Feed aggregator

لاہور: داتا دربار کے باہر خودکش حملے میں 3 اہلکاروں سمیت 10 افراد شہید، 20 زخمی

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

لاہور: داتا دربار کے باہر خودکش حملے میں 3 اہلکاروں سمیت 10 افراد شہید، 20 زخمی داتا دربار کے باہر ایلیٹ فورس کی گاڑی کے قریب خودکش حملے کے نتیجے میں 3 اہلکاروں سمیت 10 افراد شہید اور 20 زخمی ہوگئے۔ داتا دربار کے گیٹ نمبر 2 کے باہر ایلیٹ فورس کی گاڑی کے قریب زور دار دھماکا ہوا، دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار موقع پر پہنچے اور علاقے کو گھیرے میں لیتے ہوئے زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے قریبی میو اسپتال منتقل کیا گیا۔

دھماکے کے بعد میو اور جنرل اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے فوری طور پر ڈاکٹروں اور اضافی عملے کو طلب کرلیا گیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز محمد اشفاق کے مطابق ایلیٹ فورس کے اہلکار داتا دربار کے گیٹ نمبر 2 پر فرائض انجام دے رہے تھے جنہیں 8 بجکر 45 منٹ پر نشانہ بنایا گیا۔

آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان اور ڈپٹی کمشنر لاہور صالح سعید نے تصدیق کی کہ دھماکا خودکش حملہ تھا جس کا ہدف ایلیٹ فورس کے اہلکار تھے۔ آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان جائے وقوعہ پر پہنچے اور میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ خودکش حملے میں پولیس کو نشانہ بنایا گیا جس میں ایلیٹ فورس کے 3 جوانوں سمیت 10 افراد شہید ہوئے۔

آئی جی پنجاب  نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس پر حملہ دہشت گردوں کی بوکھلاہٹ کی علامت ہے، حملے میں ملوث عناصر کو جلد کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ شہید ہیڈ کانسٹیبل محمد سہیل (دائیں)، کانسٹیبل محمد سلیم (دائیں سے بائیں)، شاہد نذیر ہیڈ کانسٹیبل (بائیں)۔ آئی جی پنجاب نے سی سی پی او لاہور سمیت تمام آر پی اوز کو سیکیورٹی ہائی الرٹ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تمام سینئر افسران فیلڈ میں جا کر حساس مقامات اور اہم عمارات کی سیکیورٹی کا خود جائزہ لیں۔ جیو نیوز نے داتا دربار کے قریب مشتبہ حملہ آور کی پولیس کی گاڑی کے قریب سی سی ٹی وی کیمرے کی تصویر حاصل کرلی جس میں بستہ پہنے مشتبہ حملہ آور کو دیکھا جاسکتا ہے۔ سیاہ رنگ کی شلوار قمیض میں ملبوس مشتبہ حملہ آور کی تصویر پر وقت 8 بجکر 54 منٹ دیکھا جاسکتا ہے، سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور کے بارے میں حقائق جلد منظر عام پر سامنے آنےکا امکان ہے۔ مشتبہ حملہ آور کو پولیس کی گاڑی کے قریب دیکھا جاسکتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی انکوائری کا حکم دیا اور آئی جی پولیس اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ سے رپورٹ طلب کرلی۔ وزیراعلیٰ نے دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا اور زخمیوں کے علاج معالجے کی بہترین سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے واقعے کے بعد بھکر، سرگودھا اور شیخوپورہ کے دورے منسوخ کرتے ہوئے امن و امان سے متعلق ہنگامی اجلاس طلب کرلیا۔ https://urdu.geo.tv/latest/199723- شدت پسند تنظیم حزب الاحرار نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تنظیم کے ترجمان ڈاکٹر عبدالعزیز یوسفزئی نے ایک بیان میں اس کارروائی کو آپریشن شامزئی کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ اس کا ہدف پولیس اہلکار ہی تھے۔ https://www.bbc.com/urdu/pakistan-48197226 رمضان کے مہینے میں معصوم لوگوں کی جانیں لینے والے ان وحشیوں دہشتگردوں کا اسلام سے کو ئی تعلق یا واسطہ نہ ہے۔ نہ ہی یہ مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان۔ خود کش حملے ناجائز، حرام اورخلاف اسلام ہیں۔ارشاد ربانی ہے’’اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب‘‘۔زندگی اللہ کی امانت ہے اور اس میں خیانت کرنا اللہ اور اس کے رسولؐ کے نزدیک ایک بڑا جرم ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اور اپنی جانیں قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے اور جو ظلم اور زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو بہت آسان ہے)۔ خود کش حملے کرنے، کرانے اور ان کی ترغیب دینے والے اسلام کی رو سے باغی ہیں اور ریاست ایسے عناصر کیخلاف کارروائی کرنے کی شرعی طور پر مجاز ہے۔ بدلہ لینا جہاد نہ ہے بلکہ دہشتگردی ہے ۔ جہاد کا اعلان کرنا ریاست اور حکومت کا حق ہے۔جہاد کا وہ پہلو جس میں جنگ اور قِتال شامل ہیں صرف اسلامی ریاست شروع کر سکتی ہے۔ کسی فرد یا گروہ کے ایسے اقدامات ریاست کیخلاف بغاوت تصور کئے جائیں گے جو اسلامی تعلیمات کی رو سے بھی سنگین اور واجب التعزیر جرم ہے۔ اسلام تلوار سے نہیں بلکہ حسن اخلاق سے پھیلا ہے۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا .معصوم شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا,خودکش حملے کرنا،قتل و غارت کرنا خلاف شریعہ ہے۔اسلام غیر فوجی عناصر کے قتل کی ممانعت کرتا ہے۔ جنگ کی صرف ان لوگوں کے خلاف اجازت ہے ”جو آپ کے خلاف آمادہ جنگ ہوں۔“ مثال کے طور پر صرف جنگجو افراد کے خلاف ہی جنگ کی جائے اور عام شہریوں کو کسی بھی نوع کے تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ دہشت گردی کی مذمت اور ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے اسلام سے زیادہ کسی اور مذہب نے مذمت نہیں کی۔ ایک بے گناہ انسان کا قتل دراصل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ قتل و غارت گری کسی مذہب یا مسلک سے تعلق رکھنے والے انسان کی ہو یہ پوری انسانیت کا قتل ہے

خداومذہب

مذہب فلسفہ اور سائنس -

٭1۔مقصدِزندگی میں کون ہوں ؟ میں کون اور کیو ں؟ میں کیا ہوں ؟! عرفانِ ذات سوچ کر دیکھیے۔۔! کبھی سوچا؟! انسان اور کائنات کی مقصدیت کی بحث اور مذہب، فلسفہ اور سائنس انسان اورکائنات کامقصد کیاہے؟ایک مشہورملحدفلسفی کیساتھ مکالمہ الحاد اور زندگی کی معنویت خدا نہیں تو کوئی قدر نہیں [No God, No Value]…

ماہ رمضان میں اشیا کی قیمتوں میں ہو شر با اضافہ

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

ماہ رمضان میں اشیا کی قیمتوں میں ہو شر با اضافہ رمضان کے آتے ہی قیمتیں آسمان چھونے لگتی ہیں۔ یوں تو ہر مہینہ اللہ کے حضور سربہ سجود ہونے کا ہوتا ہے لیکن خاص کر رمضان المبارک کے مہینے میں کیا خاص اور کیا عام ہر مسلمان اپنے رب کو عبادتوں کے ذریعہ راضی کرنے کی کوششوں میں لگ جاتا ہے۔ مسلمان اس مہینے میں روزے رکھتے ہیں اور اسلئے وہ افطار وسحر کا بھی خاص انتظام کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی مہنگائی آسمان سے باتیں کرنی لگتی ہے۔

امسال بھی  رمضان المبارک کے آتے ہی مہنگائی کاطوفان امڈ آیا ہے۔ناجائز منافع خور،گران فروش اور ذخیرہ اندوز عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے رہے ہیں ،عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے اور اوپر سے اشیاء خوردونوش کی قیمتوں اضافے سے سحری اور افطار مشکل ہو گیا ہے۔

ماہ رمضان کی آمد سے پہلے مہنگائی کا طوفان ‘سبزیوں اور پھلوں کے نرخ بڑھ گئے ‘ پیاز 70روپے فی کلو‘لیموں 400روپے ،سیب 300 روپے ،کیلا 200روپے فی درجن اور خربوزہ 150 روپے فی کلوفروخت ہونے لگا جبکہ آٹے‘چینی ‘چاول اور دال کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا‘حکومت کی جانب سے2ارب روپے کا پیکیج ملنے کے باوجودیوٹیلیٹی اسٹوروں پر چینی ،آٹا،گھی اور تیل سمیت دیگر اشیائے خورد ونوش تاحال دستیاب نہیں ہے ‘ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ماہ صیام کیلئےجاری ریٹ لسٹ کو تاجر برادری نے یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنی مرضی سے قیمتیں وصول کرنا شروع کردی ہیں۔

گوشت،سبزی،پھلوں کی قیمتیں سن کرلوگوں کے ہوش اڑ گئے، رمضان کی خاص سوغات کھجور کی قیمت دوسو سے تین سو روپے کلو ہوگئی،دودھ ،دہی،گھی، چینی،آٹے کے بھی دام بڑھ گئے۔ رمضان کی آمد سے قبل ہی ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کی من مانی سے عوام پریشان نظر آرہے ہیں،سبزیوں کے ساتھ ساتھ پھلوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہورہا ہےاور کھجور کی قیمتوں میں بھی اضافہ کردیا گیا۔

جس کی وجہ سے روزہ داروں کو خاصی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کے درالحکومت کراچی کے بازاروں میں تو رمضان آتے ہی یو لگتا ہے کہ جیسے یہ مہینہ پیسے کمانے کے لئے ہی آیا ہے۔اس بار بھی کراچی کے بازار رمضان کے لئے خاص طور پر سج رہے ہیں ۔ لیکن کراچی کے عام اور متوسط طبقہ کو مہنگائی کا ڈر ستانے لگا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ حکو مت رمضان میں مہنگائی پر قابو پانے کے لئے خصوصی اور مؤثر اقدامات کرے۔ مذہبی طبقہ بازار کی اس روش سے کافی دکھی ہے۔ مولانا محمد اکرام کا کہنا ہے کہ لوگوں کے لئے رمضان کے معنی ہی بدلتے جارہے ہیں ہر کوئی پیسے کمانے کی تگ ودو میں ہی لگا رہتا ہے۔

ماہ رمضان المبارک کی آمد پراشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اچانک ہوشربا اضافہ سے عوام پریشان ہو گئے ہیں۔ منافع خوروں نے مرغی، سبزیوں اور پھلوں سمیت دیگر اشیاء کی قیمتوں میں راتوں رات اضافہ کردیا ہے، جس کے باعث اشیائے خورد و نوش عام آدمی کے قوت خرید سے باہر ہوگئی ہیں۔

ہرسال رمضان سے قبل ہی حکومتی عہدیداروں کے اجلاس ہوتے ہیں کہ اس سال عوام کواتنی سبسڈی دے رہے ہیں،گرانفروشوں کیخلاف سخت کارروائی ہوگی،وغیرہ وغیرہ۔۔مگرآپ جانتے ہیں کہ ان اجلاسوں کے نتیجے میں غریبوں کیلئے کتنی آسانی پیداہوتی ہے؟اگرآپ باریک بینی سے دیکھیں توایک طرف اس کسان سے زیادتی ہورہی ہے جوسبزیاں،پھل اوراناج پیداکرکے مارکیٹس میں فروخت کررہاہے مگراس کے اخراجات کے تناسب سے صلہ نہیں ملتا،تیل،کھاد،زرعی ادویات اوردیگراخراجات نکال کرکسان کی جیب میں نہ ہونے کے برابرپیسہ جاتاہےجواونٹ کے منہ میں زیرے کے برابرہے،کسان پراس ظلم کاذمہ دارمنڈی میں بیٹھاوہ آڑھتی ہے جس نے ریٹ اپنی مرضی کالگاناہے جہاں کسان کی مرضی نہیں چل سکتی۔پھریہی اشیاء منڈیوں سے دکانوں پرآتی ہیں جہاں پھرایک دفعہ دکانداراشیاء کواپنی مرضی سے پیک کرکے ان پراپنی مرضی کی قیمتیں لگاکرعوام کے دوسرے بے بس طبقے خریدارپرظلم کرتاہے،یہاں بھی خریداربے بس ہے،اس نے کچن چلاناہے لہذا،آٹا،چاول،گھی،چینی اورپھلوں سمیت دیگراشیادکانداروں کے مرضی کے ریٹ پرخریدناپڑتی ہیں۔۔ایک طرف کسان اوردوسری طرف عام شہری گرانفروشوں کے ظلم کاشکارہے،یہ ظلم اس وقت مزیدبڑھ جاتاہے جب کسی بھی چیز کی طلب بڑھتی ہے،رمضان المبارک میں چونکہ اشیاء کی طلب بڑھ جاتی ہے تویہی مافیا وقت کافائدہ اٹھاتاہے جس کیخلاف آج تک کوئی ٹھوس کارروائی نظرنہیں آئی اورنیتجتا ہررمضان میں عوام مہنگائی کے جن کالقمہ بن جاتے ہیں۔۔اس سارے معاملے کاحل کیاہے؟؟میری نظرمیں جہاں پرائس کنٹرول سسٹم کوبہترکرنے کی ضرورت ہے وہیں آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے ایک ایسی مہم ڈیزائن کرنے کی ضرورت ہے جومسلسل چلے،اس مہم میں کاروباری طبقے میں شعورپیداکیاجائے کہ صرف جائزمنافع ہی ان کاحق ہے،ناجائزمنافع سے جہاں وہ عوام پرظلم کررہے ہیں وہیں وہ اپنے اوپربھی ظلم کررہے ہیں کیوں کہ کوئی بھی دین اس کی اجازت نہیں دیتا،دکانداروں کوشعورہوناچاہیے کہ وہ جس رب کی عبادت کرتے ہیں وہی رب ناجائز منافع خوری سے ناراض ہوتاہے،اگرانتظامیہ گرانفروشوں کوسخت سزائیں دلانے میں کامیاب ہوجائے اورآگاہی مہم مسلسل چلانے کابندوبست کرلے تویہ لعنت معاشرے سے مکمل طورپرختم ہوجائےگی۔

شہری کہتے ہیں عام آدمی کے مسائل کے حل کے لئے مقامی حکومتوں کے نظام کو موثر بنانا ہو گا۔ مقدس اور برکتوں والے مہینہ میں منافع خوری و ذخیرہ اندوزی ،ہم تمام مسلمانوں پر ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق گرمی کی شدت میں اضافے کی وجہ سے مارکیٹ میں چینی کی کھپت میں اضافہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ رمضان المبارک کی وجہ سے چنے کی دال کی قیمت میں بھی اضافہ ہورہا ہے. دوسری جانب ذخیرہ اندوز بھی سرگرم ہیں ، بیسن، گھی، تیل، دالیں، چاول اور دیگر اشیا کا ذخیرہ کیا جا رہاہے جن کو رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں امن مانی قیمتوں پر فروخت کیا جائے گا۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اشیا خردنوش اور پھلوں کی قیمتوں میں اگر یوں ہی اضافہ ہوتا رہا تو رمضان کے بابرکت مہینے میں غریب عوام کے لئے گزارہ کرنا نا ممکن ہو جائے گا۔

مسلم فکروفلسفہ (آرٹیکل لسٹ )

مذہب فلسفہ اور سائنس -

مسلم فکروفلسفہ ( عقلیات، تصور علم، فلسفہ ، سائنس  ) کے حوالے سے جدید   ذہن   کے اشکالات  کو ہم نے گزشتہ تحریر ی سلسلے میں پیج پر  تفصیل سے زیر بحث لایا تھا ، وہ   تمام تحاریر اب ہماری سائیٹ پر بھی اپ ڈیٹ کردی گئی ہیں اور قارئین کی آسانی کے لیے انکی  ایک…

اسلام-عقلی اشکالات

مذہب فلسفہ اور سائنس -

٭1۔معجزہ سائنس کےخوف سے معجزات کاانکار معجزے کی سائنسی تشریح معجزہ اور علت و معلول واقعہ معراج اورجدیدذہن کےاشکالات حضرت آدمؑ، عیسیؑ وحواؑ کی پیدائش کس سائنسی اصول کے تحت ہوئی؟ معجزات کی سائنسی افادیت   ٭2۔روح روح کی حقیقت وماہیت قرآن کی روشنی میں روح کی حقیقت اور احادیث رُوح کیا ہے؟ ایک سائنسی…

ایک جائزہ

کوثر بیگ -


کچھ لوگ خود کو اہمیت دیتے ہیں ۔ مجھے دیکھو  مجھے چاہو مجھے سے بات کرو میرے آرام کا خیال رکھو  پہلے میری نیند پوری ہو ، میری عزت کرو اور کروالو  ،  میں یہ پہنو میں یہ کھاؤں ،فلاں کے ساتھ رہنا پسند ہے ، کون گھر آئے ، کہاں جائے ، کس کو بلائیں نہ بلائیں  یہاں تک کہ اپنی فیملی بھی انہیں کی مرضی سے رہیں اور ایسا ہوتا بھی ہے ان کے تیکھےتیور انکی خود پسندی و خود غرضی، رعب و دبدبہ ، لڑائی و جھگڑے سے متاثر اور مجبور ہوکر ہر بات چپ چاپ سہتے سنتے مانتےجاتے ہیں ۔ 
مگر ایک دوسری قسم  اس کے الٹ بھی ہوتی ہے ۔ ہر بات دوسروں کی نہ چاہتے ہوئے بھی سنتے مانتے رہتے ہیں اپنی پسند نہ پسند کو دبا کر دوسروں کو فوقیت دیتے ہیں ۔انہیں اپنے آرام و راحت کی پروا نہیں ہوتی۔ ان کے کپڑے ہر ضرورتیں دوسروں کی مرضی کے ہوتے ہیں ۔ ہر طنز و بدسلوک پر صبر کرتے ہیں  ۔ اپنی وجہ سے دوسروں کی دل آزاری نہ ہو ،کوئی ان کے ہوتے بے آرام نہ رہے۔تن من دھن سے خدمت کےلئے ہر وقت تیار رہتے ہیں . انہیں پتہ ہوتا ہے کہ انہیں بیوقوف سمجھا جارہا ہے انہیں استعمال کیا جارہا ہے ان کی ناقدری کی جارہی ہے یہ سب جانتے ہوئے انجان بنے صبر کے گھو نٹ پیتے زندگی گزارتے رہتے ہے۔ وہ اذیت میں بھی لطف لینے لگتے ہیں۔

بے قراری میں  لطف آتا ہے
آرزوئے قرار کون کرے

ان کے اس رویہ ،خدمت  ،احساس ،جذبات ،پسند  ،مرضی اور خوشی کا کبھی کسی کو خیال نہیں آتا وہ ایسا چراغ ہوتے ہیں جو جلتے رہتے ہیں اور جلنے تک ان کے وجود کا کسی کو احساس نہیں ہوتا ۔جب چراغ بجھ جاتا ہے تو تاریکی اورپچھتاؤے کے سوا باقی کچھ نہیں رہ جاتا ہے ۔۔۔آخر  ایسا کیوں ہوتا ہے ؟

(کوثر بیگ)

افغانستان: پولیس ہیڈکوارٹر پر حملہ،13 اہلکار ہلاک

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

افغانستان: پولیس ہیڈکوارٹر پر حملہ،13 اہلکار ہلاک افغانستان کے صوبے بغلان میں پولیس ہیڈکوارٹر پر حملے میں 13 اہلکار ہلاک 55 زخمی ہوگئے ہیں۔افغان وزارت داخلہ نےدعویٰ کیا ہے کہ جوابی کارروائی میں تمام 8 حملہ آور مارے گئے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے صوبے بغلان کے شہر پُلِ خوماری میں واقع پولیس ہیڈ کوارٹر میں طالبان جنگجوؤں نے حملہ کردیا، پہلے خود کش بمبار نے دروازے پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرادی جس کے بعد دیگر طالبان جنگجو اندر داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 13 پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پولیس ہیڈ کوارٹر پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایک خود کش بمبار کے ساتھ 7 جنگجوؤں نے دھاوا بولا تھا اور گھمسان کی جھڑپ میں افغان پولیس کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔

حکام کے مطابق شہر پل خمری کے پولیس ہیڈکوارٹر پر 8 مسلح شدت پسندوں نے حملہ کیا۔حکام کے مطابق کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے حملے میں 13 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ 20 شہریوں اور اہلکاروں سمیت 55 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں تمام حملہ آور بھی مارے گئے۔ https://urdu.geo.tv/latest/199641-

خود کش حملے ناجائز، حرام اور اسلام کے منافی ہیں۔ کوئی مسلمان ایسی حرکت نہیں کر سکتا۔ اس سے مسلمانوں اور خصوصاً غریب عوام کا نقصان ہو رہا ہے۔ لوگ جاں بحق ہو رہے ہیں۔ارشاد ربانی ہے’’اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب‘‘۔زندگی اللہ کی امانت ہے اور اس میں خیانت کرنا اللہ اور اس کے رسولؐ کے نزدیک ایک بڑا جرم ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اور اپنی جانیں قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے اور جو ظلم اور زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو بہت آسان ہے)۔ خود کش حملے کرنے، کرانے اور ان کی ترغیب دینے والے اسلام کی رو سے باغی ہیں اور ریاست ایسے عناصر کیخلاف کارروائی کرنے کی شرعی طور پر مجاز ہے۔ جہاد کا اعلان کرنا ریاست اور حکومت کا حق ہے۔جہاد کا وہ پہلو جس میں جنگ اور قِتال شامل ہیں صرف اسلامی ریاست شروع کر سکتی ہے۔ کسی فرد یا گروہ کے ایسے اقدامات ریاست کیخلاف بغاوت تصور کئے جائیں گے جو اسلامی تعلیمات کی رو سے بھی سنگین اور واجب التعزیر جرم ہے۔ اسلام تلوار سے نہیں بلکہ حسن اخلاق سے پھیلا ہے۔ ہمارے بزرگوں نے مفتوحہ علاقوں کے عوام کو سماجی اور مذہبی آزادی دی اور حسن کردار سے متاثر ہو کر انہوں نے اسلام قبول کیا۔ مسلمانوں کے بارے میں غلط تاثرات کے خاتمے کیلئے بار آور کوششیں ہونی چاہیں۔ مسلمان تمام انبیاء کرام اور ان کے پیغام کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کا احترام کرتے ہیں۔ اس لئے ہمارا پیغام نفرت کیسے ہو سکتا ہے۔ ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد بھی حرام ہے۔ حکومت کے خلاف ہر طرح کی عسکری کارروائیوں یا مسلح طاقت کے استعمال کو شرعی لحاظ سے حرام قرار دیا گیا ہے۔کچھ لوگوں نے جہاد کے نام پر خود کش حملوں اور بم دھماکوں سے وطن عزیز کے پرامن اور محب وطن عوام کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر رکھا ہے چنانچہ آج ہر شخص اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرتا ہے۔ ہمارا دین اسلام دہشت گردی کی ایسی کارروائیوں کی اجازت نہیں دیتا۔ ہمیں اجتماعی طور پر اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا اور ایسے تمام عناصر کو بے نقاب کرنا ہوگا جو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ اسلام ایک ہمہ گیر اور مکمل دین ہے۔ اس میں دہشت گردی ، انتہا پسندی اور جہالت کی کوئی گنجائش نہیں بلکہ اسلام زندگی کے معاملات میں میانہ روی اپنانے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلامی ریاست کے خلاف خروج کر کے مسلح جدوجہد کرنا غیر اسلامی عمل ہے۔ باغیوں کو کچلنا دینی حکم کے عین مطابق ہے، اسلامی ریاست کے خلاف منظم ہو کر طاقت کا استعمال قرآن و سنت کی رو سے حرام ہے، ایسے عمل کو بغاوت کہا جائے گا۔ باغی نیک نیتی کے ساتھ تاویل بھی رکھتے ہوں تو بھی ریاست اسلامی کے خلاف مسلح جدوجہد کرنا غیر شرعی ہے۔ عوام کی غالب اکثریت اسلامی ریاست کے حکمرانوں سے شدید نفرت کرتی ہو پھر بھی اسلام ایسے حکمرانوں کے خلاف مسلح حملوںکی اجازت نہیں دیتا البتہ پرامن طور پر ان کے خلاف جمہوری جدوجہد کی جا سکتی ہے۔

مغرب میں الحاد کی ابتداء کیسے ہوئی ؟

مذہب فلسفہ اور سائنس -

اسلام کی پوری تاریخ کے اندر، اسلام کو ان دشواریوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا جو یورپ کو انکے غلط عقیدے کی وجہ سے کرنا پڑیں۔ بہت اہم مشکلات میں سے ایک مذہب اور سائنس کے درمیان خوفناک اختلافات تھے۔ مذہب اس بےرحمی کیساتھ سائنس سے جا ٹکرایا کہ کلیسا نے بہت سے سائنسدانوں کو…

رمضان کریم

افتخار اجمل بھوپال -

سب مُسلمانوں کو رمضان کريم مبارک
اللہ الرحمٰن الرحيم آپ سب کو اور مجھے بھی اپنی خوشنودی کے مطابق رمضان المبارک کا صحیح اہتمام اور احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے
روزہ صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک بھوکا رہنے کا نام نہیں ہے بلکہ اللہ کے احکام پر مکمل عمل کا نام ہے ۔ اللہ ہمیں دوسروں کی بجائے اپنے احتساب کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں حِلم ۔ برداشت اور صبر کی عادت سے نوازے

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کا حُکم
سورت 2 ۔ البقرہ ۔ آيات 183 تا 185
اے ایمان والو فرض کیا گیا تم پر روزہ جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے اگلوں پر تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ
چند روز ہیں گنتی کے پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا مسافر تو اس پر ان کی گنتی ہے اور دِنوں سے اور جن کو طاقت ہے روزہ کی ان کے ذمہ بدلا ہے ایک فقیر کا کھانا پھر جو کوئی خوشی سے کرے نیکی تو اچھا ہے اس کے واسطے اور روزہ رکھو تو بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم سمجھ رکھتے ہو
‏ مہینہ رمضان کا ہے جس میں نازل ہوا قرآن ہدایت ہے واسطے لوگوں کے اور دلیلیں روشن راہ پانے کی اور حق کو باطل سے جدا کرنے کی سو جو کوئی پائے تم میں سے اس مہینہ کو تو ضرور روزے رکھے اسکے اور جو کوئی ہو بیمار یا مسافر تو اس کو گنتی پوری کرنی چاہیے اور دِنوں سے اللہ چاہتا ہے تم پر آسانی اور نہیں چاہتا تم پر دشواری اور اس واسطے کہ تم پوری کرو گنتی اور تاکہ بڑائی کرو اللہ کی اس بات پر کہ تم کو ہدایت کی اور تاکہ تم احسان مانو

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے رمضان کی فضيلت سورت ۔ 97 ۔ القدر ميں بيان فرمائی ہے
بیشک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہے
اور آپ کیا سمجھے ہیں (کہ) شبِ قدر کیا ہے
شبِ قدر (فضیلت و برکت اور اَجر و ثواب میں) ہزار مہینوں سے بہتر ہے
اس (رات) میں فرشتے اور روح الامین (جبرائیل) اپنے رب کے حُکم سے (خیر و برکت کے) ہر امر کے ساتھ اُترتے ہیں
یہ (رات) طلوعِ فجر تک (سراسر) سلامتی ہے

طالبان عسکریت پسندوں نے غزنی شہر کے سب سے قدیم مزارات میں سے ایک کو اڑا دیا

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

طالبان عسکریت پسندوں نے غزنی شہر کے سب سے قدیم مزارات میں سے ایک کو اڑا دیا

 

غزنی شہر، جنوب مشرقی صوبہ غزنی کے صوبائی دارالحکومت میں سب سے قدیم مزارات میں سے ایک ، شمس العارفین کے مزار کو طالبان عسکریت پسندوں نے بارودی مواد سے تباہ کر دیا ہے  ۔غزنی شہر کے مغربی حصوں میں واقع مزار شہر کی سب سے مشہور مزارات میں سے ایک تھا اور بڑے پیمانے پر لوگوں کی طرف سے احترام کیا جاتا تھا۔ https://www.khaama.com/taliban-militants-blow-up-one-of-the-oldest-shrines-of-ghazni-city-03866/ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ آج افغانستان میں، طالبان کے دہشت گردوں کے ہاتھوں اولیا اللہ کے مزار بھی محفوظ نہ ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں  اسلام تلوار کے زور سے نہیں بلکہ سیرت و کردار کے زور سے پھیلا ہے۔ برصغیر  پاک و ہند میں تبلیغ اسلام اور اشاعت دین کا سہرا اولیاء کرام اور صوفیاء عظام کے سر ہے اور اس خطہ میں ان نفوس قدسیہ کا وجود اﷲ کریم کا بہت بڑا انعام ہے۔ جو کام غازیان اسلام کی شمشیر اَبدادر ارباب ظواہر کی علمیت سے نہ ہو سکا وہ خدا وند تعالیٰ کے ان مقبول و برگزیدہ بندوں نے بخوبی اپنے اعلی سیرت و کردار  سے  سرانجام دیا۔  انہوں نے شبانہ روز محنت اور اخلاق حسنہ سے  بر صغیر پاکستان و ہندوستان کو نور اسلام سے منور کیا اور اسلام کے ننھے منے پودے کو سر سبز و شاداب اور قد آور درخت بنا دیا۔  ہمارے اسلاف اور اولیائے کرام نے مکالمہ کے ذریعے لوگوں کو پرامن رکھا اور طاقت کے ذریعے اپنے نظریات اور افکار مسلط نہیں کئے۔ قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔ برصغیر پاک و ہند میں اسلام اولیائے اللہ کی تبلیغ اور حسن کردار سے پھیلا۔ ان برگزیدہ ہستیوں کے مزار اور مقابر صدیوں سے مرجع خلائق ہیں۔ لوگ اپنے اپنے ایمان عقیدے اور یقین کے مطابق ان مزاروں پر حاضری دیتے اور سکون قلب حاصل کرتے ہیں جنہیں اس مسلک سے اختلاف ہے وہ بھی ان ہستیوں کا دلی احترام کرتے اور ان کے مقام و مرتبہ کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ روایت کوئی نئی نہیں۔ سیکڑوں سال سے اس پر عمل ہورہا ہے اختلاف رائے کے باوجود اس پر کوئی جھگڑا یا خونریزی نہیں ہوئی۔                در حقیقت  صوفیائے کرام کی تعلیمات  تمام مسلمانوں کو امن، اخوت،بھائی چارے کا درس دیتی ہیں  موجودہ نفسا نفسی اور دہشت گردی کے عروج  کے دور میں ان تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر ملک سے بدامنی و دہشت گردی کا خاتمہ ہوسکتا ہے بشرطیکہ   ہم سب  لسانی،گروہی ، مذہبی و مسلکی اختلافات کو بھلا کر نچلی سطح پر قیام امن کیلئے جدوجہد کریں۔ حضرت   شیخ عبدالقادر جیلانی سے لیکر  حضرت معین الدین چشتی اور سید علی ہجویری تک کسی ایک نے بھی کبھی مزار پرستی کی تعلیم نہیں دی ۔تصوف کا مقصد تو روحانی اصلاح ہوا کرتا ہے۔ پتہ نہیں ان طالبان دہشت گردوں کو ان اولیا اکرام اور بزرگان دین سے کیا چڑ ہے کہ گزشتہ 10 سالوں میں دہشت گردوں نے صوفیاء کرام کے مزاروں کو  اپنےحملوں کا نشانہ بنایا ۔ صوفیاء کرام کے مزارات اسلام کی سخت گیر تشریح کرنے والے عسکریت پسندوں کے غیض و غضب کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔                در حقیقت  صوفیائے کرام کی تعلیمات  تمام مسلمانوں کو امن، اخوت،بھائی چارے کا درس دیتی ہیں  موجودہ نفسا نفسی اور دہشت گردی کے عروج  کے دور میں ان تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر ملک سے بدامنی و دہشت گردی کا خاتمہ ہوسکتا ہے بشرطیکہ   ہم سب  لسانی،گروہی ، مذہبی و مسلکی اختلافات کو بھلا کر نچلی سطح پر قیام امن کیلئے جدوجہد کریں۔

 

 

 

 

کس مذہب کا خدا مانیں ؟

مذہب فلسفہ اور سائنس -

وجود باری تعالی پر بحث کے دوران وہ لمحہ آتا ہے جب ملحد یہ سوال کرتا ہے: “اچھا چلو ہم خدا کو مان لیتے ہیں، اب بتاؤ کونسے خدا کو مانیں، مسلمانوں کے، عیسائیوں کے یا پھر ھندووں کے؟ ان میں سے ہر کوئی اپنے مذہب کو سچ کہتا ہے”ان کا یہ سوال “کیوں” کے…

محبوب جاں ہوتا

محمود الحق -

کاغذ پہ لکھ دیتے تو حال بیاں ہوتا ۔ یوں نہ قلب ،سفر امتحاں ہوتازندگی تو یوں بھی گزر گئی ۔ دل ناتواں ہوتا یا ناداں ہوتاکس سے کہیں شکوہ جان جاناں ۔ موج تنہائی میں الفت بیاباں ہوتاسینے میں دہکتا انگاروں پہ لوٹتا ۔ دھڑکا نہ ہوتا تو ٹھہرا آسماں ہوتاآنے میں بیتابی جانے میں شادابی ۔ خیال پرواز ہوتی ،نہ قدم نشاں ہوتادولت ترازو میں رہاعشق بے مول ۔ جبر تسلسل نہ ہوتا، کانٹا گلستاں ہوتا آنکھ سے نہ چھلکا ہوتا جو قطرہ ۔ رگوں میں لہو بن دوڑتا ارماں ہوتا روح احساس کو ستانےوالے ۔ نہ ہوتا تو تو یہ میرا جہاں ہوتاخلوت میں نہ ہوتی گر دستک ۔ جلوت میں محمود محبوب جاں ہوتا

محمودالحق

شمالی وزیرستان: پاک افغان سرحد پر دہشتگردوں کے حملے میں 3 فوجی جوان شہید

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

شمالی وزیرستان: پاک افغان سرحد پر دہشتگردوں کے حملے میں 3 فوجی جوان شہید شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد پر باڑ لگاتے ہوئے فوجی جوانوں پر دہشتگردوں نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں پاک فوج کے تین جوان شہید ہوگئے جب کہ پاک فوج کی جوابی کارروائی میں کئی دہشتگرد مارے گئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقےالوارہ میں  میں ساٹھ سے ستر دہشتگردوں نے پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کے دوران پاک فوج کے جوانوں پر حملہ کردیا۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پاک فوج کے جوانوں نے دہشتگردوں کو پسپا کردیا اور جوابی کارروائی میں کئی دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں سے مقابلے کے دوران پاک فوج کے تین جوان شہید بھی ہوئے جن میں لانس نائیک علی، لانس نائیک نذیر اور سپاہی امداد اللہ شامل ہیں جب کہ فائرنگ کے تبادلے میں 7 فوجی جوان زخمی بھی ہوئے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان تمام رکاوٹوں کے باوجود سرحد پر باڑ لگانے کا عمل جاری رکھے گا، افغان سیکیورٹی فورسز اور حکام کو سرحد پر کنٹرول مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ https://urdu.geo.tv/latest/199526- طالبان سے علیحدہ ہونے والے گروپ حزب الاحرار نے اس واقہ کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اس گروپ کا لیڈر مکرم خان ہے۔ ایک دہائی پہلے اسلام کا نام لے کر نہتے لوگوں اور اپنے ہی ملک کے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے خلاف طالبان نے نام نہاد  ’’جہاد‘‘کا اعلان کردیا، جوکہ اصل میں فساد فی الارض تھا۔ یہ ویسے بھی جہاد نہ تھا۔ قانون نافذ کرنیوالے ادارے، اسپتال، ہوٹل، مزار، مساجد غرض کوئی علاقہ بھی دہشتگردی سے بچا ہوا نہیں تھا۔ پاکستان اس دہشت گردی کا مقابلہ کر رہاہے۔  تحریک طالبان  اور اس سے منسلک گروپوں نے پاکستانی  بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کے لئے دہشت گرد حملوں کو جاری رکھا ہوا ہے ۔ ان دہشتگردوں کیخلاف ایک عشرے سے زائد سیکیورٹی ادارے اپنی پوری تندہی و طاقت سے برسرپیکاررہے ۔اب کچھ عرصہ سے جب یہ محسوس کیا گیا کہ دہشتگرد تعداد میں کم ہوچکے ہیں اور ان کی طاقت کا محورختم ہوچکا ہے تو دیگر مسائل پر توجہ دی جارہی ہے ۔دہشتگرد پاکستان میں کارروائی کرتے اور بھاگ کرہمسایہ ملک چلے جاتے ۔پاکستان نے اس مسئلہ کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا کام شروع کیا جس کی وجہ سے دہشتگردی میں ریکارڈ کمی دیکھنے کو ملی ۔ طورخم بارڈر کے قریبی علاقوں میں آہنی باڑ کی تنصیب کر کے دہشتگردوں کی نقل و حرکت ختم کی گئی جس کے باعث خیبر پی کے سمیت ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں ریکارڈ کمی دیکھنے میں آئی۔  یہ باڑ ہمارے پڑوسی ملک کے لئے بھی مفید ہے اور اس سے دہشتگردوں کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی ہے۔ اس دہشتگردی کی پاکستان نے بھاری لاگت ادا کی کیونکہ ستر ہزار سے زائد پاکستانیوں نے اپنی زندگی کو کھو دیا ہے اور ملک کو سنگین اقتصادی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا  ۔ اگرچہ طالبان بھاگ گئے ہیں مگر کبھی کبھار چھوٹے موٹے حملے کرتے رہتے ہیں۔ عوام کی مدد سے طالبان  کے تمام ناپاک منصوبے   ناکام بنا دیئے جائیں گے اور ان کو پاکستان میں چھپنے کے لئے جگہ نہ ملے گی۔

ہاتھ کی کھڈی

Nostalgia, Scream and Flower -

چند دن پہلے ڈاکٹر رابعہ درانی نے لکھا تھا چاند پر چرخا کاتنے والی بی بی اگر حقیقت ہوتی تو وہ چاند پر چرخا کیوں کاتا کرتی اسے زمین پر آنا چاہیے تھا کپاس تو یہاں اگتی ہے ۔۔ دراصل چاند الی اماں اپنے محبوب" بہت پہنچی ہوئی سرکار" کے مزار کی مجاور ہے ۔
 پھر بھی ہزارہا صدیوں کا وقت کیسے کاٹے تو چاند بی جی چرخے والی نے'وقت کاٹنے' کی بجائے ''چرخا کاتنے '' کا فیصلہ کیا ۔سمارٹ چوائس ازنٹ اٹ ! اپنے ہاتھوں سے بٹی سوت کی کیا ہی بات ہے۔
 عشق کی قیمت ملے نہ ملے۔۔۔اپنی پہچان سے عشق،اپنی  شناخت، اپنی مٹی سے عشق، اپنی ثقافت اپنی تہذیب ۔۔ ۔انسان جب عشق کے زیر اثر آتا ہے تو یہ خوشی کا لمحہ ہوتا ہے۔ایک دنیا جاگ رہی ہوتی ہے ایک آلائو روشن ہوچکا ہوتا ہے۔سچائی کی قندیل آپ کی رہنمائی پر مامور ہوچکی ہوتی ہے۔پھر عشق کی کیا قیمت ۔ عشق کا کیا صلہ۔کمالیہ شہر کی  پہچان کھدر ہے۔ اور اصلی کھدر وہی تھا جو ہاتھ کی کھڈی پر بنایا جاتا تھا۔ کمالیہ کے ہی ایک رہائشی  اعظم بانکا کو بھی اپنی اس شناخت سے عشق ہے۔ اور اس  نے مشینی دور میں اپنے عشق کو دیکھا۔اور ہاتھ سے دو کھڈیاں بنا کر ان پر کپڑا بننا شروع کیا۔
عشق کی قیمت ملے یا نہ ملے۔اعظم بانکا ہمارے ہی آبائی محلے بلکہ آبائی گلی کا مکین ہے۔اس سے ملا تو  دلچسپ انکشاف ہوا کہ یہ کھڈیاں اس نے  اپنے ہاتھ سے اس لکڑی سے بنائی ہیں جو ہمارے آبائی گھر  کے نئے مالکان  کی جانب سے تعمیر نو کیلئے پرانے گھر کو گرانے کے بعد فروخت کی تھی ہاتھ سے بنا کھدر کا دھاگہ کچھ موٹا ہوتا ہے اس لیئے اس سے بنا ہوا کپڑا عموما سردیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔کپڑے کی بنتی میں ایک تانا ہوتا ہے اور ایک بانا۔ تانا وہ دھاگہ ہوتا ہے جو ورٹیکل باندھا ہوتا ہے اور بانا وہ دھاگہ ہوتا ہے جسے ایک ایک لکڑی کے بنے چوہا نما کی مدد سے تانے میں سے گزارا جا رھا ہوتا ہے۔ہاتھ سے بنی کھڈی کا کپڑا  ایک تارہ یا دو تارہ یا پھر تین تارہ ہوتا ہے۔ تارہ کہتے ہیں رنگوں کے ان شیڈز کو جو بانا کے ذریئے پیدا کیا جاتا ہے۔ایک تھان میں  انچاس سے چھپن  میٹر کپڑا ہوتا ہے۔ اور ایک دن میں آٹھ سے دس گھنٹے محنت کے بعد ایک کھڈی پر سات سے دس میٹر کپڑا بنا جاسکتا ہے۔کاروباری لوگ ان کاریگر لوگوں سے اڑھائی سو سے تین سو روپے  میٹر میں کپڑا خرید کر پانچ سے آٹھ سو روپے میٹر تک فروخت کرتے ہیں۔کچھ لوگوں کے نزدیک قیمت بہت زیادہ ہے۔لیکن یہ قیمت کپڑے کی نہیں ہے اس عشق کی ہے جس کی کوئی قیمت نہیں ہوسکتی ۔۔۔ 

داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی پانچ سال بعد منظرعام پر

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

داعش کے سربراہ ابوبکر بغدادی پانچ سال بعد منظر عام پر شدت پسند تنظیم داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی کی پانچ سال بعد ایک نئی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔ داعش کے میڈیا ونگ کی جانب سے پیر کو جاری کی گئی اس ویڈیو میں ابوبکر البغدادی کو شام میں اپنی تنظیم کی شکست اور دنیا بھر میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بارے میں بات کرتے دکھایا گیا ہے۔ ابو بکر البغدادی 2010 میں دولت اسلامیہ العراق نامی شدت پسند تنظیم کے امیر کے طور پر سامنے آئے۔ اس تنظیم کی بنیاد خفیہ طور پر رکھی گئی تھی۔  خود ساختہ دولت اسلامیہ نامی ریاست قائم کرنے کے بعد وسیع علاقے پر حکومت کی، تاہم اب بغدادی شکست خوردہ ہیں اور ان کے ہزاروں جنگجو یا تو مارے جا چکے ہیں یا جیلوں میں قید ہیں۔ وہ سوڈان اور الجزائر کے بارے میں گفتگو کررہے ہیں اور سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر تین گرجا گھروں اور چار ہوٹلوں پر بم حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کا بھی دعویٰ کررہے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملے الباغوز پر قبضے کا ردعمل تھے۔ البغدادی نے ویڈیو میں دھمکی دی ہے کہ ان کا گروپ اپنے جنگجوؤں کی ہلاکت اور انھیں پابند سلاسل کرنے کا انتقام لے گا۔

ویڈیو میں 47 سالہ ابوبکر البغدادی کو لمبی اور گھنی داڑھی میں دیکھا گیا، بیگناہ لاکھوں انسانوں کے قاتل کو ویڈیو میں بظاہر نرم لہجے میں رک رک کر گفتگو کرتے دیکھا گیا۔ اس سے قبل وہ 2014ء میں موصل میں آخری مرتبہ عوام کے سامنے نظر آیا تھا، جہاں اس نے شام اور عراق میں خلافت کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد متعدد بار اس کے قتل اور زخمی ہونے کی متضاد اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ داعش کو علم ہونا چاہئیے کہ ایک انسان کا خون پو ری انسانیت کا خون ہے اور یہ بات طے ہے دہشت گر دی کہ اس طر ح کے واقعات میں ملوث لوگ نا تو انسان ہیں اور نا ہی ان کو کو ئی مذہب ہو تا ہے ۔ داعش ، ظلم اور بربریت میں اپنی مثال آپ ہیں۔ مسلمانوں کا کوئی فرقہ بھی ان کی سفاکی اور بربریت سے محفوظ نہ ہےجیسا کہ داعش نے لوگوں کے ساتھ شام اور عراق میں کیا ہے۔ دولت اسلامیہ کو بری طرح  سےعراق اور شام میں شکست ہو چکی ہے اور اب یہ مردہ ہے، بغدادی   کا پیغام نیوز / میڈیا میں آئی ایس آئی ایس کو زندہ رکھنے کی ایک مایوس کن اور ناکام کوشش ہے ۔بغدادی ایک ناکام، نا اہل اور غیر ذمہ دار لیڈر ہے ، جس نے اپنے ساتھیوں کو مصیبت میں چھوڑ دیا ہے اور وہ خود روپوش ہیں۔ دولت اسلامیہ درحقیقت ایک مردہ گھوڑا ہے، جبکہ اسکا پیغام جھوٹ کا ایک پلندہ اور دھوکہ ہے۔ خطے کے ممالک کی سلامتی اور استحکام کیلئے داعش ایک سنجیدہ خطرہ ہے اور اس خطرے سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کاوشیں کی  ضرورت ہے۔

لیبر ڈے اور ہم

پروفیسر محمد عقیل -


ڈاکٹر محمد عقیل
لیبر کے حوالے سے ہمارے ہاں چند غلط تصورات پائے جاتے ہیں۔ پہلا تصور لیبر کو مزدور سمجھنا ہے۔ ہمارے ہاں لیبر سے مراد اینٹیں اٹھانے والامزدور ،نائی ، موچی یا ہاتھ سے کام کرنے والا کوئی شخص سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ اکنامکس میں لیبر سے مراد ہر وہ شخص ہے جو اپنی سروسز یعنی خدمات دے کر اس کے بدلے میں اجرت یا سیلری لیتا ہے۔

اس تعریف کے تحت ایک مینجر ، پائلٹ، ڈاکٹر، انجنئیر، استاد، فوجی،پولیس، کمشنر،وزیر سب شامل ہیں۔
دوسرا غلط تصور یہ ہے کہ مزدورکو صرف محنت کرنے والا ہونا چاہیے۔ بے شک مزدور کو محنت کرنا چاہیے لیکن لیبر کو کام بھی آنا چاہیے۔ایک پلمبر سارا دن ایک نل سے اپنی روکنے کی محنت کرتا رہے لیکن اسے کام ہی نہ آتا ہو تو محنت کس کام کی؟ اس کے علاوہ لیبر کا صحت مند ہونا ضروری ہے کیونکہ صحت کے بنا ایک ماہر استاد یا ڈاکٹر اپنی خدمات انجام نہیں دے سکتا۔ اسی کے ساتھ ساتھ لیبر کا دیانت دار ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ ایک ماہر ترین ڈاکٹر بھی ہمارے لیے نقصان دہ ہے جو فراڈ کرکے مریضوں سے رقم بٹورے ۔ان تمام پروفیشنل اور اخلاقی خوبیوں کے حامل شخص کو اکنامکس کی اصطلاح میں ہیومن کیپٹل کہتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کا ہیومن کیپٹل انڈیکس میں ۱۳۴ نمبر ہے جو انڈیا ، سری لنکا، بنگلہ دیش حتی کے افغانستان سے بھی کم ہے۔
ہمارے بیشتر مسائل ان اسکلڈ ، غیر تربیت یافتہ اور اخلاقی اقدار سے عاری لیبرز کی وجہ سے ہیں۔ ہمارا ٹریفک کا نظام جدید ٹیکنالوجی سے نابلد ٹریفک پولیس کی کی بنا پر تباہ ہے، ہمارا تعلیمی نظام اساتذہ کی نااہلی یا ٹیوشن مافیا کی بنا پر تباہ حال ہے، ہماری نظام سیاست وزیروں اور مشیروں کی کی اپنے شعبے میں نااہلی یا عدم دلچسپی کی بنا پر زبوں حالی کا شکار ہے، ہمارا پانی کا مسئلہ واٹر بورڈ کے ملازمین کی کرپشن کی بنا پر ہے، ہمارے جرائم قانون نافذ کرنے والے اداروں میں مطلوبہ اسکلز یا اخلاقی معیار نہ ہونے کی بنا پر ہے وغیرہ۔
پاکستان میں لیبرز کا جی ڈی پی میں سب سے زیادہ کنٹری بیوشن ہے جو ساٹھ فی صد سے بھی زائد ہے ۔ اگر ہم اپنے لیبر میں وہ پروفیشنل اسکلز پیدا کردیں جو دنیا کو درکار ہیں ، وہ اخلاقی اچھائیاں پیدا کرلیں جو لازمی سمجھی جاتی ہیں،وہ صحت حاصل کرلیں جو بلا تعطل کام کرنے کے لیے ضروری ہے تو ہم پاکستان کے بے شمار مسائل حل کرسکتے ہیں۔اسی کے ساتھ ساتھ ہم وہ لیبر ایکسپورٹ کرسکتے ہیں جو اسکلڈ ہونے کی بنا پر زیادہ رقم کما سکتے اور قیمتی زر مبادلہ پاکستان بھیج سکتے ہیں۔ سنگاپور کے باہر کام کرنے والے لیبرز تعداد میں اوورسیز پاکستانیوں سے بہت کم ہیں لیکن ان کی ریمٹنسز ہم سے کہیں زیادہ ہیں اور فرق وہی ہے اوپر بیان کیا گیا ہے۔
یہ سب پڑھنے کے بعد ممکن ہے آپ اتفاق کرنے کے بعد کندھے اچکا کریہ کہہ دیں کہ یہ تو حکومت کے کرنے کا کام ہے ہم کیا کریں۔ ایسا نہیں۔ سب کچھ حکومت کا کام نہیں ہوتا، کچھ ہمارا کام بھی ہوتا ہے۔ اگر ہم دیکھیں تو ہم میں سے اکثر کسی نہ کسی جگہ اپنی سروسز دے رہے ہیں۔ اگر ہم بحیثیت لیبر اپنے اندر یہ پروفیشنل اور اخلاقی خصوصیات پیدا کرلیں اور اس کے مطابق کام کریں تو ہم اپنے اردگردچند کلومیٹر تک حالات بہتر کرسکتے ہیں۔ اور اگر اکثریت یہ کام کرنے لگ جائے تو ہر ایک کا چند کلومیٹر مل کر پورا پاکستان بن سکتا ہے۔

خدا کو ہماری عبادت کی کیا پرواہ؟

مذہب فلسفہ اور سائنس -

اگر مان بھی لیا جاے کہ خدا ہے تو کیا واقعی ہی وہ انہی خصلتوں کا مالک ہوگا جو ہمیں مذہب بتاتے ہیں؟،مثال کے طور پہ کیا اتنی بڑی کائنات کے بنانے والے کو ذرا بھی فکر ھو گی کہ اربوں کھربوں ستاروں‌ میں سے اک نقطے کی حیثیت جتنے سیارے کے چھوٹے سے شہر…

اپنی ایک لا علمی کا اعتراف!!

شعیب صفدر -

آج 2016 میں پارلمنٹ میں زنا سے متعلق ہونے ترامیم کا مطالعہ کرتے وقت "علم" ہوا (اور افسوس بھی کہ پروسیکیوٹر اور وکیل ہونے کی بناء پر مجھے اس بارے میں آگاہ ہونا چاہئے تھا نہ جانے پہلے اس ترمیم کو یوں کیوں نہ دیکھا) کہ اس میں ایسی ترامیم بھی ہیں جن کا اطلاق صرف "زنا" سے متعلقہ جرائم تک نہیں ہے بلکہ ان کے اثرات بڑے گہرے اور در رس ہیں اگر عدالتیں اس کو استعمال کریں اگرچہ اب تک اس کا استعمال ہوتے دیکھا نہیں پہلی ترمیم تعزیرات پاکستان کی دفعہ 166 میں ذیلی دفعہ 2 میں اس انداز میں ہوا 
Whoever being a public servant, entrusted with the investigation of a case, fails to carry out the investigation properly or diligently or fails to pursue the case in any court of law properly and in breach of his duties, shall be punished with imprisonment of either description for a term which may extend to three years, or with fine, or with both.  یعنی کہ ناقص تفتیش پر تفتیشی آفیسر کو تین سال تک کی سزا ہو سکتی ہے  پہلے پہلے یہ ترمیم دفعہ 218 اے کے طور پر صرف زنا سے متعلق تفتیش تک محدود کر کے شامل کرنے کی تجویز تھی، اگر تفتیشی آفیسرز کو ناقص تفتیش پر سزا کا رجحان پیدا ہو تو ممکن ہے کہ "انصاف" کے اسباب پیدا ہوں مگر دہشت گردی سے متعلق قانون کی دفعہ 27 کا استعمال(جو اسی مقصد کے تحت موجود ہے) بھی ججز کی نرم دلی کے باعث بے اثر ہوئے پڑی ہے۔ اسی طرح اسی ترمیم میں دفعہ 186 کی ذیلی دفعہ 2 میں شامل کیا گیا کہ  Whoever intentionally hampers, misleads, jeopardizes or defeats an investigation, inquiry or prosecution, or issues a false or defective report in a case under any law for the time being in force, shall be punished with imprisonment for a term which may extend to three years or with fine or with both.  یعنی کہ تفتیش و استغاثہ کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے، گمراہ کرنے یا خراب کرنے میں شامل ہوا یا جھوٹی یا غلط رپورٹ کسی مقدمہ میں جاری کرے وہ بھی تین سال کی سزا کا مستعحق ہو گا۔ پہلے شاید زنابلجبر سے متعلق ترامیم کو پڑھتے ہوئے لاشعور میں یہ تھا کہ یہ ترامیم زنا جیسے جرم تک محدود ہے مگر اب اسے دوبارہ اتنے وعرصے بعد ایک نظر دیکھنے سے یہ آگاہی ہوئی کہ اس کے اثرات دور رس ہیں۔ ایک بار ایک ریٹائر جسٹس جو بعد میں قانون کی تدریس سے جڑ گئی تھے سے ایک محفل میں سنا تھا "قوانین کی اس دفعات کا اطلاق میں عمر کے بڑے حصے عدالت میں کرتا رہا ہو مگر اب جب پڑھانے کی نیت سے پڑھتا ہوں تو ان کے نئے معنی مجھ پر آشکار ہوتے ہیں" آج کچھ ایسا ہی میرے ساتھ ہوا ہے۔

طالبان نے قندھار میں خواتین اور بچوں کو زخمی کردیا

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

طالبان نے قندھار میں خواتین اور بچوں کو زخمی کردیا قندھار کے صوبائی چیف پولیس، میجر جنرل تادین خان نے تصدیق کی کہ قندھار کے ميوند ضلع میں طالبان کے ساتھ ایک جھڑپ میں چار عورتیں اور تین بچے زخمی ہوگئے ہیں۔ طالبان کے  ایک بلاواسطہ مارٹر راونڈ نے 7 رہائشیوں ،تمام عورتوں اور بچوں کو زخمی کیا۔ انہوں نے کہا کہ  وہ امن کے بارے میں بات کرتے ہیں لیکن ان کی کارروائی سے ہماری خواتین اور بچوں کو نقصان پہنچا ہے. "ایم جی تادین نےسوشل میڈیاپر  کہا۔ ابتدائی رپورٹوں کے مطابق ضلع چیف آف پولیس مائیوند، حاجی لالہ نے بتایا کہ طالبان نے ایک مارٹر گولہ فائر کیا، جو بجائے سیکیورٹی افواج  کے ایک مقامی رہائشی گھر کو لگا،جس نے خواتین اور بچوں کو زخمی کردیا۔ نبی اکرم نے جنگ کے دوران کفار کے چھوٹے بچوں اور عورتوں کو بھی قتل کرنے سے منع کیا ہے۔ معصوم بچوں کا قتل کرنا یا انہیں زخمی کرنا جہاد نہیں فساد ہے اور اسلام کے اس عظیم عمل کو بدنام کرنے کی خوفناک سازش ہے۔ اسلام میں بچوں اور عورتوں کا قتل کرنا یا انہیں زخمی کرناحالت جنگ میں بھی منع ہے۔ حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا۔ آپ نے کہا کہ ”وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹو ں پر شفقت نہ کرے۔ رسول اللہﷺ نے جنگ کے لیے شریفانہ ضوابط بھی مقرر فرمائے اور اپنے فوجیوں اور کمانڈروں پر ان کی پابندی لازمی قرار دیتے ہوئے کسی حال میں ا ن سے باہر جانے کی اجازت نہ دی۔ قتال کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی جو ہدایات ہیں، وہ انسانی تاریخ میں منفرد اہمیت کی حامل ہیں، جہاد کے خلاف جو مہم جوئی چلائی جا رہی ہے اور اسے جس طرح دہشت گردی کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے، وہ سراسر بدنیتی اور تعصب پر مبنی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے قتال و جہاد کے لیے جو ہدایات دیں، ان کی تفصیلات یوں ہیں :
1. غیر اہل قتال کو نقصان پہنچانے سے منع کیا، نبی کریم نے اہل قتال اور غیر اہل قتال کا فرق واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ غیر اہل قتال کو نقصان نہ پہنچایا جائے، عورتوں، بچوں، بوڑھوں، بیماروں، گوشہ نشینوں، زاہدوں اور مندروں کے مجاوروں اور پجاریوں وغیرہ کو قتل نہ کیا جائے۔
2. رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم مجاہدین کو رخصت کرتے ہوئے فرماتے "کسی بوڑھے، بچے، نابالغ لڑکے اور عورت کو قتل نہ کرو، اموال غنیمت میں چوری نہ کرو، جنگ میں جو کچھ ہاتھ آ جائے سب ایک جگہ جمع کر دو، نیکی اور احسان کرو کیونکہ اللہ تعالٰی احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے” ۔(سنن ابی داؤد، کتاب الجھاد )۔

مغرب کا متعارف کردہ جدید مذہب’ہیومن ازم’

مذہب فلسفہ اور سائنس -

ہیومن کون ہے؟ عام طور پر ھیومن کا ترجمہ انسان کرکے یہ سمجھا جاتا ھے کہ ‘انسان تو بس انسان ہی ھوتا ھے، چاھے مشرق کا ھو یا مغرب کا’۔ مگر یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں بلکہ پیچیدہ ھے۔ درحقیقت ہر تہذیب (نظام زندگی) کا ایک اپنا مخصوص تصور انفرادیت ھوتا ھے۔ اس تصور انفرادیت…

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator