وسیم بیگ

میری واپسی کا سفر

اردو بلا گستان کے سب اعلیٰ ذوق رکھنے والے دوستوں کو اس نا چیز کا سلام
آج سے تقریبآ دو سال چار مہینے اور بارہ دن پہلے زندگی کی بڑھتی ہوئی مصروفیت کی وجہ سے بلاگستان کو خیر آباد کہہ چکا تھا لیکن بلاگستان سے دور جانے کے بعد مجھے احساس ہوا کے اتنے اعلیٰ ذوق رکھنے والے دوست شاید ھی کہیں دوبارہ خوابوں میں ملیں اور انہی اعلیٰ ذوق رکھنے والے دوستوں کی محبت ہے کے آج میں دوبارہ اپنے بلاگ کو فعال کر رہا ہوں انشا الله اب ملاقات ہوتی رہے گی اور ہاں آپ سب دوستوں کا بھی شکریہ کتنا یاد رکھا مجھے صبح شام میری خیر خبر لیتے رہے
دل ابھی پوری طرح ٹوٹا نہیں
دوستوں کی مہربانی چاہئے

اِدھر اُدھر کی بات نہ کر یہ بتا قافلہ کیوں لُٹا—؟؟

طالبان اگر انسان ہوتےتو
اتنےسارے چیک پوسٹوں سےگزرتے ہوئےیقینًا نظرآجاتے, وہ بھی منوں گولہ بارودکےساتھ
سوال تو بنتا ہے نا—؟؟
اِدھر اُدھر کی بات نہ کر یہ بتا قافلہ کیوں لُٹا—؟؟
مجھے راہزنوں سے گلا نہیں
تیری رہبری کا سوال ہے—؟؟
یہ خالد خراسانی مہمند گروپ کہاں سے آیا—؟؟
یہ خود کہاں رہتا ہے—-؟؟
پاکستان میں—؟؟
تو پکڑا کیوں نہیں—؟؟
اور باہر تو کہاں—؟؟
غیر ملکی پاکستان میں کیسے اور کب گھسے—؟؟
کیا ویزا لےکر آئے یا بغیر ویزے کے—؟؟
اگر بغیر ویزے کے توانکو
روکنا کس ادارے کا کام ہے—؟؟
اور پھر یہ لوگ بارڈر سے پشاور تک کیسے آگئے—؟؟
بیچ میں کوئی چیک پوسٹ نہیں ہے—؟؟؟
کون انکو سپورٹ کر رہا ہے—؟؟؟
تین دن چھوڑ کر ۔۔۔۔
تین سال سوگ مناتے رھو ۔۔۔۔
جن کے لخت جگر چلے گئے ہیں ۔۔۔ اب
ان کو اور قوم کو تمہارے ان سرکاری سوگ منانے سے کوئی لینا دینا نہیں ھے ۔۔۔
سوگ نہ مناو ۔۔۔۔
اب دماغ لڑاو ھوش کے ناخن لو ۔۔۔
غیروں کی چاکریاں چھوڑ کر اپنی قوم کا سوچو ۔۔۔۔۔
اور ھمیں اپنی جنگ کہہ کر بے وقوف بنانے والو ۔۔۔۔!!
یہ جنگ کبھی ھماری نہیں تھی
تم نے اس کو ڈالروں کے عیوض ھمارے بچوں کا خون بیچ کر اپنی جنگ بنایا ھے
تمام بھائیوں سے درخواست هے.
ان حکمرانوں سے عملی کام کرواؤ ..
جو کچھ بهی پشاور میں ہوا
ان حکمرانوں نے دو دن میں بھول جانا هے.
اور پھر عوام سوچنے پر مجبور ھے اب کہ یہ طالبان انسان ہیں۔۔۔؟؟
کہ۔۔۔۔۔۔۔ سپر نیچرل پاور ھولڈرز جنات۔۔۔؟؟
یا کوئ چڑیا۔۔۔۔۔۔۔ جن کے لیے کسی سرحد کسی چیکنگ کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔!!
کہیں اس میں ھمارے ھمارے اپنوں کا ھاتھ تو نہیں۔۔۔؟؟

قادری صاحب؛ وی آر ویری سوری

طاہر القادری سے بہت معذرت کے ساتھ
قادری صاحب ملک میں انقلاب لانا چاہتے ہیں، قادری صاحب نظام تبدیل کرنا چاہتے ہیں، قادری صاحب کی خواہش ہے کہ پاکستان میں ماں، بہن، بیٹی کی عزت محفوظ ہو جائے، قادری صاحب چاہتے ہيں کہ یہاں دس سال کے معصوم بچوں کے بازو کٹنے بند ہو جائيں، قادری صاحب چاہتے ہیں کہ یہاں ایم پی اے تھانے پر حملہ کرے تو قادری صاحب اس پر قانون لاگو کروانا چاہتے ہیں، قادری صاحب صبح و شام پاکستان کی بیٹیوں بہنوں کی لٹتی ہوئي عزتیں بچانے کے لئیے اس نظام کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔
لیکن
قادری صاحب سے معذرت ہے کہ
ڈاکٹر صاحب یہ سب آپ چاہتے ہیں لیکن یہاں نوجوان، قوم کب چاہتی ہے کہ ان کی ماؤں بہنوں بیٹیوں کی عزتیں محفوظ ہو جائيں۔ ایک اسلامی ملک میں بہنوں کی عزتیں تار تار ہوتی ہیں لیکن ہم بیٹھ کر مسواک کی لمبائي پر بحث کرتے ہیں، کیونکہ مسواک کرنا سنت ہے لیکن شائد بہن بیٹی کی عزت بچانا سنت نہيں ۔۔۔۔۔
اسلامی ملک میں پچاس فیصد سے زائد لوگ رات کو بھوکے سوتے ہیں، لیکن ہميں اس سے کیا ہم تو سنت کے پیروکار ہیں، ہم تبلیغ کے پیروکار ہیں، ہم عاشق رسول ہیں، ہمیں عشق رسول میں رونا تو آتا ہے لیکن رسول اللہ کی امت کی بہنوں کی عزت لوٹے یا بوڑھے بھوکے سو جائيں، باپ کے سامنے اس کی بیٹی کو اغواء کر کے اپنی ہوس کا نشانہ بنا دیا جائے، ہم ان کی مدد نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔
قادری صاحب آپ سے معذرت ہے
یہ قوم، نوجوان، یہ مذھبی تنظیمیں، یہ سنتوں کے پیکر، یہ تبلیغ دین کے ٹھیکے دار پچھلے ساٹھ سال سے ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کی عزتیں تار تار ہوتی دیکھ رہے ہیں، پاکستانیوں کو بھوکا مرتے دیکھ رہے ہیں، یہ پاکستان کو نیلام ہوتا دیکھ رہے ہیں، یہ ظالموں کو ظلم کرتا دیکھ رہے ہیں، یہ قاتلوں کو قتل کرتا دیکھ رہے ہیں، یہ ہوس کے پجاریوں کو قوم کی بیٹیوں کو ان کے بھائيوں کے سامنے عزت لوٹتا دیکھ رہے ہیں اور یہ دیکھتے رہیں گے۔
یہ اس نظام کے دیوانے ہیں، یہ نظام تبدیل نہیں کر سکتے۔۔۔۔
یہ قوم آپ کا ساتھ نہیں دے گی
اور
آئيندہ کے لیئۓ بھی پاکستان کو نیلام ہوتا دیکھتی رہے گي۔
عزتیں تار تار ہوتیں رہیں گی، یہ مسواک کرتے رہیں گے یا شلوار پائنچے پر بحث کرتے رہيں گۓ۔
ان کی سنتوں اور تبلیغ کے مطابق ظالم کے خلاف خاموش رہنا سنت ہے۔۔
قادری صاحب؛ وی آر ویری سوری۔۔۔۔۔ اس نظام کو بدلنا نہ تو سنت ہے، ہماری سنتوں میں ظالم کے خلاف آواز اٹھانا شامل نہیں۔

انسانیت کی عظیم مثال

انسانیت کی عظیم مثال، سپین میں غیرقانونی پاکستانی کا ہارٹ ٹرانسپلانٹ، نئی زندگی مل گئی

جسے اللہ رکھے چکھے ،ایساہی کچھ ہوا سپین میں مقیم گجرات کے گائوں ’’سوکڑکلاں ‘‘سے تعلق رکھنے والے 40سالہ ساجد حسین کے ساتھ۔ساجد حسین 4بچوں کا باپ ہے اپنی آنکھوں میں چوںکے بہتر مستقبل کے خواب سجائے 2006ء میں پاکستان سے یورپ کی طرف محو سفر ہوا ۔ایک سال مصر میں رہا وہاں سے 2007ء میں یونان چلا آیا ۔یونان میں چار سال تک مزدوری کی ۔2011ء میں ساجد سپین آگیا ۔سپین میں معاشی بد حالی کی وجہ سے بیروز گاری کا دور دورہ دیکھا تو محنت کرنے کے عزم کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور رات کو ڈسکو کلب کے سامنے پھول بیچنے شروع کر دیئے ۔ایک رات سڑک پر ہی دل کادورہ پڑا راہگیر ہسپتال لے گئے جہاں چیک اپ کے بعد ادویات دے کر فارغ کر دیا گیا ۔ڈیڑھ ماہ بعد دوبارہ دل کی تکلیف ہوئی توبڑے ہسپتال میں داخل کر لیا گیا ،جہاں ساجد حسین کی انجییو گرافی اور اس کا مکمل چیک اپ ہوا تو پتا چلا کہ اس کا دل ختم ہو گیا ہے ’’ہارٹ ٹرانسپرنسی ‘‘ کرنا پڑے گی ورنہ چند دن تک ساجد حسین ختم ہو جائے گا ۔ہسپتال کے اخراجات ،ادویات اور دل کا تبدیل کیا جانا اوربعد میں مکمل آرام کے لئے ہسپتال میں ہی رہنا اس لئے کہ دل تبدیل کرانے والوں کو ساری زندگی ادویات کھانا اور ہر ماہ ہسپتال کا وزٹ لازمی ہوتا ہے، ان تمام معاملات کے لئے تقریباً دو لاکھ یورو درکار تھے جو پاکستانی تقریباً دو کروڑ چالیس لاکھ روپے بنتے ہیں ،ساتھ ایک دل بھی چاہئے تھا جو ساجد حسین کے بلڈ گروپ کا ہوتا ،یہ سب کچھ ہو گیا اور ایک روپیہ بھی نہیں لگا ، کیسے ممکن ہے ؟ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ساجد حسین سپین میں غیر قانونی مقیم تھا اسکے پاس کوئی لیگل سٹیٹس بھی نہیںتھا کہ جس کی وجہ سے حکومت اس کا علاج کروا دیتی ۔ یہ وہ پیچیدہ بات تھی جو ہمیں ساجد حسین تک لے گئی اور ہم نے جیو نیوز اور روزنامہ جنگ کے لئے ساجد حسین سے ایک انٹرویو میں پوچھا کہ ایسا کیسے ممکن ہوا تھا ؟جسکے جواب میں ساجد حسین نے بتایا کہ مجھے پہلے ہسپتال ،دلمار ، لے جایا گیا جہاں بیماری کی سمجھ کسی کو نہ آسکی ، پھر دوسری بار جب تکلیف ہوئی تو مجھے ’’ہسپتال کلینک‘‘ لے جایا گیا جہاں میری انجیو گرافی کی گئی اور مجھے وہیں داخل کر لیا گیا ۔دو ماہ میں وہاں ادویات کھاتا رہا اور صحت مند ہوتا گیا ۔ لیکن ایک دن اچانک ہسپتال میں ہی مجھے دل کی تکلیف ہوئی اور میں بے ہوش ہو گیا ۔مجھے پانچ ماہ بعد ہوش آیا تو دوستوں نے بتایا کہ میرا دل تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ساجد حسین نے بتایا کہ سپین میں میرا کوئی رشتہ دار نہیں ہے لہذا ڈاکٹرز نے میرے قریبی دوستوں سے ہی اجازت لے کر میرا آپریشن کیا ۔بے ہوشی کی حالت میں میرے دوست راجہ لیاقت علی ،راجہ واصف اور ندیم اقبال میرے ڈاکٹرز سے رابطے میں رہے اور بے ہوشی کے پانچ ماہ کے عرصہ میں جو کچھ ہوا یہ میرے دوستوں کی زبانی مجھے پتا چلا ۔ساجد کا کہنا تھا کہ میرے دوستوں نے مجھے بتایا کہ ڈاکٹرز نے مجھے مصنوعی طریقہ سے زندہ رکھا اور کہا کہ اگر چھ ماہ میں تبدیل کیا جانے والا دل مہیا ہو گیا تو ٹھیک ورنہ اس سے زیادہ ہم ساجد حسین کو زندہ نہیں رکھ سکیں گے ۔سپین کے تمام ہسپتالوں میں اعلان کروا دیا گیا کہ فلاں بلڈ گروپ کا دل اگر مہیا ہو تو بارسلونا میں ہسپتال کلینک سے رابطہ کیا جائے ۔اللہ کو میری زندگی منظور تھی پانچویں مہینے میں سپین کے دارلحکومت میڈرڈ سے میرے متعلقہ دل ملنے کی اطلاع آگئی ۔اب میڈرڈ سے دل کو بارسلونا پہنچنے میں آٹھ گھنٹے کا وقت درکار تھا ۔لہذا دل ملتے ہی ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسے بارسلونا پہنچایا گیا ۔دل کی تبدیلی کا دوسرا مرحلہ یہ تھا کہ میں مسلمان تھا لہذا میرے دوستوں سے پوچھا گیا کہ اگر دل کسی غیر مسلم کا ہوا تو ساجد حسین کو کوئی اسلامی بندش یا مذہبی رکاوٹ تو نہ ہو گی ۔دوستوں نے کہا کہ ساجد کی زندگی بچانا مقصودہے اس لئے یہ کوئی معاملہ نہیں ۔میرا دل سپین کی سب سے قابل ڈاکٹر ’’مونت سرات کاردونا ‘‘ نے تبدیل کیا اور مجھے جب ہوش آیا تو سب سے پہلے مجھے ڈاکٹر مونت سرات کاردونا نے ہی مبارک باد دی ۔ہسپتال انتظامیہ نے میری بیماری کو دیکھتے ہوئے مجھے حکومت سپین سے قانونی طور پر سپین کا شہری ہونے کے کاغذات لے کر دیئے ۔اس کے بعد چونکہ مجھے اب تمام عمر ادویات کھانی ہیں اور ساتھ ساتھ ہسپتال میں ہر ماہ ڈاکٹرز کو چیک اپ کرانا ہے اس لئے میں کہیں اپنے بچوں سے دوری کی وجہ سے پریشان نہ ہو جائوں مجھے میری بیوی اور بچوں کو سپین لانے کے لئے ہسپتال انتظامیہ نے ان کے کاغذات بھی بنوا دیئے ہیں ۔ساجد کا کہنا تھا کہ پاکستانی کمیونٹی کے ہیلتھ ورکر طاہر رفیع نے ہسپتال انتطامیہ کے ساتھ بہت تعاون کیا اور میرے گھر والوں تک میرا اور میرے ڈاکٹرز کا رابطہ کرایا جنہوں نے میری فیملی کے متعلق چھان بین کی اس کے بعد ان کو سپین لانے کا بندوبست کیا گیا ہے ۔ساجد نے بتایا کہ میرے دوست مجھے چلتا پھرتا دیکھ کر سوال کرتے ہیں کہ تمہارا دل تبدیل ہوا ہے تو کیا اس سے تمہاری سوچوں میں بھی کوئی فرق آیا ہے یعنی ان کے کہنے کا مطلب ہے کہ نیا دل ایک غیر مسلم کا ہے اور میں مسلمان ہوں ۔ میں نے اپنے دوستوں کو جواب دیا کہ پہلے بھی میرے دل میں اللہ کا گھر تھا اور اب بھی وہی مکین ہے ۔میں نے اپنے امام مسجد سے اس مسئلے کے بارے میں بات کی تھی انہوں نے کہا کہ اسلام میںایسی کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور ویسے بھی میں پانچ وقت کا نمازی ہوں اب میرے منہ اور دل سے اللہ اللہ کی ہی آواز آتی ہے ۔ ساجد حسین نے بتایا کہ اب مجھے پاکستان جانے کی اجازت نہیں ہوگی اگر انتہائی ضرورت پڑے گی تو ڈاکٹرز مجھے پندرہ دن کے لئے پاکستان بھیج سکتے ہیں ۔کیونکہ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ مجھ پر بہت زیادہ خرچہ اور محنت ہوئی ہے لہذا وہ مجھے اب زیادہ سے زیادہ مدت کے لئے زندہ دیکھنا چاہتے ہیں ۔ جنگ اور جیو کی جانب سے کئے گئے اس سوال کہ آپ سپانش ڈاکٹرز اور ہسپتال کی انتظامیہ کو کچھ کہنا چاہتے ہیں کے جواب میں ساجد حسین نے کہا کہ میرے والدین ، میری بیوی اور بچے ہر سانس کے ساتھ ان لوگوں کے لئے دعا گور ہیں گے۔ کیونکہ میں اگر پاکستان میں ہوتا تو ایسا ممکن ہی نہیں تھا کہ اپنا سب کچھ بیچ کر بھی اڑھائی کروڑ روپے کے لگ بھگ رقم اکٹھی کر سکتا ۔جو سلوک ہسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹرز نے میرے ساتھ کیا وہ کوئی رشتہ دار بھی نہیں کرسکتا ۔ایک مسلمان کو دو سال تک زیر علاج رکھنا اس کی غلاظت صاف کرنا ،اسے صاف ستھرے کپڑے پہنانا اور اس کی نئی زندگی کے لئے تگ و دو کرنا یہ سب کچھ کیسے بھلایا جا سکتا ہے؟ ساجد حسین نے کہا کہ ڈاکٹرز روزانہ مجھے گلے ملتے ہیں اور سپانش زبان میں کہتے ہیں ( Muy Alegro )جس کا اردو میں مطلب ہے کہ ہم بہت خوش ہیں (تمہیں زندہ دیکھ کر ) ۔ساجد حسین نے جنگ اور جیو نیوز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ شکریہ اس لئے ادا کر رہا ہوں کیونکہ میرے جذبات کو الفاظ کا رنگ دے کر پوری دنیا کو یہ پیغام پڑھنے کے لئے ملے گا کہ سب سے پہلے انسانیت ہے اور انسانیت کا احترام ہی تمام مذاہب کا درس ہے ۔ ساجد حسین کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو جگنووں کی طرح ٹمٹا رہے تھے اس کا کہنا تھا کہ سپانش گورنمنٹ کے نمائندوں اور ڈاکٹرز نے جس طرح ایک غیر قانونی تارکین وطن مسلمان پر دو کروڑ روپے کا خرچہ کیا دن رات اس کی زندگی بچانے کے لئے کوشش کی،دل تبدیل کرنے کے لئے اس کا انتظام کیا ،مجھے سپین میں رہنے کا لیگل سٹیٹس دیا اور میری پریشانی کو ختم کرنے کے لئے میرے بیوی بچوں کو سپین لانے کا انتظام کیا ۔اسے ہی حقوق العباد کہتے ہیں جو ہمیں بھی پورا کرنا چاہئیں کیونکہ یہ ہم سب پر فرض ہے ۔

پیشکش۔ پاک نیوز

ہاں اب میں بہت پیتا ہوں

 بڑا عرصہ ہوا
اک دن
بتایا تھا مجھے اُس نے
بنانا کچھ نہیں آتا
اگر میں کچھ بناتی ہوں
تو بس چائے بناتی ھوں
میں چائے کی دیوانی ھوں
بہت اچھی بناتی ھوں
پیو گے ناں
تو میں اس بات پر یوں
مسکراتا ہی رہا تھا کہ
بنانا کچھ نہیں آتا
بس اک چائے بناتی ہوں
مجھے چائے سے اُلجھن ہے
نہیں پیتا–!!!– نہیں پیتا
مگر اس بات کو بِیتے
زمانہ ہو گیا لوگو
نہیں معلوم مجھ کو کہ
وہ کیسی ہے ؟
کہاں ہر یے ؟
پر اب میں چائے پیتا ہوں
بڑی کثرت سے پیتا ہوں

نا جانے “ﺑﻨﺖ ﺣﻮﺍ ” ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮫ کیوں نہیں ﺁﺗﯽ ﮬﮯ؟؟؟؟؟؟؟

لڑکیوں ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻭﺍﺭﻧﻨﮓ ﺟﻮ ﺍﻭﺑﺎﺵ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﮯﺟﮭﻮﭨﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﮯ ﻓﺮﯾﺐ
ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺩﮨﻠﯿﺰ ﭘﮭﻼﻧﮓ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ
ﺳﺎﻟﻮﮞ ﭘﮩﻠﮯ ﺧﺰﺍﮞ ﮐﯽ ﺍﮎ ﺍﺩﺍﺱ ﺳﯽ ﺷﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺍﮎ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﺑﮯﮐﻞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺳﮍﮎ ﭘﮧ ﺗﻨﮩﺎ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻗﺪﻡ ﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺍﭨﮫ ﮔﺌﮯ ﺳﺮﺥ ﺩﻭﭘﭩﮯ ﮐﮯ ﮨﺎﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺁﭖ ﭼﮭﭙﺎﮰ ﺑﯿﮭﭩﯽ ﺍﺩﮬﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﻭﮦ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮬﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﺎﺟﻞ ﺳﯽ ﺳﺠﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ، ﻋﺠﺐ ﺳﯽ ﻭﺣﺸﺖ ﻧﺎﭺ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ، ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯﺑﯿﭩﮭﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﭧ ﮔﯽ ﻭﮦ، ﺟﯿﺴﮯ ﺍﮎ ﺳﮩﻤﯽ ﮨﺮﻧﯽ ﮬﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﻟﮍﮐﯽ، ﮐﻮﻥ ﮬﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﺘﺎﺅ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮨﺮ ﮔﺰ ﻣﺖ ﮔﺒﮭﺮﺍﺅ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﺳﺎﮰ ﮔﮩﺮﮮ ﭘﮍ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﭘﮭﺮ ﺗﻢ ﮐﻮ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﻨﮩﺎ ﺩﻳﮑﮫ ﮐﺮﺟﺎﻧﮯ ﮐﺘﻨﮯ ﻟﻮﮒ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮭﺮ ﺁﯾﺎ ﮔﺬﺭﮮ ﻣﺎﺿﯽ ﮐﺎ ﮨﺮ ﻟﻤﺤﮧ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮯ ﺷﯿﺸﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﮩﺮﺍﯾ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺎﺭ ﺳﮯ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﭘﺎ ﮐﺮ،
ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻟﺐ ﮐﮭﻮﻟﮯ
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﻮﻟﯽ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﮐﻞ ﺷﺐ “ﻭﮦ ” ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ
” ﺟﺲ ﮐﮯ ﻟﮱ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﮔﯽ ﺗﮭﯽ ”
ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﻣﻤﺘﺎ
ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﺷﻔﻘﺖ
ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﻮﻝ ﮐﮯ ﺍﺳﮑﯽ ﺧﺎﻃﺮ،
ﭘﺮﺳﻮﮞ ﭘﻮﺭﯼ ﺷﺐ ﺟﺎﮔﯽ ﺗﮭﯽ
ﮐﻞ ﺷﺐ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﻣﯿﮟ،
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ’ ﻋﺰﺕ ، ﺯﯾﻮﺭ ، ﮐﭙﮍﮮ ﻟﺘﮯ
ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻭﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ
ﺍﻥ ﺳﺐ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﻭﻗﻌﺖ ‘
ﺟﺐ ﺩﻝ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮨﺎﺭ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ
ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺳﻨﮕﺪﻝ ﮨﺮﺟﺎﺋﯽ
ﺻﺒﺢ ﺳﮯ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﯾﮩﺎﮞ ﺑﭩﮭﺎ ﮐﺮ
ﺍﻟﻠﻪ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﺍﺱ ﻟﻤﺤﮯ ﯾﮧ ﺟﯽ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ،
ﮐﮩﮧ ﺩﻭﮞ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﺎﮔﻞ ﻟﮍﮐﯽ
ﮐﺎﻏﺰﯼ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﮐﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ،
ﻋﺰﺕ ﮐﮯ ﮈﺍﮐﻮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﯾﮧ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﻟﻮﭦ ﮐﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ
ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺐ ﺁﻧﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﺗﻢ ﮐﻮ ﺳﮍﮎ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ
ﺍﻥ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﻧﺌﯽ ﺗﺘﻠﯽ ﮐﮯ
ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮬﮯ
ﺍﭘﻨﯽ ﻋﺰﺕ ﮔﻨﻮﺍ ﮐﺮ
ﮐﻮﺋﯽ ﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﮨﺎﺗﮭﮧ ﺩﮬﻮ ﺑﯿﭩﮭﺘﯽ
ﮨﮯ
ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﻮﭨﮭﮯ ﮐﯽ ﺯﯾﻨﺖ ﺑﻨﺎ ﺩﯼ
ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ
ﭘﯿﺎﺭ ﮐﮯ ﮐﮭﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮔﻞ ﻟﮍﮐﯽ ﮨﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﺩﮐﮫ ﮨﯽ ﭘﺎﺗﯽ ﮬﮯ
نہ جانے ﺍﭘﻨﺎ ﺁﭖ ﻟﭩﺎ ﮐﺮ ﮨﯽ ﮐﯿﻮﮞ
“ﺑﻨﺖ ﺣﻮﺍ ” ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﺁﺗﯽ ﮬﮯ؟؟؟؟؟؟؟

ہم اور ہماری یادیں

میری نظر میں زندگی بہت خوبصورت ہوتی ہے لیکن یہ انسان پر بھی منحصر ہے کہ وہ زندگی کوئی کیسے گزرتا ہے اور اس کو کیسے بناتا ہے بدصورت یا خوبصورت ؟
جیسے لمحہ لمحہ زندگی بنتا ہے ایسے ہی ہر آنے والا لمحہ گزرے لمحے کی یاد بھی ساتھ لے کر آتا ہے
کبھی کبھی ہم وقتی طور پر سب کچھ بھلا دیتے ہیں زمانے کے فریب ، دنیا کی رنگینیوں اور ماضی کی تلخیوں کو بھول کر ہم خود کو پر سکون ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کبھی بھری محفل میں کوئی لطیفہ یا کوئی واقعہ ہم کو فر سے یادوں کے سمندر میں پھینک دیتا ہے ہمارے لا شعور کے بند دروازے جن پر ہم سمجھوتوں کی مہر لگا چکے ہوتے ہیں ایک ایک کر کے سب کھولتے چلے جاتے ہیں اور ہم آس پاس کے ماحول سے بے خبر ماضی میں کھو جاتے ہیں اور جب ماضی کے تھکا دینے والے راستوں سے پرنم آنکھوں سے واپس لوٹتے ہیں تو اپنے آپ میں ہی خود کو اجنبی محسوس کرتے ہیں
ماضی اور ماضی کی یادیں بھی شاید زندگی کا انمول تحفہ ہوتی ہیں کبھی تو یہ یادیں انسان کو رلاتی بھی ہیں اور کبھی ہنساتی ہیں اور ساتھ ساتھ انسان کو بہت کچھ سمجھنے اور سیکھنے کے قابل بناتی ہیں شاید اسی ہنسنے ہنسانے رونے رلانے کا نام ہی زندگی ہے

تھوک کے چاٹنے کا ماہر کون ؟

رات گے ایک خوشی کی خبر سننے کو ملی کے الطاف حسین نے ایم کیو ایم کی قیادت چھوڑدی ہے  اور شاید اپنی جان بچانے کے لیے اب  اسکاٹ لینڈ یارڈ میں ’’شامل‘‘ ہونے  جا رہے ہیں  مجھے اس خبر سے کچھ زیادہ حیرانی تو نہیں ہوئی ہاں مگر ایک ڈر ضرور تھا کے کیا پتہ  الطاف “—- ” کب اپنا بیان بدل لیں لیکن سوچ رہا تھا کے لیکن اگر واقعی الطاف حسین  ایم کیو ایم کی قیادت چھوڑدی ہے تو دیکھیں یہ دنیا کب چھوڑتے ہیں….؟شکر خدا ہے کہ کراچی کے ہزاروں بےگناہوں کا لہو عمران فاروق کے خون کی صورت میں لندن میں بول پڑا،انہی سوچوں میں گم تھا کے نید کی آغوش میں چلا گیا اور آج صبح ہوتے ہی میرا ڈر سہی ثابت ہوا  الطاف “—- “نے ہمیشہ کی طرح اپنا بیان واپس لے لیا خیر  “بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی”  دعا کریں کہ ہر قاتل اپنے انجام کو پہنچے اور کراچی والوں کو جلد از جلد جبر اور خوف سے نجات ملے -

اے چاند یہاں نہ نکلا کر

اے چاند یہاں نہ نکلا کراے چاند یہاں نہ نکلا کر
بے نام سے سـپنے دکھلا کر
یہاں الٹی گنگا بہتی ہے
اس دیس میں اندھے حاکم ہیں
نہ ڈرتے ہیں نہ نادم ہیں
نہ لوگوں کے وہ خادم ہیں
ہے یہاں پہ کاروبار بہت
اس دیس میں گردے بکتے ہیں
کچھ لوگ ہیں عالی شان بہت
اور کچھ کا مقصد روٹی ہے
وہ کہتے ہیں سب اچھا ہے
مغرب کا راج ہی سچا ہے
یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر
حبیب جالب

کپتان جیت گیا

تحریک انصاف والے میرے دوست جذباتی ہو کر عجیب عجیب باتیں کررہے ہیں، مثال کے طور پر ایک دوست کہہ رہا تھا کہ ہم مردہ قوم ہیں، پشاور والے پنجاب سے ہہتر ہیں وغیرہ وغیرہ یہ جذباتی روئیہ مناسب نہیں ہے۔آپ سب لوگ یہ حقیقت نہیں جانتے کہ تحریک انصاف جیت گئی ہے، تحریک انصاف نے چراغ جلا دیا ہے، اب اس کی لو کو مسلسل ایک جذبہ چاہئیے کہ اس لو ، کو حالات کی آندھیاں متاثر نہ کریں ، اسی چراغ سے چراغ جلیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تبدیلی سالوں میں نہیں آتی، تبدیلی ایک مسلسل عمل کا نام ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خود کو ہارے ہوئے لوگوں کی طرح ظاہر کرکے اور دوسری جماعت پر تنقید کرکے اپنا قد چھوٹا نہ کریں ۔جتنی تعداد میں تحریک انصاف نے سیٹیں لیں ہیں یہ بھی غیر متوقع تھیں ، کئی جماعتوں کو پھلانگ کے دوسری پوزیشن پر پہنچنا نہایت خوشی کی بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب ایک مظبوط بنیاد تحریک انصاف کو مل گئی ہے۔

جیو ضرور مگر تھوڑی سی غیرت سے

 پاکستان کا ایک انتہائی متنازعہ ٹی وی چنیلپاکستان کا ایک انتہائی متنازعہ ٹی وی چنیل جو کے سستی شہرت کے لیےعجیب قسم کے نعروں اور اپنے اکثر لفافہ صحافیوں کے وجہ سے ہر روز تنقید کا نشانہ بنتا نظر آتا ہے۔ اس متنازعہ ٹی وی چنیل نے کل ایک اور کمال حرکت کی – ہوا کچھ ایسے کے کل شوباز شریف صاحب کا سیالکوٹ میں ہونے والا جلسہ جس کو متنازعہ ٹی وی چنیل اپنی سکرین کو دو حصوں میں تقسیم کر کے لائیو دیکھا رہا تھا سکرین کے ایک حصے میں میاں شوباز شریف صاحب تقریر کر رہے تھے اور دوسرے حصے میں اچھی خاصی تعداد میں لوگ اور وقت تھا شام سات بجے کا اب ہوا کچھ ایسے کے جہاں میاں صاحب تھے وہاں تو شام ہی تھی لیکن جہاں خاصی تعداد میں لوگ تھے وہاں ابھی دھوپ نکلی ہوئی تھی اس کا مطلب میاں صاحب تو سیالکوٹ میں تھے لیکن مجمع اصلی نہیں تھا ایسے یہ متنازعہ ٹی وی چنیل مزید متنازعہ بن گیا پتا نہیں کہ یہ ٹی وی چنیل مزید کتنی پستی میں گرنے کا ارادہ رکھتا ہے

پردے کے اُس پار

میری محدود سوچ کے مطابق
آج کل سارے پاکستانی ٹی وی چینل اور ان پر ہر ایک گھنٹہ بعد محفل سجانے والے زہر لگتے ہیں اس لیے نا چیز بلڈ پریشر بھڑانے کی بجائے آن لائن ایف ایم سننے میں بہتری سمجھتا ہے ایف ایم سننے کے بہت سے فائدے ہیں ایک تو بندا بار بار یہ بولنے سے بچ جاتا ہے کے ، مارو آدے منہ تے کوئی شے ، اور دوسرا فائدہ جو میری نظر سے گزرا وہ یہ کہ وہ لڑکیاں جو بیچاری گھروں میں بیٹھی رہتی تھیں اور ماں باپ کے ڈر سے کسی غیر مرد سے بات نہیں کرتی تھیں‘ اب رات کو اطمینان سے کسی’’جنید بھائی‘‘ سے آن ایئر بات بھی کرتی ہیں ‘ آواز کی تعریف بھی کرتی ہیں اور پسند کا گانا بھی سن لیتی ہیں۔’’جنید بھائی ‘‘ بھی آواز کا زیرو بم مزید خمارآلود بناتے ہوئے پندرہ سو روپے میں رات دو گھنٹے تک آہیں بھرتے ہیں‘ بے وزن شعر گنگناتے ہیں اوریہ ثابت کرنے میں پوری طرح کامیاب رہتے ہیں کہ وہ ایک رومانٹک شخصیت کے مالک ہیں اور ساغر صدیقی سے ناصر کاظمی تک ان کے نہایت قریبی مراسم رہے ہیں۔رات کے میزبانوں کو وحید مراد اور دن کے میزبانوں کو شوخ و چنچل شاہ رخ بننے کا جنون ہوتاہے۔ دن کے وقت یہ مائیک منہ کے اندر ڈال کر اتنی خوش خوش اور تیز بات کرتے ہیں کہ کوئی مائی کا لال اندازہ نہیں لگا سکتا کہ بیس منٹ پہلے جیدی ڈالے کے پیچھے لٹک کر سٹوڈیو پہنچا ہے۔ کئی میزبان لڑکیوں کی تو بات بات پہ اتنی ہنسی چھوٹتی ہے کہ ریڈیو سننے والا دانت پیس کر اپنی بیوی کو کوسنے لگتاہے۔اِن میں زیادہ تر وہ ہوتی ہیں جن کی شکل ان کی آواز کے بالکل مخالف ہوتی ہے۔ گھر میں شوہر ان سے ڈرتے جھجکتے تھوڑی سی بھی پیار کی بات کرے تو پنجے جھاڑ کے پیچھے پڑ جاتی ہیں لیکن آن ایئر اتنی محبت سے کالز کا جواب دیتی ہیں کہ ’’ بی سی این ‘‘ بھائی کی ایک دفعہ بھی کال مل جائے تو سارا دن اپنے پان کے کھوکھے پر بیٹھے حسین خیالوں میں کھوئے رہتے ہیں
سب مایا ہے ،،،،

چہرے نہیں نظام کو بدلو، ظلم کی صبح شام کو بدلو

 پاکستانی معاشرہ

یہ ذہنی مریض پاکستانی معاشرے کی اصل تصویر ہے جو کسی حال میں خوش نہیں کسی کو کسی حال میں جینے نہیں دیتے بس اعترض پر اعترض
کیا کہوں کہاں سے بات شروع کروں کچھ سمجھ نہیں آتی بس آج دل بھر آیا لکھنا نہیں چاہتا لیکن میرے بہت سے قابل احترام اور پڑھے لکھے دوستوں کے فضول قسم کے تبصروں نے قلم اٹھانے پر مجبور کیا جن نے آج کل سنی سنائی باتوں پر اٹھ کر تنقید کا بازار گرم کیا ہوا ہے تو میں ایسے دوستوں سے مخاطب ہو کر کچھ کہنا چاہتا ہوں کے ڈاکٹر محمد طاہر القادری پر تنقید کرنے والو میرے ہم وطنو آپ کو انقلاب کی نہیں جوتی کی ضرورت ہے وہ بھی بگھو بگھو کر دو نورے اور زرداری کو ووٹ اور بن جاؤ مظلوم معاشرے کا حصہ کیوں روتے ہو گیس کو کیوں روتے کو سی این جی کو کیوں روتے کو مہنگائی کو ایک طرف تم ایسے نظام سے تنگ ہو جس میں تمہاری جان مال عزت محفوظ نہیں کب کسی وڈیرے کی گولی کا نشانہ بن جاؤ تمہیں پتا نہیں لیکن اگر کوئی اس نظام کو بدلنے کی بات کرتا ہے تو تم صرف یو ٹیوب کی دو چار فضول قسم کی جھوٹی ویڈیو دیکھ کر اسی کو ہی بے جا تنقید کا نشانہ بناتے ہو خدا رہ ہوش کے ناخن لو سوچ سے کام لو ایک مسلمان ہونے کے ناتے ایک حلف پر یقین کرتے ہوئے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے تو کام از کام چپ رہو خدا کے لیے انتشار مت پھیلاؤ اور اگر تم کچھ کر سکتے ہو تو اپنی سوچ سے کام لو اور 14 جنوری پاکستانی معاشرے کی بیداری کے لیے قلم اٹهاو اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے هوئے اس جدوجہد کا حصہ بنو.اپنی آواز اٹھاؤ! یاد رکهو ! قوموں پہ زوال برے لوگوں کے بهونکنے سے نہیں بلکہ اچهے لوگوں کے خاموش رہنے سے آتا هے.ایسا موقعہ روز روز نہیں آتا اپنے حصے کا دیا جلاؤ آخر کب تک چیونٹیوں کے طرح مرتے رہو گے پاکستانیوں روز روز کے مرنے سے ایک دفع مرنا بہتر ہے اٹھاؤ ظلم کے خلاف آواز اور بدل ڈالو نظام

تبدیلی بہت پیچھے رہ گئی اب تو 14 جنوری کو انقلاب آئے گا انشا الله ۔۔۔

735056_508436415854269_918340140_n

اور ہاں کچھ حاض دوستوں کے لیے کےبات تمیز سے اور اعترض دلیل سے کرو کیوں کے زبان تو حیوانوں میں بھی ہوتی ہے مگر وہ علم اور سوچ سے محروم ہوتے ہیں

گدھوں کی خوبیاں اور خصوصیات

میرے محدود علم کے مطابق

گدھے دیکھنے میں جتنے شریف اور نفیس نظر آتے ہیں حقیقت میں بھی اتنے ہی شریف اور مسکین ہوتے
ہیں میری بات کا یقین نہ ہو تو ذرا اٹھ کر آئینہ دیکھ لیں یا پھر کسی گدھے کے پیچھے سے گزر کر دیکھیں وہ دو لتی جھاڑ میری بات کی سچائی پر اپنی مہر لگا دے گا
پہلے زمانوں میں گدھے مال برداری کے کام آتے تھے ویسے آج کل بھی زیادہ تر گدھے یہ ہی کام کرتے ہیں بس کچھ گدھے انسانی روپ دھار کر انسانی صفوں میں گھس گے ہیں
ویسے تاریخ کے اوراق سے نہ تو گدھوں کے اپنا پیشہ تبدیل کرنے کی کوئی سند ملتی ہے اور نہ ہی مینو ۔کل بھی وہ گھاس اور چارہ رغبت سے کھاتے تھے اور آج بھی ان کے ٹیسٹ میں بہتری دیکھنے میں نہیں آتی البتہ گدھے نام بدلتے رہتے ہیں مگر جس نام سے بھی پکارو رہتے گدھے کے گدھے ہی ہیں ہمارے پاکستان میں زیادہ تر گدھے بلیک اینڈ وائٹ ہوتے ہیں
لیکن یہاں یورپی ممالک سفید گدھوں کی بہتات ہے ایک ڈھونڈنے نکلو تو ہزار مل جائیں گے
گدھوں میں جہاں وزن اُٹھانے کے علاوہ اور بہت سے نہ معلوم خصوصیت پائی جاتی ہیں وہاں ان کی آواز کا جادو سر چار کر بولتا ہے زیادہ تر گدھے آٹو سسٹم یعنی خود کار سسٹم کے تحت بلاوجہ ڈھینچو ڈھینچو کی گردان کرتے رہتے ہیں اور پھر کبھی کبھی اچانک بریک لگا دیتے ہیں کہنے کو تو ان کی کہانی ڈھینچو ڈھینچو سے سٹارٹ ہو کر ڈھینچو ڈھینچو پر ہی ختم ہو جاتی ہے لیکن گدھے کی زندگی میں بھی اکثر اوقات بہت درد ناک موڑ آتے ہیں حاض طور پر جب اس پر ڈنڈوں کی بارش ہوتی ہے اور گدھا بیچارہ یہ بھی نہیں کہے سکتا کے اے برا کرم اتنا نہ برس
تاریخ اوراق پلٹنے سے مجھے یہ بھی پتا چلا کے پہلے گدھوں کے سر پر سینگ بھی ہوا کرتے تھے مگر پھر کسی کم ظرف نے انہیں اپنی ضرب المثل میں استعمال کر کے اتنی مہارت سے غائب کیا کے اب اگر کوئی آپ سے اُدھار لے کر اچانک غائب ہو جانے تو آپ کہیں گے کے وہ ایسے غائب ہوا ہے کے جیسے گدھے کے سر پر سے سینگ
ویسے اہل پنجاب کے ہاں گدھے سے زیادہ اس کے فَادر محترم کو لائق توجہ سمجھ اور اکثر بے تکلفی میں کھوتے دا پتر بول کر پیار سے ڈانٹا جاتا ہے اور شہر والوں کا تو کیوں کے اصلی گدھوں سے زیادہ واسطہ نہیں پڑتا اس لیے یہ گدھوں کی یہ نشانی بیان کرتے ہیں کے جو سوتا ہے وہ کھوتا ہے اس نشانی سے نہ جانے شہری لوگ کیوں پریشان ہو جاتے ہیں اور جب بھی ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو بات کا آغاز اس طرح کرتے ہیں کے نہ جانے آج کل نید نہیں آتی ۔
باتوں باتوں میں یاد آیا میرے ایک دوست کو دنیا کا سب سے بڑا گدھا ہونے کا عزاز بھی حاصل ہے اس کے والد دن میں کم از کم دس بار یہ بول کر کے تم سے بڑا گدھا میں نے نہیں دیکھا ،اس کی جنرل نالج میں اضافہ کرتے رہتے ہیں اور میرے دوست کو بھی اپنے والد کی جنرل نالج پر بڑا فخر ہے
نیٹ گردی کرتے یہ بھی پتا چلا کے شاعروں نے گدھے کی تعریف میں کئی قصیدے لکھے ہیں یہاں اگر میں امام دین گجراتی کا ذکر نہ کروں تو یہ گدھوں کی تاریخ سے زیادتی ہو گی اور گدھوں کی تاریخ بھی ادھوری رہ جانے گی ان کا یہ شعر جو اکثر سنننے کو ملتا ہے
حسینوں کی زلفیں تیری قسمت میں کہاں،
تو کھوتی کا پوچھل پکڑا کر امام دینا ،
یہاں پنجابی نہ سمجھنے والے دوستوں کے لیے تھوڑی سی وضاحت کرتا چلوں
یہاں کھوتی سے مراد گدھے کی زوجہ محترمہ اور پوچھل سے مراد گدھے کی دم کو کہتے ہیں جو گدھے کے علاوہ بھی اور بہت سے جانوروں میں پائی جاتی ہے
یہاں ایک بات یاد آ گئی جو آپ سے شیر کرنا چاہوں گا ایک واقعہ جو بچپن میں میرے ساتھ پیش آیا
میرے نانا کے گھر کے ساتھ ایک کمہار چچا رہا کرتے تھے جن کے پاس گدھے وافر مقدار میں پائے جاتے تھے ایک دن میں نے اپنے فِطری تجسس سے مجبور ہو کر کمہار چچا سے پوچھا بیٹھا کے چچا یہ گدھے کی پیٹھ پر بوری نما کپڑا کیوں رکھتے ہو
کمہار چچا نے میری بات کے جواب میں ایک ننگی پیٹھ والے گدھے کو پکڑا کر میرے سامنے کیا اور کہا اس پر بیٹھو ابھی پتا چل جائے گا میں نے گدھے کو ایک پتھر کے ساتھ کھڑا کر کے اپنے آپ کو گدھے کے قد کے برابر کیا ویسے ذہنی لحاظ سے تو میں پہلے ہی اس کے ہم پلہ تھا اور بس پھر میں لات گما کر جتنی تیزی اس کی پیٹھ پر بیٹھا ،اس سے زیادہ تیزی سے پھسل کر خاک نشین ہو گیا اور درد سے اپنی کمر سے نیچے نا قابل اشاعت جگہ پر سہلانے لگا
میں نے کھڑے ہوکر کمہار چچا سے نالاں ہو کر بولا چچا یہ کیا حرکت تھی چچا نے ہسنتے ہوئے بولا تمہارے سوال کا جواب۔
میں نے درد سے دہرے ہوتے ہو ئے بولا چچا ویسے بھی تو بتا سکتے تھے نا اس کی کیا ضرورت تھی تو چچا نے مسکراتے ہوئے بولا ایسے زیادہ سمجھ آتی ہے اور دیر تک یاد رہتی ہے اور واقعی میں بارہ سال گزرنے کے بعد بھی آج یہ تحریر لکھتے ہوئے مجھے یہ واقعہ یاد آ گیا
اور جب کبھی یہ واقعہ یاد آتا تو پرانی دردیں پھر سے شروع ہو جاتی ہیں ہیں اور سوچتا ہوں کے الله پاک گدھوں کو پیدا ہی نا کرتا تو کیا خرج تھا مگر پھر خیال آتا ہے کے بغیر چوں چران کیے اتنا بوجھ فِر کون اٹھاتا اور جو ہمارے آس پاس انسان نما گدھے وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں ان کی پہچان کیسے ہوتی
میرا اشارہ اس طرف نہیں ہے جو آپ دوست سمجھ رہے ہیں اور میرا اشارہ اس طرف بھی نہیں ہے جو آپ نہیں سمجھ رہے اور میں اتنی دیر سے سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں بہرحال گدھوں کی بیان کی گئی خصوصیات سے کسی کی مماثلت محض اتفاقیہ ہو گی وسیم بیگ ہرگز اس کا ذمدار نہیں ۔

لڑکیوں کے چکر میں نہ پڑنا

لڑکیوں کے چکر میں نہ پڑنا. یہ آتی ھیں ھیر کی طرح. لگتی ھیں کھیر کی طرح. چبھتی ھیں تیر کی طرح. اور حالت بنا دیتی ھیں فقیر کی طرح. ایسا ہی کچھ ہوا سی آئی اے کے سربراہ ڈیوڈ پیٹریاس کے ساتھ بھی ان صاحب کوبھی زلفوں کا اسیر ہونے کی بھاری قیمت چکانی پڑی اور وہ اپنے عہدے سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ انہیں عشق کے اس انجام تک پہنچانے والی خاتون کوئی اور نہیں بلکہ ان کی سوانح عمری لکھنے والی امریکی صحافی اور دو بچوں کی ماں ہیں۔ کتابی چہرے اور تیکھے نین نقش والی چالیس سالہ پاؤلا براڈویل جس کی جھیل جیسی گہری آنکھوں میں ڈوب کر دنیا کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی کے سربراہ اپنے عہدے سے ہاتھ دھو بیٹھے
دوستو دیکھ لیا۔۔ اپنے جذبات کو بے لگام چھوڑ نے کا انجام ، کیا ملا، سمندر سے پیاس ، جدائی کی آس ملن کی پیاس ۔اونچائی سے رسوائی کا سفر ایک جنس مخالف کی وجہ سے کیسے پل میں کٹ گیا اس لیے دوستو لڑکیوں کے چکر میں نہ پڑنا اور زندگی خراب مت کرنا

کاش یہ ایک جھوٹ ہو

دوست بلاگر عنیقہ ناز روڈ ایکسیڈنٹ میں انتقال کر گئی اور سارے اردو بلاگستان کو اداس کر گئی
انا للہ وانا الیہ راجعون
بہنا تم مجھے یاد رہو گی اس آنسو کے حوالے سے جو آج تمہارے جانے کے خبر سن کر میری آنکھ سے بے اختیار بھہ نکلا نہ جانے میرا دل یہ بات تسلیم کرنے کو کیوں تیار نہیں دل کہتا ہے کاش یہ جھوٹ ہو کاش ابھی آپ  میرے بلاگ پر آ جاؤ اور  میری غلطیوں کی  تصحیح  کرو ہماری سوچ میں لاکھ اختلاف سہی مگر بہنا ایسی بھی کیا ناراضگی کے کے اتنے دور ہی چلے جاؤ خدا کا واسطہ آ جاؤ اور بولو یہ سب مذاق تھا جھوٹ ہے آنکھ سے گرتے آنسووں کا واسطہ بہنا———————————————————————-

———————————————————————–

وقت بدلتا ہے رنگ کیسے کیسے

کبھی پہلی بار سکول جانے سے ڈر لگتا تھا آج کل ہر راستہ خود ہی چُنتے ہیں
کبھی امی کی ہر بات سچی لگتی تھی آج ان سے ہی جُھوٹ بولتے ہیں
کبھی چھوٹی سی چوٹ کتنا رُلاتی تھی آج کل دل ٹوٹ جاتا ہے پھر بھی ہنسنا پڑتا ہے
پہلے دوست بس ساتھ کھیلنے تک یاد رہتے تھے آج کچھ دوست جان سے پیارے لگتے ہیں
ایک دن تھا جب پل میں لڑنا پل میں مرنا تو روز کا کام تھا میرا
آج کل تو جینے کے لیے بھی وقت نہیں ملتا
آج ایک بار جو جُدا ہو ئے تو راستے تک کھو جاتے ہیں
سچی اس زندگی نے وسیم کو بہت کچھ سیکھا دیا
نہ جانے زندگی نے مجھ کو اتنی جلدی بڑا کیوں بنا دیا

میں پاکستان جا کر مرنا چاہتا ہوں

میں پاکستان جا کر مرنا چاہتا  ہوں یہ لفظ تھے بارسلونا سپین میں مقیم ایک پاکستانی نام ارشاد احمد چٹھہ جوپاکستان کے شہر گجرات سے ملحقہ گاوں (گورالی ) کا رہائشی تھا اور ایک سال قبل سیر کرنے سپین آیا اورسانس اور پھیپھڑوں کی بیماری میں مبتلا ہو گیا علاج کے باوجود بیماری بڑھتی گئی اور ایک دن ڈاکٹرز نے کہا کہ ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے جواب سننے کے بعد ارشاد احمد چٹھہ نے پاکستان جانے کی کوششیں تیز کردیں ٹکٹ کروایا اور پی آئی اے کے جہاز میں سوار ہو گیا لیکن بارسلونا پی آئی اے کے عملہ نے اسے جہاز سے آف لوڈ کر دیا وجہ یہ بتائی کہ ڈاکٹر تمہیں سفر کی اجازت دے گا تو ہم لے کر جائیں گے ،پی آئی اے کے کنٹری مینجر سے بات کی گئی انہوں نے کہا کہ اس مریض کے لئے آکسیجن کی ضرورت ہے لہذا آپ پندرہ سے بیس دن کی ٹکٹ بکنگ لے آئیں ہم پاکستان سے آنے والے جہاز میں آکسیجن کا سلنڈر منگو الیں گے جس سے مریض آسانی سے سفر کر لے گا بکنگ دے دی گئی لیکن جس دن کی بکنگ تھی اس سے ایک دن پہلے کہا گیا کہ آپ ڈاکٹر سے سرٹیفیکیٹ بنوا کر لائیں ڈاکٹر سے سرٹیفیکیٹ بنوایا گیا جسے یہ کہہ کر رد کر دیا گیا کہ یہ ہاتھ سے لکھا ہوا ہے اسے ٹائپ کروا کے لائیں ، ارشاد احمد چٹھہ نے کہا کہ میں چند دنوں میں مر جاوں گا لیکن میں اپنی ماں دھرتی میں دفن ہونا چاہتا ہوں اس نے کہا کہ میں اپنے ملک کی ایئر لائن کی منت کرتا ہوں کہ وہ مجھے پاکستان پہنچا دے مجھ سے میری مٹی کا رشتہ نہ چھینا جائے میرے وطن کی مٹی مجھے بلا رہی ہے، ارشاد احمد چٹھہ نے کہا کہ مر تو میں نے جانا ہے لیکن اگر مجھے پاکستان نہ پہنچایا گیا تو میری روح کو سکون نہیں ملے گا لیکن شاید ارشاد احمد یہ بھول گیا تھا ہم پاکستانی عوام ہیں ہماری کوئی سننے والا نہیں اور یہ ائیرلائن با کمال لوگوں کی ہے جن کو صرف غریبوں کا خون چوسنا آتا ہے اور فر کل وہ ہی ہوا جو ارشاد احمد کی تقدیر میں لکھا تھا ارشاد احمد ہسپتالوں کے چکر لگاتے لگاتے اور پی آئی اے کے کنٹری مینجر کی منتیں کرتے کرتے زندگی کی بازی ہر گیا لیکن جب تک وہ زندہ تھا کسی نے اس کی ایک نہ سنی اور اسے موت کے منہ میں دھکیل دیا چھ ماہ تک ارشاد احمد چٹھہ اپنی ٹکٹیں بنواتا اور کینسل کرواتا رہا پی آئی اے کے آفیسرز یہی کہتے رہے کہ ہمارا قانون ہمیں اجازت نہیں دیتا اب ایسا بھی کیا قانون جس میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہ ہو ،ارشاد احمد چٹھہ کے لواحقین اب اس کے جسد خاکی کا انتطار کر رہے ہوں گے لیکن شائد پی آئی اے وہ تابوت بھی نہ لے کر جائے کیونکہ ان کے اپنے قانون ہیں ۔
یہ ہے با کمال لاجواب سروس

دکھ پردیساں دے

بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم!
دکھ پردیساں دے آج ایک ایسے پردیسی بھائی سے ملاقات ہوئی جس کا دکھ سن کر میں یہ پوسٹ لکھنے پر مجبور ہوا
پاکستان میں لوگ سمجھتے ہیں کہ پردیس جا کر کام کرنے والوں کی زندگی بہت حسین ہوتی ہے
ایسا کچھ بھی نہیں ہے. اکثر وہ بیچارے خود اکیلے اور دکھی رہے کر اپنے گھر والوں کی زندگی آسان کرنا چاہتے ہے
کبھی ان کی جگہ اپنے آپ کو رکھ کر دیکھئے تو اس قید تنہائی کا اندازہ ہو گا آپ کو
خدارا ان کو صرف پیسے کمانے کی مشین نہ سمجھئے بلکہ ان کی قربانیوں کی قدر کیجئے اور فضول قسم کی فرمائشوں سے پرہیز کیجئے ، آپ جہاں انکو اپنی فرمائشیں لکھواتے ہیں وہاں کبھی انکے دل کا حال بھی جاننے کی کوشش کرنا کہ انکے شب و دن کیسے گذرتے ہیں ! ، کئی بار تھکن سے چور ہو کر بھوکے پیٹ بھی سو جاتے ہیں مگر گھر والوں کو کہتے ہیں میں مزے میں ہوں
وہ بیچارے تو اپنے دکھ آپ کو بتاتے نہیں اس لئے آپ بھی فضول قسم کی پریشانیوں اور گھریلو جھگڑوں سے ان کو دور ہی رکھیں تو بہتر ہے ،
ان سے مثبت باتیں کیا کریں جن سے ان کا حوصلہ بڑھے، یقین جانئیے آپ کے چند میٹھے بول ان کی ہمت بڑھا دینگے
الله کبھی بھی کسی کو اپنے پیاروں سے دور نہ کرے ، وہ بیچارے حالات کے ہاتھوں پردیسی تو بن گئے ہیں، انھی غیر مت بنائیے پلیز!
یا الله اپنے گھر سے دور ہر پردیسی کو اپنی حفظ و امان میں رکھنا …آمین

Pages