محمود مغل

” آدھی ملاقات “​

مکّرمنا ! مدیرِ اعلیٰ : مفتی خالد محمود صاحب آداب و سلامِ مسنون برادرِ عزیز حافظ سمیع اللہ آفاقی کی وساطت سے ” مجلّہ اقراء“ (جلد دوم ، شمارہ اوّلین، دسمبر۱۱۰۲ تا جنوری ۲۱۰۲)باصرہ نواز ہوا ، رسید حاضر ہے ، قبل اس کے کہ میں مجلّہ کے بارے میں مقدور بھر معروضات سپردِ قرطاس کروں ، مدّعا بتصریفِ وقت یہ کہ پرچہ کے نگرانِ اعلیٰ حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی ، مدیرمفتی مزمل حسین کپاڈیا، مجلسِ ادارت کے محمد محمود مغلnoreply@blogger.com0

دندان ساز

دندان ساز میں خواہشوں کو کسک کی طرح ہلکی آنچ پر سلگنے کی کیفیت سمجھتا تھا۔۔قدرت کے مسلط کردہ رشتے ۔۔۔چھوت کا مریض سمجھ کر دُور رہنے لگےنفسیات دان میری بات سمجھنے سے قاصر تھے۔۔طبیب نسخوں میں اپنے خالی ذہنوں کی طرح  خالی کاغذ ہی پیش کرپاتے تھے۔۔دسمبر کی خنک راتیں جذبات میں سردلُو لگنے سے گھبرا کرکھڑکی سے آتش بازی کا نظارہ کرتے ہوئےسینے میں برانڈی کی کمی کا احساس جاگنے ہی نہیں دیتی تھیںامیدوں کامحمد محمود مغلnoreply@blogger.com1

آئندہ عشق کے شاعرنیّر ندیم سے مکالمہ

آئندہ عشق کے شاعرنیّر ندیم سے مکالمہمحفوظ رکھنا ترکِ تعلق کا تجربہآئندہ عشق میں بھی یہی کام آئے گا(نّیر ندیم )گفتگو : م۔م۔مغل نیّرندیم صاحب کا آبائی تعلق منقسم ہندوستان کے علاقہ برن(بلند شہر) سے ہے کسبِ روزگارکے لیے برسوں پاکستان ٹیلی وژن سے منسلک رہے بعد ازاں ایک نجی ٹیلی وژن سے منسک ہیں اور صحافتی فرائض کی ا نجام دہی میں مصروف ہیں ۔ نیّر ندیم صاحب کا تقریباً پورا خاندان ہی گیسوئے ادب سنوارنے محمد محمود مغلnoreply@blogger.com0

خلجان سپردِ قرطاس ------ میری ڈائری کا ایک ورق

:کتھارسس:آج نہ میں آیا ہوں نہ میرا بھوت نہ میرا ہمزاد۔۔۔ ۔ میں ایک خالی آدمی ہوں خالی گھر کی طرح جو ۔۔سائیں سائیں کرتا ہے۔۔ جو، رو نہیں سکتا۔۔ جس کا سینہ چھلنی بھی ہوجائے  تو سانس کی دھونکنی چلتی رہتی ہے۔۔۔ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو شیزوفرینیا میں مبتلا ہیں ۔۔جو ہزاروں الفاظ کے مرقع سے اپنے لیے صرف دکھ کشید کرتے ہیں۔۔میں وہ ہوں جو سینے کے جہنم کو بجھنے اس لیے نہیں دیتا کہ اس آگ کی لذّت ہی کچھ محمد محمود مغلnoreply@blogger.com2

”خواب اور تجربے“ ۔۔ از شاہد حمید

معاملہ ہے جو درپیش‘ہے وہ پیشِ نظرکوئی مثال نہیں دوسری مگر ہے بھی یہ وہ زمانہ ہے کہ اپنے احوالِ ناگفتہ بہ پر شکوہ سنج زمانہ بھر ہے۔ زمانہ معاشرے یا معاشروں کے اجتماعی وجودوں سے متشکل ہوتا ہے۔ آسانی سے یہ بات اِس طرح بھی قابلِ فہم کہی جا سکتی ہے کہ گویا ہر معاشرے کا ہر فرد شکوہ سنجی کی تصویرِ فردِ عمل بنا ہُوا ہے۔ یہ زمانہ کس کا ہے، یہ ہمارا زمانہ ہے یعنی گذشتہ زمانوں کا جدید تر زمانہ موجودہ زمانہمحمد محمود مغلnoreply@blogger.com0

بازار کی گرمی کو حّدت نہیں گردانا ----- محسن اسرار

غزل بازار کی گرمی کو حّدت نہیں گرداناقیمت کو کسی شے کی قیمت نہیں گردانا اعصاب سوالوں میں مصروف ہی ایسے تھےفرصت کو کبھی ہم نے فرصت نہیں گردانا نیلام کیا ہم نے حسّاس طبیعت کو جب دل نے تمنا کو حسرت نہیں گردانا دکھ ہجر کے کھولے ہیں بستر کی اذیّت نےتکیے کو سرہانے کی خدمت نہیں گردانا تاخیر زدہ رکھّا معلوم کے خطروں کواِدراک کی سُرعت کو سُرعت نہیں گردانا مُٹھّی میں رکھا ہم نے اُڑتے ہوئے بالوں کووحشت کو محمد محمود مغلnoreply@blogger.com7

غزل ..... عنبرین حسیب عنبر

جز ترےکچھ بھی نہیں اور مقدر میراتو ہی ساحل ہے مرا، تو ہی مقدر میرا تو نہیں ہے تو ادھوری سی ہے دنیا ساریکوئی منظر مجھے لگتا نہیں منظر میرا منقسم ہیں سبھی لمحوں میں مرے خال و خدیوں مکمل نہیں ہوتا کبھی پیکر میرا میرے جذبوں کی دھنک سے ہے سجاوٹ اس کیمیرے احساس کی تجسیم بنا گھر میرا کل وراثت یہی اجداد سے پائی میں نےفکر میراث مری ۔علم ہے زیورمیرا کس لئے مجھ سے ہوا جاتا ہے خائف دشمنمیرے ہمراہ نہیں ہےمحمد محمود مغلnoreply@blogger.com4

مرزا غالب اور ان کے طرفدار

مرزا غالب مشکل گو شاعر بھی تھے اور فلاسفر بھی۔ لیکن جب جامِ دو آتشہ کے نشہ میں شعر کہتے تھے تو کبھی کبھی کوئی لفظ یا فقرہ شعر میں محذوف بھی ہو جایا کرتا تھا۔ اگرچہ کھینچ تان کر اس شعر کے معنے تو نکل سکتے تھے مگر اس کھینچا تانی کے لیے بھی ماڈرن دماغ ہی چاہیے تھا۔ شاعر پرستی بھی ایک فیشن ہے۔ اس موجودہ زمانہ میں جب غالب بے حد ہر دل عزیز ہو گئے ہیں تو ہر شخص خواہ لائق ہو یا نالائق ان کی تائید کرنے محمد محمود مغلnoreply@blogger.com9

اردو اظہاریہ نویسوں کا اجتماع یا اجتماع ضدین

جھلکیاں محل وقوع : شمال مغربی وسطی علاقہ ناظم آباد ریستوران: اطالوی  خمیری روٹی فروش /پیزاہٹ پسِ پردہ موسیقی: بجائے آرکسٹر اکے ہندوستانی اور فرنگی ماحضر/ضیافت: اطالوی، خمیری روٹی جو باورچی حضرات کے تساہل پر  دلیل ، کہ رکابی اور دسترخوان کا تصور غائب شرکاء: راشد، عمار، عدنان (شکاری کا بلاگ مگر فی الحال تائب)، م م مغل( ناطقہ اور آئینہ کیوں نہ دوں) فہیم (اظہاریہ نویسی سے تائب)، محمد اسد، فہد کیہر (محمد محمود مغلnoreply@blogger.com25

“بادشاہ‘‘ ذوالقرنین کا کارنامہ اور مزید جگ ہنسائی

“بادشاہ‘‘ ذوالقرنین کا کارنامہ اور مزید جگ ہنسائی کرکٹ کے دلدر دور ۔۔۔ انتظامیہ حیران ۔۔ اور ذوالقرنین کا فرار۔۔یہ واقعہ بظاہر جتناسادہ نظر آرہا ہے ویسا نہیں ، ذوالقرنین کے مختلف بیانات سے اس واقعے کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں، اس موقع پر کچھ سوال سر اٹھاتے ہیں کہ ، کھلاڑیوں کا پاسپورٹ چونکہ بورڈ کی ملکیت ہوتا ہے تو اسے اتنی آسانی سے کیسے فراہم کردیا گیا، دوم یہ کہ پی سی بی کی انتظامیہ اس وقت محمد محمود مغلnoreply@blogger.com2

“راھبر“ کا ”عظیم راہی‘‘

“راھبر“ کا ”عظیم راہی‘‘  (از: م۔م۔مغل) اسلاف کا تذکرہ اور ان کی روشنی میں سفر کرنا تہذیب کے استمرار کی علامت ہے ، بد قسمتی سے زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح شعبۂ ادب بھی گزشتہ دودہائیوں سے کسی اجاڑ خلا کا منظر پیش کررہا ہے ، یہی وجہ ہے کہ سنجیدہ ادبی حلقے تہذیبی رویوں سے کٹ کر تخلیق ہونے والے ”ادب“ کی بہتات اور ”ادبِ اصل “ کی روبہ زوالی کا نوحہ کرتے پھرتے ہیں جبکہ نسلِ نو پر فی الحال یہ نوحے اثر محمد محمود مغلnoreply@blogger.com2

بَن باس کا شیر ۔۔۔فلک شیرزمان

بَن باس کا شیر ۔۔۔فلک شیرزمان ایک شعری مجموعہ کا تعارف تبصرہ : م۔م۔مغل مکڑیوں کے جالے جہاں اپنی ہیئت میں طرزِ تعمیر و تخلیق اور حسنِ آرائش پر دلالت کرتے ہیں وہیں کمزور سے تاروں کو مربوط اور منظم کرنے کا اشاریہ بھی ہیں۔کسی بھی زبان اور ثقافت کا بھی یہی کام ہے جو قدروں کے تارو بود سے مختلف طبقاتِ زندگی کو جوڑ کر رکھنے میں اپنی مثال آپ ہے ۔ ہمیں شاید ہی مکڑیوں کے جالے بننے کے علاوہ کسی اور نمایاں محمد محمود مغلnoreply@blogger.com2

تدریس زبان فارسی بذریعه خط وکتاب - خانہ فرہنگِ ایران

تعارف نامہ تدریس زبان فارسی بذریعه خط وکتاب خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران۔کراچی عرصہ دراز سے ایران و پاکستان کے برادرانہ اور دوستانہ تعلقات کو استحکام اور دوام بخشنے کے لیے دونوں برادرملکوں کے مشترکہ تہذیبی اورثقافتی ورثے کے احیاء بقاء علمی ، ادبی، ثقافتی اور لسانی روابط کے فروغ اور مشترکہ مفادات کے پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ " تدریس زبان فارسی بذریعہ خط وکتابت" بھی اس تسلسل کیمحمد محمود مغلnoreply@blogger.com2

میٹروون چینل کی لاٹھی اور ’’ شاعروں ‘‘ کا احتجاجی ڈرامہ

Sahir Lodhi recently made fun of esteemed poets, calling them "abominable to look at" and "as old as Noah" on his morning show, which also had Ambereen Haseeb Amber (Metro One News said) as one of the guests। Ambereen, who was at the time hosting Bazm-e-Shayeri, supported the whole debacle and cheered for Mr. Lodhi's use of unwarranted words that sprang from his ill-breeding of the subject he محمد محمود مغلnoreply@blogger.com0

نہ سَونا اَے دِل ----- شاہدؔحمید

نہ سَونا اَے دِل ( عیسوی سال کی شبِ آخر و اوّل) -------------------------- شاہدؔحمید آج کی رات نہ سَونا اَے دِل آج کی رات مُرادوں سے بھری آتی ہے آج کی رات سواری ہے ہَوا کے رَتھ پر غم مِٹا دیتی ہے ہر لہر خوشی کی آ کر آج کی رات نہ سَونا اَے دِل آج کی رات مُقَدَّر سے چلی آئی ہے جس سے مِلنے کے لئے ایک بَرس کاٹتے ہیں ہیں تو آزاد مگر قیدِ قفس کاٹتے ہیں آج کی رات نہ سَونا اَے دِل رنگ اور نُور محمد محمود مغلnoreply@blogger.com10

اور تم کہتے ہو ---

رنگ و نسل ایک سیاہ فام افریقی بچے کی نظم When I born, I black جب پیدا ہوا تو سیاہ فام تھا When I grow up, I black جب بڑھا تو سیاہ فام تھا When I go in Sun, I black میں جب دھوپ میں جاتا ہوں تو سیاہ فام ہوتا ہوں When I scared, I black جب میں خوف زدہ ہوتا ہوں تو سیاہ فام ہوتا ہوں When I sick, I black جب میں بیمار ہوتا ہوں تو سیاہ فام ہوتا ہوں And when I die, I still black اورجب میں مر جا ؤں گا تب محمد محمود مغلnoreply@blogger.com5

پرسش ۔۔۔ ایک منظوم انشائیہ

ایک منظوم انشائیہ ، اسرارالحق مجاز کے حوالے سے ۔ ’’ پرسش ‘‘ تھے مجاز ایک شام آوارہ ساتھ میں ان کے کوئی دوست بھی تھا دیکھ کر راستے میں اک مسجد جس کے دروازے پر لکھا تھا شعر ’’ روزِ محشر کہ جاں گداز بود اولیں پرسشِ نماز بود ‘‘ رک کہ کہنے لگا مجاز کا دوست شعر جو یہ لکھا ہوا ہے یہاں ا س کا مطلب بتائیے صاحب شعر پڑھ کر مجاز نے سوچا اور پھر مسکرا کے فرمایا روزِ محشر حساب جب ہوگا سب سے پہلےمحمد محمود مغلnoreply@blogger.com5

شاعرِ لشکر

شاعرِ لشکر)فیس بک سے ایک تحریر( قبلہ میرے بڑے اچھے دوست ھیں، ان کو پیار سے میں شاعر لشکر کہتا ھوں۔وجہ؟قبلہ gregarious جانداروں کی طرح رہتے بھی شاعروں کے لشکر میں ہیں اور ان کا مزاج اور انداز بھی لشکری شاعروں جیسا ہے۔ یعنی اپنے لشکر کی تعریفوں کے پل باندھتے رہنا خواہ وہ مائل بہ شکست ہی ہو اور مخالف لشکر کی ہجو کرنا خواہ وہ کشتوں کے پشتے لگا رہا ہو۔ ان کے لشکر میں شامل ہونے کی بنیادی اہلیت عورت محمد محمود مغلnoreply@blogger.com10

خرابی نظم از عزم بہزاد

خرابی خرابی کا آغاز کب اور کہاں‌سے ہوا یہ بتانا ہے مشکل کہاں زخم کھائے کہاں سے ہوئے وار یہ بھی دکھانا ہے مشکل کہاں ضبط کی دُھوپ میں ہم بکھرتے گئے اور کہاں تک کوئی صبر ہم نے سمیٹا سنا نا ہے مشکل خرابی بہت سخت جاں ہے ہمیں‌لگ رہا تھا یہ ہم سے الجھ کر کہیں مر چکی ہے مگر اب جو دیکھا تو یہ شہر میں، شہر کے ہر محلے میں، ہر ہر گلی میں دھوئیں کی طرح بھر چکی ہے خرابی رویوں میں، خوابوں، میں خواہش میں، رشتوںمحمد محمود مغلnoreply@blogger.com7

Pages