Feed aggregator

حضرت معاویہؓ، بنو امیہ اور تاریخ کا ظلم

مذہب فلسفہ اور سائنس -

امیر معاویہ کا تب وحی ہیں، ام المؤمنین حضرت ام حبیبہؓ کے بھائی ہونے کے ناتے امت کے ماموں ہیں ،عمرۃ القضاء کے موقع پرفتح مکہ سے قبل مشرف باسلام ہوئے ہیں ،ان کے والد ماجد حضرت ابو سفیان ؓ نہ صرف ایک صحابی بلکہ جلیل القدر اسلامی کمانڈر ہیں ،جنگ یر موک میں ان…

بنوامیہ اور تاریخ کا سطحی مطالعہ و تجزیہ ‘

مذہب فلسفہ اور سائنس -

عربی کا مقولہ ہے:ویل للدولۃ المھزومۃ حین یکتب تاریخھا المنتصرون یعنی اس شکست خوردہ حکومت کا ستیاناس ہوجاتا ہے ،جس کی تاریخ اس کے فاتحین لکھتے ہیں ۔ آج کل بعض محترم اہل علم کی بنو امیہ سے متعلق “سطحی تجزیے”پڑھ کر حسرت آمیز تعجب ہوتا ہے ۔ خیر القرون کے زمانے میں تقریبا ایک…

کیا بنوامیہ نے خاندانی سیادت حاصل کرنے کی خاطر اسلام قبول کیا اور غزوہ بدر کا انتقام جنگ صفین کی صورت میں لیا؟

مذہب فلسفہ اور سائنس -

اعتراض بنو امیہ نے اپنی خاندانی سیادت حاصل کرنے کی خاطر اسلام قبول کیا نیز خلافت کو گرانے کی خاطر سازشیں کی، حضرت عثمان کو شہید کروایا وغیرہ۔ جواب: اگر واقعی ایسا تھا تو دو میں سے ایک بات ماننا لازم ہے۔ اگر تو خاندان رسالت کے لوگوں کو اس رویے اور سازش کی خبر…

بنو امیہ (خاندان سیدنا معاویہ رض) و بنو ہاشم (خاندان سیدنا علی رض) کے آپسی تعلقات محبت و مودت

مذہب فلسفہ اور سائنس -

اسلامی تاریخ کے سرسری و سطحی مطالعہ سے بعض لوگوں نے یہ نظریہ قائم کرلیا ہے کہ گویا بنو امیہ اور اہل بیت و بنو ہاشم کے مابین کوئی سخت دشمنی تھی لیکن جب ہم انساب کی مستند کتب کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معاملہ اس کے بالکل برعکس نظر آتا ہے۔ ہم دیکھتے…

بنو امیہ اور بنو ہاشم کے مابین ازدواجی رشتے

مذہب فلسفہ اور سائنس -

مضمون نگار :ڈاکٹر یٰسین مظہر صدیقی بین القبائل شادی کا رواج عربوں میں ہمیشہ سے چلا آرہا ہے اور ان میں اکثر وبیشتر کفائت یعنی سماجی برابری کا خیال بھی رکھا جاتاتھا۔ انساب عرب کی کتابوں میں خاص کراور سیر وتواریخ میں عام طور پر عربوں کے مابین قبائلی ازدواجی تعلقات کا ذکر بڑی کثرت…

خود کلامی

تحریر سے تقریر تک -

میری توقعات سے پر
میری خواہشیں ہی اصل محبت ہیں
ہاں مجھے ملے جو میں نے چاہا تھا
جس کو چاہا تھا
اس ترتیب سے
سب کچھ ملے
جیسے چاہا تھا
اور وہ کون
میری آرزو میں الجھا ہوا شخص
کیا جانے کہ میری محبت کیا ہے
وہ چاہتا ہے
میں اس کو چاہوں
اس کی طرح سوچوں
اس کی ہو لوں
بھلا یہ بھی کوئی محبت ہے
کہ آدمی کسی اور کی آنکھ سے دنیا کو دیکھے
اس کے بتائے رنگوں پر اعتبار کرے
اس کی انگلی تھام کر چلے
اسے بھی کوئی محبت کہے گا
ہاں یہ محبت تو غلامی سے بدتر ہے
میں کیوں اپنے ہی جیسے کسی شخص کی زندگی جیوں
میں کیوں اسی کی بن کر رہوں
اس کے بتائے ہوئے رنگوں پر اعتبار کروں
میں تو میں ہوں
میری نگاہیں کچھ سوا دیکھتی ہیں
اس سے کہیں زیادہ دیکھتی ہیں،
ہاں وہ میرا نہیں تو کیا
کوئی بات نہیں
میں اپنی نگاہوں میں ہوں معتبر
اپنی زندگی میں مگن
ہاں مجھے مجھ سے محبت ہے


معیشت

افتخار اجمل بھوپال -

اپنے بلاگ پر میری 23 اکتوبر 2005ء کی تحریر

سورۃ 25 الفرقان آیۃ 67 ۔ جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل ۔ بلکہ ان کا خرچ دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے

کوئٹہ: نمازِ جمعہ کے وقت مسجد میں دھماکا، 3 افراد جاں بحق 19 زخمی

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

 

کوئٹہ: نماز جمعہ کے وقت مسجد میں دہماکہ، 3 افراد جان بحق،19 زخمی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے پشتون آباد میں قائم مسجد میں ہونے والے دھماکے کے نیتجے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 19 افراد زخمی ہوگئے۔

ڈان نیوز ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دھماکا نمازِ جمعہ کے وقت ہوا جس کے بعد لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو فوری طور پر کوئٹہ کے سول ہسپتال منتقل کرنا شروع کردیا۔ دھماکا اتنا زوردار تھا کہ پورا علاقہ لرز اٹھا تاہم حکام نے دھماکے کی نوعیت کے بارے میں ابھی تک کچھ نہیں بتایا۔

دھماکے کے فوری بعد ریسکیو اہلکار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جائے وقوع پر پہنچ گئے اور سیکورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لےکر شواہد اکٹھے کرلیے۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے بتایا کہ نماز جمعہ شروع ہونے سے کچھ دیر قبل دھماکا ہوا، انہوں نے کہا کہ دھماکے میں 3 افراد جاں بحق اور 19 زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دھماکا ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا۔

ڈی آئی جی کوئٹہ کا کہنا تھا کہ 618 مساجد میں سے 100 مساجد کو سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے، پورے شہر میں 1500 کے قریب سیکورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ https://www.dawnnews.tv/news/1103948/ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اسلامک سٹیٹ  داعش اس واقعہ میں ملوث ہے۔ داعش کو علم ہونا چاہئیے کہ ایک بے گناہ انسان کا خون پو ری انسانیت کا خون ہے اور یہ بات طے ہے دہشت گر دی کہ اس طر ح کے واقعات میں ملوث لوگ نا تو انسان ہیں اور نا ہی ان کو کو ئی مذہب ہو تا ہے ۔ بے گناہ مسلمانوں کا قتل اور دہشت گردی اسلام میں قطعی حرام بلکہ کفریہ اعمال ہے۔ مساجد اللہ کا گھر ہوتی ہیں ان پر حملے خلاف اسلام اور ناجائز ہیں۔ اور مساجد میں خون خرابہ کرنا ناجائز ہے۔ رمضان جیسے مقدس ماہ اور جمعہ کے روز مسجد میں دھماکا کرنے والے مسلمان نہیں ہوسکتے۔ رمضان المبارک کا احترام تو دور جاہلیت میں بھی کیا جاتا تھا ، کفار اور مشرکین بھی رمضان المبارک کا احترام کرتے ہوئے قتل و قتال بند کر دیتے تھے۔ ارشاد ربانی ہے’’اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب‘‘۔ حضرت  ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے  جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ ہیں اور مؤمن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں مالوں کو مامون جانیں۔’  فساد پھیلانا قتل و غارتگری کرنا ناقابلِ معافی جرم ہے۔ اللہ کے رسول اکرم کا ارشا د ہے: اللہ کے ساتھ شرک کرنا یا کسی کو قتل کرنا اور والدین کی نا فرمانی کرنا اللہ کے نزدیک گناہ کبیرہ ہے۔ (البخاری) اسلام میں عام شہریوں، عورتوں اور بچّوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی بڑی سختی کے ساتھ ممانعت کی گئی ہے۔بے گناہوں کا خون بہانے والے اسلام کی کوئی خدمت نہیں کر رہے۔دہشت دہشتگردی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ جہاد کا حقیقی  مقصد امن کی بحالی ہوتا ہے۔ داعش کی دہشتگردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. یہ جہاد نہ ہے بلکہ دہشتگردی گردی ہے۔ خطے کے ممالک کی سلامتی اور استحکام کیلئے داعش ایک سنجیدہ خطرہ ہے اور اس خطرے سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کاوشیں کی  ضرورت ہے۔ جہاد کا اعلان کرنا ریاست اور حکومت پاکستان کا حق ہے۔جہاد کا وہ پہلو جس میں جنگ اور قِتال شامل ہیں صرف اسلامی ریاست شروع کر سکتی ہے۔ کسی فرد یا گروہ کے ایسے اقدامات ریاست کیخلاف بغاوت تصور کئے جائیں گے جو اسلامی تعلیمات کی رو سے بھی سنگین اور واجب التعزیر جرم ہے۔

بات چیت

افتخار اجمل بھوپال -

اپنے بلاگ پر میری 16 اکتوبر 2005ء کی تحریر سے

سورۃ 2 البقرۃ آیۃ 42 ۔ باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو

اپنے بلاگ پر میری 19 اکتوبر 2005ء کی تحریر سے

سورۃ 61 الصف آیۃ 2 اور 3 ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ۔ تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہر ؟ اللہ کے نزدیک یہ سخت نا پسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں

کیا دولتِ اسلامیہ پاکستان میں ہے؟

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

کیا دولتِ اسلامیہ پاکستان میں ہے؟ داعش ایک ناسور ہے اورکسی صورت میں بھی اُسے پاکستان میں پذیرائی نہیں ملنی چاہئے۔ پاکستان کو داعش کےحقیقی خطرہ کا ادراک ہونا چاہئیے کیونکہ یہ عفریت پہلے ہی عراق و شام کواپنی آگ کی لپیٹ میں لے چکی ہے جہاں پر داعش انسانیت کے خلاف جرائمز اور وار کرائمز میں ملوث رہی ہے۔

Image processed by CodeCarvings Piczard ### FREE Community Edition ### on 2019-03-18 18:02:59Z | | شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دہنسنے سے خطرہ ختم نہ ہو جائے گا۔ عراق اور شام میں دہشتگرد گروہ داعش کے مظالم ، اسلامی تعلیمات اور اسلامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں ۔
شریعت اور اسلام کے احکامات کے مطابق الداعش اور اس کے پیرو کار خوارج ہیں۔ خوارج کی اصطلاح ان لوگوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو نظام اور/ یا اسلام کے خلاف بغاوت کرتے ہیں۔
فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف نے داعش کو القاعدہ سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو داعش سے وابستگی ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے مگرپاکستان پر داعش کا سایہ بھی نہیں پڑنے دیں گے اور حکومت اس حوالے سے مستعد  ہے کہ داعش کے ممکنہ خطرے سے بچائو کیلئے بھرپور کارروائی کی جائے ۔اگر داعش آجاتا ہے تو خطے میں عسکریت پسندی اور دہشت گردی ایک نیا کروٹ لے گی ۔بلوچستان کے حالات بھی خیبر پختونخوا،فاٹا اور کراچی کی طرح خراب ہونگے ایران اور افغانستان کے ساتھ تجارتی راستوں کی بندش سے حالات مزید خراب ہونگے اور اسکے اثرات عام آدمی پر پڑیں گے۔ بلوچستان کی صوبائی حکومت نے وفاق اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک خفیہ رپورٹ ارسال کرکے الدولۃ اسلامیہ(آئی ایس آئی ایس) یا داعش نامی عسکریت پسند تنظیم کا اثررسوخ بڑھنے کا انتباہ دیا ہے۔ سیکیورٹی ماہر ڈاکٹر اعجاز حسین کا ماننا ہے کہ پاکستان کو آئی ایس سے خطرے کا سامنا ہے تاہم داعش کو ایک حقیقی خطرہ بننے میں وقت درکار ہوگا وہ بھی اس صورت میں جب ٹی ٹی پی سمیت دیگر مرکزی گروپس سے علیحدہ ہونے والے افراد کو کامیابی سے اپنے ساتھ منسلک کرنے میں کامیاب ہوئی تو۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستانی سیکورٹی ادارے داعش کے نقش قدم کو چیک کرنے میں ناکام رہے تو یہ مستقبل میں بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے سکیورٹی امور کے ماہر عامر رانا کے بقول داعش کی تکفیری سوچ اور عسکری سرگرمیاں بھی بعض شدت پسند گروہوں کے لیے انسپائریشن کا سبب بن سکتی ہے۔ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے حال ہی میں انڈیا اور پاکستان کے لیے اپنی دو نئی شاخوں ’ولایت ہند‘ اور ’ولایت پاکستان‘ کے قیام کا اعلان اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے کیا ہے۔ پاکستان میں دولتِ اسلامیہ کی نئی شاخ کے قیام کا اعلان انڈیا میں ’ولایت ہند‘ کے قیام کے پانچ روز بعد کیا گیا ہے۔ پاکستان میں نئی شاخ کے قیام کے اعلان کے فوراً بعد 15 مئی کو جاری ہونے والے دو الگ الگ اعلامیوں میں ’ولایت پاکستان‘ نے 13 مئی کو بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ایک پولیس افسر کو ہلاک کرنے اور کوئٹہ میں پاکستانی طالبان کے ایک شدت پسند کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری بھی قبول کی۔پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت پہلے بھی یہ کہتی رہی ہے کہ ملک میں پہلے سے موجود شدت پسند گروپس دولتِ اسلامیہ کا نام استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں کاﺅنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی کاروائی میں فائرنگ کے تبادے میں نو مبینہ شدت پسند ہلاک ہو گئے۔سی ٹی ڈی کے حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق شدت پسند تنظیم داعش سے تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق داعش کا بلوچستان میں لشکر جھنگوی کے ساتھ اتحاد ہے اور یہ مل کر حملے کرتے ہیں۔ انسدادِ دہشت گردی کے قومی ادارے نیکٹا کے سابق سربراہ احسان غنی نے بتایا ’پاکستان میں دولتِ اسلامیہ کا وجود ہے، اس بات کو ہم یکسر مسترد نہیں کر سکتے۔ ایسا سوچنا کہ دولتِ اسلامیہ نہیں ہے اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہو گا۔‘ سکیورٹی امور کے ماہر عامر رانا کہتے ہیں کہ پاکستان میں چند شدت پسند گروہ موجود ہیں جن کا جھکاؤ پہلے ہی دولتِ اسلامیہ کی طرف ہے۔ ‘گذشتہ برسوں میں ہونے والی کارروائیوں کے نتیجے میں یہ گروہ کمزور ضرور ہوئے ہیں، مگر مکمل ختم نہیں ہوئے۔ وہ شدت پسند جن کے لیے مواقع کم ہو رہے تھے، شاید ولایت پاکستان کا قیام ان کے لیے کشش کا باعث ہو۔’ عامر رانا نے بتایا کہ یہ ممکن ہے کہ ولایت پاکستان کو افرادی قوت پہلے سے موجود تنظیموں اور افراد کی صورت میں میسر آ پائے۔ ‘نئی بنتی صورتحال پر کس طرح قابو پانا ہے۔ یہ سکیورٹی اداروں کے لیے یہ چیلنج ہو گا۔ جب پرانے شدت پسندوں کو نئے مواقع میسر آتے ہیں تو ان کی آپریشنز کی صلاحیتیں بڑھتی ہیں، مدد اور تعلقات بڑھتے ہیں۔ احسان غنی کا کہنا تھا کہ ’میری نظر میں اس کے قیام سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں اب صورتحال پہلے جیسی نہیں اور متعدد فوجی آپریشنز اور کریک ڈاؤنز کے بعد اب شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں کم ہو گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے شاید دہشت گرد تو ختم کر دیے ہوں گے مگر دہشت گردی نہیں۔

ماہ رمضان میں جنگ بندی کی تجویز طالبان نے مسترد کردی

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

ماہ رمضان میں طالبان نے جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ماہ رمضان کے آغاز کے موقع پر افغان طالبان کو ایک بار پھر جنگ بندی کی پیشکش کی ہے۔ افغان صدر نے یہ بات رمضان کے آغاز پر اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہی ہے جس کا آغاز افغانستان میں پیر کو ہوا۔ صدر غنی نے کہا کہ رمضان امن و مصالحت کا مہینہ ہے۔

‘‘میں ایک بار پھر طالبان سے کہوں گا کہ مقدس مہینے کا احترام کریں اور افغانوں کے امن و مصالحت کے مطالبے کی طرف توجہ دیں جس کا اظہار امن کے لیے ہونے والے قومی مشاورتی جرگے کے موقع پر ہوا ہے۔ ’’ افغان صدر نے کہا کہ جرگے میں شریک نمائندوں نے افغانستان میں قیام امن کے لیے ایک قرار داد کی شکل میں افغان حکومت کے لیے ایک لائحہ عمل مرتب کیا ہے۔ ایک ہفتے کے دورن افغان صدر کی طرف سے طالبان کو جنگ بندی کی یہ دوسری پیش کش تھی۔ تاہم ماہ رمضان میں طالبان نے جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی۔  رمضان المبارک کا احترام تو دور جاہلیت میں بھی کیا جاتا تھا ، کفار اور مشرکین بھی رمضان المبارک کا احترام کرتے ہوئے قتل و قتال بند کر دیتے تھے۔ ماہ رمضان ایک مقدس اور عبادات کا مہینہ ہے،اس لئے گزشتہ برس کی طرز پر اس بار بھی طالبان کو  جنگ بندی کا اعلان کرنا چاہیے۔ تاکہ ماہ مقدس کے دوران لوگ آرام کے ساتھ مساجد میں آ جا سکیں۔ اور اس ماہ میں خون خرابہ  اور قتل و غارت گری بند ہوسکے۔ ماہ رمضان میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی سے انکار کر کے طالبان نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ان کوجنگ سے بری طرح متاثر افغان عوام سے کوئی دلچسپی نہ ہے۔ طالبان کا نام نہاد جہاد ، جہاد کم اور فراڈ زیادہ ہے۔جہاد اللہ کی راہ میں اللہ کے لئے کیا جاتا ہے ، ذاتی اقتدار کےلئے نہیں۔ ایسا جہاد بجائے جہاد فی سبیل اللہ کےجہاد فی سبیل غیر اللہ ہو جاتا ہے۔ طالبان کا جہاد اسلامی جہاد کے تقاضوں کے منافی ہے۔

لین دین

افتخار اجمل بھوپال -

سورۃ 17 بنی اسرآءیل آیۃ 35

پیمانے سے دو تو پورا بھر کے دو اور تولو تو ٹھیک ترازو سے تولو ۔ یہ اچھا طریقہ ہے اور بلحاظ انجام بھی بہتر ہے

کوئٹہ: پولیس موبائل کے قریب دھماکہ، چار افراد ہلاک، 11 زخمی

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

کوئٹہ: پولیس موبائل کے قریب دھماکہ، چار افراد ہلاک، 11 زخمی پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بم کے ایک دھماکے میں پولیس کے کم از کم چار اہلکار ہلاک اور 11 افراد زخمی ہوئے ہیں۔بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے کا واقعہ کوئٹہ شہر کے علاقے سیٹلائیٹ ٹاﺅن میں پیش آیا۔

جائے وقوعہ کے قریب میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں کو نماز تراویح کی ادائیگی کے دوران مساجد کی سیکورٹی کے لیے تعینات کیا جاتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سیٹلائیٹ ٹاﺅن میں منی مارکیٹ کے قریب مسجد الہدیٰ کے باہر جب بلوچستان کانسٹیبلری کے ریپیڈ ریسپانس گروپ (آر آر جی) کی دو گاڑیوں میں سیکورٹی اہلکار آئے تو دونوں گاڑیوں کے درمیان ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ دھماکے میں آر آر جی کے چار اہلکار ہلاک اور 11 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ عبد الرزاق چیمہ نے بتایا کہ ابتدائی شواہد سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک آئی ای ڈی دھماکہ تھا جو ایک موٹر سائیکل میں نصب تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دھماکے میں پولیس کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے کوئٹہ میں بھی بم دھماکوں کے واقعات کمی و بیشی کے ساتھ پیش آ رہے ہیں تاہم حکام کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں حالات میں بہتری آئی ہے۔ دوسری جانب تحریک طالبان پاکستان نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ واضح رہے کہ رمضان کے مہینے میں یہ ملک میں شدت پسندی کا تیسرا واقعہ ہے۔ دو روز قبل بلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر میں فائیو سٹار ہوٹل ‘پرل کانٹیننٹل’ پر شدت پسندوں کے حملے کے نتیجے میں نیوی کے ایک اہلکار اور چار سکیورٹی گارڈز ہلاک ہو گئے تھے تاہم سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں تین شدت پسند بھی مارے گئے تھے۔ رواں ماہ آٹھ مئی کو لاہور میں داتا دربار کے باہر خودکش دھماکے میں چار پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ https://www.bbc.com/urdu/pakistan-48255709 دہشتگردی خلاف اسلام ہے ۔پاکستان میں طالبان نے اسلام کا نام لے کر نہتے لوگوں اور اپنے ہی ملک کے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے خلاف ’’جہاد‘‘کا اعلان کردیاگیاجوکہ اصل میں فساد فی الارض تھا۔قانون نافذ کرنیوالے ادارے، اسپتال، ہوٹل، مزار، مساجد غرض کوئی علاقہ بھی دہشتگردی سے بچا ہوا نہیں تھا۔ ان دہشتگردوں کیخلاف ایک عشرے سے زائد سیکیورٹی ادارے اپنی پوری تندہی و طاقت سے برسرپیکاررہے ۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں پولیس کے جوانوں اور عوام الناس پر حملے کرنے والے انسانیت اور اسلام کے دشمن ہیں ۔ رمضان المبارک کا احترام تو دور جاہلیت میں بھی کیا جاتا تھا ، کفار اور مشرکین بھی رمضان المبارک کا احترام کرتے ہوئے قتل و قتال بند کر دیتے تھے۔ ارشاد ربانی ہے’’اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب‘‘۔ حضرت  ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے  جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ ہیں اور مؤمن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں مالوں کو مامون جانیں۔’  فساد پھیلانا قتل و غارتگری کرنا ناقابلِ معافی جرم ہے۔ اللہ کے رسول اکرم کا ارشا د ہے: اللہ کے ساتھ شرک کرنا یا کسی کو قتل کرنا اور والدین کی نا فرمانی کرنا اللہ کے نزدیک گناہ کبیرہ ہے۔ (البخاری) طالبان کی دہشتگردی جہاد نہ ہےکیونکہ جہاد اللہ کی راہ میں کی جاتی ہے۔ جہاد کا اعلان کرنا ریاست اور حکومت کا حق ہے۔جہاد کا وہ پہلو جس میں جنگ اور قِتال شامل ہیں صرف اسلامی ریاست شروع کر سکتی ہے۔ کسی فرد یا گروہ کے ایسے اقدامات ریاست کیخلاف بغاوت تصور کئے جائیں گے جو اسلامی تعلیمات کی رو سے بھی سنگین اور واجب التعزیر جرم ہے۔ ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد بھی حرام ہے۔ حکومت کے خلاف ہر طرح کی عسکری کارروائیوں یا مسلح طاقت کے استعمال کو شرعی لحاظ سے حرام قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی ریاست کے خلاف منظم ہو کر طاقت کا استعمال قرآن و سنت کی رو سے حرام ہے، ایسے عمل کو بغاوت کہا جائے گا۔ باغی نیک نیتی کے ساتھ تاویل بھی رکھتے ہوں تو بھی ریاست اسلامی کے خلاف مسلح جدوجہد کرنا غیر شرعی ہے۔ عوام کی غالب اکثریت اسلامی ریاست کے حکمرانوں سے شدید نفرت کرتی ہو پھر بھی اسلام ایسے حکمرانوں کے خلاف مسلح حملوںکی اجازت نہیں دیتا البتہ پرامن طور پر ان کے خلاف جمہوری جدوجہد کی جا سکتی ہے۔

ادھورے سفر

محمود الحق -

بچپن گزر جاتا ہے ، کھلونے ٹوٹ جاتے ہیں اور لوگ بڑے ہو جاتے ہیں۔ لیکن ماضی سے جدا نہیں ہو پاتے۔ مگربعض لوگ زندگی میں طوفان کی طرح آتے ہیں اور ایک جھونکے کی طرح گزر جاتے ہیں۔ نہ تو راہ و رسم رہتی ہے ، نہ ہی تعلق قائم رہتا ہے اور نہ اپنائیت و وابستگی۔ بس یادداشت کے کینوس پر گرد و غبار کی مانند بس اتنی سی جیسے عینک پر پڑی دھول جو آنکھوں پر کوئی اثر نہیں رکھتی۔ وہ سوچتے ہیں کہ دنیا کو بہت کچھ دینے جا رہے ہیں۔ جبکہ وہ لینے والوں کی لائن میں لگے ہوتے ہیں ۔غذائی ضرورتیں انسان کی صحت و توانائی کا لیبل سجائے رکھتی ہیں اور بھوک بدن کو زندہ رکھنے کی تڑپ میں مبتلا رکھتی ہے۔ ایک بات تو طے ہے راستے جدا جدا ہیں منزلیں الگ الگ۔ الفاظ ترازو نہیں ہو سکتے جن پر انسان تولے جا سکتے ہیں۔ انسانی بستیوں میں بھیڑ ہوتی ہے یا تنہائیاں ، جنگلی حیات میں ریوڑ ہوتے ہیں یا غول۔ عجب لوگ ہیں خالق کائنات کی تخلیق پر غور نہیں کرتے لیکن جب اس کا نام بادلوں، پھلوں میں نظر آئے تو اس کی شان و بڑائی سے تعبیر کرتے ہیں۔ کسی نے روٹی پر دکھا دیا تو ٹی وی پر چلا دیا۔ عجب زمانہ ہے دولت و طاقت سے عزت و وقار کا بھرم ہے۔ کردارواعتبار ، اخلاق و اطوار تو بس وہ اجزائےترکیبی ہیں جو ہر شے پہ لکھے ہوتے ہیں مگرپڑھتا کوئی نہیں۔ مال و اسباب ترازو پر رکھتے ہیں۔ لیکن آنسوؤں اور ہنسی کا کسی کے پاس حساب نہیں۔ ایک ہنسی میں کتنے آنسو پڑتے ہیں۔ بس یاد ہے تو صرف مسکرانا یا رونا۔ جو لفظوں میں معنی تلاش کرتے ہیں ان کے سفر ادھورے ہیں۔ جو احساس تلاش کرتے ہیں وہ منزل کی طرف گامزن ہوتے ہیں۔ محبت انسان اس لئے کرتا ہے کیونکہ اس میں کوئی دوسرا اچھا لگتا ہے یا اپنا آپ اچھا لگتا ہے۔ حالانکہ چاہت احساس مانگتی ہے اوراحساس ایثار مانگتا ہے۔ ایثار قربانی مانگتا ہے تو قربانی قبولیت مانگتی ہے۔ قبولیت تعلق مانگتی ہے اور تعلق تقدس مانگتا ہے۔ تقدس وفا مانگتا ہے اور وفا عشق مانگتا ہے۔ عشق رضا مانگتا ہے اور رضا خدا مانگتا ہے۔ 

تحریر: محمودالحق

1965 کے صدرارتی انتخابات

شعیب صفدر -


وہ تاریخ جو آپ کو مطالہ پاکستان کی کورس کی کتابوں میں نہیں ملے گی

تاریخ می کئی چہروں پر ایسا غلاف چڑھا رکھاہے کہ اب انکی تعریف کرنی پڑتی ہے اور ان کا ماضی ہمیں بھولنا پڑتا ہے ایسےکئی کردار صدارتی الیکشن 1965 کے ہیں جن پر اب کوئی بات بھی نہیں کرتا اور نہ انکے بارے میں کچھ لکھا جاتا ہے یہ پہلا الیکشن تھا جس میں بیورکریسی اور فوج نے ملکر دھاندلی کی۔ 1965کے صدارتی الیکشن میں پہلی دھاندلی خود ایوب خان نےکی پہلے الیکشن بالغ رائے دہی کی بنیاد پر کرانے کا اعلان کیا ۔یہ اعلان 9اکتوبر1964کوہوا مگر فاطمہ جناح کے امیدوار بنے کے بعد یہ اعلان انفرادی رائے ٹھہرا اور ذمہ داری حبیب اللّہ خان پرڈالی گئی یہ پہلی پری پول دھاندلی تھی۔ 1964 میں کابینہ اجلاس کے موقع پروزراء نے خوشامد کی انتہا کی حبیب خان نے فاطمہ جناح کو اغواء کرنے کی تجویز دی وحیدخان نے جووزیراطلاعات اورکنویشن لیگ کے جنرل سیکرٹری تھے تجویزدی کہ ایوب کو تاحیات صدر قرار دینے کی ترمیم کی جائے بھٹونے مس جناح کو ضدی بڑھیا کہا اگرچہ یہ تمام تجاویز مسترد ہوئیں۔ ایوب خان نے الیکشن تین طریقوں سے لڑنےکا فیصلہ کیا۔ پہلامذھبی سطح پر،انچارج ، پیرآف دیول تھے جنہوں نے مس جناح کےخلاف فتوےديئے دوسری انتظامی سطح پرسرکاری ملازم ایوب کی مہم چلاتے رھے تیسری عدالتی سطح پرمس جناح کےحامیوں پرجھوٹےمقدمات درج ہوئےعدالتوں سے انکے خلاف فیصلے لئے گئے۔ سندھ کے تمام جاگیردار گھرانے ایوب کےساتھ تھے۔بھٹو،جتوئی،۔محمدخان جونیجو،ٹھٹھہ کےشیرازی،خان گڑھ کے مہر،۔نواب شاہ کےسادات،بھرچونڈی،رانی پور،ہالا،کےپیران کرام ایوب خان کےساتھی تھے۔جی ایم سید ، حیدرآباد کےتالپوربرادران اور بدین کے فاضل راہو مس جناح کے حامی تھے یہی لوگ غدار تھے ۔ پنجاب کے تمام سجادہ نشین سوائے پیرمکھڈ صفی الدین کوچھوڑکر باقی سب ایوب خان کے ساتھی تھے۔سیال شریف کےپیروں نے فاطمہ جناح کےخلاف فتوی دیا پیرآف دیول نے داتادربار پر مراقبہ کیا ۔اور کہاکہ داتاصاحب نے حکم دیا ہے کہ ایوب کوکامیاب کیاجائے ورنہ خدا پاکستان سے خفا ہو جائے گا۔ آلومہار شریف کے صاحبزادہ فیض الحسن نے عورت کےحاکم ہونے کے خلاف فتوی جاری کی ۔مولاناعبدالحامدبدایونی نے فاطمہ جناح کی نامزدگی کو شریعت سے مذاق اور ناجائز قرار دیا حامدسعیدکاظمی کے والد احمدسعیدنے ایوب کو ملت اسلامیہ کی آبروقراردیا یہ لوگ دین کے خادم ہیں۔لاھورکے میاں معراج الدین نے فاطمہ جناح کےخلاف جلسہ منعقدکیا جس سےمرکزی خطاب غفارپاشا وزیربنیادی جمہوریت نے خطاب کیا معراج الدکن نے فاطمہ جناح پر اخلاقی بددیانتی کاالزام لگایا موصوف یاسمین راشدکےسسرتھے۔ میانوالی کی ضلع کونسل نے فاطمہ جناح کے خلاف قراردداد منظور کی ۔ مولانا غلام غوث ہزاروی صاحب نے ایوب خان کی حمایت کااعلان کیا اور دعا بھی کی پیرآف زکوڑی نے فاطمہ جناح کی نامزدگی کو اسلام سے مذاق قراردیکر عوامی لیگ سے استعفی دیا اور ایوب کی حمایت کااعلان کیا۔ سرحدمیں ولی خان مس جناح کےساتھ تھے ۔یہ غدارتھے۔ بلوچستان میں مری سرداروں اورجعفرجمالی کوچھوڑ کر سب فاطمہ جناح کےخلاف تھے۔ قاضی محمد عیسی مسلم لیگ کابڑ انام بھی فاطمہ جناح کےمخالف اورایوب کے حامی تھے انہوں نے کوئٹہ میں ایوب کی مہم چلائی ۔ حسن محمودنے پنجاب و سندھ کے روحانی خانوادوں کو ایوب کی حمایت پرراضی کیا۔ خطہ پوٹھوہارکے تمام بڑے گھرانے اور سیاسی لوگ ایوب خان کےساتھ تھے ۔ چودھری نثار والد برگیڈیئرسلطان , ملک اکرم جو دادا ہیں امین اسلم کے ملکان کھنڈا کوٹ فتح خان، پنڈی گھیب، تلہ گنگ ایوب کے ساتھ تھے سوائے چودھری امیر اور ملک نواب خان کےاور الیکشن کے دو دن بعد قتل ہوئے۔ شیخ مسعود صادق نے ایوب خان کیلئے وکلاہ کی حمایت کا سلسلہ شروع کیا کئ لوگوں نے انکی حمایت کی پنڈی سے راجہ ظفرالحق بھی ان میں شامل تھے اسکےعلاوہ میاں اشرف گلزار ۔بھی فاطمہ جناح کے مخالفین میں شامل تھے۔ صدارتی الیکشن 1965کے دوران گورنر امیرمحمد خان صرف چند لوگوں سےپریشان تھے ان میں شوکت حیات،۔خواجہ صفدر جو والد تھے خواجہ آصف کے، چودھری احسن جو والد تھے اعتزاز احسن کے ، خواجہ رفیق جو والد تھے سعدرفیق کے ، کرنل عابدامام جو والد تھے عابدہ حسین کے اورعلی احمد تالپورشامل تھے۔ یہ لوگ آخری وقت تک۔۔فاطمہ جناح کےساتھ رہے۔ صدارتی الکشن کےدوران فاصمہ جناح پر پاکستان توڑنےکاالزام بھی لگا یہ الزام زیڈ-اے-سلہری نے اپنی ایک رپورٹ میں لگایا جس میں مس جناح کی بھارتی سفیرسےملاقات کاحوالہ دياگیا اوریہ بیان کہ قائدتقسیم کےخلاف تھے یہ اخبار ہرجلسےمیں لہرایاگیا ایوب اس کو لہراکر مس جناح کوغدارکہتےرھے۔ پاکستان کامطلب کیا لاالہ الااللّہ جیسی نظم لکھنےوالے اصغرسودائی ایوب خان کے ترانے لکھتے تھے۔ اوکاڑہ کےایک شاعر ظفراقبال نے چاپلوسی کےریکارڈ توڑڈالے یہ وہی ظفراقبال ہیں جوآجکل اپنےکالموں میں سیاسی راہنماؤں کامذاق اڑاتےہیں۔ سرورانبالوی اور دیگرکئی شعراء اسی کام میں مصروف تھے۔ حبیب جالب، ابراھیم جلیس ، میاں بشیرفاطمہ جناح کےجلسوں کے شاعرتھے۔ جالب نے اس کام میں شہرت حاصل کی ۔ میانوالی جلسےکےدوران جب گورنرکے غنڈوں نے فائرنگ کی توفاطمہ جناح ڈٹ کرکھڑی ہوگئیں اسی حملےکی یادگا بچوں پہ چلی گولی ماں دیکھ کےیہ بولی نظم ہے۔۔فیض صاحب خاموش حمائتی تھے۔ چاغی،لورالائی ، ،سبی، ژوب، مالاکنڈ، باجوڑ، دیر، سوات، سیدو، خیرپور، نوشکی، دالبندین، ڈیرہ بگٹی، ہرنائی، مستونگ، چمن، سبزباغ سے فاطمہ جناح کو کوئی ووٹ نہیں ملا ۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایوب ، فاطمہ کےووٹ برابرتھے مس جناح کےایجنٹ ایم خمزہ تھے اور اے سی جاویدقریشی جو بعد میں چیف سیکرٹری بنے مس جناح کو کم ووٹوں سے شکست پنڈی گھیب میں ہوئی۔ ایوب کے82 اور مس جناح کے 67 ووٹ تھے۔اس الیکشن میں جہلم کے چودھری الطاف فاطمہ جناح کےحمائتی تھے مگر نواب کالاباغ کےڈرانےکےبعد۔ پیچھے ہٹ گئ یہاں تک کہ جہلم کےنتیجے پردستخط کیلئے ۔مس جناح کے پولنگ ایجنٹ گجرات سے آئے اسطرح کی دھونس عام رہی۔ ۔حوالےکیلئےدیکھئے ڈکٹیٹرکون ایس ایم ظفرکی ، میراسیاسی سفر حسن محمود کی ، فاطمہ جناح ابراھیم جلیس کی ۔مادرملت ظفرانصاری کی ۔۔فاطمہ جناح حیات وخدمات وکیل انجم کی۔ story of a nation..allana..A nation lost it's soul..shaukat hayat..Journey to disillusion..sherbaz mazari. اورکئ پرانی اخبارات۔۔

یہ تحریر دراصل ایک سرمد سلطان کے ٹویٹ ٹھریڈ کا مجموعہ ہے جو آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں
P { margin-bottom: 0.08in; }A:link { }

گناہ کا حقیقی تصور

پروفیسر محمد عقیل -


گناہ سے بچنے کے لیے گناہ کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ گناہ کیا ہے؟ گناہ دراصل خدائی قوانین کی خلاف ورزی کا نام ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو خدائی قوانین کی کئی اقسام ہیں۔ ایک قسم مادی قوانین کی ہے جیسے کشش ثقل کا قانون۔ جو اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اونچی جگہ سے بلا سہاراچھلانگ لگائے گا تو اس کی سزا زخمی یا ہلاک ہونا لازمی ہے۔
دوسرے قوانین اخلاقی قوانین ہیں ۔ ان قوانین کا منبع ہماری فطرت یا ضمیر ہے۔ ان قوانین کی خلاف ورزی بھی گناہ ہے۔ جیسے چوری کرنا

، کسی پر ظلم کرنا ، جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا وغیرہ۔ ان قوانین کی خلاف ورزی کی سزا بھی نافذ ہوتی ہے لیکن یہ سزا مادی قوانین کے برعکس فوری طور پر نظر نہیں آتی۔ مثال کے طور پر ایسا نہیں ہوتا کہ ایک شخص نے دھوکہ دیا اور اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ اس کے برعکس یہ اخلاقی انحراف آہستہ آہستہ جمع ہوتے رہتے ہیں اور وقت آنے پر اس دنیا میں سزا مل جاتی ہے ۔ اور اگر اس دنیا میں یہ سزا پوری نہ ہو تو گناہ اس کی روحانی وجود کے ساتھ لگ کر اگلی دنیا میں منتقل ہوجاتے ہیں۔
تیسری قسم کے قوانین مذہبی قوانین ہیں۔ ان قوانین کا منبع مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے عقیدے اور شریعت ہوتی ہے۔ ان میں زیادہ ترتو اخلاقی قوانین ہی ہوتے ہیں جو مختلف انداز میں بیان ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ مذاہب کے عقائد اور ان کی د ی ہوئی شریعتوں کے احکامات ہوتے ہیں۔ جیسے مسلمانوں کوپانچ نمازوں کا حکم ہے، یہود کے ہاں سبت یعنی ہفتے کے دن کا احترام وغیرہ۔ ان قوانین کو دل سے درست مان لینے کے بعد ان سے انحراف بھی حقیقت میں خدا کے حکم سے انحراف کے زمرے میں آتا ہے۔ ان کی سزا کا معاملہ بھی اخلاقی قوانین ہی کی مانند ہے۔
گناہ کی ایک اور قسم اجتماعی معاملات سے متعلق انحراف ہے۔ اگر کوئی قوم اجتماعی طور پر کسی اخلاقی، مادی یا مذہبی قانون کی خلاف ورزی کرتی ہے تو اس کی سزا پوری قوم کو بھگتنا پڑتی ہے۔ مثال کے طور پر کوئی قوم نااہل لوگوں کو کسی ادارے میں بھرتی کرلیتی ہے تو اس کا خمیازہ ان سروسز کی بری کوالٹی کی صورت میں نمودار ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی قوم بحیثیت مجموعی کسی اخلاقی برائی کی مرتکب ٹہرتی ہے تو اس کا خمیازہ بھی قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ گناہ سے مراد خدائی قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔ یہ قوانین مادی ، اخلاقی، مذہبی اور اجتماعی قوانین ہیں ۔ ان قوانین کی سزا کا اپنا میکنزم ہے۔ البتہ عام طور پر گناہ سے مراد صرف مذہبی قوانین کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔

Dr. Muhammad Aqil
ڈاکٹر محمد عقیل

خود کش حملے ، بم دھماکے اور بے گناہ انسانیت کا قتل شریعت اسلامیہ میں حرام ہے

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

خود کش حملے ، بم دھماکے اور بے گناہ انسانیت کا قتل شریعت اسلامیہ میں حرام ہے خود کش حملے ، بم دھماکے ، بے گناہ انسانیت کا قتل شریعت اسلامیہ میں حرام ہے ، لاہور حضرت علی ہجویری ؒکے مزار کے باہر بم دھماکہ انسانیت دشمن عناصر کی کارروائی ہے ، پاکستانی قوم دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خلاف افواج پاکستان اور ملک کے سلامتی کے اداروں کے شانہ بشانہ ہے ۔ https://dailypakistan.com.pk/08-May-2019/963677 یہ بات متحدہ علماء بورڈ حکومت پنجاب کی طرف سے جاری کردہ تمام مکاتب فکر کے جید علماء و مشائخ کے بیان میں کہی گئی۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں پولیس کے جوانوں اور عوام الناس پر حملے کرنے والے انسانیت اور اسلام کے دشمن ہیں ، لاہور میں ہونے والا دھماکہ اسلام اور پاکستان کے خلاف اسلام اور پاکستان دشمن قوتیں ملک میں انتشار پیدا کر نے کیلئے فرقہ وارانہ تشدد اور نفرتیں پھیلانا چاہتی ہیں، جسے پاکستان کی عوام ، علماء اور سلامتی کے ادارے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ متحدہ علماء بورڈ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں تمام مکاتب فکر کے علماء نے پولیس ، سلامتی کے اداروں اور بے گناہ عوام الناس پر خود کش حملوں کو حرام ، خلاف شریعت اسلامیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کا احترام تو دور جاہلیت میں بھی کیا جاتا تھا ، کفار اور مشرکین بھی رمضان المبارک کا احترام کرتے ہوئے قتل و قتال بند کر دیتے تھے ، لاہور میں دھماکہ کرنے والوں کا اسلام ، انسانیت اور پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یاد رہے کہ حزب الاحرار نے داتا دربار کے باہر خودکش حملہ کیا تھا جس میں 12 افراد شہید ہو گئے تھے۔

انصاف ۔ گواہی

افتخار اجمل بھوپال -

اپنے بلاگ پر میری 16 اکتوبر 2005ء کی تحریر

سورۃ 4 النّسآء آیۃ 58 ۔ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو ۔ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو ۔ اللہ تم کو نہائت عمدہ نصیحت کرتا ہے اور یقینا اللہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے

سورۃ 4 النّسآء آیۃ 135 ۔ اے لوگو جو ایمان لاۓ ہو ۔ انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو ۔ فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب ۔ اللہ تم سے زیادہ ان کا خیرخواہ ہے ۔ لہٰذا اپنی خواہشِ نَفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو ۔ اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے ۔

مغربی فکروفلسفہ

مذہب فلسفہ اور سائنس -

 ٭1۔تفہیم مغرب  جدید چیلنجز قدیم چیلنجز سے کیسے مختلف ہیں مغرب کی طرف سے مسلم دنیا کو درپیش بڑے چیلنجز مغرب سےدرپیش چیلنجزاورکرنےکےکام جدیدمغربی چیلنجز اور مسلم مکاتب فکر جدیدتہذیبی یلغاراورنوجوان نسل کا فکری المیہ مغربی تہذیب کافکری واعتقادی چیلنج اورمولانادریابادی کےتجربات لبرل و دیندار طبقہ اور مغرب شناسی مغربی تہذیب الحاد و مادہ پرستی…

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator