محمود الحق

چراغِ شب بجھا دو

ایمان کا تقاضا کیا ہے ؟ رضا کا مقام کیا ہے؟ ثواب کی جزا کیا ہے؟ گناہ کی سزا کیا ہے؟ صبر کی انتہا کیا ہے؟ مشکل کی انتہا کیا ہے؟ پریشانی کا حل کیا ہے؟ جستجو کا انجام کیا ہے؟ مدد کی طلب کیا ہے؟ اور حاصل کا وجود کیا ہے؟
ان میں سے کچھ لازم ہیں باقی ملزوم ہیں ۔لیکن شائبہ کی گنجائش نہیں۔شک کا احتمال نہیں۔شکوہ کی اجازت نہیں۔خواہشیں آرزؤئیں لاکھ انگڑائیاں لے لے بستر مرگ پہ سلوٹوں سے تابندگی کی نوید اُمنگ جگاتی رہیں۔مگر زندگی کی ناؤ  تا دم ازل و آخر حیات و ممات کے سمندر میں موجزن ململی لہروں پر رقصاں رہتی ہے۔
نا اُمیدی اتھاہ گہرائیوں کے اندھیرے سناٹے میں چیخنے چلانے کے بے ہنگم ہنگامے پر شادمانی  میں جھومتی رقصاں رہتی ہے۔ یہیں سے دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب ضروری ہو جاتا ہے۔ ڈوب جاؤ یا پار لگ جاؤ۔ اُڑتے رہو یا گر جاؤ۔توکل اختیار کرو یا تحمل برد باری چھوڑ دو۔ رضا کو پا لو یا خواہشیں چھوڑ دو۔روشنی کے لئے چراغ میں تیل ڈالتے رہو یا کرنیں بکھیرتی صبح کے انتظار میں چراغ شب بجھا دو۔ مایوسی کا خوفناک عفریت ایسا سراب چاہت بناتا ہے کہ چشم َ عقل اندھے کی لاٹھی کی مثل ٹھک ٹھک راستہ تلاش کرتی ہے۔ منزل جتنی دور ہو گی راستے اتنے آسان ہوں گے۔ منزل جتنی قریب ہو گی راستہ اتنا ہی مشکل۔
شاہی تخت یا تختہ کی ترکیب پر ہوتی ہے۔زندگی میں اور تو کی ترکیب پر۔ اسے یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ ایک ہاتھ دو ایک ہاتھ لو سراسر پورے تول کی غمازی کرتی ہے۔ جتنا دیا اس سے کم پر سمجھوتہ نہیں کرنا۔ زندگی پانی ہے تو موت دے دو۔ بھوک مٹانی ہے تو دوسرے سے چھین لو۔طاقتور بننا ہے تو  مد مقابل کو کمزور بنا دو۔
 ناخنوں کی تراش کے دوران ایک ہلکی لائن کے پیچھے زندگی اور اگے موت پاتا ہوں۔ بند آنکھیں دیکھنے سے قاصر ہوتی ہیں کان سوتے میں سننے سے ۔سانس اور دھڑکن  کی حد خاموشی کے اس پار ہے۔ اس کے لئے ایک وقت کا انتظار ہے۔ ایک کمزور بال کھینچنے کی معمولی تکلیف پر پورا وجود یکسوئی سے اس مقام کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔زبان بہت گرم اور نہایت ٹھنڈے کے درمیان ہی عافیت سے رہتی ہے۔بدن جاڑے میں لحاف اور  گرمی میں ہوا سے تسکین پاتا ہے۔خوشبو آنکھوں میں نشہ بھر دیتی ہے ۔ بد بو پورے وجود کو کچوکے لگاتا ہے۔
پھر یہ نفس ہی ایمان کا امتحان کیوں ہے۔دراصل دنیا امتحان گاہ ہے جس میں پرچہ ایمان کا ہے حل نفس کو کرنا ہے۔ سوالات کے آؤٹ آف سلیبس جوابات سے صفر ہی حاصل ہو گا۔ ڈگری تو ڈگری ہوتی ہو گی اصل کیا جعلی کیا۔ مگر نقل محنت سے جیت نہیں سکتی۔پاس کا رتبہ اور ہے فیل کا مقام اور۔ نہ تو دنیا گیلری ہے اور نہ ہی دنیا دار آرٹ کے نمونے۔ جیسے کہ میٹروپولیٹن میوزیم نیو یارک میں رکھے یونانیوں کے عہد قدیم کے ننگ دھڑنگ دیو قامت مجسمے۔
جیتے جاگتے انسان جو ناخنوں سے مردہ حصے باقائدگی سے الگ کرتے ہیں۔ روح کی زندگی یعنی ایمان  کی تراش سے کسی بھی تکلیف کے احساس سے محروم کیسے رہتے ہیں۔لالچ وغرض کے کفن میں لپیٹ کر زندہ درگور کر دیتے ہیں خواہشوں آرزؤں کی مالاؤں  سے یاد کے دئیے روشن رکھتے ہیں۔یہ ایسا قبرستان ہے جہاں ایک کے بعد ایک زندہ حصے دفن کرنے چلا آتا ہے۔مردہ حصے چمکتے دمکتے گھروندوں میں سجانے میں مشغول ہے۔ تحریر ! محمودالحق

وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

دل کی بات یوں زبان پر چلی آئے گی سوچا نہ تھا۔ آج نئی بات کہوں تو زمانہ پرانی روش پر چل نکلے۔
 نہ تھا کچھ تو خدا تھا  کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈ بویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتاحالت پرواز میں نفس نگری کی رفتار ایک بار بلندیوں کو چھونا چاہتی ہے۔ مگر دھیرے دھیرے ہولے ہولے جھولتے جھولتے اٹکتی اٹکتی بے بسی سے خاک چاٹنے تک جا پہنچتی ہے۔ سر تکیے سے اوپر رہے تو نیند میں مددگار ہے۔خیال سر تک نہ پہنچے تو زندگی پر نہیں کوئی بار ہے۔ جھٹک جھٹک ایک لمحے کے توقف سے پھر سر چڑھ دوڑتا ہے۔ اُٹھا اُٹھا پٹخنےسے بھی زندہ جاوید رہتا ہے۔ کم از کم دیار غیر میں یار کا تو یہی حال ہے۔ یار وہی جس کے ہم خیال ہیں۔کبھی بھاری تو کبھی طاری ہے۔کبھی خوشی میں  آنسو ٹپکا دیتا ہے تو کبھی درد میں مسکرا دیتا ہے۔ یہی تو ہےجو ماہر تیراک دبو دیتا ہے۔ اناڑی کنارے پہنچا دیتا ہے۔قدم جس کے بتائے راستے پر چلتے ہیں ۔آنکھیں ہزاروں مناظر میں سے ایک منظر تلاش کرتی ہیں۔ جو قلب کو سکون ،عقل سرور میں مبتلا کر دے۔ مگر یہ آنکھیں بھی ظلم ڈھاتی ہیں پلکیں جھپک جھپک پسند کو پردے کے پیچھے اور جو نا پسند ہوں باہر گراتی جاتی ہیں۔ جنھیں دماغ یاداشت سے اور قلب احساس سے مٹاتے جاتے ہیں۔ نہ جانے کیوں ایسے محسوس ہوتا ہے کہ تصور خیال بن جانے والے اور نظروں سے گرائے جانے والے بیٹوں اور بیٹیوں جیسی پیدائش اظہار کی مماثلت رکھتے ہیں۔خیال تو خیال ہوتا ہے جہاں سے چنا جاتا ہےوہاں ڈھیروں اپنی اپنی باری کے انتظار میں پلکوں میں سمونے کو بیتاب رہتے ہیں۔ ہیروں کی تلاش میں آنے والے جوہریوں کی نظر التفات سے ہار میں پرو دیئے جاتے ہیں۔
جن کے محبوب اچانک خیال سے حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔ وہ آنکھیں جھپکانا اور گردن جھکانا بھول جاتے ہیں۔  منزل تک پہنچنے کے مراحل طے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ راستہ ہموار نہ ہو تو  ارادہ ترک کر دیتے ہیں۔مگر جن کی منزل حقیقت کا روپ پہلے سے اختیار کر لے ، ان کے غیر ہموار راستے بھی ارادوں کو متزلزل نہیں کر پاتے۔
مگر یہ منظر کشی نظر اختتام کے بس سے باہر ہے۔نظر ابتدائ ہی سے یہ کینوس پر روشنی ڈال کر ایک شاہکار ابھار دیتی ہے۔ روشنی اپنے ہر رنگ سمیت اپنا انگ انگ منتقل کر دیتی ہے۔ پھر چاہے پلکیں نظر پر پردے گرا دیں ۔ایک دنیا اس کے پیچھے بسیرا کر لیتی ہے۔ ہونے کا علم کرنے کے حکم سے بھاری پڑ جاتا ہے۔ راز و نیاز میں میں نہیں ہوتا ۔ بس تو ہی تو سے ہوتا ہے۔ پلک اُٹھنے سے تو ہے تو پلک گرنے سے صرف میں ہے۔ مقام ایسا جہاں نہ عقل ہے نہ شعور ۔ جو رات سفر میں ہے وہ بستر میں نہیں۔
جو رزق دیار میں ہے وہ وطن میں نہیں۔ مصالحت کوشش سے ہے ،مصلحت رضا  سے ہے۔الفاظ چناؤ  کے محتاج ہیں، مفہوم چنے جانے کا۔ پانی کا بہاؤ اخراج سے طے کر لیتا ہے کہاں اور کیسے راستے بنانے ہیں۔چاہے بند کتنے ہی کیوں نہ بنا لئے جائیں مگر بہاؤ کے راستے پلوں کے محتاج رہتے ہیں۔
آج کی بات اگر آسان نہیں تو اتنی پریشان بھی نہیں۔ پڑھنا اگر کہیں بھی مشکل ہو تو پلکیں گرا کر سننے میں آسان  بیان رہتا ہے۔ کیونکہ نظریں زیر زبر کے زیر بار رہتی ہیں۔سننا پابندی سے مستثنی ہوتا ہے۔ تحریر !  محمودالحق

سرُ پھوکاں عشق دیاں زلفِ ہیر وی مستی اے

آکھ وچ ککھ اے رہندے نال فقیراں دےبھل بھلیاں رہ جانیاں  آندے حکم نزیراں دے
لوکاں ہمیشہ ڈھاڈے سن پائے جندڑی ہاسے سنشاہواں دیاں پوشاکاں ہتھ انہاں دے کاسے سن
پانی دا رنگ نیلا آسماناں رنگ وی نیلا اےراتاں پانی کالا اے آسماناں رنگ چمکیلا اے
رانجھے نہ آوے ونجلی ہیر دی کادی ہستی اےسرُ پھوکاں عشق دیاں زلفِ ہیر وی مستی اے
جٹیاں دعاواں منگدیاں گلیاں وچ   پھج دیاںٹٹے تیراں نال میلا حسن دا نہیں کج دیاں
لیلی چیکاں ماریاں چمڑی دکھے جے مجنوں دیسسی تھلو ں ٹیلے تے آساں لائی پنوں دی
عشق رب سچے دا بن ویکھے ترسیاں دااپنے تک اپڑن دا  راہ وکھایا رسیاں دا

محمودالحق

مکالمہ


’’          آپ جیسے انسان کو آج کے دور میں کس نام سے پکارا جاتا ہے  ؟َ:::  جی ! پاگل کہتے ہیں۔’’       بالکل! پھر آپ عقل کی بات کیوں نہیں کرتے؟  :::  عقل والوں کی بات سمجھ میں نہیں آتی۔ تسلیم تو تبھی کیا جائے گا جب اس کی سمجھ آئے گی۔’’       بھلا یہ بھی کوئی کام ہے ۔ صرف اس بات کو اپنے ذہن میں رکھیں کہ اس دنیا میں کامیابی کے لئے سچے اور کھرے پن سے چھٹکارا پانا ضروری ہے۔:::  لیکن ایسی ہمت کہاں سے لاؤں جو اپنی کامیابی کے لئے دوسروں کو دھوکہ کی سولی پر قربان کر دیا جائے۔اس کے بدلے میں جو حاصل ہو وہ کاغذ کے چند لاکھ ٹکڑے ہوں گے جن سے سہولتیں ، آسائشیں تو خریدی جا سکتی ہیں۔ مگر کھلی آنکھ کا آرام اور گہری نیند کا سکون  نہیں۔اگرلوگ اس فلسفہ پر زندگی استوار کر لیں تو معاشرتی برتری کے تمام بت چکنا چور ہو جائیں گے۔’’       باتیں سننے میں اچھی ہیں نصیحت کے لئے کارآمد ہیں طالبعلموں کو کلاس روم میں کتابوں کے ساتھ سنانے میں سویٹ ڈش کے طور پر کام دے سکتی ہیں۔مگر حقیقی زندگی میں ان پر عمل پیرا  رہ کر معاشی اور معاشرتی میدان میں  گولڈ میڈل نہیں جیتا جا سکتا۔:::  لیکن اس بات کا ہار جیت سے کیا واسطہ؟ اگر موبائل فون کا نیا ماڈل ستر ہزار میں خریدنا درکار نہیں ،لینڈ کروزر میں بیٹھنے کی بے تابی نہیں،بیش قیمت محل دیکھ کر بھی جھونپڑی گرانے کی کوئی جلدی نہیں تو پھر زندگی کے بقایا ایام میں ایمان کی فروخت کا بورڈ آویزاں کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ حاصل اتنا کم ہے کہ جس کے لئے بیش بہا خزانے لٹانے پڑیں گے۔ایمانداری ، اعتبار کے انمول موتی جنہیں چنتے چنتے زندگی بیت گئی۔سودا بہت مہنگا ہے۔سب سے بڑھ کر جنہیں جسم و جاں  سے مالک و مختار مانتے ہیں۔عہدو پیماں کا جن سے بندھن ہے اسے اچانک کیسے توڑ دیں۔اس کے لئے ایک عمر چاہیے ہو گی ۔  زندگی جینے میں تو بہت آگے ہیں مگر رہنے میں بہت پیچھے ۔’’         باتیں یہی سب اچھی ہیں۔ حقیقت سے جدا نہیں۔ اگر اختیار فائدہ پہنچا رہا ہو تو فرض کی گنجائش نکالنے کی ضرورت نہیں ۔ایک  ہجوم سا ہجوم ہے جس میں آگے بڑھنا ہی مجبوری ہے۔ پیچھے پلٹ کر دیکھنا بھی پاؤں تلے روندنے کا سبب ہو سکتا ہے۔مسئلہ پیچھے رہنے کا نہیں، ساتھ چلنے کا ہے۔ہوا کا رخ دیکھا جاتا ہے۔ بلندئ پرواز نہیں ۔ کون کہاں ہے یہ جاننا بہتر ہے ، نہ کہ وہ وہاں کیسے ہے۔ :::  آج زمانے کی چال مختلف ہے۔دور جدید ہے۔ایک انگلی کی پور سے کمپیوٹر ایک لفظ سے ایک دنیا کھول کر رکھ دیتا ہے۔لیکن سائنس ابھی تک ذہنی استعداد بڑھانے کے لئے ایک خاطر خواہ کام سر انجام نہ دے سکی جو کروڑوں میل کی مسافتیں ایک لحظہ میں آر پار کر سکیں۔ گھمسان کا رن تو بس اسی ایک زمین پر برپا ہے۔اسی کو کھود رہے ہیں اسی کو کھوج رہے ہیں۔دھاتیں ہوں پتھر یا تیل ۔ اسی کے ہونے یا نہ ہونے کے اسباب ہیں۔جو جتنا مال و متاع کا مالک اتنا ہی  لوگوں میں زیادہ پزیرائی کا حقدار ۔انسان  ایک پھول کی  مانندقسمت لے کر پیدا ہوا ہے جو کھلتا ہے خوشبو دیتا ہے پھر دھیرے دھیرے فنا ہو جاتا ہے۔ مگر حالات اسے کانٹا بننے پر اکساتے ہیں جو ایک زندگی تاحیات پانے کی جستجو کرتا ہے۔ بے فائدہ بے مقصد  جستجوء لا حاصل۔’’          کبھی اپنے ارد گرد نظر تو ڈالو کتنے لوگ ملتے ہیں  جو پھول رہنا پسند کرتے ہیں مگر کانٹوں کے روپ میں۔پانا چاہتے ہیں دینا انہیں بھاری ہے۔حق جتاتے ہیں حق نبھاتے نہیں۔زندہ رہنے  سے انہیں سروکار ہے۔زندگی پانے سے نہیں۔جیسے طالب علم کو پڑھائی سے زیادہ  امتحانات میں حاصل کردہ نمبروںسے۔ملازمت میں کام سے زیادہ اجرت سے۔فائدے کے لئے ہر نقصان کو بالائے طاق رکھ دیا جاتا ہے۔پھر کیوں نہیں مان لیتے کہ حاصل وہی ہے جس کی تمنا سب سے زیادہ لوگ کرتے ہیں۔:::   لوگوں کی بات مجھ سے نہیں کرو ۔ ترقی کی رفتار بڑھنے سے بہت پہلے بھی یہ سچ کو جھٹلاتے رہے ہیں ۔ پیغام انسانیت کو بھلاتے رہے ہیں۔ نبیوں کو جھٹلاتے رہے ہیں۔حق کو کمزور جان کر باطل سے ہاتھ ملاتے رہے ہیں۔اہرام مصر سے تاج محل تک اپنی طاقت کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ مگر دنیا میں چھوڑے ان کے پتھر آج بھی سامان عبرت ہیں۔چاہے وہ کوہ نور ہیرا ہی کیوں نہ ہو۔آج حق بات کہنے کی ضرورت شائد زیادہ ہے۔باطل اور جھوٹ  ایسا بے ثمر درخت ہے جس کی شاخیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں۔جڑیں زمین میں ہونے کے باوجود زمین والوں سے بہت دور رہتا ہے۔ گوگل سرچ ’باطل‘ کے تینتیس لاکھ اسی ہزار رزلٹ دکھاتا ہے۔اور ’حق‘ کے تین کروڑ بیالس لاکھ ۔  حق لفظ ہی باطل پر کئی گناہ بھاری ہے۔ کیسے ثابت کرو گے کہ حق پر رہنے والے کم پڑ رہے ہیں۔ حق لکھنے والے اور کہنے والے آج بھی باطل پر بھاری ہیں۔جو راستہ بھٹک گئے ہیں وہ بھٹکے ہوئے نہیں ہیں ۔ اہرام مصر اور تاج محل نے انہیں محبت سنگ  کی لازوال کہانی سنائی ہے۔ جو ادھوری ہے نا مکمل بھی ہے۔کیونکہ خلق خالق کی محبت بنا ادھورا ہے۔خالق حقیقت بھی ہے اور اختیار بھی۔راہ  بھی وہی ہے چاہ بھی وہی۔
محمودالحق

میرا گھر میری جنت


باتیں بنانے کے لئے قصے کہانیوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔گفتگو کے لئے موضوعات کی۔بحث کے لئے ہٹ دھرمی کی۔جہاں علم صرف اتنا ہی کافی ہوتا ہے جس کے بارے میں بابا بلہے شاہ نے کہا علموں بس کری او یار۔سخت گرمی میں کالی گھٹائیں برس کر لُو بھری ہواؤں کو ٹھنڈی نہ بنائیں تو سورج اور زمین کے درمیان پھر بادلوں کی کالی چادر کا کیا  کام۔زمین اور آسمان کے درمیان علم کی چادر پھیلےتو ایمان کی ٹھنڈک سے کہلائے مسلمان۔رزق رازق کا اختیار ہےخواہش طلب کی مددگار ہے۔صبر قناعت سے شکر عاجزی سےہم رکاب ہے۔چیونٹی کا تو نظام ہی اس کا جہان ہے۔جو پوشیدہ ہے وہ مکمل بھی ہے چاہے ایٹم کا زرہ ہو یا گردش کائنات۔جو ظاہر روٹھ جائے تو منانے کی  کوشش ہوتی بار بار ہے۔جیت جائے تو شفاء ہار جائے تو قضاء ۔حاصل بے نتیجہ تو ہو سکتاہے مگر مقصد نہیں۔ کوشش رائیگاں  نہیں جاتی وقت گزر جاتا ہے۔محبت کم نہیں ہوتی نظر محبوب سے لا تعلقی اختیار کر لیتی ہے۔چہرے کے تاثرات خوشی اور غم کے علاوہ حیرانگی کے تاثر سے بھرپور ہوتے ہیں۔زبان میٹھے اور نمکین کے علاوہ کھٹے اور کڑوے ذائقے  کے سگنل  دماغ کے خلیوں تک پیغام رسانی کا  کام سرانجام دیتی ہے۔کان  جنہیں سننا پسند کرتے ہیں وہ دماغ کے نہاں خانوں میں آمدورفت کا سلسلہ جاری رکھتی ہیں۔ہم  میں سے کتنے ہوں گے جو اس حقیقت حال سے واقف ہیں کہ ہر ایکشن کا ری ایکشن ہوتا ہے۔نیکی کا خیال  کریں تو  وسوسہ عود کر آتا ہے۔سچی بات کہنے کا ارادہ ہو تو وہم ڈر کی صورت اندیشوں سے خوفزدہ کرتا ہے۔ماضی بیشتر اوقات افسوس میں مبتلا رکھتا ہے، مستقبل خوف سے نجات پانے نہیں دیتا۔ حال وہم و وسوسہ سے محتاط رہنے کی تلقین میں گزرتا رہتا ہے۔ ایک دروازہ ،ایک کھڑکی اور ایک روشندان کےذکر سے ایک کمرہ کا تصور نظرمیں گھوم جاتا ہے۔ چار دیواری  میں گھرے صحن سے وہی کمرہ گھر  یا مکان میں تبدیل ہو جاتا ہے۔باسیوں کے قہقہوں کی جھنکار سے مکین محبت  کے نام لیوا  ہو جاتے ہیں۔  وہاں سے گزرتے کانوں میں رس گھلتا ہے۔کہیں شور وغوغا اُٹھنے سے نفرت کے نشان چھوڑجاتے ہیں۔ جہاں سے گزرتے کان پک جاتے ہیں۔ ہر عمل کا ردِ عمل  ضرور ہوتا ہے کہیں زبان سے کہیں بیان سے کہیں خاموشی سے کہیں فراموشی سے کہیں محبت سے کہیں نفرت سےکہیں اقراری سے کہیں بیزاری سے۔ دھوپ ہوتی ہے تو چھاؤں نہیں رہتی، چھاؤں آتی ہے تو دھوپ نہیں رہتی۔شب کی چاندنی ہو یا  دن کی روشنی  ایک وقت میں صرف ایک ہی رہے گا۔ نیکی کرنا  دین و دنیا میں سرخرو کرتا ہے۔برائی میں بڑائی نہیں۔سچ دنیا میں اکڑ کر رہتا ہے۔جھوٹ کے پاؤں نہیں آج یہاں تو کل وہاں۔ کبھی ایک در پہ تو کبھی در بدر ۔فیصلہ کا وقت آنے سے پہلےخود میں فیصلہ ضروری ہے کہ اس پار یا  ہمیں رہنا اُس پار ہے۔ایک رکھنا ایک چھوڑ دینا ہے۔جس سے دنیا ملے اسے رکھنا مقام قضاء تک رہے۔ جو دنیا سے د ور جاکر ملے اسے اپنانا مقام زمان تک رہے۔گھر میں کیا کیا ڈالیں گھر سے کیا کیا نکالیں۔جو بیکار ہیں رکھنا جو شرمسار کرے ہو سکے تو اسے چلتا کرو۔زندگی کو اپنے صرف یکتا کرو۔مکان ایک ہے تو مکین بھی ایک کرو۔ کام گر نیک ہے تو انجام بھی نیک کرو۔حاصل اگرلطیف ہے تو  کوشش  سے قریب کرو۔ کل تک جو بولا سچ میں جب اسے تولو ،ہو سکے تو آج اس سے جان چھڑا لو ۔کیونکہ گھر تو جنت ہے باغ و بہار میں رہنا وہاں ایک نعمت ہے۔حقیقت سے چشم پوشی  میں بدن سزاوار ہےتودھوکہ کی آگاہی میں باطن دلدار ہے۔ ہر صبح نئے دن کا آغاز  سچے کلام سے کریں۔ سچی بات سننے میں ہو یا نہ ہو مگر کہنے میں ضرور ہو۔خواہشوں  آرزؤں کی آلائشوں سے پاک گھر میں رہنا مکین کا حق ہے۔کیا ہم اُس کا حق اسے ادا کر رہے ہیں۔اگر نہیں تو مکاں کی ضرورتیں محدود کر کے مکیں کو لا محدود وسعتوں سے روشناس کر سکتے ہیں۔
تحریر: محمودالحق

درد کی دوا کیا ہے

یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ کاغذ قلم لے کر بیٹھا تو سوچ کے تمام دروازے ایک ایک کر کے جھٹ پٹ بند ہوتے چلے گئے۔ لیکن مجھے ہمیشہ لڑنے کی عادت نے لکھنے کی ضد پر قائم رکھا۔ علی الصبح سکول جانے والے بچے اور دفتر جانے والے افسر و بابو اپنی مرضی کے مالک نہیں ہوتے جو وقت کی پابندی کو قانون کی پابندی کی طرح توڑنے پر قادر ہوں۔ کہیں نہ کہیں ہم اپنی مجبوری کے ہاتھوں بلیک میل ضرور ہوتے ہیں۔ ایسی مجبوری جو آرزو کے کھیت سے نشونما پا کر پک کر کٹنے سے پہلے آندھیوں کے ہاتھوں دور دور بکھر کر اپنے مالک کا منہ چڑاتی ہیں۔ جو اسے قسمت کا کھیل سمجھ کر ہاتھ ملتا ہے اور پھر ایک نئی ہمت سے ہاتھوں کو نئی فصل سے مصافحہ کرنے کے لئے آگے بڑھتا ہے۔ ہاتھ اُٹھا کر نئی فصل کے لئے پہلی دعا سے ہی کام چلانے پر کمر بستہ نظر آتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ : اللہ مددگار ہے اور وہ بہتر مددگار ہے: اسی سے مانگنے اور اسی کے  سامنے جھکنے سے ہی تمام ارادوں کی تکمیل ممکن ہو پائے گی۔اللہ اپنے بندے سے ستر ماؤں سے زیادہ چاہت رکھتا ہے اور بندہ ایک ماں کی خدمت سے بہرہ مند نہیں ہو پاتا۔اس بار میرا  وطن واپس آنا دو سال بعد ہوا تھا ۔ ایک دو دن بعد مجھے احساس ہوا کہ زیادہ تعداد میں وہ بوڑھے ہو چکے تھے ۔ خوبصورتی اور حسن کے جن کے چرچے تھے وہ ماند پڑ چکے تھے یا وہ جا چکے تھے۔اٹھکھیلیاں کرتے بچے مجھے کہیں نظر نہیں آ رہے تھے۔ آخر تعداد نہ بڑھنے کے کیا محرکات تھے جو مجھ سے چھپائے جا رہے تھے۔ان سب پر ایک اُچٹکتی نگاہ ڈالتا  اور بے پرواہی سے بھول جاتا کہ ہمارا ایک دوسرے سے کوئی رشتہ بھی ہے۔میں شائد اتنے سال ان سے دور رہ کر آئی ڈوناٹ کئیر  کی گردان سنتے سنتے کانوں کی حد تک بہرہ ہو چکا تھا۔ لیکن حقیقت حق تو اپنے سحر سے جدا ہونے نہیں دیتی تھی۔کرسیاں ایک مخصوص انداز میں روزانہ میرے ارد گرد سجا دی جاتی ۔ایک کرسی پر براجمان ہو جاتا جہاں سے آسمان اور زمین  کا ملن مجھے صاف دکھائی دیتا۔   زندگی کے طویل معمولات میں یہ شامل تھا کہ سورج میرے سر کے بالکل اوپر سے گزر کر سامنے غروب ہوتا تو دن لمبے راتیں چھوٹی اور دھوپ کی شدت ہوتی۔ لیکن جب  سورج میرے سامنے دن بدن  بائیں طرف  جھکتا جھکتا غروب ہوتا تو دن چھوٹے اور راتیں  بڑی ہوتی اور دھوپ سے لذت ملتی۔اس روز دھوپ شدت کی تھی ایک کے علاوہ تمام کرسیاں خالی تھیں ۔نہ جانے اسے کیا سوجھی میرے ساتھ والی کرسی پر وہ آ بیٹھا۔ وہ کبھی بھی میرے برابر نہیں بیٹھا تھا۔ لیکن آج اسے  کیا ہوا کہ میری بغل والی کرسی پر بیٹھا دائیں پاؤں کو دو تین بار اُٹھا کر نیچے رکھ دیا۔ پھر بڑی بے اعتنائی سے کرسی سے اُتر کر زمین پر جا بیٹھا۔ انہیں میرے سامنے زمین پر بیٹھنے کی عادت تھی۔میری خواہش تھی کہ وہ میرے ساتھ بیٹھیں مگر وہ مجھ سے خوف کھاتے تھے شائد۔ ان کے خوف کو میں نے دور کرنے کی کوشش کم ہی کی تھی۔میں نے اپنے خاص آدمی کو آواز دی۔اختر ! دیکھو اسے جو ابھی میرے پاس سے زمین پر جا بیٹھا ہے ۔ کیا تکلیف ہے اسے جو اپنا  پاؤں مجھے دکھا کر چلتا بنا۔وہ میری بات سمجھ چکا تھا کہ معاملہ سنجیدہ ہے تبھی تو میں نے حقیقت جاننے کے لئے اسے بلایا ہے۔ پاؤں کو غور سے دیکھنے  کے بعد  اس نے کہا کہ پاؤں سوجا ہوا ہے ۔ تکلیف سے زمین پر رکھنا مشکل ہو رہا ہے اسے۔میری اُلجھن دور ہو چکی تھی  کہ ان سب میں سے صرف اسے ہی میرے برابر بیٹھنے کی ہمت کس بات نے دی تھی۔ درد اور تکلیف نے اسے مجبور کر دیا کہ وہ ایسا کام کر جائے جو اس سے پہلے کبھی  اس کے بڑوں نے بھی نہ کیا ہو۔ لیکن مجھے خوشی اس بات کی تھی کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس جگہ میں ہی اس کا مالک ہوں جو اس کے درد کا مداوا کر سکتا ہوں  تبھی تو اس نے مجھے  اپنا حال بیان کرنے  کے لئے اشارے سے کام لیا۔میں  نے دوسری بار اختر کو سخت  زبان میں کہا کہ غور سے دیکھ کر بتاؤ اس کے پاؤں میں سوجن کیوں ہے۔کچھ دیر ادھر اُدھر سے دیکھ کر بولا کہ صاحب لگتا ہے کہ اس کے پاؤں میں ایک کالا دھاگہ بری طرح سے لپٹا ہوا ہے۔
میں معاملہ کی اصل تہہ تک پہنچ گیا ۔ دھاگے نے پاؤں کو اس بری طرح سے لپیٹا ہوا تھا کہ وہ بے زبان کبوتر مجھے درد کا حال بتانے کرسی پر چڑھ آیا تھا۔میں نے اختر کو ایک سو کبوتروں میں اسے پہچان رکھنے کو کہا کہ جیسے ہی وہ اپنے کمرے میں داخل ہو اسے پکڑ کر میرے پاس لاؤ ۔ یہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا وہ  اسی لمحے اُڑ کر کمرے کے اندر جا بیٹھا۔ اختر اسے وہاں سے پکڑ کر میرے پاس لے آیا۔ میں نے پہلے اسے پیار سے تھپتھپایا پھر آہستہ آہستہ پاؤں میں لپٹے کالے دھاگے کو الگ کر دیا اور اس کے پاؤں کو ہولے ہولے مساج کیا ۔جب وہ میرے ہاتھ سے اُڑ کر زمین پر بیٹھا تو پاؤں زمین پر رکھنے میں مشکل کا شکار نہیں تھا۔ انسانوں سے  رغبت اور دلگیری کی عادت نے مجھے ایک پرندے کی نظر میں معتبر کر دیا۔ اس نے مجھے اس قابل جانا کہ میں اس کے درد کی دوا  بن گیا۔

محبت میں جو رنگ آئے تیرا ہی خزینہ ہو


محبت میں جو رنگ آئے تیرا ہی خزینہ ہوزندگی کا ڈھنگ سکھایا تیرا ہی قرینہ ہو
آنسو تو چھپتے نہیں چلمن پلک سے رواںقلبِ کثرت سے جو بہتا قلب پسینہ ہو
زندگی باطل تو موت حق سے نہیں رہتی جداطلسماتی دنیا ہے اُڑتا بادل تو برستہ مینہ ہو
خوف سے دبکتا کھلی آنکھ کا راز پنہاںہاتھ میں آبِ کوثر کا جام خواب دیرینہ ہو
زندگی کا عشق ہی عاشق بناتا دیوانہ ہےمال و زر کھوجتا سوچتا ایسی ہی حسینہ ہو
آبی گزرگاہوں میں خشکی مسافر بردار ہوںچمکتا چہرہ امبر تو روتی کیوں سکینہ ہو
ساحل سخت پتھریلا نیلا گہرا سمندر ہےخوشیوں کو نظر لگتی دل میں جب کینہ ہو
اُڑتا پنچھی ہوا کا دانہ پانی زمیں میںکوئلہ کان میں رہتا محمود وہی نگینہ ہو
خیال رست   /محمودالحق
۔۔۔٭۔۔۔

فیصلے یہی خدا کے مہر ثبتِ تقدیر ہیں


فیصلے یہی خدا کے مہر ثبتِ تقدیر ہیںوعدہ ہے اس کا کیوں پریشاں فکرِ تصویر ہیں
روشنیوں کا ہجوم ہے تاریکیوں کی تنہائی میںخود سے ہیں جو جلتے ستارہء آسماں بے نظیر ہیں
تفریح طبع میں جنہیں قیام جیتے زندگیء ایامپھول میں نہیں ارمان مہک بنتے اکثیر ہیں
چاہے دیواریں ہی اُٹھا دو یا پردے ہی گرا دوچھپ نہیں پاتے باندھے نفسِ زنجیر ہیں
لٹتے اپنے ہی ہاتھوں بندگی زیست بیگانی ہےمقام ان کے محمود ہیں نبھاتے جو حکمِ نذیر ہیں
بھروسہء جزا کے رکھتے جو توکل میں ایمانمشرق ہو یا مغرب عمل ہی ان کے دستگیر ہیں
لگتے کہیں تو پکتے کہیں توشہء مخبون ہیںقلب پہ ہیں جو رکھتے کلام لہنِ دلگیر ہیں
خدا سے جو جدا ہے زندگی ہی وہ خطا ہےلکھا نہیں جاتا بےکار ترجمہ بھی تحریر ہیں
خدا نے جو آنکھیں دیں نظارہ پلکِ تصویر ہیںقلبِ مکان میں یہ سب جہاں تو راہ گیر ہیں
جہاں وہ جاتے ہیں وہاں سے آتے نہیںپھر کیوں ہیں رکھتے الگ الگ تدبیر ہیں
مغرب میں ہیں جو جاتے مشرق سے ہیں وہ آتےپھر کیوں ہی یہ پلٹتے جمِ غفیر ہیں
خیال رست   /محمودالحق

۔۔۔٭۔۔۔

انشااللہ

بڑے بڑے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں جب تک کہ اس میں اللہ تبارک تعالی کی چاہ شامل نہ ہو جائے۔ تاریخ شاہد ہے مٹھی بھر لوگوں کی جماعت ایک کثیر فوج کے مدمقابل کھڑی ہو گئی۔ اس امید کے ساتھ کہ انہیں کامیابی نصیب ہو اگر ان کا اللہ چاہے تو۔تو اللہ تبارک تعالی نے ان کے بھروسہ اور اعتماد کو پزیرائی بخشی اور وہ کامیابی سے سرخرو ہوئے۔ کہانیاں کامیابیوں کی زبان زد عام رہتی ہیں۔ قیاس وہم و افسوس کا شکار ہوتے ہیں۔باطن کو ظاہر سے کمزور سمجھنے والے باطن کی اصل طاقت سے آگاہ نہیں ہوتے۔ ظاہر نمود و نمائش سے مزین ہوتا ہے۔ باطن مخفی قوتوں سے آراستہ۔آنکھوں کو وہی دکھایا جاتا ہے جو وہ دیکھنا چاہتی ہیں۔ کانوں کو وہی سنایا جاتا ہے جو وہ سننا چاہتے ہیں۔ بہلانے پھسلانے کے نئے نئے انداز ترنم آبشار کی لگنِ دھن رکھتے ہیں۔سورج کے گرد طواف کرتی زمین فاصلوں کے ماپنے سے حقیقت شناسی کا سبق دھراتی ہے۔ جس کی حدوں سے باہر نکل کر ہر شے بے وزن ہو جاتی ہے۔ ہوا میں اُڑتے پرندے رائٹ برادرز کو زمین سے اُٹھنے میں تحریک کا سبب ہیں۔ تو نیوٹن کو سیب زمین پر گرنے سے۔ بادل اپنے وقت پر گرج چمک کر برس جاتے ہیں۔ نفع و نقصان کا تخمینہ لگانا انسان کے جمع و تفریق کے فارمولہ کے تحت ہوتا ہے۔ زیر زمین رہنے والے کیڑے مکوڑے جڑی بوٹیوں کی افزائش سے تقویت پاتے ہیں اور ان سے پرندے زندگی۔ ہر بالی سے چوپائے صحت و تندرستی پاتے ہیں تو درندے ان کے خون سے۔انسانی معاشرے میں بے حسی ، بے مروتی، خیر و شر کی تمیز کا نہ ہونا، سچ و جھوٹ میں فرق نہ کرنا، حرام و حلال میں تمیز نہ کرنا ، تحریص و ترغیب کی تحریک کا موجب ہو جاتے ہیں۔ پھر ایک گناہ زندگی بھر کے پچھتاوے سے بھی دھلنے میں ناکام رہتا ہے۔لینے اور دینے والےعہد و پیمان کی بجائے ضابطہ اخلاق کے بندھن میں بندھے ہوتے ہیں۔ قربانی دینے والے، ایثار کرنے والے دوسروں کی نظر میں ہمیشہ سر بلند نہیں ہوتے۔ جب تک کہ اللہ تبارک تعالی کی رحمتیں ان پر نفع کی صورت میں آشکار نہ ہوں  جو دن کی روشنی کی طرح عیاں ہوتے ہیں۔ منزل تک جلد پہنچنے کا ارادہ کرنے والے اور کسی مجبوری سے بیچ راستے سے ہی واپس پلٹ کر سفر پر نہ جانے والے اسی جہاز یا گاڑی کے حادثہ کے شکار ہونے کی روح فرسا خبر کو ایک بدقسمتی اور دوسرے خوش قسمتی سے تعبیر کرتے ہیں۔تیز ہواؤں کے نتیجے میں گرنے والے پتے بد قسمت نہیں ہوتے اور نہ ہی درختوں پر رہنے والے خوش قسمت۔ یہ ایک خودکار سسٹم ہے جس کے وہ تابع ہیں۔ پانی ،روشی اور ہوا لے کر پروان چڑھنے والے پتے ٹہنیوں و تنوں کی عمر نہیں پاتے۔ بار بار جنم لیتے ہیں بار بار ختم ہوتے ہیں۔ جس دن مٹی جڑ سے رشتہ توڑ لیتی ہے پھر جنم کے سلسلے رک جاتے ہیں۔ جب تک زمین ہے جنم ہوتے رہیں گے ۔ جب کائنات نے زمین کو چھوڑ دیا نئے جنم کا سلسلہ ختم ہو جائیگا۔روشنی پانی  ہوا سے زندگی پانے والا ایک پتہ،  روشنی  پانی  ہوا سے زندہ رہنے والے ایک انسان سے کیونکر عظیم ہو سکتا ہے۔ جب کہ دونوں جنم لینے اور ختم ہونے کی فطرت پر ہیں۔ عظیم وہ ہے جو عظمت پر کامل یقین رکھتا ہے۔ وہ عظمت جو اسے وسیلہ سے ملی۔ جس میں مرتبہ حسنِ اخلاق کو حاصل تھا۔ احترام صداقت اور امانت داری سے تھا۔ قدرومنزلت نام و نسب کی بجائے شرافت و دیانتداری سے تھی۔ بشر تو سبھی تھے مگر عظمت کا مینار کوئی کوئی تھا۔پیدائش و اموات کے درمیان افزائش کے مراحل تعلیم و تربیت کے پھلوں سے ذائقہ و خوشبو سے مزین ہوتے ہیں۔ تہذیبی و ترتیبی معاشروں میں حسنِ اخلاق و اخلاص کی کیاریاں پھولوں کو سینچتی ہیں۔ جن معاشروں میں یہ اقدار نہیں ہوتیں وہ جنگل کی مانند بے رنگ  اور بے ترتیب ہوتے ہیں جو کٹنے سے پہلے گنے جاتے ہیں ، پھر کٹ کر تولے جاتے ہیں۔ کیاریوں میں اُگے پھول کثیر تعدادی سے آنکھوں کو ٹھنڈک نہیں پہنچاتے بلکہ خوبصورت رنگوں کے امتزاجِ کثیر سے روح کو تسکین پہنچاتے ہیں۔

تحریر : محمودالحق

جس پر زمانہ فخر کرے وہ قلم تمہارا ہی تو ہے



جس پر زمانہ فخر کرے وہ قلم تمہارا ہی تو ہےجس پر زمانہ تجسس کرے وہ علم تمہارا ہی تو ہے
لفظوں سے جو کھلے وہ کتابِ گل تمہارا ہی تو ہےمجھے صرف یہ خاک سب جہانِ کل تمہارا ہی تو ہے
ہوا کے دوش پہ ہے جو چلتا ابرِ کرم تمہارا ہی تو ہےنظر ٹھہری جو ایک رخ وہ کعبہ حرم تمہارا ہی تو ہے
کوشش میں رہتے جو تلاش ِرزق تمہارا ہی تو ہےدھارِ ایمان پہ ہے جو چلتا خلق تمہارا ہی تو ہے
آفتاب کرن سے ہے آبِ لشکارہ تمہارا ہی تو ہےمہتاب کی چاندنی تو چمکتا تارا تمہارا ہی تو ہے 
۔۔۔٭۔۔۔برعنبرین /  محمودالحق

اپنی ہی کماہاں میں یہ جہاں چلتا ہے


اپنی ہی کماہاں میں یہ جہاں چلتا ہےاپنی ہی تاباں میں یہ کہاں جلتا ہے
اپنی ہی نیاباں میں یہ زیاں پگھلتا ہےاپنی ہی طریقاں میں یہ بیاں رکھتا ہے
اپنی ہی شتاباں میں یہ مہکاں رہتا ہےاپنی ہی اونچاں میں یہ زیراں بھٹکتا ہے
اپنی ہی خاراں میں یہ گلستاں سلگتا ہےاپنی ہی بہاراں میں یہ آبشاراں ملتا ہے
اپنی ہی ناداں میں یہ نازاں سلتا ہےاپنی ہی بصیراں میں یہ تعبیراں کٹتا ہے
 ۔۔۔٭۔۔۔
برعنبرین /  محمودالحق

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے

  ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا معاشرہ جس سمت چل رہا ہے وہ کسی قانون یا کسی ترمیم سے اپنی اصل پر واپس نہیں آئے گا ۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ قانون بنانے والے اور اس پر تنقید کرنے والے اپنے قول و فعل میں تضاد ختم کریں ۔عوام کے لئے ایک اچھی اور سچی مثال بنیں ۔مگر یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک عوام اپنے رہنما چنتے وقت دولت کے انبار کی بجائے کردار کو ترجیح دیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔   جدید دنیا نے انسانوں کو جہاں بے پناہ سہولتیں پہنچائی ہیں ۔ وہاں بے شمار مسائل سے بھی دوچار کیا ہے ۔ ہر دور کا انسان جدید ترقی کی منازل آہستہ آہستہ طے کرتا رہا ۔اور ماضی کو پائیدان بنا کر اگلی منزل کی طرف گامزن ہوا ۔ مگر ہر انسان اس سے استفادہ حاصل نہیں کر سکا مگر چند کے سوا ۔ اور اسی طرح چند ممالک ہی اس ترقی کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔
ترقی پزیر اور پسماندہ ممالک کا ذکر ہی کیا ۔ مگر ترقی یافتہ ممالک کا ہر فرد بھی خوش وخرم اور مطمئن زندگی نہیں گزار رہا ۔جہاں امیر امیر تر ہوتا جا رہا ہے ۔ اور غریب اپنی روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے 8 سے 12 گھنٹے روزانہ مشقت کرتا ہے ۔اکیلا وہ بھی بیوی بچوں کے اخراجات پورا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔
تاہم عورت مرد کے شانہ بشانہ معاشرے میں اپنے حصے کا کام کرتی ہے ۔ جو ایک ہفتہ میں چالیس گھنٹے یا اس سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں ۔ ملازمتوں سے فارغ ہونا اور کریڈٹ کارڈ کی واجب الاادا رقوم انہیں سخت محنت کا عادی بنا دیتی ہیں ۔
ہر ملک کا میڈیا سب اچھا کی خبر دیتا ہے آج کے بناوٹی دور میں پسماندہ ملک کا میڈیا بھی وہاں کے عوام کی اصل شکل نہیں دکھاتا ۔یہی وجہ ہے کہ عوام الناس میں بھی ایسے پروگرام زیادہ پزیرائی حاصل کرتے ہیں ۔ جن میں لوگ بہت سی دولت چند لمحوں میں حاصل کر لیتے ہیں ۔جیسے کون بنے گا کروڑ پتی اور ڈیل یا نو ڈیل پروگرام ۔ اس کے علاوہ نیوزپیپر اور میگزین کھلاڑیوں کی آمدنی کا تخمینہ لگاتے رہتے ہیں ۔ جو نئی نسل کے ذہنوں میں جلد امیر ہونے کا ایک آسان طریقہ ہوتا ہے ۔ جو لاکھوں میں سے چند ایک کو حاصل ہو تا ہے ۔ کچھ پڑھائی تو پہلے چھوڑ چکے ہوتے ہیں رہی سہی کسر دولت کمانے کے کئی دوسرے طریقے اپنانے میں پوری ہو جاتی ہے ۔چند محنت اور لگن سے اور کچھ غیر قانونی طریقوں سے ترقی پاتے ہیں ۔لوگ امیر ہونے اور دوسروں سے آگے بڑھنے کے عمل میں اپنی اپنی حیثیت میں کوشش کرتے ہیں ۔ ایسے میں ایک ریڑھی بان سے لے کر سیاستدان تک ایک خاص مقصد کے حصول کے جنون میں کوشش کرتے ہیں ۔مگر مقصد ایک ہے دولت مندی اور دوسروں سے برتری ۔
مفادات کی اس جنگ میں آخر کار فتح خود غرضی کی ہوتی ہے ۔
ایک زمانہ تھا لوگ اپنے بزرگوں کا تعارف ان کے اخلاق ، اخلاص اور کردار ، ایمانداری ، اصول پرستی اور ایثار و قربانی کی اساس پر کراتے تھے ۔اور خود پر فخر کرتے ۔ مگر آج کی دنیا اور دولت پرستی کو کیا کہیئے کہ اولادیں والدین کے اصولوں پر فخر کرنے کی بجائے ان پر موقع ملنے پر فائدہ اُٹھا کر انہیں مہنگی اور جدید تعلیم سے آراستہ نہ کرنے اور ان کے نالائق مستقبل کو محفوظ کرنے کا خاطر خواہ انتظام نہ کر سکنے کے الزامات دینے میں تامل نہیں کرتی ۔
جو والدین اپنی اولاد سے توقع کریں کہ وہ اپنی قابلیت کے بل بوتے پر ان کا سر فخر سے بلند کریں۔ انہیں معاشرہ ناکام قرار دینے میں تامل نہیں کرتا ۔
ایسے لوگوں سے مل کر نہایت مایوسی ہوتی ہے جو اپنی رہائشی کالونی کا ذکر فخریہ انداز میں کرتے ہیں ۔ اور اس کی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں اور اپنی حیثیت کا وزن بڑھانے کے لئے بیوروکریٹ اور سیاستدانوں کا ہمسایہ ہونے پر سینہ تان لیتے ہیں ۔
کیا دور آ گیا ہے لوگ اپنے آپ کو محترم کرنے کے لئے آباؤاجداد کی بجائے تعلقات کا تزکرہ فخر سے کرتے ہیں ۔
اسے کیا کہا جائے تعلیم کی کمی ،حسد و جلن یا احساس محرومی جو دوسروں پر برتری جتلانے سے ٹھنڈک کا احساس پاتا ہے ۔
خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر آپ صل اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی کسی سے برتر ہے تو وہ تقوی اور پرہیز کی وجہ سے ہے ۔
ہمارا معاشرہ جس سمت چل رہا ہے وہ کسی قانون یا کسی ترمیم سے اپنی اصل پر واپس نہیں آئے گا ۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ قانون بنانے والے اور اس پر تنقید کرنے والے اپنے قول و فعل میں تضاد ختم کریں ۔عوام کے لئے ایک اچھی اور سچی مثال بنیں ۔مگر یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک عوام اپنے رہنما چنتے وقت دولت کے انبار کی بجائے کردار کو ترجیح دیں گے ۔جھرلو طریقہ انتخاب سے منتخب ہونے والے بھاری مینڈیٹ کے لئے جھاڑو کا سہارا لیتے ہیں ۔ ہر منتخب ہونے والا سیاستدان خود کو تخت شاہی کا حقدار سمجھتا ہے ۔
اس کا جواب تو عوام بہتر طور پر سمجھتے ہیں جو آوے ہی آوے اور جاوے ہی جاوے کے نعروں کا ایندھن بنتے ہیں ۔
ہمارے سیاستدان اور سیاسی علماء کرام کیوں بھول جاتے ہیں کہ لاہور شہر میں سروں پر حکومت کرنے والے ایک قطب بادشاہ کے مزار پر ہو کا عالم اور دلوں پر راج کرنے والے ایک ولی اللہ کے مزار پر زائرین کا جم غفیر ایک سبق آموز حقیقت پیش کرتا ہے ۔ پھر بھی سیاستدان سروں پر حکومت کر کے معاشرہ کی درستگی کا بیڑہ اُٹھانے کا متمنی نظر آتا ہے ۔ حالانکہ قوم جانتی ہے کہ قانون بنانے والوں پر قانون لاگو نہیں ہوتا ۔ قانون کمزوروں کو اور بے کس بنانے میں استعمال ہوتا ہے ۔ طاقتور اور امیر تعلقات اور اثر ورسوخ سے قانون کے شکنجے سے بچ نکلتے ہیں ۔ سیاسی مخالفین کے علاوہ شاید ہی کسی نے طاقتور کو سزا سے فیضیاب ہوتے دیکھا ہو ۔ کروڑوں اربوں کے ٹیکس نا دہندہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں دیکھے گئے ۔ چند سو کے نا دہندہ کے لئے کوئی خاص رعایت نہیں ۔
چند سال پہلے مال روڈ لاہور پر منہ زور ایم پی اے کی کار سے کالے شیشے اتارنے کی جرآت پرٹریفک افسر کی وردی بھی اتری اور جیل کی سلاخوں کے ہار بھی پہنے ۔
پنڈی کا عوامی سپوت کلاشنکوف لہرانے پر پانچ سال کی سزا پر اسلحہ رکھنے سے باز آیا ۔ اور اسلام آباد کے سپوت کو اسی جرم میں بھاری بوٹوں نے تھانے میں ہی مجسٹریٹ کے ہاتھوں رہائی کے پروانے کے ہار پہنائے ۔
جہاں وزیر اعلی خود تھانے جا کر ملزم چھڑا لائے ۔ وہاں قانون صرف ہاتھ ملتا ہی رہ جاتا ہے ۔
مگر افسوس صد افسوس قانون کے ایسے قتل عام پر نہ جلوس نکلا نہ احتجاجی جلسہ ہوا ۔ نہ ہی لانگ مارچ ہوا اور نہ ہی کسی تحریک کا آغاز ہوا ۔ میری نظر میں یہ سب یک نظر ہیں ۔ کیونکہ قانون کی بالادستی کی وجہ سے کبھی نہ کبھی وہ بھی اس کے شکنجے میں کسے جا سکتے ہیں ۔ کیونکہ دامن اتنا صاف شاید ہی کسی کا ہو کہ دوسروں کو دھبہ نظر نہ آئے ۔
قربانی کا بکرا صرف عوام ہی کیوں ۔ عوام کو شاید یہ ان کے عملوں کی سزا ہے جو وہ ہر بار انہی دولت مندوں اور با اختیار لوگوں کو منتخب کرتے ہیں ۔ جن کا سسٹم بھی تابع ہے ۔
عام آدمی تو گھر میں چوری کی رپورٹ درج کروانے کے لئے علاقے کی بااثر شخصیت کی سر پرستی کا محتاج ہے ۔
کیونکہ پہلا شک گھر کے بھیدی پر جاتا ہے ۔

محمودالحق ۔16 جولائی 2011 میں لکھی گئی تحریر 

السلام علیکم

میڈیکل سٹور کا دروازہ کھولتے ہی کام کرنے والے تمام افراد پر ایک سرسری نظر ڈال کر میں نے بلند آواز سے السلام علیکم کہا اور سیدھا کاؤنٹر پر جا پہنچا۔ جہاں ایک با ریش نوجوان کمپیوٹر پر نگاہیں جمائے کھڑا تھا۔کچھ دیر اس کا چہرہ تکتارہا۔اس نے سر اُٹھا کر دیکھنے کی زحمت گوارا نہ کی اور نہ ہی سلام کا جواب دیا۔میں نے پلٹ کر دوسرے ملازمین سے توجہ طلب نگاہوں سے مدد چاہی تو ایک نے احسان عظیم کیا اور اپنے پاس آنے کی دعوت دی۔میں آگے بڑھا اور اس غم گسار کے سامنے مایوسی کے گہرے سائے کو روندتے ہوئے اس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ جو انتہائی لاپرواہی سے میرے  منہ سے کسی کڑوی دوائی کا نام سننے کے انتظار میں تھا۔لیکن آج میں ان کا جنرل نالج آزمانے گیا تھا۔تاکہ وہ میرے گھر کے قریب ترین ایسی جگہ  کا پتہ بتا دیں جہاں سے میں اپنی دس سالہ بیٹی کے دائیں ٹانگ پر چڑھائے گئے پلسترکی وجہ سے چلنے پھرنے کے لئے بیساکھی کا انتظام کر پاؤں۔میرے لئے بیساکھی کا ٹھکانہ معلوم کرنے سے زیادہ یہ جاننا بہت ضروری ہو چکا تھاکہ میڈیکل سٹور میں موجود پانچ ملازمین میں سے کسی نے بھی میرے سلام کا جواب  کیوں نہیں دیا ۔ میں نے انتہائی لا پرواہی اور کسی قدر غصہ میں ان سب سے یہ سوال کیا کہ  جس ملک میں ہم رہتے ہیں کیا اسے  ابھی تک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہی کہا جاتا ہے اور یہاں بسنے والے مسلمان کہلاتے ہیں تو انہوں نے بیک زبان کہا کہ جی بالکل!میں نے ان سے استفسار کیا کہ پھر انہیں میرے سلام کے جواب میں   وعلیکم السلام کہنے میں کیا عذر تھا۔ جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ حالانکہ وہ السلام علیکم کا مطلب بخوبی جانتے تھے۔انہوں نے معذرت خواہانہ انداز اپنایا۔ جو ان کے چہروں سے عیاں تھا۔انہوں نے منزل تک پہنچنے کی میری رہنمائی کی۔ ان کا شکریہ ادا کر کے میں نئی منزل کی طرف گامزن تھا۔ مجھے رہ رہ کر امریکہ میں گزارے صبح دوپہر شام اور رات میں کہےجانے والے کلمات یاد آنے لگے۔ گڈ مارننگ کے جواب میں گڈ مارننگ ، گڈ ایوننگ کے جواب میں گڈ ایوننگ، ہیو اے نائس ڈے کے جواب میں یو ٹو،تھینک یو کے جواب میں یو آر ویلکم ضرور کہا جاتا تھا۔اگر کسی سے پوچھیں آپ کیسے ہیں جواب میں اچھا کہہ کر آپ کا احوال ضرور پوچھتا۔مگر مجھے اپنوں سے ہمیشہ شکایت رہتی ہے کہ وہ سلام کا جواب دینے میں تامل کرتے ہیں۔ حال احوال پوچھنے پر اجنبی نظروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔فون کی گھنٹی بجنے پر ہیلو سے جواب دیا جاتا ہے۔ فون کرنے والا بھی ہیلو سے اپنا تعارف کراتا ہے۔  ہر واقف و ناواقف مسلمان کو سلام کہنا سنت ہے۔سلام کا جواب دینا واجب ہے کیونکہ اس کا حکم قرآن میں ہے سورۃ النساء آیت نمبر 86 میں یوں آیا ہے: اور جب تمھیں کوئی کسی لفظ سے سلام کرے تو اس سے بہتر لفظ جواب میں کہو یا وہی کہہ دو۔سلام کے لغوی معنی ہیں طاعت و فرمانبرداری کے لیے جھکنا، عیوب و نقائص سے پاک اور بری ہونا، کسی عیب یا آفت سے نجات پانا۔ سلام اسماء الحسنی یعنی اللہ تعالٰی کے صفاتی ناموں میں سے بھی ہے ۔ شریعت کی اصطلاح میں اس سے مراد دو یا دو سے زیادہ مسلمانوں کی آپس میں ملاقات کے وقت کی دعا یعنی السلام علیکم کہنا ہے۔ جواب کے لیے وعلیکم السلام کے الفاظ ہیں۔ہمارے بزرگ بات کرنے کا سلیقہ اور بڑے بزگوں کے ساتھ پیش آنے کا طریقہ سکھاتے تھے۔ جسے جدید دنیا کے والدین نے نئے انداز سے بدل دیا ہے۔بچوں کو سبق یاد کروائے جاتے ہیں مگر آداب نہیں سکھلائے جاتے۔ہر شخص اپنے کام سے کام رکھتا ہے۔اپنے ارد گرد نظر نہیں رکھتا۔معاشرے میں اجنبیت کا رحجان فروغ پا رہا ہے۔اگر یقین نہیں آتا تو  میری طرح اپنے گھر ، علاقہ سے    چھ آٹھ سال کے لئے دور رہ کر واپس لوٹیں گے تو احساس ہو گا کہ کہیں نہ کہیں ہم سے کچھ چھوٹ رہا ہے جیسے بلندی سے گرتے ہوئے ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ سے چھوٹنے کے لئے پھسلتا ہے۔ہم اپنی رائے کو دوسروں پر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسروں کے نظریات کو غلط ثابت کرنا فرض سمجھتے ہیں۔آخر کہیں تو کچھ ایسا ہو رہا جو تبدیلی کے مراحل خاموشی سے طے کر رہا ہے۔جس گاڑی کی بریک نہ ہو اس کے لئے انتہائی سپیڈ اور موٹر وے جیسی سڑک بھی بلا ضرورت ہے۔جس انسان میں اپنی خواہشوں کو روکنے کی حد نہ ہو اس کے لئے کامیابی شتر بے مہار کی مانند ہے۔ جیسے ڈھلوان کی بلندی سے  قلابازیاں کھا کر نیچے تک پہنچا جائے۔دوسروں کی خوشیوں میں ماشااللہ کہہ کر شامل ہوا جاسکتا ہے۔انشااللہ کہہ کر خود آگے بڑھا جاسکتا ہے۔جزاک اللہ کہہ کر دوسروں میں ہمت و حوصلہ بڑھایا جاسکتا ہے۔اچھے وقت کا صبر سے انتظار کیا جاسکتا ہے۔سورۃ بقرہ میں ارشاد باری تعالی ہے ۔اے ایمان والو ! تم صبر اور نماز سے مدد مانگو۔بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔کینہ، حسد، لالچ سے بچ گئے تو محبت،قربت،شکر کے پھل سے فیضیاب ہوں گے۔نفرت، حقارت،گھمنڈ،ضد،غرور سے چھٹکارا مل گیا توقرب،اپنائیت،عجز و انکساری سے دامن بھرتے جائیں گے۔سورج کو مشرق سے طلوع ہوتے روز دیکھتے ہیں۔خود کو مشرق میں غروب ہونے کا منظر آنکھوں میں سجاؤ تو گردش زمین آشکار ہوتی ہے۔جیسےپھل پر چھری چلا کراوپر سے نیچےتہہ تک کاٹتے ہیں ایسے ہی تہہ سے اوپر تک پھل کے مکمل ہونے کو نظروں میں بساؤ توقدرت اپنی طاقت کا لوہا منوانے پر اُتر آئے گی۔ظاہر کی نفی سے باطن کی آگہی زمین سے تعلق اور قطع تعلق کے درمیانی فاصلوں کو بڑھاتی جائے گی۔قربت کے فاصلے عشق و محبت سے سمٹتے جائیں گے۔وجود اپنے نہ ہونے اور عدم اپنے ہونے سے قیاس و حقیقت کے رشتے کو بندش و آزادی کے جہان اُلفت میں دیوانگی و جنون سے ایک کو گھٹاتا تو دوسرے کو بڑھاتا جائے گا۔لیکن یہ تبھی ممکن ہو گا جب  دوسرے سے اختلاف سے پہلے خود کے تضاد کو عمل کی کسوٹی پر پرکھ کر یک اتفاقی  میں پرویا جائے  تو نا اتفاقی کی گانٹھیں خود بخود ڈھیلی ہونا شروع ہو جائیں گی۔ جو اپنی ذات کو منوا لیتے ہیں وہ اپنی بات بھی منوا لیتے ہیں۔جو اپنی بات منوانے میں عمر گنوادیتے ہیں وہ اپنی ذات بھی گنوا لیتے ہیں۔جو پانے کے لئے مضطرب رہتے ہیں وہ کھونے پہ بےچین ہو جاتے ہیں۔ جن کا حاصل ان کا مقصود نہ ہو، ان کا مقصد لا حاصل رہتا ہے۔جو   برترسے حسد کرتا ہے وہ  کم تر سے تکبر کرتاہے۔جو خالق سے محبت کرتا ہے وہ مخلوق سے نفرت نہیں  کر تا۔سچ کو ماننے والا سچ کو جاننے والا ہے۔جو بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے وہ معاف کرنے کی ہمت رکھتا ہے۔جسے اختیار کا یقین ہے اسے بے اختیاری کی پرواہ نہیں۔جسے ملنے کا یقین نہیں اس میں پانے کی شدتِ خواہش نہیں۔قرآن سے جس کا لگاؤ نہیں اللہ کی طرف اس کا جھکاؤ نہیں۔
تحریر!   محمودالحق

خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

قانون ساز ادارے عوام کی بہتری اور بھلائی کے لئے قانون سازی کے بل پیش کرتے ہیں۔جنہیں باری باری دونوں ایوانوں میں پیش کیا جاتا ہے ۔ جہاں بحث و تمحیص کے بعد دو تہائی اکثریت سے منظوری کی آزمائش سے گزرنا ہوتاہے۔ اخبارات الگ سے ان  کے قابل عمل ہونے یا نہ ہونے پر مناظرے کراتے ہیں۔جہاں علم و دانش رکھنے والے اپنی اپنی عقل کے مطابق اس کے حق یا مخالفت میں رائے زنی کرتے ہیں۔۱۹۷۳ کے آئین پاکستان میں کی گئی  ترامیم کا عوام کو کیا فائدہ پہنچا ۔ یہ عوام کی بگڑتی معاشی و اقتصادی اور معاشرتی و سماجی  صورتحال سے عیاں ہے۔قانون ساز ادارے حکومتی اختیارات میں کبھی اضافہ تو کبھی کمی  سے بغلیں بجاتے رہے۔مگر عوام بچوں کی طرح منہ میں خالی چوسنی لئے دودھ بھرے فیڈر کے انتظار میں کبھی ایک کا منہ دیکھتے تو کبھی دوسرے کا۔آخر میں لالی پوپ ہی سے گزارا کرنے کی عادت نے انہیں صبر و شکر کی بجائے برداشت کرنے کا خوگر بنا دیا۔جس کی زندہ جاوید اور تازہ مثال ماضی قریب کی پارلیمنٹ کے اجلت میں پاس کئے گئے قوانین کی مثال ہیں۔جس میں سرفہرست  سپیکر صاحبہ کا اپنے لئے حاصل کی گئی تاحیات مراعات ہیں جو عوام کے خون پسینہ سے کمائی گئی کمائی سے ہمیشہ ادا کی جاتی رہیں گی۔۷۷ کروڑ کے قرضہ  کی معافی تو کسی کھاتے میں ہی نہیں۔اپنے ہاتھوں سے اپنی دولت لٹانے والی ایسی زندہ دل قوم شائد کسی اور ملک کے نصیب میں نہیں۔ جس نے لوٹنے والوں کو بار بار دعوت یلغار دی ہو۔کابل کے حکمران ظہیرالدین بابر نے ۱۵۲۶ میں جب ابراہیم لودھی کو شکست دی تو ہندوستان کے خزانے سے کابل کے ہر فرد کو ایک ایک اشرفی  بانٹی گئی تھی۔ مگر آج کا حکمران کتنا خودغرض ہے کہ وہ لوٹے گئے مال سے ایک روپیہ بانٹنا بھی گناہ سمجھتا ہےیا وہ پاکستان کے عوام کو کابل کے عوام سے زیادہ خوددار جانتا ہے کہ وہ ورلڈ بینک سے خیرات تو لے لیں گے مگرلوٹے ہوئے مال کو اپنے لئے حرام سمجھتے ہیں۔اسی لئے وہ لوٹا ہوا ایک ایک روپیہ بحفاظت اپنے کاروبار اور وارثوں میں بانٹ دیتے ہیں۔جن پر قوم بری نظر اُٹھا کر نہیں دیکھتی۔سیاسی ہمدردوں کی دل آزاری میرا مقصود نہیں بلکہ الیکشن کی آمد آمد ہے تو ایک مضمون جو میری نظر سے گزرا  اس کے چند اقتباس سب کے ساتھ شئیر کرنا چاہتا ہوں۔  یہ  ۸ نومبر ۱۸۶۴ کے امریکی انتخابات میں ابرہام لنکن کی کامیابی کا  احوال ہے ۔ جب سیاسی پنڈتوں نے لنکن کی شکست پر مہر ثبت کر دی تھی۔ انتخابات میں حیران کن کامیابی کے بعد صدر لنکن نے ایوان نمائندگان سے 13ویں ترمیم منظور کرانا اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔امریکہ کی تاریخ کا سنگین ترین بحران مسئلہ غلامی کے باعث پیدا ہوا تھا۔ اب وہ اپنے تمام تر سیاسی تدبر اور تجربے سے یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتے تھے۔ تاہم ایوان نمائندگان میں ترمیم منظور کرانا بڑا مشکل تھا کیونکہ حکومت کو دو تہائی اکثریت حاصل نہ تھی۔ صدر لنکن نے بڑی عرق ریزی سے اپنی حکمت عملی تیار کی کیونکہ وہ غلامی کے بل کو پالیمنٹ سے منظور کروا کر ملک کو  ریاستوں کی باہمی جنگ اور سول وار کا خاتمہ کر کے ملک ٹوٹنے سے بچا سکتے تھے۔ انہیں قدرت نے موقع فراہم کیا اور اس نے جیت کر امریکہ کی تاریخ کا  تیرویں ترمیم کا بل پاس کروا لیا جس میں غلامی کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا گیا۔ملک بچانے کے لئے اور خانہ جنگی کے خاتمہ کے لئے لنکن کے لئے تیرویں ترمیم کا بل پاس کرانا نہایت ضروری تھاجس کے لئے پہلے اسے مطلوبہ تعداد میں ریاستیں چاہیئے تھیں۔ ریاست نیودا کی یونین میں شمولیت سے آئینی طور پر ریاستوں کی وہ تعداد پوری ہوجاتی جو ترمیم کی منظوری کے لیے درکار تھی۔ جس کے تین ارکان سے اس نے رابطہ کیا ۔دو نے انٹرول ریونیو کلکٹر بننے کی خواہش ظاہر کی۔ تیسرا نیویارک کسٹم ہاؤس میں تقرری چاہتا تھا۔ لنکن نے تینوں کی مانگیں پوری کرکے ان کی حمایت حاصل کرلی۔ جنوری ۱۸۶۵ میں انہیں مزید چودہ ووٹوں کی ضرورت تھی۔چنانچہ لنکن نے غلامی ختم کرنے کی خاطر اپنے ایک مخالف ریاست میسوری کے رکن کے سامنے جھکنے کا فیصلہ کرلیا جو سو غلاموں کا مالک تھا۔ اور غلامی کا مخالف تھا۔ لنکن اس سے ملے اور  بتایا کہ اگر تیرہویں ترمیم منظور نہ ہوئی، تو امریکہ ٹوٹ جائے گا۔ اس نے جذبہ حب الوطنی کے باعث ترمیم کی حمایت کر دی۔ انھیں ترغیب دینے کی خاطر میسوری سے وفاقی جج کی نشست خالی رکھی گئی جو ترمیم کو ووٹ دیتے،انہی کی پسند کا (موزوں) جج تعینات کیا جاتا۔ 13ویں ترمیم منظور کرانے کے لیے صدر لنکن نے سیاسی عنایات و نوازشات کا سلسلہ جاری رکھا ۔ مخالف جماعت ڈیمو کریٹک رکن، موسز اوڈیل نے ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالنے کا اعلان کیا،تو لنکن نے اسے ریاست الینائے میں نیول ایجنٹ (سرکاری افسر) بنا دیا۔ ریاست کنکٹکی کا رکن، جارج یمین غلامی کا زبردست حامی تھا۔  لیکن وہ جب 13ویں ترمیم کا حمایتی بنا، اسے ڈنمارک میں امریکی سفیر بنا دیا گیا۔ یوں لنکن نے اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر تیرویں ترمیم کا بل دو تہائی اکثریت سے دو ووٹ زیادہ  حاصل کر کے منظور کروا لیا جو امریکہ کی تاریخ کا ایک بڑا کارنامہ تھا ۔ جس نے ابرہام لنکن  کو  ہیرو بنا دیا۔  اگلے دو ماہ میں امریکی خانہ جنگی  کا خاتمہ ہوا۔ تفصیل دینے کا مقصد یہ تھا کہ لنکن نے بھی مطلوبہ ووٹ حاصل کرنے کے لئے نوازشات کا راستہ اختیار کیا۔ مگر ان نواشات کا براہ راست تعلق مفاد عامہ اور ملکی دفاع تھا۔ ذاتی عناد ، مخالفت ، خودغرضی ، اقربا پروری کا شائبہ نہیں پایا جاتا وہاں۔ خلوص نیت سے کئے گئے تمام اقدامات عوامی تحسین و پزیرائی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔ تقریبا ڈیڑھ سو سال پہلے انہوں نے ملک بچانے کا ایک بہترین راستہ چنا۔ جس کی بدولت وہ آج بھی یونائیٹڈ ہیں۔ہمارا ملک روزانہ ایسی دھمکیوں سے گزرتا ہے کہ اب گئے کہ گئے۔مگر آزمائے ہوئے تمام  لیڈر ،حکمران تو کئی بار بنے مگر رہنما نہ بن سکے۔ جو ملک و قوم کو اس دلدل سے نکال سکتے۔ ملک ٹوٹنے کی تلوار آئے روز اخبارات کی شہ سرخیوں پر لٹکی رہتی ہے۔اتنا لکھنے کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ  تمام پارٹیاں اسمبلی میں بیٹھ کر ہر ایرے غیرے قانون کو بلا چوں چراں جو پاس کرتی ہیں جن کا براہ راست تعلق عوام کی بھلائی سے نہیں ہوتا انہیں ایک نہ ایک دن تو سوجھ بوجھ رکھنے والے محب وطن اکثریتی عوام کے ووٹوں سے  واسطہ پڑے گا جو انہیں  چھٹی کا دودھ یاد دلا دیں گے اور انہیں یہ سبق کبھی نہیں بھولنے دیں گے کہ پارلیمنٹ کا کام عوام اور ملک کی بھلائی کے لئے قانون سازی کرنا ہے نہ کہ سپیکریا ارکان کی گھریلو ملازمین کی تنخواہوں اور گھریلو عیاشیوں کے لئے ہزاروں لٹر پٹرول کی فراہمی  کا بندوبست کرنا۔جہاں کبھی صدر بے اختیار کیا جاتا ہے تو کبھی وزیراعظم۔ اختیارات کبھی ایک محل میں ہوتے ہیں تو کبھی دوسرے محل میں۔جہاں بلدیاتی نظام کبھی ہوتا ہے تو کبھی نہیں ہوتا۔۶۲، ۶۳ پہلے آئین میں تھی اب اخباروں میں ہے۔پہلے کام چھ دن تھا بجلی سارا دن ، اب کام پانچ دن ہے تو بجلی آدھا دن سے بھی کم۔حالانکہ  دو اڈھائی دن سے زیادہ کام کی گنجائش نکلتی نہیں۔ ڈاکٹر اصلی ہیں تو دوائیاں جعلی۔اسمبلی اصلی تھی تو ممبر جعلی ڈگری والے۔کوئلوں میں دلالی ہے تو جہازوں آبدوزوں میں کمیشن۔ بھوکےغریب کے لئے لفظ رشوت  سےذلت ، امیر کے لئے تحفہ تحائف سے عزت۔پاکستان کی سیاست میں جھوٹ چلتا ہے مگر ملک میں رہنما جھوٹا نہیں چل سکتا۔ کیونکہ ملک جھوٹے  وعدوں کی بیساکھی پر  زیادہ دیرنہیں کھڑا ہو سکتا۔قیام پاکستان سے قبل قائداعظم کی تقریر پر ایک بوڑھا تالیاں بجا رہا تھا ، قریب کھڑے شخص نے اس سے پوچھا بابا جی آپ کو قائداعظم کی انگریزی تقریر کی سمجھ آتی ہے؟بوڑھے نے کہا نہیں! مجھے انگریزی نہیں آتی مگرمجھےیقین ہےکہ یہ شخص سچ بول رہا ہے۔ایسے ہوتے ہیں سچے لیڈر۔سب سے پہلے ملک کے رہنماؤں کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ سچ بولتے ہیں۔ اگر نہیں تو پھر ان کے وعدے  پر صرف اتنا ہی کہوں گا۔ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

فلم کا ٹریلر 11 مئی کو چلے گا

گیارہ مئی کے انتظار میں عوام سانسیں روکی بیٹھی ہے۔ حساب کتاب لگائے جارہے ہیں پہلے شخصیت پھر پارٹی کو تولا جا رہا ہے ۔ کون ہو گا وہ خوش قسمت جس کے سر پر جیت کا ہما بیٹھے گا۔ جو اکیلا وزیراعظم ہو گا پارٹی اس کی وزیر مشیر ، خاندان کے لوگ بھی بہتی گنگا میں کشتی ڈالے ساتھ ہوں گے۔ مال مفت دل بے رحم کا نعرہٗ مستانہ ہو گا۔ الیکشن کسی سیاسی جماعت کے لئے امتحان سے کم نہیں ہوتے۔ مگر کیا کہیئے اس امتحان کے ۔نہ قلم نہ کاغذ ۔ کاروائی صرف وائٹ پیپر۔
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں 
سکول میں ایک کلاس میں فیل اور کم از کم نمبر لے کر پاس ہونے والے  اگلی جماعت میں ڈاکٹر انجینیئر یا سی ایس پی  افسر بننے کا خواب نہیں دیکھتے۔ مگر سیاست نام ہی خواب دیکھنے کا ہے۔ ایسی پارٹیاں  جن کے کامیاب امیدوار ہر الیکشن میں چنگ چی میں پورے سما جائیں۔ 18 کروڑ عوام کو جہالت کے اندھیروں سے نکالنے کا عزم رکھتے ہیں۔ ان کےبلند و بانگ دعوے کم از کم میرے جیسے تاریخ کے ایک کمزور طالبعلم کی سوچ سے بہت اونچے رہتے ہیں۔
کیا ایسا ممکن نہیں کہ قوم کا ایک فرد ہونے کے ناطے وطن کے لئے درد دل رکھ کر فیصلہ کریں کہ 65 سال میں جو کھویا اسے آئندہ پانچ سال میں حاصل کر لیں۔ مگر کیسے یہاں جیتنے کے لئے سر دھڑ  کی بازی ہے۔  ایک باری لینے پر بضد ہے تو دوسرا بار بار باری لینے کی دھمکی دیتا ہے۔ عوام 8 گھنٹے پنکھے کی ہوا لیتے ہیں سولہ گھنٹے کوسنے دیتے ہیں۔ جن کے گھروں میں جنریٹرز کھٹ کھٹ چلتے ہیں وہ ابھی کسی نتیجہ پر نہیں پہنچے کہ ملک کے عوام کا کوئی جائز مسئلہ بھی ہے یا اس قوم کو خوامخواہ رونے پیٹنے کی وہی پرانی عادت  جو پچھلے 65 سال سے ساتھ چپکی ہوئی ہے۔
الیکشن کے نتائج کئی لوگوں کے لئے اتنے اہم نہیں ہوں گے کیونکہ ان کےگھروں میں کوئی بھی بھوکا نہیں سوتا۔ کوئی بے روز گار نہیں ہے۔ تعلیمی ادارے کی کوئی شکائت نہیں البتہ ذہانت کو الزام دیا جا سکتا ہے۔ لوڈ شیڈنگ میں اضافہ نا گزیر ہو گیا تو ٹھنڈے ملک  جانے میں کوئی امر مانع نہیں۔ مگر کیا کریں وطن کی گرم ہواؤں نے ہمیں کبھی جلایا نہیں۔ درجن بھر گلاس پانی جسم کے اندر اور بالٹی بھر پانی جسم کو باہر سے تمام بیماریوں سے پاک کرتا رہا۔ ٹھنڈے مشروبات الگ سے توانائی بحال رکھتے رہے۔
سیاست کی گرمی مئی کے مہینہ میں جوبن پر ہو گی۔ تجزیوں تبصروں سے شدت میں اضافہ تو ہو سکتا ہے مگر تسلی و تشفی اور راحت نہیں۔ قوم کو فیصلہ کرنا باقی ہے۔ انہوں نے ملک کا وزیراعظم منتخب کرنا ہے یا ملک کے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے یا پھر وہی روائتی مخاصمت ، مخالفت جس کا پاکستان اور اس کے چاہنے والوں کو کبھی بھی فائدہ نہیں ہوا۔
اگر سابقہ حکومت ناکام ریاست کا وجود چھوڑ جائے تو اسے ٹھیک اور بحال کرنے کے لئے اگر امریکہ کے گورے ، سیاہ فام مسلمان کے سیاہ فام بیٹے کو اپنا صدر دوسری بار بھی چن سکتے ہیں تو پھر پاکستان میں بلند مرتبی کا ٹھیکیداری نظام کیوں۔ جہاں سیاسی وراثتی سپوت اور سپوتری بندر بانٹ کے لئے تماشا کرتے ہیں۔
 ہمیں دوسروں کے نظریات یا پارٹی وابستگی جاننے کی بجائے نوشتہ دیوار پڑھنا چاہیئے کیونکہ  ہر پانچ سال بعد لاکھوں نوجوان بے روزگاری اور غربت کا ایندھن بنیں گے۔ جو جھوٹے وعدوں اور دلاسوں سے بہلائے نہیں جا سکیں گے۔ ایک شہر کی فوٹو دکھا دکھا کر ان پر احسان عظیم جتایا نہیں جا سکتا ۔ شخصیت پرست جماعتیں اور نظریات ہمیشہ غالب نہیں رہتیں۔ اکیسویں صدی کا نوجوان کئی صدیوں پہلے نازل فرمان پر تو آنکھیں بند کر کے چل سکتا ہے مگر 65 سال میں ہر پل بدلتی شخصیتوں پر اعتبار کرنا اس کے لئےمشکل ہوتا جا رہا ہے اور وہ بالآخرتعداد میں اتنے ہو جائیں گے کہ تبدیلی کے لئے کسی بھی سچے ایماندار انسان کو اپنا مرکز بنا لیں گے۔ آج کم تر برا جیتے گا تو اس وقت کم تر اچھا ہارے گا۔ فلم شائد دیر میں چلے مگر قوم اس فلم کا ٹریلر 11 مئی کو دیکھ لے گی۔

ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار

بڑے بڑے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں جبتک کہ اس میں اللہ تبارک تعالی کی رضا شامل نہ ہو۔ تاریخ شاہد ہے کہ مٹھی بھر لوگوں کی جماعت ایک کثیر فوج کے مد مقابل کھڑی ہو گئی۔اس امید کے ساتھ کہ انہیں کامیابی نصیب ہواگر ان کا اللہ چاہے تو۔ تو اللہ تبارک تعالی نے ان کے بھروسہ اور اعتماد کو پزیرائی بخشی اور وہ کامیابی سے سرخرو ہوئے۔ کہانیاں کامیابیوں کی زبان زدعام رہتی ہیں۔ قیاس وہم و افسوس کا شکار ہوتے ہیں۔
باطن کو ظاہر سے کمزور سمجھنے والے باطن کی طاقت سے آگاہ نہیں ہوتے۔ ظاہر نمود و نمائش سے مزین ہوتا ہےاورباطن مخفی قوتوں سے آراستہ۔ آنکھوں کو وہی دکھایا جاتا ہے جو وہ دیکھناچاہتی ہیں۔ کانوں کو وہی سنایا جاتا ہے جو وہ سننا چاہتی ہیں۔ بہلانے پھسلانے کے نت نئے انداز ترنم آبشار کی لگن دھن رکھتے ہیں۔ جمہوریت میں انسانوں کو گنا جاتا ہے تولا نہیں۔ مگر جو قوم تبدیلی کے لئے اُٹھتی ہے وہ گنی نہیں جاتی بلکہ جزبہ و جنوں سے جانی جاتی ہے۔ جہازوں ، گاڑیوں، مکانوں کو گنا جاتا ہے پھر ان میں انسانوں کو گنا جاتا ہے۔ سورج کے گرد طواف کرتی زمین فاصلوں کے ماپنے سے حقیقت شناسی کا سبق دھراتی ہے۔ جس کی حدوں سے باہر نکل کر ہر شے بے وزن ہو جاتی ہے۔ ہوا میں اُڑتے پرندے رائٹ برادرز کو زمین سے اُٹھنے میں تحریک کا سبب ہیں تو نیوٹن کو سیب زمین پر گرنے سے۔ بادل اپنے وقت پر گرج چمک کر برس جاتے ہیں۔ نفع و نقصان کا تخمینہ لگانا انسان کے جمع وتفریق کے فارمولہ کےتحت ہوتا ہے۔ زیر زمین رہنے والے کیڑے مکوڑے جڑی بوٹیوں کی افزائش سے تقویت پاتے ہیں اور ان سے پرندے زندگی۔ ہریالی سے چوپائے صحت و تندرستی پاتے ہیں تو درندے ان کے خون سے۔ انسانوں میں بے حسی ، بے مروتی، خیر وشر کی تمیز کا نہ ہونا، سچ  و جھوٹ میں فرق نہ کرنا، حرام و حلال میں تمیز نہ کرنا، تحریص و ترغیب کی تحریک کا موجب ہو جاتے ہیں۔ پھر ایک گناہ زندگی بھر کے پچھتاوے سے بھی دھونے میں ناکام رہتا ہے۔
لینے اور دینے والے عہد وپیماں کی بجائے ضابطہ اخلاق کے بندھن میں بندھے ہوتے ہیں۔ قربانی دینے والے ، ایثار کرنے والے ہمیشہ دوسروں کی نظر میں سر بلند نہیں ہوتے۔ جب تک کہ اللہ تبارک تعالی کی رحمتیں ان پر نفع کی صورت میں آشکار نہ ہوں جو دن کی روشنی کی طرح عیاں ہوتے ہیں۔ حادثہ کا شکار ہونے والے جہاز یا گاڑی میں منزل تک پہنچنے کا ارادہ کرنے والےکسی مجبوری سے سفر نہ کرنے والے حادثہ کی روح فرسا خبر کو  بد قسمتی  اور خوش قسمتی سے تعبیر کرتے ہیں۔ تیز ہواوں کے نتیجے میں گرنے والے پتے بد قسمت نہیں ہوتے اور نہ ہی درختوں پر رہنے والے خوش قسمت ۔ یہ ایک خود کار سسٹم کے تابع ہیں۔ پانی روشنی اور ہوا لے کر پروان چڑھنے والےپتے ٹہنیوں اور تنوں کی عمر نہیں پاتے۔ بار بار جنم لیتے ہیں بار بار ختم ہوتے ہیں۔ جس دن مٹی جڑ سے رشتہ توڑ لیتی ہے پھر جنم جنم کے سلسلے رک جاتے ہیں۔ جب تک زمین ہے جنم ہوتےرہیں گے۔ جب کائنات نے زمین کو چھوڑ دیا نئے جنم کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔
روشی پانی ہوا سے زندگی پانے والا ایک پتہ روشنی پانی ہوا سے زندہ رہنے والے ایک انسان سے کیونکر عظیم ہو سکتا ہے۔ جبکہ دونوں جنم لینے اور ختم ہونے کی فطرت پر ہیں۔عظیم وہ ہے جوعظمت پر کامل یقین رکھتا ہے۔ وہ عظمت جو اسے وسیلہ سے ملی۔ جس میں مرتبہ حسن اخلاق کو حاصل تھا۔ احترام صداقت اور ایمانداری سے تھا۔ قدرومنزلت نام و نسب کی بجائےشرافت ودیانتداری سے تھی۔ بشر تو سبھی تھے مگر عظمت کے مینار کوئی کوئی تھے۔
پیدائش و اموات کے درمیان افزائش کے مراحل تعلیم و تربیت کے پھلوں سے ذائقہ و خوشبو سے مزین ہوتے ہیں۔ تہذہبی اور ترتیبی معاشروں میں حسن اخلاق اور اخلاص کی کیاریاں پھولوں کوسینچتی ہیں۔ جن معاشروں میں یہ اقدار نہیں ہوتیں وہ جنگل کی مانند بے رنگ و بے ترتیب ہوتے ہیں۔ جو کٹنے سے پہلے گنے جاتے ہیں پھر کٹ کر تولے جاتے ہیں۔ کیاریوں میں اُگے پھول کثیر تعدادی سے آنکھوں کو ٹھنڈک نہیں پہنچاتے بلکہ خوبصورت رنگوں کے امتزاج کثیر سے روح کو تسکین دیتے ہیں۔ تحریر : محمودالحق    

طوطی اور سوداگر

سندر خانی انگور ذائقہ اور مٹھاس میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ انورٹول آم خوشبو اور ذائقہ میں کسی سے کم نہیں۔اگر آم پھلوں میں بادشاہ کہلاتا ہے تو انگور بھی کسی رانی سے کم نہیں۔
لیکن اعلان وفا سے پہلے دونوں ہی کسی دشمن سے کم نہیں ہوتے۔ایسے دانت کٹھے کرتے ہیں کہ کسی جلاد سے کم نہیں ہوتے۔ اعلان وفا چند دنوں سے زیادہ نہیں ہوتا مگر یہاں تک سفر طے کرنے میں سال بھر میدان جنگ کا منظر پیش کرتے ہیں اور بدلتے موسموں کی تغیرات سے بچتے بچاتے انجام صبر کی مثال بنتے ہیں۔
سال بھر انتظار کے بعد حسن کے چرچے ہفتہ بھر ہی سننے میں رہتے ہیں۔ جن کے مقدر میں مٹھاس نہیں ہوتی ، وہ کٹھے ہی مرتبانوں کی زینت بن جاتے ہیں۔وہاں وہ منصب بادشاہت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
رانی جب ڈھل جائے تو گلے سڑے ہوئے پانی سے نشہ کی لت کی شکار ہو جاتی ہے۔نرالا دستور ہے زمانہ کاایسی حالت میں رانی کی بیٹی بن کرتمکن چیرہ دست ہو جاتی ہے۔معاملہ کچھ بھی ہو۔ بات سمجھنے کے لئے کہانی ضروری ہوتی ہے۔
اگر بغداد کا سوداگر ہندوستان کی طوطیوں کو ایک قیدی طوطی کا پیغام پہنچاتا ہے تو اسے قید سے رہائی کی ترکیب سوداگر کے زریعے پہنچا دی گئی۔ جسے سوداگر کی قید میں روزانہ مرتی ہوئی طوطی نے خود کو مار کر قید سے رہائی کا پروانہ پا لیا۔ جسے بظاہر طائر کی عقلمندی سے رہائی کی حکایت بنا دیا گیا۔  مولانا رومی نے اپنی مثنوی میں تشبیہات اور استعارات میں ایسی کئی کہانیاں بیان کی ہیں۔
ان کے نزدیک طوطی تو دراصل ایک خوبصورت ، خوش گفتار اور دل کو چھو لینے والے حسن سے آراستہ روح تھی جو نفس کی سلاخوں سے بنے جسم کی قید میں تھی۔ جس نے نفس کی قید سے رہائی کا پروانہ تحسین و رغبت آدمیت کی نفی سے حاصل کیا۔ حسن جب نچھاور ہونے کے لئے حد سے بڑھ جائے تو رغبت انسانیت صیاد بے رحم بن کر دبوچ لیتا ہے۔پھر وہ نفس کی سلاخوں کے پیچھے قیدی بن کر رہ جاتا ہے۔
دوسروں سے آزادی کا نعرہ بلند کرنے سے قیدی سوداگروں سے رہائی نہیں پاتے بلکہ اس زندگی کو فنا کر دیتے ہیں جو صیاد کو دلربائی عطا کرتی ہے۔ خوبصورت اور خوش الہان پرندے قید و بند کی صعوبتوں سے گزرتے ہیں مگر ملکہ ترنم کوئل نہایت خوبصورت ، دلکش اور کانوں میں رس گھولنے والی آواز کے باوجود کھلے درختوں پر آزاد رہتی ہے۔ اس کی آزادی کا راز یہ ہے کہ وہ قید ہونے سے پہلے صیاد کے ہاتھوں میں ہائی بلڈ پریشر سے فنا ہو جاتی ہے۔ اس کا ایسے مر جانا آزاد زندگی کی علامت ہے۔
کھلے روشندان سے کمرے میں قید ہونے والی چڑیا آزادی کے لئے چھتوں ، پنکھوں سے جس طرح ٹکراتی ہے، وہ آزادی کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ پیدائشی قیدی طوطا پنجرے کا دروازہ کھلا ملنے پر طوطا چشم ہو جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پیدائشی آزاد روح انسانی ، نفس بدن کی قید میں بھی خوشی کے ترانے گنگناتی ہے۔ اس کی آزادی اس کے
 تفکر میں ہے، صبر میں ہے ، شکر میں ہے۔
محبت میں ہے، قربت میں ہے، عبادت میں ہے۔
اقرار میں ہے، دلدار میں ہے، ابرار میں ہے۔
آسمان میں ہے، ایمان میں ہے، قرآن میں ہے۔
سبب میں ہے، طلب میں ہے، قلب میں ہے۔
احد میں ہے، حمد میں ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے۔
کامیابی قدم چومے تو دولت و شہرت کا پہلا شکار وہ خود ہوتا ہے۔ زر زمین کی فرمائش پر پہلے خود قربان ہوتا ہے۔ پھراپنی روح کو نفس بدن کا قیدی بنا دیتا ہے۔ ظاہری تبدیلیوں سے ارواح انسان کو نفس کی غلامی کا درس دیتا ہے۔ اس کی نشانیوں میں ایک نشانی ضرورتوں کا بڑھ کر آسائش بن جانا ہے۔ معاشرے کے لئے وہ آلائش بن جاتی ہیں۔ پھر ہر ایک کی وہ فرمائش بن جاتی ہے۔
انسان کے لئے پیغام انسانیت ہے، پیغام آدمیت ہے۔آدمی نے مادیت کا پیغام  خود سے پہنچانا شروع کر دیا ہے۔ جس کی اساس مادہ پرستی ہے۔ مادہ پرستی نفس کے درون قید خانہ کی بالکونی ہے۔ جہاں سے روح کی آمدورفت کی راہ میں دعوت گمراہی کا انتظام ہوتا ہے۔
وجود کو آلائشوں سے پاک رکھنے کے لئے آزادی کی جنگ لڑی جاتی ہے جس سے انقلاب برپا ہوتا ہے۔ طوطی کی طرح خود کو فنا کر کے بقاء پائی جاتی ہے اور اس کے لئے نفس کے سوداگر سے آزادی کا مفہوم حاصل کرنا ہوتا ہے۔
قیدیوں کو دیکھ کر خوش نہیں ہوا جاتا بلکہ انہیں قید سے رہائی کا راستہ دکھایا جاتا ہے نا کہ سوداگر کے ہاتھ میں اپنی ہی آزادی سونپ دی جائے۔
ملک آزاد ہوتے ہیں۔ جنگل آباد ہوتے ہیں۔ صرف طوطے قید ہوتے ہیں۔ ہاتھوں کی چوری جنہیں بادشاہ اور رانی سے بڑھ کر مٹھاس کا نشہ دیتی ہے اور دوسروں کو بھی اسی راستے کا مسافر بناتی ہے جس کی منزل قید ہو۔


تحریر : محمودالحق


روشنیوں کا شہر



قمقموں سے بھرا ،چاروں اطراف روشنی پھیلاتا،قربتوں میں جگمگاتایہ شہر میرے پاک پروردگار کا بنایا ایک شاہکار ہے۔ روشنی کے سامنے رہوں تو میرا عکس مجھے روشن کر دے۔پلٹ جاؤں تو ایک جہاں روشن ہو جائے۔وہ ٹمٹماتے تاروں کے نظارے روشن کر دیتی ہے۔گھنٹوں انہیں دیکھنے سے جی نہ بھرے۔آنکھیں چکاچوند روشنیوں کے جلوے سے منور ہو جائیں۔بینائی کا سفر روشنی کی رفتار سے تیز ہے۔جو پلک جھپکنے میں کروڑوں میل کی مسافت طے کر لیتی ہے۔اگر جنت کا منظر آنکھوں میں بسا لے تو تسکین ایسی کہ نشہ ہونے لگتا ہے۔
ایک یہ بدن پل پل اکتاہٹ و بیزاری کی لت کا شکار رہتا ہے۔قدم اُٹھانے کی غلطی کریں تو گنتی پر اتر آتا ہے۔ہزار قدم کے سفر میں پڑاؤ کی تمنا رکھتا ہے۔دوزخ کے تصور سے ہی بدن آگ میں جلنے لگتا ہے۔ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ اس کی جنت تو یہی دنیا ہے، مخملی بستر ، آرام دہ سفر، خوش رنگ لباس اور خوشبو بھری خوش ذائقہ خوراک ۔مٹی میں مل بھی جائے تو ایک آواز سے پھر بننے میں کوئی مشکل نہیں۔
انسان چکا چوند روشنیوں میں جینا چاہتا ہے۔مرکز کے قریب جہاں اسے عکس ویسا ہی نظر آئے جیسا وہ دیکھنا چاہتا ہے۔آئینے میں نفس کی آنکھ سے خوبصورتی کی منظر کشی کرتا ہے۔زمین پر بڑھتے گھٹتے سائے تو اسے نظر میں نہیں جچتے۔ جسے مبہم قرار دے کر کسی توجہ کے قابل نہیں سمجھا جاتا۔مٹی اسی کا نشان بناتی ہے جس پر اسے گرفت کرنی ہوتی ہے۔
جب انسان کے بس میں کچھ نہیں پھر وہ اپنے بس میں کرنا ہی کیوں چاہتا ہے۔ آقا غلام کا دور جا چکا۔اب حاکم محکوم کا دور ہے۔ حاکم مراعات یافتہ ، با اختیار طبقہ بھی کہلاتا ہے اور محکوم ،محروم وبے اختیار بھی سمجھا جا سکتاہے۔ جو بڑا نسان بھلے نہ بن سکے مگر خواب آنکھوں میں سجا کر بیوقوف ضرور بنتا ہے۔ دھوکہ انہیں دیا جاتا ہے جنہوں نے اعتبار کی خلعت پہنی ہو۔جھوٹ تب بولا جاتا ہے جب بے اعتباری کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے۔
سورج کے مشرق سے طلوع ہونے اور مغرب میں غروب ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔پھر روشنی اور ہوا کوگھروں میں داخل ہونے کے لئے دستک کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ جس پر شک نہیں اس کے راستے مسدود کر دئیے گئے۔ جس پر اعتبار نہیں انہیں گھروں میں بٹھا کر قفل لگا دیئے گئے۔ نقب لگانے کا موقع خود سے فراہم کر دیا اور بدن کی چیخیں سن کر بلبلا اُٹھے۔کیونکہ وعدے ہمیشہ عوامی ہوتے ہیں قومی نہیں۔ جب قفل بندعوام آزاد قوم نہ رہے تو وعدہ کرنے والے قومی نہیں ہوتے۔جو عوام آئینے میں عکس دیکھ کر پھولے نہ سمائے وہ انسانیت کے اس درجے تک جا پہنچتا ہے جہاں جھوٹ بالکل سفید ہو جاتا ہے دن کے اجالے کی طرح۔
کتابیں کھول کر معنی و مفہوم تلاش کرنے سے مخلوق مخلوق سے بیگانی ہوتی ہے۔خالق سے پہچان ایمان کی بدولت ہوتی ہے۔کروڑوں میل کی مسافت طے کرنے والی آنکھیں چند میٹر سے آگے زندگی کا مفہوم جاننا نہیں چاہتیں۔گھر بار ، دولت کے انبار اور کار ہی نعمتوں میں شمار رہ جاتی ہیں۔ستاروں پر کمند ڈالنے کے دعویدار اپنا عکس دیکھنے سے فارغ نہیں ہو پاتے۔آسمان پر جگمگ جگمگ کرتے تارے انسانی آنکھ کی محبت سے محروم رہ گئے۔جن کے لئے یہ منظر سجایا گیا انہوں نے مہمان گھروں میں بٹھا کر قفل چڑھا رکھے ہیں۔ یہ شہر انوار ہے جہاں روشنی کا مکمل اعتبار ہے۔ بندشیں صرف نیند سے ہیں۔ مگر رہنا وہاں پسند کرتے ہیں جہاں بندشیں غفلت سے ہیں۔قفل کھول کر گھر سے باہر کھلے آسمان تلے بیسیوں تارے ٹمٹما کر اپنائیت کا اظہار کرتے ہیں۔ مگر قفل کھولنے والے بیس ملنے بہت مشکل ہیں۔ اگر انسان نقصان اُٹھانے والا نہ ہوتا تو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھی نہ ہوتے۔جنہیں دین مکمل مل گیا دنیا ان کی آج بھی نا مکمل ہے۔جہاں وعدوں کا پاس نہیں سچ کا ساتھ نہیں، وہاں جھوٹے ،وعدہ خلاف بے ایمان بھی ہوں گے اور کرپٹ بھی۔
روشنیوں کے شہر میں واپس لوٹنا ہو گا جہاں دیدہ ور کو پیدا ہونے میں ہزاروں سال کے انتظار کی سولی پر نہ لٹکنا پڑے۔ نظر کے وہ جلوے قفل عقل کو توڑتے ہوئے قلب رب کے ذکر کے ورد میں روشن ہوتے جائیں۔


تحریر : محمودالحق

پھول کھلتے ہیں گلستان میں جلتا ہے بیاباں


پھول کھلتے ہیں گلستان میں جلتا ہے بیاباں
رحمتوں کی ہر دم نوازش شکرِ کلمہ پر ہے زباں

گلِ نام میں کیا رکھا ہے خوشبو تو خود نامہ بریں
آندھی کے آم چنتے جاؤ بے پرواہ ہے باغباں

آنکھ سے گر لہو ٹپکے گوہر فشاں بن بھڑکے
نظر کرم ہو اس کی آگ بھی ہو جائے روحِ پاسباں

گھر یہ گر میرا ہے مکیں نظر میں کیوں جچتے نہیں
تن پوشاکِ مالابار قلب کیفیت غریباں

جواب پڑھ کر بھی جو سوال سے ہٹتے نہیں
اندھیروں میں بھٹکتے ڈھونڈتے پھر کیوں نیاباں

آفتاب کو دھکایا کس نے مہتاب کو چمکایا کس نے
زروں سے جو پہاڑ گرا دے وہی تو ہے نگہباں

کچھ پڑھا ہوتا کچھ تم نے بھی سمجھا ہوتا
یہ نہ بھولا ہوتا ہجومِ بھیڑ ہیں حصار غلہ باں

علم کا کال ورقِ علم کالا تحریر ہے کہاں
نقطوں پہ تحریریں لفظوں میں زمانہ علم و ادباں

۔۔۔٭۔۔۔
 بر عنبرین / محمودالحق

بہت مشکل میں ڈال دیا میرے کلامِ انتخاب کو


بہت مشکل میں ڈال دیا میرے کلامِ انتخاب کو
زمین کو ہے پردہ کھلا ہے سب آفتاب کو

چلو آج ایسے ہی میزان میں بات کرتے ہیں
روکو شاخِ شجر کو پھیلے جو گلِ بیتاب کو

جذباتِ قلب کو میری عقلِ گرہ سے نہ باندھو
قید میں رکھو ارمان جانے دو وصلِ سحاب کو

میرا گھر مجھے اچھا رہو اپنے محلِ پوشیدہ میں
چراغ تو جلتا نہیں روکو ہوا یا حباب کو

کھلی آنکھ سے جو دیکھتے وہ منظر میرا نہیں
قلب کو چیر دے قلم میرا انجمن احباب کو

ساز ردھم رنگ دھنک نہیں موم اشک بار میں
کاغذی پھولوں سے بھرتے کس خوشنما کتاب کو

۔۔۔٭۔۔۔

بر عنبرین / محمودالحق

Pages