں ہوتا، بلکہ گلاس کو کہاں سے پکڑا جائے،  اُٹھانے کے لئےکتنی قوت بروئے کار لائی جائے، گلاس میں کتنا پانی ہے ،گلاس کس میٹیریل کا بنا ہوا ہے بلکہ اس کی جزئیات کے بارے میں بھی برین مکمل چھان پھٹک کرتا ہے۔ برین کاوہ حصہ  موٹر کورٹکس کہلاتا ہے۔جہاں سے سگنل اعضاء تک پہنچائے جاتے ہیں اور ان کی نقل و حرکت کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔

سائنس میرا موضوع نہیں اور نہ ہی آج کی تحریر برین کے کام کرنے کے طریقہ کار کو وضع کرنے کے لئے ہے۔ صرف اتنا بتانا مقصود ہے کہ ہم اپنے ظاہر کے ہر عمل سے واقف اور با خبر ہوتے ہیں مگر پس پردہ ہونے والےایکشن اور مشن سے مکمل طور پر بے خبر اور لا علم رہتے ہیں۔یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ سکن کے نیچے کی دنیا ہمیں اپنے ہونے کے احساس سے  لا علم رکھتی ہے۔چمڑی سے باہر کی دنیا کا ہر فعل مکمل  دکھائی دیتا ہے ۔ بھاگتے ہوئے توازن کیسے قائم رکھا جاتا ہے ، ایک ایک اعضاء دوسرے اعضاء کو سہارا دے کر یکجہتی کا کمال مظاہرہ کرتے ہیں۔ اجسام دو برابر حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں جہاں دماغ کا بایاں حصہ جسم کے دائیں حصہ کو اور دماغ کا دائیاں حصہ جسم کے بائیں حصہ کو کنٹرول کرتا ہے۔ لیکن انسان پیدائش سے لے کر موت تک ان بھول بھلیوں سے لا تعلقی اختیار کئے رکھتا ہے کیونکہ مشن میں ایکشن بھی ہوتا ہے ری ایکشن بھی۔تلاش و جستجو کی ضرورت نہیں کیونکہ ہر کام اپنے وقت مقررہ پر پایہ تکمیل تک پہنچ جاتا ہے۔ اگر کہیں بہت تھوڑی  گڑ بڑ مشن کی تکمیل کے راستے میں حائل ہو تو جسم ہاسپٹل کے بستر پر پہنچ جاتا ہے۔ جہاں ڈاکٹر دوائی سے علاج معالجہ کرتے ہیں اور مزاج پرسی کے لئے آنے والے دعاؤں سےجو کہ مریض کی قوت مدافعت بڑھانے میں مددگار ہوتی ہے۔ مساجد میں با جماعت نماز کے بعد امام مساجد  سے بیماری سے شفا کے لئے خصوصی دعاؤں کے  لئےکہا جاتا ہے۔ مزاروں پر چادریں چڑھائی جاتی ہیں ،غرباء میں کھانا تقسیم کیا جاتا ہے۔ صدقہ و خیرات کیا جاتا ہے۔ ہمت و حوصلہ سے  لڑنے والے  بیماریوں سےجلد چھٹکارہ پا لیتے ہیں۔ دعاؤں کو جو طاقت بنا لیتے ہیں وہ دواؤں سے فوری نتائج حاصل کر لیتے ہیں۔جو صرف دواؤں ہی سے مسیحائی چاہتے ہیں ایک سے چھوٹ نہیں پاتے کہ دوسرے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دین و دنیا ہماری زندگیوں میں برین اور اجسام کی طرح ایکٹ کرتی ہے اور نتائج فراہم کرتی ہے۔مرئی اور غیر مرئی قوتیں بر سر پیکار ہوتی ہیں۔ظاہر یقین سے ربط رکھتا ہے باطن ایمان سے ، دنیا سبب سے منسلک ہے دین اعتبار سے۔پانچ وقت کی نمازیں رمضان کے روزے نماز عیدین اور قربانی کے فرائض کی ادائیگی کے تہوار و عادات اجسام کو چمڑی سے نیچے کے سفر پر گامزن کرتے ہیں۔ دنیا ایک جسم کی مانند دکھائی دیتی ہے جس کا برین دین اسلام ہے جو تا قیامت زندگیوں کی چھان پھٹک کرتا ہے۔تواز ن کو بگڑنے نہیں دیتا۔بدی کو پھیلنے سے روکتا ہے نیکی کو طاقت عطا کرتا ہے۔ ہزار جھوٹ کے مقابلے میں ایک سچ کو قوت دیتا ہے۔مغرور ، گھمنڈی اور متکبر امارت کے زعم میں عقل سے اندھے ہو جاتے ہیں۔جن کا وجود کے خاتمے کے ساتھ نام لیوا کوئی نہیں رہ جاتا۔ کلام مجید کا ایک ایک حرف اس کائنات کے چھپے رازوں کےبند قفل کی چابی ہے۔ جو دوا اور دعا دونوں کا کام کرتی ہے۔جو بیمار اجسام دواؤں کی تھوڑی مقدار سے ٹھیک ہو جائیں وہ دعاؤں کے طالب نہیں رہتے۔جنہوں نے دعاؤں سے شفاء پائی ہو وہ باآسانی جان جاتے ہیں کہ جس دنیا کے وہ باسی ہیں اس کا برین صرف قرآن ہے۔جو ہر فعل و عمل کی جزئیات تک رہنمائی فراہم کرتا ہےاور قوت مدافعت بڑھانے کے لئے  مددومددگار فراہم کرتا ہے۔ جو علم خوبصورتی میں لپٹا دانش یزداں کی آمیزش سے لمحاتِ پھیلاؤ  میں وقت کو سمیٹ لے وہ حسنِ زوالجلال کی نعمتوں کا شکر بجا لاتا ہے۔      
محمودالحق

عمل کی رسی

سنبھل سنبھل کر پاؤں رکھنے سے لے کر ذہنی یکسوئی تک توازن کا رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔کشتی بنانے والا اس بات کا خیال رکھتا ہے کہ پانی میں کشتی کا توازن قائم رہ سکے اور سفر کرنےوالے محفوظ بھی رہیں اور پار بھی لگ جائیں۔یہی سوچ اسے سفر کرنے والوں سے ممتاز رکھتی ہے۔کیونکہ وہ اپنے فن میں یکتا ہوتا ہے۔ تند وتیز لہروں  سے نبردآزما ہونے کے لئے انتہائی باریک سوراخ بھی در خوراعتنا نہیں سمجھے جاتے۔کیونکہ ناخدا  کشتی سے باہر کی لہروں کے تھپیڑوں سے باآسانی نپٹ لیتے ہیں مگر فرش  کے سوراخ سے اُبلتے پانی انہیں جلد ساحل پر اُترنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔کیونکہ لنگرانداز ہونا  ڈوبنے سے بحر صورت بہتر ہوتا ہے۔کہنے والے کہہ چکے جان ہے تو جہان ہے۔ایسی جان جو ہمیشہ فن شناس کی قدردان رہتی ہے۔بے بہا دولت کا حصول بہترین کشتیوں اور تجربہ کار نا خداؤں کی خدمات کے حصول کا مقصد ٹھہر جاتا ہے۔جھیلوں دریاؤں آبشاروں پر سخت رسے پر چل کر پار کرنے کا زمانہ گزر چکا جب ایک وقت میں ایک انسان جان جوکھوں میں ڈال کر منزل مقصود تک رسائی پانے کی جدوجہد کرتا تھا ۔ یہ وہ وقت تھا جب کاغذی نوٹ اور علامتی سکے بننے اور ڈھلنے کے عمل سے شناسا نہیں تھے۔ وقت کے دھارے کے بدلنے کے ساتھ ساتھ تن آسانی کی عادت پروان چڑھتی گئی اور انفرادی محنت و مشقت  سے توازن قائم رکھنے کی روایت کمزور پڑتی گئی۔فاصلوں کو قریب کرنے کے لئے  اوروقت کو بچانے کے لئے ضرورتوں کو پھیلا دیا تو طرز طرز کی ایجادات نے جنم لینا شروع کر دیا۔جو یکبارگی کے فن کی محتاج تھی۔یہی وہ دور ہے جب انسان نے بے جان چیزوں کی کلوننگ کا آغاز کیا  اور ایک ہی خدو خال ،اوصاف و صفات جیسی ان گنت ہمشکل اشیاء کو انسانی زندگانی کی بنیادی ضروریات کا حصہ بنایا گیا۔قدرتی حسن و جمال میں اضافہ کرتے اشجار خود روئی کی بدولت جنگلات کی شان و شوکت تھے۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ شجرکاری کی مہم کی بدولت انقلابات زمانے کے رحم و کرم پر ہیں۔رات کی تاریکیوں میں جگمگاتے ستاروں کی روشنی سونے والوں کو بیدا رہنے پر مجبور رکھتی تھی۔جنہیں اندھیروں میں بھی  راستے صاف دکھائی دیتے تھے۔راہزن پہاڑوں غاروں کو اپنا مسکن بناتے تھے۔جہاں روشنیوں کا گزر نہ ہوتا ہو۔قافلے رات کھلے میدانوں میں پڑاؤ ڈالا کرتے تھے  شمعیں روشن رکھتے تھےاور دن میں سفر  کرتے تھے۔ ستاروں کی روشنیوں نے آبادیوں کو روشنی سے وابستہ کر دیا۔یہاں تک کہ آدھی رات کا پورا چاند بھی اپنی دلکشی و حسن کی رعنائیوں سے چاہنے والوں  کی نظر التفات سے محروم ہونے لگا۔ رنگ و نور کی برسات جو آنکھوں کو خیرہ کئے دیتی تھی وہ انہیں دائرے میں روشنی کے ہالے بن کر رہ گئے۔توانائی کے استعمال سے حرارت نے دھوئیں کے بادل کے روپ اختیار کر لئےجو نظر اور نور کے درمیان چلمنِ رقیب ہو گئے۔حسن کے جلوے نظروں سے اوجھل کیا ہوئے عشق نے محبوب کے خدو خال ہی بھلا دیئے۔ محبت بدن کی حرارت نہیں جو قریب آنے پر تشنگی مٹا دے یہ تو روح کی بلاغت ہے جو قربت کے خیال سے رنگ و نور  اور وجدانِ عشق کے درمیان  حائل حرارت کو مٹا دے۔ عشق میں جلنے والے محبوب سے لاتعلق ہو جاتے ہیں ۔ محبوب تک رسائی چاہنے والے کشتیوں میں بیٹھ کر نہیں رسیوں پر چل کر  آگ کے دریا پار کرتے ہیں کیونکہ یہ در نہیں جو دستک سےکھل جائیں۔ فطرت کا حسن جن کے اندر پہلی نظر کی محبت ،کونپل کی طرح کھلنے اور سخت تپتی جلتی ریت پر پانی کی گرتی بوندوں کی طرح ٹھنڈک کے احساس جیسا جاگزیں ہو، تو ہر رشتہ جو جسم و جاں سے نام و نسب کی منسوبیت رکھتا ہو بے معنی ہو جاتا ہے۔یہ میان سے نکلی دو دھاری تلوار کی مانند ہے جس کے سامنے مضبوط ڈھال کے ساتھ ساتھ مضبوط گرفت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ سر پیش کرنے والے عاجزی کی مثال نہیں ہو سکتے ۔عشق زور کا طالب رہتا ہے۔جو کشش نہیں چاہت سے پروان چڑھتا ہے۔مجازی محبت ایسی روشنی ہے جو آگ سلگانے سے پیدا ہوتی ہے جس کا اختتام جلنے پر ہوتا ہے۔عشق حقیقی قلب میں محبوب کے قرب و وصال کی باہم کشمکش سے پیدا ہوتا ہے جو روح کو منورکرتا ہے۔عمل کی مضبوط رسی ارتکاز کی کھائیوں سے باآسانی گزار دیتی ہے۔علم  سےعالم اور جاہل کا فرق نہیں جانا جا سکتا۔لفظ سوچ  کی شناخت ہوتے ہیں اور مفہوم علم و فکر کے۔ علم سوچ کی کشتی کی بجائے عمل کی رسی پر توازن قائم رکھنے کا عادی ہو تو سہارے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنے والے پار لگ جاتے ہیں۔جو توازن برقرار رکھنے کی متقاضی ہوتی ہے۔ جو قدموں کو لڑکھڑاہٹ سے باز رکھتی تو ذہن و سوچ کو قرآن و سنت پر یکسوئی پر آمادہ رکھتی ہے۔ بات علم کی ہو یا عمل کی عدم توازن سے گمراہی کی کھائیاں خوف میں مبتلا رکھتی ہیں۔ایجادات کی کلوننگ نے وجدان کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنا  سکھا دیا ہے ۔ جہاں حرارت کی غیر موجودگی ٹھنڈک اور روشنی کی عدم دستیابی اندھیرے کی تعریف ہے۔وہیں اچھائی نہ ہونے کو برائی ہی مانا جائے گا۔زندگی کے مفہوم اندورنی و بیرونی فلسفہ حیات سے اخذ نہیں کئے جا سکتے۔زمین اور چاند کا کیا تعلق ہے ۔سورج کا زمین سے کیا رشتہ ہے ۔ اندھیرے روشنی سے روشن ہیں یا روشنی اندھیرے سے بندھی ہے ۔نئے پتے کھلنے کا موسم پت جھڑ کے موسم سے الگ ۔سورج کے ایک حصہ کے قریب پہنچ کر  ہمیشہ سردی دوسرے حصہ کے قریب  ہمیشہ گرمی کی شدت۔سورۃ الانعام اور اسی نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس سے ہر چیز اگنے والی نکالی پھر ہم نے اس سے سبز کھیتی نکالی جس سے ہم ایک دوسرے پرچڑھے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے شگوفوں میں سے پھل کے جھکے ہوئے گچھے اور انگور اور زیتون اور انار کے باغ آپس میں ملتے جلتے اور جدا جدا بھی ہر ایک درخت کے پھل کو دیکھو جب وہ پھل لاتا ہے اور اس کے پکنے کو دیکھو ان چیزوں میں ایمان والوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔۔۹۹       
محمودالحق   

چار حروف سے چکا چوند روشنی

جب دھوپ کی شدت بڑھتی ہے تو بادلوں کے برسنے کے انتظار میں آنکھیں بار بار آسمان کی طرف اُٹھتی ہیں۔ جب بادل برسنا شروع کریں اور پانی ٹخنوں سے اوپر بہنا شروع کر دے تو دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھ جاتے ہیں۔جب سردی بدن کو کپکپانے لگے تو گرم لحاف ہو یا ہوا  بدن کو راحت پہنچاتے ہیں۔ سخت گرم مرطوب ہواچلنے لگے تو برف کا ایک ٹکڑا ہتھیلی پر رکھنے سے وجود میں ٹھنڈک کا احساس بھر جاتا ہے۔ موسمی تغیرات کے اثرات تو اجسام پر تقریبا ایک جیسے احساس ہی پیدا کرتے ہیں۔ برس ہا برس کی زندگی بار بار موسموں کے آنے جانے کے احساس سے لبریز ہوتی ہے۔اُکتاہٹ کا شکار اس لئے نہیں ہوتے کہ تبدیلی  کی اُمید واثق ہوتی ہے۔ کامل یقین ہوتا ہے کہ سدا اسی کیفیت میں زندگی نہیں گزرے گی۔شائد اجسام کی طاقت اتنی ہی برداشت رکھتی ہے۔ہر گزرتا لمحہ نیا احساس دلاتا ہے۔ ہر پل اجسام کائنات میں گردش مدار میں ہر روز آگے بڑھتے ہیں۔ یہاں تک کہ 365.25 دن کے بعد پھر 1سے تبدیلی کے سفر پر چل پڑتے ہیں۔ انتہائی خاموشی اور گہرے سکوت کے ساتھ تواتر سے سفر میں رہتے ہیں۔جس میں نہ ہی پڑاؤ ہوتے ہیں اور نہ ہی منزل۔ بس ایک سفر ہے اور ہمسفر جو ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ جنہیں منزل سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہاں صرف اِن اور آؤٹ ہے۔ جو خود گردش میں ہے وہ ٹھہرنے کا انتظام نہیں رکھتا۔ جو اجسام خواہشات کی بدولت منزل کے نشان ڈھونڈنے پر کمر بستہ ہوتے ہیں۔ وہ ہمیشہ زندہ رہنے کے لئے پر تولنے لگتے ہیں۔ شب و روز آگے بڑھنے کی بجائے رکنے کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔ نظام کائنات کی طرح نظام حیات میں بھی بریک نہیں ہے۔ رکنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ نئے اجسام داخل ہو رہے ہوتے ہیں ، سفر مکمل کرنے والے باہر نکل رہے ہوتے ہیں۔منزل کی طرف بڑھنے والی ہر روح سفر کی تھکاوٹ سے چور بدن کو منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیتی ہے۔ روح زندہ رہنے کے لئے ایمان کی سیرابی کی متمنی ہوتی ہے۔ اجسام جنگلی جڑی بوٹیوں کی طرح پہاڑوں ، ریگستانوں میں بھی خود روئی کی طاقت سے کمزور جڑیں پکڑ لیتے ہیں۔ جو خشک زمین سے لپٹ کر ساکت و جامد موسمی تغیرات سے بے پرواہ رہتے ہیں۔نئے کپڑوں میں سویا نہیں جاتا ، پرانے کفن میں دفنایا نہیں جاتا۔ کھانا چھوٹ جائے تو اجسام سوکھ جاتے ہیں ، سانس رک جائے تو پھول جاتے ہیں۔ جو آنکھ کے پردے سے باہر دیکھتے ہیں ۔ جو دیکھتے ہیں وہی سوچتے ہیں۔ وہی چاہتے ہیں وہی اپناتے ہیں۔ ہر روز نئے اجسام کی منظر کشی ہوتی ہے۔ مگر انداز ایک ہی رہتا ہے۔ نظروں سے چھپنے کے لئے جسم ڈھانپے جاتے ہیں۔ وہ انہی راستوں پر سفر کرتے ہیں جن پر جانے کی انہیں خواہش ہوتی ہے یا ضرورت۔ جن کی آنکھ اندر کے رُخ دیکھتی ہے، جو محسوس کرتے ہیں وہی سوچتے ہیں۔ وہی چاہتے ہیں وہی اپناتے ہیں۔ ہر پل نئے نظام کی جستجو و تلاش ہوتی ہے۔ جو اجسام کے اختیار و دسترس سے باہر ہوتی ہے۔ اجسام کی قید میں رہنے والے خواہش اور ضرورت سے آزادی پانے کی تگ ودو کرتے ہیں۔ روح کی قید میں رہنے والے  عشق جنوں میں تشنگی مٹانے کے لئے تگ ودو کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض بہت قریب آ کر پھر پلٹ جاتے ہیں۔کوتوال اجسام خواہشات کی بیڑیوں سے باندھ کر رکھتے ہیں۔ جہاں چھوٹ تو مل جاتی ہے چھٹی نہیں۔ جب دکھاوا نہیں تو پہناوا کیسا۔ جب محنت نہیں تو ترقی کیسی۔ جب شوق نہیں تو پڑھنا کیسا۔ جب خواہش نہیں  تو ضرورت کیسی۔ جب چاہت نہیں تو ارمان کیسے۔ جب جستجو نہیں تو تسلی کیسی۔ جب علم نہیں تو دعوی کیسا۔ جب محبت نہیں تو ندامت کیسی۔ جب حسن نہیں تو جلوہ کیسا۔زندگی عہد نہیں جو تین لفظوں سے جڑے تو تین سے ہی ٹوٹے۔ چار دن کی زندگی چار حروف  کے مجموعےسے ہی مکمل ہو سکتی ہے۔ اسے چار چاند تبھی لگیں گے جب وہ چار حروف ہماری روح کو چکا چوند روشنی سے منور کر دیں۔جب چار حروف ملتے ہیں تو وہ بنتے ہیں اللہ ، محمدﷺ اور قرآن۔
محمودالحق 

Pages