محمود الحق

اللہ کرے زورِ جذب اور زیادہ

دماغ کے گرم تنور پہ اختلاف کے پیڑے سے تسلی کی روٹی بنانے کی کوشش میں ہوں۔ اگر گول مٹول کی بجائے چپٹی بن جائے تو مردِ انجان سے کھری کھری سننے کی نوبت نہیں آئے گی مگر امور خانہ داری نبھانے والوں سے جان بچانی مشکل ہو جائے گی۔ جنہیں بھوک نے ستا رکھا ہو ظاہری خدو خال کی پیچیدگیوں سے آنکھیں چرائے رکھتے ہیں۔نخرہ  تو تب کیا جاتا ہے جب پیٹ بھرا ہو۔ خالی پیٹ تو آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل ہوتا ہے۔والدین بچوں کے گریڈ کم آنے پر دہائی دیتے ہیں۔ بچے ٹیچروں کے نہ پڑھانے کی دہائی دیتے ہیں۔ حکومتیں قانون قانون کی دہائی دیتی ہیں۔ عوام امن کی دہائی دیتے ہیں۔غریب مہنگائی کی دہائی دیتے ہیں۔امیر ائیر کنڈیشنڈ کمرے میں بے سکونی کی دہائی دیتے ہیں۔لڑکے محبت محبت کی دہائی دیتے ہیں۔ لڑکیاں بے وفائی کی دہائی دیتی ہیں۔مظلوم ظلم ظلم کی دہائی دیتا ہے ۔ ظالم نا انصافی کی دہائی دیتا ہے۔  اورشاعر وزن بحر کی دہائی دیتا ہے  توادیب نارسائی کی دہائی دیتا ہے۔  جن کی پانچ گھی میں ہوں وہ نیند میں خواب کے مزے لیتا ہے۔ جن کی ایک کے بعد ایک ٹیڑھی ہونے کے باوجود گھی نہ نکلے  انہیں دوسروں کی سیدھی بری لگتی ہے۔سب اصول و ضوابط حضرت انسان کے اپنی ذات انجمن کے طے کردہ ہیں۔لندن اور امریکہ میں نظام ٹریفک ایسے ہے کہ  ایک کو دوسرے کی ٹریفک ون وے کی خلاف ورزی کر تی نظر آتی ہے۔کیونکہ لندن لیفٹ ہینڈ ٹریفک چلتی ہے تو امریکہ میں رائٹ ہینڈ ۔قانون فطرت نہیں بدلتا ، مذہب کی تشریح بدل جاتی ہے۔ سرحدیں آسانی سے نہیں بدلتیں  کیونکہ طاقتور سے سامنا کرنا پڑتا ہےمگر قانون بدل جاتے ہیں کیونکہ وہ کمزور پر لاگو ہوتے ہیں۔ جن ملکوں میں نظام تعلیم پرائیویٹ سکولوں کے ٹھیکیداری نظام پر چلتا ہو ۔ استاد ٹیوشن سے گھر کا چولہا جلانے پر مجبور ہو۔ جہاں پیسے کے زور پر علم سیکھا جاتا ہو۔ وہاں شعر و ادب کے رکھوالے صدیوں کی روایات کو نشاۃ ثانیہ قرار دے کر دبستان لکھنو کی تحریک کے روح رواں بنے نظر آتے ہیں۔وہ حق بجانب ہیں کیونکہ ادب کی ان اصناف کو ماننے والے مسلمانوں سے زیادہ ہیں۔وہ اس لئے کہ مسلمان عشق حقیقی کو ماننے والا ہے  مگر یہاں تو عشق مجازی کے پرستار لاکھوں کی تعداد میں جلتی شمع کے گرد پروانوں کی طرح مٹنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ جن کے لئے میری ذات ذرہ بے نشان صرف ڈرامے کی حد تک ہوتی ہے۔قرآن و سنت نے جو طے کر دیا باتوں سے پورا کر لیا جاتا ہے۔اولاد  بننے سے لے کر فرد بننے تک اپنے فائدے کے حقوق مرضی کے فرائض ادا کر دئیے جاتے ہیں۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔یہ وہ دعا ہے جو لکھنے والوں کو دی جاتی ہے۔اللہ کرے زور جذب اور  زیادہ ۔ یہ دعا  پڑھنے والوں کو دی جانی چاہیئے۔ لاہور کی سخت گرمی اور حبس  میں  لوڈ شیڈنگ سے بھری سحری اور افطاری کے بعد  ان سے دور آ کر ٹھنڈی ہواؤں  نےان سے غافل نہیں کیا جو گرمی اور حبس میں اللہ کے شکر گزار بندے بن کر رہتے ہیں۔  پانچ انگلیوں سے لکھتے لکھتے پانچ سال ہو گئے۔ پانچ ملنے مشکل ہیں ۔لکھنا قلم سے ہوتا تو قلمی دوستیاں رکھتا۔مگر قلب مستی کرتا ہے۔اسی مستی میں ٹی وی پر آنے والے ایک فقیر سے ملاقات کا وقت مانگ لیا تو سیکرٹری نے دو گھنٹے انتظار کے بعد دو منٹ دینے پر رضا مندی ظاہر کی۔اتنے کم  تو ہم بھی نہیں کہ دو منٹ میں حال دل بیان کر دیتے۔ سالہا سال  سےعشق حقیقی میں مبتلا  ہیں۔دو منٹ میں تو دھڑکن سنائی نہیں دے  گی۔ ایک اور صاحب کے معتقد نے خود ہی  مایوسی سے بھانڈا پھوڑ دیا کہ آدھے گھنٹہ  کی ملاقات کا بیس ہزار اورپندرہ منٹ کے فون کا پانچ ہزار لیتے ہیں۔  ٹی وی پر آنے کا  معاوضہ تو ایسے ہی ہوتا ہے۔ جتنا گڑ ڈالو اتنا میٹھا ہو گا۔  اب وہ زمانہ نہیں کہ ایک ہاتھ سے خیرات کرو تو دوسرے ہاتھ کو پتہ نہ چلے۔ کیمرہ ٹی وی کا نہ بھی ہو اپنا ساتھ ضرور رکھو۔ نیکی کا ثبوت مانگا جا سکتا ہے۔اب نیکی کر دریا میں ڈال والا دور نہیں۔ کھوٹا کھرے سے زیادہ چلتا ہےاور جھوٹ سچ سے۔زبان قینچی کی طرح چلتی ہے تو قلم خنجر کی طرح۔

محبت بے نام ہے



آج صرف دل کی سنتا ہوں۔کل کی بات ہے یہ صرف میری سنتا تھا۔یہ مجھے سمجھاتا کہ میں تو عکس آئینہ ہوں ۔ میں نے سمجھا کہ یہ پسِ آئنیہ ہے۔میں تصویر پہ تصویر بناتا  چلا گیا اور یہ انہیں مٹاتا چلا گیا۔غصہ تو بہت کیا ۔میرے رنگوں کو بے رنگ کر دیتا۔جیسے سکول میں استاد تختہ سیاہ  کے ہر نشان کو ڈسٹر سے  صاف کر دیتا۔استاد تو میں تھا اس کا ۔حرف مٹانے کا اختیار تو میرا تھا پھر یہ اپنی من مانی کیوں کرتا رہا میرے ساتھ ۔ ہر جذبہ ، ہر احسا س کو کرایہ دار کی طرح مکان سے بے دخل کر دیتا۔مطالبہ بھی عجب تھا  چاہت ِکرایہ چاہے نہ دو مگر سکونت مکین کی طرح رکھو مسافر کی طرح پڑاؤ نہیں۔ اندھیروں سے ڈر کر پناہ کی تلاش میں آنے والے تیل بھر بھر چراغ لے جاتے مگر یہ بھول جاتے کہ چراغ ِ روشن کے لئے چنگاری چاہیئے ہوتی ہے۔پھر چاہے چراغ سے گھر روشن کر لو یا اسے جلا لو۔یہ جل کر روشنی بھی دیتا  ہے اور جلا کر بھی۔لیکن خواہش میں ہمیشہ بنا تیل کے بجھا جادوئی چراغ رہتا ہے۔جو ہاتھ کی رگڑ سے ہی محل جگمگا دے۔شاعر کی نطر محبت کے شعر رگڑنے سے  دل کے بیاباں روشن نہیں ہوتے۔جب تک  کہ دل خود نہ جلے ۔محبت محبوب  کودیکھنے کا نہیں ، اس کی گلی سے گزرنے کا نام ہے۔اسے پانے کا نہیں اسے سوچنے کا نام ہے۔مٹنے کا نہیں ہمیشہ رہنے کا نام ہے۔دیکھنے کا نہیں جاننے کا نام ہے۔خواہش کا نہیں احساس کا نام ہے۔تعلق کا نہیں بے پرواہی کا نام ہے۔پھول چننے کا نہیں  کانٹو ں سے بچنے کا نام ہے۔خاک پر رہنے کا نہیں خاک میں رہنے کا نام ہے۔

نشانیاں


گرمی سے ستائے لوگ نہر میں الٹی قلابازیاں لگاتے کود رہے تھے۔ چند ایک پانی کو گندہ جان کر صرف پاؤں کو ٹھنڈک پہنچانے تک ہی استفادہ حاصل کر رہے تھے۔ وہاں گاڑیوں سے گزرنے والے بے اعتنائی سےکچھ بھی سوچنے کی مشقت سے لا پرواہی برتتے ہوئے افطاری میں مدعو کئے مہمانوں کی آؤ بھگت کے لئے جیب میں ڈالی لسٹ پر بار بار اچٹکتی نگاہ ڈالتے کہ کہیں گھر پہنچنے پر حافظہ کی کمزوری کا طعنہ سننے میں نہ آجائے۔کسی کو جانے کی جلدی تھی تو کسی کو واپس آنے کی۔دھوپ 43, 45  ڈگری سے جسم کی حرارت بڑھا رہی تھی تو دماغ ڈبل سپیڈ سے خیالات کو ہوا کے گھوڑے پر بٹھا رہا تھا۔غرض بندہ بشر کچھ سن رہا تھا کچھ سنا رہا تھا۔جو سبق ابھی یاد کیا اسے بھلا رہا تھا۔ رات کا چین کھو رہا تھا تو دن کا سکون بھی ہاتھ سے جا رہا تھا۔نظر اُٹھا کر جب درختوں کو میں نے دیکھا تو وہ مسکرا رہے تھے۔ ٹہنی سے ٹہنی ملائے پتے سے پتہ ٹکرائے   تونشہ میں جھولتے ہوئے جھوم جھوم جاتے۔ میں زیر لب بڑبڑایا کہ تجھے اٹھکھیلیاں سوجی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں۔ چلنے کونہیں ہم تیار بیٹھے ہیں۔چاہے صدیاں گزر جائیں کر کے انکار بیٹھے ہیں۔ اور ان میں سے کسی نے  خود کوپھل کے زیور سے آراستہ کر رکھا ہے  اور جھک جھک کر آداب بجا لا رہا ہے۔ کوئی  خود پھیل کر چھاؤں پھیلا کر  احسان جتانے پر بضد ہے۔ بیشک اللہ بیج اور گٹھلی کو چیرنے والا ہے)۔الانعام 95۔) زمین کی ہمواری سے لے کر آبیاری تک بیج کو پے در پے مواقع حاصل ہوتے ہیں۔ جن کی موسم سےنسبت طے کر دی جاتی ہے۔جو پہلے رنگ پاتے ہیں پھر خوشبو پھیلاتے ہیں۔بیج زمین سے ایسے نکلتے ہیں جیسے تاریکی چاک کر کے صبح  نکلتی ہے۔رات تو چین کا باعث ہے ۔ دن اور رات کی نسبت سورج اور چاند سے طے  کر دی جاتی ہے۔جو حساب کے سا دہ اصول پر جمع تفریق میں مصروف عمل رہتا ہے۔ اور دن کی تھکاوٹ کا حساب رات کو چکتا کر دیتے ہیں۔یہ سادہ اور زبردست ہے جاننے والے کا )۔ الانعام 96۔ )سورج اور چاند سے ہٹ کر تارے آسمان پر ٹمٹماتے  انگلیوں سے گنتی میں نہیں آتے۔ نہ ہی سکون آور ہیں نہ ہی چین کھونے والے مگر  خشکی اور تری کے اندھیروں میں  مسافروں کو راہ دکھلاتے ہیں۔تاکہ وہ بھٹک نہ جائیں اپنی سمت کو درست رکھ پائیں۔ اور منزل تک پہنچ کر اگلے سفر کی تیاری کا قصد کر لیں۔ان کے انتظار میں رہنے والے سورج اور چاند کی گردش سے جانے آنے کے فاصلوں کو دن رات میں باندھ لیں۔بے شک یہ نشانیاں علم والوں کے لئے ہیں۔ہم نے نشانیاں مفصل بیان کر دیں علم والوں کے لئے) الانعام 97)اللہ تبارک تعالی نے  سب سے پہلے آدم کی تخلیق   کی جسے  جاننے کاعلم عطا کیا گیا۔  پھر اسی جان سے اس کی بیوی پیدا کی گئی ۔پھر ان سے بہت سے مرد اور عورتیں پیدا کی گئیں۔ انسانی جان سے زندگی کے ایک مسلسل تسلسل کو جاری و ساری رکھنا حکمت خداوندی ٹھہرا ۔جہاں کوکھ  سےقبر میں ٹھہرانے اور امانت میں رکھنے کو منشاء و رضائے الہی ماننا بلا شک و شبہ  قرار پایا ۔جس کو علم کی طرح جاننے کی بجائے سمجھنا ضروری ہے کہ    حکم ربی ہے کیا۔زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالنے والا ہے ۔چاہے وہ بیج اور گٹھلی ہو یا ایک جان سے پیدا کیا گیا انسان ۔ ایک میں مفصل بیان کی گئی نشانیاں علم والوں کےلئے ہیں اور ایک میں سمجھ والوں کے لئے۔ انسان قبل از پیدائش سے  موت اور بعد از موت رکھے جانے کو احکامات پروردگار سے جستجو و تلاش کے راستے سے سمجھنے کی کوشش میں اللہ کا قرب پانے کےقریب ہو جاتا ہے۔ جہاں اس پر رحمتیں نچھاور ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔قبل از موت کئے گئے فیصلے بعد از موت محفوظ رکھے جاتے ہیں تاآنکہ فیصلہ کا دن آن پہنچے گا۔ انسان نشو ونما کی بجائے پرورش سے پروان چڑھتا ہے۔تربیت کے مختلف ادوار میں آگہی کی سوجھ بوجھ سے بعداز موت کے مناظر کو پہلے ہی کینوس پر  مختلف رنگوں کے حسین امتزاج   سےمنتقل کیا جانا بہتر رہتا ہے۔ بیشک ہم نے مفصل آیتیں بیان کر دیں سمجھ والے کے لئے)  الانعام 98)اللہ تبارک تعالی نے مخلوق کو زندگی کی لذتوں سے مستفید رکھا ۔ آسمان سے پانی اتارا جس نے مردہ زمین کو زندہ کیا پھر وہاں سے ہر اُگنے والی چیز پیدا کی۔ تاکہ آدم اپنی ضرورت کے مطابق  سبزیوں اور پھلوں کو اپنے استعمال میں لا سکے۔ صرف زندگی عطا نہیں کی بلکہ اس کے بھرپور لوازمات بھی عطا کئے۔ایسی سبزی جس کے دانے ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے اور کھجور کے گچھے انگور کے باغ اور زیتون اور انار کسی بات میں ایک دوسرے ملتے اور کسی بات پہ دیکھنے میں الگ ۔ ایسے پھل جو  پھلنے سے پکنے تک ٹوٹنے اور بچنے کی قدرتی حصار میں پروئے رہتے ہیں۔  تا آنکہ وہ پک کر اپنےوجود کو ذائقہ اور تسکین سے  بھر لیں۔آدم ان نعمتوں کو انعام و اکرام  مان کر رب کائنات کی شکر گزار بندگی میں چلا جائے۔بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لئے) الانعام 99)
تحریر ! محمودالحق

خالی مٹکے بھرے مشکیزے

میں بستر پہ آنکھیں کھول کر زمین پر کھڑا ہوتا ہوں تو آسمان زمین پر چادر پھیلا کر میرے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔مجھے اس احساس سے نکلنے نہیں دیتا کہ میں اس کی پناہ میں ہوں۔کسی ڈر یا خوف کے بغیر سینہ تان کر فخر سے پاؤں زمین پر جماتا ہوں۔انسانوں کی بھیڑ میں احساسِ تحفظ کسی سپر پاور کے حلیف ہونے جیسا ہوتا ہے۔تب اقتدار کے ایوانوں سے لے کر ہیرے جواہرات سے سجی دوکانوں تک بے وقعت اور بے مول دکھائی دیتی ہیں۔جیت کے ایک لمحے کے انتظار میں ہار کے ماہ و سال شکوہ و شکایت کی بھٹی میں جلائے جاتے ہیں۔صبر و شکر کے مٹکے بھرے مشکیزوں کے انتظار میں سوکھ جاتے ہیں۔آنے کے انتظار میں بیٹھ رہتے ہیں۔ جا کر لانے کی تکلیف گوارا نہیں کرتے۔ سونے اور جاگنے میں صرف دیکھنے اور سننے کا فرق رکھا جاتا ہے۔حالانکہ یہ کھلی آنکھوں سے زماں و مکاں کی تلاش اور بند آنکھوں سے غفلت اور لا پرواہی کی کہانی بیان کرتی ہے۔زندگی چولہے پر چڑھائی ہنڈیا کی طرح مرچ مصالحوں کی کمی بیشی سے پسند کے خوشبو و ذائقہ کو برقرار رکھنے تک محدود رکھی جاتی ہے۔پہلی نظر جس انتخاب پر ٹکتی ہے وہی منزل مراد ٹھہرتی ہے۔ اس سے آگے ہاں ناں میں ا’لفتِ جواز باقی رہ جاتا ہے۔ زندگی پیاز کی طرح ایک کے بعد دوسری پرت اُتارنے کا نام نہیں۔ کھیتی کی مانند پانی سے نم ہونے کے بعد اپنے ہی سخت وجود کو بار بار ہل چلا کر نرم کرنے کے بعد بیج کو پنپنے کے لئے ہموار و سازگار بناتی ہے۔فصلیں بوئی اور کاٹی جاتی ہیں مگر زمین اپنی جگہ تبدیل نہیں کرتی۔پھر وہی عمل دھراتی ہے۔بیج چاہے کوئی بھی ہو اپنی حیثیت و ہیئت میں فرق نہیں آنے دیتی۔زمین کی بےقراری کو جب انسان نہیں سمجھتا تو ان کے لئے پانی سے بھرے مشکیزے بادلوں کی صورت خشک مٹکے بھرنے خود آ پہنچتے ہیں۔انسانی معاشرے میں جب سوچ بنجر ہونا شروع ہو جاتی ہے تو اللہ تعالی انسانوں میں خیالات کی پنیری اُگا دیتا ہے۔منجمد اور خشک سوچ دھیرے دھیرے رفتہ رفتہ آس و اُمید کی نمی پا کر فصل  کو پروان چڑھانے میں منطقی کردار ادا کرنے پر راضی ہو جاتی ہے۔ سہل انگاروں کا پیچھا پچھتاوے کرتے ہیںگر ہوں عاجز تو خوف کے مارے ڈرتے ہیںوحدہ لا شریک لہ کی امان میں جو نہیں رہتےنفس کے کئی خداؤں سے وہ مرتے ہیں
محمودالحق

تلاشِ ذات



پوری کائنات اللہ کی محبت کا سمندر ہے ۔ جہان کسی کونے کھدرے میں ایک عاشق ذات کی سیپ کے خول میں  چھپا محبت کا موتی ، نظروں سے اوجھل قدر دانوں کے غوطہ زنی کے انتظار میں صدیاں ساحلوں کو تکتا رہتا ہے۔جو ساحل پر کھڑے پاؤں کے نیچے سے سرکتی ریت سے یہی سوچ کر خوفزدہ  رہتے ہیں کہ اگر اندر اُتر گئے تو واپس کیسے آئیں گے۔تلاش ِ ذات کے سفر میں کھوج و جستجو کے خاک آلود راستوں پر مسافتوں کی دھول میں سفر کرنے والے صدیوں کے بعد بھی اپنےہی دائرے سے باہر نکل نہیں پاتے۔ اندھیرے میں پھونک پھونک کر راستوں پر قدم جمانے والے چاندنی راتوں میں قدم اپنے ہی عکس سے راہ پا لیتے ہیں۔زندگی کو جینا اور زندگی کو جاننا ایک وقت میں ایک ہی سوچ سے ممکن نہیں ہوتا۔پڑھ کر پا لینے سے پا کر پڑھنے کا نشہ خمار میں مبتلا کر دیتا ہے۔شخصیت کے رنگ و روپ قوس و قزح کی طرح اچانک ہی بے رنگ آسمانوں میں خوبصورت رنگ بکھیر دیتے ہیں۔دیکھنے والے سبحان اللہ کہہ کر نظروں سے من میں سمو لیتے ہیں۔شوقِ انتہا کو پہنچنے والے من سے نکال کر پھر نظروں کے سامنے پھیلا دیتے ہیں۔فاصلے زمین کی قید میں رہتے ہیں۔ آسمان رنگ نہیں بدلتا۔  ہزاروں میل اور صدیوں کی مسافتیں بھی ایک ہی چاہ رکھنے والوں کو اتنا قریب کر دیتی ہیں کہ اپنے دل کی دھڑکن کہیں دور سنائی دیتی ہے۔انسان فیصلوں کے انتظار میں رہتا ہے مگر نشانیاں تو عقل والوں کے لئے ہیں۔کچھ کھونے کا ڈر پانے کی لذت سے اتنا بڑھ جاتا ہے کہ چاہتے ہوئے بھی  نہ چاہنے کی ضد پر قائم رہتا ہے۔جو کتابوں سے آگہی کا ادراک پانے کی خواہش رکھتے ہیں ۔ وہ سیاق و سباق کی نظرِ اختلاف کا شکار رہتے ہیں۔عمل کا اختیار  تو علم کی طاقت پر  ہمیشہ حاوی رہتا ہے۔عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

محبت کی متوالی مکھیاں

تکمیل ذات و خیال کا ایسا بھنور ہے جس سے نکلنے کے لئے جسم و جاں تنکے کے سہارے کی اُمید بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ پانا اور دینا حرف غلط کی مثل رہ جاتے ہیں۔ دراصل جینا اور مٹنا جسم و جاں کے باہمی تعلق کو سانس کی زندگی تک زندہ رکھتے ہیں۔ مٹے بنا جینا کھل کر سامنے نہیں آتا۔ ذات ایک ایسا بلیک ہول ہے جو قریب آنے والی تحسین و پزیرائی کو جزب کرتا ہے۔خیال مخالف کو آلارم بجا بجا دور بھگاتا ہے۔مکمل حیات جاودانی کے منظر احساس کو چھو جاتے ہیں۔جسے مکمل جانا نہ جا سکے اسے مکمل پایا نہیں جا سکتا۔بچپن لڑکپن جوانی کے حالات کہانیوں کے کرداروں سے مطابقت پیدا کر لیتے ہیں۔ پھر وہی کردار زندگی میں رنگ بھرنے کے لئے تلاش کے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔یہ سفر صرف خوشبو کا سفر ہی رہتا ہے۔جسے محسوس کیا جا سکے لیکن جب پانے کی خواہش میں قریب ہونا چاہیں تو کانٹے دامن سے اُلجھنے تک آ جاتے ہیں۔حسن و خوبصورتی پائیں یا دامن بچائیں۔پھر کانٹوں سے بچنا ہی تلاش سفر کا انجام رہ جاتا ہے۔زندگی اپنے ارد گرد حفاظتی حصار بنائے رکھتی ہے۔جو نہ ہی فاصلے کم ہونے دیتی ہے۔ نہ ہی دور بھٹکنے دیتی ہے۔ لیکن جو کشش سے آزادی چاہتے ہیں وہ بندش خلا میں کھو جاتے ہیں۔ پھر وہ روشن رہیں یا تاریک نظر میں نہیں رہتے۔انسان تاروں کی طرح چمکنا اور روشن رہنا چاہتا ہے۔ تاکہ دیکھنے والے نظر اُٹھا کر ہی دیکھ پائیں۔جن کا حاصل ، لا حاصل ہےکیونکہ جو کوشش سے بھی نہ پائے جا سکیں ۔ ان کے لئے دعائیں بھی کارآمد نہیں ہوتی۔ہیرے سونے کو پانے سے آرزؤں کی تشنگی کم ہوتی ہےمگر ان کی تلاش میں تہہ زمین پتھروں کوئلوں تک پہنچنے کی جستجو نہیں کی جاتی۔زندگی بھر کی کوشش میں بھی شائد گلے کا ہار بھی ہاتھ نہ لگ سکے۔صرف وہی پانے کی کوشش کی جاتی ہے جس کا حاصل آسان ہو۔ مشکل ہدف اکثر نشانے سے چوک جاتے ہیں ۔زندگی کو جاننے کے لئے کہانیوں داستانوں کتابوں سے رہنمائی لی جاتی ہے۔مگر نشانیاں عقل والوں کے لئے ہیں۔کائنات میں پھیلی ہر شے اپنی اپنی جگہ ایک الگ داستان کی غماز ہے۔صرف دیکھنے والی نظر چاہیئے۔کون کس سے کیا پا رہا ہے۔انسان خیر و شر کے امتزاج سے ہی اشرف المخلوقات کے درجہ تک پہنچا ۔چاہے وہ خیر میں بندگی کرے یا شر میں زندگی بسر کرے۔ انسان تکمیل کی منازل لینے اور دینے سے طے کرتا ہے۔یہ جاننا ضروری نہیں کہ کوئی کیا دینا چاہتا ہے ۔ یہ ضروری ہے کہ لیا کیا جا رہا ہے۔کیونکہ دو مخالف اجزا ایک ساتھ سامنے آتے ہیں جنہیں کبھی ہاں سے قبول کرتے ہیں تو کبھی نا ں سے دور کرتے ہیں۔ باتیں جب سمجھنے میں مشکل ہو جائیں تو فطرت میں چلے جانا چاہیئے کیونکہ فطرت سے  زیادہ خوبصورت جواب کہیں اور  سےشائد نہ مل پائے۔ گلستانوں میں کھلتے پھول  کیڑے مکوڑوں بھنوروں اور شہد کی مکھیوں کے لئے یکساں دعوت قربت کا اہتمام رکھتے ہیں۔چشمہ کے بہتے پانی پینے میں خوش ذائقہ اور میٹھے ہوتے ہیں مگر ان پر سفر نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح سمندر کے پانی سفر کی تھکان نہیں ہونے دیتے پر سکون رکھتے ہیں مگر پیاس بجھانے کی قدرت نہیں رکھتے۔جنہیں جو چاہیئے انہیں اسی کا قصد کرنا ہوتا ہے۔ جو مکھی پھول سے رس لیتی ہے وہ اسے چھتوں میں بھر دیتی ہے۔وہ شہد کی مکھی کہلائے یا ہنی بی اپنی افادیت کی وجہ سے پہچان میں رہتی ہے۔ انہی پھولوں سے پانی لینے والے حشرات ایک نظر نہیں بھاتے۔کیونکہ وہ صرف اپنی ذات کے لئے پھولوں میں سے پانی چوسنے آتے ہیں۔پانی پیا اور اپنی راہ لی۔اگر رس لینے والے نہ پہنچ پائیں تو پھول رس کے خشک ہونے پر اپنا وجود تحیل کر دیتے ہیں۔ دیکھنا تو یہ ہے کہ پانی لینے والے اور رس حاصل کرنے والے ایک ہی طریقہ کار پر عمل پیرا ہیں۔لیکن ان کی شناخت الگ الگ ہے جسے صرف نظر کی پہچان سے شناخت کیا جا سکتا ہے۔ ایک اپنی تشنگی مٹانے کے لئے پھول کا پانی پانے آتے ہیں۔ اگر ان کی تعداد بڑھتی جائے تو بہت جلد پھول کا رس خشک ہونے لگتا ہے ۔شہد کی مکھی کے پہنچنے سے پہلے وہ پھول رس کو اپنے وجود میں سمیٹ کر دفن ہو جاتا ہے۔ہماری زندگی پھول کی مانند ہے اللہ کی محبت رس کی صورت میں اور دنیا کی آرزؤئیں پانی کی صورت میں لینے والوں کو دی جاتی ہیں۔اللہ کی محبت رکھنے والے اللہ کی محبت پانے کے لئے پھولوں سے محبت کا وہ رس لے کر چھتوں میں بھر بھر غلاف عشق بنا دیتے ہیں۔ جہاں عشق کے متوالے سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں اکٹھے رہ کر محبت کے رس نچوڑ لیتے ہیں جس میں شفا بھی ہے اور حکمت بھی۔دوسری طرف ایک ایک رہنے والے لاکھوں کروڑوں دنیاوی محبت کے حصول کے لئے پانی پی پی کر پھول کی ذات فنا کر دیتے ہیں۔جن پھولوں کی قسمت میں غلاف عشق میں محبت کے رس بھرنا لکھا ہو۔محبت کی متوالی مکھیاں ان پھولوں تک رسائی پا لیتی ہیں۔        تحریر:  محمودالحق

خوشی راس نہیں آتی


تکلیف دہ کانٹوں بھرے راستوں سے ننگے پاؤں چلتے چلتے منزل کے قریب پہنچ کر سستانے کی خواہش درد کی شدت میں اضافہ کا سبب بن جاتی ہے۔ پھر قدم چلنے کی بجائے گھسٹنے پر آ جاتے ہیں۔ قریب ہو کر بھی منزل کوسوں دور نظر آتی ہے۔سانس سانسوں میں الجھتی چلی جاتی ہے۔ اجنبی پن میں جتنی تیزی سے اندر اُترتی ہے اُتنی تیزی سے باہر نکلتی ہے۔ زندگی راستہ پر ڈال دیتی ہے ۔ عقل سے مقام منزل تک مسافت کی راہداریاں بنائی جاتی ہیں۔ دیکھنے میں جو سیدھی اور قریب ترین پگڈنڈیوں کو نظر سے استوار کرتی ہیں۔ فاصلے ماپ لئے جاتے ہیں۔ قدم گن لئے جاتے ہیں۔وقت طے کر لیا جاتا ہے۔ خوشیوں سے جھولی بھر لی جاتی ہے۔ مگر تصور خیال حقیقت کا روپ دھارنے میں پس و پیش اور لیت و لعل سے کام لیتا ہے۔ منزل پانے کی خوشی جتنی زیادہ بانہیں کھولتی ہے۔ منظر اوجھل ہونے کا خوف اتنا زیادہ اسے جکڑ لیتا ہے۔ حرف آخر سمجھ کر فیصلے صادر کر دئیے جاتے ہیں۔ عقل حالات سے سمجھوتہ کر لیتی ہے۔خیال حقیقت میں ڈھلنے پر دھمال ڈالتا ہے۔ سکون کی داسیاں  عقل کی مورتیوں پر چڑھاوے چڑھاتی ہیں۔ اس یقین کے ساتھ کہ دودھ کی نہریں بہنے کے لئے فرہاد کی ایک ضرب کی منتظر ہیں۔غم ہجر محبوب میں کیفیت دل سے ہو کر گزرے تو چشم تر سے گزرے۔ یقین سے کہنا ہو گا کہ جسے دیکھنے ہوں جلوے وہ شہر محبت کے در سے گزرے۔ پردے گرانے سے جو نظارے ہوں وہ چلمن اُٹھانے سے نہیں ۔ پوجا کرے گا تو پجاری بنے گا۔عشق میں عقیدت مند رہے گا۔ محبت درگزر و معافی کی اونچی سر تان سے نغمہ سرا ہو گا۔ دور رہنے والا عشق پاس رہنے والی محبت سے  رتبہ میں عظیم ہے۔ آگ کے آلاؤ کتنے ہی روشن کیوں نہ ہو۔ قریب آنے پر جلانے میں دیر نہیں لگاتے۔ روشنیوں کے دہکتے آلاؤ فاصلوں کی دوری سے  جلانے کی فطرت پر نہیں ہوتے۔ 

نشانِ منزل

بلندیوں کی جس انتہا پر پرواز کرتےہیں، اسی قدر اعتماد اور اعتبار بھی رکھتے ہیں۔ اُڑنے والا جہاز ہو یا اُڑانے والا پائلٹ۔ مہارت پر آنکھیں بند کر کے اعتبار کی مسافت طے کرتے ہیں۔زندگی زندہ رہنے کی گارنٹی عطا کرتی ہے۔حالانکہ زمین پر چلتے ہوئے انسان بھی بلندیوں سے رینگتے ہوئے کیڑے مکوڑوں کی طرح بھی دکھائی نہیں دیتے۔اتنی بلندی مگر خوف کا عنصر سرے سے غالب نہیں آتا۔اس لئے کہ اگر جہاز کے پرزہ جات کے ناقابل استعمال ہونے کا یقین کر لیں تو خوف کے مارے آنکھیں کھولنا مشکل ہو جائے گا اور اگر پائلٹ کی نا تجربہ کاری کا یقین ہو جائے تو تو موت کو برحق کہنے والے بھی ایسے سفر کو خودکشی سے کم نہیں سمجھ سکتے ۔ ہم زندگی کی بدنی مسافرت میں اپنی جان  کا اختیار ان دیکھے انسان کے حوالے کرنے سے ہچکچاتے نہیں ہیں اور لے جانے والے پرزے بھی اپنی گارنٹی خود دیتے ہیں۔لیکن جب تخیل میں سے خواب وخیال حقیقت کا روپ دھارنے پر آتے ہیں تو ،اگر ،مگر، کیوں، کیسے  کی تکرار انہیں خوف میں مبتلا کر دیتی ہے۔ ممکن نا ممکن کی ضرب تقسیم سے فائدے کے نمبر حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اچھے نمبروں کے لئے انسان بچپن سے امتحانات کے پل صراط سے گزرتا ہے۔اول پوزیشن پانے پر ہار کی مالا استاد کے گلے میں پہنانے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ حالانکہ دن رات کی محنت سے حاصل وجود کسرت سے ہوتا ہے۔ لیکن رہنمائی اور پابندیٗ اوقات اسے مقصدکی تکمیل تک پہنچا کر دم لیتی ہے۔ذات کی پہچان کا سفران تمام مسافتوں سے کہیں زیادہ توانائی کا طالب ہوتا ہے۔اس منزل کے مسافر جب بلندیٗ پرواز میں رہنما کے گلے میں مہارت اور قابلیت کی مالا پہنا دیتے ہیں تو انسانوں کی بھیڑ  سے دور ہوتے ہوئے بھی وہ محسو س انہیں قریب  کرتے ہیں۔جو پھول خوشبو دیتا ہے وہ رنگ بھی رکھتا ہے۔جو دلکشی میں جازب نظر ہوتے ہیں۔جن کی تعریف نہ کرنا بھی خوشبو سے نا انصافی کے زمرے میں آتی ہے۔ان رنگوں میں بعض رنگ خاص ہوتے ہیں۔خوشبو سے مہکا دیتے ہیں۔ان کا عرق بھی آنکھوں کی بینائی کو شفا بخشتا ہے۔لیکن انہیں پھر بھی مخصوص و محدود نہیں کیا جا سکتا۔خوشبو چھپائی نہیں جا سکتی جب بھی کھولیں گے وہ دوسروں تک پہنچ جائے گی۔اگر دوسروں کو اس سے محروم رکھنا چاہیں گے تو خود بھی اس سے محروم رہیں گے۔آسمان چمکتے دمکتے ستاروں سے بھرا پڑا ہے۔ جو طواف گردش میں پابندی سے جگہ تبدیل کرتے رہتے ہیں۔مگر ان میں ہی قطب ستارے تبدیلی کے مراحل سے کم گزرتے ہیں۔ایک جگہ قائم رہ کر دوسروں  کو صحیح راستہ کی رہنمائی کرتے ہیں۔جس سے راستہ بھٹکنے والےمنزل تک با آسانی پہنچ جاتے ہیں۔دوسروں کو بھی اسی راستہ کی  نشاندہی کرتے ہیں۔پسند کی شے کو مخصوص کر لینا  انسانی فطرت میں ہے۔ وہ بلا شرکت غیرے اپنا  اختیار رکھنا چاہتا ہے۔جو اسے خود پرستی میں مبتلا کر دیتا ہے۔جو ایک لا علاج مرض کی طرح وجود ہستی کو متواتر کچوکے لگاتا رہتا ہے۔پانے کی چاہت ، قبضہ کی شدت میں تبدیل ہونے میں کچھ وقت لیتی ہے۔پھر میں کی رسیاں پاؤں کی بیڑیاں بن جانے میں دیر نہیں لگاتیں۔آگے بڑھنے کے لئے ضروری ہے کہ حقیقت کو حق کے ساتھ سمجھا جائے۔پر پرواز کی سکت نہ رکھتے ہوں تو اونچی اُڑان خطرے سے خالی نہیں ہوتی۔انھیں پھڑ پھڑاتے رکھنا ضروری ہے۔تاکہ وقت کی مالش سے  قوت پرواز رفتہ رفتہ بڑھتی رہے۔تقویت پانے کے لئے تنہا پرواز کا شوق مہنگا پڑ جاتا ہے۔بلندی پرواز روکنے کے لئے بلند نگاہ خور ان پر جھپٹنے کے لئے ہر دم تیار رہتے ہیں۔ایک ہی طرح کی قوت پرواز رکھنے والے اکھٹے رہ کر ہی قطبی ستارہ کے بتائے راستہ پر چلنے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔وگرنہ سفر کی تھکان قطبی ستارہ کو آنکھوں سے اوجھل کر سکتی ہے۔پا کر دینے کا نام زندگی ہے۔خود کو نچھاور کر دینا بقاٗ حیات ہے۔تھکا ماندہ وجود  خودفریبی میں رہے تو حیات باقی بن جاتا ہے۔جو صرف وقت کھونے کا دکھڑا سناتا رہتا ہے۔منزل پانا اتنا آسان نہیں ہوتا اور نہ ہی کبھی ہو سکتا ہے۔کیونکہ جو دیکھا ہی نہ ہو وہ منزل کیسی۔ وہ صرف مقام کہلاتا ہے۔مقام تک لے کر جانے والے منزل ہوتے ہیں۔جو اپنی جگہ کھڑے رہ کر راستہ کی بھل بھلیوں سےگزر کر مقام تک رسائی کی منزل پاتے ہیں۔مہمان بن کر جانا ہو یا مہمان کا گھر آنا ہو تو تیاری مکمل کی جاتی ہے۔غسل سے لے کر نئے کپڑے اور خوشبو کو استعمال میں لایا جاتا ہے۔ فنکشن کے تمام تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔آغاز سفر سے پہلے ہی مقام تک پہنچنے کے تمام مراحل طے کر لئے جاتے ہیں۔مگر جب روح کے سفر پر چلنا ہو تو گناہوں کی گھڑیاں سر پر اُٹھا کر طواف کعبہ تک چلا جاتا ہے۔اس مقام پر پہنچ کر توبہ سے دھلے نئے کپڑے زیب تن کئے جاتے ہیں۔پھر ان میں سے چند ان کپڑوں کو داغ دھبوں سے بچا کر رکھتے ہیں اور بعض دوبارہ آنے کا قصد کر کے توبہ سے دھلے کپڑے میلے کر لینے کے بعد پھر ایک نیا عہد کرتے ہیں۔ایسی چھوٹ انسان تو گھر آئے مہمان کو بار بار نہیں دیتا۔مگر اللہ ہر بار اپنے گھر آنے والے بندے کو توبہ سے دھلے کپڑے بار بار لینے سے منع نہیں فرماتا۔کیونکہ وہ عظم ہے عظیم تر خالق ہے، مالک ہے ، سننے والا ،جاننے والا،بخشنے والا ہے۔چاہنے والا اور چاہے جانے والا ہے۔ 
تحریر ! محمودالحق یکم جون 2014

در کائنات

آٹھ سال بعد آٹھ ماہ سے لاہور میں بیتے دن آٹھ دہائیوں کی کہانی میں اوراق کتاب کی مانند کبھی کھلتے تو کبھی بند ہورہے ہیں۔ شہر مجھے نیا نہیں مگر باسی اجنبیت میں مدرس میں داخل ہوتے پہلے قدموں کی ہچکچاہٹ کا عملی نمونہ بنے پھرتے ہیں۔جب الف سے آدم کی الف سے اولاد نے الف سے اللہ کے نام کی پہچان میں در کائنات پر پہلی دستک دی۔ جہاں سے ہر دستک پر ایک ہی آواز آتی ہے کہ " تمام تعریفیں اللہ کے لئے جو تمام جہانوں کا رب ہے " ۔جس نے جان کو جہان میں آدم کو فضیلت سے اپنا نائب بنایا۔ فرشتوں نے اس پر کہا کہ " جو اس میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا۔ اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تجھ کو بے عیب کہتے ہیں۔ اور تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں " ۔تمام جہانوں کے رب نے کہا کہ " وہ بہت مہربان اور رحم کرنے والا ہے " ۔جیسا اس نے رحم کیا آدم پر " پھر اس نے آدم کی توبہ قبول کی بیشک وہ توبہ قبوم کرنے والا رحم کرنے والا ہے" ۔اور توبہ قبول کی قوم موسی علیہ السلام کی " اس نے توبہ قبول کی تمہاری بیشک وہ توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے " ۔جو عین شان رب العالمین ہے" بدلہ کے دن کا مالک ہے " چاہتا ہے کہ کائنات کا ہر زرہ اس کی حمدو ثنا  میں مصروف عمل رہے۔آدم یاد رکھے کہ وہ نائب ہونے کے ناطے صرف یہی پکارے کہ " ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں" ۔جو اپنے راستہ سے بھٹک گیا ہدایت کے راستہ سے۔ انعام و اکرام کی خواہش کی بجائے جنہوں نے گمراہی اختیار کی اور بالآخر غضب کا شکار ہوئے۔تمام جہانوں کا رب رحمن الرحیم آدم کو محبت و فضیلت کے سائے تلے دعا سے راست روی اور بخشش کا طلبگار بناتا ہے تاکہ فساد سے دور رہے۔

پہچان ِ انسان کا ا متحان

ہم پیدائش سے لے کر لحد تک سیکھنے سکھانے ، سننے سنانے ، منانے منوانےاورکھونے پانے کی کشمکش سے گزرتے ہیں۔کبھی چہرے کھل جاتے ہیں تو کبھی اُتر جاتے ہیں۔کبھی آنسو بہہ جاتے ہیں تو کبھی نکل جاتے ہیں۔ہم جان ہی نہیں پاتے ہم چاہتے کیا ہیں۔عارضی تسکین یا ابدی سکون؟تعریف و تحسین لباس کی ہو یاحسن و جمال کی ،شان و شوکت کی ہو یا عنایاتِ خداوندی کی ۔۔۔رطوبتِ ہم آہنگی سوچ میں بہہ کر آنکھوں میں اُتر آتی ہے۔ جو ہمدردی کے لبادے اوڑھ کر مقامِ رفعت و عزت  پر ٹڈی دل حملہ آور بن جاتے ہیں۔جو وجود کی کھیتی اُجاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔زمانہ جاہلیت سے ہی انسان پہچان کے امتحان سے گزرنے پر مجبور ہوا۔آگ ، چاند ،تارے اور سورج سے ہوتے ہوئے تخیلاتی بت پرستی پر صدیوں تک رکا رہا۔ہر نئی اُمید کی کرن اسے اپنی منزل کا نشان نظر آئی۔جس کی اندھا دھند پیروی شروع کر دی گئی۔ کبھی زائچوں سے تو کبھی جنتریوں کے ہندسوں سےقسمت و تقدیر کو جاننے کی سعی کی جاتی رہی مگر حاصل نمرود و فرعون سے مختلف نہیں۔۔۔فتح کے نشہ میں سرشار سکندر یونانی بھی خالی ہاتھ ہی رہا۔ حالات و واقعات تو مختلف ہو سکتے ہیں۔۔۔چہرے  تبدیل ہو سکتے ہیں۔۔۔ مگربہکنا ، سنبھلنا آج بھی وہی پرانی روش پر ہے۔مقصدِ حیات سے ہٹانے والے مجبوریوں ،لا چاریوں ،ہمدردیوں ، محبتوں ، چاہتوں کے راگ آلاپتے  ۔۔۔اپنی محرومیوں کا رونا رو تے ۔۔۔نفس ِدرندگی کی تسکین  پر کمر بستہ دکھائی دیتے ہیں۔جو آنکھیں ان چہروں کے پیچھے ہمدردی میں چھپے زہر فناءحقیقت کو دیکھ نہیں پاتیں۔۔۔۔تنہائی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔قسمت ان سے روٹھ جاتی  ہے۔ میَں کا خول انہیں کھلنے نہیں دیتا۔ روشنی سامنے پا کر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔کیونکہ تعریف وتحسین ایسا سانپ ہے جو حقیقت شناسی کی سیڑھی چڑھنے نہیں دیتا۔ہمدردی کے دیپ جلا کر روشنی کی طرف بلانے والے خود چھپکلیوں کی طرح  دیواروں سے چپکے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔معصوم بھولے روشنیوں سے محبت کرنے والے روشنی ہی کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔اندھیروں سے بے خوف ہو جاتے ہیں۔جو انہیں کھینچ کر خود فریبی کی دلدل میں پھینک دیتے ہیں۔جو انہیں نکالنا چاہے تو خو ڈوبنے کے خدشے میں ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔آج کی دنیا  نیٹ کی دنیا ہے جس میں ہم جتنے بھی با پردہ  کیوں نہ ہوں لفظ روح کو بے لباس کر دیتے ہیں۔سوچ و افکار کی آڑ  میں  چھپے آستین کے سانپ ڈسنے چلے آتے ہیں۔ چہروں کے شیدائی چہرے پیچھے، لفظ کے دیوانے لفظ کےپیچھے اورنفس کے بھکاری مجبوریوں کی صدا لگاتےمحبت کشکول  پھیلائے سوالی بنے پھرتےہیں۔کمپیوٹر  وہ آئینہ ہے جس میں ہم دو آنکھوں سے یہ سوچ کر دیکھ رہے ہیں  کہ صرف  ہم ہی دیکھ رہے ہیں مگراسی کے دوسری طرف  ہزاروں آنکھوں سےہم دیکھے  بھی جا رہے ہوتے ہیں۔  وہ  اپنی سکرین پر جودیکھنا چاہتے ہیں صرف انہیں ہی تلاش کے بعد دیکھتے ہیں۔

تشنگی کی انتہا

کائنات کی وسعتیں لا محدود ، تا حدِ نگاہ فاصلے ہی فاصلے،نگاہ اُلفت سے کھوج کی متلاشی مگرتھکن سے چُور بدن کا بستر پر ڈھیر ہو نا اپنی ذات پر احسانِ عظیم   سے کم نہیں ہوتا۔بظاہر  یک نظر تخلیق و حسن کے جلوے  آنکھوں پر لا علمی کی پٹی باندھ دیتے ہیں اور عقل پر دلیل کی۔حقیقت جانے بغیر سچائی تک رسائی ممکن نہیں ہوتی۔حقیقت جاننے کے لئے مخبر خیال مثبت و منفی رویوں کی چغلی کرتے پائے جاتے ہیں۔وسوسہ خیال کی جڑوں میں نا اُمیدی کی کھاد ڈالتا ہے۔جو اسے حقیقت بن کر سچ تک پہنچنے کے راستے کی دیوار بنتا ہے۔حقیقت شناسی کا علم ایک سمندر ہے جس کی چاہ پانے والوں کی جزبیت  چڑیا کی چونچ میں سمانے والے قطروں سے زیاد نہیں۔ اللہ کی محبت جس دل میں سما جائے وہ  عشق کا ایسا سمندر ہے جس کی تشنگی ایک چڑیا کی چونچ میں سمانے والے چند قطروں سے ممکن نہیں۔آگ پانی سے دور اپنے آلاؤ روشن رکھتی ہے۔سمندر کے سینے پر جلنا آتش کے بس کی بات نہیں۔جب پانی اپنے بہاؤ سے ان راستوں پر گامزن ہو جاتا ہے تو  آگ کی چنگاریاں چیخ چیخ کر دم توڑ دیتی ہیں۔۔۔۔بچتا ہے تو صرف پانی ۔۔۔۔۔پیاس بجھانے سے لے کر سیراب کرنے تک  ۔۔۔۔دھرتی حدت سے نمو پانے کے نشے میں اُتر جاتی ہے۔قلب عشق کا وہ سمندر ہے۔۔۔ جو اس کے وجود پر اُترتا ہے تو۔۔۔۔۔چند قطروں سے بیتابی ۔۔۔۔شادابی میں بدل جاتی ہے۔سمند ر کی تشنگی پیاس مٹانے میں ہے ۔۔۔۔۔خود مٹنے میں نہیں۔۔۔۔۔۔جو اعتماد اور چاہت کی کشتیوں کے بادباں کھول کر  عشق کے سمندر میں اُترتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ تو  عقیدت و احترام کی لہریں انہیں غرق کرنے کی بجائےبحفاظت کناروں تک پہنچا دیتی ہیں۔ محبت کے موتی چونچوں میں بھر کر وہ چڑیاں  ۔۔۔۔نفرت و حقارت کےجلتے آلاؤ میں ۔۔۔۔۔ڈالے جانے والے عاشقوں کو بچانے کے لئے  ۔۔۔۔چونچ میں بھرے محبت کے سمندر سے لائے ۔۔۔۔ چند قطروں سے آگ بجھانے میں مصروف ہو جاتی ہیں۔  وہ جانتی ہیں کہ یہ  پانی عاشق ِحقیقی کو  آگ سے بچانے کے لئے نا کافی ہے ۔۔۔۔۔۔ مگر عشق و محبت کی داستان میں وہ اپنا کردار نبھانا چاہتی ہیں۔تاکہ سچے عشق اور سچے عاشق کی نظر میں سرخرو ہو جائیں۔تشنگی کی انتہا کیا ہے؟ سمندر کا پانی ۔۔۔۔۔۔۔ جنگل کی آگ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔ایک  چڑیا کی چونچ   ۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت کے سمندر سے چند قطرے پانی چڑیا کی چونچ میں عشق کی آگ بجھانے میں جب  ناکافی ہو جاتے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔تو تشنگی کی انتہا ہے یہ ۔۔۔۔۔۔۔ پا کر بھی مکمل پایا نہ جا سکے۔۔۔۔۔۔ بجھا کر بھی مکمل بجھایا نہ جا سکے۔برسہا برس سے  خوش نصیبی کو ترستی بنجر زمین ۔۔۔۔۔ جس کے اوپر سےبادل بن برسے گڑ گڑا کر  گزر جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اسے چند قطرے سیرابی  کیفیت سے دوچار کر دیتے ہیں۔ یہ زمین کی تشنگی کی انتہا ہے ۔۔۔۔۔۔مگر بادل مکمل برس کرتحلیل ہونے سے سیراب ہونے کی کیفیت سے سرشار ہوتا ہے۔یہی اس کی تشنگی کی انتہا ہے۔اشرف المخلوقات میں تشنگی کی انتہا جاننے کے لئے ۔۔۔۔۔  کیفیت سے زیادہ عقل کے ترازو پر رکھی سمجھ  بوجھ  ۔۔۔۔۔کانٹ چھانٹ کے بعد محتاط طرز عمل سے زیادہ تر پڑھی جاتی ہے سمجھی نہیں۔کسی جزبہ ۔۔۔۔شدت احسا س۔۔۔۔۔۔افکار تخیل۔۔۔۔۔۔لمس لفظ ۔۔۔۔۔۔۔یا ۔۔۔۔۔قربتِ محبوب کی کسوٹی پر پرکھا نہیں جا سکتا۔صرف اتنا جان لینے سے حقیقت حق کے ساتھ  ۔۔۔۔ ضمیر روشن کو آمادگی کی راہ پہ   ۔۔۔۔خوش آمدیدی نظریں بچھائے  ۔۔۔۔لینے آ جائے تو جواب مل جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔لینے کی جگہ اگر اللہ تباک تعالی کی محبت کا سمندر ہو  ۔۔۔۔۔۔۔ پانے والی چڑیا ہو۔۔۔۔۔۔  دینے کی جگہ آگ میں ڈالا گیا عشق حضرت ابراہیم علیہ اسلام کا ہو ۔۔۔۔۔۔۔ تو پانے میں کمی اور دینے میں جان تک چلی جانے سے تسلی نہ ہو  توتشنگی کی انتہا کسے کہتے ہیں  ۔۔۔۔۔جان جاتےہیں۔

 تحریر ! محمودالحق

نقطہء تحریر _ 2

دوسروں کے قدموں کے نشانات پر چلتے چلتے بھول جاتے ہیں کہ اس راستہ میں پگڈنڈیاں نشاندہی نہیں کرتی بلکہ سب ہی اپنے راستوں کے قطب ستارہ ہیں۔

قلب کی قربتیں جسموں پربہت بھاری ہوتی ہیں۔ اس رشتے کو ہمیشہ ساتھ رکھیں جو روح کے لئے ایک لطیف ہوا کے جھونکے کا احساس رکھتا ہے ۔

پر آسائش گداز بستر ہو یا آرام دہ سفر چند پل کے بعد وہی بدن اکتاہٹ و مجبوری میں بدل جاتا ہے۔

ہمارا سفر ایک ہے اور منزل بھی ایک ہوتی ہے مگر مسافر روز الگ الگ ہیں۔منزلیں سب کی بظاہر تو ایک ہیں اور راستے بھی بظاہرایک مگر وہ فنا کے راستے ہیں اسی لئے تو ایک ہیں۔

انا کا ایک خاموش بت شخصیت کے گرد حلقہ بنائے محبت کے پجاریوں کے جھکنے سے تسکین پانے میں نشہ کے جام چھلکاتا ہے۔

جو پانے کے لئے دکھوں کے روگ پال لیتے ہیں۔ کھونا جنہیں دل کا روگی بنا دے۔ ہمدردی سے ایک بار پھر انا کی بازی جیتنے سے توانائی کے طالب ہوتے ہیں۔

جو محبت حق جتانے سے جیت سے ہمکنار ہو وہ دیرپا نہیں ہوتی اور جو حق پانے سے مالک کی ملکیت میں سونپ دے، موت کی پناہ میں وہ زندگی زندہ رہتی ہے۔

جو محبت بھوک مٹا دے وہ بدن سے توانائی تو ذہن سے سچائی مٹا دیتی ہے۔آنکھیں چمک تو زبان الفاظ کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

قابل رحم ہیں جو سچی محبت کا روگ الاپتے مگر پانے اور کھونے کے غیر محسوس ڈر کا شکار رہتے ہیں۔

مجازی محبت کا نشہ شراب کی طرح سر چڑھ کر چکرا دیتا ہے۔ کھولتے ہوئے پانی کی مانند صرف بھاپ بن بن اُڑتا ہے۔ جو آخری قطرہ تک بھی پانی ہی رہتا ہے۔

زندگی کے راستے فیصلوں کے محتاج نہیں ہوتے۔بلکہ اسباب کی پگڈنڈیاں راستوں کی نشاندہی میں بدل جاتی ہیں۔

پھول کھلنے سے پہلے اپنی مہک سے اعلان بہار نہیں کرتے بلکہ پوشیدگی کے عمل تولیدگی میں چھپے رہتے ہیں۔

اگر صبر و شکر میں انتظار رہے تو مادیت کے کرب سے روح محو پرواز رہتی ہے۔

خواہش میں انتظار ہو توکرب ، اسباب ہوں تو فرحت کا باعث ہیں۔

پھول کھلنے کے لئے کانٹے کافی نہیں ، نئے پتوں کا انتظار رہتا ہے۔

بادل ٹہلنے سے دھواں ہیں مگر دھواں برسنے میں بادل نہیں۔

جو موسم کا انتظار نہیں کر سکتے وہ پھلوں کی چاشنی سے محروم رہ جاتے ہیں۔

جو فیصلوں کے انتظار میں رہتے ہیں کرب نہیں جھیلتے، راحت پاتے ہیں۔

خوش نصیب ہیں وہ جو دل کے رشتوں کے قریب بستے ہیں۔فاصلے چاہے جتنے بھی زیادہ کیوں نہ ہوں مگر محسوس انہیں ہمیشہ قریب ہی کرتے ہیں۔

محبت رکھنے والے کبھی بھی ایسا فعل سر انجام نہیں دیتے کہ جس سے دیکھنے والا فعل کی نسبت محبوبیت سے جدا کر سکے۔

آنسو جن کے قریب سے نہ گزرے ہوں وہ ان میں بہہ جاتے ہیں۔

جسے اپنی منزل تک رسائی کی جتنی جلدی ہوتی ہے ان قدموں کا ساتھ دست و بازو بھی پوری تندہی سے دے رہے ہوتے ہیں اور ایک وفادار غلام کی طرح ہوس و حرس کے آقا کی دلربائی کا اہتمام کرنے میں جتے رہتے ہیں۔

دوسروں کے آئینے میں اپنا عکس دیکھنے والے بھول جاتے ہیں خوشبو سدا نہیں مہکتی، جوانی سدا نہیں رہتی، اس مٹی سے پیدا ہر چیز مٹی ہو جاتی ہے۔

تکلیفیں ،پریشانیاں ،دکھ انسان کو کمزور کرنے نہیں آتے بلکہ وجود میں صبر، برداشت، ایمان کی پختگی کا پیغام لاتے ہیں۔

بدن روح کی طاقت کا محتاج ہے جو اسے ہم دیتے ہیں کمزوری کا سبب بنتا ہے۔ آسائش، سہولت، شاندار طرز زندگی اسے اپنے اصل سے بہکاوہ کی ترغیب دلاتے ہیں۔

بیج سے پیدا ہونے والا پودا دو بار جینے کی جنگ لڑتا ہے۔ پہلے بیج سے اور پھر زمین سے نکلتے وقت ۔ اس کے بعد وہ حالات کے رحم و کرم پر چلا جاتاہے۔بارش کی کمی بیشی اور دھوپ چھاؤں میں بڑھنے اور پھلنے پھولنے میں محتاج دعا ہو جاتا ہے۔ وہاں وہ کسی کو بہت زیادہ خوشی دیتا ہے تو کسی کو مایوسی و اداسی۔

کوشش میں اگر کمی ہو تو حالات کی ذمہ داری قسمت پر ڈال دی جاتی ہے جو رو دھو کر شکوہ پر ختم ہوتا ہے۔

کمزور پودے زندگی تو پالیتے ہیں مگر طوفانی حالات کے تھپیڑوں سے اپنے آپ کو نہیں بچا پاتے۔

عالم فناہے تو علم بقا ہے،عامل فناہے تو عمل بقا ہے ،جسم فناہے تو روح بقاہے ،زخم فنا ہے تو درد بقا ہے ،دوا فنا ہے تو اثر بقاہے ،محبوب فنا ہے تو محبت بقا ہے ،ماں فنا ہے تو مامتا بقا ہے۔

جو آنی جانی شے کی محبت   میں بلا خوف و خطر قلم تحریر سے قلب حال بیان کرتے ہیں۔ انہیں حقیقی حق محبت کے جلوؤں کی تاب کہاں رہے گی۔

سچی محبت کا حقدار تو صرف وہی ہے جو داتا ہے، غنی ہے ، غفور ہے ، رحیم ہے ، محبتیں اس کی امین ہیں ،

گھر کے مکین مالک ہوتے ہے ،گلیاںمسافروں کی راہگزر بنی رہتی ہیں۔ مکین شک و شبہ میں رہتے ہیں۔مسافر پلکوں پہ بٹھائے جاتے ہیں۔مکینوں سے محبت کا دعوی ،مسافروں سے پینگیں بڑھائی جاتی ہیں۔

ایک در کا سوالی ضرورت مند ہوتا ہے۔در در کا سوالی در بدر رہتا ہے۔

شائدانسان تخلیق سے متاثر ہو کر اس کے زیر اثر لکھنے پر مجبور ہوتا ہے۔

شمع جلنے سے پہلے بھی موم ہوتی ہے اور بعد میں بھی مگر روشنی موم سے نہیں سبب سے ہو تی ہے۔

کوئی بھی کام مشکل تبھی ہوتا ہے جب وہ پوشیدہ رہتا ہے۔ سبب ظاہر ہونے پر تو وہ قیاس بن جاتا ہے اچھا یا برا۔

ہوائیں تیز ہو جائیں تو آندھیوں کی پشین گوئی کرتی ہیں۔ بادل بھاگتے بھاگتے جمگھٹی گھٹائیں بن جائیں تو برسنے کی نوید بن جاتے ہیں مگر بخارات بادل بننے سے قبل اپنا وجود پوشیدہ رکھتے ہیں۔

جب نظام کائنات نے اپنا وجود اسی کے حکم کے تابع کردیا تو پھر نظام حیات کے متعلق قیاس و گمان کیوں رہتا ہے۔

اللہ تعالی کے فیصلے انتظار کی اذیت سے دوچار نہیں کرتے۔بلکہ بروقت راحت و تسکین کا باعث ہوتے ہیں۔

ہر راستے پر کھڑا نیا موڑ اگلے راستہ کی نشاندہی کرتا ہے۔ منزل تک پہنچنے کے لئے راستے نہیں ناپے جاتے بلکہ موڑ ان راستوں کی نشاندہی کرتے ہیں جو منزل کی طرف جاتے ہیں۔

اندھیرے جو دکھاتے ہیں سورج انہیں چھپا دیتا ہے۔نظروں کے سامنے اپنا منظر پیش کرتاہے۔آنکھیں اسی کی عادی ہو جاتی ہیں اور اسی کو دیکھنا پسند کرتی ہیں۔اندھیروں سے خوف کھانے لگتی ہیں۔

قدم راستوں سے شناسانہیں ہوتے روشنی کے تابع ہوتے ہیں۔

ہر شے اپنی جگہ موجود رہتی ہے اور سبب سے تعلق کی بنا پر نظر سے جڑی رہتی ہیں۔

روح احساسات بدنِ فانی سے چند لمحوں کے لئے آزاد رہتی ہے،پھر تو اگلی آزادی تک جسم جسموں پر چنگھاڑتے برستے آگ اگلتے روز ہی فنا ہوتے ہیں۔

جوں جوں تفکر ایمان بڑھتا چلا جا تا ہے وجود اس کے مقابل کمزور سے کمزور ہوتاجاتا ہے۔

محنت کی آبیاری سے صبر و شکر کی فصل تیار ہوتی ہے۔خیالات کی کھیتی میں شکوہ کی فصل کاٹی جاتی ہے۔

لکھنا قلم سے ہو تو قلمی دوستی سے آگے نہیں بڑھ پاتی مگر قلب سے لکھنا قلبی تعلق تک وسیع ہے۔

آنکھوں سے دیکھنا صفحات پر اترتا چلا جائے تو نشتر بن کر زخم دیتا ہے۔ قلب سے جو اترے تو خنجر بن جاتا ہے

جو کھونے کے خوف سے پہلے سے جمع سنبھالنے میں آنکھیں بند اور ہاتھ باندھ لیتے ہیں۔ وہ دینے والے کے انعامات سے بھی منہ موڑ لیتے ہیں۔

زندگی کا کھیل آنکھ مچولی نہیں کہ ایک چھپ جائے تو ڈھونڈتے رہو۔یہ منظر اور نظر کی محبت کا کھیل ہے۔

نظر جب پانے کی خواہش پالیتی ہے تو منظرمنظورنظر ہو جاتے ہیں اور نظر میں بس جاتے ہیں۔ اوجھل روشنی ہوتی ہے منظر اندھیرے میں بھی روشن رہتے ہیں۔

اللہ تعالی نے جسم کو زمین کی قید سے آزادی کے لئے صبر و شکر ، استقامت اور عبادت کا پروانہ تھما دیا۔

روشنیوں میں راہ پانے والے اندھیروں سے چھپتے ہیں۔روشنی کے جگنو دن میں خود چلتے تو اندھیرے میں راہ دیکھاتے ہیں۔

قرآن و سنت اندھیروں میں روشنی سے اجالا لانے کا ذریعہ ہے۔اب بھی کوئی اندھیرے میں رہنا چاہتا ہے تو ایسی عقل پہ ماتم کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

زندگی میں بہت سی باتیں سمجھ آنے کے باوجود سمجھ سے بالا تر ہوتی ہیں۔

انسانی تخیل سے نکلتے افکار اظہار رائے کا شاہکار تو ہو سکتے ہیں مگر زندگی کی سچائی نہیں ۔

سوچ بن کر وہی زندہ رہتے ہیں جو ناکامی کو قسمت کا کھیل سمجھ کر ہتھیار نہیں ڈالتے بلکہ بار بار کی کوشش سے آگے بڑھنے پر یقین رکھتے ہیں۔


محمودالحق

نقطہء تحریر

:: زندگی کے پل جسم سے تو جدا رہتے ہیں مگر کبھی خود تو کبھی جواز پیدا کر کے جسم ہی کو احساس سے تختہ مشق بناتے ہیں۔
:: زندگی کوپانے کے احساس لمس دلاتی ہر شے دلپزیر ہوتی ہے۔
:: پانے کی خواہش ایک لمبے پل کی محتاج ہے  مگر پا کر خوشی کی چند پل سے زیادہ نہیں۔
:: کھونے کا خوف چند پل کا ہے مگر کھونے کا درد ایک لمبے عرصے تک رہتا ہے۔
:: جسم کی ضرورتیں پل پل بدلتی ہی کبھی پسند و نا پسند میں تو کبھی خوشی و غم کے کھونے اورپانے میں۔
:: پھول احساس سے مزین ہوتے ہیں بھنوروں کو بلاتے ہیں صرف لمس ہی نہیں خوشبو بھرا رس بھی دیتے ہیں ۔لیکن پھر بھی بھنورے اور پھول کی  قسمت میں فنا لکھا ہے ،لہر اور کنارے کی طرح صدیوں تک آبادرہنا نہیں۔  
:: محبت بنیاد نہیں سطح آب ہے ۔جہاں جزبات کے بخارات اُٹھتے ،تو اُداسیوں ، ناکامیوں کے بادل برستے کہیں اور ہیں۔
:: محبت کی داستان سچی ہو۔تب بھی ہیر رانجھا ، شیریں فرہاد ، لیلی مجنوں اور سسی پنوں کے نام سے بیان ایک داستان رہے گی ۔جنہیں بچھڑنے کے غم نے نڈھال کر دیاکھونے کا غم کسی کے بدن سے جان لے گیا۔
:: آغازِ محبت میں شدت ایمان کی صورت اورانجام سے بے خبری کسی کافر کے گناہوں میں لت پت ہونے جیسی۔
:: عشق میں گداگر کی طرح مانگتے جاؤ کشکول میں ڈالنے والے محبوب ہو جاتے ہیں۔
:: جو محبت اختیار کی جائے وہ اس محبت سے بازی نہیں جیت سکتی جو تلاش کی جائے۔
:: زندگی اچھے برے نئے پرانے کی تقسیم در تقسیم سے بہترین کے انتخاب نظر پر رکتی ہے۔
:: پسند قربانی کے جذبہ سے سرشار ہوتی ہےنا پسندیدگی معیار میں پستی سے اوپر نہیں اُٹھتی۔
:: قلب ِقلم کو نعمت ِخداوندی کے شکرسے خوب بھر لومحبت کے سفید کاغذ پرعشق کی انمٹ روشنائی سے لکھتے جاؤ ۔
::کوئی بھی کام مشکل نہیں ہوتا   اسے نا ممکن ہم خود بنا دیتے ہیں اگر مگر کی تکرار سے اپنی سہولت کی خاطر۔
:: میں کے کنواں میں اپنا ہی عکس دیکھ کر پھولے نہیں سماتے--پہاڑوں میں پلٹ کر آنے والی اپنی ہی آواز کی گونج سے منور رہتے ہیں۔
:: کنویں سے پانی لا کر مٹکے بھرنے سے جو تسکین ملتی ہےمٹکے کے پانی سے پیاس بجھنے میں نہیں۔
:: ہر بڑھتی شاخ میں جو نشہ ہےوہ جڑ کی بدولت ہے ۔جو خاموشی سے سخت زمین ہو یا پتھر انہیں چیر کو رکھ دیتی ہے--ٹکر لینے کی اس کی وہی فطرت شاخوں اور ان پر لگے پتوں کو زندگی کی خوشیاں خوشبو سے بھری دیتے ہیں-
:: جان جتنی پیاری ہوتی ہے غم جان اس سے بڑھ جاتی ہے۔
:: جو قسمت میں آنی جانی ہو اسے انتظار کے مہمان خانے میں ٹھہرایا نہیں جاتا۔

:: ہر آنکھ پھول پسند کرتی ہے  پنکھڑی کی نازکی پہ فدا ہو جاتی ہے۔خوشبو سے مسحور ہونا اسے بے خودی میں مبتلا کر دیتا ہے ۔مگر آنکھ وہ نہیں دیکھ پاتی جس وجہ سے یہ سب ہے۔
:: جنہوں نے نصیحتوں پر عمل نہیں کیا ۔۔استاد زمانہ نے حالات کی رسی میں اچھی طرح کس کر وہ باتیں سمجھائیں ۔
:: اگر تخلیق کی قدر ہو گی تو خالق سے محبت ہو ہی جاتی ہے۔
:: تحریریں اتنا گہرا اثر نہیں چھوڑتی جتنا تخلیق گہرے نقوش چھوڑ جاتی ہے۔
:: کائنات ِ پھیلاؤ میں انسانی سوچ دھنس جاتی ہے ۔۔جہاں خالق کی تخلیق مخلوق کی ایجاد پر بہت بھاری ہو جاتی ہے۔

عشقِ وفا کہاں

تحریر و اشعار  !    محمودالحق
 گیس  کے غبارے کو صرف دھاگے سے  باندھ کر بچے بھاگ بھاگ اُڑاتےہیں۔ ہاتھ سے چھوٹنے کی غلطی اسے آسمانوں کی طرف اُڑانیں بھرنےمیں آزادی کے سفر پر گامزن کر دیتی ہے۔ کھونے کا درد اور تکلیف چہرے کے فق رنگ کے ساتھ ساتھ کبھی کبھار چیخنے تک لے جاتی ہے۔بڑے بچوں کو غباروں کی آزادی پر  پہرے بٹھانے کے لئے تراکیب سمجھاتے ۔ کھڑکی ،کلائی  سے باندھ رکھو۔ اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو کھلے میدان میں پڑے کسی چھوٹے پتھر سے باندھ لو ہوا کے جھولے میں جھولتا رہے گا۔جوں جوں گیس بھرے غبارے سائز میں بڑے اور تعداد میں بڑھتے جائیں۔ایسے پتھر کا استعمال شروع ہو جاتا ہے جو زمین  سے اُٹھنے کی بجائے اپنی طرف کھینچنے کی طاقت زیادہ رکھتا ہے۔ دھاگہ بھی ایسا استعمال میں لایا جاتا ہے جو انہیں ایک دوسرے سے اس کھینچا تانی میں الگ ہونے سے بچاتا رہے۔زندگی بھی اسی اصول پر سدا کاربند رہتی ہے۔خیر اور شر کی قوتیں اسی فارمولہ پر کھینچا تانی میں مصروف عمل رہتی ہیں۔جسم ایک دھاگہ کی مانند ان کے درمیان رسہ کشی میں الگ ہونے سے بچانے کے لئے کوشاں رہتا ہے۔ روح جب آزادی کی طلب میں آسمانوں کی طرف پرواز کا قصد کرتی ہےتو دنیاوی خواہشات  ،محرومیوں،مجبوریوں اور ضرورتوں کے پتھروں سے جسم کو مضبوطی سے جکڑ لیتی ہیں۔ روح آزادی کی تڑپ میں بے بسی کی رسی سے لٹکی جھولتی رہتی ہے۔تاوقتکہ کوئی ان پتھروں سے انہیں آزادی نہ دلا دے ۔پتھروں کی پہچان  کے لئے سنگتراش ہونا ضروری نہیں۔ سائز دیکھ کر ہی وزن اور طاقت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ خواہشات اور ضرورتیں جتنی زیادہ ہوں گی زمین کی گرفت بھی اتنی زیادہ ہو گی۔ روح بیچاری اپنے زور پر آسمانوں کی طرف محو پرواز ہوتی ہے۔جس کی قوت بندشوں سے زیادہ آزادی کی تڑپ ہوتی ہے۔جس کے لئے شدت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جو اسے دنیاوی خواہشات کی فنا سے حاصل ہوتی ہے۔اگر اس فنا کو زندگی کا حاصل سمجھ لیا جائےتو روح کی بقا کے سفر کو روکا نہیں جا سکتا۔جسم بھوک اور ہوس کے دائرے میں رقصاں رہتا ہے۔یہ مکڑی کی طرح ایسا جال بنتا ہے کہ اس کی خوبصورتی کے فریب میں زندگی کا مقصد فنا ہو جاتا ہے۔ روح کے لمس کے سفر پر فاصلوں کا اندازہ وقت اور رفتار سے جانچ کر رکھنا ضروری ہے۔جنہیں علم کی تشنگی ہے وہ عالم سے رجوع کریں۔ بھوک رکھنے والے آگ سے ،ہوس و حرص کے پجاری حسن و جمال سے۔مگر جنہیں درِ کائنات تک پہنچنا ہوتا ہے وہ دستک سے آنے کی اطلاع دیتے ہیں۔وہاں تک پہنچنے میں خیر و شر کی عظیم کشمکش سے گزرنا پڑتا ہے۔جسم حیلے بہانےسے ضرورتوں مجبوریوں ان کہی کہانیوںمحرومیوں نا انصافیوں کےرونے دھونے سے لمس خیال کو عشق  حقیقی میں پرونے سے روکتا ہے۔جن کی آنکھیں کھلی ہیں ان کا صرف یہ جہاں کھلا ہے۔ جن کی بند آنکھ کھلی ہے ان کے لئے ایک الگ جہاں بھی کھلا ہے۔جن کا لفظ احاطہ نہیں کر سکتے۔جنہیں اس سفر پر چلنا ہوتا ہے وہ لفظ کی حرمت کو لمس سے محسوس کرتے ہیں۔جو آنکھوں سے آنسو بہا دے۔جسم چیخنے اور چنگھاڑنے کی تسکین طلب رکھتا ہو۔تو سمجھ لو کہ وقت کا پہیہ رک نہیں سکتا۔جسم خواہشات کے وزن سے زمین سے چپک جائے مگر روح کو آزادی کے لمس سے زیادہ دیر تک دور نہیں رکھا جا سکتا۔ تقریریں اور تحریریں کتابوں کا لمس رکھتی ہیں۔جن سےسوالات کا دھواں اُٹھتا ہے۔جوابات کا پانی کہیں  اور سے بادل بن اُڑتا ہے۔ خشک دھرتی کی بے چینی کو بس بادل سمجھتا ہے۔درِ دنیا کے سوالی تو بہت  مگر درِ کائنات کےنہیں جو درِ اثر سے گزریں۔ جس کے نشے کی لت کا شکار جو ایک بار ہو گیا تو احساسِ لمس کی پریاں بادِ صبا کے جھونکوں کی طرح سحر میں مبتلا کر دیں گی۔ مگریہاں تک کا سفر اتنا آسان نہیں۔کیونکہ یہ داستانِ عشق ہے۔اور یہ عشق ہر ایک کسی کے نصیب کا مقدر نہیں۔
پروانہ شمع سے جلے الزام تمازتِ آفتاب پہ ہوعشقِ وفا کہاںجوچاہتِ محبوب وصلِ بیتاب پہ ہو
زندگی کو تماشا نہ بناؤ تماشا خود زندگی ہو جائےدرد کا چیخِ مسکن خوشیِ القاب پہ ہو

تختِ عرش کو دوام رہتا جو ہوا میں ہےفرشِ محل نہیں پائیدار قائم جو بنیادِ آب پہ ہو

گل گلزار سے تو مہک بہار سے ہے وابستہاُگتا ہے صرف خار ہی بستا جو سراب پہ ہو

شاہِ زماں سے دل گرفتہ رہتے جو معظمِ ہمرازدلگیرئ فقیر میں سدا رنگ تابانئ مہتاب پہ ہو


قوتِ کشش


سائنسدانوں نے ایک ایسی مشین ایجاد کر لی ہے کہ جس سے قوت کشش کوجانچا جا سکتا ہے۔زمین اور چاند کے درمیان ،سورج اور زمین کے درمیان  استعمال ہونے والی قوت  کیسے کام کرتی ہے  ۔کہتے ہیں کہ چاند اور زمین کے درمیان کار فرما قوت زیادہ طاقتور ہے سورج اور زمین کے درمیان کی قوت سے۔ پہاڑ چاہے جتنے بھی بڑے کیوں نہ ہوں مگر ایٹم کازرہ کام بہت بڑے کرتا ہے۔فی الحال اتنا ہی کافی ہےہم جیسے انسانوں کو سمجھنے کے لئے گلیکسیوں کے درمیان یہ قوت کیا ہے ابھی  اس پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں۔جنہوں نے اس مشین کے بارے میں جاننا ہے وہ جان لیں کہ نیٹ پر تلاش کا کام شروع نہیں کریں۔ کیونکہ مضمون کے شروع میں میں لکھنابھول گیا کہ یہ ایک خواب کا حال بیان کر رہا ہوں۔چلیں جان چھوٹی خامخواہ ہی وقت برباد ہوتا تلاش پر۔ اب یہاں  مزید رہنا خطرے سے خالی نہیں ،آگے نا سمجھ آنے والی لفاظی کے نشتر چبھوئے تو تیر چلائے جائیں گے۔ جناب زرا دل تھام کر رکھیں فوجی تو ہیں  نہیں توپ چلانے سے رہے۔ تاریخ پڑھی ہے زوالوجی باٹنی یا میتھ کی گھمن گھیریاں سیدھے کرنے سے رہے۔ جو سیکھا ہے ، جو کام آتا ہے اسی پر اکتفا کریں گے۔اگر طوطا "طوطا چشم" نہ ہوتا تو قسمت کا حال بتاتے۔ کارڈ ریڈنگ میں یکتا ہوتے تو بچوں کو ولائت بھجواتے بزرگوں کو کعبہ۔ شاعر ہوتے تو کنگن گھماتے۔ عاشق ہوتے تو ہیر رانجھا سناتے۔طاقتور ہوتے تو غریبوں کا سانس سکھاتے۔ حکمران ہوتے تو زبان چلاتے۔صحافی ہوتے تو جادو دکھاتے۔منصف ہوتے تو مظلوم رلاتے۔ لیڈر ہوتے قوم دھرنا بٹھاتے۔ اب جب کہ کچھ بھی نہیں تو جو میری بیچارگی پر ترس کھا ئے ابھی تک ثابت قدم ڈٹے ہیں۔انہیں میرا سلامکیونکہ  یہاں تک پہنچ کر میدان میں کھڑے رہنے والے جان جائیں  گےکہ قوت کشش کیا ہے۔ ایک جھلک تو دیکھ چکے کمزور ہی سہی لفظوں کی کشش نے یہاں سے ہلنے نہیں دیا۔ حالانکہ یہاں ابھی تک کوئی منطقی سوچ نہیں۔جسے اوپر بیان کیا اگر خواب نہ کہتا تو سو میں نوے  عینکیں ناک پہ ٹکاتے۔ بچوں کو جھاڑیں پلاتے ماؤں کو بیش قیمت مصروفیت جتاتے۔ کف کے بٹن کھول کالر کا بٹن ہٹا گردن لڑھکاتے ،مجھے سو سو صلواتیں سناتے  کہ وقت برباد کیا۔اس سے تو اچھا تھا صاحب مضمون کا پورا مضمون پڑھ لیتے۔فائدہ نہیں ہٹ کاؤنٹر میں ایک عدد اضافہ سے اپنا قد بڑھاتے۔ چھوٹے بھائی بہنیں تو ادب میں منہ بڑبڑاتےگردن جھٹکاتے نکل کھڑے ہوئے  ڈرامہ دیکھنے کہ چینل ہی تھیٹر بنا ہوا ہے۔وہ پیسے بھی کماتے ہیں عزت بھی تھانوں افسروں کے سامنے کرسیاں بھی۔معصوم سیدھے بلاگرز جان توڑ محنت سے چند فقرے دیکھنے کو آنکھیں مہینوں گھماتےکہ شائد میرا کام کسی کو اچھا لگے۔ لیکن یہ نہیں جانتے کہ ایک مشہور مثال ہے مال ِ مفت دلِ بے رحمہماری تحریوں کا حال کسی گاؤں کے چودھری کی بیٹی پر بن بلائے گاؤں کے کمیوں کا کھانوں پر ٹوٹ پڑنے جیساہے۔نہ ہی کھانے والے کا پیٹ بھرا اور نہ ہی دیگ بنانے والے کی محنت کا صلہ۔اب تو پڑی کہ پڑیں لیکن جناب گستاخی کہاں کی۔صرف اپنا حال سنایا ہےکہ زمین پر پڑا ادھ کھایا رزق  اچھا نہیں لگا۔عقلمند ہوتے تو لکشمی چوک لاہور میں مرغی کی کلیجی اور پوٹے بیچنے والوں ہی سے کچھ سیکھ لیتے کہ مرغی کی قیمت کے برابرتو وہ بھی بچا ہی لیتے ہیں۔کان میں سرگوشی بھی اب سننے لگی ہے ۔ غصہ کرتا ہے کام کوئی آتا نہیں۔لکھنا کیسے آ سکتا ہے۔ حالانکہ تختی تو بہت لکھی ہے مگر جمیل نوری نستعلیق نے ہماری محنت پر پانی پھیر دیا۔کمپیوٹر پر لکھو پرنٹر سے نکالو  ۔ شاہکار تیار۔ل لمبی کرو  توچ چھوٹی ہو جاتی ہے ۔الف اونچا کرو ن نیچا رہ جاتا ہے۔ک کو کھینچو تو ت تنگ ہو جاتا ہے۔اب فیصلہ کریں کہ رضیہ کا غنڈوں میں پھنسنے جیسا حال ہےکہ نہیں۔پھر یہ طعنہ سننے کو ملے کتھوں پڑھے او۔تو جناب پھٹیاں تے بیٹھ پڑھیں اں۔صوفے تو سکولوں میں ہوتے نہیں۔کتابیں مفت چھاپیں بورڈ والے ملتی پھر بھی قیمتا ہیں۔بینچوں کے کیلوں سے ہماری تو ہماری بڑے بھائی کی نیکر اور چھوٹے بھائی کی پینٹ بھی چھدوا چکے۔ گالیاں وکھری کھا چکے۔ جوتے۔۔۔ او ہو ۔۔۔۔۔جوتے میرے ہی تھے۔کوئی آئیڈیا نہ نکالنا شروع کر دیں عزت والے ہیں سکول میں ڈنڈے اکثر کھائے ہیں مگر جوتے ۔۔۔۔۔ نہیں نہیں وہ تو آماں نے دودھ پینے آنے والی بلی کو رسید کیا تھا۔ہمارامنہ بلی کی طرف تھا ۔سو کمر کافی دن دکھتی رہی۔آپ بھی نہ بال کی کھال اُتارنا شروع ہو جاتے ہیں۔جوتے اُتاریں ۔ آج کپڑوں سمیت ہی ٹوٹی یعنی نلکے کے نیچے سر دے کر "جیسے کسی زمانہ میں نائی بچوں کا سر گھٹنوں میں دے  کرٹنڈ کیا کرتے تھے" ٹھنڈے پانی سے غسل شکر کریں کہ بتی نہ سہی پانی پہاڑوں کی بجائے گھر کے صحن ہی میں 90 فٹ نیچے اُبلنے کو بے چین ہے۔ورنہ یہ بھی آئی ایم ایف کے سر پر مٹکے رکھ کر لایا جاتا۔ پھر اتنی شدید گرمی میں خاک اُٹھا اُٹھا سر پر ڈالتے۔ بین الاقوامی پروازوں کے پائلٹ شہروں کے اُوپر سے گزرتے ہوئے آپس میں سر گوشیاں کرتے کہ ہڑپہ اور موہنجوڈھارو کی ہزاروں سال پرانی بستیوں کے ساتھ انسان بھی دریافت ہوئے ہیں یہاں۔ کمال ہے۔ مشرف نے کسی لیکچر میں ذکر نہیں کیا۔زرداری اکثر آتا ہے مگر زیادہ وقت ہنسنے میں رہتا ہے ۔نواز شریف  گنے کا رس نچوڑنے والی مشینوں میں دلچسپی زیادہ رکھتا ہے۔ خان صاحب پہاڑوں میں چھوٹے جہاز تاکتے رہتے ہیں۔ اسی لئے ہم تو بہت اونچا اُڑاتے ہیں۔بیچارہ کیپٹن ! بھولے بادشاہ یہ بھی نہیں جانتا میں نے ایک کہانی اپنے آبا سے سنی ،آبا نے دادا سے ، داد نے آبا کے دادا سے، اور انہوں نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا اچھا سمجھ   گیاکہنا چاہ رہے ہیں"کم ٹو دی پوائنٹ" ایک چرواہا پہاڑ پر بکریاں چرانے جاتا۔ ایک روز اسے  شرارت کا خیال آیا۔اس نے شور مچایا! شیر آ گیا! شیر آگیا!گاؤں والے پاؤں سر پر رکھ کر جو جہاں وہاں سے بھاگا ڈنڈے سوٹے کلہاڑیاں لے کر۔گاؤں والے جب وہاں پہنچے تو وہ چرواہا آرام سے زمین پر بیٹھا  نیرو کی طرح بانسری بجا رہا تھا۔گاؤں والوں کے استفسار پر خوش ہو کر بولا ۔مذاق کیا تھا۔گاؤں والے بڑ بڑ اتے پہاڑ اُتر آئے۔دوسری بار شیر اچانک سے پہاڑ پر نمودار ہوا ۔چرواہا چیخا چلایا  !شیر آ گیا!شیر آگیا!گاؤں والے خوشگپیاں کرتے رہے۔ چرواہا شام کو بکریوں کے خون سے بھرے کپڑوں میں لپٹا گاؤں پہنچا ۔ایک جھوٹ کی سزا پا کر۔یہ نہیں بتاؤں گا میرےاورمیرے آبا کے سر سےکتنے انقلاب  کے نعرے گزرے۔اب جتنا چاہو مدد کو پکارو چرواہے کی طرح!کان پک چکے ہیں۔گرمی بڑھ چکی ۔کم از کم آم کے پکنے میں کوئی شک نہیں ۔

تحریر ! محمودالحق

غلافِ عشق


 عشق و محبت کا موضوع  توبہت پرانا ہے۔معاشرہ ہمیشہ اسے خلافِ عشق گردانتا رہا۔حالانکہ عاشق و محبوب اس سے خ خوشی محسوس کرتے تھے۔ مگر حالات  نے انہیں  غ غم میں مبتلا کیا۔ اسی لئے تو خ لاف کو غ لاف سے مربوط کر دیا۔یہاں خ غ کا قائدہ قانون بتانا مقصود نہیں ہے۔ جن کی حفاظت کی جانی ہوتی ہے انہیں محفوظ کیا جاتا ہے۔  جو خوشبو پھیلاتے ہیں وہ کچھ چھپاتے نہیں ہیں۔ قوس و قزح کے رنگوں کی طرح کھلے نظر آتے ہیں۔ اپنی ذات کو وقت آنے پر فنا کر دیتے ہیں۔ نئے آنے والوں کو سپیس دیتے ہیں۔ مگر جو ان کی محبت کو نچوڑ لیتے ہیں۔وہ انہیں غلافوں میں بھر بھر رکھتے ہیں۔ ایسی چاشنی ، لذت اور مٹھاس روئے زمین پر اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ صحت بخش ، توانائی  بھی ہوتی ہے بیماریوں سے نجات کا  ذریعہ بھی۔ انگریز انہیں ہنی اور ہم شہد کہتے ہیں۔ ہنی کا لفظ اس لئے استعمال کیا  کیونکہ اس کی افادیت شہد بتانے سے قدرے زیادہ ہے۔حکیم ان سے علاج بھی تجویز کرتے ہیں۔جب اس کا استعمال بڑھا تو یار لوگ ملاوٹ کرنے وہاں بھی پہنچ گئے ۔ شکر کے شربت اور لکڑی کے گھروندوں میں غلافِ عشق بنا ڈالے۔جن کی نہ ہی تاثیر ہے نہ ذائقہ۔فائدہ تو کیا ہونا تھا چاہنے  والوں کا اعتماد ہی اُٹھ گیا۔شکر سے کچھ زیادہ مٹھاس کے علاوہ افادیت ہی کھو بیٹھا۔جب عشق و محبت میں سچائی کی خوشبو ڈھونڈنے والے مصنوعی تاک دان میں عشق کو غلاف میں لپٹا پائیں گےتو ان میں جستجو چاہت قربانی کے  جزبات اہمیت و قدر کے ساتھ ساتھ پاکیزگی اور شفافیت بھی  کھو دیں گے۔  عشق قربانی مانگتا ہے یہاں تک کہ جان بھی عزیز نہ رہے۔اگر عاشق محبوب کی قربت کے خیال سے نفاست نصف ایمان سے بھی بڑے درجہ پر لے جائے تو اسے عشق کو غلاف میں لپیٹ کر رکھنا ہو گا۔موسمی اثرات ہوائے گرد آلود سے بچانے کے لئے نہیں بلکہ عشق حقیقی کو  مجازی بننے سے ۔ جن کی منزل ایک ہوتی ہے وہ مسافر قربت کی پگڈنڈیوں سے دوسروں کو آگے بڑھنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ تحریر ابھی تک واضح خدو خال کے ساتھ دل اور دلدار کے بغیر  غلافِ عشق کے زمرے   میں نہیں  آ ئی۔عاشق ذہن پر دباؤ کا شکار ہوں گے اور محبوب قلب کی تیز دھڑکن کا۔  مقدس کتاب کی طرح یہ غلاف بھی مقدس عشق کا ہے۔  ایک سچےواقعہ سے غلافِ عشق کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔3 فروری 2012 بروز جمعۃالمبارک اوکلوہاما کے شہر تلسہ میں ایک بڑی جامع مسجد کی دوسری صف میں کھڑا ایک نمازی جس کے بائیں جانب 60 اور دائیں جانب 45 نمازی نیت باندھے کھڑے تھے۔  مسجد داخل ہونے سے پہلے وہ سگریٹ کے پیکٹ میں  آخری سگریٹ کو  دھوئیں میں ڈھال کر وضو کرتےہوئے  نئے سگریٹ کے پیکٹ کے نہ ہونے کےافسوس میں مبتلا تھا۔ کیونکہ  بینسن اینڈ ہیجز  برانڈ ہر جگہ سے نہیں ملتا   تھا۔ اسی چاہت شوق میں جو وہ پچیس سال سے پالے ہوئے تھا مسجد میں نمازیوں کے ساتھ نیت باندھے کھڑا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب وہ ہمیشہ کی طرح عشق کو غلاف سے نکال لیتا اور امام کے پیچھے اپنی ناقص عقل سے الحمداللہ رب العالمین کو جزب کرنے کی کوشش کرتا۔  لیکن اس دن عشق نے نماز تک پہنچنے والے خیال کو آڑے ہاتھوں لیا۔  ہاسپٹل دفتر تو ایک طرف بسوں اور پارکوں میں جس کے سلگانے کی اجازت نہیں ہے  ۔ چند کلیوں کے بعد رب العالمین کا نام لینے  سے کوئی ملال نہیں جس کی بد بو ابھی تک سانس میں رواں تھی۔ اس خیال کے آتے ہی قلب کے نہاں خانوں میں ایک ہلچل مچ گئی۔ جسم کے روئیں روئیں سے  لہو غلافِ عشق اُتار کر پچیس سال سے دماغ میں بسی چاہت  دھواں کو ایک ایک خلیے سے نکال باہر لائے ۔ اور پورے وجود کو ایسے نہلا دیا جیسے بارش کے بعد چاندنی رات میں زمین کو روشنی سے نہلا دیتی ہے۔جسے نماز سے پہلے وہ فراموش نہیں کر پا رہا تھا۔ اب وہ اسے یاد نہیں کر پا رہا تھا۔ جسے ہاتھ سے  چھونا اور ہونٹوں سے لگانا ایک نشہ میں مبتلا کر دیتا تھا ۔ آج وہ چاہت بے ثباتی اسے ایسے چھوڑ گئی جیسے کسی زندہ وجود سے روح نکل کر واپسی اختیار نہیں کرتی۔عشق میں سچائی ہو دیانت ہو ایمانداری ہو محبوب کی عزت و تکریم  کا خیال ہو۔تو عشق لہو بن کر رگوں میں دوڑتا ہے۔رگوں میں دوڑنے پھرنے کے ہم نہیں قائلجو آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو وہ لہو کیا ہے
تحریر : محمودالحق



حسنِ خیال


تخلیق کائنات کا حسن اُس کی کھوج جستجو اور نا مکمل تحقیق کے باوجود پوری دلکشی اور رعنائیوں کے ساتھ موجزن ہے۔جدید سائنس نیوٹن سے لے کر آئین سٹائن تک تحقیق و مفروضوں کی بنیاد پر اصل حقیقت جاننے سے ابھی اتنے ہی دور ہیں جتنے ایک نظام شمسی دوسری گلیکسی کے نظام شمسی سے فاصلے پر ہے۔ ان دیکھی مخفی طاقتیں نہایت وزنی مادہ وجود کو مخصوص دائرے میں محو گردش رکھتی ہیں۔جانداروں کے افزائش کے مراحل نہایت رازداری سے چھپ کر طے پاتے ہیں۔ جیسے ایک ننھا بیج زیر زمین ایک مخصوص فاصلے پر رہ کر ہی پروان چڑھتا ہے۔جہاں سے اسے حدت و ہوا ، روشنی و پانی موصول ہوتی ہے۔غرض یہ کہ شاخیں ہوں یا اعضائ جڑ کی بدولت ہی حرکت میں رہتے ہیں۔الگ ہوتے ہی سوکھ کر کانٹا ہو جاتے ہیں اور آخر کار اپنا وجود کھو دیتے ہیں۔
انسان تخلیق کائنات کا سب سے خوبصورت جزو ہے۔وگرنہ اتنے بڑے نظام کائنات کے ہوتے ہوئے ایک خودسر اور متکبر تخلیق کی کیا حیثیت۔ بچپن سے بلوغت تک پہنچنے کی ایک مقررہ مدت ہے۔ اس سے پہلے افزائش نسل انسانی بھی ممکن نہیں۔
اندھیرا بے سبب ہوتا ہے، روشنی کا منبع ہوتا ہے۔ کہیں نہ کہیں ایک روشن آلاؤ دہک رہا ہوتا ہے۔ جو فاصلوں کو مقید رکھتا ہے۔اندھیرے قریب آنے والے ہر وجود کو فنا کر دیتے ہیں۔جیسا بلیک ہول کے قریب جانے والے صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں۔
اللہ تبارک تعالی کے فرمان حدود و قیود میں رہتے ہوئے حقوق و فرائض کی گردش رفتار کا اہتمام کرتے ہیں۔ایک زرہ سے لے کر ایک جہان تک پابندی اوقات و رفتار کی حدود وقیود میں رہتے ہیں۔مگر انسان اپنی سرشت میں ستاروں پہ کمند ڈالنے کا متمنی رہتا ہے۔لہذا پیغمبروں کے علاوہ مقدس کتابیں بھی رہنمائی کے لئے اُتاری جاتی رہیں۔قرآن کی صورت میں ان سب کو یکجا و مکمل کر دیا گیا۔پھر اس کے بعد کسی نبی خدا کی بھی ضرورت باقی نہیں رہی۔کائنات کو جاننے کا عمل دنیا کے قائم رہنے تک جاری رہے گا۔مگر خالق کائنات کی تلاش اور جاننے کی صورت نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دنیا میں رحمت بن کر آنے سے ختم ہو گئی۔ اب صرف خالق کائنات کو اپنا ماننا اور خود کو اس کے حوالے کر دینا باقی ہے۔ تاکہ اس کی رحمتوں کا ایک جہان گردش ثمرات سے ہمیں منور کر دے۔ جاندار اور بے جان نظام حیات و نظام کائنات کی طرح نظام رحمت سے بنی نوع انسان اپنے نظام وجود کی تکمیل کر پائے۔
دنیاوی خواہشات سے لبریز نفس انسانی وجود میں بلیک ہول کی طرح کام کرتا ہے۔ ہدایت روشنی کی حدود وقیود سے آزادی پانے والے نیک خیال نفس کے اس بلیک ہول میں فنا ہوتے جاتے ہیں۔اپنے وجود کے اندر اس بلیک ہول کو پہچاننا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ اور ہدایت کی روشنی ہی اس کا مقدر ہونا چاہیئے۔اپنے اپنے دائرے میں حرکت کرتے ہوئے دوسروں کی حدود کا خیال رکھتے ہوئے دن رات اور گرم سرد کا وقت معین پر انتظار کرنا ، خواہشوں آرزؤں کی عارضی قبولیت سے اندھیروں میں غرق ہونے سے بہتر ہے کہ ہدایت کی روشنی کے گرد اپنے سفر کو جاری رکھا جائے۔جو ایک وقت کے بعد اپنے اختتام کو پہنچے گی ، نہ کہ وقت سے پہلے اپنے انجام کو۔
خالق کائنات رب زوالجلال کو ایسے یاد کیا جائے کہ اس کے احکامات کی پاسداری اور تکمیل جزئیات کے ساتھ مکمل بندگی میں پرو دی جائے۔تو ایسی کئی رحمتیں رضا بن کر ہر مشکل گھڑی میں مدد کو پہنچ جاتی ہیں۔زندگی  ایک تہائی عمر حکم کی بجاآوری کے بعد اس راستے پر گامزن ہو جائے۔جہاں نفس کے بلیک ہول میں غرق ہونے کی بجائے ہدایت کی روشنی روح کو منور کر دے۔ تو سمجھنا کافی ہے کہ اصل راستہ کی پہچان اور آگاہی منزل مقصود کی قربتوں کی ہمراہی ہے۔تحریر ! محمودالحق

سپرد رضا


انتہائی بھوکے پرندے جب کسی دالان ، کھیت کھلیان میں بھوک مٹانے اترتے ہیں تو اپنی جانوں کو ہتھیلی پر نہیں رکھتے بلکہ اپنے کان اور آنکھیں خطرہ بھانپنے کے لئے کھلے رکھتے ہیں۔ہڑبونگ ادھم مچاتے بچے بھی انہیں موت کے فرشتے نظر آتے ہیں۔ جہاں انہیں کھانا کھانے سے زیادہ جان بچانے کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔دوسری طرف بعض جاندار بھوک مٹانے کے لئے آخری کھانا سمجھ کر مرنے مٹنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ حالانکہ پیدا کرنے والا ہی زندہ رہنے کی گارنٹی دیتا ہے۔پھر بھی جب کھلا نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہو جیسا فلمی ڈائیلاگ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی صورت سننے میں آ جاتا ہے۔ شادی بیاہ پر طوفان بد تمیزی برپا کرتے مہمان اتنے اہم نہیں ہو سکتے کہ زور قلم کو حرف نظر کر دیا جائے۔ اس لئے واپس موضوع کی طرف چلتے ہیں۔
پانی کے آٹھ گلاس پینا صحت بخش ہے۔ چائے مضر صحت ہے۔ چاکلیٹ ،سوڈا بچوں سے دور رکھنا اچھا ہے۔انڈے دودھ چاول روٹی کے ساتھ تازہ پھل کا استعمال صحت کی تر و تازگی کا سبب ہیں۔ شوگر کے مریض چینی کا استعمال کم کریں۔ ہائی بلڈ پریشر والے نمک سے پرہیز برتیں۔صبح یوگا تو شام کو سیر کریں۔رات بستر میں جلد گھسیں صبح جلد نکلیں۔بھاگم بھاگ دکان دفتر پہنچیں تھک ہار واپس پلٹیں۔ایک مکمل اور پابند زندگی جہاں شب و روز کوئی نیا تماشا نہیں جہاں بیماری میں پرہیز تو تندرستی میں گریز برتا جاتا ہے۔
اس اُمید پر سوتے ہیں کہ جاگنا ہمارا مقدر ہے۔ اس اُمید پر گھر سے نکلتے ہیں کہ واپس  لوٹنا  ہمارا مقدر ہے۔کوشش نامکمل ہی کیوں نہ ہو نتیجہ سو فیصد چاہتے ہیں۔
اگر سورج  نظام کائنات سے نکلنا چاہے تو نکلنے کی اجازت نہیں۔ بادل بے آب و گیاہ ریگزاروں تک پہنچنے کے پابند ہیں۔ کہیں ہوا کا کم دباؤ ارد گرد ہواؤں کو آندھی کی صورت وہاں پہنچنے پر مجبور کرتا ہے۔اللہ تبارک تعالی کی رحمتیں مایوسی کی بنجر زمین پر موسلا دھار برستی ہیں۔ جو نم رہتے ہیں وہ پروان چڑھتے ہیں۔جو روٹھے رہتے ہیں وہ سوکھے رہتے ہیں۔
کسی نے کچھ نہ کیا اسے بہت کچھ مل گیا  اور کسی نے بہت کچھ کیا مگر اسے بہت کم ملا۔ موت کفن قبر  بر حق مانتے ہیں۔ رزق عزت مقام پر حق جتاتے ہیں۔ حق کو جانتے ہیں مگر مانتے نہیں۔خالق سے محبت کے دعویدار ہیں مگر صرف جھکنے کی حد تک۔سچ تو یہ کہ حق ادا نہ ہوا۔ رحمان رحمت کے زینے سے سینے میں دسترس رکھتا ہے۔ غرور و تکبر زمین سے پاؤں کی دھول مثل اُڑتا ہے۔ کیسے کہیں ہم تجھ سے  راضی ہیں تو ہم سے راضی ہو جا۔ راضی بالرضا سے ہو گا۔
خالق سے محبت کا تقاضا ہے کہ سپرد رضا کر دیا جائے اس سے پہلے کہ سپرد خاک کر دیا جائے۔  تحریر ! محمودالحق

یا خدا یا خدا سن لے تو میری صدا

 
یا خدا یا خدا سن لے تو میری صدا
خوشی گر کم نہیں غم رہتا نہیں سدا 
موت پہ جن کے منڈلاتے سایہ رزقِ کفن کے
نفس ِ آدمیت سے کٹتے روحِ ایمان سے جدا 
زمین سے چھپاتے عرش آسماں سے ٹکراتے
جھکتے نہیں جو اُٹھائے جاتے وہ نورالہدیٰ 
خط تو آ چکا اطلاع کی رات ہے باقی
راستہ خود ہوتا روشن شب نہیں جن کی خوابیدہ 
تامل ہے بے نام  اوسان پھر کیوں ہیں خطا
بھروسہ پہ جو رکھ دیتے اپنا سر سجدہ، خدا 
کاغذی پیراہن سود و زیاں ہاتھوں ہاتھ میں
آب ریشم ہیں اوڑھ لیتے جو اپنی باطن ردا 
کالی رات ہے قلم سیاہی ورق سیاہ پر
شہہ رگ سے جدا خود پہ پھر کیوں فدا 
محمودالحق 
۔۔۔٭۔۔۔ 

ہاف فرائی فل بوائل


صبح سب سے پہلے بیٹی نے آ کر ہیپی برتھ ڈے ابو جی کہا تو آنکھیں  چمک اُٹھیں پھر باری باری بیٹوں نے بھی یہی کلمات دھرائے تو شکریہ کہہ کر محبت کا احسان چکا دینے کی ادنی کوشش کی ۔ جیسے کسی افسر کو ترقی کے ساتھ ساتھ علاقہ غیر میں تعیناتی کے احکامات بھی ساتھ موصول ہوئے ہوں۔اب ظاہر ہے پچیس تیس کی سالگرہ پر ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوتی۔ عمر جان کر کیا کریں گے۔ اگر درخت سے آم توڑ کر کھانے کی نہیں ہے تو آم کھا کر گھٹلیاں گننے کی بھی نہیں۔ اس کا مطلب تو یہی لیا جائے گا ۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ اکبر اعظم کے دور اقتدار سے زیادہ نہیں تو سلطان سلیمان کے عہد حکومت سے کسی طور کم بھی نہیں۔ کچن مصالحہ کی ناک کے نتھنوں سے کھوپڑی کے نیچے تک تیز خوشبو کو چھینکنے سے آرام کا طالب تھا۔ ہوائے راہدار نے مشکل کو کافی حد تک سنبھالے رکھا۔جی ایگزاسٹ کو یہ کریڈٹ دینے کی پابندی سے مستثنی نہیں ہوں۔ یہ سب سالگرہ کی خوشی میں ہانڈی میں بھگایا چولہے پر چڑہایا اگ پہ تپایا نہیں جا رہا تھا بلکہ بچوں کے تایا کی برسی کے اہتمام میں بنایا جا رہا تھا۔ یہ سب ایسے ہی ان کے ابو جی کے بچپن سے ہی چلا آرہا تھا۔ میں نے کیا پڑھا اتنا پڑھنے کے بعد بھی نہ پڑھائی کا پتہ چلے نہ ہی ڈگری کا۔ تو پھر پڑھنے کا کیا فائدہ۔ شکر ہے یہ وہ زمانہ نہیں جب دشمن شہر کی فصیلوں تک آ پہنچا تھا اور اہل دانش کوا کو حلال و حرام قرار دینے کے لئے پورا زور لگا رہے تھے۔ آج ایسی صورتحال نہیں روزی روٹی کے لئے کی جانے والی کوششیں  بھی حلال حرام سے مستثنی ہیں۔ کیوں نہ ہوں دس سے بیس کرنے والے اور ایک انگوٹھی سونے کی دو بنانے والے شہروں بستیوں میں کرامات سے نسل انسان کو بیوقوف سمجھنے پر حق بجانب ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ کیمیا گری کے کئی نسخہ ہائے جات کو آشکار کرنے کا ارادہ تھا مگر سوچ پر پہرے بٹھا دئیے کہ اگر یہ بتا دیا کہ زندگی ایک ہفتہ میں فقیری سے امیری میں کیسے بدل سکتی ہے تو ایک سے دو بنانے والے بنا محنت کے منزل پانےکی جستجو  کرنے والے اور تقدیر سے زیادہ طاقت سے حاصل کرنے کی خواہش کرنے والے تمنا کے روشن آلاؤ کے گرد حصار بنانے سے دریغ نہیں کریں گے۔
ڈاکٹری انجئیرنگ کی تعلیم حاصل کرنے سے قاصر رہے۔ لکھنے پڑھنے کا شوق پیدا نہ ہونے سے پڑھے لکھوں میں شمار بھی نہ ہوے۔ جسے جاننے کا جنون رہا اسے جاننے ہی کی کوشش میں رہے۔ جاننا اتنا کافی بھی نہیں مگر تھوڑا بہت جان ہی گئے۔ وقت سے پہلے وقت کا ادراک۔
گھر میں سب ہی چیونٹیوں کی مٹر گشت سے نالاں نظر آتے ہیں۔ بیچاریاں انتہائی خاموشی سے کونے کھدروں سے روزی روٹی کی تلاش میں سرگرداں نظر آتی ہیں۔پھر بھی ان کے قتل عام کا حکم صادر کرنےکا اعلان ہوتا رہتا ہے۔ سینکروں کی تعداد میں دھواں اُڑاتی ہارن بجاتی شہر شہر گاؤں گاؤں دھول چٹاتی موٹر کاریں گھروں میں نہلا دھلا کر سجائی جاتی ہیں۔ گدھا / بیل گاڑی سے بہت تیز رفتار ہونے کی وجہ سے سینکڑوں منٹ روزانہ ہزاروں منٹ مہینہ اور لاکھوں منٹ سالانہ بچاتی ہیں۔ لیکن پھر بھی ابن بطوطہ ارسطو افلاطون بنانے سے بھی نہیں بنتے۔ تراشے ہوئے لکڑی کے قلم کی تحاریر کمپیوٹر کمپوزنگ سے کئی گنا سست رفتاری کا شکار تھیں مگر شاہکار بھی تھیں۔ آج جتنے پلاسٹک کے بال پین ہیں کتابیں تعداد میں کسی طور ان سے کم نہیں۔ ایک اخبار روزانہ کی بنیاد پر جمع ہوتے ہوتے کئی سال بعد کئی من ردی کی صورت صرف بکتا ہے۔ جو کسی طور علمی کتاب گھر نہیں کہلا سکتیں۔
علم ایسی کونپل ہے جو  پیوند کاری سے نو خیز پودوں میں اپنی صورت پروان چڑھتا ہے۔ تعلیم دی جاتی ہے علم حاصل کیا جاتا ہے۔ علم چرایا نہیں جاتا تو بیچا بھی نہیں جا سکتا۔جو بیچی جاتی ہے وہ تعلیم ہے۔مول تول کرنے والا سودا گر ہوا کرتا ہے۔جو علم صرف پڑھنے سے مل جائے اسے سمجھنے کے لئے صرف پڑھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تحریر ! محمودالحق

Pages