بلاگستان

تاریخ اشاعت: اتوار, November 18, 2012 - 12:54
مصنف: محمد سلیم
معاشرے میں کچھ لوگ تو بس یہی سوچ کر ہی پرے بیٹھ رہتے ہیں کہ بھلا  وہ دین کی کیا خدمت کر سکتے ہیں؟ ان کے مطابق یہ بہت ضروری ہوتا ہے کہ ان کی لمبی سی داڑھی ہو، شلوار ٹخنوں سے اوپر، قرآن شریف اگر پوارا نہیں تو کچھ تو ضرور حفظ ہو، پانچوں [...]
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: اتوار, November 18, 2012 - 11:59
مصنف: عمرانیات
...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: اتوار, November 18, 2012 - 11:32
ہاں واقعی ہم اب وہ نہیں رہے جو بحثیت مسلمان ہم کو ہونا چاہیےتھا اور رہیں بھی کیسے .. کیونکہ کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں اس ماحول کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے جس میں وہ رہ رہا ہوتا ہے.. اسی لئے اگر تمام انبیاء علیہ صلوۃ سلام کی زندگیوں کا مطالعہ کیا جائے تو کم و بیش تمام انبیاء نے بکریاں چرائیں ہیں اور بکریاں چروانے کا مقصد یہی تھا کہ انکے اندر مسکنت پیدا ہو ... یہ بھی سنا ہے کہ شیر کی صرف کھال کے اپر بیٹھنے سے انسان کے اندر تکبر پیدا ہوتا ہے. یہ بات صرف اس لئے لکھی ہے کہ ہم کو اندازہ ہو سکے کہ انسان کی زندگی میں ماحول کے کیا اثرات ہوتے ہیں...

ویسے تو یہ بات بحیثیت مسلمان ہر شخص جانتا...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: اتوار, November 18, 2012 - 10:48

ایک زمین۔۔۔دو شاعر(فراق گورکھپوری، محسن نقوی)۔۔۔دو غزلیں

رگھو پتی سہائے فراقؔ گورکھپوری کی غزل:

دیکھ محبت کا یہ عالمساز بھی کم کم، سوز بھی کم کم
یہ شیرازۂ دل کا ہے عالمیکجا یکجا، برہم برہم
حسن گلستاں شعلہ و شبنمسوزاں سوزاں، پرنم پرنم
ساکت ساکت شورش عالمدل...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: اتوار, November 18, 2012 - 08:55

میرے نانا ابو(جن کو ہم سے بچھڑے 22 برس بیت گئے ہیں) کی کتابوں کے ذخیرے  سے 1969ء کا سیارہ ڈائجسٹ ملا۔ زیادہ خوشی کی بات یہ تھی وہ "قرآن نمبر" تھا۔ میرے لئے ایک بہت ہی نایاب اور قیمتی چیز تھی۔ اس ڈائجسٹ میں سے کچھ تحاریر اپنے بلاگ پہ بھی شئیر کروں گا۔ لہٰذا اس سلسلے کی پہلی تحریر کے ساتھ حاضر ہوں۔
قرآن سے میرا تعلق:
جناب احمد ندیم قاسمی صاحب:-میں نے تعلیم کا آغاز ہی قرآن مجید سے کیا۔ چار برس کی عمر تھی جب گاؤں کی مسجد میں درس لینا شروع کیا۔ ابتدائی پانچ پارے پڑھے تھے کہ یہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔ پرائمری تعلیم کے بعد جب مڈل میں داخلے کے لئے اپنے سر پرست چچا کے ہاں پہنچا تو...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: سنیچر, November 17, 2012 - 12:31
اس لنک پر ایک کلک آپ کو میرے نئے بلاگ پر لے جائے گا۔ بس ایک کلک !۔
ہرخبر پر نظر
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: سنیچر, November 17, 2012 - 10:41
مصنف: محمد وارث
رموزِ عشق و محبّت تمام جانتا ہوں
حسین ابنِ علی کو امام جانتا ہوں

انہی کے در کو سمجھتا ہوں محورِ مقصود
انہی کے گھر کو میں دارالسّلام جانتا ہوں

میں ان کی راہ کا ہوں ایک ذرۂ ناچیز
کہوں یہ کیسے کہ ان کا مقام جانتا ہوں

مجھے امام نے سمجھائے ہیں نکاتِ حیات
سوادِ کفر میں جینا حرام جانتا ہوں

نگاہ کیوں ہے مری ظاہری وسائل پر
جو خود کو آلِ نبی کا غلام جانتا ہوں
...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: سنیچر, November 17, 2012 - 05:31
مصنف: سعدیہ سحر




اسے ماں نے بڑی منتوں مرادوں سے مانگا تھا
میرا چاند میرا پیارا کہہ کر پکارا تھا
وہ ننھا فرشتہ سب کی آنکھوں کا تارا تھا
جس کو دیکھ کر ھزار خواب
ماں کی آنکھوں میں جاگے تھے
کرے گا سب کا نام روشن
ملک و ملت کے لیے کئ کام کرنے ھیں
ھوگا امن کا پاسباں
بنے گا سچا مسلم
ھر روز نئے...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: سنیچر, November 17, 2012 - 00:58
مصنف: یاز غل
ایک جگہ پہ ایک باز اور ایک مرغ اکٹھے بیٹھے تھے۔ باز مرغ سے کہنے لگا کہ میں نے تیرے جیسا بے وفا پرندہ نہیں دیکھا۔ تو ایک انڈے میں بند تھا۔ تیرے مالک نے اس وقت سے تیری حفاظت اور خاطر خدمت کی، تجھے زمانے کے سرد و گرم سے بچایا۔ جب تو چوزہ تھا تو تجھے اپنے ہاتھوں سے دانہ کھلایا اور اب تو اسی مالک سے بھاگا پھرتا ہے۔
مجھے دیکھ، میں آزاد پرندہ تھا، میرے مالک نے مجھے پکڑا تو سخت قیدو بند میں بھوکا پیاسا رہا، مالک نے بہت سختیاں کیں لیکن جب بھی مالک شکار کے پیچھے چھوڑتا ہے تو شکار کو پکڑ کر اسی مالک کے پاس ہی لاتا ہوں۔
مرغ کہنے لگا۔ "تیرا اندازِ بیان شاندار ہے اور تیری دلیل میں بہت...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعہ, November 16, 2012 - 19:42
مصنف: حرف دعا
ڈاکٹر طارق محمود صاحب نے اس بار کے درس میں کہا تھا کہ اللہ کو اپنی مشکلات کے

حل کل لئے درخواست دیں-
اسکا طریقہ یہ ہے کہ چار خانوں والی کاپی جس پر سکول میں چھوٹے بچوں کو حساب کی گنتی لکھنے کی مشق کر وائ جاتی ھے اس کی ایک کاپی خرید لیں-اس کاپی کہ ہر اک خانے میں یااللہ لکھیں-
ایک صحفہ, دو صحفے روز یا...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعہ, November 16, 2012 - 12:36
اپنی ڈائری سے ۔۔۔۔
(یہ تحریر  06/11/2006 کی ہے آج اتفاقاً اپنی  پرانی تحریر پر نظر پڑی تو و دلچسپی کے لحاظ سے سوچا  یہ مزیدار تحریر یہاں  پوسٹ کروں۔ )
رات میں ڈاکٹر سیف ا لدین کے یہاں RMO  کے فرائض انجام دے رہا ہوں۔ ہاسپٹل میں زیادہ  IPD  ہوتی نہیں ہے محض کوئی بھولا بھٹکا Emergency Case  آ ئے تو وہاں اپنی قابلیت کے جوہر دکھانے پڑتے ہیں اور پھر آرام سے سونا !!کل رات میں سونے کی کوشش کر رہا تھا کہ اچانک کال بیل کی آواز سے لاحول پڑھتا ہوا اٹھا ۔ ۔ ۔ Emergency  میں جا کر دیکھا تو ایک حسینہ میک اپ میں لدی پھندی ، کہنیوں تک مہندی سجائے ہوئے...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, November 15, 2012 - 19:23

حکیم سید ضامن علی جلالؔ
جلالؔ 1834ء میں پیدا ہوئے اور 1907ء میں وفات پائی۔جلال کا کلام بہت مستند اور قابلِ قدر ہے۔ غزلیں بہت لطیف اور دلآویز ہوتی ہیں۔ عاشقانہ رنگ غالب ہے اور کلام میں جذبات کی آمیزش ہے۔ ان کی اکثر غزلیں لطافتِ بیان، نزاکتِ خیال، درد و اثر اور سوز و گداز کا اعلیٰ نمونہ کہی جا سکتی ہیں۔چنانچہ خود کہتے ہیں:ـبے ساختہ کی تھام کے دل اس نے جلالؔ آہجس نے مرے دیوان کے اشعار کو دیکھااور اس کا اظہار ان کے کلام سے بھی ہوتا ہےاسیرِ قفس اب تو ہیں ہم صفیروکبھی لوگ کہتے تھے مرغِ چمن بھی
آنسو رُکے تو کیا، نہیں چھپنے کا رازِ عشقحسرت ٹپک پڑے کی ہماری نگاہ سے
کیا تھی کسی کی...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, November 15, 2012 - 16:54
مصنف: اس طرف سے
Nae Dunya
 نئے اڈے پر اتر کر روٹ 721 والی بس میں بیٹھ جائیں اور جہاں اسکا آخری سٹاپ ہے وہاں اتر کر دن چڑھنے والی طرف  چھوٹی کچی سڑک پر چلنا شروع کر دیں تو وہ تقریباً پندرہ بیگھے آگے جا کر پکی سڑک سے مل جاتی ہے جو سیدھا ہماری بستی آتی ہے۔راستہ بھی بڑے بند سے ادھر کا ہے اور بستی کا نام بھی چور پور ہے لیکن اس کے باوجود آپ جب بھی آئیں بے فکر ہو کر آئیں کوئی خطرے والی بات نہیں،نہ کوئی چور ہے نہ کوئی ڈاکو ہے۔حالانکہ کمیٹی صدر میں درخواست دی ہے کہ بستی کا نام تبدیل کیا جائے لیکن آپ تو پڑھے لکھے ہیں آپ کو تو پتہ ہے کہ سرکار کو اور بھی بہت سے کام نمٹانے ہیں لہذا یہ مسئلہ ابھی تک مسئلے کی...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, November 15, 2012 - 12:43
مصنف: محمد وارث
مئےِ دیرینہ و معشوقِ جواں چیزے نیست
پیشِ صاحب نَظَراں حور و جَناں چیزے نیست

پرانی شراب اور جوان معشوق کوئی چیز نہیں ہے، صاحبِ نظر کے سامنے حور اور جنت کچھ بھی نہیں ہے۔

دانَشِ مغربیاں، فلسفۂ مشرقیاں
ہمہ بتخانہ و در طوفِ بتاں چیزے نیست

مغرب والوں کی (عقل و) دانش اور مشرق والوں کا فلسفہ، یہ سب بُتخانے ہیں اور بتوں کے طواف میں کچھ بھی نہیں ہے۔

(علامہ اقبال)
---

بہ سوئے کعبہ راہ بسیار است
من ز دریا روَم، تو از خشکی

(قاآنی شیرازی)

کعبہ کی طرف بہت سے راستے جاتے...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, November 15, 2012 - 08:44

Read Online


[7 M]


By  Hazrat Maulana Muhammad Ismail Saheb Sambhali (DB)


Download

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, November 15, 2012 - 03:11
یاسر پیرزادہ کا شمار  میں ان کالم نگاروں میں کرتا ہوں جنہیں انکی صحافتی اورعلمی بدیانتیوں کی وجہ سے پڑھنا میرے لیے کسی اذیت سے کم نہیں ہوتا۔ یاسر پیرزادہ آئے دن وارداتیں کرتے رہتے ہیں۔ انکی تازہ واردات عافیہ صدیقی اور ملالہ یوسف زئی کا تقابل ہے جو انہوں نے آج کے روزنامہ جنگ […]
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: بدھ, November 14, 2012 - 09:20

Read Online


[5 M]


By Shaykh Muhammad Najeeb Sambhali Qasmi (DB)


Download

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: بدھ, November 14, 2012 - 00:19
مصنف: یاز غل
آج کے اخبار کی شہ سرخی کافی چونکا دینے والی ہے۔ سب سے پہلے خبر دیکھئے، جو آج یعنی ۱۳ نومبر کے جنگ اخبار کی ہے۔ Quote: کراچی (جنگ نیوز) امریکی قانون عوام کو آزادی کا حق دیتا ہے۔ حکومت کی غلط پالیسیوں سے متاثرہ افراد کا گروہ جب چاہے اپنے لیے علیحدہ ریاست قائم کرنے کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ اپنے اسی حق کو استعمال کرتے ہوئے 50میں سے 20 امریکی ریاستوں کے شہریوں نے متحدہ امریکا سے علیحدگی کا مطالبہ کردیا۔ اس سلسلے میں پہل لوزیانا نے کی اور بعد ازاں ٹیکساس، الاباما، آرکانساس، کولوراڈو، فلوریڈا، جارجیا، انڈیانا، کینٹکی،مشی گن، مسی سیپی، میسوری، مونٹانا، نیوجرسی، نیویارک، شمالی کیرولینا،شمالی...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: منگل, November 13, 2012 - 16:50

برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیسسٹرکے سائنسدانوں نے تصدیق کر دی :حکیم قاضی ایم اے خالد

لاہور13نومبر:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان کے زیر اہتمام ''ذیابیطس اورنباتاتی ادویات''کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں کونسل کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے اس امر کا انکشاف کیا کہ ذیابیطس...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: منگل, November 13, 2012 - 02:11
مصنف: یاز غل
 خارو خس تو اٹھیں راستہ تو چلے
میں اگر تھک گیا قافلہ تو چلے

چاند سورج بزرگوں کے نقش قدم
خیر بجھنے دو ان کو ھوا تو چلے

حاکم شہر، یہ بھی کوئی شہر ھے
مسجدیں بند ہیں، میکدہ تو چلے

اس کو مذہب کہو یا سیاست کہو
خودکشی کا ہنر تم سکھا تو چلے

اتنی لاشیں میں کیسے اٹھا پاؤں گا
آپ اینٹوں کی حرمت بچا تو چلے

بیلچے لاؤ کھولو زمیں کی تہیں
میں کہاں دفن ھوں پتہ تو چلے
(کیفی اعظمی)۔
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: منگل, November 13, 2012 - 00:31

سلیم کوثر شہرِ کراچی کے معروف شاعر ہیں اور اپنا منفرد اسلوب رکھتے ہیں۔  اُن کی شاعری  گہری فکر اور  بسیط خیالات  پر مبنی ہے۔ سلیم کوثر کی شاعری اثر انگیزی  اور غنائیت کا حسین امتزاج ہے یوں تو غزل ہی  سلیم کوثر کی پہچان ہے لیکن اُن کے ہاں نظم بھی بڑے سلیقے سے کہی گئی ہے۔  
آج اُن کے شعری مجموعے "محبت اک شجر ہے" سے دو خوبصورت غزلیں  آپ کی  نظر۔

دل تجھے ناز ہے جس شخص کی دلداری پردیکھ اب وہ بھی اُتر آیا اداکاری پر
میں نے دشمن کو جگایا تو بہت تھا لیکناحتجاجاً نہیں جاگا مری بیداری پر
آدمی، آدمی کو کھائے چلا جاتا ہےکچھ تو...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: سوموار, November 12, 2012 - 16:47
مصنف: کاشف نصیر
دروازے کے ساتھ بندھے کتے کو شاید یہ جاننے میں زیادہ دیر نہیں لگی کہ دستک کس نے دی ہے اس لئے اس نے اپنی پوری قوت کے ساتھ بھونکنا شروع کردیا تھا، ہلکے زرد رنگ اور سیاہ چہرے والے اس کتے سے یہ ہماری پہلی براہ راست ملاقات تھی، اس سے قبل ہم نے […]
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: اتوار, November 11, 2012 - 22:11
مصنف: محمد اسد

حج کے دوران وادی منی میں تین شیطانوں کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ اس عمل کو رمی کہتے ہیں کہ جو 10، 11 اور 12 ذی الحجہ کو ادا کیا جاتا ہے۔ عازمین حج کی جانب سے شیطان کو ماری جانے والی کنکریوں کا حجم چنے کے برابر ہونا کافی ہے۔ لیکن چونکہ لفظ شیطان سے ہمیں شدید دائمی نفرت ہے اس لیے بعض لوگ رمی کے دوران شدید غصہ کی سی کیفیت میں بڑے پتھروں کے علاوہ جوتیوں اور چپلوں تک کے استعمال سے گریز نہیں کرتے۔ نیز زبان سے بھی وہ نہ صرف شیطان بلکہ اس کے رشتہ داروں کو بھی ایسے القابات سے نوازتے ہیں کہ الامان فی الحفیظ۔ اس طرح ایک قدرے...

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: اتوار, November 11, 2012 - 18:10
مصنف: وسیم بیگ

لڑکیوں کے چکر میں نہ پڑنا. یہ آتی ھیں ھیر کی طرح. لگتی ھیں کھیر کی طرح. چبھتی ھیں تیر کی طرح. اور حالت بنا دیتی ھیں فقیر کی طرح. ایسا ہی کچھ ہوا سی آئی اے کے سربراہ ڈیوڈ پیٹریاس کے ساتھ بھی ان صاحب کوبھی زلفوں کا اسیر ہونے کی بھاری قیمت چکانی پڑی اور وہ اپنے عہدے سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ انہیں عشق کے اس انجام تک پہنچانے والی خاتون کوئی اور نہیں بلکہ ان کی سوانح عمری لکھنے والی امریکی صحافی اور دو بچوں کی ماں ہیں۔ کتابی چہرے اور تیکھے...

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: اتوار, November 11, 2012 - 17:35

چونکہ ہم مسلمانوں کے گھر پیدا ہوئے ، لہذا جبری مسلمان قرار پائے۔  جبری یوں  کہ، پیدا ہوئے اور دادا جی نے کان میں اذان انڈیل دی۔ کہ چل بیٹا  ساری زندگی مولبیوں کو سنتا رہ، بولنے کے قابل ہوئے تو  انہوں نے کلمہ پڑھادیا ، مطلب پکا مسلمان،  اور ہم نہ جانتے ہوئے بھی   "کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے اور محمد اللہ   کے رسول  ہیں"۔  ہم کہتے رہتے اور دادا جی خوش ہوتے رہتے،  چلنے کے قابل ہوئے تو انہوں نے ایک ہاتھ میں اپنی لاٹھی لی  اور دوسرے میں میراہاتھ تھامے مسجد لےگئے۔   لو جی پکے مسلمان۔  پھر اسکول میں  بھیجنے...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: اتوار, November 11, 2012 - 14:28
مصنف: ساحل

رات ہوگئی ہے ، اب میں اپنے سسٹم کے سامنے بیٹھا منتشر خیالات کے بے لگام گھوڑے دوڑا رہاہوں ، سوچ رہاتھا  اپنے "نومولود بلاگ "کے لیے کچھ سطور لکھوں مگر دل ودماغ پر آج کوئٹہ شہر کے صورتحال کی پرچھائیاں پڑی ہوئی ہیں اور انہیں واقعات کی فلم ذہن میں چل رہی ہے ۔ اس کے علاوہ کچھ اور ذہن میں آتا ہی نہیں ۔ ہوا یہ کہ آج شارع اقبال پر رکشہ جیسے ہی مڑا سامنے بازار سارا بند نظر آیا ، لوگوں میں خوف اور بے اطمینانی نظر آرہی تھی ۔ بلدیہ پلازہ اور لیاقت بازار سارا بند پڑاتھا ۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ اب سے کچھ دیر قبل یہاں منان چوک پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 3افراد قتل جبکہ ایک شدید زخمی ہوگیا ۔...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: سنیچر, November 10, 2012 - 15:46
میرؔ کی عظمت کا اعتراف اساتذہ کی زبان سے:
سوداؔ:مرزا سوداؔ جو میرؔ صاحب کے ہمعصر اور مدِّ مقابل تھے، کہتے ہیںسوداؔ تو اس غزل کو غزل در غزل ہی لکھہونا ہے تجھ کو میرؔ سے استاد کی طرح
ناسخ:شیخ ناسخؔ جو اپنی تنک مزاجی اور بد دماغی کے لئے مشہور ہیں، کہتے ہیںشبہ ناسخؔ نہیں کچھ میرؔ کی استادی میںآپ بے بہرہ ہے جو معتقدِ میرؔ نہیںاس کے لئے ناسخؔ نے میرؔ کی تاریخِ وفات کہی:"واویلا مرد شۂِ شاعراں"اس میں بھی انہوں نے میرؔ کی عظمت کا اعتراف "شہ شاعراں" کہہ کر کیا ہے۔
غالبؔ:مرزا غالبؔ ناسخؔ کی اس رائے کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیںغالبؔ اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخؔآپ بے بہرہ ہے جو معتقدِ میرؔ...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: سنیچر, November 10, 2012 - 12:56

 اردو بلاگنگ کیسے کریں ؟
(یہ پوسٹ ان ہندستانی بھائیوں کے لیے تحریر کی گئی  ہے جو اردو بلاگنگ تو کرنا چاہتے ہیں لیکن اس بات سے واقف نہیں ہے کہ بلاگنگ کیسے کی جاتی ہے )
آج کل اردو بلاگنگ کا رجحان زور پکڑ رہا ہے ۔ اردو بلاگنگ پہلے پاکستان تک ہی محدود تھی لیکن اب وقت کے ساتھ ساتھ ہندوستانی اردوداں حضرات بھی اردو بلاگنگ میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔ اکثر احباب کے ساتھ میرا اردو بلاگنگ کے موضوع پر تبادلہ خیال ہوتا رہتا ہے اور بہت سارے لوگ یہ کہتے  ہیں کہ ہم  کمپیوٹر اور بلاگنگ کی باریکیوں سے واقف نہیں  ہیں اس لیے  بلاگنگ  نہیں کر پاتے۔
جہاں تک...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: سنیچر, November 10, 2012 - 01:08
مصنف: یاز غل
 انسانمنظر چمنستاں کے زيبا ہوں کہ نازيبا
محرومِ عمل نرگس مجبورِ تماشا ہے
رفتار کي لذت کا احساس نہيں اس کو
فطرت ہي صنوبر کي محروم تمنا ہے
تسليم کي خوگر ہے جو چيز ہے دنيا ميں
انسان کي ہر قوت سرگرم تقاضا ہے...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعہ, November 9, 2012 - 22:51
علامہ محمداقبال کے یومِ ولادت پر ہم انھیں خراجِ تحسین پیش کرنے کی خاطر انکی بچوں کے کہی گئی نظموں کا ذکر کریں گے اس سے پہلے ہم انکی غزلیات پر بات کر چکے ہیں۔ ان کی یہ نظمیں اتنی سادہ اور پر اثر ہیں کہ ایک بار پڑھنےپر خودبخود یاد ہو جاتی ہیں۔ ' بچے کی دعا' ہو یا 'ایک مکڑا اور مکھی'، 'ہمدردی ' ہو یا 'ایک پہاڑ اور گلہری'، سب کی سب نظمیں شاعری کے اعتبار سے شاہکار ہیں۔ ' ترانہ ہندی' گو کہ اس وقت کے ایم۔اے۔امینhttp://www.blogger.com/profile/04425754577499948453noreply@blogger.com4http://bayaadesydney....
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعہ, November 9, 2012 - 18:36
مصنف: کاشف نصیر
اردو اور مقامی زبانوں کے ساتھ ہمارا رویہ بحیثیت قوم انتہائی افسوس ناک ہے، ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ اردو لکھنے اور پڑھنے کو قدامت پرستی یا اوڈ سمجھتا ہے اور انگریزی کے پیچھے بھاگتا چلاجارہا ہے۔ہم نے اپنے ارد گرد ایسے سینکڑوں پڑھے لکھے یا خواندہ لوگ دیکھے ہیں جنکی انگریزی سن کر یا پڑھ […]
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعہ, November 9, 2012 - 17:42
مصنف: اس طرف سے
Murgho ki lrai ka ankho dekha haal
اگر آپ نے مرغوں کی لڑائی کبھی نہیں دیکھی تو کسی اچھی ریٹنگ والے میزبان کا سیاسی ٹاک شو دیکھ لیں انیس بیس کا ہی فرق ہوتا ہے۔البتہ ہم نہ صرف سیاسی ٹاک شو بھی دیکھ چکے ہیں بلکہ مرغوں کی لڑائی کے چشم دید بھی ہیں تو تماشبینی کا حال درج ذیل ہے۔
 گاؤں میں رہنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپکو اکثر غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملتا رہتا ہے جو شہر میں رہتے ہوئے تقریباً ناممکن ہے۔مثلاً کتوں اور ریچھوں کی لڑائی، مرغوں کی لڑائی، تاش اور جوا، سیہ کا شکار ،سور کا شکار وغیرہ وغیرہ-ویسے تو ہم نصابی و غیرنصابی دونوں طرح کی سرگرمیوں سے پرھیز کرتے ہیں...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعہ, November 9, 2012 - 16:11
مصنف: غلام عباس

علامہ اقبال کا نام لیتے ہی جو پہلا خیال ہمارے ذہن میں آتا ہے وہ یہی ہے کہ وہ ایک بہت بڑے شاعر تھے۔ لیکن یہ خیال تب تک نامکمل ہی رہتا ہے جب تک ہم یہ نہیں سوچ لیتے کہ اقبال صرف ایک بڑے شاعر ہی نہیں تھے، بلکہ وہ ایک بہت بڑے مفکر بھی تھے۔ شاعر حساس لوگ ہوتے ہیں۔ جو وہ محسوس کرتے ہیں اسے شاعرانہ فنکاری کے ساتھ بیان کر دیتے ہیں۔ لیکن اقبال جس گہرائی کے ساتھ محسوس کرتے تھے اس سے کہیں گہرائی کے ساتھ سوچ بھی سکتے تھے۔ ان کا کلام پڑھ کر بعض اوقات یوں لگتا ہے جیسے اقبال کے افکار ان کی شاعرانہ فنکاری سے کہیں اہم ہیں۔

ایک مفکر کی حیثیت سے اقبال نے زندگی کا جو فلسفہ پیش کیا ہے اس میں انسان کی...

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعہ, November 9, 2012 - 13:07
اقبال کا فلسفہء خودی اقبال کا پیغام یا فلسفہ حیات کیا ہے اگر چاہیں تو اس کے جواب میں صرف ایک لفظ ”خودی“ کہہ سکتے ہیں اس لئے کہ یہی ان کی فکر و نظر کے جملہ مباحث کا محور ہے اور انہوں نے اپنے پیغام یا فلسفہ حیات کو اسی نام سے موسوم کیا ہے۔ اس محور تک اقبال کی رسائی ذات و کائنات کے بارے میں بعض سوالوں کے جوابات کی تلاش میں ہوئی ہے۔ انسان کیا ہے؟ کائنات اور اس کی اصل کیا ہے؟ آیا یہ فی الواقع سید آصف جلالhttps://plus.google.com/113781109449463292573noreply@blogger.com
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, November 8, 2012 - 01:24
مصنف: یاز غل
بات میٹھی ہو یا کڑوی ہو، علم ہو جانے میں زیادہ حرج نہیں ہے۔ کیونکہ بہرحال جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر نہیں ہو سکتے۔ اسی چیز کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس بلاگ کو شیئر کر رہا ہوں۔ ویسے یہ کچھ ایسی نئی بات یا بریکنگ نیوز نہیں ہے، بہت سے دوستوں نے اس بابت سنا یا پڑھا ہو گا۔ تاہم اس کو اس لئے بھی شیئر کر رہا ہوں کہ شاید اگلے کچھ بلاگز میں اس کا ذکر یا حوالہ دینا پڑے۔

خیر قصہ یوں ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد نے اردو صحافت کی مشہور شخصیت آغا شورش کاشمیری کو 1946 میں ایک انٹرویو دیا تھا۔ یہ انٹرویو شورش کاشمیری صاحب کی کتاب "ابو الکلام آزاد' میں چھپا تھا۔
نومبر 2009 میں برطانیہ کے...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, November 8, 2012 - 01:12
مصنف: یاز غل
درج ذیل واقعہ یا حکایت کہیں پہ پڑھی تھی۔ بات مختصر سی ہے، لیکن تاثر بہت سا چھوڑ گئی۔
کہتے ہیں کہ سلطان محمود غزنوی نے اپنے غلام ایاز کو ایک انگوٹھی دی اور کہا کہ اس پر ایک ایسی عبارت تحریر کرو جسے میں اگر خوشی میں دیکھوں تو غمگین ہو جاؤں اور اگر غمی میں دیکھوں تو خوش ہو جاؤں۔

ایاز نے کچھ دن بعد انگوٹھی یہ لکھ کر واپس کر دی کہ "یہ وقت گزر جائے گا"۔
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: بدھ, November 7, 2012 - 20:41

وضاحت کبھی سچائی ثابت نہیں کر سکتی، ندامت کبھی نیم البدل نہیں ہو سکتی.
الفاظ کبھی بھی انسان کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس نہین دلا سکتے.
ہاں! خاموشی مزید تذلیل سے بچا لیتی ہے.
بلکل اسی طرح جیسے، جب تک انسان زندہ رہتا ہے ہر طرف سے طنز بھی برداشت کرتا ہے ، شکایات بھی سنتا ہے، مذاق کا نشانہ بھی بنتا ہے، ہر طرف سے برا بھلا بھی سہتا ہے،
لیکن جب وہ موت کی خاموش وادی میں اتر جاتا ہے تو اس ناختم ہونے والی تذلیل سے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتا ہے.
خاموشی اور موت کا ساتھ بہت قریب کا ہے. خاموشی بھی موت کی سی ہے

~ خلیل جبران ~

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: بدھ, November 7, 2012 - 19:40
Originally published on Dunya News Blog on 7th November 2012 گزرے زمانوں کی بات ہے، ایک گاؤں تھا۔ جس میں لوگ رہا کرتے تھے۔ ہر کلاسیکل کہانی کی طرح اس گاؤں میں بھی ایک چوہدری صاحب کی حویلی تھی، جو فی سبیل … پڑھنا جاری رکھیں→...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: بدھ, November 7, 2012 - 11:17
مصنف: جعفر

السید باراک حسین اوبامہ­ دامت برکاتہم عالیہ  و عالم پناہ کُل مسیحانِ عالم صدر ریاست "ہائے" متحدہ امریکہ (بناصدارتی استثنا والے)
سلام مسنون و گڈ مارننگ وغیرہ
حضورِ والا تبار کی خدمت میں پیشگی مبارکباد کے ساتھ حاضر ہیں۔ اس مبارک موقع پر ہم اپنے شدید مسرت و خوشی کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہنا ضروری   سمجھیں گے کہ ہمیں تو پہلے ہی یقین تھا کہ یہ مُوا، سُوئے کی شکل والا کبھی یہ انتخاب نہیں جیت سکتا۔ آپ کی کرشماتی قیادت و ڈرامہ ء اسامہ سے یہ امر واضح ہوچکا تھا کہ...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: منگل, November 6, 2012 - 22:34
بالآخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور نا امیدی کا اندھیرا چھٹا!
ان شاء اللہ ۹ نومبر ۲۰۱۲ء کو بر صغیر کے پہلے آزاد ترسیمہ جاتی لاہوری نستعلیق فانٹ، القلم تاج نستعلیق، کا اجراء کر دیا جائے گا۔تاج نستعلیق کی ویب سائٹ:http://taj.alqlm.org
اپنی ویب سائٹ کے لیے تاج نستعلیق کا بینر حاصل کرنے کے لیے یہاں تشریف لے جائیں:http://banners.taj.alqlm.org
اور یہ رہا ایک عدد بڑے حجم کا بینر شریف:...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: سوموار, November 5, 2012 - 06:57
پاکستانی معاشرے میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل اتنی تیزی سے اور اتنا واضح ہوچکا ہے کہ اسے دیکھنے اور سمجھنے کے لیے کسی بھی قسم کی ذہانت کی ضرورت نہیں ہر وہ شخص جو اس معاشرے میں رہ رہا ہے وہ اس ٹوٹ پھوٹ اور انحطاط کا بخوبی احساس رکھتا ہے۔ اس معاشرتی انحطاط کے […]
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: اتوار, November 4, 2012 - 13:13
جنسی موضوعات پر قرآن و حدیث کا اسلوب.........ڈاکٹر انیس احمد صحت مند تنقید دین کے فرائض میں سے ایک ذمہ داری ہے۔ الدین نصیحۃ، یہ حدیث مبارکہ اپنی جامعیت کی بنا پر اللہ اور اللہ کے رسولؐ کی اطاعت کے دائرے میں اور حکمرانوں اور دیگر معاصرین کے طرزِفکر اور طرزِعمل کا جائزہ لینے اور جہاں کہیں اصلاح کی ضرورت ہو متوجہ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ میں شکرگزار ہوں کہ عالمی ترجمان القرآن کے ایک فاضل قاری سید آصف جلالhttps://plus.google.com/113781109449463292573noreply@blogger.com
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: سنیچر, November 3, 2012 - 19:20
مصنف: پاکستانی

ایک باپردہ عورت نے فرانس کی ایک سپرمارکیٹ سے خریداری کی اور اس کے بعد وہ عورت پیسوں کی ادائیگی کیلئے لائن میں کھڑی ہو گئی۔ اپنی باری آنے پر وہ چیک آؤٹ کاؤنٹرآئی، جہاں اسے رقم ادا کرنا تھی، وہاں اس نے اپنا سامان ایک ایک کر کے کاؤنٹر پر رکھ دیا۔ چیک آؤٹ پر کھڑی ایک بے پردہ مسلم لڑکی نے اس خاتون کی چیزیں ایک ایک کر کے اٹھائیں، اور ان کی...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعہ, November 2, 2012 - 22:31
مصنف: شعیب صفدر
کیا کسی کو سندھی آتی ہے اگر ہاں تو اس کا ترجمہ کر دے جو یہ خاتون کہہ رہی ہے گالیوں کے علاوہ یعنی اس مرد کا منہ کیونکہ کالا کیا جا رہا ہے؟ اور کیوں سزا دی جا رہی ہے وجہ عنایت کریں!! اور آپ کی کیا رائے ہے کیا اِس کا یہ عمل درست ہے؟ بتانے والے کہتے ہیں کہ یہ میر نادر مگسی (صوبائی ۔اسمبلی کے ممبر) کی بیوی ہے اور اس کا نام راحیلہ ہے مگر ابھی یہ کنفرم نہیں

...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعہ, November 2, 2012 - 17:54
مصنف: حرف دعا
بلیٹن بورڈذ ہمارے ہاں سکولوں میں اساتذہ کو بلیٹن بورڈز کی تیاری ایک محنت طلب عمل لگتی ہے اور یقینا یہ کام محنت طلب ہے بھی ۔اس سلسلے میں پہلا کام تو یہ کہ ہمارے ذہن میں آئیڈیا ہو کہ ہم نے بیس کیا دینی ہے بارڈر کیسا بنانا ہے اس کے بعد ہی ہم اپنا کام شروع کرتے ہیں یہاں کچھ بلیٹن بورڈذ کے آئیڈیاز ہیں ڈھونڈنے والوں کو ان شاء اللہ یہاں سے  کافی آئیڈیاز ملیں گے۔...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, November 1, 2012 - 19:11
گئے وقت میں کسی شاعر کم دانشور نے جب ملکی حالات پر غور کیا تو جو انکشافات ہوئے اس میں ایک روح فرسا انکشاف یہ بھی تھا کہ گلستان کے حالات اب بدل نہیں سکتے کیونکہ یہاں ہر شاخ پر ایک الوّ بیٹھا ہوا ہے۔اس بات سے دوسرے صاحب نے نصیحت انگیز حکایت کی صورت […]
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, November 1, 2012 - 18:00

اے عشق ہمیں برباد نہ کر
اے عشق نہ چھیڑ آ آ کے ہمیں، ہم بھولے ہوؤں کو یاد نہ کرپہلے ہی بہت ناشاد ہیں ہم، تُو اور ہمیں ناشاد نہ کرقسمت کا ستم ہی کم نہیں کچھ، یہ تازہ ستم ایجاد نہ کریوں ظلم نہ کر، بیداد نہ کراے عشق ہمیں برباد نہ کرجس دن سے ملے ہیں دونوں کا، سب چین گیا، آرام گیاچہروں سے بہارِ صبح گئی، آنکھوں سے فروغِ شام گیاہاتھوں سے خوشی کا جام چُھٹا، ہونٹوں سے ہنسی کا نام گیاغمگیں نہ بنا، ناشاد نہ کراے عشق ہمیں برباد نہ کرراتوں کو اٹھ اٹھ کر روتے ہیں، رو رو کے دعائیں کر تے ہیںآنکھوں میں تصور، دل میں خلش، سر دُھنتے ہیں آہیں بھرتے ہیںاے عشق، یہ کیسا روگ...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, November 1, 2012 - 14:14
مصنف: پاکستانی
مغرب کے نام نہاد مفکرین نے مقدونیہ کے الیگزینڈرکو سکندراعظم کا لقب دیا ہے جو تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہے ، اگر تعصب کا عینک ہٹا کرتاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہم یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہوں گے کہ دنیا کا سکندراعظم عمربن خطاب رضى الله عنه  ہے۔ الیگزینڈربادشاہ کا بیٹا تھا، دنیا کے بہترین لوگوں نے اس کوگھوڑسواری سکھائی، جب وہ بیس سال کا ہوا تو اس کو تخت وتاج پیش کیا گیا۔ 23سال کی عمر میں مقدونیہ سے نکلا ۔ ایران، شام، یونان، ترکی اورمصر کو فتح کرتے ہوئے ہندوستان پہنچا ۔ 323قبل مسیح 33سال کی عمرمیں انتقال کرگیا ۔ اس کی فتوحات کا عرصہ دس سال پر محیط ہے، ان دس سالوں میں اس نے 17لاکھ مربع میل کا...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, November 1, 2012 - 12:18
مصنف: محمد وارث
نہ یہ شیشہ، نہ یہ ساغر، نہ یہ پیمانہ بنے
جانِ میخانہ، تری نرگسِ مستانہ بنے

مرتے مرتے نہ کبھی عاقل و فرزانہ بنے
ہوش رکھتا ہو جو انسان تو دیوانہ بنے

پرتوِ رخ کے کرشمے تھے سرِ راہ گذار
ذرّے جو خاک سے اٹھّے، وہ صنم خانہ بنے

موجِ صہبا سے بھی بڑھ کر ہوں ہوا کے جھونکے
ابر یوں جھوم کے چھا جائے کہ میخانہ بنے

کارفرما ہے فقط حُسن کا نیرنگِ کمال
چاہے وہ شمع بنے چاہے وہ پروانہ بنے
...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: بدھ, October 31, 2012 - 16:19
مصنف: جعفر
 یہ ماجرا جہاز سے شروع ہوتا ہے۔ غیر ملکی ائیرلائن کے جہاز میں تل دھرنے  کی جگہ تو تھی پر بندہ دھرنے کی بالکل نہیں تھی۔  لیہ سے لاہور جانے والی نیوخان کی بس کی طرح جہاز  بالکل "فُل" تھا۔ فضائی میزبانوں کی اکثریت مشرق بعید کے خطے سے تعلق رکھتی تھی اور ان کے زیب تن لباس مسافروں کی اکثریت کے لیے بہت ترغیب آمیز تھے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مڈل کلاسیوں کی عمومی اخلاقیات کے عین مطابق خواتین صرف  اپنے خاندان کی قابل عزت ہوتی ہیں، باقی جتنی بھی ہیں وہ سب "حلال" ہیں۔  جہاز کے پرواز بھرنے سے پہلے ہی  ان خواتین کی پریڈ شروع ہوچکی تھی۔ کسی کو پانی چاہیے تھا، کسی کو...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: اتوار, October 28, 2012 - 21:24
پتا کرو انھاں دا خورے مر کھپ گۓ ہون گے مبلیل وی بند پۓ نیں ہن بندا کتھوں کبھ کے لیاوے ۔۔ یہ وہ سپاس نامہ ہے جو تائ نے قصائ کے کھلے دھوکے پر پڑھا ۔۔ آٹھ بجے آپ کے دروازے پر کھڑا ہوں گا کہہ کر جانے والا قصائ بارہ بجے بھی نہیں آیا تو گھر میں سب سے زیادہ وٹ تائ کو ہی چڑھے ، بےچینی بڑھتی جا رہی تھی اور ہماری اس کیفیت کا مزہ صحن میں بندھے بیل نے بھی خوب اچھل کود کر لیا ۔ دن میں ڈٹ کر کھانے کی آس نے صبح کا ناشتہ بھی نہیں کیا بس ہلکی سی ناشتی کی محض ایک پراٹھا اور تین کپ چاۓ ۔۔۔
بارہ تیس پر بھائ کہیں سے دو چھٹانک بھر کے قصائ پکڑ لایا جنھیں دیکھ کر میری ہی کیا یقین ہے بیل کو بھی ہنسی آگئ ہو گی،...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: اتوار, October 28, 2012 - 05:18
چار برس پہلے والد صاحب  اچانک چلتے ہوئے  گرگئے،  تو انہوں نے چھڑی کے ساتھ چلنا شروع کردیا، کوئی بات نہیں، ایک ڈاکٹر کو دکھا ، دوسرے کو بھی، پھر جو لڑکھڑائے تو ، دو چھڑیاں،  اور پھر ، پکڑ کر اور پھر ویل چئیر پر اور پھر بستر پر،  بس پھر  افرا تفری شروع، ایک  ڈاکٹر کو دکھا دوجے کو،  ہماری ایک کزن ڈاکٹر  ہیں انہوں نے بہت ہمت کی اور بہت چیک اپ کروایا مگر انکی صحت بگڑتی ہی چلی گئی۔ آخر کار اس نتیجے پر پہنچے کہ  انکا اعصابی نظام ڈیسٹرائے ہوگیا ہے، اور صبر سے اور ہم سے ہی کچھ برسوں میں بحال ہوگا۔ یہ بات مجھے اپنی ڈاکٹر صاحبہ نے بتائی۔ 
...
زمرہ: اردو بلاگ

کس کے لئے؟؟؟؟؟

تاریخ اشاعت: جمعہ, October 26, 2012 - 16:56
میں بھوکا ہوں ، میں بے گھر ہوں ، یہ ملک بنا ہے کس کے لئے میرا روز جنازہ اٹھتا ہے، میں زندہ ہوں تو کس کے  لئے میں دن بھراپنے پیاروں کی ،لاشوں کے ٹکڑے چنتا ہوں اب اپنی ایسی حالت میں، میں خوشیاں مناؤں کس کے لئے میرے حاکم میرے مرنے پر، خوشیوں کے جشن مناتے ہیں میں اپنے غم اور غصے کو ، سینے میں چھپاؤں کس کے لئے اب تلوے میرے پاؤں کے، کانٹوں سے چھلنی رہتے ہیں میں اس دنیا کی راہوں میں، محمد عبداللہhttps://plus.google.com/102848413842402001777noreply@blogger.com0
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعہ, October 26, 2012 - 13:23

معذرت
میں بلاگ کے معزز سبسکرائبرس  سے معذرت خواہ ہوں کچھ ٹیکنیکل مسائل کی وجہ سے مجھے مکمل بلاگ حذف کرنے کے بعد دوبارہ ایک نئئےسانچے کے ساتھ اپلوڈ کرنا پڑا اب جب بھی میں کسی پرانی تحریر میں نئے سانچے کی وجہ سے کچھ ترمیم کرتا ہوں تو سبسکرائبر س کو نئی پوسٹ کی اطلاع دی جا رہی ہے۔ اسی طرح اردو ویب سیارہ کے ریڈرس سے بھی میں معذرت خواہ ہوں وہاں پر نئی پوسٹس کے متعلق اطلاعات کا سلسلہ نظر آ رہا ہے ۔ امید کرتا ہوں  کہ تکنیکی غلطی کی وجہ سے پیدا ہونے والی اس صورتحال میں مجھے معذور سمجھا جائیگا۔
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, October 25, 2012 - 21:52
مصنف: ساحل

غالب نے کہا تھا:'' شاعر وہ ہے جس کو قطرے میں دجلہ نظر آجائے،جو آنکھ قطرے میں دجلہ نہیں دیکھ سکتی وہ دیدہء بینا نہیں بچوں کاکھیل ہے'' ۔ فیض نے اسی پر گرہ لگائی اور مزید کہا کہ ''شاعر کا کام محض دجلہ دیکھنا نہیں دکھا نا بھی ہے''۔شاعری کا یہ حق ہر دور میں ہر شاعر نے ادا کرنے کی کوشش کی مگر افغانستان کے'' فقیر'' منش طالبان کے'' درویش''صفت شعراء نے یہ حق اس خوبی سے ادا کیا کہ اس کی گونج اب پشتو سے ناواقف ، افغانوں کے طرز فکر سے بے خبر گورے مغربیوں کے دیس میں بھی سنائی دے رہی ہے۔بی بی سی اردو ویب سائٹ پر 17اگست 2012جمعہ کو شائع ہونے والی خبر ملاحظہ کیجیے :''آکسفورڈیونیورسٹی پریس پاکستان نے...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, October 25, 2012 - 21:48
مصنف: ساحل

اقبال نے ایک لافانی مصرعہ کہا تھا :ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات برما کے مظلوم مسلمانوں کا بھی اس کے علاوہ کوئی قصور نہیں کہ وہ اپنے خطے میں کمزور تھے۔ طاقت اور اسلحہ ان کے پاس نہیں تھا ۔ سیاسی لحاظ سے انہیں مضبوط ہونے نہیں دیا گیا تھا ،اور ستم تو یہ کہ وہ لوگ جن کی گذشتہ تین نسلیں بودھسٹوں کی رحم وکرم پر ہیں اور صبح شام ان کے مظالم سہہ رہے ہیں ایسے خطے کے بارے میں مکمل معلومات آج تک دنیا کے مسلمانوں کو نہیں پہنچیں ۔ اظہار رائے کی آزادی جو اس جمہوری دور میں ہر انسان کا بنیادی حق ہے برما کے مسلمانوں کو اس سے بھی محروم رکھا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی مظلومیت کی تاریخ سے تفصیلی طور...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, October 25, 2012 - 02:28
مصنف: وسیم بیگ

دوست بلاگر عنیقہ ناز روڈ ایکسیڈنٹ میں انتقال کر گئی اور سارے اردو بلاگستان کو اداس کر گئی
انا للہ وانا الیہ راجعون
بہنا تم مجھے یاد رہو گی اس آنسو کے حوالے سے جو آج تمہارے جانے کے خبر سن کر میری آنکھ سے بے اختیار بھہ نکلا نہ جانے میرا دل یہ بات تسلیم کرنے کو کیوں تیار نہیں دل کہتا ہے کاش یہ جھوٹ ہو کاش ابھی آپ  میرے بلاگ پر آ جاؤ اور  میری ...

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, October 25, 2012 - 01:55

موت کا وقت مقرر ہے اس کو آنا ہے وہ آ کر رہئے گی ۔ کبھی کوئی تو کبھی کوئی ۔ زندگی دیکھتے ہی دیکھتے موت کی آغوش میں چھپ جاتی ہے ۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ۔۔۔ہم بے بس دیکھتے رہ جاتے ہیں ۔ دنیا کا کام چلتا ہے چلتا رہے گا ، مرنے والے کے ساتھ کوئی نہیں مرا ۔ ہاں افسوس جانے والی پر ہے کہ وہ اتنی جلدی کیوں چلی گئی ۔۔عنیقہ ناز اتنے جلدی جانے کے دن نہ تھے ۔ لیکن شاہد اللہ کو یہی منظور تھا ۔۔۔ اپنے ایک قابل ساتھی کے جانے کا بہت افسوس اور دکھ ہے ۔۔...

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: بدھ, October 24, 2012 - 23:30
اردو محفل کی اس خبر (عنیقہ ناز صاحبہ کا انتقال پرملال) اور معروف بلاگر ایم۔بلال۔ایم کی اس...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: بدھ, October 24, 2012 - 23:07
مصنف: سعدیہ سحر

سنتے آئے ھیں محبت اندھی ھوتی ھے ۔۔ وہ کچھ نہیں دیکھتی یہ تو میں نہیں جانتی محبت حقیقت میں اندھی ھوتی ھے کچھ دیکھتی سنتی ھے یا نہیں مگر مجھے یقین ھے موت اندھی ھوتی ھے وہ نہ حسن دیکھتی ھے نہ عمر نہ دولت نہ جوانی - پل بھر میں آکر دبوچ لیتی ھے نہ انسان خود کچھ کر سکتا ھے نہ اس سے وابستہ اس سے محبت کرنے والے لوگ


موت پل بھر میں سامنے آ کھڑی ھوتی ھے کچھ سوچنے کا کچھ کہنے سننے کا وقت بھی نہیں ملتا آس پاس کے لوگ بے یقینی سے دیکھتے رہ جاتے ھیں کتنا نا قا بل ِ یقین لمحے ھوتے ھیں کل وہ انسان جو ھمارے ساتھ تھا زندگی سے بھر پور ۔ اپنی زندگی کے ھزاروں پروگرام بناتا ھوا ھنستا کھیلتا جس...
زمرہ: اردو بلاگ

Pages

Subscribe to بلاگستان فیڈز