Feed aggregator

فخر عالم کہاں ہے

کاشف نصیر -

صبح کےدس بج رہے تھے اور میں دو اجنبی نوجوان ساتھیوں کی مفیت میں پی اے ایف میوزیم کا راستہ پوچھتا پوچھاتا اب مرکزی راہ داری سے میوزیم کی حدود میں داخل ہورہا تھا. یہ دونوں نوجوان میرے لئے کچھ دیر پہلے تک بلکل اجنبی تھے لیکن پچھلے آدھ گھنٹے میں میری انسے کافی شناسائی […]

کل میرے شہر کی انتہا ہو گئی

کاشف نصیر -

آدھا ملک سیلاب کے پانی میں ڈوبا ہوا ہے اور آدھا دہشت گردی اور اسکے خلاف لڑی جانے والی نام نہاد جنگ میں مبتلا ہے، ایک کونے میں سب سے الگ تھلگ بحرہ عرب کی بے چین موجوں کے کنارے یہ شہر کراچی آباد ہے جو کسی بے لوث باپ کی طرح اور کسی مہربان […]

مصیبتوں نے اس ملک کی راہ دیکھ لی ہے

کاشف نصیر -

یوں لگتا ہے کہ مصیبتوں نے اس ملک کی راہ دیکھ لی ہے، ایک سانحہ کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا کہ گویا سانحات کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا. کبھی قدرتی آفات، کبھی ناگہانی حادثات، کبھی انسانیت سوز واقعات، کبھی خودکشیوں کی نت نئی حرکات […]

بھیگے موسم کے رنگ، جامعہ کراچی کے سنگ

کاشف نصیر -

عروس البلاد کی فضاوں میں جب بھی سانولی گھٹائیں چھاتی ہیں اور رم جھم کے آثار نمودار ہوتے ہیں ہم جہاں کہیں بھی ہوں کسی بے خود پروانے کی مانند مادر علمی کی جانب دوڑ پڑتے ہیں۔ صاحب پڑھنے کیلئے نہیں بھیگے موسم کے رنگ میں رنگنے اور ٹپ ٹپ گرتی ایک ایک پھوار میں […]

امریکی نانی اور جرنل کیانی

کاشف نصیر -

جرنل اشفاق پرویز کیانی کو رواں برس نومبر میں اپنی میعاد ملازمت مکمل کر لینے کے بعد گھر جانا تھا لیکن وزیر اعظم پاکستان نے اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے انکی میعاد ملازمت میں مزید تین سال کی توسیع کردی ہے ۔یوں جرنل کیانی سولین حکومت سے توسیع پانے والے تیسرے فوجی سربراہ بن […]

ہمارا جانا، پانچ سال بعد پاکستان

سید محمد نقوی (فاضل کا بلاگ) -

بسم اللہ الرحمن الحیم
ہر کسی کا ایک گھر ہوتا ہے۔ چاہے دنیا کے ہر شہر میں لاکھوں مکان ہوں، لیکن گھر ایک ہی ہوتا ہے۔گھر وہ ہوتا ہے کہ جب انسان وہاں ہو، اسے سکون ملے، چاہے کتنی مشکلیں پڑیں۔ اپنائیت محسوس ہو، چاہے کتنا ہی تنہا ہو۔ سب لوگ اپنے لگیں، چاہے جتنے بھی انجان ہوں۔ جب وہاں کوئی مصیبت آئے، انسان جہاں بھی ہو اس کا دل دکھنے لگے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے، کہ جب گھر سے دور ہو، اسے ایک شدید کمی، ایک درد کا احساح ہو، جسے عام طور سے غربت کا احساح کہتے ہیں۔ہر درد کی طرح، غربت کو بھی وہی سمجھ سکتا ہے جو غربت میں رہا ہو۔لیکن کوئی ایسی چیز دنیا میں نہیں ہے، جس میں اچھائی، خوشی یا کوئی بھی اچھا پہلو نہ ہو۔ اگر کوئی ایسی چیز ہے بھی تو بہت کم ہی ہوگی۔ کیونکہ ان اللہ جمیل و یحب الجمال۔یہ سب باتین ایک طرف، اور کئی سال غربت جھیلنے کے بعد، گھر جانے کی خوشی ایک طرف۔ اس خوشی کا نقشہ کاغذ پر نہیں کھینچ سکتا۔ اگر یہ قدرت ہوتی تو شاید ایک بچے کی تصویر بناتا جو، اپنی چھوٹی سی دنیا میں مگن، ایک چاکلیٹ پانے کی خوشی میں ناچ رہا ہے۔ میرا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے، فرق اتنا ہے کہ اس عمر میں اگر یہ حرکت کر ڈالی، تو شاید مجھے، پاگل خانہ بھیج دیا جائے۔ بچپنے کا بھی کیا خوب زمانہ ہوتا ہے، انسان کھل کے اپنے خالص احساسات کا اظہار کرتا ہے، لیکن وقت کے ساتھ یہ خلوص نقابوں کے پیچھے چھپ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ انسان اپنی خوشی کا اظہار بھی کھل کر نہیں کرسکتا۔خیر اب میں لگ بھگ پانچ سال کے بعد، دوبارہ اپنے گھر، پاکستان، جا رہا ہوں۔ خوشی کا عالم قابل بیاں نہیں ہے۔ پاکستان پہنچنے میں چار دن رہتے ہیں۔مجھے یہ فکر ہے کہ پانچ سال پہلے میرا گھر کس حال میں تھا، اور آج کس حال میں ہے۔ مہنگائی، بدامنی، بجلی کی چھٹیاں اور نہ جانے کتنی مشکلیں بڑھ گئی ہیں، یہ سب معلوم ہے۔ لیکن پھر بھی مجھے جانا ہے۔ گھر، گھر ہوتا ہے۔ بقول مرحوم فراز کے:فراز سنگ ملامت سے داغ داغ سہیہمیں عزیز ہے خانہ خراب جیسااس فرق کے ساتھ، کہ ہمارا پاکستان خراب نہ کبھی تھا، نہ ہے اور نہ کبھی ہو گا، ان شاء اللہ۔ ہاں خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، جو ان شاء اللہ، ناکام رہے گی۔اب ملیں گے پاکستان میں ان شاء اللہ

گنوم (GNOME) کا اردو ترجمہ

محمد سعد (تیزابیت) -

سلام ظالم دنیا!

اپنے ہر دل عزیز جناتی مترجم جناب محمد علی مکی صاحب کو تو آپ لوگ جانتے ہی ہوں گے۔ ان دنوں کوہ قاف کے غاروں میں مراقبہ فرمایا کرتے ہیں۔ آج ان سے بذریعہ انسٹنٹ مسنجر مختصر سی ملاقات ہوئی تو باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ آج کل فارغ وقت میں گنوم (GNOME) ڈیسکٹاپ ماحول کا اردو ترجمہ کر رہے ہیں۔

تھوڑی سی جھلک جو میں ان کے کام کی دیکھ پایا، یہاں پر پیش کر رہا ہوں۔





ان شاء اللہ جلد ہی ترجمہ مکمل ہو کر آم لوگوں کے لیے دستیاب ہو جائے گا۔ لینکس اور گنوم استعمال کرنے والے، یا کسی اور وجہ سے اس پراجیکٹ میں دلچسپی رکھنے والے، ان کے بلاگ پر نظر رکھیں۔

کہانی ایک شریف جج کی

کاشف نصیر -

ہمارے یہاں جو لوگ مقام قضاء پر فائز کئے جاتے ہیں، اکثر قاضی بن کر بھی اپنے ماضی میں گم رہتے ہیں۔ طلبہ یونین سے لیکر بار ایسوسیشن کی سیاست کے تمام مدارج انکے ذہن میں ایسے رچ بس جاتے ہیں کہ وہ کمرا عدالت کو بھی کوئی پولنگ اسٹیشن سمجھنے لگتے ہیں اورچونکہ ہماری […]

زکر انکا جو سید علی کی آغوش میں سر رکھ کے سو جاتے تھے

کاشف نصیر -

داتا صاحب کے حادثے نے میرے احساسات اور جزبات کو طرح مجروع کیا ہے۔ میرا پورا وجود گویا کوئی بجھی ہوئی شمع، کوئی ٹوٹے ہوئے آئینے، کوئی بھپرے ہوئے دریا اور کوئی جلتے ہوئے انگارے کی مانند سیماب ہے۔ گزشتہ شب میں اپنی خواب گاہ میں خیالات کی کھرچیاں چنتا، سوچ کی گھرہوں کو کھولتا […]

وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا

کاشف نصیر -

مجھے بھولہ نہیں کہ ایک دور تھا جب بحث اور تکرار میرا پسندیدہ مشغلہ ہواکرتا تھا، اس لئے ہر دفعہ والد گرامی کواپنی بے ڈھنگی منطقوں کی بنیاد پر زچ کرنے میں کامیاب ہوجاتا تھا۔ انکے پاس کوئی دلیل باقی نہ رہتی تو جھاڑ پونچھ سے میری تواضع کرتے اور بچپنے اور فرزندگی کا طعنہ […]

Lahore data darbar t Blast July 2010| Two suicide bomb blast at Data Darbar Masque area

الطاف گوہر -












Today July 1, 2010 ; there were two blast in Lahore-Pakistan , Data Darbar Masque main gate; approx. 20 died , dozens injured


لاہور،داتا دربار کے احاطے میں خودکش دھماکے،25افراد جاں بحق،50زخمی:
لاہور داتا دربار کے احاطے میں دو خودکش دھماکوں میں 25 افراد شہید جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔ نجی کے مطابق لاہور میں واقع داتا دربار کے احاطے میں دو دھماکوں میں تقریبا 20 سے زائد افراد شہید جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق دونوں دھماکے خود کش تھے۔پہلے خودکش حملہ آور نے مزار کے گیٹ پر خودکو اڑا لیا جبکہ دوسرے خود کش حملہ آور نے خود کو مسجد کے گیٹ پر اڑایا۔دھماکے کے وقت داتا دربار میں دو سے ڈھائی ہزار زائرین موجود تھے۔ دونوں دھماکے عشاء کی نماز کے بعد ہوئے۔ جمعرات کی وجہ سے داتا دربار میں زائرین کا کافی رش تھا اور زائرین دربار کے احاطے میں دعا مانگ رہے تھے۔ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ زخمیوں کو گنگا رام اور سروسز اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ خودکش دھماکوں کے بعد لاہور میں سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے جبکہ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

کپتان مگراصول پسند بہت ہیں

کاشف نصیر -

لاہور کے سیاسی منظرنامہ پر ضمنی انتخابات کا شوربہت سی نئی تلخیوں کے ساتھ تھم چکا ہے۔ واقعات بتا رہے ہیں کہ لیاقت بلوچ جو چاہتے تھے وہی ہوا لیکن یہ وہ بھی جانتے ہیں کہ باجود ق لیگ سے اس نئی قرابت داری کے، نتیجہ جماعت کے حق میں نہ نکلنا تھا نہ نکلا […]

صاحب معراج کی گودی میں ہیں حیدر

سید محمد نقوی (فاضل کا بلاگ) -

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یہ غل کیسا ہے، اور اتنا سہانا کیوں ہے یہ منظر؟یہ فواروں کے ہاتھوں کیوں لٹائے ہیں حسیں گوہر؟زمیں سے آسماں تک کیوں چڑھی جاتی ہیں یہ بیلیں؟میں سمجھا، صاحب معراج کی گودی میں ہیں حیدر
از: علامہ سید مرتضی حسین صدرالافاضل (فاضل لکھنوی)۔
یوم ولادت امیرالمومنین امام علی بن ابیطالب ع۱۴۳۱

کیا یورپ کا بوڑھا شیر اسلام سے خوفزدہ ہے

کاشف نصیر -

مانا کہ ہم پاکستان ، ہندوستان اور دنیا کے دیگر خطوں کے مسلمانوں کو برطانیہ کی اندرونی سیاست میں کوئی زیادہ دلچسپی نہیں ہے، لیکن برطانیوی مسلمانوں کے لئے یہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپریل میں ہوئے پارلیمانی انتخابات میں لیبر پارٹی کی مسلم کش پالیسیوں سے تنگ آئے […]

بابا اللہ وسایا

کاشف نصیر -

ہمارے اسکول میں ایک دربان اللہ وسایا ہوا کرتے تھے جنہیں ہم پیار سے باباجی کہتے تھے۔ بابا میانہ قید کے لحیم جسم کے مالک سرخ و سفید سندھی بزرگ تھے۔ جب ہم دوسری میں پہنچے تو ہماری بھی انسے دوستی ہوگئی۔ ناجانے انکی شخصیت میں ایسا کیا خاص تھا کہ اسکول کے سب ہی بچے […]

میں کون ہوں

کاشف نصیر -

ابتداء سے افرینش تک انسان کو جس سوال نے سب سے زیادہ سوچنے سمجھنے پر مجبور کیا ہے وہ خود اسکی اپنی تخلیق ہے۔ ہر آدمی اپنی زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر اس کھوج کا پتہ لگانے کی ضرورت ضرور محسوس کرتا ہے کہ وہ کون ہے اوروہ کیوں ہے۔ قصہ اگر قدیم […]

کہتے ہیں عشق جسے وہ خلل ہے دماغ کا

کاشف نصیر -

جب ہم پیار، محبت اورعشق کی بات کرتے ہیں تو دھیان فورا دوسری طرف نکل جاتا ہے۔ ہیر رانجھا، شیریں فراد، ممتاز محل اور انار کلی کے قصے ہمارے ذہن میں گھومنے لگتے ہیں، ہندی اور اردو فلموں کی کہانیاں یاد آجاتی ہیں، ٹی وی ڈراموں کے کردار نظرکے سامنے آجاتے ہیں اور اردو شاعری […]

موٹی بھدی رکن اسمبلی

کاشف نصیر -

بظاہر وہ بھی معمول کا ایک جھگڑا تھا، بات دو خواتین ارکان کے درمیان نوک جھوک سے شروع ہوئی اور اتنی بڑھی کہ نوبت ہاتا پائی تک آگئی۔ حسب معمول سنئیر ارکان اسمبلی کو بیچ بچاو کے لئے درمیان میں کودنا پڑا اور معاملا رفع دفعہ ہوگیا۔ پھر ہمیشہ کی طرح اگلے دن کے تمام […]

پیش منظر سے پس منظر کا سفر

کاشف نصیر -

بھی ابھی پیپلز پارٹی کے حامی بلاگ “لیٹ ایس بلڈ پاکستان” پر احمد اقبال آبادی کا ایک پوسٹ شائع ہوا ہے جس میں ممتاز جرنلسٹ اور ٹی وی انکر حامد میر صاحب کی انکے جمعرات کو روزنامہ جنگ میں شائع ہوئے کالم “جھوٹ اور تہمت کا کلچر” پر خوب واہ واہ کی گئی ہے۔ امریکہ […]

رانا ثناء اللہ، سلمان تاثیر اور قلعدم تنظیمیں

کاشف نصیر -

میں پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں جانتا ۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ اچھے آدمی ہیں یا برے، مجھے یہ بھی معلوم نہیں کے انہیں منصب وزارت پر پرقرار رکھنا چاہئے یا برطرف کردینا چاہئے۔ البتہ جس چیز کے بارے میں مجھے معلوم ہے اور جس پر […]

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator