بلاگستان

تاریخ اشاعت: سوموار, February 18, 2013 - 13:39
مصنف: ساحل


تقابلی جائزہ:عورت کے معاشرتی مقام پر گزرنے والے تین ادوار کا سرسری جائزہ لینے کے بعد اب تقابل کی باری آتی ہے ۔ یہ بات ظاہر ہے کہ اسلام کے ظہور سے پہلے کا دور بھی غیرمسلم اقوام اور مذاہب کا دور تھا جبکہ یورپ کے معاشی انقلاب کے بعدکا دور بھی غیرمسلم مغربیوں کا دور ہے ۔ درمیان میں اسلام کے ظہور کےبعد اس کی تعلیمات کا انقلابی دور ہے ۔ہم خواتین کے حقوق کے حوالے سے اسلامی تعلیمات اور روشن انقلاب کا تقابل قبل از اسلام کے ساتھ نہیں کرتے کیوں کہ وہ تو خود یورپ کے ڈارک ایجز سے بھی پہلے کا دور ہے ۔ اس دور کی بڑی تہذیبیں آج بالکل نیست ونابود ہیں یا انہیں آج اپنی پرانی تہذیب پر فخر ہی نہیں...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: سوموار, February 18, 2013 - 12:16
ابھی ابھی اطلاعات آرہی ہیں اور ٹی وی پر لائیو فوٹیج دکھائی جا رہی ہیں کہ پولیٹیکل ایجنٹ خیبر ایجنسی کے آفس پر جو کہ پشاور کے دل صدر میں باڑہ روڈ پر واقع ہے پر نامعلوم افراد نے نامعلوم سمت سے حملہ کیا ہوا ہے۔ وہاں پر قبائلی عمائیدین کا اجلاس جاری تھا۔ پی اے خیبر کے آفس میں کئی قیدی موجود تھے۔ یہ آفس ایسی جگہ پر واقع ہے جہاں سے چند قدم کے فاصلے پر پاکستان ائیر فورس کا ہیڈ کوارٹر، پشاور ایئر پورٹ، اور پاکستان آرمی کے دفاتر ہیں جبکہ یہ دفتر دو اطراف سے رہائشی مکانات سے متصل ہے جبکہ دو طرف اس کے مین روڈ ہے۔ یہاں پر چوبیس گھنٹے ہر طرف سے پولیس،ایف سی، آرمی کی نگرانی ہوتی ہے، جبکہ ہر طرف سے آنے والی...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: سوموار, February 18, 2013 - 11:18
مصنف: شعیب صفدر
اب تو بنیاد پرست ہونا ہی نہیں مسلمانوں میں رہتے ہوئے بھی اسلام کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کی سہی کرنا یا ایسی کسی خواہش کا پورے معاشرے کے لئے کرنا ایک مخصوص طبقے میں طعنہ سمجھا جاتا ہے۔ یار دوست اسلام کے نفاذ کو فرقوں کے نفاذ کی طرف دھکیل دیتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کس کا اسلام نافذ کرو گے؟
یہ طبقہ ہر فورم، پروگرام، جگہ ایک عام پاکستانی کو یہ ہی کہہ کر زچ کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ “اس ملک میں درجنوں فرقوں کے لوگ آباد ہیں نہ صرف سنی شیعہ بلکہ انکے درمیان بیشمار فرقے ہیں.بریلوی، اہل حدیث وہابی، دیوبندی، اسماعیلی شیعہ، اثنا عشری شیعہ وغیرہ وغیرہ. تو تم کس کا اسلام نافذ کرو گے؟”
...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: سوموار, February 18, 2013 - 08:41

آن لائن قرآن پاک کی تعلیم حاصل کریں

دیارِ غیر میں بسنے والے مسلمانوں کے بہت سے مسائل میں سے ایک مسئلہ اسلامی تعلیمات  حاصل کرنے میں دشواری بھی ہے۔ مساجد کم ہونے کی وجہ سے دور دراز والے مسلمان اپنے بچوں کو دینی تعلیم دینے میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے “آن لائن قرآن پاک” پڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمارا مقصد  ان بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دینا ہے جو دیارِ غیر میں قرآن پاک تو پڑھنا چاہتے...

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: اتوار, February 17, 2013 - 23:11
کہتے ہیں ناانصافی  کہیں بھی ہو، یہ معاشرے اور مُلک کو تباہ کرنے کی بنیاد باندھ دیتی ہے۔
کئی مغربی فلسفی  اور سیاستدان گاہے بگاہے اسلامی قانون اور اسلامی تعلیمات کے قابلِ استعمال اورانسانیت کے عین مطابق ہونے کا اقرار کرتے رہتے ہیں۔ ایک تصویر بھی سماجی روابط کی ویب سائیٹوں پر کافی دن تک گردش کرتی...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: اتوار, February 17, 2013 - 21:42
مصنف: سرگوشیاں

کاش میں اسکا چہرہ نہیں دیکھتا۔

جلے ہوئے چہرے پر کچھ دانتوں، جلے ہوئے بالوں اور ایک دہشتناک اندھیرے کے علاوہ کچھ نظر بھی تو نہیں آرہا تھا۔ 

پاس کھڑی اس بارہ سالہ "شہزادی" (بچی کا نام) کی والدہ بین کر رہی تھی۔ دہائی دے رہی تھی۔ ماتم کناں تھی۔

"ظالموں نے میرے بچے کو جلا دیا"۔...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: اتوار, February 17, 2013 - 20:58
بھائی صاحب یہ کیا ہے؟ یہ ہالز ہے۔ یہ کیا کرتی ہے؟ گلہ ٹھنڈا کرتی ہے۔ کتنا ٹھنڈا کرتی ہے؟ جتنا سپریم کورٹ نے طاہر القادری کو ٹھنڈا کیا ہے۔

طفل مکتب کی تحریر کا یہ اقتباس آپ مکمل شکل میں وہیں ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ ...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: اتوار, February 17, 2013 - 19:27
مصنف: ساحل


8مارچ کو اہل مغرب یوم خواتین مناتے ہیں ۔ مغرب کے دیکھادیکھی مسلمانوں میں بھی یہ وبا عام ہے ۔ یہ دن خواتین کے حقوق اور ان کی حیثیت اجاگرنے کے لیے منایا جاتا ہے ۔ یورپ گزشتہ دو صدیوں سے خواتین کے حقوق کا پروپیگنڈا کررہا ہے ۔ عورت کوحقوق دینے کے نام پر اس کے کئی این جی اوز اور ادارے کام کررہے ہیں ۔ اس معاملے میں کیا حقیقت ہے اور کیا فسانہ ،آج کی مجلس میں ہم ذرا اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے ۔معاشرے میں عورت کے تین ادوار:اجتماعی معاشرتی صورتحال کو دیکھیں تو انسانی تاریخ میں عورت پر تین ادوار گذرے ہیں ۔ پہلا دور قبل از اسلام کا ہے جہاں عورت کی کوئی حیثیت نہیں تھی ۔ مرد کے...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: اتوار, February 17, 2013 - 19:08
ایک میراثن کی شادی سید صاحب سے ہو گئی۔ گرمیوں کے موسم میں میراثن اپنے گھر کے باہر کیکر کے درخت کے نیچے بیٹھی تھی۔ جب زیادہ گرمی لگی تو میراثن نے کپڑے کو پنکھے کی طرح ہلا کر ہوا لینا شروع کر دی۔ تھوڑی دیر بعد کچھ اور خواتین بھی وہاں آ گئیں، تو میراثن نے گرمی سے تنگ آکر کہا ”ساڈا ایہہ حال اے تے ساڈی امت دا کی حال ہووے دا“ یہی حال جناب خود ساختہ شیخ الاسلام کا ہے ایسے رہنمائی کرنے والے تو ایک اینٹ اٹھائیں نیچے سے دس نکل آتے ہیں۔ پاکستان میں لاکھوں جید علماءکرام موجود ہیں۔ آج تک کسی نے بھی امت کی رہنمائی کو کسی ملک کی شہریت سے منسلک نہیں کیا۔ علامہ صاحب نے عجیب ڈرامہ کر دیا ہے۔ پہلے کہا ”کہو...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: اتوار, February 17, 2013 - 12:16
قادیانی اپنے کفر  سے توجہ ہٹانے کے لیے مغالطہ دینے کی کوشش کرتے  ہیں کہ  جو علماء ہم پر کفر کا فتوی لگاتے ہیں وہ خود آپس میں بھی اک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں لہذا ان کے فتوؤں کا اعتبار نہیں۔ اس مغالطے کے جواب میں چند باتیں ملاحظہ فرمائیں۔
پہلی  بات مسلمان (سنی) مکاتب فکر  کا باہمی اختلاف واقعات کا اختلاف ہے قانون کا نہیں۔ جسکا واضح ثبوت یہ ہے جب کبھی اسلام کے خلاف کوئی بات سامنے آئی یا مسلمانوں کا مشترکہ مسئلہ پیدا ہوا تو ان تمام مکاتب فکر کے مل  بیٹھنے میں ان چند متشدد ین کے باہمی نزاعی فتوے کبھی رکاوٹ نہیں بنے۔1951 کے اسلامی  دستور کے بائیس نکات ہوں...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: اتوار, February 17, 2013 - 12:09
ایک زمین۔۔۔دو شاعر (فیض احمد فیض، محسن نقوی)۔۔۔ دو غزلیں


اردو شاعری کے دو بڑے نام، فیض احمد فیض اور محسن نقوی کی دو خوبصورت غزلیں، جو ایک ہی زمین میں ہیں۔
فیض احمد فیض کی غزل ان کی کتاب "شامِ شہر یاراں" میں شامل ہے، جو مکتبۂ کارواں لاہور نے 1978ء میں شائع کی تھی جبکہ محسن نقوی کی غزل اُن کی کتاب "طلوعِ اشک" میں شامل ہے، جو 1992ء  میں شائع ہوئی تھی۔
اس لیے زیادہ قرینِ قیاس بات یہی ہے کہ محسن نقوی نے فیض احمد فیض کی زمین میں غزل لکھی ہے۔
دونوں غزلوں بیحد خوبصورت ہیں اور پیشِ خدمت ہیں۔

فیض احمد فیض کی غزل:

حسرتِ دید میں گزراں ہیں...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: اتوار, February 17, 2013 - 06:05
بچپنے میں سنتے تھے کہ کسی مقام سے "کبابوں" والا پکڑا گیا ۔ وجہ !  جی وہ  "ڈھڈو" کا قیمہ بنا کر کباب بناتا تھا۔ کہیں کانوں میں پڑتا کہ کسی شہر میں  کسی ہوٹل کی  لذیذ  مٹن کڑاہی، کسی "کتے" کے گوشت کی مرہون منت تھی۔ کسی قصاب کے گوشت کی زیادہ بِکری کی وجہ "کھوتے" کے گوشت کی ملاوٹ بیان کیا جاتا۔ کہیں پکوڑوں میں بھنگ ملا کر گاہکوں کو عادی کرنے کا  الزام لگتا۔ اور کہیں "چکن سموسہ" میں "چوے" بھون بھون کر ڈالنے کی کہانیاں جنم لیتی تھیں۔ یہ تو بچپن کی کھتائیں ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو  بازاری چٹ پٹی چیزیں کھانے سے روکنے کے لئے ایسے بہانے بناتے ہی رہتے ہیں۔ جیسے "بائو"...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: اتوار, February 17, 2013 - 01:36
مصنف: سرگوشیاں

کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں لوگوں کو صرف اس لئے مارا جاتاہے کہ ان کے دین اسلام کو سمجھنے کا طریقہ الگ ہے۔ اگر "علما" اور فقہاکی یہی حرکتیں جاری رہی تو بہت ممکن ہے کہ کہ نوجوان طبقے دین سے کنارہ کشی اختیار کر کے لادینیت کی طرف چلے جائیں گے۔ پوری دنیا میں ویسے بھی مذہب کے "دقیانوسی فلسفوں" سے بیزار طبقے لادینیت (Athiesm ) کی طرف جا رہے ہیں۔
ان مشکل حالات میں منطق، علم اور دلیل کے ذریعے دعوت دینےکی بجائے بندوقوں کا سہارا لے کر خلاف منطق کام کیا جارہا ہے۔
بنظر غائر ایسا لگتا ہے کہ کچھ طبقے اس دور کے جدید حالات، جدید معاشرے کی گونا گونی اور فکری تنوع کے تناظر...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: سنیچر, February 16, 2013 - 17:30

بہت سے لوگوں پر الزام لگتے ہیں،  ایسے ، ایسے الزام کے انسان سوج ہی نہیں سکتا۔ ان کے خلاف کیس کھلتے ہیں۔ لیکن اس وقت تک وہ ملزم ہی سمجھے جاتے ہیں  اور ملزم ہی کہا جاتا ہے۔ جب تک انسان ملزم رہتا ہے تب تک بچنے کا چانس ہوتا ہے۔ جس نے جرم نہیں کیا ہوتا ، یا جس پر الزام ثابت نہیں ہوتا وہ بچ جاتے ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ ایک صورت اور بھی ہوتی ہے۔ جب مجرم اقبال جرم کر لیتا ہے، وہاں بھی بچنے کے چانس ہوتے ہیں۔ لیکن اقبال جرم اس وقت کرے جس وقت اس پر الزام لگا ہو ، جس وقت تک وہ ملزم ہو۔ اگر اس وقت وہ اپنے جرم کا اقرار کر لیتا ہے۔ تو کہیں نا کہیں گنجائش رکھی جاتی ہے اس کے لیے، وہ اقبال جرم کی...

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: سنیچر, February 16, 2013 - 10:13
مصنف: محمد وارث
خلق کہتی ہے جسے دل ترے دیوانے کا
ایک گوشہ ہے یہ دنیا اسی ویرانے کا

اک معمّہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا

حُسن ہے ذات مری، عشق صفَت ہے میری
ہوں تو میں شمع مگر بھیس ہے پروانے کا

کعبہ کو دل کی زیارت کے لیے جاتا ہوں
آستانہ ہے حرم میرے صنم خانے کا

مختصر قصّہٴ غم یہ ہے کہ دل رکھتا ہوں
رازِ کونین خلاصہ ہے اس افسانے کا

زندگی بھی تو پشیماں ہے یہاں لا کے مجھے
ڈھونڈتی ہے کوئی حیلہ مرے مر جانے کا
...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: سنیچر, February 16, 2013 - 04:43

Broken Heart by Katerina Caristan
My heart became empty. Once again. Once more I have failed and I have depended on something that wasn’t real. It felt real and I almost got fooled but it was like a mirage in desert. Just an illusion. At the bottom of my heart there are things and wishes and feelings that only me and Allah knows…there are certain emotions that I try to guard tightly so they don’t surface to the outside world, because when they do I become vulnerable. I become exposed and easy target. My soul continues to search for the other half that will complete me in...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: سنیچر, February 16, 2013 - 04:31
مس حمیرا، یہ نام انہیں میرے ایک دوست نے دیا تھا۔ اصل نام تو ان کا عجیب سا ہے، جیسے کہ تمام جرمن نام ہوتے ہیں جو منہ ٹیڑھا کئے بغیر پکارے نہیں جا سکتے۔ ان کے نام میں بھی … ← پڑھنا جاری رکھیں
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعہ, February 15, 2013 - 20:17
مصنف: شعیب صفدر
باقی شہروں کا تو ہمیں علم نہیں مگر شہر کراچی میں تنظیم اسلامی نے ویلنٹائن ڈے کے خلاف انگریزی زبان میں BillBoard پر اشتہارات لگائے ہیں اس سے قبل یہ شہر میں خواتین کے لباس سے متعلق بھی ایسی اشتہاری مہم چلا چکے مگر اُس وقت چونکہ یہ اصل نام سے سامنے نہیں آئے تھے اس لئے ایک مخصوص طبقہ نے اسے نوٹس کیا اور دونوں طرح کے رد عمل سامنے آئے تھے مگر اس کی کاوش سے یوں بے خبر رہا کہ یہ کون ہے جس سے اصل مقاصد پس پشت چلے گئے۔
BillBoard پر درج قرآنی آیات و احادیث ایسی ہیں جو صاحب شعور کو یہ سمجھا دیتی ہیں کہ دینی تعلیمات سے کی رو سے یہ دن ہمارے معاشرتی اقدار سے ٹکراؤ...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعہ, February 15, 2013 - 15:59
مصنف: سرگوشیاں
کمرے میں وہ اتنی آہستگی سے داخل ہوئی ہے کہ مجھے شک تک نہیں گزرا۔  شک گزرتا بھی کیسے، اندر ماحول ہی ایسا بنا ہوا تھا۔ جا بجا بکھری تاریں، میلا سا سرہانہ، مڑی تڑی چادریں اور بیچ میں سے دھنسا ہوا رنگ اڑا ’فوم‘، دیواروں پر ادھر اُدھر لٹکے کپڑے، کونے کھدروں سے جھانکتی، ایک دوسرے میں اڑسی ہوئی، میلی کچیلی جرابیں اور ہمسائے میں کتوں کی بند نہ ہونے والی آوازیں۔

 اور  اس ماحول میں بے نیازی سے لیٹا ہوا میں نیم دلی کے ساتھ میوزک کے شور میں غرق فیس بک پر جاری ایک بحث دیکھ رہا تھا۔ بحث میں حصہ لینے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ موضوع ہی ایسا ’متنازعہ‘ سا تھا ۔ کچھ بھی...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعہ, February 15, 2013 - 14:25
مصنف: حجاب شب

اچانک مہمان آجائیں اور مہمان بھی وہ جسے دیکھ کے کہنا پڑے گلی میں آج چاند نکلا ۔۔۔ آج بادل اور بارش کی اچانک دستک نے بلکل اسی طرح دل خوش کیا ہی تھا کہ بجلی کی زور دار کڑک نے یہ سمجھایا کہ عشق چاہے کسی کے ہو آسان نہیں ہوتا ۔۔۔ دل بند ہوتے ہوتے رہ گیا ، سرخ بھیگے پتے جو آنگن میں بکھرے تھے وہ بھی مجھے نہ روک سکے اور میں کمرے میں شُکر کہ بیڈ کے نیچے نہیں گُھسی :oops:

...

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعہ, February 15, 2013 - 09:17

مجھے پتا تھا آج کا دن منہوس ہی ہونا تھا ، بس سٹاپ پر پہنچ کر جب مجھے اپنے ’’پارشلی‘‘ اندھے ہونے کا احساس ہوا تو میں نے آنکھوں پر ہاتھ مار کر عینک کی غیر موجودگی کا ثبوت حاصل کرتے ہوئے سوچا۔ چلو خیر ہے ، کالج کے لاکر میں ایک سیفٹی گلاسسز کے نیچے پہننے کے لیے جو رکھی ہے وہی چل جائے گی ، یہ سوچتے ہوئے میں اندھے پن میں ہی کالج گیا تھا ، کیونکہ نہاتے ہوئے گرم گرم پانی سے چسکے بازی کرتے ہوئے مین نے اتنا وقت تو ضائع کر ہی دیا تھا کہ اب واپس جا کر عینک اٹھا لینا تو کجا کالج...

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعہ, February 15, 2013 - 02:31
مصنف: رائے نامہ

اسکو کہتے ہیں آؤٹ ڈور مارکیٹنگ ھم نے تو ایم ایس سی کر کے گنوایا
ہمیں تو بھائی عادت ہے "عیدوں بعد تانبا پھوکنے" کی، یہی وجہ ہے کہ اگر چھوٹی عید بارےکچھ لکھنا ہو تو اس کی باری اکثر بڑی عید کے قریب جا کر ہی آتی ہے. وجہ کو چاہے سستی کا نام دے لو یا مصروفیات کا فرق کچھ...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, February 14, 2013 - 22:44
www.bazmeurdu.net
بزم اردو سوشل نیٹ ورک کا آغاز
اردو کو خواص سے عوام تک پہنچانے کی کوشش
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس برق رفتار دور میں بیچاری اردو کہاں کھڑی ہے اس بات سے ہم اور آپ بخوبی واقف ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں مغربی ممالک کی سبقت نے اقوام عالم کی تہذیب و ثقافت ، رہن سہن ، طرزمعاشرت اور زبانوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ دور حاضر میں مغرب سے آنے والی...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, February 14, 2013 - 20:46

بلاگ پوسٹ صادر ہونے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں تھا ( ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے تو بالکل بھی نہیں)، پھر مزید" افاقہ" تب ہوا جب کئی احباب نے ہمیں تاریخ ویلنٹائن ایک بار پھر سے ازسرنو ازبر کروا کےشکریے کا موقع دے دیا۔ مسئلہ لیکن دو عدد مناظر اور ایک عدد فیس بکی سٹیٹس سے ہوا جن کا ذکر آگے آئے گا۔ ابتدا میں البتہ یہ ذکر برمحل ہو گا کہ سارا سوشل میڈیا کل رات سے آج رات تک عید محبت کی حقیقت کھول کھول کر بیان کرنے کی محنت شاقہ میں مصروف ہے، مضامین سے لیکر پوسٹرز اور تصاویر سے لیکر سلوگن اور جانے کیا کیا کچھ۔ سب اس کو برا سمجھتے ہیں ،آزادانہ اختلاط کو جائز کوئی بھی نہیں رکھتا،اگرچہ دروغ برگردن...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, February 14, 2013 - 19:06
بزم اردو سوشل نیٹ ورک کا آغاز
اردو کو خواص سے عوام تک پہنچانے کی کوشش
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس برق رفتار دور میں  بیچاری اردو کہاں  کھڑی ہے اس بات سے ہم اور آپ بخوبی واقف ہیں۔  سائنس اور ٹیکنالوجی میں مغربی ممالک  کی سبقت نے  اقوام عالم کی تہذیب و ثقافت ، رہن سہن ، طرزمعاشرت اور زبانوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ دور حاضر میں مغرب سے آنے والی ہر چیز کو سند مانا جاتا ہے اور چونکہ انگریزی کو ایجاد و اختراع کی زبان تسلیم کیا جا چکا ہے اس لیے اردو داں طبقے کا اردو سے دور ہونا کوئی بعید ازقیاس بات نہیں ہے۔ بات صرف زبان تک محدود ہوتی تو ٹھیک تھا لیکن لسانی...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, February 14, 2013 - 13:03

بزم اردو سوشل نیٹ ورک کا آغاز
اردو کو خواص سے عوام تک پہنچانے کی کوشش
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس برق رفتار دور میں  بیچاری اردو کہاں  کھڑی ہے اس بات سے ہم اور آپ بخوبی واقف ہیں۔  سائنس اور ٹیکنالوجی میں مغربی ممالک  کی سبقت نے  اقوام عالم کی تہذیب و ثقافت ، رہن سہن ، طرزمعاشرت اور زبانوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ دور حاضر میں مغرب سے آنے والی ہر چیز کو سند مانا جاتا ہے اور چونکہ انگریزی کو ایجاد و اختراع کی زبان تسلیم کیا جا چکا ہے اس لیے اردو داں طبقے کا اردو سے دور ہونا کوئی بعید ازقیاس بات نہیں ہے۔ بات صرف زبان تک محدود ہوتی تو ٹھیک تھا لیکن...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, February 14, 2013 - 12:02
14 فروری کو منائے جانے والے یوم محبت یا ویلنٹائں ڈے کی ابتداء کہاں اور کیوں ہوئی اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں ہے۔ اس کی جڑیں تاریخ کے دھندلکوں میں وہاں پیوست ہیں جہاں تاریخ میں روایات اور دیو مالائی کہانیاں یوں گڈ مڈ ہو جاتی ہیں کہ حقییقت اور افسانے کا پتہ چلانا ناممکن ہو گیا ہے۔
کہیں اسے یونان کی رومانی دیوی '' یونو '' ( دیوتاؤوں کی ملکہ اور عورتوں و شادی بیاہ کی دیوی) کا مقدس دن مانا جاتا ہے، کئی لوگ اسے" کیوپڈ "(محبت کے دیوتا)اور "وینس"(حسن کی دیوی)سے موسوم کرتے ہیں جو کیوپڈ کی ماں تھی۔ کہیں اس کے تانے بانے رومیوں کے "لپرکالیا فیسٹیول" سے ملائے جاتے ہیں جو زمین اور...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, February 14, 2013 - 10:39
مصنف: محمد وارث
حافظ شیرازی کی ایک غزل کے تین اشعار

نیکیِ پیرِ مُغاں بیں کہ چو ما بَدمستاں
ہر چہ کردیم، بچشمِ کَرَمش زیبا بُود

پیرِ مغاں کی نیکی تو دیکھ کہ ہم جیسے بد مستوں نے جو کچھ بھی کیا وہ اسکی نگاہِ کرم میں اچھا (مناسب) تھا۔

مُطرب از دردِ مَحبّت غزلے می پرداخت
کہ حکیمانِ جہاں را مژہ خوں پالا بود

مطرب محبت کے درد سے ایسی غزل گا رہا تھا کہ دنیا کے حکیموں (عقل مندوں) کی پلکیں خون سے آلودہ تھیں۔

قلبِ اندودۂ حافظ برِ او خرج نَشُد
کہ معامل بہمہ عیبِ نہاں بینا بود

حافظ کے دل کا کھوٹا سکہ اُسکے سامنے نہ چلا (چل سکا)، اس لئے کہ...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, February 14, 2013 - 09:30

محبّت جیت ہوتی ہے مگر ہار جاتی ہے…
کبھی دل سوز لمحوں سے…
کبھی بیکار رسموں سے...

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, February 14, 2013 - 03:33

 بھلا سا نام تھا اس کا۔ لیکن زہن پر زور دینے سے فقط اس کی شبیہ ابھری اور اس کی "چھیڑ" یاد آئی۔   "شبراتی بمب"  شاید  ہم  نے ہی اسے یہ لقب دیا تھا ۔ جس کی وجہ پٹاخے کی آواز سن کر اس کا  چیخنا بھی تھا  ۔   اور اس کے علاوہ     اس کے حلیے ، جسم اور چال ڈھال کی بنا۔گول مٹول ، گٹو سا ، چہرہ چھوٹا سا  سرخی مائل اور سر بھی قدرے پچکا ہوا۔  یوں لگتا جیسے رسیوں والے بمب کے اوپر  پٹاس کی نلی رکھی ہو۔ آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی۔ پلکیں ہمیشہ چپکی ہی رہتیں جوں کسی نے گوند ڈال کر جوڑ دی ہوں، اور وہ مجبوری کے تحت غور سے...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, February 14, 2013 - 01:28

 دو  طرح کے مریضوں کا علاج کرنا نہایت مشکل ہوتا ہے۔ ایک وہ جو بالکل کم تعلیم یافتہ ہوں اور ہدایات کو بالکل نہ سمجھ سکیں اور دوسرے وہ مریض جو انتہائی زیادہ پڑھے لکھے ہوں۔ ان کو بھی آسان سی انسٹرکشن دینا ایک بہت مشکل کام ہے کیونکہ ان کا دماغ ہر چھوٹی سی بات میں بھی اتنا غور کرتا ہے کہ وہ ایک معمولی  قدم بھی نہیں اٹھا سکتے ۔ ایک خاتون ابھی ایک ایسی جاب سے ریٹائر ہوئی تھیں جس میں ان کو اپنے سارے ڈپارٹمنٹ کی ہر چیز کا اندراج  اور حساب کتاب رکھنا ہوتا تھا۔ ان سے کہا کہ آپ دن میں 1200 ملی گرام کیلشیم  کا استعمال کریں ۔ وہ فارمیسی گئیں تو ساری کیلشیم کی اقسام دیکھ کر اتنی کنفیوز ہو گئیں کہ کوئی...

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, February 14, 2013 - 01:09
مصنف: حجاب شب

پرچہء محبت ۔۔
تمام سوالوں کے نمبر ایک سے بڑھ کے ایک ہیں لیکن محبوبہ کی گلی میں کتے کی طرح رُلنے اور دھتکارے جانے والے عاشقوں کو اضافی نمبر دیئے جائیں گے ۔
سوال 1= محبت اور جوتے میں کون سی قدر مشترک ہے وضاحت کریں ؟؟؟
سوال 2 = سینڈل اور اسکینڈل سے بچنے کے طریقے ذاتی تجربے کی روشنی میں لکھیں ؟؟
سوال 3 = عاشق اور گدھے میں مار کھانے کے علاوہ کیا خاص بات ہے ؟؟
سوال 4 = کیا تھپڑ اور سینڈل کھانا محبت کی اعلیٰ ترین ڈگری ہے ؟؟
نوٹ :- جذباتی ہونے کی صورت میں سینڈل کی تصویر بنانے کی اجازت ہے ۔۔
سوال 5 = ظالم محبوب اور محبوباؤں کو آج کے دن طعنے اور کوسنے دے کر...

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: بدھ, February 13, 2013 - 20:27

 جب کوئی کسی کو آئینہ دکھاتا ہے تو وہ اس میں دیکھ کر یا تو اپنی اصلاح کرلیتا ہے یا ایسے بوکھلا جاتا ہے جیسے بقول طلعت حسین صاحب کہ رات کا پرندا دن کی چکاچوند روشنی میں پھڑپھڑا تے ہوئے اِدھر اُدھر ٹکریں مارتا ہے۔ ہم لوگ کبھی بھی اپنے گریبان میں جھانک کر نہیں دیکھتے اور نہ ہی اپنی غلطیوں اور کوتھاہیوں کو سدھارنے کا سوچتے ہیں۔ تنقید کرنا کوئی بری بات نہیں لیکن معاشرے کی خرابیوں پر مثبت بحث کے بجائے کسی پر تہمت لگانا، کسی کی قناعت پسندی اور غریبی کا مذاق اُڑانا اور ذاتیات پر اُتر آنا میرے خیال میں صاحب ذوق و قلم کو زیب نہیں دیتا۔  دوسروں کی طرف اُنگلی اُٹھانا ہی ہم پسند کرتے ہیں...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: بدھ, February 13, 2013 - 16:10






اس وقت  پاکستانی قوم ایک افراتفریح کا شکار ہے، اس تنزل مسلسل کے نتیجے میں ہماری بطور قوم شناخت بھی ایک  سوالیہ نشان بن گئی ہے۔  پاکستانی کون ہے؟  کس کو پاکستانی کہا جائے گا؟؟   اصلی پاکستانی کی  کون ہے؟؟ 
جب پاکستان بنا تو  بہت سے لوگ لٹے پٹے ادھر آئے اور مہاجرین کہلائے، بہاری ، کشمیری اور بڑوئے اور جانے کیا کیا، یہ سارے الفاظ ابھی تک ہماری زبان سے محو نہیں ہوئے۔
پاکستانی ،  وہ لوگ جو رہتے، مرتے جیتے  پاکستان میں ہی ہیں، کام بھی ادھر ہی کرتے ہیں اور سیاہ ست بھی، ٹیکس اکثر...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: بدھ, February 13, 2013 - 14:11



چچا غالب ہمارے پسندیدہ چچا ہیں، یہ اردو   شاعری والے مرزا اسداللہ خان غالب  نہی ہیں بلکہ یہ ہمارے پنڈ کے ہیں اور پنجابی  ٹکا کے بولتے ہیں، والد صاحب کے کزن ہیں اور  راجہ غالب سلطان   لکھے جاتے ہیں،   ہمارے یہ چچاجی فل مخولیا  طبیعیت کے ہیں،  اتنے مخولیا کہ ہمارے اسکول کی تفریخ کوئی بھی افراتفریح کہتے،  ہم اسکول کی چھوٹی تفریح کرتے تو کتنی بار انکو باہر بابے لنگے کی دکان کے پاس کھڑے پایا اور اس دن بابا لنگا  ہمیں اور ہمارے درجے کے دیگر پنڈ کے لڑکوں کو  مفت میں  "پھلیاں مکھانے"  دیتا،...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: بدھ, February 13, 2013 - 12:31
مصنف: اس طرف سے
(Mehnat (afsana/kahani
محنت ، توجہ اور لگن ہی واحد شے ہے جوآپ کو آگے بڑھنے میں مدد دے سکتی ہے۔پروفیسر شاہ کے یہ الفاط میری یاداشت سے کبھی محو نہیں ہوئے۔یونیورسٹی میں پہلے لیکچر کے دوران کہے گئے الفاظ مجھے ایسے یاد ہیں جیسے کل کی بات رہی ہو۔محنت ،توجہ اور لگن اور ان سے بہتر ہیں انتھک محنت ،انتھک توجہ اور انتھک لگن۔پروفیسر شاہ ہمارے چئیرمین بھی تھے اور بہت سے لوگوں کے آئیڈیل بھی۔ایک تو وہ عمر ہی ویسی ہوتی ہے جس میں آئیڈیل جیسی فضولیات خود سے پھوٹ پڑتی ہیں اور دوسرا گفتگو اور انداز۔وہ بلا شبہ کسی بھی شخص کو متاثر کر سکتے تھے۔
ہمارا نظامِ تعلیم بذاتِ خود ایک تماشہ ہے۔چودہ سال شجرِ...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: بدھ, February 13, 2013 - 00:34
مصنف: عامر منیر

زندگی کی کھیتی کے لئے باپ کاکردار وہی ہے جو زمین کی کھیتی کے لئے سورج کا کردار ہے۔سورج بظاہر نامہربان اور اپنے آسمان کی بلندیوں پر کھیتی سے بیگانہ معلوم ہوتا ہے۔ ماں نرم رو دریا کی مانند کھیتی کے پہلو بہ پہلو رہتی ہے ، اگر اس کی مشفق اور مہربان آبیاری دل کی زمین کو نرمی اور خنکی سے ہمکنار نہ کرے تو ساری کھیتی چٹخ کر رہ جائے، تاحد نگاہ خشک اور پیاسی دراڑیں زبان نکالے ہانپتی نظر آئیں۔ مگر آخر میں یہ سورج کی جھلسا دینے والی دھوپ ہی ہے جس سے اناج بھرے خوشے اپنی سنہری رنگت مستعار لیتے ہیں، دریا کی کاوشیں اسی دھوپ کے طفیل رنگ لاتی ہیں ۔  اس دھوپ کا مسلسل نصیب رہنا بڑی خوش نصیبی کی...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: منگل, February 12, 2013 - 20:49
مصنف: شعیب صفدر

Shoiab Safdar posted a photo:

Railway Station

ریلوے اسٹیشن

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: منگل, February 12, 2013 - 19:49
ذرائع ابلاغ کی کثرت اقوام کی بلوغت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
کچھ دن پہلے شہرِ پہلواناں میں موجود اپنے علاقائی دفتر کی میٹنگ بُھگتا کے شومعیِ قسمت دن ہوتے ہی فارغ ہوگئے اور ایک عرصے سے بنا  ہوا شکوہ اُتارنے کا سوچا۔ اس شہر میں ہمارے ایک کرم فرما رہتے ہیں جو خطرناک حد تک زندہ دل واقع ہُوئے ہیں اور کافی عرصے کی سگ فروشی و پوشی...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: منگل, February 12, 2013 - 13:52
مصنف: دریچہ
بہت عرصہ پہلے میں نے ایک بلاگ پر یہ پوسٹ پڑھی تھی۔ اسے پڑھ کر مجھے لکھنے والے پر رشک آیا تھا۔ ایسا ہی رشک جو اس وقت آیا کرتا ہے جب آپ  الفاظ کے معاملے میں میرے جیسے غریب ہوں اور کوئی اور اپنے محسوسات کو نہایت خوبصورتی سے الفاظ میں ڈھال دے۔  یہ ایک ماں کا اپنی بیٹی کے نام خط ہے بلکہ میں کہوں گی کہ شاید ہر ماں اور ہر باپ کا اپنی اولاد کے نام خط ہے۔ والدین جن کی محبت بے انت ہے اور سچ تو یہ ہے کہ اس محبت کا حق ادا کیا بھی نہیں جا سکتا۔ میں جب یہ خط پڑھتی ہوں تو مجھے خیال آتا ہے کہ...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: منگل, February 12, 2013 - 12:40


بھیک مانگنے کی مذمت
١۔ ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا ” جو شخص سوال سے بچے اللہ بھی اسے بچائے گا اور جو کوئی (دنیا سے) بے پروائی کرے گا۔ اللہ اسے بے پروا کر دے گا اور جو کوئی کوشش سے صبر کرے گا اللہ اسے صبر دے گا اور صبر سے بہتر اور کشادہ تر کسی کو کوئی نعمت نہیں ملی۔” (بخاری کتاب الزکوٰۃ، باب الاستعفاف عن المسئلہ)
٢۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی رسی اٹھائے اور لکڑی کا گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ جا کر کسی سے سوال کرے اور وہ اسے دے...

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: منگل, February 12, 2013 - 10:13
مصنف: محمد وارث
شیخ سعدی شیرازی  کا ایک خوبصورت قطعہ

گِلے خوش بوئے در حمّام روزےرسید از دستِ مخدومے بہ دستم
ایک دن حمام میں، ایک مہربان کے ہاتھ سے مجھ تک ایک خوشبودار مٹی پہنچی۔
بدو گفتم کہ مشکی یا عبیری
کہ از بوئے دل آویزِ تو مستم

میں نے اس سے کہا کہ تو مشکی ہے یا عبیری (دونوں اعلیٰ خوشبو کی قسمیں ہیں) کہ تیری دل آویز خوشبو سے میں مَیں مست ہوا جاتا ہوں۔

بگفتا من گِلے ناچیز بُودم
و لیکن مدّتے با گُل نشستم

اس نے کہا میں تو ناچیز مٹی تھی لیکن ایک مدت تک گُل کے ساتھ نشست رہی ہے۔
...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: منگل, February 12, 2013 - 00:43

گاندھی جی نے کہا تھا کہ آپ خود وہ تبدیلی بن جائیں جو آپ دنیا میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔

آج صبح میرے دونوں کندھے دکھ رہے تھے۔ وہ اس لئیے کہ کل عائشہ ہماری ذومبا انسٹرکٹر کے ساتھ گھنٹہ بھر وزن اٹھانے والی ایکسرسائز جو کی تھی۔ وہ پابندی سے کلاس دیتی ہے۔ اور کافی ساری خواتین مل کر کریں تو وقت کا اتنا احساس نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ مجھے اس کی میوزک کی چوائس بہت پسند ہے۔ دیسی بدیسی، عربی ، اٹالین اور ترک مکس۔ پچھلے ہفتے تو میں کانفرنس میں کیلفورنیا گئی ہوئی تھی اب ورزش میں دو ہفتہ چھٹی ماریں گے تو کندھوں میں درد تو ہوگا ہی۔
پابندی سے ورزش کرنا صحت کے لئیے نہایت اہم ہے۔ وزن کو مناسب دائرے...

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: سوموار, February 11, 2013 - 23:52
[میری یہ تحریر ڈان اردو کی ویبسائٹ پہ آج یعنی 11 فروری،2013 کو شائع ہوئی۔ ڈان اردو کی ویب سائٹ پہ تحریر کا لنک۔] بچپن میں جب ہم کہانیاں سنتے ہیں تو ہمیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ جب ہم … ← پڑھنا جاری رکھیں
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: سوموار, February 11, 2013 - 21:27
 Valentines Day Special بچپن میں عشق کا تصور نہایت عجیب سا تھا۔ یہ پاگل لوگوں کا کام لگتا تھا، اور ہم سوچتے تھے کہ وہ کونسے عقل سے عاری بیوقوف لوگ ہوتے ہیں جو ان توہمات اور لغویات میں غلطاں … پڑھنا جاری رکھیں→
زمرہ: اردو بلاگ

حلقہ اربابِ ذوق

تاریخ اشاعت: سوموار, February 11, 2013 - 13:56
حلقہ ارباب ذوق اردو ادب کی سب سے فعال تحریکوں میں سے ایک ہے جو کہ ابھی تک جاری و ساری ہے۔ بقول یونس جاوید: ” حلقہ اربابِ ذوق پاکستان کا سب سے پرانا ادبی ادارہ ہے یہ مسلسل کئی برسوں سے اپنی ہفتہ وار مٹینگیں باقاعدگی سے کرتا رہا ہے۔ جنگ کا زمانہ ہویا امن کا دور اس کی کارکردگی میں کبھی فرق نہیں آیا“ ایک اور جگہ یونس جاوید لکھتے ہیں: ” حلقہ اربابِ ذوق ایک آزاد ادبی جمہوری ادارہ ہے اور بحیثیت wahab ijazhttps://plus.google.com/108810020715170166715noreply@blogger.com0
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: اتوار, February 10, 2013 - 22:58

ہمارے ایک استاد صیب ہیں ، پہلے سمیسٹر میں پبلیکیشنز کا کورس پڑھاتے تھے، پبلیکیشن جہاز کی ٹیکنیکل ڈرائنگز، اسکے مینول سے معلومات تلاشنا وغیرہ وغیرہ جیسی چیزوں پر مشتمل ہوتا ہے ،  اس کورس میں میرا ’’اے  پلس ‘‘ آگیا تھا  اسکی وجہ یہ ہے کہ استاد صیب غصے کے بڑے ہیں بلکہ پورے ڈپارٹمنٹ میں انکا غصہ مشہور ہے ، اگر یہ آپ سے سوال پوچھ لیں دورانِ کلاس اور آپکو جواب نہ آتا ہو تو بس پھر اللہ کی رحمت ہی آپکو بچا سکتی ہے ۔ پچھلے دن کلاس میں آئے میرا خیال ہے آنے سے پہلے ہی غصے میں تھے اور شروع ہو گئے ۔

کسی ’’اے ایم او ‘‘ (ائیر کرافٹ مینٹیننس آرگنائیزیشن ) نے کالج کو ای میل بھیجی تھی کسی ایسے طالب...

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: اتوار, February 10, 2013 - 19:43
مصنف: محمد سلیم
خلیل  ایک منفرد شخصیت کا مالک خوبرو نوجوان، جس کی صلاحیتوں پر  کسی کو شک نہیں، مگراپنی اس خامی کہ کسی کام سے جلدی اُکتا جانا، تیس سال کا ہو جانے کے باوجود بھی زندگی کی حقیقی کامیابیوں سے کہیں دور تھا۔ تعلیمی میدان میں ایک کو چھوڑکر دوسرے علم کے پیچھے بھاگتا رہا اور [...]
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: اتوار, February 10, 2013 - 17:30

رات د و بجے اٹریم مال  سے “دا سکائی فال” کا شو دیکھ کر نکلے۔۔۔   بڑے گیٹ سے باہر نکلتے ہی جو پہلا منظر دیکھا۔۔۔   وہ ایک بڑی گاڑی کا تھا، جس کے عقب میں کوئی چھ سات بندوق بردار حضرات بیٹھے کسی کے منتظر تھے۔۔۔ گاڑی کے آگے پیچھے رینجرز کی ایک ایک گاڑی کھڑی تھی۔۔۔   میں اور کاشی ایک سائیڈ پر کھڑے ہو گئے۔۔۔ اور انتظار کرنے لگے کہ معاملہ دیکھیں۔۔۔  کچھ دیر بعد ایک حسین و جمیل جوڑا ہاتھ تھامے مال سے نمودار ہوا اور درمیان میں کھڑی گاڑی میں بیٹھ ، ہارن بجاتے یہ جا اور وہ جا۔۔۔ ہم...

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: اتوار, February 10, 2013 - 12:33
مصنف: وسیم بیگ

میری محدود سوچ کے مطابق
آج کل سارے پاکستانی ٹی وی چینل اور ان پر ہر ایک گھنٹہ بعد محفل سجانے والے زہر لگتے ہیں اس لیے نا چیز بلڈ پریشر بھڑانے کی بجائے آن لائن ایف ایم سننے میں بہتری سمجھتا ہے ایف ایم سننے کے بہت سے فائدے ہیں ایک تو بندا بار بار یہ بولنے سے بچ جاتا ہے کے ، مارو آدے منہ تے کوئی شے ، اور دوسرا فائدہ جو میری نظر سے گزرا وہ یہ کہ وہ لڑکیاں جو بیچاری گھروں میں بیٹھی رہتی تھیں اور ماں باپ کے ڈر سے کسی غیر مرد سے بات...

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: اتوار, February 10, 2013 - 09:47

بچپن کی خوراک اور مستقبل کی صحت
girl with a book painting by Isha

میٹابولک سنڈروم میں...

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: اتوار, February 10, 2013 - 03:08
مصنف: ڈفرستان
ایک دوست کے دفتر (جہاں میں ایک ناکام اینڈ رزلٹ والا کامیاب انٹرویو دے چکا تھا) گیا تو کیفے ٹائپ کمرے میں انتظار کے لئے بٹھا دیا گیا۔ سامنے پڑے میز سے اخبار اٹھایا اور پڑھنے لگا۔ دوست کے آنے پر ہونے والا مکالمہ
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: سنیچر, February 9, 2013 - 16:44
مصنف: غلام عباس

1-MDI-MiniFlowAIRCNG “کمپریسڈ نیچرل گیس” کا مخفف ہے۔ یعنی دباؤ کے تحت بھری گئی قدرتی گیس۔ قدرتی گیس (Methane) کو گاڑیوں میں بطور ایندھن استعمال کرنے کے لیے ہائی پریشر کے ساتھ گاڑی میں لگے مضبوط سیلنڈر میں بھرا جاتا ہے۔ گیس...

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: سنیچر, February 9, 2013 - 09:27

Haleem

 

 

 

 

 

 

 

 

دالیں دنیا کے صحت مند ترین کھانوں میں سے ہیں۔ آجکل زیادہ سے زیادہ خواتین خود اپنے کیریئر ز پر کام کررہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وقت کم ہوتا ہے اور...

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعہ, February 8, 2013 - 23:24

بھولا چھٹی کے وقت دفتر سے گھر جانے کیلیے نکلا۔ تھوڑے ہی فاصلے پر اسے ایک آدمی نے رکنے کا اشارہ کیا اور لفٹ مانگی۔ آدمی حلیے سے پڑھا لکھا اور معزز معلوم ہوتا تھا لہٰذا اس نے اسے اپنے ساتھ موٹر سائیکل پر بٹھا لیا۔
“کیوں نہ میں آپ کو ایک سبق آموز قصہ سناؤں؟ وقت اچھا کٹ جائے گا”۔ معزز آدمی نے رستے میں پوچھا
“ضرور”۔ بھولا خوش اخلاقی سے بولا
“ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی شجر کی ٹہنی پر ایک بلبل اداس بیٹھا تھا۔ وہ سارا دن کھاتا پیتا اور گانا گاتا رہا تھا...

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعہ, February 8, 2013 - 21:12
مصنف: شعیب صفدر
لاہور کی ایک میں نماز ظہر کی فرض رکعاتیں کے بعد نمازی بقایا نماز کی ادائیگی کر رہے تھے کہ مسجد کےء باہر اچانک فائرنگ شروع ہو گئی! تمام نمازی جان بچانے کو مسجد میں لیٹ گئے۔ چند ایک راہ گیر جان بچانے کو مسجد کے اندر کو دوڑے۔ مگر ایک قریب چالیس سے اوپر عمر کا بندہ مکمل طور پر نماز کی ادائیگی میں مصروف رہا تمام افراد اُس کی اس حالت پر رشک کر رہے تھے کہ کیا اللہ کا بندہ ہے اس حالت میں بھی اپنی نماز میں مگن ہے!! جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو ایک بندے نے نہایت عقیدت سے دریافت کیا محترم کیا آپ کو معلوم ہے کہ مسجد سے باہر ابھی فائرنگ ہو رہی تھی!! نمازی نے مسکراتے ہوئے اطمینان بخش لہجے میں کہا جی ہاں!...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعہ, February 8, 2013 - 16:26
مصنف: شعیب صفدر
یار لوگوں نے تو قسط وار کہانیاں شروع کر رکھی ہیں!لاہور میں ہونے والی اردو بلاگرز کے اجتماع عام پر!! اردو بلاگرز جنہوں نے اس میں شرکت کی وہ اس اجتماع کو کانفرنس کے نام سے یاد کرتے ہوں گے مگر ہم اسے ساتھی اردو بلاگرز سے ملاقات کا سبب یا بہانہ مانتے ہیں!
یہ کانفرنس ایشین کینڈین جرنلسٹس ایسوسی ایشن (ACJA) کے صدر محسن عباس صاحب نے کروائی تھی! یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ جنوری کی 26 اور 27 کو یہ کانفرنس منعقد ہوئی اور ٹھیک جب تمام اردو بلاگرز اپنے گھروں کو پہنچے ایشین کینڈین جرنلسٹس ایسوسی ایشن (ACJA) کی ویب سائیٹ انٹرنیٹ کی دنیا سے غائب ہو گئی!! البتہ...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, February 7, 2013 - 21:47
مصنف: شعیب صفدر

Shoiab Safdar posted a photo:

Sun in trees

صبح کا سورج درختوں کے درمیاں

زمرہ: اردو بلاگ

Pages

Subscribe to بلاگستان فیڈز