ناعمہ عزیز

خواجہ سرا

میری شادی ہونے والی تھی اور شاپنگ کے سلسلے میں روز مارکیٹ آنا جانا لگا رہتا تھا۔ ایک روز شاپنگ کے دوران ہم گزر رہے تھے کہ راستے میں مردوں کا ایک ٹولہ نظر آیا۔ ان سے چند ہی قدم دور ایک خواجہ سرا آرہا تھا۔ جب وہ قریب سے گزرا تو مردوں نے اپنی اوقات دکھاتے ہوئے فقرے کسے ، ایک صاحب تو اپنی اوقات سے بھی باہر نکلے اور اسے چھوا۔ وہ غصے میں بڑبڑاتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ میری آنکھوں نے یہ منظر دیکھا اور آج بھی ان میں قید ہے ، اسوقت میں نے اپنے صحیح سلامت ہونے پر خدا کا شکر ادا کیا، مگرساتھ ساتھ اس خواجہ سرا کی بے بسی پر ترس آیا اور ان مردوں کے ٹولے پر انتہائی غصہ۔
لیکن میری اور میرے غصے کی کیا اووقات۔ یہ معاشرہ مردوں کا معاشرہ ہے ، یہاں مردوں کی حکومت ہے۔ اور جب حاکم طاقتور اور محکوم کمزور ہو تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ جیت کس ہے! کچھ دن پہلے خواجہ سرا علیشہ امسال کاپشاور میں قتل ہوا جس کی عمر صرف پچیس سال تھی۔لوگ قتل کی مختلف وجوہات بیان کرتے ہیں، جیسے کہ بھتہ نا دینے پر، ناچنے کے بعد نیم عریاں تصویریں نا بنوانے پر، اور کچھ صرف یہ کہتے ہیں کہ ایک مشتعل شخص نے علیشہ کو آٹھ گولیاں ماریں ۔
جس کے بعد اسے اس کے ساتھی اٹھا کر لیڈی ریڈنگ ہسپتال لے گئے جہاں پر ڈاکٹرز اور مریضوں کے ساتھ آئے ہوئے لواحقین نے ان پر فقرے کسے۔
آہ۔ میرا جی چاہتا ہے کہ چیخوں ، چلاؤں ، زور زور سے روؤں ۔ کوئی زندگی اور موت کی کشمکش میں ہو اور اس کے ساتھ یہ سلوک۔ کیسے کیسے جانور جنم دئیے گئے ہیں اس دنیا میں ، انسانوں کے روپ میں درندے ۔ کہا جاتا ہے کہ اسے میڈیکل ٹریٹمنٹ نہیں دیا گیا ، مرد وں اور عورتوں کے وارڈ میں رکھنے کی اجازت نہیں مل سکی۔ کچھ کہتے ہیں کہ ہسپتال کے غسل خانے کے سامنے اس نے دم توڑ دیا ، اور کچھ کہتے ہیں کہ ہسپتال کے باہر درخت کے نیچے۔ اور کچھ یہ کہتے ہیں مردوں اور عورتوں کے وارڈ میں جگہ نہ ملنے کے بعد اسے ایک الگ کمرے میں منتقل کر دیا گیا مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا ۔
ہوتے ہیں پائمال تو کہتے ہیں زرد پھول
کل رحمت عمیم کا ہم پر بھی تھا نزول
یاران بوستان میں ہمارا بھی تھا شمول
اے راہ رو، نہ ڈال ہمارے سروں پہ دھول
ہر چند انجمن کے نکالے ہوئے ہیں ہم
لیکن صبا کی گود میں پالے ہوئے ہیں ہم

ڈاکٹر ز نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا ان تمام باتوں کو بے بنیاد کہا ہے ۔
سننے میں آیا ہے کہ کسی ڈاکٹر نے خواجہ سرا سے یہ بھی پوچھا کہ صرف ناچتے ہو یا کسی رات کے لئے بھی میسر ہو ، معاوضہ کیا ہے؟
میں نے جو کچھ لکھا ہے صرف سنا ہے ، خبروں میں ، لوگوں سے ، فیس بک پر۔
اس وقت میں یہ سوچ رہی ہوں کہ اگر میں نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہوتا تو میرا دل پھٹ نہیں جاتا ؟ ایک انسان جس کو آٹھ گولیاں لگی ہو، زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہو، اور اسے اس کے وجود پر گالی دی جائے، مذاق اڑایا جائے ، بہت اچھا ہوا علیشہ مر گئی۔ جاتے جاتے تکلیف میں اس کی جان نکلی ہو گی پر ہر روز کی مو ت سے ایک د ن مر جانا بہتر ہے۔
کیسے لوگ ہیں ہم۔ یہ خواجہ سرا بھی ہم ہی انسانوں میں سے کسی کے وجود کا حصہ ہے ، انہیں جنم دے کر فٹ پاتھوں پر چھوڑ آنے والے اپنے آپ کو گالی کیوں نہیں دیتے ؟ سب سے بہتر وہ ان کے ساتھ یہ کر سکتے ہیں کہ انہیں پیدا ہوتے ہی مار دیں ۔ انہیں ہر روز مرنے کی اس اذیت سے نجات دلا دیں۔
ہم شدت اور انتہا پسند قوم ، حوصلے اور ظرف سے گرے ہوئے لوگ، ہم فرقوں میں بٹے مغرور لوگ۔ ہم خواجہ سراؤں کو کہاں برداشت کریں گے ۔ اتناحوصلہ آسمانوں سے بھی نہیں اترے کا ہم سب کے لئے۔
ہم دراصل اس زمین کے مالک بن گئے ہیں ، اور جس کی ملکیت ہے اسے بھول گئے ہیں ،نہ صرف اس زمین کے بلکہ اس پر رہنے والوں کے بھی۔ اس زمین پر ہم اپنی مرضی کا راج چاہتے ہیں ، اپنی مرضی کے لوگ، مذہب ، ذات پات، فرقے، اور جنس ہر چیز پر اپنی بادشاہت کا سکہ جمانا ہے ہمیں۔ وہ کون ہوتا ہے جس نے خواجہ سراؤں کو بنایا، خواجہ سراؤں کو کوئی حق نہیں کہ وہ عزت کی زندگی گزاریں انہیں ذلیل ہونا ہے ، اور ذلیل کرنے کے لئے ہم ابھی اس خطے پر موجود ہیں۔
میں تو اس تکلیف کا اندازہ بھی کرنے سے قاصر ہوں جو اُن سب کو اس وقت ہوئی ہوگی۔ علیشہ کے مرنے کے بعد وہ سب لوگ اپنے وجود کو بدعا بنا کر ظلم کرنے والوں کو دیتے رہے۔کیسی تکلیف ہے ، سن کر ہی دل اچھل کر حلق میں آجاتا ہے ، ہم کسی کے سامنے اپنے عزت نفس کے لٹ جانے پر شور مچاتے ہیں روتے ترپتے ہیں اور کہاں بیچارے وہ لوگ اپنے کو وجود کو بدعا بنا کر ظالموں کو دیتے ہیں۔کوئی کیسے اپنے وجود کو گالی دے سکتا ہے ؟ اور کس حوصلے سے ؟!!!!
ایک خواجہ سرا کی فریاد۔۔۔۔۔
نہ میں پتر نہ میں دھی آں
نہ میں دھرتی نہ میں بی آں
میں وی ربا تیرا ہی جی آں
توں ای مینوں دس میں کی آں ؟

باؤلا کتا

وہ نسلی کتا تھا ، بس چند ہی دن کا کہ اسے اس کی ماں سے الگ کر دیا گیا ،اس کی نسل کون سی تھی یہ مجھے یاد نہیں ، مگر یہ یاد ہے کہ امی کے کزن کے کے پاس بڑے عرصے سے اس نسل کا کتا اور کتیا موجود تھے۔ ماموں جان کی فرمائش تھی کہ انہیں کتا چاہئے ۔ زمینوں کے کام کے سلسلے میں اکثر وہ راتوں کو جایا کرتے تھے اور بسا اوقات تو ان کا بسیرا بھی رات کو ووہیں ہوتا تھا ، کتوں کا شوق انہیں جوانی سے ہی تھا۔ بہت عرصہ تک ان کے پاس جرمن شیفرڈ رہا جو کہ ان کے ایک قریبی دوست کے انہیں گفٹ کیا تھا۔بڑا وفادار کتا تھا ، ماموں نے اس کا نام موتی رکھا تھا۔مالک کے منہ میں نوالا جانے سے پہلے اپنے کھانے کی طرف دیکھتا بھی نہیں تھا۔ اور ماموں جان کو کوئی کچھ کہہ جائے یہ بھی اس سے برداشت نہیں ہوتا تھا فورا سے پہلے وہ اس بندے کی ٹانگیں پکڑ لیا کرتا تھا۔ کرکٹ کا شوقین تھا مگر کرکٹ میں اسے وکٹ کیپر بننا ہی پسند تھا ۔ ایک دفعہ بیمار ہوا اور چپ چاپ حویلی کے کونے میں پڑ کے مر گیا ، اس کی موت کے بعد بہت عرصہ تک ماموں جان نے کوئی کتا نہیں پالا۔
اور اب یہ جو انہوں نے کزن سے منگوایا تھا ۔ بڑا دل پھینک تھا سب کے پاوں میں لوٹنے لگتا ، دنوں میں ہی بڑا ہو گیا تھا، یا شاید عرصے بعد ماموں جان نے کتا پالا تھا تو اس کا خوب خیال رکھا دن رات کھلایا پلایا دیکھتے ہی دیکھتے ایک دم ہٹا کٹا جوان ہو گیا۔
ہوا کچھ یوں کہ بہت دنوں سے ایک باؤلا کتا ماموں جان کی زمینوں پر بندھے جانوروں کے اردو گرد بولایا بولایا پھر رہا تھا ، کبھی کبھار قریب بھی آ جاتا تو ہمارا کتا اس پر بھونکنے لگتا ۔ ایک دن وہ جانوروں پر چڑھ دوڑھا اور ایک گائے اور بھینس کے بچے کو کاٹ لیا۔ اور ہمارے کتے سے اس کی مدبھیڑ ہوگئی۔ اچانک ماموں جان آئے اور اس مار بھگایا ۔
وہ نہیں جانتے تھے کتا جانوروں کو کاٹ کر گیا ہے۔ایک لاپرواہی انہوں نے یہ کی کہ کتے کی ویکسینیشن نہیں کروائی۔ چند دن گزرے کہ جانوروں نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا۔ اور ہمارے کتے نے اپنی سی کرتے چند دن وفاداری نبھانے کی پوری کوشش کی مگر جب اس کے اختیار سے باہر ہوا تو اس نے میرے ماموں کو اور انکے بیٹے کو دانت لگا دئیے ۔اور انہیں ویکسینیشن کروانی پڑی۔ گھر والوں کو تشویش ہو ئی ، جانوروں کو بھی ٹیکے وغیرہ لگے مگر دیر ہو چکی تھی ۔جانور بیچنے پڑے نتیجتا نقصان ہوا۔
اب اس کتے کو کچھ کہنے کو دل نا کرے۔ وہ گھر سے چلا گیا ۔ گاؤں میں کبھی یہاں کبھی وہاں بولایا بولایا پھرتا رہا کہ ایک دو جگہ اور لوگوں کے جانوروں کا نقصان ہوا۔ بہرحال ایک دن ممانی کے اصرار پر ماموں جان نے بندوق اٹھائی اور نکل پڑے اسے ڈھونڈنے۔ وہ کہیں کوڑے کے ڈھیر کے پاس ملا ، دو گولیاں کھا کے ڈھیر ہو گیا ۔
اس بات کو چار پانچ سال ہو چکے ، مگر آج یونہی بیٹھے بیٹھے میں انسانی خواہشات کے بارے میں سوچ رہی تھی تو مجھے وہ بہت یاد آیا ۔ ہماری بہت سی خواہشات بھی تو کسی باؤلے کتے کی طرح ہی ہوتی ہیں، اور ان خواہشات کے پیچھے بھاگتے ہم اپنے پرائے کا فرق بھول جاتے ہیں ، باؤلے ہو کر کاٹنا شروع کر دیتے ہیں ۔
غلط اور صحیح کا فرق ختم کر دیتے ہیں ، بس ہر وقت بولائے بولائے پھرتے ہیں ، نا ہمیں سکون آتا ہے نا ان لوگوں کو جن کا ہم نقصان کر رہے ہیں ۔ اور ایسے خواہشات کا انجام یقننا ماموں جان کے باؤلے کتے کی طرح ہوتا ہے ۔ یا تو جان جاتی ہے یا پھر خسارے کے سوا ہاتھ کچھ نہیں آتا۔
یا شاید باؤلا ہونا ہمارے اختیار میں نہیں ہوتا، ہم بھی اپنی ممکنہ کوشش کر کے نبھاتے ہیں مگر جہاں خواہشات کا گھیرا تنگ پڑتا ہے تو اپنی جان بچانے کے لئے دوسروں کو کاٹنے لگتے ہیں۔۔۔۔۔​

خزاں زدہ درخت

یہی کوئی ایک مہینہ پہلے کی بات ہے میرے گھر کے باہر لگے درخت کے پتے پیلے ہو ہو کر گر رہے تھے ، میں نے یونہی ڈرائنگ روم میں کھڑے کھڑے اس کی ایک تصویر بنا لی ، پھر میں نے غور کیا کہ میرے لاؤنج میں پڑے ان ڈورپلانٹس کے پتے بھی جھڑنا شروع ہو گئے۔ میں روز پتے اکھٹے کرتی ، گملوں کو صاف رکھتی ، انہیں پانی دیتی ۔ دل ہی دل میں پریشان بھی ہوئی مجھے لگا شاید سردی کی وجہ سے ہم لوگ ہیٹر آن رکھتے ہیں اس لئے پودے خراب ہو رہے ہیں ۔ اس سے پہلے یہ واقعہ ہو چکا تھا کہ مجھے بھائی کی شادی کے سلسلے میں فیصل آباد جانا پڑا تو واپسی پر میرے گیندے کے پھول عدم توجہی کے سبب اپنی آخری سانسیں پوری کر چکے تھے ، انہیں دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا ۔ پھر گلاب کے پودے کے پتے بھی جھڑنے لگے مجھے فکر ہونے لگے کہ میاں صاحب سے ڈانٹ نا پڑ جائے کیونکہ پودے لانے کا شوق مجھے ہی تھا۔ مگر اپنے مطابق میں انکا پورا خیال رکھ رہی تھی ۔اور چونکہ بحریہ ٹاؤن میں تو جگہ جگہ پھول پودوں کی بھرمار تھی تو ڈر اور بھی پکا ہوتا گیا کہ باہر تو گلاب کے پودے سلامت ہیں بلکہ ان پر پھول نے اپنا قبصہ جما کے رکھا ہے تو پھر یہ میرے ساتھ ہی کیوں ہو رہا ہے ۔
پھر چند دن گزرے کہ ان ڈور پلانٹس کے چھوٹے چھوٹے پتے نکلنے لگے میرے دل کو ذرا سا قرار آیا ،اور یونہی ایک دن صبح سویرے میں ٹیرس پر گئی تو گلاب کا ا یک پھول مسکرا رہا تھا ، پتا نہیں وہ مسکرا رہا تھا کہ میں خود ۔ بہرحال اسے دیکھ کر بہت خوشی ہو ئی کیونکہ میں پھولوں کی بہت دیوانی ہوں ۔
زندگی کسی کو بھی ملے شاید ایسے ہی خوشی ہوتی ہے ، یا پھر خوشی کا دوسرا نام زندگی ہے۔ میرے گھر کے باہر لگے درخت پر آج بھی کوئی پتا نہیں ایسا لگتا ہے وہ بوڑھا ہو گیا ہے ، مگر یہ پھول پودے بھی کیا چیز ہیں ، موسم ان پر اثر انداز ہو تے ہیں ، بالکل انسانوں کی طرح جب ان کی ٹہنوں پر پھولوں ، پھلوں ، اور پتوں کی بہار رہتی ہیں ، یہ انتہائی خوبصورت لگتے ہیں ، انہیں دیکھنے کو دل کرتا ہے، اور جیسے ہی ان پر خزاں آتی ہے کتنے اکیلے ہو جاتے ہیں ،خراں کا دکھ انہیں بوڑھا سا کر دیتا ہے ، پھر بہار اپنے بادل برسانے لگتی ہے ، بس یہی سلسلہ چلتا رہتا ہے،
مجھے خراں زدہ درخت دیکھ کر بوڑھے لوگ بڑی شدت سے یاد آتے ہیں ، اپنی ذمہ داریاں پوری کر کے ، اپنے فرائض ادا کرنے کے بعد جب وہ اولاد کے سہارے زندگی گزارتے ہیں ،بڑے کم خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ کہ جن کو بڑھاپے میں اولاد کے سہار ے کے ساتھ ان کا ساتھ بھی میسر ہوتا ہے ،
ورنہ بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو گوشہ نشینی اختیار کر لیتے اور یاد خدا میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
مگر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن کے فرائض ڈھلتی عمر میں بھی ختم نہیں ہو پاتے ، میں نے سڑکوں پر کام کی تلاش میں بیٹھے مزدوروں کو دیکھا ہے ، سبزی منڈیوں میں جھکی کمر کے پر ڈھیرو ں وزن اٹھائے اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف ہوتے ہیں۔
اور کچھ بیچارے معذور ہو جاتے ہیں دوسروں کے سہاروں پر زندہ رہتے ہیں ، جس میں انہیں بھی تکلیف ہوتی ہیں اور سہارا بننے والوں کو بھی ۔ کیونکہ ہر انسان اپنی برداشت تک ہی مشکل وقت میں ساتھ دیتا ہے ۔
کبھی کبھار میں سوچتی ہوں کہ زندگی پر خزاں آتی ہی کیوں ہے ، بہار ہی کیوں نہیں رہتی ہمیشہ۔
میرے گھر کے باہر لگا درخت دیکھ کر مجھے اپنی نانی اماں بہت یاد آتی ہیں، اب تو بہت کمزرو ہو گئی ہیں ، مگر ایک زمانہ تھا کہ ان پر بہار بہت مہربان تھی ، جتنا ایکٹیو میں نے اپنی نانی اماں اور امی کو دیکھا شاید ہی کسی کو دیکھا ہو ۔ گھر کے کام کاج کے ساتھ ساتھ زمینوں کے کام کاج میں بھی نانا جان کا ہاتھ بٹایا کرتیں تھی ، جانوروں کی دیکھ بھال ، زمینوں کے لیے بیج کا بندوبست، سردیوں میں اوون کا کام ، گھر کی رضائیاں ، چارپائیاں بنانا، نانی اماں کے گھر میں ہمیشہ مرغیاں ہوتی تھیں ، انڈے کبھی ختم نہیں ہوتے ، گھر میں پکنے والی سبزی زمینوں پر لگی ہوتی تھی ، اور اس کا خیال رکھنا نانی جان کی ذمہ داری تھی ، گھر میں بھی انہوں نے لہسن ، پیاز، اور سبز مرچیں وغیرہ لگائی ہوتیں تھی کہ انہیں کسی دکان پر نا جانا پڑے ۔ غرض میں نے اپنے بچپن میں اپنی نانی اماں کو گھر کے ہی نہیں ہمسائیوں کے ساتھ کام میں بھی مصروف دیکھا۔ اور آج جب وہ خود اٹھ کر چل نہیں سکتیں تو دیکھ کر دل کو ہمیشہ دکھ سا ہوتا ہے۔ہم اپنے پیاروں کو ہمیشہ صحت مند و تندرست دیکھنا چاہتے ہیں مگر کاش یہ ہمارے اختیار میں ہوتا۔۔۔۔۔

خواب کا دریا۔ناعمہ عزیز

یہ دنیا خواب کا دریا نہیں لڑکی
جسے تعبیر پانے کی ہوس میں پار کر لو تم
یہ دنیا اک تماشائی
مسلسل آبلہ پائی
کہ جس پر چلتے پاؤں درد کی جنت کو چھوتے ہیں
یقین و بے یقینی ہی کچل دیتی ہے سر ان کے
یہاں پر آنکھ میں جن کی بہت سے خواب ہوتے ہیں
محبت درد دیتی ہے تو نفرت سیج ہے ایسی
کہ جس کی رہ گزر میں ہر قدم پر خار ہوتے ہیں
مگر تم حوصلہ رکھنا
وفا کا سلسلہ رکھنا
یہ آنکھیں خواب کا گھر ہیں
مگر تم خواب مت بُننا
کہ سارے خواب آنکھوں میں
ہی سانسیں توڑ جاتے ہیں
انہیں تعبیر ملنے کی کوئی امید مت رکھنا
انہیں خوابوں کی ہم نے کرچیاں پلکوں سے چننی ہیں
سنو لڑکی!
خوشی بانٹو
ہنسی کے رنگ بکھراؤ
یہ دنیا خواب کا دریا نہیں جس کو
کسی کچے گھڑے پر پار کر پاؤ۔
ناعمہ عزیز

بازار زن (عورتوں کی منڈی)

رات کے کھانے کی بات ہوئی تو میاں صاحب نے اپنے ایک دوست کے کہنے پر شہرِ لاہور کے ایک معروف ریستوان '' انداز'' میں بکنگ کروائی۔میرے استفسار پر بتایا کہ یہ "ہیرا منڈی" میں واقع ہے۔ مجھے ہیرا منڈی کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا۔ فون پر جب میاں صاحب بات کر رہے تھے تو میں نے یہی سوچا کہ جیسے سبزی منڈی ہوتی ہے ویسے ہی ہیروں کی کوئی منڈی ہو گی صرافہ بازار کی طرز پر۔ خیر ہم لوگ جی پی ایس زندہ آباد کا نعرہ لگاتے ہوئے جس راہ سے گزرے وہاں بازاروں کی لمبی قطار چلی جا رہی تھی جسے دیکھ کر فیصل آباد کے آٹھ بازار یاد آ گئے۔ چاروں طرف رش ہی رش تھا اور بار بار ٹریفک جام ہو رہا تھا۔ مگر ریسٹورنٹ میں قدم رکھتے ہی جب میاں صاحب نے اس علاقے اور اس ریستوران کی کہانی بتائی تو دل کا حال عجیب سا ہو گیا۔وہاں جا کر پتا چلا وہ کوئی سبزی منڈی جیسی منڈی نہیں تھی وہ تو ''عورتوں کی منڈی'' تھی
ریسٹورنٹ میں بیٹھنے کا انتظام ایک عمارت کی چھت پر تھا جہاں سے دیکھنے پر بادشاہی مسجد کا ایک گنبد تو بالکل اپنے قدموں تلے نظر آتا ہے۔ عمارت کی نچلی منزل پر ہر جگہ کو کسی رقص گاہ کے سے انداز میں ویسا ہی سجا کر میوزیم کا نام دے دیا گیا تھا۔ اندھیرے کمرے، تنگ سی بل کھاتی وہ سیڑھیاں، دیواروں پر آویزاں رقاصاؤں، سازندوں اور مونچھوں کو تاؤ دیتے تماشائیوں کی وہ تصاویر، مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میں کوئی کہانی پڑھتے پڑھتے اس کہانی کے اندر داخل ہو گئی ہوں۔ یہ سب میں نے کہانیوں میں ہی پڑھا تھا۔ میں افسانے اورکہانیاں پڑھ کر جب بھی یہ سوچتی تھی کہ کیا ایسا حقیقت کی دنیا میں بھی ہوتا ہے تو اس سے آگے سوچنا ہی ترک کر دیتی تھی۔ بہت سی حقیقتیں ایسی ہوتی ہیں جن کو ہمارا ذہن تو تسلیم کر لیتا ہے مگر دل ان سے انکاری ہی رہتا ہے۔

لیکن وہ تو ایسی تلخ حقیقت تھی جسے جھٹلانا ممکن نہیں تھا وہ میرے سامنے کی بات تھی۔ میں خود اس لمحے میں موجود تھی اور یہ وقت کا کڑوا ترین سچ تھا کہ ایک عورت اس بازار میں بیٹھی اس کشمش میں تھی کہ یہ عورت کا بازار ہے؟ یہاں عورت کی نمائش لگائی جاتی ہے! یہاں عورت کو بیچا جاتا ہے!

میں جتنی دیر وہاں رہی گم سم سی ہی رہی، میاں صاحب کو گلہ تھا کہ بول نہیں رہی ہوں، لیکن میری تو حالت ہی عجیب ہو گئی تھی۔ ایک عورت ہو کر میرے ان عورتوں کے لیے کیا جذبات تھے، میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔

مجھے سڑک پر کھڑے بھکاریوں پر بھی ترس آتا تھا مگر اس دن وہاں سے واپسی پر اس محلے کی کھڑکیوں سے نظر آتی ان عورتوں پر بے تحاشا ترس آیا اور گلی کے دوسری طرف بینچ پر سج دھج کر اپنی نمائش لگا کر اپنی قیمت لگنے کے انتظار میں بیٹھی وہ عورت مجھے دنیا کی مظلوم ترین مخلوق لگی جیسے اپنے پیٹ کا جہنم بھرنے کے لیے جانے کس مجبوری نے اس گند میں لا پھینکا، مجھے اس لمحے وہاں بیٹھی عورت کو دیکھ کر اپنے عورت ہونے پر دکھ ہوا، میں اکیلی اپنی گاڑی سے دو قدم دور اس عورت کو دیکھتے ہوئے کہیں کھو سی گئی کہ راہ چلتے ایک شخص نے مجھے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور دور جاتے مجھے اس کی نظروں کی تپش خود پر محسوس ہوتی رہی، اگر ایک قتل کرنا اسلام میں جائز ہوتا تو میں اس شخص کا قتل کرنے میں ذرا سی دیر نا لگاتی، اتنے میں میاں صاحب مجھے تلاش کرتے کرتے میرے پیچھے آگئے اور کہا:

تمھیں اکیلے اس طرف نہیں آنا چاہیے تھا۔

مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو چکا تھا اس لیے چپ رہی، نہ اعتراف کیا نہ اعتراض۔

مرد کے بغیر عورت کی زندگی کیا ہے؟ یہ بات مجھے شادی کے بعد سمجھ میں آ گئی تھی مگرعورتوں کی منڈی جا کے تو ایسی سمجھ میں آئی کہ اب ساری زندگی نہیں بھول پاؤں گی۔

قرآن میں پڑھا تھا کہ
وتعز من تشاء و تذل من تشاء

پر اس دن مجھے لگا کہ عورت کی عزت اور ذلت کا دارومدار مرد پر ہوتا ہے وہ جسے چاہے اپنے گھر کی عزت بنائے جسے چاہے طوائف۔

مرد مرد ہوتا ہے، 'مرد ' کسی کا شوہر کسی کا بھائی کسی کا بیٹا اور کسی کا تماشائی۔۔۔

انہی سوچوں میں غلطاں، واپس اپنی قیام گاہ آئے اور آتے ہی دل چاہا کہ آنکھیں بند کروں اور سو جاؤں صبح اٹھوں تو خواب سمجھ کر سب کچھ بھول جاؤں مگر آج اتنے دن گزر جانے کے بعد بھی وہ مناظر اور ان کی تکلیفیں اتنی ہی تازہ ہیں۔
ناعمہ عزیز

ریحانہ !

آہ !
یہ ہمارا المیہ ہے کہ ہم کسی کے مرنے کے بعد سوچتے ہیں کہ
اس کے ساتھ کیا ہوا؟
کیوں ہوا ؟
کس نے کیا؟
میں عورت پر تر س کھانے کی قائل نہیں ہوں عورت بڑی مضبوط مخلوق ہے اللہ نے عورت کو اپنے بعد تخلیق کرنے کی صلاحیت کا اعزاز بخشا ، بڑی بڑی تکلیفوں کا مقابلہ مرادنہ وار کرنے کی جرات عطا کی ! میں ریحانہ جباری کی عظمت کو سلام پیش کرتی ہوں کہ جس نےاس بدکردار گھٹیا شخص کا خون کیا اور ہر وہ شخص کہ جو اس جرم کا مرتکب ہو یا ایسی کوشش کرے اسے سڑک پر لیٹا کرپیٹرول چھڑک کے آگ لگا کر زند ہ جلا دینا چاہئے ، یا بندوق پکڑ کر ٹانگوں سے گولیاں مارنی شروع کرنی چاہییں اور آخری گولی دماغ میں مارنی چاہئے ، یا دہکتے ہوئے کوئلوں پر تب تک بیٹھا نا چاہئے جب تک اس کی چلتی سانس بند نا ہو جائے اور اس کے بعد چاہے ریحانہ جباری کی طرح خود پھانسی ہی چڑھنا پڑے تو کم سے کم مرنے پر افسوس تو نا ہو۔۔۔!!
اور یہ میں نے اس لئے کہا کہ ایران ہو یا پاکستان، قانون صرف مردوں کے لئے ہی ہیں تو اس صورت عورت کو تو اپنا قانون خود ہی بنانا پڑے گا ۔
وہ ریحانہ جباری ہو، کہ جس کو اپنی عزت بچانے کے قتل کرنا پڑے یا کائنات سومرو ہو کہ جس کو عزت لٹ جانے کے بعد کارو کاری قرار دیے کر مار دیا جائے ، یا کئی ایسی خواتین کہ اپنے ساتھ ہونے والے ظلم و بربریت پر جب آواز اٹھائیں تو ان کی آواز کو ڈرا دھمکا کر بند کر دیا جائے اور نتیجتاََ انہیں دنیا میں اپنا وجود اسقدر ناکارہ لگے کہ انہیں خودکشی کا سہارا لینا پڑے !!!!یا تاریخ میں پڑے ایسے کئی واقعات کہ جب عورت کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا اور پھر وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل ہی نہیں رہے ، لوگ اُس سے ایسے دور بھاگیں کہ جیسے اُسے کوئی اچھوت کی بیماری ہے ۔
اور ریحانہ جباری بھی اگر چپ چاپ سب سہہ جاتی تو آج دنیا کے کسی کونے میں وہ بھی ایسی ہی زندگی بسر کر رہی ہوتی ۔
ریحانہ جباری کا آخری خط پڑھ کر سب کا دل دہل گیا !
اس نے سات سال جیل میں گزارے ! سات سال لکھ لینا آسان ہے گزارنا کس قدر مشکل یہ وہ عورت جانتی ہو گی ہم صرف اندازہ لگا سکتے ہیں ۔ اس نے ااپنے اوپر لگے الزامات کی تردید کی ، اپنے حق میں دلائل پیش کئے !
اس نے اپنے آخری خط میں لکھا کہ
اس منحوس رات کو میرا قتل ہو جانا چاہئے تھا۔ میری لاش کو شہر کے کسی کونے میں پھینک دیا گیا ہوتا اور پھر پولیس آپ کو میری لاش کو پہچاننے کے لیے بلواتی اور آپ کو پتہ چلتا کہ قتل سے پہلے میرا ریپ بھی ہوا تھا۔
میرا قاتل کبھی بھی گرفت میں نہیں آتا، کیونکہ آپ پاس اس کی طرح نہ ہی دولت ہے، نہ ہی طاقت۔ اس کے بعد آپ کچھ سال اسی عذاب اور پریشانی میں گزار تیں اور پھر اسی عذاب میں آپ بھی انتقال کرجاتیں۔ لیکن، کسی لعنت کی وجہ سے ایسا نہیں ہوا۔ میری لاش تب پھینکی نہیں گئیہاں اس نے ٹھیک لکھا اگر ایسا ہی ہوتا تو آج ریحانہ جباری کو کون یاد رکھتا ؟
بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ وہابی تھی بعضے کہتے ہیں وہ ایران میں تھی ،اسے مرنا ہی تھا
اس بات پر میرا دل کیا کہ میں زور زور سے ہنسوں !
یا چیخ چیخ کے روؤں !
ہم لو گ کلاسیفکیشن سے کبھی باہر نہیں آسکتے !
وہ مسلمان نہیں ،
سنی نہیں ،
مرد نہیں وغیرہ وغیر ہ
ہمیں ہر صورت میں ایک حد بندی کرنی ہے ، یہ بتانا ہے کہ صرف ہم معتبر ہیں ہم عزت دار ہیں ہم شریف ہیں اور ہم جنتی ہیں ۔
اور یہ سب صرف دل کی تسلی کے لئے ۔
ورنہ کہنے کو تو کسی انگریز نے کیا خوب ہی کہا ہے کہ
"اس سے پہلے کہ تم مجھ پر انگلی اٹھا یہ سوچو کیا تمھارے ہاتھ صاف ہیں ؟"
اللہ کا محبوب کون ہے اُسے کون پسند ہے ، کس کا فعل اُس کے لئے سب سے پسندیدہ ہے !اس فیصلے کا اختیار اللہ نے انسان کو کب سے دے دیا ؟ جب اللہ نے انسان کو دینے کے لئے کوئی حد بندی مقرر نہیں جب سنی ، وہابی ، شیعہ، ہندو ، عیسائی سب کو اللہ اپنی مرضی سے نوازتا ہے تو انسان کی کیا اوقات ہے کہ وہ صرف خود کو معتبر ثابت کرنے کے لئے دوسروں کو مجرم بناتا پھرے ؟ یا اللہ کے معاملات میں دخل اندازی کرے ؟
کیوں ہم انسانوں کو انسان نہیں سمجھنا چاہتے !
ریحانہ جباری کا ایک خط پڑھ سب کے دل دکھی ہو گئے اور اگر اپنے اس قبر جیسی جیل میں گزرے سات سال کی کہانی بیان کر دیتی تو ہم پر کیا گزرتی ؟
جاتے جاتے وہ عورت اپنے عورت ہونے کا ثبوت دے کر گئی ۔
پھانسی کے بعد جلد سے جلد میرا دل، میرے گردے، میری آنکھیں، ہڈیاں اور وہ سب کچھ جس کا ٹرانسپلاٹ ہو سکتا ہے، اسے میرے جسم سے نکال لیا جائے اور انہیں ضرورت مند شخص کو عطیے کے طور پر دے دیا جائے۔ میں نہیں چاہتی کہ جسے میرے اعضاء دیے جائیں اسے میرا نام بتایا جائے۔‘‘اور آخری دم تک اس نے اپنی اقدار کی حفاظت کی کہ اُسے اقدار کی حفاظت کا درس اسے دیا گیا تھا ۔

میری طرف سے حوا کی اس بیٹی کے لیے سیلوٹ
  !
 

زمین ڈھونڈتے رہے، زمان ڈھونڈتے رہے . از ناعمہ عزیز

اردو محفل کے سالانہ مشاعرے کے لئے لکھی گئی میری نئی غزل

زمین ڈھونڈتے رہے، زمان ڈھونڈتے رہےترے وجود کا فقط نشان ڈھونڈتے رہے
ترے جہان نے ہمیں تو بے امان کر دیاکہ شہر کربلا میں ہم امان ڈھونڈتے رہے
وہ مسجدِ نبی ہو یا مدینۃ النبی کی خاکحبَش کے اک غلام کی اذان ڈھونڈتے رہے
کہاں ہے تو چھپا ہوا، کبھی تو ان کی آہ سنتجھے پکارنے کو جو زبان ڈھونڈتے رہے
خوشی میں اور فغان میں، گمان اور دھیان میںتجھے کہاں کہاں نہیں ، اے جان ڈھونڈتے رہے
از: ناعمہ عزیز

خدا زمیں سے نہیں گیا ہے ۔ از : ناعمہ عزیز



کہا جو تم نے
جہان بھر میں
مکیں کے اندر، مکاں کے اندر
زمین اور آسماں کے اندر
خدا کہیں بھی نہیں رہا ہے
بجا کہا ہے
یہاں جوظلم و ستم ہے جاری
کہ عشقِ گُل پر بھی سنگ باری
بھرے ہیں طوفان چشمِ نم میں
بہے ہے انسان سیلِ غم میں
زمانے بھر میں کہیں جو وہ دِکھ نہیں رہا ہے
بجا کہا ہے
مگر ذرا تم
ٹھہر تو جاؤ
کہ دو مجھے بھی تو یہ اجازت
عقیدتوں کو زبان دے لوں
حقیقتوں کا بیان دے لوں
یقیں کو بڑھ کر دوام دے لوں
خدا کا تم کو پیام دے لوں
کہ امن و انس و سلام دے لوں
اگر ہے تم کو تلاش اس کی
تو اپنے اندر نگاہ ڈالو
وجود اس کا جو ڈھونڈنا ہے
تو اپنے دل کو ٹٹول کر تم
چہار اکناف اپنے دیکھو
یہ خلق اس کی جو زندگی بھر
محبتوں اور نفرتوں کے ہے کھیل کھیلے
یہ لوحِ محفوظ میں اسی نے تو لکھ رکھا ہے
یہاں کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو
محبتوں کا یقین توڑیں
کسی کو یونہی بلکتے روتے
کسی بھی انجانی رہ پہ چھوڑیں
مگر اسی ایک راہ پر ہی
وفاؤں کے کچھ امین بھی ہیں
جو خضرِ منزل بنے کشادہ دل و نگہ سے
رواں دواں ہیں پکارتے ہیں
جو راستے کے لُٹے مسافر کو
آسرا دے کے کہہ رہے ہیں
کہ ہم ہیں سیلِ وفا کی صورت
تو مہرباں ہیں خدا کی صورت
جو دل کے اندر ترے غموں کو
سمیٹ لیں گے خدا کی صورت
ازل سے لے کر ابد تلک جو
زمین اور آسماں کے اندر
محبتوں کی جو صورتیں ہیں
خدا بھی ان میں ہی دِکھ رہا ہے
خدا زمیں سے نہیں گیا ہے
خدا تمہارا بھی آسرا ہے
خدا ہمارا بھی آسرا ہے  
از : ناعمہ عزیز

حضرت انسان ۔

ہم لوگوں میں سے اکثر اپنی ذات سے باہر نہیں آ پاتے ، بس اپنے اندر کے چپے چپے سے ریت کے ڈھیروں کو چھان چھان کر دیکھتے ہیں کہ کوئی خزانہ مل جائے ، اور وہ خزانہ خوشی کی شکل میں ملے یا دکھ کی شکل میں ! جب وہ مل جاتا ہے تو لے کر آرام سے کنارے پر بیٹھ جاتے ہیں ، خوشی مل جائے تو قہقہوں کی گونج سے اندر بجھی بتیاں جل جاتی ہیں ، اور دکھ مل جائیں تو آنسوؤں کا طوفان برپا ہو جاتا ہے ، ہم چیخنے چلانے لگتے ہیں۔ دراصل ایک انسانی دماغ اپنے اندر ایک پوری کائنات چھپا کر بیٹھا ہے، جیسے باہر کی کائنات میں طرح طرح کے راز چھپے ہیں جو کبھی ہماری نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں تو کبھی ہم پر عیاں ہو جاتے ہیں۔
موسموں کی بابت دیکھا تو معلوم ہوا باہر کے موسموں کے طرح اندر کے موسموں نے بھی اپنی ایک دنیا آباد کر رکھی ہے ۔ جذبوں کی ہوا ، احساسات کی بارش ، بغاوتوں کے سمندر ، دکھوں کی آندھیاں ، صدموں کے طوفان ، قہقوں کے ان گنت پھول ، آنسوؤں کے بے شمار کانٹے حضرت انسان کے اندر یوں موجود ہیں کہ کسی ایک کا بھی نکالے جانا ممکن نہیں یہ سب موسم ہمیں باہر بھی یوں ہی دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کو دیکھنا سطحی ہوتا ہے ۔
جب آپ کسی کو سڑک کے دوسرے کنارے کھڑے ہو کر دیکھتے ہیں ، آپ کا تاثر اس شخص کے متعلق مثبت بھی ہو سکتا ہے اور منفی بھی ، کتابِ حیات کا مطالعہ تب تک ممکن ہی نہیں کہ جب تک آپ اگلا صفحہ نا پلٹ لیں ، اور اگلے صفحے پر کیا کیا راز افشاں ہونگے اور ان کو پڑھ کر ہمیں کیا محسوس ہو گا اس کی پیشن گوئی کون کر سکتا ہے کسی ایک انسان سوانح حیات پر ہزاروں کتابیں لکھی جاسکتی ہیں ہر کتاب کے ہر صفحے کی ہر سطر میں ایک نیا راز پوشیدہ ہو سکتا ہے ۔
سطر سطر زندگی کے حقیقتیں حضرت انسان کی اندر موجود ہیں اور بعض اوقات ان سے واقفیت انسان کو خود بھی نہیں ہو پاتی، کہنےکو ہم ہماری ذات کو جاننے والا واحد شخص ہی ہوتے ہیں لیکن مسئلہ ہی دراصل یہ ہے کہ ہم خود کو جانتے ہی نہیں ہیں ، اور اسی تلاش میں عمر بیت جاتی ہے، ایک کہانی اختتام پذیر ہو جاتی ہے مگر در حقیقت وہ کہانی پھر بھی کسی نا کسی کی زبان سے بیان ہوتی ہی رہتی ہے وہ کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی ، لوگ بچھڑ جاتے ہیں ، لوگ مر جاتے ہیں لیکن وہ ان سے منسلک کہانیاں جو کبھی خوشی و تکلیف کا باعث ہوں ہمیں یاد رہتی ہیں ۔۔

دلِ بے خبر ترے ہاتھ سے مرے سب قرار چلے گئے۔از: ناعمہ عزیز

دلِ بے خبر ترے ہاتھ سے مرے سب قرار چلے گئے
وہ جو رنج و غم سے تھے آشنا ، وہی غم گسار چلے گئے

وہ جو چند ایک تھیں رونقیں، سبھی دم قدم سے انہی کے تھیںمری زیست کے تھے جو رہنما ، مرے راز دار چلے گئے
مری زندگی میں تھے راہزن ، مری موت پر ہوئے نوحہ کنمری ہر گھڑی کا جو ساتھ تھے ، وہی سوگوار چلے گئے

کسی جا تو دل کو سکون ہو ، سنبھل اے مرے دلِ ناتواں
وہ جو کوئے جان کا نور تھے ، کہیں چاند پار چلے گئے
یہی آرزو رہی عمر بھر کہ کبھی تو لوٹ کے آ سکیں
مجھے چھوڑ کر ، مجھے توڑ کر وہ جو بے شمار چلے گئے

از: ناعمہ عزیز
میری پہلی غزل جومیں نے آل پنجاب بین الکلیاتی مشاعرے میں پڑھنے کے لئے لکھی اور دوسرا انعام پایا ۔ 

میں ڈر دی کج نئیں کہندی آں... از ناعمہ عزیز




میں ڈوب کے تردی رہندی آںمیں ایس اے ڈر وچ رہندی آںجے ٹٹیا دل نئیں جڑ پایاکوئی دور گیا نئیں مڑ آیاہنجواں نوں روکدی رہند آںمیں ڈر دی کج نئیں کہندی آں

لکھیاں نوں کون مٹا سکدانئیں چوٹاں دل تے کھا سکدامیں سب کج دل تے سہندی آںمیں ڈر دی کج نئیں کہندی آں


اے جگ تے کوئی کسے دا نئیںمیں ایس لئی اپنی رہندی آںمیں وانگ شدایاں جیندی آںمیں ڈر دی کج نئیں کہندی آں

 از ناعمہ عزیز

اگر میں شاعرہ ہوتی ۔۔ از ناعمہ عزیز

اگر میں شاعرہ ہوتی
تو لکھتی میں سبھی قصے
گزرتے سال کی باتیں
وہ خوشیوں کے سبھی لمحے
دکھوں کی ساری سوغاتیں
اگر میں شاعرہ ہوتی
تو لکھتی میں جو گزرے دوستوں کے سنگ
وہ شوخ و شاد سارے رنگ
بچھڑنے کے وه سارے پل
میں لکھتی میرا گزرا کل
اگر میں شاعرہ ہوتی
میں ٹوٹے پھوٹے لفظوں کو
یوں دھاگے میں پرو دیتی
کہ جب بھی ان کو پڑھتی میں
تو آنکھوں کو بھگو لیتی

اگر میں شاعرہ ہوتی
تو لکھتی میں کہ بچپن سے جوانی تک
جو سارے خواب دیکھے تھے
اب ان میں کتنے پورے ہیں؟
جو آنکھوں میں بسے ہیں وہ
ابھی تک کیوں ادھورے ہیں !
میں لکھتی زندگانی کے
سبھی حصے سبھی قصے
مگر یہ تب ہی ممکن تھاکه جب 
میں شاعرہ ہوتی ۔۔۔ ۔
از ناعمہ عزیز

نفس

نفس پرستی انسان کی فطرت ہے ، اور خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس فطرت سے آزاد ہیں ، اپنی مست دنیا میں مگن اس سے لو لگا کے اس دنیاوی سفر کے اختتام کا انتظار کر رہے ہیں ، یہ زمین کسی بشر کے لئے ایسی ہی ہے، جیسے کسی مسافر کے لمبے سفر کی تھکن سے آرام لینے کو چند لمحے کسی پیڑ کے نیچے سستا لینا ، جیسے فضاؤں میں سفر کرتے کسی جہاز کا چند گھنٹے بادلوں پر رینگنا، موت اور زندگی کے درمیان بس اتنا ہی فاصلہ ہے ، مگر اس فاصلے میں نفس ہرستی حائل ہو گئ ہے ، بندہ موت کی فکر ہی نہیں کرتا، وہ ایسا نفس کی بھوک مٹانے میں مصروف ہے کہ خود کو ہی بھول گیا ، وہ کیا ہے کیوں ہے ! یہ کونسا سفر ہے جو وہ طے کر رہا ہے ؟ اور اس کی منزل کیا ہے ؟ یہ کونسا امتحان ہے جو وہ دے رہا ہے ، اور نتیجہ کیا ہو گا ؟ یہ کونسی آزمائش ہے جس سے وہ گزر رہا ہے ! اور کیا وہ اس میں سرخرو ہو پائے گا ؟
یہ سوال تو زہن میں آتا ہی نہیں ، ضمیر کو لوریاں دئیے رکھتا ہے ، سو جا سو جا ! کہ کہیں جو ضمیر جاگ جائے گا تو نفس پرستی چھوڑنا پڑ جائے گی ، کہیں جو عدالت لگ گئی تو جواب دینا پڑ جائے گا ، کہیں جو ناکام ہوئے تو پچھتاؤں کی آگ میں جلنا پڑ جائے گا !!
ہر بندے نے اپنا شیطان پال رکھا ہے ، فرق یہ ہے کسی کا بہت بڑا ہے ، کسی کا درمیانہ کسی کا ذرا چھوٹا ، اور اسی شیطان کا نام ہے نفس ٖ!
یہ دراصل نفس کی خواہشات ہیں کہ جن کے پیچھے بھاگتا انسان اپنی ہڈیاں گلا دیتا ہے ، لیکن اس کا پیٹ نہیں بھرتا ، ایک کے بعد ایک ، پھر ایک کے بعد دو، دو کے بعد چار اور یوں ان گنت ، بے انتہا خواہشات ، نا ختم ہونے والی ، مگر سانسوں کی ڈوری کا وقت مخصوص کر دیا گیا ہے ، بندے کو پاپند کر دیا گیا ہے ، حدود لاگو ہے ، بندہ بشر ان کو پاٹ نہیں سکتا مگر پاٹنے کی کوشش کی میں گرتا ہے ، اٹھتا ہے ، اور پھر انہی راستوں پر چلنے لگتا ہے، یہ بات جانتے ہوئے کہ نفس پرستی کا سفر ختم نہیں ہو جائے گا ، یہ تو لا محدود سفر ہے ، یہ وہ سڑک ہے جس کا کوئی اختتام ہی نہیں ، یہ وہ بازار ہے جہاں گلیاں ہی گلیاں ہیں ،چھوٹی بڑی ، یہ ناختم ہونے والا موسم ہے ، یہ وہ پہاڑ ہے جو اونچے سے اونچا چلا جاتا ہے، مگر رکتا نہیں ، ٹھہرتا نہیں ، بس بندے کو رکنا پڑتا ہے ، جب وہ بے بس ہو جاتا ہے ، لاچار ہو جاتا ہے ، جب نفس پرستی کے پیچھے بھاگتے وہ تھک جاتا ہے ، اور جب اس کا وقت قریب آجاتا ہے ، جب اسے اس فانی زندگی سے لافانی دنیا میں بھیجنے کا وقت اس کے سر پہ آن پہنچتا ہے تو شاید تب اس پر ادراک کے دورازے وا ہوتے ہیں کہ بندہ بشر کا پیٹ صرف مٹی سے بھر سکتا ہے ورنہ دنیا کی کوئی شے ایسی نہیں جو اس کی بھوک کو ختم کر سکے ۔۔۔

عشق ۔ از ناعمہ عزیز

جہیڑی عشق دی کھیڈ رچائی اے
اے میری سمجھ نا آئی اے
ویکھن نوں لگد ا سادا اے
اے عشق بڑا ای ڈھڈا اے
اے ڈھڈا عشق نچا دیوے
پیراں وچ چھالے پا دیوے
عرشاں دی سیر کر دیوے
اے رب دے نال ملا دیوے
چُپ رہ کے بندہ تَر جاندا
جے بولے سولی چڑھ جاندا
جہیڑا عشق سمندر ور جاندا
او جنیدا وسدا مر جاندا
ایس عشق توں کوئی وی بچیا نئیں
پر ہر اک وچ اے رچیا نئیں
ایس عشق سے کھیڈ نرالے نئیں
فقیراں ناں ایدے پالے نئیں
اے راتاں نوں جگا دیندا
اکھیاں وچ جھریاں لا دیندا
اے ہجر دی اگ وچ واڑ دیندا
اے اندروں بندہ مار دیندا
ویکھن نوں لگدا سادا اے
پر عشق بڑا ای ڈھڈا اے۔۔

از : ناعمہ عزیز

یاد ۔ از ناعمہ عزیز

جب رستہ ہو دشوار بہت
اور منزل دور نظر آئے،
اس لمحے یاد آ جائے
اور بے حساب آ جائے
جب آنسو حد کو توڑ کر
آنکھوں سے باہر آتے ہوں
اور چپکے سے پھر کانوں میں
اک سرگوشی کر جاتے ہوں
تو بات سنو تم یوں کرنا
وہ لمحے یاد کر لینا
جو سنگ ہمارے گزرے تھے
وہ اپنے ساتھ کر لینا
یادوں کے سنگم ساتھ لئے
ہاتھوں میں پھر سے ہاتھ لئے
تم دور کہیں گر کھو جاؤ
اور ہنستے ہنستے سو جاؤ
پھر یادوں کے سب پھول لئے
جب لوٹ کے واپس آ جاؤ
تو دل سے التجا کرنا
وہ دوست جہاں بھی ہو یا رب
اسے غم سے دور صدا کرنا
ہاں جب بھی یاد آ جائے
بس اتنی سی دُعا کرنا۔۔
از ناعمہ عزیز
پیاری دوستوں فریحہ اور مقدس کے نام

یہ حقیقت ہے تو خواب کیوں نہیں ہو جاتی...از ناعمہ عزیز

بھائی کے نام

یہ حقیقت ہے تو خواب کیوں نہیں ہو جاتی!

تیرے جانے کی سچائی سراب کیوں نہیں ہو جاتی !

کیوں ہوں میں اسقدر یقین و وہم میں مبتلا

یہ کہانی ہے تو مجھ پر وا کیوں نہیں ہو جاتی !

اکثر لگتا ہے یونہی ہنستے کھیلتے چلے آؤ گے تم

یہ امیدجھوٹی ہے تو راکھ کیوں نہیں ہو جاتی !

میں صبر و تحمل کی سب حدود و قیود میں ہوں

میرے ذہن و دل سے تمھاری یاد نہیں جاتی !!

میرے لبوں پہ التجا ہے دعا ہے تیرے واسطے

میری دعاؤں کی ہر راہ ہے تیری طرف جاتی ۔۔

از : ناعمہ عزی
ز

ڈھونڈو گے اگر کالج کالج ۔۔ از ناعمہ عزیز

ہنستے چہرے ، باتوں میں دم
کھانا زیادہ ، پڑھائی کم
کہنا ہے تمھیں اتنا ہم دم
ڈھونڈو گے اگر کالج کالج
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
پریزنٹیشن کے وقت آوازیں مدھم
کانفڈنٹ لیول باعثِ شرم
اُٹھا کے سر فخر سے یہ کہتے ہیں ہم
ڈھونڈو گے اگر کالج کالج
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
بھگتی ہے ڈھیرو ڈانٹ ڈپٹ
پر آیا نہیں گردن میں خم
کہنا ہے تمھیں اتنا ہم دم
ڈھونڈو گے اگر کالج کالج
ملنےکے نہیں نایاب ہیں ہم
مجبوری تو ہے پر حقیقت ہے یہ
کالج چھوڑنے کا ہے ہم سب کو غم
کوئی مانے نا مانے مگر سچ ہے یہ
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہیں ہم ۔۔۔
از ۔۔۔ ناعمہ عزیز

پارٹی نا ہو گی ملک تو سب کا سانجھا ہے نا ؟

آج کل تازہ ترین موضوع سیاست ہے ، ہر وہ میرے جیسا بندہ جسے نا سیاست میں دلچسبی ہے اور نا ہی اس کے بارے میں معلومات ہے سیاست پر بحث کرتا نظر آرہا ہے ، میں تو ویسے ہی اس موضوع سے بچتی ہوں ، الیکشن سے پہلے ہر بندے کی رائے کی ساری پارٹیوں کے بابت اپنی اپنی رائے تھی ہر کوئی دلائل دینے کی کوشش کر رہا تھا کہ فلاں کو ووٹ دینا چاہئے ، بھئی سچی بات تو یہ ہے کہ میری زندگی کا پہلا ووٹ تھا جو میں نے کل دیا ، بلال بھائی نے کہا تھا ووٹ پی ٹی آئی کو دینا ہے ہمارے گھر سے چھ ووٹ پی ٹی آئی کو گئے ، مقصد یہ تھا کہ کچھ تبدیل ہو ہم سب تبدیلی چاہتے ہیں ، ہم ملک کے حالات کی بہتری ہم اپنی اور قوم کی بہتری چاہتے ہیں ، ہم وہ قیادت چاہتے ہیں جو پاکستان کو ترقی پذیر سے ترقی یافتہ بنائے ۔
الیکشن سے پہلے یہ حال ہے تھا کہ لوگ سیاستدانوں پر کیچڑ اچھالنے پر لگے تھے ، زرداری انکل کی تو جو مٹی پلید کرنی تھی وہ کی ساتھ ہی ساتھ عمران خان اور نواز شریف اور شہباز شریف پر تنقید کا سلسلہ کثرت سے جاری تھا ، ہمارے پاکستانیوں کا اور کوئی مسئلہ نہیں یہ تنقید اتنی پابندی سے کرتے ہیں جتنی پابندی سے ان کو عبادت کرنی چاہیے ،
لو جی الیکشن ہو گئے سیاپا مکا، ن لیگ فتح قرار پائی ، مجھے کوئی افسوس نہیں ، تحریک انصاف کو جتنی سیٹیں ملیں بڑی ہیں ،
اب آتے ہیں اصل مسئلے کی طرف، جو یہ ہے کہ اب ہر ہر ن لیگ کا ووٹر اور ن لیگ کا نعرہ لگانے والا پی ٹی آئی کے ووٹرز کو جھنڈی دکھا رہا ہے ، او اللہ دے بندیو ! تانو ملک نال غرض اے کہ پارٹی نال ؟؟؟ پارٹی سب کی ایک نا ہو گی ملک تو ایک ہی ہے کہ نہیں ؟
ابھی تھوڑی دیر پہلے مجھ سے کسی نے پوچھا جی کہ کہاں ہے آپ کا بلا ؟؟ نظر نہیں آ رہا ، اور اردو محفل پر آ کے دیکھا تو میں تو حیران ہو گئی ، فتح جس کو بھی ملی بجائے دوسروں پر تنقید کرنے اور پارٹی کی اچھائیاں بیان کرنے کے اللہ سے دعا کرو کہ وطن عزیز کی تقدیر جن ہاتھوں میں گئی اللہ ان کو مضبوط بنائے ، اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں ان کی مدد فرمائے ۔ اور ان کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق دے ۔ آمین

انگریزاں دیاں کتاباں سانوں یاد آؤنیاں ۔ از ناعمہ عزیز

پین سیلویا دے کرتوت پُل نا پاواں گے
رچرڈ ویلبر نوں تے اسی پُھل چڑواں گے
ایشبیری دیاں نظماں اُتے طمالاں پاونیاں
انگریزاں دیاں کتاباں سانوں یاد آونیاں

ایڈرینن ریچ دا فیمینیزم پار لایا سی
کروسی بل دا جادو وی کر کے دکھایا سی
کیویں کیویں پڑھ کے اساں نیپڑے توڑیاں
انگریزاں دیاں کتاباں سانوں یاد آونیاں

ایڈورڈ سید دی سچی گل اے سمجھ نہ آئی سی
بیکن رسل نوں تے اسی سلامی پائی سی
پاہ سوفٹ نوں پڑھ کے ساریاں اے ہی بولیاں
انگریزاں دیاں کتاباں سانوں یاد آونیاں

ملٹن نوں پڑھان لئی ساڈی مس نا منی سی
سرے وائٹ دیاں نظماں دی وی لت پنی سی
ڈن نوں پڑھ کے کنیاں سانوں شرماں آونیاں
انگریزاں دیاں کتاباں سانوں یاد آونیاں

سفوکل نے کنگ کوئین دے نال ملایا سی
فاوسٹس نے جہنم دا نظارہ کرایا سی
اوسکر وائلڈ پڑھ کے ہس ہس کھلیاں پاونیاں
انگریزاں دیاں کتاباں سانوں یاد آونیاں ۔

مجھے کھول سے میری ذات پر..از: ناعمہ عزیز




مرے طزر و فکر کا نقش گرمرِی عقل و فہم سے بالاترکہ میں جان لوں تیرا راستہمِرا قلب تو ہے تیرا ہی گھرمرِی آنکھ میں تیرا عکس ہومجھے خود میں اتنا فنا توُ کرمیں چھپی ہوں خود میں ہی کسقدرمجھے کھول دےمیری ذات پرمجھے آگہی کی دے روشنیدے میرے جنون کو ر ہگزرمرِی زندگی کا ہر اک سفرترِی راہ میں ہو گزر بسراز: ناعمہ عزیز

Pages