محمود مغل

مثنوی "اردو محفل" از محمد وارث

مثنوی اردو محفل - اردو محفل کو سالگرہ مبارک پچھلے سال، اردو محفل کی سالگرہ کے دنوں میں، ایک سلام، دو قطعوں اور ایک رباعی کی صورت میں پیش کیا تھا، اُس وقت کچھ احباب نے ذکر کیا کہ اردو محفل کے اراکین کا ذکر بھی ہونا چاہیئے۔ سو حاضر ہوں ایک نئے سلام کے ساتھ محفل کی سالگرہ کے موقعے پر، واضح کر دوں کہ خاکسار کو شاعر ہونے کا کبھی دعویٰ نہیں رہا بس یونہی کبھی کچھ ہو جائے تو جائے اور وہ بھی مختصر مختصر،محمد محمود مغلnoreply@blogger.com7

I believe I can fly .. ایک خوبصورت گیت

مجھے یقین ہے میں اڑسکتی ہوں۔۔ ایک خوبصورت انگریزی گیت فیس بک پر ایک سری لنکن خاتون نیلنی جو ہم سے اردو سیکھنے کا " دعویٰ " رکھتی ہیں ، نے گفتگو کے دوران ۔ ایک خوبصورت انگریزی گیت ’’ آئی کین فلائی ‘‘ سننے کو فراہم کیا ۔ یہ آپ کے حوصلے کو مہمیز دینے کےکام آسکتا ہے۔، آپ بھی سنیے۔۔ نیلنی اب اچھی خاصی اردو بول لیتی ہیں، لکھنے کے معاملے میں ابھی رومن کا سہارا لے رہی ہیں‌،موصوفہ ایک غریب گھر سے تعلق محمد محمود مغلnoreply@blogger.com10

علمی اور اخلاقی بددیانتی پر احتجاج کیجیے

قبلہ پیرترویج اردو زبان جناب محمد شاکر القادری صاحب سے بد تمیزی معزز اہل قلم !۔ السلام علیکم ـ میں آج آپ سے ایک بڑی علمی خیانت کے خلاف اخلاقی مدد کی درخواست لیے حاضر ہوا ہوں فیض رضا نیٹ ورک اور قادری رضوی فورمکی جانب سےسلیمان سبحانی نامی شخص نے کچھ عرصہ قبل فیض رضا فورم کے لیے مجھ سے وی بولٹن کا اردو ترجمہ اور اردو ٹیمپلیٹ طلب کیا تھا چنانچہ القلم کی جانب سے انہیںاردو ترجمہ از شاکرالقادری محمد محمود مغلnoreply@blogger.com34

مرزا غالب کی بدیہہ گوئی تاریخ کے اوراق سے

مرزا غالب کی بدیہہ گوئی تاریخ کے اوراق سے خواجہ حالی نے یادگارِ غالب میں لکھا ہے کہ ۱۸۷۱ میں جبکہ نواب ضیاء الدین احمد خاں مرحوم کلکتہ گئے تھے ، مولوی محمد عالم نے جو کلکتہ کے ایک دیرینہ سال فاضل تھے ، نواب صاحب سے بیان کیا کہ جس زمانے میں مرزا صاحب یہاں آئے ہوئے تھے ایک مجلس میں جہاں مرزا بھی موجود تھے اور میں بھی حاضر تھا شعراء کا تذکرہ ہورہا تھا، اثناء گفتگو میں ایک صاحب نے فیضی کی بہت محمد محمود مغلnoreply@blogger.com8

یہ نقدِ جاں ہے اسے سود پر نہیں دیتے

(قصہ حسین مجروح سے ملاقات کا) دوپہر کے کھانے کے بعد ، ہمارے پیٹ میں درد اٹھا کہ ہاتفِ برقی(موبائل) کا نفس ( کریڈٹ)موٹا ہورہا ہے کیوں نہ اسے کم کیا جائے سو کلیدی تختے پر چمکتے ہوئے ہندسوں کے وسیلے سے ”تصویر خانہ“ کے خالق ممتاز رفیق سے رابطہ ممکن ہوا ،تکلف سے بھرپور گفتگو میں ایک لمحہ ایسا آیا کہ ممتاز رفیق نے روح کو سرشار کردینے والی خبر دی کہ زندہ دلوں کے شہر لاہور سے حسین مجروح تشریف لائے ہوئے محمد محمود مغلnoreply@blogger.com3

“ یہ معافی نامہ نہیں ہے “

“ یہ معافی نامہ نہیں ہے “ نثری شاعری ، ایک نثم ظلم اور پستی میں گھرے ہوئے انسانویوں میری جانب امید و یاس کی تصویر بنے کیا دیکھتے ہومیں ایک شاعر ہوں اور آج کا شاعربرسوں پہلے اپنے احساس پر ایک مٹھی خاک پھینک چکا ہوںاب حالات کے کولہو سے بندھے ہوئے کسی بیل کی صورتصرف دائرے مکمل کرسکتا ہوںمیں تمھیں راہ نہیں دکھلا سکتاکہ مرا اظہارشہرت اور بے حسی کے درمیان کہیں کھو چکا ہے م۔م۔مغلمحمد محمود مغلnoreply@blogger.com5

Pages