بلاگستان

تاریخ اشاعت: سوموار, September 21, 2009 - 04:30

بسم اللہ الرحمن الرحیم





سوچا عید پر خالی مبارک باد سے تو کام نہیں چلے گا، کیوں نہ ایک تحفہ بھی ساتھ دے دیا جائے۔ نہج البلاغہ میں ایک بہت اچھا تحفہ ملا جو حاضر خدمت ہے۔





قال  الامام امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام فی بعض الاعیاد۔


اِنَّمَا ھُوَ عیِدٌ لِّمَنْ قَبِلَ اللہُ صِیَامُہُ، وَ شَکَرَ قِیَامَہُ۔


وَ کُلُّ یَوْمٍ لَّا یُعْصیٰ اللہُ فِیہِ فَھُوَ یَوْمُ عِیدٍ۔


ترجمہ


حضرت امام امیرالمومنین علی علیہ السلام...

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: سنیچر, September 19, 2009 - 01:38

بسم اللہ الرحمن الرحیم


سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی الذی بارکنا حولہ


رمضان المبارک اپنے اختتام پر ہے۔ آج جمعۃ الوداع ہے۔ سڑک سے مجھے امریکہ مردہ باد، اور اسرائیل مردہ باد کے نعروں کی آواز آرہی ہے۔ مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع جو ہر سال جمعۃ الوداع میں اسراءیل اور امریکہ کے خلاف احتجاج کر کے، فلسطینی عوام کا ساتھ دیتا ہے۔ میری کوشش رہا کرتی تھی کے اس احتجاج میں شریک ہوں۔ جب سے بہت چھوٹا تھا، اس میں شریک ہوتا آرہا ہوں۔


لیکن ہمیشہ مجھے تعجب ہوتا تھا کہ اس کا فائدہ کیا ہے۔ یہ ہی لوگ جو آج نعرے لگا رہے ہیں۔ اگر کل ان کو امریکا...

زمرہ: اردو بلاگ

اور تم کہتے ہو ---

تاریخ اشاعت: جمعرات, September 3, 2009 - 12:29
مصنف: محمود مغل
رنگ و نسل ایک سیاہ فام افریقی بچے کی نظم When I born, I black جب پیدا ہوا تو سیاہ فام تھا When I grow up, I black جب بڑھا تو سیاہ فام تھا When I go in Sun, I black میں جب دھوپ میں جاتا ہوں تو سیاہ فام ہوتا ہوں When I scared, I black جب میں خوف زدہ ہوتا ہوں تو سیاہ فام ہوتا ہوں When I sick, I black جب میں بیمار ہوتا ہوں تو سیاہ فام ہوتا ہوں And when I die, I still black اورجب میں مر جا ؤں گا تب محمد محمود مغلnoreply@blogger.com5
زمرہ: اردو بلاگ

پرسش ۔۔۔ ایک منظوم انشائیہ

تاریخ اشاعت: جمعرات, August 20, 2009 - 17:04
مصنف: محمود مغل
ایک منظوم انشائیہ ، اسرارالحق مجاز کے حوالے سے ۔ ’’ پرسش ‘‘ تھے مجاز ایک شام آوارہ ساتھ میں ان کے کوئی دوست بھی تھا دیکھ کر راستے میں اک مسجد جس کے دروازے پر لکھا تھا شعر ’’ روزِ محشر کہ جاں گداز بود اولیں پرسشِ نماز بود ‘‘ رک کہ کہنے لگا مجاز کا دوست شعر جو یہ لکھا ہوا ہے یہاں ا س کا مطلب بتائیے صاحب شعر پڑھ کر مجاز نے سوچا اور پھر مسکرا کے فرمایا روزِ محشر حساب جب ہوگا سب سے پہلےمحمد محمود مغلnoreply@blogger.com5
زمرہ: اردو بلاگ

شاعرِ لشکر

تاریخ اشاعت: منگل, July 21, 2009 - 16:11
مصنف: محمود مغل
شاعرِ لشکر)فیس بک سے ایک تحریر( قبلہ میرے بڑے اچھے دوست ھیں، ان کو پیار سے میں شاعر لشکر کہتا ھوں۔وجہ؟قبلہ gregarious جانداروں کی طرح رہتے بھی شاعروں کے لشکر میں ہیں اور ان کا مزاج اور انداز بھی لشکری شاعروں جیسا ہے۔ یعنی اپنے لشکر کی تعریفوں کے پل باندھتے رہنا خواہ وہ مائل بہ شکست ہی ہو اور مخالف لشکر کی ہجو کرنا خواہ وہ کشتوں کے پشتے لگا رہا ہو۔ ان کے لشکر میں شامل ہونے کی بنیادی اہلیت عورت محمد محمود مغلnoreply@blogger.com10
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: سوموار, July 13, 2009 - 12:08

بسم اللہ الرحمن الرحیم


چند دنوں قبل رجب کی تیرہ تاریخ تھی۔ امت مسلمہ کے باپ کی ولادت کادن تھا۔ میں نے سوچا کہ امام علی علیہ السلام کے متعلق ہی کچھ لکھ دوں، لیکن اپنے قلم کی حقارت اور ان کی عظمت دیکھ کر، اس موضوع پر قلم زنی کو کسی اور موقع پر چھوڑ دیا۔ کہاں امیرالمومنین اور کہاں میرا ناتواں قلم۔


رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ اور علی علیہ السلام مسلماں قوم کے والد ہیں۔ اگر اس عظیم دن میں ان دو عظیم تر ہستیوں کے بارے میں لکھنے کا قابل نہیں کم از کم ان کو خراج تحسیں تو پیش کر سکتا ہوں۔ تو آج کے دن یہیں سے اپنی کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر ان دو ہستیوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔...

زمرہ: اردو بلاگ

خرابی نظم از عزم بہزاد

تاریخ اشاعت: سنیچر, July 11, 2009 - 13:37
مصنف: محمود مغل
خرابی خرابی کا آغاز کب اور کہاں‌سے ہوا یہ بتانا ہے مشکل کہاں زخم کھائے کہاں سے ہوئے وار یہ بھی دکھانا ہے مشکل کہاں ضبط کی دُھوپ میں ہم بکھرتے گئے اور کہاں تک کوئی صبر ہم نے سمیٹا سنا نا ہے مشکل خرابی بہت سخت جاں ہے ہمیں‌لگ رہا تھا یہ ہم سے الجھ کر کہیں مر چکی ہے مگر اب جو دیکھا تو یہ شہر میں، شہر کے ہر محلے میں، ہر ہر گلی میں دھوئیں کی طرح بھر چکی ہے خرابی رویوں میں، خوابوں، میں خواہش میں، رشتوںمحمد محمود مغلnoreply@blogger.com7
زمرہ: اردو بلاگ

مثنوی "اردو محفل" از محمد وارث

تاریخ اشاعت: سوموار, July 6, 2009 - 17:06
مصنف: محمود مغل
مثنوی اردو محفل - اردو محفل کو سالگرہ مبارک پچھلے سال، اردو محفل کی سالگرہ کے دنوں میں، ایک سلام، دو قطعوں اور ایک رباعی کی صورت میں پیش کیا تھا، اُس وقت کچھ احباب نے ذکر کیا کہ اردو محفل کے اراکین کا ذکر بھی ہونا چاہیئے۔ سو حاضر ہوں ایک نئے سلام کے ساتھ محفل کی سالگرہ کے موقعے پر، واضح کر دوں کہ خاکسار کو شاعر ہونے کا کبھی دعویٰ نہیں رہا بس یونہی کبھی کچھ ہو جائے تو جائے اور وہ بھی مختصر مختصر،محمد محمود مغلnoreply@blogger.com7
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: سنیچر, July 4, 2009 - 04:55
رہتا ہوں اب بوجھل بوجھل،کاندھوں کاندھوں گویا دلدل،
نظروں سے ہے اوجھل اوجھل،میری آنکھوں کا وہ کاجل،
زوروں پر رہتا ہے اکثر،غم کا دریا، بہتا کاجل،
برسا تھا وہ عرصہ پہلے،اب تک من ہے سارا جل تھل،
افسانے کا آخر طے ہے،دل میں ہے پھر کیسی ہلچل؟
گھر سے نکلے ایسے میں جب،گھِر کر آئے کالے بادل۔
(محمد امین قریشی)
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: سنیچر, July 4, 2009 - 04:27
فراغت کیسی ہوتی ہے؟؟
فراغت جب بھی ملتی ہے،خوشی سے جھوم جاتا ہوں،طَرَب کے نغمے گاتا ہوں،
ہزاروں کام ہوتے ہیں،جنہیں عرصے سے کرنا ہو،مگر جو وقت نہ ملنے پہ اکثر چھوڑ دیتا ہوں،
فراغت جب بھی ملتی ہے،بس اک یلغار ہوتی ہے،وہ سارے کام جو میں نے،ادھورے چھوڑے ہوتے ہیں،مجھے سب یاد آتے ہیں،
فراغت میں بھی اکثر پھر،بہت مصروف ہوتا ہوں،مگر پھر تھک کے میں بستر پہ اپنے بیٹھ جاتا ہوں،تذبذب اور تھکن سے پھر،بہت مجبور ہو کر تب،وہ سارے کام میں یکبارگی میں چھوڑ دیتا ہوں!!!
(محمد امین قریشی)
۔۔

اس نظم کے وزن اور بحر کے حوالے سے میں نے دو مشاق شعراء سے مشورہ کیا، جن کی سند میرے...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, July 2, 2009 - 21:42

بہتے نالے، ٹوٹی سڑکیں، گھنٹوں ٹریفک جیمز، دھول، مٹی، آلودگی، کچرے کے انبار۔۔۔یہ ہوا کرتا تھا نقشہ چند برس پہلے کے کراچی کا۔ ۲۰۰۹ کے کراچی میں گو کہ سب کچھ ہی اچھا نہیں ہوگیا، مگر بہت سی چیزیں جنکی میں نے نشاندہی کی، وہ اب اتنی نمایاں نہیں۔ کراچی شہر جو کہ مملکتِ پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور بلا مبالغہ پاکستان کادرست "چہرہ" ہے، اس شہر...
زمرہ: اردو بلاگ

I believe I can fly .. ایک خوبصورت گیت

تاریخ اشاعت: سوموار, June 29, 2009 - 13:34
مصنف: محمود مغل
مجھے یقین ہے میں اڑسکتی ہوں۔۔ ایک خوبصورت انگریزی گیت فیس بک پر ایک سری لنکن خاتون نیلنی جو ہم سے اردو سیکھنے کا " دعویٰ " رکھتی ہیں ، نے گفتگو کے دوران ۔ ایک خوبصورت انگریزی گیت ’’ آئی کین فلائی ‘‘ سننے کو فراہم کیا ۔ یہ آپ کے حوصلے کو مہمیز دینے کےکام آسکتا ہے۔، آپ بھی سنیے۔۔ نیلنی اب اچھی خاصی اردو بول لیتی ہیں، لکھنے کے معاملے میں ابھی رومن کا سہارا لے رہی ہیں‌،موصوفہ ایک غریب گھر سے تعلق محمد محمود مغلnoreply@blogger.com10
زمرہ: اردو بلاگ

علمی اور اخلاقی بددیانتی پر احتجاج کیجیے

تاریخ اشاعت: جمعہ, June 5, 2009 - 16:40
مصنف: محمود مغل
قبلہ پیرترویج اردو زبان جناب محمد شاکر القادری صاحب سے بد تمیزی معزز اہل قلم !۔ السلام علیکم ـ میں آج آپ سے ایک بڑی علمی خیانت کے خلاف اخلاقی مدد کی درخواست لیے حاضر ہوا ہوں فیض رضا نیٹ ورک اور قادری رضوی فورمکی جانب سےسلیمان سبحانی نامی شخص نے کچھ عرصہ قبل فیض رضا فورم کے لیے مجھ سے وی بولٹن کا اردو ترجمہ اور اردو ٹیمپلیٹ طلب کیا تھا چنانچہ القلم کی جانب سے انہیںاردو ترجمہ از شاکرالقادری محمد محمود مغلnoreply@blogger.com34
زمرہ: اردو بلاگ

مرزا غالب کی بدیہہ گوئی تاریخ کے اوراق سے

تاریخ اشاعت: منگل, June 2, 2009 - 10:42
مصنف: محمود مغل
مرزا غالب کی بدیہہ گوئی تاریخ کے اوراق سے خواجہ حالی نے یادگارِ غالب میں لکھا ہے کہ ۱۸۷۱ میں جبکہ نواب ضیاء الدین احمد خاں مرحوم کلکتہ گئے تھے ، مولوی محمد عالم نے جو کلکتہ کے ایک دیرینہ سال فاضل تھے ، نواب صاحب سے بیان کیا کہ جس زمانے میں مرزا صاحب یہاں آئے ہوئے تھے ایک مجلس میں جہاں مرزا بھی موجود تھے اور میں بھی حاضر تھا شعراء کا تذکرہ ہورہا تھا، اثناء گفتگو میں ایک صاحب نے فیضی کی بہت محمد محمود مغلnoreply@blogger.com8
زمرہ: اردو بلاگ

یہ نقدِ جاں ہے اسے سود پر نہیں دیتے

تاریخ اشاعت: جمعرات, May 28, 2009 - 18:40
مصنف: محمود مغل
(قصہ حسین مجروح سے ملاقات کا) دوپہر کے کھانے کے بعد ، ہمارے پیٹ میں درد اٹھا کہ ہاتفِ برقی(موبائل) کا نفس ( کریڈٹ)موٹا ہورہا ہے کیوں نہ اسے کم کیا جائے سو کلیدی تختے پر چمکتے ہوئے ہندسوں کے وسیلے سے ”تصویر خانہ“ کے خالق ممتاز رفیق سے رابطہ ممکن ہوا ،تکلف سے بھرپور گفتگو میں ایک لمحہ ایسا آیا کہ ممتاز رفیق نے روح کو سرشار کردینے والی خبر دی کہ زندہ دلوں کے شہر لاہور سے حسین مجروح تشریف لائے ہوئے محمد محمود مغلnoreply@blogger.com3
زمرہ: اردو بلاگ

“ یہ معافی نامہ نہیں ہے “

تاریخ اشاعت: سوموار, May 25, 2009 - 10:48
مصنف: محمود مغل
“ یہ معافی نامہ نہیں ہے “ نثری شاعری ، ایک نثم ظلم اور پستی میں گھرے ہوئے انسانویوں میری جانب امید و یاس کی تصویر بنے کیا دیکھتے ہومیں ایک شاعر ہوں اور آج کا شاعربرسوں پہلے اپنے احساس پر ایک مٹھی خاک پھینک چکا ہوںاب حالات کے کولہو سے بندھے ہوئے کسی بیل کی صورتصرف دائرے مکمل کرسکتا ہوںمیں تمھیں راہ نہیں دکھلا سکتاکہ مرا اظہارشہرت اور بے حسی کے درمیان کہیں کھو چکا ہے م۔م۔مغلمحمد محمود مغلnoreply@blogger.com5
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, March 19, 2009 - 08:25

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مجھے بچپنے سے ہی شعر و شاعری کا شوق تھا۔ کچھ بچپنے میں، بچوں والے شعر کہے بھی تھے جو ضایع ہو گئے۔ [اچھا ہی ہوا۔ محفوظ ہونے کے قابل بھی نہ تھے۔] کچھ عرصے پہلے میں نے اس شوق پہ دوبارہ توجہ دی اور شعر کہنے کی کوششیں شروع کی جس کے نتیجے میں سب سے پہلے کچھ قصیدے اور ایک غزل لکھی جو پیش کر رہا ہوں۔ چاہتا تھا کہ پہلے قصیدہ پیش کروں لیکن میری کوشش ہے کہ اس کو کچھ بہتر کرلوں پھر انشا اللہ پیش کروں گا۔ امید ہے کے اپنی بیش قیمت آراء سے نوازیں گے۔ شکریہ







مجھے کچھ اے مرے ساقی پلاؤ
ذرا اک...

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, March 19, 2009 - 07:56

بسم اللہ الرحمن الرحیم



شب عید میلاد النبی کو ایک محفل میں شرکت کا اعزاز حاصل کیا۔ وہاں میرے دوست جناب سید یونس حیدر رضوی صاحب نے ایک قصیدہ پڑھا جو مجھے سب سے زیادہ پسند آیا۔ اسی لیے ان سے اجازت لے کر اس کو یہاں نقل کر رہا ہوں۔ امید ہے کہ آپ کو بھی پسن آئے۔ یہ قصیدہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے بارے میں ہے۔ قصیدہ یہ ہے:


پوچھیے اہل خرد سے ماہ اختر کی ثنا


...

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: منگل, February 24, 2009 - 19:56

بسم اللہ الرحمن الرحیم


جیسا کہ پچھلی تحریر میں عرض کیا تھا۔ جب بھی انسان کی محبت میں جھول آیا اور گمراہ ہوئی تو خدا نے ایک نبی بھیجا۔ جو محبت کرکے لوگوں کی محبت کی اصلاح کرتا تھا۔


اس کام طلب یہ نہیں کہ لوگ محبت کرنا چھوڑ دیا کرتے تھے۔ نہیں۔ بلکہ لوگ محبت کرتے رہتے تھے۔ محبت کرنا تو فطرت انسانی کا تقاضا ہے۔ وہ محبت کرتے تھے، لیکن ان کا محبوب غلط ہوتا۔


وہ محبت کرتے مگر سونے چاندی کے سکوں سے، باغات سے، زمینوں سے، کھانوں سے، مختصر یہ کہ بے ارزش دنیاوی چیزوں سے۔ جب اس مقدس انسانی محبت میں اس قدر گمراہی آگئی، اور اس محبت نے عقل انسانی کو اندھا کر دیا۔ تو خدا...

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعہ, February 20, 2009 - 07:02

بسم اللہ الرحمن الرحیم


جب خدا نے انسان کو اپنا نمائندہ بنا کر اس دنیا میں بھیجا۔ اسے ایک نہایت اہم ہدایت فرمائی۔ خدا نے انسان سے کھا کہ ہمیشہ محبت کے راستہ پر چلنا۔ یہ یاد رکھنا کہ دنیا میں چند دن ہی رہنا ہے۔ تو اس چند دن میں ہی کرنا ہے جو بھی کرنا ہے۔ اس محبت کو کبھی بھی دشمنی میں نہ بدلنا۔ اگر ایسا ہوا، تو میں تو بہت رحم کرنے والا ہوں، اپنے کچھ بندوں کو تمہارے پاس بھیجوں گا تاکہ تمہاری راہنمائی کریں، اور اتنی محبت کریں، کہ تم اس راستہ پر آ جاو۔ یعنی اپنی اصلیت پر آ جاو۔ لیکن اگر پھر بھی تم کو ہوش نہ آیا تو جان لو میری سزا بھی میری رحمت کی طرح بے انتہا اور سخت ہوتی ہے۔ [ملاحظہ...

زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: منگل, July 8, 2008 - 03:33

ٹھگ مسلمان، ھندو یا کسی بھی مذہب سے ھو سکتے تھے، لیکن ضعیف الاعتقادی  کے سبب یہ سب بھوانی نام کی ایک دیوی کی بھی پوجا کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ بھوانی ٹھگوں کی پرسنل دیوی ھے جو ان کو شکار کی نشاندھی کرتی ھے اور ان کا جرم چھپانے میں مدد کرتی ھے۔

ان کا عقیدہ تھا کہ ابتداء میں بھوانی قتل کے بعد لاش کو اس شرط پر خود ہی ٹھکانے لگاتی تھی کہ قتل کے بعد ٹھگ پیچھے دیکھے بغیر جائے واردات سے دور چلےجائیں گے۔ لیکن جیسا کہ ایسے ھر قصے میں ھوتا ھے کہ ایک آدھ چوّل آدمی ھر جگہ موجود ھوتا ھے جس نے پیچھے مڑ کر دیکھنا ھوتا ھے۔ سو ٹھگوں کے ایک بزرگ نے بھی واردات کے بعد...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: سنیچر, June 21, 2008 - 03:19

انگریز ھندوستان پر قبضے کے دوران اپنی جن سماجی کامیابیوں کا تذکرہ بہت فخر سے بیان کرتے ھیں، ان میں سے ایک ٹھگوں کے منظم گروہوں  پر قابو پانا ھے، جو کہ پندرھویں صدی سے لے کر اٹھارویں صدی تک تین سو سال تک ھندوستان بھرکے راستوں میں  دھڑلّے سے منڈلاتے رھے۔
 ان کی وارداتیں  اتنی بڑھ گئی تھیں کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے  قابو پانے کے لیے کیپٹن ولیم سلی مین کی سربراھی میں ایک سپیشل سیل تشکیل دیا گیا۔  اس سیل کی  تفتیش اور کاروائی کی تفصیلات  نے انگلستان میں اتنی سنسنی پھیلا  دی کہ رڈیارڈ کپلنگ سمیت بہت سے لوگوں نے ٹھگوں کے قصے لکھ...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعہ, June 6, 2008 - 05:32
کتابیات:میں 1986 میں سعودی عرب سے اپنے گھر والوں کے ساتھ مستقل طور پر پاکستان واپس آگیا۔

میرے بڑے بھائی کتابیں پڑھنے کے شوقین تھے اوراباجی کے سعودیہ ھونے کا فائدہ اٹھا کر انہوں نے  گھر میں کافی کتابیں اکٹھی کی ھوئی تھیں۔۔ لیکن ھر طرح کی نہیں ۔ بلکہ بہت ھی عجیب و غریب۔ (کم از کم مجھے اس عمر میں عجیب ھی لگتی تھیں )۔ مثلاً۔ عملی نفسیات۔  ابواعلیٰ مودودی۔ دست شناسی۔خلیل جبران۔دیسی جڑی بوٹیوں کے خواص۔جنرل نالج۔ یعنی کہ کسی بھی قسم کے ڈائجسٹ، افسانے ، ناول   یا اسی قسم کی پرلطف کیٹیگری کی کوئی کتاب گھر پر نہیں تھی۔
ھمارا گھر...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعہ, May 30, 2008 - 14:03

میرے بلاگ لکھنے کے پیچھے پڑھنے والے کا ٹائم ضائع کرنے کے علاوہ ایک انتہائی  اھم مقصد بھی ھے۔
ایک نہیں بلکہ کئی سارے مقاصد ھیں۔ مثلاً:
۱۔آن لائن ڈائری : میں نے 1993 سے 1996 تک بہت باقاعدگی اور ایمان داری  سے ڈائری لکھی ھے۔
ڈائری لکھنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ھے کہ یہ ایک ٹائم ٹریول ڈیوائس کا کردار ادا کرتی ھے۔ یعنی کہ سالوں بعد(نہ کہ فوراً)پڑھیں اور کھڑے کھڑے اپنے ماضی میں پہنچ جائیں اور حیران ھوں کہ یہ بھی زمانہ گزرا ھے مجھ پہ؟۔ ۔
اور سب سے بڑا نقصان یہ ھے کہ اس کو چھپاکے رکھنا پڑتا ھے کہ کہیں عوام پڑھ کر آپ کے اندر بسے...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: سنیچر, May 10, 2008 - 14:07

کل مجھے اپنی ای میل میں اپنی  ہی طرف سے    کئی سال پہلے اپنے آپ کو مستقبل میں بھیجا گیا میسیج ملا۔
لکھا تھا  ۔
 "مجھے نہیں معلوم کہ تمہیں مستقبل میں ای میل بھیجنے کا آئیڈیا کیوں آیا۔ لیکن شائد اس میں قصور  ڈائری لکھنے کی عادت کا ھے۔ اپنی ہی ڈائری کو کئی سال بعد پڑھیں تو لگتا ھے کہ کسی اور شخص نے لکھی ھے۔نہیں پتا کہ جب تم یہ چند جملے پڑھ رھے ھوگے تو اس وقت کن حالات میں ھوگے، لیکن مجھے یقین ھے کہ اب کی نسبت بہت کچھ بدل چکا ھوگا"-
میں یہ پڑھ کر دہل گیا۔
کیونکہ...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: سنیچر, October 27, 2007 - 16:49
مصنف: چراغ شب
ابھی تو اہل ملتان انضمام کی ریٹائرمنٹ کا سوگ ہی نہیں منا پائے تھے کہ انہیں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں پاکستان کی شکست کا صدمہ بھی سہنا پڑ گیا ہے۔

فیض صاحب نے کہا تھا
ہم نے دل میں سجا لیے گلشن
جب بہاروں نے بے رخی کی ہے

ویسے تو کرکٹ میں فیض صاحب کا حوالہ آسانی سے ہضم ہونے والی بات نہیں ہے لیکن ملتان والوں کا المیہ یہ ہے کہ یہ چونکہ مخلوط میراتھن، ورائٹی اینڈ فیشن شوز کی برکات اور ایوان صدر، گورنر ہاؤس، وزیر اعلی ہاؤس وغیرہ کی قربت کے فیض سے سینکڑوں میل ادھر ہیں، اس لیے چارو ناچار زندگی میں کچھ رنگ بھرنے کے لیے انہیں روزمرہ کے معمولی واقعات پر ہی گزارا کرنا پڑتا ہے...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: جمعرات, October 25, 2007 - 12:12
مصنف: چراغ شب
چھٹی جماعت میں ہمیں اردو ماسٹر عبدالرزاق پڑھایا کرتے تھے۔ حصہ نظم پڑھاتے ہوئے وہ پہلے شعر کے مشکل الفاظ کے معنی اور نثری ترتیب بتاتے اور پھر آستین چڑھاتے ہوئے کہتے، " دیکھو بھئی، شاعر اصل میں کہنا یہ چاہ رہا ہے کہ ۔۔۔۔۔" اور اس فقرے میں سارا زور 'اصل میں' پر ہوتا۔ پھر ماسٹر جی تو کمال جوش و خروش سے شعر کا اصل مطلب سمجھانے میں اور ہم اس بات پر غوروخوض میں مصروف ہو جاتے کہ اصل بات صرف ماسٹر جی کی سمجھ‍ میں ہی کبوں آتی ہے۔ یہ بات تو ہم پر اب جا کر کھلی ہے کہ بات چھٹی جماعت کی ہو با پاکستان کے چھٹے عشرے کی، اصل بات صرف ماسٹر کی سمجھ‍ میں ہی آتی ہے۔ اور ماسٹر خواہ جماعت کا ہو یا...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: بدھ, October 24, 2007 - 07:26
مصنف: چراغ شب



کراچی کے سیاسی کارکن جو کبھی جلسے جلوسوں کی تیاری میں مصروف نظر آتے تھے۔ یہاں سے وہاں ٹینٹ لگاتے، دریاں بچھاتے، کرسیاں ترتیب دیتے اور ساؤنڈ سسٹم سیٹ کرتے پھرتے تھے، آج کل ان کا زیادہ وقت کفن اکٹھے کرنے، زخمیوں کو اٹھانے، لاشوں کو کندھا دینے اور ان کی شناخت کرنے میں...
زمرہ: اردو بلاگ
تاریخ اشاعت: سوموار, December 3, 0001 - 04:28


ڈپریشن، تھکاوٹ اور بدمزاجی کیوں؟
عظمی عنبرین/ اقصی ارشد
اگر گھر میں ایک ہی ٹی وی ہو تو تین گروپ بن جاتے ہیں ۔ مردوں کو سیاسی ٹاک شوز پسند آتے ہیں ، خواتین انٹرٹینمنٹ اور شو بز کے چینل لگانا چاہتی ہیں اور بچے کارٹونز پر پل پڑنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ تینوں کا واحد مقصد ہوتا ہے اور وہ یہ تسکین کا حصول ۔ سب یہی سمجھ رہے ہیں کہ اس طرح وہ لطف، مزا یا تسکین حاصل کرکے اپنے آپ کو ریلیکس کرلیں گے۔ لیکن ہم ایک اہم بات بھول جاتے ہیں۔ تسکین حاصل کرنے کے لئے دو عوامل کا ہونا لازمی ہے۔ ایک تو تسکین کا موقع اور دوسرا تسکین حاصل کرنے کی صلاحیت۔ مثال کے طور پر آپ چھولوں کی چاٹ...

زمرہ: اردو بلاگ

Pages

Subscribe to بلاگستان فیڈز